پہلا حصہ
فطرت کی راہ
سوال:کیا موجودہ دنیا کے حالات اور روز مرہ حیرت انگیز ترقی کے پیش نظرباور کیا جاسکتا ہے کہ اسلام عالم بشریت کا نظم ونسق چلا کر موجودہ ضرورتوں کو پورا کر سکے گا؟کیا حقیقت میں وہ وقت نہیں پہنچا ہے کہ جب انسان علم کی قدرت سے آسمانوں پر کمند ڈال رہا ہے اور ستاروں کو تسخیرکرنے جا رہا ہے ،اب اسے ان کہنہ مذہبی افکار کوبالائے طاق رکھ کراپنی قابل فخرزندگی کے لئے ایک نئے اور تازہ طریقہ کارکا انتخاب کر کے اپنی فکروارادہ کی طاقت کواپنی شاندارکا میا بیوںپر متمرکزکرنا چاہئے؟
جواب:اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کراناضروری ہے اور وہ یہ ہے :صحیح ہے کہ ہم فطری طور پر ہر نئی چیز کوپرانی چیز کی نسبت پسند کرتے ہیں اور ہر چیز کے نئے پن کو اس کے پرانے پن پر ترجیح دیتے ہیں لیکن بہر حال یہ کوئی کلی قاعدہ نہیں ہے اور اس طریقہ کار کو ہر جگہ پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ہ ۔مثال کے طور پردو اوردوچار جو لاکھوں اورہزاروں سال سے انسان میں رائج ہے اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے ،اسے کہنہ سمجھ کر دور نہیں پھینکا جاسکتاہے!
یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ عالم بشریت میںرائج اجتماعی اور معاشرتی زندگی اب کہنہ ہو چکی ہے،اس سلسلہ میں ایک نیا منصوبہ مرتب کر کے انفرادی زندگی کاآغاز کیا جانا چاہئے۔یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ملکی قوانین جو کافی حد تک انسان کی انفرادی آزادی پر پابندیاںعائد کرتے ہیں ،اب کہنہ ہو چکے ہیں اور لوگ ان سے تنگ آچکے ہیں ،اس وقت جب کہ انسان فضا کو تسخیرکرنے میں لگا ہے اورستاروں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کے مدار میں سٹلا ئٹ بھیج رہا ہے اس لئے ایک نئی راہ کا انتخاب کرناچاہے اور قانون ،قانون سازاور قانون لاگوکرنے والوں کے چنگل سے آزاد ہونا چاہے۔
واضح اور روشن ہے کہ یہ باتیں کس حد تک بے بنیاد اور مذاق پر مبنی ہیں ۔اصولاًکہنہ اور نئے پن کامسئلہ ایسے مواقع پر بیان کیا جاسکتا ہے کہ جو تغیر وتبدّل کے دائرہ میں آتے ہوں،جس کے نتیجہ میں کبھی بہتر اور شاداب اور کبھی نا مناسب عوامل کی وجہ سے فرسودہ اورافسردہ ہوجاتے ہیں۔
اس لئے ،حققت شناسی سے مر بوط بحثوںکے سلسلہ میں ،جو فطری تقاضوں سے متعلق ہیں اور خلقت و کائنات کے حقیقی قوانین کی تحقیق کرتے ہیں (جن میں سے ایک یہی ہمارازیر بحث مسئلہ ہے : کیا اسلام مو جودہ حالات کے پیش نظرعالم بشریت کا نظم و نسق چلا جا سکتا ہے ؟)اس کے بارے میں کہنہ اور نئے پن کا مسئلہ نہیں چھیڑ نا چاہے ۔ہر بات کی ایک خاص جگہ اور ہر نکتہ کا ایک مخصوص مکان ہوتا ہے۔
لیکن یہ کہ ''کیا اسلام موجودہ حالات میں عالم بشریت کا نظم ونسق چلاسکتا ہے؟''یہ سوال بھی اپنی جگہ پر عجیب و غریب ہے اور اسلام کے حقیقی معنی کے مطابق بھی جو قرآن مجیدکی دعوت پر مبنی ہے یہ سوال انتہائی تعجب آور ہے ۔کیونکہ ''اسلام''وہ راستہ ہے جس کی انسان اور کائنات کی خلقت کی مشینری نشاندہی کرتی ہے ۔''اسلام''یعنی وہ قواعد وضوابط جو بشریت کی خاص فطرت کے مطابق ہیں اور انسان کی فطرت کے ساتھ رکھنے والی مکمل ہم آھنگی کے پیش نظرانسان کی حقیقی ضرورتوں کو ۔۔نہ فرضی اور جذباتی ضرورتوں کو۔۔پورا کرتے ہیں۔
بدیہی بات ہے کہ انسان کے انسان ہو نے تک اس کی انسانی فطرت نہیں بدلتی اور انسان جس زمان و مکان میں ہو اور جس حالت میں بھی زندگی بسر کرتا ہووہ اپنی انسانی فطرت پر گامزن ہوگا اور فطرت نے اس کے سامنے ایک راستہ معین کیا ہے،خواہ وہ اس پرچلے یا نہ چلے۔
اس بناء پر حقیقت میں مذکورہ سوال کا معنی یہ ہے کہ اگر انسان فطرت کی معین کردہ راہ پر چلے تو کیاوہ اپنی فطری خو شحالی کو پاسکتا ہے اور اپنی فطری آرزوئوںتک پہنچ سکتا ہے ؟یامثال کے طور پر اگر کوئی درخت اپنی فطری راہ ۔۔جو مناسب وسائل سے مجہز ہے ۔۔پر چلے توکیا وہ اپنی فطری منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ؟واضح ہے کہ بدیہیات کے بارے میں اس قسم کے سوالات مسلّمات میں شک وشبہ ایجاد کرنے کے مترادف ہیں ۔
اسلام، یعنی فطرت کی راہ،ہمیشہ انسان کی حقیقی راہ ہے جواس کی زندگی کے مختلف حالات کے پیش نظرنہیں بدلتی ہے۔اسکے فطری مطالبات ۔۔نہ جذباتی اورتوہماتی خواہشات۔۔اس کے حقیقی مطالبات اور فطری منزل مقصود اور سعادت وخوشبختی تک پہنچنے کے مطالبات ہیں۔خدائے تعالی اپنے کلام میں فرماتا ہے:
(
فأقم وجهک للدّین حنیفا فطرت اللَه الَتی فطر النَاس علیها لاتبدیل لخلق اللَه ذلک الدَین القیّم...
)
(روم٣٠ )
''آپ اپنے رخ کودین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے۔ یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے ۔''
اس مطلب کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ ہمارے لئے واضح اورمشہور ہے کہ عالم خلقت میں مختلف مخلو قات مو جود ہیں ،ان مخلوقات میں سے ہر ایک کی اپنی زندگی اور بقاء کے لئے ایک مخصوص طریقہ کاراور خاص راستہ معین ہے اور وہ اپنی زندگی کی راہ میں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک معین راستہ پر گامزن ہیں اور ان کی سعادت و خوش قسمتی اس میں ہے کہ اپنی زندگی کی اس راہ میں کسی رکاوٹ سے دو چارہوئے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں ۔
دوسرے الفاظ میں اپنی زندگی اور بقاء کے راستے کواپنے وجود میں پائے جانے والے وسائل اور اسلحوں سے استفادہ کرتے ہوئے کسی رکا وٹ کے بغیرطے کرکے سر انجام تک پہنچ جائیں۔
گیہوں کا دانہ پنے نباتی سفر میں ایک خاص راستہ طے کرتا ہے ۔اس کے داخلی ساخت وساز کے مطابق موجودہ خاص نظم واسلحوں'مخصوص حالات وشرائط میںروبہ عمل آتے ہیں اور گندم کے پودے کی نشوونما کے لئے ضروری عنا صر کو معین مقدار اور نسبت میں جذب کر کے گندم کے پودے کی مخصوص راہ پر راہنمائی کرکے اسے منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔
گندم کا پودااپنی نشو ونما کی راہ میںاندرونی اوربیرونی ماحول اورعوامل کے سلسلہ میںجس خاص روش کو اپناتا ہے ،وہ کسی صورت میں قابل تغیر نہیں ہے۔مثال کے طور پر کبھی ایسا نہیں ہوتاہے کہ گندم کااپنی نشوو نما کاتھوڑاسا راستہ طے کرنے کے بعد ہی اچانک ایک سیب کے درخت میںتبدیل ہو جائے اور اس کی شاخیں،کونپلیں اور پتے نکل آئیںیا اپنی زندگی کی راہ میںایک پرندہ میں تبدیل ہوکر پرواز کرے۔یہ قاعدہ خلقت کی تمام انواع میں موجود ہے اورانسان بھی اس کلّی قاعدہ سے مستثنی نہیں ہے ۔
انسان بھی اپنی زندگی میں،ایک فطری راہ اور ایک منزل مقصود رکھتا ہے جو اس کا کمال،سعادت اورخوشبختی ہے۔اس کی بناوٹ کچھ ایسے اسلحوں سے مجہّز ہے جواس کی فطری راہ کو مشخص کرتے ہیں اور اسے حقیقی منافع کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ۔
خدائے متعال تمام مخلوقات میں مو جود اس عمو می راہنمائی کی تعریف میں فرماتا ہے :
(
...الّذی ا عطیٰ کلّ شیٍ خلقه ثم هدی
)
(طہ۔٥٠)
''...خدا وہ ہے جس نے ہر شے کواس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے ۔(یعنی نفع کی طرف)''
انسان میں موجود خصوصی راہنمائی کے بارے میں فرماتا ہے:
(
ونفس وما سوٰها٭فلهمها فجورها و تقوٰها٭قد افلح مَن زکٰها٭وقد خاب مَن دسٰها
)
(شمس۔٧۔١٠)
''اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے ۔پھر بدی اور تقوی کی ہدایت دی ہے ۔بیشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنالیا۔اور وہ نامراد ہو گیاجس نے اسے آلودہ کر دیاہے۔''
مذکورہ بیان سے واضح ہوتا ہے انسان کی زندگی کا حقیقی راستہ ـکہ جس میں اس کی حقیقی سعادت وخو شبختی ہے ـوہ راستہ ہے جس کی طر ف فطرت اس کی راہنمائی کرتی ہے اور یہ انسان اور کائنات کی خلقت کے تقاضوں کے مطابق حقیقی مصلحتوںاور منفعتوں کی بنیاد پر استوار ہے ،چاہے یہ اس کے جذباتی خواہشات کے مطابق ہو یا نہ ہو ۔کیونکہ جذبات کو فطرت کی راہنمائی کی پیروی کرنی چاہئے اور اسی کے تابع ہو نا چا ہئے نہ کہ فطرت انسان کے نفسانی خواہشات اور جذ بات کے تابع ہو۔
انسانی معاشرہ کو بھی اپنی زندگی کو حقیقت پسندی پر استوار کرنا چاہئے نہ متزلزل توہّمات اور دھوکہ دینے والے جذبات کی بنیادوں پر۔اسلام کے قوانین اوردوسرے ملکی قوانین میں یہی فرق ہے۔کیونکہ عام اجتماعی قوانین معاشرہ کے افراد کی اکثریت (نصف ۔١)کی خواہشات کے مطابق ہو تے ہیں۔لیکن اسلام کے قوانین فطرت کی ہدایت کے موافق ہوتے ہیںجوارادئہ الٰہی کی علامت ہے اوراسی لئے قرآن مجیدتشریعی حکم کو خدائے متعال سے مخصوص جانتا ہے ،جیسا کہ فرماتا ہے:
(
ان الحکم الّا للّٰه
)
(یوسف٤٠)
''...حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے۔''
(
ومن حسن من اللّٰه حکما لقوم یوقنون
)
(مائدہ٥٠)
''... صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟''
اسی طرح جو کچھ ایک عام معاشرہ میں حکم فرماہوتا ہے وہ یا لوگوں کی اکثریت کی خواہش اور مرضی یاایک طاقتور مطلق العنان شخص کی خواہش کے مطابق ہو تا ہے ، چاہے یہ حکمرانی حق و حقیقت کے مطابق ہو اور معا شرہ کی حقیقی مصلحتوںکو پورا کرتی ہویا اس کے بر خلاف ہو ۔لیکن حقیقی اسلامی معاشرہ میں حق و حقیقت کی حکو مت ہو تی ہے اور لوگوں کو ا س کی اطاعت وپیروی کر نی چاہئے۔
یہاں پرایک اور شبہ کاجواب بھی واضح ہو تا ہے اور وہ یہ کی ''اسلام انسانی معاشرہ کے مزاج کے مطابق نہیں ہے ۔جو انسا نی معاشرے ا ج کل مکمل آزاد ی سے مالا مال اور ہر قسم کی کامیابی وکامرانی سے بہرہ مند ہیں ،ہر گز تیار نہیں ہیں کہ اسلام کی اتنی پابند یوں کے تحت ر ہیں۔''
البتہ اگر ہم بشریت کو موجودہ حالات میں' جبکہ اخلاقی زوال نے انسانی زندگی کے ہر پہلو پر اثر کیا ہے اور ہر قسم کی بے راہ روی اور ظلم واستبداد نے اپنا سایہ ڈالا ہے اور ہر لمحہ فنا وزوال کے بادل منڈلا رہے ہیں ،فرض کریں اور پھر اسلام کا اس کے ساتھ مواز نہ کریں تو ہم واضح اورروشن اسلام اورتاریکی میں ڈوبی بشریت کے درمیان کسی بھی قسم کی مطا بقت کو نہیں پائیں گے اور ہمیں توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے کہ اسلام کی موجودہ حالت کو جاری رکھتے ہوئے ،یعنی جزئی طور پراسلامی احکام کی ظاہری صورت عالم بشریت کی مکمل سعادت کو پورا کرے گی یہ تو قع بالکل اس امر کے مانند ہے کہ ہم جمہوریت کا صرف دم بھر نے والی ایک استبدادی اور مطلق العنان حکومت سے حقیقی جمہوریت کے نتائج اور فوائد کی تو قع رکھیں یا یہ کہ بیمار ڈاکڑ کے نسخہ لکھنے پر ہی اکتفا کرکے صحت یاب ہونے کی امید میں بیٹھے رہیں ۔
لیکن اگر ہم صرف لوگوں کی خدا داد فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام ـ جودین فطرت ہے ـسے مواز نہ کریں تو ہم اس میں مکمل موافقت اور ہم آہنگی پائیں گے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ فطرت نے جس راستہ کو خود تشخیص دے کر معین کیا ہے اور اس کی طرف ہدایت کرتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور راستہ کو قبول نہیں کرتی ہے ،اس کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو؟
البتہ لوگوں کی لا ابالی اوربے راہ روی کی وجہ سے پیدا ہوئی گمراہیوںاور کج فہمیوںسے جو آج کل فطرت دو چار ہے اس کی وجہ سے کسی حدتک فطرت اور اس کی معین کردہ طریقہ کار کی شناسائی میں شگاف پیدا ہوا ہے ۔لیکن ان ناگفتہ بہ حالات میں عاقلانہ روش یہ ہے کہ ان ناموافق حالات سے مقا بلہ کیا جائے تاکہ زمینہ ہموار ہو جائے نہ یہ کہ منحرف کی گئی فطرت پر خط بطلان کھینچ کر انسانی سعادت وخوشبختی سے ناامید ہو کرچشم پو شی کریں ۔تاریخ گواہ ہے کہ تمام نئی روشیں اور نظام اپنے قیام کی ابتداء میں گزشتہ روشوں اور پرانے حالات سے سختی کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہیں اور بہت سی کشمکشوں ـجو اکثر خوںریزی پر مشتمل ہوتی ہیں ـکے بعد معاشرہ میں اپنے قدم جماکر اپنے سابقہ دشمنوں کی یاد کولوگوں کے ذہنوں سے محو کر سکتے ہیں ۔
جمہوریت کے تمام نظام جو ان کے طرفداروںکے عقیدہ کے مطابق لوگوں کی مر ضی پر مبنی کامیاب ترین نظام ہیں،نے اپنے استحکام کے لئے فرانس اور دنیا کے دوسرے ممالک میں کئی خونیں انقلاب بر پا کرنے کے بعداستحکام پایا ہے۔اسی طرح کمیونسٹ نظام ـجو اپنے طرفداروں کی نظر میں بشر کی ترقی یافتہ تحریک اورتاریخ کا عظیم تحفہ ہے ـنے بھی اپنی پیدائش کی ابتداء میں سویت یونین میں پھرایشیا،یورپ اور لاطینی امریکہ میں لاکھوںاور کروڑوں انسانوںکو خاک وخون میں غلطاںکرنے کے بعد استحکام پایا ہے۔
مجموعی طور پرایک معاشرہ کی ابتدائی مرحلہ میںناراضگی اور مزاحمت ایک روش کے نا مناسب یا بے بنیادہو نے کی دلیل نہیں ہوسکتی ہے۔لہذا اسلام ہر حالت میں زندہ ہے اور معاشرے میں رائج ہونے کی قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے ۔
ہم اس موضوع پر آنے والی بحثوںمیں وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالیں گے۔