اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 8456
ڈاؤنلوڈ: 635

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8456 / ڈاؤنلوڈ: 635
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

مشرق وسطی میں انبیاء کی بعثت

سوال:انبیاء علیہم السلام کی بعثت کاصرف سعودی عربیہ،مصر،شامات اورانہی علاقوں تک محدود ہونا اوردنیا کے دوسرے علاقوں (یورپ۔آسٹریلیا)وغیرہ سے مربوط نہ ہونے کا سبب کیا ہے ؟

جواب:ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ انبیاء صرف مشرق وسطی اور اس سے مربوط علاقوں میں مبعوث ہوئے ہیں ۔بلکہ ظاہر آیہ( خلافیها نذیر ) (۱) عدم انحصارپر دلالت کرتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ تقریباًبیس سے زائد جن انبیاء کا قرآن مجید میں ذکر آیاہے وہ مشرق وسطی ٰاوراس کے

علاقوں سے مربوط ہیں ۔

استعدادوں میں فرق

سوال:قابلیتوں کے اختلافات کا سرچشمہ اور خلقت کے وقت مخلوقات کی استعدادآپس میں متفاوت ہیں ،مثال کے طورپر ایک نبوت یاولایت کافیض پاتا ہے اوردوسرے ایسے نہیں ہوتے ۔اسی طرح تمام مخلوقات میں بھی یہ اختلافات پائے جاتے ہیں ،ان اختلافات کی علت کیا ہے ؟

جواب:استعداد مطلق مادّہ کی ذاتی خصوصیت ہے اور یہ مختلف شرائط کے ساتھ مختلف تعینات پیدا کرتا ہے ،مثلاًمادّہ،جسمیّت اور عنصریت کے شرائط کے تحت نباتاتی استعداد رکھتا ہے اور نباتات زمین اور ہوا کے شرائط کے تحت میوہ کی قابلیت اور میوہ تغذیہ کی شرط کے تحت نشوونما کی قابلیت اور منی خاص حیوان کے رحم میں قرار پانے کی شرط کے تحت ،خاص حیوانوں کی صورت کی قابلیت پیدا کرتی ہے ۔مادّہ کی فاعلی علّت کو مادہ اورطبیعت کے ماوریٰ میں ثابت کرنا چاہئے لیکن کلی طورپر اس سوال کو اختلافات کی علت غائی کی نسبت کے طورپر بیان کرتے ہیں ۔قابلیتوں کے اختلاف ،جن کے اختلاف کا سر چشمہ فیض ہے ،کی غرض کیا ہے؟کیافرق پڑتا اگرخدائے متعال فیض کو عمومی فرماتا اوردنیامیں ،شر،فساداورکمی کا وجودنہ ہوتا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ کائنات کی خلقت کا مقصد،مکمل ترین موجودات کی پیدائش ہے جو ''انسان کامل'' ہے

( خلق لکم ماف الارض جمیعا ) (بقرہ٢٨)

''...زمین کے تمام ذخیروں کو تم ہی لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے ...''

( وسخّر لکم ما ف السماوات وماف الارض جمیعا ) (جاثیہ١٣)

''اوراسی نے تمہارے لئے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کردیاہے ''

انسان کا ارتقاء امتحان کی راہ میں ہوتا ہے ،لہذا دنیا میں مختلف استعدادوں کا ہونا ضروری ہے ،ورنہ امتحان کا کوئی معنی نہیں ہوگا ۔

حضرت خضراورحضرت موسیٰ علیہما السلام کے متعلق بعض شبہات

سوال: حضرت موسیٰ علیہ السلام اورجناب خضرعلیہ السلام کے قضیہ میں کشتی کوتوڑ نے میں غیر کے مال میں تصرف اورغلام کے قتل میں جرم سے پہلے قصاص معلوم ہوتا ہے اور دیوار کے نیچے خزانہ سے کیا مراد ہے ؟حضرت خضر علیہ السلام کیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معلم بن گئے ،جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس رسالت کا عہدہ تھا اوراپنے زمانہ میں معرفة اللہ کا مقام رکھتے تھے اوراسی طرح روبیل نامی چروا کا حضرت یونس علیہ السلام کو موعظہ کرنا اورھدھد کا حضرت سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کرنا کہ( احطت بمالم تحط به ) (۲) اورچیونٹی کا یہ کہنا :( وهم لا یشعرون ) (۳)

جواب :کشتی کو توڑنے اور قتل جیسے ہزاروں حوادث قضاوقدر الہٰی کے مطابق روزانہ دنیا میں رونماہوتے ہیں اور ان میںغیرکے مال میں تصرف اور جرم سے پہلے سزا کا خدائے متعال سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ہے ،کیونکہ خدائے متعال مطلق مالک اورمشرّع

ہے نہ متشرّع اورمکلّف ،وہ جوبھی کام انجام دے عین عدل اوربالکل مصلحت ہے چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام کے کلام :( وما فعلته مری ) (۴) ''میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا ہے ...''سے معلوم ہو تا ہے ،کہ جو کام حضرت خضر علیہ السلام نے انجام دئے ہیں ان کا صرف تکوینی پہلو تھا نہ تشریعی پہلو یعنی خدا کے حکم سے ان تین کاموں میں ،جو انہوں نے انجام دئے ،صرف تکوینی سبب مقصود تھا اور ان کی مصلحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادی جائے ،نہ تشریعی سبب جو حرام بن جاتا ہے ۔اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،خدائے متعال بعض امورکی مصلحتوں کی تعلیم حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کودے دی اگرچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے افضل بھی ہوں یاروبیل چرواہے کی زبان سے حضرت یونس علیہ السلام تک کوئی موعظ پہنچادے ۔

اسی طرح ھدھد کی گفتگو جو اس کے لئے بلقیس اورملک سبا کے حالات کا مشاہدہ کرنے کا ثبوت اورحضرت سلیمان کے لئے اس کی نفی کی ہے ،کوئی حرج نہیں ہے ۔اسی طرح چیونٹی کی گفتگو میں دوسری چیونٹیوں کو حضرت سلیمان علیہ السلام اور اس کی فوج کے ذریعہ پائمال ہونے سے بچنے کی خبر دنیااور اس میں غفلت کے ثابت ہونے کی وضاحت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

تشریعی اوراعتباری ولایت

سوال:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامام علیہ السلام کی تشریعی اور اعتباری ولایت کا کیا مقصد ہے، جو آپ نے تفسر''المیزان'' میں آیہ شریفہ :( انّما ولیّکم اللّٰه ) (۵) کے سلسلہ میں فرمایا ہے ۔؟

جواب:اس کامقصد دینی قوانین (اسلامی حکومت) کے سایہ میں لوگوں کی سر پرستی اورامت کا نظم ونسق چلانا ہے ۔

انذار(ڈرانے)کے معنی

سوال:آیہ شریفہ :( مامن دابّة ف الارض ...الّاامم امثالکم )

اورآیہ شریفہ:( الا خلا فیها نذیر ) (۶) کے مطابق کیا حیوانات اورپرندے بھی مکلّف ہیں ؟اس انداز کا مقصود کیا ہے ؟

جواب:انذارکا مقصد عذاب الہٰی سے ڈرانا ہے اورالہٰی دعوت اسی پر مشتمل ہوتی ہے ،لیکن دوسری آیت ،میں موجودقرینہ( وان من قریة ) (۷) کے مطابق حیوانات اورپرندوں پر مشتمل نہیں ہے ۔

سوال:آیہ شریفہ( انّ عباد ) (۸) کی روسے آدم پر شیطان کا وسوسہ کرنا ،آیہ شریفہ(ان اللّٰہ اصطفیٰ آدم ...)(۹) سے ہم آہنگی نہیں رکھتا ہے !اس سلسلہ میں آپ کا جواب کیا ہے ؟

جواب :آیہ شریفہ:

( قلنا اهبطوا منها جمیعا فما یاتینّکم من هدی ) (بقرہ٣٨)

''اورہم نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے اترپڑو پھر اگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے ...''

کے مطابق دین کی تشریع،جنت سے نکلنے کے بعد تھی ۔اورآیہ شریفہ :(ان عبادی لیس لک علیہم سلطٰن...)١میں دین کی تشریع کے بعد دنیا میں بندوں کے حال کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح آدم کا اصطفیٰ ہونابھی آیہ شریفہ :(ثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ وھدیٰ)٢کے مطابق دنیا میں اور دین کی تشریع ہو نے کے بعد تھا اور آدم علیہ السلام پر شیطان کا وسوسہ بہشت میں زمین پر بھیجنے اوردین کی تشریع سے پہلے تھا اور اس میں معصیت کا کوئی ولائی پہلو موجود نہیں تھا بلکہ ایک امر ارشادی کی مخالفت تھی ،لہذاا یات کریمہ میں کوئی منافات نہیں ہے ۔

حروف مقطعات کا مقصود

سوال: سوروں کی ابتدا میں حرو ف مقطعات کے بارے میں تفسر'' المیزان ''میں کچھ نہیں پایا ،مہربانی کرکے فرمائیے کہ یہ موضوع تفسیرکی کس جلد میں ہے اوراصولی طور پر حروف مقطعات کا مقصد کیا ہے ؟

جواب: سوروں کی ابتدامیں موجودہ حروف مقطعات کے بارے میں سورئہ شوریٰ میں بحث کی گئی ہے ،اطمینان واعتماد کے مطابق حروف مقطعات ''رمز''ہیں ۔

قطبین پر نماز گزار اور روزہ دارکافریضہ

سوال: قطبین (قطب شمالی اور قطب جنوبی ) پر نماز اور روزہ کے اوقات کا کیسے تعین کیا جائے گا ؟

جواب: فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ قطبین کے با شندے اپنی عبادت کے اوقات کے لئے علاقہ کے وسط کی پیروی کریں ،چنانچہ اجتماعی امور اور اوقات کو معین کر نے میں اسی رویہ کو معمول جانتے ہیں ۔

شقّ القمر کے بارے میں ایک شبہ کا ازالہ

سوال:کیا قرآن مجید اور روایات کے مطابق معجزئہ ''شق القمر)''کا موضوع اور اس کا ثابت ہونا ،کرئہ چاند کی وسعت کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آستین مبارک کی وسعت سے عدم مناسبت اور منطق کے قواعداور انسانی عقل وادرا ک کی رو سے ظرف کے مظروف سے عدم مطابقت کے پیش نظر اس کا دوٹکڑے ہونا صحیح ہے؟ جواب:''شق القمر''کی داستان ایک قابل اعتماد حقیقت ہے جو قرآن مجید اور روایتوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ،البتہ جو روایتیں اس قصہ کو بیان کرتی ہیں ان میں اختلاف ہے ۔اس لحاظ سے کہ ان روایتوں میں سے ہر ایک خبر واحد ہے اور تنہا ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے ،لہذا ان روایتوں میں سے ہر ایک میںذکر شدہ خصو صیات پر بھروسہ کر کے موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے اور جو کچھ کلی طور پر معلوم ہو تا ہے وہ یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشارہ سے معجزہ کے طور پر چاند کے دوٹکڑے ہو گئے اور یہ وہی امر ہے جس کی طرف قرآن مجید بھی اشارہ فرماتا ہے :

قرآن مجید سورئہ قمر کی ابتدا میں فرماتا ہے :

( اقتربت الساعة وانشقّ القمر ) (قمر١)

''قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ''

یہ ایک خارق عادت کام ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رسالت کے بعض منکرین کی درخواست پر جو آپ کی نبوت کی گواہی کے لئے معجزہ چاہتے تھے ) انجام دیا ہے ۔بدیہی ہے کہ جب ہم نے معجزہ اورغیر معمولی کام کے ممکن ہونے اور اس کے پیغمبر سے انجام پانے کو قبول کیا ،تو ایک خاص معجزہ کے انکارکی، خاص کر قرآن مجید (جو خود ایک معجزہ ہے ) کی تائید کے بعد ،کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

اصولاً عقل کے مطابق بھی غیر معمولی کام کے بارے میں ۔۔جز عدم امکان ۔۔کوئی دلیل نہیں ہے ۔اور ممکن ہے جن عوامل واسباب کو ہم جانتے ہیں ان کے ماورائ بھی کچھ دوسرے اسباب و علل موجود ہوں جو کسی خارق عادت حادثہ کو وجود میں لائیں اور ہم ان اسباب کے بارے میں بے خبر ہوں ۔

بعض معترضین نے کہا ہے : آیہ شریفہ میں اشارہ کئے گئے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مسئلہ در حقیقت ان حوادث کے بارے میں اشارہ ہے جو قیا مت کے دن طبیعی عالم کے تباہ ہونے کے وقت رونما ہوں گے، نہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ چاند کے دوٹکڑے ہونے کے بارے میں ۔لیکن اس احتمال کو بعد والی آیت مسترد کرتی ہے ،کیونکہ خدائے متعال مذکورہ آیت کے بعد فرماتا ہے :

( وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ) (قمر٢)

'' اور یہ کوئی بھی نشان دیکھتے ہیں تومنہ پھیر تے ہیں اور کہتے ہیں یہ مسلسل جادو ہے ''

واضح ہے کہ اگر آیہ شریفہ سے مراد وہی قیامت کے دن کی بربادی ہوتی تو مشرکین کے اغتراض اور اس معجزہ کو سحر کی طرف نسبت دینا معنی نہیں رکھتا ۔

بعض دوسرے معترضین نے کہا ہے :اس آیت کا میں کرئہ چاند کا کرئہ آفتاب سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ آج سائنس اس کی تائید کرتا ہے ۔حقیقت میں یہ قرآن مجید کی کرامتوں میں سے ایک ہے کہ اس واقعہ کے پیدا ہونے کے بارے میں صدیوں قبل خبر دیتا ہے ،لیکن لغت شناسی کے مطابق یہ نظریہ غلط اورخطا ہے ،کیو نکہ کسی جسم کا کسی دوسرے جسم سے جدا ہونا تولد یا مطلق ''انفصال'' کو لغت میں'' اشتقاق ''و ''انفصال ''کہتے ہیں نہ'' انشقاق'' جس کا معنی دوٹکڑے یادوحصے ہونا ہے ۔

بعض معترضین نے کہا ہے : اگر ایسا حادثہ رونما ہوا ہوتا تو غیر اسلامی مورخین نے اسے ضبط کر کے لکھا ہو تا ۔لیکن یہ بات قابل توجہ ہے کہ روایتی تاریخ ہمیشہ وقت کے حکاّم کی مرضی اور ان کے نفع میں لکھی گئی ہے اورہر وہ قصہ اور حادثہ ،جو وقت کے حکاّم کے خلاف ہوتا اسے احتمال اور فراموشی کے پردہ میں رکھا گیا ہے ،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قدیمی تواریخ میں حضرت ابراھیم علیہ السلام وحضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا ،جبکہ دینی نقطہ نظر سے ان حضرات علیہم السلام سے رونما ہوئے معجزات نا قابل انکار ہیں ۔یہ حضرت ابراھیم علیہ السلام ہی تھے جو نمرود کی آگ میں نہ جلے ،حضرت موسی علیہ السلام تھے جنہوں نے عصا ،یدبیضا اور وہ سب معجزے دکھائے ،یہ حضرت عیسی علیہ السلام تھے جو مردوں کو زندہ کرتے تھے اورجب اسلام کی دعوت پیدا ہوئی ،وہ بھی دنیا کی تمام طاقتوں کی مخالف تھی ۔

اس کے علاوہ اس معجزہ کے رونما ہونے کی جگہ یعنی مکہ اور جہاں تاریخ لکھی جاتی تھی یعنی یورپ کے درمیان طلوع وغروب میں گھنٹوں کا تفاوت ہے ۔جو یہ آسمانی حادثہ کم وقت میں مکہ میں رونما ہوا اور مرئی تھا ،دوردراز مغربی ممالک کے افق،جیسے ،روم آتن وغیرہ میں قابل رویت نہیں ہو گا ،چنانچہ ان علاقوں کے آسمانی حوادث مکہ کے علاقہ کے لئے قابل رویت نہیں ہیں ۔

ایک بے بنیاد بات

سوال:کیا ستارئہ زہرہ اتر کر حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے گھر کی چھت پر بیٹھنے کی کوئی دلیل وسندہے ؟

جواب :ستارہ زہرہ کے اترنے اورحضرت علی علیہ السلام کے گھرکی چھت پر بیٹھنے کے سلسلہ میں چند روایتیں نقل ہوئی ہیں ،یہ روایتیں نہ متواتر ہیں اور نہ قطعی الصدور اس لئے علمی لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں ۔

چور کا ہاتھ کاٹنے کا فلسفہ

سوال :چور کاہاتھ کیوں کاٹا جانا چاہئے ؟

جواب :چور کا ہاتھ کاٹنے کا مسئلہ ،جو اسلامی شریعت میںحدود کا جز ہے ،حقیقت کے پیش نظر دوبنیادی مسئلوں کے مطابق قابل تجزیہ ہے :

١۔یہ کہ چور نے جو ایک نامناسب کام انجام دیا ہے اسے اس کی سزاملنی چاہئے ۔

٢۔ یہ کہ یہ سزا اس کا ہاتھ کاٹنے سے انجام پانی چاہئے ۔

پہلا اور چورکی سزا کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی تشریع کے سلسلہ میں دین اسلام تنہا نہیں ہے بلکہ انسان کی زندگی میں۔۔جہاں تک ہمیں اطلاع ہے ـگوناگوںانسانی معاشروں میں (ابتدائی انسانوں کے خاندانوں اور قبائلی وطوائفی حکومتوں سے لے کر ڈکٹیٹرشپ اور جمہوری حکومتوں تک)چور کے لئے کچھ سزائوں کے قائل تھے اور ان پر عمل بھی کرتے تھے اورآج بھی ایسا ہی کیا جارہا ہے ۔

یہ امر مسلّم ہے کہ عالم بشریت میں یہ فیصلہ اس بنیاد پر لیا جاتا ہے کہ حقیقت پسندانہ نگاہ سے اہم ترین اورقیمتی ترین چیزجسے انسان درک کرتا ہے بیشک اس کی زندگی ہے اس سے واجب اور لازم تر فریضہ کو درک نہیں کرتا ہے تاکہ اسی زندگی کی سعادت کا تحفظ کرے ،یعنی اجتماعی ماحول میں او راجتماعی طور پر تلاش وکوشش کر کے اپنی زندگی کے وسائل یعنی مال وثروت کو فراہم کرکے ان سے استفادہ کرے اور حقیقت میں (معاشرہ شناسی کی دقیق نظر میں )اپنی زندگی کی آدھی موجودیت ـجس کے لئے محدود قدر وقیمت کا قائل نہیں ہو سکتا ہے ـ کو دوسرے حصہ کے لئے سرمایہ حاصل کرنے کے لئے صرف کرتا ہے ۔ اوریہ بھی مسلّم ہے کہ ہر چیز کا تحفظ اور اس کی رکھوالی اہمیت کے لحاظ سے خود اس چیز کی قدر وقیمت کے مساوی ہوتی ہے ۔اور جس مال کے فنا ہونے کے بارے میں کسی قسم کی اہمیت نہ ہو تو اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ہے ،اور یہاں پر فیصلہ کر ناچا ہئے کہ انسان کے مال کا محفوظ رہنا کلی طور پر اس کی آدھی عمر کی قدر رکھتا ہے ۔کیو نکہ انسان کی جان کی قیمت اس کی پوری عمر کی قیمت کے برابر ہے۔اسی طرح معاشرہ کے سرمایہ کے ارد گرد کھینچی گئی دیوار کو توڑ نا اور نابود کرنا اس معاشرہ کی نصف زندگی کو نابو دکرنے کے برابر ہے ،چنانچہ ایک معاشرہ کی جانی امنیت کو ختم کرنا اس معاشرے کے تمام افراد کو نابود کرنے کے برابر ہے :

( من قتل نفساً بغیر نفس او فساد ف الارض فکنما قتل النّاس جمیعا ) (مائدہ)

''جو شخص کسی نفس کو ،کسی نفس کے بدلے یاروئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کر ڈالے گا ،اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کر دیا ''

البتہ اس صورت میں جو چور انسانی معاشرہ کی مالی امنیت کو سلب کرتا ہے اسے سخت سزا کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ اس کے نفاذ کا تصوراسے معاشرہ کی مالی ناموس کا پردی چاک کرنے میں رکاوٹ بنے ۔

لیکن دوسرا مسئلہ ،چور کا ہاتھ کاٹنا،جس کا دین مقدس اسلام کے قانون نے حکم دیا ہے ،اس کے قصاص کے بارے میں تشریع کئے گئے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ،سزائوں کے بارے میں ،مجرم کے مظلوم پر وارد کئے گئے صدمہ کو اسی صورت میں مجرم پر وارد کیا جاتا ہے تاکہ اسے اس کے عمل کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے یادوسروں کے لئے عبرت کا سبب بنے ۔البتہ جس جرم کا نتیجہ حقیقت میں دوسروں کی نصف زندگی کو نابود کرنے میں تمام ہو جائے ،اس کی کم وبیش کسی رقم کے جرمانہ یا چند دن اورچند ماہ جیل بھیجے جانے سے تلافی نہیں ہو سکتی ہے ۔اس مطلب کا بہترین گواہ یہ ہے کہ اس قسم کی سزائیں نافذ کرنے کا ـجو مدتوں سے اکثرممالک میں رائج ہیں ـان جرائم کو روکنے کے سلسلہ میں کوئی نسخہ نہیں نکلا ہے ۔

اسلام میں اسی حقیقی محاسبہ کے مطابق ،چور کا ایک ہاتھ کاٹا جاتا ہے ،جو تقریباًاس کی زندگی کی تلاش کا نصف کے برابر ہو تا ہے ۔اس بیان سے ہمارے بعض روشنفکروں کے اس سلسلہ میں کئے جانے والے اعتراضات کا بے بنیاد ہونا واضح ہوگا (افسوس ہے کہ جس طرح ہمارے معاشرہ میں چوری نے ایک ُمسری والی بیماری کی طرح مالی امنیت کو مکمل طور پر نابود کرکے رکھ دیا ہے ،اسی طرح اس بلا نے ہماری فکری ماحول میں بھی جڑ پکڑ لیاہے اورصحیح اور سالم فکریں بھی آلودہ ہو رہی ہیں۔

یہ حضرات کہتے ہیں :''ایک انسان کو اپنے خداداد ہاتھ سے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے حالات کی بہبودی کے لئے کو شش کرنی چاہئے تاکہ اپنی زندگی کی مشکلات کو اپنے توانا ہاتھوں سے حل کرے ،اقتصادی دبائو کے نتیجہ میں انجام دئے گئے ایک اشتباہ کے نتیجہ میں اس کا ہاتھ کاٹ کر کیوں اسے عمر بھر کے لئے بیچارہ کردیاجائے؟''

اس اعتراض کی حقیقت اصل جرم کو قبول کرنا اور رحم کی حس کے پیدا ہونے اور انسان دوستی کی بنا پر چارہ جوئی کرناہے ۔دوسرے الفاظ میں ،صحیح ہے کہ ایک چور اپنے برے کام کی وجہ سے ایک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ،لیکن اس کے پیش نظر کہ غالباًاقتصادی دبائو ،ایک شریف انسان کو یہ جرم انجام دینے پر مجبور کرتا ہے ،ترحمّ اور انسان دوستی اس میں روکاوٹ بنتی ہے کہ اس کاہاتھ کاٹ کر اسے ہمیشہ کے لئے بیچارہ بنا دیاجائے ۔

اس منطق کا غلط ہونا صاف ظاہر ہے ،کیونکہ انفرادی حقوق کے حکم میں جذبات کی رعایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اسلام بھی (جیسا کہ قرآن مجید کی آیا ت سے واضح ہے )انفرادی حقوق جیسے قصاص کے اقسام میں اور مالی حقوق میں صاحبا ن حقوق سے تحریک اورترغیب سے درخواست کرتا ہے کہ اپنے حقوق سے چشم پوشی کریں اور اپنے ہم نوع بھائیوں کو مشکل اور تکلیف میں نہ ڈالیں ۔

لیکن اجتماعی حقوق کے سلسلہ میں ایک مجرم کے بارے میں انسان دوستی کے جذبات سے کام لینااور اس کے جرم کی سزاسے چشم پو شی کرنا حقیقت میں ایک

معاشرہ کے ساتھ بالکل بے رحمی سے ظلم کرنے کے مترادف ہے اور ایک چور کو آزاد چھوڑنا اور ایک مجرم کی آبرو کا تحفظ کرنا لاکھوں بے گنا ہوں پر مصیبت ڈھانے اور ان کے احترام کے پردہ کو چاک کرنے کے برابر ہے ۔

ترحمّ برپلنگ تیزدندان

ستمکاری بود برگوسفندان

''تیز دانتوں والے خونخوارچیتے پر رحم کرنا بھیڑوں پر ظلم کرنا ہے ۔''

بہر حال،مسئلہ یہ ہے کہ ایک مجرم کی سزا کے لئے وضع ہونے والے حکم اور قانون کی دفعہ میں مجر م کے معاشرہ کی حالت کو مد نظر رکھنا چاہئے اور معاشرہ کے پیکر پر لگے زخم کی مرہم پٹی باندھنی چاہئے نہ یہ کہ صرف انفرادی تربیت کا مسئلہ جیسے چوریا صاحب مال کو مد نظر رکھا جائے ۔

یہاں پر ایک دوسرے اعتراض کا جواب بھی واضح ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ :دال روٹی کے لئے محتاج شخص جیسے فردکو،فقر وبدبختی ایک لوٹا چرانے پر مجبور کرتی ہے ،کا اس چور سے واضح فرق ہے جو چوری اور جرم کو اپنا پیشہ بناکرایک معاشرہ کو مصیبت میں ڈال کر ہر روز ایک بے گناہ خاندان کو بدبختی اور مصیبت سے دوچار کرتا ہے ۔البتہ ان دو مواقع میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ،جبکہ اسلام نے دونوں مواقع کو ایک دوسرے کے معادل قرار دیا ہے اور ان کے درمیان سزا کی کیفیت میں کسی قسم کی

فرق کا قائل نہیں ہوا ہے !

اس اعتراض کا جواب گزشتہ بحث اور اس کے ساتھ ایک مختصر مقدمہ کی یاد دہانی سے واضح ہو جاتا ہے ،اور وہ یہ ہے کہ اسلام میں جرم اورخلاف ورزی کے طور پر پہچانے گئے کام اور ان کے بارے میں سزا اورحد واجب کی گئی ہے، جرم اورخلاف ورزی کو انجام دینے کے صرف آخری مرتبہ پر ،حد جاری کی جاتی ہے ،مثلاً زنا کرنے والے پر ''حد''کے عنوان سے سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور اگر اس نے اس عمل کو کئی مرتبہ انجام دیا ہو اور اس پر کوئی حد جاری نہ ہوئی ہو اور اس کے بعد ثابت ہو جائے تو ایک حد (سو کوڑے )سے زیادہ جاری نہیں کی جاتی ہے ۔

اس مقدمہ کے تذکر اورگزشتہ بیان کے پیش نظر معلوم ہو تا ہے کہ چوری کی حد آخری چوری کے مقابلہ میں ہے جواسلامی عدالت میں ثابت ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں چھوٹی اوربڑی چوری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور چوری کو وجود میں لانے کے عوامل اورشرائط سے کوئی ربط نہیں ہے اور ایک کہنہ مشق چوراور ایک مرغی چور یا لوٹا چرانے والے کے عمل میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کہ انہوں نے معاشرہ کے ارکان میں سے ایک رکن کو صدمہ پہنچایا ہے ۔ معترضین کہتے ہیں :ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے معاشرہ کے لئے باعث زحمت بنانا ملک کی پیداوار بڑھانے والے ایک عامل کو نقصان پہنچانا کس اصول اور منطق کے مطابق صحیح ہے ۔؟

ان حضرات سے کہنا چاہئے کہ چور کا ہاتھ کاٹنا انگوٹھے کے بغیر اس کی چار انگلیاں کاٹنا ہے ۔جس ملک اور معاشرہ میں عام طور پر پورے اعضاء اور ناقص اعضاء والے گوناگون افراد موجود ہوں اور ہزاروں قسم کی احتیا جات پید ا ہوتی ہوں ،ایک ایسے فرد کے لئے کام کر نا مشکل نہیں ہو گا جس کے ایک ہاتھ کی صرف چار انگلیاں نہ ہوں اور وہ معاشرہ کے لئے ایسا بوجھ نہیں بن سکتا ہے کہ ملک کی پیداوار پر اثر ڈالنے اوراسے معطل اورسست کرنے کا سبب بن جائے ،اسی لئے دوسری بار چوری کی حد دوسرا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ پہلی مرتبہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اگر پھر سے چوری کا مرتکب ہوجائے تو چورکا بایاں پائوں کاٹا جاناچاہئے ۔

اگر ہم فرض کریں کہ ایک یا چند افرادکے ہاتھ کاٹے جانے سے واقعاًمعاشرہ کی مشکلات کے بوجھ کو بڑھاوامل کر ملک کے اقتصاد کے پہیئے کو سست کرنے کا سبب بنتا ہے ،توکیااس غیر محسوس اور ناقابل اہمیت بوجھ کا اضافہ ملک کی اقتصادی سلامتی کی حفاظت کی نسبت آسان ترنہیں ہے کہ اقتصادی سلامتی کی بنیاد کو نابود کر کے ایک زندہ معاشرہ کو نیم جان بنادے ؟!

کتنی مضحکہ خیز منطق ہے کہ اگر سزا کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے تو وہ معاشرہ کے لئے بوجھ بن سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ نہ چھیڑا جائے اور اسے اپنے پیشہ کو جاری رکھنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے یااسے زندان میں ڈال کر اس کی زندگی کی ضروریات کو پورا کیا جائے ،تو وہ معاشرہ کے لئے بوجھ نہیں ہوگا!

کیا تین کروڑآبادی والے ہمارے ملک میں موجودہ حالات کے پیش نظر چور اورجیب کترے معاشرہ پر بوجھ نہیں ہیں ؟باوجوداس کے کہ اتفاقاًاہم اور غیر اہم چوری کا اقدام کرنے والے افراد کی تعداد اندازہ سے باہر ہے ،اس برے کام کو پیشہ کے طورپر انجام دینے والے چوروں اورجیب کتروں کی تعداد کئی ہزارسے گزر چکی ہے ۔

ان میں سے جو آزاد ہیں اوربے باکی سے اپنے شغل کو انجام دیتے ہیں ،ان کی روز مرہ زندگی کی ضروریات دوسروں کی کوششوں اورمحنتوں کے نتیجہ سے ادارہ اور پوری ہوتی ہیں ۔اس کے علاوہ چوری کے نتیجہ میں رونما ہونے والے روزمرہ قتل اور جانی نقصانات کے حوادث کی خبروں کو ہم روز ناموں میں پڑھتے ہیں ۔

ان میں سے جو افراد حکومت کے دام میں پھنس جاتے ہیں ،اس کے علاوہ کہ ان

مجرموں کے لئے لوگوں کی محنتوں سے حاصل کی گئی بڑی رقومات خرچ ہوتی ہیں ،اور یہ لوگ حبس کے دوران بڑے آرام سے ملت کی محنتوں کے نتیجہ میں حاصل کی گئی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں ،ضمناًجیل کاٹنے کی مدت کے دوران مختلف قسم کے چوروں سے آشنا ہو کر چوری کی ٹریننگ بھی حاصل کرتے ہیں !

معترضین کہتے ہیں:اگر یہ سزا دوسروں کی عبرت کے لئے ہے تو امریکہ میں ماہر نفسیات کے دانشوروں نے ،مجرمانہ فلمیں بناکر سنیمائوں میں ان کی نمائش کی ،شاید اس طرح لوگ عبرت حاصل کریں ،لیکن نہ یہ کہ لوگوں نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی بلکہ جرم کی ٹریننگ بھی حاصل کرکے اسی رات کو اسی شہر میں اس فلم کے مشابہ جرائم کے مرتکب ہوئے اور آج تک کھلے میدانوں میں اتنے مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے سے کوئی عبرت حاصل نہیں ہوئی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنیمائوں میں مجرمانہ اور عاشقانہ فلموں کی نما ئش اور اسی طرح نشریات ومطبوعات میں مجرمانہ اور عاشقانہ داستانیں شائع ہونا،جرائم اور فساد کے تبلیغاتی عوامل ہیں اور یہ چیزیں قضایا کو ایسے آراستہ کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ حق سے بے خبر رہ کر اپنی زندگی کی سعادت وخوش قسمتی کو عشق بازی اور بے راہ روی میں پاتا ہے ۔

لیکن ایسی حالت میں بھی ایک مفکر کا ذہن اور ایک با ضمیر انسان کا ضمیر ہرگز یہ قبول نہیں کرتا ہے کہ صحیح طور پر انجام پانے والی تعلیم وتربیت کا کوئی اثر نہیں ہوگا یا عام سزائوں کا نتیجہ عبرت بن کر کچھ لوگوں کوراہ راست قبول کرنے پر مجبور نہ کرے ۔

البتہ اجتماعی اسباب وعوامل بھی طبیعی اسباب وعوامل کے مانندہمیشہ اپنے نتیجہ و اثر کو اکثر صورت میں ظاہر کرتے ہیں نہ دائمی صورت میں ،اور جو ایک موثر قانونی سزا میں مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ جرائم کو کم کر کے استثناء کی حد تک لایا جائے نہ یہ کہ ان کی ایسی بیخ کنی کرے کہ ہرگزواقع نہ ہوں۔

__________________

١۔ ''کوئی قوم ایسی نہیںہے جس پرکوئی ڈرانے والانہیں گزراہو''(فاطر٢٤)

۲۔''مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوتی ہے جوآپ کوبھی معلوم نہیںہے''(نمل٢٢)

۳۔''اورانھیںاس کا شعوربھی نہ ہو''(نمل١٨)

۴۔(کہف ٨٢)

۵۔انعام ٣٨ ٢۔فاطر٢٤

۶۔اسرائ٥٨ ٤۔اسرائ٦٥

۷۔آل عمران ٣٣

۸۔حجر٤٢

۹۔طہ ١٢٢