اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان 0%

اسلام اور آج کا انسان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
زمرہ جات:

مشاہدے: 8871
ڈاؤنلوڈ: 699

تبصرے:

اسلام اور آج کا انسان
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 39 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8871 / ڈاؤنلوڈ: 699
سائز سائز سائز
اسلام اور آج کا انسان

اسلام اور آج کا انسان

مؤلف:
اردو

تیسراحصہ:

خلقت اورقیامت کا مسئلہ

خلقت کا مقصد کیا ہے ؟

کچھ مجہو لات ایسے ہیں جن کے وجود کے بارے میں انسان کو اپنی پیدائش اور زندگی کے ابتدائی دنوں سے اپنی خدادادعقل سے خواہ نخواہ معلوم ہوا ہے اور اپنے فطری تجسس سے ان کا حل طلب کرتے ہوئے اپنے آپ سے پو چھتا ہے :کیا اس مشہود عالم ہستی کا پیدا کرنے والا کوئی خدا ہے ؟اس کے خالق ہو نے کی صورت میں ، اس خلقت سے اس کا مقصد کیا ہے ؟کیا اس صورت میں ہم پر کوئی فریضہ اورتکلیف عائد ہو تی ہے ؟

بدیہی ہے کہ مذکورہ سوالات میں سے ہر ایک کا مثبت جواب ہو گا ۔سوال کے مشخصات ،اس کے وجود کی کیفیت ،آثار اور اس کے تحقق کی ضرورت کے بارے میں کچھ فرعی سوالات پیدا ہوں گے ـ جیسا کہ بیان ہوا ـانسان کی خداداد فطرت،فکر مند ہے اور ان کے قطعی اور منطقی حلّ کی خواہاں ہے ۔

یہ بھی واضح ہے کہ مورد سوال مسئلہ ،ابتدائی ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جو انسانی فطرت کی توجہ کا سبب بنا ہے اور انسان کی فطرت اس کے قطعی اور منطقی حل کی ضرورت کوزندگی کے ابتدائی مر حلہ میں درک کرتی ہے ۔

سوال کی تحقیق اور اس کا تجزیہ

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ جو چیز ہمیں خلقت کے مقصد کے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے ،وہ یہ ہے کہ ہم ـ چنانچہ مشاہدہ کرتے ہیں ـاپنے اجتماعی اور عقلی کاموں کو اپنے ان مقاصداور آرزوئوں کوحاصل کر نے کے لئے انجام دیتے ہیں ،جو طبیعی طور پر مناسب ہوں اور ہمارے کام آئیں ۔ہم کھاتے ہیں ،تاکہ سیر ہو جائیں ،پانی پیتے ہیں تاکہ پیاس بجھے ،لباس پہنتے ہیں تاکہ سردی ور گرمی سے اپنے بدن کو محفوظ رکھ سکیں،گھر بناتے ہیں تاکہ اس میں رہائش حاصل کریں ،گفتگو کرتے ہیں تاکہ اپنے دل کی بات کو سمجھادیں

انسان، بلکہ ہر ذی شعور،جو کام عقل وشعور سے انجام دیتا ہے ،کبھی غرض اور مقصدکے بغیر نہیں ہو تا ہے اور جس کام کا کوئی فائدہ نہ ہو ،اسے انجام نہیں دیتا ہے ہمارے ارادی افعال میں اسی مقصدکا مشاہدہ اورہر فا عل کی حالت کے بارے میں اس کا قیاس، ہماری حالت کے لئے ایک اور علم ہے جو ہمیں یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے :''خالق کائنات (جوایک علمی فاعل کا مصداق ہے )کا خلقت سے کیا مقصد ہے؟ '' لیکن کیا مشاہدہ کا یہی اندازہ اور قیاس اس سوال کے صحیح ہونے کی ضمانت دے سکتا ہے ؟اور کیا بعض موارد میں پائے گئے حکم اورخاصیت سے تمام موارد کو وسعت اور عمومیت دی جا سکتی ہے ؟ان سوالات کا جواب منفی ہے اور تنہا راہ حل مقصد کے معنی کا قطعی تجزیہ و تحقیق ہے ،کیونکہ استحکام اورتحقیق کے لئے اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے ۔

تغذیہ کی مثال میں بیان ہواکہ،سیر ہونے کا مقصدہمیں تغذیہ کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے ،سیری کا تغذیہ سے ایک رابطہ ہے ،کیونکہ یہ اسی کام کا نتیجہ اور پیداوار ہے اور کھانا معدہ میں داخل ہونے کے ساتھ نظام ہاضمہ کو سر گرم کرتا ہے اوراسے نئی غذاداخل کرنے سے بے نیاز کرتا ہے اور اس کی چاہت کو پورا کرتا ہے ۔بہر حال ''سیری''تغذیہ کی ایک قسم کا اثراورمعلول ہے اور تغذیہ بھی ایک مخصوص کام اور حرکت ہے جو ہم سے شروع ہو کر اپنے اثر یعنی ''سیری'' پر منتہیٰ ہو کر خود نا بود ہو تا ہے یہی تغذیہ ہمارے ساتھ (جو فاعل ہیں )ایک اور رابطہ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے وجود کے اندر اپنی بقاء اور زندگی کو جاری رکھنے کے لئے ذخیرہ کے طور پر کوئی مواد نہیں رکھتے ہیں ،بلکہ صرف اپنی بقاء کے تحفظ کے لئے بعض سلاح،مسائل اور توانائیوں سے مسلح ہیں جن کے ذریعہ بقاء کے لئے مفید غذائیں تدریجاً حاصل کر کے انھیں اپنے وجود سے ملاکر اپنی زندگی کو جاری رکھتے ہیں ۔

یہی ہماری اندورونی توانائیاں ،جو عقل وشعور کی اٹوٹ انگ ہیں ،نیاز مندی کا احساس کرکے اپنے فطری جوش و جذبہ سے ہمیں اپنے بدن کے وسائل اور توانائیوں کو سر گرم کرنے پر مجبو رکرتی ہیں تاکہ ہم اپنی خاص حرکتوں کو انجام دے کر ضروری غذا اور مواد تک پہنچ جائیں اور اپنے وجود کی کمیوں کو پورا کریں ۔پس''سیری''جس کا تغذیہ سے ایک رابطہ تھا،ہمارے ساتھ بھی ایک رابطہ رکھتی ہے ،کیو نکہ یہ ایک کمال ہے جو ہمارے وجود کی کمی اور ہماری ضروریات کو پورا کر تا ہے اور ہماری اندرونی توانائیوں کے ساتھ جو ظہور کرتا ہے ،وہ ہمیں اسے حاصل کر نے اور اپنے آپ کو اس سے مکمل کر نے پر مجبور کر تا ہے ۔

اگر ہم اپنی بے شمار ارادی اور اختیاری سر گرمیوں ،جیسے:کھانے، پینے ،اٹھنے بیٹھنے،باتیں کرنے،سننے اورآنے جانے ....کی تحقیق کریں ،تو وہی خاصیتیں حاصل ہوںگی جو تغذیہ کی مثال کی تحقیق سے حاصل ہو ئیں ۔حتی اگر ہم ظاہراًبالکل بے غرضی میں انجام دینے والے کاموں پر توجہ کریں ،تو واضح ہوگا کہ اگر اس کام میں کوئی منافع نہ ہوتو ہم اسے انجام نہیں دیں گے ،جیسے ،صرف انسان دوستی کی وجہ سے انجام دی جانے والی نیکیاں جن میں اور کوئی مقصدنہیں ہوتا ہے اور مدد کے مانند کہ ایک بے نیاز دو لت مند ،ایک محتاج فقیر کی مدد کر تا ہے اور....ان مواقع پر ہم حقیقت میں اپنے جذباتی آرزوئوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور فقیر کی حالت کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے اندرونی جذبات کو پورا کر کے اپنے نفس کو مطمئن کرتے ہیں اور اسی طرح...

اس تحقیق سے عام ا ور کلی طور پر یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اختیاری کاموں میں ''فعل کا مقصد''ایک مناسب اثر ہے جو فعل کے آخر (فاعل کی مخصوص حر کت)میں قرار پایا ہے اور یہ فعل کی سرحد ہے اور یہ کمال ہے جو فاعل کے نقص کو دور کرکے اسے مکمل کرتا ہے ۔

البتہ ـ جیسا کہ واضح ہوا ـہم موضوع کی ابتدا ء میں غرض اور مقصدکو اختیاری فاعلوں ـجو عقل وشعور سے مسلح ہوں ـسے مخصوص اور ان کے اختیاری کام جانتے ہیں لیکن اگر تھوڑا اور سنجیدہ ہو جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ جن تمام آثار اور خاصیتوںکو ہم نے ان کے ذریعہ افعال اوراختیاری فاعلوں یعنی ''غرض'' کے لئے ثابت کیا ،کسی کمی بیشی کے بغیر طبیعی عاملوں اور ان کے طبیعی کاموں میں موجود ہیں کیونکہ ہر طبیعی عامل اور ہر مادی مرکّب بھی ایک اختیاری فاعل کے مانند کچھ توانائیوں سے مسلح ہو تا ہے جو ضرورت پوری کر نے اور اپنی طبیعت کے اقتضا کے لئے ان سے کام لیتا ہے اور اپنی مخصوص حرکت ـجو اس کا عمل ہے ـ کو انجام دے کر اپنی ضرورت کو پورا اور اپنی کمی کو دور کرتا ہے ،اور وہی چیز جو اس کی فعالیت کا اثر ہے بھی اس کی فعالیت کے ساتھ بھی بلاواسطہ اور منظم رابطہ رکھتی ہے اور خود اس کر ساتھ بھی ۔چنانچہ اختیاری فعالیتوں کے بارے میں بھی ایسا ہی تھا اور عقل وشعور کا نہ ہونا اس مقصد کے تحقق یا عدم تحقق اوراس کے فاعل سے رابطہ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا ہے ۔

اگر چہ ہم اس موضوع کو افعال اختیار ی کے بارے میں ،جو زندہ اور باشعور فاعلوں کے ارادہ سے انجام پاتے ہیں ،''غرض ''نام رکھتے ہیں اور دوسرے طبیعی افعال میں ''غرض''کے نام سے پرہیز کر کے اسے ''غایت ''کہتے ہیں اور لفظ ''غرض''کے اطلاق کو مجازی اطلاق تصور کرتے ہیں،لیکن ان دونوں میں حقیقت امر ایک ہی ہے ،اور جوکام ایک طبیعی عامل طبیعت کے تاریک خانہ میں انجام دیتا ہے اسی کام کو ایک زندہ فاعل علم کے چراغ کی روشنی میں انجام دیتاہے ،بغیر اس کے کہ مذکورہ رابطوں میں کوئی تبدیلی آئے ۔

غرض اورآرزوکی عمومیت

مذکورہ بیان سے واضح ہوتاہے کہ عالم خلقت کے تمام اجزاء میں ''غرض''عمومیّت رکھتی ہے اور جہاںتک علیّت ،معلولیت اور دیگر کلّی قوانین حکم فرما ہیں ،ہر گزکوئی کام مقصد اور غرض کے بغیر انجام نہیں پاتا ہے اور کوئی عامل اپنی سر گرمی اور عمل میں غایت اور آرزو سے بے نیاز نہیں ہے ۔

ہر نوع سے ایک فرد کو لے لیں ،جیسے ایک انسان ،ایک کیڑا ،سیب کا ایک درخت،گندم کا ایک پودا ،لوہے کا ایک ٹکڑا ،آکسیجن کی ایک اکائی ...ہم دیکھ لیں گے کہ یہ سب چیزیں اپنے اندر سر گرم توانائیوں کی موجودگی کے ذریعہ اپنے اردگرد ماحول سے ہم آہنگ ہو کر اور اپنے ماحول کے سر گرم اجزاء سے ہم آہنگی کرکے اپنے ارتقائی مقاصدکو اپنے فائدہ میں حاصل کر نے کے لئے خصوصی حرکات انجام دیتے ہیں ،جوں ہی یہ خصوصی حرکت تمام ہوتی ہے ،حرکت کا نتیجہ ''غر ض وغایت'' کی صورت میں حرکت کی جگہ لیتا ہے ،اور متحرّک کی فطری آرزو پوری ہوتی ہے اور اس کا مطلوب کمال اس کے وجود سے ملحق ہوجاتا ہے ۔

تمام انواع، جو دنیا کے گوشہ وکنار میں بڑے بڑے خاندان کو تشکیل دے کر زندگی کر رہے ہیں ،جیسے :انسان کی نوع،گھوڑے کی نوع ،سیب کے درخت کی نوع...کی بھی یہی حالت ہے اور ہمیشہ اپنی نوع کی خصوصی سر گرمی سے اپنے مقاصداورآرزوؤں کو حاصل کر نے کی کو شش کرتے رہتے ہیں اور انھیں حاصل کر کے اپنے تکوینی نواقص کو دور کرکے اپنی بقا ء کے لئے مدد لیتے ہیں ۔

کائنات کے تمام اجزاء ـجن کے درمیان ناقابل انکار رابطہ موجود ہے ـ کے بارے میں بھی یہی حالت جاری ہے ۔

بنیادی طور پر تحقّق پانے والی حرکت ،ایک طرف سے دوسری طرف ہو تی ہے ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے ہمیشہ واسطہ کی حالت میں ہو تی ہے اورایک چیزکو دوسری چیز سے اور ایک طرف کو دوسری طرف سے ملاتی ہے ،جس جہت اور طرف کواس کی حرکت چاہتی ہے ،وہی غرض اور غایت ہے ،جو متحرک کی کمی اور اس کی چاہت کو پورا کرتی ہے ،پھر اس حالت میں منقطع ہوتی ہے یعنی ایک ایسی حالت میں تبدیل ہو تی ہے جو اس کی نسبت آرام وسکون شمار ہو تا ہے ،یہی آرام وسکون دوسری صورت میں دوسرے کی حرکت ہے جو خود بھی ایک دوسری غرض وغایت کی تلاش میں ہے ۔

کبھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کوئی حرکت محقق ہو جائے اور کسی طرف متوجہ نہ ہو یا کسی طرف متوجہ ہو لیکن مذکورہ ''طرف''حرکت سے کوئی رابطہ نہ رکھتی ہو اورصرف اتفاق سے ظاہر ہوئی ہو یاکسی محرّک کی طاقت کوئی حر کت وجود میں لائی ہو لیکن اس حر کت سے علیّت کا رابطہ نہ ہو یا حرکت کے ساتھ رابطہ ہو نے کے باوجود قوئہ محرکہ کا ''حرکت کی غایت ''سے اتفاقی رابطہ ہو ۔

علل وعوامل کی سر گرمی کے نتیجہ میںاس کائنات میں مشاہدہ ہونے والاعجیب وغریب نظم اور اس عالم ہستی میں یکساں طور پر حکم فرما ناقابل تغیر عمومی قوانین اتفاقی حدوث کو ناقابل قبول بناتے ہیں ۔

بقول ایک دانشور ایک ایٹم کے صرف دس جزء سے ایک خاص ترکیب میں تشکیل پائی ایک چیزکا اتفاقی طور سے پیدا ہو نے کا فرض ،دس عرب فرضوں میں سے ایک فرض ہے ،لیکن منہائے ایک،دس ارب فرضوں کے مقابلہ میں صرف ایک فرض کی پیروی کرنا ایک بیوقوفانہ اور بے بنیاد تصور کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

انسان کے علمی افکار اور فطری شعور ہر گز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ کائنات کی بے ا نتہا فعالیتوں میں فعل و فاعل اور غایت فعل کے رابطہ سے انکار کرکے تمام علمی فیصلوں اور ناقابل انکار انسانی افکار کی بیخ کنی کی جائے ۔

کائنات کو خلق کرنے میں خدا کامقصد

وسیع عالم خلقت ،چھوٹے اور حقیر ذرّہ سے لے کر ایک عظیم ثابت اور متحرّک اجرام فلکی کے مجموعہ اور حیرت انگیز کہکشاں ،آپس میں رکھنے والے حقیقی رابطہ کے ذریعہ ایک عظیم اکائی تشکیل دیتے ہیں جو اپنی تمام ہوّیت،حقیقت اورحیثیت کے ساتھ (نہ صرف اپنی مکانی نسبیت کے لحاظ سے ) تغیر وتحول کی صورت میں ایک کلی اور عمومی حرکت کو وجود میں لاتے ہوئے (علمی وفلسفی نظریہ کے مطابق ) ایک مقصد اور آرزو کی طرف گامزن ہیں (مذکورہ قطعی نظریہ کے مطابق ) ان کے ایک مشترک

سر حد پر پہنچنے کے بعد، مذکو رہ مقصد اور غرض ،اس حرکت کا جانشین بن کر اس شور وغوغل سے بھری کائنات کو ایک ثابت وآرام عالم میں تبدیل کر تا ہے ۔

ہماری آئندہ دنیا ایک آنے وا لے کل کی دنیا ہے ،جو آج کی دنیا کے پیچھے ہے بیشک یہ گزشتہ روز کے مقابلہ میں ثبات وآرام کی حالت میں ہو گی اور اس دنیا کے نواقص اور کمی بیشی کو دور کر کے اسے مکمل کرکے ہر توا نائی کو سر گرم عمل کرے گی ۔

لیکن کیا یہ ثبات اور کمال نسبی ہو گا اور یہ صفت صرف آج کی دنیا کی حالت کے موازنہ میں ہو گی ،یا ثبات وآرام نفسی پیدا کر کے کسی قسم کا تحوّل اور تبدیلی پیدا نہیں ہو گی ۔؟

اور کیا دوسرے تغیر سے کائنات کی کلی حرکت ـجو اپنے مقصد اور غرض تک پہنچنے کے بعد اسی مقصد اور غرض میں تبدیل ہو کر آرام پیدا کرتی ہے ـ آج کی جزئی حرکتوں کے مقصد اور غرض کے مانند نسبی پائداری اور آرام کی حامل ہو گی ؟ اگر چہ دوسری جہات سے حرکت میں دوڑ دھوپ اورنشیب وفراز کی حالت میں ہے یا یہ کہ آئندہ دنیا کا اپنا حقیقی کمال وثبات ہو گا اور اس دنیا میں ہر مظہر کی حقیقی پیدائش کا رول اداکر نے والا تغیر وتحول کا حساب بالکل بند ہو کر روز گار کا پر کاراپنے ابتدائی نقطہ پر پہنچ کر اپنی گردش کو خاتمہ بخش کر ایک ثابت اور مکمل دائرہ کو اپنی جگہ پر چھوڑدے گا اورآج کے ادراک میں تغیر پیدا کر کے ،اسے چار بعدی بناکر دوسرے دن کے مظاہر گزشتہ اور آنے والے دن کے گرد نہیں ہوں گے ؟

جو کچھ مذکورہ اجمالی بیان میں واضح ہوتا ہے ،ایک ایسا سر بستہ نتیجہ اورمطلب ہے جو مکمل طور پر پیچیدہ اور مشکل ہے ،اس روان اور ناقص دنیا کے پیچھے ایک ثابت اور مکمل دنیا ہے ،ایک با آرام منزل مقصود ہے جس کی طرف کاروان خلقت انتہائی تلاش وکوشش سے رواں دواں ہے او ر اس راہ کے تمام راہی ایک دن اپنی کوششوں کے نتیجہ کو فعلیّت کی صورت میں وہاں پر حاصل کریں گے ۔

البتہ انسان اس نتیجہ کو قبول کر نے کی راہ میں ،مذکورہ سوال اور دسیوں اور سیکڑوں دوسرے سوالات سے روبرو ہے جو مجہو لات کے ایک سلسلہ کی تاریکی کو ظاہر کر تے ہیں اور حقیقت میں کچھ مباحث کو تشکیل دیتے ہیں ،جنھیں پیچیدہ ترین اور عمیق ترین کلی اور فلسفی بحث شمار کی جا سکتی ہے کیو نکہ حس کا سہارا نہ رکھنے والے کلی نظرئیے ہمارے لئے قابل فہم نہیں ہیں ۔جہاں تک ہم اپنی آنکھیں کھول کر اس مادی دنیا کے مناظر کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جو کچھ ہمیں اس کے گوشہ وکنار سے دکھائی دیتاہے حرکت ،نقل و انتقال اور زوال کی حالت میں ہے اور ہم خود بھی اس کاروان اور اس راہ کے راہی ہیں اور ہم میں سے جو بھی اس دنیا سے آنکھ بند کر کے چلا جاتا ہے ،پھر اس کی ہمیں کوئی خبر نہیں ہو تی (اور جو خبردار ہوا اس سے کوئی خبر لوٹ کے نہیں آتی )

اس کے باوجودمنطقی مقدمات اور ناقا بل انکار اور یقینی استدلالوں پر مبنی دقیق فلسفی بحثیں تالیف ہو ئی ہیں ،جو ان سوالات میں سے اکثر کا جواب دیتی ہیں اور یہ نظریہ (یہ رواں اور متحرک دنیا ایک پائیدار اور ثابت مقصد کی حامل ہے ) معاد کے موضوع کے مطابق ہے جس کو اولیائے دین نے وحی سے حاصل کر کے خبر د ی ہے ۔

مقالہ کی ابتداء میں جو بحث ہم نے کی ،اس سے واضح ہوا کہ''غرض''کا مو ضوع فعل سے ایک رابطہ ہے جو حرکت فعلی کو سکون وآرام میں تبدیل کرتا ہے اور فاعل کے ساتھ ایک رابطہ ہے جو اس کے وجود میں پائے جانے والے نقص کو کمال میں تبدیل کر تا ہے ۔خالق کائنات کے بارے میں کی گئی استدلالی بحثوں کے مطابق ،اس کی مقدس ذات کمال محض کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور اس میں کسی قسم کے نقص ونیاز مندی کو نہیں پایا جاسکتا ہے ۔

مذکورہ دونظریوں کے پیش نظر خالق کائنات کے فعل کی نسبت مقصد واثبات کا فرض کیا جاسکتا ہے جیسا کہ تفصیلی طور پر بیان ہوا،لیکن اس کی ذات مقدس کے بارے میں منفی جواب دینا چاہئے ،اور دوسرے الفاظ میں یہ جو کہاجاتا ہے کہ اصل خلقت کا مقصوداورغرض کیا ہے ؟اور کیوں خدائے متعال نے اپنے علاوہ کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے ؟اگر اس کا مقصود یہ ہے کہ خدائے متعا ل کے فعل کا مقصد کیا ہے اور اس کی توجہ کس غایت اور انتہاکی طرف ہے (فعل کی غرض ) اس کا جوا ب یہ ہے کہ اس نا پائیدار دنیا کا مقصد ایک مکمل ترین دنیا ہے ،اور اگر مراد یہ ہے کہ خدائے متعال خلقت کے ذریعہ اپنی کسی کمی کو پورا کرتا ہے اور کونسا کمال یا فائدہ اپنے لئے حاصل کرتا ہے تو یہ سوال غلط ہے اور اس کا جواب منفی ہے ۔

مقصد خلقت کے سوال کے بارے میں جو جواب دینی زبان میں دیا جاتا ہے :''کائنات کو پیدا کر نے کا خداکا مقصد دوسروں کو نفع پہنچانا ہے نہ خود کو ''اس کا مطلب وہی معنی ہے جو بیان ہوا ۔

آخر میںاس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ،جس طرح بحث وتحقیق میں ''مقصد''کا معنی بیان کیا گیا ،ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ مقصد اس جگہ پر محقق ہو تا ہے جہاں فعل اور فاعل یا صرف فعل میں کو ئی نقص ہو جو مقصد سے دور ہو جائے ۔اس بناپر، اگر کسی فعل ،یعنی کسی خالق کے بارے میں فرض کیا جائے جس میں کسی قسم کا قابل رفع نقص نہ پایا جاتا ہو(فلسفی اصطلاح میں مجرّد عقلی کے مانند)تو مذکورہ معنی میں کوئی مقصد نہیں ہو گا ۔

جی ہاں !فلا سفہ نے دقیق ترین تجزیہ وتحقیق سے ثابت کیا ہے کہ فعل کا مقصد حقیقت میں فعل کا کمال اور فاعل کا مقصد فاعل کا کمال ہے ۔منتہیٰ یہ کہ فعل کبھی تدریجی ہے اور اس کا کمال آخر کار اس سے جا ملتا ہے اور کبھی اچانک مادّہ اور حرکت سے مجرّد ہے اور اس صورت میں فعل کا وجود بھی اورکمال ومقصد فعل بھی خود فعل ہے ۔

اس طرح کبھی فاعل ناقص ہے اور فعل کے بعد اپنے کمال کو پاتا ہے اور کبھی فاعل مکمل ہے اور اس صورت میں وہ فاعل بھی ہے اورغایت وغرض بھی اور اس لحاظ سے خالق کائنات کا کائنات کو خلق کرنے کا مقصد اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اس کے فعل کا مقصد یہ ناقص دنیا ہو نا،(در حقیقت ) ایک مکمل تر دنیا ہے اور کامل تر دنیا کا مقصد،خود وہی کامل تر دنیا ہو گا ۔

اور اسی طرح ہر فرض کئے جانے والے کامل تر خالق کے بارے میں اس کی خلقت کا مقصدخود وہی ہو گا ۔والسلام

خدا کو کیا ضرورت ہے کہ انسان کی آزمائش کرے ؟

سوال :اگر ایک شخص دو لوٹے بنائے ایک پر ایک دستہ او ر دوسرے لوٹے پر دو دستے نصب کرے،خود وہ شخص ایک دستہ والے لوٹے سے اعتراض نہیں کر سکتا ہے کہ تم کیوں ایک دستہ رکھتے ہو ،چونکہ وہ لوٹوں کا صانع ہے اگر لوٹوں کو اس کی آنکھوں سے اوجھل بھی کیا جائے پھر بھی وہ ان کے حالات سے واقف ہے اور ان کی بناوٹ،رنگ اور صورت کو بخوبی جانتا ہے ۔

یا مثال کے طور پراگر ایک آرٹسٹ نے ایک منظر کی نقاشی کر کے اول سے آخر تک اپنی پسند سے اس میں رنگ بھر دئے ہوں ،تووہ منظر کی کیفیت سے واقف ہے اور وہ خودنہیں کہہ سکتا ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ منظر اچھا ہے یا برا ،کیونکہ جو اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو بنائے اس کے لئے لازم نہیں ہے اس کے بارے میں تجسس اورتحقیق کرے ۔

لیکن اصلی مطلب یہ کہ خدائے متعال نے تمام زمینی وآسمانی مادیات و معنویات کو خلق کیا ہے اور اول سے آخرتک کا ئنات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے ،کیونکہ سب سے پہلے وہ خود اس کا صانع ہے اور دوسرے یہ کہ اگر نہ جانتا ہو ،تو عاجز ہے اور اس صورت میں خدا عاجز نہیں ہو سکتا کیونکہ خدائے متعال عجز سے مبرّا ہے ۔لہذا اس کی کیا ضرورت ہے کہ خدائے متعال بشر کو خود خلق کرکے اس کی خودحق ارادیت اور تقدیر اس کے ہاتھ میں سونپنے کے بعد خود اس کا امتحان لے لے ؟!

جواب: بشر کی آزما ئش اور خدائے متعال کے امتحان کے بارے میں ذکر کرکے آخر میں خط کے ذیل میں آپ نے اس عبارت پر خلاصہ کیا ہے :''اس کی کیاضرورت ہے کہ خدائے متعال بشر کو خودخلق کرکے اس کے اختیارات اور تقدیر اس کے ہاتھ میں سونپنے کے بعد خود اس کا امتحان لے لے ؟''

یہ جاننا چاہئے کی خدائے متعال اپنے قرآنی تعلیمات میں خلقت کے راز کے بارے میں دوطریقوں سے بحث کرتا ہے :

١۔اجتماعی منطق کے طریقہ سے لوگوں کے متوسط طبقہ سے ان ہی کی زبان میں ان سے گفتگو کرکے تعلیم دیتا ہے ۔اس منطق کے مطابق خالق کائنات مطلق حکم فرما مطلقہ سلطنت رکھنے والا اور بندوں کا مالک ہے کہ سب اس کے بندے ہیں ۔لوگوں کی دنیوی زندگی جو ان کی اخروی اور ابدی زندگی کا مقدمہ ہے، اس کی مشیت ،ارادہ، احکام اور تکالیف کے مطابق ہونی چاہئے اور آخرت میں وہ اپنے اعمال کی جزا پائیں گے اور اس لحاظ سے ان کی دنیوی زندگی ایک آزمائشی اورامتحانی زندگی ہو گی ان کا امتحان لینے والاخدا ہے اور قرآن مجید کی آیات اس نظریہ کے مطابق بحث کرتی ہیں چنانچہ فرماتا ہے :

( کل نفس ذائقةالموت ونبلوکم بالشروالخیر فتنة ) (انبیائ٣٥)

''ہرنفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے ...''

٢۔ خالص منطق عقلی کے طریقہ اور حقیقت بینی اور حقیقی عالم شناسی سے یہ نظریہ خدااور خلقت عالم اور اس کے نیک وبد حوادث کے مانند ہے اور ان کی مثال اس آٹسٹ کی جیسی ہے جو ایک خوبصورت اور بدصورت اور نیک وبد منظر کو ایک بورڈ پر تصویر کشی کرتا ہے اورپھر اس مصوّر اور اس کے چہرے کی طرف کسی قسم کی توجہ نہیں کی جاتی اور آمائش کا معنی پیش نہیں آتا ہے ۔صرف ایک بنیادی نکتہ کے بارے میں غفلت نہیں کی جانی چاہئے ،اور وہ یہ ہے کہ فرض کیا جانا چاہئے بورڈ پر جو انسانی تصویریں موجود ہیں وہ اپنے اختیار سے کام کرتی ہیں ،یعنی اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے ،اور ان کا کام خوبصورت وبد صورت ہے اور ان کے آئندہ کے خوب وبد نقشے ان کے کام کے ساتھ بلا واسطہ رابطہ رکھتے ہیں ۔(دقت کی جائے )

چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کی خلقت

سوال:خدا کا ارادہ فوری ہے ،جوں ہی ارادہ کرتاہے معدوم ،موجود بن جاتا ہے اس مطلب کے باوجود کیا آسمانوں کی خلقت چھ دن میں انجام پائی ہے ؟

جواب: خط میں جو اعتراض ذکر ہوا ہے وہ ایک فلسفی اعتراض ہے کہ فلسفہ کی کتابوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے اور مناسب جواب دیا گیا ہے اور مذکورہ اعتراض صرف چھ دنوں میں آسما ن کی خلقت سے مربوط نہیں ہے ۔بلکہ اس کے پیش نظر کہ عالم مشہود کے تمام مظہر نظام حرکت کے تحت ہیں اورہر چیز کی پیدائش خاص حر کتوں سے ہوتی ہے اور اس کی تخلیق تدریجی ہو تی ہے اور شے کے وجود کا تدریجی ہونا موثر کے دفعتہ ہونے کے منافی ہے ۔ اس عالم کے تمام اجزاء میں یہ اشکال موجودہے اور یہ آسمانوں کے چھ دن میں پیدا ہونے سے مخصوص نہیں ہے ،کیو نکہ خدائے متعال کا ارادہ ذات کی صفت نہیں ہے بلکہ صفت فعل ہے جو ذات سے خارج ہے اور فعل کے مقام سے الگ ہوتا ہے اور جو ہم یہ کہتے ہیں :''خدائے تعالیٰ نے فلاںچیز کا ارادہ کیا ''کا معنی یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس چیز کے وجود کے علل واسباب مہیا کئے ہیں (عالم ،عالم اسباب اور حکومت قانون علیّت کے تحت ہے ) اس بناء پر اموردفعی الوجود یں ، مطابقت ارادہ اور مرادارادئہ خدا ،دفعتہ ہے اور امور تدریجی میں تدریجی ہے اور کسی قسم کا مانع بھی نہیں ہے ،کیو نکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو فعل سے قائم ہے نہ ذات سے تا کہ ذات میں تغیر لازم آئے ۔

لیکن اصلی اعتراض،وہی حادث کا قدیم سے رابطہ،یعنی متغیّر کا ثابت سے رابطہ اور دوسرے الفاظ میں ،معلول زمانی کا خارج از زمان کی علّت سے رابطہ ہے ۔یہ فلسفہ اور کلام کی کتابوں میں بیان کیاگیا ہے اور مزید تفصیلات اور وضاحت کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ۔

جس چیز کی طرف اس خط میں مختصر طور پر اشارہ کیا جاسکتا ہے ،وہ یہ ہے کہ تدریج وتغیّر کی صفت اور زمان کا معنی جیسے بڑاپن اور چھوٹا پن ،نسبی اور قیاسی معنی میں سے ہے کہ اس دنیا کی موجودات توازن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اشیا ء کی خدائے متعال سے نسبت ایک ثابت اور پائیدار نسبت ہے اوروہ ان صفتوں سے منزّہ ہے۔ قرآن مجیدنے اس مطلب کو مندرجہ ذیل دوآیتوں میں بیان فرمایا ہے :

( انمّا امره اذا اراد شیئا ان یقول له کن ...) (یس٨٢)

''اس کاامر صر ف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جائو...''

( وماامرنا الّا واحدة کلمح بالبصر ) (قمر٥٠)

''اور ہمارا حکم پلک جھپکنے کی طرح کی ایک بات ہے ۔''

پہلی آیہ شریفہ کے مطابق، جو کام خدائے متعال کسی چیز کے ارادہ کے وقت انجام دیتا ہے اس کا پیداہو نا ،یعنی اس کا وجود خارجی ہے ۔اور دوسری آیت کے مطابق اشیاء کا وجود خارجی خدا کی نسبت ثابت وپائدار اور زمان سے خارج ہے ،یعنی اشیاء ایک دوسرے کی نسبت زمانی، متغیّر اور تدریجی ہیں اور خدا کی نسبت ثابت ،غیر متغیّر اور غیر تدریجی ہیں ۔

قیامت پر اعتقاد رکھنے کے اثرات

سوال: قیامت پر ایمان ،انسان کے اخلاق و اعمال پر کیا اثر رکھتا ہے ؟اور اس سے انسانی معاشر ہ کے کس حصہ کی اصلاح ہو تی ہے ؟کیو نکہ اس میں شک وشبہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ انسانی معاشرہ افراد کی سر گرمی سے زندہ ہے اور افراد کی سر گرمی بھی احتیاج کی حس اور زندگی کی ضرورتوں سے آگاہ ہو نے کے اثر میں وجود میں آتی ہے۔ انسان اپنی بقاء اور اس بقاء کی ضروریات کے بارے میں شدید دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لئے اس آرزو کو حاصل کر نے کے لئے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لاکر عزم وارادہ کے ساتھ اپنی انتھک سر گرمیوں کو جاری رکھتا ہے ۔ان اعمال میں سے جو بھی عمل مقصد تک پہنچ جائے ،انسان کی سر گرمی کو شدت بخش کر اس کت عزم وارادہ کو تقویت بخشتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرہ جوں ہی اپنے عادی راستہ پر گامزن ہو تا ہے تو ایک قسم کی تر قی حاصل کرکے ہردن اور ہر ساعت اپنی پیش رفت کی حر کت میں تیزتر ہو تا ہے اور اس میں ایک عمیق اورتازہ جوش وجذبہ ظاہر ہو تا ہے اور واضح ہے کہ موت کی یاد،موت کے بعد آخرت کی زندگی کی فکرکو دماغ میں پرورش دینا ،اگر انسان کے عزم وارادہ کو مفلوج نہ کرتے ہوئے معاشرہ کے روز افزوں سر گرمیوں کے پہیئے کو گھومنے سے نہ روکتا ،تو انسان کی سیر وسلوک کی اس زندگی میں کسی قسم کا اثر نہ ہو تا اور اس کے قالب میں ایک نئی روح نہیں پھونکی جاسکتی ۔

جواب : اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ آسمانی ادیان نے اپنی دعوت کے پروگرام کو کسی حدتک تکلیف کی مسئو لیت اور اعمال کی پاداش (یعنی روزجزا) پر رکھا ہے اور خاص طور پر (ان میں ) دین مقدس اسلام نے اپنی دعوت کی بنیاد کو تین اصولوں پر استوار کیا ہے ان میں سے تیسرااصول معاد پر اعتقاد ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کو معاد پر شک ہو تو ،اس کی مثال اس شخص کی جیسی ہے جو توحید یا نبوت کا منکر ہو ،وہ دین کے حدودو میں داخل نہیں ہوا ہے اور مسلمانوں کے زمرہ سے خارج ہے ۔یہاں اسلامی معاد کے اعتقاد کو دی جانے والی اہمیت ـتوحید ونبوت کے اعتقاد کے مانند ـ واضح ہو تی ہے ۔

اس نکتہ کے پیش نظر کہ اسلام نے اپنی تعلیم وتر بیت کی آرزو کو انسانی فطرت (فطری انسان کو پیدا کر نے کے لئے ) کو احیاء کر نا قرار دیا ہے ، اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام معاد کے اعتقاد کو فطری انسان کے حیاتی ارکان میں سے ایک رکن قرار دیتا ہے کہ اس کے بغیر حقیقی انسان کی شکل ایک بے روح جسم کے مانند ہے جس نے ہر انسانی سعادت وفضیلت کی بنیاد کو کھو دیا ہے ۔

اس میں بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام کے معارف اور قوانین خشک وبے روح مواد نہیں ہیں ،جو لوگوں کی سر گرمی کی غرض سے یا خشک اورخالی تعبداورتقلید کے مقصد سے مرتب ہوئے ہوں بلکہ یہ اعتقادی ،رو حی اور عملی مواد کا ایک مجموعہ ہے جو اپنے اجزا ء میں پائے جانے والے تشکلّ کے کمال اور رابطہ سے انسان کی زندگی کے پرو گرام کے عنوان سے اور انسان کی خلقت کی ضروریات کے پیش نظر مر تب ہوا ہے ،چنانچہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات اس مطلب کی بہترین گواہ ہیں :

( یاأیّها الّذین منو ااستجیبوا للّٰه وللرّسول اذا دعاکم لما یحییکم ) (انفال٢٤)

''اے ایمان والو!اللہ ورسول کی آوازپر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے ...''

( فأقم وجهک للدّین حنیفاً فطرت اللّٰه الّتى فطرالنّاس علیها ) (روم ٣٠)

''آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارکش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسان کو پید اکیا ہے ...''

اس بناء پر ،دین اسلام تر قی یافتہ معاشروں کے ان ملکی قوانین سے کوئی فرق نہیں رکھتا ،جو معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنیاور اس کے حیاتی منافع کی حفاظت کے لئے وضع کئے گئے ہیں ۔منتہٰی خدائی دین اور انسان کے وضع کئے گئے قوانین کے درمیان پایا جانے والا بنیادی فرق یہ ہے کہ ملکی قوانین ،انسان کی زندگی کے پروگرام کے قانونی ضوابط ہیں ،صرف اس کی چند روز ہ مادی زندگی کو مد نظر رکھتے ہیں اور مشخص قانونی دفعات کو صرف معاشرہ کی اکثریت کی جذباتی ضرورتوں کو قراردیتے ہیں ۔لیکن دین آسمانی ،انسانی زندگی کو ایک ایسی ابدیاور لامتناہی زندگی تشخیص دیتا ہے جو موت سے ہرگز ختم نہیں ہوتی اور ہمیشہ کے لئے ایسے باقی اور پائدار رہتی ہے کہ اس کی دوسری دنیا کی بدبختی اور خوشبختی اس دنیا کے اعمال کی برائیوں اور بھلائیوں کے تناسب سے ہوتی ہے ۔اس لئے دین اسلام انسان کے لئے عاقلانہ زندگی کا پروگرام مرتب کرتا ہے نہ جذباتی زندگی کا ۔

ملکی قوانین کی نظر میں ،معاشرہ میں لوگوں کی اکثریت کی رائے کا نفاذ ضروری ہوتا ہے اور یہ قوانین کے دفعات میں سے ایک دفعہ ہوتی ہے ۔لیکن دین اسلام کی نظر میں معاشرہ میں ایسے قوانین قابل اجرا ہیں جو حق اور عقل کی کسوٹی کے مطابق ہوں ،خواہ اکثریت کی رائے کے مطابق ہوں یا نہ ۔

دین اسلام بیان کرتا ہے کہ فطری انسان (خرافات اورہوس رانیوں سے پاک ) اپنے فطری شعور سے معاد کو ثابت کرتا ہے اور نتیجہ کے طور پر اپنے آپ کو ایک ابدی زندگی کا مالک سمجھتا ہے کہ اسے صرف انسانیت کی خصوصی نعمت یعنی عقل سے زندگی بسر کرنا چاہئے ،اس کو ایک مادّی شخص کی طرح اپنی بنیاد اور معاد سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے ،کہ یہ منطق حیوانی منطق میں مشترک ہے اور اس حالت میں انسان مادی لذتوں پر تسلط جمانے کے علاوہ کوئی آرزو نہیں رکھتا ۔قیامت پر ایمان اور معاد پر اعتقاد ایک حقیقت پسند انسان کی فکری،اخلاقی،روحی اور اس کے اجتماعی اور انفرادی اعمال کے تمام ابعاد پر واضح اثر ڈالتا ہے ۔

لیکن اس کی فکر پر اثر ،اس طریقہ سے ہے کہ وہ اپنے آپ کو اورتمام چیزوں کو ـ جیسے وہ ہیں ـ حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھے ۔وہ اپنے آپ کو چند روز کے لئے محدود ایک انسانی موجود مشاہدہ کرتا ہے جو اس ناپائدار دنیا کا ایک جزو ہے ۔وہ اور عا لم ہستی کے دیگراجزا مجموعاًایک ایسے قافلہ کو تشکیل دیتے ہیں جو شب وروز ایک پائدار اورابدی دنیا کی حرکت میں ہے اور خلقت ''علت فاعلی '' کے ''رفع''اور خلقت کی غرض وغایت (قیامت)کے ''جذب''کے درمیان ہمیشہ مسافرت میں ہو تا ہے ،لیکن اس کے روحی اخلاق میں اس صورت میں اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی واقع بینی اوراپنے اندورونی جذ باتی طرز تفکر کو بدل کر انھیں مقصد کے مناسب اسلوب سے محدود کرے ۔

جو شخص اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خود کو اس ناپائدار عالم ہستی کے تمام اجزاء سے وابستہ جانتے ہوئے اپنے آپ کو طوفان کی خطر ناک لہروں کے پنجوں میں ایک تنکہ کے مانند گرتے اٹھتے عام مقصد کی طرف بڑھتا ہوا پائے ،تو وہ اس خود پسندی ،غرور اور جاہلانہ بغاوتوں کو اپنے دماغ میں پنپنے نہیں دے گا ، وہ خود کو شہوت پرستی ،نفسانی خواہشات اور ہوس رانی کاغلام نہیں بنائے گا ،اوروہ ایک چندروزہ انسانی زندگی کے لئے ضروری چیزوں کے علاوہ بے مقصد تلاش اورکوششوں کا اسیر وگرفتار بن کر خود کو ایک خود کار اور بے ارادہ مشین میں تبدیل نہیں کرے گا ۔اس کے نتیجہ میں انسانی زندگی کے فردی اور اجتماعی بلوائوں میں کافی حدتک کمی واقع ہوتی ہے ،پھر وہ اپنی تلاش و کوششوں کو ایسے کاموں میں ضائع نہیں کرے گا جن کے لئے قربانی دے کر جان ومال سے ہاتھ دھونا پڑ تا ہے ،کیونکہ اگر نیک کام انجام دینے کی راہ میں اس کی جان بھی قربان ہو جائے تو اس نے اس غمناک دنیوی زندگی کو کھو دیا ہے ،لیکن وہ اس طرح اپنی ابدی زندگی اور جانثاری کے نیک نتائج کو پاتا ہے اور ان سے خوشحال ہو گا ،اب اس سے ایک مادی اور معاد سے بے خبر شخص کے مانند اپنی دنیوی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے فریب دینے والے اور گمراہ کر نے والے خرافات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اب وہ نہیں چاہتا ہے کہ اسے اس بات کی تلقین کی جائے کہ معاشرے کے مقدسات ۔آزادی ،قانون اور وطن کے مانند ـ انسان کے لئے نیک نامی اور پائندگی لاتے ہیں جن کے ذریعہ وہ ایک ابدی اور فخر ومباہات کی زندگی پاسکتا ہے ،جبکہ اگر حقیقتاًانسان مر نے کے بعد نابود ہوتا ہے ،تو مرنے کے بعد زندگی اور فخر،خرافات کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں رکھتے!!

یہاں پر،سوال کے آخر پر بیان کی گئی بات کا بے بنیاد ہونا واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ موت اور موت کے بعد والی دنیا کا تصور ،انسان سے نشاط کار اور زندگی کی سر گرمی کو سلب نہیں کرتا ،کیونکہ نشاط کار اور انسان کی سر گرمی احتیاج کی معلول حسّی ہے اور معاد کے تصور سے احتیاج کی حس نابود نہیں ہو تی ہے ۔اس مطلب کا گواہ یہ ہے کہ صدر اسلام کے مسلمان دینی تعلیمات کی بیشتر پیروی کرتے تھے اور ان کے دلوں میں معاد کا تصور دیگر توانائیوں سے زیادہ جلو گر تھا،وہ لاجواب اور حیرت انگیز اجتماعی سر گرمی میں مشغول تھے ۔

معاد پر ایمان کے روحی فوائد میں سے یہ ہے کہ انسان کی روح ہمیشہ اس ایمان سے زندہ ہے وہ جانتا ہے کہ اگر وہ کبھی کسی مظلومیت یا محرومیت سے دوچار ہو ا تو ایک دن آنے والا ہے جب انتقا م لیا جائے گا اور اس کا حق اس سے واپس ملے گا اور وہ جو بھی نیک کام انجام دے گا ایک دن اس کی بہترین صورت میں تجلیل وتعظیم کی جائے گی ۔

لیکن انسان کے فردی اور اجتماعی اعمال میں اس کا اثر اس طرح ہے کہ معاد کا معتقد انسان جانتا ہے کہ اس کے اعمال ہمیشہ تحت نظر اور کنٹرول میں ہیں اورا س کے ظاہر وباطن (مخفی وآشکار )اعمال خدائے داناو بینا کے سامنے واضح ہیں ایک دن آنے والا ہے جب پوری دقت سے اس کا حساب وکتاب کیا جائے گا ۔اور یہ عقیدہ انسان میں ایک ایسا کام انجام دیتا ہے جو ہزاروں مخفی پو لیس کے اہل کار اور مامورین سے انجام نہیں پا سکتا ہے ،کیونکہ وہ سب باہر سے کام کرتے ہیں اور یہ ایک داخلی چوکی دارہے جس سے کوئی رازچھپایا نہیں جاسکتا ہے۔