اگر مسلمان یہ گواہی دیں کہ فاطمہ زہرا کسی غلط فعل کی مرتکب ہوئی ہیں تو آپ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے ؟ ابوبکر نے کہا : عام مسلمان عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا !۔ آپ نے فرمایا : اس صورت میں آپ خداوندعالم کے نزدیک کافروں میں سے ہوں گے ۔ ابوبکر نے کہا: وہ کیسے ؟
آپ نے فرمایا : چونکہ حضرت فاطمہ زہرا کی پاکیزگی و طہارت پر خداوندعالم کی گواہی کو رد کردیا اور ان کے خلاف مسلمانوں کی گواہی کو قبول کرلیا ۔ اسی طرح خداوندعالم اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
کے حکم کو فدک کے سلسلے م یں کہ جو آپ کے لیے قرار دیا تھا اورآپ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
کی زندگی ہی میں اس کی مالک تھیں، رد کردیا ہے ۔
عالم غیب اور عالم مادہ
یہ واضح ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اور مشرکین عرب اپنی سطحی فکر پر زندگی گذار رہے تھے ، اگر ان کے حالات پر غور کریں تو روشن ہوجائے گا کہ وہ حقیقت رسالت کودرک نہ کرنے کی وجہ سے جو کچھ بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
لائے تھے اس پر اعتراض کرتے اور کہتے تھے کہ کیوں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
ایک عظیم بادشاہ کی طرح نہیں ہیں ؟آپ کے پاس کیوں مال و دولت کے انبار نہیں ہیں ؟ ۔
کس طرح خد اوندعالم مردوں کو زندہ کرے گا ؟ کس طرح لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ؟۔
اور اس طرح کے ہزاروں سوال ۔
یہ تمام سوالات مشرکین کی جانب سے ہیں کہ جن میں سے زیادہ تر مادی اور امور حسی سے مربوط ہیں کہ جن کا عالم غیب سے کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ خداوندعالم نے مؤمنین سے غیب پر ایمان لانے کی فرمائش کی ہے کہ تمام حوادث کو ایک مادی نگاہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ عالم غیب پر ایمان رکھا جائے ۔
حدیثی منابع و مصادر میں ابوبکر کے متعلق نقل ہوا ہے کہ وہ جنگ حنین میں بعض غیبی حوادث کے متعلق مادی نظر رکھتے تھے اسی لیے کہا کہ ہم آج قلت افراد کی وجہ سے اصلا کامیاب نہیں ہوسکتے!