سر چشمہ ایمان

سر چشمہ ایمان0%

سر چشمہ ایمان مؤلف:
زمرہ جات: اسلامی شخصیتیں

سر چشمہ ایمان

مؤلف: جعفر فاضل
زمرہ جات:

مشاہدے: 1289
ڈاؤنلوڈ: 198

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 9 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1289 / ڈاؤنلوڈ: 198
سائز سائز سائز
سر چشمہ ایمان

سر چشمہ ایمان

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

نام کتاب : سر چشمہ ایمان

مؤلف : جعفر فاضل

مترجم : محمد حسین بہشتی

کمپوزنگ و ڈیزائننگ : ساجد اسدی

ناشر: مؤسسئہ قائم آل ِ محمد(عج)

طبع اوّ ل

سال طبع ٢٠١٠ء بمطابق ١٤٣١ھ

تعداد ٥٠٠

: جملہ حقوق بحق مترجم محفوظ ہیں

فلو لا ابو طالب و ابنه

لما مثل الدین شخصا و قاما

فذا ک لا بمکة اوی وحامی

و هذا بیثرب حبس الحماما

اگر ابو طالب ـ اور اس کے فرزند ارجمند نہ ہوتے

تو دین اسلام مجسم نہیں ہوتا ان دونوں نے اسلام کے واسطے قیام فرما یا

ابو طالب ـنے مکہ میں پناہ دی اور حمایت فرمائی

اور علی ـنے مدینہ میں تا آخر ین نفس جنگ کی.

میان عاشق و معشوق رمزی است

چہ داند آن کہ اشتر می چراند

یا عَمّ !

رَبَّیتَ صغیراً ، و کَفَّلتَ يَتِیماً ، و نَصَرتَ کَبِیرا

فجزَاک اللّٰهُ عَنِّی خیراً

اے چچا جان ! بچپن میں میری تربیت کی

یتیمی میں میری کفالت کی اور بڑے ہونے کے بعد میری مدد و نصرت فرمائی. خدا میر ی طرف سے آپ کو جزا عنایت فرمائے

( رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )

ھر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شدبہ عشق

ثبت است در جرید ہ عالم دوام ما

مقدمہ

گفتار مترجم

حضرت ابو طالب ـ کے بارے میں مسلسل عر ق ریزی اور انتہائی محنت سے جو مقالہ جناب فاضل ارجمند حجة الاسلام والمسلمین جعفر فاضل نے مدون کیاہے وہ لائق صدا فتخار ہے اور جناب مبارک باد کے مستحق ہیں میرے لئے بھی مقام فخر ہے کہ قبلہ نے بندہ حقیر کو امر فرمایا کہ اس آرٹیکل کا اردو زبان میں ترجمہ کروں لہذا میں نے ان کے احترام میں ان کی اس علمی کاوش کو من وعن اردو کا لباس پہنادیا ہے اس حوالہ سے میں ان کا نہایت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بندہ کو اس قا بل سمجھا یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مجھ جیسے حقیر کو ایسی توفیق نصیب ہوئی کہ جو نہ صرف اپنی دنیا اور آخرت کیلئے بہترین زاد راہ ہے بلکہ پوری انسانیت کیلئے راہ نجات ہے

کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ پڑھے لکھے بلکہ بڑے بڑے علمی مدارج طے کرنے والے دانشور حضرات بھی مذہبی تعصب یا تاریخی غلط بیانیوں کی وجہ سے راہ مستقیم سے منحرف ہو جاتے ہیں اور گمراہ لوگوں کی ترجمانی کر ناشروع کر دیتے ہیں

تاریخ اسلام تونہیں بلکہ تاریخ مسلمین میں چودہ سو صدیوں سے جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ ایک بالغ نظر شخص ،بابصیرت انسان اور مومن کیلئے انتہائی غم انگیز اور دردناک ہیں ان واقعات میں سے ایک حضرت ابو طالب ـ کی شخصیت کو پائمال کرنا اور جھٹلانا ہے

بجائے اس کے کہ انکو علیہ السلام سے یاد کیا جائے ان کو کافر و مشرک ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں بحر حال اس موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے کچھ عقلی اور نقلی گفتگو آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے.

مناقب ابن شہر آشوب میں یہ روایت موجود ہے کہ جناب حضرت عبدالمطلب کی رحلت کا وقت قریب ہوا تو آپ نے جناب ابو طالب ـ کو بلایا جب وہ اپنے باپ کے سرہانے حاضر ہوئے تو جناب عبدالمطلب احتضار کے عالم میں تھے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے سینہ پر تھے اسی عالم میں انہوں نے جناب حضرت ابو طالب ـ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یا اباطالب انظر ان تکون حافظاً لھذا الوحید الذی لم یشم رائحة ابیہ ، ولم یذق شفقہ امہ. انظر یا اباطالب ان یکون من جسد ک بمنزلة کبدک

'' اے ابو طالب ـ دیکھو ! تم اس فرزند کی حفاظت کرنا ، جس نے اپنے باپ کی خوشبو نہیں سونگھی اور ماں کی شفقت و محبت کامزہ نہیں چکھا دیکھو ! اسے اپنے کلیجہ کی طرح عزیز رکھنا ...''

اصول کافی، ج١،ص٤٤٨میں لکھتے ہیں کہ :

یا ابا طالب ان ادرکت ایامه فاعلم انی کنت من البصر الناس والعلم الناس به فان اسطعت ان تتبعه فافعل وانصره بلسانک و یدک و مالک فانه واللّه سیسودکم

'' اے ابو طالب ـ ! اگر تم نے اس کا ( ( اس کی رسالت کا ) زمانہ درک کیا تو یہ جان لو کہ میں اس کے حالات کے بارے میں سب سے زیادہ واقف و آگاہ ہوں اگر تم سے ہوسکے تو اس کی پیروی کرنا اور اپنی زبان ، ہاتھ اور مال کے ذریعے اس کی نصرت کرنا ، کیونکہ خدا کی قسم وہ تم پر سرداری و حکومت کرے گا ''

جہاں تک پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد کی الٰہی شخصیت اور خدا وند عزّ وجل پر ان کے ایمان و اعتقاد کے حوالے سے بہت سے شیعہ و سنی علماء کے عقیدہ کے مطابق حضرت عبدالمطلب و حضرت ابو طالب ـ مکہ شہر میں توحید کے عظیم مبلغ اور ہر قسم کے شرک و بت پرستی کے مخالف تھے ، اگرچہ بعض افراد کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنے میں تقیہ سے کام لیتے تھے اوربعض مصلحتوں کی بناء پر بت پرستی کے رسم و رواج میں شرکت کرتے تھےوکان عبدالمطلب و ابو طالب من اعرف العلماء و اعلمهم بشان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و کان یکتمان ذلک عن الجهال واهل الکفر والضلال .

''جناب عبدالمطلب و ابو طالب ان علماء میں تھے جو شان پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او ر ان کے حق سے سب سے زیادہ واقف تھے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعلق اپنی معرفت کو نادانوں ،کافر وں اور گمراہوں سے چھپایا کرتے تھے ''

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اصبغ ابن نباتہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضر ت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ـ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے،خدا کی قسم ! نہ میرے باپ اور نہ میرے داداعبدالمطلب ،نہ ہاشم اورنہ عبدمناف کسی نے ہرگز بت پرستی نہیں کی حضرت امیرالمؤمنین ـ سے لوگوں نے سوال کیا کہ کیا پھر وہ کس کی عبادت کرتے تھے ؟

تو آپ نے فرمایا: کانو ایصلون علی البیت علیٰ دین ابراھیم علیہ السلام متمسکین '' وہ حضرات ،دین حضرت ابرہیم ـ کے مطابق خانہ کعبہ کیطرف نماز پڑھتے اور ان ہی کے دن سے تمسک حاصل کرتے تھے ''

یعقوبی اپنی تاریخ میں حضرت عبدالمطلب کے بارے میں رقمطراز ہیں :

ورفض عبادةالاصنام ، وحدالله عزوجل موفق بالنذر وسن سننا نزل القرآن باکثرها.

'' وہ ایسے شخص تھے جنہوں نے بتوں کی پرستش سے گریز کیا ، خدا ئے عزّ وجل کی وحدانیت کو پہنچانا ،نذ ر کو پورا کیا اور ایسی سنتیں قائم کیں جن میں سے اکثر و بیشتر کو قرآن نے تسلیم کیا ہے ''

بعد میں ان سنتوں کو اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

فکانت قریش تقول عبدالمطلب ابراهیم الثانی

'' یہاں تک کہ قریش نے حضرت عبدالمطلب کو ابرہیم ثانی کہتے تھے ''

اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب مکہ میں خشک سال آئی ،قریش قحط میں مبتلاہوئے تو حضرت عبدالمطلب کی دعا سے بارش برسنے کا ذکر تفصیل سے موجود ہ ہے

مرحوم کلینی رحمة اللہ علیہ نے اصول کافی میں اپنی سند سے زرارہ کے ذریعہ حضرت امام جعفر صادق ـ سے یہ روایت نقل کی ہے : آپ نے فرمایا :یحش عبدالمطلب یوم القیامة امة واحدة علیه سیما ء الانبیاء وهیبة الملوک

'' قیامت کے دن حضرت عبدالمطلب تنہا ایک امت کی شکل میں محشور کئے جائیں گے اور ان کی شان یہ ہوگی کہ ان کا چہرہ پیغمبروں جیسا اور ہیبت بادشاہوں جیسی ہوگی

اسد الغابہ میں حضرت ابو طالب ـ کے بارے میں چند قول نقل ہوئے ہیں :

پہلا قول یہ ہے کہ جب حضرت عبدالمطلب کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے پنے بیٹو ں کو جمع کرکے حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلہ میں ان سے سفارش کی ،اس کے ساتھ ہی عبدالمطلب نے اپنے دو بیٹوں زبیر اور ابوطالب کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کفالت اور سرپرستی کے بارے میں قرعہ ڈالا قرعہ حضرت ابو طالب ـ کے نام نکلا

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ انتخاب خود حضرت عبدالمطلب نے کیا اور حضرت ابو طالب ـ کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام کی کفالت و سرپرستی کیلئے انتخاب کیا کیونکہ ابو طالب ـ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام چچائوں میں ان سب سے زیادہ مہربان تھے

تیسرا قول یہ ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے اس بارے میں براہ راست حضرت ابوطالب کو وصیت کی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کی کفالت اور سرپرستی میں دے دیا.

چوتھا قول یہ ہے کہ پہلے زبیر نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کفالت و سرپرستی کی اور جب وہ وفات پاگئے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کفالت حضرت ابو طالب ـ نے اپنے ذمہ لی

ابن شہر آشوب ، مناقب میں لکھتے ہیں :

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عبدالمطلب کے زیر سایہ زندگی بسر کررہے تھے یہاں تک کہ جب ان عمر سو سال ہوئی اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آٹھ برس کے ہوئے تو عبدالمطلب اپنے بیٹو ں کو جمع کیا اور ان سے کہا : محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یتیم ہے ،اس کی سرپرستی کرو ، وہ صاحب ِ ضرورت ہے اسے بے نیاز کرو اس کے بارے میں میری وصیت و سفارش پر توجہ دو. ابولہب نے کہا : کیا میں اس کام کو انجام دوں گا ؟

حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا : اپنا شر اس سے دور رکھو !

عباس نے اظہار خیال کیا: میں اس کام کو اپنے ذمہ لے لوں گا

حضرت عبدالمطلب نے کہا : تم غصہ ور آدمی ہو ، ڈرتا ہوں کہ تم اسے اذیت دو گے.

ابوطالب نے کہا : میں ا س حکم پر عمل کروں گا اور ان کی کفالت اپنے ذمہ لیتاہوں

حضرت عبدالمطلب نے کہا : ہاں ! تم ان کی سرپرستی اپنے ذمہ لے لو

اس کے بعد حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رخ کرکے کہا :

یا محمد اطع له '' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی اطاعت کرو ''

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

یا ابه لا تحزن فان لی ربا ً لایضیفی '' اے پدر بزرگوار غمزدہ نہ ہو ں ، یقینا میرا ایک پر وردگار ہے جو مجھے تباہ نہیں ہونے دے گا '' ا س کے بعد حضرت ابو طالب ـ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی آغوش میں لے لیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کی

ایک مقام پر حضرت ابو طالب ـ اپنے باپ حضرت عبدالمطلب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں : یاابہ لا تصنی بمحمد فانہ ابنی و ابن اخی '' اے پدر محترم : آپ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں مجھ سے وصیت نہ کریں کیونکہ وہ میرا بیٹا اور میرے بھائی کا فرزند ہے ''

اس روایت کے ساتھ ہی ابن شہرآشوب یہ بھی نقل کرتے ہیں :

جب حضرت عبدالمطلب نے وفات پائی تو حضرت ابو طالب ـ ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہنانے اور کھلانے میں خود پر اور اپنے گھر والوں کو مقدم رکھتے تھے

اور ابن حجر عسقلانی نے کتاب '' الاصابہ '' میں اس بارے میں لکھتے ہیں :

حضرت ابو طالب ابن عبدالمطلب ـ ،جن کی کنیت مشہور ہوگئی ہے ،مشہور روایت کی بناء پر ان کا نام عبد مناف ہے اوربعض نے ان کا نام '' عمران '' لکھا ہے نیز حاکم نے لکھا ہے زیادہ تر مؤرخین کا عقیدہ یہی ہے کہ ان کی کنیت ہی ان کا نام ہے

یہاں تک کہ حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بابرکت عمر کے واقعات و حادثات سے بھرئے ہوئے آٹھ برسوں کا ذکر کر چکے ہیں

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اب جناب حضرت ابو طالب ـ کے گھر میں داخل ہوچکے ہیں اورمہربان چچا کی آغوش اپنے بھائی حضرت عبداللہ ـ کے عظیم المرتبت بیٹے کی پر ورش اور تر بیت کیلئے آمادہ ہے

تاریخ اسلام کی مختصر سے مختصر معلومات رکھنے والے سے بھی یہ حقیقت پوشید ہ نہیں ہے کہ اس بزرگ شخص یعنی ابو طالب نے کس قدر ایثار و فد اکاری اورکتنے اخلاص و محبت سے یہ سنگین الہٰی و اجتماعی فریضہ اپنی عمر کی آخری سانس تک انجا م دیا ہے جس کا سلسلہ تنتالیس(٤٣) برسوں تک پھیلا ہو اہے اس ذریعہ سے آپ روز قیامت تک دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر کتنابڑاحق رکھتے ہیں

فجزاه الله عن الاسلام و عن المسلمین خیرالجزاء

لطف عالی متعالی

محمد حسین بہشتی حوزہ علمیہ مشہد مقد س

تقریظ

لاکھوں درود و سلام ہوں کائنات کی عظیم مخلوق حضرت محمد بن عبداللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے پاک خاندان خصوصاً حضرت حجةابن الحسن مھدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کی ذات گرامی پر

نور ِ تابا ں ،ستارہ درخشاں ،فضیلت و عظمت کے آسمان یعنی حضرت المؤمنین علی ابن ابی طالب ـ کی ذات مقدس جو ہمیشہ سے جن و بشر کی ہدایت کے سامان فراہم کرتی رہی ہے

حضرت علی ـ جو مصداق اتم السابقون السابقون اولئک ھم المقربون ہیں اور تمام جہت سے چاہیوہ اسلام لانے کا مرحلہ ہو یا اسلام کی راہ میں اپنے خون کے آخری قطرہ کو نچھاور رنے کامقام ہو سب سے بڑھ چڑھ کر ہے

آپ میزان حق و باطل ہیں حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کتنے دلکش اور خوبصورت انداز میں فرمایا:علی ـ حق کے ساتھ اور حق علی ـ کے ساتھ ہے اس بناء پر حضرت امیرالمؤمنین ـہر قسم کے نقص وعیب سے پاک و پاکیزہ ہیں

لیکن ایک گروہ بہت سی وجوہات اور مختلف علتوں کی بناء پر اس وجود نازنین سے ہمیشہ دشمنی کرتے رہے ہیں اور اپنی دشمنی و عداوت کو مختلف طور طریقوں سے ظاہر کرتے رہے ہیں من جملہ :

١۔ حضرت امیرالمؤمنین ـ کی فضیلت او رمقام کو چھپانے کی ناکام کوشش.

٢۔ دوسروں کو آپ ـ پر فوقیت اور برتری دینا.

٣۔ آپ ـ کے مخالفین کے فضائل تراشنا.

٤۔ آپ ـ کو سب و شتم کرنا (البتہ ان لوگوں کی تعداد بہت رہی ہے )

٥۔ آپ ـ کے کردار اور گفتار پر اعتراض کرنا

٦۔ آپ ـ کی حکومت و خلافت کو غصب کرنا

٧۔ خاندان وحی کو اذیت و آزار دینا

اس کے علاوہ اس مسئلہ کو زیادہ اچھالنا کہ حضرت امیرالمؤمنین ـ کے والد گرامی مشرک تھے گویا یہ چاہتے ہیں کہ حضرت علی ـ کو مشرک زادہ ثابت کریں ( نعوذباللہ )

کئی سالوں سے مخالفین اس تہمت پر خاص تاکید کرتے رہے ہیں اسی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ کیاکہ ایک مختصر کتاب اس ضمن میں یعنی ایمان ابوطالب ـ کے بارے میں تحریر کروں تاکہ سب کے اوپر واضح اور روشن ہوجائے ک نہ فقط آپ ـ صاحب ایمان نہیں بلکہ آپ کا ایمان تمام جن وانس کے ایمان سے قوی تر اور برتر ہے

یہ کتاب دو زبان فارسی اور انگلش میں ایران کے اندر چھپی اور نشر ہوچکی ہے اوریہ فیصلہ ہواہے کہ اردو زبان میں ترجمہ ہو کر زیادہ سے زیادہ مورد استفادہ قرار دیا جائے

اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے محقق گرامی حجة الاسلام والمسلمین جناب شیخ محمد حسین بہشتی صاحب جن کا سابقہ تالیف اور ترجمہ اردوزبان میں زیادہ رہاہے امید وار ہوں کہ خداوند عالم اس سعی پیہم کو آپ کیلئے ذخیرئہ آخرت قرار دے اور حضرت امیرالمؤمنین ـ کے خاص توجہات کے حامل ہوں

جعفرفاضل

مشہد مقدس ایران