(۷)بعض اشارے
آدمی جب اپنے لیے کسی میدان کو چن لیتا ہے اور اس میں درک حاصل کر لیتا ہے تو پھر اس کے اپنے کچھ خاص اشارے ہوتے ہیں جو حل مشکل کے Short art ہوتے ہیں۔ اس طرح قرآن کے سمجھنے میں بعض اشارے پاکر مضمون کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ مثل
(۱) حروف مقطعات جن سورتوں کے آغاز میں بھی آتے ہیں ان میں قرآن کا چیلنج ضرور ہو گا۔ قرآن جیسا ایک کلام یا ایک ہی سورت لانے کا چیلنج ہو گا۔ یا یہ بات ہو گی کہ یہ قرآن، رسول اور یہ پیغام لازماً غالب ہو کر رہیں گے۔ یہ بھی ایک معنوں میں غلبہ قرآن کا چیلنج ہے۔
(۲) حوامیم سورتیں ۷ ہیں یہ آپس میں ہم آہنگ ہیں، مضامین ملتے جلتے ہیں۔ اسی طرح مستحبات ہیں، یہ ۵ہیں۔ ان کے مضامین باہم دگر ملتے جلتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جن سورتوں کی شروعات ایک جیسی ہوں وہاں مضامین میں بھی اشتراک پایا جاتا ہے۔
(۳) جن آیتوں کا اختتام ’’(
لقوم یتفکرون
)
(
لعلکم یتفکرون
)
،(
لقوم یعقلون
)
‘‘،(
ان فی ذالک لآیة
)
وغیرہ ٹکڑے آیت کی شروع یا اختتام میں پائے جائیں تو یہ اشارہ ہے کہ یہ آیت بڑے سائنٹفک حقائق کی حامل آیتیں ہیں۔ ان میں غور و فکر کی ہر زمانے میں گنجائش موجود ہے۔ ان کے نتیجے میں نئے نئے انکشافات ہوسکتے ہیں۔