"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

25%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49466 / ڈاؤنلوڈ: 6229
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۶۱

6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے

۶۲

٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟

۶۳

درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔

۶۴

5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔

۶۵

7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟

۶۶

درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔

۶۷

( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان

۶۸

پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟

۶۹

درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔

۷۰

( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے

۷۱

کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟

۷۲

درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

۷۳

( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔

۷۴

اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟

۷۵

درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے

۷۶

کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394

۷۷

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟

۷۸

حصہ سوم

( اخلاق )

۷۹

درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

ابن شہر آشوب راقم ہے کہ خداوندعالم کا فرمان ہے( ولو ردوه الی الرسول والی اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ) (۱)

(اگر اس کو رسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیں تو یقینا ایسے افراد ہیں کہ جو اس کو درک کرلیتے ہیں اور اس کی اچھائی و برائی اور حق و باطل کو جانتے ہیں )

یہ آیت آئمہ طاہرین کی عصمت پر دلالت کرتی ہے چونکہ اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ جس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مسائل بیان کیے جائیں تو وہ حق و باطل اور اچھائی و برائی کو سمجھ لیتے ہیں اسی طرح صاحبان امر بھی ہیں ۔ اور معصوم کے علاوہ کسی بھی چیز کا علم بحد یقین ممکن نہیں ہے اور نیز یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ خدا وند ایسے کی نظر کو مطلقاً صحیح سمجھے کہ جو خود خطا ء و غلطی سے پاک نہ ہو چونکہ اس صورت میں امر الہٰی کا قبیح ہونا لازم آئے گا۔

اور جب یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے تو ان کا امام ہونا بھی ثابت ہے ۔ چونکہ کسی نے بھی عصمت و امامت کے درمیان فرق بیان نہیں کیا ہے اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ آیت آل محمد کی شان میں ہے ۔

روایت میں ہے کہ یہ آیت بارہ الہٰی حجتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔(۲)

____________________

(۱) سورہ نساء (۴) آیت ۸۳۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۴۷ـ۲۴۸۔

۲۰۱

شاعر کہتا ہے :

علی هو الصدیق علامة الوری (۱)

و فاروقه ا ب ین الحطیم و زمزم

علی ہی صدیق ہے اور کائنات میں سب سے زیادہ عالم، اورباب حطیم و زمزم کے درمیان حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے۔

اور دوسرا شاعر کہتا ہے :

فقال من الفاروق ان کنت عالما

فقلت الذی کان للدین یظه ر

علی ابو السبطین علامة الوری

وما زال للاحکام یبدی و ینشر (۲)

کہا کہ اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ حق و باطل کے درمیان فیصلے کرنے والا کون ہے تو میں نے کہا وہ کہ جو دین کو آشکار و و اضح کرتا ہے ، علی ،سبطین حضرات حسن و حسین کے والد بزرگوار پوری کائنات میں سب سے زیادہ عالم کہ جو ہمیشہ احکام الہٰی کو بیان کرتے ہیں اور منتشر فرماتے ہیں ۔

____________________

(۱) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷،ابن شہر آشوب نے اس شعر کو قمی نامی شاعر کے نام سے منسوب کیا ہے ۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷۔ اس ماخذ میں یظھرکے بجائے مظھر آیاہے۔

۲۰۲

ششم : صدیقیت کا نبوت کی طرح ہونا

صدیقیت کی علامت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نبوت کی مانند ہواور اس کی ہم فکر و ہم صنف ہو چونکہ خداوندعالم کا ارشاد ہے۔

( ومن یطع الله و الرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهدا والصالحین و حسن اولائک رفیقا ) ۔(۱)

جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان حضرات کے ساتھ ہیں کہ جن پر اللہ نے نعمتیں نازل کی ہیں، انبیا، صدیقین، شھدا، اورصالحین میں سے اور وہ بہترین دوست و ہمدم ہیں ۔

یہ مانند و مثل ونظیر ہونا ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و علی کے درمیان توبہت واضح و روشن ہے ۔ لیکن پیغمبر اکرم اور اس شخص کے درمیان کہ جس کو اس زمانے والوں نے صدیق کا لقب دیا ہے اصلاً نہیں پایا جاتا ، چونکہ جب سورہ برائت کی دس آیات نازل ہوئیں تو پیغمبراکرم نے ابو بکر کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا تاکہ مکہ والوں پر ان آیات کی تلاوت کریں ابھی ابوبکر کچھ ہی دور گئے تھے کہ جبرئیل، پیغمبراکرم پر نازل ہوئے اور کہااے محمد آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے :

''لایؤدی عنک الاانت او رجل منک '' آپ کی طرف سے آیات الٰہی کو ادا نہیں کرسکتا اور نہیں پہنچا سکتا مگر خود آپ یا وہ شخص کہ جو آپ سے ہو (یعنی آپ کانفس و جان اور آپ کی مثل و ھم نظیرہو)

تو فورا ہی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عل ی کو بلایا اور فرمایا میرے ناقہ عضباء پر سوار ہوکر اپنے آپ کو ابوبکر تک پہنچا دو ۔اور سورہ برأت کو اس سے لے لو، اس سورہ کو مکہ لے جاؤ اور مشرکین کے عہد و پیمان کو خود انہی پر پھینک دو ۔ اور ابوبکر کو اختیار دینا کہ چاہے تو وہ آپ کے ساتھ چلے یا میرے پاس واپس آجائے ۔

____________________

(۱) سورہ نسائ(۴) آیت ۶۹۔

۲۰۳

امیرالمؤمنین، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناقہ عضباء پرسوار ہوئے اور چلے یہاں تک کہ ابوبکر تک پہنچ گئے ابوبکر نے جیسے ہی آپ کو دیکھا تو آپ کے آنے سے پریشان ہوئے اور آپ کے پاس آکر کہا اے ابو الحسن کس لیے آئے ہو ؟ کیا میرے ساتھ چلنے کے لیے آئے ہو یا کسی اور کام کے لیے ؟

امیر المؤمنین علی نے فرمایا : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے حکم د یا ہے کہ اپنے آپ کو تم تک پہنچاؤں اور سورہ برأت کو آپ سے لے لوں اور اس کو مشرکین کے عہد کے ساتھ ان کے منھ پر ماروں اور مجھ سے فرمایا ہے کہ آپ کو اختیار دوں کہ چاہوتو میرے ساتھ چلو یا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹ جاؤ ۔ ابوبکر نے کہا بیشک میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹ رہاہوں ۔

پس ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آئے اور کہا اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہلے مجھے اس کام کے ل یے مناسب سمجھا اور انتخاب کیا کہ تمام لوگوں کی نگاہیں مجھ پر جم گئیں اور پھر جب میں اس کام کو انجام دینے کے لیے چلا تو وہ کام واپس لے لیا میرے سلسلے میں کیا پیش آیا ؟ کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : نہیں لیکن مجھ پر جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی جانب سے یہ پیغام مجھے دیا کہ میرے جانب سے آیات الہٰی کو کوئی ادا نہیں کرسکتا مگر میں خود یا وہ شخص کہ جو مجھ سے ہو ،'' و علی منی و لا یؤد ی عنی الا علی '' (۱)

اور علی مجھ سے ہے اور میری طرف سے کوئی پیغام الہٰی کوسوائے علی کے ادا نہیں کرسکتا ۔

____________________

(۲) ارشاد مفید :۱ ۶۷۔ کشف الیقین (علامہ حلی ) ۱۷۵۔

۲۰۴

یہ کارنامہ اول ذی الحجہ سال ہفتم ہجری کو پیش آیا اور امام علی نے اس کو روز عرفہ اور روز نحر، عید قربان لوگوں پر بیان کیا ،اور یہ وہی فرمان ہے کہ جس میں خدا وندعالم نے ابراہیم اور آپ کی اولاد کو دعوت دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔

( طهر بیتی للطائفین و العاکفین و الرکع السجود ) (۱)

میرے گھر کو طواف کرنے والوں،اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ گذاروں کے لیے پاک کرو۔

پس خداوندمتعال نے سب سے پہلے جناب ابراہیم کو دعوت دی( واذن فی الناس بالحج ) (۲)

لوگوں کے درمیان حج کی انجام دہی کے لیے آواز دو ۔اور ان کے بعد علی ولی کو سورہ برأت کے پہنچانے کے لیے انتخاب فرمایا ۔

اور یہ واضح ہے کہ عہد و پیمان اسی سے مربوط ہوتا ہے کہ جس نے باندھا ہو اور وہ رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عہد تھا تو یا رسول خدا تشریف لے جائیں یا وہ کہ جو آپ کے قائم مقام ہو آپ کے مثل و نظیر ہو اور مقام و مرتبہ اور صلاحیت و لیاقت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی طرح ہو تو صرف علی ہی تنہا وہ فرد ہیں کہ جن میں اس امت کے درمیان یہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ بقرہ(۲) آیت ۱۲۵۔

(۲) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۷۔

۲۰۵

اس لیے کہ فقط وہ ہی نفس اور جان پیغمبر ہیں(۱) اور آپ کے بھائی اور آپ کے مثل و نظیر ہیں ۔(۲)

آپ کی بیٹی کے شوہر اور کفو ہیں ۔(۳) اور آپ کے نزد یک سب سے زیادہ پیارے و محبوب ہیں ۔(۴)

اس الہٰی فرمان میں کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ابلاغ ہوا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابوبکر کے یہاں قرآن کریم کی چند آیات کے پہنچانے تک کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ کس طرح مسلمانوں پر امامت و رہبری کی صلاحیت و شائستگی رکھتے ہیں ؟۔

اور امام علی کے ہوتے ہوئے ان کو کس طرح لقب صدیق دیا جاسکتا ہے ۔

بہر حال خدا اور رسول خدا کے نزدیک ان دونوں کی یہ حالت ہے ۔

اوروہ نصوص کہ جو امام علی و حسن و حسین اور حضرت زہرا کے بارے میں پائی جاتی ہیں ان کو ذرا غور سے دیکھیں تو یقینا ان حضرات کو رسول اکرم کے ہم پلہ پائیں گے ۔

____________________

(۱) اس بنیاد پر خداوندعالم کا ارشادہے (وانفسنا و انفسکم )آپ اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران (۳) آیت ۶۱)۔

(۲) امالی طوسی۶۲۶،حدیث ۱۹۲۔ امالی مفید۶،مجلس اول۔ کشف الغمہ ۴۱۲۔بحار الانوار: ۳۹ ۲۴۰۔

(۳) مسند ابی یعلی :۳۳۸۱،حدیث ۵۰۳۔ شرح الاخبار : ۳ ۲۸، حدیث ۹۶۴۔

(۴) تاریخ دمشق : ۳۷ ۴۰۶ ۔ و جلد: ۴۲ ۲۴۵۔ مناقب خوارزمی ۲۲۲۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۴۔ امالی طوسی ۳۳۳، حدیث ۶۶۷۔

۲۰۶

بلکہ امیرالمومنین وصی پیغمبراکرم میں انبیا سے شباہت پائی جاتی ہے۔

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :

کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں ، نوح کو ان کی حکمت میں اورابراہیم کو ان کے حلم میں دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھے ۔(۱)

ابو الحمرا ء سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا: جو شخص بھی چاہے کہ علم آدم ، فہم نوح کو دیکھے ، یحی کے زہد و تقوی اور، موسی کی شجاعت و دلاوری کودرک کرے پس اس کو چاہیے کہ علی کو دیکھے ۔(۲)

بیاض رقمطراز ہے کہ اس کلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ابن جبیر نے ابن عباس کی سند سے بیان کیا ہے کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں، نوح کو ان کی فہم و عقل میں، موسی کو ان کی مناجات میں، عیسی کو ان کی خاموشی میں اور محمد کو ان کے تمام صفات میں دیکھنا چاہے تو وہ اس شخص کو دیکھے ، اس وقت سب کی گردنیں دراز ہوئیں اور نگاہیں اٹھیں تو دیکھا وہ شخص علی ابن ابی طالب ہیں ۔(۳)

٭رسول خدا نے علی کو آدم سے علم میں تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے تمام اسماء (تمام موجودات اور حقائق عالم کے نام) کی تعلیم آدم کودی( علم آدم الاسماء کلها ) (۴) ۔

____________________

(۱) اور محب طبری : ۳/ ۲۴۹ میں آیا ہے کہ جو یوسف کو ان کے حسن و جمال میں ۔

(۲) مناقب خوارزمی /۴۰ فصل ۷۔ حاکم نے شواہد التنزیل :۱/ ۱۸۰ میں بھی روایت نقل کی ہے ۔

(۳) الصراط المستقیم:۱ ۱۰۳۔

(۴) سورہ بقرہ (۲)آیت ۱۳۔

۲۰۷

اس بنا پر کوئی حادثہ، کوئی واقعہ اور کوئی شیٔ بھی نہیں ہے کہ جس کا علم علی کے پاس نہ ہو، اور ان کے معانی و مفاہیم کو آپ نہ سمجھتے ہوں ، خدا وندعالم نے آدم کو تراب سے خلق فرمایا جب کہ رسول خدا نے علی کا لقب ابوتراب رکھا ۔

٭پیغمبراکرم نے علی کو جناب نوح کی فہم و حکمت میں مثل و نظیر قرار دیا ہے چونکہ جناب نوح نے اپنی قوم کے ساتھ بہت حلم و بردباری سے کام لیا اور کہا پروردگارا میری قوم کی ہدایت فرما ، چونکہ وہ نادان ہے۔(۱) اور اس ی طرح امیر المومنین کی زبان مبارک پر بھی یہ کلمات جاری ہوئے لہذا فرمایا:''فصبرت وفی العین قذی و فی الحلق شجی'' (۲)

میں نے صبر کیا حالانکہ میری آنکھوں میں خش و خاشاک اور میرے حلق میں ہڈی تھی ۔

نوح نے اپنی قوم پران کی بدکرداری ، تجاوز اور فسق و فجور کی انتہا پر پہنچنے کے بعد اور یہ جاننے کے بعد کہ یہ قابل اصلاح نہیں ہیں لعنت کی لہذا کہا :( رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا ) (۳)

پروردگارا روی زمین پر ایک گھر بھی کافروں کا باقی نہ رکھ۔

امیرالمومنین نے بھی اسی طرح نوح کے کلام کی مانند ایک جانگذار شکوہ فرمایا لہذا ارشاد ہوا :

____________________

(۱) ذکر اخبار اصبہان:۴۹۲، باب غین۔ فتح الباری :۱۲ ۲۵۰ ۔ الدر المنثور : ۳۰ ۹۴۔

(۲) نہج البلاغہ :خطبہ شقشقیہ،خطبہ۳۔

(۳) سورہ نوح (۷۱)آیت ۲۶۔

۲۰۸

''اللهم انی قد مللتهم و ملونی و سئمتهم و سئمونی، فابدلتنی بهم خیراًمنهم وابدلهم بی شراً منی'' (۱)

پروردگارا ، بیشک یہ لوگ مجھ سے بیزار ہیں اور میں بھی ان سے خستہ ہوچکا ہوں یہ لوگ مجھ سے دل تنگ و عاجز ہیں اور میں بھی ان سے دل شکستہ ہوچکا ہوں ، پالنے والے میری جگہ ان کو کوئی برا اور بدتر حاکم نصیب فرمااور ان کی جگہ میرے لیے کوئی بہتر رعایا و امت قرار دے۔

٭پیغمبراکرم نے امیرالمومنین علی کو حضرت ابراہیم سے تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے بچپنے ہی میں ان کے لیے اپنی دلیلیں اور براہین پیش فرمائے جب کہ وہ گھر سے باہر تشریف لائے اور اپنے چچا اور قوم سے مناظرہ کیا جیسا کہ خداوندکریم کے کلام میں مذکور ہے ۔

( یاابت لم تعبد مالایسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا ) (۲)

اے میرے بابا (چچا آذر)کیوں آپ ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو کہ جو نہ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے اور نہ ہی آپ کو کسی طرح کا کوئی فائدہ پہنچاتی ہے ۔

( اذ قال لابیه و قومه ماذا تعبدون ) (۳)

جب کہ ابراہیم نے اپنے والد (چچا آذر)اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ :۶۵۱،خطبہ ۲۵۔ اور دیکھیے : الغارات:۲ ۶۳۶۔ شرح الاخبار:۲ ۲۹۰۔

(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۴۳۔

(۳) سورہ صافات(۳۷)آیت ۸۵۔

۲۰۹

( فلما جن علیه اللیل رأی کوکباً ) (۱)

جب رات ہوگئی اور ابراہیم نے ستارہ کو دیکھا ۔ ۔ ۔

( وتلک حجتنا آتیناها ابراهیم علی قومه نرفع درجات من نشائ ) (۲)

یہ ہماری حجتیں ہیں کہ جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم پر پیش کرنے کے لیے عطا کیں اورہم جس کے مرتبے کوچاہتے ہیں بلند کرتے ہیں ۔

اور یہی حال امام علی علیہ السلام کا ہے جیسا کہ خدا وندعالم نے جناب ابراہیم کو زمانہ طفلی میں اور سن بلوغ سے پہلے ہی اپنی آیات و دلائل سے نوازا اور انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا ، بتوں کو توڑا ، خداوندعالم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ میرے گھر کعبہ کو پاک کرو (وطهر بیتی )(۳)

جب کہ علی کے گھر کو خود خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ قرار دیا (ویطهرکم تطهیرا )(۴)

اے اہل بیت، خدا نے تمہیں پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے ۔

اسی طرح کا کلام خداوندعالم نے حضرت یحی کے بارے میں ارشاد فرمایا( یا یحی خذ الکتاب بقوة ) (۵) اے یحی قدرت و طاقت سے کتاب کو پکڑلو۔

____________________

(۱) سورہ انعام(۶)آیت ۷۶۔

(۲) سورہ انعام(۶)آیت ۸۳۔

(۳) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۶۔

(۴) سورہ احزاب(۳۳) آت ۳۳۔

(۵) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔

۲۱۰

خداوندمتعال نے جناب یحی کو کم سنی ہی میں توریت کا علم عطا کیا ۔

( وآتیناه الحکم صبیاً ) (۱) اور ہم نے یحی کو بچپنے ہی میں نبوت عطا کی ۔

( وبراً بوالدیه ولم یکن جباراً عصیاً ) (۲) اور یحی اپنے والدین کے حق میں بہت نیک و شریف تھے اور نافرمانی و ظلم و زبردستی نہیں کرتے تھے ۔

( وسیداً و حصوراًو نبیاً من الصالحین ) (۳)

اور یحی بزرگوار و سردار، پاک دامن و باوقار اور نیک و صالحین میں سے نبی تھے ۔

روایت میں ہے کہ زکریا نے اپنے بیٹے یحی کو روتے ہوئے دیکھا تو آپ نے کہا بیٹا یہ آپ کی کیا حالت ہے ؟ یحی نے جواب دیا : بابا جان آپ نے مجھے با خبر کیا ہے کہ جبرئیل نے آپ سے فرمایا کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ جس کو صرف راہ خدا میں آنسو ہی بجھا سکتے ہیں ۔(۴)

____________________

(۱) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔

(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۴۔

(۳) سورہ آل عمران(۳)آیت ۳۹۔

(۴) یہ حدیث جیسا کہ متن میں آئی ہے اس طرح کسی بھی ماخذ میں نہیں مل سکی لیکن بحار الانوار: ۱۶۵۱۴، حدیث ۴ کے تحت واردہے؛

''یا بنی مایدعوک الی هذا ؟ انما سألت ربی ان یهبک لی لتقربک عینی ، قال: انت امرتنی بذالک یا ابه ! قال: و متی ذالک یا بنی ؟ قال: الست القائل ان بین الجنة و النار لعقب لایجوزها الاالبکاوون من خشیة الله '' ۔۔۔ اگلے صفحہ پر ۔۔۔

۲۱۱

اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی بھی یہی حالت و منزلت ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق اور امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا امام علی ابن الحسین زین العابدین جب کبھی بھی امیر المومنین کی زندگانی پر نظر کرتے اور آپ کی عبادت کو ملاحظہ فرماتے توکہتے :

''من یطیق هذا'' (۱)

کس میں طاقت ہے کہ اس قدر عبادت کرسکے اور عبادت میں علی کا مقابلہ کرسکے۔

٭پیغمبر اکرم نے حضرت علی کو جناب موسی سے شجاعت و دلیری میں تشبیہ دی خداوندعالم جناب موسی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔

( فاستغاثه الذی من شیعته علی الذی من عدوه فوکزه موسی فقضی علیه ) (۲) موس یٰ کے شیعہ نے اپنے دشمن پر غلبہ پانے کے لیے موسی کو مدد کے لیے بلایا تو موسی نے اس دشمن کے ایک گھونسا مارا اور وہ مرگیا۔

____________________

۔۔۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔

زکریا نے کہا اے میرے بیٹے یہ آپ نے اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے جب کہ میں نے پروردگار سے تجھے اس لیے مانگا ہے تاکہ میرا دل ٹھنڈا ہو اور میری آنکھوں کی روشنی قرار پائے ۔ یحی نے جواب دیا اے میرے بابا جان آپ نے مجھے اس کام کے لیے آمادہ فرمایا ، زکریا نے سوال کیا میرے بیٹے کب میں نے ایسا کیا ؟ یحی نے جواب دیا تو کیا آپ یہ نہیں فرماتے کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ اس سے صرف وہی گذر سکتا ہے جو خوف خدا میں بہت زیادہ گریہ و زاری کرتا ہو(م)۔

(۱) روضہ کافی : ۸ ۱۳۱، ذیل حدیث ۱۰۰۔

(۲) سورہ قصص(۲۸) آیت ۱۵۔

۲۱۲

موسی شجاعت و دلیری میں مشہور تھے اور یہی حال علی ابن ابی طالب کا ہے کہ وہ راہ خدا میں ثابت قدم تھے شکست نہ کھانے والی جنگیں کرتے ،دین مبین اسلام کے دفاع میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی خاطر قریش اور عرب کے بڑے بڑے پہلوانوں کو قتل کیا ۔

٭ حضرت علی کی جناب عیسی سے تشبیہ کے متعلق نسائی نے اپنی کتاب الحضائص الکبری میں حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا : اے علی تیری مثال عیسی کی طرح ہے ، یہودیوں نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی والدہ پر تہمتیں لگائیں اور نصاری نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ ان کو وہ مقام بھی دیا کہ جو ان کا نہیں تھا ۔(۱)

پس علی علیہ السلام کی عیسی سے شباہت ان کے کتاب کے علم کی وجہ سے ہے کہ جو خداوندعالم نے ان کو کم سنی اورسن بلوغ سے پہلے ہی عطا فرمایا لہذا ارشاد ہوا :

( ویعلمه الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل ) (۲)

خداوندعالم نے عیسی کو کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دی اور علی عیسی کی طرح خدا کے مطیع و فرمانبردار بندے ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :

( انی عبدالله آتانی الکتاب ) (۳)

میں خدا کا بندہ ہوں اور مجھے کتاب عطا کی گئی ہے ۔

____________________

(۱) مسند احمد : ۱ ۱۶۰۔ مجمع الزوائد : ۹ ۱۳۳۔ خصائص امیر المؤمنین(نسائی) ۱۰۶۔

(۲) سورہ آل عمران (۳) آیت ۴۸۔

(۳) سورہ مریم (۱۹) آیت ۳۰۔

۲۱۳

اور اسی طرح دسیوں صفات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ جن میںحضرت علی، حضرات آدم ، موسی ، ابراہیم ، عیسی ، نوح ، یحی ، ایوب ، یوسف ، سلیمان ، اور داؤد وغیرہ سے شباہت رکھتے ہیں ۔

بصائر الدرجات میں حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ''کانت فی علی سنة الف نبی ''(۱)

حضرت علی کے یہاں ایک ہزار نبیوں کی سنتیں پائی جاتی تھیں۔

____________________

(۱) بصائر الدرجات ۱۳۴۔

۲۱۴

ہفتم :ـ ایمان واقعی اور فنا فی اللہ ہونا ۔

خداوند عالم کی بندگی کی مہمترین خصوصیت یہ ہے کہ انسان ذات خدا میں فنا ہوجائے ، پیغمبرامین کی اطاعت میں کمال تک پہنچ جائے اور دعوت اسلام کی نشر و اشاعت میں اپنی جان و مال سے انتہائی کوشش کرے ۔

نیز مصدق وہ شخص ہے کہ جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کو اپنے عمل سے ثابت کردکھائے اور اپنی زندگی کے ڈھانچے میں اس کو مجسم بناکر پیش کرے اور صدیق وہ شخص ہے کہ جس کا مقام و مرتبہ اس سے بھی بلند و بالا ہو،وہ فناء کی انتہا کو پہنچ جائے نہ یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت اور خود غرضی کو مقدم رکھے جیسا کہ یہ کارنامے ابوبکر کی سیرت میںمشاہد ہ کرتے ہیں۔

حضرت امیر المؤمنین سے روایت ہے کہ آپ نے ایک روز جنگ صفین کے دوران فرمایا:

ہم لوگ حضرت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ جنگوں میں شریک تھے اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے باپ ، بیٹے ، بھائی اور چچاؤں کو قتل کرتے اور ان کو خاک و خون میں غلطاں کرتے تھے اور یہ عزیز واقارب و رشتہ داروں کا قتل ہمیں رنجیدہ خاطر نہیں کرتا تھا بلکہ ہمارے ایمان میں استواری واستحکام پیدا ہوتا چونکہ ہم راہ حق پر ثابت قدم اور گامزن تھے ہم سختیوں میں صابر اور دشمن سے جہاد میں کوشا رہتے ، کبھی کبھی ہم میں سے اور دشمن کے لشکر سے ایک ایک و تنہا تنہا کی جنگ ہوتی اور بالکل ایسے ہی کہ جیسے دو بجھار(سانڈ) آپس میں لڑپڑے ہوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے اور ایک کوشش کرتا کہ دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دے اور اس کو مار کے ہی دم لے ، کبھی کامیابی ہمارے نصیب میں آتی تو کبھی دشمن کامیاب ہوجاتا ۔

چونکہ خداوندعالم نے ہمیںآزمالیا اور اچھی طرح پرکھ لیا ہمارے صدق و صفائی کودیکھ لیا تو ہمارے دشمن کو ذلیل کردیا ہمارے پرچم کو سر بلند کردیا جیسا کہ اب اسلام ہر شہر و قریہ اور ہر علاقہ میں پھیلا ہوا ہے اور دور دراز تک حکومت اسلامی قائم ہے ۔

میری جان کی قسم اگر ہماری رفتار آپ لوگوں کی طرح ہوتی تو نہ دین کا ستون قائم ہوتااورنہ ایمان کا درخت ہرا بھرا ہوتا، خدا کی قسم اس کے بعد خون جگر پیوگے پشیمانی و شرمندگی اٹھاؤ گے ۔(۱)

____________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۵۶۔ اور دیکھیے : ارشاد مفید :۱ ۲۶۸۔ کتاب سلیم ابن قیس ۲۴۷۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۴ ۳۳۔

۲۱۵

آپ ہی سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : قریش نے ایسے ایسے میرے قتل کا پروگرام بنایا ہے آج آپ میرے بستر پر سوجاؤ اور میں رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے باہر چلاجاؤں چونکہ خداوندعالم نے مجھے اس کا م کے لیے حکم دیا ہے ۔

میں نے آنحضرت سے عرض کیا : میں دل و جان سے حاضر ہوں ، میں آپ کے بستر پر سوگیا رسول خدا نے دروازہ کھولا جبکہ تمام لوگ صبح کے انتظار میں آپ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ بیٹھے ہوئے تھے آپ یہ پڑھتے ہوئے باہر نکل گئے( وجعلنامن بین ایدیهم سدا و من خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لا یبصرون ) (۱)

ہم نے ان کے سامنے اور پیچھے دیوار حائل کردی اور ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا ، پس وہ لوگ دیکھ نہیں سکتے ۔

اس طرح پیغمبراکرم ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ یں دیکھا ۔(۲)

نیز حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے ۔

حضرت محمد مصطفی کے وہ اصحاب کہ جو اسرار الہٰی کے خزانہ دار ہیں اور کتاب و سنت کے امانتدار ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے لمحہ بھر کے لیے بھی خدااور رسول کے فرمان سے منھ نہیں موڑا ، جان و دل سے پیغمبراکرم کی مدد کی اس وقت کہ جب بڑے بڑے پہلوان پچھڑ رہے تھے اور ہر ایک کے قدم لڑکھڑا رہے تھے میں ثابت قدم تھا ۔

____________________

(۱) سورہ یاسین (۳۶) آیت ۹۔

(۲) الخرائج والجرائح :۱ ۱۴۳، حدیث ۲۳۱۔ اختصاص مفید ۱۴۶۔

۲۱۶

اور یہ وہ دلیری و مردانگی تھی کہ جو خداوندعالم نے مجھے عطا فرمائی تھی ۔(۱)

اور آپ نے یہودیوں کے بزرگوں سے ایک گفتگو میں فرمایا :

میں اور میرے چچا حمزہ میرے بھائی جعفر اور میرے چچا زاد بھائی عبیدہ نے خدااور اس کے رسول سے جس بات پر عہد کیا تھا ہم اس پر باقی رہے اور اس کو وفا کیا ، میرے ساتھی اور ہم عہد حضرات نے مجھ سے سبقت کی اور میں خداوندعالم کی مشیت و مصلحت کے تحت پیچھے رہ گیا اور اسی مناسبت سے خداوندعالم نے ارشاد فرمایا :

( من المؤمنین رجال صدقو ا ما عاهدو ا الله علیه فمنهم من قضی نحبه و منهم من ینتظر وما بدّلو تبدیلاً ) (۲)

مومنین میں سے کچھ مرد ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے پروردگار سے جو عہد کیا اس کو پورا کردکھایا پس ان میں سے کچھ افراد اپنی منزل تک پہنچ گئے اور کچھ ابھی منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی ایجاد نہیں کی ۔

حمزہ ، عبیدہ اور جعفر نے اپنے عہد کو پورا کیا اور عالم جاودانی کی طرف رحلت کرگئے اور میں منتظر ہوں اور میںنے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔(۳)

____________________

(۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔دیکھیے: ینابیع المودة : ۱ ۲۶۵، حدیث ۱۹۔ بحار الانوار :۳۸ ۳۱۹، ح ۳۲۔

(۲) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۲۳۔

(۳) اختصاص مفید ۱۷۴۔ خصال صدو ق ۳۷۶۔ بحار الانوار :۳۱ ۳۴۹۔ تاویل الآیات :۲ ۴۴۹، حدیث ۸۔

۲۱۷

ابن عباس سے منقول ہے کہ علی ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :

( اف ا ن مات أوقتل انقلبتم علی أعقابکم ) (۱)

کیا اگر پیغمبراکرم مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو آپ اپنے پرانے عقیدے و زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے ۔

خدا کی قسم اب جب کہ خداوندعالم نے ہماری ہدایت فرمائی ہے ہم پیچھے نہیں پلٹ سکتے ، خدا کی قسم اگر وہ رحلت فرماجائیں یا قتل کردیے جائیں تو بھی وہ جس چیز کی خاطر لڑتے رہے ہیں میں بھی جب تک زندہ ہوں اس چیز کی خاطر لڑتا رہوں گا ، خدا کی قسم میں آپ کا بھائی، دوست ہوںاور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاوارث ہوں پس م یرے علاوہ کون شخص ان کا ہمدرد ہوگا اور ان باتوں کا حق دار ہوگا ۔(۲)

اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات و احادیث ، امیرالمؤمنین ، خود رسول خدا اور حضرت فاطمہ زہرا سے منقول ہیں، نیز اہل بیت و صحابہ سے بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات پائی جاتی ہیں ۔

لہذا علی سب سے پہلے ایمان لانے والے شخص ہیں، سب سے پہلے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی، آپ کی رسالت کی تصدیق فرمائی، آخرعمر تک اس پر ثابت قدم رہے اور حضور پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی کسی بھی معاملے میں تکذیب نہیں کی ۔

____________________

(۱) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۴۴۔

(۲) خصائص امیر المؤمنین (نسائی)۸۶۔ المعجم الکبیر:۱۰۷۱، حدیث ۱۷۶۔ مناقب کوفی :۱ ۳۳۹، حدیث ۲۶۵۔ شواھد التنزیل :۱ ۱۷۷، حدیث ۲۴۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۵۶۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۶۔

۲۱۸

اب ان تمام چیز وں کی طرف انگشت نمائی کرتے ہیں کہ جن کو امیر المؤمنین نے فرمایا ہے تاکہ ان تمام مراحل و مقامات میں ابوبکر کی موقعیت و حیثیت سمجھ سکیں۔:

۱ـ ام یر المؤمنین حضرت علی سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے پہلے نماز بجالائے ، اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں اور رسالے لکھے گئے ہیں لہذا اس کے بارے میں ہمیں گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کو ضرورت ہو وہ ان کتابوں میں مراجعہ کرے ۔(۱)

۲ـ حضرت عل ی ، خدا اور رسول کی ذات میں فنا تھے اور دین کے مقابلے میںکسی بھی شیٔ کی حیثیت کو نہیں پہچانتے تھے حتی کہ باپ ، بھائی چچا کوئی دین کے مقابلے میںکچھ نہ تھا ، جب کہ یہ خاصیت ہمیں ابوبکر کے یہاں نظر نہیں آتی ، آئندہ چند صفحوںکے بعد ہم ابوبکر کی سیرت کو پیش کریں گے۔

۳ـ عل ی مطیع و فرمانبردار رسول خدا تھے جب کہ یہ صفت ابوبکر پر منطبق نہیں ہے اور اس سلسلے میں یہی کافی ہے کہ رسول خدا نے ابوبکر کو ایک زاہد نما شخص کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ،ابوبکر اس شخص کے قریب پہنچے دیکھا کہ وہ نماز میں مشغول ہے تو خود اپنے آپ سے کہنے لگے کہ نماز قابل احترام ہے اور اسی طرح اس زاہد نما شخص کو چھوڑ آئے اور رسول خدا کے امر کی اطاعت نہیں کی ۔(۲)

____________________

(۱) اس سلسلے میں بیشتر معلومات کے لیے دیکھیے : الغدیر (امینی ) :۳ ۲۲۱ـ ۲۲۴۔

(۲) مسند ابویعلی :۶ ۳۴۱، حدیث ۳۶۶۸۔ حلیة الاولیاء : ۳ ۲۲۷۔ مسند احمد :۳ ۱۵۔ البدایة و النہایة :۷ ۳۳۰۔

۲۱۹

۴ـ حضرت علی دین پر ثابت قدم رہے اور پچھلے آئین و زمانہ جاہلیت کی طرف مراجعہ نہ کیا، جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کے خطبہ میں ابوبکر اور ان کی قوم کے پیچھے پلٹنے کے متعلق ثبوت موجود ہیں اور حدیث حوض(۱) اور آیہ انقلاب(۲) میں کچھ ایسے نکات ہیں کہ کہ جو ان کے ارتداد اور اعقاب کی طرف پلٹنے پر دلالت کرتے ہیں ۔

جی ہاں ، ابوبکر کی زندگی پر تھوڑا غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مصلحت کو واجبات الہٰی پر مقدم رکھتے تھے جیسا کہ ان کو اس مصلحت ہی کی بنا پر کہ جب تمام مسلمانوں کا اجماع ہوچکا کہ خالد بن ولید کے زنا ء محصنہ پر قتل اور حد جاری کی جائے لیکن ابوبکر نے یہ کام انجام نہ دیا چونکہ ان کی مصلحت نہ تھی جب کہ عمر ابن خطاب تک بھی اس فعل پر خالد بن ولید کے قتل کو لازم جانتے تھے چونکہ اس نے مالک بن نویرہ کی زوجہ سے عدہ کے دوران زنا کیا تھا ۔ لیکن ابوبکر نے اس پر حد جاری کرنے سے خودداری کی اور یہ کہا کہ اے عمر ، خالد نے اجتہاد کیا اور خطا کی ، اپنی زبان کو خالد کے سلسلے میں بند رکھو بیشک میں اس تلوار کو کہ جس کو خدا نے کافروں کے لیے کھینچا ہے ،اس کومیں غلاف میں نہیں رکھو ں گا ۔(۳)

____________________

(۱) اس حدیث کے سلسلے میں مراجعہ کیجیے : صحیح بخاری :۵ ۱۹۱۔ و جلد :۷ ۱۹۵۔ صحیح مسلم :۷ ۷۱۔

(۲) سورہ آل عمران(۳) آیت ۱۴۴۔

(۳) تاریخ طبری :۲ ۵۰۳۔ اور دیکھیے : طبقات ابن سعد : ۷ ۳۹۶۔ البدایة والنہایة : ۶ ۳۴۵۔ الاصابة :۵ ۷۵۵۔ اور دوسرے مآخذ۔

۲۲۰

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307