اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں 0%

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

مؤلف: آیۃ اللہ شہید مطہّری(رہ)
زمرہ جات:

مشاہدے: 2396
ڈاؤنلوڈ: 456

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 18 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2396 / ڈاؤنلوڈ: 456
سائز سائز سائز
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

عنوان کتاب:

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

مصنف: مرتضی مطہری

اصلاح

اصلاح کا مطلب ہے ”نظم و باقاعدگی پیدا کرنا“ اور اس کا الٹ فساد ہے۔ اصلاح اور فساد کا ایک متضاد جوڑا بناتی ہیں جن کا ذکر قرآن اور دیگر الہامی کتابوں میں اکثر آیا ہے۔ متضاد زوج جو کہ اعتقادی اور اجتماعی اصطلاحوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کو اگر آمنے سامنے رکھا جائے تو مطالب کے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے‘ مثلاً ہم یہ متضاد زوج سنتے ہیں‘ توحید و شرک‘ ایمان و کفر‘ ہدایت و ضلالت‘ عدل و ظلم‘ خیر و شر‘ اطاعت و معصیت‘ شکر و کفران‘ اتحاد و اختلاف‘ غیبت اور شہادت‘ علمیت و بے علمی‘ تقویٰ و فسق‘ تکبر و انکسار وغیرہ۔

کچھ متضاد اصطلاحیں ایک دوسرے کے معنی کی وضاحت کر کے مثبت اور منفی پہلو کا اظہار کرتی ہیں‘ اصلاح اور فساد اسی قسم کی اصطلاحیں ہیں‘ قرآن میں اصلاح کا بعض دفعہ دو افراد کے رابطہ میں (اصلاح ذات‘ البین) استعمال ہوا ہے بعض دفعہ خاندانی ماحول کے متعلق اور بعض دفعہ وسیع تر معاشرتی ماحول کے متعلق جو کہ اس وقت میرے پیش نظر ہے اور اس کا قرآن کی کئی سورتوں میں ذکر ہے(سورئہ بقر ۱۱‘ ۲۲۰‘ سورئہ اعراف ۵۶‘ ۱۷۰‘ ہود ۸۸‘ ۱۱ اور قصص ۱۹) ۔ اس کے بعد جب میں اس مضمون میں لفظ اصلاح استعمال کروں گا تو میرا مقصد معاشرے کی سطح پر اصلاح ہو گا یعنی اصلاح معاشرہ ہو گا۔

قرآن نے پیغمبروں کو مصلح قرار دیا ہے جیسے کہ حضرت شعیبعليه‌السلام نے فرمایا:

( ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله علیه توکلت و الیه انیب )

”میں اپنی استطاعت کے آخری امکان تک صرف اصلاح کرنا چاہتا ہوں‘ میری کامیابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ میں صرف اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“

اس کے برعکس قرآن منافق مصلحتوں کی سختی سے سرزنش کرتا ہے‘ قرآن میں وارد ہے کہ

( و اذا قلیللهم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انهم هم المفسدون و لکن لا یشعرون )

”اگر ان کو بتایا جائے کہ زمین پر فساد نہ پھیلاؤ‘ تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تو صرف اصلاح کر رہے ہیں‘ ہرگز ایسا نہیں! وہ تو زمین پر فساد پھیلا رہے ہیں اور خود اس کو محسوس نہیں کرتے۔“

بلاشک اصلاح اسلام کی روح ہے‘ ہر مسلمان بحأثیت مسلمان اصلاح کا طالب ہے اور وہ لاشعوری طور پر اصلاح کا طرفدار ہے‘ قرآن میں اصلاح کی چاہت پیغمبری کا جزو ہے اور اس کی اہمیت ”امربالمعروف و نہی عن المنکر“ جیسی ہے جو کہ اسلام کی اجتماعی تعلیمات کا ایک رکن ہے۔ ہر امربالمعروف و نہی عن المنکر اجتماعی اطلاح کے زمرے میں نہیں آتا‘ لیکن اجتماعی اصلاح ان تمام امور پر محیط ہے جو کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے زمرے میں آتے ہیں‘ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ مسلمان جو کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بارے میں محتاط ہوتا ہے‘ وہ اجتماعی اصلاح کے بارے بھی کافی حساس ہوتا ہے۔

یہ امر قابل صد ستائش اور باعث مسرت ہے کہ دور جدید میں اجتماعی اصلاح کے بارے لوگوں میں احساس پیدا ہو رہا ہے‘ لیکن اس رجحان میں کچھ افراط و بے اعتدالی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ تمام خدمات جو اجتماعی اصلاح کے علاوہ پیش کی گئی‘ ان کی اہمیت کو گھٹا دیا گیا‘ ہر خدمت کو اجتماعی اصلاح کے زمرے میں پرکھا جاتا ہے اور انسان کی اہمیت کا اندازہ ان امور سے لگایا جاتا ہے جو کہ وہ اجتماعی اصلاح کے لئے سرانجام دیتا ہے‘ یہ انداز فکر صحیح نہیں ہے‘ اجتماعی اصلاح یقینا سوسائٹی کی ایک خدمت ہے‘ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر خدمت اجتماعی اصلاح ہو‘ تپ دق اور سرطان کے علاج کی ایجاد خدمت تو ہے لیکن اصلاح نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹر جو صبح سے لے کر شام تک بیماروں کا علاج کرتا ہے اس نے اجتماعی خدمت تو کی ہے لیکن اجتماعی اصلاح نہیں کی‘ کیونکہ اجتماعی اصلاح کے سلسلے میں معاشرہ کو ایک مخصوص سمت کی طرف موڑنا ایک ڈاکٹر کے بس میں نہیں ہے‘ لیکن ان کی اس خدمت کو کہ وہ اجتماعی اصلاح کے زمرے میں نہیں آتی‘ کوئی اہمیت نہ دینا بھی قطعاً صحیح نہیں ہے۔ شیخ مرتضیٰ انصاری اور صدرالمتالحین کی خدمات عظیم تر ہیں‘ لیکن ان کے کام کو اصلاح اور ان کو مصلح کا درجہ نہیں دیا گیا‘ مثلاً تفسیر مجمع البیان جو کہ نو سال پہلے لکھی گئی اور اس سے ہزاروں انسانوں نے استفادہ کیا‘ بے شک ایک کدمت ہے‘ لیکن اصلاح اجتماع کے زمرے میں نہیں آتی‘ یہ ایک ایسی خدمت ہے جو کہ ایک عالم نے عالم تنہائی میں سرانجام دی۔ کئی ایسے مواقع ہیں کہ کچھ اشخاص نے اپنی ذاتی نیک اور مثالی زندگیوں میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں‘ لیکن انہوں نے معاشرے کی اصلاحی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا‘ لہٰذا نیک لوگ ایک مصلح کی طرح سوسائٹی کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں‘ کیونکہ وہ مصلح نہ کہلوانے کے باوجود خدمت کرتے ہیں۔

مندرجہ ذیل جملے میں نے نہج البلاغہ سے ماخوذ کئے ہیں‘ حضرت علی علیہ السلام نے اپنی حیثیت اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر ایک مصلح کی صورت میں پہنچوائی ہے۔

حضرت علیعليه‌السلام

”اے خدایا! تو خوب جانتا ہے کہ ہم نے کیا کیا! میرا مقصد طاقت کا اظہار اور ذاتی مفاد کا حصول نہیں تھا بلکہ تمہارے ان امور کا احیاء تھا جو آپ کی طرف لے جانی والی شاہراہ کے سنگ میل ہیں‘ اس سے تمہارے شہروں میں دیرپا اور نمایاں اصلاح کرنا مقصود تھا تاکہ رسوا اور کچلی ہوئی انسانیت کو تحفظ مل سکے اور تمہارے ان احکامات کو جن کی پرورش نہیں کی گئی شدت کے ساتھ نافذ کرنا تھا۔“

امام حسین علیہ السلام نے بھی دور معاویہ میں دورانِ حج ایک بڑے اجتماع میں جو اہم صحابہ پر مشتمل تھا‘ اپنے والد کے درجہ بالا دیئے ہوئے کلمات دہرائے اور اپنا کردار بحیثیت مصلح آشکارا کیا۔

امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کے نام وصیت نامہ میں ایک مصلح کی حیثیت سے اپنے اصلاحی کاموں کی تشریح کی‘ ان میں فرمایا:

انی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً ولا ظالماً انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان امر بالمعروف و انهی عن المنکر و آسیر بسیرة جدی و ابی

”میرا انقلاب ذاتی مفاد کے لئے فساد و ظلم کرنا نہیں‘ بلکہ میں نے جد امجد ۱ کی امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے‘ میرا ارادہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پہچان کرانا اور میرا مقصد اپنے والد اور دادا کی سیرت پر چلنا ہے۔“

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

آئمہ ہدیٰعليه‌السلام کی زندگیاں تعلیمات‘ رہبری اور اجتماعی اصلاح کی غمازی کرتی ہیں‘ ان کے علاوہ ہم اسلامی تاریخ میں اور بھی کئی اصلاحی تحریکیں دیکھتے ہیں‘ لیکن چونکہ ان تحریکوں کا مفصل مطالعہ نہیں کیا گیا‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ ایک جمود کا شکار رہی ہے اور اصلاحی تحریکیں ناپید ہیں۔

ہزاروں سال پہلے مسلمانوں کے اذہان میں ایک خیال ابھرا (پہلے سنیوں میں‘ پھر شیعوں میں) کہ ہر صدی کے شروع میں ایک ”مجدد“ کا دین کے احیاء کے لئے ظہور ہوتا رہا ہے۔ سنیوں نے اس روایت کو ابوہریرہ سے نقل کیا کہ ہر صدی کے آخر میں ایک ایسا شخص آتا ہے جو خدا کے دین کی تجدید کراتا ہے‘ اگرچہ اس روایت کی پختگی اور تاریخی ثبوت کا تعین نہیں ہو سکتا‘ لیکن مسلمان عمومی طور پر اس بات کے متعلق یقین کے ساتھ توقعات رکھتے ہیں اور ہر صدی میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلح رونما ہوتے رہے ہیں۔ عملی طور پر یہ صرف اور صرف اصلاحی تحریکیں رہی ہیں اس لئے اصلاح‘ مصلح‘ اصلاحی تحریکیں اور حال ہی میں استعمال ہونے والا لفظ ”مذہبی خیالات کی تجدید“ وہ الفاظ ہیں جن سے مسلمانوں کے کان مانوس ہیں۔

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکوں کا بغور مطالعہ اور ان کا عملی تجزیہ ان کے لئے مفید اور قوی ثابت ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایسے باصلاحیت افراد یہ کام کر گزریں گے اور اپنے مطالعہ اور علمی تحقیق کے نتائج خواہش مند افراد کے سامنے پیش کریں گے۔

یہ ظاہر ہے کہ وہ تمام تحریکیں جن کا مقصد اصلاح ہو‘ ایک ہی طرح کی نہیں رہی ہیں‘ بعض ایسی تھیں کہ ان کا بنیادی مقصد اصلاح تھا اور اس طرح وہ قدرتی طور پر اصلاح تھیں‘ کچھ ایسی تھیں جنہوں نے اصلاح لانے کی آڑ میں فساد برپا کیا اور کچھ ایسی بھی تھیں جو کہ شروع میں اصلاحی پہلو لے کر ابھریں لیکن بعد میں اپنے راستے سے بھٹک گئیں۔

عثمانیوں اور عباسیوں کے ادوار میں علویوں کا ابھرنا بھی اصلاح کا قیام تھا۔ اس کے برعکس بابک خرم دین اور اس قسم کی دیگر تحریکیں اتنی بے ہودہ اور غلاظت اور کثافت اور آلودگی میں ڈوبی ہوئی تھیں کہ اسلام کو ان کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا‘ ان کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں عباسیوں کی ظالمانہ حکومت کے خلاف نفرت اور غصہ کم ہو گیا‘ ان تحریکوں کا مقصد شاید عباسیوں کی حکومت کو دوام دینا تھا۔ حقیقت میں ان تحریکوں نے عباسیوں کو مواقع فراہم کئے۔ شعوبیہ کی تحریک کا آغاز بھی اصلاحی تھا‘ کیونکہ یہ مہم امویوں کی تفریق کی پالیسی کے خلاف تھی اور ان کا نعرہ تھا:

( یا یها الناس انا خلقنا کم من ذکر و انتی و جعلنا کم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عندالله اتقاکم )

چونکہ شعوبیہ تفریق کی پالیسی کے خلاف تھے‘ لہٰذا ان کو ”اہل التسومیہ“ سے پکارا گیا اور ان کا نعرہ قرآن کی مندرجہ بالا آیت تھا‘ لہٰذا شعوبیہ کہلائے جانے لگے‘ لیکن بدقسمتی سے وہ خود اس بات کا شکار ہو گئے جس کے خلاف انہوں نے علم انقلاب بلند کیا تھا‘ یعنی وہ نسل اور قوم کی تفریق میں مبتلا ہو گئے‘ ان کے اس عمل نے عباسیوں کو ایک اور موقع فراہم کیا‘ شاید عباسیوں نے ایک گھناؤنی سازش کی اور ایرانیوں کو اسلامی عدل کے راستے سے ہٹا کر ایرانی نسل پرستی کے چکر میں ڈال دیا۔ تاریخ میں شعوبیہ کے انتہائی گروپ نے جس شدت کے ساتھ عباسیوں کی حمایت کی ہے وہ اس مفروضے کو تقویت دیتا ہے۔

اسلامی تحریکیں کچھ صرف فکری تھیں‘ کچھ اجتماعی اور بعض فکری اور اجتماعی دونوں پہلو لئے ہوئے تھیں‘ غزالی کی تحریک صرف ایک فکری تحریک تھی اس کے خیال میں اسلامی علوم اور اسلامی خیالات آسیب زدہ تھے۔ اس لئے اس نے ”احیاء علوم دین“ پر کام کیا‘ علویوں اور سربداروں کی تحریکیں حکومت وقت کے خلاف اجتماعی تحریکیں تھیں‘ اخوان الصفا کی تحریک فکری اور اجتماعی دونوں حیثیتوں میں تھی۔

اوپر دی گئی تحریکوں میں چند ترقی پسند تھیں اور کچھ دوسری‘ مثلاً اشعری چوتھی صدی میں اور اخباریگری (شیعوں میں) دسویں صدی میں اور وہابی تحریک بارہویں صدی میں صرف رجعت پسند تحریکیں تھیں۔

ان تمام تحریکوں کے جو عملی یا فکری ہیں یا ترقی پسند اور رجعت پسند ہیں بغور مطالعہ اور وسیع تحقیق کی ضرورت ہے‘ ان کا مطالعہ اس وجہ سے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ حال ہی میں کچھ موقع پرستوں نے موجودہ خلا سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے اسلامی تاریخ میں تحریکوں کا تجزیہ ذہن میں پہلے سے طے شدہ ”مقصد“ اور ”قیاس“ کے تحت کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنی عالمانہ رائے ناسمجھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔

اس وقت ہم ایک مختصر جائزہ میں ان اسلامی تحریکوں کا تذکرہ کریں گے‘ جو پچھلے ایک سو سال سے چل رہی ہیں کیونکہ یہ دور ہماری موجودہ زندگی کے قریب تر ہے‘ ہماری کوشش یہ معلوم کرنا ہو گا کہ ان تحریکوں نے کیا اثرات مرتب کئے ہیں۔

تیرہویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں اور انیسویں صدی عیسوی میں ایران‘ مصر‘ شام‘ لبنان‘ شمالی افریقہ‘ ترکی‘ افغانستان اور ہندوستان میں اسلاسمی تحریکیں چلائی گئی ہیں‘ وہ لوگ جنہوں نے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا اور اصلاح کرنے کے لئے خیالات اور نظریات پیش کئے ان ملکوں میں نمودار ہوتے رہے ہیں‘ یہ تحریکیں صدیوں کے جمود کے بعد شروع ہوئیں‘ یہ کسی حد تک مغرب کی سیاسی‘ اقتصادی اور تہذیبی نو آبادیاتی پالیسیوں کے خلاف تھیں اور اسلامی دنیا میں احیاء اور بعثت ثانیہ شمار کی گئی ہیں۔

سید جمال الدین

پچھلے ایک سو سال کی تحریک کے سلسلے کی بنیادی حیثیت جمال الدین اسد آبادی بہ عرف عام ”افغانی“ کی ہے‘ یہ وہی شخصیت تھی جس نے اسلامی حکومت کو ضرورت اصلاح اور تشکیل نو کے لئے جگایا اور مسلمانوں میں معاشرتی برائیوں کو آشکارا کیا اور ان کو اصلاح کا راستہ دکھا کر ان برائیوں کی اصلاح کا راستہ دکھایا۔ اگرچہ سید کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے لیکن ان کے فلسفہ اصلاح کے بارے میں بہت کم بتایا گیا ہے یا شاید میں نے اس کے فلسفے کے بارے میں سنا اور جانا نہیں ہے‘ تاہم یہ معلوم کرنے سے کافی فائدہ ہو گا کہ سید نے اسلامی معاشرہ کی کن برائیوں کی تشخیص کی ہے اور ان کا کیا علاج تجویز کیا‘ نیز اپنے فلسفہ اصلاح کے مقاصد کے حصول کی خاطر کون سے راستے اختیار کئے۔

جس تحریک کی انہوں نے ابتداء کی وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے فکری اور اجتماعی تھی جہاں وہ مسلمانوں کے خیالات میں تجدید چاہتے ہیں وہاں وہ نظام زندگی میں بھی احیاء چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک شہر‘ ایک ملک حتیٰ کہ ایک براعظم تک محدود نہیں رکھا۔ ہر ملک میں تھوڑا تھوڑا وقت گزار کر انہوں نے ایشیاء‘ یورپ اور افریقہ کے طول و عرض میں سفر کیا‘ جس ملک میں بھی وہ گئے وہاں پر لوگوں کے مختلف طبقات کے ساتھ اپنی روحانی وابستگی کافی حد تک استوار کی‘ حتیٰ کہ کچھ ممالک کے فوجی یونٹوں میں دخل اندازی کی تاکہ افواج میں اثر و رسوخ پیدا کیا جائے۔

سید نے بہت سے اسلامی ملکوں کا دورہ کر کے قریبی مشاہدہ کیا جس سے انہیں ان ملکوں کے بارے زیادہ آگاہی ہوئی‘ اس سے ان کو موقع ملا کہ ان ملکوں کی پیچیدگیوں کو سمجھے اور وہاں کی قابل عزت شخصیتوں کا گہرا مطالعہ کیا‘ تمام دنیا کا دورہ اور خصوصاً یورپ میں ان کا زیادہ وقت گزارنا اس سلسلے میں کارآمد ثابت ہوا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہو رہا ہے اور یورپ کی تہذیب کو سمجھنے اور یورپی لیڈروں کے ارادوں کو بھانپنے میں ممد و معاون ثابت ہوا۔ اپنی کوشش اور مشن کے دوران میں سید نے اپنے زمانے اور دنیا کو سمجھا اور اسلامی ممالک کا مناسب اور صحیح علاج بھی دریافت کیا جس کے لئے انہوں نے اپنا مشن شروع کیا تھا۔ سید کے نزدیک اندرونی استبداد اور بیرونی استعمار دو اہم اور توجہ طلب برائیاں تھیں جن سے اسلامی معاشرہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے‘ انہوں نے ان کے خاتمہ کے لئے کوششیں کیں اور بالآخر اپنے مشن کی خاطر جان دے دی‘ وہ یہ ضروری اور ناگزیر سمجھتے تھے کہ ان دو تباہ کن اسباب کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں میں سیاسی بیداری ہو اور وہ سیاست میں بھرپور حصہ لیں۔

اپنی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی اور دنیا میں پروقار مقام حاصل کرنے کے لئے کہ مسلمان بجا طور پر اس کے اہل ہیں‘ سید اس کو ناگزیر سمجھتے تھے کہ وہ اصلی اسلام کی طرف پلٹیں‘ حقیقت میں وہ مسلمانوں کے نیم مردہ بدن میں نئی روح پھونکنا چاہتے تھے۔ تجدید کی پہلی شرط یہ ہے کہ بدعنوانی کو ختم کر کے تنظیم نو کی جائے اور پھر مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیا جائے‘ انہوں نے محسوس کیا کہ استعماریت آشکارا اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے مذہبی اور غیر مذہبی نفاق و انتشار کا بیج بو رہی ہے‘ انہوں نے ان چھپے ہوئے عزائم کو واضح کیا۔

سید کی دو خصوصیات

سید کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ شیعہ اور سنی دونوں سوسائٹیوں کا بہت قریبی علم رکھتے تھے‘ لہٰذا وہ سنی اور شیعہ دونوں معاشروں کے فرق پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سنی معاشرہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ نہیں ہے اور وہ استبدادی اور استعماری طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سنیوں کے مذہبی علماء کا طبقہ حکومتوں سے وابستہ رہا ہے اور وہ صدیوں سے حکومت کو سوسائٹی کا ”اولوالامر“ کہتا چلا آیا ہے‘ اس لئے سنی معاشرے کے مذہبی علماء کو وہ نظرانداز کر دیتے تھے اور براہ راست عوام سے رابطہ رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں سنی مذہبی علماء میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہو سکی کہ وہ نوآبادیاتی نظام اور استحصال کے خلاف کوئی محاذ بنا سکیں اور اس سلسلے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

لیکن شیعی مذہبی علماء ایک آزاد ادارہ کی حیثیت سے واضح امتیاز کے ساتھ ایک قومی طاقت ہیں‘ ان کا عوام کے ساتھ گہرا رشتہ رہا اور ہمیشہ حکام کے استبداد کو چیلنج کرتے رہے ہیں‘ اس لئے سید جمال نے سب سے پہلے شیعہ سوسائٹی کے علماء سے اپیل کی۔ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز ذی فہم لوگوں سے کیا اور فیصلہ کیا کہ یہی وہ طبقہ ہے کہ ہر آمر اور نوآبادیت کے خلاف جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

ان خطوط کی عبارت جو انہوں نے شیعہ علماء کو لکھی‘ خصوصاً مرحوم حاجی میرزا حسین شیرازی اور کئی وہ قراردادیں جو انہوں نے تہران‘ مشہد‘ اصفہان‘ تبریز‘ شیراز اور دوسری مذہبی جگہوں کے خدا پرست اہم شخصیات کو بھیجیں‘ اس امر کی کھل کر وضاحت کرتی ہیں۔

سید جمال سمجھ گئے تھے کہ گو کہ شیعی مذہبی علماء میں سے چند نے اپنے وقت میں استبدادی طاقتوں کے ساتھ روابط جوڑے‘ لیکن انہوں نے معاشرے‘ عوام اور مذہب سے بھی اپنا رشتہ قائم رکھا‘ دشمنوں کے کیمپوں سے اپنے عوام کی خدمت کی‘ تاہم کچھ ایسے لوت تھے جو یقینا اغیار کے بہت قریب چلے گئے‘ لیکن بہت ہی مختصر تھے۔ تاریخ سے واضح ہے کہ عموماً شیعوں نے اپنے مذہبی علماء سے اپنا مذہبی رشتہ نہیں توڑا۔

سید جمال کے مشن نے شیعی مذہبی علماء کے طبقے پر کافی اثرات مرتب کئے‘ چاہے وہ تمباکو تحریک ہو جس میں شیعہ علماء نے اندرونی استبداد اور بیرونی استعماریت کے خلاف ایک طوفان کھڑا کیا یا آئینی حکومت کے قیام کی تحریک ہو اور اس میں بھی شیعہ علماء کی رہبری اور تائید موجود تھی۔

تاریخ میں یہ نہیں ملتا کہ سید جمال الدین نے جو کہ ایک انقلابی مسلمان تھے‘ شیعہ مذہبی علماء کو کمزور اور پست کیا ہو‘ حالانکہ بعض لاعلمی اور ناواقفیت کے نتیجے میں ان کو کافی تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

(نقش روحانیت پیشرو در جنبش مشروطیات ایران‘ تالیف حامد الگیار‘ ترجمہ: ابوالقاسم سری)

جناب محیط طباطبائی لکھتے ہیں کہ

”سید نے اپنے یورپ کے پہلے دورہ میں جب وہ وہاں ”عروة الوثقٰی“ رسالہ نکالنا چاہتے تھے‘ یہ محسوس کیا کہ روحانی لوگوں میں اصلاح لانے کی قوت موجود ہے اس بات کو انہوں نے ایک خط میں واضح کیا جو انہوں نے مصر میں مقیم ایک ایرانی بنام داغستانی کو لکھا (حکومت کو دھوکہ دینے کے لئے انہوں نے اپنا جعلی نام داغستانی رکھا ہوا تھا) اس میں انہوں نے فرمایا کہ علمائے ایران نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی ہے اور یہ ایرانی حکومت ہے جو عوام کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے اور ان کے زوال اور تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ تہران میں موجودگی کے وقت علماء کے خلاف کوئی بات نہیں کی‘ جو کہ ان کے مزاج پر گراں گزرے‘ اس کے برعکس انہوں نے علماء کے ساتھ قریبی روابط رکھے۔ انہوں نے ایک رسالہ ”پنچیریہ“ شائع کیا‘ اس کا عربی ترجمہ بیروت میں ہوا اور چھپ کر تقسیم بھی ہوا۔ ایران آنے پر وہ اس رسالہ کی کچھ کاپیاں اپنے ساتھ لائے اور یہاں صاحبان علم و دانش میں تقسیم کیں‘ مذہبی اساتذہ کے ساتھ ملاقات کے دوران شعوری اور لاشعوری طور پر اس بات کا خیال رکھا کہ غرور و خود پسندی کا احساس نہ ہونے پائے‘ سنا ہے کہ جب سید نے مرحوم جناب جلوہ سے پہلی ملاقات کی تو انہوں نے اس بات کے پوچھنے پر کہ ”سید مصر میں شیخ (ابو علی سینا) کے کلمات پر درس دیتا ہے۔“ نفی میں جواب دیا‘ تاکہ جلوہ ان کی بات سے مشتعل نہ ہوں۔“

(نقش سید جمال الدین در بیداری مشرق زمین‘ ص ۳۹-۴۰‘ ۵۲)

سید جمال کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ گو وہ ایسے مصلح تھے جو مسلمانوں کو مغرب کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول پر آمادہ کر رہے تھے تاکہ جہالت اور لاعلمی پر قابو پایا جا سکے وہاں وہ جدیدیت میں انتہا پسندی کے خطرہ سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مغربی سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی مسلمانوں کی جہان بینی اور نظریات کے درمیان ایک توازن برقرار رکھا جائے‘ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان مغربی طرز کی جہان بینی پر فریفتہ ہو جائیں اور اسی عینک سے دنیا کو دیکھنے کی کوشش کریں اور یوں اسلامی جہان بینی سے دور ہٹ جائیں‘ وہ نہ صرف مغربی سیاست اور استعمار کے خلاف لڑے‘ بلکہ تہذیبی استعمار کے خلاف بھی سعی کی‘ انہوں نے ان لوگوں کے خلاف مہم چلائی جو کائنات اور قرآن مقدس اور اسلامی فلسفہ کی مغربی نقطہ نظر سے تاویل کرنا چاہتے تھے‘ وہ یہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کے مابعدالطبیعاتی مفاہیم کی‘ انسان کے شعوری اور مادی معاملات کی اصطلاحوں میں تاویل کی جائے۔

ہندوستان کے دورے کے دوران ان کا تعارف ایک مسلمان مصلح سر سید احمد خان سے ہوا‘ انہوں نے دیکھا کہ وہ مابعدالطبیعاتی مسائل کی علم سائنس کے نام پر اور سائنس کے بہانے سے تشریح کی کوشش کر رہے ہیں کہ غیب اور معقولات کو قابل احساس و مشاہدہ قرار دے کر ان کی تاویل کی جائے اور وہ معجزہ کا ادراک عام اور سادہ معنوں میں کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ معجزے قرآن میں بڑے واضح ہیں‘ قرآن کے آسمانی مفاہیم کو زمینی مفاہیم میں تبدیل کر دیں۔ سید نے ان باتوں پر اعتراض کیا‘ اس عہد کے ایک مورخ نے سید کے ہندوستانی دور کے متعلق اور سر سید احمد خان کے سلسلے میں ان کے موقف کے بارے میں لکھا ہے:

”اگر سید احمد نے مذہب میں اصلاح کے متعلق باتیں کی ہیں تو سید جمال نے مسلمانوں کو فتنہ انگیز مصلحوں اور اصلاحوں میں انتہا پسندی کے خطرات سے آگاہ کیا۔ جہاں سید نے جدید نظریات کو جذب کرنے کی ہدایت کی‘ وہاں سید جمال اپنے اس استدلال پر قائم رہے کہ صرف مذہبی عقیدہ ہی ان تمام اسباب سے افضل ہے اور اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ انسان کی راہ مستقیم پر چلنے کی رہنمائی کرے‘ اگر سید نے مسلمانوں کو جدید تربیت حاصل کرنے کا شوق دلایا تو سید جمال نے تربیت کے ان نئے طریقوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہب اور قوم کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ سید جمال جو کہ نئے نظریات اور تعلیمات کے علمبردار تھے‘ سید احمد جیسے جدیدیت پسند شخص کے سامنے آئے تو مجبور ہو گئے کہ وہ پرانے خیالات اور نظریات کے سرگرم حامی بنیں‘ تاہم وہ اپنے پہلے نظریے دینی فکری تحریک پر قائم رہے۔“

اسلامی سوسائٹی میں جن بیماریوں کی سید جمال نے تشخیص کی‘ وہ یہ ہیں:

۱ ۔ حکام کا استبداد۔

۲ ۔ عام مسلمانوں میں جہالت‘ بے خبری اور ان کے کاروان علم و تمدن میں سست رفتاری۔

۳ ۔ مسلمانوں میں خرافات کا نفوذ اور ان کی اصلی اسلام سے دوری۔

۴ ۔ مذہبی اور دنیاوی مسائل و معاملات میں مسلمانوں کے درمیان جدائی اور نااتفاقی۔

۵ ۔ مغربی استعمار کے اثرات۔

ان بیماریوں کے علاج کے لئے سید نے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے‘سفر‘ ذاتی روابط‘ خطبات‘ کتابوں کی اشاعت‘ رسالے اور مختلف پارٹیوں اور گروپوں کی تنظیم کرنا حتیٰ کہ فوجی ملازمت میں شمولیت۔ وہ ۶۰ سال زندہ رہے اور ہمیشہ کنوارے رہے اور اہل و عیال سے بے نیاز رہے‘ کیونکہ ان کی زندگی ہمیشہ غیر یقینی تھی۔ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہے تھے‘ زیادہ تر وقت جیل میں‘ جلاوطنی میں اور یا گھر میں نظربند کی حیثیت سے گزارتے تھے‘ اس صورت حال میں وہ بال بچوں کی ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتے تھے۔

اوپر دی ہوئی برائیوں کے ختم کرنے کے لئے جو تجاویز انہوں نے پیش کیں‘ وہ یہ ہیں:

۱) استبدادی حکام کی خود غرضی کے خلاف جنگ

کون یہ جنگ لڑے؟ عوام‘ لیکن عوام کو کس طرح میدان جنگ میں اتارا جائے؟ کیا اس راسے سے کہ ان کو بتایا جائے کہ تمہارے حقوق کو کس طرح پامال کیا گیا ہے؟ یہ بجا ہے کہ اس کو بنیادی اہمیت دی جائے‘ لیکن یہ کافی نہیں تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ بنیادی کام یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں پختہ یقین پیدا کرنا چاہئے کہ سیاسی جدوجہد ایک شرعی اور مذہبی فریضہ ہے‘ یہ واحد راستہ ہے اور لوگ اس وقت تک اطمینان سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتے۔ وہ لوگ غفلت میں ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سیاست اور مذہب ایک دوسرے سے جدا ہیں‘ مذہب اور سیاست کی ہم بستگی کو عام لوگوں پر آشکارا کرنا چاہئے۔

مذہب اور سیاست میں باہمی رابطہ کی ضرورت پر زور‘ سیاسی بیداری کا احیاء جو کہ ہر مسلمان کا ایک شرعی فریضہ ہے اور اس کا ملکی سیاست میں عملی شرکت اور ساتھ ہی اسلامی سوسائٹی کا قیام‘ وہ نظریات ہیں جو سید کے نزدیک ان وقتی بیماریوں کا علاج ہیں‘ وہ عملاً اپنے عصر کے استبدادی حکام کے ساتھ لڑتے رہے اور اپنے پیروکاروں کو ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر اکساتے رہے‘ ناصر الدین شاہ پر حملہ انہی کی تحریکوں کا نتیجہ تھا۔

۲) جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی سے لیس ہونا

یہ ایک حقیقت ہے کہ سید جمال نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور انہوں نے سکول اور سائنسی ادارے نہیں بنائے‘ انہوں نے صرف قلم اور زبان سے اس کی تبلیغ کی۔

۳) اصلی اسلام کی طرف پلٹنا

اسکا مطلب ان خرافات اور بے کار حاشیہ آرائیوں کا خاتمہ ہے جو اسلام کی لمبی تاریخ کے دوران اس میں شامل کر دی گئی ہیں۔ سید کے نزدیک اسلام کی طرف پلٹنے کا مطلب قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا اور دوبارہ اپنے صالح اسلاف کی سیرت پر کاربند ہونا ہے۔ انہوں نے صرف قرآن کی طرف پلٹنا تجویز نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خود قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کو ضروری سمجھتا ہے‘ مزید برآں وہ ”حسبنا کتاب اللّٰہ“ کے جملہ میں موجود تمام خطرات سے بخوبی واقف تھے۔ یہ وہ جملہ ہے جو ہر زمانے اور ہر دور میں اسلام کے چہرے کو مسخ کرتا رہا ہے۔

۴) نظریات پر ایمان و عقیدہ

وہ اپنی تحریروں اور خطبات سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ چیز بٹھانے کی کوشش کرتے رہے کہ اسلام میں ایک مکتب فکر اور نظریہ کی وجہ سے یہ طاقت موجود ہے کہ وہ مسلمانوں کو اندرونی استبداد اور بیرونی استعمار سے نجات دلا کر ان کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام پر پہنچا دے‘ مسلمان ارادے کے ساتھ جم جائیں تاکہ وہ کسی دوسرے مکتب فکر کی ضرورت محسوس نہ کریں۔

اس نظریے کی وجہ سے سید نے اپنی تحریروں اور تقاریر میں اسلام کے ان اوصاف پر روشنی ڈالی‘ مثلاً اسلام میں فکر کی طاقت کا اقرار‘ مدلل برہان اور مفہوم صراط مستقیم پر چلتے ہوئے انسان میں ہر کمال سوائے پیغمبری کے حاصل کرنے کی صلاحیت‘ انسان کی ذاتی شرافت‘ اسلام کا سائنسی مذہب ہونا‘ عمل اور سخت محنت کا مذہب‘ کوشش اور جدوجہد کا مذہب‘ فساد کے خلاف اصلاح کا مذہب‘ حلال و حرام کا مذہب‘ عزت اور عدم قبول ذلت کا مذہب اور ذمہ داریاں قبول کرنے کا مذہب ہونا ہے۔

سید نے اسلام میں نظریہ توحید پر کافی زور دیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف برہانی یقین توحید کی بنیاد قرار دیتا ہے‘ استدلال اور برہانی توحید ہی تمام غلط عقیدوں کے لئے بہت بڑی تردید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہی سوسائٹی فساد اور شرک کو ختم کر سکتی ہے جو استدلال اور برہانی یقین پر اعتماد کرتی ہے‘ نہ کہ وہ جو قیاس‘ واقعات اور حالات کی موافقت پر یقین رکھتی ہے۔ لوگوں کو استدلال کی تعلیم دی جائے تاکہ فکر کی عزت مذہبی نقطہ نظر سے قائم ہو جائے۔

اس وجہ سے سید نے فلسفہ الٰہی اسلامی کی ضرورت کا احساس دلایا اور ان کے ماننے والوں نے اس کی پیروی کی‘ انہوں نے ایک بااعتماد شاگرد محمد عُبدہ کو فلسفہ پڑھنے کی تلقین کی۔ کہا جاتا ہے کہ محمد عُبدہ نے اشارات ابو علی سینا کی اپنے ہاتھ سے دو کاپیاں تیار کیں اور ایک کے آخر میں سید کی تعریف کی ہے‘ غالباً یہ اسی ہمت افزائی کا اثر تھا کہ عُبدہ نے فلسفہ پر کچھ کتابیں شائع کیں۔ پہلی دفعہ نجات بو علی‘ البصائر النصیریہ ابن سہلان ساوجی اور شاید اشارات ابو علی سینا میں سے المشرقین کے کچھ حصے شائع کئے۔

احمد امین نے اپنی کتاب ظہور اسلام(ج ۱‘ ص ۱۹۰) میں لکھا ہے کہ سنی فکر کے مقابلے میں فلسفہ شیعہ فکر کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فاطمیوں نے جو مصر کے شیعہ حاکم تھے‘ فلسفہ کو زیادہ رواج دیا۔ فاطمیوں کے زوال اور سنی روح کے آنے سے فلسفہ مصر سے رخصت ہو گیا‘ حال ہی میں سید جمال (جو شیعہ رجحانات رکھتا ہے) کے مصر آنے پر اس خطہ میں فلسفہ کا دوبارہ ظہور ہوا۔

اپنے اس مشن کے دفاع میں کہ اسلام ایک جامع اور آزاد مکتب فکر اور نظریہ رکھتا ہے‘ سید نے یورپی ممالک کے اعتراضات کے خلاف مہم چلائی۔ یورپ میں اسلام کو ایک جبری دین اور قضا و قدرت کا محتاج تصور کیا جاتا تھا اور یہ کہ اسلام شخصی آزادی کی نفی کرتا ہے اور یہی اسباب ہیں جو کہ اسلام کے انحطاط کا سبب بنے ہیں۔(انسان و سرنوشت)

وہ یہ بھی تبلیغ کرتے تھے کہ اسلام سائنس کا مخالف ہے اور مسلمانوں کو سائنس سے دور رکھنا اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے۔

اپنے رسالہ ”عروة الوثقٰی“ میں انہوں نے ایک مضمون میں اسلام کے نظریہ قضا و قدرت کا دفاع کیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ فلسفہ نہ صرف غیر انحطاطی ہے‘ بلکہ اس نے ترقی اور بلندی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔(پائے گذر نہضت ہائے اسلامی‘ سید جمال الدین)

اس طرح انہوں نے ایک فرانسیسی فلاسفر ارنسٹ رنان ( Iernest Renan ) کا منہ توڑ جواب دیا‘ جو اسلام کو سائنس کا مخالف مذہب سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب اسلام ہی ہے۔(رسالہ اسلام و علم‘ از ہادی خسروی شاہی)