کذبتم و بیت الله بیدی محمد---- و لما نطاعن دونه ونناضل
و نسلمه حتی نصرع دونه ---- و نذهل عن ابنائنا و الحلائل
خدا کی قسم کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
کا ساتھ چھوڑ دیں ( بلکہ ہم تو ان کی حمایت میں ) تم سے نیزوں اور تلواروں کے ذریعہ سے مقابلہ کریں گے _
تو ہم لوگ ا س سے کہیں بہتر ہیں _ پس جب نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم
اس جیسے طعنے پر بھی غضبناک ہوسکتے ہیں تو کیا آپ کے خیال میں اپنے چچا کے متعلق مشرک کا حکم لگاکر خوش ہوں گے ؟ اور انہیں دوزخ کے ایک کنارے پر ٹھہرائیں گے جس کی آگ سے ان کا بھیجہ ابل رہا ہوگا؟ یہ بے انصافی کہاں تک رہے گی؟
یہاں ہم انہی مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں جو حضرت ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں مزید تحقیق کے متلاشی متعلقہ کتب کی طرف رجوع کریں_
بے بنیاد دلائل
حضرت ابوطالب علیہ السلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھنے والوں نے بے بنیاد دلائل اور روایات کا سہارا لیا ہے_ یہاں ہم ان میں سے چند ایک کی طرف جو زیادہ اہمیت کی حامل ہیں اشارہ کرتے ہیں_
۱_ حدیث ضحضاح
ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم
کے پاس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
کے چچا ابوطالبعليهالسلام
کا ذکر ہوا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
نے فرمایا: شاید ان کو میری شفاعت روز قیامت فائدہ دے اور آگ کے ایک ضحضاح ( کنارے) میں رکھا جائے جہاں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ ایک اور روایت کے مطابق حضرت عباس نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
سے عرض کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
اپنے چچا سے بے نیاز نہ تھے واللہ وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
کی حفاظت کرتے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم
کی خاطر غضبناک ہوتے تھے فرمایا:'' وہ آگ کے ایک حوض میں ہیں اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے