زاد راہ (پہلی جلد) جلد ۱

زاد راہ (پہلی جلد)0%

زاد راہ (پہلی جلد) مؤلف:
زمرہ جات: معاد

زاد راہ (پہلی جلد)

مؤلف: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
زمرہ جات:

مشاہدے: 8512
ڈاؤنلوڈ: 677


تبصرے:

جلد 1 جلد 2
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 34 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8512 / ڈاؤنلوڈ: 677
سائز سائز سائز
زاد راہ (پہلی جلد)

زاد راہ (پہلی جلد) جلد 1

مؤلف:
اردو

گیارہواں سبق

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (١)

*خوف و حزن اور گناہ سے اجتناب

* خوف و حزن اور انسان کی معنوی بلندی

*خوف و حزن میں فرق

* دنیا ، مومن کے لئے زندان اور کافر کے لئے بہشت

* جہنم کی فکر ، مومن کے خوف و حزن کا سبب ہے ۔

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (١)

'' یا اَبَاذرٍ! َلدُّنْیٰا سِجنُ الْمُؤْمِنِ و َ جَنَّةُ الْکَافِرِ وَ مٰا َصْبَحَ فِیها مُؤمِن ِلَّا حَزِیناً ، فَکَیْفَ لٰا یَحْزُن وَ قَدْ َوْعَدَهُ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ َنَّهُ وٰارِدُ جَهَنَّمَ وَ لَمْ یَعِدْهُ َنَّهُ صٰادِر عَنهَا وَ لَیَلْقَیَنَ َمْرٰاضاً وَ مُصیبٰاتٍ وَ ُمُوراً تَغیظُهُ وَ لَیُظْلَمَنَّ فَلٰا یَنْتصَرُ ، یَبَتغِی ثَوَاباً مِنَ ﷲ تَعَالیٰ فَمَا یَزَالُ فیها حَزِیناًحتٰی یفارقها فاذا فارقهاافضی الیٰ الراحه و الکرامة یا اباذر مٰا عُبِدَ ﷲ عَلٰی مِثْلِ طُولِ الْحَزْنِ''

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحتوں کا یہ حصہ خوف و حزن کے بارے میں ہے حدیث کے اس حصہ کا گزشتہ حصہ سے ربط اس لحاظ سے ہے کہ جب انسان اپنی عمر کو خدائے متعال کی عبادت و بندگی حقیقی تکامل و ترقی تک پہنچنے میں صرف کرنا چاہتا ہوتو اسے اس کیلئے وسائل و امکانات کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ان کے ذریعہ اس تکاملی وارتقائی حرکت کیلئے اپنے آپ کو بہتر صورت میں آمادہ کرسکے ۔

انسان کے اندر فیصلہ کرنے کا ارادہ پیدا ہونے کیلئے کچھ خاص مقدمات اور ابتدائی مراحل کا وجود میں آنا ضروری ہے ( انسان کے نفس میں تصورات و تصدیقات اور حالات نفسانی ،احساسات و جذبات کی طرح، ارادہ کے مواقع کو پیدا کرتے ہیں ) لہٰذاا گر وہ مقدمات فراہم ہوئے ، یا ان کے فراہم ہونے کے بعدا ن سے صحیح استفادہ کیا جاسکا تو انسان کی تکاملی و ارتقائی حرکت کیلئے ایک مناسب مواقع فراہم ہوتا ہے ۔

ممکن ہے انسان کے اندر کسی چیز کو پانے کیلئے تمنا پیدا ہولیکن صرف یہ تمنا اس کے ارادہ کی وجہ نہیں بن سکتا ہے لیکن کبھی ایسے حالا ت پیدا ہوتے ہیں جو اسے فیصلہ لینے اور حرکت میں آنے پر مجبور کرتے ہیں ،حقیقت میں وہ حالات اس کیلئے قابل قدر فرصتیں پیدا کرتے ہیں ۔

خوف و حزن اور گناہ سے اجتناب :

من جملہ نفسانی حالات جو انسان کو متحرک ہونے اور گناہ سے اجتناب کا سبب بنتے ہیں ان میں خوف و حزن بھی ہے یہ دو چیزیں انسان کی اچھی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ ہوش میں آئے اور وقت کو غنیمت سمجھ کر اسے بیہودہ اور لغو کاموں میں صرف نہ کرے ،لیکن ہر خوف و حزن قابل ستائش نہیں ہے اور انسان کے دوڑ دھوپ اور کام کرنے کا سبب نہیں بنتے بلکہ وہ حزن جو انسان کو سست اور کاہل بنائے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ دے وہ سر دور ہے ، اس میں اسی طرح وہ حزن بھی قابل مذمت ہے جو انسان کیلئے ناامیدی کا سبب بنے حتی انسان اپنے آپ سے بھی ناامید ہوجائے ۔

بعض خوف و حزن نہ صرف یہ کہ انسان کو حرکت اور سیر الی اللہ کی طر ف ترغیب نہیں دیتے بلکہ اس کیلئے رکاوٹ بھی بنتے ہیں ، جیسے وہ خوف و حزن جو دنیوی امور کے لئے پیدا ہو،مثلاً کسی کے تھوڑے اسا پیسا کھو گیا ، حتی نماز میں بھی اس فکر میں رہتا ہے ، یا وہ خو ف جو مال اور سماجی مقام و منزلت کو کھونے کے سبب وجود میں آتا ہے : مثلاً ڈرتا ہے کہ اسے کسی خاص عہدہ سے معزول کردیں گے ۔

اس قسم کے خوف و حزن انسان کیلئے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔

البتہ کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ دنیوی امور کیلئے حزن خدا سے مربوط ہو ،مثال کے طور پر دنیا میں انسان پر نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں ڈرتا ہو کہ کہیں یہ عذاب الٰہی نہ ہو، قدرتی بات ہے کہ اس قسم کا خوف اسے متحرک و سرگرم کرنے کا سبب بنتا ہے، یا کھوئی ہوئی دولت کے بارے میں سوچ لے کہ یہ خداکا امتحان ہوگا تو یہ حزن اسے بیدار ہونے کا سبب بنتا ہے اور دنیا سے وابستہ نہیں رہتا لہذا ممکن ہے کہ دنیوی نعمت کو کھو جانے یا مصیبت نازل ہونے کا بلاواسطہ سبب انسان کو اخروی اور معنوی تکاملی وترقی کی طرف حرکت کرنے پر مجبور کرے ۔

خدائے متعال مندرجہ ذیل دو آیتوں میں اشاد فرماتا ہے : '' جب ہم پیغمبرو ںکو لوگوں کی طرف بھیجتے ہیں انہیں مشکلات اور سختیوںسے دوچار کرتے ہیں ''

( وَ مَا اَرْسَلْنَا فِی قَرْیةٍ مِنْ نبِیٍ اِلَّا اَخَذْنَا اَهْلَهَا بِالْبَاسائِ وَ الضَّرَائِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُونَ ) ( اعراف ٩٤ )

اور ہم نے جب بھی کسی قریہ میں کو ئی نبی بھیجا تو اہل قریہ کو نافرمانی پر سختی اور پریشانی میں ضرور مبتلا کیا کہ شاید وہ لوگ ہماری بارگاہ میں تضرع و زاری کریں ''

ایک دوسری آیت میں ارشادفرماتا ہے :

( وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلیٰ اُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنَاهُمْ بِالْبَاسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُونَ ) ( انعام ٤٢)

ہم نے تم سے پہلی والی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑگڑائیں ''

یہ جو خداوند متعال اپنے بندوں کو مشکلات اور سختیوں میں مبتلا کرتا ہے ، یہ ان پر اس کے لطف و کرم کی وجہ سے ہے تا کہ ان کی بیداری اور تنبیہ کا سبب بنے اور خواب غفلت سے بیدار ہو جائے اوراس کے اندر حق کو قبول کرنے کیلئے بیشتر آمادگی پیدا ہوکیونکہ جب تک انسان لذت ، مسرت اور کامیابی میں غرق رہتا ہے ، آخرت سے مربوط حق کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوتا ۔

خوف و حزن اور انسا ن کی معنوی بلندی :

کہا گیا کہ آخرت کے بارے میں خوف و حزن اس کی معنوی بلندی کا سبب بنتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں خداوند متعال فرماتا ہے ۔

( وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّه وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَویٰ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ المَویٰ ) (نازعات ٤٠ ۔ ٤١)

اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اس کا ٹھکانا اور مرکز جنت ہے ۔

گناہ سے پرہیز اور خداوند متعال کے خوف کے بارے میں تقویٰ کینقش کو بیان کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''عِبادَﷲ اِنَّ تَقْویٰ ﷲ حَمَتْ اَوْلِیَائَ ﷲ مَحَارِمَهُ وَ اَلْزَمَتْ قُلُوبَهُمْ مَخَافَتَهُ حَتّیٰ اَسْهَرَتْ لَیالِیَهُمْ وَ اَظْمَاَتْ هَوَاجِرَهمْ ''(۱)

اے بندگان خدااللہ کا تقویٰ اور اس کا خوف، خداکے دوستوں کو حرام کام میں مرتکب ہونے سے بچاتا ہے اور ان کے دلوں میں ( عذاب کا) خوف وہراس ڈالتا ہے کیونکہ انہیں نمازا ور راز و نیاز کیلئے راتوں کو بیدارنیز شدت کی گرمیوں میں روزہ کیلئے پیاسے رکھتا ہے ۔

دوسری جگہ پر خداکے خوف کو حسن ظن کی علامت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

''وَ اِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ ظَنّاً بِﷲ اَشَدُّهُمْ خَوْفاً ﷲِ ''(۲)

خدائے متعال کے بارے میں زیادہ حسن ظن رکھنے والے لوگ اس سے زیادہ ڈرنے والے ہوتے ہیں '''

خوف و حزن میں فرق :

انسان پر اس وقت رنج و غم طاری ہوتا ہے ، جب اس سے کوئی نعمت چھین لی جاتی ہے یا اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے، فطری بات ہے کہ انسان کی یہ حالت اس کے ایک ایسے کام سے مربوط ہے جو ماضی میں انجام پایا ہے مثال کے طور پر انسان نے کوئی ایسا برا کامکہ جس کا نتیجہ برا تھا ،کوئی برا کلام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ رسوا اور بے عزت ہوا جس کے نتیجہ میں ر نج و غم میں مبتلا ہوا ہے، یا اس کے پاس ایک دولت تھی جس سے وہ کافی استفادہ کرسکتا تھا لیکن اسے کھو چکا ہے بہر صورت انسان پر حزن و غم اسی وقت طاری ہوتا ہے جب وہ کچھ فرصتوں کو ہاتھ سے کھو د یا ہے یا کوئی نعمت اس سے چھن جاتی ہے یا کوئی مصیبت اس پر نازل ہوتی ہے ۔

البتہ خوف اس امر اور روئداد سے مربوط ہے جو آئندہ پیش آنے والی ہو انسان ڈرتا ہے کہ کوئی پریشانی اس کیلئے پیش آئے ، کوئی مصیبت یا عذاب اس پر نازل ہو یا کوئی نعمت اس سے چھین لی جائے حقیقت میں حزن اور خوف دو مشابہ نفسیاتی خصوصیات ہیں ان میں صرف اتنا فرق ہے کہ ا س میں ایک کا تعلق ماضی سے ہے اور دوسری کا تعلق مستقبل سے ہے ۔

چونکہ اس دنیا میں ہمیشہ خطرہ کے بادل اس کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں لہذا انسان میں خوف کاہونا ایک قدرتی بات ہے کیونکہ انسان نقصان اٹھانے والی ایک مخلوق ہے اس لئے ممکن ہے اس کی زندگی کی صحت و سلامتی اور اس کا عیش و آرام خطرہ سے دوچار ہو ۔

مومن اور غیر مومن میں یہ فرق ہے کہ مؤمن عمومی اسباب و علل کے بارے میں مستقل نظر نہیں رکھتا ہے اور تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے جانتا ہے اس لئے خدائے متعال سے ڈرتا ہے کیونکہ عوامل کو اس کے ہاتھ میں دیکھتا ہے صرف اسی پر امید رکھتا ہے چونکہ وہ غیر خدا کیلئے صرف واسطہ کی حیثیت کا قائل ہے ۔

ایک حدیث میں آیا ہے :

''مَن خاف ﷲاخاف ﷲ منه کلَّ شیئٍ وَ مَن لم یخف ﷲ اخافه ﷲ من کل شیئٍ ''(۳)

جو خدا سے ڈرتا ہے خداوند متعال اس کے ذریعہ سے دوسروں کو ڈراتا ہے اور جو خدا سے نہیں ڈرتا ہے خداوند متعال اس کو ہر چیز سے ڈراتا ہے ۔

جب مؤمن کو معلوم ہوتا ہے کہ تمام عوامل و اسباب خدا کے ہاتھ میں ہیں اور کائنات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے تو وہ دوسروں کے متعلق کسی قسم کے استقلا ل اور اختیار کا قائل نہیں ہو تا کہ اس سے ڈرے بلکہ وہ صرف خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ خداوند متعال پر ہی تکیہ اور بھروسہ کرتا ہے اور صرف اسی سے ڈرتا ہے ، ہر روز اس کا ایمان تقویت پاتا ہے اس کے نتیجہ میں خداوند متعال اسے ایک ایسی قدرت عطا کرتا ہے کہ وہ خداکے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتا اور دوسرے اس سے مغلوب ہوکر ڈرتے ہیں وہ باطل کے سامنے جھکتا نہیں ہے اور جس چیز کو فرض سمجھتا ہے اسے انجام دیتا ہے لیکن جو خدا سے نہیں ڈرتا ، لوگ اس سے بھی نہیں ڈرتے اور وہ اپنی حیثیت کے تحفظ کیلئے ان سے ساز باز کرتا ہے اور جستجو کرتا ہے کہ دوسروں کو اپنے بارے میں راضی رکھے ۔

انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب دنیوی امور میں مست و مدہوش ہوتا ہے تو خدا اور معنویات کی طرف توجہ نہیں کرتا ہے اس لئے قرآن مجید میں اس قسم کی مستی اور شادمانی و مسرت کی مذمت کی گئی ہے

( وَ لَئِنْ اَذَقْنَاهُ نَعْمَائَ بَعْدَ ضَرَّائَ مَسَّتْهُ لَیَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّیِّئاتُ عَنِّی اِنَّهُ لَفَرِح فَخُور ) ( ہود ١٠)

اور اگرہم نے پریشانی و تکلیف کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھایا تو کہتا ہے کہ اب تو میری ساری برائیاں چلی گئیں اوروہ خوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام دنیا کی نعمتوں کے بارے میں مسرت اور شادمانی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

(مَا بالکم تَفْرَحُون بالیَسِیر من الدُّنیٰا تُدرکونه و لَا یَحزُنکم الکَثِیر مِنَ الآخِرَة تُحرمونه ...)(۴)

تمھیں کیا ہوا ہے ،جب تھوڑی سی دنیا ملتی ہے تو خوشحال ہوتے ہو اور آخرت کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہو کر غمگین نہیں ہوتے؟

اس شادمانی اور مستی کے مقابلہ میں ماضی کا حزن و غم اور مستقبل کا خوف قرار پایا ہے جو انسان کو خداوند متعال کی اطاعت عبادت و بندگی کیلئے آمادہ کرتا ہے اسی لئے ان دو ذہنیتوں اور نفسانی احساس کی ستائش کی گئی ہے، جیسا کہ بعض روایتوں کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی جماعت میں حزن و غم ہو ، خداوند متعال اس جماعت پر اس حزن کی وجہ سے رحمت نازل فرماتا ہے بنیادی طور پر ہدایت اور انبیاء و اولیاء کی دعوت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، جن کے دل میں خوفِ خدا ہو:

( اِنَّمَا تُنْذِرُالَّذِینَ یَخْشَونَ رَبَّهُم بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ) ( فاطر ١٨)

آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جواز غیب خدا سے ڈرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں ۔

جو لوگ خداوند متعال سے نہیں ڈرتے ، ان پر انبیاء کی دعوت بے اثررہتی ہے اور ان کی تربیت نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ خداوند متعال فرماتا ہے :

( سَوَائ عَلَیهِمْ ئَ اَنْذَرتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرهُم لَا یُؤْمِنُونَ ) ( بقرہ ٦)

ان کیلئے سب برابر ہے ، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ''

خدا سے خوف کا مفہوم : انسان اس چیز سے ڈرتا ہے جو اس کیلئے خطرہ ہو اور اسے نقصان پہنچاتی ہوپس خداوند متعال کے خوف کا کیامعنی ہے جبکہ وہ اپنے بندوں میں سے کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا ہے ؟ مختصر طورپر کہا جاسکتا ہے : حقیقت میں انسان کو پہنچنے والے خطرہ اور نقصان سے خوف ہوتا ہے اور خطرہ و نقصان پہنچانے وا لے سے غیر ارادی اور عارضی خوف ہوتا ہے جب انسان کسی دشمن سے ڈرتا ہے حقیقت میں وہ اس کی طرف سے پہنچنے والی جسمانی اذیت سے ڈرتا ہے اور خود دشمن سے جو خوف ہے وہ عارضی ہے ۔

مادی لحاظ سے جب انسان کو یقین حاصل ہوتا ہے کہ کائنات کے اختیارات اور اسباب خداوند متعال کے ہاتھ میں ہیں ، تو اس کا خدا سے ڈرنا در اصلقہر طبعی اور دنیوی مصیبتوں سے ڈرنے کے معنی میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب خداوند متعال اس پر غضب کرتا ہے تو طبعی اور مادی عوامل اس پر غضب کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر زلزلہ ، سیلاب اور دوسری زمینی اور آسمانی بلاؤں سے دوچار ہوتا ہے قہر طبعی( زلزلہ طوفان) خداوند متعال کے غضب کا سرچشمہ ہوتا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے اس حصہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ حزن و خوف قابل قبول ہے جو شعوری طورپر یا غور و خوض کے بعد انسان کے اندرپیدا ہو اور اس کے بعد انسان خدا اور اپنے کمال کی راہ میں قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے ہر حزن و خوف قابل قبول نہیں ہے۔

جو ناراضگی و غصہ انسان کو غرق کرکے اسے کاروبار زندگی سے روک دے وہ مطلوب نہیں ہے ، مثلا انسان جاہتا ہے کہ مطالعہ کرے لیکن وہ غصہ اسے اپنی طرف مصروف لر لیتا ہے ، انسان چاہتا ہے کہ نماز پڑھے لیکن دنیوی پریشانیاں اسے خدا کی طرف متوجہ ہونے نہیں دیتیں ، اس طرح کا غم اور حزن نہ صرف مطلوب نہیں ہے بلکہ راہزن ہے.

بعض لوگ بزدل ہوتے ہیں اگر انہیںیہ احتمال ہوتا کہ انہیں کسی خطرہ کا سامنے ہے اپنے عیش و آرام کو کھودیتے ہیں حتی اگر انھیں احتمال ضعیف بھی ہو ،اس طرح کے خوف کی کوئی وقعت نہیں ہے بلکہ اس خوف و حزن کی قدر و قیمت ہے جو انسان کی معنوی ترقی سے مربوط ہے اس طرح اطاعت و بندگی سے خوف و حز ن کا رابطہ واضح ہوگیا اوربسا اوقات ایسا ہوتا ہے انسان کمال و سعادت کے مقام تک پہنچنے میں مذکورہ ان دو حالتوں سے بنحواحسن استفادہ کرتا ہے ۔

دنیا ، مومن کے لئے زندان اور کافر کے لئے بہشت :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، خوف و حزن کی کیفیت و حالت اور ان دو نفسیاتی احساس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

''یا اَبَاذرٍ! َلدُّنْیٰا سِجنُ الْمُؤْمِنِ و َ جَنَّةُ الْکَافِرِ وَ مٰا َصْبَحَ فِیها مُوْمِن ِلَّا حَزِیناً ''

اے ابوذر! دنیا مؤمن کیلئے زندان اور کافر کیلئے بہشت ہے ، کوئی بھی مومن غم و اندوہ کے بغیر صبح نہیں کرتا ہے یعنی رات نہیں گزارتا ہے ۔

جب مؤمن میں یہ احساس اجاگر ہوجائے کہ وہ زندان میں ہے ، وہ توقع نہیں رکھ سکتا ہے کہ خوشی و مسرت میں زندگی بسر کرے اور اس فکر میں نہیں ہوتا ہے کہ دنیوی لذتوں میں سرگرم رہے ، وہ دنیوی نعمتوں سے اس حد تک استفادہ کرتا ہے کہ '' سیر الی اللہ '' کیلئے تقویت پیدا کرے ، وہ ہر نعمت سے استفادہ کرنے اور ہر لذت کو پانے کے بعد خدا کا شکر بجالاتا ہے ۔

اس کے بر عکس ، دنیا کافر کی بہشت ہے ، کیونکہ وہ جب تک دنیا میں ہے اپنے لئے آسائش اور لذت کیلئے جستجو کرسکتا ہے اور اگر اس کیلئے کوئی آرام و آسائش ہے بھی تو وہ دنیا ہی تک محدود ہے ، کیونکہ وہ اپنے برے اعمال کی وجہ سے قیامت میں عذاب الٰہی میں مبتلا ہوگا ۔ خدا کا عذاب اور غضب اس قدر شدیدیا سخت ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود دنیا اس کیلئے بہشت ہے ۔

ایک مشہور داستان ہے کہ ایک یہودی شخص کہ فقیر اور مریض تھا حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ایسے وقت میں آیا کہ امام علیہ السلام ایک لباسِ فاخرہ زیب تن کئے ہوئے گھوڑے پر سوار تھے اس یہودی نے امام علیہ السلام سے کہا: آپ کے جد نے فرمایا ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے بہشت ہے کیا اس حالت میں جب کہ آپ اس شان و شوکت سے گھوڑے پر سوا رہیں یہ دنیا آپ کیلئے بہشت ہے یا مجھ فقیر اور مریض کیلئے ؟ اس فقر و تنگدستی کے ساتھ یہ دنیا میرے لئے جہنم ہے نہ بہشت یا آپ کے لئے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم جانتے کہ خدائے متعال نے تمھارے لئے کتنا سخت عذاب مقرر فرمایا ہے ، تو تمہیں معلوم ہوتا کہ اسی ناگفتہ بہ حالت میں بھی دنیا تمھارے لئے بہشت ہے اس کے مقابلہ میں اگر تم دیکھتے کہ خداوند تعالیٰ نے ہمارے لئے بہشت میں کتنا عظیم مقام مقرر فرمایاہے ، پھر تم کو پتہ چلتا کہ اگر پوری دنیا بھی ہمیں بخش دی جاتی تو بھی بہشت کے مقام کے مقابلہ میں ایک قید خانہ سے زیادہ نہیں ہے۔

جب دنیا مؤمن کا زندان ہو ، تو فطری بات ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ غم و اندوہ میں رہے گا کیونکہ زندان خوشیاں منانے کی جگہ نہیں ہے ۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ اس روایت میں حزن کی ستائش اس معنی میں نہیں ہے کہ ہر حزن قابل ستائش ہے اور انسان کوسعی کرنا چاہیے تاکہ ہمیشہ حزن و غم میں رہے، اس روایت سے اس طرح عمومی معنی کا قصد نہیں کرنا چاہیے ۔ بیشک ، اس قسم کے موعظوں میں ذکر کئے گئے مطالب مقید ہوتے ہیں اور ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن خداوند متعال اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلمات میں تحقیق اور ان سے مانوس ہونے کے بعد معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کن مواقع پر وسیع اور عام حکم کا دائرہ محدود ہوتا ہے ۔

جہنم کی فکر مومن کے خوف و حزن کا سبب ہے :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مومن کے غمگین ہونے کی علت کے بارے میں فرماتے ہیں :

''فَکیف لا یحزن و قد اوعده ﷲ جل ثناؤه انه وارد جهنم و لم یعده انه صادر عنها ''

اس کے پیش نظر کہ خداوند متعال نے خبر دیدی ہے کہ انسان جہنم میں داخل ہوگا اور وعدہ نہیں دیا ہے کہ قطعاً وہ جہنم سے نکلے گا، تو مومن کیوں کرغمگین نہ رہے ۔

انسان ، خاص کر مؤمن کے حزن و اندوہ کا سبب یہ ہے کہ وہ خدائے متعال کے اس قطعی وعدہ کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے کہ تمام انسان جہنم میں داخل ہوں گے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس نکتہ کو بیان فرماکر حزن پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔

خداوند متعال اس سلسلہ میں فرماتا ہے :

( وَ اِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُها کَان َ عَلٰی رَبِّکَ حَتْماً مَقْضِیاً ) ( مریم ٧١)

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جوجہنم میں داخل نہیں ہوگا ، یہ تمہارے رب کا حتمی فیصلہ ہے قرآن مجید کی فرمائش اور خداوند متعال کے قطعی حکم پر مؤمن کو یقین ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا اور کسی نے یہ ضمانت نہیں دی ہے کہ وہ جہنم سے نکلے گا بیشک جن پر خداوند متعال کا لطف و کرم ہو اور حکم خدا پر عمل کرنے کی توفیق حاصل کرچکے ہوں وہ جہنم سے نکلیں گے ، لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ ان میں سے ہوگا یا نہیں ۔ یہی فکر ا س کے غم واندوہ کیلئے کافی ہے وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہے، اس لحاظ سے خوشحالی اس کیلئے مفہوم نہیں رکھتی ہے اور یہ فکر او رغم اسے غفلت سے روکتی ہے ۔

یہ شک و اضطراب انسان کو مجبور کرتا ہے تا کہ وہ ہوش میں آئے اور مستی اور شادمانی کی کیفیت سے اجتناب کرے اور اپنے انجام کے بارے میں سوچے ، لیکن دنیا میں اور بھی اسباب و عوامل ہیں جو انسان کیلئے حزن و غم کا باعث بنتے ہیں ، جیسے بیماریوں میں مبتلا ہونا اور مصیبتیں یا یہ کہ کسی انسان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور وہ اپنے حق کو حاصل نہیں کرسکتا ، اس بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

'' و لیلقین امراضاً و مصیباتٍ و اموراً تغیظه و لَیُظْلمَّن فلا ینتصر، یبتغی ثواباً من ﷲ تعالیٰ''

با ایمان انسان بیماریوں ، مصیبتوں ، حوادث اور مشکلات سے دوچار ہوتا ہے ، ظلم برداشت کرتا ہے ، لیکن کوئی اس کی مدد نہیں کرتا ہے ( اس لحاظ سے ) وہ خدائے متعال سے اجر کی درخواست کرتا ہے

اگر چہ غم و اندوہ کے اسباب و علل اور بھی بہت سے ہیں ، لیکن جو حزن ان میں سے بعض کی وجہ سے وجود میں آتا ہے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ہے اور انسان کی اصلاح میں کوئی رول ادا نہیں کرتا ہے ، کیونکہ یہ غم و اندوہ تمام لوگوں کو پیش آتا ہے لیکن وہ حزن و اندوہ کافی مطلوب اور مؤمن کی اصلاح میں مؤثر ہے ، جو اس میں یہ جان کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا اور ممکن ہے وہاں سے باہر نہ آسکے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں :

'' فَمَا یَزَالُ فیها حَزِیناً حتٰی یفارقها ، فاذا فارقها افضی الیٰ الراحه و الکرامة''

مؤمن دنیا سے غمگین حالت میں جاتا ہے ، لیکن جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو آرام و آسائش اور خدا کے لطف وکرم کی طرف گامزن ہوتا ہے ''

جیسا کہ بیان ہوا ، مؤمن جب تک دنیا میں ہے مشکلات اور ناگواریوں سے دوچار ہوتا ہے اور نتیجہ میں غمگین رہتا ہے یا جب اپنے انجام کے بارے میں فکر کرتاہے اور اپنے ماضی کی غلطیوں پر غور کرتا ہے ، تو غمگین ہوتا ہے پس جب وہ مشکلات او رمصیبتوں سے بھری اس دنیا سے ابدی دنیا اور حق کی طر ف چلا جاتا ہے تو اس کا غم و اندوہ ختم ہوجاتاہے اور وہ مسرت و شادمانی کا دور شروع ہوتا ہے ۔

'' یا اَباذر ! ما عبدﷲ علی مثل طول الحزن''

اے ابوذر ! خداوند متعال کی کبھی ، طولانی حزن و اندوہ کے مانند عبادت نہیں کی گئی ہے ۔

جو بندہ ہمیشہ خدا سے ڈرتا تھا ، اس نے تمام مشکلات کے مقابلہ میں صبر کیا ہے ، اور دوسروں سے زیادہ خدا کی بندگی کی ہے ۔

فطری بات ہے جب انسان اپنے انجام اور کرتوت کے بارے میں خائف اور محزون ہوگا ، تووہ بیشتر گریہ و زاری کی حالت میں بارگاہ الٰہی کی طرف رجوع کرے گا اور نتیجہ کے طورپر اپنے آپ کو گناہ کی آلودگی سے پاک و طاہر رکھے گا اسی طرح وہ بیداری اور ہوشیار ی سے بنحو احسن خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور عبادت کی قبولیت کیلئے جس اخلاص کی شرط ہے وہ اسے بہتپوری طرح سے فراہم ہے اس لحاظ سے کہ حزن و اندوہ بذاتِ خود عبادت ہے ، کیونکہ یہ حزن و اندوہ بندہ کو مقام بندگی اور خداوند متعال کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے خداوند متعال کی مخلصانہ عبادت کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو مناسب ہے یہاں پر مؤمن کی موت اور خدا سے ملاقات کے وقت حالت و مقام کے بارے میں چند احادیث بیان کریں ۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ موت کے وقت مؤمن سے دو فرشتے کہتے ہیں ؛

''یَاوَلِی ﷲ لاتَحزَنْ ولاتَخشِ واَبْشِرواستبشرلیس هٰذالک ولاانت له،انَّما اراد ﷲ تعالیٰ ان یریک من ایّ شیئٍ نجاک و یذیقک بردَ عفوه ، قد اغلق هذا البابُ عنک و لا تدخل النار ابداً ''(۵)

اے ولی خدا ! غمگین نہ ہونا اور نہ ڈرنا تمہیں ( بہشت بریں کی ) بشارت ہو اور خوش و شادمان ہوجاؤ نہ تم خوف اندوہ کے سزاوار ہو اور نہ اس کے مستحق ہو ، بیشک خدائے متعال نے ارادہ کیا ہے کہ تجھے ہر رنج و عذاب سے نجات دے ۔

عفو و بخشش کا گوارا پانی تجھے پلائے ، بیشک جہنم ( کا دروازہ ) تمھارے لئے بند ہوگیا ہے اور تم ہر گز جہنم میں داخل نہیں ہو گے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''حدثنی اخی و حبیبی رسول ﷲ، قال:من سرّه ان یلقی ﷲ عز و جل

وهو مقبل علیه غیر معرض فلیتولک یا علی و من سره ان یلقی

ﷲو هو راض و لا خوف علیه فلیتول ابنک الحسن علیه السلام

و من احب ان یلقی ﷲ و لا خوف علیه فلیتول ابنک الحسین علیه السلام ''(۶)

میرے دوست اور بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

جو اس بات پر خوشنود ہوناچاہئے کہ خدا اس سے ملاقات کرے اور اسے قبول کرے اور اسے رد نہ کرے ، اسے چاہیے کہ تجھے اپنا ولی اور محبوب قرار دے اور جو اس بات سے مسرور ہونا چاہے کہ خدا سے ملاقات کرے اور خدا اس سے راضی ہوجائے ، اسے تمہارے بیٹے حسن علیہ السلام کو اپنا ولی اور محبوب قرار دینا چاہیے ، اور جو خدا سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہو اور کسی قسم کے خوف و ہراس سے دوچار نہیں ہونا چاہئے اسے چاہئے کہ تمہارے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو اپنا ولی اور محبوب قرار دے''

____________________

١۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ،خطبہ ١١٣ ، ص ٣٥٣

٢۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ، ص ٨٨٧

۳۔بحار الانوار ،ج٧٩ص٤٠٦

۴۔ نہج البلاغہ ( ترجمہ فیض الاسلام) خ ١١١ص ٣٥٠

۵۔ بحار الانوار ، ج ٨ ص ٢١ ، ح ٢٠٥)

۶۔بحار الانوار ج٢٧، ص ١٠٧ ، ح ٨١