اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 12667
ڈاؤنلوڈ: 985

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 12667 / ڈاؤنلوڈ: 985
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

خدائے متعال،خالق موجودات

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں :تمام موجودات اورہستی نے خدائے متعال سے سرچشمہ لیا ہے ،لہذا کلی طور پرسب مخلو قات خدا کی وحدت وجودکے زمینہ میں ہیں ،لیکن ہم ہستی کو مختلف صورتوں میں پاتے ہیں ،مثلاً بعض کو درخت،پتھرآدم وغیرہ کی صورت میں دیکھتے ہیں ،اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا جواب کیا ہے ؟

جواب: جو برہان واستدلال کا ئنات کے لئے خدا کو ثابت کرتے ہیں ،وہ کائنات کو خدا کا ''فعل''اور خدا کو کائنات کا ''فاعل''کے طور پرتعارف کراتے ہیں اور بدیہی ہے کہ فعل فاعل کے علاوہ ہوناچاہئے اور اگرفعل عین فاعل ہو تو،شئے''فاعل''اپنے وجود''فعل''سے پہلے موجود ہونی چاہے ،لہذاکائنات خد اکے علاوہ ہے اور اس بناء پر یہ جو کہا گیا ہے :''کلی طور پر سب چیزیں خدا کی و حدت وجود کے زمینہ میں ہیں ''...غلط ہے

کیا مخلوقات،وہم وخیال ہیں ؟

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھتے اور تصور کرتے ہیں جیسے: پتھر،درخت اور انسان،یہ سب وہم وگمان ہیں بلکہ خود ہماراوجودبھی ایک خیال ہے ،مہر بانی کر کے اس سوال کا جواب بیان فرمائیے ۔

جواب:جو یہ کہتا ہے : جو کچھ ہم دیکھتے یا تصور کرتے ہیں وہ وہم وخیال ہیں اگر وہ اس بات کو سجیدگی کے ساتھ کہتا ہے ،تو اس کے بقول ،خود اس کی یہ بات کہ''سب چیزیں خیال ہیں''وہم وخیال ہے اور اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے ۔

جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں انھیں سوفسطائی کہا جاتا ہے یہ لوگ یا تو نفسیاتی بیمار ہیں یابد نیتی کی بنا پر مغالطہ کرتے ہیں ورنہ جس انسان کی فکر صحیح وسالم ہو اور بدنیتی بھی نہ رکھتا ہو اور کائنات کی خلقت کے بارے میں حقیقت پسند ہو تو وہ حقیقت کا قائل ہو گا ۔یہی کائنات کو وہم وخیال جاننے والے لوگ اپنے لئے اچھی زندگی کو تر تیب دے کر بھوک کے وقت روٹی کے پیچھے دوڑتے ہیں اور پیاس کے وقت پانی کی تلاش کرتے ہیں اور اس وقت یہ نہیں کہتے ہیں کہ روٹی اور پانی وہم وخیال ہے ۔

سوال:فرض کریں اگر یہ سب خیال نہ ہو ،تو خدا ان سب کے اندر داخل ہوا ہے !

آپ کا جواب کیا ہو گا؟

جواب:جس طرح پہلے سوا ل کے جواب میں بتایا گیا ہے یہ بات بھی استدلال کے خلاف ہے اور کوئی منطقی دلیل نہیں رکھتی ہے ۔

ذات باری تعالےٰ کاکنہ کیا ہے ؟

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں :ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ذات خدا کی کنہ اوراصلی خودہم ہیں اور یہ عبارت :''خدانے ہمیں عدم سے وجودمیں لایا ہے '' کوئی مفہوم و دلیل نہیں رکھتی ،اصلاًپوراوجودصرف وہی ہے اور اس کی دوسری کوئی صورت نہیں ہے اگر چہ ہم اشیاء کو ظاہری طور پر متنوّع اور متغیّردیکھتے ہیں ؟آپ کاجواب کیا ہے ؟

جواب: یہ بات بھی ایک بے دلیل بات اور فاقد برہان دعویٰ ہے ۔ایسے لوگوں کا فہم جو بھی ہو انہی کے لئے حجت ہے دوسروں کے لئے نہیں اور دلیل کے بغیردعویٰ کی کوئی قیمت واہمیت نہیں ہے ۔

ہوالاوّل والآخر کے بارے میں صوفیوں کانظریہ

سوال:صوفی کہتے ہیں:سورہ حدیدمیں ''ھوالاول والآخر'' کا مقصودحضرت علی علیہ السلام ہیں ،چنانچہ مر حوم علامہ مجلسی نے بھی بحارالانور کی آٹھویں جلد میں ایسا ہی نقل کیاہے اور یہی زمینہ اشتباہات کو وسیع تر کرتا ہے ۔اس بنا پر اگر ہم مذکورہ دعویٰ کو جھٹلا دیں تو ہم نے علامہ مجلسی کی بات کو ردکیا ہے ،کیونکہ خداکی طرف پلٹنے والے ضمائر قرآن مجید میں بہت ہیں ،مثلاً:

( فهو یهدین ) (شعرائ٧٨)

( فهویشفین ) (شعرائ٨٠)

( وهو الّذی فالسّماء الٰه وفى الارض الٰه وهو الحکیم العلیم ) (زخرف٦٤)

( هوالعلّ الکبیر ) (