اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 8466
ڈاؤنلوڈ: 637

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8466 / ڈاؤنلوڈ: 637
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

اسلام میں تعلیم وتربیت کی بنیاد

اسی اصول پر کہ ہر نوع کی مکمل تر بیت اس نوع کی امتیازات اور مشخصات کی پر ورش سے انجام پانی چاہئے ،اسلام نے اپنی تعلیم وتربیت کی بنیاد کو جذبات و احساسات کے بجائے ''تعقل'' کے اصول پر استوار کیا ہے ۔اسی لئے اسلام میں دین کی دعوت، مقدس عقائد کے ایک سلسلہ ،اعلی اخلاق اور عملی قوانین کی طرف ہے،فطری انسان اپنی،بے لاگ اور توہمات وخرافات سے خالی اپنی خداداد عقل سے، اسی کی حقیقت اور صحیح ہونے کی تائید کرتا ہے ۔

فطری انسان کی قوّت فہم

فطری انسان اپنی خداداد قدرت سے سمجھتا ہے کہ یہ عظیم اور وسیع کائنات ایٹم جیسے سب سے چھو ٹے ذرّات سے لے کر عظیم کہکشا نوں تک ،ایک حیرت انگیز نظام اور اپنے دقیق ترین قوانین کے تحت خدائے واحد کی طرف پلٹتی ہے اور اس کائنات کی پیدائش اور اس کی پیدائش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے آثار ،خاصیتیں اور ان کی بے شمارسر گرمیاں سب کی سب خدائے متعال کی مخلوق ہیں ۔

فطری انسان سمجھتا ہے کہ کائنات ، ان تمام پرا کندہ اور منتشر اجزاء کے باوجود ایک عظیم اکائی کو تشکیل دیتی ہے ،جس میں تمام اجزاء ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور تمام چیزیں (قطعی طور پر)دوسری تمام چیزوں میں دخل دیتی ہیں اور ان کے درمیان مکمل ہم بستگی ہماری فکر کے مطابق ہے ۔

عالم بشریت ـجو کائنات کا ایک چھو ٹا جز اوراس بحربیکراں کا ایک معمو لی قطرہ ہے ـایک ایسا مظہر ہے ،جس کی تخلیق میں پوری کائنات کا رول ہے اور حقیقت میں پوری کائنات انکی بناوٹ خالق کائنات کے ارادہ کی تخلیق ہے ۔

چنانچہ انسان خالق کائنات کی مخلوق ہے اور خالق کائنات کی رہنمائی و تربیت کے سایہ میں زندگی بسر کرتا ہے ،یہ خالق کائنات ہی ہے ،جس نے بے انتہا عوامل کو بروئے کار لا کر انسان کو اس صورت میں پیدا کیا ہے ۔اور یہ وہی پر وردگار ہے جس نے انسان کو خاص اندرونی او ربیرونی قوتوں اور وسائل سے مسلح کیا ہے اور یہ وہی ہے جو انسان کو گونا گوں وسائل ،قوتوں ،جذبات، عقل اور آخر کار شعور وارادہ کے ذریعہ اس کی حقیقی سعادت کی ضمانت دینے والے مقاصد کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔

حقیقت میں انسان ایک با شعوراور با ارادہ مخلوق ہے ، جو نیک وبد اور نفع ونقصا ن میں تمیز کر سکتا ہے ،نتیجہ کے طور پر یہ ''فاعل مختار'' ہے ، لیکن اس نکتہ سے غافل نہیں رہنا چاہئے کہ کائنات کی خلقت خالق کائنات کا ارادہ ہے ،جس نے یہ سب نقش ونگارانسان کے اندرا ور باہر کھینچ لئے ہیں اور اسے ایک صاحب اختیار مطہر کے طور پر خلق کرکے آزاد بنا دیا ہے ۔

بیشک ان ہی افکار کے پیش نظرمادی انسان عقل وشعور کے ذریعہ سمجھتا ہے کہ اس کی سعادت و خوشبختی ،دوسرے الفاظ میں اس کی زندگی کا حقیقی مقصد، وہی منزل ہے ،جسے اس کو پیدا کرنے والے خالق کائنات نے اس کے لئے تشخیص دی ہے اور اسے خلقت کے وسائل کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہ مقصد بھی وہی چیز ہے جسے خدائے واحد اور کائنات وانسان کے خالق نے اس کے لئے مصلحت سمجھی ہے ۔(غور کیا جائے)

ان تمہیدات کے بعد مادی انسان کو فیصلہ کرناہو گا کہ زندگی کی راہ میں تنہا خوشبختی اور سعادت اسی میں ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی خلقت کی حالت کو مدنظررکھتے ہوئے اپنے آ پ کو کائنا ت کے خالق حقیقی یعنی خدائے متعال کی حکو مت کے تحت جان لے اور اس حالت سے ہر گز غفلت نہ کرے اور ہر حرکت وآرام اور ہر سرگرمی کے مقابلہ میں خلقت کی کتاب سے واجب العمل احکام کو پڑھ کرانھیں وقت پر نافذ کرے۔

مختصریہ کہ اس کتاب کے بے شمار احکام یہ ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں خدائے یکتا کے علاوہ کسی کے سامنے خضوع اور اپنے آپ کو حقیر نہ بنائے اور انسانی جذبات و خواہشات کے تقاضوں کو عقل کی تائید کی شرط پر انجام دے ۔

ثابت اور متغیرّ قوانین

انسان کی نظر میں احکام و قوانین کی صورت میں مجسم ہونے والے تقاضے دو مختلف حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں :

١۔انسان کے حیاتی منافع کا تحفظ کرنے والے احکام و ضوابط(اس لحاظ سے کہ وہ انسان ہے اورہر زمان ومکان میں جن حالات کے ساتھ بھی اجتماعی صورت میں زندگی بسر کرتا ہے ۔) ہر عقائد وقوانین کے ایک حصہ کے مانند جو انسان کی عبودیت اور خضوع کو اس کے پروردگار کی نسبت (جس میں کسی قسم کا تغیر یا زوال ممکن نہیں ہے )مجسم کرتا ہے ۔اور قوانین کے ان کلیّات کے مانند جن کے بارے میں انسان اپنی اجتماعی زندگی کے اصول، جیسے کھانا،گھر ،ازدواج اوردفاع کے سلسلہ میں ان کا نیاز مند ہے۔

٢۔وہ احکام اور قوانین جو عارضی ،مقامی یا دوسری خصوصیت رکھتے ہوں اور زندگی کے طورطریقوں میں اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں البتہ یہ حصہ، تہذیب و تمدن کی تر قی ، معاشروں کی صورت میں تغیر و تبدیلی رونما ہونے اور نئی اور پرانی روشوں کے وجود میں آنے اور نابود ہونے کے پیش نظر قابل تغیر ہے ۔

مثال کے طور پر ،انسان ایک زمانہ میں پیدل اور گھو ڑے ،گدھے اور خچر پر سفر کرکے ہر راستے کو طے کرکے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جاتاتھا اور سادہ راستوں کے علاوہ اسے کسی قسم کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ،جبکہ موجودہ زمانہ کے وسیلے ہزاروں باریک اور پیچیدہ شہری ،بیابانی ،سمندری اور ہوائی قوانین کے متقاضی ہیں ۔

ابتدائی انسان ،جو سادہ زندگی بسر کرتا تھا اور اس کا سرو کار تقریباً ابتدائی چیزوں اور سادہ قوانین سے تھا ،جن سے وہ اپنی ضرورت ،جیسے خوراک ،لباس، گھر اور جنسی خواہشات کو پورا کرتا تھا ،اگر چہ وہ اپنا پورا وقت کم نتیجہ اور پر محنت کام میں صرف کرتا تھا ،لیکن آج تیز رفتار طریقہ پر اپنی زندگی کی راہ کو طے کرتا ہے اور کام کی عجیب کثرت اور فشردگی کی وجہ سے وہ کام کو مختلف اور خصوصی شعبوں میں تقسیم کر نے پر مجبور ہوا ہے اور اس کے ہزاروں زاویے پیدا ہوئے ہیں جو روزانہ ہزاروں قوانین کے ساتھ رونما ہوتے ہیں ۔

اسلام نے اپنے تر بیتی نظریہ کو فطری انسان سے منحصر کیا ہے اور اپنی دعوت سے انسانی معاشرہ کو پاک فطری اعتقاد ،پاک فطری عمل اور پاک فطری مقصد رکھنے والے پاک فطری معاشرہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، اور اعتقاد وعمل میں اس کے بے داغ افکارنے ،فطری انسان کو اپنے واجب العمل پرو گرام کے تحت قرار دیا ہے ۔اور نتیجہ کے طور پر اپنے قوانین کو ثابت اور متغیر،دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا حصہ جو انسان کی خلقت اور اس کے خصوصی مشخصات کی بنیاد پر مستحکم ہے اسے''دین وشریعت اسلامی ''کہا جاتا ہے اور اس کی شعائیں انسان کو انسانی سعادت کی طرف راہنمائی کرتی ہیں:

( فاقم وجهک للدّین حنیفاً فطرت اللّٰه الّت فطر النّاس علیها لا تبدیل لخلق اللّٰه ذلک الدّین القیّم )

(روم ٣٠)

''آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ،یقینًایہی سیدھا اور مستحکم دین ہے ...''

اس کے ضمن میں جاننا چاہئے کہ دوسرا حصہ ،جو قابل تغیرقوانین پر مشتمل ہے ،اس میں مختلف زمان ومکان کی مصلحتوں کے مطابق تبدیلی پیدا ہوتی ہے ،اور ولایت عامہ کے آثارکے عنوان سے ،جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے منصوب شدہ جانشینوں کے نظریہ پر پابند ہیں ۔ دین کے ثابت اور ناقابل تغیرقوانین کے سائے میں زمان ومکان کی مصلحتوں اورتقاضوں کے مطابق قابل تغیرقوانین کو تشخیص دے کرانھیں نافذ کرتے ہیں ۔

البتہ اس قسم کے قوانین دینی اصطلاح میں آسمانی احکام اور شریعتیں شمار نہیں ہوتے اور انھیں دین نہیں کہا جاتاہے :

( یا یّها الّذین آمنوا اطیعوا اللّٰه و اطیعوالرّسول وول المر منکم ) (نسائ٥٩)

''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں ...''

یہ ہے اسلام کا ہر زمانہ کی حقیقی ضرورتوں کے بارے میں ایک اجمالی جواب پھر بھی اس مسئلہ کے بارے میں بیشتر وضاحت اور مزید تحقیق اورتجسس کی ضرورت ہے ۔ ہم آئندہ بحث میں اس کی مزید وضاحت کرکے مسئلہ کو واضح تر کریں گے۔