تفسیر انوار الحجّت

تفسیر انوار الحجّت0%

تفسیر انوار الحجّت مؤلف:
قسم: تفسیر قرآن
صفحے: 217

تفسیر انوار الحجّت

مؤلف: حجة الاسلام والمسلمین سید نیاز حسین نقوی
قسم:

صفحے: 217
مشاہدے: 8546
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 922

تبصرے:

تفسیر انوار الحجّت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 217 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 8546 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 922
سائز سائز سائز
تفسیر انوار الحجّت

تفسیر انوار الحجّت

مؤلف:
اردو

۱

تفسیر انوار الحجّت

زیر نظر

حجة الاسلام والمسلمین سید نیاز حسین نقوی

ناشر

موسسہ امام المنتظر قم ایران

۲

بسم الله الرحمن الرحیم

سورة الفاتحہ

مکی، سات آیات سورة الفاتحہ آیات: ۷ عدد الفاظ: حروف:

مقام مکہ، اور کہا گیا ہے کہ مدینہ میں بھی نازل ہوامگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف مدنی سورہ ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ یہ سورہ ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوا ہے اس سلسلے میں کافی ادلہ موجود ہیں لیکن اختصارکو مد نظر رکھتے ہوئے تین دلیلیں پیش کرتے ہیں۔

( ۱) جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے۔

نزلت فاتحة الکتاب بمکة من کنز تحت العرش

سورہ فاتحہ الکتاب عرش کے نیچے سے ایک خزانے میں سے مکہ میں نازل ہوا (منہج الصادیقین ج ۱ ص ۸۶) ۔

( ۲) نماز چونکہ بعثت کے فورا بعد ہی واجب ہوئی اور سورہ فاتحہ اس کا لازمی جز ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ

لا صلاة الابا لفاتحة

سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی

لہذا یقینا یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے اورشروع ہی سے نماز میں پڑھا جاتا ہے۔

۳

( ۳) یہ سورہ سبع مثانی ہے (سبع مثانی کا ایک معنی یہ ہے کہ اس کی سات آیتیں ہر نماز میں دو مرتبہ پڑھی جاتی ہیں۔) اور سبع مثانی کا ذکر قران میں ان الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔

( وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ) ( سورہ حجر کی آیت ۸۷)

سورہ حجر یقینا مکی سورہ ہے اسی بنا پر سورہ فاتحہ بھی مکی ہے

زمان نزول کے بارے اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ بعثت کے بعد بلکل ابتدائی ایام میں نازل ہوا اور اس کا سبب نزول نماز ہے چونکہ یہ سورہ نماز کا لازمی جز ہے۔( مناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ، ص ۴۴)

اسمائے سورہ اور وجہ تسمیہ

سیوطی نے کتاب الاتقان میں اس سورہ کے پچیس تک نام گنوائے ہیں،ان میں چندمندرجہ ذیل ہیں۔

( ۱)فاتحةالکتاب ۔کیونکہ اس سے قرآن مجید کا آغاز ہوتا ہے۔

( ۲) حمد۔کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔

( ۳) ام الکتاب۔کیونکہ قرآن مجید کے بنیادی مفاہیم پر مشتمل ہے۔

( ۴) سبع المثانی۔کیونک یہ نام سورہ حجر میں ذکر ہوا ہے۔

( ۵) اساس۔کیونکہ یہ سورہ قرآن مجید کی بنیاد اور جڑہے۔

( ۶) شفاء۔ کیونکہ یہ ہر مرض کے لئے شفاء ہے۔

( ۷) کافیہ۔کیونکہ نماز میں اس کا پڑہنا ضروری ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور سورہ کفایت نہیں کرتا۔

( ۸) صلاة۔ کیونکہ یہ نماز کا لازمی جز ہے۔

( ۹) کنز۔کیونکہ یہ خدا کے خزانوں میں سے عظیم ترین خزانہ ہے۔

( ۱۰) دعاء۔ کیونکہ اس میں دعا کا طریقہ سیکھایا گیا ہے۔

ان میں سے پہلے چار نام مشہور ہیں۔

۴

خصوصیات سورہ۔

اس مبارک سورہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔

( ۱) اجما ل قرآن۔

قرآن مجید میں ہر خشک وتر کا ذکر موجود ہے اور یہ سورہ اس کا اجمال چونکہ سنت الہی یہ ہے کہ پہلے ایک چیز کو اجمال سے ذکرکیا جاتا ہے اور پھر تدریجا اسے تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے یہ سورہ جن بنیادی اصولوں پرمشتمل ہے پورا قرآن ان کی وضاحت کرتا ہے۔

( ۲) قرآن کا مرادف۔

خود قرآن میں اس سورہ کو قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے جیساکہ ارشاد ربالعزت ہے۔

( وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ )

اور ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطاء کیا ہے۔

چونکہ اس سورہ کا ایک نام سبع مثانی ہے اور اسے قرآن کے مرادف قرار دیا گیا ہے۔

( ۳) منفرد لب ولہجہ۔

اس سورہ کا لب ولہجہ اور انداز بیان باقی سورتوں سے بنیادی فرق رکھتا ہے قرآن مجید کی باقی سورتیں کلام خدا ہیں مگر اس سورہ میں خدا وند عالم مخلوق کے کلام کو بیان فرمارہاہے۔

( ۴) دعا اور گفتگو کے منفرد انداز کی تعلیم۔

اس سورہ میں خدا وند متعال اپنی ذات سے بلا واسطہ دعا مانگنے اور گفتگوکرنے کا طریقہ سکھلا رہاہے اور درس دے رہاہے کہ پروردگار عالم کے حضور کیا درخواست پیش کی جائے اور کس انداز سے التجاء کی جائے۔

۵

( ۵) رسول اکرم کے لئے خصوصی اعزاز۔

یہ سورہ پیغمبر کے لئے عظیم اعزاز اور عطیہ الہی ہے جیسا کہ حضرت امیرالمومینین علیہ السلام پیغمبر گرامی سے یہ حدیث نقل کرتا ہیں کہ آپ نے فرمایا۔

ان الله تعالى افرد الامتنان على بفاتحة الکتاب و جعلها بازاء القرآن العظیم

خالق کائنات نے سورہ حمددے کر مجھ پر خاص طور پر احسان کیا ہے اور اس کو قرآن مجید کے برابر قرار دیا ہے۔

( ۶) شیطان کی فریاد کا موجب۔

قرآن کی سورتوں میں فقط یہ سورہ ہے جو شیطان کے فریاد ونالہ کا موجب بنا جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔

ان ابلیس اربع رنات اولهن حین اهبط الی الارض و حین بعث محمدصلی الله علیه وآله وسلم و حین انزلت ام الکتاب ۔

شیطان نے چار مرتبہ بلند آواز سے فریاد کی پہلی مرتبہ جب بار گاہ الہی سے لعنت کا مستحق ٹھرا دوسری مرتبہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے چوتھی اور آخری مرتبہ جب سورہ فاتحہ نازل ہوئی۔

( ۷) نماز کا لازمی جز۔

نماز دین کا ستون ہے اور یہ اس کا لازمی جز ہے اور یہ اسی سورہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی باقی سورتوں میں یہ خصوصیت نہیں ہےلاصلواةالا بفاتحةالکتاب

( ۸) کتاب الہی کا آغاز۔

اس سورہ سے قرآن مجید کا آغاز ہوتا ہے۔

( ۹) قرآن میں نازل ہونے والا پہلا سورہ۔

یہ قرآن میں نازل ہونے والا پہلا سورہ ہے۔

۶

( ۱۰) آسمانی صحیفوں کا جامع۔

یہ سورہ تمام آسمانی صحیفوں کے علوم،برکات اور ثواب کا جامع ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے خدا وند متعال نے آسمان سے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں اور ان میں سے چار کا انتخاب کیا، اور باقی سو کتابوں کے علوم کو ان چار کتابوں میں جمع فرمایا اور وہ چار کتابیں توریت، انجیل،زبور اور قرآن تھیں۔

پھر ان چاروں کے علوم و برکتوں پڑھنے اور جاننے کے ثواب کو قرآن میں رکھا اور پھر قرآن کے علوم اور برکتوں کو جمع کیا اور ایک مفصل سورہ میں رکھا اور پھر مفصل سورہ کے علوم اور برکتوں کو فاتحةالکتاب میں جمع کر دیا اور فاتحةالکتاب کا پڑھنے والا اس طرح ہو گا جیسے اس نے ایک سو چار کتابیں پڑھی ہوں۔

سورہ حمد کے فضائل

اس سورہ کے فضائل کا احصاء نا ممکن ہے البتہ ہم تبرکا پانچ کے تذکرہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔

( ۱) اسم اعظم:

روایات میں اس سورہ کی فضیلت میں بیان ہوا ہے کہ اس میں یقینی طور پر اسسم اعظم موجود ہے جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔

اسم الله الاعظم مقطع فی ام الکتاب

قطعی طور پر سورہ حمد میں اسم اعظم الہی موجود ہے۔

( ۲) قرب الہی :

اس سورہ کی تلاوت قرب الہی کا موجب ہے اور اسی وجہ سے شیعہ وسنی روایات میں اسکی ارادے کو مظبوط کرتی ہے اور انسان کو گناہ اور گمراہی سے بچاتی ہے۔

۷

( ۳) دو تہائی قرآن :

اس سورہ کی تلاوت کا ثواب دو تہائی قران کی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے اسی وجہ سے پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے۔

ایما مسلم قراء فاتحة الکتاب اعطی من الاجر لانما قراء ثلثی القرآن اعطی من الاجر کانما تصدق علی کل مومن و مومنة

جو مسلما ن بھی سورہ حمد کی تلاوت کرتا ہے اسے قرآن کی دو تہائی پڑھنے کا ثواب عطا کیا جائے گا اور اس ے تمام مومنین اور مومنات کو صدقہ دینے کا بھی ثواب عطاہو گا۔

( ۴): شفاء :

یہ سورہ تمام جسمانی اور روحانی تکالیف کے لیئے شفاء ہے جیسا کہ جابر ابن عبداللہ انصاری نے رسول اکرم (ص) سے نقل کیا ہے۔

هی شفاء من کل داء الا السام والسام الموت ۔ (جوامع الجامع ج ۱ ،ص)

یہ سورہ موت کے علاوہ ہر مرض کے لئے دوا ہے۔

نیز حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے کہ

من لم یبرئه الحمد لم یبرئه شئی ۔ (اصول کافی جلد ۴ ص ۴۲۳ ح ۲۲)

جس کو سورہ حمد سے شفاء نہ ملے اسے کوئی چیز بھی شفاء نہیں دے سکتی۔

اسی وجہ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔

لو قرئت الحمد علی میت سبعین مرة ثم ردت فیه الروح ما کان ذلک عجبا

اگر سورہ حمد کسی میت پر ستر مرتبہ پڑھی جائے اور اس کی روح پلٹ آئے تو تعجب کی بات نہیں ہے۔

۸

( ۵) تمام آسمانی کتب کی برکات وثواب۔

اس سورہ میں تمام آسمانی کتابوں کے جاننے اور پڑھنے کا ثواب رکھا گیا ہے جیسا کہ حدیث مین ہے جو بھی فاتحة الکتاب پڑھے گا ایسے ہی ہے جیسے ایک سو چار آسمانی کتابیں پڑھی ہوں۔

سورہ کے موضوعات۔

یہ سورہ قرآن مجید کے بنیادی نکا ت پر مشتمل ہے اس کے موضوعات کا احصاء وشمار نہایت مشکل ہے لہذا ہم چند اہم موضوعات کو فہرست وار ذکرکرتے ہیں۔ انکی تفصیل بعد کے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں۔

( ۱) خداشناسی

( ۲) توحید و صفات الہی

( ۳) حمد الہی

( ۴) تربیت الہی

( ۵) جہان بینی

( ۶) وحدت کلمہ

( ۷) حاکمیت اعلی

( ۸) معاد

( ۹) عبادت

( ۱۰) استعانت

( ۱۱) خصوصی ہدایت

( ۱۲) دعا

( ۱۳) صراط مستقیم

۹

( ۱۴) الہی نعمتیں

( ۱۵) مغضوبین کے راہ کی نفی

( ۱۶) ضالین کے راہ کی نفی

تفسیر آیات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سہارہ اللہ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا بڑا مہربان ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم میں مندرجہ ذیل چار موضوعات بیان ہوئے ہیں۔

۱ ۔خدا شناسی۔

اللہ کے نام سے شروع کرنا انتہائی بابرکت عمل ہے جو ہر کام کے احسن طریقہ پر انجام پانے کا موجب بنتا ہے پروردگار عالم اس آیت سے اپنے پاک کلام کا آغازکر کے یہ رسم قائم کر رہا ہے اور تربیت دے رہا ہے کسی بھی کام میں یاد خدا سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جس کو ہر کام میں خدا یاد رہے گا اس کا کوئی کام قانون خدا وندی کے خلاف نہ ہوگا اور اس کی زندگی گناہوں سے پاک رہے گی۔ جیساکہ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی معروف حدیث میں ہے۔

کل امر ذی با ل لم یزکر فیه اسم الله فهوابتر

کسی بھی اہم کام میں اگر خدا کے نام کا ذکر نہ ہو تو ناکامی ہو گی۔( بحار الانوار ج ۱۶ ، ب ۵۸)

اس حدیث نبوی کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے نقل فرمایا ہے اور اس کے بعد

فرماتے ہیں کہ انسان کوئی بھی کام انجام دینا چاہے تو لازم ہے کہ بسم اللہ کہے یعنی مین اس کام کو اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اورجوکام اللہ کے نام سے شروع ہو گا وہ مبارک ہو گا۔

۱۰

نیز امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں۔

وینبغی الایتان بهاعندافتتاح کل امر عظیم او صغر لیبارک فیه ۔ (تفسیر عیاشی ج ۱ ، ص ۱۹)

بہتر یہ ہے کہ ہر چھوٹے یا بڑے کام کے آغاز پر بسم اللہ کہا جائے تاکہ وہ کام مبارک ہو۔

ب استعانت۔

اس آیت سے آغاز کر کے یہ درس دیا جا رہا ہے کہ مسلمان زندگی کے ہر قدم پر اللہ سے سہارا مانگیں تاکہ یہ احساس ہمیشہ قائم رہے کہ تنہا وہی برتر ذات ایسی ہے جو مدد دے سکتی ہے۔ہمیشہ اسی کے سامنے سرتسلیم خم کیاجائے اور اسی سے توفیق طلب کی جائے تاکہ بلند ہمتی سے امور انجام پائیں یہ عظیم مقصد تبھی پورا ہو سکتا ہے اپنی عاجزی کو تسلیم کرتے ہوئے تنہا قادر مطلق پر اعتماد کیا جائے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا فرمان ہے۔

استعین علی اموری کلها بالله الذی لا تحق عباده الا له ۔( تفسیر الفرقان ج ۱ ، ص ۷۹)

میں اپنے تمام امور میں اسی خدا سے مدد اور سہارا طلب کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی بھی بندگی کا استحقاق نہیں رکھتا۔

ج اسم خدا۔

خدا کا جامع ترین نام اللہ ہے اور یہی ایک نام خدا کے تمام اسماء و صفات کاجامع ہے اور اسی لیئے بسم اللہ کہا جاتاہے بسم الخالق، یا بسم الرازق نہیں کہا جاتا،چونکہ بقیہ تمام اسماء وصفات کو اسی

کلمہ اللہ کی صفت کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے دوسرے نام کسی ایک کمال اور صفت کو منعکس ہیں مثال کے طور پر غفور و رحیم سے خدا کی بخشش و رحمت کی طرف اشارہ ہے۔

لہذا جس طرح خدا اپنی ذات میں واحد ہے اسی طرح اپنے نام اللہ میں بھی

واحد ہے قرآن مجید میں سب سے زیادہ اسی کا ذکر کیا گیا ہے یعنی ۲۶۹۷ دفعہ ذکر کیاگیا ہے۔

۱۱

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا فر مان ہے۔

الله اعظم اسماء من اسماء الله وهوالاسم الذی لا ینبغی ان یسمی به غیر الله لم یتسم به مخلوق ۔( وہی ماخذ ص ۸۲ ۔تفسیر صافی ج ۱ ، ص ۸۱)

اللہ خدا کے ناموں میں سب سے عظیم نام ہے۔ یہ ایسا نام ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی بھی اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتا اور مخلوق بھی یہ نام نہیں رکھ سکتی۔

جیسا کہ مولا کائنات حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے

والتسمیته فی اول کل سورة آیة منها وانما کان یعرف انقضاء السورةبنزولها ابتداء للاخری

بسم اللہ ہر سورہ کی ابتدائی آیت ہے اور ہر سورہ کی ابتداء اور انتہاء اسی آیت کے نزول سے معلوم ہوتی ہے (منہج الصادیقین ج ۱ ،ص ۹۹)

( ۶) نماز میں مکرر۔

یہ آیت ہر نماز میں لازمی طور پر کم از کم چار مرتبہ پڑھی جاتی ہے اس طرح فقط فرض نمازوں میں ہی ۲۰ مرتبہ پڑھی جاتی ہے اور روزانہ کی نافلہ نمازوں میں کم از کم ۶۸ مرتبہ پڑھی جاتی ہے۔

پہلی آیت کے فضائل

اس آیت کے فضائل کا احصی قوت بشری سے باہر ہے بہرحال مندرجہ ذیل تین فضائل ملاحظہ فرمائیں

۱۲

( ۱) تمام اعمال پر غالب ہے۔

اس آیت میں ذات خداوندی کے تین ایسے باعظمت نام بیان ہوئے ہیں جو تمام ناموں اور صفات کے جامع ہیں اور یہ تین نام امت مسلمہ کی نجات کے موجب بن جائیں گے اور یہ نام بنی آدم کے تمام اعمال پر بھاری ہیں جیسا کہ حدیث نبوی میں وارد ہوا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا۔

جب میری امت کو قیامت کے دن حساب کتاب کے لیئے لایا جائے گا اور ان کے اعمال کو میزان میں تولاجائے گا تو ان کی نیکیاں ان کے گناہوں پر غالب آجائیں گی۔

انبیاء سلف کی امتیں سوال کریں گی پیغمبراسلام کی امت کے اعمال بہت کم تھے لیکن ان کی نیکیوں کا پلڑا کیوں بھاری ہے تو انبیاء سلف جواب دیں گے۔کیونکہ یہ امت اپنے کلام کا آغاز خالق متعال کے تین ناموں سے کرتی تھی۔ اور اگر یہی تین نام میزان کے ایک پلڑے پر رکھے جائیں۔ بنی آدم کے تمام حسنات وسیئات دوسرے پلڑے پر رکھے جائیں تو یہ پلڑا بھاری ہوگا اور وہ تین نام بسم اللہ، الرحمن،الرحیم ہیں

( ۲) شیطان کی دوری کا موجب۔

جس کام میں بھی یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس کام میں شریک نہیں ہوتامثلا کھانا کھاتے وقت اس آیت کے پڑھنے سے شیطان دور ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اہلیبیت اطہار علیہم السلام سے روایت منقول ہے۔جو شخص کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہے شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ کھانے میں شریک نہین ہوتا اور اگر کوئی شخص بسم اللہ کے بغیر کھانا کھائے شیطان اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔

( ۳) گناہوں کی بخشش کا ذریعہ۔

یہ آیت آخرت میں بھی نجات کی موجب ہے۔ اور دنیا میں بھی اس آیت کے تکرار کرنے سے جو عادت بن جاتی ہے یہی عادت آخرت میں گناہوں کے محو ہونے اور جہنم کی آگ سے دوری کا باعث ہو گی۔ جیسا کہ پیغمبر عظیم الشان اسلام کی ان تین روایتوں میں وارد ہو ہے کہ۔

۱۳

قیامت کے دن جب انسان کو حساب کتاب کے لیئے لا یا جائے گا اوراس کا اعمال نامہ گناہوں اور برائیوں سے پر ہو گا جب یہ اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ اپنی دنیوی عادت کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم زبان پر جاری کرے گا تو وہ اعمال نامہ اسے سفید نطر آ ئے گا۔ فرشتوں سے سوال کرے گا کہ میرا اعمال نامہ تو سفید ہے اور اس میں کچھ نہیں لکھا ہو اتو وہ جواب دیں گے بسم اللہ کی برکت سے تمام سیئات و خطیئات محو ہو گئے ہیں۔( منہج الصادیقین ج ۱ ص ۱۰۱)

دوسری روایت، اور فرمایا جب قیامت کے دن کسی بندے کو حکم دیا جائے گا کہ وہ دوزخ میں جائے تو جب وہ کنارے پر پہنچے گا اوربسم الله الرحمن الرحیم کہے گا تو جہنم کی آگ اس سے ۷۰ ھزار سال دور ہو جائے گی۔( ۲)

تیسری روایت

انه اذا قال المعلم للصبی قل بسم الله الرحمن الرحیم فقال الصبی بسم الله الرحمن الرحیم کتب الله برائته لا بویه و برائته للمعلم

نیز فرمایا جب استاد بچے سے کہتا ہے کہبسم الله الرحمن الرحیم کہو اور وہ کہےبسم الله الرحمن الرحیم تو خداوند متعال، اس کے والدین اور استاد کو بخش دیتا ہے۔( جامع الاخبار،بصائر ج ۱ ص ۲۲۳ مجمع البیان ج ۱ ص ۹۰)

(الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ )

تمام حمد وثناء اس خدا کے لیئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس آیت میں مندرجہ ذیل چار موضوعات ہیں

( ۱) حمد الہی

( ۲) تربیت الہی

( ۳) جہاں بینی

( ۴) وحدت کلمہ۔

( ۱) الف حمد الہی

۱۴

اختصاص حمد صرف خدا کے ساتھ ہے۔ خالق متعال الحمدللہ رب العالمین کہ کر اس حقیقت کو بشریت کے لیئے واضع اور آشکار کر رہا ہے کہ حمد الہی کا مفہوم اور اس کی حقیقت، ذات مقدس الہی سے مختص ہے کیونکہ اس کی ذات کمال مطلق ہے جو تمام عیوب و نقائص سے منزہ ہے۔

لہذا وہ ذاتی لیاقت رکھتا ہے کہ ہر قسم کی حمد صرف اسی سے مختص ہو حمد اختیاری عمل پر ہوتی ہے اور رب العالمین کے پاس اختیا رکل ہے لہذا حقیقی حمد کا استحقاق بھی وہی رکھتا ہے بلکہ وہ اپنی ذات،صفات،اور افعال کے حوالے سے ہر قسم کی حمد و تعریف کا حقدار ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا ایسی تعریف کا حقدار نہیں ہے ہاں وہ خود کسی کو محمد بنا دے تو اور بات ہے۔

ب۔تعلیم حمد

بندوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے پالنے والے کی معرفت حاصل کریں اور رب العالمین کی بے شمار اور لا متناہی نعمتیں ہی ہمیں اس کی شناخت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کیونکہ جب کسی انسان کو نعمت حاصل ہو تو وہ فطری طور پر عطا کرنے والے کا شکر گزار ہوتا ہے شکریے کا حق ادا کرنے کے لیئے منعم اور محسن کی پہچان ضروری ہے۔

جب ہمیں پہچان ہو جائے کہ خدا کی ذات ہی تمام نعمتوں اور رحمتوں کو عطا کرنے والی ہے توشکر ادا کرنے کا طریقہ سکھا رہی ہے کہ جب بھی تم میری عظیم نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہوتو میری حمد کرو اور جب حمد کرنا مقصود ہو تو کہو الحمد للہ رب العالمین اس طرح میری مکمل ترین حمد ہو جائے گی۔ اگر خداوند متعال حمدوشکر کی تعلیم کر دے تو انسان ذاتی طور پر اس کمال مطلق کی تعریف کے قابل نہیں ہو سکتا۔

۱۵

( ۲) تربیت الہی:۔

الف خدائی پرورش

خداوند متعال ” رب العالمین “ سے یہ بیان فرمایا جا رہا ہے کہ تمام جہانوں موجودات کی تخلیق اور ایجاد کرنے والا قادر مطلق ہے اور چونکہ اسی نے وجود بخشا ہے لہذا وہی بہتر پرورش کر سکتا ہے وہی تمام موجودات کا رب اور پالنے والا ہے۔کائنات وجود پانے کے بعد بھی ہمیشہ رب العالمین کی محتاج ہے پرورش اور رشد کے تمام عوامل اسی نے پیدا کیے ہیں۔تربیت اور پرورش دو قسم کی ہوتی ہے۔

( ۱) تکوینی تربیت

( ۲) تشریعی تربیت

ہمارا خالق دونوں لحاظ سے رب ہے ہماری خلقت میں بھی ہمیں پالنے والا وہی ہے اور تعلیم وتربیت میں بھی وہی رب ہے اور راہ دکھلاتا ہے۔اور تمام مخلوقات کے تکامل اور ترقی کے تمام وسائل کا انتظام اسی نے کیا ہے اور پھر ان وسائل کے استعمال کا طریقہ بھی اسی نے سکھایا ہے۔

خالق متعال نے نہ صرف طبعیت اور جسمانی تربیت کا مکمل انتظام کیا ہے بلکہ اپنی مخلوق ناطقہ کے لیئے روحانی اور اخلاقی تربیت کا بھی پورا اہتمام فرمایا ہے۔اس امر کے لیئے فطرت بشری میں ھدایت کی راہ پرچلنے کا جوہر رکھا ہے اور صحیح راہ کی شناخت کے لیئے عقل جیسی ممتاز نعمت عطا فرمائی ہے۔ چونکہ بشریت کو ارتقائی منازل طے کرنے کے لیئے راہنما کی ضرورت تھی تو اس کا انتظام انبیاء الہی کو ہدایت بشری کے لیے مبعوث فرمایا اور آسمانی کتب نازل فرمائی جس سے رشد وتکامل کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے۔

۱۶

(ب) دیگر ارباب کی نفی

خالق مطلق چونکہ ہر چیز کا مالک ہے اور ان کی تربیت بھی صرف وہی کر سکتا ہے اور رب حقیقی اور مطلق بھی وہی ہے تو کسی اور کا رب ہونا یا تربیت میں شریک ہونا اس حقیقت کے منافی ہے۔اس آیت کے ذریعہ کائنات کی ہر چیز کی تربیت کو صرف خدا وند متعال سے مختص کر دیا گیا ہے اور بقیہ تمام تخیلی ارباب کی نفی کر دی گئی ہے اور اس طرح توحید ویگانگی کی اساسی وجہ بیان کر دی ہے۔

( ۳) جہان بینی

عالم سے مراد وہ جہان ہے جو ایک شمسی نظام اور اس میں موجود تمام سیارات سے تشکیل پاتا ہے سا ئنسی ترقی سے انسان نے بہت سے کہکشاں اور ہر کہکشاں میں متعددشمسی نظام اور ہر شمسی نظام میں موجود مختلف سیاروں کا پتہ چلا لیا ہے البتہ سائنس کی ترقی سے بہت پہلے ہمارے معصومین علیہم ا لسلام نے اس کی خبر دے رکھی تھی جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ ا لسلام کا فرمان ہے۔

ان الله قد خلق الف الف آدم

بے شک اللہ نے ہزار ہزار (ایک ملین )جہان پیدا کیے اور ہزار ہزارآدم کو خلق فرمایاہے۔

اس سے عالمین یعنی بہت سے جہان کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے کہ کائنات میں جتنے عالم ہیں ان تمام کا خالق اور رب صرف خدا کی ذات ہے۔

عالمین کے تذکرے سے مراد یہ ہے کائنات کی وسعت،جہانوں کے تعدد،ان کی خلقت اور ان کی تربیت پر غور کیا جائے اور ایک جہان بینی اور کلی نظر پیداہو کہ وہ ذات بر تر و جامع کمالات ہے اس کی خالقیت اتنی وسعت رکھتی ہے کہ انسان ان کے جزئیات کو نہیں پا سکتا اور صرف تخلیق ہی نہیں کیا بلکہ تخلیق کے بعد ان کی تربیت کر نے والی ذات بھی وہی ہے۔

۱۷

یعنی وہ ذات کائنات اور اس میں موجود تمام جہانوں،نظاموں،سیاروں ،آسمانوں،زمینوں،جمادات،نباتات،حیوانات اور ملائک،جن اور انس نیز دیگر مخلوقات کی ان کے مناسب حال تدریجی طور پر تربیت کرتا ہے اور کمال کی منزل تک پہنچاتی ہے۔

اس سے عالمین کی تربیت پر ایک کلی نظر پیدا ہوتی ہے کہ کتنا بڑا اور پھیلا ہوا عمل ہے کہ خالق کے علاوہ اس کام کو کوئی انجام نہیں دے سکتا اسی لیے تمام حمد اور تعریفوں کو اسی ذٓت سے مخصوص کر نا ضروری ہے۔

( ۴) وحدت کلمہ

جب ذات،صفات،خالقیت اور تربیت میں وحدانیت الہی معلوم ہو گئی اور ہر روز نئے خدا اور ہر کام کے لیے علیحدہ علیحدہ خدا نیز قبلہ کا الگ الگ خدا ہو نے کی نفی کر دے گئی اور یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آگئی کہ وہ اس ایک جہان ہی خالق نہیں بلکہ وہ ایسے بہت سے جہانوں کا خالق،مدبر اور پالنے والا ہے۔

اس سے ایک طرف سے ہر طرح کے شرکت کا سد باب کیا اور دوسری طرف اتحاد عالمی کی ایک مستحکم بنیاد قائم کر دی تاکہ سب لوگ وحدت کلمہ کے ساتھ ترقی وکمال کے مدارج طے کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچیں۔

اگرچہ ابھی تک انسانیت تہذیب وتمدن کین انتہائی ترقی کے باوجود اس بنیاد پر کوئی مضبوط عمارت قائم نہیں کر سکی اور جب تک اس اخوات کا سنگ بنیاد رکھنے والے دین اسلام اور کتاب (قرآن ) کو عمومی طور پر تسلیم نہ کر لیا جائے اس وقت تک یہ عظیم مقصد حاصل نہ ہو گا۔

اس سلسلے میں قرآن کا وعدہ ہے کہ

( لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِۚ )

تا کہ اس دین کو ہر دین پر غلبہ عطاء کرے۔

یہ وعدہ حتمی ہے جو پورا ہو کر رہے گا جب حضرت حجت کا ظہور ہو گا اور دنیا کی تمام بے تابیاں اور پریشانیاں اس وقت ختم ہو جائیں گی۔اور ایمان۔نظم اور اتحاد عالم کی نہایت ہی شاندار عمارت بنے گی اور دنیا کے مضطربانہ اٹھتے ہوئے قدم آخر میں اس منزل پر پہنچ کر دم لیں گے اور اطمینان اور سکون کی فضا قائم ہو جائے گی۔

۱۸

خصوصیات آیت

اس آیت کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔

( ۱) تمام انوع حمد کی جامع۔

یہ آیت حمدکی تمام انوع و مراتب کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور خدا وند متعال کے جتنے اوصاف کمالات ہیں ہر کمال پر وہ لائق حمد ہے اس کی جتنی نعمتیں اور آثار ہیں سب کے سب حمد الہی کے موارد ہیں۔ کسی انسان میں طاقت نہیں ہے کہ جس طرح وہ حمد کا حقدار ہے اس طرح حمد الہی بجا لائے اور اس آیت میں خدا کی جامع حمد ہے جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا۔

اگر خدا وند متعال میری سواری مجھے لوٹادے تو میں اس کی ایسی حمد کروں گا جو اسے پسند آئے گی سواری مل گئے اور اس پر سوار ہوئے تو آسمان کی طرف سر اٹھاکر فرمایا الحمد للہ اور اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا اور پھر فرمایا۔

ما ترکت ولا ابقیت شئا جعلت جمیع انوع المحامد لله عزو جل فما من الا و هو داخل فی ما قلت

میں نے خدا کی حمد سے کسی قسم کی چیز کو نہیں چھوڑاحمد کی اقسام اس جملے میں داخل ہیں۔

ہم تمام انوع حمد کی وضاحت میں چند جملے دعا افتتاح کے بیان کرتے ہیں امام زمانہ (عج)نے اپنے خاص نائب ابو جعفر محمد ابن عثمان کو تعلیم فرمائی تھی۔

۱۹

الحمد لله بجمیع محامده کلها، علی جمیع نعمه کلهاالحمد لله الذی لا مضاد له فی ملکه،ولاس منازع له امرهالحمد لله الذی لا شریک له فی خلقه ولا شبیه له فی عطمته الحمد لله الفا شی فی الخلق امره وحمده،الظاهر بالکرم مجده،الباسط بالحوریده،الذی لا تنقض خزائنه ولا تزید کثرة العطاء الا حور ا وکرما انه هو العزیز الوهاب

حمد اللہ ہی کے لئے ہے اس کی تمام خوبیاں اور ساری نعمتوں کے ساتھ، حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کی افرینش میں کئی اس کا ساجھی نہیں ہے اور اس کی بڑائی میں کوئی اس جیسا نہیں ہے،حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کا حکمپوری مخلوق میں آشکار ہے اس کی شان اس کی بخشش کے ساتھ ظاہر ہے بن مانگے دینے میں اس کا ہاتھ کھلا ہے۔یہ وہی ہے جس کے خزانے کم نہیں ہوتے اور کثرت کے ساتھ عطا کرنے میں اس کی بخشش و سخاوت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست عطا کرنے والا ہے۔بہرحال پوری دعا ہی پروردگار عالم کی حمد پر مشتمل ہے اور ہر قسم کی حمد کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔

( ۲) نماز میں الحمدللہ رب عالمین پڑھنا

اس آیت کا حمد کے بعد نماز میں پڑھنا مستحب ہے یہ اس آیت کی خصوصیت ہے چونکہ باجماعت نماز میں سورہ حمد اور بعد والی سورہ کا پڑھنا صرف پیشنماز کے لیے ضروری ہوتا ہے اور مقتدی صرف سنتا ہے اور جب پیشنماز سورہ حمد کی قر ائت ختم کرتا ہے تو مقتدی کے لیے مستحب ہے وہ کہے الحمد للہ ر ب العالمین۔

جیسا امام جعفر صادق (ع) کا ارشاد ہے

اذا کنت خلف امام ففرغ من قرائةالفاتحهفقل انت من خلفه الحمد لله ر ب العالمین

جب آپ با جماعت نماز پڑھیں اور پیشنماز سورہ فاتحہ پڑھ چکیں تو کہیں الحمد للہ رب العالمین۔

اسی طرح فرادی نماز میں بھی حمد کے بعد اس آیت کو پڑھنا سنت ہے جیسا کہ امام علیہ ا لسلام کا اس بارے میں ارشاد ہے۔

فاذا قرائات الفاتحة ففرغ من قرائتها و انت فی الصلوة فقل الحمد لله رب العالمین

جب آپ سورہ الفاتحہ کو نماز میں قرائت کریں تو کہیں الحمدللہ رب العالمین۔البتہ آئمہ معصومین علیہمالسلام کے فرامین کے مطابق سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔

۲۰