"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

18%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49495 / ڈاؤنلوڈ: 6230
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

اور جب ابوقتادہ انصاری نے خالد بن ولید کے زناء محصنہ پر گواہی دی کہ جو خود اسی کے لشکر میں موجود تھے اور وقت زنا حاضر تھے تو ابوبکر نے ان کو بلایا اور اس کا م سے منع کیا ۔(۱) اور اس طرح اجتہاد کی منطق کے ذریعہ اور یہ کہ ابوبکر کے دشمن کافر ہیں چاہے وہ حقیقت میں مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ، ابوبکر نے خالد کے لیے عذر تراشا چونکہ ان کو خالد کی اور دوسری جگاہوں پر ضرورت تھی ۔

اور اسی بناء پر اشعث بن قیس کہ جب وہ مرتد ہوگیا اس کو معاف کردیا اور ابوبکر مرتے وقت ان کاموں پر افسوس کرتے رہے اور کہتے رہے کاش تین و تین اور تین(۲)

وہ تین کام کہ جن کو انجام دینا چاہتے تھے لیکن انجام نہ دیا، ایک اشعث بن قیس کوقتل کرنا تھا کہ جب اس کو گرفتار کرکے لائے، چونکہ ابوبکر کو بعد میں معلوم ہوگیا تھا کہ تمام فتنوں اور فساد میں اشعث ہی کا ہاتھ تھا ۔(۳)

ابوبکر نے یہ کام اس لیے انجام نہیں دیا چونکہ اشعث بن قیس قبیلہ کندہ کا رئیس تھا اور ابوبکر کو اس کی ضرورت تھی لہذا خلیفۂ اول نے صرف نظرکرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ، بلکہ اپنی بہن کی شادی بھی اس سے رچادی اور اس کو مہمترین کاموں میں اپنے ساتھ رکھا ۔

____________________

(۱) الکامل فی التاریخ :۲ ۳۵۸۔

(۲) یہ امور ابو بکر آخری وقت زبان پر لائے اور مرتے دم یہ حسرت دل میں لے کر گئے کہ کاش میں تین کام ترک نہ کرتا اور اے کاش میں تین کام انجام دیتا اور اے کاش میں تین مسٔلے پیغمبراکرم سے معلوم کرتا ، اور پھر ان کی ایک ایک کرکے تفصیل بیان کی ۔(م)

(۳) تاریخ طبری :۱ ۶۲۰۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۴۱۸۔ کنزالعمال :۵ ۶۳۲، حدیث ۱۴۱۱۳۔

۲۲۱

اسی طرح زکا ت کا حصہ کہ جو مؤلفة القلوب کے لیے معین کیا گیا تھا اور قرآن کریم میں بھی اس کی تصریح ہوئی ہے ،ادا نہ کیا اور جب عمر نے از باب مصلحت مؤلفة القلوب کا حق دینے کی خواہش ظاہر کی تو ابوبکر نے یہ کہکر ٹال دیا کہ اب اسلام قدرتمندہوچکاہے لہذا مؤلفة القلوب کے حصہ کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)

انہی واقعات کی طرح حضرت فاطمہ زہرا کو فدک سے منع کرنا بھی ہے جب کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنی ملکیت کوثابت کرنے میں آیات وصیت و وراثت اور انبیاء کی میراث کی آیات کے ذریعہ ابوبکر پر احتجاج کیا ۔

ان تمام واقعات سے پہلے ابوبکر کا احد ، حنین اور خیبر کی جنگوں سے بھاگنا ہے اور دینی اہمیتوں کے مقابل ثابت قدم نہ رہنا، میدان چھوڑکر بھاگنا اور یہ سب ان مصلحتوں کی وجہ سے ہے کہ جو ان کے پیش نظر تھیں۔یعقوبی جنگ احد کے متعلق تحریر کرتا ہے کہ تمام مسلمان میدان چھوڑکر بھاگ گئے اور رسول خدا کے ہمرا ہ صرف تین آدمی باقی رہے علی ، طلحہ و زبیر۔(۲)

حاکم نے عایشہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح جانا ہے کہ ابوبکر نے کہا کہ جب جنگ احد میں مسلمان پیغمبراکرم کے اطراف سے فرار ہوئے تو میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلا فرد تھا کہ جو رسول خدا کے پاس پلٹا ۔(۳)

____________________

(۱) تاریخ طبری :۲ ۳۰۱۔ طبقات ابن سعد :۵ ۱۰۔ معجم البلدان: ۲ ۲۷۱۔

(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۴۷۔

(۳) مستدرک حاکم : ۲۷۳۔

۲۲۲

صاحب کنزالعمال نے جنگ احد کے بارے میں ابو داؤد طیالسی سے اور ابن سعد و بزار، دارقطنی ، ابن حیان ، ابو نعیم اور دوسروں نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عایشہ سے روایت نقل کی ہے کہ عایشہ نے کہا کہ جب کبھی بھی جنگ احد کا تذکرہ ہوتا تو ابوبکر رونے لگتے تھے اور روتے ہوئے کہتے کہ میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلے واپس آیا ۔(۱)

ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ جاحظ نے کہا : ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس جنگ احدمیں کھڑے رہے جیسا کہ علی ثابت قدم رہے ۔ ۔ ۔ تو ہمارے استاد ابوجعفر نے کہا کہ اکثر مورخین و اہل قلم نے جنگ احد میں ابوبکر کے فرار اور عدم ثبوت قدم کو نقل کیا ہے اور جمہور نے روایت کی ہے کہ ابوبکرنے فرار اختیار کیا اور علی کے علاوہ کوئی بھی پیغمبراکرم کے پاس نہ رہا اور طلحہ و زبیر اور ابو دجانہ بھی قریب ہی تھے اور ابن عباس سے روایت ہے کہ ان میں پانچواں فرد کہ جو باقی بچا عبد اللہ بن مسعود تھے اور کچھ مورخین نے چھٹے آدمی کا بھی نام لکھا ہے اور وہ مقداد بن عمروہے۔(۲)

زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں نے ابن مسعود سے کہا: ابوبکر و عمر جنگ احد میں کہاں تھے ؟ تو اس نے کہا ان لوگوں کے ساتھ کہ جنہوں نے میدان سے فرار اختیار کیا تو میںنے سوال کیا عثمان کہاں تھے ؟ کہا کہ واقعہ احد کے تین دن کے بعد واپس آئے ، رسول خدا نے عثمان سے کہا اے عثمان جنگ سے بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم رکھے !۔(۳)

____________________

(۱) مسند ابی داؤد طیالسی ۳۔ کنزالعمال :۱۰ ۴۲۵، حدیث ۳۰۰۲۵۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۳ ۲۹۳۔

(۳) کشف الغمہ : ۱ ۱۹۳ ۔ شرح نہج البلاغہ :۱۵ ۲۱۔تاریخ طبری: ۲ ۲۰۳۔ البدایہ و النہا یہ :۳ ۳۲۔

۲۲۳

المغازی میں محمد بن مسلمہ سے منقول ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا اور دونوں کانوں سے سنا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم روز احد تنہا رہ گئے اور مسلمان پہاڑ کی طرف بھاگ رہے تھے ، رسول خدا اپنی مدد کے لیے بلارہے تھے اور آواز دیتے اے فلاں آؤ ، اے فلاں آؤ میرے قریب آؤ میں رسول خدا ہوں ، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی نہ سنا اور دونوں بھاگے چلے گئے ۔(۱)

واضح ہے کہ یہاں پر فلاں اور فلاں سے مراد شیخین یعنی ابوبکر و عمر ہیں ۔ راوی نے صراحتاً ان کا نام ذکر نہیں کیا چونکہ وہ صاحب اقتدار تھے اور اس لیے بھی کہ ان کے پیروکار،ان کے متعلق اس طرح کی روایات کوپسند نہیں کریں گے ، اور شاید یہ بھی ممکن ہے کہ یہ راوی کی نہیں بلکہ مؤلف یا کاتب کی ہنر نمائی ہو۔

روایت میں آیا ہے کہ ایک عورت زمانہ خلافت عمر میں آئی اور عمر سے یمنی چادر وں کے متعلق مطالبہ کیا اور اسی وقت عمر کی بیٹی آئی اس نے بھی یمنی چادر مانگی عمر نے اس عورت کوچادر دے دی اور اپنی بیٹی کو منع کردیا ! ۔ جب لوگوں نے اس کی دلیل چاہی تو جواب دیا کہ اس عورت کاباپ جنگ احد میں ثابت قدم رہا اور اس کا باپ یعنی خود عمر ثابت قدم نہ رہ سکا اور فرار اختیار کیا ۔(۲)

واقدی رقمطراز ہے کہ جب جنگ احد کے دوران ابلیس نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو لوگ متفرق ہوگئے کچھ لوگ مدینہ واپس آگئے اور ان بھاگنے والوں میں ایک تو فلاں تھے اور دوسرے حارث بن حاطب ۔

____________________

(۱) المغازی :۱ ۲۳۷۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۵ ۲۳ میں ۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔

۲۲۴

لیکن ابن ابی الحدید نے اسی واقدی سے روایت بطور صریح و بغیر کنایہ کے نقل کی ہے کہ اس نے کہا وہ لوگ کہ جو فرار اختیار کرگئے ، عمر و عثمان اور حارث بن حاطب تھے ۔(۱)

رافع بن خدیج کہتاہے کہ میں فلاں اور فلاں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ جو پہاڑ پر اچک اچک کر بھاگ رہے تھے پس عمر نے کہا کہ جب شیطان نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو میں اس طرح پہاڑپر چڑھا کہ جیسے پہاڑی بکری پہاڑ پر چڑھتی ہے ۔(۲)

محمد بن اسحاق نے مغازی میں تحریر کیا ہے کہ۔ ۔ ۔ لوگ جنگ احد میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس سے بھاگ رہے تھے یہاں تک کہ عثمان بھی بھاگ گئے چونکہ وہ ان سب سے پہلے بھاگ گئے اور مدینہ پہنچ گئے اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :

( ان الذین تولوا یو م التقی الجمعان ) (۳)

اس روز کہ جب دوگروہ آپس میں ٹکرائے تو کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ۔(۴)

____________________

(۱) المغازی :۲۷۷۱ ۔ اور اسی کتاب کے دوسرے نسخہ میں فلاں کی جگہ پر عمر و عثمان بھی آیا ہے۔شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۴۱۵۔

(۲) المغازی:۱ ۲۹۵ ۔ اور ۳۲۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔الدر المنثور :۲ ۸۹۔

(۳) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۵۵۔

(۴) المغازی :۱ ۲۷۸ـ۲۷۹۔ اور دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۳۵(از عثمان بن وہب )۔ مجمع الزوائد: ۱۱۵۹۔

۲۲۵

فخررازی کا بیان ہے کہ بھاگنے والوں میں سے عمر بھی تھے مگر یہ کہ سب سے پہلے نہیں بھاگے اور زیادہ دور بھی نہیں بھاگے بلکہ صرف پہاڑ پر چڑھ گئے تاکہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے پیچھے پیچھے پہاڑ پر چڑھ جائیں اور عثمان بن عفان انصار کے دو افراد سعد و عقبہ کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے اوربہت دور نکل گئے یہاں تک کہ تین دن کے بعد واپس آئے ۔(۱)

نیشاپوری کا بیان ہے کہ قفال نے کہا بہرحال جس چیز پر روایات دلالت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جنگ احد سے بھاگے اور کچھ قریب ہی چھپ گئے اور کچھ بہت دور نکل گئے اور بعض مدینہ آگئے اور کچھ ادھر ادھر کو فرار کرگئے ۔ ۔ ۔ اور ان بھاگنے والوں میں عمر بھی تھے ۔(۲)

آلوسی رقمطراز ہے کہ بھاگنے والے ایک پہاڑ کے دامن میں جمع ہوگئے اور عمر بن خطاب بھی ان کے ہمراہ تھے جیسا کہ ابن جریر کی روایت میں مذکور ہے ۔(۳)

بہر حال آپ نے ان روایات میں ملاحظہ فرمالیا کہ جنگ احد سے بھاگنے والوں میںیہ تین افراد ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی تھے اور اسی جنگ میں ثابت قدم نہ رہے جب کہ علی ابن ابی طالب اور کچھ صحابہ ثابت قدم رہے ۔

عمران بن حصین کی روایت میں آیا ہے کہ جب جنگ احد میں لوگ رسول خدا کے اطراف سے بھاگ رہے تھے توعلی برہنہ شمشیر کولیے ہوئے حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے آگئے۔

____________________

(۱) تفسیر فخر رازی : ۹ ۴۲۔

(۲) تفسیر نیشابوری : ۲ ۲۸۷۔

(۳) روح المعانی : ۴ ۹۹۔

۲۲۶

پس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سر کو بلند فرمایا اورعلی سے کہا کہ جب سب بھاگ گئے تو آپ کیوں نہیں بھاگے ؟ علی نے جواب دیا: اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میں اسلام لانے کے بعد کافر ہوجاؤں ۔(۱)

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کفار کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو پہاڑ پر سے اتر رہے تھے علی نے ان پر حملہ کیا اور ان سب کو مار بھگایا پھر دوسرے گروہ کی طرف اشارہ کیا آپ نے ان پر بھی حملہ کیا اور ان کو بھی پچھاڑ دیا پس جبرئیل آئے اور کہا اے رسول خدا فرشتے علی کی آپ کے لیے جانبازی پر فخر و مباہات کررہے ہیں ۔

اس وقت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کون اس کو اس کا م سے روک سکتا ہے جب کہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں تو جبرئیل نے بھی کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں۔(۲)

حضرت علی کے کلام ہی میں سے حدیث مناشدہ ہے کہ فرماتے ہیں :کیا آپ لوگوں کے درمیان میرے علاوہ کوئی ہے کہ جس کے لیے جبرئیل نے فخر و مباہات کیا ہو کہ یہ واقعہ جنگ احد کا ہے پس رسول خدا نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہوکہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں پھر جبرئیل نے کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں ؟ تو سب نے کہا : نہیں۔(۳)

____________________

(۱) حضرت علی کی نظرمیں جنگ سے فرار کرنا گویا اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنا ہے تواب ان بھاگنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟(م)

(۲) ارشاد مفید:۱ ۸۵۔ کشف الغمہ :۱ ۱۹۴۔ بحار الانوار:۲۰ ۸۵۔

(۳) امالی طوسی ۵۴۷، مجلس ۲۰، حدیث ۴۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۶۔ مناقب کوفی :۱ ۴۸۶، حدیث ۳۹۲۔ تاریخ طبر ی :۲ ۱۹۷۔ المعجم الکبیر :۱ ۳۱۸، حدیث ۹۴۱۔ کشف الیقین ۴۲۴۔

۲۲۷

اسد الغابہ میں ہے کہ جب جنگ احد میں لوگوں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آنکھیں چرائیں اور فرار اختیار کیا میں نے قتل ہوجانے والوں کو دیکھا تو ان میں رسول خدا کو نہ پایا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم رسول خدا ایسے نہیں ہیں کہ جو جنگ سے فرار اختیار کریں جب کہ قتل ہونے والوں کے درمیان بھی نہیں ہیں، شاید خداوندعالم ہمارے اعمال سے ناراض ہوگیا اور اپنے رسول کو آسما ن پر لے گیا لہذا میرے لیے اس سے بہترکوئی کام نہیں ہے کہ جنگ کروں یہاں تک کہ قتل ہوجاؤں پس میں نے اپنی تلوار کے نیام کو توڑ دیا اور پھر دشمن کے لشکر پر حملہ کیا اور سارے لشکر کو بکھیر کررکھ دیا تو اسی دوارن میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے درمیان دیکھا۔جی ہاں، اسی روز علی پر سولہ ضربتیں لگیںاور ہر ضربت کے اثر سے وہ زمین پر گرے اور جبرئیل کے علاوہ ان کو کسی نے نہیں اٹھایا ۔(۱)

حضرت امیر کے دوسرے کلام میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا : اے رسول خدا وہ فتنہ کہ جس کی خداوندعالم نے آپ کو خبر دی ہے وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بیشک میرے بعد میری امت کو خداوندمتعال آزمائے گا ،میں نے عرض کی اے رسول خدا تو کیا روز جنگ احد کہ جس دن کچھ مسلمان شہید ہوئے اور یہ فیض میرے نصیب میں نہ آیا مجھ پر بہت سخت گذرا تب آپ نے فرمایا: اے علی صدیق آپ کو بھی شہادت مبارک ہو اور جب آپ کی شہادت کا وقت آئے گا اور آپ کے محاسن مبارک آپ کے سرکے خون میں تر ہوگی تو آپ کا صبر کیسا ہوگا؟۔(۲)

____________________

(۱) اسد الغابہ : ۴ ۲۰ـ۲۱۔

(۲) نہج البلاغہ :۲ ۴۹، خطبہ ۱۵۶۔ اور دیکھیے : کنزالعمال:۱۶ ۱۹۴ ، حدیث ۴۴۲۱۷۔ المعجم الکبیر :۱۱ ۲۹۵۔ اسد الغابہ:۴ ۳۴۔

۲۲۸

جی ہاں ، یقینا وہ آزمائش و امتحان تھا کیا کہیں ایسے شخص کے بارے میں کہ جو رسول خدا کو کافروں کے درمیان چھوڑکر بھاگ کھڑا ہو، تو کیا یہ کام کفر ہے یا فسق یا کچھ اور ؟

مسلم ہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کام سے بہت رنج یدہ خاطر اور غمگین ہوئے تھے اور جنگ سے بھاگنے والوں سے بہت ناراض ہوئے تھے ۔

واقدی کا بیان ہے کہ طلحہ بن عبیداللہ و ابن عباس اور جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول خدا نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا میں ان لوگوں پر گواہ ہوں کہ انہوں نے راہ حق میں تلوار چلائی اور شہید ہوگئے تو ابوبکر نے کہا اے رسول خدا کیا ہم انہیں کے بھائی نہیں ہیں جیسا کہ وہ اسلام لائے ہم بھی اسلام لائے اور انہیں کی طرح ہم نے بھی جہاد کیا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :ہاں! لیکن انہوںنے اپنا کامل حق ادا کیا اور کامل اجر حاصل کیا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگ میرے بعد کیا کارنامے انجام دو گے پس ابوبکر رونے لگے اور کہا کیا ہم آپ کے بعد بھی زندہ رہیں گے ۔(۱)

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے عمر سے فرما یا: جب صلح حدیبیہ کے وقت عمر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتراض ک یا '' کیا جنگ احد کو بھول گئے ہو کہ جب پہاڑ پر چھپ چھپ کے بھاگ رہے تھے ،کسی کی طرف کو بھی مڑکرنہیں دیکھ رہے تھے میں وہیںکھڑا ہواآپ لوگوںکو بلارہا تھا ۔(۲)

اور اس سے پہلے عثمان کے بارے میں رسول خدا کا ارشاد گرامی گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : کہ بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم اٹھا رہے تھے ۔

____________________

(۱) المغازی : ۱ ۳۱۰۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۳۸۱۵ (متن عبارت اسی کتاب سے ہے ) اور دیکھیے الموطاء :۲ ۴۶۱، حدیث ۹۸۷۔التمہید (ابن عبدالبر) :۲۱ ۲۲۸، حدیث ۲۰۳۔

(۲) المغازی : ۶۰۹۲۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۵۱۵۔ اور دیکھیے : الدر المنثور :۶ ۶۸۔ عیون الاثر : ۲ ۱۲۵۔

۲۲۹

لیکن جنگ خیبر !

سیرہ حلبی میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت منقول ہے کہ جب جنگ خیبر میں شیخین ابوبکر و عمر مسلسل دشمن کے خوف و ڈر سے بھاگتے رہے تب رسول خدا نے فرمایا : کل میں علم اس کو دوںگا کہ جو خدا اور رسول کودوست رکھتا ہوگا اور خداو رسول اس کو دوست رکھتے ہونگے ،مردہوگا کرار ہوگا ، فرار نہ ہوگا یعنی جم کر لڑنے والا ہوگا بھاگنے والا نہ ہوگا اور اس کے ہاتھوں کامیابی و فتح حاصل ہوگی ۔

اس کے بعد اگلے روز رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عل ی کو بلایا جب کہ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں رسول خدا نے اپنا لعاب دہن علی کی آنکھوں میں لگایا اور فرمایا اس علم کو لو اور دشمن کی طرف جاؤ تاکہ خداآپ کو کامیاب و کامران فرمائے ۔(۱)

ابوسعید خدری کا بیان ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علم کول یا اور گھمایا اور پھر فرمایا کون شخص اس علم کا حق ادا کرے گا ،فلاں (ابوبکر) آگے آئے اور کہا میں یا رسول اللہ ۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جاؤ دفان ہو۔ توپھر دوسرا شخص (عمر) آگے بڑھا اور کہا میں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا : جاؤ ہٹو ۔

____________________

(۱) السیرة الحلبیہ :۲ ۷۳۷۔ السیرة النبویة (ابن ہشام) : ۳ ۷۹۷۔ مسند احمد :۱ ۹۹۔ الاحادیث المختارہ : ۲ ۲۷۵۔ فتح الباری :۷ ۳۶۵۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ نیز اس حدیث کو بخاری و مسلم نے بطور اختصار بیان کیا ہے ۔ دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۷۶۔ صحیح مسلم :۵ ۱۹۵۔

۲۳۰

پھر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے مجھ کو مکرم و محترم قرار دیا میں علم اس کو دونگا کہ جو میدان سے نہیں بھاگے گا ، اے علی آؤ اوراس علم کو لو آپ نے علم کو لیا اور میدان کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کے ہاتھوں سے در خیبر کو اکھاڑا اور فتح و کامیابی عطا فرمائی ۔(۱)

یہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''غیر فرار'' (۲) ا یسا مرد ہے کہ جو کبھی نہ بھاگے یا''رجلا لایفر'' (۳) وہ مرد کہ جو فرار اخت یار نہ کرے یہ ابوبکر و عمر کے لیے کنایہ ہے ، اور ظاہر ہے کہ میدان جنگ سے بھاگنے سے کون سا بھاگنا برا اور بدتر ہوگا چونکہ نصوص روایات میں بہت قابل افسوس عبارات مذکو رہیں مثلا ابوبکر نے علم کو لیا''فانهز م بها '' (۴) پس اس نے شکست و ہار مان ل ی اور بھاگ کھڑے ہوئے اور پھر عمر نے لیا''صارغیر بعیدثم انهزم '' (۵) تھوڑ ی دیر نہ لگی کہ وہ ہار کے بھاگے آئے ۔

____________________

(۱) مسند احمد :۳ ۱۶۔ فضائل احمد :۲ ۵۸۳۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) :۲ ۳۵۲۔ مجمع الزوائد:۶ ۱۵۱۔ تالی تلخیص المتشابہ (خطیب بغدادی) :۲ ۵۲۸۔

(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۵۶۔ مناقب خوارزمی ۱۷۰۔ روضہ کافی :۸ ۳۵۱، حدیث ۵۴۸۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۲۳،حدیث ۳۶۳۹۳۔

(۳) مسند احمد :۳ ۱۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ مناقب کوفی :۲ ۴۹۵، حدیث ۹۹۵۔ البدایة والنہایة : ۴ ۲۱۲۔ و جلد : ۷ ۳۷۵۔

(۴) مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۴۹۷، حدیث ۱۷۔ و جلد :۸ ۵۲۲،حدیث ۱۱۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔کنزالعمال :۱۲۱۱۳،حدیث ۳۶۳۸۸۔

(۵) کشف الیقین ۱۴۰۔

۲۳۱

اور روایات میں مذکور ہے کہ عمر میدان سے بھاگ کر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے اس صورت میں کہ وہ ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت اپنے ساتھیوں کی طرف دے رہے تھے اور ان کے ساتھی ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت ان کی طرف دے رہے تھے ۔(۱)

یا یہ کہ ابوبکر نے علم کو لیا اور کامیاب نہ ہوئے تو اگلے روز عمر نے علم کو لیا اور شرمندہ ہوکر واپس آئے لوگ مشکلات میں پڑگئے(۲) یایہ کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے علم مبارک کو اپنے مہاجرین اصحاب میں سے ایک کو دیااس نے بھی کچھ نہ کیا اور بھاگ کھڑے ہوئے اور دوسرے (عمر) کودیا تو اس نے بھی کچھ نہ کردکھایا اور بھاگ آئے۔(۳) اصحاب نے ب یعت شجرہ میںیہ عہد و پیمان کیا تھا کہ دشمن کے سامنے سے نہیں بھاگیں گے جب کہ یہ کام اس عہد کوتوڑنے کے مترادف تھا ۔ جناب عباس پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا اور امام علی نے اس مطلب کی طرف اشارہ فرما یا ہے اس وقت کہ جب آپ دونوں حضرا ت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث کے مطالبے کے لیے دربارخلافت میںگئے اور جو کچھ ان دونوں نے کہا یہ تھا کہ ابوبکر و عمر جھوٹے ، گنہکار ، عہد توڑنے والے اور خائن ہیں ۔(۴)

____________________

(۱) مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۵۲۱، حدیث ۷۔مستدرک حاکم :۳ ۳۸۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۹۷۔ اصول کافی : ۱ ۲۹۴، حدیث ۳۔

(۲) السنن الکبری(نسائی ) :۵ ۱۰۹، حدیث ۸۴۰۳۔ مجمع الزوائد :۶ ۱۵۰۔(ہیثمی کا بیان ہے کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں) ۔ البدایة النہایة :۷ ۳۷۳۔

(۳) السیرة الحلبیہ: ۳ ۷۳۲ ۔ اور اس سے منقول ہے الغدیر: ۷ ۲۰۳ میں ۔

(۴) دیکھیے : صحیح مسلم :۵ ۱۵۲۔

۲۳۲

یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے بیعت شجرہ کے بعد اہل مکہ سے صلح فرمائی چونکہ مسلمانوں نے کفار مکہ پر حملہ کیا اور قریش نے مسلمانوں کو شکست دے کر بھگادیا پھر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو بھیجا آپ نے ان کو شکست دی اور بھگایا ، بھاگنے والے مسلمانوں نے توبہ کی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اب آئیے دوبارہ بیعت کیجیے تم لوگوں نے عہد کو توڑا ہے جب کہ یہ عہد کیا تھا کہ کبھی دشمن کے مقابل میدان سے نہیں بھاگیں گے ۔ اسی وجہ سے ان کے اس عہد و پیمان کو بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ بیعت رسول خدا کی نافرمانی اور معصیت کے بعد آپ کو راضی و خوشنود کرنے کے لیے انجام پائی تھی ۔ پس ابوبکر و عمر اور دیگر مسلمانوں کا جنگ خیبر و حنین وغیرہ سے فرار اور بھاگنا گویا بیعت رضوان کو توڑنا ہے ۔(۱)

صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ عمر نے عباس وعلی سے مخاطب ہوکر کہا ۔ ۔ ۔ اس وقت کہ جب ابوبکر نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے اور جو کچھ ہم سے رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہے ۔ تم دونوں حضرات اس کو جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن جانتے ہو جب کہ ابوبکر دنیا سے جاچکا ہے اور اب میں ابوبکر اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ول ی ہوں جب کہ تم دونوں حضرات مجھ کو بھی جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن مانتے ہو۔(۲)

____________________

(۱) الصراط المستقیم :۳ ۱۱۰ـ ۱۰۱۔

(۲) صحیح مسلم :۵ ۱۵۲، کتاب الجہاد و السیر، باب حکم الفئی۔ اور دیکھیے صحیح بخاری : ۴ ۴۴، باب فرض الخمس ۔ و جلد : ۵ ۲۳ـ۲۴، کتاب الجہاد و السیر۔ تفسیر ابن کثیر :۴ ۲۵۹۔ شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید): ۱۶ ۲۲۲۔ تاریخ المدینہ (ابن شبہ) :۱ ۲۰۴۔

۲۳۳

بہر حال ان تمام حالات و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوبکر ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس کی نظر میں، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داماد علی کی نظر میں اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی فاطمہ کی نظر میں جھوٹے و گنہکار ہیں ، اور کوئی بھی جھوٹا ، صادق و سچا نہیں ہوسکتا تو پھر صدیق کیسے ہوسکتا ہے ؟۔

ابن شہر آشوب نے مناقب میں لکھا ہے :

متکلمین کہتے ہیں کہ علی کی امامت کے دلائل میں سے یہ خداوندعالم کا فرمان ہے( یا ایها الذین آمنو ا اتقو الله و کونوا مع الصادقین ) (۱) اے ا یمان لانے والوخداسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ۔ہم نے آپ کو اس صفت پر پورا پایا ،چونکہ خداوندعالم فرماتا ہے( والصابرین فی الباساء والضراء و حین البأس اولٰئک الذین صدقوا و اولٰئک هم المتقون ) (۲) وہ لوگ سخت یوں اور پریشانیوں میں اور وقت جنگ صابر و ثابت قدم ہیں ، سچے ہیں اور یہی لوگ متقی و پرہیز گار ہیں ۔

اسی وجہ سے یہ اجماع متحقق ہوچکا ہے کہ علی دوسروں کی نسبت امامت کے زیادہ حق دار ہیں چونکہ وہ میدان جنگ سے کبھی نہیں بھاگے جب کہ دوسروں نے بارہا راہ فرار اختیار کی ۔(۳)

شیخ مفید نے اپنی کتاب ''الجمل و النصرة لسید العترةفی حرب البصرة'' میں عمر بن آبان سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ جب امیر المؤمنین نے اہل بصرہ پر کامیابی حاصل کرلی۔

____________________

(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔

(۲) سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۷۷۔

(۳) مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۹۳۔

۲۳۴

تب کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المؤمنین کیا سبب تھا کہ عایشہ آپ کے خلاف نکل پڑیں اور لوگوں سے آپ کے خلاف مدد مانگی اور ان کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور بات یہاں تک پہنچی کہ آپ سے جنگ ہوئی ، جب کہ وہ دوسری عورتوں کی طرح ایک عورت ہیں ان پر جنگ واجب نہیں تھی ، جہاد ان سے ساقط تھا ، ان کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں تھی ، ان کے لیے لوگوں کے درمیان آنا اور ظاہر ہونا بھی مناسب نہیں تھا اور وہ افراد بھی کہ جو ان کے لشکر کی کمانڈ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے وہ بھی اس قابل نہ تھے ۔

امیر المؤمنین نے فرمایا: میں آپ لوگوں سے چند چیز یںبیا ن کرتا ہوں کہ جو عایشہ کے دل میں مجھ سے حسد و کینہ کا سبب بنیں جب کہ ان میں سے میں کسی میں بھی گنہکار نہیں ہوں جب کہ وہ مجھے سزاوار سمجھتی ہیں ۔

۱ـ رسول خدا نے مجھے ان کے باپ پر برتر ی بخشی ، اور ہر مہم کام میں مجھے ان پر مقدم رکھتے تھے عایشہ کے دل میں حسد بیٹھ گیا چونکہ وہ جانتی تھیں کہ ابوبکر کے دل میں مجھ سے حسد ہے لہذا انہوں نے بھی اپنے باپ کی پیروی کی ۔

۲ـ جب پ یغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام اصحاب کے درمیان بھائی چارگی اوررشتہ اخوت قائم کیا تو ان کے باپ اور عمر کے درمیان بھائی چارگی قائم کی اور جب کہ مجھے خود اپنے لیے انتخاب فرمایا اور رشتہ اخوت قائم کیا ۔ یہ کام عایشہ کو بہت ناگوار گذرا اور مجھ سے حسد کرنے لگیں ۔

۳ـ خداوندعالم نے تمام اصحاب کے دروازے کہ جو مسجد م یں کو کھلتے تھے ،بند کروادیے سوائے میرے گھر کے دوازے کے ۔ تو جب ان کے باپ کے گھر کا دروازہ ،اور ان کے دوست جیسے عمر کے گھر کا دروازہ بند ہوا جبکہ میرے گھر کا دروازہ مسجد میں کھلا رہا ۔

۲۳۵

تب اس سلسلے میں کچھ لوگو ں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتراض ک یا تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا : میں نے آپ لوگوں کے گھروں کے دروازوں کو بند نہیں کیا اور میں نے علی کے گھر کے دروازے کو کھلا نہیں رکھا ہے ، بلکہ یہ حکم الٰہی ہے ۔ابوبکر کو اس کام پر بہت غصہ آیا اور اپنے گھر والوں کے درمیان الٹی سیدھی باتیں کہیں کہ جو ان کی بیٹی نے سنیں اور اس کے بعد سے مجھ سے حسد میں اضافہ ہوا ۔

۴ـ رسول خدا نے جنگ خ یبر میں علم ان کے باپ کو عطا کیا اور ان کو لشکر اسلام کا سردار بنایا ، خیبر کو فتح کرنے کے لیے بھیجا تاکہ یا خیبر کو فتح کریں یا شہید ہوجائیں جب کہ وہ ثابت قدم نہ رہ سکے اور ہارمان کر بھاگ آئے ، اس کے اگلے روز علم عمر بن خطاب کودیا اور جیسا کہ ابوبکر کو حکم دیا تھا ان کو بھی وہی حکم دیا لیکن وہ بھی دشمن کے مقابل نہ ٹھہر سکے اور ہار کے بھاگ آئے ۔ یہ کارنامہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بہت برالگا اور آپ نے اپنے لشکر کے درم یان بلند آواز سے فرمایا :کل میں علم اس کو دوں گا کہ جو مرد ہوگا خدا اور رسول اس کو دوست رکھتے ہوںگے اور وہ خداورسول کو دوست رکھتا ہوگا ، حملہ کرنے والا ہوگا بھاگنے والا نہیں ہوگا اور خیبر کو فتح کیے بغیر واپس نہیں آئے گا۔

اس روز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علم مجھے عطا فرما یا میں نے صبر کیا ، ثابت قدم رہا یہاں تک کہ خداوندعالم نے میرے ہاتھوں خیبر کو فتح کرایا اور کامیابی بخشی ، اس کام سے عایشہ کے باپ بہت غمگین ہوئے اور مجھ سے کینہ و حسد میں اور بھی اضافہ ہوگیا جب کہ میں ان کاموں میں ان کے حق میںبالکل بھی خطاکار و مقصر نہیں ہوں لیکن عایشہ نے بھی اپنے باپ کی وجہ سے مجھ سے حسد کیا ۔

۵ـ رسول خدا نے ا بوبکر کو کفار و مشرکین مکہ کے لیے سورہ برأت کی تلاوت کرنے کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ مشرکین کے عہد کو توڑنا اور ان کے درمیان یہ آیات تلاوت کرنا اور بلند آواز سے یہ پیغام الہٰی پہنچانا ، وہ یہ پیغام لے کرچلے اور راستہ میں منحرف ہوگئے ۔

۲۳۶

پھر خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی کہ ان کو پلٹائیں اور ان آیات کو ان سے واپس لیں اور مجھے عطا کریں پس وہ آیات لطف الہٰی سے مجھے عطا کی گئیں اور عایشہ کے باپ واپس آگئے ۔جو کچھ خداوند متعال نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی جانب سے کوئی حق ادا نہیں کرسکتا مگر آپ خود یا آپ ہی سے کوئی مرد۔اور میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہوں اور وہ مجھ سے ہ یں ۔لہذا ابوبکر اس کا م کی وجہ سے مجھ سے بہت حسد کرنے لگے جب کہ اس معاملے میں بھی ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی پیروی کی ۔

۶ـ عا یشہ کو خدیجہ بنت خویلد بری لگتی تھیں جیسا کہ معمولا تمام سوتن ہی ایک دوسرے کو برا سمجھتی ہیں ۔ عایشہ بھی خدیجہ سے دشمنی رکھتی تھیں جب کہ خدیجہ کے مقام و منزلت کو رسول خدا کی نظرمیں پہچانتی تھیں اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خدیجہ کا اس قدر احترام کرنا عایشہ کو برا لگتا تھا ، سخت ناگوار گذرتا تھا اور ان میں تحمل و برداشت کا مادہ نہ تھا۔یہ خدیجہ سے نفرت پھر فاطمہ کی طرف منتقل ہوگئی کہ جس کے نتیجے میں عایشہ خدیجہ ، فاطمہ اور مجھ سے بھی بیزار ہوگئیں ۔ جب کہ معمولاً سوتنوں کے درمیان یہ حالات معروف ہیں ۔

۷ـ اس سے پہلے کہ پ یغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کو پردے کا حکم آئے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا عایشہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے د یکھا، میرے بیٹھنے کے لیے جگہ فراہم کی اور مجھ سے فرمایا آؤ ہمارے پاس آجاؤ ، اتنا قریب بلایا کہ مجھے اپنے اور عایشہ کے درمیان بٹھالیا ، یہ کام عایشہ پر بہت سخت و ناگوار گذرا اور خواتین کی تند رفتاری اور ناز نخوت کی طرح مجھ سے مخاطب ہوئیں اور کہا اے علی آپ کو بیٹھنے کے لیے میری ران کی جگہ کے علاوہ کوئی اور جگہ نہ مل سکی ۔

۲۳۷

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ کلام برا لگا اور ان کی اس رفتار سے ناراض ہوگئے اور غصے میں فرمایا کیا یہ باتیں علی سے کہہ رہی ہو ، خداکی قسم وہ مجھ پر سب سے پہلے ایمان لائے ہیں اور میری تصدیق کی ہے اور وہ سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آئیںگے اور وہ امر الہٰی او ر امور دین میں عہد و پیمان پر ثابت قدم رہنے والے سب لوگوںسے زیادہ حق دار ہیں ، کوئی بھی ان سے دشمنی نہیں رکھے گا مگر یہ کہ خداوندعالم اس کی ناک کو جہنم کی آگ سے رگڑ دے گا۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان اور میری تمجید سے عایشہ کے غیظ و غضب میں اور اضافہ ہوگیا ، مجھ سے اوربھی زیادہ نفرت و حسد کرنے لگیں ۔

۸ـ جس وقت عا یشہ سے متعلق لوگوں میں ایک تہمت مشہور ہوئی تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے طلب فرماکر معلوم کیا ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ اس بات کی حقیقت اس کی کنیز بریرہ سے معلوم کریں ،اگر معلو م ہوگیا کہ یہ تہمت صحیح ہے تو ان کو چھوڑ دینا عورتیں اور بہت زیادہ ہیں ۔رسول خدا نے اس مسئلہ کے متعلق مجھے ہی حکم دیا کہ میں بریرہ سے دریافت کروں ، عایشہ کی صورتحال اور اس کی تحقیق میری گردن پرآگئی، میں نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس کام کو انجام دیا ۔ اس وجہ سے بھی عایشہ کے دل میں مجھ سے نفرت اور زیادہ ہوگئی جب کہ خدا کی قسم میرا کوئی برا ارادہ نہیں تھا بلکہ میں نے خدا اور اس کے رسول کے لیے خیر خواہی چاہی ۔

اسی طرح کے اور بھی بہت سے موارد ہیں لہذاآپ اگر چاہیں تو خود عایشہ سے ہی معلوم کرلیں کہ ان کو کیا حسد تھا اور کیا سبب ہوا کہ وہ میرے خلاف جنگ پر نکل آئیں ، لوگوں کو بیعت توڑنے پر مجبور کیا ، میرے چاہنے والوں کا خون بہایا ، بغیر کسی دینی و الہٰی سبب کے مسلمانوں کے درمیان اپنے حسد کو میرے خلاف آشکار کیا اورلوگوں کو میرا دشمن بنادیا ، جب کہ خداوند مددگار ہے اور وہی نصرت کرنے والا ہے ۔

۲۳۸

ان افراد نے کہا اے امیرالمؤمنین بات یہی ہے کہ جو آپ نے فرمائی ہے خدا کی قسم آپ نے ہمارے ا فکار و احساسات کو صاف کردیا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خداو رسول کے نزدیک ان لوگوں سے کہ جنہوں نے آپ سے دشمنی کی زیادہ اولیٰ و حق دار ہیں ۔

اس وقت حجاج بن عمر و انصاری اٹھے اور آپ کی شأن میں کچھ اشعار پڑھے(۱)

ان تما م باتوں کے علاوہ اگر خطبہ حضرت فاطمہ زہرا پر غور کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ نے لوگوں کو تذکر دیا ہے کہ خداوندعالم نے ان کے والد گرامی حضرت محمد کواس وقت انتخاب فرمایا کہ جب مخلوق عالم ذر میں پوشیدہ تھی اور آپ کو لوگوں کے درمیان بھیجنے سے پہلے منتخب فرمایا ۔ حضرت فاطمہ زہرا کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ازل سے ہی اور اس سے پہلے کہ خداوندعالم خلائق کو وجود بخشتا، خدا کے نزدیک منتخب تھے اور خود آنحضرت نے بھی اسی مطلب کا تاکیدسے ارشاد فرمایا : '' کنت نبیا و آدم بین الماء الطین ''(۲)

میں اس وقت بھی نبی تھا کہ جب آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔

____________________

(۱) الجمل (مفید)۲۲۰۔ اس میں حجاج بن عمرو کی جگہ حجاج بن عزمہ مذکور ہے ۔

(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۱۸۲۔ عوالی اللئالی :۲ ۱۲۱۔ ینابیع المودة : ۱ ۴۶ ۔ اور طبقات ابن سعد :۱ ۱۴۸ ۔ میں مذکور ہے کہ بین الروح والطین من آدم ۔ اور سیرة النبویة (ابن کثیر) :۱ ۳۴۷ میں مذکور ہے کہ '' وآدم منحدل فی الطین ''۔ اور دیکھیے مسند احمد :۴ ۶۶۔ مستدرک حاکم :۲ ۶۰۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۴۳۸۔ المعجم الکبیر : ۱۲ ۷۳۔ الاحتجاج (طبرسی ) :۲ ۲۴۸۔ الفضائل (ابن شاذان) ۲۴۔ اسدالغابہ :۳ ۱۳۲۔ اور دوسرے مدارک و منابع کہ جن میں '' وآدم بین الروح و الجسد '' مذکور ہے ۔ ۔ ۔ ۔بقیہ اگلے صفحہ پر ۔ ۔ ۔

۲۳۹

امیر المؤمنین امام علی نے حارث ہمدانی کو اس بات کی طرف توجہ دلائی اور تاکید فرمائی کہ آپ نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق اس عالم میں کی کہ جب آدم روح و بدن کے درمیان تھے ۔ لہذا آپ کا ارشاد گرامی ہے : میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں میں نے سب سے پہلے آپ کی تصدیق اس وقت کی کہ جب آدم روح و جسد کے درمیان تھے اور آپ کی امت میں بھی حقیقتاً و بدون شک و تردید میں سب سے پہلے تصدیق کرنے والا ہوں ۔(۱)

اور اس سے پہلے آپ کا کلام گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : خداوندعالم نے پیغمبرا کرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بچپنے ہ ی میں جب سے آپ کا دودھ چھٹا آپ کے ہمراہ روح القدس سب سے بڑے فرشتے کو قرار دیا اور اس کو آپ کا ہمدم و قرین بنایا اس طرح آپ کی رسالت کا آغاز ہوا ، میں اونٹنی کے بچے کی طرح آپ کے ہمراہ رہا کہ جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے لگار ہتاہے اسی طرح میں رسول خدا کی پیروی کرتا رہا ۔(۲)

____________________

۔ ۔ ۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔

شیخ سعدی شیرازی نے اس حدیث کو اپنی کتاب بوستان کے دیباچہ میں شعر کی صورت میں پیش کیا ہے۔

بلند آسمان پیش قدرت خجل تومخلوق و آدم ھنوز آب و گل

بلند و بالا آسمان آپ کی قد رو منزلت کے حضور شرمندہ ہے کہ آپ کی خلقت ہوچکی ہے جب کہ ابھی آدم پانی و مٹی کے درمیان ہیں ۔(م)

(۱) امالی (مفید ) ۶، مجلس اول ، حدیث ۳۔ امالی طوسی ۶۲۶، حدیث ۱۲۹۲۔ کشف الغمہ :۱ ۴۱۲۔ بحارالانوار :۳۹ ۳۹۔

(۲) نہج البلاغہ :۲ ۱۵۷ ، ضمن خطبہ ۱۹۲۔

۲۴۰

مسلمان ہوا(۱)

نبوت کے گیارہویں سال نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایام حج ہی میں قبائل کو دعوت اسلام دینے اور ان سے مدد طلب کرنے کیلئے نکلے_ پس عقبہ (ایک گھاٹی) میں قبیلہ خزرج کے ایک گروہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملاقات ہوئی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور قرآن پڑھ کر سنایا_یوں وہ مسلمان ہوئے اور ان کی تعداد چھ تھی،جو یہ افراد ہیں: اسعد بن زرارہ، جابر بن عبداللہ، عوف بن حارث، رافع بن مالک اور عامر کے دوبیٹے عقبہ و قطبہ_ایک قول کی بنا پر وہ آٹھ تھے_ان کی تعداد اس کے علاوہ بھی بتائی گئی ہے (نیز ان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے اور مذکورہ افراد کی جگہ دیگر افراد کا نام بیان ہوا ہے_بہرحال اس بات کی تحقیق کی یہاں گنجائشے نہیں)_

خلاصہ یہ کہ یہ حضرات اپنی قوم و قبیلے کے پاس مدینہ لوٹ گئے، انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بارے میں بتایا اور اسلام کی دعوت دی_اس کے بعد بعثت کے بارہویں سال یعنی ہجرت سے صرف ایک سال پہلے عقبہ کی دوسری بیعت ہوئی(۲) _

اس گفتگو کو جاری رکھنے سے پہلے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرتے چلیں:

۱_ اہل کتاب کی پیشگوئیاں

گزشتہ معروضات سے معلوم ہوا کہ اہل مدینہ یہودیوں کی زبانی یہ سنتے آئے تھے کہ عنقریب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ظہور ہونے والا ہے_یہ بات اس نئے دین کو قبول کرنے کیلئے ان میں نفسیاتی طور پر آمادگی پیدا ہونے کا باعث بنی_

۲_ اوس وخزرج کے اختلافات

اوس وخزرج کے درمیان خونریز جنگیں ہوئی تھیں آخری جنگ، جنگ بعاث تھی جس میں اوس کو فتح ہوئی تھی اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم شعب ابیطالب میں محصور تھے_ یوں اوس وخزرج کی دشمنی نہایت زوروں

___________________

۱_ بحار ج ۱۹ص ۹و اعلام الوری ص ۵۷علی بن ابراہیم سے _

۲_ بحار ج ۱۹ ص ۹ اور اعلام الوری ص ۵۷ از علی بن ابراہیم_

۲۴۱

پرتھی_ کہتے ہیں کہ وہ دن رات ہتھیاربند رہتے تھے_(۱) بالفاظ دیگر وہ اپنے محدود مالی وسائل کے ساتھ شدید ترین حالات میں ممکنہ حد تک نبرد آزماتھے_

فطری بات ہے کہ وہ اس بحرانی حالت سے نکلنے کیلئے فرصت کی تلاش میں تھے اور قطع شدہ روابط کی بحالی کے منتظر تھے جیساکہ اسعد بن زرارہ نے (چند سطر قبل) اس کی تصویر کشی کی_ یہ وہی اسعد ہے جو قبیلہ اوس کے خلاف عتبہ بن ربیعہ کو حلیف بنانے کیلئے آیا تھا_

بنابریں اہل مدینہ ظلم وانحراف کا مزہ چکھ چکے تھے اور کسی نجات دہندہ کے متلاشی تھے_ چنانچہ انہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کوہی اپنا حقیقی نجات دہندہ پایا جوان کے پاس اسلام کی آسان شریعت لے کرآیا تھا_ چنانچہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے کہا:'' ہم اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہونے والی گفتگو سنائیں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہمارے مائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو باہمی دشمنی کی حالت میں چھوڑ آئے ہیں_ ہم عربوں کے کسی زندہ گروہ کے درمیان اس قدر دشمنی نہیں دیکھتے جس قدر ان کے درمیان پاتے ہیں_ ہم ان کے پاس وہ باتیں لے کر لوٹیں گے جو ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنی ہیں_ شاید خدا ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طفیل ان کے درمیان صلح اور باہمی الفت پیدا ہوجائے''_(۲)

۳_ اسلام کی سہل وآسان تعلیمات

اسلام کی تعلیمات صاف ستھری ،فطرت کے ساتھ سازگار،ہر قسم کی پیچیدگی و ابہام سے پاک اور سہل وآسان ہیں_ ان تعلیمات کی حقانیت کو جاننے کیلئے گہرے غوروفکر یا اس کے اہداف کو سمجھنے کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے نتائج سے باخبر ہونے کیلئے کہانت اورغیب گوئی کی حاجت ہے_

___________________

۱_ بحار ج ۱۹ ص ۸ ، ۹ ، ۱۰ نیز اعلام الوری ص ۵۵_

۲_ الثقات ابن حبان ج ۱ص ۹۰_۹۱_

۲۴۲

اس لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل مدینہ اسلام کے اہداف اور اصولوں کا تذکرہ سنتے ہی ایمان لے آئے ہیں_ جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مدینہ والوں کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ تھا جن کا اہل مکہ کو سامنا تھا تو مذکورہ حقیقت زیادہ واضح ہوتی ہے_ (کیونکہ مکہ والے اسلام کو اپنے ذاتی مفادات، خودساختہ وظالمانہ امتیازات نیز اپنی خواہشات اور انحرافی روش کیلئے خطرہ تصور کرتے تھے جیساکہ ہم نے کئی مرتبہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے)_

مدینہ والوں نے یہودیوں کی پیش گوئیوں کے علاوہ شروع ہی سے یہ دیکھ لیا تھا کہ اسلامی تعلیمات ہی ان کی نجات و ہدایت اور موت کی بجائے زندگی عطا کرنے کی ضامن ہیں _نیز یہی تعلیمات ہی فطرت اور عقل سلیم کے موافق ہیں، خواہ عقائد اور قوانین کے لحاظ سے ہوں یا معاشرتی اور سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے _چنانچہ انہوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آپ کی دعوت کے بارے میں سوال کیاتو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میری دعوت یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں_ میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دو، والدین کے ساتھ احسان کرواور تنگدستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو_ ہم ہی تم کو اور ان کو روزی دیتے ہیں، بدکاری کے قریب نہ جاؤ_ نہ علانیة اور نہ چھپ کر_ کسی کو ناحق قتل نہ کرو مگر یہ کہ تمہیں اس کا حق حاصل ہو_ یہ وہ نصیحتیں ہیں جواللہ نے تمہارے لئے کی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو اور یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائیں مگر اس طریقہ سے جو سب سے بہتر ہو_ناپ تول میں انصاف سے کام لو، ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے_ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کو مدنظر رکھو اگرچہ وہ تمہارے رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہواور عہد الہی کو پورا کرو_ یہ خدا کی نصیحتیں ہیں تمہارے لئے تاکہ انہیں یاد رکھو''_(۱)

انہی خصوصیات کی بناپر وہ اسلام کے گرویدہ اور اس دین کی راہ میں قریش اور عربوں کے خلاف برسر پیکار ہوگئے_

___________________

۱_ سورہ ّانعام، آیت ۱۵۱_۱۵۲_

۲۴۳

۴_ اہل مدینہ اور اہل مکہ

بت پرستی (مدینہ والوں )کادین ، ان کی اندرونی مشکلات اور اختلافات کو حل کرنے سے عاجز رہا یہاں تک کہ ان مشکلات کی مدت کو بھی کم نہ کرسکا_ نہ ہی بت پرستی کے سبب اہل مدینہ کو معاشرتی یا اقتصادی یا دیگر حوالوں سے امتیازی حیثیت مل سکی_ اسی لئے بت پرستی کی بنیادیں ضعیف اور کمزورپڑتی گئیں_ عقل سلیم اورفطرت کے ساتھ اس کی مخالفت نے اس ضعف اور کمزوری میں مزید اضافہ کیا_ پھر خدا کی طرف بلانے والے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ ظہور قریب ہونے کے بارے میں یہودیوں کی پیش گوئیوں نے مذکورہ کمزوریوں کو اور زیادہ کردیا_

یہ مشرکین مکہ کی حالت کے بالکل برعکس تھا وہ بت پرستی کے ذریعے سماجی اورسیاسی طور پر فائدہ حاصل کر رہے تھے_ انہوں نے اپنے آپ کو اس سرزمین کے دیگر قبائل اور جماعتوں کے اجتماع کا مرکز بنالیا تھا_ مکہ والوں نے اپنے لئے ناجائز مراعات اور امتیازات کی بنیادوں کو مستحکم کرلیا تھا_ وہ حق اور انسانیت کی خدمت کے نام پر ان ناجائز مراعات سے دست بردار ہونے کیلئے آمادہ نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے ذاتی مفادات، انحرافی اعمال اور ناجائز مراعات کے اوپر انسانیت اور حق کو قربان کر رہے تھے_

علاوہ ازیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئےس کا ہم اسلام کی کامیابی اور ترویج کے اسباب کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں _یہاں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عظیم شخصیت، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بلند اخلاق، قریش اورعرب کے بہترین گھرانے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعلق (نیز بعض لوگوں کے نظریئےے مطابق آپ کی والدہ، آمنہ بنت وہب کے واسطے سے بنی نجار اور خزرجیوں سے قریبی رشتہ داری)(۱) وغیرہ نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے اور اسلام کی راہ میں قربانی دینے میں اہم کردار ادا کیا_

___________________

۱_ البتہ یہ ایسا دعوی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ صرف رشتہ داری مذکورہ باتوں کا باعث نہیں بن سکتی_

۲۴۴

تیسری فصل

بیعت عقبہ

۲۴۵

عقبہ کی پہلی بیعت

کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہونے والے یہ حضرات مدینہ پہنچے تو انہوں نے اہل مدینہ کے پاس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر کیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی_ یہ بات ان کے درمیان پھیلی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انصار کے ہر گھر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا_

جب دوسرا سال یعنی بعثت کا بارہواں سال ہوا تو بارہ آدمی مکہ آئے جن میں سے دو کا تعلق قبیلہ اوس سے اور باقیوں کا خزرج سے تھا_ انہوں نے عقبہ کے مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ملاقات کی اور عورتوں والی بیعت کی( یعنی وہ بیعت جس میں جنگ کا تذکرہ نہ ہو )_بالفاظ دیگر انہوں نے اس بات کی بیعت کی کہ وہ کسی کو خدا کا شریک قرار نہیں دیں گے، چوری اور زنانہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل کرنے سے احتراز کریں گے، اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان گھڑکے نہ لائیں گے، کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کریں گے_ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کی جزا جنت ہوگی اور اگر عہدشکنی کریں تو ان کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہوگا تاکہ اگر وہ چا ہے تو ان کو مبتلائے عذاب کرے اور اگر چا ہے تو بخش دے_

جب وہ مدینہ لوٹے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیر کو بھیجا تاکہ وہ انہیں قرآن اوراسلام کی تعلیم دے اور ان میں دین سے آشنائی پیدا کرے_ لوگ مصعب کو مقری کے نام سے یاد کرتے تھے_حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابن ام مکتوم کو بھی مدینہ بھیجا(۱) جیساکہ نقل ہوا ہے_ حضرت مصعب نے مدینہ میں پہلی بار

___________________

۱_ سیرت نبویہ دحلان ج ۱ص ۱۵۱_۱۵۲ا ور السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۹ اس میں ہے کہ واقدی نے بیان کیا ہے کہ ابن ام مکتوم بدر کے کچھ عرصہ بعد مدینہ آیا، ابن قتیبہ کے کلام میں وہ بدر کے ۲ سال بعد مدینہ ہجرت کرکے آیا_ اس کے بعد حلبی نے ان اقوال کو جمع کرنے کی غرض سے یہ احتمال دیا ہے کہ وہ پہلے اہل مدینہ کو پڑھاتا تھا پھر مکہ واپس آگیا اور اس آمدورفت کے بعد وہ بدر کے بعد دوبارہ ہجرت کرگیا یہ ایک قابل قبول احتمال ہے_

۲۴۶

نماز جمعہ قائم کی_

حضرت مصعب اور ان کے دیگر مسلمان ساتھی تبلیغ اسلام میں کامیاب رہے اور حضرت سعد بن معاذ مسلمان ہوگئے جو اپنے قبیلے بنی عمیر بن عبدالاشہل کے قبول اسلام کا باعث تھے_ چنانچہ وہ مصعب کے ہاتھوں قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کے پاس گئے اور ان سے کہا: ''اے بنی عبدالاشہل تم اپنے درمیان میری حیثیت کو کیسے پاتے ہو''؟

وہ بولے:'' تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے ہم سے بہتر ہے، تم اورتمہارا حکم ہماری بہ نسبت زیادہ با برکت ہے''_

یہ سن کر سعدنے کہا: ''پھر جب تک تم لوگ اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان نہ لے آؤ ، میںتمہارے مردوں اور عورتوں کے ساتھ گفتگو حرام سمجھوں گا''_

راوی کہتا ہے قسم ہے اللہ کی، بنی عبد الاشہل کے کسی گھرمیں نہ کوئی مرد ایسا رہا نہ عورت جو شام ہونے سے پہلے ہی مسلمان نہ ہوگیا ہو(۱) _وہ سب ایک ہی دن میں مسلمان ہوئے( سوائے عمرو بن ثابت کے جنہوں نے جنگ احد تک اسلام قبول نہ کیا،اس کے بعد مسلمان ہوئے_ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہونے کے فوراً بعدکوئی سجدہ کرنے (نماز پڑھنے) سے پہلے شہید ہوگئے مصعب بن عمیر لوگوں کو بدستور اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ انصار کے مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کرلیا سوائے قبیلہ اوس کے بعض لوگوں کے، جواپنے ایک سردار کی متابعت میں مسلمان نہیں ہوئے تھے_ یہ سردار ہجرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدمسلمان ہوا_(۲)

یہ تھا مورخین کا بیان، لیکن ہم چند جگہوں پر اظہار نظر کرنا چاہتے ہیں_

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے لئے ملاحظہ ہو: سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۷۹ ، ۸۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۴ ، تاریخ الامم و الملوک (طبری) ج۲ ص ۹۰ اور السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴_

۲_ السیرہ النبویہ ( ابن کثیر) ج۲ ص ۱۸۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ص۹۰ ، سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۷۹ ، ۸۰ نیز سیرہ حلبیہ ج۲ حاشیہ ص ۱۴_

۲۴۷

سعد بن معاذ کی اپنی قوم کو دعوت

خدا کی طرف دعوت دینے کا حکم فقط انبیاء اور اوصیاء کے ساتھ مختص نہیں بلکہ یہ حکم ہر مکلف کو(اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق) شامل ہے_ یہ ان امور میں سے ہے جن کا عقل سلیم حکم دیتی ہے اور ہر مکلف پر ان کو لازم قرار دیتی ہے_ یہ کام شرعی اجازت کا بھی محتاج نہیں_ کیونکہ عقل سلیم اس بات کا باآسانی ادراک کرتی ہے کہ واجبات کا ترک کرنا، برائیوں کا مرتکب ہونا نیز افکار و اعتقادات اور کردار کا انحراف، موجودہ اور آئندہ نسلوں کیلئے عظیم نقصان کا باعث ہیں _اسی لئے صحیح طرزفکر اختیار کرنے، برائیوں سے اجتناب کرنے اور نیک کاموں کو انجام دینے کی دعوت دینے کا حکم دیتی ہے_

خدا کی طرف دعوت دینے کیلئے حضرت سعد کی بے چینی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے_ چنانچہ بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ سعد اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنی گمراہی پر برقرار رہیں تو وہ ان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کردیں گے _

اس موقف کی عظمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس دور میں ایک عرب شخص کی تقدیر اور خوش بختی کس حد تک قبیلے کے ساتھ مربوط تھی نیز فرد اور قبیلے کے درمیان کس قدر ربط تھا_

قرآن بھی عقل و فطرت کے اسی حکم کی تائید کرتا ہے_ اسی لئے قرآن دینی فہم و بصیرت رکھنے والے ہر فرد پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف دعوت دے_ ارشاد الہی ہے( قل هذه سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرة انا ومن اتبعنی ) (۱) یعنی کہہ دیجئے میرا راستہ تو یہ ہے_ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں_ میں خود بھی عقل وبصیرت کے ساتھ اپنا راستہ دیکھ رہاہوں اور میرے ساتھی بھی_

اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ جو لوگ حق کو پہچان لیتے ہیں اور ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتے ہیں وہ بے اختیار کوشش کرتے میں کہ دوسرے لوگ بھی حق کی طرف آئیں، اس پر ایمان لے آئیں، اس سے استفادہ کریں اور اس کی شیرینی کو چکھ کر لطف اندوز ہوں_

___________________

۱_ سورہ یوسف، آیت ۱۰۸_

۲۴۸

اسی لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جنہیں اپنے شیعوں کی فکر تھی_ (وہی شیعہ جو امت اسلامی کے برگزیدہ بندے ہیں اوراموی اور اس کے بعد عباسی حکومتوں کے دور میں مختلف قسم کے مظالم و مصائب کا شکار رہے ) اس بات پر بے چینی کا اظہار فرما رہے ہیں کے شیعہ ان حالات کی نزاکت اور خطرات کو مدنظر نہیں رکھتے آپ مسئلہ امامت کے اظہار کیلئے ان کی بے چینی دیکھ رہے تھے_ یہ بے چینی ایمان کی مٹھاس اور تبلیغ کلمہ حق کی ضرورت سے ان کی آشنائی کا نتیجہ تھی_

امام سجادعليه‌السلام فرماتے ہیں، میں ترجیح دیتا ہوں کہ شیعوں کے درمیان موجود دو خصلتوں کو محو کرنے کے بدلے میرے بازو کا گوشت کاٹ لیاجائے _وہ دو خصلتیں یہ ہیں، جلدبازی اور راز داری کی کمی_(۱)

بیعت

اس بیعت کا متن واضح طور پر اسلامی معاشرے کی بنیادی باتوں اور اہم اصولوں کو شامل ہے _یہ بیعت نظریاتی وعملی دونوں پہلوؤں کی حامل ہے _رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے باہمی روابط سے متعلق معینہ ذمہ داریاں ان پر ڈالیں_ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے ان سے عہدوپیمان لیا تاکہ وہ اس کی مخالفت کو زبان کے احترام وتقدس کے منافی سمجھیں_ یہ عہدوپیمان بیعت کے نام سے عمل میں آیا جو ان کی طرف سے مذکورہ اصولوں پر کاربند رہنے کا مقدس وعدہ اور عہدوپیمان تھا_

لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عہد کو توڑنے، بد عہدی کرنے اور دھوکہ دینے والے کیلئے کوئی سخت سزا معین نہیں کی کیونکہ حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بات ان میں سے ہر ایک کے ضمیر پر چھوڑ دی_ ساتھ ساتھ ان کو نظریاتی اصولوں کی رسی سے بھی باندھ دیا_ نیز خطا کی صورت میں توبہ و اصلاح کی گنجائشے بھی رکھی تاکہ اگر کوئی شخص خلاف ورزی کرے تو اصلاح سے ناامید نہ ہوجائے بلکہ اس کی امیدباقی رہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا انجام خدا کے سپرد کردیا تاکہ وہ جسے چا ہے سزا دے اور جسے چا ہے بخش دے_

___________________

۱_ سفینة البحار ج ۱ ص ۷۳۳ اور بحار ج ۷۵ ص ۶۹و ۷۲ خصال سے ج ۱ ص ۲۴ کافی ج ۲ ص ۲۲۱ _

۲۴۹

نماز جمعہ

اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ مصعب بن عمیر نے ہجرت سے قبل مدینے میں مسلمانوں کیلئے نماز جمعہ قائم کی(۱) بسااوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سورہ جمعہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی_ پس مصعب نے جمعہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نماز جمعہ کیونکر پڑھائی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ ''جمّع'' (جس کا استعمال مصعب والی روایت میں ہوا تھا) سے مراد شاید یہ ہو کہ: اس نے نماز جماعت پڑھائی_ لیکن اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ اس لفظ (جمع) سے مراد یہ ہے کہ اس نے نماز جمعہ پڑھائی تو اس کے باوجود سورہ جمعہ میں خدا کا یہ ارشاد( یا ایها الذین آمنوا اذا نودی للصلاة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر الله ) (۲) یعنی اے مومنو جب جمعہ کے دن نماز کیلئے ندا دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو، جمعہ قائم کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قائم شدہ نماز جمعہ کی طرف تیزی سے بڑھنے کا حکم دیتا ہے_ بنابریں ممکن ہے نماز جمعہ، سورہ جمعہ کے نزول سے قبل مکہ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی واجب ہوئی ہو لیکن وہاں اس کا قیام ممکن نہ ہوا ہو_ یا یہ کہ خفیہ طور پر نماز ہوتی رہی ہو لیکن اس کی خبر ہم تک نہ پہنچی ہو_

اس بات کی تائید اس ارشاد الہی سے ہوتی ہے( واذا را وا تجارة او لهوا انفضوا الیها و ترکوک قائما قل ما عند الله خیر من اللهو ومن التجارة ) (۳) یعنی جب انہوں نے تجارت یا کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا_ ان سے کہو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے_ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز جمعہ اس سے قبل واجب ہوچکی تھی اور یہ کہ ان لوگوں کا رویہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ساتھ کیسا تھا_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۹ و تعلیقہ مغنی ( مطبوعہ حاشیہ سنن دارقطنی ) ج۲ ص ۵ از طبرانی، کتاب '' الکبیر '' و ''الاوسط'' میں_

۲_ سورہ جمعہ، آیت ۹_

۳_سورہ جمعہ، آیت ۱۱_

۲۵۰

اس دعوت کی تائید دارقطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن عباس سے منقول ہے_ وہ کہتے ہیں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت سے پہلے جمعہ کی اجازت دی لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ میں جمعہ قائم نہ کرسکے پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مصعب بن عمیر کو یوں خط لکھا: اما بعد جس دن یہودی لوگ بلند آواز سے زبور پڑھتے ہیں اس دن تم اپنی عورتوں اور بچوں کو جمع کرلو، جمعہ کے دن زوال کے وقت جب دن ڈھلنا شروع ہوجائے تو دو رکعت نماز، تقرب الہی کی نیت سے پڑھو_ابن عباس نے کہا مصعب وہ پہلا شخص تھا جس نے نماز جمعہ قائم کی یہاں تک کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی زوال کے بعد نماز جمعہ پڑھی اور اسے آشکار کیا_(۱)

کچھ روایات کی رو سے سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے والا اسعد بن زرارہ ہے_(۲)

عقبہ کی دوسری بیعت

مصعب بن عمیر مدینہ سے مکہ لوٹے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں اپنی جدوجہد کے نتائج پیش کئے چنانچہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس امر سے زبردست مسرت ہوئی_(۳)

بعثت کے تیرہویں سال حج کے ایام میں اہل مدینہ کاایک بہت بڑا گروہ حج کیلئے آیا جن کی تعداد پانچ سو بھی بتائی جاتی ہے_(۴) ان میں مشرکین بھی تھے اور ایسے مسلمان بھی جو مشرک زائرین سے اپنا ایمان چھپا کر آئے تھے_

ان میں سے بعض مسلمانوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ملاقات کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایام تشریق کی درمیانی رات عقبہ کے مقام پر (عام لوگوں کے سوجانے کے بعد) ان سے ملاقات کا وعدہ فرمایا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو حکم دیا

___________________

۱_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸دار قطن سے و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۲_

۲_ در المنثور ج ۶ ص ۲۱۸ ابوداود ، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی، عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر سے ، وفاء الوفا ج۱ ص ۲۳۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۵۹ و ص ۹ اور سنن دارقطنی ج ۲ ص ۵ ، ۶ اور سنن دار قطنی پر مغنی کا حاشیہ ص ۵ ( جو سنن کے ساتھ ہی مطبوع ہے )_

۳_ بحار ج ۱۹ص ۱۲میں ہے کہ معصب نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس رپورٹ لکھ بھیجی اعلام الوری ص ۵۹ میں بھی اسی طرح ہے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اوّل۱ ص ۱۴۹ _

۲۵۱

کہ وہ سونے والوں کو نہ جگائیں اور غیرحاضر افراد کا انتظار نہ کریں_یہاں سے ہمیں بیعت کیلئے اس خاص وقت کے انتخاب کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ان کا راز فاش بھی ہوجاتا تو چونکہ وہ حج کرچکے تھے اور شہر سے باہر نکل چکے تھے لہذا (قریش کیلئے) ان پر مؤثر طریقے سے دباؤ ڈالنے کی گنجائشے نہیں تھی_ نیز حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس حکم کہ نہ تو وہ سوئے ہوئے لوگوں کو جگائیں اور نہ غیر حاضر افراد کا انتظار کریں کی علت بھی معلوم ہوجاتی ہے_ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے لوگ ان کی غیرمعمولی حرکات کا مشاہدہ نہ کریں اور ان کا راز فاش نہ ہوجائے_

چنانچہ اس رات وہ لوگ اپنے کاروانوں کے ہمراہ سوگئے جب رات کا تہائی حصہ گزرچکا تو یکے بعد دیگرے چھپ چھپاکر اپنی وعدہ گاہ کی طرف سرکنے لگے_ یوں کسی کو بھی ان کے چلے جانے کا احساس نہ ہو سکا_ یہاں تک کہ وہ درے میں گھاٹی کے پاس جمع ہوگئے_ ان میں ستریاتہتر مرد تھے اور دو عورتیں تھیں_

اس مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ان کی ملاقات اس گھر میں ہوئی جس میں آپ تشریف فرماتھے_ یعنی حضرت عبدالمطلب کے گھرمیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حضرت حمزہعليه‌السلام ، حضرت علیعليه‌السلام اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس تھے_(۱)

مدینہ سے آئے ہوئے ان لوگوں نے اس بات پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھرانے کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں_ نیز یہ کہ وہ ان کو پناہ دیں گے اوران کی مدد کریں گے _سستی کی حالت ہویاچستی کی، ہر صورت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات پر لبیک کہیں گے اور اطاعت کریں گے_ خوشحالی و تنگدستی دونوں صورتوں میں مال خرچ کریں گے_ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے ، خدا کیلئے بات کریں گے اور اس سلسلے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیںگے_ (ان باتوں کے نتیجے میں) عجم ان کا فرمانبردار ہوگا اور وہ حکمرانی کیا کریں گے _

___________________

۱_ اعلام الوری ص ۵۹، تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۳، بحار ج ۱۹ ص ۱۲_۱۳ و ۴۷، قصص الانبیاء سے، سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۱۶سیرت نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۵۲_

۲۵۲

مالک نے عبادہ بن صامت سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : '' ہم نے ان باتوں پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی بیعت کی کہ ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ حالات سخت ہوں یا سازگار، خواہ طبیعت میں سستی ہو یا چستی نیز یہ کہ امر (حکومت) میں اس کے اہل سے جھگڑا نہ کریں گے_ ہر جگہ حق کی بات پر (یا حق کے ساتھ) قیام کریں گے اور خدا کے معاملے میں کسی کی ملامت سے نہ گھبرائیں گے''_(۱) سیوطی کہتا ہیں کہ لفظ امر سے اس کی مراد حکومت و سلطنت ہے_(۲)

عباس ابن نضلہ نے خصوصاً رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قول ''عجم تمہارے زیرنگیں ہوں گے اور تم بادشاہی کیا کروگے'' سے مسئلے کی نزاکت کو سمجھا_ اور یہ جان لیا کہ وہ مکہ یا جزیرة العرب کے مشرکین سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ٹکرلینے کا اقدام کر رہے ہیں_ چنانچہ اس نے چاہا کہ وہ ان لوگوں سے مزید اطمینان حاصل کرے اور بیعت کرنے والوں کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں اور کسی دن یہ نہ کہیں کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ بات یہاں تک پہنچے گی تو ہم بیعت نہ کرتے_ اس لئے اس نے کہا: '' اے اوس اور خزرج والو کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اس اقدام کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو عرب و عجم اور دنیا کے تمام حکمرانوں کے ساتھ اعلان جنگ ہے_ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جب تم پر مصیبت ٹوٹ پڑے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مد د سے دست بردار ہوجاؤگے تو پھر انہیں دھوکہ نہ دو_ کیونکہ اپنی قوم کی مخالفت کے باوجود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو عزت و تحفظ حاصل ہے''_

یہ سن کر جابر کے باپ عبداللہ بن حزام، اسعد بن زرارہ اور ابوالھیثم بن تیھان نے کہا :''تم کہاں سے بات کرنے والے آگئے؟'' پھر کہا:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارا خون اور ہماری جانیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے حاضر ہیں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اور اپنے رب کے حق میں جو بھی شرط رکھنا چاہیں رکھیں''(۳) _

___________________

۱_ الموطاء تنویر الحوالک کے طبع کے ساتھ ج ۲ ص ۴ ، سیر اعلام النبلاء ج۲ ص ۷ ، مسند احمد ج۵ ص ۳۱۴ و ۳۱۶ ، سنن نسائی ج۷ ص ۱۳۸ ، ۱۳۹ ، صحیح بخاری ج۴ ص ۱۵۶، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۴ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۹۷ ، دلائل النبوة (بیہقی) ج۲ ص ۴۵۲ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۲ ص ۲۰۴ او رصحیح مسلم ج ۶ ص ۱۶ و ۱۷ _

۲_ تنویر الحوالک ج ۲ ص ۴ _

۳_ ملاحظہ ہو : بحار الانوار ج۱۹ ص ۱۲ و ۱۳ از اعلام الوری ، دلائل النبوہ ( بیہقی)ج۲ ص ۴۵۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۱۸ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۶۲ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۲۰۱ نیز سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۷_

۲۵۳

یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اسعد بن زرارہ نے بیعت عقبہ کے وقت کہا:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہر دعوت لوگوں کیلئے سخت اور دشوار تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اپنے دین کو چھوڑ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین اپنائیں یہ ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے اس مسئلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات مان لی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اپنی باہمی حمایتوں اور قرابتوں کو (خواہ وہ قریبی ہوں یا دور کی) قطع کردیں یہ بھی ایک سخت مرحلہ تھا_ لیکن ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات پر لبیک کہا_ نیز ان حالات میں جبکہ ہم عزت و حفاظت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم ایک ایسے اجنبی کی قیادت کو تسلیم کریں جسے اس کی قوم نے تنہا چھوڑ دیا تھا اور اس کے چچاؤں نے اسے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا_ یہ بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات تسلیم کرلی ...''_(۱)

علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عباس بن عبد المطلب بیعت عقبہ کے وقت موجود تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے حق میں مزید اطمینان اور ضمانت حاصل کرلیں چنانچہ عباس نے کہا:'' اے خزرج والو ہمارے نزدیک محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جو مقام ہے وہ تمہیں معلوم ہے_ ہم نے اسے اپنی قوم سے جو ہمارے ہم مذہب ہیں محفوظ رکھا ہے_ بنابریں وہ اپنی قوم کے درمیان معزز ہے اور اپنے شہر میں خوب محفوظ ہے لیکن وہ صرف تمہارے پاس پناہ لینا اور صرف تم سے ملحق ہونا چاہتا ہے_ اگر تمہارا ارادہ یہ ہے، کہ جس مقصد کیلئے ان کو دعوت دے رہے ہو اس میں اپنے قول پر عمل کروگے اور مخالفین کے مقابلے میں ان کی حفاظت کروگے تو پھر اس ذمہ داری کو اٹھاؤ_ لیکن اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ انہیں وہاں لے جانے کے بعد دشمن کے حوالے کر کے الگ ہوجاؤگے تو ابھی سے ان کو چھوڑ دینا بہتر ہے کیونکہ وہ یہاں اپنی قوم اور شہر میں بہرحال محفوظ و معزز ہیں''_

ایک اور روایت کے مطابق عباس نے ان سے کہا:'' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے پس اگر تم صبر و استقلال، قوت، جنگی مہارت اور پورے عرب جو ایک ہی کمان سے تمہارے خلاف تیر

___________________

۱_ حیاة الصحابةج ۱ ص ۸۸ دلائل النبوة ابونعیم ص ۱۰۵سے_

۲۵۴

چلائیں گے یعنی متحد ہوکر تم سے لٹریں گے، ان کے ساتھ تنہا ٹکر لینے کی قدرت رکھتے ہو تو خوب سوچ لو اور آپس میں مشورہ کرو''_

انہوں نے اس کا جو جواب دیا اس کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_ پھر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ بارہ نقیب چن کر دیں جو کفیل، ضامن اور اپنی قوم کی ضمانت دیں چنانچہ انہوں نے نو نقیب قبیلہ خزرج سے اور تین قبیلہ اوس سے چنے_ یوں یہ حضرات اپنی قوم کے ضامن اور نقیب قرار پائے_

ادھر قریش کو اس اجتماع کا پتہ چلا چنانچہ وہ مشتعل ہوئے اور مسلح ہوکر پہنچ گئے_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کی آوازسن کر انصار کو وہاں سے چلے جانے کیلئے کہاتو انہوں نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنی تلواروں کے ساتھ ان کی خبر لیں تو ایسا ہی کریں گے''_ فرمایا: '' مجھے اس بات کا حکم نہیں ہوا اور خدا نے مجھے ان کے ساتھ جنگ کی اجازت نہیں دی''_ وہ بولے:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پھر کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے ساتھ چلیں گے؟ ''فرمایا:'' امر الہی کا انتظار کرو''_

قریش والے سب کے سب مسلح ہوکر آگئے ادھر حضرت حمزہ تلوار لیکر نکلے انکے ساتھ حضرت علیعليه‌السلام تھے_ جب مشرکین کی نظر حضرت حمزہعليه‌السلام پر پڑی تو بولے : '' یہاںکس لئے جمع ہوئے ہو''؟

حضرت حمزہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں اور اسلام کی حفاظت کے پیش نظراز راہ تقیہ فرمایا:'' ہم کہاں جمع ہوئے، یہاں توکوئی نہیں_ خدا کی قسم جو کوئی اس گھاٹی سے گزرے گا تلوار سے اس کی خبرلوں گا''_

یہ دیکھ کر وہ لوٹ گئے اور صبح کے وقت عبداللہ بن ابی کے پاس جاکر کہا:'' ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہاری قوم نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے کیلئے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی ہے_ خدا کی قسم کسی عرب قبیلے کے ساتھ جنگ ہمارے لئے اس قدر ناپسند نہیں جس قدر تمہارے ساتھہے''_

عبداللہ نے قسم کھائی کہ انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا نہ وہ اس بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے اپنے اقدام سے مطلع کیا ہے_ قریش نے اس کی تصدیق کی_ یوں انصار وہاں سے چلے گئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مکہ لوٹ آئے_

۲۵۵

لیکن بعد میں قریش والوں کو اس واقعے کی صحت کا یقین حاصل ہوگیا_ چنانچہ وہ انصار کی تلاش میں نکلے نتیجتاً وہ سعد بن عبادہ اور منذر بن عمیر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، منذرنے تو ان کو بے بس کر دیا لیکن سعد کو انہوں نے پکڑ کر سزا دی اس بات کی خبر جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کوملی چنانچہ ان دونوں نے آکر اسے چھڑایا کیونکہ وہ ان دونوں کے مال تجارت کی حفاظت کرتا تھا اور اسے لوگوں کی دست درازی سے محفوظ رکھتا تھا_(۱)

اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے سے پہلے ہم بعض نکات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں_ سب سے پہلے جس نکتے کی وضاحت کریں گے وہ یہ ہے:

بیعت عقبہ میں عباس کا کردار

بعض روایات کی رو سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے چچا عباس بیعت عقبہ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے_ اور ان کے علاوہ کوئی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نہ تھا_ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ عباس اگرچہ اس وقت مشرک تھے لیکن وہ اپنے بھتیجے کو درپیش مسئلے میں حاضررہ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کام کوپکا کرنا چاہتے تھے ہم اس سلسلے میں ابن عباس سے منسوب قول نقل کرچکے ہیں_

لیکن ہماری نظر میں یہ مسئلہ مشکوک ہے کیونکہ:

(الف) عباس سے منسوب کلام میں واضح طور پر نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دی گئی ہے_ عباس کے مذکورہ کلام سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی تقویت نہیں ہوتی جیساکہ ان لوگوں کا دعوی ہے خاص کر عباس کا یہ کہنا اگر پورے عرب (جو ایک ہی کمان سے تمہاری طرف تیر اندازی کریں گے) سے اکیلے ٹکر لینے کی طاقت رکھتے ہو ...اس بات کو واضح کرتا ہے_

___________________

۱_ ان تمام واقعات کے سلسلے میں جس تاریخی یا حدیثی کتاب کا چاہیں مطالعہ فرماسکتے ہیں ، بطور مثال : بحار الانوار ج ۱۹ ص ۱۲ و ۱۳، اعلام الوری ص ۵۷ ، تفسیر قمی ج۱ ص ۲۷۲، ۲۷۳ ، تاریخ الخمیس ج۱ ۳۱۸ ، ۳۱۹ دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۴۵۰ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۵۸ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۲ ص ۱۹۳ تا ۲۱۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۷ اور اس سے ماقبل و ما بعد نیز سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۸۸ اور ماقبل و ما بعد و دیگر کتب_

۲۵۶

(ب) عباس کے کلام میں خلاف حقیقت نکات موجودہیں خصوصاً ان کا یہ کہنا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمہارے سوا دوسروں کی بات کو ٹھکرایا ہے کیونکہ اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ انصار کے علاوہ دیگر سب لوگوں نے گویا بنی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موافقت کی تھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت پر آمادہ ہوئے تھے لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی حمایت کو ٹھکرا دیا تھا حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے_ البتہ صرف بنی شیبان بن ثعلبہ عربوں کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت پر راضی ہوئے تھے لیکن ایرانیوں کے مقابلے میں نہیں_ ظاہر ہے کہ ''الناس کلہم'' سے مراد فقط بنی شیبان نہیں ہوسکتے_ رہا یہ احتمال کہ شاید اس سے مراد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ دارہوں تو جیساکہ ملاحظہ ہوا کہ یہ بات مذکورہ تعبیر ''الناس کلہم'' (یعنی سارے لوگ) کے ساتھ سازگار نہیں_ اگر کوئی یہ احتمال دے کہ شاید عباس کی عبارت ''ابی محمد ًالناس'' (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سارے لوگوں کی بات ٹھکرادی )کی بجائے ''ابی محمداً الناس'' (لوگوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات نہ مانی) تھی_ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس احتمال کی صحت پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہمارے سامنے موجود الفاظ اس کے برعکس ہیں_

(ج) اس وقت تک مدینے کی طرف ہجرت کی بات ہی نہیں چلی تھی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو مسلمانوں کے دارہجرت کی نشاندہی نہ کی گئی تھی اور نہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں کچھ بتایا تھا_ پھر عباس کو کیسے پتہ چلا کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں؟ کیا اس سلسلے میں عباس پر کوئی وحی اتری تھی؟ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی_ ہاں ہم خود عباس کی زبانی ان کا یہ قول پڑھتے ہیں'' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو بس تمہارے پاس پناہ لینے اور تم سے ملحق ہونے کا ارادہ کیا ہے''_ پھرکہتے ہیں ''اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنے پاس لے جانے کے بعد اس کو دشمن کے حوالے کر کے خود الگ ہوجاؤ گے تو پھر ابھی سے اس کا ساتھ نہ دو ...''

(د) عباس نے جو کچھ کہا وہ تو فقط ایک مسلمان اور پکا مومن ہی کہہ سکتا ہے اور عباس تو ابھی تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ جنگ بدر تک کفر پر باقی رہے اور بدر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ جنگ کرنے آئے البتہ مجبوری کے تحت_ پھر وہ مسلمان ہوئے جس کا آئندہ ذکر ہوگا بلکہ آگے چل کر عرض کریں گے کہ وہ فتح مکہ تک مسلمان نہیں ہوئے تھے _

۲۵۷

یہاں ہم اس احتمال کو ترجیح دیتے یں کہ جس شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حق میں بیعت کی گرہ مضبوط کرنے کیلئے بات کی تھی وہ عباس بن نضلہ انصاری تھا(۱) نہ کہ عباس بن عبدالمطلب_ اس لئے کہ ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ ان دونوں سے منسوب اور منقول جملوں میںبہت حد تک قدر شباہت موجود ہے_

پس شاید راوی کو عباس بن عبدالمطلب اور عباس بن نضلہ کے درمیان ناموں کی شباہت کے باعث اشتباہ ہوا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی عباس نے مخصوص مفادات کے پیش نظراپنے جدامجد کیلئے ایک بڑی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو وغیرہ وغیرہ_

حضرت ابوبکر عقبہ میں

بعض خلاف مشہور روایات کے مطابق حضرت ابوبکر عقبہ میں موجود تھے اور عباس نے ان کو درے کے دھانے پر رکھا تھا_

ہم اس قول کے بطلان کو ثابت کرنے کیلئے زیادہ گفتگو نہیں کریں گے کیونکہ دیگر روایات صاف صاف کہتی ہیں کہ وہاں سوائے ان افراد کے جن کا ہم نے ذکر کیا یعنی حضرت حمزہ، حضرت علیعليه‌السلام اور عباس، کے علاوہ اور کوئی موجود نہ تھا حالانکہ خود مؤخر الذکر کی موجودگی بھی مشکوک ہے اور یہ کہ جب قریش کو اس اجتماع کاعلم ہوا تو طیش میں آئے پھر جب وہ مسلح ہوکر پہنچے تو حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام درے کے دھانے تک آئے تھے_ گذشتہ بیانات کی روشنی میں یہ واقعہ اس اجتماع کے آخری لمحات میں پیش آیا_

حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام عقبہ میں

بیعت عقبہ کے موقع پر حضرت حمزہ اور حضرت علیعليه‌السلام کی موجودگی کے بارے میں جو کچھ نقل ہوا ہے اس کی تائید عبدالمطلب کے گھر میں ہی اس اجتماع کے انعقاد سے ہوتی ہے_ خصوصاً وہاں تو ان دونوں کی ضرورت بھی تھی تاکہ وہ قریش اور اس کی خود پسندی اور جبر وتعدی کے مقابلے میں اس حیرت انگیز اور مردانہ کارکردگی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۷۱، بحار ج ۱۹، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۱۷، السیرة النبویة دحلان ج ۱ ص ۱۵۳ _

۲۵۸

کا مظاہرہ کرتے_ قریش کو درے میں داخل ہونے سے روکتے اور اس اجتماع کے شرکاء کو وہاں سے کھسک جانے کا موقع دیتے_(۱) چنانچہ جب قریش اس کے بعد درے میں داخل ہوئے تو وہاں کسی کو نہ پایا_ نتیجتاً وہ عبداللہ بن ابی کے پاس شکایت لے گئے لیکن اس نے انکار کیا_ پس اگر ان دونوں کی وہ کارکردگی نہ ہوتی تو حالات کوئی اور شکل اختیار کرلیتے اور مسلمان ایک نہایت خطرناک مصیبت میں پھنس جاتے_

عجیب بات یہ ہے کہ ہم بعض ایسی روایات بھی دیکھتے ہیں جن میں حضرت علیعليه‌السلام نیز اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیر یعنی حمزہعليه‌السلام کی موجودگی کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ یہی روایات قریش کے اکٹھے ہونے اور ان کے مشتعل ہونے کا تذکرہ کرتی ہیں لیکن درے کی طرف قریش کی یورش اور حضرت حمزہعليه‌السلام و حضرت علیعليه‌السلام کی طرف سے مدافعت کے بارے میں خاموش ہیں_ یہ روایات قریش کی طرف سے عبداللہ بن ابی سے ملاقات، مسلمانوں کے تعاقب اور سعد بن عبادہ کی گرفتاری نیز مذکورہ واقعے کے آخر تک نقل کرنے پرہی اکتفا کرتی ہیں_

یہ لوگ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ وہ قریش جنہیں شرکاء اجتماع کے جانے کے بعدجب اس اجتماع کا علم ہوا تھا تو انہوں نے مشتعل ہوکر عبداللہ بن ابی سے ملاقات کی اور اس نے انکار کیا پھر جب حاجیوں کے جانے کے بعد قریش کو اس واقعے کا یقین ہوگیا تو انہوں نے مسلمانوں کا پیچھا کر کے ان کو پالیا اورسعد بن عبادہ کو اذیتیں دیں تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس جائے اجتماع پر دھاوا بولنے اور انصار کو نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے سے چشم پوشی کرتے ،کیونکہ اس اقدام سے قریش کو اپنی عذر خواہی کیلئے ایک اچھا بہانہ مل سکتا تھا_ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قریش یہاں توخاموشی اختیار کرلیں لیکن وہاں غیظ و غضب اورسخت گیری کا مظاہرہ کریں_

بہرحال ہم اس ٹولے کے ہاتھوں معمولی دنیوی مفادات کی خاطر حق اور دین کے خلاف اس قسم کی بہت

___________________

۱_ بعض حضرات یہ احتمال دیتے ہیں کہ سارے قریش نہیں بلکہ ان کے معدودے سر پھروں نے گھاٹی میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور حضرت حمزہعليه‌السلام و حضرت علیعليه‌السلام نے ان کا راستہ روکا تھا لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ سارے قریشی جمع ہوئے ہوں لیکن حضرت حمزہعليه‌السلام اور حضرت علیعليه‌السلام نے مسلمانوں کے چلے جانے تک ان کا راستہ روکے رکھا ہو_

۲۵۹

ساری خیانتوں کا مشاہدہ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں_ یہ ضرب المثل کس قدر سچی ہے کہ ''لامر ما جدع قصیر انفہ'' (قصیر نامی شخص نے کسی کام کے واسطے اپنی ہی ناک کاٹ دی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ حصول غرض کی خاطر ہرقسم کا وسیلہ استعمال کرتے ہیں)_

ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ فقط دو افراد کا قریش کے مقابلے میں کھڑے ہوکر ان کو پیچھے ہٹا دینا کیسے ممکن ہے؟ جبکہ ان کا غیظ و غصب نقطہ عروج پر تھا_

اس کا جواب یہ ہے کہ قریش کی سازش کا جواب دینے کیلئے ایک شخص بھی کافی تھا_ وہ اس طرح کہ ایک یا دو آدمی درے کے دھانے پر کھڑے ہوجاتے (جہاں سے فقط چند افراد یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کا گزرنا ہی ممکن تھا) یوں پہلی ٹولی کو پسپا کر کے باقیوں کو بھی پیچھے ہٹایا جاسکتا تھا چنانچہ عمرو بن عبدود (جو حضرت علیعليه‌السلام کے ہاتھوں قتل ہوا) کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ہزار شہسواروں کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی تھا_ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے درے کے دھانے پر کھڑے ہوکر ہزار سواروں کو اس میں داخل ہونے سے روکا تھا کیونکہ جگہ کی تنگی کے باعث ہزار آدمی ایک ساتھ داخل نہیں ہوسکتے تھے_

ملاقات کو خفیہ رکھنے کی وجہ

اس ملاقات کو خفیہ رکھنے پر خاص توجہ دی گئی یہاں تک کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ کاروانوں میں سوئے ہوئے تھے ان کو بھی کوئی بھنک نہ پڑسکی اور انہیں اپنے ساتھیوں کی عدم موجودگی کا احساس بھی نہ ہوا_ یہی حال اس اجتماع کے وقت، مقام اور طریقہ کار کا بھی تھا_ حالانکہ یہ ایک نسبتاً بڑا اجتماع تھا اور یہ باتیں ان مسلمانوں کی آگاہی، بیداری اور حسن تدبیر کی عمدہ مثال اور مضبوط دلیل ہیں_

علاوہ برایں یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب مسلمان ظالم اور جابر طاقتوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اس وقت مخفیانہ طرز عمل اپنانا شکست اور پسپائی نہیں_یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تقیہ (جس کے معتقد شیعہ اور اہلبیت معصومینصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور جس کا قرآن نے حکم دیا ہے نیز جو

۲۶۰

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307