گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)0%

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف) مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 138

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

مؤلف: حجة الاسلام شیخ محمد حسین بهشتی
زمرہ جات:

صفحے: 138
مشاہدے: 9927
ڈاؤنلوڈ: 255

تبصرے:

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 138 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9927 / ڈاؤنلوڈ: 255
سائز سائز سائز
گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

گل نرگس مهدئ صاحب زمان(عجّ اللہ فرجہ الشریف)

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

مشخصات کتاب

نام کتاب: گل نرگس مہدئ صاحب زمان

مولف: حجة الاسلام شیخ محمد حسین بہشتی

تدوین و تنظیم: سید سجاد اطہر موسوی

طباعت: اول

ناشر: موسسہ قائم آل محمد ؑ

۳

مقدمہ:

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں(۱)

خداوند عالم کی بارگاہ اقدس میں نہایت عجزو انکساری کے ساتھ عرض گزار ہیں کہ اس عطا کردہ توفیقات سے بقیة اللّھی اور خیر خدائی حضرت امام زمانہ ؑکی صادقانہ خدمت کا یہ قدم ِخیر آنحضرت کے محضر مبارک میں خیر من الف خیر قرار دے اور اپنے اس منصور کی نصرت میں ناصر و مددگار رہے۔ اپنی مزجاة بضاعت اور ناچیز توان و طاقت کے مطابق ہمارا یہ اقدام اس نظریہ کے تحت ہے کہ اس طرح سے اپنے زمانے کے امام ؑکی مؤدت کا کچھ حق ادا ہو جائے ،اگر چہ جس قدر بھی اس سلسلے میں ہم سعی و کوشش کریں ،پھر بھی نہایة اس نتیجہ پر پہنچیں گے (حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا)بہر حال سعی مقدور کے مطابق بقول شاعر:

____________________

(۱)علامہ محمد اقبال

۴

آب دریا را اگر نتو ان کشید

ہم بقدر تشنگی با ید چشید

اور جہاں تک قبولیت کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ دروازۀ کرم پر معیار قبولیت کمیت نہیں بلکہ نیت اور کیفیت ہواکرتی ہے لهٰذا اگر جوہر اخلاص عطا ہو جائے تو عمل کی قلت قبولیت سے محرومیت کا باعث نہیں ہو سکتی اور ان کی جود و سخا اور بخشش انسان کے لئے حوصلہ افزاہوتی ہے.

(باکریمان کارہا د شوار نیست)

اس خدمت کے پیش نظر یہ حدیث قابل ذکر ہے کہ معصوم علیہم السلام فرماتے ہیں :۔

(من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة الجاهلية )(۱)

''یعنی جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے'' ۔

____________________

(۱) بحار ج ٢٣ ، صص٢٦-٩٥

۵

لهٰذا اہل علم حضرات پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ:

اولاً :وہ خود اس عظیم معرفت کے حصول کے لئے جدو جہد و توان بذل کریں

ثانیاً: اس نور معرفت کو پھیلا کر انسانیت کی خدمت کریں ، در حقیقت یہ معرفت ایسا انمول خزانہ ہے جو توحید و وحدانیت کی صحیح معرفت کی اساس ہے۔

(اَلّلهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکْ فاِ نّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ رَسُوْلَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّفْنِیْ رَسُولَکَ فَاِ نَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّْفِنی حُجَّتَکْ فَاِنَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکْ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِی )(۱)

____________________

(۱) بحار الانوار؛ج، ٥٣، ص ١٨٧

۶

امام عصر ؑپر عقیدہ رکھنا صرف شیعوں تک محدود نہیں بلکہ اہل تسنّن کی اکثریت بھی اسی عقیدے کے قائل ہیں اس کی واضح دلیل بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو حضرت امام عصر ؑکے بارے میں اہل سنت علماء اور دانشوروں نے لکھی ہیں ، لهٰذا ہم آج کے سیاسی نظریات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت امام زمان ؑکی شخصیت جو کہ شیعہ و اہل سنت کے درمیان ایک مشترک عقیدہ ہے اس کو مزید تقویت دیں ، یہ کتابچہ بھی، عدل کل، مصلح جہاں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں مخصوص منابع اہل تشیّع اور منابع اہل تسنّن پرمبتنی ہے، کیونکہ آج اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور امام زمان ؑکی شخصیت کو اپنے باطل اہداف کا نشانہ بنایا رکھاہے اور نظریہ امام زمان ؑکو خراب کرنے کے لئے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی بوچھاڑ کر رکھی ہے، عقیدہ مہدویت سے خائف ہو کر مسلمانوں اور مومنین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے باطل طاقتوں کے درہم و دینار اور ڈالر حرکت میں آئے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے ھالی ؤوڈ کی وہ فلیمیں جو امام زمان ؑکے خلاف بنائی گئی ہیں اس سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آج امریکہ اور اسرائیل خط مقدم پر اس نظریہ کے خلاف تیزی کے ساتھ مخفیانہ اور اعلانا کام کررہے ہیں ایسی صورت میں ہر سچے مسلمان اور مؤمن کا فریضہ ہے کہ اپنی توان کے مطابق اس عقیدہ اور نظریہ کی حفاظت اور دفاع کے لئے کام کرے اسی ضرورت کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس کتابچہ کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہے تاکہ ہماری نئی نسلیں دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں اور امام زمانہ کی معرفت حاصل کریں ۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(لطف عالی متعالی)

محمد حسین بہشتیؔ

مشہد مقدّس ایران

۷

امام مہدی ؑکا مختصر تعارف

نام: محمد

لقب: مہدی (عج)

کنیت: ابالقاسم

والد ماجد: امام حسن العسکری علیہ السلام

والدہ گرامی: نرجس خاتون

جائے ولادت: سامراء

سال ولادت: ۲۵۵ ہجری

مدّت عمر: خدا ہی بہتر جانتا ہے

ولادت کیسے ہوئی؟

شیعوں کے بارھویں امام ؑنے مشہور ترین قول کے مطابق شب جمعہ نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری ق کو شہر سامرہ میں آنکھیں کھولیں ۔(۱)

شیخ مفید علیہ الرحمہ کا قول:۔ آپ کے پدر گرامی حضرت امام حسن عسکری ؑکے ہاں آپ کے علاوہ نہ ظاہراً اور نہ ہی باطناً کوئی فرزند تھا۔ آپ کی حفاظت بھی خفیہ طور پر کرتے رہے(۲) ۔

____________________

(۱) کافی؛ ج ١ ، ص ۵۱۴

(۲)المفید؛ ص ۳۴۶

۸

اس نیمہ شعبان ۱۴۳۲ ہجری كو حضرت امام زمانہ ؑکی غیبت کے ۱۱۷۷ سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ جب تک خدا چاہے یہ تسلسل جاری و ساری رہے گا۔

آپ ؑ کی والدہ گرامی کا اسم مبارک نرجس خاتون ہے البتہ سوسن ،صیقل، ملیکا بھی کہا جاتا ہے(۱) آپ ''یوشع '' کی بیٹی تھیں ، دادھیال کے اعتبار سے قیصر روم کی پوتی تھیں اور نانیہال کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ مسیح کے جانشین جناب شمعون کی نواسی ہوتی تھیں حضرت نرجس خاتون معجز انہ طریقہ سے حضرت امام حسن عسکری ؑکے تحت عقد آگئی(۲)

____________________

(۱) الصدوق؛ ص ۴۳۲

(۲) کمال الدین و تمام النعمۃ؛ ج ۲ , ص ۴۲۳، ۴۱۷

۹

اہل بیت علیم السلام کے دشمن بنی امیہ اور بنی عباس کے حکمران حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نام سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کی طرف سے اس طرح کی روایت نقل ہوئی تھی کہ خاندان پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام میں سے ایک شخص بنام مہدی ؑظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور ظلم و ستم کا قلع قمع کریں گے۔ لهٰذا یہ ظالم لوگ اس انتظار میں تھے کہ یہ جب دنیا پر آئے تو اسے فوراً قتل کر ڈالیں ۔

حضرت امام محمد تقی ؑکے بعد آہستہ آہستہ ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا گیا اور خاندان عصمت و طہارت پر دنیا تنگ ہوتی گئی یہاں تک کہ حضرت امام حسن عسکری ؑکے زمانے میں یہ ظلم وبر بریت اپنے عروج کو پہنچ چکاتھا۔ امام حسن عسکری ؑکی پوری زندگی ،شہر سامراء میں فو جی چھاؤنی میں حکومت کے زیرنظررہے۔حضرت امام حسن عسکری ؑکے گھر میں معمولی رفت وآمد، حکومت سے مخفی نہ تھی؛ ایسی صورت حال میں آخرین حجت خدا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کیسے آشکار طریقے سے دنیا میں آتے؛ لهٰذا جب آپؑ کی ولادت نزدیک ہوئی تو حضرت نرجس خاتون میں حاملگی کے کوئی آثار موجود نہ تھے۔ حضرت امام حسن عسکری ؑنے فرمایا:۔ خدا کی قسم !میرے فرزند کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ لوگ اس وقت تک ہلاکت سے نجات نہیں پاسکیں گے جب تک وہ میرے فرزند کی امامت پر ثابت قدم نہ رہیں اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرتے نہ رہیں ۔(۱)

____________________

(۱) الصدوق؛ ج ۲،ص ۴۴۴- ۴۳۴

۱۰

دعائے تعجیل ظہور امام مہدی ؑکے فوائد

حضرت امام زمان ؑنے فرمایا:۔ میرے ظہور کی تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کیا کریں کیونکہ اسی میں تمہارے لئے فرج(آسانی) ہے۔

۱. نعمتوں میں اضافہ ہوگا۔

۲. یہ اظہا،ر محبت قلبی کی علامت ہے۔

۳. ائمہ طاہرین علیہم السلام کے فرامین کو زندہ کرنا ہے۔

۴. شیطان کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

۵. خداوند عالم کے دین کو زندہ رکھتا ہے۔

۶. حضرت کی دعا شامل حال ہونے کا موجب ہے۔

۷. اجر رسالت کو ادا کرنا ہے۔

۸. خداوند عالم کی اطاعت کرنا ہے۔

۹. دعا قبول ہونے کی علامت ہے۔

۱۰. بلائیں دور ہو جائیں گی۔

۱۱. رزق میں وسعت کا باعث ہے۔

۱۲. گناہوں کے پاک ہونے کا سبب ہے۔

۱۳. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں میں شامل ہو جائیں گے۔

۱۴. امام ؑکا ظہور پر نور جلد ہو جائے گا۔

۱۵. دین خدا کی مدد و نصرت کرنے والوں میں سے ہونگے۔

۱۶. اہل بہشت میں سے ہونگے۔

۱۷. دعا اولو الامر کی اطاعت ہے۔

۱۱

۱۸. قیامت کے دن حساب و کتاب میں آسانی ہو گی۔

۱۹. دعا بہترین عبادت ہے۔

۲۰. شعائر اللہ کی تعظیم ہے۔

۲۱. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔

۲۲. برائی اچھائی میں بدل جائے گی۔

۲۳. اہل زمین کے عذاب میں کمی واقع ہو گی۔

۲۴. خداوند کریم کی رحمت شامل حال ہو گی۔

۲۵. قیامت کے دن امام زمانہ ؑکی شفاعت نصیب ہو گی۔

۲۶. قیامت کے دن تشنگی دور ہو جائے گی۔

۲۷. فرشتے اس کے حق میں دعا کریں گے۔

۲۸. دعا عالم برزخ میں اس کی مونس ہو جائے گی۔

۲۹. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جنگ و جہاد میں شہید ہونے والوں کا درجہ حاصل ہو گا۔

۳۰. حضرت امام زمانہ ؑکے پرچم تلے شہید ہونے کا ثواب نصیب ہو گا۔

۳۱. حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان ؑپر احسان کرنے کا ثواب نصیب ہو گا۔

۳۲. قیامت کے روز عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

۳۳. حضرت فاطمةالزہرا سلام اللہ علیہا کی شفاعت نصیب ہو گی۔

۳۴. آخرالزمان کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہیں گے۔

۳۵. حج کا ثواب ملے گا۔

۳۶. عمرہ کا ثوب ملے گا ۔(۱)

____________________

(۱) مکیال المکارم ؛ج ١ ، کمال الدین ؛ ج ٢، ص ۳۸۴

۱۲

وظائف منتظران

اس کتاب میں منتظران امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے کچھ وظائف تحریر کئے گئے ہیں ۔

١۔ حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان ؑکی معرفت

٢۔ امام زمان ؑکے اسمائے گرامی کا عزت و احترام کرنا۔

٣۔ حضرت امام زمان ؑکے ساتھ خاص محبت۔

٤۔ لوگوں کے درمیان حضرت امام زمان ؑکا اسم مبارک عزت و تعظیم سے لینا۔

٥۔ آپؑ کے ظہور پر نور کا انتظار کرنا۔

٦۔ حضرت ؑ کے دیدار کا مشتاق رہنا۔

٧۔ لوگوں کے درمیان حضرت ؑ کا زیادہ تذکرہ کرنا۔

٨۔ آپ ؑ کی جدائی میں غمگین و اندھناک رہنا۔

٩۔ مجالس و محافل میں شرکت اور حضرت کا ذکر خیر کرنا۔

١٠۔ حضرت امام زمان ؑسے منسوب مجالس و محافل منعقد کرنا۔

١١۔ مولا کی شان میں شعر و شاعر ی اور مدح خوانی کے جلسات منعقد کرنا۔

١٢۔ اٹھنے بیٹھنے وقت حضرت ؑ کا اسم گرامی لیتے رہنا۔

١٣۔ حضرت ؑ کے فراق میں گریہ وزاری کرنا۔

١٤۔ خداوند عالم سے حضرت ؑ کی معرفت حاصل ہونے کی دعا کرنا۔

١٥۔ دعا میں مداومت اور مقاومت کرنا۔

١٦۔ امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی یاری و نصرت میں مسلسل کو شش و سعی کو جاری رکھنا۔

١٧۔ امام ؑ کے ظہور ہونے پر آپ (علیہ السلام) کی مکمل مدد و حمایت کی نیت رکھنا۔

١٨۔ امام زمان ؑکی خوشنودی کے لئے اچھی جگہوں پر مال و دولت خرچ کرنا۔

۱۳

١٩۔ شیعوں سے ارتباط و رابطہ میں رہنااور ضرورت پڑھنے پر ان کی مدد کرنا۔

٢٠۔ شیعوں کو خوش رکھنا۔

٢١۔ حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان ؑکی خیر خواہی کے لئے کام کرنا۔

٢٢۔ جہاں کہیں بھی ہو حضرت ؑ کی زیارت اور آپؑ کو سلام کرتے رہنا۔

٢٣ زیارت امام زمان ؑکے قصد سے مؤمنین وصالحین کی زیارت کرنا۔

٢٤۔ آنحضرت پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنا۔

٢٥۔ آنحضرت کی طرف لوگوں کو دعوت اور رہنمائی کرنا۔

٢٦۔ آنحضرت کے لئے ہمیشہ خضوع و خشوع میں رہنا۔

٢٧۔ نماز پڑھنا اور اس کا ثواب امام زمان ؑکی خدمت میں ہدیہ کرنا۔

٢٨۔ امام زمان ؑکی خوشنودی اور رضایت حاصل کرنا۔

٢٩۔ امام زمان ؑکی خوشنودی کے لئے زیارت امام حسین ؑپڑھتے رہنا۔

۱۴

معصومین کے اسماء او ر القاب تشریفاتی اورتعارفی نہیں ہیں:

امام زمان علیہ السلام کے القاب میں سے ایک لقب مہدی ہے ، اگرچہ آپ کے بہت سارے القاب ہیں جیساکہ محدچ نوری نے نجم الثاقب میں نقل کیا ہے ۔

امام عصرؑ کے ایک سو بیاسی ( ۱۲۸) اسم اور لقب ہیں ۔ ویسے تو کسی معصوم علیہم السلام کے القاب تعارفی نہیں ہیں جسطرح ہم لوگ ایک دوسرے کو دیتے ہیں بلکہ ان ذوات مقدسہ کے ہر لقب ان کے خاص صفت پر دلالت کرتے ہیں جو ان کے وجود مبارک میں پائے جاتے ہیں ۔

مثال کے طور پر حضرت کبریٰ فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں کہتے ہیں :

آپ ؑ کے کئی القاب اور اسم مبارکہ کے ہیں ۔ فاطمہ ، زھرا، زکیہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان اسماء مبارک کے معنیٰ رکھتے ہیں اس میں سے ہر اسم ایک حقیقت جو حجرت کے وجود مقدس میں نور افشانی کرتی ہے۔

ہمارے آپس میں جو اسم گزاری کرتے ہیں وہ تشریفاتی اور تعارفی ہیں ۔ مثلا ہم کہتے ہیں حجۃ الاسلام ،آیۃ اللہ، شریعت مدار ، نائب امام وغیرہ یہ القاب ہم بہ عنوان عزت و احترام کے طور پر دیئے جاتے ہیں ۔ لیکن ائمہ معصومین علیہم السلام کے القاب اور اسمای گرامی ایک حقیقت اور باسم بہ مسمیٰ ہیں ۔

۱۵

لقب اور کنیت میں فرق:

جی ہاں ! اسم ، لقب اور کنیت میں فرق کرتے ہیں

کنیت:

کنیت وہ ہے جو کلمہ اب ( بمعنی باپ) یا ام(بمعنی ماں) یا ابن (بمعنی بیٹا) ہیں مثلا ابوالحسن ، ابن الرضا، ام سلمہ وغیرہ یہ کنیت ہیں ۔

لقب :

وہ لفظ ہے جو کسی اچھی یا بُری صفت پر دلالت کرتا ہے ۔ مثلا فلان صاحب محمود ہے یعنی پسندیدہ شخص ۔

مثلا حضرت امیر المومنین کا اسم گرامی علی ہے آپ کا کنیت ابوالحسن، آپ کا القاب ، امیر المؤ منین ۔

اسم مبارک امام زمان علیہ السلام وہی اسم مبارک حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کنیت گرامی بھی ابوالقاسم مثل پیغمبر اکرمؐ کے ہمنام ہیں ۔ امام زمان علیہ السلام کے بہت سے القاب ہیں ، آپ کا مشہور ترین لقب مہدی ہے البتہ ہمارے سارے ائمہ طاہرین علیہم السلام مہدی ہیں ۔

اشهد انکم الائمة الراشدون المهدیون المعصومون یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ سب کے سب مہدی ہیں ۔

امام عصر علیہ السلام کے لقب مہدی کیوں ہیں؟

امام زمان علیہ السلام کے خاس لقب مہدی کیوں رکھا گیا :

کہا گیا ہے کہ آپ کی ہدایت کرنے کا انداز ایک خاص راہ وروش کے مطابق ہوگا ۔ یعنی آپ جب لوگوں کو دعوت حق دیں گے اس وقت کسی قسم کی رکاوٹ اور مزاحمت نہیں ہوگا ۔ لوگوں کو اسلام ناب محمدی کے صاف وشفاف دعوت دیں گے اور لوگ بغیر کسی لیت ولعل کے قبول کریں گے ۔ اور جسطرح سے چاہیں گے دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت کو ظاہر اور اشکار کریں گے ۔ قوانین اسلام پر مکمل عمل درآمد ہوگا ، یہ سب کچھ صرف آقا امام زمان علیہ السلام کی توسط سے ہی ہوگا ۔

۱۶

باقی ائمہ علیہم السلام اپنے اپنے زمانے میں ھادی اور مہدی ضرور تھے مگر حقیقت اسلام کو لوگوں کے درمیان آشکار اور ظاہر نہیں کرسکا ۔اور قوانین اسلام کو اجراء کے مرحلے تک نہیں پہنچایا جاسکے ، کیونکہ وقت کے غاصب اور ظاہم حکمرانوں نے اس چیز کی اجازت نہیں دی کہ اسلام کے صحیح پیغام کو لوگوں تک پہنچا سکے ۔الا لعنة الله علی القوم الظالمین ۔

لیکن جب امام زمان علیہ السلام ظہورفرمائیں گے تو اس وقت شریعت اسلامی ، قرآن پاک اور اسلامی اصولوں پر مکمل عمل در آمد ہوگا ، اس زمانے میں کوئی طاغوت اور ظالم حکمران نہیں ہونگے کیونکہ سبھی جھوٹے ، ظالم اور طاغوتی طاقتوں کو اللہ کی مدد سے نیست ونابود فرمائیں گے ۔ اور اسلامی قوانین کو من وعن اجراء فرمائیں گے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:اذا قام القائم دعا الناس الی الاسلام جدیدا وهو اهم الی امر قد دثر وضل عنه الجمهور ۔ یعنی جب ہمارے قائم قیام فرمائیں گے تو لوگوں کو ایک جدید اور تازہ اسلام کی دعوت کریں گے اور اس صاف وشفاف اسلام کی ھدایت کریں گے جبکہ گذشتہ لوگوں کی اسلام اس قدر منحرف اور پرانے ہوچکے ہونگے کہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوچکے ہونگے ۔

ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے ظہور انور سے پہلے احکام اسلامی اس قدر مہجور اور متروک ہوئے ہونگے جسطرح آئینہ پر گرد وغبار چھا چکے ہے اور آئینہ سے جلا وصفا نکل چکے ہے، اور آدمی کو اپنا چہرہ صحیح طور پر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔

اسی وجہ سے لوگوں کی نظر میں امام زمان علیہ السلام کے دعوت شدہ اسلام کو جدید پائیں گے جس اسلام کی امام دعوت دیں گے اس کی بہ نسبت اپنے اسلام میں بہت فرق محسوس کریں گے اور مختلف پائیں گے ۔

امام صادق علیہ السلام مذید فرماتے ہین:وانما سمی القائم مهدیا لانه یهدی الی امر مضلول عنه (۱)

____________________

(۱) سفینۃ البحار ج۲ ص۷۰۱

۱۷

حضرت قائم کو اس لئے مہدی نام رکھا گیا ہے جو چیز گم ہوچکا ہو اور لوگ اس چیز سے بے خبر ہوں ۔ حضرت امام زمان لوگوں کے درمیان گم ہونے والے اسلام کو دوبارہ ظاہر اور آشکار فرمائیں گے (گم ہونے سے یہاں مراد یہ ہے کہ لوگوں کی غلط رسم ورواج اور اسلامی تعلیمات کو اس قدر تحریف کر چکے ہونگے گویا کہ آصل اسلام گم ہوچکے ہیں) آقا امام زمان علیہ السلام پورے دنیا پر اصل اسلام کو ظاہر اور آشکار فرمائیں گے لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے آشنا اور آگاہ فرمائیں گے ۔

نہج البلاغۃ میں بھی مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں :

یعطف الهوی علی الهدی اذا عطفُوا الهدی علی الهوی ویعطف الرأی علی القرآن اذا عطفوا القرآن علی الرأی (۱)

یعنی وہ اس وقت قیام فرمائیں گے جب ھدایت کو خواہشات نفسانی سے پلٹا دیں گے لیکن لوگوں نے ہدایت کو اپنی خواہشات نفسانی میں تبدیل کیا ہوگا ۔

وہ قرآن پاک کو ہر قسم کی رائے سے پاک وصاف کریں گے لیکن لوگو قرآن پاک کو اپنے رائے میں ( اپنی مرضی کے مطابق) بدل چکا ہوگا ۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ۱۳۸

۱۸

لوگ امام مہدی علیہ السلام کے مقابل ہوگا یا ساتھ ہونگے؟

اس وقت ہمیں انتہائی بیدار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکیہ ہم وہی لوگ ہیں جو خدا پرستی کے بجائے ہوا پرستی کو اختیار کیا ہوا ہے اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق چلنے کے بجائے اپنے آراء اور افکار کے مطابق ڈالے ہوئے ہیں یہی سبب ہے اسلام فرسودہ اور کہنہ ہوچکا ہے ، ظاہری اسلام کے ساتھ بھی ہمارے حکام اور حکمران مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ اور عوام اور عوامی لیڈر صرف نعرہ بازوں میں وقت ضائع کررہے ہیں آج الحمد للہ سے سارے دنیا کے مسلمان جانتے ہیں کہ ان کے ملک کے حکمران ننگ دین اور تنگ ملت ہیں لیکن یہ بیچارے عوام کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی ملک کے عوام اپنے ظالم اور نمدار حکمرانوں کے خلاف جمہوری طریقے سے آواز بلند کرنا چاہئے بھی تو ان کی آواز کو ٹینگ اور توپ کے ذریعہ دبانا چاہتے ہیں مسلمانوں کے ۷۳ فرقوں میں سے ہر ایک اپنے ہاں قرآن اور اسلام کی خاص تعبیر وتصریح کرتے ہیں اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس حدیث شریف میں کتنی وزن اور حقانیت پوشیدہ ہے اور یہ بھی یاد رکھنی چاہئے فی الحال تو صرف مسلمان ہی وہ قوم ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں اسلام ہی تنہا نجات دھندہ بشریت ہے اور احکام اسلامی پر عمل اور اس کو اجراء کرنے والے ہم ہی ہیں لیکن ہم لوگ ھوی وھوس پر غالب کریں اور اپنی آراء وافکار کو قرآن پر مقدم کریں پہلے مرحلے میں تو یقینا تنہا ہم ہی ہونگے جو امام زمان علیہ السلام ہمارے خلاف قیام فرمائیں گے اور قرآن اور اسلام کو ہمارے غلط آراء اور افکار سے پاک وصاف اور ہم سے نجات دلائیں گے ۔

جو اس راہ میں مخالفت اور مزاحمت کریں تو ان کے جڑ سے اسلام کو آذاد اور اس گروہ کے قلع قمع کریں گے اور یہ بات بھی حدیث شریف میں آیا ہے کہ سب سے پہلا گروہ جو حضرت کو قتل کرنے کے بارے میں فتوی دیں گے وہ امت اسلامی کے مفتی اور فقہاء ہونگے !

۱۹

بقیۃ اللہ خیر لکم سے مراد کون ہے؟

یہ جملہ سورہ ہود کی آیہ شریفہ کی ضمن میں ہے اور حضرت شعیب سے متعلق ہیں آپ نے اپنی قوم سے فرمایا۔

لاتنقصوا المکیال والمیزان ، ہوشیار رہئے ! اپنے ترازو اور پیمانہ میں کم نہ تولئے ۔

آلودگیوں کی وجہ سے دعا کا مستجاب نہ ہونا :

معاملات میں توجہ کرنی چاہئے یہ ایک ایسا مطلب ہے جس کی طرف قرآن مجید نے بہت تاکید کی ہے ۔ حقیقتا یہ ایک ایسی بات اور توجہ طلب چیز ہے ہماری بہت بڑی مشکلات ہماری کاروباری زندگی کی آلودگیوں کی وجہ سے ہیں ۔

یہی سبب ہے کہ ہماری کاروباری زندگی کے آلودگیوں کی وجہ سے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی اور وعظ ونصیحت اثر نہیں کرتی ہے ۔ یعنی ہمارے دل سیاہ ہوچکے ہیں اس اثر کی وجہ سے ہماری دعائیں رک جاتی ہیں اور مشکلات اور گرفتاریوں میں دگنی اضافہ ہوجاتی ہے ۔

اور معاشی طور پر تنگ دستی کا شکار ہوجاتی ہے لہٰذا قرآن مجید میں خداوند منان فرماتا ہے ،لا تنقصوا المکیال والمیزان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوشیار رہنا چاہئے ۔ اپنے معاملات میں گڑھ بڑھ نہیں کرنا چاہئے کمی وبیشی نہیں کرنی چاہئے ۔ ناپ تول میں کمی نہیں کرنی چاہئے ۔

انی اراکم بخیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اسطرح دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم لوگ خدا کی وعظ ونصیحت کو قبول کریں تو تمہاری زندگی سراسر خیرو برکت سے پر ہوجائیں گے اور اگر نہ کریں !

( وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط ) (۱) مجھے ڈر اس بات پر ہے کہ خدا کی عذاب میں تم لوگ گرفتار ہوجائیں گے ، دنیا ، عالم برزخ اور محشر کے دن عذاب خدا میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

____________________

(۱) سورہ ھود آیہ ۸۴

۲۰