"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

12%

مؤلف:
زمرہ جات: فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
صفحے: 307

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 307 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 49451 / ڈاؤنلوڈ: 6228
سائز سائز سائز

"کون ہیں صدیق اور صدیقہ"

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

کیا آپ لوگ یہ خیال کرتے ہوکہ ہمارا میراث میں کوئی حق نہیں ہے( أ فحکم الجاهلیة تبغون ومن احسن من الله حکماً لقوم یوقنون ) (۱)

کیا جاہلیت کے حکم کو چاہتے ہواور اللہ کے حکم سے کس کا حکم اچھا ہے ، ان لوگوں کے لیے کہ جو اہل یقین ہیں ۔ کیا اس سلسلے میں حکم خدا کو نہیں جانتے یقینا جانتے ہو ، سورج کی طرح تم پر روشن ہے کہ میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی ہوں ، اے مسلمانوں کیا میں میراث سے محروم ر ہوں؟ اے ابو قحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ پاؤں؟( لقد جئت شیأ فریا ) (۲)

یقینا اپنے پاس سے من گھڑت لائے ہو۔ کیا جان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جس میں ارشاد ہے( وورث سلیمان داؤد ) (۳)

سلیمان نے دائود سے میراث پائی ۔ اور یحی ابن زکریا کی خبر سنائی ہے لہذا ارشاد ہے( فهب لی من لدنک ولیا یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۴)

زکریا نے کہا پروردگار مجھ کو اپنی جانب سے ولی و جانشین عطا فرما کہ جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب سے میراث پائے۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ (۵) آیت ۵۰۔

(۲) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۲۷۔

(۳) سورہ نمل (۲۷) ،آیت ۱۶۔

(۴) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۵ـ۶۔

۶۱

اور حکم الہی ہے( واولو ا الارحام بعضهم اولی ببعض فی کتاب الله ) (۱) خداوندعالم کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کی بنسبت دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں ۔

اور ارشاد ہے( یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ) (۲) ۔

خداوندعالم آپ کے بچوں کے بارے میں آپ کو وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حق لڑکی کے حق سے دوبرابر ہے ۔

اور ارشاد ہے( ان ترک خیرالوصیة للوالدین والاقربین بالمعروف حقا علی المتقین ) (۳) جس کوآثار موت نظر آنے لگ یں اس پر لازم ہے کہ اگر صاحب مال ہے تو اپنے والدین و رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے یہ متقی اور پرہیزگار وں پر حق ہے ۔

ان سب آیات کے باوجود آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اور میں اپنے والد گرامی سے کوئی حق نہیں پاؤں گی اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے ؟۔

کیا خدا وندعالم نے آپ پر کوئی خاص آیت نازل کی ہے کہ جو میرے باپ پر نازل نہیں کی یا یہ کہ جو کہہ رہے ہو تو کیا میں اپنے والد کے دین پر نہیں ہوں ، دو دین والے آپس میں میراث نہیں پاتے تو کیا میرا اور میرے والد کا دین ایک نہیں ہے؟ کیا آپ لوگ قرآن کریم کے خاص و عام کو میرے والد اور ابن عم علی سے بہتر جانتے ہو؟۔

____________________

(۱) سورہ انفال (۸) ،آیت ۷۵۔

(۲) سورہ نساء (۴) ،آیت ۱۱۔

(۳) سورہ بقرہ (۲) ،آیت ۱۸۰۔

۶۲

اب فدک کو غصب کرلو لیکن روز حشر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ہے ، خداوندعالم کیا ہی خوب حاکم ہے ، اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہترین رہبر ہیں اور روز قیامت سب کے لیے وعدہ گاہ ہے ۔

قیامت کے دن جو لوگ باطل پر ہیں اپنے نقصان و خسارے کو دیکھیں گے اور وہ لوگ پشیمان و شرمندہ ہونگے لیکن اس وقت وہ شرمندگی کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔

( وکل نبأ مستقر ) (۱) اور ہر خبر کو واقع ہونا ہے ۔( فسوف تعلمون من یاتیه عذاب یخزیه و یحل علیه عذاب مقیم ) (۲) پس عنقر یب جان لوگے کہ ذلیل و رسوا کرنے ولا عذاب آن پہنچا ہے اور ہمیشہ رہنے والا عقاب و عذاب سر پر منڈلارہا ہے ۔(۳)

یہ عبارت بہت واضح اور روشن ہے اور زیادہ تحلیل و تفسیر کی ضرورت نہیں ہے ۔ فاطمہ صدیقہ اپنے اس کلام میں ابوبکر صدیق کی تکذیب کر رہی ہیں : اے ابوقحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ سے میراث پائے اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ، یقینا یہ کیا من گھڑت چیز پیش کی ہے ۔

اور اس کلام میں بھی کہ ابوبکر اور اس کے طرفدار زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ فاطمہ اپنے باپ سے میراث نہیں پائے گی جب کہ یہ خیال قرآن کریم کی آیات وصیت و میراث کے متعلق عمومات کے خلاف ہے ۔

____________________

(۱) سورہ انعام (۶) ،آیت ۶۷۔

(۲) سورہ ھود (۱۱) ،آیت ۳۹۔و سورہ زمر(۳۹) ،آیت ۳۹ـ۴۰۔

(۳) احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۸ـ۱۳۹۔

۶۳

یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ابوبکر اپنے باپ سے میراث پائے اور فاطمہ اپنے والد سے میراث نہ پائیں! کیا خداوندعالم نے ان کے لیے کوئی خاص آیت بھیجی ہے کہ جس سے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو باہر و جدا کردیا گیا ہے یا یہ کہ ان کا نظریہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور فاطمہ کا دین جدا جدا ہے کہ ایک دوسرے سے میراث نہیں پاسکتے یایہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ فاطمہ ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی نہیں ہیں ۔

چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک حکم الہٰی کو ان لوگوں سے بیان کریں کہ جو وارث نہیں ہیں اور جو وارث ہیں ان سے چھپائے رکھیں ۔

اس بات کو عقل کیسے قبول کرسکتی ہے کہ کتاب الہٰی کو ایک ایسی خبرواحد سے تخصیص دی جائے کہ جس کی علی و فاطمہ تصدیق نہ فرمائیں۔

یہ کس طرح ممکن ہے اور عقل کیسے قبول کرے کہ کتاب الہٰی کی تخصیص ایک ایسی خبر واحد سے ہوکہ جو ظاہر اور عمومات قرآن کے مخالف ہو چونکہ گذشتہ نبیوں کی سیرت اس کے خلاف ثابت ہے

جی ہاں ! حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس کلام سے یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ان لوگوں نے کتاب خدا پر بھی عمل کرنا چھوڑدیا ہے ۔ چونکہ لفظ وارث عام ہے اور مال کی میراث پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ متعدد آیات سے واضح ہے اور کسی خاص قید سے مقید بھی نہیں ہوا ، لیکن انہوں نے میراث کو ، میراث حکمت و نبوت سے تعبیر کیا ہے نہ کہ اموال سے اور مجاز کو حقیقت پر مقدم رکھا ۔

جب کہ علم و حکمت اور نبوت کی میراث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مالی میراث ختم ہوجائے بلکہ میراث نبوت اور اموال ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں ، اور یہ وراثت پروردگار کے نزدیک روز ازل سے اس کے مستحقین کے لیے محفوظ و مخصوص ہے ۔

۶۴

( والله اعلم حیث یجعل رسالته ) (۱) اور خداوندعالم بہتر جانتا ہے کہ اپن ی رسالت کو کہاں رکھے۔

فخر رازی اپنی تفسیر میں رقمطراز ہے کہ دونوں جگہوں پر میراث سے مراد مالی میراث ہے ، اور یہ ابن عباس و حسن اور ضحاک کا قول ہے ۔(۲)

زمخشری نے تفسیر کشاف میں لکھا جناب سلیمان نے اپنے والد جناب داؤد سے ہزار گھوڑے میراث میں پائے ۔(۳) بغو ی نے معالم التنزیل ،سورہ مریم کی چھٹی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے حسن نے کہا کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ میرے مال کا وارث ہو۔(۴)

ہم لوگ حضرت علی صدیق اور صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا و حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا جناب عباس کے استدلال پر ذرا غور کر یں تو بالکل واضح ہوجائے گا کہ ابوبکر اپنے دعوی میں جھوٹے اور خطا کار ہیں چونکہ جو چیز خود ہی نے اپنے لیے لازم قرار دی تھی اب اسی کی مخالفت کررہے ہیں اس لیے کہ لوگوں کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی حدیث نقل کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا کافی ہے ۔(۵)

____________________

(۱) سورہ انعام(۶) ،آیت ۱۲۴۔

(۲) تفسیر کبیر فخررازی : ۲۱ ۱۵۶۔

(۳) تفسیر کشاف :۴ ۱۳۔

(۴) تفسیر بغوی (معالم التنزیل) : ۳ ۱۸۹۔

(۵) تذکرة الخواص : ۱ ۳۔ تو جیہ النظر (جزائری ) :۶۰۱۔

۶۵

اور دوسری طرف ان حضرا ت نے ابوبکر کی خطا کاری پر میراث و وصیت کے بارے میں عموعات قرآن سے استدلال کیا ، لیکن ابوبکر نے اس چیز کاسہارا لیا کہ جس سے خود ہی نے لوگوں کو منع کیا تھا۔یعنی قرآن کریم کے مقابلے حدیث کو سہارا بناتے ہوئے استدلال کیا لہٰذا یہ ابوبکر کی تناقض گوئی، ایک لمحہ فکریہ ہے !۔

۶۶

دوسرا نمونہ :ـ

حضرت فاطمہ زہرا نے عمومات قرآنی کے ذریعہ ابوبکر کے بیان اور مقصد کی تکذیب فرمائی کہ جو انہوں نے کہاتھا کہ''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ماترکناه صدقه '' ہم پیغمبروں کی میراث نہیں ہوتی اور جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔ چونکہ اگر ابوبکر کا کلام صحیح ہوتا تو پھر کس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عصا ، گھوڑا اور نعلین مبارک حضرت علی کو دیدیا ۔(۱) اور آپ کی ازواج کو گھر میں رہنے کی اجازت دی بالکل اسی طرح کہ جیسے مالک اپنے مال میں تصرف کرتا ہے یہاں تک کہ دفن کے لیے بھی عایشہ سے اس کے حجرے کی اجازت مانگی جبکہ اسی دور میں حضرت زہرا سے یہ کہکر کہ آپ مالک نہیں بن سکتیں فدک چھین لیا گیا۔

کیا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے ممکن ہے کہ دنیا سے انتقال کرجائیں اور اپنی بیٹی و داماد کو ان کے حق کے متعلق کوئی خبر نہ دیں !؟۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید): ۲۱۴۱۶۔ اور دیکھیے صحیح بخاری :۵ ۱۱۴ـ۱۱۵،کتاب المغازی ، حدیث بنی نضر ۔ صحیح مسلم :۳ ۱۳۷۷ـ۱۳۷۹، کتاب الجھاد و السیر، باب حکم الفن۔

۶۷

یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتائیں اور غیروں کو با خبر کریں لیکن جن کا حق ہے یعنی اپنی بیٹی و داماد کو اس حکم خاص سے آگاہ نہ فرمائیں ؟۔

اور اس کے علاوہ اگر ابوبکر کو اپنے کلام پر اعتماد تھا اور وہ اپنے دعوے میں سچے تھے تو پھر کیوں انہوں نے حضرت زہرا کے لیے فدک کے متعلق نامہ لکھا کہ جس کو بعد میں عمر نے پھاڑدیا !؟ ۔ یعنی اس نامے سے خود اپنے ہی کلام کی تکذیب کی اور اس کو نقض کردیا ۔(۱)

ابوبکر نے اپنے اس دعوی سے قانون الٰہی کہ جو پیغمبروں کے بارے میں میراث کے متعلق ہے رسول خدا کی طرف توڑنے کی نسبت دی جبکہ یہ مطلب واقعیت کے خلاف ہے چونکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرائض و تکال یف الہٰی میں عام لوگوں کی طرح مکلف ہیں اور آسمانی تعالیم آپ کے بارے میں بھی دوسروں کی طرح جاری ہیں اور یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آپ کے مختصات و خصوصیات میں سے میراث کا نہ ہونا بھی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر کی تکذیب کی اور جھوٹ کی نسبت دی۔

تیسرا نمونہ:ـ

تیسرا نمونہ حضرت علی کی تکذیب اور آپ کو جھٹلانا ہے کہ جو ابوبکر کی طرف سے واقع ہوا اگر چہ بعض روایات میں عمر کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):۱۶ ۲۷۴۔ احتجاج طبرسی:۱ ۱۲۲۔ اور دیکھیے تہذیب الاحکام (شیخ طوسی) :۴ ۱۴۸۔ تفسیر قمی :۱۵۵۲۔ السیرة الحلبیہ:۳ ۴۸۸۔

۶۸

اس وقت کہ جب ابوبکر کی بیعت نہ کرنے پر حضرت علی کو قتل کی دھمکی دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ کیا آپ لوگ بندہ خدا اور رسول خدا کے بھائی کو قتل کروگے ؟ عمر نے کہا: بندہ خدا تو صحیح لیکن رسول خدا کا بھائی نہیں ۔(۱)

نہیں معلوم کس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی کے درمیان رشتہ اخوت سے انکار کردیا جب کہ یہ کام دو مرتبہ واقع ہوچکا تھا ایک مرتبہ مکہ میں ہجرت سے پہلے اور دوسری مرتبہ مدینے میں ہجرت کے پانچویں مہینے میں کہ جب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام انصار و مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور ایک دوسرے کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور دونوں مقام پر اپنے لیے حضرت علی کا انتخاب فرمایا اور اپنے و علی کے درمیان عقد اخوت پڑھ کرفرمایا : اے علی آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو ۔(۲)

اور اس کے علاوہ یہی کافی ہے کہ نص آیت مباہلہ کے مطابق حضرت علی نفس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہ یں، ارشاد ہے(وانفسنا و انفسکم )(۳) تم اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفس و جان کو لاتے ہ یں۔

____________________

(۱) الامامة والسیاسة:۱ ۲۰۰(تحقیق زینی)۔ احتجاج طبرسی :۱ ۱۰۹۔

(۲) سنن ترمذی :۵ ۳۳۰، حدیث ۳۸۰۴۔ اس میں مذکورہے کہ یہ حدیث حسن اور غریب ہے۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۴۔

(۳) سورہ آل عمران(۳) ، آیت ۶۱۔

۶۹

اور قضیہ تبوک میں آپ نے حضرت علی سے فرمایا:

'' انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الاانه لا نبی بعدی وانت اخی و وارثی'' (۱) آپ کو مجھ سے وہ ی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ میرے بھائی اور میرے وارث ہیں ۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو اس وقت کہ جب دعوت اسلام کا آغازبھی نہ ہوا تھا اپنا بھائی قرار دیا جس وقت یہ آیت نازل ہوئی( وانذر عشیرتک الاقربین ) (۲)

اپنے عزیز وخاندان والوں کو ڈراؤ تب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے تمام رشتہ دارو خاندان والوں کی جناب ابو طالب کے گھر میں دعوت کی ۔ وہ تقریبا چالیس آدمی تھے تب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا :اے فرزندان عبدالمطلب ،خدا کی قسم میری نظرمیں عرب کا کوئی جوان بھی اپنی قوم کے لیے ایسا پیغام نہیں لایا کہ جیسا میں لایا ہوں ، میں آپ لوگوں کے لیے دنیا و آخر ت کی خیر و بھلائی لے کر آیا ہوں اور خداوندعالم نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں پس آپ میں سے کون ہے کہ اس امر میں میری مدد کرے گا تاکہ تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور خلیفہ قرار پائے۔

____________________

(۱) صحیح مسلم :۷ ۱۲۰، کتاب فضل الصحابہ من فضائل علی ۔ مسند ابی یعلی :۱ ۲۸۶، حدیث ۳۴۴۔ صحیح ابن حبان :۱۵ ۲۷۰ـ۲۷۱ ،باب مناقب علی ابن ابی طالب ۔ الآحاد و المثانی :۵ ۱۷۰۔، حدیث ۲۷۰۷۔ تاریخ مدینة دمشق : ۲۱ ۴۱۵ ۔و جلد:۴۲ ۵۳۔

(۲) سورہ شعراء (۶۶) ، آیت ۲۱۴۔

۷۰

اس وقت تمام اہل خاندان نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا سوائے حضرت علی کے کہ جو ان سب میں چھوٹے و کم سن تھے تب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت علی کے کاندھے پر رکھا اور فرمایا:بیشک یہ میرا بھائی ، وصی اور میرا خلیفہ ہے ، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا ۔

وہ لوگ مذاق اڑاتے اور ہنستے تھے اور جناب ابوطالب سے کہتے کہ محمد نے تجھ کو حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات ماننا اور اس کی اطاعت کرنا ۔(۱)

اور اس وقت بھی کہ جب زنان عالم کی سیدہ و سردار حضرت فاطمہ زہرا کی شادی حضرت علی سے ہونے لگی تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے ام ایمن میرے بھائی کو بلائو ، ام ایمن نے کہا: وہ آپ کے بھائی ہیں جبکہ آپ اپنی یبٹی کی شادی ان سے کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اے ام ایمن ، پس ام ایمن نے حضرت علی کو بلایا۔(۲)

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعدد مرتبہ حضرت علی کوبھائی کہکر خطاب کیا ہے ۔

ایک مرتبہ فرمایا:'' انت اخی و صاحبی فی الجنة'' (۳)

آپ جنت میں میرے بھائی اور ساتھی و ہمدم ہیں۔

____________________

(۱) تاریخ طبری :۲ ۶۳۔ السیرة النبوة (ابن کثیر) :۱ ۴۵۸ـ۴۵۹۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۳۳، حدیث ۳۶۴۱۹۔ کہ یہ ابن اسحاق و ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے نقل ہوئی ہے ۔

(۲) مستدرک حاکم : ۳ ۱۵۹۔ السنن الکبری (نسائی) : ۵ ۱۴۲، حدیث ۸۵۰۹۔

(۳) تاریخ بغداد : ۱۲ ۲۶۳۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۶۱۔ ان دونوں ماخذ میں مذکور ہے ''یا علی انت اخی و صاحبی و رفیقی فی الجنة ''اے علی آپ جنت میں میرے بھائی ، ہمدم اور میرے دوست ہو۔

۷۱

اور دوسرے مقام پر فرمایا:

''انت اخی ووزیری ، تقضی دینی و تنجز موعدی و تبری ذمتی '' (۱)

اے علی آپ میرے بھائی اور میرے وزیر ہو آپ ہی میرا قرضہ اتاروگے اور میرے عہد وپیمان اور وعدوں کو پورا کروگے اور میرے ذمہ جو کچھ بھی ہے اس کو ادا کروگے ۔

تیسرے مقا م پر فرمایا :

''هٰذا اخی وابن عمی و صهری و ابو ولدی '' (۲)

یہ( علی ) میرا بھائی، میرے چچا کا بیٹا ،میرا داماد اور میرے بچوں کا باپ ہے ۔

____________________

(۱) المعجم الکبیر: ۱۲ ۳۲۱۔ اور اسی سے نقل ہے مجمع الزوائد : ۹ ۱۲۱ و کنزالعمال :۱۱ ۶۱۱، حدیث ۳۲۹۵۵ میں ۔ اور اسی ماخذ میں آیاہے کہ''فمن احبک فی حیاة منی فقد قضی نحبه ومن احبک بعدی ولم یرک ختم الله له بالامن و امنه یوم الفزع الاکبر ومن مات و هو یبغضک یا علی مات میتة جاهلیة یحاسبه الله بما عمل فی الاسلام '' اے علی جو شخص بھی آپ کو میری زندگی میں دوست رکھے گا گویا اس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور جو کوئی بھی میری زندگی کے بعد آپ کو دوست رکھے اور آپ کو نہ دیکھ پائے خداونداس کا خاتمہ بالخیر کرے گا اور روز قیامت اس کو امن و امان عطا کرے گا ، اور اے علی جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ تجھ سے حسد اور بغض اس کے دل میں ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے خداوندعالم اس کی زندگی کے دوران اسلام کے کارناموں کا محاسبہ کرے گا ۔

(۲) کنزالعمال : ۵ ۲۹۱، حدیث ۱۲۹۱۴ ۔ و جلد : ۱۱ ۶۰۹ ، حدیث ۳۲۹۴۷۔ اس کو شیرازی نے کتاب القاب میں اور ابن نجار نے ابن عمر سے نقل کیا ہے ۔ اور دیکھیے:ـ مسند احمد: ۵ ۲۰۴۔ مستدرک حاکم : ۳ ۲۱۷۔ المعجم الکبیر : ۱ ۱۶۰ ، حدیث ۳۷۸۔

۷۲

اور چوتھے مقام پر فرمایا:

میرے بھائی علی کو آواز دو ۔پس حضرت علی کو بلایا گیا آپ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرہانے آئے حضرت پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اور قریب آئو ، آپ قریب آئے اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے زانو پر سہارا دے کر بٹھایا پیغمبراکرم علی پر تکیہ دیے رہے اور آپ سے محو گفتگو رہے یہاں تک کہ آپ کی روح مطہرآپ کے بدن مبارک سے پرواز کرگئی ۔(۱)

پانچویں مقام پر فرمایا:

''مکتوب علی باب الجنة ، لا اله الا الله محمد رسول الله علی اخو رسول الله'' (۲)

جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے ، خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ محمد، اللہ کے رسول ہیں اور علی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھ ائی ہیں ۔

اور چھٹے اور ساتویں مقامات پراس وقت کہ جب حضرت علی بستر رسول پر سورہے تھے خداوندعالم نے شب ہجرت جبرئیل و میکائیل کو وحی کی کہ میں نے تمہارے درمیاں عقد اخوت پڑھا اور آپ دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور ایک کو عمر طولانی دوسرے کو کم عمر عطا کی، آپ میں سے کون ہے کہ اپنی طولانی عمر کو اپنے بھائی پر نثار کرے کوئی ایک بھی حاضر نہ ہو ا ۔

____________________

(۱) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۶۳۔

(۲) المعجم الاوسط :۵ ۴۳ ۱۳ ۔ تاریخ بغداد :۷ ۳۹۸۔ فیض القدیر :۴ ۴۶۸، حدیث ۵۵۸۹، ترجمہ الامام الحسین(ابن عساکر) ۱۸۶، حدیث ۱۶۷۔

۷۳

اوردونوں نے طولانی عمر اور حیات کو چاہا تب خدا وندعالم نے ان دونوں پر وحی کی کہ کیوں آپ علی ابن ابی طالب کی طرح نہیں ہو کہ میں نے علی اور محمد کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی اور علی ، محمد کے بستر پر سوگئے تاکہ اپنی جان محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فدا کردیں اور اپنی زندگی کو اس پر نثار کردیں ، پس زمین پر جاؤ اور اس کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو ۔ پس دونوں زمین پر آگئے ۔(۱)

حضرت امام علی علیہ السلام نے اس مواخات (پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھائی چارگی) سے کئی مرتبہ استشہاد کیا ،مثلا روز شوری ، عثمان ، عبد الرحمن، سعد بن وقاص اور طلحہ و زبیر سے فرمایا: آپ کو میں خدا کی قسم دیتا ہوں آپ میں میرے علاوہ کوئی ہے جس کو رسول خدا نے اس دن جب مسلمانوں کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی ، بھائی بنایا ہو سب نے کہا نہیں خداکی قسم۔(۲)

روز بدر کہ جب ولید آپ کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آیا تو آپ سے سوال کیا کہ آپ کون ہو؟ تب آپ نے فرمایا ''انا عبدالله و اخورسوله ''(۳) م یں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔

حضرت فاطمہ زہرا نے بھی اپنے مشہور خطبہ میں اس اخوت و بھائی چارگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے :

____________________

(۱) اسد الغابہ :۴ ۲۵۔ جواہر المطالب : ۱ ۲۱۷۔ شواہد التنزیل : ۱ ۱۲۳، حدیث ۱۳۳۔

(۲) الاستیعاب :۳ ۱۰۹۸۔

(۳) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۳۔ تاریخ مدینہ دمشق : ۴۲ ۶۰۔

۷۴

جب کبھی بھی شیطان سر اٹھاتا یا مشرکوں میںسے کوئی اژدھا منھ پھاڑتا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بھائی کو اس کے حوالے کردیتے اور وہ جب تک کہ ان پر مسلط نہ ہوتے اور ان کی آگ کے شعلے اپنی تلوار سے خاموش نہ کرتے واپس نہیں آتے تھے وہ راہ خدا میں ہر طرح کی سختیوں اور رنج وتکلیف کو برداشت کرلیتے تھے اور امر خدا کے احیاء میں ہرطرح کی کوشش کرتے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عزیز اور اولیاء الٰہی کے سردار تھے ، ہمیشہ راہ خدا میں ناصح، کوشا اور کمر ہمت باندھے ہوئے تھے اور آپ لوگ اس دور میں اسی کی وجہ سے عیش و آرام کی زندگی گذار رہے تھے اور ہر طرح کے حوادث کے ہم پر منتظر رہتے تھے اور فقط ادھر ادھر کی باتیں سنتے اور جنگوں میں جانے سے گریز کرتے اور اگر کسی جنگ میں پہنچ بھی جاتے تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ''(۱) ۔

ابوبکر نے جب حضرت فاطمہ زہرا کی حجت و دلائل کو سنا تو آپ کے بیان سے متأثر ہوئے اور آپ کا دل لبھاناچاہا اوراس اعتراف کے ساتھ کہ علی ہی رسول خدا کے بھائی ہیں نہ کہ کوئی اور، کہنے لگے:

اے دختر رسول خدا ،آپ کے والد مؤمنوں پر مہربان تھے اور ان کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آتے تھے اور بہت ہی کریم و دل سوز تھے اور کافروں کے حق میں درد ناک عذاب اور بہت سخت عقاب تھے ، اگر ان کے نسب کو دیکھیں تو وہ یقینا آپ کے والد و ماجد ہیں نہ کہ دوسری عورتوں کے اور آپ کے شوہر کے بھائی ہیں نہ کہ دوسرے اصحاب کے ۔ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو ہر ایک نزدیک ترین دوست سے بھی زیادہ عزیز رکھا اور وہ بھی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہر مشکل کام میں مدد فرماتے تھے۔

____________________

(۱) دیکھیے:ـ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۱۶ ۲۵۰۔ جواہر المطالب :۱ ۱۵۶۔

۷۵

آپ لوگ وہ افراد ہو کہ جن کو صرف سعادتمند و خوشبخت ہی دوست رکھتا ہے اور آپ کو کوئی دشمن نہیں رکھتا سوائے بدبخت انسان کے آپ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عترت و اہل بیت پاک و پاکیزہ ہو اور اللہ کے منتخب و بہترین بندے ہو ہمیں اچھی راہنمائی اور بھلائی دکھاتے ہواور جنت و آخر ت میں بھی ہمارے بہترین راہنما ہو۔

اور آپ اے عورتوں کی سیدہ و سردار اور بہترین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی آپ کا کلام حق اور سچا ہے اور آپ کی عقل کامل و پختہ ہے ، آپ کے حق کو کوئی نہیں روکے گا اور آپ کے صدق و صفائی سے کوئی مانع نہیں ہوگا ۔

خدا کی قسم میں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تجاوز نہیں کیا ہے میں نے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :

''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ذهبا و لا فضة ولا دارا ولا عقارا و انما نورث الکتاب و الحکمة والعلم والنبوة وما کان لنا من طعمة فلو لی الامر بعدنا ان یحکم فیه بحکمه'' ۔ ہم جماعت انبیاء سونا چاندی اور گھر و جنگل کو میراث میں نہیں چھوڑتے ہم فقط کتاب و حکمت اور علم و نبوت کو میراث میں چھوڑتے ہیں اور جو کچھ بھی مال و دولت میں سے ہمارے پاس بچتا ہے اس میں ہمارے بعد ولی امر اپنی مصلحت کے مطابق حکم کرتا ہے۔

آپ کا جو مقصد ہے ہم نے اس کو اسلحہ اور گھوڑے خریدنے کے لیے مخصوص و مہیا کردیا ہے تاکہ اس سے مسلمان جنگ کرسکیں اور کفار کا مقابلہ کرسکیں اور فاسقین کی سر کشی کوسرنگوں کیا جاسکے اور یہ کام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد اور رائے و مشورے سے وجود میں آیا ہے میں نے تنہا یہ کام انجام نہیں دیا ہے اور نہ اپنی رائے و نظر کو مقدم رکھا ہے ، میں اور میرا سارا مال و اسباب آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ سے کچھ مخفی نہیں کیا جائے گا ۔

۷۶

اور یہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے جمع نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ اپنے والد گرامی کی امت کی شہزادی اور اپنی اولاد کے لیے پاک و پاکیزہ شجرہ ہیں اور جو فضل و کمال آپ کا ہے اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اور آپ کی فرع و اصل میں سے کچھ کم نہیں کیا جا سکتا ، جو کچھ میرے اختیار میں ہے آپ کے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہے ، لیکن کیا آپ حاضر ہیں کہ آپ کے والد گرامی کی مخالفت کروں!؟۔

حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا:

سبحان اللہ ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، کتاب خدا سے روگردان نہ تھے اور اس کے احکام کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی پیروی فرماتے اور قرآن مجید کے سوروں کی رسیدگی کرتے ،کیا دھوکا دینے کے لیے جمع ہوئے ہو اور اس پر ظلم و ستم کرنے اور زور گوئی کہنے کے لیے اکھٹا ہوئے ہو ؟یہ کام ان کی وفات کے بعداسی کی مانند ہے کہ جیسے ان کی زندگی میں دھوکے اور مکاریاں کی جاتی رہیں اور یہ بھی انہیں کی زندگی میں پروپیگنڈ ا تیار ہوا ،یہ خدا کی کتاب عادل و حاکم ہے اور حق وحقانیت کو باطل و ناحق سے جدا کرنے کے لیے موجود ہے ۔ کہ جس میں ارشاد ہے( یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۱) خدا یا مجھ کو فرزند عطا فرما کہ جو میرا اور آل یعقوب کا وارث قرار پائے ۔اور ارشاد ہوا( وورث سلیمان داؤد ) (۲) سل یمان نے داؤد سے میراث پائی ۔

____________________

(۱) سورہ مریم(۱۹)، آیت ۶۔

(۲) سورہ نمل(۲۷)، آیت ۱۶۔

۷۷

خدا وندعالم نے سب کے حصوں کو تقسیم کرنے کے لیے اور فرائض کو نافذ کرنے کے لیے اور مرد و عورتوں کو ان کے حق کی ادائیگی کی خاطر تمام چیزوں کو آشکار و واضح کر دیا ہے تاکہ اہل باطل کی تاویلات کو ختم کیا جاسکے اور شبہات و بد گمانی کو دور کیا جاسکے ۔کیا ایسا نہیں ہے ؟( بل سولت لکم انفسکم امرا فصبر جمیل والله المستعان علی ما تصفون ) (۱) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے یہ معمہ بنا کرکھڑا کیا ہے لہذا میں صبر کو بہترین راستہ سمجھتی ہوں خداوندمددگار ہے ہر اس چیز پر کہ جو بیان کرتے ہو۔

ابو بکر نے کہا:

خدا اور اس کا رسول سچ کہتے ہیں اور اس کی بیٹی بھی سچ کہتی ہے ۔ اے فاطمہ آپ معدن حکمت ہیں اور مقام ہدایت و رحمت اور آپ دین کی رکن اور عین حجت ہیں۔

میںآپ کے کلام حق کو بعید نہیں سمجھتا اور آپ کی فرمایش سے انکار نہیں کرتا یہ مسلمان کہ جو میرے اور آپ کے درمیان ہیں ان لوگوں نے یہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے ۔ جوکچھ بھی انجام دیا گیا ہے وہ انہیں کے مشورے سے انجام پایا ہے نہ کہ میں نے کوئی زبردستی کی ہے اور نہ ہی اپنی رائے و نظر یہ کو مقدم رکھا اور یہ لوگ اس بات پر شاہد و گواہ ہیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا :

اے لوگو ! آپ نے باطل کے کلام کی طرف سبقت کی اور برے و نقصان دہ کام سے چشم پوشی کی ۔

____________________

(۱) سورہ یوسف(۱۲)، آیت ۱۸۔

۷۸

( وافلا تتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالها ) (۱) اورکیا قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے یاتمہارے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں کیا ایسا نہیں ہے ؟ بلکہ تمہارے برے اعمال نے تمہارے دلوں پر زنگ لگادیا ہے کہ جس سے تمہارے کان اور آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، کس قدر بری تأویل کی ہے اور جو کچھ آپ لوگوں نے انجام دیا بہت برا ہے ، اور وہ کہ جس کا بدلہ چاہتے ہوبہت خطرناک ہے۔

خدا کی قسم یہ بہت سنگین و بھاری بوجھ ہے اور اس کا نتیجہ بہت برا اور وبال جان ہے وہ وقت کہ جب حقیقت کے پردے آپ کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹیں گے اوراس کے بعد تمہاری بدبختی و پریشانی تمہارے سامنے آشکار ہوگی ۔

( وبدا لکم من ربکم مالم تکونوا تحتسبون ) (۲)

آپ کے پروردگار کی جانب سے کہ جو تم شمار بھی نہ کرتے تھے آشکار ہوگیا ۔

( وخسر هنالک المبطلون ) (۳)

یہی وہ مقام ہے کہ اہل باطل ، خسارہ و نقصا ن دیکھیں گے ۔(۴)

____________________

(۱) سورہ محمد(۴۷)، آیت ۲۴میں آیا ہے (افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا) ۔

(۲) سورہ زمر(۳۹)، آیت ۴۷میں آیا ہے (وبدا لکم من اللہ مالم تکونوا تحتسبون )۔

(۳) سورہ مؤمن (۴۰)، آیت ۷۸۔

(۴) احتجاج طبرسی :۱ ۱۴۱۔ اور اسی سے نقل ہوا ہے بحار الانوار :۲۹ ۲۳۲ـ۲۳۳ میں ۔

۷۹

خدائے سبحان کا ارشاد ہے :

( تلک آیات الله نتلوها علیک بالحق فبای حدیث بعد الله و آیاته یومنون ٭ ویل لکل افاک اثیم ٭ یسمع آیات الله تتلی علیه ثم یصر مستکبرا کأن لم یسمعها فبشره بعذاب الیم ) (۱)

یہ خداوندعالم کی آیات ہیں کہ جو ہم آپ پرحق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ، پس خدا اور اس کی آیات کے بعد کون سا کلام ہے کہ اس پر ایمان لائو گے ۔وائے ہو جھوٹے گناہکار پر کہ اس پرآیات الہٰی کی تلاوت ہوتی ہے تو سنتا ہے اور پھر تکبر سے منھ پھیر لیتا ہے گویااس نے سنا ہی نہ ہو تو آپ اس کو جہنم اور سخت عذاب کی بشارت دیں ۔

____________________

(۱) سورہ جاثیہ (۴۵) ، آیات ۶ـ۷ـ۸۔

۸۰

چوتھا نمونہ :ـ

حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے وارث ہونے کے سلسلے میں ابوبکر کا مشکوک ہونا اور ان کے اس کلام کا اعتبار ، خود ایک ایسا دعوی ہے کہ جس پر دلیل کی ضرورت ہے ، جب کہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آیہ تطہیر کی مصداق حضرت زہرا ہیں کہ جس میں حضرت کی پاکیزگی ،جھوٹ و خیانت اور ہر طرح کی پلیدگی و رجس سے دوری آشکار و واضح ہے ۔

یہ فاطمہ وہ خاتون ہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صادق و امین کہ جو اپنی خواہشات نفس سے گفتگو نہیں کرتے بلکہ وہی کہتے ہیں کہ جو وحی ہوتی ہے فرماتے ہیں :''ان الله لیغضب لغضب فاطمة و یرضی لرضاها''

بیشک خداوندعالم حضرت فاطمہ کے غضب ناک ہونے سے غضب ناک ہوتا ہے اور ان کے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے ۔

اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ حضرت فاطمہ خطا و خواہشات نفس سے پاک و معصوم ہیں چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ خداوندعالم کا غضب اور خوشنودی کسی غیر معصوم کے غضب و خوشنودی سے مربوط ہو۔

پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ فاطمہ خدا کے لیے غضبناک اور اسی کے لیے خوشنود ہوتی ہیں بلکہ فرمایا ہے کہ خداوندعالم فاطمہ کے غصے میں غصہ اور خوشنودی میں خوشنود ہوتا ہے ۔ اس جملہ میں بہت عظیم معانی پوشیدہ ہیںکہ جس کو صاحب بصیرت لوگ ہی درک کرسکتے ہیں ۔

چونکہ جو انسان بھی کمال عبادت اور معرفت تک پہنچنا چاہتا ہے کوشش کرتا ہے کہ رضایت الہٰی کو حاصل کرلے جبکہ یہاں مسٔلہ برعکس اور مختلف ہے چونکہ رضائے خداونداور اس کا غضب ، رضا و غضب فاطمہ ہے ، یہی وہ مقام ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے اور سوائے کامل افراد کے، ممکن نہیں ہے کہ کوئی اس کلام کی حقیقت و کنہ تک پہنچ جائے ۔

لہذا اب دیکھتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت فاطمہ زہرا سے کیا برتاؤ کیا ۔

حماد بن عثمان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے آپ نے فرمایا :

جب ابوبکرکی بیعت ہوچکی اور ان کا تمام مہاجرین و انصار پر تسلط ہوگیا تب کچھ افراد کو سرزمین فدک بھیجا تاکہ وہاں سے حضرت فاطمہ زہرا کے وکیل کو باہر نکال دیں ۔

۸۱

حضرت فاطمہ زہرا ابوبکر کے پاس آئیں اور فرمایا: کیوں مجھ کو میرے والد پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث سے محروم کیا ہے؟ اور میرے وکیل کووہاں سے باہر کیا جبکہ رسول خدا نے خدا وندعالم کے حکم سے وہ مجھ کو عطا فرمایا تھا ۔ابوبکر نے کہا اپنے اس کلام پر میرے لیے گواہ لے کر آؤ !۔

حضرت فاطمہ زہرا جناب ام ایمن کو لائیں اور آپ نے کہا اے ابوبکر میں گواہی نہیں دوںگی جب تک کہ آپ سے جو کچھ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میرے بارے میں فرمایا ہے اعتراف نہ کرالوں آپ کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا آپ نہیں جانتے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ ام ایمن اہل بہشت ہے ابوبکر نے کہا : جی ہاں ۔ تب ام ایمن نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل کی کہ (وآت ذالقربی حقہ )(۱) اپنے قرابت داروں کا حق ادا کردو۔ لہذا رسول خدا نے خداوندعالم کے حکم سے فدک فاطمہ زہرا کو عطا فرما یا ۔

اور پھر علی علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے بھی اسی طرح گواہی پیش کی ۔

ان گواہیوں کے بعد ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے لیے ایک نامہ تحریر کیا اور آپ کو دیا اسی وقت عمر آئے اور پوچھا یہ نامہ کیسا ہے؟ ابوبکر نے جواب دیا : فاطمہ زہرا نے فدک کا ادعی کیا اور اس پر ام ایمن و علی نے گواہی دی لہذا میں نے یہ فاطمہ زہرا کے لیے لکھا ہے ۔

عمر نے نامہ لیا اس پر تھوکا اور پھاڑدیا ۔

حضرت فاطمہ زہرا روتی ہوئی وہاں سے باہر تشریف لائیں ۔

____________________

(۱) سورہ روم(۳۰) ، آیت ۳۸۔

۸۲

اس کے بعد حضرت علی ابوبکر کے پاس آئے اس وقت کہ جب وہ مسجدمیں تھے اور مہاجرین و انصار اردگرد جمع تھے ۔ حضرت نے فرمایا اے ابوبکر کس دلیل پر فاطمہ کو ان کے والد پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث سے منع کیا ہے ؟ جبکہ وہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کی زندگی میں اس کی مالک تھیں۔

ابوبکر نے جواب دیا یہ فدک (فیٔ) تمام مسلمانوں کا حق ہے اگر وہ گواہ لے آئیں کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو عطا کردیا تھا تو ان کا حق ہے ورنہ اس میں ان کا کوئی حق نہیں ہے ۔

امیرالمؤمنین نے فرمایا : اے ابوبکر ہمارے درمیان خداوندعالم کے حکم کے خلاف عمل کررہے ہو ! ابوبکر نے جواب دیا: نہیں ۔

تب آپ نے فرمایا: اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو کہ وہ اس کا مالک ہو اس وقت میں یہ دعوی کروں کہ وہ مال میرا ہے تو کس سے بینہ و گواہ مانگوگے ؟ ابوبکر نے جواب دیا : آپ سے ۔

آپ نے فرمایا : تو پھر کیوں فاطمہ سے گواہ طلب کیے جب کہ فدک ان کے پاس تھا اور وہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں بھی اوربعد میں بھی بعنوان مالک اس میں تصرف کررہی تھیں ۔اور کیوں مسلمانوں سے ان کے دعوی کے مطابق گوا ہ طلب نہیں کیے ؟ جیسا کہ میں نے دعوی کیا تھا تو مجھ سے گواہ مانگے ۔

ابوبکر خاموش ہوگئے ، عمر نے کہا اے علی یہ باتیں نہ کریں ہم آپ کے مقابلے میں گفتگو اور بحث کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، اگر دو عادل گواہ لے آئیں تو صحیح ورنہ یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے اور اس میں نہ آپ کا کوئی حق ہے اور نہ فاطمہ کا ۔

حضرت امیرنے فرمایا: اے ابوبکر کتاب خدا کی تلاوت کرتے ہو؟ کہا :ہاں ۔

۸۳

آپ نے فرمایا : تو یہ بتاؤ کہ یہ آیت الہٰی( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا ) (۱)

کن کی شأن میں نازل ہوئی ، ہماری یا کسی اور کی ؟ابوبکر نے کہا : ہاں آپ حضرات کی شأن میں نازل ہوئی ہے۔

حضرت نے فرمایا: اگر مسلمان یہ گواہی دیں کہ فاطمہ زہرا کسی غلط فعل کی مرتکب ہوئی ہیں تو آپ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے ؟ ابوبکر نے کہا : عام مسلمان عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا !۔ آپ نے فرمایا : اس صورت میں آپ خداوندعالم کے نزدیک کافروں میں سے ہوں گے ۔ ابوبکر نے کہا: وہ کیسے ؟

آپ نے فرمایا : چونکہ حضرت فاطمہ زہرا کی پاکیزگی و طہارت پر خداوندعالم کی گواہی کو رد کردیا اور ان کے خلاف مسلمانوں کی گواہی کو قبول کرلیا ۔ اسی طرح خداوندعالم اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کو فدک کے سلسلے م یں رد کردیا ہے جب کہ وہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کی زندگی میں اس کی مالک تھیں اور ایک عرب کہ جو کھڑے کھڑے پیشاب کرتا ہے(۲) اس ک ی گواہی کو فاطمہ کے خلاف فدک کے سلسلے میں قبول کرلیا ہے اور فدک کو فاطمہ سے چھین کریہ سمجھتے ہو کہ یہ تمام مسلمانوں کا حق ہے۔

____________________

(۱) سورہ احزاب (۳۳) ، آیت ۳۳۔ (اے اہل بیت اللہ کاارادہ یہ ہے کہ آپ کو ہر طرح کے رجس سے پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے)۔

(۲) یہ جملہ اشارہ ہے مالک بن اوس بن حدثان نضری کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی بہت سی روایات پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی ہیں !۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔ ۔ ۔

۸۴

رسول خدا نے فرمایا ہے ''البینة علی المدعی والیمین علی المدعیٰ علیه '' مدعی پر ہے کہ وہ دلیل و گواہ لے کر آئے ورنہ مدعی علیہ قسم کھائے تاکہ فیصلہ تمام ہوجائے جبکہ آپ نے اس حکم میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کی ہے اور فاطمہ سے گواہ مانگے ہیں ، جب کہ وہ مدعی نہیں بلکہ مدعیٰ علیہ ہیں اور مسلمانوں سے گواہ نہیں مانگے جب کہ وہ مدعی ہیں ۔

اس کلام کے بعد لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں اور ابوبکر کی بات کو ناپسند کیا جانے لگا وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور کہتے کہ خداکی قسم علی سچ کہہ رہے ہیں ۔

اورحضرت امیر المؤمنین اپنے گھر تشریف لے آئے۔(۱)

ان عبارات میں کچھ تناقض ہے کہ جس پر توقف اور تفکر کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ کیا فدک پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث ہے یا نحلہ و ہدیہ کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا کو عطا کیا ؟۔

اگر فدک، میراث ہے تو میراث کے مطالبہ کے لیے گواہ کی ضرورت نہیں ہے مگر یہ کہ نعوذ باللہ حضرت فاطمہ زہرا کے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی ہونے میں شک ہو۔

____________________

۔۔۔ پچھلے صفحہ کا بقیہ ۔

ابن خراش نے اس روایت''نحن معاشرالانبیاء لانورث ماترکناه صدقه'' کو من گھڑت اور جعلی قرار دیا ہے ۔ دیکھیے :ـ تاریخ بخاری :۷ ۳۰۵۔ الجرح والتعدیل :۸ ۲۰۳۔ الثقات (ابن حبان ) : ۳ ۱۱۔ و جلد: ۵ ۳۸۲۔ کمال الدین و تمام النعمة :۲ ۴۰۱۔ تاریخ دمشق : ۵۶ ۳۶۰ـ ۳۷۲۔ الکامل (ابن عدی): ۴ ۳۲۱۔

(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۱۹۔ تفسیر قمی :۲ ۱۵۵۔ (عثمان بن عیسی و حماد بن عثمان نے حضرت امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے )۔

۸۵

اوراگر فدک نحلہ و ہدیہ ہے جیسا کہ ابوبکر کے گواہ مانگنے سے ظاہر ہے تو یہ ان کے ادعی سے باہر کی بات ہے اور یہ ان کے کلام پر منطبق نہیں ہے چونکہ ان کا کہنا ہے ''نحن معاشرالانبیاء لا نورث '' چونکہ اس صورت میں ہدیہ ، پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملکیت سے نکل چکا ہے اور اب حضرت فاطمہ زہرا کی ملکیت ہے۔

اوراگریہ کلام صحیح ہو کہ انبیاء اپنا وارث نہیں بناتے تو پھر کس طرح پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کو میراث ملی اور بیٹی کو محروم کردیا گیا ؟!۔

اور اگر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مال اعم از گھر و فدک ، سب ہدیہ ہے تو کیوں ابو بکر نے آپ کی بیویوں سے گواہ نہ مانگے اور صرف دعوی پر ہی ان کو دے دیا گیا اور حضرت زہرا سے آیہ تطہیر کی نص کے باوجود کہ جو ان کی پاکیزگی و عصمت پر دلالت کرتی ہے گواہ طلب کیے اور وہ گواہ بھی لے کر آئیں تب بھی رد کردی گئیں ! اورپھر کس طرح ابوبکر نے وصیت کی کہ اس کو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے جبکہ وہ اس خبر کے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہونے پریقین رکھتے تھے کہ'' نحن معاشرالانبیاء لانورث '' ہم گروہ انبیاء وارث نہیں بناتے ۔

اب ابوبکر سے سوال کیا جائے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گھر آپ کا خصوصی مال تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی میراث کا حصہ ؟

اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خصوص ی مال تھا تو یہ صدقہ ہے اور تمام مسلمانوں کا برابر حق ہے جیسا کہ ابوبکر کا عقیدہ ہے کہ انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔ لہذا یہ جائز نہیں ہے کہ یہ مال کسی ایک شخص کو دیدیا جائے اور دوسروں کو اس حق سے محروم کردیا جائے ۔

۸۶

اوراگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی میراث کا حصہ ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی عام مسلمانوں کی طرح میراث چھوڑتے ہیں اور وارث بناتے ہیں تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ابوبکر و عمر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وارث نہیں ہیں۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ حصہ کہ جس میں ابوبکر و عمر دفن ہوئے ہیں یہ عایشہ و حفصہ کا حصہ ہے کہ جو ان کوپیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث سے ملا ہے ۔

تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کا حصہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ک ی میراث میں سے ایک چڑیا کے گھونسلے کے برابر بھی نہیں نکلتا چونکہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بوقت وفات نو( ۹) ب یویاں اور ایک بیٹی چھوڑی ہے کہ اس صورت میں ہر بیوی کا حصہ یک نہم از یک ہشتم (آٹھویں میں سے نواں حصہ) ۔

اس لیے کہ اولاد کی صورت میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہے اور یہ آٹھواںحصہ نو( ۹) ب یویوں میں تقسیم ہوناہے توکیا ملے گا؟

اور پھر کس دلیل پر عایشہ کو میراث مل گئی ؟جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کو کہ جو صلبی بیٹی ہیں میراث سے محروم کردیا گیا ؟!۔

اور اگر ابوبکر اس حدیث کے صحیح ہونے اور جو کچھ انجام دیا اس پر اعتماد رکھتے تھے تو پھر کیوں حضرت فاطمہ زہرا کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ؟ اور پھر کیوں آخر عمرمیں افسوس کرتے تھے کہ کاش میں حضرت فاطمہ زہرا کے گھر کی حرمت کو پامال نہ کرتا۔(۱)

____________________

(۱) المعجم الکبیر:۱ ۶۲، حدیث ۴۳۔ تاریخ طبری :۲ ۶۱۹۔ تاریخ دمشق :۳۰ ۴۱۸ـ۴۲۰۔ خصال صدوق ۱۷۲، حدیث ۲۲۸۔

۸۷

اوراگر ابوبکر کا کلام کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے درست ہوتا تو یہ بات آسمانی ادیان اور دیگر امتوں میں مشہورہوتی ا ور گذشتہ انبیاء کے پیروکاربھی اس سے واقف ہوتے ۔

اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ فدک کسی جنگ و جدال سے حاصل نہیں ہوا تھا بلکہ لشکر و قدرت اسلام سے ڈر کر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا لہذا فدک شیعہ و سنی علماء کے اتفاق رائے کے مطابق خصوصی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حصہ ہے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے ۔

( وماافاء الله علی رسوله منهم فما اوجفتم علیه من خیل و لا رکاب ولکن الله یسلط رسله علی من یشاء والله علی کل شی ء قدیر ) (۱)

وہ مال کہ جس کو حاصل کرنے میں آپ کو گھوڑے نہیں دوڑانے پڑے اور جنگ نہیں کرنی پڑی اس کو خدا وندعالم اپنے رسول کی ملکیت میں قرار دیتا ہے لیکن خداوندعالم جس چیز پر چاہے اپنے رسولوں کو مسلط کردے اور خداہر چیزپر قادر ہے ۔

ابن ابی الحدید کہتا ہے :

اگر مسلمان فدک کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے تو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آبرو و حرمت کی رعایت کی خاطر اور ان کے عہد کے حفظ کے لیے مناسب یہ تھا کہ فدک کے بدلے آپ کی بیٹی کو کچھ اور چیز دے دیتے تاکہ وہ راضی ہوجاتیں ۔ اور امام کو اس طرح کے کاموں میں خود کو اختیار ہے دیگر مسلمانوں کی اجازت و مشورہ کی ضرورت نہیں ہے ۔(۲)

____________________

(۱) سورہ حشر(۵۹) ، آیت ۶۔

(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) : ۱۶ ۲۸۶۔

۸۸

یہ بیان، قضیہ کے ایک طرف کا حصہ ہے جب کہ قضیہ کی دوسری طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ حضرت امیرالمؤمنین و صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر پر ''قاعدہ ید '' سے استدلال فرمایا جیسا کہ قبلا بھی گذرچکا ہے لہذا ابوبکر مدعی ہے اور بینہ و دلیل اس کو خود کو لانا چاہیے اورمنکر و مدعی علیہ پر بینہ و دلیل نہ ہونے کی صورت میں قسم کھانا ہے ۔

اس سے پہلے گذرچکا ہے کہ حضرت علی نے ابوبکر پر احتجاج کیااور فرمایا:

اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو کہ وہ اس کا مالک ہو اس وقت میں یہ دعوی کروں کہ وہ مال میرا ہے تو کس سے بینہ و گواہ مانگوگے ؟ ابوبکر نے جواب دیا : آپ سے ۔

آپ نے فرمایا : تو پھر کیوں فاطمہ سے گواہ طلب کیے جب کہ فدک ان کے پاس تھا اور وہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں بھی اوربعد میں بھی بعنوان مالک اس میں تصرف کررہی تھیں ۔اور کیوں مسلمانوں سے ان کے دعوی کے مطابق گوا ہ طلب نہیں کیے ؟ جیسا کہ میں نے دعوی کیا تھا تو مجھ سے گواہ مانگے ۔ ابوبکر خاموش ہوگئے ، عمر نے کہا اے علی یہ باتیں نہ کریں ہم آپ کے مقابلے میں گفتگو اور بحث کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، اگر دو عادل گواہ لے آئیں تو صحیح ورنہ یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے اور اس میں نہ آپ کا کوئی حق ہے اور نہ فاطمہ کا ۔

حضرت علی اور صدیقہ طاہرہ حضرت زہرا کے استدلال اور محکم و مضبوط حجت پر خوب غور و فکر کیجیے اور پھردوسری طرف عمر کے اس جملہ کو بھی دیکھیے کہ جو اس نے کہا :دعنا من کلامک فانا لا نقوی علی حجتک ''ہم سے اس طرح کا کلام نہ کیجیے ہم میں آپ کی حجت و دلیل کامقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔

۸۹

جب انصار نے حضرت فاطمہ کی حجت و دلیل کو اس سلسلے میں کہ علی خلیفہ اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ہیں سنا تو کہنے لگے اے رسول کی بیٹی ہم نے اس مرد کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اگر آپ کے شوہر اور ابن عم علی اس سے پہلے ہماری طرف آتے تو ہم ان کے طرف دار ہوتے ۔(۱)

دوسری جگہ پر مذکور ہے کہ اگر ہم نے آپ کی حجت و دلیل کو سنا ہوتا تو آپ سے کبھی بھی عدول و منحرف نہ ہوتے ۔(۲)

کس طرح علی کی گواہی مورد قطع ویقین واقع نہ ہوئی جب کہ ایک اور گواہی ان کے ساتھ تھی اور کیوں صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا کو ایک عام عورت کی طرح مانا گیا، ان کے دعوے پر ان سے دلیل و بینہ کا مطالبہ کیا گیا ۔ جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ بینہ ایک ظنی راستہ ہے کہ جو کسی احتمال کو ثابت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کے کلام سے قطع و یقین کے بعد کہ جن کو خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ قرار دیا اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ٹکڑا قرار دیا ، اصلاً ظنی راستہ کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی اس لیے کہ راہ یقین کے بعد راہ ظنی کا کوئی وجود و فائدہ نہیں ہے ۔

____________________

(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۲۲۔ تفسیر قمی :۲ ۱۵۶۔ وسائل الشیعہ : ۲۷ ۲۹۳، حدیث ۳۳۷۸۱۔ اسی طرح کا کلام جنگ جمل سے پہلے عایشہ کی زبان پر بھی جاری ہوا ہے جس وقت امیرالمؤمنین نے اس پر احتجاج کیا تو عایشہ نے آپ کے نامہ کے جواب میں کہ جو عبداللہ ابن عباس اور زید بن صوحان لے کر گئے تھے ان سے کہا کہ میں آپ کی کسی بات کو رد نہیں کروں گی چونکہ مجھ کو معلوم ہے کہ میں علی ابن ابی طالب کے احتجاج کے جواب کی طاقت نہیں رکھتی ۔ الفتوح (ابن اعثم ):۱ ۴۷۱۔

(۲) الامامة والسیاسة :۱ ۱۹۔ شرح نہج البلاغہ : ۱۳۶۔ بحار الانوار : ۲۸ ۱۸۶۔ و ۲۵۲۔ و ۳۵۵۔

۹۰

اور اسی طرح جناب خزیمہ (ذوالشہادتین)کی گواہی کے واقعہ میں آنحضرت کا اس اعرابی سے اختلاف کے سلسلے میں خزیمہ کی گواہی بغیر کسی کو شامل کیے ،قبول کرلی گئی جب کہ خزیمہ کی گواہی قول رسول کی تائید و تصدیق ہی تھی اور آپ کے دعوی سے بڑھ کر کوئی اور بات نہ تھی ۔

ابوبکر اور تمام مسلمانوں پر لازم تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا کی طرف سے گواہی دیتے چونکہ خداوندعالم نے ان کو پا ک و پاکیزہ قرار دیا ہے اور وہ سب آپ ہی کی تصدیق کرتے چونکہ خداوندعالم نے آپ کی تصدیق کی ہے جیسا کہ خزیمہ نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ک یا اور پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خزیمہ کے فعل کی تائید فرمائی ۔(۱)

سید مرتضی نے قاضی القضات عبدالجبار ہمدانی کی رد میں تحریر فرمایا ہے کہ بینہ سے مراد مدعی کے گمان و ظن کے سچے ہونے کو ثابت کرنا ہے چونکہ عدالت میں کسی مدعیٰ کو بھی ثابت کرنے کے لیے ایک معتبر شہادت مانگی جاتی ہے اور اسی ظن و گمان کو تسلیم کرلیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ حاکم کے لیے جائز ہے کہ گواہی کے بغیربھی اگر علم ہوجائے تو اپنے علم کے مطابق عمل کرے بلکہ اس کا علم ، گواہی سے قوی تر و بہتر ہے ، اور اسی وجہ سے اقرار ، بینہ سے زیادہ قوی ہے چونکہ اقرار اس گمان و ظن کو قوی کرنے اور مقام اثبات میں بہتر ہے ۔ اور جب اقرار ، قوت ظن کے اعتبا رسے حاکم کے نزدیک گواہی پر مقدم ہے تو علم بدرجہ اولی مقدم ہونا چاہیے ۔ چونکہ اقرار کی موجودگی میں گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ قوی دلیل کی موجودگی میں ضعیف دلیل ساقط ہوجاتی ہے ۔

____________________

(۱) دلائل الصدق :۲ ۳۹۔

۹۱

اسی طرح علم کی موجودگی میں کسی بھی چیز کی کہ جو ظن میں مؤثر ہو جیسے بینہ و شہادت وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)

لہذا حق ، علی ابن ابی طالب اور حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ ہے اور سب اس مسئلے سے واقف ہیں لیکن ان کی خواہشات نفسانی نے ان کو ابھارا کہ ایک ایسی چیز کا دعوی کریں کہ جو قرآن کریم ، سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عقل سل یم کے مخالف ہو ۔

آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مامون عباسی کے حضور میں بہت سے علماء جمع تھے کہ مسٔلہ فدک اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث کا مسٔلہ چھڑگیا، مامون نے سب کو لاجواب کردیا اس طرح کہ مامون نے حضرت علی کے فضائل کے بارے میں علماء سے سوال کیاان لوگوں نے آپ کے متعدد و نایاب فضائل بیان کیے اور پھر حضرت فاطمہ زہرا کے متعلق پوچھا تو آپ کے بارے میں بہت زیادہ فضائل کہ جو آپ کے والد گرامی سے مروی تھے نقل کیے ۔ پھر ام ایمن اور اسماء بنت عمیس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی کہ وہ دونوں اہل بہشت ہیں ۔

تب مامون نے کہا کیا جائز ہے کہ یہ کلام یا اعتقاد کہ علی ابن ابی طالب اتنے زہد و تقوی کے باوجود ناحق فاطمہ کی طرف سے گواہی دیں جب کہ خداوندعالم اور رسول خدا نے اتنے زیادہ فضائل کی ان کے متعلق گواہی دی ہے ۔

____________________

(۱) الشافی فی الامامة : ۴ ۹۶ـ ۹۷۔ اسی سے نقل ہوا ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) : ۱۶ ۲۷۳ـ ۲۷۴۔

۹۲

کیا یہ جائز ہے کہ آنحضرت کے اتنے علم و فضل کے باوجود یہ کہا جائے کہ فاطمہ معصوم ہونے کے باوجود اور یہ کہ وہ عالمین کی عورتوں کی سردار اور اہل بہشت کی عورتوں کی سردار ہیں جیسا کہ آپ حضرات نے روایت کی ہے ایک ایسی چیز کا مطالبہ کریں کہ جو ان کی نہ ہو!۔اور اس کے ذریعہ تمام مسلمانوں کے حق میں ظلم کریں اور اس حق پر خدوندیکتا کی قسم کھائیں ۔

کیا جائز ہے کہ یہ کہا جائے کہ ام ایمن و اسماء نے ناحق گواہی دی ہے جبکہ وہ دونوں اہل بہشت ہیں ؟۔

بیشک حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے گواہوں پر طعنہ زنی گویا کتاب خدا پر طعنہ اور دین خدا سے کفر ہے ۔ خداکی پناہ کہ یہ کلام صحیح ہو ۔(۱)

نہیں معلوم کہ کیسے ابوبکر نے علی کی گواہی کورد کیا جب کہ علی کامقام و مرتبہ خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین سے کم نہ تھا(۲) بلکہ عل ی ان سے بہت بلند و بالا ہیں ، وہ ہر عیب و رجس سے پاک ہیں ، وہ رسول خدا کے بھائی ہیں بلکہ وہ رسول خدا کے نفس و جان ہیں ۔

اوراگر اس کلام سے غض نظر کی جائے اور تسلیم کرلیا جائے کہ امام کی گواہی ایک عام مسلمان عادل کی گواہی سے زیادہ نہیں ہے تو بھی ابوبکر ایک شاہد کی جگہ پر حضرت فاطمہ زہرا کو قسم دے سکتے تھے آپ قسم کھاتیں اور مسٔلہ حل ہوجاتا جبکہ یہ کام ابوبکر نے نہیں کیا ! کیوں؟ ۔

بلکہ ابوبکر نے صرف علی کی گواہی اور ام ایمن و اسماء کی گواہی کو رد کیا ۔

____________________

(۱) الطرائف ۲۵۰۔

(۲) یعنی ان کی گواہی دو گواہوں کی گواہیوں کے برابر ہے ۔

۹۳

خدا کی قسم یہ مصیبت ہے بلکہ فتنہ ہے کہ جس سے بہت سے مقدسات آلودہ ہوگئے ہیں ، اور رسول خدا کے نا م سے احکام خدا میں تغیر اور دین خدا کو تبدیل کیا گیا ہے ۔

حضرت فاطمہ زہرا بتول حق بجانب ہیں کہ یہ کہیں :

( الافی الفتنة سقطوا وان جهنم لمحیطة بالکافرین ) (۱)

آگاہ ہوجاؤ کہ وہ لوگ فتنے میں جاپڑے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے(۲)

مناسب ہے کہ ہم یہاں علی بن فارقی( کہ جو ابن ابی الحدید کے استادوں میں سے ہے )کا کلام پیش کریں جس وقت ابن ابی الحدید نے اس سے سوال کیا کہ کیا حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس دعوی میں کہ فدک نحلہ و ہدیہ ہے کہ جو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو اپنی زندگی ہی میں عطا کردیا تھا ، سچی تھیں؟۔

فارقی نے جواب دیا: جی ہاں ۔

ابن ابی الحدید نے کہا: پس کیوں ابوبکر نے اس علم کے باوجود کہ حضرت فاطمہ زہرا سچی ہیں فدک ان کو واپس نہیں کیا ؟۔

فارقی مسکرایا اور بہت لطیف جواب دیا کہ جو اس کی شخصیت اور مزاج و مزاح کے مطابق تھا وہ یہ کہ اگر ابوبکر آج صرف حضرت فاطمہ زہرا کے سچی ہونے کی بنیاد پر ان کے دعوی کی تصدیق کرتے اور فدک ان کو واپس کردیتے تو کل کو وہ اپنے شوہر کے لیے خلافت کا دعوی کرتیں ۔

____________________

(۱) سورہ توبہ (۹)، آیت ۴۹۔

(۲) یہ آیت حضرت فاطمہ زہرا کے خطبہ کا حصہ ہے کہ جس کا کچھ حصہ قبلا بھی گذر چکا ہے ۔

۹۴

تو اب ابوبکر کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔ چونکہ جس بناء پر کل حضرت فاطمہ زہرا کی تصدیق کی تھی وہی بناء آج بھی موجود ہے کہ بغیر گواہی وبینہ حضرت فاطمہ زہرا، صدیقہ و سچی ہیں ۔(۱)

اب ہم پلٹتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔

کیا معقول ہے کہ جو چیز فاطمہ کا حق نہ ہو وہ اس کا مطالبہ فرمائیں، جب کہ وہ عالمین کی عورتوں کی سردار اور بہشت کی خواتین کی سردار ہیں ، اور ان کی طہارت و پاکیزگی و عصمت کے علاوہ خداوندعالم نے اپنی رضایت و غضب کو ان کی رضایت و غضب پر موقوف کردیا ہے ۔

کیاحضرت فاطمہ زہرا اس کا م سے مسلمانوں پر ظلم کرنا چاہتی تھیں اور ان کے مال کو غصب کرناچاہتی تھیں نعوذباللہ ۔

کیا حضرت علی کے لیے مناسب ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا کے حق میں ناحق گواہی دیں ؟ اور کیا ہوسکتا ہے کہ علی کی مخالفت کو حق بجانب فرض کیا جائے؟ جب کہ رسول خدا کا ارشاد گرامی ہے : '' علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے ، پروردگار حق کو ادھر ادھر موڑ جدھر جدھر علی مڑے ''۔

اور کیا جائز ہے کہ ام ایمن کہ جن کے لیے جنت کی بشارت ہو وہ جھوٹی گواہی دیں؟۔

جی ہاں ہمارے بس کی بات نہیں ہے کہ ابوبکر اور حضرت فاطمہ زہرا دونوں کو پاک و پاکیزہ اور جھوٹ سے بری مانیں ، چونکہ اگر ابوبکر کو اپنے دعوی میں ـکہ جو قطعا جھوٹے ہیںـ سچا مانیں اور ان کی تصدیق کریں تو اس کے مقابل کے دعوی کی تکذیب کرنا ہوگی اور اگران کو جھوٹا مانیں ـجیسا کہ حق بھی یہی ہےـ تو حضرت فاطمہ زہرا سچی و صدیقہ ہیں ۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۶ ۲۸۴۔

۹۵

پس یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم صدیقیت کو جمع کریں اور دونوں کو صدیق مانیں چونکہ یہ کام تناقض گوئی ہے۔

اور مندرجہ ذیل احادیث کے سلسلے میں بھی امر یہی ہے ۔

''من خرج علی امام زمانه '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کے خلاف قیام کرے ۔ یا

''من مات ولیس فی عنقه بیعة'' جو شخص مرجائے اور اس کی گردن پر کسی امام کی بیعت نہ ہو ۔یا

''من لم یعرف امام زمانه '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو ۔ یا

''من خرج من طاعة السلطان شبرا '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کی نافرمانی میں ایک بالشت بھی دورہو '' مات میتة جاھلیة '' تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔

اگرفرضاً ہم یہ قبول کرلیں کہ یہ احادیث مذکورہ ابوبکر کے امام زمان ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت فاطمہ زہرا کہ جو نص قرآنی اور حدیث رسول کے اعتبار سے پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر ، عالمین کی عورتوں کی سردار، خواتین بہشت کی سردارہیں، ان کی موت جاہلیت کی موت ہوگی ۔نعوذ بالله من ذالک ۔

لیکن اگر ابوبکر کے امام زمان ہونے میں شک کریں ، دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اور ان کے یہاں امام ہونے کی صلاحیت و لیاقت نہ ہونے کی وجہ سے اور بزرگان صحابہ کی مخالفت کی وجہ سے جیسے علی ، عباس ، و افراد بنی ہاشم وزبیر ، مقداد اور سعد بن عبادہ وغیرہ ،تب حضرت فاطمہ زہرا کا خروج ابوبکر کے خلاف مناسب و جائز ہے اور آپ کا اعتقاد کہ ابوبکر منحرف ہوگئے ہیں صحیح ہے ۔

لہذا ممکن نہیں ہے کہ دونوں نظریوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے اور دونوں کو صحیح مانا جائے ۔

۹۶

کس طرح ابوبکر و عمر ، حضرت علی کی گواہی کو ردکرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ علی نے اپنے حق میں گواہی دی ! جبکہ آنحضرت نہ دنیا کے طالب تھے اور نہ اس میں رغبت رکھتے تھے جیسا کہ کوئی بھی انسان ان کی سیرت یا کلام کہ جونہج البلاغہ میں مذکور ہے، کا مطالعہ کرے تو بخوبی اس حقیقت کودرک کرلے گا ۔ اور اسی سلسلے میں حضرت کا نامہ کہ جوعثمان بن حنیف والی بصرہ کو تحریر فرمایا ، موجود ہے کہ''وما اصنع بفدک و غیر فدک ، والنفس مظانها فی غد جدث'' (۱)

مجھے فدک و غیر فدک سے کیا مطلب جب کہ جان آدمی کا مقام قبر ہے ۔

ابوبکر نے حضرت علی کی گواہی کو قبول نہیں کیا اس لیے کہ وہ ان کے فائدے میں تھی تو پھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خز یمہ بن ثابت کی گواہی کوکیوں قبول فرمالیا جب کہ وہ بھی آنحضرت کے فائدے میں تھی ، بلکہ اس کی گواہی کو دوگواہیوں کے مقابلے کا مقا م عطا فرمایا ؟!۔

اس شخص کی گواہی سے کس طرح یقین حاصل نہ ہوا کہ جس کے بارے میں پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے :'' علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ اور حق علی پر موقوف ہے'' ۔(۲)

جبکہ ابوبکر کو یہ علم تھا کہ علی ، ثقلین ، یعنی دو گرانبہا چیزوں میں سے ایک ہے ، قرآن کریم کے مقابل ایک ثقل اور گرانبہا حصہ ہے ، وہ ایسا گواہ ہے کہ جس کی گواہی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق م یں خداوندعالم نے قبول کی ہے اور اس کو رسالت کا گواہ اور تصدیق کرنے والا قراردیا ہے ۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ :۳ ۷۱، خط ۴۵۔

(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۲ ۲۹۷۔ الفصول المختارہ ۹۷، حدیث ۹۷۔ التعجب (کراجکی)۱۵۔

۹۷

لہذا ارشادہے ۔( افمن کان علی بینة من ربه و یتلوه شاهدمنه ) (۱)

کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی جانب سے روشن دلیل پر ہے اور اس کا گواہ بھی اس کی پیروی کرتا ہے (نامناسب بات کہہ سکتاہے)۔

اگر ان لوگوں کا استدلال کامل اور صحیح ہو کہ فدک کے مسئلے میں گواہی اپنے حدنصاب کو نہ پہنچ سکی چونکہ علی تنہا تھے اور ایک ام ایمن ۔ تو کیا خلفاء و حکام کی سیرت یہ نہیں رہی کہ ایک گواہ کی صورت میں دوسرے گواہ کی جگہ پر قسم کھلاتے اور قضیہ کو حل کردیتے تھے ۔

کتاب الشہادات کنزالعمال میں مذکور ہے کہ بیشک رسول خدا ، ابوبکر ، عمر اور عثمان ایک گواہ کی صورت میں ایک قسم کھلاتے اور فیصلے کرتے تھے ۔(۲) دارقطن ی نے علی سے روایت نقل کی ہے کہ ابوبکر و عمر اور عثمان ایک قسم اور ایک شاہد پر فیصلے کرتے تھے ۔(۳)

نیز حضرت علی سے روایت ہے کہ جبرئیل ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوئے یہ حکم الہٰی لے کر کہ ایک گواہ کی صورت میں ایک قسم لے کر فیصلہ کرو۔(۴)

ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول خدا ایک گواہ اور ایک قسم سے حکم صادر فرماتے تھے ۔(۵)

____________________

(۱) سورہ ہود(۱۱) ، آیت ۱۷۔ اور دیکھیے :ـ الدرالمنثور :۳ ۳۲۴۔

(۲) کنزالعمال : ۷ ۲۶ ، حدیث ۱۷۷۸۶۔ دارقطنی سے منقول ہے ۔

(۳) سنن دارقطنی :۴ ۱۳۷۔ السنن الکبری (بیہقی ) :۱۰ ۱۷۳۔

(۴) کنزالعمال : ۵ ۸۲۶، حدیث ۱۴۴۹۸۔ الدرالمنثور :۶ ۱۳۵۔

(۵) صحیح مسلم :۵ ۱۲۸، کتاب الاقضیہ ،باب القضاء بالیمین و الشاہد۔

۹۸

نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ جمہور علماء اسلام ، صحابہ و تابعین سے لیکر آج تک تمام بلاد اسلامی میں ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ مالی امور میں فیصلے ہوتے ہیں اور اسی کے قائل ہیں ابوبکر، علی ، عمر بن عبد العزیز اور مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور مدینہ کے فقہا ء ،علماء حجاز اور دیگر شہروں کے بڑے بڑے علماء و مفتی ، ان کی دلیل وہ روایات ہیں کہ جو اس سلسلے میں بہت زیادہ مذکور ہیں ۔(۱)

کتاب شرح التلویح علی التوضیح میں مذکورہے کہ امام علی سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ابوبکر و عمر اور عثمان ایک گواہی اور ایک قسم کے ساتھ حکم صادر کرتے تھے ۔(۲)

ہم اگر ان نصوص و روایات کو جمع کریں ابوبکر کے اس کلام و قضاوت کے ساتھ کہ جو انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ انجام دی اور آپ سے کہا کہ'' اے فاطمہ آپ اپنے قول میںسچی ہو اور عقل میں پختہ و کامل ہو آپ کا حق مارا نہیں جائے گا اور آپ کی سچائی و حقانیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ''اور آخر میں کہا '' خداوندسچ کہتا ہے اور اس کے رسول نے سچ کہا اور اس کی بیٹی نے سچ کہا ''تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ابوبکر جھوٹے ہیں اور اپنے کلام میں سچے و صادق نہیں ہیں ۔

اگر ابوبکر جو کچھ کہہ رہے تھے اپنے اس کلام میں سچے تھے تو پھر کیوں فدک حضرت فاطمہ زہرا کو واپس نہیں کیا ؟۔ اس لیے کہ حق کا یقین حاصل ہونے کے بعد حاکم کے پاس اور کوئی راستہ باقی ہی نہیں رہتا کہ قضیہ کے حل کے لیے کسی اور طریقے کی تلاش و جستجو کرے۔

____________________

(۱) شرح نووی علی مسلم۴۱۲۔

(۲) شرح التلویح علی التوضیح :۲ ۱۷۔

۹۹

سنن ابی داؤد میں وارد ہے کہ حاکم کے لیے اگر ثابت ہوجائے کہ ایک گواہ بھی حق بجانب ہے اور سچا ہے تو اس کو چاہیے کہ اس پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کردے ۔(۱)

ترمذی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابی جحیفہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا کہ آخر عمر میں گندمی چہرے کے ساتھ حکم کیا کہ ہم کو تیرہ ( ۱۳)جوان ناقے عطا کر یں گے ہم اس خیال میں چلے گئے کہ ان کو بعد میں لے لیں گے ،وقت کے ساتھ ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ب ھی دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم کو کچھ نہ ملا ،پس جس وقت ابوبکر حاکم ہوئے اور کہا کہ جو کوئی بھی کہ جس کو رسول خدا نے وعدہ دیا ہو وہ آئے میں اس کو پورا کروں گا میں ان کے پاس گیا اور ماجرے کو نقل کیا تو انہوں نے حکم دیا کہ ناقے عطا کیے جائیں ۔(۲)

صحیح بخاری کی کتب الکفالة ،باب من یکفل عن میت دینا میں روایت نقل ہوئی ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے زمان ابوبکر میں دعوی کیا کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کو مال بحرین میں سے کچھ حصہ عطا کریں گے ۔ پس ابوبکر نے بغیر اس کے کہ اس سے کوئی دلیل طلب کرتے اس کو بیت المال سے پندرہ سو دینار دیئے ۔(۳)

____________________

(۱) سنن ابی داؤد :۲ ۱۶۶۔

(۲) سنن ترمذی :۴ ۲۱۰، حدیث ۲۹۸۳۔ المعجم الکبیر: ۲۲ ۱۲۸۔

(۳) دیکھیے :ـ صحیح بخاری :۳ ۵۸، کتاب الاجارہ ، باب الکفالة فی القرض و الدیون ۔ و ۱۳۷ کتاب المظالم ،باب من لم یقبل الھدیة لعلة ۔

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307