"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

12%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49449 / ڈاؤنلوڈ: 6228
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

حزقیل مؤمن آل فرعون وہ کہ جس نے کہا (أ تقتلون رجلا )(۱) کیا ایسے شخص کو قتل کروگےاور علی بن ابی طالب ان میں تیسرے شخص ہیں کہ جو ان سب سے افضل ہیں ۔

سنن ابن ماجہ میں اپنی اسناد کے ساتھ عباد بن عبداللہ سے روایت نقل ہوئی کہ امیر المؤمنین نے فرمایا:''انا عبد الله و اخو رسوله و انا الصدیق الاکبر لا یقولها بعدی الا کذاب صلیت قبل الناس سبع سنین'' میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس کے رسول کا بھائی ہوں، میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد صدیق ہونے کا دعوی جو بھی کرے وہ کذاب ہے میں نے لوگوں سے سات سال پہلے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑھی ۔

مجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں منہال سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے اعتبار سے صحیح ہے ۔(۲)

____________________

(۱) سورہ مؤمن (۴۰) آیت ۲۸۔

(۲) سنن ابن ماجہ :۱ ۴۴۔ مصباح الزجاجہ: ۱ ۲۲۔ السیرة النبویة (ابن کثیر ) :۱ ۴۳۱۔ مستدرک حاکم : ۳ ۱۱۱۔مصنف ابن ابی شیبہ:۷ ۴۹۸۔ الاحاد و المثانی (ضحاک) : ۱ ۱۴۸۔ السنة (ابن ابی عاصم) ۵۴۸۔ السنن الکبری (نسائی ) : ۵ ۱۰۶۔ خصائص امیر المؤمنین (نسائی) ۴۶۔ تاریخ طبری:۲ ۵۶۔ تہذیب الکمال : ۲۲ ۵۱۴۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۱۳ ۲۰۰۔ اس میں مذکور ہے کہ امیر المؤمنین نے فرمایا :انا الصدیق الاکبر وانا الفاروق الاول اسلمت قبل اسلام ابی بکر و صلیت قبل صلاته بسبع سنین ۔میں صدیق اکبر اور فاروق اول ہوں ، ابوبکر سے پہلے اسلام لایا اور اس سے سات سال پہلے نماز پڑھی ۔

۴۱

معاذ ہ عدویہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے علی کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : میںصدیق اکبرہوں ، ابو بکر کے ایمان لانے سے پہلے ایمان لایا اور اس کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام قبول کیا ۔(۱)

ابن حجر نے کتاب اصابہ میں اورابن اثیر نے اسد الغابہ میں ابی لیلی غفاری سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :سیکون من بعدی فتنة فاذا کان ذالک فالتزموا علی بن ابی طالب فانه اول من آمن بی و اول من یصافحنی یوم القیامة وهو الصدیق الاکبر و هو فاروق هذه الامة و هو یعسوب المؤمنین ۔(۲)

میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا اس وقت علی سے جدا نہ ہونا چونکہ علی وہ پہلے فرد ہیں کہ جو مجھ پرسب سے پہلے ایمان لائے اور روز قیامت مجھ سے سب سے پہلے مصافحہ کریں گے ، وہ صدیق اکبر ہیں اور اس امت میں فاروق و مؤمنوں کے بادشاہ ہیں ۔

تاریخ دمشق میں اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے کہا:

____________________

(۱) الاحاد والمثانی (ضحاک ) :۱ ۱۵۱۔ التاریخ الکبیر(بخاری) :۴ ۲۳۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۳۳۔ المعارف (ابن قتیبہ ) ۷۳۔ انساب الاشراف ۱۴۶،شمارہ ۱۴۶۔ مناقب ابن شہر آشوب : ۱ ۲۸۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) :۱۳ ۲۴۰۔ کنزالعمال : ۱۳ ۱۶۴، حدیث ۳۶۴۹۷۔ سمط النجوم العوالی :۲ ۴۷۶،حدیث ۸۔ اور کتب دیگر ۔

(۲) الاصابہ : ۷ ۲۹۳۔ اسد الغابہ : ۵ ۲۸۷۔ اور اسی کی طرح ابن عباس سے بھی نقل ہوا ہے دیکھیے :ـ الیقین (ابن طاؤس) :۱ ۵۰۰۔

۴۲

'' ستکون فتنة فمن ادرکها منکم فعلیه بخصلتین : کتاب الله و علی بن ابی طالب فانی سمعت رسول الله یقول: ـ وهو آخذ بید علی ـ هذ ا اول من آمن بی و اول من یصافحنی و هو فاروق هذه الامة یفرق بین الحق والباطل و یعسوب المؤمنین و المال یعسوب الظلمة (۱) وهو الصدیق الاکبر وهو بابی الذین اوتی منه ، وهو خلیفتی من بعدی'' ۔(۲)

____________________

(۱) یہ جملہ شیعہ اور اہل تسنن کی تمام حدیث کی معتبر کتابوں میں مذکورہے اگر چہ اہل تسنن نے اس کو جعلی فرض کیا ہے اور اس کی جگہ پر''المال یعسوب الفجار '' اور''المال یعسوب المنافقین '' بھی بعض کتب اہل تسنن میں رکھ کر کچھ چالاکی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

یہ کلام ، امیرالمؤمنین کے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے اور خود آپ بھی کہ جب بصرہ کے بیت المال میں تشریف لائے اور اس میں درھم و دینار پر نظر پڑی تب فرمایا اور اس کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی یہ کلمات زبان پر لائے ۔

اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ مؤمنین کے دل آپ کے شیدا اور عاشق ہیں اور آپ ہی کو اپنا مولا و امیر مانتے ہیں اور آپ ہی سے متمسک ہیں ۔لیکن ظالم ، فاسق و منافق اور انہیں کے طرف دار و ماننے والے اور تمام وہ افراد کہ جو حق و عدل کو برداشت نہیں کرسکتے ،دنیا پرست ہیں مال کے دلدادہ ہیں اور دنیاوی ساز وسامان پر مرتے ہیں ، مال اور دنیا ان کے دلوں پر حکومت کیے ہوئے ہیں ، اور ان کو حاصل کرنے کے لیے ہر کام کرگذر تے ہیں اور ہر برے فعل کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور گندگی میں گرجاتے ہیں دنیا کو اختیار کرنے کی خاطر جو کام بھی ہو چاہے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو ، کتنا ہی خلاف شرع و شریعت کیوں نہ ہو، چاہے دین ہی سے ہاتھ دھونا پڑے یا دوسروں کی حق تلفی ہو، انجام دے دیتے ہیں ۔ ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر ۔۔۔

۴۳

عنقریب فتنہ برپا ہوگا جو بھی اس وقت موجود ہو اس کو چاہیے کہ دو خصلتوں کو مضبوطی کے ساتھ اپنالے ، ایک کتاب خدا اور دوسرے علی بن ابی طالب چونکہ میں نے رسول خدا کو فرماتے سنا ہے کہ جبکہ آپ نے علی کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور فرمارہے تھے کہ یہ پہلا شخص ہے کہ جو مجھ پر ایمان لایا اور سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا ،یہ اس امت کا فاروق ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے ، یہ مؤمنین کا حاکم ہے اور مال ظالموں پر حاکم ہے ، یہ صدیق اکبر ہے ، مجھ تک پہنچنے کا دروازہ ہے اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے ۔

ابی سخیلہ کا بیان ہے کہ میں نے اور سلمان فارسی نے حج انجام دیا اور اس کے بعد ابوذر کے پاس پہنچے ، خدا کی مصلحت، ایک مدت تک ان کے مہمان رہے اور جب ہمارے چلنے کا وقت ہوا میں نے ابوذر سے سوال کیا:

____________________

۔۔۔ پچھلے صفحہ کا بقیہ۔

اس طرح کے لوگوں کی رہبری ، ظلمہ یعنی وہ لوگ کہ جن کے اندر ونی حالات بہت گندیدہ ہیں، کرتے ہیں ، ظاہر ہے کہ وہ لوگ اپنے اوپر اور دین و سماج پر ظلم کرتے ہیں،مال بہت سے فتنوں اور حوادث کے وجود کا سبب بنتا ہے کہ جوانتہائی دردناک و غم انگیز ہوتے ہیں ،وہ لوگ مال کے پیرو کار ہیں اور مال کو جہاں بھی جس کے ہاتھ میں بھی دیکھتے ہیں اس کی اطاعت شروع کردیتے ہیں اسی کی راہ کو اپنا لیتے ہیں اور کسی دوسری چیز کو نہیں سوچتے یا دوسری تمام چیزوںکو بھول جاتے ہیں ۔

(۲) تاریخ دمشق: ۴۲ ۴۲ـ۴۳۔ اور اسی طرح کاکلام ابوذر سے بھی نقل ہوا ہے ۔

دیکھیے:ـ تاریخ دمشق :۴۲ ۴۱۔

۴۴

اے ابوذر کچھ حادثات واقع ہوئے ہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگوں میں اختلاف نہ ہو جائے ، اگر ایسا ہو تو ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے تو ابوذر نے کہا خداوندعالم کی کتاب اور علی بن ابی طالب کا دامن پکڑلو اور گواہ رہنا میں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : علی سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے اور روز قیامت سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے وہ صدیق اکبر ہیں اور وہ فاروق ہیں کہ جوحق و باطل کے درمیان جدائی کرتے ہیں ۔(۱)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مرو ی ہے کہ آپ نے جناب امیر سے فرمایا :اوتیت ثلاثاً لم یوتهن احد ولا انا اوتیت صهراً مثلی ، ولم اوت انا مثلی ،(۲) و اوتیت زوجة صدیقة مثل ابنتی و لم اوت مثلها زوجة و اوتیت الحسن و الحسین من صلبک و لم اوت من صلبی مثلها و لکنکم منی وانامنکم'' (۳) آپ کو ت ین ایسی چیزیں ملی ہیں جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوئیں حتی مجھے بھی نہیں ملیں ،خسر میری طرح، جبکہ مجھے بھی اپنی طرح خسر نہیں ملا ، صدیقہ بیوی ، میری بیٹی کی طرح جب کہ مجھے اس طرح کی کوئی بیوی نہ مل سکی اور آپ کی صلب سے حسن و حسین جیسے بیٹے عطا ہوئے، جب کہ مجھے ان کی طرح بیٹے نہ مل سکے ،لیکن آپ سب مجھ سے ہو اور میں آپ سے ہوں ۔

____________________

(۱) تاریخ دمشق : ۴۱ ۴۲۔ المعجم الکبیر : ۶ ۲۶۹۔ مجمع الزوائد (ہیثمی ) : ۹ ۱۰۲۔

(۲) درالغدیر :۲ ۴۴۰(چاپ اول تحقیق شدہ مرکز الغدیر ۱۴۱۶ھ) اس میں نیچے کے حاشیہ میں مذکورہے کہ الریاض النضرہ : ۳ ۵۲ میں بجائے مثلی ، مثلک آیا ہے۔

(۳) الریاض النضرہ :۲ ۲۰۲۔ اسی طرح الغدیر :۲ ۳۱۲ میں مذکورہے۔

۴۵

اس حدیث سے واضح ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا صدیقہ ہیں چونکہ اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ خدیجہ ، پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نص کے مطابق صدیقہ ہیں بلکہ جبکہ اس حدیث میں حضرت فاطمہ زہرا کا مقام والا بیان ہوا ہے کہ جو اس مطلب پر دلیل ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا جناب خدیجہ سے افضل ہیں ، حضرت کا یہ فرمان کہ ولم اوت مثلھا زوجة مجھ کو فاطمہ کی طرح بیوی نہیں ملی۔

اس پوری گفتگو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ صدیقہ کا صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ چند مراتب ہیں جیسے کہ جناب خدیجہ صدیقہ ہیں ان کا مرتبہ الگ ہے اور حضرت فاطمہ زہرا صدیقہ ہیں جبکہ ان کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔

ایک طولانی حدیث میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرما یا :'' یا علی انی قد اوصیت فاطمة ابنتی باشیاء و امرتها ان تلقیها الیک فانفذ ها فهی الصادقة الصدیقة ثم ضمها الیه و قبل رأسها و قال فداک ابوک یا فاطمة ۔(۱)

اے علی میں نے اپنی بیٹی فاطمہ کو چند چیزوں کی وصیت کی اور ان کو حکم دیا کہ وہ آپ کو بتائیں پس ان کو انجام دینا چونکہ وہ صادقہ (سچی)اور صدیقہ(بہت زیادہ سچی) ہیں پھر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت فاطمہ کو اپنے سینے سے لگایا اور آپ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا اے فاطمہ آپ کا باپ آپ پر فدا و قربان ہو۔

مفضل بن عمر سے روایت ہے کہ اس نے کہا میں نے حضرت امام جعفر صادق سے عرض کی کہ حضرت فاطمہ کو کس نے غسل دیا؟ آپ نے فرمایا: امیرالمومنین نے۔

____________________

(۱) کتاب الوصیة (عیسی بن مستفاد) ۱۲۰۔ بحار الانوار : ۲ ۴۹۱۔

۴۶

یہ کلام مجھ پر گراں گذرا آپ نے فرمایا : میں نے جو کچھ تم کو خبر دی ہے یہ تم پر گراں گذری ہے ! میںنے عرض کی جی ایسا ہی ہے میں آپ پر قربان ہوجاں، تب مولا نے فرمایا:لا تضیقن فانها صدیقة لم یکن یغسلها الا الصدیق اماعلمت ان مریم لم یغسلها الا عیسی (۱) ۔

اپنے اوپر احساس نہ لیں ، فاطمہ صدیقہ ہیں اور ان کو صدیق کے علاوہ کوئی غیر غسل نہیں دے سکتا تھا ، کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جناب مریم کو حضرت عیسی کے علاوہ کسی نے غسل نہیں دیا ۔

جناب علی بن جعفر اپنے بھائی امام موسی کاظم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ان فاطمة صدیقة شھیدة(۲) ب یشک فاطمہ صدیقہ شہیدہ ہیں ۔

پس صدیقہ کبری جناب خدیجہ ، صادق امین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بن عبداللہ سے صد یقہ طاہرہ فاطمہ زہرا دنیا میں آئیں اور آپ کی شادی صدیق اکبر علی بن ابی طالب کے ساتھ ہوئی اور دونوں ، انوار کا مرکز اور دو دریا کے ملاپ یعنی مجمع البحرین ہوگئے ۔

اس سے پہلے حضرت امیرالمؤمنین علی اور جناب خدیجہ کبری نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق فرمائی اس زمانے میں کہ لوگ آپ کو جھٹلارہے تھے ۔ اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بارہا عایشہ کو کہ جب وہ جناب خدیجہ سے رشک و حسد کرتیں تو اس بات کی تاکید فرمائی ۔

____________________

(۱) اصول کافی :۱ ۴۵۹، حدیث ۲۴ و ج: ۳ ۱۵۹،حدیث ۱۳۔علل الشرائع ۱۸۴، حدیث۱۔ التھذیب:۱ ۴۴۰، حدیث ۱۴۲۴۔ الاستبصار:۱ ۱۹۹، حدیث ۱۵۷۰۳۔

(۲) اصول کافی : ۱ ۴۵۸، حدیث ۱۲۔ مرأ ة العقول : ۵ ۳۱۵۔ اس ماخذ میں جناب علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ صدیقہ سے آپ کی عصمت بھی ثابت ہوتی ہے ۔

۴۷

عایشہ نے کہا کہ آپ کس قدر قریش کی ایک بوڑھی کا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ ان کے منھ میں دانت بھی نہ تھے بلکہ صرف دو سرخ مسوڑے رہ گئے تھے حالانکہ آپ کو خداوندعالم نے ان سے بہتر بیویاں عطا کی ہیں ۔(۱)

اس وقت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چہرہ اس قدر متغیر ہوا کہ کبھی ان کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا مگر سوائے وحی کے وقت یا بجلی کے کڑکتے اور گرجتے وقت کہ جب وہ محسوس کرتے کہ وہ رحمت یا عذاب الہٰی ہے ۔(۲) پھر فرما یا : یہ بات نہ کہو ، چونکہ خدیجہ نے میری اس وقت تصدیق کی کہ جب لوگ مجھ کو جھٹلارہے تھے ۔(۳)

خداوندعالم کے اس کلام( والذی جاء بالصدق و صدق به ) (۴) (وہ کہ جو صدق لا یا اور اس کے ذریعہ سے تصدیق کی ) کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین سے روایت ہے کہ( والذی جاء بالصدق ) سے مراد پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہ یں اور ( و صدق بہ) (کہ جس نے تصدیق کی ) سے

____________________

(۱) صحیح بخاری : ۴ ۲۳۱، کتاب بدء الخلق ، باب تزویج النبی خدیجہ و فضلھا ۔ صحیح مسلم :۷ ۱۳۴۔ مستدرک حاکم:۴ ۲۸۶۔ مسند بن راہویہ : ۲ ۵۸۷۔ صحیح بن حبان : ۱۵ ۴۶۸۔ سیر اعلام النبلاء : ۲ ۱۱۷۔

(۲) مسند احمد بن حنبل : ۶ ۱۵۰ و ۱۵۴۔ البدایة و النھایة : ۳ ۱۵۸۔

(۳) المعجم الکبیر : ۱۲ ۳۲۔ الافصاح (مفید ) ۲۱۷۔ التعجب (کراجکی) ۳۷۔

(۴) سورہ زمر(۳۹) آیت ۳۳۔

۴۸

حضرت علی بن ابی طالب مراد ہیں ۔(۱)

خداوندعالم کے اس کلام کے بارے میں کہ( فمن اظلم ممن کذب علی الله و کذب بالصدق اذجائه ) (۲) اس شخص سے ز یادہ ظالم کون ہے کہ جس نے خداوندعالم پر جھوٹ بولا اور جب سچائی اس کی طرف آئی تو اس کو جھٹلایا ۔

امیر المؤمنین نے فرمایا :'' الصدق ولایتنا اهل البیت'' (۳) صدق سے مراد ہم اہل ب یت کی ولایت ہے ۔

صاحبان اقتدار و حکومت اور ان کے پیرو کار ان القاب کو حضرت فاطمہ زہرا ، جناب خدیجہ اور حضرت علی کے لیے برداشت نہ کرسکے ۔ لہذا اس حقیقت کی تحریف میں لگ گئے اور اپنی سعی ناکام سے ابو بکر کو صدیق کا لقب دیا اور عایشہ کو صدیقہ کہا ۔

____________________

(۱) یہ معنی ابن عباس سے نقل ہواہے ۔ دیکھیے : شواہد التنزیل : ۲ ۱۸۰، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۳ و ۸۱۴۔ اور ابو ہریرہ سے منقول ہے جیسا کہ الدر المنثور : ۵ ۳۲۸ میں مذکورہے ۔ اور ابو طفیل سے نقل ہے جیسا کہ شواہد التنزیل میں موجود ہے :۱۸۱۲، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۵ ۔ ابو الاسود سے جیسا کہ البحر المحیط : ۷ ۴۱۱ میں آیا ہے اور مجاہد سے مندرجہ ذیل منابع میں ہے :

البحر المحیط : ۷ ۴۱۱ ۔تفسیر قرطبی :۱۵ ۲۵۶۔ شواہد التنزیل : ۲ ۱۸۰، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۰ و ۸۱۲۔ مناقب امام علی (ابن مغازلی) ۲۶۹، حدیث ۲۱۷۔ تاریخ دمشق : ۴۲ ۳۵۹ـ ۳۶۰۔

(۲) سورہ زمر(۳۹) آیت ۳۲۔

(۳) امالی (طوسی) ۳۶۴، مجلس ۱۳، حدیث ۱۷۔ مناقب ابن شہر آشوب :۲ ۲۸۸۔ بحار الانوار :۸ ۲۸۸۔

۴۹

نیز خداوندعالم کے اس فرمان (کونوا مع الصادقین )(۱) (سچوں کے ساتھ ہوجاؤ) کی تفسیر یہ کی کہ ابوبکر و عمر کے ساتھ ہوجاؤ۔(۲)

اور وہ روایات کہ جو صراحتا امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لقب صدیق ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کی یا تضعیف کی یا اصلاً عمداً قبول ہی نہیں کیا ۔(۳)

ہم اس سلسلے میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ابو بکر اور عایشہ کی زندگی و سیرت میں اس طرح کی صلاحیت و لیاقت اور ملاکات و معیار پائے جاتے ہیں کہ ان کو صدیق اور صدیقہ کہا جائے یا یہ لقب زبردستی ان کو دیے گئے ہیں ؟۔

____________________

(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔

(۲) تفسیر طبری : ۱۱ ۸۴۔ زاد المسیر (ابن جوزی) : ۳ ۳۴۹۔ تفسیر قرطبی : ۸ ۲۸۸۔ الدر المنثور : ۳ ۲۸۹۔ فتح القدیر : ۲ ۴۱۴۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۳۱۰ و ۳۳۷ و ج : ۴۲ ۳۶۱۔

(۳) دیکھیے : ضعفاء العقیلی : ۲ ۱۳۰ و ۱۳۷۔ الکامل (ابن عدی) :۳ ۲۷۴۔ الموضوعات (ابن جوزی) :۱ ۳۴۔

۵۰

یہ لوگ عمر کی پیروی کرتے ہوئے اس خبر کو ضعیف مانتے ہیں کہ عمر نے حضرت امیر المؤمنین علی کو بیعت نہ کرنے کی صورت میں دھمکی دی تب امام علی نے فرمایا : کیا تم لوگ خدا کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی کو قتل کروگے ؟ عمر نے کہا : آپ خداکے بندے تو صحیح لیکن رسول کے بھائی نہیں !۔

عایشہ ا ور صدیقیت

صدیق ،اگر پیغمبر یا وصی پیغمبر نہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام وجود سے رسالت کی تصدیق کرے اور اس پر یقین رکھے ، آسمانی رسالت پر دل سے ایمان لائے اور عقیدہ رکھے نہ یہ کہ رسالت میں شک کرے جیسا کہ عایشہ کے کلام میں مذکور ہے جب کہ وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عدالت میں مشکوک ہوئیں اور کہا کہ کیا آپ کو یہ گمان نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اس وقت عایشہ کے باپ ابوبکر نے ان کے منھ پر طمانچہ مارا۔(۱)

اور پھر دوسرے مقام پرعایشہ نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا : خدا سے ڈرو حق کے علاوہ کچھ اور نہ کہو ۔

ابو بکر نے یہ سن کر ان کے اوپر ہاتھ اٹھایا اور عایشہ کی ناک مروڑ دی اور کہا: اے ام رومان (عایشہ کی ماں) کی بیٹی تو بغیر ماں کے ہوجائے تو اور تیرا باپ حق بولتے ہیں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حق نہیں بولتے ۔(۲)

____________________

(۱) مسند ابی یعلی : ۱۳۰۸ حدیث ۴۶۷۰۔ مجمع الزوائد : ۴ ۳۲۲۔ المطالب العالیہ (ابن حجر) : ۱۸۸۸، باب کید النساء حدیث ۱۵۹۹۔

(۲) سبل الھدی و الرشاد : ۱۱ ۱۷۳۔( ابن عساکر نے اپنے اسناد سے عایشہ سے نقل کیا ہے ) اور دیکھیے ، عین العبرہ ۴۵۔ الطرائف ۴۹۲۔ بہ نقل از احیاء العلوم (غزالی ) : ۲ ۴۳۔

۵۱

صدیقہ وہ عورت ہے کہ جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو حتی کہ اپنی سوتن کے ساتھ بھی ،اور یہ بات جیسا کہ الاستیعاب (ابن عبدالبر) اور الاصابہ(ابن حجر) میں مذکورہے ، عایشہ کے کردار سے سازگار نہیں ہے ۔ ان دونوں کتابوں میں موجود ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسماء بنت نعمان سے شادی کی ، عایشہ نے حفصہ سے یا حفصہ نے عایشہ سے کہا :اس کے مہندی لگاؤ اور میں اس کو سنوارتی ہوں ۔

دونوں نے اپنے اپنے کام انجام دیے اور پھر کسی ایک نے اسماء سے کہا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں تو ان سے کہا جائے (اعوذ باللہ منک ) میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔

پس جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسماء کے پاس پہنچے،پردہ کو اٹھا یا ہاتھوں کو اس کی طرف بڑھایا اسماء نے کہا (اعوذ بالله منک )پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی صورت کو اپنی آستینوں سے چھپا لیا اور پردہ کو گرا دیا پھر تین مرتبہ فرمایا : خدا کی پناہ میں ہو ، اور پھر اس کو اس کے گھر والوں کے پاس واپس کردیا ۔(۱)

کیا اس طرح کے کارنامے عایشہ کو صادقین کے زمرے سے دور نہیں کرتے کہ جومیاں بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بنیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ مسلمان کیسے عایشہ کو صدیقہ مانتے ہیں جب کہ ان کو معلوم ہے کہ سورہ تحریم ان ہی کی شأن میں نازل ہوا ہے ، وہ ایسی عورت ہیں کہ جنہوںنے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجبور ک یا کہ آپ اپنے اوپر حلال الہٰی کو حرام کریں!؟۔

____________________

(۱) الاستیعاب : ۴ ۱۷۸۵، شمارہ زندگینامہ ۳۲۳۲۔ الاصابہ: ۸ ۲۰ ، شمارہ زندگینامہ ۱۰۸۱۵۔ مستدرک حاکم : ۴ ۳۶۔ الطبقات : ۸ ۱۴۵۔ المحبر ۹۵۔ المنتخب من ذیل المذیل ۱۰۶۔

۵۲

کس طرح عایشہ جیسی عورت ، صدیقہ ہوسکتی ہیں کہ جو حفصہ کے ساتھ مل کر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف سازشیں کریں یہاں تک کہ ان کی شأ ن میں خدا وندعالم کی جانب سے یہ آیات نازل ہوں۔

( اذا اسر النبی الی بعض ازواجه حدیثا فلما نبأت به و اظهر ه الله علیه عرف بعضه و اعرض عن بعض فلما نبأ ها به قالت من انبأک هٰذا قال نبأنی العلیم الخبیر٭ ان تتوبا الی الله فقد صغت قلوبکما و ان تظاهرا علیه فان الله هو مولاه و جبریل و صالح المؤمنین و الملائکة بعد ذالک ظهیرا ) (۱)

اور جب نبی نے اپنی بعض ازواج سے بات چھپا کر کہی پھر جب اس بیوی نے راز کی خبر کردی اور اللہ تعالی نے اسے رسول پر ظاہر کردیا تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے سے کنارہ کشی کی ، پس جب اس نے یہ بات اس بیوی کو بتلائی وہ کہنے لگی آپ کو یہ خبر کس نے دی ؟ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مجھ کو بہت جاننے والے، پوری پوری خبر رکھنے والے نے خبر دی۔ اگر تم دونوں (نبی کی بیویاں) اللہ کے حضور میں توبہ کرلو تو فبھا پس تم دونوں کے دل یقینا منحرف ہوگئے ہیں اور اگر دونوں اس نبی کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتی رہیں تو یقینا خداوندعالم اس کاسرپرست ہے اور جبریل و صالح المؤمنین بھی اور اس کے بعد کل فرشتے اس کے پشت پناہ ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ تحریم (۶۶) آیت ۳ و۴۔

۵۳

ابن عباس نے عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ وہ دو عورتیں جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف متحد ہوئیں وہ کون ہیں ؟ ابھی ابن عباس کا کلام تما م نہ ہوا تھا کہ عمر نے جواب دیا : عایشہ و حفصہ۔(۱)

یہی طعنہ عثمان نے عایشہ کو دیا جب کہ عثمان نے اس مال کو دینے میں تاخیر کی کہ جو ہمیشہ عایشہ کو دیا کرتے تھے ، عایشہ کو غصہ آیا اور کہا :

اے عثمان امانت کو کھاگئے اور رعیت کو ختم کردیا ، اپنے خاندان کے برے لوگوں کومسلمانوں پر مسلط کردیا ، خدا کی قسم اگر نماز پنجگانہ کی ادائگی نہ ہو تی تو جان بوجھ کر تیری طرف کچھ لوگ آتے جو تجھے اونٹ کے ذبیحہ کی طرح قتل کرڈالتے ۔

عثمان نے کہا :( ضرب الله مثلا للذین کفروا امرأ ة نوح و امرأة نوط ) (۲)

خداوندعالم نے ان کے لیے کہ جنہوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اورلوط کی بیوی کی مثال بیان کی ہے ۔

____________________

(۱) تفسیر طبری :۲۸ ۲۰۲، حدیث ۲۶۶۷۸۔صحیح بخار ی :۶ ۶۹، تفسیر سورہ تحریم باب ۳و۴ ۔ و جلد : ۷ ۴۶، کتاب اللباس ،باب ما کان یتجوز رسول اللہ من اللباس و الزینة(وہ لباس اور زینت کہ جس کی رسول خدا نے اجاز ت دی )۔ صحیح مسلم : ۴ ۱۹۰ـ ۱۹۲، کتاب الطلاق ،باب فی الایلاء و اعتزال النساء ۔ مسنداحمد : ۱ ۴۸۔

(۲) سورہ تحریم (۶۶) آیت ۱۰۔ دیکھیے :ـ المحصل (رازی ) : ۴ ۳۴۳۔ الفتوح :۲ ۴۲۱۔

۵۴

ان صفات کے باوجود کس طرح عایشہ کو صدیقہ کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ دوسروں کو برے برے القاب سے نوازتیں(۱) اور ایمان دار عورتوں کی غیبت کرتی تھیں۔(۲)

اس آیت کے سلسلے میں کہ( یا ایها الذین آمنوا لایسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا خیرا منهم ولا نساء من نساء عسیٰ ان یکن خیرا منهن ) (۳) اے ا یمان لانے والو آپ ایک قوم،کسی دوسری قوم کا مذاق و مسخرہ نہ بناؤ ممکن ہے کہ وہ لوگ آپ سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کہ ممکن ہے کہ وہ عورتیں آپ سے بہتر ہوں ۔

طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی بعض ازواج کی شأن میں نازل ہوئی ہے کہ وہ ام سلمہ کامذاق اڑاتی تھیں ۔

انس و ابن عباس نے روایت ہے کہ ام سلمہ نے ایک سوتی کپڑا اپنی کمر سے باندھ رکھا تھا اور اس کے دونوں حصے و سرے لٹکے ہوئے جارہے تھے ، عایشہ نے اس کو دیکھ کر حفصہ سے کہا کہ دیکھو یہ کیسے پیچھے لٹکتا جارہا ہے گویا جیسے کتے کی زبان ہو۔(۴)

____________________

(۱) خداوندعالم کا ارشاد ہے (ولا تنابزو بالالقاب )(سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۱) ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کرو ۔

(۲) خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے (ولایغتب بعضکم بعضا )(سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۲) ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔

(۳) سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۱۔

(۴) مجمع البیان : ۹ ۲۲۴۔ تفسیر قرطبی : ۱۶ ۳۲۶۔ زاد المسیر :۷ ۱۸۲۔ تفسیر بحر المحیط : ۸ ۱۱۲۔

۵۵

کہتے ہیں کہ عایشہ نے ام سلمہ کو پستہ قد ہونے کا طعنہ دیا تھا اور ان کی طرف اشارہ کرکے کہاتھا کہ وہ گانٹھی ہے۔

کیا معقول ہے کہ کسی صدیقہ کے یہاں طرح طرح کی نامناسب اور حسد جیسی بری عادتیں پائی جائیں ؟!۔

سنن ترمذی میں عایشہ سے منقول ہے کہ آپ نے کہا میں نے خدیجہ سے زیادہ کسی سے حسد نہیں کیا اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے شاد ی ان کے انتقال کے بعد کی ، خداوندعالم نے ان کو جنت میں مروارید سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دی کہ جس میں نہ شورو شرابہ ہے نہ رنج و غم۔(۱)

کیوں( یحسدون الناس علی ما اتاهم من فضله ) (۲) لوگ حسد کرتے ہ یں اس چیز پر کہ جو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے دی ہے ۔ اگر عایشہ واقعا صدیقہ ہوتیں تو کیا یہ ممکن تھا کہ رسول خدا ان کو دوسری غیر عورتوں کی طرح شمار کرتے اور ان کے بارے میں فرماتے (ان کن صویحبات یوسف )(۳) آپ عاشقان یوسف کی طرح ہو ۔

____________________

(۱) سنن ترمذی :۵ ۶۶، حدیث ۳۹۷۹، (فضل خدیجہ)۔

(۲) سورہ نسائ(۵) آیت ۵۴۔

(۳) احیاء علوم الدین : ۴ ۴۷المسترشدین فی الامامة ۱۴۱ اور صحیح بخاری :۱ ۱۶۵، کتاب الاذان ، باب اهل العلم و الفضل احق بالامامة و صحیح مسلم :۲ ۲۵ کتاب الصلوة ،باب تقد م الجماعة من یصلی بهم و سنن دارمی : ۱ ۳۹،باب وفات النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،میں صواحب یوسف مذکور ہے ۔

۵۶

یہ آیت بھی آپ ہی کی شأن میں نازل ہوئی( ترجی من تشاء منهن و تؤی الیک من تشاء ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک ) (۱) جس بیوی کے نمبر کو چاہو دیر میں رکھو اور جس کو چاہو اپنے پاس رکھو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کو چھوڑ دیا ہے اس کو پھر بلالو۔

عایشہ جیسی عورت کس طرح صدیقہ ہوسکتی ہے کہ جو خداوندعالم کی جانب سے نازل ہونے والی آیت پر اعتراض کرے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہے کہ واللہ م یں نے آپ کے پروردگار کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ آپ کی خواہشات نفس کے مطابق جلدبازی کرتا ہے۔(۲)

کیا یہ کلام صحیح ہے کہ رسول خدا اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے تھے ؟!۔

یا خداوندعالم آپ کی خواہشا ت نفسانی کی خاطر جلدبازی کرے؟ کیا یہ عایشہ کا کلام رسول خدا کی توہین اور رسالت کو ہیچ سمجھنا اور خداوندعالم کی حقارت و اہانت نہیں ہے ؟۔

کیا یہی سب کچھ ایک صدیقہ کے عرفان و معرفت سے امید کی جاسکتی ہے ؟۔

کیا رسول خدا کا پروردگار عایشہ کے پروردگار سے جدا ہے کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر کہتی ہے کہ میں نے آپ کے پروردگار کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ آپ کی خواہشات نفس کے مطابق جلدبازی کرتا ہے۔

____________________

(۱) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۵۱۔

(۲) صحیح مسلم :۵ ۱۷۴، کتاب الرضاع ،باب جواز ھبتھا بوبتھا لضرتھا ۔ صحیح بخاری :۲۴۶، کتاب التفسیر،سورہ احزاب۔ و جلد:۱۲۸۶،کتاب النکاح،باب ھل للمرأةان تھب نفسھا۔ تفسیر طبری:۳۳۲۲۔ تفسیر ابن کثیر:۵۰۸۳۔

۵۷

کیا صدیقہ پر خواہشات نفسانی کا اثر ہوتا ہے ؟ اور کیا غیرت نسوانی اس کو ابھارتی ہے کہ وہ حق کو چھپائے اور جھوٹی خبر دے ؟!۔

ایک مرتبہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عا یشہ کو ایک عورت کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ جس سے آپ شادی کرنا چاہتے تھے ، عایشہ گئیں اور پھر واپس آئیں ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوال کیا : اس عورت کو کیسا پایا ؟

عایشہ نے جواب دیا : وہ کوئی اچھی عورت نہیں ہے ۔

پیغمبر نے فرمایا : تونے اس کے رخسار پر تل دیکھا کہ جس سے تیرا سر چکراگیا ۔ عایشہ نے کہا: آپ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے آپ سے کون چھپا سکتا ہے ۔(۱)

یہ ہے عایشہ کی سیرت کا خلاصہ کہ جو اہل سنت کے نزدیک صدیقہ کہلاتی ہیں ۔میری نظر میں عایشہ کی شخصیت کے تعارف کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے ۔

اور ظاہرا عایشہ کا جناب فاطمہ زہرا اور جناب خدیجہ سے مقایسہ و مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی مندرجہ ذیل روایت سے عایشہ اور حضرت فاطمہ زہرا و جناب خدیجہ کے درمیان فرق بالکل واضح ہوجاتاہے ۔

تاریخ دمشق میں مذکور ہے کہ عایشہ نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو د یکھا کہ آپ حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے بچوں کے لیے گوشت کی بوٹیاں چھوٹی چھوٹی کررہے ہیں عایشہ نے کہا : اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ حمراء (جناب خد یجہ ) کی بیٹی کے لیے کہ جو وحشی ترین عورت تھی یہ کام کررہے ہو؟

____________________

(۱) تاریخ بغدار : ۱ ۲۱۷، تاریخ دمشق :۵۱ ۳۶۔ ذکر اخبار اصبھان :۲ ۱۸۸۔ کنزالعمال :۱۲ ۴۱۸، حدیث ۳۵۴۹، اور دیکھیے طبقات ابن سعد : ۸ ۱۶۱۔ سبل الھدی و الرشاد:۱۱ ۲۳۵۔

۵۸

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غصہ میں آگئے اور عایشہ کو چھوڑدیا، اس سے ترک تعلق کرلیا اور کلام کرنا بند کردیا ، ام رمان (عایشہ کی ماں) نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کی اور کہا اے رسول خدا عایشہ چھوٹی بچی ہے اس کو تنبیہ نہ کریں ، پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: تم کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ ایسا ویسا خدیجہ کے بارے میں کہا ہے ، حالانکہ میری امت کی عورتوں میں خدیجہ کو سب پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے۔جیسا کہ جناب مریم پوری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔(۱)

سنن ترمذی میں عایشہ سے منقول ہے کہ اس نے کہا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی بیویوں میں سے میں نے کسی سے بھی اتنا حسد اور رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ سے کیا کاش کہ میں ان کا مقام پاتی اور یہ حسد صرف اس لیے تھا کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو بہت یاد فرماتے اور ان کی بہت تعریفیں کرتے تھے۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عادت یہ تھی کہ کسی خاص بھیڑ کو ذبح کرتے اور جناب خدیجہ کی دوست و سہیلیوں کو ہدیہ فرمادیتے تھے ۔(۲)

____________________

(۱) تاریخ دمشق :۷ ۱۱۴۔

(۲) سنن ترمذی : ۳ ۲۴۹، حدیث ۲۰۸۶۔ و جلد: ۵ ۳۶۶، حدیث ۳۹۷۷۔ اور دیکھیے : ـ مسند احمد : ۶ ۲۷۹۔ صحیح بخاری:۴ ۲۳۰، کتاب بدء الخلق ، باب تزویج النبی خدیجہ و فضلھا ۔ الطرائف ۲۹۱۔ فتح الباری :۷ ۱۰۲۔

۵۹

ابو بکر اور صدیقیت

اب ابوبکر کی شخصیت و سیرت پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا واقعاً وہ صدیق ہیں یا حقیقت میں صدیق علی ابن ابی طالب ہی ہیں ۔

اس کا م کو دونوں طرف کے لوگوں کے عقیدہ سے ہٹ کر انجام دیں گے یعنی ان حضرات کی شخصیتوں کی خود ان ہی کے کلام سے وضاحت کریں گے نہ کہ ان کے پیرو کار اور ماننے والوں کے کلام ونظریات کی روشنی میں انہیں پیش کیا جائے ۔

یہ واضح ہے کہ صدق و سچائی ، کذب و جھو ٹ کے مقابل میں ہے ، پس اگرحضرت فاطمہ ، صدیقہ اپنے کلام میں سچی اور حق پر ہیں تو ابوبکر جھوٹے ہیں اور اسی طرح اگر علی حق پرہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقابل میں باطل ہے (جو بھی ہو)۔

اب طرفین کے کلمات و نظریا ت کو سامنے رکھتے ہیںاور ان مقامات کو کہ جن میں اختلاف ہے بطور نمونہ پیش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے ۔ اور اس کے بعد لفظ صدیق پر غور کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ کون ان صفات و کمالات کے ساتھ اس لقب کا مستحق ہے ۔

پہلا نمونہ :ـ

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے خطبہ کا ٹکڑا کہ جس میں مدعیان خلافت سے خطاب ہے :

۶۰

کیا آپ لوگ یہ خیال کرتے ہوکہ ہمارا میراث میں کوئی حق نہیں ہے( أ فحکم الجاهلیة تبغون ومن احسن من الله حکماً لقوم یوقنون ) (۱)

کیا جاہلیت کے حکم کو چاہتے ہواور اللہ کے حکم سے کس کا حکم اچھا ہے ، ان لوگوں کے لیے کہ جو اہل یقین ہیں ۔ کیا اس سلسلے میں حکم خدا کو نہیں جانتے یقینا جانتے ہو ، سورج کی طرح تم پر روشن ہے کہ میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی ہوں ، اے مسلمانوں کیا میں میراث سے محروم ر ہوں؟ اے ابو قحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ پاؤں؟( لقد جئت شیأ فریا ) (۲)

یقینا اپنے پاس سے من گھڑت لائے ہو۔ کیا جان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جس میں ارشاد ہے( وورث سلیمان داؤد ) (۳)

سلیمان نے دائود سے میراث پائی ۔ اور یحی ابن زکریا کی خبر سنائی ہے لہذا ارشاد ہے( فهب لی من لدنک ولیا یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۴)

زکریا نے کہا پروردگار مجھ کو اپنی جانب سے ولی و جانشین عطا فرما کہ جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب سے میراث پائے۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ (۵) آیت ۵۰۔

(۲) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۲۷۔

(۳) سورہ نمل (۲۷) ،آیت ۱۶۔

(۴) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۵ـ۶۔

۶۱

اور حکم الہی ہے( واولو ا الارحام بعضهم اولی ببعض فی کتاب الله ) (۱) خداوندعالم کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کی بنسبت دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں ۔

اور ارشاد ہے( یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ) (۲) ۔

خداوندعالم آپ کے بچوں کے بارے میں آپ کو وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حق لڑکی کے حق سے دوبرابر ہے ۔

اور ارشاد ہے( ان ترک خیرالوصیة للوالدین والاقربین بالمعروف حقا علی المتقین ) (۳) جس کوآثار موت نظر آنے لگ یں اس پر لازم ہے کہ اگر صاحب مال ہے تو اپنے والدین و رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے یہ متقی اور پرہیزگار وں پر حق ہے ۔

ان سب آیات کے باوجود آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اور میں اپنے والد گرامی سے کوئی حق نہیں پاؤں گی اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے ؟۔

کیا خدا وندعالم نے آپ پر کوئی خاص آیت نازل کی ہے کہ جو میرے باپ پر نازل نہیں کی یا یہ کہ جو کہہ رہے ہو تو کیا میں اپنے والد کے دین پر نہیں ہوں ، دو دین والے آپس میں میراث نہیں پاتے تو کیا میرا اور میرے والد کا دین ایک نہیں ہے؟ کیا آپ لوگ قرآن کریم کے خاص و عام کو میرے والد اور ابن عم علی سے بہتر جانتے ہو؟۔

____________________

(۱) سورہ انفال (۸) ،آیت ۷۵۔

(۲) سورہ نساء (۴) ،آیت ۱۱۔

(۳) سورہ بقرہ (۲) ،آیت ۱۸۰۔

۶۲

اب فدک کو غصب کرلو لیکن روز حشر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ہے ، خداوندعالم کیا ہی خوب حاکم ہے ، اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہترین رہبر ہیں اور روز قیامت سب کے لیے وعدہ گاہ ہے ۔

قیامت کے دن جو لوگ باطل پر ہیں اپنے نقصان و خسارے کو دیکھیں گے اور وہ لوگ پشیمان و شرمندہ ہونگے لیکن اس وقت وہ شرمندگی کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔

( وکل نبأ مستقر ) (۱) اور ہر خبر کو واقع ہونا ہے ۔( فسوف تعلمون من یاتیه عذاب یخزیه و یحل علیه عذاب مقیم ) (۲) پس عنقر یب جان لوگے کہ ذلیل و رسوا کرنے ولا عذاب آن پہنچا ہے اور ہمیشہ رہنے والا عقاب و عذاب سر پر منڈلارہا ہے ۔(۳)

یہ عبارت بہت واضح اور روشن ہے اور زیادہ تحلیل و تفسیر کی ضرورت نہیں ہے ۔ فاطمہ صدیقہ اپنے اس کلام میں ابوبکر صدیق کی تکذیب کر رہی ہیں : اے ابوقحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ سے میراث پائے اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ، یقینا یہ کیا من گھڑت چیز پیش کی ہے ۔

اور اس کلام میں بھی کہ ابوبکر اور اس کے طرفدار زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ فاطمہ اپنے باپ سے میراث نہیں پائے گی جب کہ یہ خیال قرآن کریم کی آیات وصیت و میراث کے متعلق عمومات کے خلاف ہے ۔

____________________

(۱) سورہ انعام (۶) ،آیت ۶۷۔

(۲) سورہ ھود (۱۱) ،آیت ۳۹۔و سورہ زمر(۳۹) ،آیت ۳۹ـ۴۰۔

(۳) احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۸ـ۱۳۹۔

۶۳

یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ابوبکر اپنے باپ سے میراث پائے اور فاطمہ اپنے والد سے میراث نہ پائیں! کیا خداوندعالم نے ان کے لیے کوئی خاص آیت بھیجی ہے کہ جس سے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو باہر و جدا کردیا گیا ہے یا یہ کہ ان کا نظریہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور فاطمہ کا دین جدا جدا ہے کہ ایک دوسرے سے میراث نہیں پاسکتے یایہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ فاطمہ ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی نہیں ہیں ۔

چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک حکم الہٰی کو ان لوگوں سے بیان کریں کہ جو وارث نہیں ہیں اور جو وارث ہیں ان سے چھپائے رکھیں ۔

اس بات کو عقل کیسے قبول کرسکتی ہے کہ کتاب الہٰی کو ایک ایسی خبرواحد سے تخصیص دی جائے کہ جس کی علی و فاطمہ تصدیق نہ فرمائیں۔

یہ کس طرح ممکن ہے اور عقل کیسے قبول کرے کہ کتاب الہٰی کی تخصیص ایک ایسی خبر واحد سے ہوکہ جو ظاہر اور عمومات قرآن کے مخالف ہو چونکہ گذشتہ نبیوں کی سیرت اس کے خلاف ثابت ہے

جی ہاں ! حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس کلام سے یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ان لوگوں نے کتاب خدا پر بھی عمل کرنا چھوڑدیا ہے ۔ چونکہ لفظ وارث عام ہے اور مال کی میراث پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ متعدد آیات سے واضح ہے اور کسی خاص قید سے مقید بھی نہیں ہوا ، لیکن انہوں نے میراث کو ، میراث حکمت و نبوت سے تعبیر کیا ہے نہ کہ اموال سے اور مجاز کو حقیقت پر مقدم رکھا ۔

جب کہ علم و حکمت اور نبوت کی میراث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مالی میراث ختم ہوجائے بلکہ میراث نبوت اور اموال ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں ، اور یہ وراثت پروردگار کے نزدیک روز ازل سے اس کے مستحقین کے لیے محفوظ و مخصوص ہے ۔

۶۴

( والله اعلم حیث یجعل رسالته ) (۱) اور خداوندعالم بہتر جانتا ہے کہ اپن ی رسالت کو کہاں رکھے۔

فخر رازی اپنی تفسیر میں رقمطراز ہے کہ دونوں جگہوں پر میراث سے مراد مالی میراث ہے ، اور یہ ابن عباس و حسن اور ضحاک کا قول ہے ۔(۲)

زمخشری نے تفسیر کشاف میں لکھا جناب سلیمان نے اپنے والد جناب داؤد سے ہزار گھوڑے میراث میں پائے ۔(۳) بغو ی نے معالم التنزیل ،سورہ مریم کی چھٹی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے حسن نے کہا کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ میرے مال کا وارث ہو۔(۴)

ہم لوگ حضرت علی صدیق اور صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا و حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا جناب عباس کے استدلال پر ذرا غور کر یں تو بالکل واضح ہوجائے گا کہ ابوبکر اپنے دعوی میں جھوٹے اور خطا کار ہیں چونکہ جو چیز خود ہی نے اپنے لیے لازم قرار دی تھی اب اسی کی مخالفت کررہے ہیں اس لیے کہ لوگوں کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی حدیث نقل کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا کافی ہے ۔(۵)

____________________

(۱) سورہ انعام(۶) ،آیت ۱۲۴۔

(۲) تفسیر کبیر فخررازی : ۲۱ ۱۵۶۔

(۳) تفسیر کشاف :۴ ۱۳۔

(۴) تفسیر بغوی (معالم التنزیل) : ۳ ۱۸۹۔

(۵) تذکرة الخواص : ۱ ۳۔ تو جیہ النظر (جزائری ) :۶۰۱۔

۶۵

اور دوسری طرف ان حضرا ت نے ابوبکر کی خطا کاری پر میراث و وصیت کے بارے میں عموعات قرآن سے استدلال کیا ، لیکن ابوبکر نے اس چیز کاسہارا لیا کہ جس سے خود ہی نے لوگوں کو منع کیا تھا۔یعنی قرآن کریم کے مقابلے حدیث کو سہارا بناتے ہوئے استدلال کیا لہٰذا یہ ابوبکر کی تناقض گوئی، ایک لمحہ فکریہ ہے !۔

۶۶

دوسرا نمونہ :ـ

حضرت فاطمہ زہرا نے عمومات قرآنی کے ذریعہ ابوبکر کے بیان اور مقصد کی تکذیب فرمائی کہ جو انہوں نے کہاتھا کہ''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ماترکناه صدقه '' ہم پیغمبروں کی میراث نہیں ہوتی اور جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔ چونکہ اگر ابوبکر کا کلام صحیح ہوتا تو پھر کس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عصا ، گھوڑا اور نعلین مبارک حضرت علی کو دیدیا ۔(۱) اور آپ کی ازواج کو گھر میں رہنے کی اجازت دی بالکل اسی طرح کہ جیسے مالک اپنے مال میں تصرف کرتا ہے یہاں تک کہ دفن کے لیے بھی عایشہ سے اس کے حجرے کی اجازت مانگی جبکہ اسی دور میں حضرت زہرا سے یہ کہکر کہ آپ مالک نہیں بن سکتیں فدک چھین لیا گیا۔

کیا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے ممکن ہے کہ دنیا سے انتقال کرجائیں اور اپنی بیٹی و داماد کو ان کے حق کے متعلق کوئی خبر نہ دیں !؟۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید): ۲۱۴۱۶۔ اور دیکھیے صحیح بخاری :۵ ۱۱۴ـ۱۱۵،کتاب المغازی ، حدیث بنی نضر ۔ صحیح مسلم :۳ ۱۳۷۷ـ۱۳۷۹، کتاب الجھاد و السیر، باب حکم الفن۔

۶۷

یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتائیں اور غیروں کو با خبر کریں لیکن جن کا حق ہے یعنی اپنی بیٹی و داماد کو اس حکم خاص سے آگاہ نہ فرمائیں ؟۔

اور اس کے علاوہ اگر ابوبکر کو اپنے کلام پر اعتماد تھا اور وہ اپنے دعوے میں سچے تھے تو پھر کیوں انہوں نے حضرت زہرا کے لیے فدک کے متعلق نامہ لکھا کہ جس کو بعد میں عمر نے پھاڑدیا !؟ ۔ یعنی اس نامے سے خود اپنے ہی کلام کی تکذیب کی اور اس کو نقض کردیا ۔(۱)

ابوبکر نے اپنے اس دعوی سے قانون الٰہی کہ جو پیغمبروں کے بارے میں میراث کے متعلق ہے رسول خدا کی طرف توڑنے کی نسبت دی جبکہ یہ مطلب واقعیت کے خلاف ہے چونکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرائض و تکال یف الہٰی میں عام لوگوں کی طرح مکلف ہیں اور آسمانی تعالیم آپ کے بارے میں بھی دوسروں کی طرح جاری ہیں اور یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آپ کے مختصات و خصوصیات میں سے میراث کا نہ ہونا بھی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر کی تکذیب کی اور جھوٹ کی نسبت دی۔

تیسرا نمونہ:ـ

تیسرا نمونہ حضرت علی کی تکذیب اور آپ کو جھٹلانا ہے کہ جو ابوبکر کی طرف سے واقع ہوا اگر چہ بعض روایات میں عمر کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):۱۶ ۲۷۴۔ احتجاج طبرسی:۱ ۱۲۲۔ اور دیکھیے تہذیب الاحکام (شیخ طوسی) :۴ ۱۴۸۔ تفسیر قمی :۱۵۵۲۔ السیرة الحلبیہ:۳ ۴۸۸۔

۶۸

اس وقت کہ جب ابوبکر کی بیعت نہ کرنے پر حضرت علی کو قتل کی دھمکی دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ کیا آپ لوگ بندہ خدا اور رسول خدا کے بھائی کو قتل کروگے ؟ عمر نے کہا: بندہ خدا تو صحیح لیکن رسول خدا کا بھائی نہیں ۔(۱)

نہیں معلوم کس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی کے درمیان رشتہ اخوت سے انکار کردیا جب کہ یہ کام دو مرتبہ واقع ہوچکا تھا ایک مرتبہ مکہ میں ہجرت سے پہلے اور دوسری مرتبہ مدینے میں ہجرت کے پانچویں مہینے میں کہ جب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام انصار و مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور ایک دوسرے کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور دونوں مقام پر اپنے لیے حضرت علی کا انتخاب فرمایا اور اپنے و علی کے درمیان عقد اخوت پڑھ کرفرمایا : اے علی آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو ۔(۲)

اور اس کے علاوہ یہی کافی ہے کہ نص آیت مباہلہ کے مطابق حضرت علی نفس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہ یں، ارشاد ہے(وانفسنا و انفسکم )(۳) تم اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفس و جان کو لاتے ہ یں۔

____________________

(۱) الامامة والسیاسة:۱ ۲۰۰(تحقیق زینی)۔ احتجاج طبرسی :۱ ۱۰۹۔

(۲) سنن ترمذی :۵ ۳۳۰، حدیث ۳۸۰۴۔ اس میں مذکورہے کہ یہ حدیث حسن اور غریب ہے۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۴۔

(۳) سورہ آل عمران(۳) ، آیت ۶۱۔

۶۹

اور قضیہ تبوک میں آپ نے حضرت علی سے فرمایا:

'' انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الاانه لا نبی بعدی وانت اخی و وارثی'' (۱) آپ کو مجھ سے وہ ی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ میرے بھائی اور میرے وارث ہیں ۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو اس وقت کہ جب دعوت اسلام کا آغازبھی نہ ہوا تھا اپنا بھائی قرار دیا جس وقت یہ آیت نازل ہوئی( وانذر عشیرتک الاقربین ) (۲)

اپنے عزیز وخاندان والوں کو ڈراؤ تب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے تمام رشتہ دارو خاندان والوں کی جناب ابو طالب کے گھر میں دعوت کی ۔ وہ تقریبا چالیس آدمی تھے تب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا :اے فرزندان عبدالمطلب ،خدا کی قسم میری نظرمیں عرب کا کوئی جوان بھی اپنی قوم کے لیے ایسا پیغام نہیں لایا کہ جیسا میں لایا ہوں ، میں آپ لوگوں کے لیے دنیا و آخر ت کی خیر و بھلائی لے کر آیا ہوں اور خداوندعالم نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں پس آپ میں سے کون ہے کہ اس امر میں میری مدد کرے گا تاکہ تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور خلیفہ قرار پائے۔

____________________

(۱) صحیح مسلم :۷ ۱۲۰، کتاب فضل الصحابہ من فضائل علی ۔ مسند ابی یعلی :۱ ۲۸۶، حدیث ۳۴۴۔ صحیح ابن حبان :۱۵ ۲۷۰ـ۲۷۱ ،باب مناقب علی ابن ابی طالب ۔ الآحاد و المثانی :۵ ۱۷۰۔، حدیث ۲۷۰۷۔ تاریخ مدینة دمشق : ۲۱ ۴۱۵ ۔و جلد:۴۲ ۵۳۔

(۲) سورہ شعراء (۶۶) ، آیت ۲۱۴۔

۷۰

اس وقت تمام اہل خاندان نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا سوائے حضرت علی کے کہ جو ان سب میں چھوٹے و کم سن تھے تب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت علی کے کاندھے پر رکھا اور فرمایا:بیشک یہ میرا بھائی ، وصی اور میرا خلیفہ ہے ، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا ۔

وہ لوگ مذاق اڑاتے اور ہنستے تھے اور جناب ابوطالب سے کہتے کہ محمد نے تجھ کو حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات ماننا اور اس کی اطاعت کرنا ۔(۱)

اور اس وقت بھی کہ جب زنان عالم کی سیدہ و سردار حضرت فاطمہ زہرا کی شادی حضرت علی سے ہونے لگی تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے ام ایمن میرے بھائی کو بلائو ، ام ایمن نے کہا: وہ آپ کے بھائی ہیں جبکہ آپ اپنی یبٹی کی شادی ان سے کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اے ام ایمن ، پس ام ایمن نے حضرت علی کو بلایا۔(۲)

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعدد مرتبہ حضرت علی کوبھائی کہکر خطاب کیا ہے ۔

ایک مرتبہ فرمایا:'' انت اخی و صاحبی فی الجنة'' (۳)

آپ جنت میں میرے بھائی اور ساتھی و ہمدم ہیں۔

____________________

(۱) تاریخ طبری :۲ ۶۳۔ السیرة النبوة (ابن کثیر) :۱ ۴۵۸ـ۴۵۹۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۳۳، حدیث ۳۶۴۱۹۔ کہ یہ ابن اسحاق و ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے نقل ہوئی ہے ۔

(۲) مستدرک حاکم : ۳ ۱۵۹۔ السنن الکبری (نسائی) : ۵ ۱۴۲، حدیث ۸۵۰۹۔

(۳) تاریخ بغداد : ۱۲ ۲۶۳۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۶۱۔ ان دونوں ماخذ میں مذکور ہے ''یا علی انت اخی و صاحبی و رفیقی فی الجنة ''اے علی آپ جنت میں میرے بھائی ، ہمدم اور میرے دوست ہو۔

۷۱

اور دوسرے مقام پر فرمایا:

''انت اخی ووزیری ، تقضی دینی و تنجز موعدی و تبری ذمتی '' (۱)

اے علی آپ میرے بھائی اور میرے وزیر ہو آپ ہی میرا قرضہ اتاروگے اور میرے عہد وپیمان اور وعدوں کو پورا کروگے اور میرے ذمہ جو کچھ بھی ہے اس کو ادا کروگے ۔

تیسرے مقا م پر فرمایا :

''هٰذا اخی وابن عمی و صهری و ابو ولدی '' (۲)

یہ( علی ) میرا بھائی، میرے چچا کا بیٹا ،میرا داماد اور میرے بچوں کا باپ ہے ۔

____________________

(۱) المعجم الکبیر: ۱۲ ۳۲۱۔ اور اسی سے نقل ہے مجمع الزوائد : ۹ ۱۲۱ و کنزالعمال :۱۱ ۶۱۱، حدیث ۳۲۹۵۵ میں ۔ اور اسی ماخذ میں آیاہے کہ''فمن احبک فی حیاة منی فقد قضی نحبه ومن احبک بعدی ولم یرک ختم الله له بالامن و امنه یوم الفزع الاکبر ومن مات و هو یبغضک یا علی مات میتة جاهلیة یحاسبه الله بما عمل فی الاسلام '' اے علی جو شخص بھی آپ کو میری زندگی میں دوست رکھے گا گویا اس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور جو کوئی بھی میری زندگی کے بعد آپ کو دوست رکھے اور آپ کو نہ دیکھ پائے خداونداس کا خاتمہ بالخیر کرے گا اور روز قیامت اس کو امن و امان عطا کرے گا ، اور اے علی جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ تجھ سے حسد اور بغض اس کے دل میں ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے خداوندعالم اس کی زندگی کے دوران اسلام کے کارناموں کا محاسبہ کرے گا ۔

(۲) کنزالعمال : ۵ ۲۹۱، حدیث ۱۲۹۱۴ ۔ و جلد : ۱۱ ۶۰۹ ، حدیث ۳۲۹۴۷۔ اس کو شیرازی نے کتاب القاب میں اور ابن نجار نے ابن عمر سے نقل کیا ہے ۔ اور دیکھیے:ـ مسند احمد: ۵ ۲۰۴۔ مستدرک حاکم : ۳ ۲۱۷۔ المعجم الکبیر : ۱ ۱۶۰ ، حدیث ۳۷۸۔

۷۲

اور چوتھے مقام پر فرمایا:

میرے بھائی علی کو آواز دو ۔پس حضرت علی کو بلایا گیا آپ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرہانے آئے حضرت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اور قریب آئو ، آپ قریب آئے اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے زانو پر سہارا دے کر بٹھایا پیغمبراکرم علی پر تکیہ دیے رہے اور آپ سے محو گفتگو رہے یہاں تک کہ آپ کی روح مطہرآپ کے بدن مبارک سے پرواز کرگئی ۔(۱)

پانچویں مقام پر فرمایا:

''مکتوب علی باب الجنة ، لا اله الا الله محمد رسول الله علی اخو رسول الله'' (۲)

جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے ، خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ محمد، اللہ کے رسول ہیں اور علی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھ ائی ہیں ۔

اور چھٹے اور ساتویں مقامات پراس وقت کہ جب حضرت علی بستر رسول پر سورہے تھے خداوندعالم نے شب ہجرت جبرئیل و میکائیل کو وحی کی کہ میں نے تمہارے درمیاں عقد اخوت پڑھا اور آپ دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور ایک کو عمر طولانی دوسرے کو کم عمر عطا کی، آپ میں سے کون ہے کہ اپنی طولانی عمر کو اپنے بھائی پر نثار کرے کوئی ایک بھی حاضر نہ ہو ا ۔

____________________

(۱) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۶۳۔

(۲) المعجم الاوسط :۵ ۴۳ ۱۳ ۔ تاریخ بغداد :۷ ۳۹۸۔ فیض القدیر :۴ ۴۶۸، حدیث ۵۵۸۹، ترجمہ الامام الحسین(ابن عساکر) ۱۸۶، حدیث ۱۶۷۔

۷۳

اوردونوں نے طولانی عمر اور حیات کو چاہا تب خدا وندعالم نے ان دونوں پر وحی کی کہ کیوں آپ علی ابن ابی طالب کی طرح نہیں ہو کہ میں نے علی اور محمد کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی اور علی ، محمد کے بستر پر سوگئے تاکہ اپنی جان محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فدا کردیں اور اپنی زندگی کو اس پر نثار کردیں ، پس زمین پر جاؤ اور اس کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو ۔ پس دونوں زمین پر آگئے ۔(۱)

حضرت امام علی علیہ السلام نے اس مواخات (پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھائی چارگی) سے کئی مرتبہ استشہاد کیا ،مثلا روز شوری ، عثمان ، عبد الرحمن، سعد بن وقاص اور طلحہ و زبیر سے فرمایا: آپ کو میں خدا کی قسم دیتا ہوں آپ میں میرے علاوہ کوئی ہے جس کو رسول خدا نے اس دن جب مسلمانوں کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی ، بھائی بنایا ہو سب نے کہا نہیں خداکی قسم۔(۲)

روز بدر کہ جب ولید آپ کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آیا تو آپ سے سوال کیا کہ آپ کون ہو؟ تب آپ نے فرمایا ''انا عبدالله و اخورسوله ''(۳) م یں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔

حضرت فاطمہ زہرا نے بھی اپنے مشہور خطبہ میں اس اخوت و بھائی چارگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے :

____________________

(۱) اسد الغابہ :۴ ۲۵۔ جواہر المطالب : ۱ ۲۱۷۔ شواہد التنزیل : ۱ ۱۲۳، حدیث ۱۳۳۔

(۲) الاستیعاب :۳ ۱۰۹۸۔

(۳) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۳۔ تاریخ مدینہ دمشق : ۴۲ ۶۰۔

۷۴

جب کبھی بھی شیطان سر اٹھاتا یا مشرکوں میںسے کوئی اژدھا منھ پھاڑتا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بھائی کو اس کے حوالے کردیتے اور وہ جب تک کہ ان پر مسلط نہ ہوتے اور ان کی آگ کے شعلے اپنی تلوار سے خاموش نہ کرتے واپس نہیں آتے تھے وہ راہ خدا میں ہر طرح کی سختیوں اور رنج وتکلیف کو برداشت کرلیتے تھے اور امر خدا کے احیاء میں ہرطرح کی کوشش کرتے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عزیز اور اولیاء الٰہی کے سردار تھے ، ہمیشہ راہ خدا میں ناصح، کوشا اور کمر ہمت باندھے ہوئے تھے اور آپ لوگ اس دور میں اسی کی وجہ سے عیش و آرام کی زندگی گذار رہے تھے اور ہر طرح کے حوادث کے ہم پر منتظر رہتے تھے اور فقط ادھر ادھر کی باتیں سنتے اور جنگوں میں جانے سے گریز کرتے اور اگر کسی جنگ میں پہنچ بھی جاتے تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ''(۱) ۔

ابوبکر نے جب حضرت فاطمہ زہرا کی حجت و دلائل کو سنا تو آپ کے بیان سے متأثر ہوئے اور آپ کا دل لبھاناچاہا اوراس اعتراف کے ساتھ کہ علی ہی رسول خدا کے بھائی ہیں نہ کہ کوئی اور، کہنے لگے:

اے دختر رسول خدا ،آپ کے والد مؤمنوں پر مہربان تھے اور ان کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آتے تھے اور بہت ہی کریم و دل سوز تھے اور کافروں کے حق میں درد ناک عذاب اور بہت سخت عقاب تھے ، اگر ان کے نسب کو دیکھیں تو وہ یقینا آپ کے والد و ماجد ہیں نہ کہ دوسری عورتوں کے اور آپ کے شوہر کے بھائی ہیں نہ کہ دوسرے اصحاب کے ۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو ہر ایک نزدیک ترین دوست سے بھی زیادہ عزیز رکھا اور وہ بھی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہر مشکل کام میں مدد فرماتے تھے۔

____________________

(۱) دیکھیے:ـ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۱۶ ۲۵۰۔ جواہر المطالب :۱ ۱۵۶۔

۷۵

آپ لوگ وہ افراد ہو کہ جن کو صرف سعادتمند و خوشبخت ہی دوست رکھتا ہے اور آپ کو کوئی دشمن نہیں رکھتا سوائے بدبخت انسان کے آپ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عترت و اہل بیت پاک و پاکیزہ ہو اور اللہ کے منتخب و بہترین بندے ہو ہمیں اچھی راہنمائی اور بھلائی دکھاتے ہواور جنت و آخر ت میں بھی ہمارے بہترین راہنما ہو۔

اور آپ اے عورتوں کی سیدہ و سردار اور بہترین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی آپ کا کلام حق اور سچا ہے اور آپ کی عقل کامل و پختہ ہے ، آپ کے حق کو کوئی نہیں روکے گا اور آپ کے صدق و صفائی سے کوئی مانع نہیں ہوگا ۔

خدا کی قسم میں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تجاوز نہیں کیا ہے میں نے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :

''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ذهبا و لا فضة ولا دارا ولا عقارا و انما نورث الکتاب و الحکمة والعلم والنبوة وما کان لنا من طعمة فلو لی الامر بعدنا ان یحکم فیه بحکمه'' ۔ ہم جماعت انبیاء سونا چاندی اور گھر و جنگل کو میراث میں نہیں چھوڑتے ہم فقط کتاب و حکمت اور علم و نبوت کو میراث میں چھوڑتے ہیں اور جو کچھ بھی مال و دولت میں سے ہمارے پاس بچتا ہے اس میں ہمارے بعد ولی امر اپنی مصلحت کے مطابق حکم کرتا ہے۔

آپ کا جو مقصد ہے ہم نے اس کو اسلحہ اور گھوڑے خریدنے کے لیے مخصوص و مہیا کردیا ہے تاکہ اس سے مسلمان جنگ کرسکیں اور کفار کا مقابلہ کرسکیں اور فاسقین کی سر کشی کوسرنگوں کیا جاسکے اور یہ کام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد اور رائے و مشورے سے وجود میں آیا ہے میں نے تنہا یہ کام انجام نہیں دیا ہے اور نہ اپنی رائے و نظر کو مقدم رکھا ہے ، میں اور میرا سارا مال و اسباب آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ سے کچھ مخفی نہیں کیا جائے گا ۔

۷۶

اور یہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے جمع نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ اپنے والد گرامی کی امت کی شہزادی اور اپنی اولاد کے لیے پاک و پاکیزہ شجرہ ہیں اور جو فضل و کمال آپ کا ہے اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اور آپ کی فرع و اصل میں سے کچھ کم نہیں کیا جا سکتا ، جو کچھ میرے اختیار میں ہے آپ کے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہے ، لیکن کیا آپ حاضر ہیں کہ آپ کے والد گرامی کی مخالفت کروں!؟۔

حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا:

سبحان اللہ ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، کتاب خدا سے روگردان نہ تھے اور اس کے احکام کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی پیروی فرماتے اور قرآن مجید کے سوروں کی رسیدگی کرتے ،کیا دھوکا دینے کے لیے جمع ہوئے ہو اور اس پر ظلم و ستم کرنے اور زور گوئی کہنے کے لیے اکھٹا ہوئے ہو ؟یہ کام ان کی وفات کے بعداسی کی مانند ہے کہ جیسے ان کی زندگی میں دھوکے اور مکاریاں کی جاتی رہیں اور یہ بھی انہیں کی زندگی میں پروپیگنڈ ا تیار ہوا ،یہ خدا کی کتاب عادل و حاکم ہے اور حق وحقانیت کو باطل و ناحق سے جدا کرنے کے لیے موجود ہے ۔ کہ جس میں ارشاد ہے( یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۱) خدا یا مجھ کو فرزند عطا فرما کہ جو میرا اور آل یعقوب کا وارث قرار پائے ۔اور ارشاد ہوا( وورث سلیمان داؤد ) (۲) سل یمان نے داؤد سے میراث پائی ۔

____________________

(۱) سورہ مریم(۱۹)، آیت ۶۔

(۲) سورہ نمل(۲۷)، آیت ۱۶۔

۷۷

خدا وندعالم نے سب کے حصوں کو تقسیم کرنے کے لیے اور فرائض کو نافذ کرنے کے لیے اور مرد و عورتوں کو ان کے حق کی ادائیگی کی خاطر تمام چیزوں کو آشکار و واضح کر دیا ہے تاکہ اہل باطل کی تاویلات کو ختم کیا جاسکے اور شبہات و بد گمانی کو دور کیا جاسکے ۔کیا ایسا نہیں ہے ؟( بل سولت لکم انفسکم امرا فصبر جمیل والله المستعان علی ما تصفون ) (۱) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے یہ معمہ بنا کرکھڑا کیا ہے لہذا میں صبر کو بہترین راستہ سمجھتی ہوں خداوندمددگار ہے ہر اس چیز پر کہ جو بیان کرتے ہو۔

ابو بکر نے کہا:

خدا اور اس کا رسول سچ کہتے ہیں اور اس کی بیٹی بھی سچ کہتی ہے ۔ اے فاطمہ آپ معدن حکمت ہیں اور مقام ہدایت و رحمت اور آپ دین کی رکن اور عین حجت ہیں۔

میںآپ کے کلام حق کو بعید نہیں سمجھتا اور آپ کی فرمایش سے انکار نہیں کرتا یہ مسلمان کہ جو میرے اور آپ کے درمیان ہیں ان لوگوں نے یہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے ۔ جوکچھ بھی انجام دیا گیا ہے وہ انہیں کے مشورے سے انجام پایا ہے نہ کہ میں نے کوئی زبردستی کی ہے اور نہ ہی اپنی رائے و نظر یہ کو مقدم رکھا اور یہ لوگ اس بات پر شاہد و گواہ ہیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا :

اے لوگو ! آپ نے باطل کے کلام کی طرف سبقت کی اور برے و نقصان دہ کام سے چشم پوشی کی ۔

____________________

(۱) سورہ یوسف(۱۲)، آیت ۱۸۔

۷۸

( وافلا تتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالها ) (۱) اورکیا قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے یاتمہارے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں کیا ایسا نہیں ہے ؟ بلکہ تمہارے برے اعمال نے تمہارے دلوں پر زنگ لگادیا ہے کہ جس سے تمہارے کان اور آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، کس قدر بری تأویل کی ہے اور جو کچھ آپ لوگوں نے انجام دیا بہت برا ہے ، اور وہ کہ جس کا بدلہ چاہتے ہوبہت خطرناک ہے۔

خدا کی قسم یہ بہت سنگین و بھاری بوجھ ہے اور اس کا نتیجہ بہت برا اور وبال جان ہے وہ وقت کہ جب حقیقت کے پردے آپ کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹیں گے اوراس کے بعد تمہاری بدبختی و پریشانی تمہارے سامنے آشکار ہوگی ۔

( وبدا لکم من ربکم مالم تکونوا تحتسبون ) (۲)

آپ کے پروردگار کی جانب سے کہ جو تم شمار بھی نہ کرتے تھے آشکار ہوگیا ۔

( وخسر هنالک المبطلون ) (۳)

یہی وہ مقام ہے کہ اہل باطل ، خسارہ و نقصا ن دیکھیں گے ۔(۴)

____________________

(۱) سورہ محمد(۴۷)، آیت ۲۴میں آیا ہے (افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا) ۔

(۲) سورہ زمر(۳۹)، آیت ۴۷میں آیا ہے (وبدا لکم من اللہ مالم تکونوا تحتسبون )۔

(۳) سورہ مؤمن (۴۰)، آیت ۷۸۔

(۴) احتجاج طبرسی :۱ ۱۴۱۔ اور اسی سے نقل ہوا ہے بحار الانوار :۲۹ ۲۳۲ـ۲۳۳ میں ۔

۷۹

خدائے سبحان کا ارشاد ہے :

( تلک آیات الله نتلوها علیک بالحق فبای حدیث بعد الله و آیاته یومنون ٭ ویل لکل افاک اثیم ٭ یسمع آیات الله تتلی علیه ثم یصر مستکبرا کأن لم یسمعها فبشره بعذاب الیم ) (۱)

یہ خداوندعالم کی آیات ہیں کہ جو ہم آپ پرحق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ، پس خدا اور اس کی آیات کے بعد کون سا کلام ہے کہ اس پر ایمان لائو گے ۔وائے ہو جھوٹے گناہکار پر کہ اس پرآیات الہٰی کی تلاوت ہوتی ہے تو سنتا ہے اور پھر تکبر سے منھ پھیر لیتا ہے گویااس نے سنا ہی نہ ہو تو آپ اس کو جہنم اور سخت عذاب کی بشارت دیں ۔

____________________

(۱) سورہ جاثیہ (۴۵) ، آیات ۶ـ۷ـ۸۔

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307