"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

12%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49460 / ڈاؤنلوڈ: 6229
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

صدق و سچائی کادارومدار خود انسان پر ہے لیکن صدیقیت کا تعلق خداوند سے ہے ، معصوم نہ صرف صادق بلکہ صدیق ہوتا ہے اور نہ فقط طاہر بلکہ مطہر ہوتا ہے ،پس جو کوئی خداوندعالم کی جانب سے منتخب اور چنا ہوا ہو اس کے لیے واجب ہے کہ اپنی رفتار و گفتار میں بغیر کسی کمی و زیادتی کے راہ حق کو اپنائے جیساکہ یہ خصوصیت حضرت مریم بنت عمران میں نظر آتی ہے لہذا خدا وندعالم کا ارشادگرامی ہے ۔( ماالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه صدیقه ) (۱)

مسیح ابن مریم کچھ نہیں ہیں سوائے رسول کے کہ ان سے پہلے بھی رسول آئے اور چلے گئے اور ان کی مادر گرامی صدیقہ ہیں ۔ اور ان ہی کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :

( واذقالت الملائکة یا مریم ان الله اصطفاک و طهر ک واصطفاک علی نساء العالمین ٭ یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین٭ذالک من انباء الغیب نوحیه الیک وما کنت لدیهم اذ یلقون اقلامهم ایهم یکفل مریم وما کنت لدیهم اذ یختصمون ) (۲)

اور جب فرشتوں نے کہا : اے مریم خداوندعالم نے آپ کو منتخب کیا اور پاک و پاکیزہ رکھا اور آپ کو عالمین کی عورتوں پر فضیلت بخشی ۔ اے مریم اپنے پروردگار کے سامنے خاضع اور خاشع رہو، سجدہ کرنے والو ں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ یہ غیبی خبریں ہیں کہ جن کی ہم نے آپ پر وحی کی اورآپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے کہ جب ان کے درمیان اس سلسلے میں قرعہ ڈالے گئے کہ مریم کی پرورش کون کرے ؟ اورآپ ان کے درمیان نہیں تھے کہ جب وہ آپس میں اختلاف کررہے تھے ۔

اور جب اس قوم نے مریم سے کہا (یا مریم لقد جئت شیأ فریا )(۳)

____________________

(۱) سورہ مائدہ(۵)، آیت ۷۵۔

(۲) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۴۲ـ۴۴۔

(۳) سورہ مریم (۱۹)، آیات ۲۷ـ ۳۰۔

۱۴۱

یعنی اے مریم آپ ایک دھوکے کی چیز لائی ہو کہ جو برائی کا سرچشمہ ہے( یا اخت هارون ماکان ابوک امرء سوء وما کانت امک بغیا ) اے ہارون کی بہن آپ کا باپ کوئی برا آدمی نہ تھا اور نہ آپ کی ماں کوئی بدکار عورت تھی ۔

مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ جو گہوارے میں تھے اور لوگوں سے چاہا کہ اس ماجرے کی شرح وتفصیل اس بچے سے معلوم کریں ، ان لوگوں نے کہا( کیف نکلم من کان فی المهد صبیا ) ہم کس طرح اس بچے سے گفتگو کریں کہ جو ابھی گہوارے میں ہے ، اس وقت خداوندعالم نے حضرت عیسی کو قوت گویائی عطا فرمائی ۔ پس آپ نے کہا( قال انی عبد الله آتانی الکتاب و جعلنی نبیا،و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصلوة والزکوة مادمت حیا ، وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارا شقیا ، والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا )

بیشک میں خدا کا بندہ ہوں کہ جس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے،مجھے نبی بنایا،مجھے جہاں کہیں بھی رہوں بابرکت قرار دیا،جب تک زندہ ہوں نماز اور زکوة کی وصیت فرمائی اور مجھے وصیت فرمائی کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کروں اس نے مجھے جبار و شقی نہیںبنایا پس مجھ پر سلام ہو اس دن کہ جب میں پید ا ہوا اور اس روز کہ جب مروں اور اس روز کہ جب دوبارہ زندہ کیا جاؤں ۔

اس بناء پر حضرت مریم قرآن کریم کی نص کے اعتبار سے صدیقہ ہیں۔ ان کے اور حضرت فاطمہ زہرا کے درمیان بہت زیادہ چیزیں مشترک ہیں ، مثلا یہ کہ دونوں نبوت کے سلالہ اور نسل سے ہیں اور نبوت ایک ایسا سلالہ و رشتہ ہے کہ جو بھی اس سلسلے سے ہو گا وہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی نسل سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔

۱۴۲

( ان الله اصطفی آدم و نوحا و آل ابراهیم و آل عمران علی العالمین ذریة بعضها من بعض والله سمیع علیم اذاقالت امراة عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررا فتقبل منی انک انت السمیع العلیم ) (۱)

خداوندعالم نے آدم ، نوح اور آل ابراہیم و آل عمران کو چنا اور عالمین پر فضیلت بخشی کہ جو ایک دوسرے کی نسل و ذریت ہیں اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ جب عمران کی زوجہ نے کہا : پروردگارا جو بچہ میرے شکم میں ہے اس کے لیے میںنے نذر مانی ہے کہ تیری راہ میں آزاد کروں اور تیری خدمت کے لیے مخصوص کردوں ، پس خداوندا مجھ سے اس کو قبول فرمالے کہ تو سننے اور جاننے والا ہے۔

مریم ایک نبی کی بیٹی اور فاطمہ خاتم الانبیاء کی بیٹی ہیں ، مریم ایک نبی کی ماں ۔ فاطمہ ام ابیھا ، اپنے باپ کی ماں، دو وصیوں کی ماں ، بلکہ مادر اوصیاء ہیں۔

مریم کے یہاں بغیر شوہر کے بچے کی ولادت ہوئی معجزے کے ذریعہ چونکہ اس دور میںان کا کوئی کفو اور مقابل نہ تھا اور فاطمہ کے لیے علی جیسی عظیم شخصیت شوہر قرارپائے اور ان سے حسن و حسین جیسے فرزندوں کی ولادت ہوئی ، اور اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کے برابر و کفو کوئی نہ ہوتا اور ان دونوں کی تربیت و پرورش پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کی ، مریم کی کفالت و پرورش زکریا نبی نے کی، فاطمہ کی پرورش وکفالت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی نے فرمائی۔

____________________

(۱) سورہ آل عمران(۳)، آیات ۳۳ـ۳۵۔

۱۴۳

حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ آپ نے ابن ابی سعید مکاری کے جواب میں فرمایا : خدا وندعالم نے جناب عمران پر وحی نازل کی کہ میں نے تجھ کو بیٹا عطا کیا اور پھر مریم ان کے یہاں پیدا ہوئیں اور مریم کو عیسی عطا ہوئے پس عیسی ، مریم سے ہیں اورمریم ، عیسی سے اور عیسی و مریم دونوں ایک چیز ہیں اور میں اپنے باپ سے ہوں اور میرے والد گرامی مجھ سے اور ہم دونوں ایک چیز ہیں۔(۱)

شیعہ اور اہل سنت دونوں نے نقل کیا ہے کہ ایک رات امیر المؤمنین حضرت علی بھوکے سوگئے اور صبح کو اٹھ کر حضرت فاطمہ سے کھانا طلب فرمایا حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا : اس خدا کی قسم کہ جس نے میرے باپ کو مبعوث بہ رسالت کیا اور آپ کو ان کا وصی قرار دیا میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے اور دو دن سے گھر میں کچھ بھی نہیں ، حتی کہ بچوں حسن و حسین کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے ۔

حضرت علی نے فرمایا :آپ نے ان بچوں کے لیے بھی کچھ نہ رکھااور مجھے بھی خبر دار نہ کیا تاکہ آپ کے لیے اور بچوں کے لیے کچھ انتظام کرتا ۔

حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا : اے ابو الحسن مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ کسی ایسی چیز کے لیے آپ سے کہوں کہ آپ کے پاس بھی نہ ہو ۔

حضرت علی ، خداپر بھروسہ و توکل کرکے گھر سے باہر نکلے ایک دینار پیغمبراکرم سے قرض لیا اور چل پڑے تاکہ اس سے کچھ خرید کر لائیں اچانک مقداد سے ملاقات ہوئی ۔

____________________

(۱) بحارالانوار :۲۵ ۱۔ بنقل از معانی الاخبار ۶۵۔

۱۴۴

دیکھا کہ مقداد جلتی ہوئی دھوپ میں باہر گھوم رہے ہیں حضرت علی مقداد کی یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لاسکے اورفرمایا: اے مقداد آپ کو ایسی گرمی میں کس چیز نے باہر نکالا ہے ؟ اورکیوںپریشان پھر رہے ہو؟۔

مقداد نے کہا : اے ابو الحسن مجھ کو میرے حال پرچھوڑدو اور میری زندگی کے راز کو نہ کھلواؤ ۔

آپ نے فرمایا: میں بغیر معلوم کئے آپ کو نہیں جانے دوں گا۔

مقداد نے کہا : اے ابوالحسن آپ کو خدا کی قسم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور میری حالت معلوم نہ کرو۔

علی نے فرمایا : آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ مجھ سے اپنی حالت کو چھپاؤ ۔

مقداد نے کہا: آپ کا اصرار ہی ہے تو عرض کرتا ہوں اس ذات کی قسم کہ جس نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نبوت سے سرفراز ک یا اور آپ کو ان کا وصی قرار دیا ۔ مجھے میرے گھر کی ناداری نے بے قرارکررکھا ہے ،میرے بچے بھوک سے بے حال ہیں اور اب میں ان کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا ہوں، لہذا شرم کے مارے میں نے سر کو جھکا یا اور باہر نکل آیا اور اب پریشان پھر رہا ہوں ، یہ ہے میری حالت!۔

یہ باتیں سنتے ہی علی کی آنکھوں سے اشک جاری ہوئے اور آپ کی ریش مبارک تر ہوگئی اور پھر فرمایا : میں بھی قسم کھاتا ہوں اس کی جس کی تونے قسم کھائی ہے میں بھی اپنے اہل خانہ سے اسی وجہ سے شرم کھاکے باہر آیا ہوں جس کی وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ۔یہ ایک دینار میں نے قرض لیا ہے اس کو لیں اور اپنی ضرورت کو پورا کریں ۔

۱۴۵

لہذا حضرت علی نے مقداد کی ضرورت کو اپنی ضرورت و احتیاج پر مقدم رکھا ،ا ن کووہ دینار دے دیا اور خود ایک گوشہ میں سر رکھ کر سوگئے ۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بیت الشرف سے باہر تشریف لارہے تھے کہ ناگہاں آپ کو دیکھا آپ کا سر ہلایا اور فرمایا : کیا کام کیا ؟ حضرت علی نے آپ کو سارا ماجرہ سنا دیا ، پھر اٹھے اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نماز بجالائے۔

جب نماز سے فارغ ہوئے تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا : اے علی آپ کے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ حضرت نے توقف کیا اور خاموشی اختیار کی اور شرم کی وجہ سے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کوئی جواب نہ دیا جبکہ ان کو دینار کا سار ا قصہ سنا چکے تھے ، پھر فرمایا : جی ہاں یا رسول اللہ ، خداوندعالم کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں ۔

خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل کردی تھی کہ آج شام کا کھانا علی ابن ابی طالب کے گھر پر ہے ۔ پس دونوں چلے اور فاطمہ کے بیت الشرف میں وارد ہوئے آنحضرت مصروف عبادت تھیں ، اور آپ کے پاس ایک بہت بڑا طشت رکھا ہوا تھا کہ جس میں سے گرم گرم کھانے کا دھواں اٹھ رہا تھا ۔

حضرت فاطمہ زہرا نے نمازکے بعد اس طشت کو اٹھایا اور ان بزرگواروں کے سامنے لاکر رکھ دیا ، حضرت علی نے سوال کیا : اے فاطمہ یہ آپ کے پاس کہاں سے آیا ؟ آپ نے جواب دیا یہ خداوندعالم کا فضل اور اس کا رزق ہے خداوندعالم جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی عطا کرتا ہے ۔

اسی دوران پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دست مبارک کو علی کے دوش مبارک پر رکھا اور فرمایا : اے علی یہ آپ کے دینار کے بدلے میں ہے ، پھر آپ کے آنسو جاری ہوگئے اور روتے ہوئے فرمایا :

۱۴۶

حمد و شکر ہے اس پروردگار کا کہ مجھے موت نہ آئی جب تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی بیٹی کے پاس وہ سب کچھ نہ دیکھ لیا کہ جو زکریا نے مریم کے پاس دیکھا تھا ۔(۱)

ہماری روایات میں مذکور ہے کہ نسل حضرت فاطمہ زہرا سے آئمہ ، بنی اسرائیل کے نبیوں سے افضل ہیں اور عامہ کی روایات میں ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔(۲)

اور دونوں فرقوں کی روایات میں ایسی خبریں اور حدیثیں موجود ہیں کہ جو مذہب شیعہ کے عقیدے کی تصدیق کرتی ہیں چونکہ شیعہ اور سنی دونوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ آخری زمانے میں جب حضرت امام مہدی کے ظہور کے ساتھ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے ۔(۳) جب کہ یہ خود دلیل ہے کہ آئمہ اہل بیت ، انبیاء بنی اسرائیل سے افضل ہیں ۔

اور اگر حضرت ابراہیم و حضرت علی کے کلاموں کے درمیان مقایسہ کیا جائے تو حضرت علی کی بزرگی و معرفت حضرت ابراہیم کی نسبت واضح و آشکار ہوجائے گی ۔

____________________

(۱) دیکھیے:ـ مناقب ابن شہر آشوب : ۱ ۳۵۰ ۔ امالی شیخ طوسی ۶۱۷۔ الخرائج و الجرائح :۲ ۵۲۲۔ ذخائرالعقبی ۴۶۔ فضائل سیدة النساء (عمر بن شاہین) ۲۶۔ تفسیر فرات کوفی ۸۴۔ کشف الغمہ :۲ ۹۸۔تاویل الآیات :۱ ۱۰۹۔ ینابیع المودة :۲ ۱۳۶۔

(۲) المحصوم (رازی ) :۵ ۷۲۔ سبل الھدی و الرشاد:۱۰ ۳۳۷۔

(۳) الآحاد المثانی :۲ ۴۴۶ـ۴۴۹، حدیث ۱۲۴۹۔ کنزالعمال :۱۴ ۲۲۶، حدیث ۳۸۶۷۳۔ یہ ابونعیم کی کتاب مہدی میں ابو سعیدسے روایت ہے ۔ فتح الباری :۶ ۳۵۸۔ تفسیر قرطبی :۱۶ ۱۰۶۔

۱۴۷

خداوندعالم نے حضرت ابراہیم سے خطاب فرمایا( اولم تومن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی ) (۱) اے ابراہیم کیا مردوں کے زندہ ہونے کے بارے میں آپ کو یقین نہیں ہے ابراہیم نے جواب دیا یقین تو ہے لیکن اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لیے معلوم کررہا ہوں ۔

جب کہ حضرت علی کا ارشاد گرامی ہے :'' لوکشف الغطاء ما زددت یقینا ''(۲) اگر م یری آنکھوں کے سامنے سے پردے بھی ہٹادیے جائیں تو بھی میر ے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

اس کلام میں بہت عظیم معنی پوشیدہ ہیں کہ جس کو علماء اپنی بصیرت سے درک کرتے ہیں ۔

اسی منطق و دلیل اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نص کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا جناب مریم سے افضل و بالاتر ہیں چونکہ حضرت رسول خدا کہ ان پر قرآن نازل ہو ااور اس میں جناب مریم کے انتخاب کی آیت نازل ہوئی جبکہ آپ نے حضرت فاطمہ زہرا کے لیے فرمایا: فاطمہ تمام عالم کی عورتوں کی سرادار ہیں لوگوں نے سوال کیا اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہ ک یا اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں تو آپ نے فرمایا:''ذاک مریم بنت عمران ، اما ابنتی فهی سیدة نساء العالمین من الاولین و آخرین'' (۳)

____________________

(۱) سورہ بقرہ (۲)، آیت ۲۶۰۔

(۲) تفسیر ابی السعود :۱ ۵۶۔ و جلد:۴ ۴۔ الصواعق المحرقہ :۲ ۳۷۹۔ حاشیہ السندی :۸ ۹۶۔ مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۳۱۷۔ فضائل ابن شاذان ۱۳۷۔

(۳) امالی صدوق ۵۷۵۔ اور اسی سے منقول ہے شرح الاخبار :۳ ۵۲۰، حدیث ۹۵۹۔ اور بحار الانوار : ۴۳ ۲۴، حدیث ۲۰،میں ۔ بشارة المصطفی ۳۷۴، حدیث ۸۹ ۔ بحارالانوار : ۳۷ ۸۵، حدیث ۵۲ ۔

۱۴۸

یہ کہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تو مریم بنت عمران تھیں لیکن میری بیٹی تمام عالمین اولین و آخرین کی عورتوں کی سردار ہیں ۔

عائشہ کی کیا صورت حال ہے ؟ کہاں عایشہ اور کہاں یہ فضائل ، کیا وہ ان عظیم فضائل و کمالات میں سے کچھ تھوڑ ا بہت بھی رکھتی تھیں؟۔

ایک شبہہ وسوال اور اس کا جواب

یہاں پر ہم ایک شبہہ کا جواب دینے پر مجبور ہیں کہ جو بعض افراد کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح حضرت فاطمہ زہرا تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں ؟ جب کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں یہ مرتبہ حضرت مریم کو عطا فرمایا ہے لہذا ارشاد گرامی ہے :

( یا مریم ان الله اصطفاک و طهر ک واصطفا ک علی نساء العالمین ) (۱)

اے مریم بیشک اللہ نے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھا اور تمام عالمین کی عورتوں پرچن لیا۔

ہم اس شبہہ کا جواب دو طرح سے پیش کرتے ہیں ، ایک نقضی ہے اور دوسرا حلی ۔

جواب نقضی یہ ہے کہ خود اعتراض کرنے والوں سے معلوم کرتے ہیں کہ اس آیت خداوندی کے بارے میں کیا خیا ل ہے کہ ارشاد گرامی ہے :

____________________

(۲) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۴۲۔

۱۴۹

( واسماعیل و الیسع و یونس و لوطا و کلا فضلنا ه علی العالمین ) (۱)

اور اسماعیل و یسع و یونس اورلوط ، ان سب کو ہم نے عالمین پر فضیلت بخشی ۔

تو کیا ان کا یہ یقین ہے یا کوئی قائل ہے کہ یہ مذکورہ نبی حضرات، ہمارے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت محمد مصطفی سے افضل ہیں ؟ اصلا نہیں ۔ چونکہ پیغمبروں کے یہاں مراتب ہیں کہ جن میں سب سے افضل خاتم الانبیاء ہیں ۔

اور پیغمبروں میں ایک دوسرے پر برتری و افضلیت یہ ایک حقیقت ربانی ہے لیکن یہ فضیلت ہمیشہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے زمانے سے مخصوص ہے ۔

( تلک الرسل فضلنا بعضهم علی بعض منهم من کلم الله و رفع بعضهم درجات ) (۲) یہ پیغمبران الہٰی کہ جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ان میں سے بعض وہ ہیں کہ جو خدا سے گفتگو کرتے ہیں اور ان میں سے بعض کے درجات کو بلند کیا ہے ۔

اور ان سب سے زیادہ واضح آیت وہ ہے کہ جہاں خداوندعالم نے یہودیوں کو قرآن کریم میں تمام مخلوقات عالم پر فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ لہذا ارشاد گرامی ہے :

( یا بنی اسرائیل اذکرو نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العالمین ) (۳)

____________________

(۱) سورہ انعام (۶) ، آیت ۸۶۔

(۲) سورہ بقرہ(۲) ، آیت ۲۵۳۔

(۳) سورہ بقرہ (۱) ، آیت ۱۲۲۔

۱۵۰

اے بنی اسرائیل یاد کرو ان نعمتوں کو کہ جو میں نے تم کو عطا کیں اور بیشک میں نے تم کو تمام عالمین پر فضیلت عطا کی ۔

کیا یہاں کوئی مسلمان یا عیسائی ہے کہ جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ یہودی تمام عالم سے افضل ہیں ؟ اصلاً نہیں ۔ خصوصاً اس بات کی اطلاع پانے کے بعد کہ انہوں نے انپے پیغمبروں کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا ، اور شریعت میں کس قدر تحریف کی ۔

لہذا اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی فضیلت اور کلمہ'' علی العالمین'' سے مراد اسی زمانے کے لوگ اور مخلوق ہے نہ کہ تما م زمانوں کے ۔

چونکہ آخری زمانہ مخصوص ہے حضرت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت امام علی اور ان کے معصوم فرزندوں سے کہ بغیر شک و تردید یہ حضرات انبیاء و بنی اسرائیل سے افضل وبرتر ہیں ۔

لیکن جواب حلی یہ ہے کہ جس شخصیت نے یہ فرمایا ہے کہ فاطمہ زہرا ، مریم سے افضل ہیں اور وہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں اور بہشت کی عورتوں کی سردار ہیں کہ جن میں مریم بھی ہیں وہی شخصیت ہے کہ جس پر قرآن نازل ہوا ہے اور اسی قرآن میں وہ آیت بھی ہے کہ جس میں مریم کو تمام عالم پر فضیلت دی گئی ہے۔لہذا جس پر قرآن نازل ہوا ہے وہ ہرآیت کے معنی پوری کائنات سے بہتر جانتا ہے ۔

اگر ذرا غور کریں ، اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرامین میں فکر سے کام لیں کہ جو آپ نے اپنی دختر نیک اختر کے بارے میں فرمائے ہیں جیسا کہ روایات میں آیا ہے کہ خداوندعالم حضرت فاطمہ زہرا کی خوشنودی میں خوش اور ان کی ناراضگی میں ناراض ہوتا ہے۔

۱۵۱

یقینا آپ کوعلم ہوجائے گا کہ یہ نصوص ، حضرت فاطمہ زہرا کی عصمت اور آپ کے تمام عالمین کی عورتوں پر فضیلت پر دلالت کرتی ہیں لہذا حق یہ ہے کہ آنحضرت کا مرتبہ بہت بلند و بالا ہے اور آپ مریم بنت عمران سے کہیں افضل وبرتر ہیں ۔

اصلی مطلب کی طرف مراجعت

اب اپنے اصلی مطلب کی طرف پلٹتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ ان چارافراد علی ، فاطمہ اور ابوبکر و عائشہ میں سے کون کون اس صفت صدیقیت کا مستحق ہے،اوران میں سے کس کس کی عصمت بیان ہوئی ہے اور کس کے یہاں اس لقب کے قابل ، امتیازات و علامات موجود ہیں ۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی مسلمان نے ابوبکر و عمراور عائشہ کی عصمت کا دعوی نہیں کیا ہے اور وہ لوگ خود بھی اس طرح کا ادعی نہیں کرتے تھے ۔

جبکہ یہ بات علی و فاطمہ کے یہاں بر عکس ہے کہ وہ دونوں حضرات خود بھی اپنی عصمت کے بارے میں معتقد تھے اور اسی طرح بہت سے مسلمان بھی ان کی عصمت و پاکیزگی اور ہر طرح کے رجس و آدلودگی سے طہارت کے متعلق یقین رکھتے ہیں ۔

قرآن کریم میں آیت تطہیر جیسی آیات انہیں کی شأن میں نازل ہوئی ہیں کہ جو ان کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں اور اسی طرح پیغمبرا کرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی وہ تقاریر اوراحادیث کہ جو ان کے متعلق ارشاد فرمائیں یقینا ان کی عصمت پر دال ہیں ۔

لہذا یہ مطلب اس بات کے لیے کافی ہے کہ کہا جائے کہ صدیقہ اولویت و ترجیح کے اعتبار سے حضرت فاطمہ زہرا کے لیے ثابت ہے نہ کہ عائشہ کے لیے ۔

۱۵۲

اور صدیق، حضرت علی کے لیے حق ہے نہ کہ ابوبکر کے لیے ۔

اب ابوبکر اور حضرت یوسف کے درمیان مقایسہ و مقابلہ کرتے ہیں کہ جن کو قرآن کریم میں صدیق کہا گیا ہے تاکہ صدیقیت کے معیار کو سمجھیں اور ان دونوں کے یہاں ان کے اعمال و کردار سے صدیقیت کی صلاحیت کو درک کریں ۔

حضرت یوسف کو یہ لقب اس لیے عطا ہو ا کہ انہوں نے عزیز مصرکے لیے اس کے خواب کی صحیح تعبیر بیان کی کہ جب اس نے خواب دیکھا کہ سات موٹی تازی گائے ہیں جن کو سات پتلی دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات ہرے بھرے گندم کے خوشے (گیہوں کی بالیاں) اور باقی خشک و خالی نکلی ہیں ۔خداوند عالم نے اس ماجرے کو عزیز مصر کی زبانی قرآن کریم میںیوں بیان فرمایا ہے :

( یوسف ایها الصدیق افتنا فی سبع بقرات سمان یاکلهن سبع عجاف و سبع سنبلات خضر و اخر یابسات لعلی ارجع الی الناس لعلهم یعلمون ٭قال تزرعون سبع سنین دأبا فما حصدتم فذروه فی سنبلة الاقلیلامما تاکلون ٭ ثم یاتی من بعد ذالک سبع شداد یاکلهن ما قدمتم لهن الا قلیلا مما تحصنون ٭ ثم یاتی من بعد ذالک عام فیه یغاث الناس و فیه یعصرون ) (۱)

یوسف اے صدیق اس خواب کی تعبیر کو ہمارے لیے بیان کریں کہ سات موٹی تازی گائے ہیںجن کو سات دبلی پتلی گائیںکھارہی ہیں اورسات ہرے بھرے گندم کے خوشے (گیہوں کی بالیاں) اور باقی خشک و خالی نکلی ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ یوسف(۱۲) ، ۴۶ـ۴۹۔

۱۵۳

مجھے امید ہے کہ اس کی صحیح تعبیر پر میں لوگوں کی طرف پلٹ آؤںاور شاید وہ لوگ بھی جان لیں ۔ یوسف نے کہا : آپ لوگ سات سال تک مسلسل کھیتی باڑی کرو ،اور جو کچھ بھی پیدا ہواس کو بالی سمیت ہی رکھ لو اور صرف تھوڑا بہت کھانے کے قابل استعمال کرو، اس کے بعد سات سال سخت وقحط کے آئیں گے کہ جن میں پہلے ہی سے جو بچا کے رکھا ہوگا وہ بھی خرچ ہوجائے گا مگر تھوڑا بہت ،پھر اس کے بعد سال آئے گا کہ جس میں بارش آئے گی اور اس میں لوگ پھولوں کو توڑیں گے ۔

خداوندمتعال نے حضرت یوسف کے چند سال زندان میں رہنے کے بعد ان کی بیان کردہ تعبیر کی تصدیق فرمائی ، لیکن ابوبکر کہ جس کے بارے میں لوگوں کی کوشش ہے کہ لقب صدیق کو ان کے سر پر مڑھیں ، جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے اندر یہ صلاحیت و معیار نہیں ہے اور اس لقب کی قابلیت نہیں پائی جاتی ۔

ابوبکر نہ معصوم صدیق ہیں اور نہ غیرمعصوم صدیق ، بلکہ قرآن و سنت کے معانی و مطالب کو بھی صحیح نہیں سمجھ پاتے ، اور قرآن کریم کی متعددآیات کے سلسلے میں صحابہ سے معلوم کرتے تھے ، بارہا صحابہ کی طرف سے قرآن و سنت اور فتوی دینے میں ان کی غلطیاں پکڑی گئیں ۔ اور وہ قرآن کریم میں استعمال ہونے والا لفظ ''بضع''کے معنی بھی نہیں جانتے تھے اوراپنی طرف سے جلد بازی میں تفسیر کرگئے ۔

سنن ترمذی میں ابن مکرم اسلمی سے روایت ہے کہ اس نے کہا: کہ جب یہ آیت( الم ٭غلبت الروم٭ فی ادنی الارض من بعد غلبهم سیغلبون٭فی بضع سنین ) (۱)

____________________

(۱) سورہ روم(۳۰ )، آیات ۱ـ۴۔

۱۵۴

الم ۔ ملک رو م اپنی نزدیک ترین و پست ترین زمین سے مغلوب ہوگیا اور وہ عنقریب اس شکست کے بعد غالب ہوجائیں گے ۔

اس آیت کے نزول کے وقت فارس ، روم پر غالب آچکا تھا جب کہ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم ، فارس پر غالب ہوجائے چونکہ اہل روم او ر مسلمان اہل کتاب تھے ۔ اسی سلسلے میں خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے:( ویومئذ یفرح المؤمنون٭ بنصرالله ینصر من یشاء ، وهو العزیز الرحیم ) (۱) اور اس وقت مؤمن ین ،روم کے فارس پر غلبہ کی وجہ سے خوشحال ہوگئے اور ہر طرح کی کامیابی و غلبہ خدا کی مدد سے ہے ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ عزیزو رحم کرنے والا ہے ۔

کفار قریش ، فارس کی کامیابی و غلبہ کو چاہتے تھے ، چونکہ کفار و اہل فارس اہل کتاب نہ تھے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔

جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ابوبکر گھر سے باہر آئے اور مکہ کے ادھر ادھر شور مچانا شروع کیا :( الم ٭غلبت الروم٭ فی ادنی الارض من بعد غلبهم سیغلبون٭فی بضع سنین ) (۲)

قریش کے لوگوں نے ابوبکر سے کہا یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان رہے کہ آپ کے نبی کا یہ گمان ہے کہ روم بہت جلد ہی چند سالوں میں فارس پر غالب ہوجائے گا تو کیا اس پر شرط لگاتے ہو؟۔

____________________

(۱) سورہ روم(۳۰)، آیات ۴ـ۵۔

(۲) سورہ روم(۳۰)، آیات ۱ـ۴۔

۱۵۵

ابوبکر نے کہا ہاں، یہ واقعہ رہان وشرط بندی کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے ۔ پس ابوبکر اور مشرکین قریش کے درمیان شرط لگ گئی اور ان دونوں کے درمیان طے پایا کہ بضع کو کتنے سال قرار دیں جب کہ بضع ۳سے ۹ سال تک کے عرصہ کو کہتے ہیں ان لوگوں نے ابوبکر سے وقت معین کرنے کو کہا تاکہ اس زمانے تک یہ شرط پوری ہو لہذا ان کے درمیان ۶ سال کا عرصہ طے پایا ۔ ادھر روم کے غالب ہونے سے پہلے ہی ۶ سال تمام ہوگئے اور مشرکین قریش نے جو کچھ ابوبکر سے شرط میں گروی رکھا تھا لے لیا اور شرط جیت گئے ۔ اورجب ساتواں سال آیا تو روم ، فارس پر غالب آگیا ۔ اس وجہ سے بضع کا نام ۶ سال رکھنے پر مسلمانوں نے ابوبکر پر اعتراض کیا ، چونکہ خداوندعالم نے فرمایا :فی بضع سنین (۱)

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو ابن عباس سے نقل ہوئی اس نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا : اے ابوبکر آپ نے کیوں احتیاط نہ کی جب کہ بضع ۳ سے ۹ سال تک کا عرصہ ہے(۲)

بہر حال ابوبکر نے قرآن کریم کے ایک ایسے لفظ کی ـکہ جس کے معنی معین ہیںـ ایسی تفسیر کی کہ جو خداوندعالم کے ارادے کے خلا ف ثابت ہوئی اور معنی بضع کو ۶ سال سے تعب یر کیا لہذا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا :'' الااحتطت یاابابکر فان البضع ما بین الثلاث الی التسع '' (۳)

____________________

(۱) سنن ترمذی :۵ ۲۵، حدیث ۳۲۴۶۔

(۲) سنن ترمذی :۵ ۲۴، حدیث ۳۲۴۵۔

(۳) سنن ترمذی :۵ ۲۴، حدیث ۳۲۴۵۔

۱۵۶

جب کہ یوسف صدیق نے عزیز مصر کے خواب کی تعبیر کی اوروہ واقع کے مطابق ثابت ہوئی لہذا یہ فرق دو صدیقوں کے درمیان مناسب نہیں ہے اور اس فرق کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

پس قرآن مجید نے اپنے علم و آگاہی کے ذریعہ ابوبکر کے صدیق ہونے کو رد کردیا ہے ۔جبکہ بغیر کسی شک و شبہہ کے اور یقین کے ساتھ یوسف کے صدیق ہونے کی تائید کرتاہے ، اور علی کے صدیق ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔

جی ہاں ! صدیق علی اورصدیقہ فاطمہ سے کچھ صادق ذوات مقدسہ وجود میں آئیں کہ جو اہل بیت پیغمبر ہیں اور خداوندعالم نے ان کو ہر طرح کے رجس و گندگی سے دور رکھا ہے او ر ایسا پاک وپاکیزہ قرار دیا کہ جو پاک رکھنے کا حق ہے ۔

یہ کچھ خاص افراد ہیں کہ جن کو شیطان کے ہر حربہ اور مکر سے دور کھا ہے ، اور ان پر شیطا ن مسلط نہیں ہوسکتا جبکہ شیطان نے خداوندعالم سے چیلنج کیا ہے کہ اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور انہیں گمراہ کروںگا( لاحتنکن ذریته الا قلیلا ) (۱)

آدم کی اولاد کو گمراہ کروں گا سوائے تھوڑے افراد کے ۔

____________________

(۱) سورہ اسراء (۱۷)، آیت ۶۲۔ اور سورہ نساء (۴) ، آیت ۸۳ میں آیا ہے :(ولو ردوه الی الرسول والی اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ولو لا فضل الله علیکم و رحمته لاتبعتم الشیطان الاقلیلا )اگر اس امر کو رسول و ولی امر کی طرف پلٹا دیں کہ جو لوگ ان میں سے حقیقت کودرک کرتے ہیں اور اگرآپ لوگوں کے اوپر فضل خدا اور اس کی رحمت نہ ہو تو تم سب شیطان کی پیروی کرتے ہوتے مگر تھوڑے سے افراد کے علاوہ ۔

۱۵۷

حضرت امیر المؤمنین علی نے اہل شوری پر اسی بات سے احتجاج فرمایا:

آپ کو خدا کی قسم کیا میرے علاوہ تمہارے درمیان کوئی پاک وپاکیزہ ہے جب کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تم سب کے گھروں کے دروازے کہ جومسجدم یں کھلتے تھے ، بند کرادئیے اور صرف میرے گھر کا دروازہ مسجد رسول میں کھلا رہا اس وقت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا نے فرمایا : اے رسول خدا آپ نے سب کے دروازے بند کرادیئے اور علی کا دروازہ کھلا رہنے دیا ؟ تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا : ہاں اس کا م کا خداوندعالم نے حکم دیا تھا، تو سب نے کہا نہیں خداکی قسم آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔(۱)

علی ابن الحسین نے اپنے والد اور انہوں نے علی ابن ابی طالب سے روایت بیان کی ہے کہ رسول خدا نے میرے ہاتھوں کو پکڑا اور فرمایا : بیشک موسی نے اپنے پروردگار سے چاہا کہ اس کی مسجد کو ہارون کے لیے حلال قرار دے اور میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری مسجد کو علی اور اس کی اولاد کے لیے حلال اور پاک قرار دے تو خداوندعالم نے ہماری دعا مستجاب فرمائی ۔

اور پھر اس وقت ابوبکر کے یہاں پیغام بھیجا کہ اپنے گھر کا دروازہ کہ جو مسجد کی طرف کو کھل رہا ہے اس کو بند کردو ، انہوں نے کلمہ استرجاع کو زبان پر دوہرا یا اور پھر کہا میں نے سنا اور اطاعت کی ، اور اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا ،پھر اسی طرح عمر اوراس کے بعد عباس کی طرف پیغام بھیجا۔

____________________

(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۴۳۲ ۔ و ۴۳۵۔(متن روایت اسی کتاب سے ہے )۔ المناقب (ابن مغازلی ) ۱۱۷۔ خصال صدوق ۵۵۲، حدیث ۳۰، ۳۱۔ امالی شیخ طوسی ۵۴۸، حدیث ۱۱۶۸۔ مناقب خوارزمی ۳۱۵۔ کتاب سلیم ابن قیس ۷۴۔ کنزالعمال :۵ ۷۲۶، حدیث ۱۴۲۴۳۔

۱۵۸

پھر اس ماجرے کے بعد پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کے دروازے بندنہیں کیے اور علی کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ خداوندعالم نے علی کا دروازہ کھولا اور تمہارے دروازے بند کئے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ ابوبکر نے طہارت کا ادعی نہیں کیا اور اپنے آپ کو شیطان کے وسوسہ سے پاک وپاکیزہ نہیں سمجھا بلکہ اس بات کی تصریح کی کہ اس کے ہمراہ ایک شیطان ہے جو اس کو بہکاتارہتا ہے لہذا اس کا قول ہے کہ :

'' خدا کی قسم میں آپ حضرات میں سب سے بہتر نہیں ہوں اور اس مقام کو با دل ناخواستہ اور مجبوراً اختیارکیا ہے اور میں چاہتا تھا کہ آپ لوگوں کے درمیان کوئی ہوتا جو اس بوجھ کو اٹھاتا اور مجھے چھٹکارا ملتا آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میں تمہارے درمیان سنت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اجراکروں گا جبکہ اس حالت م یں ، میں یہ کام انجام نہیں دے سکتا ، رسول خدا وحی کے ذریعہ محفو ظ تھے اور خطا ء سے معصوم تھے ان کے ساتھ فرشتے تھے جب کہ میرے ساتھ شیطان ہے کہ جس کے جال میں پھنس جاتا ہوں پس جب کبھی بھی مجھے غصے میں دیکھو تو مجھ سے دوری اختیار کرنا ۔(۱)

تمّام بن محمد رازی (م ۴۱۴ھ) نے اپنی کتاب الفوائد میں اپنی اسناد کے ساتھ ابن ابی عموص سے روایت نقل کی ہے کہ جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابوبکر پر شیطان مسلط ہوتا تھا ۔ لہذا تماّم لکھتا ہے :

ابوبکر زمانہ جاہلیت میں شراب پیتے اور پھر یہ شعر پڑھتے تھے :

____________________

(۱) المصنف (عبدالرزاق ) : ۱۱ ۳۳۶، حدیث ۲۰۷۰۱(متن روایت اسی کتاب سے ہے ) ۔ اور دیکھیے :ـ الامامة والسیاسة :۱ ۲۲۔ تاریخ دمشق :۳۰ ۳۰۳۔ تاریخ طبری : ۲ ۴۶۰۔ طبقات ابن سعد :۳ ۲۱۲۔

۱۵۹

نحیی ام بکر بالسلام

و ه ل ل ی بعد قوم من سلام

اے مادر بکر آپ کو بشارت ہو ،آپ کے فرزندکی سلامتی کی اور کیا اس قوم کے مرنے کے بعد بھی میرے لیے کوئی سلامتی ہے ۔

یہ خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہنچ ی آپ اٹھے اپنی عبا کو اپنے کاندھوں پر ڈالا اور وہاں تک پہنچ گئے ، وہاں جاکر دیکھا کہ ابوبکر کے ساتھ عمر بھی ہیں ، پس جیسے ہی عمر نے رنجیدگی کی حالت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو د یکھا تو کہا : میں غضب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا ک ی بارگاہ میں پناہ چاہتاہوں خدا کی قسم وہ بغیر سبب ہماری طرف نہیں آتے وہ پہلے فرد ہیں کہ جنہوں نے اپنے اوپر شراب حرام کی ہے ۔(۱)

جی ہاں ! ابوبکر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی رفتار سے درس حاصل نہیں کیا اور ان کے غصے و خشم سے عبرت حاصل نہیں کی بلکہ دیکھیں کہ خالد بن ولید کو اپنی فوج کا کمانڈر بنادیا جب کہ رسول خدا نے اس سے اور ضرار بن ازور سے متعدد بار شراب خواری و بد خواری اور فسق و فجور کی وجہ سے بیزاری کا اظہار فرمایا تھا ۔

یہ تمام باتیں اس وجہ سے ہیں کہ ابوبکر اپنی خواہشات نفس کے تابع تھے ، اور اپنے دستورات و قوانین کو خداوندعالم کے احکام پر مقدم رکھتے تھے ۔

یہ ابوبکر خلیفہ مسلمین کے تھوڑے سے حالات ہیں ۔

اب دیکھیں حضرت امیر المؤمنین امام علی انپے اور رسول خدا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں :

____________________

(۱) الفوائد :۲ ۲۲۸۔ اور دیکھیے :ـ الاصابہ :۷ ۳۹، ترجمہ۹۶۳۷۔

۱۶۰

''جس وقت رسول خدا کا دودھ چھڑایا گیا تب ہی سے خداوندعالم کی جانب سے ایک بہت بڑا فرشتہ شب و روز آپ کے ہمراہ قرار پایا ، یہاں تک کہ آپ نے بڑی بڑی راہوں کو طے فرمایا اور دنیا کی اچھی اچھی خصلتیں اپنائیں ۔اور میں سفر و حضر میں آپ کے ہمراہ تھا جیسے کہ اوٹنی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہتاہے ، آپ ہرروز میرے سامنے اپنے اخلاق کا ایک خاص نمونہ پیش فرماتے ، اور مجھ سے پیروی کرنے کو فرماتے ، ہر سال غارحرا ء میں گوشہ نشین ہوتے ، میں آپ کو دیکھتا اور میرے علاوہ کوئی آپ کو نہیں دیکھتا تھا ۔اس وقت سوائے اس گھر کے کہ جس میں رسول خدا اور خدیجة الکبری رہتے تھے کسی دوسرے گھر میں اسلام داخل نہیں ہوا تھا ، ان دوکے علاوہ میں تیسرا مسلمان تھا ، میں رسالت و وحی کے نور کو دیکھتا تھا ، میں نبوت کی خوشبو محسوس کرتا تھا۔

میں نے جس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی شیطان کے رونے کی آواز کو سنا اورپھر رسول خدا سے سوال کیا کہ یہ کیسی آواز ہے ؟

آپ نے فرمایا : یہ شیطان ہے کہ جو اس بات سے رنجیدہ ہے کہ اب اس کی عبادت نہیں ہوگی ، بیشک تم ہر اس آواز کو سنتے ہو کہ جس کومیں سنتا ہوں اور ہر اس چیز کو دیکھتے ہو جس کو میں دیکھتا ہوں سوائے اس کے کہ میرے بعد پیغمبرنہیں ہو بلکہ میرے وزیر ہو ، راہ حق پر گامزن ہو اور مؤمنین کے امیر ہو ۔(۱)

''بغیة الباحث '' اور '' المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ'' نیز ''الجمع بین الصحیحین '' اور ان کے علاوہ دوسری بہت سی کتابوں میں مذکورہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت عل ی ابن ابی طالب سے فرمایا

____________________

(۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔

۱۶۱

اے علی تم میرے گھر کے دروازے پر کھڑ ے رہو کوئی میرے پاس نہ آئے اس لیے کہ میرے پاس کچھ زائر فرشتے ہیں کہ جو خداوندعالم سے اجازت لے کر میری زیارت کو آئے ہیں ۔

حضرت علی دروازے پر کھڑے ہوگئے اتنے میں عمر آئے، اندر آنے کی اجازت مانگی اور کہا اے علی میرے لیے رسول خدا سے اجازت لو ، آپ نے فرمایا : کسی کو بھی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے کی اجازت نہیں ہے ، عمرنے کہا کیوں؟ آپ نے جواب دیا: چونکہ آپ کے پاس کچھ زائر فرشتے ہیں کہ جو خداوند عالم سے اجازت لے کر آئے ہیں کہ آپ کی زیارت کریں ، عمر نے سوال کیا : اے علی وہ کتنے افراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ۳۶۰ فرشتے ۔

اس واقعہ کے بعد ایک دن عمر نے اس گفتگو کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ک یا اور کہا: اے رسول خدا یہ سب مجھے علی نے خبردی ہے ۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا : اے علی آپ نے زائر فرشتوں کی خبر دی ہے ؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ، یارسول اللہ ۔ پھر فرمایا : کیا عمر سے فرشتوں کی تعداد بھی بیان فرمائی تھی ؟ علی نے کہا : جی ہاں آپ نے فرمایا: اے علی وہ کتنے افراد تھے ؟ علی نے کہا : وہ ۳۶۰ تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا : آپ کو ان کی تعداد کا کیسے علم ہوا ؟ علی نے کہا : میں نے ۳۶۰ آواز یںسنیں مجھ کو علم ہوگیا کہ وہ ۳۶۰ فرشتے ہ یں ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دست مبارک کو عل ی کے سینے پر رکھا اور فرمایا : اے علی خداوند تیرے ایمان اور علم میں اضافہ فرمائے ۔(۱)

____________________

(۱) بغیة الباحث ۲۹۵۔ المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ:۹۰۱۶۔الجمع بین الصحیحین:۴ ۲۶۳۔ سبل الھدی والرشاد:۱۰ ۲۴۶۔

۱۶۲

یہ حدیث آپ کے لیے واضح کرہی ہے کہ کسی بھی صحابی یا کسی بھی اورشخض کا اہل بیت طاہرین کے ساتھ مقایسہ و مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،چونکہ وہ حضرات نبوت کے ثمر آور اور تناور شجرہ طیبہ سے ہیں ، خداوندعالم نے ان کو پیغمبراکرم کی جانشینی اور مؤمنین کی رہبری و قیادت کے لیے انتخاب فرمایا ہے اور وہ سب سے پہلے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لائے ہیں ، اور آپ کی تصدیق کی ہے اور ان کے واسطے بہت سی خصوصیات اور امتیازات ہیں کہ کائنات کا کوئی فرد بھی ان کامقابلہ نہیں کرسکتا ۔

حضرت امیر المؤمنین کا خط معاویہ کے نام میں مذکورہے :

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جیسے ہی ایمان اور خداوندعالم کی توحید کی طرف دعوت دی ہم اہل بیت سب سے پہلے ان پر ایمان لائے اور جو کچھ وہ لائے ہم اس پر یقین رکھتے ہیں ، ہم کئی سال تک ایسے عالم میں ایمان پر رہے کہ ہمارے علاوہ پورے عالم میں کوئی خداوندعالم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور اس کی عبادت نہیں کر تا تھا ۔(۱)

حضرت امام حسن بن علی نے جس وقت معاویہ سے صلح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ابتداء حمد و ثناء خداوندی بجالائے اور اپنے جدامجد محمد مصطفی پر درود و سلام بھیجا پھر فرمایا :

ہم اہل بیت کو خداوندعالم نے اسلام میں محترم و مکرم قرار دیا اور تمام عالم میں سے ہم کوچنا اورانتخاب کیا ، ہم سے رجس و پلیدگی کو دور رکھا ، ہم کو پاک و پاکیزہ قرار دیا۔

____________________

(۱) کتاب صفین (منقری ) ۸۹۔ (اصل عبارت اسی کتاب سے ہے ) ۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) :۱۵ ۷۶۔ بحارالانوار :۳۳ ۱۱۱۔

۱۶۳

حضرت آدم سے میرے جد محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک جب کبھی بھی دو فرقوں میں تقسیم ہوتے خداوندعالم ہم کو ان میں سے بہترین میں قرار دیتا ۔ پس خداوندمتعال نے محمد کو نبوت کے لیے انتخاب فرمایا اور ان کو رسالت عطا فرمائی ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کتاب نازل کی اور میرے والد گرامی سب سے پہلے آپ پر ایمان لائے ، خدا اور اس کے رسول کی تصدیق کی ، خداوندعالم ، اپنی کتاب میں کہ جو اپنے رسول پر نازل کی ہے ، فرماتا ہے( افمن کان علی بینة من ربه و یتلوه شاهدمنه ) (۱) کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی جانب سے بینہ و دلیل رکھتا ہو اور اس کے پیچھے اس کا شاہد و گواہ بھی ہو (جھوٹ بول سکتا ہے ) ۔

میرے جد بزرگوار ہی اپنے پروردگار کی جانب سے بینہ و دلیل پر ہیں اور میرے والد بزرگوار وہی ہیں کہ جو ان کے پیچھے اور اتباع کرنے والے ہیں اور ان پر شاہد و گواہ ہیں۔(۲)

معاویہ کے نام محمد بن ابی بکر کے خط میں مذکور ہے :

۔ ۔ اس وقت خداوندعالم نے اپنے علم کے ذریعے ان کو منتخب فرمایا اور ان کے درمیان سے محمد کو چنا اور انتخاب کیا ان کو رسالت سے مخصوص کیا اور اپنی وحی کے لیے ان کوپسند فرمایا ، اپنے امر کے لیے ان پر اعتماد کیا، ان کوان تمام خصوصیات کے ساتھ گذشتہ تمام آسمانی کتابوں اور انبیاء و رسل پر گواہ اور گذشتہ شریعتوں پر راہنما قرار دیا ۔

____________________

(۱) سورہ ھود (۱۱) ، آیت ۱۷۔

(۲) ینابیع المودة (قندوزی حنفی ) :۳ ۳۶۴ـ ۳۶۶۔

۱۶۴

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی حکمت اور نیک نصیحتوں کے ذریعہ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دی تو سب سے پہلے جس نے ان کا جواب دیا اور ان کے ساتھ آمد و رفت کی اور ان کی بات کی تصدیق کی ، سچ سمجھا اوراسلام لائے ، ان کے ساتھ رہے اور ان کی ہر با ت کو قبول کیا ، ان کے بھائی ، ابن عم علی ابن ابی طالب تھے ، انہوں نے آپ کے غیب کی ہربات کی تصدیق کی ، اور اپنی ہر بات پر ان کو مقدم رکھا اور ان کی ہرخوف و خطر میں حفاظت کی ، ہر طرح کے حوادث میں اپنی جان کو ان پر قربان کرنے کے لیے پیش کیا ، جس نے محمد سے دشمنی کی اس سے علی نے جنگ کی اور جس نے محمد سے صلح کی علی نے اس سے صلح کی۔(۱)

حدیث ابوبکر ھذلی اور داؤد بن ہند میں آیا ہے کہ جو شعبی سے منقول ہے اس نے کہا کہ رسول خدا نے علی کے متعلق فرمایا:''هذا اول من آمن بی و صدقنی و صلیٰ معی '' (۲)

یہ علی وہ فرد ہیں کہ جو سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے، میر ی تصدیق کی اور میرے ساتھ نماز پڑھی ۔

امیرالمؤمنین نے کمیل کو اس طرح وصیت فرمائی :

اے کمیل ! زمین ، شیطانوں کے جالوں سے بھری پڑی ہے کوئی شخص بھی ان سے نجات حاصل نہیں کرسکتا مگر یہ کہ ہمارے دامن سے متمسک ہوجائے۔

____________________

(۱) مروج الذھب :۲ ۵۹۔ کتاب صفین (منقری ) ۱۱۸۔(متن عبارت اسی کتاب سے ہے )۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۳ ۱۸۸۔ جمھرة رسائل العرب :۱ ۵۰۲۴۷۷۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۳ ۲۲۵۔

۱۶۵

اور خداوند عالم نے تجھے متوجہ کردیا کہ کوئی بھی ان کے پنجے سے چھٹکارا نہیں پاسکتا مگر اس کے خاص بندے اور خدا کے خاص بندے ہمارے دوستدار و شیعہ ہیں ۔

اے کمیل ! یہ خداوندمتعال کا کلام ہے( ان عبادی لیس لک علیهم سلطان ) (۱) اے ش یطان وہ میرے خاص بندے ہیں تو ان پر مسلط نہیں ہوسکتا ۔ اوریہ کلام پاک ہے( انما سلطانه علی الذین یتولونه والذین هم به مشرکون ) (۲)

شیطان کا تسلط اور حکومت صرف ان لوگوں پر ہے کہ جو اس کی اطاعت و ولایت کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے اغوا کرنے سے مشرک ہوجاتے ہیں ۔

اے کمیل! اس سے پہلے کہ آپ کے مال و فرزند میں شیطان شریک ہو ، جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے ہماری ولایت کے ذریعہ راہ نجات تلاش کرو۔(۳)

یہ پیغام ہے اس بات پر کہ اہل بیت معصوم ہیں اور ان کی خدا کی جانب سے تصدیق ہوئی ہے اور وہ ہی افراد خداوندعالم کی جانب سے اس آیت (کونوا مع الصادقین)(۱) (سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ) م یں مورد عنایت ہیں نہ ابوبکر و عمر۔چونکہ اہل بیت کے متعلق حدیث ثقلین میں قرآن کریم کے برابر ہونا آیاہے،اوریہ مطلب ہماری راہنمائی کرتا ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح قرآن سے متمسک ہونا واجب ہے اسی طرح اہل بیت سے بھی متمسک ہونا واجب ہے۔

____________________

(۱) سورہ حجر (۱۵)، آیت ۴۲۔ و سورہ اسرائ(۱۷)، آیت ۶۵۔

(۲) سورہ نحل (۶۱)، آیت ۱۰۰۔

(۳)بشارةالمصطفی لشیعة المرتضی ۵۵۔ تحف العقول ۱۷۴۔

۱۶۶

اگر اہل بیت سے خطا ء ممکن ہوتی تو ان سے تمسک کے لیے امر بطور مطلق صحیح نہ ہوتا اور جس طرح قرآن کریم کی تعلیمات بلا شک و تردید ہیں اسی طرح اہل بیت سے بھی جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس میں بھی کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ۔ اور اگر اہل بیت معصوم نہ ہوتے تو ان کی پیروی میں گمراہی کا احتمال ہو تا لیکن وہ خدا وندعالم کی آسمان وزمین کے درمیان حبل متین اور مضبوط رسی ہیں اور قرآن کریم کی مانند خداوند اور خلق کے درمیان واسطہ ہیں ۔

اس تمام گفتگو کے بعد ہمیں یہ نتیجہ نظر آتاہے کہ اہل بیت سے دشمنی و اختلاف بدون شک و شبہہ اس شخص کے گمراہ ہونے پر دلیل ہے۔ اور ہمارا وظیفہ ہے قرآن و عترت دونوں سے متمسک رہیں چونکہ یہ دونوں ہمیں گمراہی سے نجات دلائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور حوض کوثر پر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچنے تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ۔

اسلامی فرقوں میں سے کوئی سا بھی فرقہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے یہاں قرآن و اہل بیت اس طرح متمسک ہوں کہ دونوں حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں اور اس فرقے کے تمام مسائل و احکام و عقائد انہی سے ماخوذ ہوں ،سوائے مذہب شیعہ کے کہ جو بارہ اماموں کی امامت کے قائل ہیں کہ جن میں سے پہلے صدیق اکبر علی ابن ابی طالب اور آخری مہدی منتظر ہیں ۔ یہی معنی ہیں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس حدیث شریف کے جوآپ نے بیان فرمائی :

____________________

(۱) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۱۹۔

۱۶۷

''خلفائی اثنا عشر کلهم من قریش'' (۱)

میرے خلفاء بارہ افراد ہیں کہ جو سب کے سب قریش سے ہیں ۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اپنے خلفاء کو بارہ کی تعداد میں محدود و معین کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارہویں امام کی عمر طولانی ہوگی ۔ مذہب شیعہ اور اہل سنت کے بہت سے بزرگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ بارہویں امام زندہ ہیں اور ہماری نظروں سے غایب ہیں اور وہ زمان حاضر میں بھی باقی ہیں تاکہ ہرزمانے میں قرآن کریم کی ہمراہی کی جاسکے اور حوض کوثر تک دونوں ساتھ پہنچیں ۔

یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین نے کمیل بن زیاد سے اہل بیت کے بارے میں اس طرح تعارف کرایا ہے :

'' ۔ ۔ ۔ جی ہاں ، یہ زمین کسی وقت بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی چاہے وہ حاضر و آشکار ہو یا غائب اور پوشیدہ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ زمین کبھی بھی خدا کی روشن دلیل سے خالی نہ رہے ۔

لیکن وہ لوگ کون ہیں؟ کتنے افراد ہیں اور کہاں ہیں ؟

خدا کی قسم ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور خدا کے نزدیک بہت بڑی منزلت و مقام رکھتے ہیں خدانے ان کو اپنی امانات و آیات عطا کی ہیں تاکہ وہ اپنے بعد ایک دوسر ے کے سپردکرتے رہیں ۔

____________________

(۱) صحیح مسلم :۶ ۴، باب الناس تبع القریش ، جابرابن سمرة سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے سنا ہے کہ لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون علیھم اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش ۔ یہ دین ہمیشہ قیامت تک باقی رہے گا اور لوگوں پر بارہ خلیفہ حکومت کریں گے کہ جو سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔

۱۶۸

علم و معرفت ، حقیقی بصیرت کے ساتھ ان کے یہاں ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح ہے ، وہ روح یقین سے مخلوط ہیں اور ہر کام کہ جو پوری دنیا پر مشکل ہو وہ ان پر آسان ہے اور جس سے اہل باطل و جاہل بھاگتے ہیں وہ اس سے مانوس ہیں اور اہل دنیا کے درمیان ایسی بلند روح و حوصلہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں کہ جن کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ۔وہ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں ، اور اس کے دین کی طرف بلانے والے ، آہ آہ مجھے ان کے دیدار کا کس قدر شوق ہے ''۔(۱) او ر پھر فرمایا :

'' کہاں ہیں وہ لوگ کہ جو ہم پر جھوٹ و تہمت لگاتے ہیں اور سر کشی کرتے ہیں جب کہ خداوندعالم نے ہمیں سر بلند فرمایا ہے اور ان کو سرنگوں کیا ، ہمیں علم و فضل عطا کیا اور ا ن کو بے نصیب بنایا ، ہمیں امن کے قلعے میں قرار دیا اور ان کو باہر نکال دیا ، وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ علم قرآن میں راسخ ہمارے علاوہ کوئی اور ہے ۔

ہدایت ،ہماری رہنمائی ہی سے مل سکتی ہے اور دل کے نا بینوں کو روشنی ہمارے ہی ذریعہ نصیب ہوتی ہے ، بیشک وہ قریش کے آئمہ ہی ہیں کہ جوہاشم کی نسل او رشجرہ طیبہ سے ہیں دوسرے لوگ اس کے مستحق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی اور امر الہٰی کا ولی وسرپرست ہے ۔(۲)

ابن شہر آشوب، مناقب میں رقمطراز ہے: اس آیت( یا ایهاالذین آمنوا اتقواالله و کونوا مع الصادقین ) (۳) م یں خداوندعالم نے صادقین کی بطور مطلق پیروی کرنے کا حکم دیا ہے

____________________

(۱) نہج البلاغہ :۳ ۳۷، حکمت (کلمات قصار)۱۴۷۔

(۲) نہج البلاغہ :۲ ۲۷، خطبہ ۱۴۴۔

(۲) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۱۹۔ (اے ایمان لانے والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ)۔

۱۶۹

اوریہ بات ان کے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہے چونکہ اس طرح کا امر کسی ایسے کے متعلق کہ جو برائیوں سے بچا ہوا نہ ہو ،قبیح ہے چونکہ اس کا م کا نتیجہ امر قبیح ہی کی طرف لے جاتاہے۔ اور جب یہ بات امامت کے باب میں ثابت ہوگئی کہ خصوص امیر المؤمنین اور ان کی اولاد معصوم کے لیے بطور اجماع عصمت ثابت ہے اور یہ آیت انہیں کے لیے ہے ، چونکہ امت اسلامی کا کوئی فرقہ بھی اس آیت کے بارے میں ان کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں کہتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صفات ان کے علاوہ کسی اور کے لیے ثابت نہیں ہیں اورکسی نے بھی ان خصوصیات کا ان کے علاوہ ادعی نہیں کیا ہے تو امامت بھی انہیں کا مسلم حق ہے ۔(۱)

____________________

(۱) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۴۷۔

۱۷۰

سوم :ـ مطہر اور پاک وپاکیزہ ہونا

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تطہیر ، عصمت کا لازمہ و جزء ہے لیکن ہم یہاں پر عصمت کے قسیم کے طور پر پیش کررہے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہاں پر تطہیر کے متعلق کچھ خاص چیزیں پیش کرنا چاہتے ہیں ، چونکہ ابھی گذرچکاہے کہ خداوندعالم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ مسجد تعمیر کرے اور اس کو پاک و پاکیز ہ رکھے ، اس میں اپنے اور ہارون کے علاوہ کسی اور کو رہنے کا حق نہ دے۔ بالکل یہی مطلب خداوندعالم نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خلیفہ و وصی کے متعلق فرمایا ۔(۱)

____________________

(۱) الخصائص (سیوطی ) :۲ ۴۲۴۔غایة المرام :۳ ۱۹۱۔کتاب سلیم بن قیس ۱۹۵و ۳۲۱و ۴۰۰۔

۱۷۱

امیرالمؤمنین کے احتجاجات میں وارد ہے کہ :

'' تمہیں اللہ کی قسم ، کیامیرے علاوہ تمہارے درمیان کوئی اور مطہر ہے ؟، اس وقت کہ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تم سب کے گھروں کے دروازوں کو مسجد ک ی طرف سے بند کروادیا اور صرف میرے گھر کا دروازہ کھلا رکھا ، اور میں گھر و مسجد میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ، پھر آپ کے چچا کھڑے ہوئے اور کہا : اے رسول خدا آپ نے ہم سب کے دروازوں کو بند کردیا اور علی کے دروازے کو کھلا رکھا ، تو آپ نے فرمایا : جی ہاں! خداوندعالم نے اس کام کا حکم دیا تھا ، تو سب نے کہا : نہ ، خدا کی قسم ، (آپ نے جو کہا ہے سچ ہے )''(۱)

ابوبکر کے ساتھ احتجاج میں آپ نے فرمایا :

'' میں آپ کو خدا کی قسم دیتاہوں کیا آیہ تطہیر اور ہر طرح کی گندگی و پلیدگی سے دوری تیری اور تیرے خاندان کی شأن میں نازل ہوئی یا میرے اور میرے خاندان کے بارے میں ؟ ابوبکر نے کہا آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں ۔

آپ نے فرمایا : تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا وہ شخص کہ جس کو خداوندعالم نے نسل بعد نسل اس کے باپ سے حضرت آدم تک زنا اور غیر مشروع رابطہ سے دوررکھا اور رسول خدا فرماتے تھے میں اور آپ آدم سے لیکر عبدالمطلب تک حلال ونکاح کے ذریعہ منتقل ہوتے رہے اور زنا و سفاح سے پاک و پاکیزہ رہے ، میں ہوں یا تو ؟

____________________

(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۴۳۲۔ کنزالعمال :۵ ۴۲۶، حدیث ۱۴۲۴۳۔ مناقب خوارزمی ۳۱۵۔ خصال صدوق ۵۵۹، حدیث ۳۱۔

۱۷۲

ابوبکر نے کہا: بلکہ آپ ہیں ۔(۱)

حضرت امیر المؤمنین سے روایت ہے کہ اپنے دین کے سلسلے میں تین طرح کے لوگوں سے بچے رہنا ۔ ۔ ۔ اور فرمایا :

'' وہ شخص کہ جس کو خدائے متعال نے حکومت عطا فرمائی تو اس نے گمان کیا کہ اس کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور اس کی معصیت خدا کی معصیت ہے ، جب کہ وہ جھوٹا ہے چونکہ خداوندعالم کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے بلکہ صرف اطاعت خدااور اس کے رسول اور صاحبان امر کی ہے کہ جس کو خداوند عالم نے اپنے اور اپنے رسول کے قرین و ہمراہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے :

( اطیعوا الله و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم ) (۲)

خداوندعالم کی اطاعت کرو اور رسول و صاحب امر کی اطاعت کرو ۔

چونکہ خداوندعالم نے اپنی اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا اس لیے وہ معصوم و مطہر ہیں، خدا کی نافرمانی و معصیت کی دعوت نہیں دیتے اور پھر اس کے ساتھ صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ، اس لیے کہ وہ بھی معصوم او رپاک ہیں اور خداکی نافرمانی و معصیت کی طرف دعوت نہیں دیتے ۔(۳)

____________________

(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۷۱۔

(۲) سورہ نسائ(۴)، آیت ۵۹۔

(۳) کتاب سلیم بن قیس ۴۰۵، حدیث ۵۴۔ اسی کی طرح کچھ فرق کے ساتھ منقول ہے : خصال صدوق ۱۳۹،حدیث ۱۵۸ میں اور بحار الانوار :۲۵ ۲۰۰،حدیث۱۹ میں ۔

۱۷۳

حضرت امام جعفرصادق نے اپنے آباء و اجداد مطہرین سے روایت نقل کی ہے کہ امیرالمؤمنین نے کوفہ کے منبر پر خطبہ ارشادفرمایا اور اپنے خطبے کے دوران فرمایا کہ:

'' خداوند عالم نے ہم اہل بیت کو محفوظ رکھا اس سے کہ چال باز ، حیلہ گر ، دھوکے بازیا جھوٹے و مکار ہوں ، بس جس میں بھی اس طرح کی بری چیزیں پائی جاتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔

بیشک خداوندعالم نے ہم اہل بیت کو ہر طرح کی پلیدگی و رجس سے پاک رکھا اور جب کبھی بھی ہماری زبان سے کچھ نکلا تو سچ کردکھایا اور جب کبھی ہم سے کوئی سوال ہوا اس کا ہم نے جواب دیا ۔ خداوندعالم نے ہم کو دس ایسی خصلتیں عطا فرمائی ہیں کہ جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا فرمائے۔

حلم ، علم، عقل، نبوت ، شجاعت ، سخاوت، صبر ، صدق و سچائی ، عفت و پاکدامنی اور طہارت و پاکیزگی ۔ پس ہم ہیںکلمة التقوی،ہدایت کے راستے ، بہترین نمونے، بہت عظیم حجت الہٰی اور حکم و مضبوط امانت ، ہم ہی وہ حق ہیں کہ جن کے بارے میں ارشاد الہٰی ہے ۔

( فما ذا بعد الحق الاالضلال فانیٰ تصرفون ) (۱)

حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے پس کہاں منھ موڑے جارہے ہو۔''(۲)

____________________

(۱) سورہ یونس (۱۰)، آیت ۳۲۔

(۲) تفسیر فرات کوفی ۱۷۸، حدیث ۲۳۰۔ بحارالانوار:۳۹ ۳۵۰، حدیث ۲۴۔

۱۷۴

عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ اس نے کہا : فرزند ابو طالب کو تین خصلتیں ایسی عطا ہوئیں کہ اگر ان میں سے مجھ کو ایک بھی مل جاتی تو وہ مجھ کو لال بال والے اونٹ سے بھی کہیں زیادہ عزیز تھی ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے فرمائی اور آپ کے یہاں ان سے دو بیٹے پیداہوئے اور تمام مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں کو کہ جو مسجد کی طرف کھلتے تھے بندکرادیا سوائے آپ کے گھر کے دروازے کے ، اور روز خیبر آپ کو علم عطا فرمایا ۔(۱)

اسی طرح کی روایت ابوسعید خدری(۲) اور عمر بن خطاب سے بھ ی نقل ہوئی ہے ،صر ف عمر کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں ''وسکناه المسجد مع رسول الله یحل له فیه مایحل له ''

یعنی وہ مسجد میں رسول کے ساتھ رہتے اور جو چیز مسجد میںرسول کے لیے حلال تھی علی کے لیے بھی حلال تھی ۔(۳)

حذیفہ بن اسید انصاری سے روایت ہے کہ روزسدالابواب (دروازے بند ہونے والے دن) پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا :

____________________

(۳) مسند احمد ابن حنبل :۲ ۲۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۰۔ فتح الباری : ۷ ۱۲۔ کنزالعمال : ۱۳ ۱۱۰، حدیث ۳۶۳۵۹۔

(۴) مستدرک حاکم :۳ ۱۱۷۔

(۱) مستدرک حاکم :۳ ۱۲۵۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ :۷ ۵۰۰ ، حدیث ۳۶۔ مناقب خوارزمی ۲۶۱۔ البدایة والنھایة :۷ ۳۷۷۔

۱۷۵

''کچھ لوگ اس بات سے کہ میں نے علی کو مسجد میں رکھا اور ان کو باہر کردیا اپنے دلوں میں احساس لیے ہوئے ہیں ، خداکی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ خداوندعالم نے ان کو باہر کیا ہے اور علی کو سکونت عطا فرمائی ہے ، خدائے متعال نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو وحی فرمائی کہ اپنے لیے شہر میں گھر تعمیر کرو اور اس کو لوگوں کا قبلہ قرار دو ، اس گھر میں عبادت کرو ، علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی اور وہ میرا بھائی ہے ، کسی کے لیے مسجد میں اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت جائز نہیں ہے سوائے اس کے ۔(۱)

حضرت علی کے دشمنوں نے آپ سے بغض و حسد میں مختلف طریقے کی روایات کوگھڑا جیسے یہ روایت کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام صحابہ کے گھروں کے دروازے کہ جو مسجد میں کھلتے تھے بند کرادیئے سوائے ابوبکر کے گھر کی کھڑکی کے۔(۲)

علامہ امینی نے حدیث سد الابواب کے ذیل میں خوخة ابی بکر (ابوبکر کی کھڑکی ) کے متعلق کافی مفصل و دلچسپ گفتگو فرمائی ہے(۳) وہ کہتے ہ یں :

____________________

(۱) ینابیع المودة :۱ ۲۵۹، باب ۱۷، حدیث ۸۔ الطرائف ۶۱، حدیث ۵۹۔ اور دیکھیے :ـ مسند احمد :۴ ۳۶۹۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۵۔

(۲) صحیح بخاری :۴ ۲۵۴۔ صحیح مسلم :۷ ۱۰۸۔ مسند احمد :۱ ۲۷۰۔ اور ابن جوزی نے الموضوعات :۱ ۳۶۷ ۔ میں لکھا ہے کہ بعض عالم نما افراد نے حدیث ابوبکر میں زیادتی سے کام لیا ہے کہ جو صحیح نہیں ہے ۔

(۳) دیکھیے :ـ الغدیر :۳ ۲۰۲ـ ۲۱۵۔

۱۷۶

اس طرح کی روایات اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ان سب دروازوں کو بند کرنا کہ جو مسجد کے اندر کو کھلتے تھے مسجد کو ظاہری و معنوی نجاست سے پاک رکھنا تھا ،تاکہ کوئی بھی حالت جنابت میں اس میں وارد نہ ہو اور کوئی بھی اس میں جنب نہ ہو، لیکن اپنے اور امیرالمؤمنین کے لیے مسجد میں ہرحال میں رفت و آمد کی اجازت اور آپ کا دروازہ کھلا رکھنا یہ ان دوبزرگواروں کی طہارت و پاکیزگی کی وجہ سے ہے کہ جس بات پر آیہ تطہیر دلالت کرتی ہے کہ وہ حضرات ہر طرح کی پلیدگی و گندگی حتی معنوی نجاست جیسے جنابت سے بھی پاک و پاکیزہ ہیں ۔

یہ مسئلہ کاملاً مسجد موسی کی طرح ہے اور اس سلسلے میں بیشتر آگاہی کے لیے مفید ہے یہ کہ موسی نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ میرے اور میرے بھائی ہارون کے لیے مسجد کو حلال و پاک فرما۔ یا یہ کہ خداوندعالم نے حکم دیا کہ مسجد کو پاک رکھو،سوائے اپنے اور ہارون کے کوئی اور اس میں سکونت اختیار نہ کرے ، اور یہاں پر مسجد کو پاک رکھنا صرف ظاہری نجاست سے پاک رکھنا مقصود نہیں ہے چونکہ یہ تو ہرمسجد کے لیے حکم ہے ۔

اس سے پہلے بھی روایت بیان ہوچکی ہے کہ جس سے یہ مطلب صاف واضح ہوجاتاہے کہ امیرالمؤمنین حالت جنابت میں مسجد میں وارد ہوجاتے تھے ۔(۱)

____________________

(۱) یہ حدیث عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے ۔ نسائی نے الخصائص ۷۶ میں نقل کیا ہے ۔ اور اسی سے نقل ہوئی ہے فتح الباری :۷ ۱۳ میں اور نسائی کا کہنا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ و نیز کتاب السنة (ابن ابی عاصم ) ۵۸۹ میں بھی مذکور ہے ۔

۱۷۷

اوربعض اوقات جنب کی حالت میں مسجد سے عبور فرماتے تھے ۔(۱)

آپ حالت جنابت میں مسجد میں تشریف لاتے اور گذر جاتے ۔(۲) اور یہی مطلب اس حدیث کا ہے کہ جو ابوسعید خدری سے نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : کسی شخص کے لیے بھی حلال و مناسب نہیں ہے کہ مسجد میں جنب ہو سوائے میرے اور اے علی تیرے۔(۳)

اور اسی سلسلے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ حدیث :

'' الاان مسجدی حرام علی کل حائض من النساء و کل جنب من الرجال الا علیٰ محمد و اھل بیتہ علی و فاطمة و الحسن و الحسین''۔(۴)

____________________

(۱) مجمع الزوائد :۹ ۱۱۵۔ فتح الباری :۷ ۱۳۔ اور طبرانی نے معجم الکبیر :۲ ۲۴۶ میں ابراہیم بن نائلہ اصبہانی اور اس نے اسماعیل بن عمر و بجلی سے اور اس نے ناصح بن حرب سے اور اس نے جابر بن سمرہ سے روایت کی ہے ۔

(۲) یہ تمام روایات اہل سنت کے یہاں سے ہیں اگر چہ شیعہ مذہب میں بھی اس طرح کی متعدد روایات موجود ہیں کہ جن کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ سد الابواب اور آیہ تطہیر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ علی اور معصومین علیہم السلام ہر حال میں طیب و طاہر اور پاک و پاکیزہ ہیں ، جنابت و غیر جنابت ا ن کے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔(م)

(۳) سنن ترمذی :۵ ۳۰۳،حدیث ۳۸۱۔ السنن الکبری(البیہقی ): ۷ ۶۶۔

(۴) السنن الکبری (بیہقی ) :۷ ۶۶۔ سبل الھدی و الرشاد :۱۰ ۴۲۳۔ تفسیر ثعلبی :۳ ۳۱۳۔ تلخیص التحبیر : ۳ ۱۳۶۔ اور دیکھیے : تاریخ دمشق : ۱۴ ۱۶۶۔ ذکر اخبار اصبہان:۱ ۱۹۱۔ کنزالعمال :۱۲ ۱۰۱،حدیث ۳۴۱۸۳۔

۱۷۸

آگاہ ہوجائو بیشک میری مسجد ، حائض عورت اور جنب مرد پر حرام ہے سوائے محمد اور آپ کے اہل بیت کے کہ وہ علی و فاطمہ اور حسن و حسین ہیں۔(۱)

لہذا تطہیر ، پاک ہونا ، اہل بیت علیہم السلام کے لیے ممتاز ترین وعالی ترین مرتبہ ہے اور یہ مطلب بھی واضح ہوجاتاہے کہ وہ حضرات ایک نور سے خلق ہوئے ہیں کوئی بھی شیٔ ان کے سامنے قابل قیاس نہیں ہے ۔

ابھی تھوڑا پہلے گذرچکا ہے کہ وہ حضرات پاک و پاکیزہ ماؤوں کے رحم اور پاک و طاہر صلبوں میں منتقل ہوتے رہے اور آپ حضرات کی جدہ خدیجہ زمانہ جاہلیت میں بھی طاہرہ و پاکدامن کہلاتی تھیں۔(۲)

یہی وجہ ہے کہ معصوم کو معصوم کے علاوہ کوئی اورغسل نہیں دے سکتا ، روایات میں مذکورہے کہ حضرت امام موسی بن جعفر نے فرمایا کہ مجھ سے میرے والد نے فرمایا کہ علی کا ارشاد ہے کہ جب میں نے رسول خدا کا وصیت نامہ پڑھا تو دیکھا کہ اس میں تحریر ہے کہ اے علی مجھے آپ ہی غسل دینا اور آپ کے علاوہ مجھے کوئی اور غسل نہ دے ،میں نے سوال کیا اے رسول خدا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں کیا میں تنہا آپ کو غسل دے سکتا ہوں ؟ کیا میرے اندر اتنی طاقت ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ جبرئیل کا پیغام ہے کہ جس کو خداوندعالم نے حکم دیا ہے ۔

____________________

(۱) الغدیر :۳ ۲۱۰ـ۲۱۲۔

(۲) مجمع الزوائد :۹ ۲۱۸۔فتح الباری :۷ ۱۰۰۔ المعجم الکبیر :۲۲ ۴۴۸۔ اسدالغابہ :۵ ۴۳۴۔ تاریخ دمشق :۳ ۱۳۱۔ البدایة والنھایة ۳۲۹۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) :۴ ۶۰۸۔

۱۷۹

میں نے سوال کیا : اگر میں تنہا آپ کو غسل نہ دے سکا توکیا اپنے علاوہ کسی ایسے کو جو ہم ہی میں سے ہے غسل میں مدد کے لیے بلا سکتاہوں ؟ توآپ نے فرمایا کہ جبرئیل نے کہا ہے کہ علی سے کہیں کہ آپ کے پروردگارکا حکم ہے کہ اپنے چچا زاد بھائی محمد کو غسل دو چونکہ یہ سنت الٰہیہ ہے کہ انبیاء کو اوصیاء کے علاوہ کوئی غسل نہیں دیتا اور ہر نبی کو اس کے بعد والاوصی غسل دیتا ہے۔اور یہ امت پر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب سے حجت خدا ہے اس بات پر کہ جو انہوں نے مشیت خدا کے خلاف اجماع کر رکھا ہے۔

اے علی جان لو کہ میرے غسل میں آپ کی مددگار وہ ہستیاں ہیں کہ جو بہترین بھائی اور مددگار ہیں ۔

علی نے سوال کیا اے رسول خدا ،وہ کون ہیں ؟آپ پر میرے ماں باپ فداہوں تو آپ نے فرمایا : وہ جبرئیل و میکائیل و اسرافیل اور ملک الموت اور اسماعیل صاحب آسمان دنیا ہیں کہ جو آپ کی مدد کریں گے ۔

پس علی نے کہا کہ میں خدا کے حضور سجدہ میں گرگیا اور عرض کی خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ایسے بھائی و مددگار میرے لیے معین فرمائے کہ جو خدا کے امین ہیں ۔(۱)

____________________

(۱) بحارالانوار : ۲۲ ۴۵۶،حدیث ۶۴۔(بنقل از طرائف ابن طائوس ، متن روایت اسی کتاب سے ہے ) ۔ الصراط المستقیم : ۲ ۹۴، حدیث ۱۴۔ اور دیکھیے :ـ کنزالعمال :۷ ۲۴۹، حدیث ۱۸۷۸۰۔ تاریخ دمشق :۱۳ ۱۲۹۔ سمط النجوم العوالی :۳ ۴۱، حدیث ۴۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307