اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 8991
ڈاؤنلوڈ: 707

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8991 / ڈاؤنلوڈ: 707
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

کسی چیز سے محروم شخص وہ چیز عطا نہیں کر سکتا

سوال : جیسا کہ واضح ہے ''کسی چیز سے محروم شخص وہ چیزدوسروںکو عطا نہیں کر سکتا ہے ''اگر یہ قاعدہ کلی ہو اور قابل استثناء نہ ہو ،تو پر وردگار عالم نے کس طرح اشیاء کو جسم بخشا ہے جبکہ وہ خودجسم سے منزّہ ہے ؟

جواب : قاعدئہ ''کسی چیز سے محروم شخص وہ چیزعطا نہیں کرسکتا ہے ''ایک فلسفی قاعدہ اور ناقابل استثناء ہے اور اس قاعدہ کے مطابق ہر علت اسی معلول کی حامل ہوتی ہے جس نے اسے ایجاد کیا ہے جیسا کہ ''جعل ''کی بحث میں طے ہوا۔علت جو اثر معلول پر ڈالتی ہے وہ وجود میں ہے اور علت کا معلول کی ماہیت کے سا تھ کوئی ربط نہیں ہے۔اس بناء پر ،علّت،جو کمال معلول کو بخشتی ہے ،وہ وجود کمال ہے لیکن ماہیت کے سلسلہ میںنہ علت اس کی خالق ہے اورنہ اس پرکوئی اثر کرتی ہے۔ جو کچھ موجودات کوبخشتاہے وہ ان کے وجودی کمالات ہیں ،لیکن جسم کا مفہوم اس کی ما ہیّت ہوتی ہے اور خدائے متعال نہ ماہیّت رکھتا ہے اور نہ ہی ماہیت عطاکرتا ہے ۔

عالم ،تغییر وتحوّل کی حالت میں

سوال: کیااسلام کی نظر میں کائنات تغییروتحول کی حالت میں ہے ؟

جواب:کائنات کے اجزاء میں تغییروتحوّل کا وجودمشہود،بدیہی اور ناقابل انکار ہے اور قرآن مجید کائنات کے تمام اجزاء میں تغییر وتحوّل کو ثابت کرتا ہے :

( ما خلقنا السّموات والارض وما بینهما لّابالحق وجل مُسمّیٰ ) (احقاف٣)

''ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات کو حق کے ساتھ اور ایک مقررمدت کے ساتھ پید کیا ہے ...''

اس مضمون کی آیات بہت ہیں اور عام طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کائنات کی ہرایک چیز بعض آثار کی حامل ہے اورکسی ایک مقصد کے تعاقب میں ہے جو اس کا کمال ہے اوراس کی ایک نہایت اور خاتمہ ہے جو اس تک پہنچنے سے اس کی ترکیب منحل ہو کر اپنے اصلی اجزاء کی طرف تجزیہ ہو کر مرکب معدوم ہو تا ہے ۔

ثابت قوانین

سوال: کیا کائنات کے تحوّلات مشخص اصول کے مطابق اور ناقابل تغییر ہیں ؟یایہ کہ خود قوانین کے حالات میں شامل ہوتے ہیں ؟

جواب :قرآن مجید کے نظریہ کے مطابق ،جو نظام کائنات میں حکم فرماہے اور جن قوانین کی خلقت کے اجزاء پیروی کرتے ہیں ،ایک خدائی روش اور سنت ہے اور خدائی سنّتیں میں یکساں اور نا قابل تغیر ہیں اور ان میں موجود قوانین نا قابل استثناہیں :

( فلن تجد لسُنة اللّه تبدیلا ولن تجد لسُنة اللّه تحویلا ) (فاطر٤٣)

''...اور خداکا طریقہ کاربھی نہ بدلنے والاہے اور نہ اس میں کسی قسم کا تغیر ہو سکتا ہے ۔''

( انّ ربّی علی صراط مستقیم ) (ہود٥٦)

''...میرے پروردگار کاراستہ بالکل سیدھا ہے ۔''

کائنات کا ارتقائی سفر

سوال: کیا،کائنات کی پیدائش کے آغاز سے ،کائنات کی حرکت ارتقائی تھی ؟چنانچہ سائنس کہتا ہے : تقریباًدس ارب سا ل پہلے ہائیڈروجن کے نام پر کائنات کا پہلا ایٹم پیدا ہوا ،اس سے پہلے کائنات منتشرگیس کی حالت میں تھی ،لیکن دن بدن پیچیدہ تر اور اکٹھاہوئی ،یہاں تک کہکشاں ،سیاّرے ،نظام شمسی ،زمین کے چار مراحل ،زندگی زندگی کی ارتقاء اور انسان وجود میں آئے ؟

جواب: دوسرے سوال کے جواب میں جو آیہ کریمہ بیان ہو ئی وہ اس سوال کے بارے میں بھی مطابقت رکھتی ہے ۔جب سے کائنات تھی اور جہاں تک رہے گی پوری کائنات ایک خاص حرکت اوراپنے خاص نظم کے ساتھ اپنے مقصدکی طرف تکامل وترقی کا راستہ طے کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔

حقیقت میں کائنات کی پیدائش کے لئے دس ارب سا ل کا فرض کرنا غفلت سے خالی نہیں ہے ،کیونکہ زمان کا تعلق ایک کمیّت اورامتدادکے مقولہ سے ہے جو حرکت کے ساتھ قائم ہے اور اس لحاظ سے ہر حرکت اپنے لئے ایک مخصوص زمان رکھتی ہے اور ہم اہل زمین کی ّنظر میں زمان ایک ایسا امتداد ہے جو دن رات کی حرکت پر قائم ہے اور اس کے پیش نظرکہ یہ تمام انسانوں کے لئے مشہود ہے اس لئے پیمائش کا ایک اندازہ مقرر کیا گیا ہے جس کے ذریعہ ہم جزئی حرکتوں کی پیمائش کرتے ہیں اور حوادث کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ہر زمانہ کے قبل اور بعد ایسی حالتیں ہیں کہ اسی زمانہ کے اجزاء سے موازنہ کے نتیجہ میں وجود میں آتی ہیں اور اس زمانہ سے باہر ہر گز وجودنہیں رکھتی ہیں،اس لئے کائنات کی عمر کے لئے اس زمانہ سے اندازہ لینا جو زمین کی دوری اور انتقال حرکت کے نتیجہ میں وجود میںآتا ہے ،غفلت اور سہل انگاری سے خالی نہیں ہو گا ۔

تکامل و ارتقاء کے مراحل اورجدید قوانین

سوال :کیا کائنات میں تکامل کے ہر مرحلہ کے بعد نئے قوانین کا اضافہ ہوا ہے جس طرح کیمسٹری کے قوانین کے نامیاتی مادّہ کے پیدا ہو نے کے بعد وجود میں آئے ہیں یا حیات سے مربوط قوانین کے مانند جو حیات کے بعدپیدا ہو تے ہیں ؟

جواب:البتہ ہر نئے حادثہ اور مظہر کی پیدائش کے مطابق کائنات میں کچھ نئے قوانین کے مصداق پید اہو تے ہیں لیکن نہ اس صورت میں کہ خدائے متعال کی جاری سنت میں تغیر وتجزیہ پید اہو جائے ،جیسا کہ فرماتا ہے :

( ماننسخ من آیة او ننسها نت بخیر منها و مثلها )

(بقرہ ١٠٦)

''اوراے رسول ہم جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یادلوں سے محو کر دیتے ہیں تو اس سے بہتریا اس کی جیسی آیت ضرور لے آتے ہیں...''

اور اسی طرح کائنات کی توسیع کے بارے میں فرماتا ہے :

( والسماء بنیناها بید و انا لموسعون )

(ذرایات٤٧)

''اورآسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں''

کائنات میں تکامل وارتقاء کا عامل

سوال : کیا ایٹم سے لے کر انسان تک پوری کائنات کا ارتقاء کے عامل تضاد ہے ؟

جواب:اشیاء کی تخلیق کے بارے میں تو صیف کر نے والی قرآن مجید کی آیتوں سے جو کچھ معلوم ہو تا ہے ،وہ یہ ہے کہ ایٹم سے لے کر انسان تک اشیاء کے ارتقاء کے عامل، اشیاء کیاپنی طبیعی اور ذاتی حرکات ہیں چنانچہ انسان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے :

( الّذی احسن کل شیء خلقه وبداخلق الانسان من طین٭ثم جعل نسله من سلالةٍ من مائٍ مهین٭ثم سوّ یٰه ونفخ فیه من روحه وجعل لکم السّمع والبصار والفئدة )

(سجدہ ٧۔٩)

'' اس نے ہرچیزکو حسن کے ساتھ بنایا اور انسا ن کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے ۔اس کے بعد اس کی نسل ایک ذلیل پانی سے قرار دی ہے اس کے بعداسے برابر کر کے اس میں اپنی روح پھونک دی ہے اور تمہارے لئے کان ،آنکھ اوردل بنادئے ہیں ...''

قرآن مجید میں اسی مو ضوع ،انسان اور کائنات کے دوسرے مظاہر کے بارے میں بہت سی دوسری آیتیں موجود ہیں ۔اور بعض آیتوں میں اس حرکت کی انتہا کو خدا کی طرف پلٹنے اور اس سے ملاقی ہو نے کی تعبیر کی گئی ہے :

( یا یّها الانسان انّک کادح الیٰ ربّک کدحاً فملاقیه )

(انشقاق ٦)

''اے انسان !تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کو شش کر رہا ہے ،تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا ۔''

( وللّٰه ملک السّموات والارض والی اللّه المصیر )

(نور٤٢)

''اور اللہ ہی کے لئے زمین وآسمان کی ملکیت ہے اوراسی کی طرف سب کی باز گشت ہے ''

مجموعی طور پر اشیاء کی پیدا ئش کا آغاز خدا سے ہے اور ارتقاء کے ساتھ ان کی باز گشت خدا کی طرف ہے :

( اللّٰه یبدوا الخلق ثم یعیده ثم الیه ترجعون )

(روم ١١)

''اللہ ہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر پلٹابھی دیتا ہے اور پھر تم سب اسی کی بار گاہ میں واپس لے جائے جائو گے ۔''

انسانی معاشرے اورتکامل و ارتقاء کا آہنگ

سوال: کیا انسانی معاشرے پیدائش سے آج تک ارتقاء کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

جواب:گزشتہ سوالوں کے جواب میں مذکورہ آیتوں کا اقتضایہ ہے کہ انسان اپنی انسانی فطرت انسانی کے مطابق ہمیشہ ارتقاء کی طرف چل رہا ہے اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہے گا

انسانی معاشروے کے تکامل و ارتقاء کے اہم عوامل

سوال :انسانی معاشروں کے ارتقاء کے اہم عوامل کیا ہیں ؟

جواب: دین کے نظریہ کے مطابق ،انسان ابدی حیات رکھنے والا موجود ہے (جو موت سے نابود نہیں ہو تا ) اور اس کی ابدی سعادت ـجو اس کے ارتقائی وجود کی صورت ہے ـایمان اور عمل صالح میں ہے جو اس کی حقیقی نشوونما اور نفس کی ارتقائی حرکت میں شامل ہے :

( انّ الانسان لف خسر٭الّاالّذین آمنوا وعملواالصّلحات )

(عصر٢۔٣)

''بیشک انسان خسارہ میں ہے۔علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ...''

ضدوسرے الفاظ میں ،برحق اعتقادات کو قبول کرنا، قرب الہیٰ کا سبب بنتا ہے اور نیک کام اعتقاد کو استحکام اور تحفّظ بخشتے ہیں :

( الیه یصعد الکلم الطیّب والعمل الصلح یرفعه )

(فاطر١٠)

'' ...پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انھیں بلند کرتا ہے ...''

علم وغیرہ میں انسان کا تکامل و ارتقاء

سوال : کیا انسان کا ارتقاء صرف علم میں تھا یا تمام زمینوں میں ؟

جواب :دین کے نظریہ کے مطابق انسان کامل کا کمال اس کے وجود میں ہے اور تمام زمینوں میں اس کے وجود کی خصوصیتیں ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے علم کے ہمراہ بھی ہے ۔قرآن مجید کی آیتوں میں اس کے ارتقاء کے آخری مرحلہ کی توصیف مفصل طور پر آئی ہے اور اس کی حالت کی توصیف میں جامع ترین کلمہ آیہ کریمہ ہے :

( لهم ما یشاء ون فیها ولدینا مزید )

(ق٣٥)

''وہاں ان کے لئے جو کچھ بھی چاہیں گے سب حاضر رہے گا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے ۔''

ان بحثوں کے دوران جن آیا ت کریمہ کا ہم نے ذکر کیا ،مزکورہ مطالب کو ثابت کر نے میں کافی ہیں ،لیکن چونکہ حقیر کی صحت ٹھیک نہیں تھی ،اس لئے آیات کو مفصل وضاحت سے پر ہیز کیا گیا ۔آیات کی کیفیت کی دلالت واضح ہو نے کے لئے تفسیر ''المیزان'' کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔

مجّردات کے وجود کو اثبات کے دلائل

سوال:امکان اشرف کے علاوہ مجّردات کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دوسری عقلی دلیل کیا ہے؟

جواب :اس سلسلہ میںشیخ کی کتابوں کی طرف رجوع کر نا چاہئے ،جو امکان اشرف کا قائل نہیں ہے ۔اس کے علاوہ مجّردکے وجود کو (ذات اور فعل میں مجرد کے معنی میں)دوسرے مختلف طریقوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً ہم کہیں کہ ابتدائی طور پر صادرکومجّرد ہونا چاہئے ، تاکہ اس میںارتقاکی قدرت بھی ہو،لیکن فعلیت کی صورت میںکمال رکھتی ہو(اور اس میںمزید فعلیت اورکمال نہیں آسکتا)اوراگرفرض کیا جائے کہ اس میں تکامل کی قوت بھی موجود ہوتو یہ صادرمادی اورمادہ اورصورت کامرکب ہوگااور اس صورت میںکسی چیزکے اجزاء خود اس چیزپروجودی صورت میں مقد م ہونے لگیںگے اور مادہ وصورت اس صادر سے قبل موجودہوںگے،حالانکہ ہمارافرض یہ ہے کہ صادراب وجودمیں آرہاہے۔

اسی طرح ثابت شدہ صور علمیہ کے تجرد سے نفس کاذاتی تجرداورنفس کے تجردکے ذریعہ اس کی علت فاعلی کے تجردتام کوثابت کیاجاسکتا ہے۔

ختم نبوت کی عقلی دلیل

سوال :ختم نبوت کے بارے میں عقلی دلیل کیا ہے ؟

جواب :کتاب ''برہان از منطق'' میں ثابت ہوا ہے کہ جزئی اور شخصی حکم کی عقلی دلیل نتیجہ بخش نہیں ہے ،لہذا نبوت عامہ کے مقابلہ میں نبوت خاصّہ کو عقلی دلیل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔وضاہت یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ انسان کے ارتقاء کے لئے اور اس کی ہدایت وراہنما ئی کے لئے ہے ،کمال کے مراتب اور آسمانی شریعتوں کا تعدّد تدریجی ارتقاء کے لئے ہے ،جیسے انسان نے زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اسے حاصل کیا ہے کہ ہر شریعت گزشتہ شریعت کو کامل کر نے کا درجہ رکھتی ہے اور اس کو منسوخ کر نے والی ہو تی ہے اور واضح ہے کہ انسان لامتنا ہی کمالات کا مالک نہیں ہے ،جن کمالات کی صلاحیت رکھتا ہے ،جتنے بھی زیادہ ہوں ،بالآخر ایک مرحلہ پر ختم ہو تے ہیں ،نتیجہ کے طور پر جو نبوت اس مرحلہ کی ضامن ہے، وہ خاتم نبوت ہے اور جونبوت شریعت کو لائی ہے وہ قیامت تک مستحکم اور واجب العمل ہے ۔اس بیان سے یہ ثابت ہو تا ہے آسمانی شریعتوں میں ایک ایسی شریعت ہو گی جو شریعتوں کو خاتمہ بخشنے والی ہو گی ۔

روایتوں کے مطابق بھی اسلام کی مقدس شریعت ،ایک آسمانی اور بر حق شریعت کو خاتم النبیین اور قرآن مجید کو نا قابل تنسیخ کتاب کے طورپرتعا رف کرا گیا ہے:

( ولکن رسول اللّٰه وخاتم النبیین )

(احزاب ٤٠)

( وانّه لکتاب عزیز٭لا یاتیه الباطل من بین یدیه ولامن خلفه تنزیل من حکیمٍ حمید )

(فصلّت٤١۔٤٢)

''اور یہ ایک عالی مرتبہ کتا ب ہے ۔جس کے قریب سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدا ئے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔''

پیغمبروں کی نسبت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت اور آسمانی شریعتوں کی نسبت شریعت اسلام کی خا تمیت ثابت ہو تی ہے ۔

گزشتہ بحث سے یہ مطلب بھی واضح ہو تا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کی تشریف آوری سے نبوت کا باب بند ہوا ہے اس لئے لوگوں کی عقلیں مکمل ہو چکی ہے اور اب وحی اور آسمانی احکام کی ضرورت ہی نہیں ہے اس صورت میں اسلام کی وسیع شریعت اوراحکام کے لئے کوئی معنی باقی نہیں رہتا ۔

عدالت اور عصمت میں فرق

سوال: عدالت اورانبیاء کی عصمت ـنہ ملائکہ کہ قوئہ غضبیہ اورقوئہ شہوانیت نہیں رکھتے ـکے درمیان کیافرق ہے ؟

جواب :عدالت ایک طاقت اور ملکہ ہے جس سے انسان عملی طور پر گناہان کبیرہ اور گناہان صغیرہ پر اصرار کر نے سے اجتناب کرتا ہے اور ممکن ہے اصرار کے بغیر گناہان صغیرہ کا مرتکب ہو جائے ۔اور''عصمت''ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان کے لئے مطلق معصیّت ، خواہ گناہان کبیرہ ہو یا صغیرہ کا انجام دینا محال ہوتا ہے ۔اور قرآن مجید کی آیات سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ عصمت علم کی ایک قسم ہے ۔یہ معصیّت کے قبیح ہونے کا علم ہے جس کے ہوتے ہوئے معصیّت ہر گز انجام نہیں پاتی ،ایک شخص کے مانند جیسے ایک مایع کے بارے میں قطعی علم ہو کہ وہ ایک مہلک زہر ہے وہ ہرگز اسے نہیں کھائے گا اور نتیجہ کے طور پر معصیّت کا مرتکب ہو نا ایک عادل کے لئے ممکن ہے لیکن ایک معصوم کے لئے ممکن نہیں ہے ۔

تکوین کا تغییر نا پذیر ہونا

سوال: باوجود یکہ عصمت انبیاء پر عقلی دلیل کو مسلّمات بلکہ مذہب شیعہ کی ضرورت میںشمارکیاگیاہے،لیکن مذکورہ ادلّہ میں ''عیال کے ساتھ ایک غیرحاضری''مثلاًشامل نہیں ہوتی اور فرض کریں شامل ہو جائے ،تو عدالت کافی ہے اور فرض کریں ادلّہ تمام ہو ،رسالت سے نسبت بیان احکام ہے ،جو سہو ونسیان سے محفوظ ہے اور دوسرے گناہوں کی نسبت تمام نہیں ہے اور بنیادی طورپر اس موضوع کے اثبات پر اصرار کرنے والاداعی کون ہے ؟اگر ایک شخص عادل خطاونسیان سے محفوظ،پیغمبر ہو تواس کا فاسد کیا ہے ؟

جواب:نبوت عامہ کو ثبت کرنے والی عقلی دلیل کے مطابق ،وحی آسمانی کے ذریعہ بشر کی ہدایت خلقت تکوینی کا جزو ہے ،اورتکوین میں خطا اور تخلف معقول نہیں ہے تاکہ وحی کے مضامین کے نتائج جو مصدر وحی سے صاد ہوتے ہیں ،ہو بہو لوگوں تک پہنچ جائیں ،یعنی نبی وحی کے قبول کر نے ،اس کے ضبط و تحفّظ اوراسے لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کی خطا وخیانت نہیں کرنی چاہئے ،اس کی بات محفوظ ہونی چاہئے اور اس کا فعل بھی ہر قسم کے تخلف و معصیت سے پاک ہونا چاہئے ،کیو نکہ اس کا فعل تبلیغ کے مصادیق میں سے ہوتا ہے ،یعنی نبوت سے قبل اور بعد اس کا قول وفعل معصیت ،اعم از گناہان کبیرہ وصغیرہ ،سے منزّہ اور پاک ہو نا چاہئے ،کیونکہ یہ سب مراحل بیان احکام سے مربوط ہیں اور احکام سے باہر کوئی معصیت نہیں ہے ۔اس بحث کے بہت سے ابعاد ہیں ،مزید وضاحت کے لئے ''المیزان'' کی تیسری جلد یاکتاب ''اسلام میں شیعہ''یارسالہ ''وحی وشعورمرموز'' کی طرف رجوع کریں ۔

تشہد میں (ارفع درجتہ)کا مقصود

سوال: فلسفیوں کی تعریف کے مطابق انسان کامل وہ ہے جس کے لئے''کل ما یمکن لہ بالامکان العالم''فعلی ہوچکاہو گا اورہر ایک کے اتفاق کے مطابق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا منحصر مصداق ہیں یا افراد انسان کامل میں سے ہیں ،اس صورت میں تشہد میں پڑھی جانی والی دعا''ارفع درجتہ'' یا یہ کہ ''بلنددرجہ پر پہنچا ہے ''کا سبب کیا ہے ؟

جواب: مذکورہ دعااوراسی طرح صلوات اس عطیہ کا سوال ہے جوخدائے متعال کی طرف سے قطعی طور پر ملنے والا ہے اور حقیقت میں خدائے تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حبیب پر کی گئی عنایت کے سلسلہ میں راضی ہونے اور دلی خوشحالی کا اظہار ہے ۔

گز شتہ سوالات کے مجدد جواب

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آپ کا دوسراخط ملا۔یاد آوری کے لئے بہت بہت شکریہ ۔ارسال کئے گئے جوابات کے بارے میں فرمایاہے کہ وہ نامکمل ہیں ،لگتا ہے جواب کے متن پر دقت سے غور نہیں کیا گیا ہے :

١۔آپ نے لکھا ہے :''مجّردات کا ثبوت گمراہ جوانوں کے لئے چاہتے ہیں جو خدا کے منکر ہیں اور ماورائے طبیعت کے قائل نہیں ہیں اور خط میں جو دلیل ذکر کی گئی ہے وہ وجود خدا کی فرعی دلیل ہے اور کارآمد نہیں ہے ۔''

یہ مسئلہ ،ایک فلسفی مسئلہ ہے اور مختلف طریقوں سے ثابت ہوا ہے اور جو کچھ خط میں ذ کر کیا گیا تھا یہ ہے کہ صورت علمیہ ّکے تجرّدکو اس راہ سے کہ عمومی مادہ کی خصوصتیں(تغیر،زمان اور مکان )نہیں رکھتا ہے ثابت کریں اور اس کے بعد انسانی نفس کے تجرّدکو اس راہ سے کہ بدون تغیّرانسان کے لئے مشہود ہے اور یہ کہ علمیہ صورت اس سے قائم ہے ،ثابت کریں اور اس کے بعدنفس مجرّدہ کی علّت فاعلی کے تجرّدکو اس راہ سے ثابت کریں کہ علت کو وجود کی حالت میں قوی طورپر معلول سے ہو نا چاہئے اور اضعف امر مادی وجوداًمجرّد ہے ۔

مذکورہ برہان ایک مکمل برہان ہے اور واجب الوجود کو ثابت کر نے میں کسی قسم کی کمی نہیں رکھتا ہے ،چونکہ مقصد یہ ہے یہ مسئلہ ناواقف افراد کو سمجھایا جائے ،اس لئے اس کا بیان کسی حدتک سادہ اور عام فہم ہو نا چاہئے ۔

٢۔آپ نے لکھاہے :''خط میں ،ختم نبوت کے بارے میں ذکر کیا گیا عقلی برہان اچھا ہے ،لیکن مذکورہ ذکر کی گئی قرآنی آیات دلالت نہیں کرتی ہیں شریعت ناسخ ''یاتیہ الحق من خلفہ''ہے نہ''یاتیہ الباطل''۔

باطل کا مطلب ایک قرآنی حکم ہے کہ جو ناسخ شریعت کے ذریعہ منسوخ اور باطل ہو تا ہے اور نتیجہ کے طورپر ایک باطل حکم قرآن مجید میں داخل ہوتا ہے نہ ناسخ شریعت جوبالفرض حق ہوگی نہ باطل ۔

٣۔آپ نے لکھاہے :''تشریع''کامطلب ،معصیت و خطا کے بغیرحکم پہنچانا ہے اور یہ امر مبلغ کی عدالت سے بھی انجام پاتا ہے ،اور عصمت کی ضرورت نہیں ہے اور جوکچھ تکوینی ہے اصل شریعت کو جعل کرنا اور تبلیغ ہے نہ اس کے جزئیات اور رات کے وقت پیغمبر کی اپنے عیال کے ساتھ یک مخفیانہ غیبت ہر گز جزء تکوینی اور احکام کی تبلیغ نہیں ہے ۔

تکوین کا مطلب مر حلہ ایجاد اور وجود خارجی ہے ۔اگر خارج میں موجودانسان خدائے متعا ل کے اردائہ تکوینی سے متعلق ہو ،توضروری طور پر اس کے وجودی آثار،اس کا وجودی مقصد اور مقصد کی طرف اس کا راستہ سب کے سب تکوینی ہوںگے ،پھر یہ کہنا معقول نہیں ہے کہ اصل خلقت تکوینی ہے اوراصل شریعت تکوینی ہے ،لیکن حکم پہنچنے کے مصادیق اور اس کی تبلیغ وضعی اورقراردادی اور غیر تکوینی ہیں اس کے مانند کہ کہا جائے اصل تغذیہ انسان کے لئے تکوینی طورپر مقدر ہوا ہے ،لیکن تغذیہ کے مصادیق اورغذا سب وہمی اور خیالی ہیں ۔یایہ کہا جائے کہ مبلغ کا قول و فعل اور تبلیغ اصل ہے ،لیکن اس کے مصادیق تبلیغ نہیں ہیں اور ممکن ہے مبلغ تمام ان احکام میں خلاف ورزی کر کے گناہان کبیرہ وصغیرہ کا مر تکب ہو جائے جن کے بارے میں اسے تبلیغ کرنی چاہئے ،کیو نکہ عدالت،معصیت انجام پانے کو محال نہیں بناتی ۔

اوریہ جو آپ نے خط میں لکھا ہے :''پیغمبر کی اپنے عیال کے ساتھ شبانہ غیبت تبلیغ نہیں ہے،مضر بھی نہیں ہے ۔''بہت عجیب ہے!کیا پیغمبر کی بیوی پیغمبر کی امت کا جزو نہیں ہے اور اسے تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے یا پیغمبر کی بیوی اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق ہے ؟یا یہ کہ اگر بڑی معصیت کا مخفیانہ ارتکاب ایک یا دوافراد سے انجام پائے تو تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر علنی انجام پائے تو تبلیغ ہے ؟مختصریہ کہ نبی میں عصمت کے بجائے عدالت کا اعتبار لازم وملزوم ہے ۔قولاًاورفعلاًنبی سے کبیرہ وصغیرہ معصیت کا انجام پانا جائز ہو نے کی صورت میں تمام احکام میں خلاف ورزی جائز ہو گی اور یہ مطلب تکوین کی بنیاد سے اختلاف رکھتا ہے ۔

٤۔آپ نے لکھا ہے :تشہد میں ''ارفع درجتہ''کا لفظ واضح طور پر دعااور ارتقاء کے خلاف ہے ۔

خدائے متعال نے کمال امکان کا آخری درجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر کے ا سے ختم فرمایا ہے ،اس کے باوجود اس کی لامتنا ہی قدرت محدود نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ چاہے تو عطا کی ہوئی چیز کو واپس بھی لے سکتا ہے ۔

( قل فمن یملک من اللّه شیئاً ان اراد ان یهلک المسیح ابن مریم وامّه ومَن في الارض جمیعا )

(مائدہ ١٧)

'' ...پیغمبر!آپ ان سے کہئے کہ پھر خدا کے مقابلہ میں کون کسی امر کا صاحب اختیار ہو گا اگر وہ مسیح ابن مر یم اور ان کی ماں اورسارے اہل زمین کو مار ڈالنا چاہے ...''

اس بناء پر، ،دعا فیض کو جاری ر کھنے کے لئے ہے اور حتمی امر کے پھیلائوکے لئے دعاکرنا مناسب ہے اور دعا واضح طور پر عیب اور کوتاہی میں ہے لیکن ہماری بحث میں عیب وہی ذاتی امکان فقر وحاجت ہے نہ بالفعل عیب ۔

٥۔ولایت کی شہادت''علی ول الٰلّہ''میں لفظی اضافہ نہیں ہے اور اس کا یہ معنی ہے کہ وہ ایک ایسا ولی ہے کہ خدا نے اسے ولی قراردیا ہے ۔