تفسير راہنما جلد ۷

تفسير راہنما 0%

تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 746

تفسير راہنما

مؤلف: آيت الله ہاشمى رفسنجاني
زمرہ جات:

صفحے: 746
مشاہدے: 4470
ڈاؤنلوڈ: 348


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5 جلد 6 جلد 7 جلد 8 جلد 9
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 746 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4470 / ڈاؤنلوڈ: 348
سائز سائز سائز
تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد 7

مؤلف:
اردو

من الخاسرين

۴_ آيات الہى ميں شك و ترديد انكے جھٹلانے كا سامان فراہم كرتا ہے_

فلا تكونن من الممترين و لا تكونن من الذين كذبوا بآيات الله

۵_ آيات الہى كو جھٹلانے كا نتيجہ ہے نقصان اور انسان كى سعاد ت كے سرمائے كا برباد ہوجانا_

و لا تكونن من الذين كذبوا بآيات الله فتكون من الخاسرين

۶_ قرآن كريم كو جھٹلانا ، نقصان اور سعادت كے سرمائے كے كھو جانے كا سامان فراہم كرتا ہے_

و لا تكونن من الذين كذبوا بآيات الله فتكون من الخاسرين

۷_ اپنى تقدير بنانے ميں انسان كا كردار _و لا تكونن من الذين كذبوا فتكون من الخاسرين

آيات خدا:ان ميں شك كے اثرات ۴; انہيں جھٹلانے كا پيش خيمہ ۴;انہيں جھٹلانے كے اثرات ۳،۵; انہيں جھٹلانے والے۱

انبيا(ع) :انكى اقوام اور خدا كى آيات ۱،۳

انجام :اس ميں مؤثر عوامل ۷

انسان :اس كا كردار ۷

سعادت :اس سے محروم لوگ۳;اس سے محروم ہونے كے عوامل ۳،۵،۶

قرآن كريم :اسے جھٹلانے كے اثرات ۶; قرآن كريم خدا تعالى كى نشانيوں ميں سے۲

نقصان :اسكے عوامل ۵،۶

۶۰۱

آیت ۹۶

( إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ )

بيشك جن لوگوں پر كلمہ عذاب الہى ثابت ہو چكاہے ورنہ ہرگز ايمان لانے والے نہيں ہيں _

۱_خدا تعالى كى آيات اور نشانيوں كوجھٹلانا، جھٹلانے والوں كے مہلك عذاب ميں گرفتار ہونے كا سامان فراہم كرتاہے_

و لا تكونن من الذين كذبوا بآيات الله ان الذين حقت عليهم كلمت ربك

اس آيت كے پہلے والى آيت كے ساتھ ارتباط سے استفادہ ہوتا ہے كہ '' الذين حقت عليہم '' سے مراد آيات الہى كو جھٹلانے والے ہيں اور بعد والى آيت كے ذيل يعنى'' حتى يروا العذاب الاليم'' اور اس كے بعد والى آيت كے ذيل يعنى جملہ''لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحياة الدنيا'' سے استفادہ ہوتا ہے كہ ''كلمت ربك'' سے مراد دنيا كا مہلك عذاب ہے_

۲_ جن جھٹلانے والوں كے بارے ميں خدا تعالى مہلك عذاب كا فيصلہ كرچكا ہے وہ پيغمبروں كى دعوت كو قبول كرنے كا موقع كھوچكے ہيں اور ہرگز خدا تعالى كى آيات اور نشانيوں پر ايمان نہيں لائيں گے_

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون

۳_ آيات الہى كو جھٹلانے والوں كے بارے ميں مہلك عذاب كا فيصلہ خدا تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك

۴_ نقصان كرنے والے آيات الہى پر ايمان لانے سے محروم ہيں _

الخاسرين ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لايؤمنون

۵_ آيات الہى كے جھٹلانے والوں كو ايمان سے محروم كرنا خداتعالى كى سنت او راسكى ربوبيت كا تقاضا ہے _

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤ منون

۶_ايمان سے محروم ہونے والى سنت سے دوچار ہونے

۶۰۲

كا سر چشمہ انسان كا اپنا اختيار او رارادہ ہے_

ولا تكونن من الذين كذبوا بآيات الله الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون

آيات خدا :انہيں جھٹلانے كے اثرات ۱; انہيں جھٹلا نے والوں كا عذاب ۱،۳; انہيں جھٹلانے والوں كى محروميت ۲ ،۵

انسان :اس كا اختيار ۶

ايمان :اس سے محروم لوگ ۲،۴،۵; اس سے محروم ہونے كا سرچشمہ ۶

خدا تعالى :اسكى ربوبيت كى شان ۳;اسكى ربوبيت كے اثرات۳،۵; اسكى سنتيں ۵،۶

عذاب :اسكے اہل ۱; اہل عذاب كا محروم ہونا ۲;مہلك عذاب كا پيش خيمہ۱

گھاٹاپانے والے لوگ:انكا محروم ہونا ۴

آیت ۹۷

( وَلَوْ جَاءتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الأَلِيمَ )

چاہے ان كے پاس تمام نشانياں كيوں نہ آجائيں جب تك اپنى آنكھوں سے دردناك عذاب نہ ديكھ ليں گے_

۱_جن لوگوں كے بارے ميں خدا تعالى مہلك عذاب كا فيصلہ كر چكا ہے اگر ان پر خداتعالى كے تمام معجزات اور نشانياں پيش كردى جائيں تو بھى وہ ہرگز سر تسليم خم نہيں كريں گے او رايمان نہيں لائيں گے_

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤ منون و لو جآء تهم كل آية

۲_جن جھٹلانے والوں كے بارے ميں مہلك عذاب كا فيصلہ ہوچكا ہے جب وہ خداتعالى كے دردناك عذاب كو ديكھيں گے او ران كے پاس سر تسليم خم كرنے كے علاوہ كوئي چارہ نہيں رہے گاتو جھٹلانے سے دستبردار ہو جائيں گے اور ايمان كا اظہار كريں گے _

۶۰۳

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون ...حتى يروا العذاب الاليم

۳ _ مہلك عذاب، خدا تعالى كى تبديل نہ ہونے والى سنت ہے _ان الذين حققت عليهم كلمت ربك حتى يروا العذاب الاليم

۴_ عذاب الہى كو ديكھتے وقت ايمان كا فائدہ مند او ر نجات بخش نہ ہونا _لا يؤمنون ...حتى يروا العذاب الاليم

آيات خدا :انہيں جھٹلانے والے عذاب كے وقت۲

ايمان :اس سے محروم لوگ ۱; ايمان، عذاب كے وقت ۲، ۴; بے فائدہ ايمان ۴

خداتعالى :اسكى سنتيں ۳

عذاب :اسكے درجے ۲;اہل عذاب ۱; اہل عذاب پر آيات خدا كا اثر نہ كرنا ۱;اہل عذاب كا ليچڑپن ۱; دردناك عذاب ۲; مہلك عذاب كا حتمى ہونا ۳

آیت ۹۸

( فَلَوْلاَ كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلاَّ قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُواْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الخِزْيِ فِي الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ )

پس كوئي بستى ايسى كيوں نہيں ہے جو ايمان لے آئے اور اس كا ايمان اسے فائدہ پہنچائے علاوہ قوم يونس كے كہ جب وہ ايمان لے آئے تو ہم نے اس سے زندگانى دنيا ميں رسوائي كا عذاب دفع كرديا اور انھيں اكى مدّت تك چين سے رہنے ديا_

۱_جھٹلانے والى گذشتہ اقوام كى آپ بيتى اس دعوے كى سچائي كى دليل ہے كہ مہلك عذاب جن كا مقدربن چكا ہے وہ عذاب كے واقع ہونے تك ايمان لانے كى توفيق كھو بيٹھتے ہيں _

۶۰۴

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون فلولا كانت قرية ء امنت فنفعها ايمنه

اس آيت كے پہلے والى آيت كے ساتھ ارتباط كو مدنظر ركھتے ہوئے ہو سكتا ہے جملہ ''فلولا كانت قرية آمنت '' شرط مقدر كا جواب ہو اور اسكى تقدير يوں ہوگى ''ان كنت فى شك من ھذا فلولا كانت ...''يعنى اگر اس مطلب (جن لوگوں كے بارے ميں مہلك عذاب كا فيصلہ ہوجاتا ہے وہ وقوع عذاب كے آخرى لمحے تك ايمان نہيں لائيں گے)كے بارے ميں تمہيں شك ہے تو بتاؤ كيوں اوركس وجہ سے جھٹلانے والى گذشتہ اقوام وقوع عذاب كے آخرى لمحے تك ايمان نہ لائيں _

۲_ سابقہ جھٹلانے والى قوموں ميں سے قوم يونس كے علاوہ كوئي قوم مہلك عذاب كے نازل ہونے سے پہلے پيغمبر كو جھٹلانے سے دستبردار ہونے اوران پر ايمان كے اظہار ميں كامياب نہيں ہوسكى _

فلولا كانت قريةء امنت فنفعها ايمنها الاقوم يونس

۳_ فائدہ مند او ربارگاہ خداوند ى ميں قابل قبول ايمان وہ ہے جو مہلك عذاب كے نازل ہونے سے پہلے اور اختيار كے ساتھ ہو _ان الذين حقت عليهم لا يؤمنون حتى يروا العذاب الاليم فلو لا كانت قرية ء امنت فنفعهاايمانه

۴_ مجبور ى كى حالت ميں او رمہلك عذاب كو ديكھ كر ايمان لانا خداتعالى كو قبول نہيں ہے اوراس كا كوئي فائدہ نہيں ہے _

ان الذين حقت عليهم لا يؤمنون حتى يروا العذاب الاليم فلو لا كانت قرية ء امنت فنفعها ايمانه

۵_سابقہ اقوام كى بر وقت اور ثمر بخش ايمان نہ لانے كى وجہ سے مذمت _فلولا كانت قرية ء امنت فنفعها ايمانه

''لو لا'' '' ہلا'' كے معنى ميں ہے كہ جو گذشتہ پر ملامت اور آئندہ كى طرف ترغيب دلانے كيلئے ہے_(لسان العرب)

۶_ قوم يونس نے آغاز ميں اپنے پيغمبر(ص) كو جھٹلايا اور اسكى دعوت پر ايمان لانے سے روگردانى كي_

الّاقوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب

۷_ قوم يونس كو اپنے پيغمبر(ص) كو جھٹلانے اور اسكى دعوت پر ايمان نہ لانے كى وجہ سے مہلك عذاب كا خطرہ لاحق ہوگيا_الا قوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحياة الدنيا

۸_ جھٹلانے والى گذشتہ اقوام ميں سے صرف قوم يونس تہس نہس كردينے والے عذاب كے آنے سے پہلے جھٹلانے سے دستبردار ہوئي اور ايمان لائي_فلو لا كانت قرية آمنت فنفعها ايمانها الا قوم

۶۰۵

يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزي

۹_ كافر اور جھٹلانے والے معاشرے خدا تعالى كے ذلت آميز عذاب كے خطرہ سے دوچار ہيں _

فلولا كانت قرية آمنت لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزي

۱۰_ خدا تعالى نے قوم يونس كى توبہ اور ايمان كو قبول كر ليا اور ان سے مہلك عذاب كوٹال ديا _

الا قوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحياة الدنيا

۱۱_ قوم يونس كا بر وقت ايمان موجب بنا كہ وہ سارى عمر دنياوى نعمتوں سے بہرہ مند رہي_

الا قوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى و متعنهم الى حين

۱۲_ دنيا ميں نازل ہونے والا عذاب تہس نہس كرنے والا اور ذلت آميز ہے_كشفنا عنهم عذاب الخزي

۱۳_ پيغمبروں كو جھٹلانے والے ، مستكبرين اور سركش لوگ تھے_عذاب الخزي

''خزي'' كا معنى ہے ذلت و خوارى اور عذاب كا خزى كى طرف اضافہ موصوف كا صفت كى طرف اضافہ ہے عذاب كى خزى كے ساتھ توصيف ہوسكتا ہے اس حقيقت كى طرف اشارہ ہو كہ خدا تعالى نے مہلك عذاب كو مستحقين عذاب كے اعمال و كردار كے مقابلے ميں قرار ديا ہے اور چونكہ پيغمبروں كو جھٹلانے والے مستكبر اور سركش لوگ تھے_خدا تعالى نے انہيں ايسے عذاب ميں گرفتار كيا جو انہيں پاش پاش كردے اور ذلت و خوارى ميں مبتلا كردے_

۱۴_ يونس (ع) كى آپ بيتى سب انسانى معاشروں كيلئے ايك عظيم سبق ہے_

فلولا كانت قرية آمنت فنفعهاايمانها الا قوم يونس

اس چيز كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ قوم يونس كے قصے كے سلسلے ميں اس سورت ميں صرف يہ ايك جملہ آيا ہے جو پورى آيت بھى نہيں ہے بلكہ آيت كا ايك حصہ ہے اور اس لحاظ سے يہ قوم موسى و نوح كے ساتھ قابل قياس نہيں ہے ليكن اس سورہ كو نوح يا موسى كے نام كى بجائے يونس كا نام ديا گياہے مندرجہ بالا مطلب حاصل ہوتا ہے_

آيات خدا :انہيں جھٹلانے والوں كا ذلت آميز عذاب۹

اقوام :گذشتہ اقوام كا قصہ۱;گذشتہ اقوام كى تاريخ ۲،۸; گذشتہ اقوام كى مذمت ۵

انبيا(ع) :

۶۰۶

انہيں جھٹلانے كے اثرات ۷; انہيں جھٹلانے والوں كا استكبار ۱۳; انہيں جھٹلانے والوں كا كفر ۲، ۸ ; انہيں جھٹلانے والوں كى نافرمانى ۱۳

ايمان :اس سے محروم لوگ ۱،۲;اسكے اثرات ۱۱;اس ميں اجبار ۴; اس ميں اختيار ۳; عذاب كے وقت ايمان ۲ ; قابل قدر ايمان ۱۳; بے ثمرايمان ۴،۵; مقبول ايمان ۵

عبرت :اسكے عوامل ۱۴

عذاب:اسكے اہل ۷; اسكے درجے ۹،۱۲;اہل عذاب كى محروميت كے دلائل ۱; اہل عذاب كے كفر كے

دلائل ۱;ذلت آميز عذاب ۹،۱۲; مہلك عذاب كى سختى ۱۲; مہلك عذاب كے اسباب ۷

قوم يونس (ع) :اس كا ايمان ۲،۸،۱۱; اس كا قصہ ۶،۷،۱۰; اس كا كفر ۶; اسكى توبہ كا قبول ہونا ۱۰; اسكى حيات كے اسباب ۱۱;اسكے انجام سے عبرت ۱۴; اس كے ايمان كا قبول ہونا ۱

كفار :انكا ذلت آميز عذاب ۹

مستكبرين ۱۳

يونس (ع) :انہيں جھٹلانے والے۶

آیت ۹۹

( وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِي الأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاً أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ )

اور اگر خدا چاہتا تو رو ئے زمين پر رہنے والے سب ايمان لے آتے _ تو كيا آپ لوگوں پر جبر كريں گے كے سب مؤمن بن جائيں _

۱_ اگر مشيت خدا يہ ہوتى كہ انسان ايمان لے آئيں تو بلا استثنا سب كے سب ايمان لے آتے _

و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا

۲_ خدا تعالى نے انسان كو آزاد اور خودمختار پيدا كيا ہے_

۶۰۷

و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا

''شاء ''كا مفعول محذوف ہے اور '' افانت تكرہ الناس '' جو '' لوشاء ربك' پر متفرع ہے كے قرينے سے اسكى تقديريوں ہوگى : ''لوشاء ربك ان يكرہ الناس '' يعنى اگر خدا چاہتا كہ لوگوں كو ايمان پر مجبور كرے اس كا مفہوم يہ ہے كہ خدا تعالى نے نہيں چاہا كہ لوگ ايمان لانے پر مجبور ہوں بلكہ اسكى مشيت يہ ہے كہ خود مختار ہوں _

۳_ انسان ، دين الہى كو قبول كرنے يا قبول نہ كرنے ميں خود مختار ہے_و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميع

۴_ مجبور ہو كر دين كو قبول كرنا خدا تعالى كى مشيت كے مطابق اور اسے قابل قبول نہيں ہے _

ان الذين حقت عليهم كلمت ربك لا يؤمنون حتى يروا العذاب الاليم ...و لوشاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جيمعا

يہ جو خدا تعالى چاہتا ہے كہ لوگ اپنے اختيار سے ايمان كا انتخاب كريں اس كا مفہوم يہ ہے كہ جو ايمان مجبورى اور ناچارى كى بنياد پر ہو اسے خد ا نے نہيں چاہا اور اس كا لازمہ يہ ہے كہ وہ خدا تعالى كو قابل قبول نہيں ہے_

۵_ بہت بڑى تعداد ميں لوگوں كا ايمان نہ لانا انكى آزادى اور دين الہى كے قبول كرنے ميں انكے خدا كى طرف سے مجبور نہ ہونے كى علامت ہے_و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا

۶_ مشيت الہى كا وقوع پذير ہونا قطعى اور يقينى امر ہے_و لوشاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا

۷_ كوئي شخص حتى خود پيغمبراكرم(ص) بھى لوگوں كو ايمان پر مجبور كرنے كا حق نہيں ركھتا _

افا نت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين

۸_ انسان كا دين كو قبول نہ كرنے ميں خود مختار اور آزاد ہونا خدا تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا افا نت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين

۹_ پيغمبراكرم(ص) كى شديد خواہش كہ سب لوگ ايمان لے آئيں _

و لو شاء ربك لآمن من فى الارض كلهم جميعا افا نت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين

۱۰_قوم يونس كا ايمان اختيارى تھا نہ اكراہ و اجبار كى وجہ سے_

فلولا كانت قرية آمنت الا قوم يونس لما آمنوا و لوشاء ربك لآمن من فى الارض

آنحضرت (ص) :

۶۰۸

آپ(ص) اور لوگوں كا ايمان ۹;آپ(ص) كى خواہش ۹

انسان :اس كا اختيار ۲،۳; اسكى خصوصيات ۲

ايمان :بے ثمر ايمان ۴

خدا تعالى :اسكى ربوبيت كے اثرات۸; اسكى مشيت كا حتمي

ہونا ۶; اسكى مشيت كى اہميت ۱

دين :اس ميں اختيار ۳; اس ميں اختيار كا سرچشمہ ۸; اس ميں اختيار كے دلائل ۵; اس ميں اكراہ كى نفي۴،۷

قوم يونس :اس كا ايمان ۱۰

۶۰۹

آیت ۱۰۰

( وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ )

اور كسى نفس كے امكان ميں نہيں ہے كہ بغير اجازت و توفيق پروردگار كے ايمان لے آئے اور وہ ان لوگوں پر خباثت كو لازم قرار ديد يتا ہے جو عقل استعمال نہيں كرتے ہيں _

۱_ انسان با اختيار ہونے كے باوجود خدا تعالى كى اجازت كے بغير كسى كام كو انجام دينے يا اسے انتخاب كرنے پر قادر نہيں ہے_و لو شاء ربك لآمن من فى الارض و ما كان لنفس ان تؤمن الا باذن الله

خدا تعالى نے گذشتہ آيت (ولوشاء ربك) ميں انسان كے با اختيار ہونے كو بيان فرمايا ہے _ اور يہ آيت شريفہ تفويض والے وہم كو دور كرنے

كيلئے ہے_ يعنى اگر چہ انسان ايمان و كفر كو قبول كرنے ميں آزاد ہے ليكن اسے توجہ كرنى چاہيے كہ ان ميں سے ہر ايك كا انتخاب خدا تعالى كى اجازت كے بغير ممكن نہيں ہے_مندرجہ بالا مطلب ايمان سے الغاء خصوصيت كرنے كے نتيجے ميں حاصل ہوتا ہے_

۲_ انسان با اختيار ہونے كے باوجود خدا كى اجازت اور

۶۱۰

اذن كے بغير ايمان كے انتخاب كرنے كى قدرت نہيں ركھتا_

و لو شاء ربك لآمن من فى الارض و ما كان لنفس ان تؤمن الا باذن الله

۳_ جو لوگ انبياءے الہى كو جھٹلاتے ہيں اور خدا كى آيات اور نشانيوں پر ايمان نہيں لاتے وہ بے خرد اور نادان ہيں _

و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون

'' ما كان لنفس ان تؤمن ...''كے مقابلے ميں آنے كے قرينے سے'' الذين لا يعقلون'' سے مراد كفار اور تكذيب كرنے والے ہيں _ قابل ذكر ہے كہ ''لا يؤمنون'' كى بجائے '' لا يعقلون'' كا ذكر كرنا مندرجہ بالا مطلب كى تائيد كرتا ہے_

۴_ كفار اور آيات الہى كى تكذيب كرنے والے پليد لوگ ہيں _و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون

۵_ خدا تعالى اپنے پيغمبروں كى تكذيب كرنے والوں اور كفار كى پليدى ميں مسلسل اضافہ كرتا ہے_

و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون

۶_ عقل و خرد سے كام نہ لينا انسان كے پليديوں سے آلودہ ہونے كا سبب بنتا ہے_و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون

۷_ اہل ايمان ،عقل و خرد سے مالامال اور سفاہت و نادانى سے مبرّا ہيں _

و ما كان لنفس ان تؤمن و يجعل الرجس على الذين لا يعقلون

۸_ ايمان ، مومنين كى طہارت اور انكے ہر قسم كى نجاست اور پليدى سے پاكيزہ ہونے كا سامان فراہم كرتاہے_

و ما كان لنفس ان تؤمن و يجعل الرجس على الذين لايعقلون

آيات خدا :انہيں جھٹلانے والوں كى بے عقلى ۳; انہيں جھٹلانے والوں كى پليدى ۴; انہيں جھٹلانے والوں كى جہالت ۳

انبياء (ع) :انہيں جھٹلانے والوں كى بے عقلى ۳;انہيں جھٹلانے والوں كى پليدى كا زيادہ ہونا ۵; انہيں جھٹلانے والوں كى جہالت ۳

انسان :اس كا اختيار ۱،۲; اس كا عاجز ہونا ۱

ايمان :اسكے اثرات۸

پليد لوگ:۴

۶۱۱

پليدى :اسكے عوامل ۶

تفويض:اسے مسترد كرنا ۱،۲

جاہل لوگ:۳

خدا تعالى :اسكے افعال ۵

عقل:بے عقل لوگ ۳;بے عقلى كے اثرات۶

كفار :انكى پليدى ۴;انكى پليدى كا زيادہ ہونا ۵

مؤمنين :انكا مبرا ہونا ۷; انكى پاكيزگى كے عوامل ۸; انكى صفات ۷; يہ اور جہالت ۷; يہ اور سفاہت ۷

آیت ۱۰۱

( قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ )

پيغمبر آپ كہہ ديجئے كہ ذر آسمان و زمين ميں غور و فكر كرو_ اور يادر ركھيے كہ جو ايمان لانے والے نہيں ہيں ان كے حق ميں نشانياں اور ڈوراو ے كچھ كام آنے والے نہيں ہيں _

۱_پيغمبر اكرم (ص) كو حكم ہوا كہ لوگوں كو آسمان و زمين كے موجودات ميں تفكر و تدبر كرنے كى دعوت ديں _

قل انظروا ما ذا فى السماوات و الارض

۲_ آسمان و زمين كے مختلف موجودات خدا تعالى كى توحيد اور جہان ہستى پر اسكى مطلق ربوبيت كى نشانياں ہيں _

قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض و ما تغنى الآيات

۳_ آسمان و زمين كے موجودات كا مطالعہ اور ان ميں دقت ،ايمان اور توحيد ربوبى كى معرفت كے حاصل ہونے كا ذريعہ ہے_قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض و م

۶۱۲

تغنى الآيات

۴_ جہان خلقت (آسمان و زمين اور انكے موجودات) خدا تعالى كى شناخت كيلئے مناسب ذريعہ ہيں _

قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض

۵_ آسمان و زمين ميں توحيد ربوبى كى بہت سارى خفيہ نشانياں ہيں كہ انسان جستجو اور مطالعے كے ذريعے ان تك دسترسى حاصل كرسكتا ہے_قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض و ما تغنى الآيات

جملہ '' ماذا فى السماوات و الارض'' استفہاميہ ہے_ يعنى آسمانوں اور زمين ميں كيا چيزيں ہيں ؟ اور يہ كہ خدا تعالى كا حكم ہے كہ اس سوال پر غور و فكر كرو _ اس كا معنى يہ ہے كہ تدبر و تفكر اور مطالعے كے ذريعے اس كا جواب حاصل كرو اور اس كا نتيجہ ہے توحيد ربوبى تك رسائي_

۶_ جہان ہستى كے موجودات انسان كيلئے قابل شناخت و بيان ہيں _

قل انظروا ما ذا فى السماوات و الارض و ما تغنى الآيات

۷_ آسمان و زمين كے موجودات ،خدا تعالى كى آيات اور نشانيوں اور پيغمبروں كى تنبيہ سے صرف وہ لوگ بہرہ مند ہوتے ہيں جنكے لئے ايمان كے اسباب فراہم ہوتے ہيں _قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون

۸_ جہان خلقت ميں كئي آسمان ہيں _السماوات

۹_ جولوگ ايمان كے اسباب سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں وہ آسمان و زمين ميں موجود خدا كى نشانيوں اور پيغمبروں كے ڈرانے سے ذرہ بھر فائدہ نہيں اٹھاتے_قل انظروا ماذا فى السماوات و الارض و ما تغنى الآيا ت و النذر عن قوم لا يؤمنون

۱۰_جن لوگوں ميں ايمان كے اسباب مفقود ہيں اگر انہيں خدا كى سب نشانياں اور آيات دكھا دى جائيں اور سب انبيا انہيں انذار كريں تب بھى ان پر ذرہ برابر اثر نہيں ہوگا_و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون

۱۱_ مشركين مكہ ايسے لوگ تھے جو آيات الہى اور پيغمبروں كے انذار پر ايمان لانے كے اسباب كھو بيٹھے تھے_

افا نت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون

۱۲_ مشركين ايسے لوگ تھے كہ اگر خدا كى سب نشانياں انہيں دكھا دى جاتيں اور سب انبياء (ع) انہيں تنبيہ كرتے ان پر ذرہ برابر اثر نہ ہوتا_

۶۱۳

افا نت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون

۱۳_ لوگوں كو انذار كرنا اور انہيں ڈرانا انبياء (ع) كى ذمہ دارى ہے_و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لايؤمنون

''نذر''''نذير'' كى جمع ہے اور اس سے مراد پيغمبران الہى ہيں _

۱۴_ ليچڑپن: حق كى شناخت اور ايمان لانے سے ايك مانع ہے_و ما تغنى الآيات والنذر عن قوم لا يؤمنون

آسمان :آسمانوں كے موجودات ۲;انكا متعدد ہونا ۸

آنحضرت (ص) :آپ(ص) كى ذمہ دارى ۱

آيات خدا :۲

آفاقى آيات ۴،۵; ان سے استفادہ كرنا ۷; ان سے محروم لوگ ۹،۱۱،۱۲

انبياء (ع) :انكى تعليمات سے استفادہ كرنا۱۰; انكى تعليمات سے محروم افراد ۹،۱۰،۱۱،۱۲; انكى رسالت ۱۳

ايمان :اس سے محروم لوگ ۹،۱۰; اسكے اسباب ۳;اسكے موانع ۱۴

توحيد :توحيد ربوبى كى نشانياں ۵;توحيد ربوبى كے اسباب ۳ ;توحيد ربوبى كے دلائل ۲

حق :حق شناسى كے موانع ۱۴

خدا تعالى :اسكى ربوبيت كے دلائل ۲; خداشناسى كے راستے۴

خلقت :اسكے مطالعے كى اہميت ۱;اسكے مطالعے كے اثرات۳،۵; اسكے موجودات كى شناخت ۶

زمين :اسكے موجودات ۲

لوگ:انہيں ڈرانے كى اہميت ۱۳

ليچڑپن :اسكے اثرات۱۴

مشركين :ان پر آيات خدا كا اثر نہ كرنا ۱۲; ان پر انبيا كى تنبيہ كا اثر نہ كرنا ۱۲

۶۱۴

مشركين مكہ :انكا محروم ہونا ۱۱; يہ اور آيات خدا ۱۱; يہ اور انبياكى تنبيہ ۱۱

مومنين :انكے فضائل ۷; يہ اور آيات خدا ۷; يہ اور انبياكى تنبيہ ۷

آیت ۱۰۲

( فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِهِمْ قُلْ فَانتَظِرُواْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ )

اب كيا يہ لوگ انھيں برے دنوں كا انتظار كرہے ہيں جو ان سے پہلے والوں پر گذر چكے ہيں تو كہہ ديجئے كہ پھر انتظار كروميں بھى تمھارے انتظاركرنے والوں ميں ہوں _

۱_ جولوگ ايمان لانے كے اسباب سے ہاتھ دھو بيٹھيں اور آيات الہى اور انبيا كى تنبيہ سے متا ثر نہ ہوں وہ تہس نہس كرنے والے عذاب كے مستحق ہيں _و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون فهل ينتظرون الا مثل ايام الذين خلوا من قبلهم

۲_ مشركين مكہ آيات ا لہى اور پيغمبر اكرم(ص) كى تنبيہ پر ايمان لانے كے اسباب كھو دينے كى وجہ سے تہس نہس كردينے والے عذاب كے مستحق تھے_و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون فهل ينتظرون الامثل ايام الذين خلوا من قبلهم

گذشتہ آيت ميں '' قوم لا يؤمنون'' كا ايك مصداق مشركين مكہ ہيں اس سے مندرجہ بالا مطلب حاصل ہوتا ہے_

۳_ مہلك عذاب ايسى سنت الہى ہے كہ جس كا ايمان كے اسباب كھودينے والے لوگوں پر نازل ہونے كا ہروقت اور ہر جگہ امكان ہے_و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون فهل ينتظرون الا مثل ايام الذين خلوا من قبلهم

۴_ بہت سارى گذشتہ اقوام ايمان كے امكان كے مفقود ہوجانے، آيات الہى كى تكذيب كرنے اور

۶۱۵

انبيا كى تنبيہ پر كان نہ دھر نے كى وجہ سے مہلك عذاب كے ذريعے نابود ہوگئيں _

و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون فهل ينتظرون الامثل ايام الذين خلوا من قبلهم

۵_ خدا تعالى نے مشركين كو ايمان كے اسباب سے محروم ہوجانے كى وجہ سے مہلك عذاب كى دھمكى دى ہے_

قل فانتظروا انى معكم من المنتظرين

۶_ خداتعالى كى طرف سے پيغمبر (ص) كو حكم ہوا كہ مشركين كو مہلك عذاب كى دھمكى ديں اور اعلان كرديں كہ اسكے وقوع پذير ہونے كے منتظر رہيں _

و ما تغنى الآيات و النذر عن قوم لا يؤمنون فهل ينتظرون الامثل ايام الذين خلوا من قبلهم قل فانتظرو

۷_ خدا تعالى كى طرف سے پيغمبر اكرم(ص) كو حكم ہوا كہ مشركين كو بتاديں كہ ميں تمہارے ہدايت حاصل كرنے سے مايوس ہو چكا ہوں اور تم پر عذاب كے نازل ہونے كا منتظر ہوں _فهل ينتظرون قل فانتظروا انى معكم من المنتظرين

آنحضرت(ص) :آپ(ص) اور مشركين ۶،۷; آپ(ص) كى ذمہ دارى ۶،۷

آيات خدا :ان سے محروم لوگ۱;انہيں جھٹلانے كى سزا ۴

انبياء (ع) :انكى تعليمات سے محروم لوگ۱;انكى تنبيہ سے بے اعتنائي كى سزا ۴

ايمان :اس سے محروم لوگ۱;اس سے محروم لوگوں كا عذاب ۳،۴; اس سے محروم ہونے كے اثرات ۵; بے ايمانى كى سزا ۴

خداتعالى :اسكى دھمكياں ۵; اسكى سنتيں ۳

خدا كى سنتيں :اسكى مہلك عذاب والى سنت ۳

عذاب :عذاب كے مستحقين ۱،۲،۳،۴،۶،۷; مہلك عذاب كى دھمكى ۵،۶

گذشتہ اقوام :انكى تاريخ ۴

مشركين :انكا عذاب ۷; انكو دھمكى ۵; انكى ہدايت سے مايوسى ۷

مشركين مكہ :انكا مہلك عذاب ۲

۶۱۶

آیت ۱۰۳

( ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ )

اس كے بعد ہم اپنے رسولوں اور ايمان والوں كو نجات ديتے ہيں اور يہ ہمار ے او پر ايك حق ہے كہ ہم صاحبان ايمان كو نجات دلائيں _

۱_ خدا تعالى كافروں پر مہلك عذاب نازل كرتے وقت اپنے رسولوں اور مومنين كو ہلاكت سے دور ركھتا ہے اور انہيں كوئي نقصان نہيں پہنچنے ديتا_فهل ينتظرون الامثل ايام الذين خلوا من قبلهم ثم ننجى رسلنا و الذين آمنو

۲_ مومنين كى نجات اور انكا مہلك عذاب سے آسيب پذير نہ ہونا خداتعالى كى ناقابل تغيير سنت ہے_

ثم ننجى رسلنا و الذين آمنوا كذلك حقا علينا ننج المؤمنين

۳_ ايمان ، مہلك عذاب سے نجات كا ذريعہ ہے_ثم ننجى رسلنا و الذين آمنوا كذلك حقا علينا ان ننج المؤمنين

۴_ مومنين كا خداتعالى پر حق ہے كہ انہيں دنياوى عذاب سے نجات دے_كذلك حقاً علينا ان ننج المؤمنين

۵_ بارگاہ الہى ميں مومنين كا خاص مقام ہے اوروہ اسكے خاص الطاف سے بہرہ مند ہيں _

ثم ننجى رسلنا و الذين آمنوا كذلك حقاً علينا ننج المؤمنين

۶_ ڈرانا ، خطرے كا اعلان كرنا اور خوشخبرى اور نويد سنانا قرآن كى ہدايت اور تربيت كرنے كى روشيں ہيں _

فهل ينتظرون الامثل ايام الذين خلوا من قبلهم ثم ننجى رسلنا كذلك حقا علينا ننج المؤمنين

۶۱۷

مندرجہ بالا مطلب سابقہ آيت; كہ جس ميں ليچڑ كفار كو عذاب كى دھمكى دى گئي تھى اور اس آيت كہ جس ميں حق طلب مومنين كو نجات و نصرت كى خوشخبرى اور نويد سنائي گئي ہے ;كے ارتباط سے حاصل ہوتا _

انبياء (ع) :انكى نجات ۱

ايمان :اسكے اثرات ۳

تربيت :اسكى روش ۶;اس ميں بشارت دينا ۶; اس ميں ڈرانا ۶

خداتعالى :اس كا نجات بخشنا ۱;اسكى سنتوں كا حتمى ہونا ۲;اسكے

افعال ۱; اس كے عطيات ۵

خدا كى سنتيں :اسكى نجات بخشے والى سنت ۲

عذاب :اس سے نجات ۱،۲; دنياوى عذاب سے نجات ۴; مہلك عذاب سے نجات كے عوامل ۳

قرآن كريم :اس كا ہدايت كرنا ۶

كفار :انكا مہلك عذاب۱

مومنين :انكا مقام ۵; انكى نجات ۱،۲،۴;ان كے حقوق ۴

ہدايت :اسكى روش ۶

۶۱۸

آیت ۱۰۴

( قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ )

پيغمبر آپ كہہ ديجئے كہ اگر تم لوگوں كو ميرے دين ميں شك ہے تو ميں انكى پرستش نہيں كرسكتا جنھيں تم لوگ خدا كو چھوڑ كر پوج رہے ہو _ ميں تو صرف اس خدا كى عبادت كرتا ہوں جو تم سب كو موت دينے والا ہے اور مجھے حكم ديا گيا ہے كہ ميں صاحبان ايمان ميں شامل رہوں _

۱_ پيغمبر اكرم (ص) كو حكم تھا كہ اپنے دين كے اصول اور مبانى كو مشركين كے سامنے كھول كر اور بالكل واضح طور پر بيان كرديں اور كسى قسم كا ابہام اور شك و ترديد نہ چھوڑيں _

قل يا ايها الناس ان كنتم فى شك من دينى فلا اعبد الذين تعبدون من دون الله

۲_ پيغمبر اكرم (ص) كو حكم ہوا كہ شرك كو مسترد كرنے اور توحيد كى دعوت دينے ميں اپنى مستقل مزاجى اور ناقابل لچك ہونے كا مشركين كے سامنے واضح طور پر اعلان كرديں _

قل يا ايها الناس ان كنتم فى شك من دينى فلا اعبد الذين تعبدون من دون الله

۳_ مشركين كو ،شرك مسترد كرنے اور توحيد كى دعوت دينے ميں پيغمبر اكرم(ع) كى پائيدارى اور بے لچك رويے كے بارے ميں شك تھا_قل يا ايها الناس ان كنتم فى شك من ديني

چونكہ اس آيت ميں بات ان مشركين سے ہورہى ہے جو توحيد كى طرف مائل ہونے سے انكارى تھے لذا حتمى طور پر انكا يہ انكار يا تو اسلئے تھا كہ ابھى تك ان كيلئے توحيد كى حقيقت روشن نہيں ہوئي تھى اور يا اسلئے تھا كہ انہيں ابھى تك پيغمبر كے اپنى اس روش

۶۱۹

سے دستبردار ہو كر انكے حلقے ميں داخل ہونے كى اميد تھى مندرجہ بالا مطلب اس دوسرے احتمال كى بنا پر ہے _

۴_ صدر اسلام كے مشركين متعدد معبودوں كى پرستش كرتے ہيں _فلا اعبد الذين تعبدون من دون الله

۵_ صدر اسلام كے مشركين كوپيغمبر اكرم(ص) كے دين توحيد كى حقيقت كے بارے ميں شك تھا_

قل ياايهاالناس ان كنتم فى شك من ديني

۶_ مشركين جن بتوں كى پرستش كرتے تھے انہيں باشعور سمجھتے تھے _فلا اعبدالذين تعبدون من دون الله

''الذين'' اسم موصول ہے جو صاحبان عقل و شعور كيلئے استعمال ہوتا ہے _

۷_ شرك كى بنياد خداؤں كى عبادت اور الله كى عبادت كى نفى پر ركھى گئي تھى _الذين تعبدون من دون الله

۸_عبادت كے لائق صرف وہ خدا ہے جسكے قبضہ قدرت ميں انسان كى موت ہے اور موت كے بعد بھى انسان كى جان اسكے اختيار ميں ہوگى _ولكن اعبدالله الذى يتوفيكم

۹_ انسان كى موت صرف خدا كے ہاتھ ميں ہے _الله الذى يتوفيكم

۱۰_ عبادت ميں توحيد اور موت كے بعد انسان كے باقى رہنے كا عقيدہ ،دين الہى كى دو بنياديں اور پائے ہيں _

ولكن اعبدالله الذى يتوفيكم

۱۱_ موت كو ياد كرنا ; خدا كى طرف توجہ او رعبادت ميں توحيد كا سبب ہے _ولكن اعبدالله الذى يتوفيكم

عبادت ميں توحيد كا ذكر كرنے كے بعد ''يتوفيكم''كو بيان كرنا اس نكتہ كا بيان بھى ہوسكتا ہے كہ موت كو ياد كرنا توحيد عبادتى تك پہنچنےكا وسيلہ ہے_

۱۲_ موت ، انسان كى حقيقت كى اسكے بدن سے جدائي اور خدا كى طرف لوٹنے كا نام ہے نہ مكمل طور پر معدوم ہوجانے كا_

ولكن اعبدالله الذى يتوفيكم

''توفي''اور ''استيفائ'' مادہ وفاء سے ، كسى چيز كو كامل اور بغير كسى كمى كے حاصل كرنے كے معنى ميں ہے جيسے ''توفيت المال'' ميں نے پور امال حاصل كيا پس موت كا معنى ہے انسان كو مكمل طور پر حاصل كرنااور چونكہ انسان كا بدن حاصل نہيں كيا جاسكتا لہذا اس سے مراد انسان كى حقيقت جو كہ روح ہے كا حصول ہو گا اور خداتعالى كے يہاں ہميشہ كيلئے رہے گى _

۱۳_پيغمبراكرم (ص) نے مشركين كے ساتھ صلح نہ كرنے اور

۶۲۰