آفتاب ولایت

آفتاب ولایت0%

آفتاب ولایت مؤلف:
قسم: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 272

آفتاب ولایت

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: علی شیر حیدری
قسم: صفحے: 272
مشاہدے: 5738
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 520

تبصرے:

آفتاب ولایت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 272 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 5738 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 520
سائز سائز سائز
آفتاب ولایت

آفتاب ولایت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حضرت موسیٰ شہادت علی سے باخبر تھے

مرحوم علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب جلاء العیون، جلد۱،صفحہ۲۷۶،باب زندگانی حضرت علی علیہ السلام میں لکھتے ہیں:

”ابن بابویہ ،معتبرسندکے ساتھ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ مسائل پوچھے اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے پیغمبر کا وصی اُن کی زندگی کے بعد اس دنیا میں کتنا عرصہ زندہ رہے گا؟ حضرت نے فرمایا کہ تیس سال۔ اُس یہودی نے پھر سوال کیا کہ بتائیں کہ وہ طبعی موت مرے گا یا قتل کردیاجائے گا؟حضرت نے جواب دیا کہ وہ قتل کردیا جائے گا۔ اُس کے سر پر ضربت لگائی جائے گی۔ اُس یہودی نے کہا:خدا کی قسم! آپ نے سچ کہا۔ میں نے اُس کتاب میں جو حضرت موسیٰ نے تحریر فرمائی ہے اور حضرت ہارون نے لکھی ہے، اسی طرح ہی پڑھا ہے“۔

حضرت ابراہیم اور معرفت علی

جابر ابن عبداللہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کوملکوت دکھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرش کے پاس ایک نور دیکھا تو پوچھا کہ پروردگار! یہ نور کونسا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نور محمد ہے جو میری مخلوق میں سب سے زیادہ عزت و بزرگی والا ہے، اس نور کے ساتھ ایک دوسرے نور کو بھی دیکھا۔ اُس کے بارے میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ہے جو میرے دین کا مدد کرنے والا ہے۔ ان دو نوروں کے ساتھ تین نور اور دیکھے اور اُن کے بارے میں پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نور فاطمہ ہے جو اپنے حُب داروں کو آتش جہنم سے بچائے گا اور دوسرے دو نور اس کے بیٹے حسن اور حسین کے ہیں ۔ پھر فرمایا:اے میرے پروردگار!میں کچھ اور نور بھی اس نور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ کہا گیا کہ یہ اماموں کے نور ہیں جو نسل علی و فاطمہ علیہم السلام سے ہوں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی پروردگار!تجھے پنجتن پاک کا واسطہ!مجھے ان کا تعارف کروا۔کہا گیا کہ ان میں پہلا علی ابن الحسین اور پھر اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے جعفر اور اُن کے بیٹے موسیٰ اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے حسن اور اُن کے بیٹے حجت قائم ہیں“۔

حوالہ کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،مصنف:آیت اللہ شہید دستغیب،صفحہ۱۲۷،تفسیر برہان سے نقل کی گئی۔

۱۴۱

حضرت ابراہیم بھی شیعان علی سے ہیں

حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو انتہائی بڑی منزلت کے مالک تھے۔ جب انہوں نے انوار شیعان اہل بیت کو دیکھاجو آفتاب ولایت کے گرد ستاروں کی طرح چمک رہے تھے،خدا سے التجا کی کہ اُسے بھی شیعان علی میں سے قرار دے ۔ چنانچہ تفسیر سورئہ الصٰفّٰت:آیت۸۳میں:

( وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِه لَاِبْرَاهِیْمَ )

”اور بے شک اُن کے شیعوں میں سے ابراہیم ہیں“۔

حوالہ آیت اللہ دستغیب، کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا، صفحہ۱۲۶۔

حضرت خضر کی حضرت علی سے دوستی

اعمش روایات اور احادیث کے معتبر راوی ہیں اور شیعہ سنی دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک اندھی عورت تھی۔ اُس کاکام یہ تھا کہ لوگوں کو پانی پلاتی تھی اور کہتی تھی کہ علی علیہ السلام کی دوستی کے صلہ میں پانی پیو۔ اُسی کومکہ میں بھی دیکھا،اس حال میں کہ اُس کی دونوں آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان سے دیکھ سکتی تھی اور پانی پلاتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ لوگو! پانی پیو اُس کی دوستی کے صدقہ میں کہ جس نے میری بینائی لوٹا دی۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اُس سے اُس کا حال پوچھاتو اُس نے جواب دیا کہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہنے لگا کہ تو ہی وہ عورت ہے جو علی علیہ السلام کی حب دار ہے؟ میں نے کہا:ہاں۔ اُس نے کہا:

”اَلّٰلهُمَّ اِنْ کَانَتْ صَادِقَةً فَرُدَّ عَلَیْهَا بَصَرَهَا“

”خدایا! اگر یہ کنیز اپنے دعوے میں سچی ہے تو اس کی بینائی اس کو واپس لوٹا دے“۔

خدا کی قسم! اُس حال میں میری بینائی لوٹ آئی۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ میں خضر ہوں اور میں شیعہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہوں۔

۱۴۲

حوالہ جات

۱۔ سید ابوتراب صنائی، کتاب قصہ ہای قرآن ، باب شرح زندگی حضرت خضر ،صفحہ۱۲۰

۲۔ زندگانی فاطمة الزہرا،شہید آیت اللہ دستغیب،صفحہ۱۶۲جنہوں نے سفینة البحار جلد

۱،صفحہ۳۹۱سے نقل کیا ہے۔

فضائل علی علیہ السلام خلفاء کی نظر میں

حضرت علی علیہ السلام کی ذات اعلیٰ کی معرفت کا ایک بہترین ذریعہ کلام خلفاء ہے۔ چند وجوہات کی بناء پر ان کا جاننا نہایت ضروری ہے۔

پہلی اہم وجہ تو یہی ہے کہ یہ کلام اُن شخصیات کا ہے جنہیں اصحاب رسول خدا کہلانے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے خود علی علیہ السلام کی بزرگی اور عظیم منزلت کی معرفت کیلئے فرمودات پیغمبر اسلام سنے۔ اس سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

دوسری وجہ یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والے ان کے کلام کو پڑھ کر زیادہ اثر قبول کریں گے اور تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افراد شناخت ہوجائیں گے جنہوں نے پیغمبر اسلام کی زندگی مبارک کے بعد اُن کی نصیحتوں اور وصیتوں کو جو علی علیہ السلام کے بارے میں کی گئی تھیں، یکسر بھلا دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و ولایت کے حق سے محروم کردیا۔ اسی بحث کے دوران حضرت عائشہ کے فرمودات کا بھی تذکرہ کریں گے جنہوں نے علی علیہ السلام کی عظمت کیلئے کہے تھے:

۱۔کلام حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ

(الف)۔فَقٰالَ اَبُوبَکر:صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ قٰالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ لَیْلَةَ الْهِجْرَةِ،وَنَحْنُ خٰارِجٰانِ مِنَ الْغٰارِ نُرِیْدُ الْمَدِیْنَةَ:کَفِّی وَ کَفُّ عَلِیٍّ فِی الْعَدْلِ سِوَاءٌ

”حضرت ابوبکر بن قحافہ کہتے ہیں کہ خدا اور اُس کے رسول نے سچ کہا۔ہجرت کی رات ہم غار سے باہر تھے اور مدینہ کی طرف جارہے تھے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:’میرا ہاتھ اور علی کا ہاتھ عدل میں برابر ہیں‘۔“

۱۴۳

حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث۱۷۰،صفحہ۱۲۹۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۴۳۸،آخر حدیث۹۵۳(شرح محمودی)۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب مناقب السبعون،ص۲۷۷،حدیث۱۷،صفحہ۳۰۰۔

۴۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۱،ص۶۰۴(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)

(ب)۔عَنْ عٰائِشةَ قٰالَتْ:رَأَیْتُ اَبَابَکْرِالصِدِّیْقَ یُکْثِرُ النَّظَرَ اِلٰی وَجْهِ عَلِیِ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ،فَقُلْتُ یٰا أَبَةَ اِنَّکَ لَتُکْثِرُالنَّظَرَاِلٰی عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طالِبْ؟ فَقٰالَ لِی:یٰا بُنَیَّةُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ ”اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ عَلِیٍ عِبَادَة“ ۔

”حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ ابوبکر کو دیکھا جو علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو بکثرت دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا:بابا جان! آج آپ علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو کیوں دیکھ رہے ہیں؟ حضرت ابو بکر نے کہا :”اے میری بیٹی! میں نے رسول خدا سے سنا ہے جنہوں نے فرمایا ہے:”علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد۷،صفحہ۳۵۸۔

۲۔ سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۲۔

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۱۰،حدیث۲۵۲،اشاعت اوّل۔

۴۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۳۹۱،حدیث۸۹۵

(شرح محمودی)و دیگر۔

۱۴۴

(ج)۔عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قٰالَ:قٰالَ اَبُوْبَکْرٍ الصدیق:اِرْقِبُوْامُحَمَّداً صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم فِی اَهْلِ بَیْتِه اَیْ اِحْفِظُوْهُ فِیْهِمْ فَلٰا تُوْذُوْهُمْ

”ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرنے کہا کہ حضرت محمد کا اور اُن کے اہل بیت کا دھیان رکھیں(یعنی اُن کی عزت و حرمت کا) اور اُن کے اہل بیت کی حفاظت کریں۔ اُن کو اور اُن کے اہل بیت کو اذیت نہ پہنچائیں“۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۵۴،صفحہ۱۹۴،۳۵۶۔

۲۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۳،ص۶۳۸(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

(د)۔ حارث بن اعور روایت کرتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسے شخص کا پتہ دیتا ہوں جوعلم میں حضرت آدم علیہ السلام ،فہم و ادراک میں حضرت نوح علیہ السلام اور حکمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا ہو۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ علی علیہ السلام وہاں تشریف لے آئے، حضرت ابوبکر نے عرض کی:

یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِقْتَسْتَ رَجُلاًبثَلاٰثَةٍ مِنَ الرُّسُلِبَخٍ بَخٍ لِهٰذاالرَّجُلِمَنْ هُوَیٰا رَسُوْلَ اللّٰه؟ قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَوَلَا تَعْرِفُهُ یٰااَبَابَکْرٍ؟قٰالَ:اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُقٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم هُوَ اَبُوْالْحَسَنِ عَلِیِّ بْنُ اَبِیْ طَالِبْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ بَخٍ بَخٍ لَکَ یٰا اَبَاالْحَسَنِ وَاَیْنَ مِثْلُکَ یٰااَبَاالْحَسَن ۔

”یا رسول اللہ! آپ نے اُس شخص کو تین رسولوں کے برابر کردیا۔ واہ واہ! وہ شخص کون ہے؟ نبی اکرم نے فرمایا:اے ابوبکر! کیا تو اُس شخص کو نہیں جانتا؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی:خدا اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ابوالحسن علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہے۔ پس ابوبکر نے کہا:مبارک مبارک! یا اباالحسن! تمہاری مثال کون ہوگا اے اباالحسن !“

۱۴۵

حوالہ

بوستان معرفت، سید ہاشم حسینی تہرانی، صفحہ۴۴۷،نقل ازخوارزمی، باب۷،ص۴۵۔

(ھ)۔قٰالَ الشَّعْبِیْ:بَیْنَااَبُوْبَکْرٍجٰالِسٌ اِذْطَلَعَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طالِبْ مِنْ بَعِیْدٍ فَلَمَّارَاَهُ اَبُوْبَکْرٍ قٰالَ مَنْ سَرَّهُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی اَعْظَمِ النّٰاسِ مَنْزِلَةً وَاَقْرَبِهِمْ قَرٰابَةً وَاَفْضَلِهِمْ دٰالَّةً وَاَعْظَمِهِمْ غَنٰاءً عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم فَلْیَنْظُرْاِلٰی هٰذَاالطّٰالِعِ ۔

”شعبی نے کہا کہ ابو بکر اپنی جگہ پر تشریف فرما تھے کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام دور سے نظر آئے۔ جب ابوبکر نے اُن کو دیکھا تو کہا کہ ہر کسی کو خوش ہوجانا چاہئے کیونکہ وہ سب سے عظیم انسان کو دیکھے گا ۔ جو مرتبہ میں سب سے اعلیٰ اور (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قرابت داری میں سب سے زیادہ نزدیک ہے اور انسانوں میں سب سے زیادہ بلند ہے اور لوگوں سے بے نیازی میں سب سے زیادہ بے نیاز ہے اور یہ چیز اُس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ملی ہے۔ پس اُن پر نگاہ کرو جو دور سے نظر آرہے ہیں“۔

حوالہ جات

بوستان معرفت،صفحہ۶۵۰، نقل از ابن عساکر، تاریخ امیر المومنین ،جلد۳،صفحہ۷۰،حدیث۱۱۰۰اور مناقب خوارزمی، باب۱۴،صفحہ۹۸۔

۱۴۶

(و)۔عَنْ زَیْدِ ْبنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن قٰالَ:سَمِعْتُ اَبِیْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبِی الْحُسَیْن بنِ عَلِیْ یَقُوْلُ قُلْتُ لِاَبِیْ بَکْرٍ یَا اَبَابَکْرٍ مَنْ خَیْرُ النّٰاسِ بَعدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ؟فَقٰالَ لِی:اَبُوْکَ

”زید بن علی بن الحسین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے اپنے بابا علی ابن الحسین سے سنا،وہ فرماتے تھے کہ انہوں نے اپنے بابا حسین بن علی علیہما السلام سے سنا کہ انہوں نے حضرت ابوبکرسے پوچھا:اے ابابکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟انہوں نے جواب دیا:تمہارے والد بزرگوار“۔

(ز)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسٰارٍ الْمُزْنِی قٰالَ:سَمِعْتُ اَبَابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ:عَلِیُّ عِتْرَةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم ۔

”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ علی علیہ السلام اہل بیت سے ہیں اور خاندان رسول خداسے ہیں“۔

حوالہ

کنزالعمال،جلد۱۲،صفحہ۴۸۹(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔

(ح)۔(الریاض النظرةج۲،ص۱۶۳)قٰالَ:جٰاءَ اَبُوبَکرٍوَعَلِی یَزُورٰانِ قَبْرَالنَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم بَعْدَ وَفٰا تِه بِسِتَّةِ اَیَّامٍ،قٰالَ عَلِیٌّ عَلَیْهِ السَّلَام لِاَبِی بَکْرٍ تَقَدَّمْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ مٰاکُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ رَجُلاً سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ:عَلِیٌ مِنِّی بِمَنْزِلَتِیْ مِنْ رَبِّی ۔

۱۴۷

”کتاب ریاض النظرہ،جلد۲صفحہ۱۶۳پر لکھتے ہیں کہ ابوبکر اور حضرت علی علیہ السلام بعد از وفات پیغمبر اسلام متواتر چھ روز تک زیارت قبر کیلئے جاتے رہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر سے کہا کہ آپ آگے آگے چلیں توحضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ہرگز اُس شخص کے آگے نہیں چلوں گا جس کے بارے میں خود رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو میری منزلت خدا کے سامنے ہے“۔

(ط)۔عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسٰارِالْمُزْنِی یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبٰابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ لِعَلِیِّ ”عُقْدَةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم“ ۔

”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرصدیق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام عقدئہ رسول اللہ ہیں“۔

”عقدہ“ بمعنی وہ شخص جو لوگوں سے رسول اللہ کیلئے بیعت منعقد کروائے۔

حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں، شرح حال امام علی ،جلد۳،حدیث۱۰۹۲،ص۵۴

(ی) عَنْ قَیسِ بْنِ حٰازِمٍ قٰالَ:اِلْتَقٰی اَ بُوْبَکْرٍالصِّدِّیْقُ وَعَلِیٍُّ فَتَبَسَّمَ اَبُوْبَکْرٍ فِی وَجْهِ عَلِیٍّ فقٰالَ لَهُ مَالَکَ تَبَسَّمْتَ؟قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ”لَا یَجُوْزُ اَحَدٌ الصِّرٰ اطَ اِلَّامَنْ کَتَبَ لَهُ عَلِیُّنِ الْجَوٰاز“

”قیس بن حازم سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت علی علیہ السلام سے ملاقات کی اور انہوں نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چہرے کو دیکھا اور مسکرائے۔ حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا کہ مسکرانے کی وجہ کیا ہے؟ تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں نے پیغمبراسلام سے سنا ہے کہ کوئی بھی پل صراط سے نہ گزرسکے گا مگر جس کو علی علیہ السلام نے گزرنے کیلئے پروانہ(اجازت) لکھ کر دیا ہو“۔

۱۴۸

حوالہ جات

نقل از مقدمہ کتاب”پھر میں ہدایت پاگیا“، مصنف:ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی، صفحہ۲،بمطابق نقل از ابان السمان درالموافقہ، صفحہ۱۳۷اور ابن حجر،کتاب صواعق محرقہ،صفحہ۱۲۶اور ابن مغازلی شافعی، کتاب مناقب علی علیہ السلام،صفحہ۱۱۹۔

(ک)۔ حضرت ابوبکر نے بہت دفعہ برسر منبر مسلمانوں کی کثیر تعداد کے سامنے کہا:

”اَقِیْلُوْنِی،اَقِیْلُوْنِی وَلَسْتُ بِخَیرٍ مِنْکُمْ وَعَلِیٌ فِیْکُمْ“

”مجھے چھوڑ دو،مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں تم سے بہترنہیں ہوں جب علی علیہ السلام تمہارے درمیان ہوں“۔

حوالہ جات

جناب محمد رازی، کتاب ”میں کیوں شیعہ ہوا“،صفحہ۳۳۲میں بنقل از فخر رازی،کتاب نہایة العقول۔ اسی طرح طبری،تاریخ طبری میں،بلاذری کتاب انساب الاشراف میں۔سمعانی کتاب فضائل میں۔ غزالی کتاب سرالعالمین میں۔سبط ابن جوزی کتاب تذکرہ قاضی بن روز بہان اور ابی الحدید اور دوسرے۔

حضرت ابوبکر کے کلمات کی تصدیق نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبہ سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

’فَیٰاعَجَبَابَیْنٰاهُوَیَسْتَقِیْلَهَافِی حِیَاتِهِ اِذْعَقَدَهٰالِآخِرَبَعْدَمَمٰاتِهِ‘

”یہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں خود خلافت سے استقالہ

(بیزاری) کرتے رہے لیکن اس دنیا سے جاتے ہوئے خلافت کسی اور کے سپرد کرگئے“۔

۱۴۹

۲۔کلام حضرت عمر بن خطاب

(الف) عَنْ عُمَرَبنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:کُنْتُ وَ اَبُوْبَکْرٍ وَ اَبُوْعُبَیْدَةٍ وَجَمٰاعَةٌ اِذ ضَرَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مِنْکَبَ عَلِیٍّ فَقٰالَ:یٰاعَلِیُّ اَنْتَ اَوَّلُ الْمُومِنِیْنَ اِیْمٰاناً وَاَوَّلُهُمْ اِسْلٰاماً وَاَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی

”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہاکہ میں،ابوبکر ،ابوعبیدہ اوربعض دوسرے افراد تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے شانہ پرہاتھ رکھا اور کہا:یا علی !تم مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے اوّل ہو اور اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے بھی اوّل ہو اور تمہاری منزلت کی نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی منزلت کی نسبت موسیٰ علیہ السلام سے تھی“۔

حوالہ جات

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،صفحہ۲۳۹،اشاعت قم،سال۱۳۷۱ء اور تقی ہندی،کنزالعمال ،جلد۱۳،صفحہ۱۲۲اور۱۲۳(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)۔

(ب) عَنْ عمَّارَالدُّ هْنِی عَن سَالِم بِنْ اَبِیْ الْجَعْد قٰالَ:قِیْلَ لِعُمَرَ:

اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلیٍ شَیْئاً لٰا تَصْنَعُهُ بِأَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ:اِنَّهُ مَوْلٰایَ

”عماردھنی،سالم بن ابی جعد سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام سے جس طرح کا(اچھا) سلوک کرتے ہیں، اُس طرح کا(اچھا) سلوک کسی اور صحابی پیغمبر سے نہیں کرتے۔ اس پر حضرت عمر نے جواب دیا :بے شک علی علیہ السلام میرے مولیٰ ہیں“۔

حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲،ص۸۲،حدیث۵۸۴،شرح محمودی

۱۵۰

(ج) عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:نَصَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَلِیاً عَلَماً فقٰالَ:مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاهُ فَعَلِیٌ مَوْلٰاهُ،اَلَّلهُمَّ وَالِ مَنْ وَالٰاهُ وَعَادِمَنْ عٰادٰاهُ وَاخذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ اَلَّلهُمَّ اَنْتَ شَهِیْدِی عَلَیْهِمْ قٰالَ عُمَرُ وَکَانَ فِی جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الْوَجْهِ،طِیِّبُ الرِّیْحِ،فَقٰال:یٰاعُمَرُ لَقَدْعَقَدَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَقْداً لٰا یَحِلُّهُ اِلّٰا مُنٰافِقٌ فَاحذَرْاَنْ تَحِلَّهُ قٰالَ عُمَرُ:فَقُلْتُ یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِنَّکَ حَیْثُ قُلْتَ فِی عَلِیٍ(مٰاقُلْتَ)کَانَ فِیْ جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الوْجَهِ طَیِّبُ الرِّیْحِ قٰالَ کذٰاوکَذٰا قٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم نَعَمْ یٰاعُمَرُاِنَّهُ لَیْسَ مِنْ وُلْدِآدَمَ لَکِنَّهُ جِبْرَئِیْلُ اَرٰادَ اَنْ یُوکَّدَعَلَیْکُمْ مٰا قُلْتُهُ فِیْ عَلِیٍّ

”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ رسول خداحضرت علی علیہ السلام کو سب سے بہتر اور بزرگ جانتے تھے۔پس رسول خدا نے فرمایا کہ جس کامیں مولا ہوں،اُس کا علی مولا ہیں۔پروردگار!تو اُس کو دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھے اور اُس کودشمن رکھ جو علی سے دشمنی رکھے اور اُس کو ذلیل و رسوا کر جو علی علیہ السلام کو رسوا کرے اور اُس کی مدد فرما جو علی کی مدد کرے۔ پروردگار! تو اس پر میرا گواہ رہنا۔

حضرت عمر نے کہا کہ ایک خوش شکل نوجوان جس سے پاکیزہ خوشبو آرہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ یا عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اب اس کو کوئی نہیں توڑے گامگر منافق۔اے عمر! تو بھی محتاط رہ کہ اس کو نہ توڑے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے رسول خدا کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! جب آپ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمارہے تھے تو وہ خوش شکل، اچھی خوشبو والا جوان مجھ سے اُسی طرح کہہ رہا تھا۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا:ہاں، اے عمر! وہ آدم کی اولاد سے نہ تھابلکہ وہ جبرائیل تھا اور چاہتا تھا کہ جو میں نے علی علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے،وہ تجھ سے تاکیداً کہے“۔

۱۵۱

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة(باب مودّت الخامسہ)صفحہ۲۹۷۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں،باب حال علی ،جلد۲،صفحہ۸۰(شرح محمودی)نقل ازبخاری تا ریخ کبیر سے،جلد۱،صفحہ۳۷۵اور دوسرے۔

(د) عَنْ عَمّٰارِالدُّهْنِیْ عَنْ اَبِی فٰاخِتَةَ ، قٰالَ: اَقْبَلَ عَلِیٌ وَعُمَرُجٰالِسٌ فِی مَجْلِسِهِ فَلَمَّارَاٰهُ عُمَرُ تَضَعْضَعَ وَتَوٰاضَعَ وَتَوَسَّعَ لَهُ فِی الْمَجْلِسِ،فَلَمَّاقٰامَ عَلِیٌ،قٰالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:یٰااَمِیْرَالْمُومِنِیْنَ اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلِیٍ صَنِیعًا مٰاتَصْنَعُهُ بِاَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ مُحَمَّدٍ قٰالَ عُمَرُ:وَمٰارَأَیْتَنِی اَصْنَعُ بِهِ؟قٰالَ:رَأَیْتُکَ کُلَّمٰارَأَیْتَهُ تَضَعْضَعْتَ وَتَوٰاضَعْتَ وَاَوْسَعْتَ حَتّٰی یَجْلِسَ قٰالَ:وَمٰایَمْنَعُنِی،وَاللّٰهِ اِنَّهُ مَوْلٰایَ وَمَوْلٰی کُلِّ مُومِنٍ

”عماردھنی، ابی فاختہ سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بیٹھے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو جب حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کوآتے دیکھا تو لرزے اور استقبال کیا اور اپنے پاس بیٹھنے کیلئے جگہ بنائی۔جب علی علیہ السلام چلے گئے تو ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ اے میرے آقا! آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے ایسا سلوک کیا ہے جوآپ کسی دوسرے صحابی پیغمبر سے نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے کونسا ایسا سلوک کیا ہے جو تو نے دیکھا؟ اُس شخص نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی تو آپ لرزے اور اُن کا استقبال کیا اور اُن کے بیٹھنے کیلئے جگہ مہیا کی کہ وہ بیٹھ جائیں۔ حضرت عمرنے کہا کہ مجھے کونسی چیز اس سلوک سے باز رکھ سکتی ہے! خدا کی قسم! حضرت علی علیہ السلام میرے بھی مولیٰ ہیں اور تمام مومنین کے بھی مولیٰ ہیں“۔

حوالہ

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۸۲،حدیث۵۸۵(شرح محمودی)۔

۱۵۲

(ھ)قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّاب:لَقَدْ أُعْطِیَ عَلِیٌ ثَلاٰثَ خِصٰالٍ لَأَنْ تَکُوْنَ لِی خَصْلَةٌ مِنْهَا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْطِیَ حُمُرَ النَّعَمِ،فَسُئِلَ وَمٰاهِیَ؟قٰالَ تَزْوِیجُ النَّبِیِّ اِبْنَتَهُ وَسُکْنٰاهُ الْمَسْجِدَ لَایَحِلُّ لِاَحَدٍ فِیْهِ مٰایَحِلُّ لِعَلیٍ وَالرّٰایَةُ یَوْمَ خَیْبَرٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تین سعادتیں عطا فرمائی ہیں کہ اُن میں سے ایک بھی سعادت مجھے ملتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں کی قطاروں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ پوچھا گیا کہ وہ کونسی سعادتیں ہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا:

پہلی: پیغمبر اسلام کی بیٹی سے شادی کرنا۔

دوسری: مسجد کے اندر حضرت علی علیہ السلام کے گھرکا دروازہ کھلناجو کسی دوسرے کیلئے جائز نہ تھا

مگر علی علیہ السلام کے لئے جائز تھا۔

تیسری: جنگ خیبر میں پیغمبر اسلام کا علی علیہ السلام کو عَلَم عطا کرنا۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،کتاب ینابیع المودة،باب سوم،صفحہ۳۴۳۔

۲۔ حاکم المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۵۔

۳۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۲۰۔

۴۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۱ص۲۱۹حدیث۲۸۲شرح محمودی

۱۵۳

(و)۔عَنْ ابنِ عباس:مَشِیْتُ وَعُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ فِی بَعْضِ اَزِقَّةِ الْمَدِیْنَةِ فَقٰال لِییا ابن عباسوَاللّٰهِ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ لِعَلِیِ بنِ اَبِی طَالِبٍ:مَنْ اَحَبَّکَ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِیْ اَحَبَّ اللّٰه، وَمَنْ اَحَبَّ اللّٰهَ اَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ مُدْخَلاً

”ابن عباس روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عمربن خطاب مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ حضرت عمر نے مجھ سے کہا:اے ابن عباس! خدا کی قسم، میں نے رسول اللہ سے سنا،رسول خدانے علی علیہ السلام سے کہا:’یا علی ! جس نے تمہیں دوست رکھا، اُس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا،اُس نے گویا اللہ تعالیٰ کو دوست رکھا اور جس نے اللہ کو دوست رکھا،اُسے اللہ تعالیٰ بہشت میں داخل کرے گا“۔

حوالہ کتاب تاریخ دمشق ،باب حال امام علی علیہ السلام،جلد۲،صفحہ۳۸۸(شرح محمودی)۔

(ز)۔عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ ضَبِیْعَةَ الْعَبْدِی،عَنْ اَبِیْهِ،عَنْ جَدِّهِ قٰالَ:أَتٰی عُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ رَجُلاٰنِ سَأَلاٰهُ عَنْ طَلاٰقِ الْأَمَةِ،فَقٰامَ مَعَهُمٰا فَمَشیٰ حَتّٰی أَتیٰ حَلْقَةً فِی الْمَسْجِدِ،فیهٰارَجُلٌ اَصْلَعُ،فَقٰال:اَیُّهَاالْاصْلَعُ مٰاتَریٰ فِی طَلاٰقِ الْأَمَةِ؟فَرَفَعَ رَأسَهُ اِلَیْهِ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْهِ بِالسَّبٰابَةِ وَالْوُسْطیٰ،فَقٰالَ لَهُ عُمَرُ:تَطلِیقَتٰانِفَقٰالَ اَحَدُهُمٰا:سُبْحٰانَ اللّٰهِ،جِئْنٰاکَ وَأَنْتَ اَمِیْرُالْمُومِنِیْنَ فَمَشِیْتَ مَعَنٰاحَتّٰی وَقَفْتَ عَلٰی هٰذِهِ الرَّجُلِ فَسَأَ لْتَهُ،فَرَضِیْتَ مِنْهُ أَنْ أُوَمَاَاِلَیْکَ؟فَقٰالَ لَهُمٰا(عُمَرُ)مٰا تَدْرِیَانِ مَنْ هٰذَا؟قٰالَ:لاٰقٰالَ هٰذَا عَلیُّ بْنُ اَبی طٰالِبٍأُشْهِدُعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لَسَمِعْتُهُ وَهُوَ یَقُوْلُ:اَنَّ السَّمٰاوٰاتِ السَّبْعِ وَالْارْضِیْنَ السَّبْعِ لَوْوُضِعَتٰافِی کَفَّةِ(میزٰانِ)ثُمَّ وُضِعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍّ فِی کَفَّةِ مِیزٰانِ لَرَجَعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍّ ۔

”دومرد حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے اور اُن سے کنیز کی طلاق کے بارے میں سوال کیا۔حضرت عمر ان کو ہمراہ لے کر مسجد کی طرف آئے ۔بہت سے لوگ مسجد میں بیٹھے تھے۔ اُن کے درمیان ایک شخص بیٹھا تھا(جس کے سر کے اگلے حصے کے تھوڑے سے بال گرے ہوئے تھے)۔حضرت عمر نے اُن سے پوچھا کہ کنیز کی طلاق کیلئے آپ کی کیا رائے ہے؟

۱۵۴

اُس شخص نے سربلند کیا اور اپنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور جواب دیا۔ پس حضرت عمر نے سائل کو جواب کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ کنیز کیلئے دو طلاقیں ہیں۔اس پر اُن دومردوں میں سے ایک نے کہا:سبحان اللہ۔ ہم تو آپ کے پاس آئے تھے کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اور ہمارے امیرالمومنین ہیں اور آپ تو ہمیں اس شخص کے پاس لے آئے ہیں اور مسئلہ اُس سے پوچھتے ہیں اور اُس کے اشارہ کے ہی جواب پر راضی اور مطمئن ہوگئے۔ اس پر حضرت عمر نے اُن دونوں مردوں سے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ مرد کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں سات زمینیں اور ساتوں آسمان رکھ دئیے جائیں اور دوسرے پلڑے میں ایمان علی رکھ دیا جائے تو ایمان علی والا پلڑا بھاری ہوگا“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲ص۳۶۵حدیث۸۷۲شرح محمودی

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۸۹،شمارہ۳۳۰،اشاعت اوّل اور خوارزمی،

باب۱۳،مناقب میں،صفحہ۷۸،اشاعت از تبریز۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، آخر باب۶۲،صفحہ۲۵۸اور دوسرے۔

(ح)۔فقال عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ:عَجَزَتِ النِّسٰاءُ اَنْ یَلِدْنَ مِثْلَ عَلِی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ تمام عورتیں عاجز ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسا فرزند پیدا کریں“۔

حوالہ

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۶۵،صفحہ۴۴۸۔

۱۵۵

(ط)۔عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَبّٰاسِ قٰالَ:سَمِعْتُ عُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ یَقُوْلُ:کُفُّوْا عَنْ ذِکْرِ عَلِیٍّ فَلَقَدْ رَأَیْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ فِیْهِ خِصٰالاً لَاَنْ تَکُونَ لِی وٰاحِدَةً مِنْهُنَّ فِیْ آلِ الْخَطّٰابِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمّٰاطَلَعَتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ

”عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی بدگوئی سے پرہیز کرو کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علی علیہ السلام کی فضیلتوں اور خصلتوں کو دیکھا کہ اگر اُن میں سے ایک بھی فضیلت خاندان خطاب میں ہوتی تو وہ مجھے ہرچیز اور زمین کی ہرجگہ جہاں پر سورج چمکتا ہے، سے عزیز تر ہوتی“۔

حوالہ کتاب آثار الصادقین، جلد۱۴،صفحہ۲۱۲،نقل از فضائل الخمسہ،جلد۲،صفحہ۲۳۹،کنزالعمال،جلد۶،صفحہ۳۹۳۔

(ی)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ،قٰالَ:قٰالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم:مَااکْتَسَبَ مَکْتَسِبٌ مِثْلَ فَضْلِ عَلِیٍّ،یَهْدِی صٰاحِبَهُ اِلَی الْهُدٰی وَیَرُدُّ عَنِ الرَّدٰی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کو بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسی فضیلت میسر نہ آسکی جو اپنے ساتھی اور پاس بیٹھنے والے کو ہدایت کرتا ہے اور اُسے گمراہ ہونے سے باز رکھتا ہے“۔

حوالہ

آثارالصادقین،جلد۱۴،صفحہ۲۱۲،نقل از الغدیر،جلد۵،صفحہ۳۶۳اور فضائل الخمسہ جلد۱،صفحہ۱۶۷،مستدرک سے۔

۱۵۶

(ک)۔عَنوَعُمَرِبْنِ الْخَطّٰاب وَ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ:اَلنَّظَرُاِلٰی وَجْهِ عَلِیٍّ عِبٰادَةٌ ۔

”بہت سے راویوں اور عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کے چہرے پر نگاہ کرنا عبادت ہے“۔

حوالہ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد۷،صفحہ۳۵۸۔

(ل)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَةَ،قٰالَ:رَأیٰ عُمَرُرَجُلاً یُخٰاصِمُ عَلِیّاً،فَقٰالَ لَهُ عُمَرُ:اِنِّی لَأَظُنُّکَ مِنَ الْمُنٰافِقِیْنَ!سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ:عَلِیُّ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُوسٰی اِلاّٰ اَنَّهُ لٰاَنْبِیَّ بَعْدِی ۔

”سوید بن غفلہ سے روایت کی گئی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دیکھا جو حضرت علی علیہ السلام سے جھگڑ رہا تھا۔حضرت عمر نے اُس شخص سے کہا کہ میرا گمان ہے کہ تو منافقوں میں سے ہے کیونکہ میں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔

حوالہ جات

آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۲۸۶،نقل از ابن عساکر ،تاریخ دمشق، باب شرح حال امام علی علیہ السلام،جلد۱،صفحہ۳۶۰۔

(م)۔عَن اَبِی هُرَیْرَةَ،عَن عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مَنْ کُنْتُ مَوْلاٰهُ فَعَلِیٌّ مَوْلاٰهُ

ابوہریرہ ، عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا :

”جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے“۔

۱۵۷

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲،ص۷۹،حدیث۵۸۱،شرح محمودی

۲۔ ابن مغازلی، مناقب میں،صفحہ۲۲،شمارہ۳۱،اشاعت اوّل۔

(ن)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:عَلِیٌّ أَقْضٰانٰا

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم میں سے سب سے زیادہ عدل(قضاوت) کرنے والے علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں“۔

حوالہ جات

۱۔ حافظ ابونعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد۱،صفحہ۶۵۔

۲۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۰۔

۳۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ ،جلد۷،صفحہ۳۶۰۔

۴۔ بلاذری،کتاب انساب الاشراف میں،جلد۲،صفحہ۹۷،حدیث۲۱،اشاعت اوّل ۔

(س)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ،عَنِ النَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ یَنْقَطِعُ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ اِلاّٰ سَبَبِی وَنَسَبِی وَکُلٌّ وُلْدِآدَمَ فَاِنَّ عَصَبَتَهُمْ لِأَبِیْهِمْ مٰاخَلاٰ وُلْدِ فٰاطِمَةَ،فَاِنِّیْ أَ نَاأَبُوْهُمْ وَعَصَبَتْهُمْ

”حضرت عمر بن خطاب روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام سببی اور نسبی رشتے منقطع ہوجائیں گے سوائے میرے سببی اور نسبی رشتوں کے۔ تمام اولادآدم کی نسبت اُن کے باپوں سے ہے، سوائے میری بیٹی فاطمہ کے۔ حقیقت میں مَیں اُن کا باپ بھی ہوں اوراُن کی قوم بھی“۔

حوالہ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۵۷،صفحہ۳۲۰۔

۱۵۸

(ع)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:لاٰ یُفْتِیَنَّ اَحَدٌ فِی الْمَسْجِدِ وَعَلِیٌّ حٰاضِرٌ ۔

”حضرت عمر بن خطاب نے کہا کہ جب تک حضرت علی علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے ہوں،کوئی دوسرا فتویٰ نہ دے“۔

حوالہ

آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۹۲،نقل از الامامُ الصادق،جلد۲،صفحہ۵۸۲۔

(ف)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:یَابْنَ اَبِیْطٰالِبٍ،فَمٰازِلْتَ کٰاشِفَ کُلِّ شُبْهَةٍ وَمَوْضِعَ کُلِّ عِلْمٍ

”حضرت عمر بن خطاب(حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے کہتے ہیں)کہ اے ابو طالب کے فرزند ! آپ نے ہمیشہ شک و شبہات کو دور کیا اور کل علم کی جگہ پر فائز رہے ہیں“۔

حوالہ

آثارالصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۹۳،نقل از الامام الصادق،جلد۲،صفحہ۵۸۲۔

(ص)۔قٰالَ عُمَرُ:لاٰ أَبْقٰانِی اللّٰهُ بَعْدَ عَلِیِّ ابْنِ اَبیطٰالِبٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب نے کہا:پروردگارا! مجھے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بعد زندہ نہ رکھنا“۔

حوالہ آثار الصادقین، جلد۱۴،صفحہ۲۹۳،نقل از الغدیر،جلد۶،صفحہ۱۲۶۔

(ق)۔قٰالَ عُمَرُفِی عِدَّةِ مَوَاطِنَ:لَولاٰعَلِیٌّ لَهَلَکَ عُمَر ۔

”حضرت عمر نے متعدد مواقع پر کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا“۔

۱۵۹

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، کتاب ینابیع المودة،باب۱۴،صفحہ۸۰اور۲۴۹۔

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب،باب۵۹،صفحہ۲۲۷۔

(ر)۔عَنْ سَعِیْدِبْنِ الْمُسَیِّبِ قٰالَ:قٰالَ عُمَرُابْنُ الْخَطّٰابِ:اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ مُعْضَلَةٍ لَیْسَ لَهٰاأَبُوالْحَسَنِ،عَلِیُّ بْنُ اَبِی طٰالِبٍ ۔

”سعید ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اُس مشکل سے جس کے حل کیلئے ابوالحسن(علی علیہ السلام)موجودنہ ہوں“۔

حوالہ جات

۱۔ بلاذری، کتاب انساب الاشراف ، جلد۲،صفحہ۹۹،حدیث۲۹،باب شرح حال علی ۔

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب۵۷،صفحہ۲۱۷۔

۳۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۱۔

۴۔ حاکم المستدرک میں(باب المناسک)جلد۱،صفحہ۴۵۷۔

۵۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۶اور دوسرے۔

(ش)۔قٰالَ عُمَرُابْنُ الْخَطّٰابِ:اَلّٰلهُمَّ لاٰ تُنْزِلْ بِی شَدِیْدَةً اِلَّاوَاَبُوْ الْحَسَنِ اِلٰی جَنْبِی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں :پروردگار!مجھ پر کوئی سختی(مشکل کام) نازل نہ فرما مگر علی ابن ابی طالب علیہ السلام میرے پاس ہوں“۔

۱۶۰