اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 8460
ڈاؤنلوڈ: 635

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8460 / ڈاؤنلوڈ: 635
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

دسواں حصہ:

قرآنی علوم

حروف مقطعات کس لئے ہیں ٰ؟

سوال:خدمت استاد ودانشورمحترم حجة الاسلام علامہ سید محمد حسین طباطبائی!

قرآن مجید ایک ایسی کتا ب ہے ،جسے خدائے متعال نے مختلف زمانوں اور معین اوقات میں اپنے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تدریجاًوحی فرمائی ہے ۔ابن سیرین کے عقیدہ کے مطابق اس کی کل آیات کی تعداد''٦٢١٦''اور ابن مسعود کے مطابق''٦٢١٨''آیات ہے۔اور اس پر ہر ایک کا اتفاق نظر ہے کہ قرآن مجید کی سورتوں کی کل تعداد ١١٤ ہے ۔قرآن مجید کی ٢٨ سورتیں حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں ۔مانند:الم،الر ،المص ،حم،طس طسم،کھیعص،یس ،ص،ق اور ن وغیرہ ۔

اب سوال یہ ہے کہ ان حروف کا معنی کیا ہے ؟اور تین مدنی سورتیں اور٢٥ مکی سورتیں کیوں ان حروف سے شروع ہوئی ہیں؟اور قرآن مجید کی تمام سورتیں ان حروف سے کیوں شروع نہیں ہوئی ہیں ؟

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب جو قرآن مجید کوسن کراسے حفظ کرتے تھے،جواسے سن کرلکھتے تھے اورجو سن کر اس کے اوراق کی حفاظت کرتے تھے ،کیا وہ ان حروف کے معنی کو سمجھتے تھے ،جبکہ قرآ ن مجید عربوں کی زبان یعنی عربی میں نازل ہو اہے ۔؟

اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی اصحاب ان حروف کے معنی کو سمجھتے تھے تو کیوں ان کی تفسیر میں انہوں نے اختلاف کرکے کسی قابل قبول مطلب پر اتفاق نہیں کیا ہے ؟!چنانچہ اس سلسلہ میں ان کے عقائد میں اختلاف تفسیر کی کتابوں میں درج ہے ۔

بہر حال ،ان حروف کا نازل ہونا فضول اور بے فائدہ نہیں تھا ،ان کے ضرور کچھ معنی ہوں گے ،پس ان کے حقیقی معنی کیا ہیں ؟کیا یہ رمزی حروف ہیں یادر اصل کلمات تھے جو خلاصہ ہوئے ہیں ؟ یا کلام کے آغاز میںسننے والوں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے ہیں یا خاص اصطلاحات ہیں ؟

میں نے جس قدر روایتوں اور اصحاب کے اقوال پر سنجیدگی سے غور کیا آج تک میرے لئے اس موضوع کے بارے میں قرآن مجید کا مقصود واضح نہیں ہو ا ہے ،مفسرین کے بیانات ،مستشرقین کی تفسیروں اور عرفا کے اقوال نے بھی اس راز کو فاش کر نے میں کوئی مدد نہیں کی ۔

لیکن چونکہ دانشوروں کے درمیان اس موضوع پر حیرت انگیز حدتک اختلافات پائے جاتے ہیں اس لئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس سلسلہ میں آپ کے علمی عقیدہ کو معلوم کروں ،شایداس میں کوئی قابل قبول مطلب کو پاکر اپنے شک اورغلط فہمی کو دورکرسکوں ۔

اس مشکل کو کشف کرکے اس معماّکو حل کرنے کے سبب راہنمائی کی فضیلت حاصل کرنا اورحقائق کو پہچنواناآپ کا حق ہے ،نہ یہ کہ آپ یہ جواب دیں :''یہ حروف رموزات میں سے رمزی اسرار کے حروف ہیں اورخدا کے علاوہ کوئی ان کے معنی سے واقف نہیں ہے ''کیونکہ ہم اس امر پر مکلّف ہیں کہ تمام آیات کے معنی کو سمجھ لیں اورخدا نے بھی اسے عربی زبان میں بشر کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے ۔

آخر میں،اطمینان بخش جواب کا انتظار کرتے ہوئے اپنے بہترین درودوسلام آپ کی خد مت میں پیش کرتا ہوں اورخدائے متعال سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کو محفوظ رکھے تاکہ آپ مسلمانوں کے لئے علم وشرف کے ذخیرہ ہوں۔(حلب ،٢٨صفر ١٣٧٩ھ مطابق ماہ ایلول١٩٥٩،ڈاکٹر عبدالرحمن الکیالی

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخدمت استاد جناب ڈاکٹر عبد الرحمن الکیالی

آپ کی خدمت میں دردوسلام پیش کرنے کے ساتھ جواب میں تاخیر کے لئے معذرت چاہتا ہوں ،کیونکہ جس وقت آپ کاخط قم پہنچا تھا ،میں موسم گرما گزار نے کے لئے دماوند کے اطراف میں چلاگیا تھا ۔چونکہ قم اور دماوند کے درمیان کافی فاصلہ ہے ،اس لئے دستی خطوط دمجھ تک پہنچے تھے ،لہذا تاخیر سے آپ کے خط کی زیارت کرسکا ۔

تفسیرمیں ہماری روش اورطریقہ کار یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور ان کے معانی کو سمجھنے میں ہم قرآن مجید کے علاوہ کسی اور چیز سے استفاد ہ نہیں کرتے ہیں اور مشکل آیات کا صرف قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے استفادہ کرتے ہیں لیکن اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی متواترخبر ہم تک پہنچی ہو تو وہ روایت اور صداقت کی نشانیاں رکھنے والی روایتیں بھی ہمارے لئے حجت ہیں اور تفسیر میں ان سے بھی استناد کرتے ہیں ،کیونکہ خود قرآن مجید کی نص کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودا اور دستورات حجت اور واجب العمل ہیں ۔

خاندان نبوت واہل بیت اطہار علیہم السلام کی احادیث بھی واجب الاطاعت اورحجت ہیں اور ہم ان سے بھی مدد لیتے ہیں ۔اس موضوع میں ہماری سند حدیث ثقلین ہے جو تواتر کی حد میں ہم تک پہنچی ہے اور اس کے علاوہ اوربھی احادیث موجود ہیں ۔اس مطلب کو ہم نے تفسیر المیزان کی پہلی جلد کے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور تیسری جلد میں محکم اور متشابہ کی بحث پر مکمل طور پر روشنی ڈالی ہے ۔

لیکن اصحاب یا تابعین یامفسرین سے جو مطالب ہم تک پہنچے ہیں انھیں ہم حجت نہیں جانتے اوران سے استناد نہیں کرتے ہیں (مگر یہ کہ کوئی قول ادلہ ّکے موافق ہو) کیونکہ ان کے اقوال اجتہاد کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اور وہ بھی خود ا ن کے لئے حجت ہونے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے ہیں ۔ہماری نظر میں ان کا اجتہاد اورغیر یقینی روایتیں مساوی ہیں اور دونوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔ہم نے تفسیر میں ،اس روش اور طریقہ کار کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام سے نقل ہوئی بہت سی روایتوں سے استفادہ کیا ہے ، جیسے :(ان القرآن یُصدّق بعضه بعضا (۲) )''قرآن مجید کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی تصدیق کرتی ہیں ،''(ینطق بعضه ببعض (۳) )قرآن مجید کی بعض آیات جب دوسری آیت کے ساتھ قرارپاتی ہیں تو اس کے معنی کو آشکارکرتی ہیں اور(یشهد بعضه علی بعض (۴) )آیتوں کا ایک حصہ دوسرے حصوں ے لئے گواہ ہوتا ہے ۔

یہ طریقہ کار ،ایک صحیح شیوہ اورپسندیدہ طریقہ ہے جو روایتوں کی برکت سے ہمیں ملا ہے ۔بیشک قرآ ن مجید کی آیتیں کلام کا نظم اور اسلوب رکھتی ہیں اوردوسرے کلمات کے مانند قابل فہم ہونے کا ایک ظہور رکھتی ہیں ،لیکن اس کے باوجود کہ ہم اپنی فہم میں آیات کے مقاصد اورمعنی سے استفادہ کرتے ہیں ،حروف مقطعات کو ہم نے کلام کے عام اسلوب کے موافق نہیں پایا اور ان کے بارے میں واضح معنی درک نہیں کرسکے اور الم ، الر،طہ ،یس جیسے حروف ہمارے لئے مجہول ہیں ۔

یہاں پر ہم یہ نتیجہ اخذکرتے ہیں کہ حروف مقطعات دوسری آیتوں کے مانند نہیں ہیں کہ ان کے معنی کو سمجھا نے کے لئے یہ عربی ز بان کی عام روش میں نازل ہوئے ہوں ۔

اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ان حروف کا وجود ،لغو اور بے فائدہ ہے ، کیونکہ خدا کا کلام لغو سے منزّہ اور پاک ہے ،قرآ ن مجید اس کی تو صیف میں فرماتا ہے :( انّه لقول فصل٭وماهوبالهزل ) (طارق١٣۔١٤)

''بیشک یہ قول فیصل ہے ۔اور مزاق نہیں ہے ''

اس بیان سے واضح ہوا کہ قرآن مجید کی بعض سورتوں کا حروف مقطعات سے شروع ہونے میں ضرورکوئی سبب ہے اور یہ حروف ایک خاص مقصد کے لئے ذکر ہوئے ہیں۔لیکن اصحاب ،تابعین اور مفسرین کی طرف سے جو اسباب ان کے بارے میں بیان کئے گئے ہیں ،وہ حق و حقیقت کے ایک متلاشی کو مطمئن نہیں کرتے اور اسی لئے ہم نے اپنی تفسیر میں اس بحث کو سورئہ ''حم عسق'' تک تاخیر میں ڈال دیا ،تاکہ خدائے متعال تب تک اس راز سے پردہ اٹھا کر ہمیں ایک اطمینان بخش صورت عطا کرے ،البتہ اگر موت نے فرصت دی تو ہم یہ توفیق حاصل کریں گے ۔

لیکن دوسری سورتوں میں مذکورہ سورہ کو ترجیح دینے کا سبب یہ ہے کہ اس سورہ میں خدا کی وحی اور اس کے الہام کی کیفیت بیان ہوئی ہے اوریہ ہماری بحث سے متناسب ہے ۔

اب تک اس مشکل کو حل کرنے میں ہمیں اس قدر توفیق حاصل ہوئی ہے کہ اس قسم کی سورتوں میں بیان کئے گئے مضامین ،معنی اور مقصد کے ساتھ ان حروف مقطعات کا ایک مخصوص رابطہ ہے ؛ مثلاًہم حروف''الم''سے شروع ہونے والی سورتوں میں ایک خاص رابطہ پاتے ہیں ،اس کے باوجود کہ ان میں سے بعض مکی ہوں اور بعض مدنی ہوں ۔اسی طرح ۔''الر''یا'' حم ''و''طس'' کے حروف سے آغاز ہونے والی سورتوں میں ایک ایسا رابطہ پایا جاتا ہے جو ان کے علاوہ کہیں موجود نہیں ہے ۔پھر ہم سورہ اعراف ـجو''لمص''سے شروع ہوئی ہے ـمیں وہی غرض اور معنوی مناسبت پاتے ہیں جو سورہ''الم'' اور سورہ ''ص'' میں موجود ہے ۔

اس سے ہم اجمالی طورپر سمجھتے ہیں کہ حروف مقطعات کا قرآن مجید کی سورتوں کے معانی اور مقاصد کے ساتھ ایک قسم کا رابطہ ہے ،لیکن اس رابطہ کی کیفیت اور تفصیلات ابھی اچھی طرح سے واضح نہیں ہوئی ہیں ،لیکن امید ہے کہ خدائے متعال اس حقیقت کو ہمارے لئے واضح فرما کر ہماری راہنمائی فرمائے گا۔

آخرمیں اپنی طرف سے آپ کی خدمت میں بہترین دردوسلام بھیجتا ہوں اورخدائے متعال سے آپ کے لئے آرام وآسائش اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں ۔

٢١ربیع الاول١٣٨٩ھ محمد حسین طباطبائی

__________________

١۔اس بحث کو حضرت آیت اللہ طباطبائی نے حلب کے استاد محترم عبدالرحمن الکیالی کے قرآن مجید کے حروف مقطعات کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں بیان فرمایا ہے ۔

۲۔احتجاج٣٨٩١ ، ۳و۴۔ بحار الانوار٢٢٨٨

قرآن مجید کی بے احترامی

سوال: قرآن مجید کے بعض ـ اغلب ایران میں منتشر ہونے والے ـ نسخوں میں ناشرین کی طرف سے (طلسم ) کے نام پر کچھ (شکلیں) کلام اللہ کے ساتھ ضمیمہ کر کے چھاپ کر بیچی جاتی ہیں ۔کیاان ''طلسمات''اور شکلوں کے بارے میں کوئی صحیح سند موجود ہے یانہیں ؟

جواب: ان ''شکلوں''اور''طلسمات''کے بارے میں کوئی صحیح سند نہیں ہے اوردینی نقطہ نظر سے ان کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ،خواہ یہ قرآن مجید کے ساتھ شائع کی جائیں یا الگ سے۔

سوال:ان'' شکلوں ''اور''طلسما ت ''کے بارے میں عجیب وغریب چیزیں لکھتے ہیں اور ان سب چیزوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے نسبت دیتے ہیں ،ان کے آثار اور فوائد کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب:ان شکلوں میں نظر ڈالنے کے سلسلہ میں جن فوائد کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل کیا گیا ہے ان کا ایک حصہ جعلی اور باطل ہے ،جیسے ''مہر نبوت ''پر نظر ڈالنا وغیرہ...اور اس کا دوسرا حصہ فاقد سند ہے ۔

سوال:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی تصویریں بنا نا ـ جیسا کہ مشاہدہ کیا جارہا ہے ـاور انھیں قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا اوراسی طرح مذکورہ شکلوں اورطلمسات اور''محرم نامہ'' و''نوروز نامہ'' کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے ؟

جواب: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی خیالی تصویر بنانا اور انھیں قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا اور اسی طرح توہمات پر مشتمل روایات کے ایک سلسلہ کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا ،جیسے ،اگر کوئی'' مہر نبوت'' نامی شکل پر نگاہ کرے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں حج کے ثواب اس کے نام پر لکھے جائیں گے !یا اگر فلاں شکل پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کے تمام گناہ معاف کئے جائیں گے اور امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت اس کے ہاتھ سونپی جائے گی !یہ سب چیزیں قطعاًقرآن مجید کی بے احترامی کا سبب اور حرام ہیں ۔

اسی طرح شکلوں کے ایک سلسلہ جو طلسم وغیرہ کے نام پر قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا مذکورہ بیان کے مطابق کسی قسم کی سند نہیں رکھتے اور بے احترامی کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ۔

بنیادی طور پر ایک مسلمان کو اس بدیہی نکتہ کو فر اموش نہیں کرنا چاہئے یا اس امر سے غفلت نہیں کرنی چاہئے کہ یہ مقدس آسمانی کتاب جسے کلام اللہ کہا جاتا ہے ،اسلام کے اصلی اور فرعی معارف کی تنہا پناہ گاہ ،نبوت کی زندہ سند اور دنیا کے ساٹھ(۱) کروڑ مسلمانوں کی آبرو کا سبب ہے ۔

اس نکتہ کے پیش نظر ایک مسلمان کا دینی ضمیر ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ کسی اور کتاب کو ـہر چند کہ وہ کتاب حقیقی مطالب پرہی مشتمل کیوں نہ ہو ـ قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرکے اسے اس کے برابرقرار دے کر معاشرہ میں شائع کرے ،''محرم ناموں ''،''نوروز ناموں ''اور ''کسوف وخسوف کے احکام '' جنھیں آج کل کی دنیا میں مذاق کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اوران سب سے بدتر توہمات پر مشتمل شکلوں ،نقشوں اور خیالی تصویروں کی بات ہی نہیں !ان چیزوں کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا، کلام اللہ کی شان اور حقیقت سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔

جو ناشرین محترم اولیائے دین کی تاریخ،مذہبی عقائد ،تجوید اور قرائت کی کتا بوں کو قرآن مجید کے ساتھ شائع کرنا چاہتے ہیں ،انھیں چاہئے کہ ان کتا بوں کو الگ سے شائع اورجلد سازی کر کے قرآن مجید کے ہمراہ قارئین کی خدمت میں ارسال کریں ۔

محمد حسین طباطبائی

قم ۔جمادی الثانی ١٣٨٥ھ

_________________

١۔علامہ طباطبائی کایہ بیان تقریباً٤٧ سال قبل کاہے ۔(مترجم )