"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

12%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49453 / ڈاؤنلوڈ: 6228
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

ابن شہر آشوب راقم ہے کہ خداوندعالم کا فرمان ہے( ولو ردوه الی الرسول والی اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ) (۱)

(اگر اس کو رسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیں تو یقینا ایسے افراد ہیں کہ جو اس کو درک کرلیتے ہیں اور اس کی اچھائی و برائی اور حق و باطل کو جانتے ہیں )

یہ آیت آئمہ طاہرین کی عصمت پر دلالت کرتی ہے چونکہ اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ جس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مسائل بیان کیے جائیں تو وہ حق و باطل اور اچھائی و برائی کو سمجھ لیتے ہیں اسی طرح صاحبان امر بھی ہیں ۔ اور معصوم کے علاوہ کسی بھی چیز کا علم بحد یقین ممکن نہیں ہے اور نیز یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ خدا وند ایسے کی نظر کو مطلقاً صحیح سمجھے کہ جو خود خطا ء و غلطی سے پاک نہ ہو چونکہ اس صورت میں امر الہٰی کا قبیح ہونا لازم آئے گا۔

اور جب یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے تو ان کا امام ہونا بھی ثابت ہے ۔ چونکہ کسی نے بھی عصمت و امامت کے درمیان فرق بیان نہیں کیا ہے اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ آیت آل محمد کی شان میں ہے ۔

روایت میں ہے کہ یہ آیت بارہ الہٰی حجتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔(۲)

____________________

(۱) سورہ نساء (۴) آیت ۸۳۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۴۷ـ۲۴۸۔

۲۰۱

شاعر کہتا ہے :

علی هو الصدیق علامة الوری (۱)

و فاروقه ا ب ین الحطیم و زمزم

علی ہی صدیق ہے اور کائنات میں سب سے زیادہ عالم، اورباب حطیم و زمزم کے درمیان حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے۔

اور دوسرا شاعر کہتا ہے :

فقال من الفاروق ان کنت عالما

فقلت الذی کان للدین یظه ر

علی ابو السبطین علامة الوری

وما زال للاحکام یبدی و ینشر (۲)

کہا کہ اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ حق و باطل کے درمیان فیصلے کرنے والا کون ہے تو میں نے کہا وہ کہ جو دین کو آشکار و و اضح کرتا ہے ، علی ،سبطین حضرات حسن و حسین کے والد بزرگوار پوری کائنات میں سب سے زیادہ عالم کہ جو ہمیشہ احکام الہٰی کو بیان کرتے ہیں اور منتشر فرماتے ہیں ۔

____________________

(۱) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷،ابن شہر آشوب نے اس شعر کو قمی نامی شاعر کے نام سے منسوب کیا ہے ۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷۔ اس ماخذ میں یظھرکے بجائے مظھر آیاہے۔

۲۰۲

ششم : صدیقیت کا نبوت کی طرح ہونا

صدیقیت کی علامت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نبوت کی مانند ہواور اس کی ہم فکر و ہم صنف ہو چونکہ خداوندعالم کا ارشاد ہے۔

( ومن یطع الله و الرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهدا والصالحین و حسن اولائک رفیقا ) ۔(۱)

جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان حضرات کے ساتھ ہیں کہ جن پر اللہ نے نعمتیں نازل کی ہیں، انبیا، صدیقین، شھدا، اورصالحین میں سے اور وہ بہترین دوست و ہمدم ہیں ۔

یہ مانند و مثل ونظیر ہونا ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و علی کے درمیان توبہت واضح و روشن ہے ۔ لیکن پیغمبر اکرم اور اس شخص کے درمیان کہ جس کو اس زمانے والوں نے صدیق کا لقب دیا ہے اصلاً نہیں پایا جاتا ، چونکہ جب سورہ برائت کی دس آیات نازل ہوئیں تو پیغمبراکرم نے ابو بکر کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا تاکہ مکہ والوں پر ان آیات کی تلاوت کریں ابھی ابوبکر کچھ ہی دور گئے تھے کہ جبرئیل، پیغمبراکرم پر نازل ہوئے اور کہااے محمد آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے :

''لایؤدی عنک الاانت او رجل منک '' آپ کی طرف سے آیات الٰہی کو ادا نہیں کرسکتا اور نہیں پہنچا سکتا مگر خود آپ یا وہ شخص کہ جو آپ سے ہو (یعنی آپ کانفس و جان اور آپ کی مثل و ھم نظیرہو)

تو فورا ہی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عل ی کو بلایا اور فرمایا میرے ناقہ عضباء پر سوار ہوکر اپنے آپ کو ابوبکر تک پہنچا دو ۔اور سورہ برأت کو اس سے لے لو، اس سورہ کو مکہ لے جاؤ اور مشرکین کے عہد و پیمان کو خود انہی پر پھینک دو ۔ اور ابوبکر کو اختیار دینا کہ چاہے تو وہ آپ کے ساتھ چلے یا میرے پاس واپس آجائے ۔

____________________

(۱) سورہ نسائ(۴) آیت ۶۹۔

۲۰۳

امیرالمؤمنین، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناقہ عضباء پرسوار ہوئے اور چلے یہاں تک کہ ابوبکر تک پہنچ گئے ابوبکر نے جیسے ہی آپ کو دیکھا تو آپ کے آنے سے پریشان ہوئے اور آپ کے پاس آکر کہا اے ابو الحسن کس لیے آئے ہو ؟ کیا میرے ساتھ چلنے کے لیے آئے ہو یا کسی اور کام کے لیے ؟

امیر المؤمنین علی نے فرمایا : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے حکم د یا ہے کہ اپنے آپ کو تم تک پہنچاؤں اور سورہ برأت کو آپ سے لے لوں اور اس کو مشرکین کے عہد کے ساتھ ان کے منھ پر ماروں اور مجھ سے فرمایا ہے کہ آپ کو اختیار دوں کہ چاہوتو میرے ساتھ چلو یا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹ جاؤ ۔ ابوبکر نے کہا بیشک میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹ رہاہوں ۔

پس ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آئے اور کہا اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہلے مجھے اس کام کے ل یے مناسب سمجھا اور انتخاب کیا کہ تمام لوگوں کی نگاہیں مجھ پر جم گئیں اور پھر جب میں اس کام کو انجام دینے کے لیے چلا تو وہ کام واپس لے لیا میرے سلسلے میں کیا پیش آیا ؟ کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : نہیں لیکن مجھ پر جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی جانب سے یہ پیغام مجھے دیا کہ میرے جانب سے آیات الہٰی کو کوئی ادا نہیں کرسکتا مگر میں خود یا وہ شخص کہ جو مجھ سے ہو ،'' و علی منی و لا یؤد ی عنی الا علی '' (۱)

اور علی مجھ سے ہے اور میری طرف سے کوئی پیغام الہٰی کوسوائے علی کے ادا نہیں کرسکتا ۔

____________________

(۲) ارشاد مفید :۱ ۶۷۔ کشف الیقین (علامہ حلی ) ۱۷۵۔

۲۰۴

یہ کارنامہ اول ذی الحجہ سال ہفتم ہجری کو پیش آیا اور امام علی نے اس کو روز عرفہ اور روز نحر، عید قربان لوگوں پر بیان کیا ،اور یہ وہی فرمان ہے کہ جس میں خدا وندعالم نے ابراہیم اور آپ کی اولاد کو دعوت دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔

( طهر بیتی للطائفین و العاکفین و الرکع السجود ) (۱)

میرے گھر کو طواف کرنے والوں،اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ گذاروں کے لیے پاک کرو۔

پس خداوندمتعال نے سب سے پہلے جناب ابراہیم کو دعوت دی( واذن فی الناس بالحج ) (۲)

لوگوں کے درمیان حج کی انجام دہی کے لیے آواز دو ۔اور ان کے بعد علی ولی کو سورہ برأت کے پہنچانے کے لیے انتخاب فرمایا ۔

اور یہ واضح ہے کہ عہد و پیمان اسی سے مربوط ہوتا ہے کہ جس نے باندھا ہو اور وہ رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عہد تھا تو یا رسول خدا تشریف لے جائیں یا وہ کہ جو آپ کے قائم مقام ہو آپ کے مثل و نظیر ہو اور مقام و مرتبہ اور صلاحیت و لیاقت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی طرح ہو تو صرف علی ہی تنہا وہ فرد ہیں کہ جن میں اس امت کے درمیان یہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ بقرہ(۲) آیت ۱۲۵۔

(۲) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۷۔

۲۰۵

اس لیے کہ فقط وہ ہی نفس اور جان پیغمبر ہیں(۱) اور آپ کے بھائی اور آپ کے مثل و نظیر ہیں ۔(۲)

آپ کی بیٹی کے شوہر اور کفو ہیں ۔(۳) اور آپ کے نزد یک سب سے زیادہ پیارے و محبوب ہیں ۔(۴)

اس الہٰی فرمان میں کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ابلاغ ہوا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابوبکر کے یہاں قرآن کریم کی چند آیات کے پہنچانے تک کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ کس طرح مسلمانوں پر امامت و رہبری کی صلاحیت و شائستگی رکھتے ہیں ؟۔

اور امام علی کے ہوتے ہوئے ان کو کس طرح لقب صدیق دیا جاسکتا ہے ۔

بہر حال خدا اور رسول خدا کے نزدیک ان دونوں کی یہ حالت ہے ۔

اوروہ نصوص کہ جو امام علی و حسن و حسین اور حضرت زہرا کے بارے میں پائی جاتی ہیں ان کو ذرا غور سے دیکھیں تو یقینا ان حضرات کو رسول اکرم کے ہم پلہ پائیں گے ۔

____________________

(۱) اس بنیاد پر خداوندعالم کا ارشادہے (وانفسنا و انفسکم )آپ اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران (۳) آیت ۶۱)۔

(۲) امالی طوسی۶۲۶،حدیث ۱۹۲۔ امالی مفید۶،مجلس اول۔ کشف الغمہ ۴۱۲۔بحار الانوار: ۳۹ ۲۴۰۔

(۳) مسند ابی یعلی :۳۳۸۱،حدیث ۵۰۳۔ شرح الاخبار : ۳ ۲۸، حدیث ۹۶۴۔

(۴) تاریخ دمشق : ۳۷ ۴۰۶ ۔ و جلد: ۴۲ ۲۴۵۔ مناقب خوارزمی ۲۲۲۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۴۔ امالی طوسی ۳۳۳، حدیث ۶۶۷۔

۲۰۶

بلکہ امیرالمومنین وصی پیغمبراکرم میں انبیا سے شباہت پائی جاتی ہے۔

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :

کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں ، نوح کو ان کی حکمت میں اورابراہیم کو ان کے حلم میں دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھے ۔(۱)

ابو الحمرا ء سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا: جو شخص بھی چاہے کہ علم آدم ، فہم نوح کو دیکھے ، یحی کے زہد و تقوی اور، موسی کی شجاعت و دلاوری کودرک کرے پس اس کو چاہیے کہ علی کو دیکھے ۔(۲)

بیاض رقمطراز ہے کہ اس کلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ابن جبیر نے ابن عباس کی سند سے بیان کیا ہے کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں، نوح کو ان کی فہم و عقل میں، موسی کو ان کی مناجات میں، عیسی کو ان کی خاموشی میں اور محمد کو ان کے تمام صفات میں دیکھنا چاہے تو وہ اس شخص کو دیکھے ، اس وقت سب کی گردنیں دراز ہوئیں اور نگاہیں اٹھیں تو دیکھا وہ شخص علی ابن ابی طالب ہیں ۔(۳)

٭رسول خدا نے علی کو آدم سے علم میں تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے تمام اسماء (تمام موجودات اور حقائق عالم کے نام) کی تعلیم آدم کودی( علم آدم الاسماء کلها ) (۴) ۔

____________________

(۱) اور محب طبری : ۳/ ۲۴۹ میں آیا ہے کہ جو یوسف کو ان کے حسن و جمال میں ۔

(۲) مناقب خوارزمی /۴۰ فصل ۷۔ حاکم نے شواہد التنزیل :۱/ ۱۸۰ میں بھی روایت نقل کی ہے ۔

(۳) الصراط المستقیم:۱ ۱۰۳۔

(۴) سورہ بقرہ (۲)آیت ۱۳۔

۲۰۷

اس بنا پر کوئی حادثہ، کوئی واقعہ اور کوئی شیٔ بھی نہیں ہے کہ جس کا علم علی کے پاس نہ ہو، اور ان کے معانی و مفاہیم کو آپ نہ سمجھتے ہوں ، خدا وندعالم نے آدم کو تراب سے خلق فرمایا جب کہ رسول خدا نے علی کا لقب ابوتراب رکھا ۔

٭پیغمبراکرم نے علی کو جناب نوح کی فہم و حکمت میں مثل و نظیر قرار دیا ہے چونکہ جناب نوح نے اپنی قوم کے ساتھ بہت حلم و بردباری سے کام لیا اور کہا پروردگارا میری قوم کی ہدایت فرما ، چونکہ وہ نادان ہے۔(۱) اور اس ی طرح امیر المومنین کی زبان مبارک پر بھی یہ کلمات جاری ہوئے لہذا فرمایا:''فصبرت وفی العین قذی و فی الحلق شجی'' (۲)

میں نے صبر کیا حالانکہ میری آنکھوں میں خش و خاشاک اور میرے حلق میں ہڈی تھی ۔

نوح نے اپنی قوم پران کی بدکرداری ، تجاوز اور فسق و فجور کی انتہا پر پہنچنے کے بعد اور یہ جاننے کے بعد کہ یہ قابل اصلاح نہیں ہیں لعنت کی لہذا کہا :( رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا ) (۳)

پروردگارا روی زمین پر ایک گھر بھی کافروں کا باقی نہ رکھ۔

امیرالمومنین نے بھی اسی طرح نوح کے کلام کی مانند ایک جانگذار شکوہ فرمایا لہذا ارشاد ہوا :

____________________

(۱) ذکر اخبار اصبہان:۴۹۲، باب غین۔ فتح الباری :۱۲ ۲۵۰ ۔ الدر المنثور : ۳۰ ۹۴۔

(۲) نہج البلاغہ :خطبہ شقشقیہ،خطبہ۳۔

(۳) سورہ نوح (۷۱)آیت ۲۶۔

۲۰۸

''اللهم انی قد مللتهم و ملونی و سئمتهم و سئمونی، فابدلتنی بهم خیراًمنهم وابدلهم بی شراً منی'' (۱)

پروردگارا ، بیشک یہ لوگ مجھ سے بیزار ہیں اور میں بھی ان سے خستہ ہوچکا ہوں یہ لوگ مجھ سے دل تنگ و عاجز ہیں اور میں بھی ان سے دل شکستہ ہوچکا ہوں ، پالنے والے میری جگہ ان کو کوئی برا اور بدتر حاکم نصیب فرمااور ان کی جگہ میرے لیے کوئی بہتر رعایا و امت قرار دے۔

٭پیغمبراکرم نے امیرالمومنین علی کو حضرت ابراہیم سے تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے بچپنے ہی میں ان کے لیے اپنی دلیلیں اور براہین پیش فرمائے جب کہ وہ گھر سے باہر تشریف لائے اور اپنے چچا اور قوم سے مناظرہ کیا جیسا کہ خداوندکریم کے کلام میں مذکور ہے ۔

( یاابت لم تعبد مالایسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا ) (۲)

اے میرے بابا (چچا آذر)کیوں آپ ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو کہ جو نہ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے اور نہ ہی آپ کو کسی طرح کا کوئی فائدہ پہنچاتی ہے ۔

( اذ قال لابیه و قومه ماذا تعبدون ) (۳)

جب کہ ابراہیم نے اپنے والد (چچا آذر)اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ :۶۵۱،خطبہ ۲۵۔ اور دیکھیے : الغارات:۲ ۶۳۶۔ شرح الاخبار:۲ ۲۹۰۔

(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۴۳۔

(۳) سورہ صافات(۳۷)آیت ۸۵۔

۲۰۹

( فلما جن علیه اللیل رأی کوکباً ) (۱)

جب رات ہوگئی اور ابراہیم نے ستارہ کو دیکھا ۔ ۔ ۔

( وتلک حجتنا آتیناها ابراهیم علی قومه نرفع درجات من نشائ ) (۲)

یہ ہماری حجتیں ہیں کہ جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم پر پیش کرنے کے لیے عطا کیں اورہم جس کے مرتبے کوچاہتے ہیں بلند کرتے ہیں ۔

اور یہی حال امام علی علیہ السلام کا ہے جیسا کہ خدا وندعالم نے جناب ابراہیم کو زمانہ طفلی میں اور سن بلوغ سے پہلے ہی اپنی آیات و دلائل سے نوازا اور انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا ، بتوں کو توڑا ، خداوندعالم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ میرے گھر کعبہ کو پاک کرو (وطهر بیتی )(۳)

جب کہ علی کے گھر کو خود خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ قرار دیا (ویطهرکم تطهیرا )(۴)

اے اہل بیت، خدا نے تمہیں پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے ۔

اسی طرح کا کلام خداوندعالم نے حضرت یحی کے بارے میں ارشاد فرمایا( یا یحی خذ الکتاب بقوة ) (۵) اے یحی قدرت و طاقت سے کتاب کو پکڑلو۔

____________________

(۱) سورہ انعام(۶)آیت ۷۶۔

(۲) سورہ انعام(۶)آیت ۸۳۔

(۳) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۶۔

(۴) سورہ احزاب(۳۳) آت ۳۳۔

(۵) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔

۲۱۰

خداوندمتعال نے جناب یحی کو کم سنی ہی میں توریت کا علم عطا کیا ۔

( وآتیناه الحکم صبیاً ) (۱) اور ہم نے یحی کو بچپنے ہی میں نبوت عطا کی ۔

( وبراً بوالدیه ولم یکن جباراً عصیاً ) (۲) اور یحی اپنے والدین کے حق میں بہت نیک و شریف تھے اور نافرمانی و ظلم و زبردستی نہیں کرتے تھے ۔

( وسیداً و حصوراًو نبیاً من الصالحین ) (۳)

اور یحی بزرگوار و سردار، پاک دامن و باوقار اور نیک و صالحین میں سے نبی تھے ۔

روایت میں ہے کہ زکریا نے اپنے بیٹے یحی کو روتے ہوئے دیکھا تو آپ نے کہا بیٹا یہ آپ کی کیا حالت ہے ؟ یحی نے جواب دیا : بابا جان آپ نے مجھے با خبر کیا ہے کہ جبرئیل نے آپ سے فرمایا کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ جس کو صرف راہ خدا میں آنسو ہی بجھا سکتے ہیں ۔(۴)

____________________

(۱) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔

(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۴۔

(۳) سورہ آل عمران(۳)آیت ۳۹۔

(۴) یہ حدیث جیسا کہ متن میں آئی ہے اس طرح کسی بھی ماخذ میں نہیں مل سکی لیکن بحار الانوار: ۱۶۵۱۴، حدیث ۴ کے تحت واردہے؛

''یا بنی مایدعوک الی هذا ؟ انما سألت ربی ان یهبک لی لتقربک عینی ، قال: انت امرتنی بذالک یا ابه ! قال: و متی ذالک یا بنی ؟ قال: الست القائل ان بین الجنة و النار لعقب لایجوزها الاالبکاوون من خشیة الله '' ۔۔۔ اگلے صفحہ پر ۔۔۔

۲۱۱

اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی بھی یہی حالت و منزلت ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق اور امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا امام علی ابن الحسین زین العابدین جب کبھی بھی امیر المومنین کی زندگانی پر نظر کرتے اور آپ کی عبادت کو ملاحظہ فرماتے توکہتے :

''من یطیق هذا'' (۱)

کس میں طاقت ہے کہ اس قدر عبادت کرسکے اور عبادت میں علی کا مقابلہ کرسکے۔

٭پیغمبر اکرم نے حضرت علی کو جناب موسی سے شجاعت و دلیری میں تشبیہ دی خداوندعالم جناب موسی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔

( فاستغاثه الذی من شیعته علی الذی من عدوه فوکزه موسی فقضی علیه ) (۲) موس یٰ کے شیعہ نے اپنے دشمن پر غلبہ پانے کے لیے موسی کو مدد کے لیے بلایا تو موسی نے اس دشمن کے ایک گھونسا مارا اور وہ مرگیا۔

____________________

۔۔۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔

زکریا نے کہا اے میرے بیٹے یہ آپ نے اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے جب کہ میں نے پروردگار سے تجھے اس لیے مانگا ہے تاکہ میرا دل ٹھنڈا ہو اور میری آنکھوں کی روشنی قرار پائے ۔ یحی نے جواب دیا اے میرے بابا جان آپ نے مجھے اس کام کے لیے آمادہ فرمایا ، زکریا نے سوال کیا میرے بیٹے کب میں نے ایسا کیا ؟ یحی نے جواب دیا تو کیا آپ یہ نہیں فرماتے کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ اس سے صرف وہی گذر سکتا ہے جو خوف خدا میں بہت زیادہ گریہ و زاری کرتا ہو(م)۔

(۱) روضہ کافی : ۸ ۱۳۱، ذیل حدیث ۱۰۰۔

(۲) سورہ قصص(۲۸) آیت ۱۵۔

۲۱۲

موسی شجاعت و دلیری میں مشہور تھے اور یہی حال علی ابن ابی طالب کا ہے کہ وہ راہ خدا میں ثابت قدم تھے شکست نہ کھانے والی جنگیں کرتے ،دین مبین اسلام کے دفاع میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی خاطر قریش اور عرب کے بڑے بڑے پہلوانوں کو قتل کیا ۔

٭ حضرت علی کی جناب عیسی سے تشبیہ کے متعلق نسائی نے اپنی کتاب الحضائص الکبری میں حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا : اے علی تیری مثال عیسی کی طرح ہے ، یہودیوں نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی والدہ پر تہمتیں لگائیں اور نصاری نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ ان کو وہ مقام بھی دیا کہ جو ان کا نہیں تھا ۔(۱)

پس علی علیہ السلام کی عیسی سے شباہت ان کے کتاب کے علم کی وجہ سے ہے کہ جو خداوندعالم نے ان کو کم سنی اورسن بلوغ سے پہلے ہی عطا فرمایا لہذا ارشاد ہوا :

( ویعلمه الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل ) (۲)

خداوندعالم نے عیسی کو کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دی اور علی عیسی کی طرح خدا کے مطیع و فرمانبردار بندے ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :

( انی عبدالله آتانی الکتاب ) (۳)

میں خدا کا بندہ ہوں اور مجھے کتاب عطا کی گئی ہے ۔

____________________

(۱) مسند احمد : ۱ ۱۶۰۔ مجمع الزوائد : ۹ ۱۳۳۔ خصائص امیر المؤمنین(نسائی) ۱۰۶۔

(۲) سورہ آل عمران (۳) آیت ۴۸۔

(۳) سورہ مریم (۱۹) آیت ۳۰۔

۲۱۳

اور اسی طرح دسیوں صفات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ جن میںحضرت علی، حضرات آدم ، موسی ، ابراہیم ، عیسی ، نوح ، یحی ، ایوب ، یوسف ، سلیمان ، اور داؤد وغیرہ سے شباہت رکھتے ہیں ۔

بصائر الدرجات میں حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ''کانت فی علی سنة الف نبی ''(۱)

حضرت علی کے یہاں ایک ہزار نبیوں کی سنتیں پائی جاتی تھیں۔

____________________

(۱) بصائر الدرجات ۱۳۴۔

۲۱۴

ہفتم :ـ ایمان واقعی اور فنا فی اللہ ہونا ۔

خداوند عالم کی بندگی کی مہمترین خصوصیت یہ ہے کہ انسان ذات خدا میں فنا ہوجائے ، پیغمبرامین کی اطاعت میں کمال تک پہنچ جائے اور دعوت اسلام کی نشر و اشاعت میں اپنی جان و مال سے انتہائی کوشش کرے ۔

نیز مصدق وہ شخص ہے کہ جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کو اپنے عمل سے ثابت کردکھائے اور اپنی زندگی کے ڈھانچے میں اس کو مجسم بناکر پیش کرے اور صدیق وہ شخص ہے کہ جس کا مقام و مرتبہ اس سے بھی بلند و بالا ہو،وہ فناء کی انتہا کو پہنچ جائے نہ یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت اور خود غرضی کو مقدم رکھے جیسا کہ یہ کارنامے ابوبکر کی سیرت میںمشاہد ہ کرتے ہیں۔

حضرت امیر المؤمنین سے روایت ہے کہ آپ نے ایک روز جنگ صفین کے دوران فرمایا:

ہم لوگ حضرت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ جنگوں میں شریک تھے اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے باپ ، بیٹے ، بھائی اور چچاؤں کو قتل کرتے اور ان کو خاک و خون میں غلطاں کرتے تھے اور یہ عزیز واقارب و رشتہ داروں کا قتل ہمیں رنجیدہ خاطر نہیں کرتا تھا بلکہ ہمارے ایمان میں استواری واستحکام پیدا ہوتا چونکہ ہم راہ حق پر ثابت قدم اور گامزن تھے ہم سختیوں میں صابر اور دشمن سے جہاد میں کوشا رہتے ، کبھی کبھی ہم میں سے اور دشمن کے لشکر سے ایک ایک و تنہا تنہا کی جنگ ہوتی اور بالکل ایسے ہی کہ جیسے دو بجھار(سانڈ) آپس میں لڑپڑے ہوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے اور ایک کوشش کرتا کہ دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دے اور اس کو مار کے ہی دم لے ، کبھی کامیابی ہمارے نصیب میں آتی تو کبھی دشمن کامیاب ہوجاتا ۔

چونکہ خداوندعالم نے ہمیںآزمالیا اور اچھی طرح پرکھ لیا ہمارے صدق و صفائی کودیکھ لیا تو ہمارے دشمن کو ذلیل کردیا ہمارے پرچم کو سر بلند کردیا جیسا کہ اب اسلام ہر شہر و قریہ اور ہر علاقہ میں پھیلا ہوا ہے اور دور دراز تک حکومت اسلامی قائم ہے ۔

میری جان کی قسم اگر ہماری رفتار آپ لوگوں کی طرح ہوتی تو نہ دین کا ستون قائم ہوتااورنہ ایمان کا درخت ہرا بھرا ہوتا، خدا کی قسم اس کے بعد خون جگر پیوگے پشیمانی و شرمندگی اٹھاؤ گے ۔(۱)

____________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۵۶۔ اور دیکھیے : ارشاد مفید :۱ ۲۶۸۔ کتاب سلیم ابن قیس ۲۴۷۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۴ ۳۳۔

۲۱۵

آپ ہی سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : قریش نے ایسے ایسے میرے قتل کا پروگرام بنایا ہے آج آپ میرے بستر پر سوجاؤ اور میں رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے باہر چلاجاؤں چونکہ خداوندعالم نے مجھے اس کا م کے لیے حکم دیا ہے ۔

میں نے آنحضرت سے عرض کیا : میں دل و جان سے حاضر ہوں ، میں آپ کے بستر پر سوگیا رسول خدا نے دروازہ کھولا جبکہ تمام لوگ صبح کے انتظار میں آپ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ بیٹھے ہوئے تھے آپ یہ پڑھتے ہوئے باہر نکل گئے( وجعلنامن بین ایدیهم سدا و من خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لا یبصرون ) (۱)

ہم نے ان کے سامنے اور پیچھے دیوار حائل کردی اور ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا ، پس وہ لوگ دیکھ نہیں سکتے ۔

اس طرح پیغمبراکرم ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ یں دیکھا ۔(۲)

نیز حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے ۔

حضرت محمد مصطفی کے وہ اصحاب کہ جو اسرار الہٰی کے خزانہ دار ہیں اور کتاب و سنت کے امانتدار ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے لمحہ بھر کے لیے بھی خدااور رسول کے فرمان سے منھ نہیں موڑا ، جان و دل سے پیغمبراکرم کی مدد کی اس وقت کہ جب بڑے بڑے پہلوان پچھڑ رہے تھے اور ہر ایک کے قدم لڑکھڑا رہے تھے میں ثابت قدم تھا ۔

____________________

(۱) سورہ یاسین (۳۶) آیت ۹۔

(۲) الخرائج والجرائح :۱ ۱۴۳، حدیث ۲۳۱۔ اختصاص مفید ۱۴۶۔

۲۱۶

اور یہ وہ دلیری و مردانگی تھی کہ جو خداوندعالم نے مجھے عطا فرمائی تھی ۔(۱)

اور آپ نے یہودیوں کے بزرگوں سے ایک گفتگو میں فرمایا :

میں اور میرے چچا حمزہ میرے بھائی جعفر اور میرے چچا زاد بھائی عبیدہ نے خدااور اس کے رسول سے جس بات پر عہد کیا تھا ہم اس پر باقی رہے اور اس کو وفا کیا ، میرے ساتھی اور ہم عہد حضرات نے مجھ سے سبقت کی اور میں خداوندعالم کی مشیت و مصلحت کے تحت پیچھے رہ گیا اور اسی مناسبت سے خداوندعالم نے ارشاد فرمایا :

( من المؤمنین رجال صدقو ا ما عاهدو ا الله علیه فمنهم من قضی نحبه و منهم من ینتظر وما بدّلو تبدیلاً ) (۲)

مومنین میں سے کچھ مرد ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے پروردگار سے جو عہد کیا اس کو پورا کردکھایا پس ان میں سے کچھ افراد اپنی منزل تک پہنچ گئے اور کچھ ابھی منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی ایجاد نہیں کی ۔

حمزہ ، عبیدہ اور جعفر نے اپنے عہد کو پورا کیا اور عالم جاودانی کی طرف رحلت کرگئے اور میں منتظر ہوں اور میںنے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔(۳)

____________________

(۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔دیکھیے: ینابیع المودة : ۱ ۲۶۵، حدیث ۱۹۔ بحار الانوار :۳۸ ۳۱۹، ح ۳۲۔

(۲) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۲۳۔

(۳) اختصاص مفید ۱۷۴۔ خصال صدو ق ۳۷۶۔ بحار الانوار :۳۱ ۳۴۹۔ تاویل الآیات :۲ ۴۴۹، حدیث ۸۔

۲۱۷

ابن عباس سے منقول ہے کہ علی ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :

( اف ا ن مات أوقتل انقلبتم علی أعقابکم ) (۱)

کیا اگر پیغمبراکرم مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو آپ اپنے پرانے عقیدے و زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے ۔

خدا کی قسم اب جب کہ خداوندعالم نے ہماری ہدایت فرمائی ہے ہم پیچھے نہیں پلٹ سکتے ، خدا کی قسم اگر وہ رحلت فرماجائیں یا قتل کردیے جائیں تو بھی وہ جس چیز کی خاطر لڑتے رہے ہیں میں بھی جب تک زندہ ہوں اس چیز کی خاطر لڑتا رہوں گا ، خدا کی قسم میں آپ کا بھائی، دوست ہوںاور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاوارث ہوں پس م یرے علاوہ کون شخص ان کا ہمدرد ہوگا اور ان باتوں کا حق دار ہوگا ۔(۲)

اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات و احادیث ، امیرالمؤمنین ، خود رسول خدا اور حضرت فاطمہ زہرا سے منقول ہیں، نیز اہل بیت و صحابہ سے بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات پائی جاتی ہیں ۔

لہذا علی سب سے پہلے ایمان لانے والے شخص ہیں، سب سے پہلے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی، آپ کی رسالت کی تصدیق فرمائی، آخرعمر تک اس پر ثابت قدم رہے اور حضور پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی کسی بھی معاملے میں تکذیب نہیں کی ۔

____________________

(۱) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۴۴۔

(۲) خصائص امیر المؤمنین (نسائی)۸۶۔ المعجم الکبیر:۱۰۷۱، حدیث ۱۷۶۔ مناقب کوفی :۱ ۳۳۹، حدیث ۲۶۵۔ شواھد التنزیل :۱ ۱۷۷، حدیث ۲۴۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۵۶۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۶۔

۲۱۸

اب ان تمام چیز وں کی طرف انگشت نمائی کرتے ہیں کہ جن کو امیر المؤمنین نے فرمایا ہے تاکہ ان تمام مراحل و مقامات میں ابوبکر کی موقعیت و حیثیت سمجھ سکیں۔:

۱ـ ام یر المؤمنین حضرت علی سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے پہلے نماز بجالائے ، اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں اور رسالے لکھے گئے ہیں لہذا اس کے بارے میں ہمیں گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کو ضرورت ہو وہ ان کتابوں میں مراجعہ کرے ۔(۱)

۲ـ حضرت عل ی ، خدا اور رسول کی ذات میں فنا تھے اور دین کے مقابلے میںکسی بھی شیٔ کی حیثیت کو نہیں پہچانتے تھے حتی کہ باپ ، بھائی چچا کوئی دین کے مقابلے میںکچھ نہ تھا ، جب کہ یہ خاصیت ہمیں ابوبکر کے یہاں نظر نہیں آتی ، آئندہ چند صفحوںکے بعد ہم ابوبکر کی سیرت کو پیش کریں گے۔

۳ـ عل ی مطیع و فرمانبردار رسول خدا تھے جب کہ یہ صفت ابوبکر پر منطبق نہیں ہے اور اس سلسلے میں یہی کافی ہے کہ رسول خدا نے ابوبکر کو ایک زاہد نما شخص کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ،ابوبکر اس شخص کے قریب پہنچے دیکھا کہ وہ نماز میں مشغول ہے تو خود اپنے آپ سے کہنے لگے کہ نماز قابل احترام ہے اور اسی طرح اس زاہد نما شخص کو چھوڑ آئے اور رسول خدا کے امر کی اطاعت نہیں کی ۔(۲)

____________________

(۱) اس سلسلے میں بیشتر معلومات کے لیے دیکھیے : الغدیر (امینی ) :۳ ۲۲۱ـ ۲۲۴۔

(۲) مسند ابویعلی :۶ ۳۴۱، حدیث ۳۶۶۸۔ حلیة الاولیاء : ۳ ۲۲۷۔ مسند احمد :۳ ۱۵۔ البدایة و النہایة :۷ ۳۳۰۔

۲۱۹

۴ـ حضرت علی دین پر ثابت قدم رہے اور پچھلے آئین و زمانہ جاہلیت کی طرف مراجعہ نہ کیا، جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کے خطبہ میں ابوبکر اور ان کی قوم کے پیچھے پلٹنے کے متعلق ثبوت موجود ہیں اور حدیث حوض(۱) اور آیہ انقلاب(۲) میں کچھ ایسے نکات ہیں کہ کہ جو ان کے ارتداد اور اعقاب کی طرف پلٹنے پر دلالت کرتے ہیں ۔

جی ہاں ، ابوبکر کی زندگی پر تھوڑا غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مصلحت کو واجبات الہٰی پر مقدم رکھتے تھے جیسا کہ ان کو اس مصلحت ہی کی بنا پر کہ جب تمام مسلمانوں کا اجماع ہوچکا کہ خالد بن ولید کے زنا ء محصنہ پر قتل اور حد جاری کی جائے لیکن ابوبکر نے یہ کام انجام نہ دیا چونکہ ان کی مصلحت نہ تھی جب کہ عمر ابن خطاب تک بھی اس فعل پر خالد بن ولید کے قتل کو لازم جانتے تھے چونکہ اس نے مالک بن نویرہ کی زوجہ سے عدہ کے دوران زنا کیا تھا ۔ لیکن ابوبکر نے اس پر حد جاری کرنے سے خودداری کی اور یہ کہا کہ اے عمر ، خالد نے اجتہاد کیا اور خطا کی ، اپنی زبان کو خالد کے سلسلے میں بند رکھو بیشک میں اس تلوار کو کہ جس کو خدا نے کافروں کے لیے کھینچا ہے ،اس کومیں غلاف میں نہیں رکھو ں گا ۔(۳)

____________________

(۱) اس حدیث کے سلسلے میں مراجعہ کیجیے : صحیح بخاری :۵ ۱۹۱۔ و جلد :۷ ۱۹۵۔ صحیح مسلم :۷ ۷۱۔

(۲) سورہ آل عمران(۳) آیت ۱۴۴۔

(۳) تاریخ طبری :۲ ۵۰۳۔ اور دیکھیے : طبقات ابن سعد : ۷ ۳۹۶۔ البدایة والنہایة : ۶ ۳۴۵۔ الاصابة :۵ ۷۵۵۔ اور دوسرے مآخذ۔

۲۲۰

اور جب ابوقتادہ انصاری نے خالد بن ولید کے زناء محصنہ پر گواہی دی کہ جو خود اسی کے لشکر میں موجود تھے اور وقت زنا حاضر تھے تو ابوبکر نے ان کو بلایا اور اس کا م سے منع کیا ۔(۱) اور اس طرح اجتہاد کی منطق کے ذریعہ اور یہ کہ ابوبکر کے دشمن کافر ہیں چاہے وہ حقیقت میں مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ، ابوبکر نے خالد کے لیے عذر تراشا چونکہ ان کو خالد کی اور دوسری جگاہوں پر ضرورت تھی ۔

اور اسی بناء پر اشعث بن قیس کہ جب وہ مرتد ہوگیا اس کو معاف کردیا اور ابوبکر مرتے وقت ان کاموں پر افسوس کرتے رہے اور کہتے رہے کاش تین و تین اور تین(۲)

وہ تین کام کہ جن کو انجام دینا چاہتے تھے لیکن انجام نہ دیا، ایک اشعث بن قیس کوقتل کرنا تھا کہ جب اس کو گرفتار کرکے لائے، چونکہ ابوبکر کو بعد میں معلوم ہوگیا تھا کہ تمام فتنوں اور فساد میں اشعث ہی کا ہاتھ تھا ۔(۳)

ابوبکر نے یہ کام اس لیے انجام نہیں دیا چونکہ اشعث بن قیس قبیلہ کندہ کا رئیس تھا اور ابوبکر کو اس کی ضرورت تھی لہذا خلیفۂ اول نے صرف نظرکرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ، بلکہ اپنی بہن کی شادی بھی اس سے رچادی اور اس کو مہمترین کاموں میں اپنے ساتھ رکھا ۔

____________________

(۱) الکامل فی التاریخ :۲ ۳۵۸۔

(۲) یہ امور ابو بکر آخری وقت زبان پر لائے اور مرتے دم یہ حسرت دل میں لے کر گئے کہ کاش میں تین کام ترک نہ کرتا اور اے کاش میں تین کام انجام دیتا اور اے کاش میں تین مسٔلے پیغمبراکرم سے معلوم کرتا ، اور پھر ان کی ایک ایک کرکے تفصیل بیان کی ۔(م)

(۳) تاریخ طبری :۱ ۶۲۰۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۴۱۸۔ کنزالعمال :۵ ۶۳۲، حدیث ۱۴۱۱۳۔

۲۲۱

اسی طرح زکا ت کا حصہ کہ جو مؤلفة القلوب کے لیے معین کیا گیا تھا اور قرآن کریم میں بھی اس کی تصریح ہوئی ہے ،ادا نہ کیا اور جب عمر نے از باب مصلحت مؤلفة القلوب کا حق دینے کی خواہش ظاہر کی تو ابوبکر نے یہ کہکر ٹال دیا کہ اب اسلام قدرتمندہوچکاہے لہذا مؤلفة القلوب کے حصہ کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)

انہی واقعات کی طرح حضرت فاطمہ زہرا کو فدک سے منع کرنا بھی ہے جب کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنی ملکیت کوثابت کرنے میں آیات وصیت و وراثت اور انبیاء کی میراث کی آیات کے ذریعہ ابوبکر پر احتجاج کیا ۔

ان تمام واقعات سے پہلے ابوبکر کا احد ، حنین اور خیبر کی جنگوں سے بھاگنا ہے اور دینی اہمیتوں کے مقابل ثابت قدم نہ رہنا، میدان چھوڑکر بھاگنا اور یہ سب ان مصلحتوں کی وجہ سے ہے کہ جو ان کے پیش نظر تھیں۔یعقوبی جنگ احد کے متعلق تحریر کرتا ہے کہ تمام مسلمان میدان چھوڑکر بھاگ گئے اور رسول خدا کے ہمرا ہ صرف تین آدمی باقی رہے علی ، طلحہ و زبیر۔(۲)

حاکم نے عایشہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح جانا ہے کہ ابوبکر نے کہا کہ جب جنگ احد میں مسلمان پیغمبراکرم کے اطراف سے فرار ہوئے تو میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلا فرد تھا کہ جو رسول خدا کے پاس پلٹا ۔(۳)

____________________

(۱) تاریخ طبری :۲ ۳۰۱۔ طبقات ابن سعد :۵ ۱۰۔ معجم البلدان: ۲ ۲۷۱۔

(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۴۷۔

(۳) مستدرک حاکم : ۲۷۳۔

۲۲۲

صاحب کنزالعمال نے جنگ احد کے بارے میں ابو داؤد طیالسی سے اور ابن سعد و بزار، دارقطنی ، ابن حیان ، ابو نعیم اور دوسروں نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عایشہ سے روایت نقل کی ہے کہ عایشہ نے کہا کہ جب کبھی بھی جنگ احد کا تذکرہ ہوتا تو ابوبکر رونے لگتے تھے اور روتے ہوئے کہتے کہ میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلے واپس آیا ۔(۱)

ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ جاحظ نے کہا : ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس جنگ احدمیں کھڑے رہے جیسا کہ علی ثابت قدم رہے ۔ ۔ ۔ تو ہمارے استاد ابوجعفر نے کہا کہ اکثر مورخین و اہل قلم نے جنگ احد میں ابوبکر کے فرار اور عدم ثبوت قدم کو نقل کیا ہے اور جمہور نے روایت کی ہے کہ ابوبکرنے فرار اختیار کیا اور علی کے علاوہ کوئی بھی پیغمبراکرم کے پاس نہ رہا اور طلحہ و زبیر اور ابو دجانہ بھی قریب ہی تھے اور ابن عباس سے روایت ہے کہ ان میں پانچواں فرد کہ جو باقی بچا عبد اللہ بن مسعود تھے اور کچھ مورخین نے چھٹے آدمی کا بھی نام لکھا ہے اور وہ مقداد بن عمروہے۔(۲)

زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں نے ابن مسعود سے کہا: ابوبکر و عمر جنگ احد میں کہاں تھے ؟ تو اس نے کہا ان لوگوں کے ساتھ کہ جنہوں نے میدان سے فرار اختیار کیا تو میںنے سوال کیا عثمان کہاں تھے ؟ کہا کہ واقعہ احد کے تین دن کے بعد واپس آئے ، رسول خدا نے عثمان سے کہا اے عثمان جنگ سے بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم رکھے !۔(۳)

____________________

(۱) مسند ابی داؤد طیالسی ۳۔ کنزالعمال :۱۰ ۴۲۵، حدیث ۳۰۰۲۵۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۳ ۲۹۳۔

(۳) کشف الغمہ : ۱ ۱۹۳ ۔ شرح نہج البلاغہ :۱۵ ۲۱۔تاریخ طبری: ۲ ۲۰۳۔ البدایہ و النہا یہ :۳ ۳۲۔

۲۲۳

المغازی میں محمد بن مسلمہ سے منقول ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا اور دونوں کانوں سے سنا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم روز احد تنہا رہ گئے اور مسلمان پہاڑ کی طرف بھاگ رہے تھے ، رسول خدا اپنی مدد کے لیے بلارہے تھے اور آواز دیتے اے فلاں آؤ ، اے فلاں آؤ میرے قریب آؤ میں رسول خدا ہوں ، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی نہ سنا اور دونوں بھاگے چلے گئے ۔(۱)

واضح ہے کہ یہاں پر فلاں اور فلاں سے مراد شیخین یعنی ابوبکر و عمر ہیں ۔ راوی نے صراحتاً ان کا نام ذکر نہیں کیا چونکہ وہ صاحب اقتدار تھے اور اس لیے بھی کہ ان کے پیروکار،ان کے متعلق اس طرح کی روایات کوپسند نہیں کریں گے ، اور شاید یہ بھی ممکن ہے کہ یہ راوی کی نہیں بلکہ مؤلف یا کاتب کی ہنر نمائی ہو۔

روایت میں آیا ہے کہ ایک عورت زمانہ خلافت عمر میں آئی اور عمر سے یمنی چادر وں کے متعلق مطالبہ کیا اور اسی وقت عمر کی بیٹی آئی اس نے بھی یمنی چادر مانگی عمر نے اس عورت کوچادر دے دی اور اپنی بیٹی کو منع کردیا ! ۔ جب لوگوں نے اس کی دلیل چاہی تو جواب دیا کہ اس عورت کاباپ جنگ احد میں ثابت قدم رہا اور اس کا باپ یعنی خود عمر ثابت قدم نہ رہ سکا اور فرار اختیار کیا ۔(۲)

واقدی رقمطراز ہے کہ جب جنگ احد کے دوران ابلیس نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو لوگ متفرق ہوگئے کچھ لوگ مدینہ واپس آگئے اور ان بھاگنے والوں میں ایک تو فلاں تھے اور دوسرے حارث بن حاطب ۔

____________________

(۱) المغازی :۱ ۲۳۷۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۵ ۲۳ میں ۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔

۲۲۴

لیکن ابن ابی الحدید نے اسی واقدی سے روایت بطور صریح و بغیر کنایہ کے نقل کی ہے کہ اس نے کہا وہ لوگ کہ جو فرار اختیار کرگئے ، عمر و عثمان اور حارث بن حاطب تھے ۔(۱)

رافع بن خدیج کہتاہے کہ میں فلاں اور فلاں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ جو پہاڑ پر اچک اچک کر بھاگ رہے تھے پس عمر نے کہا کہ جب شیطان نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو میں اس طرح پہاڑپر چڑھا کہ جیسے پہاڑی بکری پہاڑ پر چڑھتی ہے ۔(۲)

محمد بن اسحاق نے مغازی میں تحریر کیا ہے کہ۔ ۔ ۔ لوگ جنگ احد میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس سے بھاگ رہے تھے یہاں تک کہ عثمان بھی بھاگ گئے چونکہ وہ ان سب سے پہلے بھاگ گئے اور مدینہ پہنچ گئے اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :

( ان الذین تولوا یو م التقی الجمعان ) (۳)

اس روز کہ جب دوگروہ آپس میں ٹکرائے تو کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ۔(۴)

____________________

(۱) المغازی :۲۷۷۱ ۔ اور اسی کتاب کے دوسرے نسخہ میں فلاں کی جگہ پر عمر و عثمان بھی آیا ہے۔شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۴۱۵۔

(۲) المغازی:۱ ۲۹۵ ۔ اور ۳۲۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔الدر المنثور :۲ ۸۹۔

(۳) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۵۵۔

(۴) المغازی :۱ ۲۷۸ـ۲۷۹۔ اور دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۳۵(از عثمان بن وہب )۔ مجمع الزوائد: ۱۱۵۹۔

۲۲۵

فخررازی کا بیان ہے کہ بھاگنے والوں میں سے عمر بھی تھے مگر یہ کہ سب سے پہلے نہیں بھاگے اور زیادہ دور بھی نہیں بھاگے بلکہ صرف پہاڑ پر چڑھ گئے تاکہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے پیچھے پیچھے پہاڑ پر چڑھ جائیں اور عثمان بن عفان انصار کے دو افراد سعد و عقبہ کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے اوربہت دور نکل گئے یہاں تک کہ تین دن کے بعد واپس آئے ۔(۱)

نیشاپوری کا بیان ہے کہ قفال نے کہا بہرحال جس چیز پر روایات دلالت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جنگ احد سے بھاگے اور کچھ قریب ہی چھپ گئے اور کچھ بہت دور نکل گئے اور بعض مدینہ آگئے اور کچھ ادھر ادھر کو فرار کرگئے ۔ ۔ ۔ اور ان بھاگنے والوں میں عمر بھی تھے ۔(۲)

آلوسی رقمطراز ہے کہ بھاگنے والے ایک پہاڑ کے دامن میں جمع ہوگئے اور عمر بن خطاب بھی ان کے ہمراہ تھے جیسا کہ ابن جریر کی روایت میں مذکور ہے ۔(۳)

بہر حال آپ نے ان روایات میں ملاحظہ فرمالیا کہ جنگ احد سے بھاگنے والوں میںیہ تین افراد ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی تھے اور اسی جنگ میں ثابت قدم نہ رہے جب کہ علی ابن ابی طالب اور کچھ صحابہ ثابت قدم رہے ۔

عمران بن حصین کی روایت میں آیا ہے کہ جب جنگ احد میں لوگ رسول خدا کے اطراف سے بھاگ رہے تھے توعلی برہنہ شمشیر کولیے ہوئے حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے آگئے۔

____________________

(۱) تفسیر فخر رازی : ۹ ۴۲۔

(۲) تفسیر نیشابوری : ۲ ۲۸۷۔

(۳) روح المعانی : ۴ ۹۹۔

۲۲۶

پس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سر کو بلند فرمایا اورعلی سے کہا کہ جب سب بھاگ گئے تو آپ کیوں نہیں بھاگے ؟ علی نے جواب دیا: اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میں اسلام لانے کے بعد کافر ہوجاؤں ۔(۱)

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کفار کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو پہاڑ پر سے اتر رہے تھے علی نے ان پر حملہ کیا اور ان سب کو مار بھگایا پھر دوسرے گروہ کی طرف اشارہ کیا آپ نے ان پر بھی حملہ کیا اور ان کو بھی پچھاڑ دیا پس جبرئیل آئے اور کہا اے رسول خدا فرشتے علی کی آپ کے لیے جانبازی پر فخر و مباہات کررہے ہیں ۔

اس وقت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کون اس کو اس کا م سے روک سکتا ہے جب کہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں تو جبرئیل نے بھی کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں۔(۲)

حضرت علی کے کلام ہی میں سے حدیث مناشدہ ہے کہ فرماتے ہیں :کیا آپ لوگوں کے درمیان میرے علاوہ کوئی ہے کہ جس کے لیے جبرئیل نے فخر و مباہات کیا ہو کہ یہ واقعہ جنگ احد کا ہے پس رسول خدا نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہوکہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں پھر جبرئیل نے کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں ؟ تو سب نے کہا : نہیں۔(۳)

____________________

(۱) حضرت علی کی نظرمیں جنگ سے فرار کرنا گویا اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنا ہے تواب ان بھاگنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟(م)

(۲) ارشاد مفید:۱ ۸۵۔ کشف الغمہ :۱ ۱۹۴۔ بحار الانوار:۲۰ ۸۵۔

(۳) امالی طوسی ۵۴۷، مجلس ۲۰، حدیث ۴۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۶۔ مناقب کوفی :۱ ۴۸۶، حدیث ۳۹۲۔ تاریخ طبر ی :۲ ۱۹۷۔ المعجم الکبیر :۱ ۳۱۸، حدیث ۹۴۱۔ کشف الیقین ۴۲۴۔

۲۲۷

اسد الغابہ میں ہے کہ جب جنگ احد میں لوگوں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آنکھیں چرائیں اور فرار اختیار کیا میں نے قتل ہوجانے والوں کو دیکھا تو ان میں رسول خدا کو نہ پایا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم رسول خدا ایسے نہیں ہیں کہ جو جنگ سے فرار اختیار کریں جب کہ قتل ہونے والوں کے درمیان بھی نہیں ہیں، شاید خداوندعالم ہمارے اعمال سے ناراض ہوگیا اور اپنے رسول کو آسما ن پر لے گیا لہذا میرے لیے اس سے بہترکوئی کام نہیں ہے کہ جنگ کروں یہاں تک کہ قتل ہوجاؤں پس میں نے اپنی تلوار کے نیام کو توڑ دیا اور پھر دشمن کے لشکر پر حملہ کیا اور سارے لشکر کو بکھیر کررکھ دیا تو اسی دوارن میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے درمیان دیکھا۔جی ہاں، اسی روز علی پر سولہ ضربتیں لگیںاور ہر ضربت کے اثر سے وہ زمین پر گرے اور جبرئیل کے علاوہ ان کو کسی نے نہیں اٹھایا ۔(۱)

حضرت امیر کے دوسرے کلام میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا : اے رسول خدا وہ فتنہ کہ جس کی خداوندعالم نے آپ کو خبر دی ہے وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بیشک میرے بعد میری امت کو خداوندمتعال آزمائے گا ،میں نے عرض کی اے رسول خدا تو کیا روز جنگ احد کہ جس دن کچھ مسلمان شہید ہوئے اور یہ فیض میرے نصیب میں نہ آیا مجھ پر بہت سخت گذرا تب آپ نے فرمایا: اے علی صدیق آپ کو بھی شہادت مبارک ہو اور جب آپ کی شہادت کا وقت آئے گا اور آپ کے محاسن مبارک آپ کے سرکے خون میں تر ہوگی تو آپ کا صبر کیسا ہوگا؟۔(۲)

____________________

(۱) اسد الغابہ : ۴ ۲۰ـ۲۱۔

(۲) نہج البلاغہ :۲ ۴۹، خطبہ ۱۵۶۔ اور دیکھیے : کنزالعمال:۱۶ ۱۹۴ ، حدیث ۴۴۲۱۷۔ المعجم الکبیر :۱۱ ۲۹۵۔ اسد الغابہ:۴ ۳۴۔

۲۲۸

جی ہاں ، یقینا وہ آزمائش و امتحان تھا کیا کہیں ایسے شخص کے بارے میں کہ جو رسول خدا کو کافروں کے درمیان چھوڑکر بھاگ کھڑا ہو، تو کیا یہ کام کفر ہے یا فسق یا کچھ اور ؟

مسلم ہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کام سے بہت رنج یدہ خاطر اور غمگین ہوئے تھے اور جنگ سے بھاگنے والوں سے بہت ناراض ہوئے تھے ۔

واقدی کا بیان ہے کہ طلحہ بن عبیداللہ و ابن عباس اور جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول خدا نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا میں ان لوگوں پر گواہ ہوں کہ انہوں نے راہ حق میں تلوار چلائی اور شہید ہوگئے تو ابوبکر نے کہا اے رسول خدا کیا ہم انہیں کے بھائی نہیں ہیں جیسا کہ وہ اسلام لائے ہم بھی اسلام لائے اور انہیں کی طرح ہم نے بھی جہاد کیا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :ہاں! لیکن انہوںنے اپنا کامل حق ادا کیا اور کامل اجر حاصل کیا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگ میرے بعد کیا کارنامے انجام دو گے پس ابوبکر رونے لگے اور کہا کیا ہم آپ کے بعد بھی زندہ رہیں گے ۔(۱)

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے عمر سے فرما یا: جب صلح حدیبیہ کے وقت عمر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتراض ک یا '' کیا جنگ احد کو بھول گئے ہو کہ جب پہاڑ پر چھپ چھپ کے بھاگ رہے تھے ،کسی کی طرف کو بھی مڑکرنہیں دیکھ رہے تھے میں وہیںکھڑا ہواآپ لوگوںکو بلارہا تھا ۔(۲)

اور اس سے پہلے عثمان کے بارے میں رسول خدا کا ارشاد گرامی گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : کہ بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم اٹھا رہے تھے ۔

____________________

(۱) المغازی : ۱ ۳۱۰۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۳۸۱۵ (متن عبارت اسی کتاب سے ہے ) اور دیکھیے الموطاء :۲ ۴۶۱، حدیث ۹۸۷۔التمہید (ابن عبدالبر) :۲۱ ۲۲۸، حدیث ۲۰۳۔

(۲) المغازی : ۶۰۹۲۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۵۱۵۔ اور دیکھیے : الدر المنثور :۶ ۶۸۔ عیون الاثر : ۲ ۱۲۵۔

۲۲۹

لیکن جنگ خیبر !

سیرہ حلبی میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت منقول ہے کہ جب جنگ خیبر میں شیخین ابوبکر و عمر مسلسل دشمن کے خوف و ڈر سے بھاگتے رہے تب رسول خدا نے فرمایا : کل میں علم اس کو دوںگا کہ جو خدا اور رسول کودوست رکھتا ہوگا اور خداو رسول اس کو دوست رکھتے ہونگے ،مردہوگا کرار ہوگا ، فرار نہ ہوگا یعنی جم کر لڑنے والا ہوگا بھاگنے والا نہ ہوگا اور اس کے ہاتھوں کامیابی و فتح حاصل ہوگی ۔

اس کے بعد اگلے روز رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عل ی کو بلایا جب کہ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں رسول خدا نے اپنا لعاب دہن علی کی آنکھوں میں لگایا اور فرمایا اس علم کو لو اور دشمن کی طرف جاؤ تاکہ خداآپ کو کامیاب و کامران فرمائے ۔(۱)

ابوسعید خدری کا بیان ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علم کول یا اور گھمایا اور پھر فرمایا کون شخص اس علم کا حق ادا کرے گا ،فلاں (ابوبکر) آگے آئے اور کہا میں یا رسول اللہ ۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جاؤ دفان ہو۔ توپھر دوسرا شخص (عمر) آگے بڑھا اور کہا میں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا : جاؤ ہٹو ۔

____________________

(۱) السیرة الحلبیہ :۲ ۷۳۷۔ السیرة النبویة (ابن ہشام) : ۳ ۷۹۷۔ مسند احمد :۱ ۹۹۔ الاحادیث المختارہ : ۲ ۲۷۵۔ فتح الباری :۷ ۳۶۵۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ نیز اس حدیث کو بخاری و مسلم نے بطور اختصار بیان کیا ہے ۔ دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۷۶۔ صحیح مسلم :۵ ۱۹۵۔

۲۳۰

پھر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے مجھ کو مکرم و محترم قرار دیا میں علم اس کو دونگا کہ جو میدان سے نہیں بھاگے گا ، اے علی آؤ اوراس علم کو لو آپ نے علم کو لیا اور میدان کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کے ہاتھوں سے در خیبر کو اکھاڑا اور فتح و کامیابی عطا فرمائی ۔(۱)

یہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''غیر فرار'' (۲) ا یسا مرد ہے کہ جو کبھی نہ بھاگے یا''رجلا لایفر'' (۳) وہ مرد کہ جو فرار اخت یار نہ کرے یہ ابوبکر و عمر کے لیے کنایہ ہے ، اور ظاہر ہے کہ میدان جنگ سے بھاگنے سے کون سا بھاگنا برا اور بدتر ہوگا چونکہ نصوص روایات میں بہت قابل افسوس عبارات مذکو رہیں مثلا ابوبکر نے علم کو لیا''فانهز م بها '' (۴) پس اس نے شکست و ہار مان ل ی اور بھاگ کھڑے ہوئے اور پھر عمر نے لیا''صارغیر بعیدثم انهزم '' (۵) تھوڑ ی دیر نہ لگی کہ وہ ہار کے بھاگے آئے ۔

____________________

(۱) مسند احمد :۳ ۱۶۔ فضائل احمد :۲ ۵۸۳۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) :۲ ۳۵۲۔ مجمع الزوائد:۶ ۱۵۱۔ تالی تلخیص المتشابہ (خطیب بغدادی) :۲ ۵۲۸۔

(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۵۶۔ مناقب خوارزمی ۱۷۰۔ روضہ کافی :۸ ۳۵۱، حدیث ۵۴۸۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۲۳،حدیث ۳۶۳۹۳۔

(۳) مسند احمد :۳ ۱۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ مناقب کوفی :۲ ۴۹۵، حدیث ۹۹۵۔ البدایة والنہایة : ۴ ۲۱۲۔ و جلد : ۷ ۳۷۵۔

(۴) مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۴۹۷، حدیث ۱۷۔ و جلد :۸ ۵۲۲،حدیث ۱۱۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔کنزالعمال :۱۲۱۱۳،حدیث ۳۶۳۸۸۔

(۵) کشف الیقین ۱۴۰۔

۲۳۱

اور روایات میں مذکور ہے کہ عمر میدان سے بھاگ کر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے اس صورت میں کہ وہ ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت اپنے ساتھیوں کی طرف دے رہے تھے اور ان کے ساتھی ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت ان کی طرف دے رہے تھے ۔(۱)

یا یہ کہ ابوبکر نے علم کو لیا اور کامیاب نہ ہوئے تو اگلے روز عمر نے علم کو لیا اور شرمندہ ہوکر واپس آئے لوگ مشکلات میں پڑگئے(۲) یایہ کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے علم مبارک کو اپنے مہاجرین اصحاب میں سے ایک کو دیااس نے بھی کچھ نہ کیا اور بھاگ کھڑے ہوئے اور دوسرے (عمر) کودیا تو اس نے بھی کچھ نہ کردکھایا اور بھاگ آئے۔(۳) اصحاب نے ب یعت شجرہ میںیہ عہد و پیمان کیا تھا کہ دشمن کے سامنے سے نہیں بھاگیں گے جب کہ یہ کام اس عہد کوتوڑنے کے مترادف تھا ۔ جناب عباس پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا اور امام علی نے اس مطلب کی طرف اشارہ فرما یا ہے اس وقت کہ جب آپ دونوں حضرا ت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث کے مطالبے کے لیے دربارخلافت میںگئے اور جو کچھ ان دونوں نے کہا یہ تھا کہ ابوبکر و عمر جھوٹے ، گنہکار ، عہد توڑنے والے اور خائن ہیں ۔(۴)

____________________

(۱) مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۵۲۱، حدیث ۷۔مستدرک حاکم :۳ ۳۸۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۹۷۔ اصول کافی : ۱ ۲۹۴، حدیث ۳۔

(۲) السنن الکبری(نسائی ) :۵ ۱۰۹، حدیث ۸۴۰۳۔ مجمع الزوائد :۶ ۱۵۰۔(ہیثمی کا بیان ہے کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں) ۔ البدایة النہایة :۷ ۳۷۳۔

(۳) السیرة الحلبیہ: ۳ ۷۳۲ ۔ اور اس سے منقول ہے الغدیر: ۷ ۲۰۳ میں ۔

(۴) دیکھیے : صحیح مسلم :۵ ۱۵۲۔

۲۳۲

یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے بیعت شجرہ کے بعد اہل مکہ سے صلح فرمائی چونکہ مسلمانوں نے کفار مکہ پر حملہ کیا اور قریش نے مسلمانوں کو شکست دے کر بھگادیا پھر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو بھیجا آپ نے ان کو شکست دی اور بھگایا ، بھاگنے والے مسلمانوں نے توبہ کی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اب آئیے دوبارہ بیعت کیجیے تم لوگوں نے عہد کو توڑا ہے جب کہ یہ عہد کیا تھا کہ کبھی دشمن کے مقابل میدان سے نہیں بھاگیں گے ۔ اسی وجہ سے ان کے اس عہد و پیمان کو بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ بیعت رسول خدا کی نافرمانی اور معصیت کے بعد آپ کو راضی و خوشنود کرنے کے لیے انجام پائی تھی ۔ پس ابوبکر و عمر اور دیگر مسلمانوں کا جنگ خیبر و حنین وغیرہ سے فرار اور بھاگنا گویا بیعت رضوان کو توڑنا ہے ۔(۱)

صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ عمر نے عباس وعلی سے مخاطب ہوکر کہا ۔ ۔ ۔ اس وقت کہ جب ابوبکر نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے اور جو کچھ ہم سے رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہے ۔ تم دونوں حضرات اس کو جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن جانتے ہو جب کہ ابوبکر دنیا سے جاچکا ہے اور اب میں ابوبکر اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ول ی ہوں جب کہ تم دونوں حضرات مجھ کو بھی جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن مانتے ہو۔(۲)

____________________

(۱) الصراط المستقیم :۳ ۱۱۰ـ ۱۰۱۔

(۲) صحیح مسلم :۵ ۱۵۲، کتاب الجہاد و السیر، باب حکم الفئی۔ اور دیکھیے صحیح بخاری : ۴ ۴۴، باب فرض الخمس ۔ و جلد : ۵ ۲۳ـ۲۴، کتاب الجہاد و السیر۔ تفسیر ابن کثیر :۴ ۲۵۹۔ شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید): ۱۶ ۲۲۲۔ تاریخ المدینہ (ابن شبہ) :۱ ۲۰۴۔

۲۳۳

بہر حال ان تمام حالات و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوبکر ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس کی نظر میں، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داماد علی کی نظر میں اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی فاطمہ کی نظر میں جھوٹے و گنہکار ہیں ، اور کوئی بھی جھوٹا ، صادق و سچا نہیں ہوسکتا تو پھر صدیق کیسے ہوسکتا ہے ؟۔

ابن شہر آشوب نے مناقب میں لکھا ہے :

متکلمین کہتے ہیں کہ علی کی امامت کے دلائل میں سے یہ خداوندعالم کا فرمان ہے( یا ایها الذین آمنو ا اتقو الله و کونوا مع الصادقین ) (۱) اے ا یمان لانے والوخداسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ۔ہم نے آپ کو اس صفت پر پورا پایا ،چونکہ خداوندعالم فرماتا ہے( والصابرین فی الباساء والضراء و حین البأس اولٰئک الذین صدقوا و اولٰئک هم المتقون ) (۲) وہ لوگ سخت یوں اور پریشانیوں میں اور وقت جنگ صابر و ثابت قدم ہیں ، سچے ہیں اور یہی لوگ متقی و پرہیز گار ہیں ۔

اسی وجہ سے یہ اجماع متحقق ہوچکا ہے کہ علی دوسروں کی نسبت امامت کے زیادہ حق دار ہیں چونکہ وہ میدان جنگ سے کبھی نہیں بھاگے جب کہ دوسروں نے بارہا راہ فرار اختیار کی ۔(۳)

شیخ مفید نے اپنی کتاب ''الجمل و النصرة لسید العترةفی حرب البصرة'' میں عمر بن آبان سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ جب امیر المؤمنین نے اہل بصرہ پر کامیابی حاصل کرلی۔

____________________

(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔

(۲) سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۷۷۔

(۳) مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۹۳۔

۲۳۴

تب کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المؤمنین کیا سبب تھا کہ عایشہ آپ کے خلاف نکل پڑیں اور لوگوں سے آپ کے خلاف مدد مانگی اور ان کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور بات یہاں تک پہنچی کہ آپ سے جنگ ہوئی ، جب کہ وہ دوسری عورتوں کی طرح ایک عورت ہیں ان پر جنگ واجب نہیں تھی ، جہاد ان سے ساقط تھا ، ان کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں تھی ، ان کے لیے لوگوں کے درمیان آنا اور ظاہر ہونا بھی مناسب نہیں تھا اور وہ افراد بھی کہ جو ان کے لشکر کی کمانڈ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے وہ بھی اس قابل نہ تھے ۔

امیر المؤمنین نے فرمایا: میں آپ لوگوں سے چند چیز یںبیا ن کرتا ہوں کہ جو عایشہ کے دل میں مجھ سے حسد و کینہ کا سبب بنیں جب کہ ان میں سے میں کسی میں بھی گنہکار نہیں ہوں جب کہ وہ مجھے سزاوار سمجھتی ہیں ۔

۱ـ رسول خدا نے مجھے ان کے باپ پر برتر ی بخشی ، اور ہر مہم کام میں مجھے ان پر مقدم رکھتے تھے عایشہ کے دل میں حسد بیٹھ گیا چونکہ وہ جانتی تھیں کہ ابوبکر کے دل میں مجھ سے حسد ہے لہذا انہوں نے بھی اپنے باپ کی پیروی کی ۔

۲ـ جب پ یغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام اصحاب کے درمیان بھائی چارگی اوررشتہ اخوت قائم کیا تو ان کے باپ اور عمر کے درمیان بھائی چارگی قائم کی اور جب کہ مجھے خود اپنے لیے انتخاب فرمایا اور رشتہ اخوت قائم کیا ۔ یہ کام عایشہ کو بہت ناگوار گذرا اور مجھ سے حسد کرنے لگیں ۔

۳ـ خداوندعالم نے تمام اصحاب کے دروازے کہ جو مسجد م یں کو کھلتے تھے ،بند کروادیے سوائے میرے گھر کے دوازے کے ۔ تو جب ان کے باپ کے گھر کا دروازہ ،اور ان کے دوست جیسے عمر کے گھر کا دروازہ بند ہوا جبکہ میرے گھر کا دروازہ مسجد میں کھلا رہا ۔

۲۳۵

تب اس سلسلے میں کچھ لوگو ں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتراض ک یا تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا : میں نے آپ لوگوں کے گھروں کے دروازوں کو بند نہیں کیا اور میں نے علی کے گھر کے دروازے کو کھلا نہیں رکھا ہے ، بلکہ یہ حکم الٰہی ہے ۔ابوبکر کو اس کام پر بہت غصہ آیا اور اپنے گھر والوں کے درمیان الٹی سیدھی باتیں کہیں کہ جو ان کی بیٹی نے سنیں اور اس کے بعد سے مجھ سے حسد میں اضافہ ہوا ۔

۴ـ رسول خدا نے جنگ خ یبر میں علم ان کے باپ کو عطا کیا اور ان کو لشکر اسلام کا سردار بنایا ، خیبر کو فتح کرنے کے لیے بھیجا تاکہ یا خیبر کو فتح کریں یا شہید ہوجائیں جب کہ وہ ثابت قدم نہ رہ سکے اور ہارمان کر بھاگ آئے ، اس کے اگلے روز علم عمر بن خطاب کودیا اور جیسا کہ ابوبکر کو حکم دیا تھا ان کو بھی وہی حکم دیا لیکن وہ بھی دشمن کے مقابل نہ ٹھہر سکے اور ہار کے بھاگ آئے ۔ یہ کارنامہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بہت برالگا اور آپ نے اپنے لشکر کے درم یان بلند آواز سے فرمایا :کل میں علم اس کو دوں گا کہ جو مرد ہوگا خدا اور رسول اس کو دوست رکھتے ہوںگے اور وہ خداورسول کو دوست رکھتا ہوگا ، حملہ کرنے والا ہوگا بھاگنے والا نہیں ہوگا اور خیبر کو فتح کیے بغیر واپس نہیں آئے گا۔

اس روز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علم مجھے عطا فرما یا میں نے صبر کیا ، ثابت قدم رہا یہاں تک کہ خداوندعالم نے میرے ہاتھوں خیبر کو فتح کرایا اور کامیابی بخشی ، اس کام سے عایشہ کے باپ بہت غمگین ہوئے اور مجھ سے کینہ و حسد میں اور بھی اضافہ ہوگیا جب کہ میں ان کاموں میں ان کے حق میںبالکل بھی خطاکار و مقصر نہیں ہوں لیکن عایشہ نے بھی اپنے باپ کی وجہ سے مجھ سے حسد کیا ۔

۵ـ رسول خدا نے ا بوبکر کو کفار و مشرکین مکہ کے لیے سورہ برأت کی تلاوت کرنے کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ مشرکین کے عہد کو توڑنا اور ان کے درمیان یہ آیات تلاوت کرنا اور بلند آواز سے یہ پیغام الہٰی پہنچانا ، وہ یہ پیغام لے کرچلے اور راستہ میں منحرف ہوگئے ۔

۲۳۶

پھر خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی کہ ان کو پلٹائیں اور ان آیات کو ان سے واپس لیں اور مجھے عطا کریں پس وہ آیات لطف الہٰی سے مجھے عطا کی گئیں اور عایشہ کے باپ واپس آگئے ۔جو کچھ خداوند متعال نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی جانب سے کوئی حق ادا نہیں کرسکتا مگر آپ خود یا آپ ہی سے کوئی مرد۔اور میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہوں اور وہ مجھ سے ہ یں ۔لہذا ابوبکر اس کا م کی وجہ سے مجھ سے بہت حسد کرنے لگے جب کہ اس معاملے میں بھی ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی پیروی کی ۔

۶ـ عا یشہ کو خدیجہ بنت خویلد بری لگتی تھیں جیسا کہ معمولا تمام سوتن ہی ایک دوسرے کو برا سمجھتی ہیں ۔ عایشہ بھی خدیجہ سے دشمنی رکھتی تھیں جب کہ خدیجہ کے مقام و منزلت کو رسول خدا کی نظرمیں پہچانتی تھیں اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خدیجہ کا اس قدر احترام کرنا عایشہ کو برا لگتا تھا ، سخت ناگوار گذرتا تھا اور ان میں تحمل و برداشت کا مادہ نہ تھا۔یہ خدیجہ سے نفرت پھر فاطمہ کی طرف منتقل ہوگئی کہ جس کے نتیجے میں عایشہ خدیجہ ، فاطمہ اور مجھ سے بھی بیزار ہوگئیں ۔ جب کہ معمولاً سوتنوں کے درمیان یہ حالات معروف ہیں ۔

۷ـ اس سے پہلے کہ پ یغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کو پردے کا حکم آئے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا عایشہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے د یکھا، میرے بیٹھنے کے لیے جگہ فراہم کی اور مجھ سے فرمایا آؤ ہمارے پاس آجاؤ ، اتنا قریب بلایا کہ مجھے اپنے اور عایشہ کے درمیان بٹھالیا ، یہ کام عایشہ پر بہت سخت و ناگوار گذرا اور خواتین کی تند رفتاری اور ناز نخوت کی طرح مجھ سے مخاطب ہوئیں اور کہا اے علی آپ کو بیٹھنے کے لیے میری ران کی جگہ کے علاوہ کوئی اور جگہ نہ مل سکی ۔

۲۳۷

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ کلام برا لگا اور ان کی اس رفتار سے ناراض ہوگئے اور غصے میں فرمایا کیا یہ باتیں علی سے کہہ رہی ہو ، خداکی قسم وہ مجھ پر سب سے پہلے ایمان لائے ہیں اور میری تصدیق کی ہے اور وہ سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آئیںگے اور وہ امر الہٰی او ر امور دین میں عہد و پیمان پر ثابت قدم رہنے والے سب لوگوںسے زیادہ حق دار ہیں ، کوئی بھی ان سے دشمنی نہیں رکھے گا مگر یہ کہ خداوندعالم اس کی ناک کو جہنم کی آگ سے رگڑ دے گا۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان اور میری تمجید سے عایشہ کے غیظ و غضب میں اور اضافہ ہوگیا ، مجھ سے اوربھی زیادہ نفرت و حسد کرنے لگیں ۔

۸ـ جس وقت عا یشہ سے متعلق لوگوں میں ایک تہمت مشہور ہوئی تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے طلب فرماکر معلوم کیا ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ اس بات کی حقیقت اس کی کنیز بریرہ سے معلوم کریں ،اگر معلو م ہوگیا کہ یہ تہمت صحیح ہے تو ان کو چھوڑ دینا عورتیں اور بہت زیادہ ہیں ۔رسول خدا نے اس مسئلہ کے متعلق مجھے ہی حکم دیا کہ میں بریرہ سے دریافت کروں ، عایشہ کی صورتحال اور اس کی تحقیق میری گردن پرآگئی، میں نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس کام کو انجام دیا ۔ اس وجہ سے بھی عایشہ کے دل میں مجھ سے نفرت اور زیادہ ہوگئی جب کہ خدا کی قسم میرا کوئی برا ارادہ نہیں تھا بلکہ میں نے خدا اور اس کے رسول کے لیے خیر خواہی چاہی ۔

اسی طرح کے اور بھی بہت سے موارد ہیں لہذاآپ اگر چاہیں تو خود عایشہ سے ہی معلوم کرلیں کہ ان کو کیا حسد تھا اور کیا سبب ہوا کہ وہ میرے خلاف جنگ پر نکل آئیں ، لوگوں کو بیعت توڑنے پر مجبور کیا ، میرے چاہنے والوں کا خون بہایا ، بغیر کسی دینی و الہٰی سبب کے مسلمانوں کے درمیان اپنے حسد کو میرے خلاف آشکار کیا اورلوگوں کو میرا دشمن بنادیا ، جب کہ خداوند مددگار ہے اور وہی نصرت کرنے والا ہے ۔

۲۳۸

ان افراد نے کہا اے امیرالمؤمنین بات یہی ہے کہ جو آپ نے فرمائی ہے خدا کی قسم آپ نے ہمارے ا فکار و احساسات کو صاف کردیا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خداو رسول کے نزدیک ان لوگوں سے کہ جنہوں نے آپ سے دشمنی کی زیادہ اولیٰ و حق دار ہیں ۔

اس وقت حجاج بن عمر و انصاری اٹھے اور آپ کی شأن میں کچھ اشعار پڑھے(۱)

ان تما م باتوں کے علاوہ اگر خطبہ حضرت فاطمہ زہرا پر غور کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ نے لوگوں کو تذکر دیا ہے کہ خداوندعالم نے ان کے والد گرامی حضرت محمد کواس وقت انتخاب فرمایا کہ جب مخلوق عالم ذر میں پوشیدہ تھی اور آپ کو لوگوں کے درمیان بھیجنے سے پہلے منتخب فرمایا ۔ حضرت فاطمہ زہرا کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ازل سے ہی اور اس سے پہلے کہ خداوندعالم خلائق کو وجود بخشتا، خدا کے نزدیک منتخب تھے اور خود آنحضرت نے بھی اسی مطلب کا تاکیدسے ارشاد فرمایا : '' کنت نبیا و آدم بین الماء الطین ''(۲)

میں اس وقت بھی نبی تھا کہ جب آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔

____________________

(۱) الجمل (مفید)۲۲۰۔ اس میں حجاج بن عمرو کی جگہ حجاج بن عزمہ مذکور ہے ۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۱۸۲۔ عوالی اللئالی :۲ ۱۲۱۔ ینابیع المودة : ۱ ۴۶ ۔ اور طبقات ابن سعد :۱ ۱۴۸ ۔ میں مذکور ہے کہ بین الروح والطین من آدم ۔ اور سیرة النبویة (ابن کثیر) :۱ ۳۴۷ میں مذکور ہے کہ '' وآدم منحدل فی الطین ''۔ اور دیکھیے مسند احمد :۴ ۶۶۔ مستدرک حاکم :۲ ۶۰۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۴۳۸۔ المعجم الکبیر : ۱۲ ۷۳۔ الاحتجاج (طبرسی ) :۲ ۲۴۸۔ الفضائل (ابن شاذان) ۲۴۔ اسدالغابہ :۳ ۱۳۲۔ اور دوسرے مدارک و منابع کہ جن میں '' وآدم بین الروح و الجسد '' مذکور ہے ۔ ۔ ۔ ۔بقیہ اگلے صفحہ پر ۔ ۔ ۔

۲۳۹

امیر المؤمنین امام علی نے حارث ہمدانی کو اس بات کی طرف توجہ دلائی اور تاکید فرمائی کہ آپ نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق اس عالم میں کی کہ جب آدم روح و بدن کے درمیان تھے ۔ لہذا آپ کا ارشاد گرامی ہے : میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں میں نے سب سے پہلے آپ کی تصدیق اس وقت کی کہ جب آدم روح و جسد کے درمیان تھے اور آپ کی امت میں بھی حقیقتاً و بدون شک و تردید میں سب سے پہلے تصدیق کرنے والا ہوں ۔(۱)

اور اس سے پہلے آپ کا کلام گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : خداوندعالم نے پیغمبرا کرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بچپنے ہ ی میں جب سے آپ کا دودھ چھٹا آپ کے ہمراہ روح القدس سب سے بڑے فرشتے کو قرار دیا اور اس کو آپ کا ہمدم و قرین بنایا اس طرح آپ کی رسالت کا آغاز ہوا ، میں اونٹنی کے بچے کی طرح آپ کے ہمراہ رہا کہ جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے لگار ہتاہے اسی طرح میں رسول خدا کی پیروی کرتا رہا ۔(۲)

____________________

۔ ۔ ۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔

شیخ سعدی شیرازی نے اس حدیث کو اپنی کتاب بوستان کے دیباچہ میں شعر کی صورت میں پیش کیا ہے۔

بلند آسمان پیش قدرت خجل تومخلوق و آدم ھنوز آب و گل

بلند و بالا آسمان آپ کی قد رو منزلت کے حضور شرمندہ ہے کہ آپ کی خلقت ہوچکی ہے جب کہ ابھی آدم پانی و مٹی کے درمیان ہیں ۔(م)

(۱) امالی (مفید ) ۶، مجلس اول ، حدیث ۳۔ امالی طوسی ۶۲۶، حدیث ۱۲۹۲۔ کشف الغمہ :۱ ۴۱۲۔ بحارالانوار :۳۹ ۳۹۔

(۲) نہج البلاغہ :۲ ۱۵۷ ، ضمن خطبہ ۱۹۲۔

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307