راہ اور رہنما کی پہچان

راہ اور رہنما کی پہچان0%

راہ اور رہنما کی پہچان مؤلف:
قسم: اصول دین
صفحے: 33

راہ اور رہنما کی پہچان

مؤلف: آیة اللہ مصباح یزدی
قسم: صفحے: 33
مشاہدے: 434
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 65


تبصرے:

  • حرف اول ٧

  • مقدمہ ١٧

  • حسی اور عقلی ادراک ١٨

  • اہم بات ٢٣

  • نبوت قر آن کی نگاہ میں ٢٩

  • بعثت انبیاء علیہم السلام کے مقاصد ٣١

  • تشریعی ہدایت (الٰہی رہنمائی ) ٣١

  • لوگوں کی تعلیم ٣٨

  • تحریفات کی اصلاح ٣٨

  • دینی اختلافات کا بر طرف کر نا ٣٩

  • قضاوت ٤٣

  • حکومت ٤٣

  • یاددہانی ٤٦

  • ڈرانا اور خو شخبری دینا ٤٧

  • ظلم اور برائی سے مقابلہ ٤٨

  • لوگوں کو توحید اور معاد کی طرف متوجہ کرنا ٤٩

  • پیغمبروںکا بشر ہونا ٥٣

  • معجزہ ٦٥

  • معجزہ کی ضرورت ٦٥

  • معجزہ کی حقیقت ٦٦

  • کچھ سوالوں کے جوابات ٦٨

  • ١۔کیا معجزہ نبوت کے دعوے سے وابستہ ہے یا نہیں؟ ٦٨

  • ٢۔معجزہ عقلی طور پر ممکن ہے یا نہیں ؟ ٦٩

  • ٣۔کیا انبیاء علیہم السلام کا صاحب اعجاز ہو نا ضروری ہے ؟ ٧٣

  • ٤۔کیا تمام انبیاء صاحب معجزہ تھے یا معجزہ بعض انبیا ء سے مخصوص تھا؟ ٧٦

  • معجزہ قرآن کی روشنی میں ٨١

  • قرآن میں کلمۂ ''آیت'' کے استعمال کے مقامات ٨٢

  • انبیاء علیہم السلام کے معجزات ٩١

  • معجزہ کی کیفیت ٩٣

  • معجزہ کا دائرئہ حدود ١٠٣

  • حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات ١٠٥

  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ١٠٨

  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات ١٠٨

  • حضرت زکریا علیہ السلام کی کرامت ١١٠

  • حضرت مر یم علیہا السلام کی کرامت ١١٢

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماںکی کرامت ١١٣

  • طالوت کی کرا مت ١١٣

  • ارمیا اور حضرت یونس علیہ السلام کے معجزے ١١٤

  • حضرت دائود علیہ السلام کی کرامات ١١٥

  • حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرامات ١١٦

  • اصحاب کہف ١١٩

  • عقلی نکتہ ١١٩

  • نتیجہ ١٢٠

  • دائمی اعجاز ١٢١

  • اہل کتاب کے نز دیک پیغمبر اسلام ۖ کی نشانیاں ١٢٢

  • چیلنج قر آن کے معجزہ ہو نے کا ثبوت ١٢٤

  • قرآن کریم معجزہ کیوں ہے؟ ١٣٠

  • ١۔صرف و انصراف ١٣٠

  • ٢۔بلاغت ١٣٠

  • ٣۔اختلاف نہ ہونا ١٣٣

  • ٤۔پیغمبر امّی کی جانب سے ہے ١٣٤

  • ٥۔جامعیت ١٣٦

  • ٦۔علمی نکات کا اظہار ١٣٦

  • ٧۔غیبی خبریں ١٣٧

  • (١)ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ ١٣٧

  • (٢)فتح مکہ ١٣٧

  • پیغمبر اسلام ۖ کے بقیہ تمام معجزات ١٣٩

  • شق القمر ١٣٩

  • لوگوں کے ادراک میں تصرف ١٤١

  • القاء رعب اور نزول سکینہ ١٤٤

  • عصمت ١٥١

  • ملائکہ کی عصمت ١٥٣

  • عصمت انبیاء علیہم السلام(وحی سمجھنے میں ) ١٥٥

  • کیا انبیا ء علیہم السلام وحی میں کسی چیز کا اضافہ کر سکتے ہیں ؟ ١٥٦

  • مقام عمل میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت ١٥٩

  • مقام عمل میں انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہو نے پر کیا کو ئی دلیل ہے ؟ ١٦١

  • کیا عصمت '' جبر '' ہے ؟ ١٦٤

  • عصمت انبیاء علیہم السلام سے متعلق شکوک و شبہات ١٦٧

  • حضرت آدم علیہ السلام ١٦٨

  • حضرت ابرا ہیم و یو سف علیہما السلام ١٧٠

  • حضرت یو نس علیہ السلام ١٧٣

  • حضرت مو سیٰ علیہ السلام ١٧٤

  • حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام ١٧٦

  • حضرت محمد مصطفی ۖ ١٧٧

  • پہلی آیت ١٧٧

  • دوسری آیت ١٨١

  • تیسری آیت ١٨٥

  • چو تھی آیت ١٨٨

  • پا نچویں آیت ١٩٢

  • غیر انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا ١٩٧

  • ائمہ علیہم السلام کی عصمت ٢٠٠

  • ائمہ علیہم السلام کی عصمت پر قرآنی دلیل ٢٠١

  • اولی الا مر کی شان کیا ہے ؟ ٢١١

  • اہل بیت علیہم السلام کون ہیں ؟ ٢٠٩

  • ادیان کا اشتراک اور امتیاز ٢١١

  • اسلام ،دعوت انبیاء علیہم السلام کی روح ٢١١

  • تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھنا ضروری ہے ٢١٤

  • ادیان کے اختلاف کی وجہیں ٢٢٢

  • ١۔بغاوت و سرکشی ٢٢٢

  • ٢۔ تحریف ٢٢٧

  • احکام کے جزئیات میں ادیان یکساںنہیں ہیں ٢٢٩

  • رہنماکی پہچان

  • انبیاء علیہم السلام ٢٣٥

  • قرآن میں تاریخی مباحث کا محور ٢٣٥

  • قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے متعلق آیات کی تقسیم ٢٣٦

  • قرآ ن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے اوصاف ٢٣٩

  • رسول،نبی اور نذیر ٢٣٩

  • رسول اور نبی کا فرق ٢٤٠

  • انبیاء علیہم السلام کی تعداد ٢٤٣

  • کلمۂ امت کی وضا حت ٢٤٣

  • انبیاء علیہم السلام کی کثرت ٢٤٥

  • انبیاء علیہم السلام کی جنس ٢٤٨

  • اپنی قوم کا ہم زبان ہو نا ٢٤٩

  • دعوت تو حید ٢٥٠

  • معا شرہ میں رائج برا ئیوں اور بد عنوا نیوں سے جنگ ٢٥٠

  • فضیلت کے اعتبار سے مرا تب کا فرق ٢٥١

  • اجر طلب کرنے سے پر ہیز ٢٥٢

  • اولو االعزم انبیاء علیہم السلام ٢٥٧

  • کیا انبیائے اولوالعزم ہی صا حبان کتاب و شریعت ہیں ؟ ٢٥٨

  • صا حبان کتاب اولواالعزم انبیاء علیہم السلام کی رسالت کا دا ئرہ ٢٥٩

  • ادیا ن الٰہی ایک ہیں یا کئی ؟ ٢٦٠

  • دین کے اندر اختلاف ٢٦٣

  • عالمی رسالت کا مفہوم ٢٦٥

  • تمام الٰہی انبیا ء علیہم السلام پر ایمان ضروری ہے ٢٦٦

  • انبیاء علیہم السلام کی رسالت کا عالمی ہو نا ٢٧٠

  • پیغمبر اسلام ۖ کی رسالت کا عالمی ہو نا ٢٧١

  • مخا لفین کی دلیلوں پر ایک نظر ٢٧٤

  • تبلیغ اسلام کے تئیں جنوں کا کر دار ٢٧٧

  • ظہور اسلام کے بعد بقیہ تمام ادیان کا غیر معتبر ہونا ٢٧٨

  • انبیاء علیہم السلام کی امتیں ٢٨١

  • موجودہ بحث کا علو م سما جیت و نفسیات سے رابطہ ٢٨٢

  • خود امتوں کے ذریعہ انبیا ء علیہم السلام کی تکذیب ٢٨٣

  • ا نبیا ء علیہم السلام سے جنگ کر نے والے سر داروں کی پہچان ٢٨٧

  • انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کے نفسیاتی اسباب ٢٨٨

  • استکبار ٢٩٠

  • احساس برتری ٢٩٣

  • ظلم ٢٩٣

  • نفسانی خواہشات ٢٩٤

  • گناہ میں آلودہ ہونا ٢٩٥

  • بے نیاز ی(بے فکری) کا احساس ٢٩٦

  • انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کے چند نمونے ٢٩٧

  • مستکبر اور مستضعف قر آن کی نگاہ میں ٣٠١

  • استکبار اور استضعاف کے لغوی معنی ٣٠١

  • مستکبروں اور مستضعفوں کی گفتگو ٣٠٣

  • قرآ ن میں مستکبر اور مستضعف کا مطلب ٣٠٦

  • مستضعفین سے متعلق آیات کا ایک جا ئزہ ٣٠٨

  • نتیجۂ بحث ٣١٤

  • استکبار اور استضعاف کی اہمیت ٣١٥

  • عوام کا انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بر تاؤ ٣١٩

  • مذاق اڑانا ٣٢٠

  • تہمت ٣٢٢

  • بہانہ تلاش کر نا ٣٢٧

  • ڈرانا دھمکانا ٣٣٣

  • امتوں کے ساتھ خدا کاطریقہ(الٰہی سنتیں ) ٣٣٧

  • مشکلات کے ذریعہ ہدایت ٣٤١

  • املا اور استدراج کی روش ٣٤٢

  • الٰہی جال اور اخلاقی اقدار کی ہم آہنگی ٣٤٤

  • سنت عذاب ٣٤٦

  • خدا کی سنتوںکا ایک دو سرے میں مؤثرہو نا ٣٤٨

  • حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ٣٥٦

  • حضرت ہود علیہ السلام کی قوم (عاد) ٣٥٧

  • حضرت صالح علیہ السلام کی قوم(ثمود) ٣٥٧

  • حضرت لوط علیہ السلا م کی قوم ٣٥٨

  • حضر ت ابرا ہیم علیہ السلام کی قوم ٣٥٨

  • حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ٣٥٨

  • حضرت مو سیٰ کی قوم (آل فر عون ) ٣٥٩

  • اصحاب سبت ٣٦٠

  • قوم سبأ ٣٦٠

  • اصحاب رس ٣٦٠

  • اصحاب فیل ٣٦١

  • عذاب استیصال کا کا فروں سے مخصوص ہو نا ٣٦١

  • مستضعفین کا حا کم ہو نا ٣٦٣

  • الٰہی امدادآنا ٣٦٥

  • شکران نعمت سے اضافہ اور کفران سے نعمت سے کمی ٣٦٦

  • انبیاء علیہم السلام کے اختلاف کی سنت ٣٧٠

  • وحی کی حقیقت ٣٧٢

  • سما جیات میںاسلامی طرز تفکر سے متعلق چند نکات ٣٧٥

  • چندنفسیاتی پہلو ٣٨٦

  • فلسفۂ تا ریخ کے بارے میں ایک نکتہ ٣٩١

  • خا تمیت ٣٩٣

  • خا تمیت سے متعلق شکوک کا جا ئزہ ٣٩٦

  • اختتام نبوت کی وجہیں ٣٩٩

  • انبیاء علیہم السلام کے دو سرے منصب ٤٠٤

  • وحی کی توضیح و تفسیر ٤٠٧

  • قضا وت اور فیصلے کرنا ٤٠٨

  • حکو مت ٤١٠

  • پیغمبر اسلام ۖکے عہدے ٤١١

  • الف)وحی کی تفسیر کا منصب ٤١٢

  • ب )پیغمبر اسلام ۖ اور قضاوت کا عہدہ ٤١٣

  • ج )پیغمبر اسلام ۖ کی حکو مت کا منصب ٤١٦

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 33 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 434 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 65
سائز سائز سائز
راہ اور رہنما کی پہچان

راہ اور رہنما کی پہچان

مؤلف:

حرف اول راہ اور رہنما کی پہچان
مولف: آیة اللہ مصباح یزدی
مترجم : سید ضرغام حیدر نقوی
مجمع جہانی اہل بیت علیھم السلام

حرف اول جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ۖ غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلام ۖ کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن وعترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خون خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، آیة اللہ مصباح یزدی کی گرانقدر کتاب راہ اور رہنما کی پہچان کو فاضل جلیل مولاناسیدضرغام حیدر نقوی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


1
مقد مہ راہ اور رہنما کی پہچان

مقد مہ قرآنی تعلیما ت کے ذیل میں کی گئی گذشتہ بحثو ں سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ خد ا و ند عا لم نے ا پنے ذاتی صفا ت کے تقا ضو ں اور اپنی فیا ضیت اور ر حما نیت کی بنیاد پر ا س دنیا کو پیدا کیا ہے اور جیسا کہ بعض آ یا ت شریفہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس ماد ی د نیا کی تخلیق انسا ن کی خلقت کا مقد مہ ہے اسی وجہ سے انسا ن اشرف مخلو قات اور خداوند عا لم کی بارگا ہ میں مکر م ہے او ر و ہ خصوصیت جس کی بنا پر انسا ن، مخلو قا ت کے سب سے بلند در جہ پر فا ئز ہوسکتا ہے وہ انسا ن کا ''مختا ر ''ہو نا ا ور اس کے مقد مات فر ا ہم کر نا ہیں۔
یعنی چو نکہ انسا ن ''خدا وند عا لم کی عطا کر دہ قو ت و تو ا نائی کی بنیا د پر ''ایک ایسی مخلو ق ہے جو مختلف راستوں میں سے اپنی پسند کے کسی بھی راستے کا انتخا ب کر سکتا ہے اور اس پر خدا کی طر ف سے فر ائض عائد کئے جاسکتے ہیں ا ور اگر خدا و ند عا لم کے معین کر دہ فرائض پر گا مز ن ہو تو کما ل کے سب سے ا و نچے در جہ پر فا ئز ہو کر د ائمی سعا د تو ں اور لذتوں کو حا صل کر سکتا ہے ۔
پس انسان کی سب سے اہم خصو صیت اسکا اختیا ر و انتخا ب کا حا صل ہو نا ہے اور جس ر اہ پر وہ چل رہا ہے انسان نے آ زا دا نہ طو ر پر خود منتخب کی ہے ۔
اسی طر ح ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ د نیا وی ز ند گی آ خر ت کی ز ند گی کا مقد مہ ہے۔یعنی ز ند گی کے اس مر حلہ میں انسان ا پنے اختیا ر ا و ر انتخا ب کے ذ ر یعہ ا پنی ر اہ منتخب کر تا او ر ا پنی سر نو شت تحر یر کر تا ہے ا و ر زند گی کے اس مر حلہ کے بعد ا بد ی زند گی کا مر حلہ آ نا ہے جس میں وہ ا س د نیا میں انجا م دیئے گئے اعما ل کے نتیجو ںسے بہر ہ مند ہو تا ہے ۔
ا نسا ن ا پنی ز ند گی کے لئے صحیح ر ا ستہ منتخب کرسکے اس کے لئے تو ا ر اد ہ ،فیصلے کی قو ت اور ا س ر جحا ن کے علا وہ ہو جو خد ا و ند عا لم نے ا س کی فطرت میں قر ا ر دئے ا و ر ا فعال کو پایۂ تکمیل تک پہنچا نے کے وسا ئل مہیا کئے ہیں ایک ا و ر اہم شر ط بھی ضرو ر ی ہے ا و رو ہ صحیح را ستہ کی پہچا ن ہے ۔ در حقیقت آزاد انہ انتخاب اس وقت ممکن ہے کہ جب ا نسا ن مختلف را ستو ں کی پہچا ن رکھتا ہو ا و ر ان کے نتا ئج سے بھی آ گا ہ ہو ۔
ہم ا نسا ن شنا سی کی بحث میں اس بات کی طر ف اشا رہ کر چکے ہیں کہ ا نسا ن کے لئے مختلف قسم کی پہچانیں ممکن ہیں جو چیز تما م انسا نو ں میں عا م ہیں حو اس خمسہ ا و ر عقل کی راہنمائی میں حا صل شدہ پہچان ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا خد ا و ند عا لم نے یہ دو وسیلے جو تما م انسا نو ں کے اختیا ر میں دئیے ہیں صحیح ر استہ کے انتخا ب کے لئے ضرور ی ِمعلوما ت اور پہچا ن حا صل کر نے کے لئے کا فی بھی ہیں یا نہیں ؟ دو سر ے الفا ظ میں جو ا نسان اپنا ہر قد م یہ سوچ کر اٹھا تا ہو کہ اسے ا بد ی سعا دت کی ر اہ ہمو ا ر کر نا او رآ خری منزل کما ل تک پہنچنا ہے تو اس کو اپنا ہر قدم اٹھا نے کے لئے کچھ چیز وں سے آگا ہ ہونا پڑے گا ۔ توکیا جن معلومات کی انسان کو اپنی زند گی کے ہر مر حلہ اور ہر قد م پر ضرورت پڑ تی ہے وہ حو ا س و عقل کے راستہ سے حا صل ہو تی ہیں یا نہیں ؟
دو طر یقو ں سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ز ند گی کا راستہ منتخب کر نے کے لئے حس و عقل کافی نہیںہیں ان دو نو ں طر یقو ںکو بیان کرنے سے پہلے ہم حو اس اور عقل کے ادراک او ر ان کے دائرہ کار کی وضا حت کر د ینا ضروری سمجھتے ہیں :

حسی او ر عقلی اد را ک

احسا سا ت کا دا ئرہ یہ ادرا ک ظا ہری حوا س یعنی آنکھ ناک کان وغیر ہ کے ساتھ ما د ی د نیا کے ار تبا ط تعلق سے حا صل ہو تا ہے ۔ اس اد ر ا ک کا دائرہ بہت ز یا دہ محد و د ہے صر ف وہ چیز یں ہم سے تعلق پید ا کر تی ہیں (وہ بھی اپنے را بطہ کی حد تک او ر جب تک یہ ر ابطہ بر قر ا ر ر ہتا ہے ) احسا س کے دائر ے میں آتی ہیں دکھا ئی دینے اور سنائی دینے و ا لی چیزیں مختصر یہ کہ جو معلو مات ہم محسو سات کے ذر یعہ حا صل کر تے ہیں وہ یقینا ہما ری ز ند گی کے لئے مفید اور ضر وری ہیں لیکن سوا ل یہ ہے کہ آ خر ی ہد ف تک پہنچنے کے لئے یہ کس حد تک مؤثر ہو سکتی ہیں ؟ یہ تو صر ف کسی حد تک ہما ر ی ما د ی ز ند گی سے متعلق کچھ را بطو ں کی تو جیہ کر سکتی ہیں کہ ہم کیا کھا ئیں کیا پئیں کیا کیا پہنیں بو لیں اور کس سے کس طرح گفتگو کر یں ۔
محسو سات کا دائرئہ کا ر محدود ہو نے کی وجہ سے اس سے یہ تو قع نہیں رکھی جا سکتی کہ ہم اس کے ذریعہ ز ند گی کی صحیح ر اہ اس کے تما م پہلوئوں کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں ۔

عقل کا د ائرہ عقل ،خود اپنی جگہ (بیرو نی تجر بو ں سے قطع نظر) جو کچھ بھی سمجھتی ہے کچھ کلیا ت ہیں اور بس یعنی عقل صرف بنیا دی حقیقتوں یا بد یہیات ا و لیہ کو درک کر تی ہے اور اس پہچا ن کی کیفیت میں پا ئے جا نیوا لے ا ختلاف نظر کے با وجو د اس مسئلہ میں کو ئی اختلا ف نہبں ہے کہ عقل فقط کچھ اصو ل او ر کلیا ت مفا ہیم او ر ان کے ما بین ار تبا ط کو بیان کر سکتی ہے او ر یہ کلیات بذ ا ت خو د زند گی کی ر ا ہ معین و مشخص کر نے میں کوئی خا ص کر دا ر ا د ا نہیں کر تے ۔مثا ل کے طور پر آ پ( اجتما ع نقیضین محا ل ہے) یا( ہر معلول علت کا محتاج ہو تا ہے ) یا اسی طر ح مشہو ر و معرو ف مثال کہ کل جز ء سے بڑ ا ہو تا ہے کو مد نظر رکھئے تو اس طر ح کے تمام عقلی اصو ل اور کلیات بذ ا ت خو دزند گی کی ر اہ جا ننے پہچاننے یا معین کر نے میں کو ئی کر د ار ادا نہیں کر تے ۔ اس طر ح کی معلو ما ت کا ز یا دہ سے زیا دہ یہ فا ئدہ ہے کہ خالص فلسفی قسم کے مسا ئل ( جیسے خد اوند عا لم کے و جو د ) کو ثا بت کر سکتی ہیں۔
ا لبتہ ا در ا ک کی د و سری قسمیں بھی پائی جا تی ہیں جو حو اس و عقل کی با ہمی مد د سے حا صل ہو تی ہیں ۔جن کو ہم (تجر بات )کا نام دے سکتے ہیں یعنی ہما ر ے حو اس ا یک چیز کو محسوس کرتے ہیں ا ور ہما ر ی عقل ا ن پر کا م کر تی ہے ا یک چیز کو د وسرے سے الگ کر تی ،ہر ا یک کو شا مل کر تی ہے، تجز یہ و تحلیل کر تی ا ور ان سے نئے نتا ئج نکا لتی ہے۔ ہما ری دنیا وی ز ندگی کیلئے ان سب کا ہو نا ضر و ری ہے ہم ا ن سے فا ئدہ بھی اٹھا تے ہیں لیکن مو جو دات کی مخصوص علتیں حوا س ا و ر عقل کے ذ ریعہ پہچا نی جا تی ہیں ۔ہمیں حس سے کا م لینا چا ہیے عقل بھی محسو سا ت سے فا ئد ہ اٹھائے او ر ان کاتجزیہ کر ے تا کہ ان کی روشنی میں آ خر کا ر ہم کسی علمی نتیجے تک پہنچیں چنا نچہ مر و جہ اصطلا ح میں علمی قوانین و اصو ل یعنی علو م تجر بی اسی طر یقہ سے حا صل ہوتے ہیں ۔
یہ تھی حو ا س او ر عقل اور ان کی باہمی( مدد ) سے حا صل ہو نے والے نتیجہ کے با ر ے میں مختصر تو ضیح جو ہم نے قلمبند کر دی ۔
اب ہم یہ دیکھنا چا ہیں گے کہ کیا یہ معلو مات جو صر ف حوا س یا صر ف عقل یا ان دو نو ں کی با ہمی مدد سے حاصل ہو تی ہیں زند گی کی صحیح ر اہ تمام پہلوئوں اور شعبوں کے ساتھ تمام ز مان و مکان میں سمجھا نے کے لئے کا فی ہے یا نہیں؟
جیسا کہ ہم نے عر ض کیا دو طریقو ں سے اس چیز کا اثبا ت کر سکتے ہیں کہ یہ معلو ما ت صحیح راہ کی پہچا ن کے لئے کا فی نہیں ہیں ۔

تجر بہ کی ر ا ہ یعنی اس نا تو ا نی کو تجر بہ کے ذ ر یعہ اورحو ا س و عقل کی مد د سے ہم اس تفصیل کے ساتھ ثا بت کر سکتے ہیں کہ ہز ا ر وں سا ل ہو گئے کہ ا نسا ن روئے ز مین پر پیدا ہو ا اور زند گی بسر کر رہا ہے ۔ بہت زیا دہ قد یم ز ما نہ سے کو ئی دقیق ا طلا ع دستیا ب نہیں ہے لیکن تقریبا دو ہزا ر پا نچ سو سال پہلے تک انسا نی ہا تھو ں کی مر تب کر دہ تا ریخ اور افکا ر و نظر یات کتا بی شکلو ں میں مو جو د ہیں جو اس با ت کی نشا ند ہی کر تی ہیں کہ دا نش وروں نے بڑ ی زحمتو ں اور کو ششو ں سے کا م لیکر اپنے حوا س اور عقل سے استفا د ہ کر تے ہو ئے مختلف مسائل کو سمجھا ہے اور ان کو علمی مسا ئل ، حقوق و فرائض کے قو انین ،اخلا قی اصول اور اسی طرح کے دو سر ے مسائل کی صور ت میں بیا ن کیا ہے سا ئنسی علو م کے میدان میں روز بہ روز کا فی تر قی ہو ئی ہے اورآج ان ہی دانش وروں کی تحقیقا ت کے سایہ میں مادی دنیا کے بہت سے لا معلو م حقا ئق ہما رے لئے کشف ہو چکے ہیں اور ہم آسا نی سے ان کو پہچا ن سکتے ہیں اور ا ن میں اکثر مسا ئل اتنے واضح روشن اور قا بل فہم ہیں کہ ان مسا ئل میں بہت کم اختلا ف واقع ہو تا ہے لیکن عملی مسا ئل میں ''زند گی بسر کرنے کے طور طر یقہ'' معیا ر و اقدا ر اور ما دی دنیا سے ما فوق متا فیز یک یاالٰہیا ت کے مسا ئل میں مسئلہ اسکے برعکس ہے بہت سے انسا نی معا شروں میں بے پنا ہ مبہم مسا ئل مو جو د ہیں اور شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ آ ج کے اکثر علمی حلقے مادیت سے ما فوق ' الٰہیا ت کے مسائل کو کو ئی اہمیت نہیں دیتے کیو نکہ وہ ان کو حل کر نے سے عا جز ہیں ۔
لیکن ہما ری بحث کی ا ساس وبنیاد ان علوم پر قا ئم ہے جو رو ش و ر فتا ر اور اخلا قی اقدا ر و معیا را ت سے تعلق رکھتے ہیںکہ انسا ن کو اپنی زند گی میں کس طرح کام کر نا چا ہئے اور وہ د وسر ے انسا نوں کے سا تھ ا پنے روا بط کس طرح استو ار کرے ؟ و غیر ہ ۔۔۔
یہ مسا ئل انسانوں کے در میان ہمیشہ موضو ع بحث رہتے ہیں اور ان مسا ئل کو حل کر نے میں بہت زیا دہ فکری تو ا نا ئیا ں صر ف کی گئی ہیں لیکن جیسا کہ ہما ر ے علم میں ہے تا ر یخ کے کسی بھی مر حلہ میں دانشمند وں کے افکا ر ان مسا ئل میں نہ صر ف متحد اور یکسا ں نہیں ہو سکے بلکہ ان میں روز بہ روز اختلاف بڑھتا ہی گیا ہے آج جبکہ انسان علم ودانش کے بہت سے علمی مدارج طے کر چکا ہے صاف دکھا ئی دیتا ہے کہ ماہرین ہمیشہ زند گی بسر کر نے کے کچھ قوانین بنا تے ہیں لیکن جلد ہی معمو لی غور و فکر کے بعد ان قوانین کی خرابی ان پر ظاہر ہو جا تی ہے اور وہ ان قوانین میں ردو بدل اور اصلاح میں لگ جا تے ہیں ۔ جو بھی قانون بنتا ہے اس پر پہلے کچھ تر میمی نو ٹ لگتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد اس قا نو ن کو ہی کلی طور پرختم کرد یا جا تا ہے ۔اعمال، رفتار اور اقد ارو معیارات کے با رے میں انسانی افکار کا مطالعہ کر نے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسان اپنے علم ودانش کی طویل تاریخ میں ابتک ان مسائل کو حل نہیں کر سکا ہے اور یہ تجربہ اس طرح کے مسائل حل کر نے میں حوا س وعقل کی نا توا نی کا وا ضح نمو نہ ہے ۔
عقل و ہوش کی ناتوا نی کے اثبا ت کی یہ تجر باتی راہ ہے لیکن یہ راہ بہت زیاد ہ اطمینان بخش اور یقینی نہیں ہے۔ اسلئے کہ اس میں یہ احتما ل مو جو د ہے کہ شا ید آ یندہ صد یو ں میں ہزا ر دو ہزار سال بعد انسان اس میدان میں اتنی ترقی کر لے اور کسی یقینی علم تک پہنچ جائے ۔
٢۔دو سرا طریقہ یہ ہے کہ حواس و عقل کا جا ئزہ لیں اور ان کی کار کردگی کی کیفیت کو دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا حواس وعقل کی مدد سے زند گی کے تمام مسائل کو حل کر سکتے ہیں یانہیں ؟
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ حواس کے ذریعہ ہم چیزوں کے ظاہر کو و ہ بھی مخصوص زمانہ اور جگہ پر محدود حالات کے ساتھ ہی دیکھ پا تے ہیں بنا بریں حوا س کسی بھی صورت میں خود اپنی جگہ اقدار ومعیار کے حا مل مسائل کو ''خاص طور سے انسان کے عمل ورفتار کا آخرت کے نتیجو ں سے کیا رابطہ ہے'' بیان کرنے کی قدرت وصلاحیت نہیں رکھتا ۔ عقل بھی تن تنہا اس طرح کے مسائل بیان کر نے سے عاجز ہے عقل کے نزدیک ثابت شدہ مسلّمات کی تعداد بھی بہت زیادہ محدود ہے ہرروز بلکہ ہر گھنٹے مختلف انسانوںکے سا تھ اپنے ساتھ ،خداوند عالم کے ساتھ ،اپنے اہل ِخاندان اور معاشرہ والوں کے ساتھ سیکڑوں طرح کے تعلقات پیش آتے ہیں جن میں سے ہر ایک کیلئے ایک مستقل حکم ہو نا چاہئے ۔ مسلما ت عقلیہ بہت محد و د ہیں اور ان تما م تعلقات اور مسائل کے احکام کو بیان نہیں کر سکتے۔
اسی طرح عقل و حواس کی باہمی مدد سے اگر چہ انسان کی معلومات کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے لیکن اس کا دائرہ بھی انسان کے تجربہ کی حد تک ہی محدود ہے ہم مادی مو جودات کے سلسلے میں تجربہ کرسکتے ہیں ان کی مادی علتوں کی شناخت کر سکتے ہیں لیکن مادی پہلوئوں سے مافوق چیزوں کو تجربہ اور آزما ئش میں نہیں لا سکتے کہ ہم مادہ کے ساتھ غیر ماد ی چیز وں کے تعلقات کو بھی تجربہ کے ذریعہ ثابت کرسکیں اور ایک آخری بات جو ان سب سے زیادہ اہم ہے ( اور ہماری گفتگو کی بنیاد بھی وہی ہے ) اس دنیا سے ابدی دنیا کے رشتے کو سمجھنا ہے ۔ہمارے پاس آخرت کی موجودات کی معرفت کا کوئی راستہ نہیں ہے آخرت میں ظا ہر وآشکا رہو نے والی موجو دات کی تن تنہا حواس کے ذریعہ پہچان کی جاسکتی ہے نہ عقل کے ذریعہ اور نہ ہی ان دونوں کی مدد سے اس دنیا کے حقا ئق ہم پر روشن ہو سکتے ہیں اور جب تک ہم یہ نہ جان لیں کہ ہماری یہ زندگی آخرت کی زند گی میں کس طرح مؤثر ہو سکتی ہے اور آخرت کی سعادت کے ساتھ ہمارے کن اعمال کا رابطہ مثبت اور کن اعمال کا رابطہ منفی ہے اس وقت ہم اپنی زندگی صحیح طریقہ سے نہیں گذار سکتے اور نہ ہی اپنی زند گی بسر کرنے کے لئے صحیح منصوبہ بندی کر سکتے ہیں یہ سب منصوبہ بندی اور اقدار و معیارات عمل اور اسکے نتیجہ کے در میان رشتے کا تعین ہونے کے بعد ہی طے ہو سکتے ہیں اور جب تک ہم اس رابطہ کو نہ سمجھ لیں اس وقت تک یہ نہیں کہہ سکتے کہ ( یہ کام کرنا چاہئے اور وہ کام نہیں کرنا چاہئے ) ہم اس بحث کو اپنے مقا م پر عر ض کر چکے ہیںکہ (یہ چاہئے اور وہ نہیں چاہئے ) یہ باتیںکسی کام اور اسکے نتیجے کے در میان رابطہ کے ذریعہ ہی معلوم ہوتی ہیں جب تک ہم نتیجہ نہ جا نیں اور نتیجہ کے وجود میں اس کام کی تاثیر کا تجربہ نہ کر لیں اسوقت تک ان کے بارے میں کو ئی حکم نہیں جاری کرسکتے اور مجمو عی طور پر چونکہ آخرت کی دنیااور اس دنیا سے اس کے روابط حواس اورعقل کے دائرے سے خارج ہیں ہم ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیںکر سکتے اور نہ ہی اس دنیا وی زندگی کے لئے کو ئی منصو بہ اور پروگرام ترتیب دے سکتے۔
اب جبکہ ہم سمجھ گئے کہ تنہا عقل و حواس زند گی کیلئے کسی ایسی دقیق منصوبہ بندی سے عا جز ہیں کہ (جس کے تحت آخرت کی کامیابی اور ابدی کمال وسعادت حاصل ہو سکے )تو اب ہم اس میں ایک اور مقد مہ کا اضا فہ کرتے ہیں اور وہ یہ :
جس خدا نے انسان کو اِن محدود عقل وفہم اورر خصو صیات کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں اُسی نے اِس کے لئے ابدی سعادت تک خود اپنے اختیاری اعمال کے ذریعہ پہنچنے کا فیصلہ بھی کیاہے اب اگر وہ اس کے لئے لازم علم و شناخت اس کے اختیار میں نہ دے تو اس کا فعل لغو اور عبث کہا جائیگا ۔
ہم گذشتہ بحثو ںسے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خداوند عالم نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا کہ وہ اپنے اختیاری عمل و رفتار کے ذریعہ اپنا ابدی انجام تحریر کرے اور اختیاری اعمال صحیح پہچان اور معرفت پر منحصرہیں جبکہ عام حالات میں اسطرح کی معرفت اور پہچان انسانی عقل وفہم کے ذریعہ حاصل نہیںہو سکتی دو سرے لفظو ں میں خدا نے ایک طرف تو انسان کو انتخاب کی قوت دی تاکہ وہ اپنے علم و معرفت کے ذریعہ اپنا راستہ خود منتخب کر لے اور دو سری طرف صحیح راستہ منتخب کر نے کے لئے ضروری پہچانیں اسکے اختیار میں نہیں دی ہیں ۔
ایک آسان مثال کے ذریعہ مطلب یو ں سمجھئے کہ:اگر کوئی کسی کو اپنے گھر پر مہمان کرے اور بہت زیادہ اصرار کے ساتھ کہے کہ آپ کو ہر حال میں آنا ہے یہاں تک کہ اس کو دھمکی بھی دے کہ اگر نہ آئے تو آپ کو جواب دینا پڑے گا لیکن اسکو اپنے گھر کا راستہ نہ بتا ئے ایڈ ریس نہ دے اور کہدے کہ گھر آپ خود تلاش کر لیجئے گا کہ یہ مکان کس شہرمیں ہے ؟وہاں جانے کے لئے کس سواری کی ضرورت پڑے گی ؟کچھ مشخص ومعین نہیں ہے کہ کس شخص سے سوال کر نا ہے؟میں یہ سب کچھ نہیں جانتا لیکن آپ کو دعوت میں ضرور آنا ہے تو یہ دعوت ایک احمقانہ دعوت کہی جائے گی اگر انسان کو کسی مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس مقصد تک اس کو خود اپنے علم واختیار کے ساتھ پہنچنا ضروری ہے تو ضروری نشانیاں بھی اس کے اختیار میں دیا جانا لازم ہے ۔آپ کو بہشت میں پہنچنا ہے آپ کو ہم نے جنت کے لئے آخرت کی بے انتہا رحمتوں کیلئے خلق کیا ہے ہمارا ہدف و مقصد یہی ہے لیکن ہم وہا ںتک پہنچنے کے راستے کی کوئی نشان دہی نہیں کریں گے آیا میں اگر خود غورو فکر کرو ں تو سمجھ جائو نگا؟جی نہیں کیا میں کسی سے پو چھوں تو بتا سکتا ہے ؟ جی نہیں ۔ہم صرف اتنا جانتے ہیں کے تمھیں وہاں تک پہنچنا ہے اس طرح کا فعل عبث اور احمقا نہ ہے ۔
بنا بر این حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ ضروری علم بہ شناخت تمام انسانوں کیلئے فراہم کر دے کوئی راستہ معین کردے کہ انسان اس راستہ کی بنیاد پر ہدف اور اس تک پہنچنے کی کیفیت جان لے اور یہ راستہ وحی اور نبوت کے علاوہ اور کوئی ر ا ستہ نہیں ہو سکتا ۔پس اس تفصیل کی بنیا د پر ایک ایسی راہ کی ضرورت ہے جو عام افراد کی پہنچ سے با ہر ہے ثابت ہوجا تی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ خدا نے کیا یہ راستہ سب کے اختیار میں قرار دیدیا ؟جی نہیںاس لئے کہ اگر یہ راستہ سب کے اختیار میںقرار دیدیا جاتا تو ہم اور آپ بھی اس سے بے خبر نہ ہوتے ۔ جس وقت بھی چا ہتے عالم بالا کیلئے ایک ٹیلیگراف کرکے معلوم کر لیا کر تے کہ ہمیںکیا کرنا چاہئے ؟لیکن ہم کو معلوم ہے کہ انسانوں کی استعداد میں کمی کی وجہ سے اس طرح کا رابطہ تمام انسانوں کیلئے میسر نہیں ہے۔لہٰذا حکمت الہٰی خود تقاضا کر تی ہے کہ انسانوں کو اس طرح خلق کرے کہ ان کے درمیان کچھ ا فراد ایسے ہو ں کہ ا ن کے ذریعہ خداوند عالم لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرکے زندگی بسر کر نے کا دستورالعمل معین ومشخص کر دے ۔

اہم بات ہم نے انسانی عقل وفہم کی کوتا ہی کے جن دو راستوں کا تذکرہ کیا نتیجہ کے اعتبار سے فرق کرتے ہیں ۔اگر صرف پہلا راستہ ہوتا تو ہم اس سے قطعی طور پر جو نتیجہ اخذ کر سکتے تھے یہ تھا کہ خدا وند عالم نے چونکہ تمام انسانوں کو سعادت کے لئے پیدا کیا ہے اور انسان ہزا رو ں سال سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور تجربہ بتاتا ہے کہ عام ادراک کے ذریعہ اس باریک راستہ کو نہیں پہچانا جاسکا ۔پس خدا کی حکمت تقاضا کر تی ہے کہ ابتک ان انسانوں کے لئے کوئی دوسری راہ مقرر کر دی ہو لیکن بعد کے لئے کیا ہوگا ؟کیو نکہ یہ احتمال پا یا جاتا ہے کہ بعد میں انسان کی عقل کامل ہوجائے اور وہ آہستہ آہستہ خود ہی راستہ کو سمجھ لے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے مستقبل کے لئے نبوت کی ضرورت کو قطعی دلیل کے ذریعہ ثابت نہیں کر سکتے ۔ہم اسی حد تک نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اب تک انسان کی عقل ناقص تھی اور یہ محال ہے کہ خدا وند عالم اربو ںانسانو ں کو جنہیں اس نے تاریخ کے طویل دور میں ابتک پیدا کیا ہے کسی رہنما کے بغیر چھو ڑ دے ۔یہ حکمت الٰہی کے خلاف ہے لیکن بعد کے لئے کیا ہو ؟کیا اب اس دلیل میں کوئی کشش نہیں رہ گئی ؟ کیو نکہ گذشتہ تجربہ کی بنیاد پر مستقبل کے لئے یقین کے ساتھ پیشینگوئی نہیں کی جاسکتی کہ مستقبل میں بھی انسانوںکی عقل کما ل تک نہیں پہنچ پائے گی کہ لو گ زند گی کیلئے کو ئی دقیق منصو بہ بندی حا صل کر سکیں ۔اس مقام پر ایک شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ ممکن ہے ایک زمانہ میں انسان کی عقل کامل ہوجا ئے جیساکہ بعض لوگوں نے پیغمبر اسلام ۖ کی خاتمیت اور اسلام کے نا سخ ہونے کے بارے میں کہا ہے:چھٹی صدی عیسوی تک انسان کی عقل ناقص تھی وہ ا س بچہ کے مانند تھا جس کو ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلایا جائے اور حقیقت میں وہی اس بچہ کی پرورش کر نے والی دایہ کے مانند تھے جن کا کام مدد کر نا تھا تا کہ وہ زند گی کے مر حلے قدم بہ قدم طے کر سکے لیکن چھٹی صدی عیسوی میں انسان کی عقل کامل ہوگئی اور اس کے بعد وحی کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہی لہٰذا اس کو حکم دیا گیاکہ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوجائو اب تمہیں اپنی زندگی کی راہ خود مشخص و معین کر نا چاہئے اس وجہ سے اب کسی نئے پیغمبر کے آنے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے ۔
جی ہاں اگر ہم اس طرح استدلال کریں کہ ابتک چونکہ انسان کی عقل کامل نہیں ہوئی تھی تو یہ احتمال مستقبل کے لئے دیا جا سکتا تھا البتہ اس طرح کا نتیجہ حتی اس مقد مہ کے ساتھ اخذ کر نا بھی صحیح نہیں ہے کیو نکہ چھٹی صدی عیسوی سے آج تک جب چودہ صدیاں گذر چکی ہیں اب بھی عقل کی ناتوانی اور نا رسائی واضح ہے اور بہت سے شکوک و شبہات (سوائے ان کے کہ جنھوں نے نوراور وحی سے راہ زند گی حاصل کی ہے ) انسان کے لئے پہلے کی طرح اب بھی موجود ہیں ۔بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ گروہ اور زیادہ ضلالت و گمراہی میں ڈوب چکے ہیں یہاں تک کہ اخلاق اور قدروں کے لحاظ سے سابقین کی بہ نسبت تنزل کا شکار ہو چکے ہیں اورر اگر زوال نہیں کیا ہے تو کوئی نمایاں ترقی بھی نہیں کر سکے ہیں۔ بہر حال یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاںتک تاریخ بتاتی ہے انسان کی عقل زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کے لئے ہمیشہ ناتواں اور ناکافی رہی ہے بس حکمت الہٰی اقتضا ء کر تی ہے کہ ان تمام ادوار میں وحی کے ذریعہ انسان کی رہنمائی کرے ۔
لیکن کسی بھی حال میں آئندہ کے لئے اس برہانِ تجربی کی اساس پر نہیں کہا جاسکتا کہ یقینی طور پر مستقبل میں بھی انسان کی عقل کامل نہیں ہوسکے گی شاید سو صدیوں بعد کے لئے کوئی شخص یہ احتمال دے کہ میرے خیال میں انسان کی عقل کامل ہو جائیگی اور وہ زند گی کے مسائل درک کر لے گا اور اختلافات ختم ہوجائیںگے لیکن ہم مستقبل کی سو صد یوں بعد کے لئے پیشین گو ئی نہیں کر سکتے ۔ لہٰذا اس احتمال کی وجہ سے ہم آئندہ کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ اگرچہ ہم کو مستقبل میں کسی نئے نبی کی آمد اور وحی کے نازل ہو نے کی ضرورت نہ ہو اور یہی آسمانی کتاب جس کو خداوند عالم نے آخری نبی پر نازل فرمایا ہے قیامت تک انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی ہو لیکن اس احتمال کا نقصان یہ ہے کہ اُس کے تحت ممکن ہے ایک انسان کی عقل کامل ہو جائے اور وہ تعبّد کی مد دکے بغیر اپنی راہ کا بذات خود انتخاب کرسکے ۔
لیکن ہم نے انسانی ادراک سے استفا دے کی جس دو سری روش کی طرف اشارہ کیا ہے اس کے تحت ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ انسان کبھی بھی نہ تو وحی سے بے نیاز تھا اور نہ ہی آئندہ بے نیاز ہوسکے گا کیونکہ زند گی صحیح طور پر گزار نے کی منصو بہ بندی اس شرط پر مو قو ف ہے کہ ہم اپنے اختیاری اعمال کا رابطہ آخرت میں ان کے نتیجوں کے ساتھ جانتے ہوں اورعقل و حواس کبھی بھی ان رابطو ں کو صحیح طور پر کشف نہیں کر سکتے ۔ اسلئے کہ یہ انسانی تجر بہ کی دسترس سے باہر ہے ۔ پس عقل وفہم کی ناتوانی معلو م کر نے کی راہ کی بنیاد پر پورے یقین کے ساتھ ہمیشہ کے لئے (چاہے وہ ماضی کی بات ہو یا حال یا مستقبل کی ) یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اگر وحی کا وسیلہ نہ ہو اور اس کے نتائج انسان کے اختیا ر میں نہ ہوں تو خدا وند عالم کا فعل یعنی انسان کی تخلیق لغو اور بے کار ہو جائیگی ۔
حقیقت میں یہ سب سے یقینی اور قطعی دلیل ہے جو نبوت کی ضرورت پر قائم کی جاسکتی ہے ۔ فلاسفہ اور اسلامی متکلّمین نے دوسری دلیلیں بھی نقل کی ہیں جو ان کی کتابوں میں درج ہیں چونکہ ہماری نظر میں یہ دلیل سب سے زیادہ محکم اور قابل یقین ہے لہٰذا ہم اسی دلیل پر اکتفا ء کر تے ہوئے دوسری دلیلوں کے بیان سے قطع نظر کرتے ہیں ۔
قرآن کریم میں رسولوں کے مبعوث ہو نے اور کتابوں کے نازل کر نے کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے ان سے نتیجہ اخذ کر تے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سے بھی اسی دلیل کا استنباط ہوتا ہے منجملہ یہ دلیل :
(رُسُلاًمُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّایَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلیٰ اللہِ حُجَّة بَعْدَالرُّسُلِ)(١)
ہم نے بشارت اور ڈ رانے والے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا تاکہ ا ُس کے بعد لوگوںکے لئے خدا کے مقابل کوئی حجت باقی نہ رہ جائے '' ۔
یعنی اگر پیغمبر مبعوث نہ کئے گئے ہوتے تولوگ یہ احتجاج کر سکتے تھے کہ ہمارے گمراہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم خدا وند عالم کے احکام سے نا واقف تھے لیکن انبیا ء علیہم السلام کے آنے کے بعد اُن پر حجت تمام ہو گئی۔
اورہم اس آیت سے اسی دلیل کا استنباط کر تے ہیں:
اگر عقل و حواس اور ان دونوں کی با ہمی کار کر دگی صحیح راستہ کو پہچا ننے میں کا فی ہو تی تو جب لوگ احتجاج کرتے
..............
١۔سورئہ نساء آیت١٦٥۔
ہوئے کہتے :
''ہم نہیںجانتے تھے کہ وہ راستہ غلط اور یہ راستہ صحیح تھا ''۔
خدا یہ فرما سکتا تھا کہ '' میں نے تو عقل اور صحیح راستہ کومنتخب کرنے کے وسائل تمہارے اختیار میںدیدئے تھے''۔
تو اُن کے لئے یہ کہنے کا امکان ہوتا : ہم سب کو تحقیق وجستجو کا موقع نہیں مل سکا ۔
اور پھر اُن کو جواب دیا جاتا : جس طرح بعض دانشمندوںنے مادی امور میں تحقیق کی اور دوسروں نے انُ کی تحقیقات سے استفادہ کیا تم بھی صحیح راستہ کی شناخت کے لئے بہتر کام کر سکتے تھے۔
لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ خدا وند عالم فر ماتا ہے :''جب تک ہم پیغمبر کو نہ بھیج دیں حجت تمام نہیں ہو سکتی ''
خود یہ جملہ اس بات کا شاہد ہے کہ قرآ ن کی رو سے انسان کا فہم وادراک عام حالات میں زندگی کے صحیح راستہ کو پہچاننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔
دوسری آیات میں بھی اسی طرح کا مضمون ہے منجملہ یہ کہ:ہم نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کیا، کتابوں کو نازل کیا تاکہ لوگ یہ نہ کہہ دیں :
قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:
( لَولَاْ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاًفَنَتَّبِعَ آیَا تِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذَِلَّ وَنَخْزَیٰ )(١)
'' اگر رسو لو ں کو ہم نہ بھیجتے اور کتا بیں نازل نہ کرتے لوگ احتجاج میں کہہ سکتے تھے خدا یا تو نے کوئی نبی کیو ں نہ بھیجا ؟ اگر بھیجا ہوتا تو ہم اس ذلت و خواری میں مبتلا نہ ہوتے''۔
د ر حقیقت یہ حکمت الٰہی کے خلا ف احتجاج ہے یعنی تونے جو ہم کو پیدا کیا تیرا ہد ف یہ تھا کہ ہم اس ذلت ورسوائی میں پڑ جا ئیں ؟ یہ تو حکمت کے خلاف ہے ۔تو اگر نہیں چاہتا تھا کہ ہم زبر دستی ذلت ورسوائی میں گر فتار ہوں تو تجھ کو معلوم تھاکہ ہماری عقل راستہ کی شناخت کیلئے کافی نہیں ہے ۔پس تونے پیغمبر کیوں نہ بھیجا جو ہم کو اس بد بختی سے چھٹکارا دلاتا ۔قرآن کامل طور پر اس احتجاج سے واقف تھا لہٰذا قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم نے پیغمبر کو مبعو ث کیا تا کہ تم اس طرح کی باتیں نہ بناسکو یعنی اگر پیغمبر نہ بھیجتے تو تم کو اس طرح کی باتیں بنانے کا حق تھا ۔یہ حق ہونا کس صورت میں ممکن ہے ؟ اسی صو رت میں کہ جب انسان کی سمجھ عام حالات میں شناخت کے لئے کا فی نہ ہو۔
پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی رو سے انسان کے حواس اور عقل زندگی کی راہ کا صحیح تعیین کرنے کیلئے کافی
نہیں ہیں اور صرف وحی اور نبوت کے ذریعہ انسان کی زندگی سے اس کمی اور نقص کو رفع کیا جاسکتا ہے اور اسی صورت میں تخلیق کی الٰہی غرض و غایت پوری ہوسکتی ہے۔
چونکہ اس رسالے میں ہم ''راہ کی شناخت ''پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔لہٰذا ہمار ے لئے وحی ونبوت اور اُن کے متعلقات کے بارے میں تفصیلی بحث ضروری ہے کیونکہ صحیح راستہ کی شناخت صرف''وحی ''کے ذریعہ ممکن ہے کسی بھی اور راہ سے اس کاامکان ہے۔
..............
١۔سورئہ طہ آیت١٣٤۔


2
نبوّت قرآن کی نگاہ میں راہ اور رہنما کی پہچان

نبوّت قرآن کی نگاہ میں قرآن کریم میں نبوت اور اس سے متعلّق مسائل کے بارے میں بہت سی آیتیں ہیں ظاہر ہے ہم ان تمام آیتوں پر تحقیقی بحث نہیں کر سکتے لہٰذ ا ان آیا ت میں کی گئی اہم بحثوں کا ہی ہم نے انتخاب کیاہے اورحسب ضرورت ان مباحث سے متعلق آیات کی وضاحت کریں گے تو آئیے سب سے پہلے بعثت انبیاء علیہم السلام کے اہداف و مقاصد پر گفتگو کرتے ہیں۔

بعثت انبیاء علیہم السلام کے مقاصد

تشریعی ہدایت (الٰہی رہنمائی ) در اصل قرآن کریم میں نبوّت کا مسئلہ انسان کی خلقت کے ساتھ ہی بحث میں آیا ہے کیو نکہ اس دنیا میں انسان کی زند گی کی بنیاد الٰہی (اور مذہبی ) رہنمائی پر قائم ہوئی ہے ۔اس دنیا میں انسا ن کی خلقت کے مقصد کو دیکھتے ہوئے اس بات کو قبول کر نا واضح ہے ۔جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ انسان کو عالم ِ مادہ میں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ اس کی اپنی پسند کا ایک راستہ اسکے سامنے ہو اور وہ اپنے پورے اختیار سے اپنی تقدیر کی بِنا رکھے تو ظاہر ہے خدا کی جانب سے ہی اس کے سامنے ایک ایسا راستہ ہو نا چاہئے کہ جس کے دو پہلو ہوں ایک پہلو کمال کا ہو اور دوسرا پہلو نقص کا ایک کی انتہا ء کا میابی و نجات پر ہو اور دوسرے کا اختتام ناکامی و بد بختی پر تا کہ اپنے آزادانہ انتخاب کے ذریعہ انسان اُن میں سے ایک کو چُن لے ۔
قرآ ن کی بعض آیا ت سے پتہ چلتاہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جس وقت زمین پر آئے اسی وقت ان پر وحی ہوئی کہ جب خدا کی جانب سے تمہاری رہنمائی ہو تو اس کو قبول کرنا ۔اگر قبول کیا اور ا س پر عمل کیا تونجات مل جائے گی اور اگر مخالفت کی تو بد بخت ہو جائو گے قرآ نِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
( قُلنَااھْبِطُوْامِنھَا جَمِیْعاً فَاِمّایاَتِینَّکُم مِنِّیْ ھُدًی۔۔۔)(١)
''اور جب آدم سے کہا کہ بہشت سے نکلو (تو سا تھ میں یہ بھی کہہ د یاتھا )کہ اگر تمہا رے پاس میری طرف
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ٣٨۔
سے ہدایت آئے تو (اُس کی پیروی کر نا ) '' ۔
کیونکہ اس کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو پیروی کر کے نجات پا جائو یا مخا لفت کر کے بد بخت ہو جائو۔
(فَمَن تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوف عَلَیْھِم وَلَاھُمْ یَحْزَنُونَ۔ وَالَّذِینَ کَفَرُوْاوَ کَذَّ بُوْابِآیَٰتِنَااُولَٰئِکَ اَصحَابُ النَّارِھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ )(١)
''جو لو گ میری ہدایت پر چلیں گے اُن پر ( قیا مت میں )نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہونگے اور جن لوگو ں نے انکار کیا اور ہماری آ یتو ں کو جھٹلایا وہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہیںگے'' ۔
یعنی زمین پر آدم کی آمد کے آغاز سے ہی اُن پر یہ بات روشن کر دی گئی تھی کہ آپ کے سامنے دو راستے ہوں گے اور خداکی طرف سے رہنمائی کی جا ئیگی ۔
اسی سے ملتی جُلتی یہ آیت بھی ہے :
(قَا لَ اھْبِطَامِنْھَاجَمِیْعاً)
''(آدم و حوّا سے خطاب ہے)کہ دونوں جنّت کو چھوڑ دو اور زمین پر چلے جائو ''۔
اور ممکن ہے یہ خطاب حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس سے ہو کیونکہ ا ِس کے بعد ارشاد ہو تا ہے : (بَعضُکُم لِبَعْضٍ عَدُوّفَاِمَّا یَا تِیَنَّکُم مِنِّیْ ھُدًی فَمَنِ اتّبَعَ ھُدَا یَ فَلَا یَضِّلُ وَلَا یَشْقَٰی )(٢)
'' تم میں سے ایک ایک کا دشمن ہے پھر اگر تمہا رے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (تم اس کی پیروی کرنا کیونکہ )جو شخص میری ہدایت پر چلے گا نہ تو وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پھنسے گا ''۔
اسی طرح سورئہ اعراف میں ارشاد ہو تا ہے :
(یَٰبَنِیْ آدَمَ اِمَّایاَتِیَنَّکُم رُسُل مِنکُم یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُم آیاَتِی فَمِنِ اتَّقَٰی وَاَصْلَحَ فَلَاخَوْف عَلَیْھِم وَلَاھُمْ یَحْزَ نُوْ نَ۔وَالَّذِیْنَ کَذّبُوابَِٔایَٰتِنَاوَاسْتَکْبَرُوْاعَنْھَاأُولَٰئِکَ اَصْحَابُ النَّارِھُمْ فِیْھَا خَاْلِدُوْنَ)(٣)
''اے اولاد ِآدم جب تم میں سے ہی (ہمارے ) پیغمبر آئیں اور تم سے ہمارے احکام بیان کریں (تو ان کی اطاعت کرنا کیونکہ )جو لوگ پرہیز گار بن گئے اور نیک کام کیا ان کے لئے قیامت میں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ آزردہ
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ٣٨۔٣٩۔
٢۔سورئہ طہ آیت١٢٣۔
٣۔سورئہ اعراف آیت٣٥،٣٦۔
خاطر ہوںگے اور جن لوگو ںنے ہماری آیت کو جھٹلا دیا اور اُن سے سرتابی کر بیٹھے وہی لوگ جہنمی ہیں اور اُس میں ہمیشہ رہیںگے ''۔
خطاب تمام انسانو ں سے ہے اس آیت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ کوئی یہ نہ سو چ لے کہ مذ کو رہ خطاب صرف آدم و حو ّا یا ابلیس سے مخصوص تھا ۔دوسرے لوگوں سے اسکا کوئی تعلّق نہیں ہے یہاں خطاب اولاد آدم سے ہے۔ سو رئہ بقرہ میں ''فَمَنْ تَبِعَ '' آیاتھا 'سو رئہ طہ اور سورئہ نور میں (فَمَنِ اتَّبَعَ )تھا ۔یہاںاسکامصداق''فَمَنِ اتّقی وَاَصْلَحَ''بیان کیا جا رہا ہے ۔
لہٰذا وحی ونبوّت کے ذریعہ الٰہی ہدایت کا مسئلہ ایک ایسی چیز ہے جو خلقت میں مضمر اور شامل ہے اور اسکے بغیر روئے زمین پر انسان کی رہائش ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسا ہونا حکمت ِ الٰہی کے خلاف ہے ۔اس چیز کے پیشِ نظر خدا نے ہر آبادی اور ہر قوم کے لئے ایک پیغمبر بھیجا :
(وَاِنْ مِنْ اُمَّةٍ اِلّا خَلَاْ فِیْھَا ْنَذِ یْر)(١)
تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی یا جس شہر میں بھی کچھ لوگ آباد ہوں وہاں ایک پیغمبر ہو نا چاہئے یا یہ کہ ہر زمانہ میں ایک پیغمبر ہونا ضروری ہے تا کہ زمانی اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ایک دوسرے سے متصل رہے یا اس کی کوئی اور صورت ہے ؟ قرآ ن نے اس بارے میں صاف صاف کچھ نہیں کہا ہے صرف لفظِ امت کا استعمال ہوا ہے ۔قرآن میں لفظِ امت کے بہت وسیع معنی ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظِ امت اپنے علمی معنی میں معاشرے کے مترادف ہے لیکن ایسا نہیں ہے قرآن میں لفظِ امت اس کے قطعِ نظر کہ اس جگہ صرف ایک فرد کے لئے استعمال ہوا ہے اورکبھی وقت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جن موارد میں اسکا انسانوں کی ایک جماعت پر اطلاق ہوا ہے اس کے موارد استعمال کے لحا ظ سے قدر ِ مشترک صرف جماعت اور گروہ کا مفہوم ہے ۔مثال کے طور پر قرآن تمام انبیاء علیہم السلام کو ایک امت شمار کر تا ہے(اِنَّ اُمَّتَکُمْ اُمَّةًوَا حِدَةً) جبکہ ان سب کے درمیان وقت ،مقام نیز اقتصادی اور سیاسی تعلّقات کے لحاظ سے اشتراک نہیں پایا جا تا ۔
بہر حال قرآن میں امت گروہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہر امت کے لئے ایک پیغمبر ضروری ہے مطلب کیا ہے ؟(٢)
..............
١۔سورئہ فا طر آیت٢٤۔
٢۔مزید معلومات کے لئے ملا حظہ فر ما ئیں:معا شرہ اور تا ریخ قر آن کی نظر میں۔
ہم دقیق طور پر اسکے معنی معین نہیں کر سکتے صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ا س سے مراد انسانوں کا ہر وہ گروہ ہے جو دوسرے انسانو ں سے جدا ہوا اور ان کے روابط اسطرح کے نہ ہوںکہ اِن کی معلومات اُ ن تک منتقل ہو سکے ایسے میں ظاہر ہے اُن میںسے ہر گروہ الگ الگ رہنما کا محتاج ہوگا لیکن اگر لاکھوں انسان دسیوں صدی کے دوران ایسے تعلقات کے حامل ہوںکہ ان کی معلومات ایک دوسرے تک منتقل ہوں ان پر اگر کوئی کتاب نازل ہو اور اُن کے درمیان باقی رہے تو یہ سب امّت ِ واحدہ شمار ہوں گے اس آیت میں بھی جو کہا گیا ہے:
(وَ اِنْ مِنْ اُمَّة اِلّا خَلَا فِیْھا نَذِیْر )(١)
''کوئی امّت ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نبی نہ ہو ''۔
بہ ظاہر یہی معنی مراد لئے گئے ہیں لیکن یہ کہ ہم مبعوث ہو نے والے تمام انبیاء علیہم السلام کو نہیںپہچانتے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
بعض روا یات میں آیاہے کہ انبیاء علیہم السلام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوئے ہیں اب روا یات کے معتبر ہونے یا نہ ہو نے سے یہا ں ہم کو کوئی مطلب نہیں ہے۔بہر حال ایک بڑی تعداد میں انبیاء علیہم السلام مبعو ث ہوئے ہیں اور قر آن ِ مجید میں تقریباًپچیس انبیاء علیہم السلام کا نام ذکر ہوا ہے باقی انبیاء معروف نہیں یہاں تک کہ اُن کے نام بھی معلوم نہیں ہیں۔سورئہ فاطر کی اِس آیت کے مطابق ہم اجمالی طور پر یہ بات جانتے ہیں کہ مذکورہ معنی میں ہر امت میں ایک نبی رہا ہے ہم نے نبوّت کی ضرورت پر جو دلیل پیش کی تھی اور عرض کیا تھا کہ اُس دلیل کو قرآن کی تائید حاصل ہے اس سے نبوت کی ضرورت اور اسی کے ضمن میں انبیاء علیہم السلام کا مقصد معلوم ہو جاتا ہے اسی طرح سے ہم نے ثابت کر دیاکہ انسان کو چونکہ خود ہی آزادانہ طور پر سعادت یا شقاوت کا راستہ اختیار کر نا ہے اسلئے اُ س کے لئے دونوں راستوں کی شناخت ضروری ہے اور انسان کی عقل اور حواس صحیح یا غلط کی شناخت کے لئے کافی نہیں ہے لہٰذا ایک اور راہ جس کا نام ہم نے وحی رکھا ہے ہو ناچا ہئے ورنہ انسا ن صحیح راستہ نہیں پہچان سکے گا اور پھر ظاہر ہے اس با رے میں جواب دِہ نہیں ہوگا اورچونکہ خدا نے ا نسان کو اس لئے خلق فر مایا کہ وہ ذمہ داری قبول کرے یعنی خود انتخاب کرے تاکہ اپنے اعمال کے نتیجہ تک پہنچ سکے اس لئے خدا نے شناخت کی کوئی راہ بھی ضرور معیّن کی ہو گی ۔ چنانچہ اس دلیل کے مطا بق پہلا مقصدیہ سمجھ میں آتا ہے کہ انسانوں کو صحیح اور غلط کی شناخت ہو نا چاہئے تاکہ جو بھی
..............
١۔سورئہ فاطر آیت٢٤ ۔
جس راستہ کاانتخاب کرے سمجھ بوجھ کر انتخاب کر ے دوسرے الفاظ میں اُس پر حجت تمام ہو چکی ہو ۔اس سلسلہ میں قرآ نِ کریم میں بہت سی آیات پائی جاتی ہیں منجملہ یہ آیت:
(رُسُلاًمُبَشِّرِیْنَ ومُنْذِ رِیْنَ لِئَلَّایَکُوْ نَ لِلنَّاسِ عَلَٰی اللَّہِ حُجَّة بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَا نَ اﷲُ عَزِیْزاً حَکِیْماً)(١)
''اور ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبر بھیجے تاکہ خدا کے سامنے لوگوں کے پاس کوئی حجت نہ رہ جائے اور خدا توبڑا ہی عزیز و حکیم ہے''۔
خا ص طور سے آیت کے ذیل میں خداوند عالم نے جو فرمایا ہے: ( وَکَا نَ اﷲُ عَزِیْزاً حَکِیْماً ) اس سے واضح ہوتاہے کہ اتمام حجت حکمت الٰہی کا لازمہ ہے یہ تقر یباً وہی بات ہے جس کا ہم نے اپنے استد لال میں ذکر کیا تھا کہ حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ نبوت کا راستہ انسان کے لئے کھلا رہے ۔ا سی سے ملتی جلتی ایک اور آیت ہے( البتہ یہ آیت جن کا ہم ذکر کررہے ہیں بعض میں مخاطب ایک مخصوص قوم ہے یا کہیں کہیں اہل کتاب سے خطاب ہے یا مشرکین مکہ مخاطب ہیںلیکن مضمون سب کا ایک ہی ہے )
( اَنْ تَقُوْلُوْااِنَّمَااُنْزِلَ الْکِتَا بُ عَلَیٰ طَائِفَتَےْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَاِنْ کُنَّاعَنْ دِ رَاسَتِھِمْ لَغَٰفِلِیْنَ۔اَوْتَقُوْلُوْالَوْاَنَّااُنْزِلَ عَلَیْنَاالْکِتَابُ لَکُنَّااَھْدَیٰ مِنْھُمْ ۔۔)(٢)
ہم نے نبی کو کتاب کے ساتھ بھیجا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب خدا تو بس صرف دو ہی گرو ہوں (یہودو نصاری) پر جو تم سے پہلے تھے نازل ہوئی ہے اور ہم تو ان کے پڑھنے ( پڑھانے ) سے بے خبرتھے یا یہ نہ کہنے لگوکہ اگر ہم پر بھی کتاب ( خدا ) نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں سے بہتر طور پر راہ راست طے کرتے''۔
اگر ہم نے تمہارے لئے پیغمبر نہ بھیجا ہوتا توتم کہہ سکتے تھے کہ خدا نے یہودیوں کے لئے پیغمبر بھیجا اور انھوں نے راہ حق کو جان لیا تھا اگرچہ ان میں سے اکثر گمراہ ہو گئے عیسائیو ں کا بھی یہی حال ہوا اگر خدا نے ہمارے لئے پیغمبر بھیجا ہوتا تو ہم اس سے بہتر طور پر راہ حق کی پیروی کرتے اسی لئے ہم نے تمہارے لئے بھی پیغمبر بھیجاتا کہ تمہارا بھی امتحان لیا جاسکے ۔
..............
١۔سورئہ نساء ، آیت ١٦٥ ۔
٢۔سورئہ انعام آیت ١٥٦ و١٥٧ ۔
دلچسب بات یہ ہے کہ قرآ ن میں ایک اور جگہ ارشاد ہو تا ہے کہ لوگو ں نے پیغمبر کی بعثت سے پہلے قسم کھا رکھی تھی کہ اگر خدا ہمارے لئے کوئی پیغمبر بھیجے تو ہم اس کی پیروی کرینگے اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے :
( وَاَقْسَمُوْابِاﷲِ جَھْدَ اَ یْمَا نِھِمْ )
معلوم ہواکہ وہ لوگ پہلے سے خدا پر عقیدہ رکھتے تھے اور انھو ں نے بہت بھاری بھاری قسمیں کھا رکھی تھیں :
(وَاَقْسَمُوْابِاﷲِ جَھْدَ اَیْمَا نِھِمْ )
اور انھوںنے بڑی سختی سے قسمیں کھا رکھی تھیں:
( لَئِنْ جَا ئَ ھُمْ نَذِ یْر لَیَکُوْ نُنَّ اَھْدَیٰ مِنْ اِحْدَ ی الاُمَمِ )
'' کہ اگر ان کے درمیان کو ئی ڈرانیوالا (پیغمبر ) آئیگا تو وہ دوسری تمام امتو ں سے زیا دہ ہدایت یا فتہ ہونگے''۔
(فَلَمَّاجَائَھُمْ نَذِیْرمَاْزَادَھُمْ اِ لَّانُفُوْراً )(١)
''پھر جب ان کے پاس ڈرانے والا (رسول ) بھیج دیا تو اس کی اتباع اورحمایت کے بجائے اور زیادہ اس سے دور بھاگنے لگے ''۔
پس معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا ایک مقصد لوگوں پر حجت تمام کرنا رہا ہے ایک اور آیت میں اہل کتاب سے خطاب ہے :
(یَاَھْلَ الْکِتَابِ قَدْجَائَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلَیٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْامَاجَائَ نَامِنْ بَشِیْرٍوَّلاَنَذِیْرٍفَقَدْجَاْ ئَکُمْ بَشِیْر وَّ نَذِ یْروَاللَّہُ عَلَیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر)(٢)
'' اے اہل کتاب جس وقت پیغمبروں کی آمد رکی ہوئی تھی ہمارا رسول تمہارے پاس آیاکہ تم پر حق آشکار کردے اور تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے درمیان کوئی خو شنجری دینے والا یا عذاب خدا سے ڈرانے والا (نبی ) نہیں آیا ہے تمہارے درمیان خوشنجری دینے والا اور ڈ رانے والا ( پیغمبر ) آچکا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ''۔
البتہ اہل کتاب خود کو ایک نبی کا پیروسمجھتے تھے لیکن اس انتظار میں تھے کہ ایک اور پیغمبر آجائے شاید اس وحی کی بنیاد پر ان کا یہ انتظار تھا جو پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہو چکی تھی اور ان کو آخری نبی کی بشارت دی جا چکی تھی :
..............
١۔سورئہ فا طر آیت ٤٢ ۔
٢۔سورئہ ما ئدہ آیت١٩۔
(بِرَسُوْلٍ یَا تِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہُ اَحْمَدُ )(١)
'' ایک پیغمبر کی کہ جن کا نام احمد ہو گا اور میرے بعد آئیں گے ''۔
میں تم کو بشارت دیتا ہوں بہر حال یہ لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے اور یہ اسلئے تھا کہ تمہارے پاس یہ کہنے کا بہانہ نہ رہے چونکہ پیغمبر نہیں آیا اسلئے ہم گمراہ ہو گئے اس لئے کہ کتاب میں تحریف ہو چکی تھی یا گذشتہ انبیا ء علیہم السلام کی تعلیمات ہم تک نہیں پہنچی تھیں ۔ایک اور نبی کی ضرورت تھی یا یہ کہ چونکہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا اس لئے ہم اس کے منتظر تھے اور جب وہ نہ آیا تو ہم شک میں پڑ گئے تم ایسی با تیں نہ کر سکو اس لئے : (فَقَدْ جَائَکُمْ بَشیْر وَنَذِیْر )
''تمہارے در میان ایک ڈرانے والااوربشارت دینے دالا(رسول )آچکا ہے''۔
دوسری آیت میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَ لَوْاَ نَّااَھْلَکْنَٰھُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِہِ لَقَالُوْارَبَّنَالَوْلَا اَرسَلْتَ اِلَیْنَارَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ ئَ ایَا تِکَ مِنْ قَبَلِ اَنْ نَذِ لَّ وَنَخْزَیٰ )(٢)
''اور اگر ہم ان کو رسول کے آنے سے پہلے ہی عذابِ ہلاکت میں مبتلا کر دیتے تو ضرور کہتے کہ اے ہمارے پالنے والے تونے ہمارے پاس (اپنا ) رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم اپنے ذلیل و رسوا ہو نے سے پہلے ہی آیتو ں کی پیروی کر لیتے ''۔
خدا نے لوگوں کو اس لئے خلق فرما یا تھا کہ وہ اپنے اختیار کے ذریعہ صحیح راستہ یا غلط راستہ کا انتخاب کریںاور اگرغلط راستہ کو انتخاب کیا تو اپنے اعمال کی سزا پائیںپس غلط راستہ انتخاب کر نے والوں پر عذاب تو نازل ہو نا ہے لیکن اگر ہم پیغمبر بھیجنے سے پہلے ہی اُن پر عذاب نا ز ل کرتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اچھے اور برے راستہ کو نہیں پہچان سکے تو نے پیغمبر کیو ں نہیں بھیجا ؟ کہ وہ ہماری ہدایت کرتا ؟یا ہم غفلت میں مبتلا تھے تو تونے کسی کو کیوں نہیں بھیجا کہ وہ ہم کو غفلت سے بیدار کر تا ؟لہٰذا اس طرح کے بہانو ں کے سدّ باب کے لئے انبیاء علیہم السلام کا بھیجا جانا ضروری ہے ۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَمَاْکُنَّا مُعَذِّ بِیْنَ حَتَّیٰ نَبْعَثَ رَسُوْلاً )(٣)
..............
١۔سورئہ صف آیت٦۔
٢۔سورئہ طہ آیت١٣٤۔
٣۔سورئہ اسراء آیت١٥ ۔
''اور ہم جب تک کسی رسول کو بھیج کر اتمام حجت نہ کر دیں کسی پر عذاب نہیں کیا کرتے ''۔
یہ آ یات اس بات کی تا ئید کر تی ہیں کہ نبوت کا ایک مقصد کم سے کم اتمام حجت کر کے عذر کی راہیں بند کر نا ہے ۔

لوگوں کی تعلیم اسی طرح دوسری آ یات بھی ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر کو بھیجا گیا کہ وہ لوگو ں کو اُن چیزوں کی تعلیم دیں جو وہ نہیں جانتے اور اسکا نتیجہ بھی تقریبا یہی ہے یعنی جس چیز کو خود لوگ اچھا سمجھتے ہیں اُس پر عمل کریں چاہے کوئی پیغمبر مبعوث نہ بھی ہوا ہو ۔اسی لئے حتی جن محرومین تک پیغمبروں کی دعوت تبلیغ نہیںپہنچی ہے وہ بھی اپنی عقل کے مطابق جواب دہ ہیں ۔بہر حا ل نبوت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ جن باتوں کو نہیں جانتے یا خود نہیں سمجھ سکتے ان کو سکھایا جائے ارشاد ہو تا ہے :
(وَ ےُعَلِّمُکُمْ مَاْ لَمْ تَکُوْ نُوْا تَعْلَمُوْنَ )(١)
''اور تم کو وہ باتیں بتائے جن کی تمہیں (پہلے سے )خبر (بھی ) نہ تھی ''۔
اور سورئہ نساء میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَ عَلَّمَکَ مَاْ لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ )(٢)
''اور جو باتیں تم نہیں جانتے تھے تمہیں سکھا دیں ''۔
یہ آیتیں بھی تقریباًاسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں ۔
..............
١۔سو رئہ بقرہ آیت ١٥١ ۔
٢۔سورئہ نساء آیت١١٣۔

تحریفات کی اصلاح بعض آیات سے کچھ دوسرے مطالب بھی معلوم ہوتے ہیں جوشاید تمام انبیاء علیہم السلام کے لئے نہ ہو ں شاید اصل بحث میں وارد ہونے سے پہلے تمہید کے طور پر ان کا ذکر نامناسب نہ ہو فرض کیجئے کہ خدا نے ایک پیغمبر بھیجا اور کچھ لوگو ں کو راہ حق کی ہدایت کی پھر کچھ زمانہ گزرنے یاکسی اور وجہ سے اس پیغمبر کی تعلیمات میں تحریف کردی گئی اور جو چیز لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ تھی اب ممکن ہے وہی گمراہی کا باعث ہو اور ہم نے تو خو د اپنے زمانے میں بہت سے
ایسے نمو نہ دیکھے ہیں ۔وہ انجیل جو خدا کی طرف سے جناب عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی آج اس کاکوئی ایک حصہ بھی اصل شکل میں موجود نہیںہے۔شایددنیا کے تمام کتب خانو ں میں انجیل کا ایک بھی اصل نسخہ نہ مل سکے ۔جو کچھ ہے وہ ان لوگوں کی تحریر ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں کے نام سے جانے جا تے ہیں جبکہ اُن افراد کی طرف مو جو دہ انجیلوں کی نسبت بھی یقینی نہیں ہے ۔ان مختلف انجیلوں کا لہجہ اور طرز تحریر کسی تاریخی کتاب کی طرح ہے مثلاً فلاں دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے شاگر دوں کے در میان آ ئے اور یہ کہا اور انھوں نے سوال کیا اور آپ نے یہ جواب دیا وغیرہ وغیرہ ۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ وہ کتاب نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اسی کتاب میں ایسے مطالب ہیں جو عقل کے بھی خلاف ہیں اور آسمانی شریعتوں کا جن باتوں پر اتفاق ہے اسکے بھی خلاف ہیں اس میں شر ک کی باتیں بھی ہیں اور آسمانی کتابوں کے متفقہ احکام میں تحریف بھی ہوئی ہے لہٰذا یہ وہ بات ہے جسکا امکان موجود ہے (ادل دلیل علی امکان الشی وقوعہ) (یعنی کسی شئی کے ممکن ہو نے کی محکم ترین دلیل اُسکا واقع ہو نا ہے )لہٰذا ممکن ہے خدا کسی پیغمبر کو بھیجے اُ ن لوگوں کو حق کا راستہ بھی بتادے اُن پر کوئی کتاب بھی نازل کر دے اور بعد میں اُس کتاب میں تحریف ہو جا ئے ۔ایسی حالت میں بھی یہ لوگ اُن لوگوں کی طرح ہیں کہ جن کے درمیان کوئی پیغمبر اور کتاب نہ آئی ہو ۔ضرورت ہے کہ کوئی پیغمبر آئے اور کم سے کم اُن تحریفات کی اصلاح کرے ۔اب چاہے نئی شریعتیں آئیں یا نہ آئیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن لو گو ں کو انحراف و گمراہی سے نکال کر حق کی طرف دعوت دینا خود اپنی جگہ نئے نبی کی آمد کی ایک معقول وجہ ہے ۔

دینی اختلاف کا بر طرف کرنا بعض آیات اس مطلب کی طرف اشارہ کر تی ہیں کہ اہل کتاب کے علما ء نے کچھ مطالب لوگوں سے چھپا رکھے تھے اور لوگوں سے نہیں بیان کر تے تھے یہ وہ اختلافات تھے جو علمائے اہل کتاب نے خود اپنے مفادات کی خاطر ایجاد کئے تھے یہ چیز بھی سبب بنتی کہ خدا کوئی پیغمبر بھیجتاتاکہ وہ ان اختلافات کو رفع دفع کر کے لوگوں کے سامنے حق کی نشا ندہی کرے سورئہ ما ئدہ میں ارشادہو تا ہے :
(یَٰآھْلَ الْکِتَابِ قَدْجَائَکُمْ رَسُوْلُنَاْیُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْراًمِمّا تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتَابِ وَیَعْفُوْاعَنْ کَثِیْرٍ۔۔۔)(١)
..............
١۔سورئہ مائدہ (آ یت ١٥ ۔
''اے اہل کتاب تمہا رے پاس ہما را پیغمبر آ چکا ہے تا کہ( کتاب خدا ) کی بہت سی اُن باتوں کو جنہیں تم چھپایا کر تے تھے تمہا رے سامنے صاف صاف بیا ن کر دے اور تمہاری بہت سی خطائوں کو در گذر کر دے ''۔
تم نے آ سمانی کتاب کے بہت سے مطالب چھپا رکھے تھے واضح ہے کہ اُن میں ایسے علماء موجود تھے جو جانتے تھے اور لوگوںکو نہیں بتا تے تھے البتہ دوسری آیات بھی ہیں جو دلالت کرتی ہیں یہ لوگ کچھ چیزیں خود لکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ خدا کی جانب سے ہے ۔قر آن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(فَوَیْل لِلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْ نَ ھَٰذَامِنْ عِنْدِاللَّہِ)(١)
''پس وائے ہوان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں لوگوں سے کہتے پھر تے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں سے آئی ہے ''۔
اور سورئہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے :
(یُحَرِّفُوْ نَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہِ)(٢)
''یہ لوگ کلام کو ان کے اصل مقام سے ادھر ادھرکر دیتے ہیں ''۔
اہلِ کتاب کے بہت سے علماء کا یہی کام تھا وہ یہی کیا کر تے تھے ۔قرآن فرماتا ہے پیغمبر اسلئے آ ئے ہیں کہ اُن حقائق کو آشکار کریں جن کو تم نے چھپا رکھا تھا خدا وند عالم فر ما تا ہے :
( کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعْثَ اﷲُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِ رِیْنَ وَاَنزَلَ مَعھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النََّاسِ فِیْماَاخْتَلَفُوْافِیْہِ وَمَااخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّاالَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ بَعْدِ مَاجَائَتْھُمُ الْبَیِّنَٰتُ بَغْیاً بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللَّہُ الَّذِیْنَ ء امََنُوْالِمَااخْتَلَفُوْافِیْہِ مِنَ الْحَقّ بِاِذْ نِہِ وَاللَّہُ یَھْدِیْ مَنْ یَشَآئُ اِلَٰی صِرَاطٍ مَُسْتَقِیْمٍ )(٣)
''لوگ ایک امت کی شکل میں تھے پس خدا نے (نجات کی ) خوشخبری دینے والے اور (عذاب سے ) ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور اُن پیغمبروں پر برحق کتاب بھی نازل کی تا کہ جن باتوں میں لوگ جھگڑ تے تھے (کتاب خدا اسکا فیصلہ کر دے )لیکن سوائے اُن لوگوں کے کہ جن کو کتاب دی گئی تھی اورجن پر حجت آشکار ہو چکی تھی
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٧٩۔
٢۔سورہ نساء آیت ٤٦۔
٣۔سورئہ بقرہ آیت٢١٣۔
صرف آ پس میں حسد کے سبب ( اُ ن کے بارے میں اختلاف کیا ) ورنہ کسی اور نے ان میں اختلاف نہیں کیا اور خدا نے اپنی مہر بانی سے ایمان داروں کو وہ راہ حق دکھا دی کہ جن میں ان لوگوں نے اختلاف کر رکھا تھا اور خدا جس کوچاہتا ہے راہ راست کی ہدایت کر دیتا ہے ''۔
اس آیۂ شریفہ ِمیں بہت زیا دہ بحث کی گنجا ئش ہے بہت سے ایسے نکتہ ہیں جو پہلی نگاہ میں مبہم نظر آتے ہیں کہ ا ن کے بار ے میں بحث کی ضرورت ہے منجملہ(کَا نَ النّاسُ امَّة ً وَاحِدَةً) میںایسے زمانے کی طرف اشارہ ہے کہ جب لوگ ایک امت تھے ۔یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ امت واحد سے کیا مراد ہے ؟کیا اعتقا د کے لحاظ سے لو گ ایک تھے یا کسی اور لحاظ سے ؟مثلاً جگہ اور مقام کے اعتبار سے ،یا ایسے لوگ تھے کہ جن کی زندگی میں سادگی اور یکسانیت پائی جاتی تھی اور اگر مراد وحد تِ عقیدہ ہے تو آیا وہ لوگ حق پر تھے یا اُن کے اعتقاد باطل تھے ؟
علّا مہ طبا طبائی طاب ثراہ نے بعد کے جملہ کو قرینہ قرار دیکر اس جملہ کے بارے میں یہ خیال ظاہر فرمایا ہے کہ لوگ ایک سیدھی سادی یکساں زندگی بسر کرتے تھے جناب آدم علیہ السلام کے روئے زمین پر بسنے کے ابتدائی ایّا م میں ہی کچھ لوگ ایسے تھے جن کی اولا دیں بھی تھیں اور وہ با لکل سادہ زندگی بسر کیا کرتے تھے پیچیدہ قسم کے معاشرتی مسائل نہیں پائے جاتے تھے کہ اختلا ف کا سبب بنتے اور اگراختلا ف تھے بھی تو شخصی اختلا ف تھے ۔
بہر حال علا مہ طبا طبا ئی( رضو ا ن اﷲ علیہ) نے اس طرح کا خیال ظا ہر کیا ہے لیکن احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ سب لو گ عقیدہ کے لحا ظ سے ایک عقیدہ حق پر قائم رہے ہوں یعنی ایک ایسا زمانہ گذرا ہو کہ جب سب موحد ہوں اور اپنے انبیاء علیہم السلام اور پیغمبر منجملہ حضرت آدم علیہ السلام کی باتوں پر عمل کرتے رہے ہوں اب اگر کچھ لوگ مخالفت کرتے بھی رہے ہوں گے تویہ مخالفت ہرامت میں ہوتی ہے لیکن مسلک میں اختلاف نہ رہاہوگا ایک توحیدی مسلک تھا جو حضرت آدم انسانوں کے لئے لائے تھے اور معاشرے کا مسلک ومذہب وہی تھا پھر یہ زمانہ ختم ہوگیا مختلف مذاہب ومسالک وجود میں آئے شرک آلود مسالک ، مختلف مذا ہب وجو د میں آجا نے کے بعد جب معا شرہ میں حق گم ہو گیا تو اس بات کی ضرو رت پیش آئی کہ دو سرے پیغمبر مبعو ث ہو ں خود حضرت آدم نبی تھے لیکن ایک مد ت گزر گئی مثلاً ایک ہزا ر سال ، اس وقت ایک ہزا ر سال بھی کچھ نہیں تھے روا یت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر تقر یباًنوسو سال تھی ۔ ایک نسل گزر گئی اور لوگ بھی حضرت آدم علیہ السلام کے دین پر رہے پھر اس کے بعد مثلاً دوسرے ہزا رے میں جب حضرت آدم علیہ السلام دنیا سے تشر یف لے گئے تو لو گو ں میں کچھ اختلا فات پیش آئے اور شرک آلو د مذا ہب وجو د میں آ گئے : فَبَعْثَ اﷲُ النَّبِیِّیْنَ ''خدا نے حضرت آ دم علیہ السلام پر اکتفا ء نہ کی اور انبیاء علیہم السلام کو بھیجنا شرو ع کر دیا :
''ثُمَّ اَرْسَلْنَارُسُلَنَا تَتْرَا ''۔(١)
''خدا نے یکے بعد دیگرے پیغمبروں کو بھیجا تا کہ لو گو ں کے در میان پیش آ نے والے اختلا فات بر طرف ہوجا ئیں ''۔
(فَبَعْثَ اﷲُ النَبِیِّیْنَ مُبَشَِّریْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعْھُمُُ الْکِتَابَ۔۔۔)(٢)
''پھر اﷲ نے بشارت دینے اور ڈرا نے وا لے نبیو ں کو بھیجا اور ان کے سا تھ بر حق کتا ب نا زل کی ''۔
شاید اس آیت کی بنا ء پر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت آ دم علیہ السلام کو کتاب نہیں ملی تھی بلکہ زبا نی تبلیغ کیا کرتے تھے اور لو گو ں کے درمیا ن کو ئی مدوّن کتاب نہیں تھی ۔ اس کے بعد کے دور میں جب لو گو ں کے درمیا ن اختلا فات وجو د میں آ ئے تو خدا نے انبیا ء علیہم السلام کو بھیجا اور ان پر کتاب نا زل فر ما ئی یعنی وحی شدہ متن جو لوگوںکے درمیا ن محفو ظ رہا ۔ یہ بات کہ جناب آ دم پر الہا م ہو اکہ لو گو ں کو حج پر جا نے کیلئے کہئے ( کیو نکہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حج خلقتِ آ دم علیہ السلام کے آ غاز سے تھا ) او ر لوگ چو نکہ جا نتے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام پیغمبر ہیں اور ان پر وحی ہو تی ہے لہٰذا عمل کر تے تھے لیکن بعد میں جب اختلا فا ت وجو د میں آئے تو ایک ایسے متن کی ضرورت پیش آئی جو لوگو ں کے در میان محفو ظ رہے نو شتے کی صو رت میں ہو یا کسی اور صورت میں اور اس کی عبارتیں محفو ظ رہیں کتاب کیوں نازل کی ؟ خدا وند عالم فر ما تا ہے :
( لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَااخْتَلَفُوْافِیْہِ )
''تا کہ جن با تو ں میںلوگ جھگڑاکرتے تھے کتاب خدا اْن کے اختلافا ت ختم کر دے اور اپنا فیصلہ سنادے''۔
( وَمَااخْتَلَفَ فِیہِ اِ لَّا الَّذِ ینَ اُوْتُوْہْ )
'' لو گوں میں اختلاف کے علاوہ خود کتاب کے بارے میں بھی اختلاف رونماہوا ، کن لوگوں نے اختلاف کیا؟ اْن لوگوں نے جو عمدا ًکتاب میں تحریف کیا کرتے تھے : ( بَغیاًبَینَھْم ) ظلم و ستم اور سر کشی کی بنیاد پر دین خدا میں اختلافات ایجاد کیا کرتے تھے ۔ ظاہر ہے وہ اپنے مفاوات کی خاطر ایسا کیا کرتے تھے ۔
( فَھَدَی اللَّہُ الَّذِ یْنَ آمَنُوالَمَااخْتَلَفُوْافِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہ وَاللَّہُ یَھِدِیْ مَنْ یََّشَائُ اِلَیٰ صراطٍ مْستَقِیم )
''تب خدا نے ایمان داروں کو راہ حق دکھادی جس میں ان لوگوں نے اختلاف ڈال رکھا تھا اور خدا جس کو چاہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے ''۔
اس آیت کو شاہد قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ جب خدا کے دین میں اختلا ف ہوا تو یہ اختلا فات کی موجودگی اس بات کا سبب بنی کہ کو ئی دو سرا پیغمبر مبعو ث کیا جا ئے جو اس اختلا ف کو بر طرف کر دے وہ اختلاف جو ایک پیغمبر کے چلے جا نے اور امت کے درمیا ن مو جو د نہ رہنے کی بناء پر وجو د میں آ تا تھا ۔اگر چہ یہ اختلاف سر کشی کا نتیجہ تھا اور کچھ لوگ یہ کام عمد اً کیا کر تے تھے لیکن خدا دو سرا پیغمبر اپنے لطف و کرم کی بنا ء پر بھیج دیتا کہ بعد کی نسلیں گمراہ نہ ہوں ۔
انبیاء علیہم السلام کے وجو د کے سلسلہ میں قر آ ن کریم سے اور بھی حکمتو ں اور مصلحتو ں کا پتہ چلتا ہے چنانچہ عقل کی بنیا د پر ان میں سے کچھ (حکمتو ں کا ) پتہ چلا یا جا سکتا ہے ۔اب ہم قر آ ن مجید سے معلو م ہو نے وا لی بعض حکمتیں بیا ن کر تے ہیں :
..............
١۔سو رئہ مو منون آیت ٤٤۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت٢١٣۔



3
قضا وت راہ اور رہنما کی پہچان

قضا وت جیسا کہ خود قر آ ن کریم سے پتہ چلتا ہے انبیا ء کے وجود کا ایک فا ئدہ یہ تھا کہ وہ اصل حکم اور قانون پہنچانے کے علا وہ اس حکم کے مصا دیق بھی معین فر ما دیتے تھے اور لو گو ں کے درمیا ن رو نما ہو نے وا لے اختلا فات کے فیصلے فرما تے تھے (اب سوا ل یہ ہے کہ تمام انبیا ء علیہم السلام اسی طرح کے تھے یا بعض انبیا ء علیہم السلام ایسے تھے)
حضرت دا ؤد علیہ السلام ان ہی انبیا ء علیہم السلا م میں سے ہیں جو منصب کے اعتبار سے خدا کی جا نب سے لو گو ں کے ما بین اختلا ف کے فیصلے کے لئے مبعوث ہو ئے تھے ۔
اور بظا ہر یہ کام بعض انبیا ء علیہم السلام سے ہی مخصو ص رہا ہے۔ ارشا د ہوتا ہے :
(یَٰادَاوُوْدُاِنَّاجَعَلْنَٰکَ خَلِیْفَةً فِیْ الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ)(١)
''اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں( اپنا )خلیفہ قرار دیا پس تم لو گو ں کے در میا ن حق کی بنیا د پر ٹھیک فیصلے کیا کرو '' ۔
پیغمبر اکرم ۖکے با رے میں ارشاد ہو تا ہے :
(اِنَّااَنْزَلْنَااِلَیْکَ الْکِتَا بَ بِا لْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّا سِ بِمَا اَ رَاکَ اﷲُ وَ لَا تَکُنْ لِلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْماً )(٢)
..............
١۔سور ئہ ص آیت ٢٦ ۔
٢۔سورئہ نساء آیت١٠٥۔
''ہم نے اس کتا ب کو تم پر بر حق طو ر پر اس لئے نا زل کیا ہے کہ جس طرح خدا نے تمہا ری ہدا یت کی ہے اسی طرح لو گو ں کے در میا ن فیصلہ کرو اور خیا نت کر نے وا لو ں کے طر فدار نہ بنو ''۔
واضح ہے کہ یہا ں پر حکو مت اور فیصلہ سے مراد اختلا فات کے سلسلہ میں لو گو ں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔

حکو مت بعض انبیا ء علیہم السلام منصف اور قا ضی کی حیثیت سے او نچا مقام رکھتے تھے یعنی با قا عدہ طور پر معا شرہ اور حکومت کے سر براہ تھے اور لو گو ں پر ان کی اطا عت کر نا فرض تھا ۔ قر آن کی ایک آیت میں مجمو عی طور پر کہا گیا ہے کہ ہم نے ہر پیغمبر کو لو گو ں کے درمیا ن اس لئے بھیجا کہ لوگ ان کی اطا عت کریں ۔ لہٰذا جو پیغمبربھی جس چیز کے لئے دعوی ٰ کرے کہ یہ خدا کی جا نب سے ہے اور اس پر عمل کا حکم دے لو گو ں پر اس کی با ت ما ننا ضروری ہے۔ اگر وہ لوگوںسے کہے
کہ میں انصاف کر نے کے لئے بھیجا گیا ہو ں تو لو گو ں کے لئے قبو ل کر نا ضرو ری ہے ۔اگر وہ کہے کہ میں لو گو ں کے حا کم کے عنوا ن سے آ یا ہو ں سیاسی اور معاشرتی امور میں میری پیر و ی کرو تو لو گو ں پر اس کی پیر وی ضروری ہے مجموعی طور پر ہر پیغمبر جس آبا دی میں بھیجا گیا ہو (اس کی نبوت ثابت ہو جا نے کے بعد ) خدا کی طرف سے بس جو بھی دعو یٰ کرے لو گو ں پر اس کا قبو ل کر نا لا زم ہے :
(وَمَااَرْسَلْنَامِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِِ اﷲِ )(١)
''اور ہم نے کو ئی رسول نہیں بھیجا مگر اس و اسطے کہ خدا کے حکم سے لو گ ا س کی اطا عت کریں ''۔
اگر ایسا ہو کہ لوگ خود فیصلہ کریں کہ نبی کی کو نسی با ت خدا کی طرف سے ہے اور کو نسی با ت اپنی طر ف سے ہے اور اس کے یہا ں بعض حالا ت میں یہ احتما ل ہو کہ وہ جھوٹ بھی بو ل سکتا ہے تو یہ امر مقصد کے خلا ف ہو گا اور اس پر اعتما د نہیں رہے گا ۔
لہٰذا جب نبی کی نبو ت ثا بت ہو جا ئے تو لا محا لہ طور پر بے چو ن و چرا اس کی اطاعت کر نی چا ہئے مگر یہ کہ وہ خود یہ کہے کہ میں یہ بات اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں ،اب اگر وہ یہ دعو یٰ کرے کہ اس کو خدا کی طرف سے کو ئی منصب دیا گیا ہے تو لو گو ں کو اس کی با ت بہر حال ما ننا چا ہئے ۔
یقیناً بعض مقا ما ت پر بعض انبیا ء علیہم السلام نے خود حکو مت اپنے ہا تھ میں نہیں لی ہے بلکہ خدا کی جا نب سے انھو ں نے کسی اور شخص کی حکو مت کی تا ئید کر دی ہے ۔ چنا نچہ روا یا ت کی روشنی میں بنی اسرا ئیل کے کچھ افراد اپنے
..............
١۔سورۂ نسا ء آیت٦٤۔
نبی صمو ئیل کے پاس آئے اور آ کر کہا :
(ابْعَثْ لَنَا مَلِکاً نُقَا تِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ )(١)
''ہما رے واسطے ایک باد شا ہ مقر ر کیجئے تا کہ ہم را ہ ِ خدا میں جہاد کریں ''۔
ظا ہر ہے خود صمو ئیل نبی با دشاہ نہیں تھے ۔ور نہ لو گ ان سے یہ نہ کہتے کہ خد ا سے در خوا ست کیجئے کہ وہ ہمارے لئے ایک با دشا ہ مقرر کر دے ، معلو م ہو ا کہ ہر پیغمبر خدا کی طرف سے حکو مت کا حا مل نہیں ہو تا ،البتہ یہ یقین کے سا تھ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ خدا کی طرف سے حکو مت کے حا مل تھے اسی طرح گذ شتہ انبیا ء علیہم السلام میں بھی بعض انبیاء علیہم السلام منجملہ حضرت سلیمان حکو مت کے حا مل تھے۔ قرآن صاف صاف کہتا ہے کہ ہم نے ان کو ملک عطا کیا ۔ رسو لِ خدا ۖ کے با رے میں بہت سی دلیلیں ہیں خود قرآن کریم میں یہ جملہ مو جو د ہے:
(اَلنَّبِیُّ اَوْ لَیٰ بِا لْمُوْمِنِیْنَ )(٢)
''یعنی نبی مو منین کی جا نو ں پر ان سے زیا دہ حق رکھتے ہیں ''۔
اس کے علا وہ بھی کئی مقا ما ت ہیں مگر فی الحال ان کا بیان بحث سے خا رج ہے ۔ لہٰذا نبو ت کے ثا نوی مقا صد میں سے ایک مقصد جو بعض نبو تو ں میں محقق ہو ا یہ تھا کہ زمین پر ایک حکومت حقہ قا ئم کریں کہ جس کے سا یہ میں لو گو ں کی دنیا اور آ خرت دو نو ں کی اصلا ح ہو جا ئے ۔
انبیا ء علیہم السلام کی رسا لت کے ذیل میں جو سیاسی مقا صد مدنظر قرار دیئے گئے ہیں ان کی ایک مثال جناب موسیٰ کا وا قعہ ہے کہ جہاں انھو ں نے فر عون کو عبا دت الٰہی کی دعوت دی اور ضمنی طور پر فر ما یا: (فَاَرْسِلْ مَعِی بَنِیْ اِسْرَا ئِیْل)یہ آپ کے اغراض و مقا صد میں سے ایک امر تھا جس کی آپ نے فر عون سے پہلی ہی ملاقات میں وضاحت کرتے ہو ئے کہہ دیا :اے فر عون میں تیری طرف خدا کا رسول بن کر آ یا ہو ں۔ (فاَرْسِلْ مَعِی بَنِیْ اِسْرَا ئِیْل )
''بنی اسرا ئیل کو میرے ہمراہ کر دے ''۔
لو گو ں کو آ زادانہ زند گی بسر کر نے کے لئے ایک ظالم حکمراں کے تسلط سے نکا ل کر دوسری سر زمین پرلیجا نا ایک سیا سی اور اجتما عی کا م ہے اور یہ حضرت مو سیٰ علیہ السلا م کی رسالت کے مقا صد کا ایک حصہ تھا اور قر آن کریم کی آیات سے مکمل طو ر پر یہ بات واضح ہے:
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ٢٤٦۔
٢۔سورئہ احزاب آیت ٦۔
(وَقَالَ مُوْسَٰی یَافِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلمِّنْ رَّبِّ الْعَٰا لَمِیْنَ۔حَقِیْقعَلَٰی اَنْ لَّآ اَقُوْ لَ عَلَی اللَّہِ اِلَّا الْحَقَّ قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَبِّکُمْ فَاَ رْسِلْ مَعِیَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ)(١)
''اور مو سیٰ نے (فر عون ) سے کہا اے فر عون میں یقیناًپر ور دگا ر عا لم کی جا نب سے رسو ل ہو ں مجھ پر واجب ہے کہ خدا کے با رے میں سچ کے سوا (کو ئی با ت )نہ کہو ں میں تمہا رے پر ور دگا ر کی طرف سے وا ضح و رو شن معجزہ لیکر آ یا ہو ں پس بنی اسرا ئیل کو میرے ہمراہ کر دے ''۔

یاد دہا نی قرآن کریم سے نبو ت کے جن فو ائد بلکہ اغراض و مقاصد کاپتہ چلتا ہے ان میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ لوگ جن چیز و ں کوسمجھ سکتے ہیں یا وہ جن با توں کو مبہم انداز میں سہی تھو ڑا بہت سمجھتے ہیں ان کو یا د دہانی کے لئے ایک توجہ دلا نے یا سمجھا نے وا لے کی ضرورت ہے جو ان کو ادھوری یا نامفہو م بات پوری طرح سمجھا سکے اور قر آن کریم کے الفاظ میں لوگ غفلت سے نکل کر با خبر وآگاہ ہو جا ئیں ۔
قر آن کریم میں خود قرآن کریم کے لئے اور بہت سی دو سری آ سمانی کتا بو ں کے لئے جو ذکر ،ذکریٰ، تذکرہ، اور مذکر کی ما نند الفا ظ استعمال ہو ئے ہیں ،اسی مو ضو ع کی طرف اشارہ کر تے ہیں ۔
ذکر، یا د دہانی کو کہتے ہیں یعنی وہ بات جس کو انسان جانتا ہے لیکن مکمل طور پر یا اس کا ایک حصہ بھول گیا ہے یا بے تو جہ ہو گیا ہے اس کو یا د دلا نا اورظا ہر ہے انتخاب میں علم اسی وقت مؤثر یا مفید ہو تا ہے جب اس کی طرف انسان متو جہ ہو ممکن ہے معا شرہ کچھ ایسے حا لات کا شکا ر ہو جا ئے کہ جس کے سبب یہ غفلت عام ہو جا ئے اور معا شرہ کی فضا ایسی شکل اختیار کر لے کہ انسان کے ذہن سے یہ مسا ئل با لکل نکل گئے ہو ں اور لو گو ں کا اپنے آپ ان کی طرف متوجہ ہو نا بھی میسر نہ ہو ۔ ایسے مقام پر انبیائعلیہم السلام کا کام لو گو ں کو اس غفلت سے نکا لنا ہے ۔ اسی با رے میں نہج البلاغہ کے اس مشہو ر و معروف جملہ میں اشا رہ ہے:
(لِیَسْتَادُوْھُمْ میِْثَاقَ فِطْرَتِہِ وَ یُذَ کِّرُوْھُمْ مَنْسِیَّ نِعْمَتِہِ)(٢)
''ان سے فطرت کے عہد و پیمان پو رے کرا ئیں اور انھیں بھو لی ہو ئی اﷲکی نعمتیں یا ددلا ئیں''۔
..............
١۔سو رئہ اعراف آیت ١٠٤۔١٠٥۔
٢۔نہج البلاغہ خطبہ اول در ذکر اختیا ر الانبیاء علیہم السلام۔
خدا کی معرفت اور خدا کی بندگی ایک فطری امر ہے لیکن لو گ اس سے غا فل ہو جا تے ہیں بہت سی چیزو ں کو لو گو ں کی عقل درک کر تی ہے لیکن یہ عقل ڈھیروں خو ا ہشات نفسا نی کے اندر دفن ہو کر رہ جا تی ہے۔ انبیاء کا کام یہ ہے کہ ان مد فون عقلو ں کو ابھا ر کر سا منے لا ئیں :
(وَ یَحْتَجُّوْا عَلَیْھِمْ بِالتَّبْلِیغ ِوَ یُثِیْرُوْا لَھُمْ دَفَا ئِنَ الْعَقُوْلَ)(١)
''اور تبلیغ یعنی رسا لت الٰہی کے ذریعہ لو گو ںپر حجت تمام کریں اور ان کی مد فون عقلو ں کو با ہر نکا لیں ''۔
اور یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف ہم متو جہ کر نا چا ہتے ہیں یعنی الٰہی رسالت اور تبلیغ کے ذریعہ لو گو ں پر حجت تمام کیا جانا نبوت کے اہداف میں شا مل ہے معلو م ہو ا یا د دہا نی یعنی لو گو ں کو غفلت سے نکا لنا ،اور فطری طور پر لوگ جن چیز و ں کو درک کر تے ہیں یا جن چیز و ں کی وہ اپنی عقل کے ذریعہ شنا خت پیدا کر تے ہیں اُن کی طرف تو جہ دلانا انبیا ء علیہم السلام کے فر ائض میں ہے اور انبیا ء کے وجود سے ہی یہ تمام فو ائد وا بستہ ہیں ۔

ڈرانا اور خو شخبری دینا قرآنی آیات سے ایک اور یہ نکتہ سمجھ میں آتاہے کہ کبھی کبھی انسان کسی چیز کو جا نتا ہے یہا نتک کہ اس کی طرف تو جہ بھی ہو تی ہے لیکن عمل کا جذ بہ نہیں ہو تا ۔اس صو رت میں انسان کو کسی محرک کی ضرورت ہو تی ہے اور انبیاء علیہم السلام ''منذر ''(ڈرا نے وا لے )اور مبشِّر (بشا رت دینے وا لے ) کے عنوان سے یہ کام انجام دیتے ہیں اور لوگوں کو ا بھا ر تے اور جذ بہ پیدا کر تے ہیں اور ان کی سو ئی ہو ئی خو ا ہشو ں کو بیدار کر تے ہیں ۔ ہر انسان عذا ب سے ڈرتا ہے یہا ں تک کہ اس کا معمو لی ترین احتما ل بھی مؤ ثر ہے اگر چہ عملی طور پر لو گو ں میں اس کا اثر دکھا ئی نہیں دیتا لیکن جب پیغمبر آ کر آخرت کے عذا بو ں کی تفصیل بیا ن کر تا ، اور بہشت کی نعمتو ں کا شما ر کرا تا ہے یہ ڈرانا اور بشارت دینا لو گو ں کے ،خو ا ہشات کو عملی اور علم کو آگا ہی میں بدل دیتا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیا ن کیا تھا انسان کی روح میں دو کا ر خا نے کام کر تے ہیں : ایک عقل و بصیرت او ر دو سرے خو ا ہش و رغبت ۔ انبیا ء علیہم السلام خو ف اور بشا رت یعنی خدا وند عالم کی نعمتو ں کی خو شخبری اور اس کے عذاب کی طرف سے خبر دار کر کے انسا ن کی خو اہشات و رجحانا ت کو مہمیز کر تے ہیں ۔
اگر آ پ قر آ ن کریم کی تحقیق و مطالعہ کریں تو آ پ کو معلو م ہو گا کہ آ یات کا ایک بڑا حصہ چا ہے وہ پیغمبر اسلامۖ
..............
١۔نہج البلاغہ خطبہ اول در ذکر اختیار الانبیاء علیہم السلام ۔

کی زبا نی ہو یا پچھلے انبیاء علیہم السلام کی زبا ن سے نقل کئے ہو ئے ہو ں سب انذار و بشارت سے متعلق ہیں یعنی ان میں آخرت کے عذاب اور آخرت کی نعمتو ں کا ذکر ہے قرآن کریم میں یہ مسائل اتنی اہمیت کے حا مل ہیں کہ پیغمبر کو (نذیر )کہا گیا ہے سورئہ فاطر میں ارشا د ہو تا ہے :
(وَ اِ نْ مِنْ اُ مَّةٍ اِ لَّا خَلَا فِیْھَا نَذِ یْر)(١)
''کو ئی امت نہیں ہے مگر یہ کہ ان کے درمیان ڈرا نے والا ''نذیر''ضرور آ یا ہے ''۔
یہ نبی کی سب سے نما یاں صفت ہے اور مکمل طور پر اس کی ضرورت کا احساس کیا جا سکتا ہے اس لئے کہ معاشرہ میں کو ئی ایسا ہو نا چا ہئے جو لو گو ں کو مستقبل کے خطر وں سے آ گا ہ کر تا رہے ۔ مختصر یہ کہ آ پ نے مذ کو رہ آیات میں مشا ہدہ کیا کہ ان میں مبشّر اور منذر کی صفت بار بار دہرا ئی گئی ہے :
( رُسُلاً مَُُبشِّرِیْْنَ وَ مُنْذِ رِیْنَ ۔۔۔)اور (فَبَعْثَ اﷲُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ)۔
قر آ ن کریم میں خود چند مقا مات پر پیغمبر اکرم ۖکے او صاف میں بھی ''بشیر ''اور ''نذیر '' آ یا ہے پس معلو م ہو ا کہ یہ بھی نبو ت کا ایک ہدف ہے ۔

ظلم اور برائی سے مقا بلہ انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کے سلسلہ میں جن اغراض و مقاصد کا پتہ چلتا ہے ، علمی طو ر پر اس ظلم اور برائی سے مقابلہ بھی ہے جو ان کے زما نہ میں رائج رہے ہیں ۔ قر آ ن کریم سے جیسا کہ پتہ چلتا ہے کہ جس قو م کے در میا ن بھی کو ئی پیغمبر مبعو ث ہو ا ہے ان کے درمیان ضرور کو ئی بد عنوا نی یا مخصوص برائیا ں را ئج رہی ہیں اگر چہ کسی استثناء کے بغیر تمام انبیا ء کا ایک بنیا دی ہدف لو گو ں کو خدا ئے وا حد کی بند گی کی طرف دعوت دینا رہا ہے ۔ خدا وند عالم ارشا د فرماتا ہے :
(وَلَقَدْ بَعَثْنَافِیْ کُلِّ اُمَّةٍرَسُوْلاً اَنِ اعْبُدُ وْااللَّہَ وَاْجْتَنِبُوْاالطَّاغُوْت)(٢)
یعنی''اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول ضرور بھیجا کہ خدا کی عبا دت کرو اور طا غوت سے بچے رہو ''۔
لیکن اس معمو لی ہد ف کے ساتھ کہ جس کا ایک کلی عنوان خدا کی عبا دت اور اس کے تمام احکام ''کرو اور نہ کرو '' کے سا منے سر تسلیم خم کر نا ہے ہر پیغمبر نے اپنے زمانہ میں رائج برائیوں کی اصلاح کوبنیاد قراردیاہے مثال کے طورپرجہاں حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ کاذکرہے وہیں:
..............
١۔سو رئہ فا طر آیت٢٤۔
٢۔سورئہ نحل آیت ٣٦۔
(وَزِنُوْابِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ)(١)
''اورجب کچھ( تولنا ہوتو) بالکل صحیح ترازوسے تولاکر و''۔
اور(وَلَاتَبْخَسُوْاالنَّاسَ اَشْیَائَ ھُمْ)(٢)
''اور لوگوں کوان کی(خریدی ہوئی )چیزیں کم نہ دیا کرو ''کابھی ذکر اس کے ساتھ موجود ہے یاجب حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تو ان کے زمانہ میں ایک خاص برائی رائج تھی جس کا انھوں نے مقابلہ کیا،قرآن کریم میں اس طرح کے نمونہ بہت ہیں یہ اس چیز کی علامت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے اہداف میں سے ایک ہدف اپنے زمانہ کی برائیوں سے مقابلہ کرنا بھی رہاہے۔

لوگوں کو توحید اور معاد کی طرف متوجہّ کرنا ہم نے اس بحث کے آغاز میں اس بنیاد پر ضرورت نبوت کی دلیل قائم کی تھی کہ انسان اپنے اختیار کے ساتھ کمال وارتقاء کے لئے پیدا کیاگیا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنے اچھے اور برے اعمال کے ذریعہ آخرت میں اپنے لئے سعادت یاشقاوت فراہم کرتا ہے پس اس کو اس دنیا میں انجام دئے جانے والے اپنے افعال کے اخروی نتائج کے ساتھ رابطے سے آگاہ ہوناچاہئے تاکہ وہ اچھے یا برے اعمال آزادانہ طورپر اختیار کرسکے دوسرے لفظوںمیں اس کیلئے اس چیزکا جاننا ضروری ہے کہ کون سے کام اچھے ہیں کہ ان کوانجام دے سکے اور کونسے کام برے ہیں کہ ان کو انجام نہ دے اور چونکہ انسان کی عقل دقیق طورپر ان رابطوں کو معلوم نہیں کرسکتی لہٰذا حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ بشرکیلئے اس علم تک پہنچنے کے لئے کوئی راہ مقررفرمائے اور وہ راہ وہی وحی اور نبوت کی راہ ہے ۔
اس کے بعد کی بحث میں ہم نے عرض کیا تھاکہ قرآن کی آیات کریمہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر خدا انبیاء علیہم السلام کو نہ بھیجتا تو لوگوں پر حجت تمام نہ ہوتی اور ہم نے اس ذیل میں کہا تھا چونکہ انسان کی عقل ،خیروشرکی شناخت کیلئے کافی نہیں ہے اور وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہمیں کون سے کام نہیںانجام دینا چاہئیں اور کون سے کام انجام نہیں دینا چاہئیں ۔
بحث کے ضمن میں ہی ایک اور نکتہ بھی واضح ہوگیا جس کی بنیادپر ہم''نبوت کی ضرورت''پر دوسری دلیل قائم کرسکتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ :کبھی کبھی انسان حتّیٰ ان مسائل میں کہ جہاں انسان کی عقل اس کودرک کرنے کے لئے
..............
١۔سورئہ اسراء آیت ٣٥۔
٢۔سورئہ اعراف آیت٨٥۔
کافی ہے۔بعض عوامل کی وجہ سے غفلت کاشکار ہوجاتاہے مثال کے طورپر وجود خدااورتوحید کے اثبات کے لئے انسان کی عقل کافی ہے لیکن کبھی کبھی سماجی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے استعمال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یعنی معا شرہ کی فضاء وہ شکل اختیا ر کر لیتی ہے کہ انسان اس حقیقت سے غا فل ہو جا تا ہے اور اپنی عقل اس با رے میں کہ تو حید حق ہے یا نہیں، استعمال نہیں کر تا ۔یہ وہ حقیقت ہے جس کو کم و بیش سبھی افراد ما نتے ہیں ۔ فرض کر لیجئے کہ کسی گھرا نے میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو کہ جس نے جب سے اپنی آ نکھیں کھو لیں اپنے ماں باپ کو بتو ں کی پر ستش کرتے دیکھا اور جب مدر سہ میں دا خل ہوا تو وہاں بھی اس کو شر ک آ میز تعلیم دی گئی ۔ ظا ہر سی با ت ہے کہ کوئی مذہب اپنے مذ ہب کی حقا نیت کی دلیل کے لئے بہت سی غلط با تیں بیا ن کر سکتا ہے اور ان غلط با تو ں سے بچہ کا ذہن جب ما نوس ہو گیا ہو اور معا شرہ کی فضا نے بھی اس کی مدد کی ہو او ر تو حید و خدا پرستی کی بحث بھی با لکل اس کے کان سے نہ ٹکرائی ہو ، تو ان تمام حا لات میں ایک انسان کا مشرک ہو جانا انہو نی بات نہیں ہے اس کے ذہن میں ممکن ہے یہ سوال ہی پیدا نہ ہو کہ کیا یہ راستہ حق کا ہے یا باطل ؟
اسی طرح ہم نے معاد کے با رے میں بھی عرض کیا تھا کہ عام طور سے معاد یا قیا مت کے اثبات کیلئے انسان کی عقل کا فی ہے لیکن اگر کو ئی شخص ایسے ما حو ل میں زند گی بسر کر رہا ہو کہ آ خرت کی زند گی کے نا م سے با لکل اس کے کان آ شنا نہ ہو ں اور وہ اس مسئلہ کی طرف متو جہ ہی نہ ہو ا ہو ، جو کچھ بھی اس نے دیکھا ، سُنا ،اور پڑھا ہو وہ سب محض دنیا ی زند گی اور اس کی لذ تو ں سے مر بو ط ہو ، یا وہ عقل کو عام طور پر اپنی معا شی حا لت سد ھا ر نے اور اجتماعی امو ر کو انجا م دینے میں لگا ئے رہا ہو تو ظا ہر ہے ایسے شخص کو خود بخود عالم آخرت کی فکر نہیں ہو گی اور اگر کبھی خیال آ یا بھی تو ممکن ہے اس کے ذہن میں اس قدر شکو ک پیدا کر دیئے جا ئیں کہ وہ اس پر یقین ہی نہ کر سکے پس یہاں تک کہ ان امو ر میں بھی کہ جہاں انسان اپنی عقل سے بذات خود دلیل قا ئم کر کے حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ۔ کبھی کبھی حالات اس طرح کے ہو جا تے ہیں کہ انسان کی عقل کا فا ئدہ با قی نہیں رہتا اور ہم یہ جا نتے ہیں کہ یہ دو مسئلے یعنی تو حید اور معاد (اﷲاور قیا مت پر ایمان) اد یان کے سب سے اہم مسا ئل ہیں ۔اگر کسی کے لئے حل نہ ہو پا ئیں تو وہ مجمو عی طو ر پر آخرت کی کا میابی کے لئے کو ئی راستہ نہیں نکال سکے گا اور اس طرح کے مسا ئل میں ہمارا مشا ہدہ یہی ہے کہ کبھی کبھی معا شرہ کے حا لات کی وجہ سے انسا ن ان سے غا فل ہو جا تا ہے ۔
اس بناء پر جس اﷲنے انسان کو آخرت کی کا میابی کے لئے پیدا کیا ہے ،(وہ کا میابی جو اﷲ اور آخرت پر ایمان کے ذریعے ملتی ہے )اس کو یہ بھی علم ہے کہ انسا نو ں کے سا منے کچھ ایسے حا لات پیش آ جا تے ہیں کہ وہ اُن مسائل کو کلی طور پر بُھلا دیتا ہے لہٰذا اس طرح کے حا لات میں حکمت الٰہی کا یہ تقا ضا ہے کہ کچھ ایسے مصلحین اور تعلیم دینے وا لے اور یاد دہا نی کرا نے وا لے افراد بھیجے جولو گو ں کو اُن با تو ں کی طرف متوجہ کریں جن کی فطرت گو اہی دیتی ہے اور عقل جن با توں پر دلا لت کر تی ہے اگر چہ وہ ان با تو ں سے غا فل ہی کیو ں نہ ہو گئے ہو ں ۔
مو لا ئے کا ئنا ت کے کلام میں یہ جملے ''یُذَکِّرُوْھُمْ مَنْسِیَّ نِعْمَتِہِ''''انھیں اﷲکی بھو لی ہو ئی نعمتیں یا د دلائیں ''، وَ یُثِیْرُوْا لَھُمْ دَ فَا ئِنَ الْعُقُوْل''''اور ان کی مد فو ن عقلو ں کو با ہر نکا لیں''ممکن ہے اسی با ت کی نشاندہی کر رہے ہوں یعنی کبھی کبھی انسا نو ں کی عقلیں خو ا ہشات ، شکوک و شبہات اور معا شرتی ما حول کے پر دوں میں دفن ہوجا تی ہیں اور کسی کا م کی نہیں رہ جا تیں ۔ اس طرح کی عقل کا وجود یا عدم کو ئی فرق نہیں کر تا وہ عقل رکھتے ہیں لیکن اُن کی عقل ان کو نور نہیں بخشتی ایسے حا لات میں بھی لا زم ہے کہ خدا اپنی حکمت متعا لیہ کی بنیا د پر پیغمبروں کو مبعوث فرمائے تا کہ وہ لو گو ں کو اس غفلت سے نجا ت دلا ئیں اور ان پر یہ مسئلہ وا ضح کر دیں کہ خدا ایک اور اکیلا ہے تم اپنی عقلوں کی طرف رجو ع کرو اور اس با رے میں غور و فکر سے کام لو یا اگر لوگ شکوک و شبہا ت میں مبتلا ہو ں تو اُن کے شبہا ت دور کر دیں ہم اس طریقہ سے بھی نبوت کی ضرورت پر دلیل قا ئم کر سکتے ہیں اس دلیل کا پہلی دلیل سے فرق یہ ہے کہ پہلی دلیل میں اس با ت پر زور دیا گیا تھا کہ کچھ با تیں انسان کو جا ننا چا ہئے تھا لیکن جا ن نہیں سکتا تھا لیکن یہاں اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ لو گو ں کو ان با تو ں کی طرف متو جہ ہو نا چا ہئے کہ جن سے وہ غا فل ہیں۔
جب ہم قر آ ن کریم کی آیات کا مطا لعہ کر تے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کے اہد اف و مقا صد میں ان دو چیزو ں پر زور دیا گیا ہے ہم نے انبیاء علیہم السلام کو اس لئے مبعوث کیا کہ وہ لو گو ں کو توحید کی دعوت دیں حا لانکہ تو حید خود عقل کے ذریعہ ثا بت ہو تی ہے اور قرآن نے بھی تو حید پر عقلی دلیلیں دی ہیں ۔ پھر بھی خدا وند عالم فر ما تا ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد لو گو ں کو تو حید کی دعوت دینا ہے اور اسی طرح دو سرے مقام پر فر ما تا ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کا ہدف و مقصد لو گو ں کو معا د کی طرف توجہ دلا نا تھا ۔ ہم اس سلسلہ میں بھی قر آن کریم کی بعض آ یتو ں کی طرف اشا رہ کر تے ہیں ۔
(وَلَقَدْ بَعَثْناَفِیْ کُلِّ اُ مَّةٍ رَسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوْااﷲَ وَاجْتَنِبُوْاالطَّا غُوْ ت)(١)
''اور ہم نے ہر امت میں ایک (نہ ایک )رسو ل اس با ت کے لئے ضرور بھیجا کہ خدا کی عبا دت کرو اور طاغوت سے دور رہو ''۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرما تا ہے :
..............
١۔سورئہ نحل آیت ٣٦۔
(وَمَااَرْسَلْناَ مِنْ قبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ اِ لَّا نُُوْحِیْ اِلَیْہِ اَنَّہُ لَااِلَٰہَ اِ لَّا اَنَافَاعْبُدُوْنِ)(١)
''اور (اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے کو ئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس پر وحی کر دی کہ بس میں ہی اﷲ ہوں پس تم میری ہی عبا دت کرو ''۔
ان آیا ت سے بخو بی یہ بات روشن ہو جا تی ہے کہ لو گو ں کو اﷲ کی عبا دت کی دعوت دینا انبیاء علیہم السلام کے اہم فر ائض میں سے تھا قر آن کریم نے بہت سے مسا ئل میں انبیا ء علیہم السلام کے وا قعات ذکر کئے ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں سر فہرست اسی مسئلۂ تو حید کو قرار دیا گیا ہے کہ صرف اور صرف خدا ئے وحدہ لا شریک کی عبادت کیا کرو : مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہُ''۔
اسی بات کو بیان کر نامقصود ہے کہ عقیدئہ توحید اگر چہ فطری ہے اور اس پر عقل بھی دلالت کر تی ہے پھر بھی انسان اپنے مخصو ص (معا شرتی ) حا لات میں گھر جا نے کے بعد اس سے غافل ہو جا تے ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ انبیا ء علیہم السلام بھیجے جا ئیں تا کہ وہ لو گو ں کو ان کا یہ بھو لا ہو ا سبق یاد دلا ئیں معا د یا قیامت سے متعلق بھی بہت سی آ یا ت ہیں منجملہ یہ آیت:
( یُلْقِیْ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہِ عَلَیٰ مَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہِ لِیُنْذِرَیَوْمَ التَّلاَ قِ( ٢)
''خدا اپنے نبیو ں میں سے جس پر چا ہتا ہے روح کو نا زل کر تا ہے تا کہ وہ پیغمبر (لو گوں کو)قیامت کے دن سے ڈ را ئے ''۔
بہر حال قیامت اور عا لم آخرت کے متو قع خطروں کی طرف لو گو ں کو متو جہ کر نا بھی پیغمبروںکے اہداف میں شا مل رہا ہے۔
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت ٢٥۔
٢۔سورئہ مو من(غافر) آیت ١٥۔



4
پیغمبروں کا بشر ہو نا راہ اور رہنما کی پہچان

پیغمبروں کا بشر ہو نا نبوت کی ضرورت کی دلیل اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ ( عقلی راستہ کے علاوہ جو سب کی دسترس میں ہے ) کوئی ایسی راہ ہو جو ابدی سعادت اور شقاوت تک پہنچنے کا راستہ بتائے لیکن یہ راہ دوسری تمام خصوصیات کو بیان نہیں کرتی یعنی یہ دلیل نبوت اور وحی کی کیفیت بیان نہیں کرتی کہ کیا ہر فرد پر وحی ہوسکتی ہے ؟ کیا نبی کو بھی ہر حال میں انسانوں کی ایک فرد ہونا چاہئے ؟ کیا ہر معاشرے یا ہر شہر میں ایک پیغمبر ہونا ضروری ہے ؟ یہ دلیل ان جزئیا ت کی وضاحت نہیں کرتی البتہ خارجی قرائن کے ذریعہ یہ چیز یں سمجھی جاسکتی ہیں لیکن دقیق طور پر یہ جزئیات خود اس دلیل سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے ۔
قرآن کریم نے ان مسائل کے بارے میں بحث کی ہے منجملہ قرآ ن کریم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نبی کو ہر حال میں بشر ہونا چاہئے اور ضمنی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان براہ راست خداوندعالم سے رابطہ بر قرار کرکے خیر و شر کا علم اس سے حاصل نہیںکر سکتاایک طرف تو یہ کہ تمام انسان نبی نہیں ہوسکتے اور دوسری طرف نبی کو انسانوں کے درمیان سے ہی مبعوث ہونا چاہئے ۔یہ بات عام طور پر لوگوں کی بہانہ باز یوں کے جواب میں بیان کی گئی ہے یعنی قرآن کریم فرماتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام مبعوث کئے جاتے تھے تو لوگ ان کی دعوت قبول نہ کرنے کیلئے بہانے کیا کرتے تھے منجملہ کہا کرتے تھے کہ ''اگر خدا ہماری راہنمائی ہی کرنا چاہتا ہے تو اچھا ہوتا کہ وہ ہماری راہنمائی کے لئے کسی فرشتہ کو بھیج دیتا'' یاوہ کہا کرتے تھے :جب تک ہم خدا کو نہ دیکھ لیں گے ایمان نہیں لائینگے۔یا یہ کہا کرتے تھے : اگر خدا ہماری ہدایت کرنا چاہتا ہے تووہ نبی کے ہمراہ کسی فرشتہ کو بھی بھیجتا کہ ہم بھی اس فرشتہ کا دیدار کرتے اور اسی طرح کی باتیں، اسی طرح قرآن کلی طور پر فرماتا ہے : تمام قومیں انبیاء علیہم السلام سے کہا کرتی تھیں : آپ بھی ہمارے ہی جیسے بشر ہیں اور ہم اپنے ہی جیسے بشر کی پیروی نہیں کرسکتے اور یہی وہ مقام ہے جہاں قرآ ن کریم فرماتا ہے : (پیغمبر کو ہر حال میں انسان ہی ہونا چاہئے ) اور یہ خداوند عالم کی سنت ہے کہ وہ ہمیشہ انسانوں کے درمیان سے کسی کو رسالت کیلئے منتخب کرتاہے۔فرشتہ عام انسانوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوسکتا ہاں ایک وقت ہے جب تمام انسان ملک کادیدار کرسکتے ہیں لیکن یہ و ہ وقت ہے کہ جب انسان کا آخری وقت آجاتا ہے یعنی اس پر موت کی نشانیاں ظاہر ہوجاتی ہیں اور وہ عالم ملکوت کی طرف کوچ کرنے لگتا ہے ۔
ان آیات سے ہم یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ نبوت منتخب انسانوں کو ہی ملنا چاہئے ورنہ تمام انسانوں پروحی نازل نہیں ہو سکتی ۔اس لئے کہ ان کی روح اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ رابطہ قائم کرسکیں لیکن اگر خدا کی طرف سے انسانو ں کے درمیان کوئی ایسی شخصیت نہ ہوتو حکمت خدا باطل ہو جائیگی اور انسان کی خلقت کا ہدف پورا نہیں ہو سکے گا ۔معلوم ہوا خداوند عالم کو خلقت کی شرطوں کو اس طرح فراہم کرنا چاہئے کہ ا نسانو ںکے درمیان کوئی اس قابل ہوکہ جس پر اپنی و حی نازل کرکے دوسروں تک پہنچا سکے ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
(وَقَاْلُوْالَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَک)(١)
'' لوگ کہتے کہ اس (نبی ) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ''۔
یقیناپیغمبر پر فرشتہ اور ملک نازل ہوتے تھے لیکن ان قومو ںکا مقصد یہ تھا کہ فرشتے اس طرح کیو ں نہیں نازل ہوتے کہ ہم بھی ان کو دیکھ سکیں ۔
قرآن کریم ان کے جواب میں فرماتا ہے :
( وَ لَوْاَ نْزَلْنَا مَلَکاً لَقُضِیَ الْاَمْرُثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ )(٢)
''حالا نکہ اگر ہم فرشتہ بھیج د یتے تو (انکا )کام ہی تمام ہوجاتا (اور )پھر انھیں (اس طرح کے سوال کرنے کی ) مہلت ہی نہ ملتی ''۔
یعنی لوگوں کی زندگی اور فرشتوں کے دیدار کے درمیان ایک تکونیی رابطہ موجود تھا عام لوگ زندگی کے عام حالات میں فرشتہ کا دیدار نہیں کرسکتے فقط موت کی صورت میں ہی انکا دیدار ممکن ہے اگر ہم فرشتہ کو اس طرح نازل کرتے کہ یہ لوگ بھی اس کو دیکھیں توان کو موت آجا تی اور انکا قصہ ہی تمام ہوجاتااور پھر بعثت اور ہدایت کا ہدف باطل ہوجاتا چونکہ ہمارا مقصد ان کو راہ و راستہ سے آشنا کرانا تھا کہ وہ راستہ پہچان لیں اور اسکے بعد اپنے انتخاب کے مطابق عمل کریں ۔اگر یہ قرار ہوتا کہ فرشتہ نازل ہو اور یہ لوگ اس کو دیکھ کر مرجائیں تو اس صورت میں بعثت کا ہدف
..............
١۔سورئہ انعام آیت ٨۔
٢۔سورئہ اانعام آیت٨۔
ختم ہوجاتا اور ان کے نزول کی ضرورت پوری نہ ہوتی ۔
اس کے بعد قرآن کریم فرماتا ہے :اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ لوگ اس حالت میں فرشتہ کا دیدار چا ہتے ہیں تو یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ فرشتہ انسانی شکل میں مجسم ہوکر سامنے آ ئے لیکن اگر فرشتہ انسانی شکل وصورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوتا تو یہ لوگ یہی کہتے کہ تم بھی ہماری طرح کے انسان ہو معلو م ہوا یہ لوگ فرشتوں کو ان کی حقیقی صورتو ں میں دیکھنا چاہتے تھے اور یہ فی الحال ان کیلئے ممکن نہیں تھا ۔دوسرے لفظوں میں قرآن فرماتاہے کہ اس مسئلے کی دو صورتیں ہیں : اول یہ کہ تم فرشتہ کو اس کی حقیقی صورت میں دیکھنا چاہتے ہو جس کی تم میں فی الحال قا بلیت نہیں پائی جاتی کیو نکہ اگر تم اس کو دیکھ لو گے توتمہارا دم نکل جائیگا اور اگر انسان کی شکل وصورت میں دیکھو گے توتمہاری دل کی مراد پوری نہیں ہو گی لہٰذا فرشتہ کا دیدار ہونا ممکن نہیں ہے ۔ البتہ بعض مخصوص انسان اپنی قابلیت کے تحت وحی کے واسطہ سے فرشتہ سے رابطہ قائم کرسکتے ہیںکہ جس کی تم میں قابلیت نہیں پائی جاتی ۔
اس کے بعد کی آیت میں قرآن کریم اعلان کرتا ہے :
(وَلَوْجَعَلْنَا ہُ مَلَکاً لَجَعَلْنَا ہُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَاْ عَلَیْھِمْ مَاْیَلْبِسُوْنَ )(١)
''اور اگر ہم فرشتہ کو نبی بنا کر بھیجتے تو (آخر)اس کو بھی انسانی صورت میں بھیجتے تو گویا ہم بھی ان کو اسی شبہ میں مبتلا کر دیتے کہ جس کے یہ مرتکب ہوئے ہیں''۔
اور دوسرے مقام پر قرآ ن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
(قَالَتْ رُسُلُھُمْ اَ فِی اللَّہِ شَک فَا طِرِالسَّمَٰوَٰتِ وَالْاَ رْضِ )( ٢)
''ان کے پیغمبروں نے (ان سے ) کہا کہ خدا کے بارے میں کہ جس نے سارے آسمان وزمین کو پیدا کیا شک کیا جا سکتا ہے ؟'' ۔
ان کے جواب میں لوگ کہتے تھے:( قَا لُوْااِنْ اَنْتُمْ اِلّابَشَرمِثْلُنَا )
''تم بھی تو بس ہمارے ہی جیسے آدمی ہو ''۔
..............
١۔سورئہ انعام آیت٩۔
٢۔سورئہ ابرا ہیم آیت١٠۔
(لَومَاتَاْتِیْنَابِاِلْمَلََٰئِکَةِ اِ نْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ )(١)
''اگر تم اپنے دعوے میں سچّے ہو تو فرشتو ں کو ہما رے سامنے کیوں نہیں لا کر کھڑ ا کرتے ''۔
یعنی فرشتو ں سے ہماری ملا قات کیو ں نہیں کرا تے ؟
خدا وند عالم ان کے جواب میں فر ماتا ہے :
(مَا نُنَزِّلُ المَلَا ئِکةَ اِلّاَ بِالْحَقِّ وَمَاکانُوْااِذاًمُّنْظَرِیْنَ )(٢)
''ہم فرشتوں کو نہیں بھیجا کر تے مگر یہ کہ حق کے ساتھ اور اس وقت اُن کو (ہدایت ہو تی ہے) کہ (جان بچانے کی )مہلت بھی نہ دیں ''۔
ملا ئکہ کا نازل کرنا کوئی کھیل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے کچھ شرطوں کا ہو نا ضروری ہے اگر ہم فرشتو ں کو ان کی نگا ہو ں کے سامنے کھڑ ا کر دیں تو پھر وہ اس دنیا میں زندہ ہی نہیں رہ سکتے اور ان کو اس دنیا میں رہنے کی مہلت نہیں ملے گی۔
قرآ ن کریم میںارشاد ہو تا ہے:
(وَمَامَنَعَ النَّاسَ انْ یُؤْمِنُوْااِذْجَائَ ھُمُ الھُدَیٰ اِلَّااَنْ قَالُوْااَبَعَثََ اللَّہُ بَشَراًرَسُْولًا) (٣)
''اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آ چکی تو اُن کو ایمان لانے سے اس کے سوا اور کسی چیز نے نہ روکا کہ وہ کہنے لگے کہ کیا خدا نے آ دمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے''۔
خدا وند عالم ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے :
(قُلْ لَوْکانَ فی ْالَارْضِ مَلَائِکَة یَمْشُوْنَ مُطمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَاعَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَآئِ مَلَکاً رَسُوْلاً)(٤)
''اے رسول تم کہدو کہ ا گر زمین پر فرشتے (بسے ہوئے )ہو تے جو اطمینان سے چلتے پھر تے نظر آتے تو ہم ان لوگوں کے پاس فرشتہ ہی کو رسول بنا کر نازل کرتے ''
ایک دو سرے مقام پر کفار کا قول قر آن نقل کرتا ہے :
..............
١۔سورئہ حجر آیت ٧۔
٢۔سورئہ حجر آیت ٨۔
٣۔سورئہ اسراء آیت ٩٤۔
٤۔۔سورئہ اسراء آیت ٩٥۔
(وَقَالُوْاماَلِ ھَٰذَ اَالرَّسُوْلِ ِیَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الاَسْوَاقِ لَوْلَااُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُوْنَ مَعَہُ نَذِیْراً) (١)
''اوران لو گو ںنے ( یہ بھی ) کہا کہ یہ کیسارسو ل ہے جو کھانا کھا تا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتاہے اس کے پاس کو ئی فرشتہ کیوں نہیں نازل ہو ا تا کہ وہ بھی اس کے ساتھ (خدا کے عذاب سے) ڈرائے '' ۔
یہ سب (لو تا تینا با لملائکہ )کی ما نند ہے یعنی نبی کے ساتھ ایک فرشتہ آئے کہ جس کو دیکھ سکیں البتّہ اسکے علا وہ بھی وہ بہت با تیں کیا کر تے تھے جو ہماری بحث سے تعلق نہیں رکھتیں ۔
خد ا وند عالم ان کے جواب میں فرماتا ہے :
(وَمَااَرْسَلنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآ اِنَّھُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْناَ بَعضَکُم لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْراً)(٢)
''اور (اے رسول )ہم نے آ پ سے پہلے پیغمبر نہیں بھیجے مگر یہ کہ سب کے سب ہی آ پ کی ہی ما نند کھا نے کھا تے تھے اور با زا رو ں میں چلتے پھر تے تھے اور ہم نے آ پ میں سے بعض کو بعض کے لئے سبب ِ آ زمائش بنایا کہ خدا کی طاعت میں آ یا آپ لوگ صبر کر تے ہیں (یا نہیں ) اور آ پ کا پر ور دگار بڑا دیکھنے والا ہے''۔
انسان اس دنیا میں امتحان کے لئے پیدا کیا گیا ہے جب اس کے لئے کسی چیز کا حق ہو ناثا بت ہو جا ئے تو اس کا امتحان اس طرح ہو تا ہے کہ کیا وہ حق کو قبول کر تا ہے یا خوا ہشات ِ نفسانی کی وجہ سے قبول نہیں کرتا ؟
ہم نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت تمام کردی ،لوگو ں کے لئے ان کا پیغمبر ہو نا ثابت ہو جا تا ہے تو اس وقت ان کا امتحان ہو تا ہے کہ وہ اپنی ہی جنس کے ایک انسان کی اطاعت کر تے ہیں یا اُن کاجذ بۂ تکبران کو اطاعت سے روک دیتا ہے (وَجَعَلنَا بَعْضَکُم لِبَعْضٍ فِتْنَةً )آ پ تمام لوگ انسان ہیں لیکن بعض انسانو ں کا بعض انسانوں کے ذریعہ امتحان ہو تا ہے پیغمبروں کا امتحان بھی اس طرح ہو تا ہے کہ جب لوگ ان کی دعو ت ِتبلیغ کو نہیں مانتے تو وہ آیا تبلیغ سے دست بر دار ہو جا تے ہیں؟ یا تبلیغ کو جا ری رکھتے ہیں ۔اور صبر کر تے ہیں :(اَ تَصبِرُونَ وَکَانَ رَبُّک بَصِیْراً )۔
ارشاد خدا وندی ہے :
..............
١۔سو رئہ فرقان آیت ٧۔٨ ۔
٢۔سورئہ فر قان آیت ٢٠۔
(وَمَاْاَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّارِجَالاً نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْمَلُوْ نَ )(١)
''اور (اے رسول ) ہم نے آ پ سے پہلے بھی آد میوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا کہ ان کے پاس وحی بھیجا کر تے تھے تو اگر تم لوگ خود نہیں جا نتے ہو تو عالموں سے پوچھ لو''۔
یہو د و نصا ریٰ اور دو سری قوموں سے سوال کرو کہ ان کے انبیاء علیہم السلام انسان تھے یا نہیں؟ اہل خبرہ اور امت کے دانشوروں سے سوال کرو تو وہ تم کو بتلائیں گے کہ گذشتہ انبیاء علیہم السلام بھی انسان تھے ۔
سورئہ انبیاء میں ارشادفر ماتا ہے :
(وَمَاجَعَلنَاھُم جَسَداً لا یَاکُلُونَ الطَّعَامَ وَمَاکَانُواخَالِدِینَ )(٢)
''اور ہم نے ان (پیغمبروں )کے بدن بیجان نہیں بنا ئے تھے کہ انھیں کھا نے پینے کی احتیا ج نہ ہو اور نہ وہ (بدن سے آزاد روح تھے ) کہ ہمیشہ زندہ رہیں ''۔
سورئہ فرقان میں ارشاد ہو تا ہے:
( وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَرجُو نَ لِقائَنَالَولَا اُنْزِلْ عَلَیْنَاالْمَلَائِکَةُ اَوْنَرَیٰ رَبَّنَالَقَدِ اسْتَکْبَرُوافِی اَنفُسِھِم وَعَتَوْعُتُوّاًکَبِیْراً۔یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلَائِکَةَلاَ بُشْرَیٰ یَومَئِذٍ لِلْمُجْرِمِیْنَ وَیَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَحْجُوْرًا)(٣)
''اور جو لوگ (قیامت میں )ہماری ملا قات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ آخر فرشتے ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ؟پروردگار کو( کیوں نہیں ) دیکھتے ؟ان لوگوں نے دراصل اپنے کو(بہت ) بڑا سمجھ لیا اور بڑی سرکشی پر اتر آئے (حالا نکہ )جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروںکوکچھ خوشی نہ ہوگی وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے دوررہو ''۔
( ذَٰلکَ بِاَنَّہُ کَانَتْ تاَ تِیْھِمْ رُ سُلُھُمْ بِالْبَیِّنَا تِ فَقَالُوْا اَبَشَر یَھْدُوْنَنَا فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْاوَاسْتَغْنَی اللَّہُ وَاللَّہُ غَنِیّ حَمِیْد )(٤)
''یہ اس وجہ سے ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجز ے لیکر آ ئے تھے تو کہتے تھے کہ کیا (ہمارے جیسے ) آدمی ہمارے رہبر بنیں گے ؟ پس (یہ کہہ کر ) کا فر ہوگئے اور منھ پھیر بیٹھے توخدا نے بھی (ان کی ) پروانہ کی اور
..............
١۔سو رئہ انبیاء آیت ٧۔
٢۔سورئہ انبیاء آیت ٨۔
٣۔سورئہ فر قان آیت ٢١۔٢٣۔
٤۔سو رئہ تغابن آیت٦ ۔
خدا تو ہر اک سے بے نیاز اورسزاو ا ر حمد ہے '' ۔
یہا ں قر آ ن نے کلی طو ر پر تمام قو مو ں کا حال نقل کیا ہے کہ جب انکے درمیا ن انبیاء علیہم السلاممبعو ث کئے جا تے تھے تو وہ کہا کر تے تھے :(اَبَشَر یَھْد ُونَناَ)کیا بشر ہماری ہدایت کرے گا؟
(فَکَفَرُواوَتَوَلّوا )وہ (نبیوں ) کا انکار کر تے اور رو گر دانی اختیار کر لیتے تھے جبکہ (خود) خدا ان سب سے بے نیاز ہے ۔حکمت ِخدا کا تقا ضا بس اتنا ہی ہے کہ وہ ان کے درمیان انبیاء علیہم السلام مبعو ث کر کے ان پر اپنی حجت تمام کر دے۔خدا کو اس بات پر اصرار نہیں ہے کہ ان کو ہر حال میں انبیاء علیہم السلام کی اتباع کر نی ہو گی (کیونکہ)خدا کو ان کی کو ئی ضرورت نہیں ہے (وَاسْتَغْنَی اﷲُ واَﷲُ غَنِیّ حَمِید)حکمتِ خدا کا تقا ضا بس اس قدر ہے کہ ان کے لئے راستہ کی وضاحت کردے تاکہ وہ اپنے اختیار اور خواہش سے راہِ حق یا راہِ باطل کو منتخب کر لیں۔
یہا ںتک کہ ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے آیات کلی طو ر پر تمام انبیاء علیہم السلام کے بارے میں تھیں لیکن بہت سے مقا مات پر ہر نبی کے لئے الگ الگ بھی مطلب بیا ن ہو ئے ہیں کہ ان کی قوم والو ں نے اس نبی کے مقابل اسی طرح کی باتیں کہی ہیں منجملہ حضرت نوح علیہ السلام کے سلسلہ میںخدا وند عالم ار شاد فر ماتا ہے :
( فقَالَ الْمَلَائُ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْامِنْ قَوْمِہِ مَاھَٰذَآ اِلَّابَشَر مِثْلُکُمْ یُرِ یْدُ اَنْ یَتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ وَلَوْشَائَ اللَّہُ لَاَنْزَلَ مَلَٰئِکَةً مَاسَمِعْنَابِھَٰذَافِیْ آبَائِنَاالْاَوَّلِیْنَ )(١)
''ان کی قوم کے سرداروں نے جو کا فر تھے کہا کہ یہ بھی تو بس تمہارے ہی جیسا انسان ہے (مگر) اس کی خواہش ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے (ورنہ ) اگر خدا ( پیغمبر نبی بھیجنا چا ہتا ) تو فرشتو ں کو نازل کرتا ہم نے تو (کبھی ) ایسی بات اپنے باپ دادائو ں کے سا منے نہیں سنی تھی ''۔
قو م نو ح علیہ السلام اس سلسلہ میں شاید سچ کہتی چونکہ حضرت آ دم علیہ السلام سے لیکر حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک اتنا فاصلہ ہو گیا تھا کہ لوگو ں کو ما سبق انبیاء علیہم السلام کی کوئی دقیق خبر نہیں تھی لیکن بعد کی قو موں کے لئے یہ باتیں با لکل صحیح نہیں تھیں اور ایسا نقل بھی نہیں ہو ا ہے کہ بعد والی قو مو ں نے یہ کہا ہو کہ ہم نے اس طر ح کی با تیں نہیں سنی ہیں ۔اسی طرح قو مِ نوح کے سر دار قوم والو ں سے کہتے تھے :
(اِنْ ھُوَ اِلَّا رَجُل بِہِ جِنَّة فَتَرَبَّصُوْا بِہِ حَتَّٰی حِیْن )(٢)
..............
١۔سورئہ مو منون آیت٢٤۔
٢۔سور ئہ مو منون آیت ٢٥۔
''در حقیقت اس آدمی (حضرت نوح ) پر جنو ن طا ری ہے لہٰذ ا کچھ دن حالات کا انتظا ر کر لو'' ۔
دوسری آیت میں ایک اور پیغمبر کی زبا نی (البتہ اس پیغمبر کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے) قر آن نقل فر ماتا ہے :
( وَقاَلَ الْمَلَاُ مِنَ قَوْمِہ الذین کَفَرُوْا وَکَذَّ بُوْابِلِقَائِ الآخِرَةِ وَاَ تْرَفْنَٰھُمْ فی الحَیَٰوةِ الدُّ نْیَامَاھَٰذا اِلَّابَشَرمِّثْلُکُمْ یَأکُلُ مِمَّا تَأکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرِبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ وَلَئِن اَطَعْتُمْ بَشَراً مِّثْلَکُمْ اِ نَّکُمْ اِذاً لَخَٰسِرُوْنَ )(١)
''اور ان کی قوم کے چند سرداروں نے جوکافر تھے اور (روز )آخرت کی حاضر ی کو بھی جھٹلا تے تھے اور دنیا کی (چند روزہ ) زند گی میں ہم نے انھیں عیش اور نعمت بھی دے رکھی تھی (قوم والو ں سے ) کہہ دیا یہ تو بس تمہا رے ہی جیسا آدمی ہے جو چیزیں تم کھا تے ہو یہ بھی کھا تا ہے اور جو چیزیں تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے اور اگر تم لوگو ں نے اپنے ہی جیسے آد می کی اطا عت کر لی تو تم ضرور گھا ٹے میں رہو گے''۔
حضرت صالح علیہ السلام کے با رے میں قر آن کریم فرماتا ہے کہ ان کی قوم نے اُن سے کہا :
( قَالُوْااِنَّمَآاَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ مَااَنْتَ اِلَّابَشَر مِثْلُنَا )(٢)
''وہ لوگ بولے کہ تم پر تو بس جادو کر دیا گیا ہے (کہ ایسی باتیں کر تے ہو )تم بھی تو آخر ہما رے ہی ایسے آدمی ہو ''۔
حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں بھی اسی طرح کی باتیں ملتی ہیں کہ ان کی قو م نے اُن سے کہا :
( قَالُوْااِنَّمََآاَنْتَ مِنَ المُسَحَّرِیْنَ۔وَمَااَنْتَ اِلَّابَشَرمِثلُنَا وَاِن نَظُنُّکَ لَمِنَ الکَاذِبِینَ )(٣)
''وہ لوگ کہنے لگے تم پر تو بس جادو کردیا گیا ہے ( کہ ایسی باتیں کر تے ہو ) اور تم بھی تو ہما رے ہی ایسے آدمی ہو اور ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ تم جھو ٹ بول رہے ہو ''۔
خدا وند عالم قرآنِ کریم کے سورئہ یس میں ایک واقعہ اس طرح نقل فرماتا ہے :
(وَاَضْرِبْ لَھُم مَثَلاً اَصحَا بَ القَرْ یَةِ اِذْجَآئَ ھَاالْمُرْسَلُوْنَ۔ اِذْاَرسَلْنآاِلَیھِمُ اَثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَافَعَزَّزْنَابِثَا لِثٍ فَقَالُوااِنَّآاِ لَیکُم مُرسَلُونَ۔ قَالُوْامَااَنْتُمْ اِلَّا بَشَرمِثلُنَا ۔۔)(٤)
..............
١۔سورئہ مو منون آیت٣٣،٣٤۔
٢۔سو رئہ شعراء آیت ١٥٣ ۔١٥٤۔
٣۔سو رئہ شعراء آیت ١٨٥ و١٨٦ ۔
٤۔سورئہ یس آیت ١٣۔١٤۔١٥۔
''اور (اے رسول )تم (ان سے )مثال کے طور پر ایک آبادی کا قصہ بیان کرو کہ جب وہاں (ہمارے ) پیغمبر آئے اس طرح کہ پہلے ہم نے ان کے پاس دو پیغمبر بھیجے تو ان لوگو ں نے دو نو ں کو جھٹلا یا ،تب ہم نے ایک تیسرے (پیغمبر ) کو (ان دونوں کی ) مدد کے لئے بھیجا تو ان تینوں نے کہا ہم تمہا رے پاس (خدا کے ) بھیجے ہو ئے (آئے ) ہیں تو وہ لوگ کہنے لگے کہ تم لوگ بھی تو بس ہما رے ہی جیسے آدمی ہو اور خدا نے کچھ نازل نہیں کیا ہے تم سب کے سب با لکل جھو ٹے ہو ''۔
روایات میں ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ملک شام کے شہر انطاکیہ میں پیش آیا جو اَ ب تر کی میں ہے۔
بہر حال، قرآنِ کریم میں ہے :
( اِذْجَائَ تْھُمُ الرُّسُلُ مِن بَینِ اَیدِ یھِمْ وَ مِن خَلْفِھِم اَلَّاتَعْبُدُ وْااِلَّااللَّہَ)(١)
''کہ ہم نے ان کے پاس ان کے سامنے اوران کے بعد (مختلف صورتوں سے مختلف شہروں میں ) انبیاء بھیجے جو ( یہ خبر لے کر ) آ ئے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ''۔
تو لوگو ں نے ان کے جواب میں کیا کہا ؟
(قَالُوْالَوْشَائَ رَبُّنَالَاَنْزَلَ مَلَٰئِکَةً فَاِنَّابِمَآاُرْسِلْتُمْ بِہِ کَافِرُوْنَ )
''کہنے لگے اگر ہمارا پرور دگار چا ہتا تو فرشتے نازل کرتا پس جس بات پر تم لوگ مبعوث کئے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے ''۔
قرآ ن کریم کا ان سے سوال ہے :
(ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَْن یَا تِیَھُمُ اللَّہُ فِی ظُلَلٍ مِنَ الْغَمََامِ وَالْمَلَٰئِکَةُ وَقُضِی الْاَمْرُوَاِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ اْلاُ مُورُ )(٢)
''کیا وہ لوگ اسکے منتظر ہیں کہ سفید ابر کے سا ئبا نوں (کی آڑ ) میں خدا ( عذاب کے فرشتوں کے ساتھ ) ان پر ظاہر ہو اور سب جھگڑ ے تمام کر دے حالا نکہ کل امر خدا کی ہی طرف پلٹنے ہیں ''۔
..............
١۔سو رئہ فصلت آیت ١٤۔
٢۔سو رئہ بقرہ آیت٢١٠۔
جی ہاں !اس طرح کا انتظار حقیقتا موجو د تھا جیسا کہ اس سے قبل کی آیات میں بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان کا کہنا تھا :جب تک ہم خدا کو نہ دیکھ لیں گے ایمان نہیں لا ئیں گے او ر ہم پر ملا ئکہ کیو ں نہیں نازل ہو تے ؟! قر آ ن کریم نے اسی کا ذکر کیا ہے :
( ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّااَنْ تَاتِیَھُمُ الْمَلَٰئِکَةُ اَوْیَاتِیَ رَبُّکَ اَویَا تِیَ بَعضُ آیَا تِ رَبِّکَ یَوْ مَ یَاتِی بَعْضُ آیَا تِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْساًاِیمَانُھَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبلُ اَوْکَسَبَتْ فِی اِیمَانِھَاخَیْراً قُلِ انْتَظِرُوْااِنَّامُنْتَظِرُوْنَ )(١)
'' آیا یہ لوگ صرف اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا اس سے بالا تر خود پرور دگار کی آمد کے منتظر ہیں ؟پرور دگار کی کچھ نشانیاں دیکھنا چا ہتے ہیں (آخر کیو نکر سمجھا یا جائے) حالانکہ جس دن تمہا رے پروردگار کی بعض نشانیا ں آ جا ئیںگی۔۔۔''۔
''یقینا اﷲکی نشانیاں تکو ینی ہوں یا تشریعی کا ئنات کی تخلیق اور کتاب و نبوّت کی صورت میں معجزے کے طور پر بہت زیا دہ ہیں لیکن وہ لوگ ان کے خواہاں نہ تھے بلکہ وہ ایسی نشانیاں چاہتے تھے جو دنیا کو بدل ڈالے اور دنیا میں کوئی بنیا دی اثر رو نما ہو جائے ''۔
(یَومَ یَا تِی بَعْضُ آ یَاتِ رَبِّکَ لَا یَنفَع۔۔۔) تو جس دن خدا وند عا لم کی بعض ایسی نشانیاں ظا ہر ہوںگی اس دن جو ایمان نہیں لا ئے ہیں ان کا ایمان لا نا ان کیلئے کو ئی فائدہ نہ پہنچا ئے گا مثال کے طور پر اگر عذاب ہو نے لگے اور وہ لوگ عذاب نا زل ہو تے وقت ایمان لا ئیں تو کیا فائدہ ؟! جیسے فر عو ن نے غر ق ہو تے وقت کہا تھا: ( آ مَنتُ بِمَا آ مَنَتْ بہِ بَنُوا اِسرَا ئِیل)فر عو ن کو جواب دیا گیا :اب ؟اب ایمان لا نے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے؟ (یَو مَ یَا تِی بَعضُ آیَاتِ ربِّکَ ۔) اگر اس طرح کی نشا نیاں ظاہر ہو نے لگیں تو لوگو ں سے اختیار سلب ہو جائے گا اور پھر زبر دستی کا ایمان کس کام کا ہو گا ؟اسی طرح اگر کار ِخیر انجام نہ دیا جا ئے اور اس طرح کی صو رت دیکھنے کے بعد کار خیر انجام دیں تو اسکا کو ئی فا ئدہ نہیں۔ (اَوکَسَبَت فِی اِیمَانِھَاخَیرا ) اس کے بعد فر ما تا ہے ( قُلِ انتَظَرُوا )''کہد یجئے اپنے نشہ میں پڑے رہو اور انتظار کرو ہم بھی انتظار کر تے ہیں ''۔
قر آنِ کریم میں ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے :
..............
١۔سورئہ انعام آیت١٥٨۔
(ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَأْوِیْلَہُ یَوْمَ یَا تِیْ تَاْوِیْلُہُ یَقُوْلُ الَّذِ یْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَابِالْحَقِّ فَھَلْ لَنَامِنْ شُفَعَائَ فَیَشْفَعُوْالَنَآاَوْنُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِ یْ کُنَّا نَعْمَلُ قَدْخَسِرُوْااَنْفُسَھُمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَاکَانُوْایَفْتَرُوْنَ )(١)
اس آیت میں ایک اور تعبیر ہے !کیا وہ تاویل قرآ ن کے ظاہر ہو نے کے علا وہ کسی اور چیز کے منتظر ہیں ؟ ہم نے تا ویل ِقر آ ن کی بحث میں پہلے عرض کیا تھا کہ اس آیت اور اس کے مشابہ آیات میں تا ویل قرآ ن کے حقیقی مصادیق وہ مطالب ہیں جو قر آن میں بیا ن ہو ئے ہیں توکیا وہ حقیقت ِ قرآن کے ظہو ر کے منتظر ہیںیعنی جب قرآن فر ماتا ہے کہ قیا مت ہے ،عالمِ آخرت ہے ، ملائکہ ہیں تو کیا یہ لوگ خود قیامت یا ملائکہ کو دیکھ کر ان پر ایمان لانا چا ہتے ہیں ؟جبکہ جس دن قر آ ن کی بیان کر دہ یہ حقیقت ظا ہر ہو گی اور ان مطا لب کے مصا دیق محقّق ہو ں گے کسی کے لئے ایمان لا نے کاوقت باقی نہ رہ جائے گا ۔
اس وقت جو لوگ ان حقائق کو بھو لے ہو ئے تھے اور ایمان نہیں لا ئے تھے وہ کہیں گے: (قدجَا ئت رُسُلُ رَبِّنَابِالحَقِّ) ہاں پیغمبر جو کچھ فر ما تے وہ بالکل سچ فر ما تے تھے اب ہم کیا کریں! (فَھَلْ لَنَا مِن شفعا ء فَیَشفَعُوالَنَا اَو نُرَدُّ فَنَعمَل غَیرَالَذِی کُنَّا نَعمَل )
ظا ہر ہے ان کی موت کے وقت تا ویل قر آ ن ظاہر ہو گی وہ کہیں گے کہ کیا ہم کو دنیا میں وا پس پلٹا یا جا سکتا ہے پتہ چلا جس دن تا ویل قرآ ن ظاہر ہو گی وہ ان کی موت کا دن ہو گا یہی وہ دن ہو گا کہ جب وہ حقا ئق کہ جن کا وعدہ کیا گیا ہے او ر جو لو گو ں کی آ نکھو ں سے غا ئب رہی ہیں ظا ہر ہو ںگی اور وہ خود ان کا مشا ہدہ کریں گے اور کہیں گے (قَد خَسِرُوا اَنفُسَھم )ہم اپنے جی سے ہار چکے ہیں اب ہما رے ہا تھ میں کچھ نہیں رہا ہم نے اپنی زندگی کھو دی ، بہت نقصان اٹھا یا (وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَاکَا نُوْْا یَفتَرُوْنَ) انھوں نے جن کو خدا کا شریک قرار دیا تھا ، اور خدا پر افتراء و بہتان با ندھے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ ہما ری شفاعت کریں گے ہم کو خدا کے عذاب سے بچالیں گے اب وہ خو د مشا ہدہ کریں گے کہ یہاں کسی بت کا کو ئی نشان نہیں ہے کسی کا کو ئی بس نہیں چلتا۔خدا کا حکم ہے جو نازل ہو رہا ہے اور اس سے بھا گنے کی کو ئی جگہ بھی نہیں ہے ۔
قر آ نِ کریم میںایک جگہ اور ارشاد ہو تا ہے :
( ھَلْ یَنظُرُونَ اِلَّآاَن تَاتِیَھُمُ المَلَٰئِکَةُ اَوْیَاتِیَ اَمرُرَبِّکَ کَذَا لِکَ فَعْلَ الَّذِینَ مِن قَبْلِھِمْ
..............
١۔سو رئہ اعراف آیت ٥٣۔
وَمَاظَلَمَھُمُ اللَّہُ وَلَٰکِنْ کَانُوْااَنفُسَھُم یَظْلِمُوْنَ )(١)
''کیا یہ (اہل مکہ )اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے (قبض روح کے لئے ) آجا ئیں یاتمہارے
پر ور دگار کا حکم آ پہنچے جو لوگ ان سے پہلے گذ رے ہیں وہ بھی ایسی با تیںکر تے تھے اور خدا نے ان پر (ذرا بھی )ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود (کفر کی وجہ سے ) اپنے او پر ظلم کر تے رہے ''۔
پس نتیجۂ بحث یہ نکلا کہ : خد وند عالم کی حکمت اگرچہ تقا ضا کر تی ہے کہ وہ عقل کے علا وہ کسی دو سرے طریقہ سے انسانو ں کی ہدا یت کرے لیکن ہدایت کی یہ راہ بعض ایسے انسانو ں کی استعداد اور قا بلیت پر منحصر ہے کہ (جن کو خدا پہچا نتا ہے )خدا ان افراد کو بھیجے کہ لو گ ہدایت یافتہ ہو جا ئیں ۔
(وَاﷲاَعلَمُ حَیثُ یَجعَلُ رِسَالَتَہُ) (خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں قرار دے )۔
..............
١۔سو رئہ نحل آ یت٣٣۔



5
معجزہ راہ اور رہنما کی پہچان

معجزہ

معجزہ کی ضرورت یہ ثابت ہو جا نے کے بعد کہ حکمت ِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے حواس وعقل کے ذریعہ جو معلومات حاصل کرتا ہے اس سے زیادہ معلومات اس کو حاصل ہوتو اب یہ معلومات لا محالہ کسی غیرمعمولی طریقہ یعنی وحی اور نبوت کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہیں اور یہ ثابت ہوجانے کے بعد تمام انسان حامل وحی ہونے کی صلاحیت و استعداد بھی نہیں رکھتے مجبورا کچھ ہی افراد پر وحی نازل ہوگی اور دوسرے افراد با واسطہ طور پر ان سے استفادہ کریں گے اب یہ مسئلہ در پیش ہے کہ ہم کو یہ کیسے معلوم ہو کہ کس شخص پر وحی ہو ئی ہے ؟کیونکہ وحی کوئی قابل محسوس چیز نہیں ہے کہ جب کسی پر نازل ہوتو دوسرے افراد بھی اس کا مشاہدہ کریں اور سمجھ لیں کہ فلاں شخص پیغمبر ہے لہٰذا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہئے کہ جس سے ہم سمجھ جائیںکہ یہ شخص دوسروں سے ممتاز ہے اور حامل وحی ہونے کی استعداد رکھتا ہے اور خدا نے بھی اس پر وحی نازل کی ہے ۔یہاں جوجواب دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر خدا کی کوئی نشانی ہو نی چاہئے یعنی اس شخص کے رفتار وکردار واعمال اس چیز کی نشاندہی کرتے ہوں کہ وہ خدا سے رابطہ رکھتا ہے تو اس وقت قاعدہ (حکم الا مثال فیما یجوزوفیمالا یجوز واحد )کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح وہ اس سلسلے میں خدا سے رابطہ رکھتا ہے اس کے مثل دوسرے تمام امور میں بھی رابطہ رکھتا ہوگا ۔مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے پاس کوئی معجزہ ہونا چاہئے جس سے لوگ سمجھ سکیں کہ پیغمبر خدا سے ربطہ خاص کے تحت وہ افعال انجام دے سکتا ہے جو دوسرے انسان انجام نہیں دے سکتے اور یہ معجزہ اس کوخداوند عالم نے عطا کیا ہے ۔اس وقت ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ یہ شخص خدا سے رابطہ رکھتا ہے اور وہ اس (پیغمبر)کی باتوں کو قبول کر لیں گے ۔
اس بارے میں کچھ مسائل زیر بحث آتے ہیں :
١۔ معجزہ کیا ہے ؟
٢۔کیا معجزہ عقلاً ممکن ہے ؟
٣۔کیا معجزہ قانون علت کے ساتھ سازگار ہے ؟یا میل کھاتا ہے؟
٤۔کیا پیغمبر کے لئے صاحب معجزہ ہونا ضروری ہے یا پیغمبر پر خدا کا محض ایک فضل ہے ؟
٥۔کیاتمام انبیاء صاحب معجزہ تھے یا معجزہ بعض انبیاء علیہم السلام کے لئے مخصوص تھا ؟
٦۔کیاصاحب معجزہ انبیاء علیہم السلام ابتدا سے ہی معجزہ دکھلا تے تھے یا جب ان سے معجزہ کا مطالبہ کیا جاتا تھا تو معجزہ دکھلا تے تھے ؟
٧۔کیا معجزہ نبوت کی قطعی دلیل ہے یا عوام الناس کو قانع کرنے کے لئے ہے ؟
٨۔کیا انبیاء علیہم السلام معجزہ دکھلا نے کے سلسلے میں لوگوں کا ہر مطالبہ قبول کرلیا کر تے تھے یا بعض مطالبوں کو قبول کرتے تھے اور بعض کورد فرمادیا کرتے تھے اور اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟
٩۔کیا انبیاء علیہم السلام کے علا وہ کو ئی اور صاحب ِ معجزہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
١٠۔ انبیاء علیہم السلام اور غیر انبیاء کے معجزات کے با رے میں قر آ ن کے بیانات (اگر غیر انبیاء کے لئے صا حبِ معجزہ ہو نا قبول کر لیا جائے ) یہ وہ مسائل ہیں جن کا الگ الگ ایک سر سری جا ئزہ لینے کی ضرو رت ہے :

معجزہ کی حقیقت بغیر کسی شک و شبہ کے معجزہ ایک غیر معمو لی عمل ہے جو عادت کے خلا ف ظاہر ہو تا ہے چا ہے یہ کام خار جی دنیا سے تعلّق رکھتا ہو یا خبر کی صو رت میں سامنے آ ئے خبر دینا بھی ممکن ہے دنیا کے عام دستور کے خلا ف غیر معمو لی ذرائع سے ہو۔
لیکن معجزہ کی حقیقی تعریف میں صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کیو نکہ انبیاء علیہم السلام کے علا وہ بھی بہت سے افراد مل سکتے ہیں کہ جنھو ں نے غیر معمو لی کام انجام دیئے ہیںاور ا ب بھی مو جو د ہیں جیسے ریاضت کش مرتا ض اور جادو گر وغیرہ جو غیر معمو لی کام انجام دیتے ہیں لیکن ان کے یہ افعال معجزہ نہیں ہیں ۔ اس لئے معجزہ کی تعریف میں یہ بھی بڑھا نا چا ہئے کہ وہ غیر معمو لی کام کہ جوعادت کے خلا ف ظہو ر ہو خدا کی طرف سے ہو نا چا ہئے اور چو نکہ ہم کو یہ معلوم نہیں کہ کو نسا عمل خدا کی طرف سے ہے اور کو نسا عمل خدا کی طرف سے نہیں ہے ۔معجز ہ کے لئے کچھ علا متیں مدّ نظر رکھی گئی ہیں:
١۔معجزہ کسی بھی بڑی طا قت سے مغلو ب نہیں ہو تا ،عالم ِ طبیعت یعنی دنیا میں بہت زیا دہ علّت و معلو ل یا اسباب و اور مسبّب مو جود ہیں۔ایک علّت کسی شئے کے وجود میں ممکن ہے موئثر ہو لیکن اس سے زیادہ قوی کو ئی دوسری علّت کمزو ر علّت پر غالب آکر اس کے اثر کو روک سکتی ہے۔مثال کے طور پر آگ کاغذ کو جلا دیتی ہے لیکن اگر آگ پر پانی ڈالا جائے تو خود آگ بجھ جاتی ہے اس مقام پر ایک علّت ِمادی دو سری علّت پر غالب آجاتی ہے۔ عالمِ فطرت میں ایسے سیکڑوں بلکہ ہزاروں اسباب ومسبّبات ہیں جو دوسرے اسباب سے مغلو ب ہو جا تے ہیںلیکن معجزہ وہ ہے جس پر کو ئی بھی علّت غالب نہیں آسکتی نہ تو کو ئی دنیا وی چیز اس کو با طل کر سکتی ،نہ اسکے اثر کو زائل کر سکتی اور نہ ہی اس کو رو ک سکتی اور نہ ہی کوئی مادیّت سے ما وراء عمل اس میں کو ئی خلل اندازی کر سکتا فرض کیجئے کو ئی مرتاض یا جادو گر بہت زیادہ ریا ضت و مشقّت کے ذریعہ ایسی طاقت پیدا کر لے کہ وہ غیر معمو لی کام انجام دینے لگے مثال کے طور پر ہا تھ کے اشا رے سے چلتی ٹرین (ریل) روک دینے کی قوّت رکھتا ہو تو بھی اس طرح کی طاقتیں کبھی معجزہ کے سامنے ٹک نہیں سکتیں۔ کو ئی بھی مادّی یا ما دّیت سے ما وراء انسانی طا قت نہ معجزہ کے اثر کو بے کار کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی راہ میں رکا وٹ بن سکتی ہے ۔ یہ امارات میں سے ہے کہ یہ کام، خدا کا کام ہے ۔ ایک جا دو گر ہاتھ کے اشا رے سے چلتی ہو ئی ریل کو روک سکتا ہے لیکن ممکن ہے دوسرا اس سے بڑا جادوگر اس جادوگرکے جادوکو توڑ کرایک اشارہ سے ریل گاڑی کو چلا دے یا شروع میں ہی جب وہ ریل کو روکنا چاہتاہویہ اسکے اس جادو کو باطل کردے اور ایساہونا محال نہیں ہے کیو نکہ جس کی طاقت زیادہ ہوتی ہے وہ غالب آجاتا ہے اور کمزور کو مغلوب کر دیتا ہے لیکن معجزہ میں کوئی بھی بڑی سے بڑی طاقت معجزہ کے عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ کیونکہ وہ طاقتیں اگر انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور ہیں تو وہ خداوند عالم کی قدرت اور ارادہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں اوراگر بالفرض کوئی اور پیغمبر اس میں خلل اندازی کرنا چاہے گا تو یہ بھی اﷲکے ا مر کو توڑنے کے مترادف ہوگا اس لئے کہ جب خدا اپنی حکمت کے ذریعہ کسی پیغمبر کے یہاں معجزہ ظاہر کرنا چاہے گا تو کسی نہ کسی حکمت کے تحت ہوگا وہ حکمت کے بغیر معجزہ ظاہر نہیں کرتا اب اگر کوئی دوسرا پیغمبر آکر اس پیغمبر کے معجزہ کو روکنا چاہے تو اس سے خود خدا کے منشاء کی خلاف ورزی لازم آتی ہے جو ایک نبی کے لئے بعید ہے نتیجتاً معجزہ کبھی بھی کسی عامل سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔
٢۔معجزہ سیکھا اور سکھایا نہیں جاسکتا،معجزہ کوئی سیکھنے کی چیز نہیں ہے کہ کوئی پڑھکر یاد کرلے اور نہ ہی معجزہ میں ریاضت اور مشقت کی ضرورت ہے کہ کوئی زحمتیں اٹھاکر صاحب معجزہ بن جائے بلکہ یہ ایک الہٰی عطیہ ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے لیکن دوسرے غیر معمولی کام جو بعض افراد انجام دیتے ہیں وہ سیکھے اور سکھائے جاسکتے ہیں اور جب تک وہ افراد ریاضت کرتے رہیں گے ان سے نتیجہ حاصل کرتے رہیں گے ۔یہ سب اپنی ریاضت سے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ا ن کے کام خدائی کام نہیں ہیں اس کے بر عکس (تعلیم وتعلّم یاد نیوی اسباب سے مغلوب ہوئے بغیر) معجزہ کاظہور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ امر خدا کے حکم سے ہے ۔اسی بناء پر اگر اس طرح کے کسی انسان کا تعارف کرایا جائے اور لوگ اس کی زندگی سے واقف ہوں کہ ا س نے اس کام کے لئے نہ کوئی ریاضت کی ہے نہ کسی سے پڑھا ہے اور نہ ہی کسی استاد سے سیکھا ہے اور وہ معجزہ دکھلائے تو لوگ آسانی سے قبول کرلیتے ہیں کیونکہ یہ قدرت الہٰی سے رونما ہوا ہے ۔بر فرض لوگوں کے درمیان کوئی نا آشنا پیغمبر ہو ( کیونکہ پیغمبر ہمیشہ اپنی ہی قوم کے درمیان سے مبعوث کئے جاتے تھے اور لوگ ان کو اچھی طرح پہچا نتے ہوتے تھے اور ان کی پوری زندگی لوگوں پر آشکار ہوا کرتی تھی پھر بھی فرض کر لیجئے کہ ) لوگ نہیں جانتے کہ اس پیغمبر نے کسی سے سیکھا اور پڑ ھا لکھا ہے یا نہیں تو لوگ اس کے معجزہ کا توڑ کرنے والوںسے مدد حاصل کرکے مقابلے کرسکتے ہیں کہ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے یا نہیںاگر کوئی غالب آجائے تو معجزہ معجزہ نہیں ہوسکتا جیسے حضرت موسی ٰ علیہ السلام کا معجزہ فرعون کے جادوگر جس کے مقابلہ پر آگئے تھے اور انھوں نے دیکھ لیا کہ وہ سب مغلوب اور بے بس ہیں ۔یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ یہ انسان کا کام نہیںہے بلکہ انسان کے بس سے باہر ہے ۔
لہٰذا مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں : (معجزہ وہ غیرمعمو لی فعل ہے جو قدرت الہٰی کے پر تو میں انجام دیا جاتا ہے اور معجزہ کی دو علامتیں ہیں :
١۔کسی سے سیکھ کر یا سکھاکر حاصل نہ ہوا ہو۔
٢۔ کسی بھی دوسری قوت سے مغلوب نہ ہو ۔

کچھ سوالوں کے جوابات

١۔سوال : کیا معجزہ نبوت کے دعوے سے وابستہ ہے یا نہیں ؟ یہ انبیا ء علیہم السلام سے مخصوص نہیں ہے ،انبیاء علیہم السلام کے علاوہ دوسرے افراد بھی معجزہ دکھلاسکتے ہیں؟ یقینا ہم اس موضوع پر بعد میں تفصیلی بحث کریں گے لیکن یہاں اجمالی طور پر اتنا عرض کردینا چاہتے ہیں کہ معجزہ کے لئے دو اصطلاحیں ہیں : اگر چہ لفظ معجزہ قرآنی اصطلا حوں میں سے نہیں ہے بلکہ معجزہ کا لفظ علما ئے اصول دین کے درمیان رائج رہا ہے لیکن انکے درمیان بھی معجزہ کے لئے دو اصطلا حیں رائج رہی ہیں۔
١۔معجزہ کی وہ شکل جو خاص معنی میں ا نبیاء علیہم السلام سے مخصوص ہے اور نبوّت کے دعوے سے وابستہ ہے ۔
٢۔معجزہ کی وہ شکل جو عام معنی میں ہے اور جس کی ہم ائمہ علیہم السلام کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ وہ اگرچہ پیغمبر نہیں تھے لیکن وہ خدا کی اجا زت سے معجزے انجام دیا کر تے تھے۔
ظاہر ہے کہ غیر نبی کی طرف سے معجزہ کی نسبت ادّعا ئے نبوّت کے ساتھ برابر نہیں ہے اس بناء پر جب ہم معجزہ کو نبوّت کی دلیل کے عنوان سے پیش کر تے ہیں تو اس کی خاص اصطلا ح مدّ نظر ہو تی ہے یعنی جو کچھ پیغمبر اپنی نبوّت کی دلیل کے عنوان سے پیش کر تا ہے اور جب ہم اس کو غیر انبیاء سے منسوب کرتے ہیں تو اس کے عام معنی مراد ہو تے ہیں یعنی ہر وہ غیر معمو لی کام جو قدرت َالہٰی کے پر تو میں (الٰہی منصب ) نبوّت یا امامت کو ثابت کر نے کے لئے انجام دیا جاتا ہے چا ہے وہ فعل کسی نبی کے ذریعہ انجام پائے یا کسی غیر نبی کے ذریعہ انجام دیا جائے ۔

٢۔کیامعجزہ عقلی طور پر ممکن ہے یا نہیں ؟ کچھ افراد کہتے ہیں کہ معجزہ عقلی طور پر ممکن نہیں ہے کیو نکہ یہ قانو ن علیت کے خلا ف ہے یعنی یہ مسئلہ دوچیزوں میں منحصر ہو جاتا ہے کہ یا تو ہم قانو ن علّیت کو تسلیم کریں اور معجزہ کا انکار کر دیں یا معجزہ کو قبو ل کریں اور قانون علیت کو تسلیم نہ کریں ۔یہ افراد کہتے ہیںکہ قانون علیت کو تسلیم کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ہر معلو ل کی مخصوص علّت ہوتی ہے جو اس کے وجو د یا ظہور کا سر چشمہ قرار پاتی ہے مثلاً حرارت کا سر چشمہ آگ ہے ۔اس بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ حرارت یا (گرمی ) برف سے پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح گھاس کا اگنا ،خود زندگی کا وجود ، انسان کا زندہ ہونا ،مرنا ، بیمار ہونا اور شفا پانا ان تمام عوارض یا معلو لوں کا سر چشمہ ان کی مخصوص علّتیں ہو تی ہیں ۔اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ کوئی چیز علت و معلول کے اس قانون کے بغیر وجود پاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو ا کہ ہم قا نو نِ علّیت کو تسلیم نہ کریں اس سلسلہ میں سادہ اندیشی کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں جو بحث کے قابل نہیں ہیں ۔مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ یہ ایک استشنائی مسئلہ ہے یعنی ہم قانون علیت کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ اس سے آزاد اور مستثنیٰ ہے یہ ایک عامیانہ سی بات ہے کیونکہ اگر قانون علیت ایک عقلی قانون ہے تو اس میں استشناء کا سوال نہیں پیدا ہوتا ۔اس لئے ہم اس طرح کے جوابوں سے قطع نظر کرتے ہیں ۔ ان جوابات کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہے ۔
پس معترض کا کہنا یہ ہے کہ آپ نے جو معجزہ کی تعریف کی ہے اس سے قانون علیت کا ٹوٹنا لازم آتا ہے اور قانون علیت کا ٹوٹ جانا اس کے معتبر نہ ہونے کے برابر ہے یعنی اگر ایک جگہ بھی استثنا ء یا جدا گا نہ مسئلہ کی بات کی گئی تو اس سے ثابت ہوگا کہ علیت و معلولیت کا وجود ضروری ہی نہیں ہے جبکہ قانون علیت کے کچھ فروعات ہیں (اور منجملہ ان کے ایک فرع کا لازم و ضروری ہونا بھی ہے) یعنی کسی معلول کا اپنی علت تامّہ کے بغیر متحقق ہونا محال ہے تو اب آپ جو کہتے ہیں کہ ایک جگہ آگ گلزار بن گئی یعنی بغیر پانی کے آگ بجھ گئی اور آگ کی جگہ بغیر بیج ڈالے گلستان تیار ہوگیا تو اس کا مطلوب یہ ہوگا کہ قانون علیت ٹوٹ گیا اور آگ کے اندر سے بھی پھولوں کا کھلنا ممکن ہے اور اس سے قانون علّیت سے کسی مسئلہ کے استشناء کا مطلوب قانون علّت کی ضرورت کا انکار ہے۔یعنی اپنی علّت تامّہ کے بغیر پھول کھل اٹھیں یا دوسری جانب آگ کی علّت تامّہ جلا ناہے لیکن وہ نہیں جلاتی یعنی وہ اپنی علت تامّہ سے منفک (جدا)ہوجاتی ہے ۔اس کا صاف سا مطلب قانون علّیت کا انکار ہے ۔
شاید اسی وجہ سے (اشاعرہ )نے قانون علّیت کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا :(جس چیز کو ہم علّت سمجھتے ہیں۔خدا کی سنّت ہے ہم یہ جو دیکھتے ہیں کہ چراغ کے جلتے ہی کمرہ میں روشنی ہوجاتی ہے تو چراغ جلنے اور کمرہ میں روشنی ہونے کے درمیان کسی طرح کا رابطہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی سنّت ہے جو اس طور پر جاری ہے کہ جب آپ چراغ جلائیں گے توکمرہ میں روشنی کرے گا )لہٰذا معجزات اور غیر معمو لی امور کے بارے میں اشاعرہ کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں :کسی طرح کی علّیت کا وجود نہیں ہے بلکہ ایک فعل خدا کی سنّت کے خلاف انجام پایا ہے اور خلاف سنت کام انجام پا نا محال نہیں ہے ،اب تک خدا کی سنت رہی ہے کہ اس طرح کی رفتار اپنا ئے لیکن بعض مواقع پر وہ سنّت کے خلا ف بھی عمل کر تا ہے ۔
بنا بر این اشا عرہ نے اس اعتراض کے جواب میں اس قضیہ کی دو شقو ں میں سے ایک شق کو قبول کر لیا اور وہ علیت حقیقی کا انکار ہے ۔ان کے مقابل کچھ افراد قانون علیت کو قبول کر تے ہیں اور معجزات کا انکار کر تے ہیں یعنی قرآن میں بیان ہو نے والے معجزات کی مختلف طریقو ں سے تا ویل کیا کر تے ہیں (چنانچہ مختلف بحثو ں کے ضمن میں ہم نے ان کے طریقۂ کار کے با رے میں اشارہ کیا ہے )مثال کے طور پر انھو ں نے بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہو جا نے کی دریا ئے نیل کے جزر و مد سے تاویل کی ہے اور اسی طرح سے دوسری چیزیں بھی بیان کی ہیں ان لوگوں نے بھی ان دو شقو ں میں سے اس کو قبول کیا ہے کہ معجزہ کو ئی چیز نہیں ہے اور قرآ ن کر یم میں جو کچھ اس بارے میں بیان ہوا ہے وہ مجاز اور استعا رہ کے طور پر بیان ہوا ہے اور معجزہ کا عقیدہ رکھنا در اصل خرا فات ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

صحیح جواب کیا ہے؟! صحیح جواب یہ ہے کہ قانون علیت اپنی جگہ باقی ہے اور استثناء کی بھی گنجائش نہیں ہے ۔معجزہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جو قانون علیت سے منافات نہیں رکھتا اس کو یوں سمجھئے :
قرآن (جیسا کہ ہم نے توحید کی بحث میں بیان کیا ہے )قانون علیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے ۔ اس طور پر کہ نہ تو دو سری چیزوں کے طول میں خدا کی فاعلیت کا انکار کرتا اور نہ ہی اس سے معجزات اور خلا ف عادی افعال کی نفی لا زم آتی ۔ہم یہاں مجمل طور پر اشارہ کر دیں کہ قانون علیت کے دو معنی ہیں :
١۔کو ئی بھی معلول علت کے بغیر وجود میں نہیں آتا ہر معلول علت کا محتاج ہے۔قدر متیقن علت فاعلی کا محتاج ہو تا ہے اور اگر معلول مادی ہو تو علت ما دی اور صوری کا بھی محتاج ہے اور اگر کام کر نے والا کو ئی حکیم ہے تو علت غائی بھی ضروری ہے۔بہر حال بحث علت فاعلی سے ہے اور ہر معلول کے لئے علت فاعلی ضرو ری ہے اس قانون کو کو ئی توڑ نہیں سکتا اس کے ایک بدیہی معنی ہیں کہ اگر ایک چیز اپنے آ پ وجود میں نہیں آ تی تو لا محالہ کسی اور نے اس کو وجود بخشا ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام چیزیں عام اسباب یا علتو ں کے ذریعہ ہی وجود پا ئیں بلکہ یہ قا نون صرف اتنا کہتا ہے کہ ہم ہر معلول کے لئے ایک علّت کے قا ئل ہو ں اور اسی طریقہ سے ہم اس پو ری دنیا کے وجو د سے خدا کے وجو د کا یقین حاصل کر تے ہیں ۔علیّت خدا اس لئے ہے کہ دنیا معلول ہے دنیا کا وجود محتاج ہے اور بغیر علّت کے وجود نہیں پا سکتا ۔
٢۔قانون علیت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہم معلول کی ایک خاص علت بیان کر یں کہ اس معلول کے وجود کے لئے اس علت کا ہونا حتمی اور ضروری ہے یقینا کلی طور پر علت ومعلول کے درمیان سنخیت پائی جاتی ہے لیکن عقل بغیر تجربہ کے کبھی بھی ایک وجود کے لئے کوئی ایک ایسی علت مقرر نہیں کرسکتی کہ جس پر وہ وجود منحصر ہوعام طور پر اشیاء کی مخصوص علتیں تجربوں کے ذریعہ معین کی جاتی ہیں ۔
عام طور پر اس لئے کہا گیا ہے کہ ممکن ہے کوئی غیب کے ذریعہ سمجھ لے )اور تجربہ بھی کسی وجود کی مخصوص منحصر علت کو ہرگز تمام زمانوں میں ہر جگہ ثابت نہیں کرسکتا کیونکہ انسان کا تجربہ محدود ہے ہم سیکڑوں اور ہزاروں تجربے بھی کر ڈالیں تب بھی عقل کہتی ہے کہ ممکن ہے یہ وجود کسی اور ایسے طریقہ سے بھی حاصل ہوجائے کہ جس کا علم ہم نہیں رکھتے شاید ہزاروں سال تک انسان یہ سوچتا رہا کہ حرارت آگ کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتی اور شاید آگ کے کشف ہونے سے پہلے وہ اس فکرمیں رہا ہو کہ آ فتاب کے علا وہ کسی اور چیز سے حرارت حاصل نہیں ہوسکتی لیکن جب آگ کا انکشاف ہوا تو معلوم ہوا کہ اس سے بھی حرارت حاصل ہو تی ہے اور آج دوسرے متعدد طریقو ں سے حرارت پیدا کی جا رہی ہے۔بہت سے کیمیائی عمل ورد عمل سے حرارت پیدا کر دیتے ہیں ۔ دو چیزوں کے ٹکرا نے یا رگڑ نے یا حر کت دینے سے حرارت پیدا ہو تی ہے اور ممکن ہے اس کے علاوہ دوسرے طریقہ سے بھی حرارت پیدا ہو تی ہو جس کوہم نہیں جا نتے۔معلو م ہوا تجر بہ کبھی بھی ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لئے علت منحصرہ کا اثبات نہیں کر تا ۔اب اگر لوگ خیال کر تے ہوں کہ ایک فرشتہ کے وجود کی ایک مخصوص علّت ہے اور پھر اسکی کو ئی اور نئی علّت معلو م ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قا نون علّیت ٹوٹ گیا ؟ایک وجود کے لئے کو ئی نہ کوئی علّت ہو نے کا قا نون تو بدیہی تھا لیکن کسی مخصوص علّت کی نشاندہی نہیں کر رہا تھا ۔صرف اتنا بتا رہا تھا کہ کوئی معلول بغیر علّت کے وجود میں نہیں آسکتا لیکن وہ علّت کیا ہے قا نو ن علّیت نے نہیں بتا یا تھا ؟جب ایک نئی علّت پتہ چلی تو ہم سمجھ گئے کہ پہلے والی علّت (علّت منحصرہ ) نہیں تھی بلکہ اس معلول کے لئے اس علّت کی جگہ اُس علّت سے بھی استفا دہ کیا جا سکتا ہے ۔
اب اگرہم یہ تسلیم کر لیں کہ بیمار ہمیشہ دوا کھا نے سے ہی صحتیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کے دوسرے طریقہ بھی ہو سکتے ہیں تو اس سے قانو ن علّیت نہیں ٹوٹتا ۔ایک بے جان پیکر کے جاندار جسم میں بدلنے کا ایک فطری طریقہ یہ ہے کہ وہ جاندار کے جسم کا حصّہ بن جا ئے اور نطفہ یا بیج کی شکل اختیار کرے اور پھر ایک جاندار میں تبدیل ہو جائے ۔ اب اگر کو ئی اور طریقہ بھی ہو کہ جس سے ایک بیجان وجود جاندار میں تبدیل ہو جائے تو اس سے قا نون علیت نہیں ٹوٹتا بلکہ اس کوایک نئی علَّت کا انکشاف کہا جا ئے گا ایسی صورت میں نئی علّت کی دو صو رتیں ہیں :ایک تو یہ کہ وہ علّت علمی انکشافات کی ما نند صرف مادی ہو جو مثلاًآواز اور تصویر کی منتقلی کے طریقوں کی صورت میں رو نما ہوا کر تی ہے اور ہر ایک اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔یہ وہ مادی اور قدرتی علّتیں ہیں جن کا علم پہلے نہیں تھا اور اب ان کی شناخت ہو ئی ہے لیکن کبھی کبھی علّتیں تحصیل کے قابل ہو تی ہیں اور کچھ لوگ ان کو حاصل بھی کر لیتے ہیں لیکن وہ علّتیں مادّ ی علّتو ں کے مثل نہیں ہوتیں ۔جیسے وہ نفسانی قوّتیں جو اہل ریاضت حاصل کر تے ہیں وہ بھی عالم ما دیّت میں ایک وجو د کی پیدائش کے لئے ایک علّت اور سبب ہے لیکن خود علّت کو ئی مادی وجود نہیں رکھتی بلکہ ایک غیر مر ئی نفسیاتی عمل ہے اور اس سے بھی قا نو ن علّیت کا ٹوٹنا لا زم نہیں آ تا بلکہ ایک نئی علّت کا انکشاف ہے ۔ہاں بس ایک مادی وجود کے لئے ایک غیر مادی علّت ہے ۔ ان سب سے بالا تر ایک معنوی علّت ہے جو قابل تحصیل اور سیکھنے سکھا نے کی چیز نہیں ہے بلکہ خالص الہٰی عطیہ ہے وہ بھی ایک طرح کی علت ہی ہے چنانچہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک پیغمبر نے مردہ کو زندہ کردیا تو اس کا مطلب ہے کہ خداوند عالم نے ایک قوت اس پیغمبر کو عطا کی تھی اور پیغمبر نے خدا کے اذن سے اس قدرت کا استعمال کیا تھا یہی قدرت ایک علت ہے کیو نکہ ایک نئی چیز کے وجود ،مردہ کے زندہ ہونے اور مریض کے صحتیاب ہونے میں موثر ہوئی ہے ۔
پیغمبر نے خداوند عالم کی عطا کردہ اس نفسانی قوت کااستعمال کیا ہے جو خدا نے اس کو عطا کی ہے لیکن وہ سیکھنے سکھانے کی چیز نہیں ہے اور نہ ہی دوسروں کی اس تک رسائی ہوسکتی ہے لیکن بہر حال وہ ایک علت ہے لہٰذا خلاصئہ جواب یہ ہوا :
معجزہ کا تسلیم کرنا قانون علیت کا نقض نہیں ہے بلکہ مادی موجودات کے لئے ایسی علت کا تسلیم کرنا ہے جو مادی علتوں کی جنس سے نہیں ہے بلکہ ایک معنوی علت ہے جو پروردگار نے اپنے لطف کے تحت عطیہ کے طور پر پیغمبر کی ذات میں ودیعت کی ہے اور وہ قابل تعلیم و تعلم بھی نہیں ہے ۔

٣۔کیا انبیاء علیہم السلام کا صاحب اعجاز ہونا ضروری ہے ؟ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ معجزہ کسے کہتے ہیں اور یہ کہ معجزہ قانون علیت سے کوئی تنا قض نہیں رکھتا اور اعجاز آمیز امور کا ظہورمحال نہیں ہے نہ محال ذاتی ہے اور نہ محال وقوعی، محال ذاتی اس لئے نہیں ہے کہ اس فرض سے تنا قض لازم نہیں آتا اور محال وقوعی اس لئے نہیں ہے کہ اس کی علت کا متحقق ہونا ممکن ہے چنانچہ معجزہ کے فرض کرنے کا مطلب کسی علت کے بغیر معلول کا فرض کر لینا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے معلول کے وجود کو ہم نے تسلیم کیا ہے کہ جس کی علت سے ہم واقف نہیں ہیں اور یہ عقلا محال نہیں ہے ۔
اب سوال پیش آتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا صاحب اعجاز ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟اگر خدا تمام انبیاء کو معجزہ کے بغیر ہی بھیج دیتا تو نہ کوئی اعتراض کرتا اور نہ ہی الہٰی غرض فوت ہوتی اور نہ ہی حکمت الٰہی کے خلاف ہوتا ۔
جی ہاں بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ جب انبیاء علیہم السلام کی دعوت حق ہے اور ان کی تعلیمات انسان کی عقل اور فطرت کے موافق ہے تو ایسی صورت میں جیسے ہی وہ لوگوں کے درمیان سے مبعوث کئے گئے اور انھوں نے حق باتیں بیان کیں لوگوں کو قبول کرلیناچاہئے اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کہ لوگ محسوس کریں کہ یہ باتیں غیب کے ذریعہ غیر معمولی ذرائع سے پہنچی ہیں۔فرض کیجئے کہ کوئی شخص پیغمبر کی نبوت پر اعتقادنہیں رکھتا لیکن اس کی تعلیمات کے مطالب کو تسلیم کر تا ہے ۔
پیغمبر کہتا ہے : سچ بو لو
وہ کہتا ہے : ہاں سچ بو لنا اچھی بات ہے ہم یہ بسر و چشم قبو ل کر تے ہیں ہمیشہ سچ بو لیں گے۔
پیغمبر نے کہا : اپنی لڑ کیوں کو قتل نہ کرو ۔
وہ کہتا ہے :ہاں صحیح ہے ۔اپنے بچو ں کو قتل نہیں کر نا چا ہئے ۔
پیغمبر کہتا ہے : خدا کے سا منے سر جھکا ئو ۔
وہ کہتا ہے : با لکل ٹھیک ہے ۔خدا وند عالم نے ہم سب کو پیدا کیا ہے اس کے بدلے ہم کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے ہم اس کی پرستش کر نے کو تیار ہیں ۔
پیغمبر نے کہا :روزہ رکھو ۔
وہ کہتا ہے :ہاں روزہ صحت و تند رستی کے لئے مفید ہے ۔پوری رضا و رغبت کے ساتھ ہم روزہ رکھیں گے ۔
بنا بر این چونکہ انبیاء علیہم السلام کے تمام دستو رات و احکامات عقل اور فطرت کے مطابق ہیں اور لوگ ان کو تسلیم کر تے ہیں تو پھر انبیاء علیہم السلام کو لو گو ں کے سامنے غیر معمو لی افعال انجام دینے کی ضرور ت کیا ہے ؟
گویا معترض یہ کہنا چا ہتا ہے کہ با لفرض معجزہ کا امکان پایا بھی جاتا ہو تو اس کی ضرورت کیا ہے؟ معجزہ ممکن ہونے کی صورت میں خدا نے کسی کو معجزہ دیدیا ہوتو یہ اس پر خداوند عالم کا فضل واحسان ہے ورنہ اتمام حجت معجزہ پر موقوف نہیں ہے ۔
جواب : اس طرح سے سوچنا صحیح نہیں ہے کیو نکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ا نبیاء علیہم السلام کی دعوت عقل وفطرت کے موافق ہے لیکن کیا تمام انسان تمام صورتوں میں اس مطابقت کو سمجھتے یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ؟
اگر تمام صورتوں میں تمام انسان اس قدر آسانی سے عقل وفطرت کی تعلیمات کو سمجھ لیا کرتے تو پھر پیغمبر کو مبعوث کر نے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی لوگوں کی ہدایت کے لئے عقل ہی کافی ہوتی ہاں کچھ کلیات ہیں مستقلات عقلیہ جو عقل کے نزدیک مسلمات میں شمار ہوتے ہیں اور اس سے ملتی جلتی چیزیں موجود ہیں جن کو آسان دلیلوں کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے اور کسی حدتک عقل درک کرتی ہے جیسے :
(وَزِ نُوْا بِالْقِسْطَا سِ الْمُسْتَقِیْمِ ذَ الِکَ خَیْروَاَحْسَنُ تَاوِیْلاً)
''اور جب کچھ بیچنا ہوتو بالکل صحیح ترازو سے تو لا کرو (ہر گز کم نہ تولنا )یہی(طریقہ )بہتر ہے اورانجام (بھی اسکا)اچھا ہے'' ۔
اس کو توتمام لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن انبیاء علیہم السلام کی دعوتِ تبلیغ میں سب کچھ اس کے مثل نہیں ہے در اصل نبیوںکو مبعوث کر نے کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ جن چیزوں کو عقل نہیں سمجھتی انبیاء علیہم السلام ان چیزوں کو انسانوں کو سمجھائیں اﷲ کے احکام کا فطرت کے مطابق ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان اس مطابقت کو خود درک کر لیں گے مثال کے طور پرکیا تمام لوگ بذات خودیہ سمجھ سکتے ہیں کہ صبح کی نماز دو رکعت کیوں ہے ؟نہیں ایسا نہیں ہے اگر ہم ساٹھ سال تک بھی اپنے ذہن پر زور ڈالتے رہیں آخر تک ہم نہیں سمجھ سکتے کہ صبح کی نماز کیوں دو رکعت ہے ؟ اور کس دلیل کے تحت صبح کی تین رکعت نماز پڑھنا باطل ہے ؟اور اس کے بر عکس مغرب کی نماز تین رکعت کیوں ہے ؟ اس چیز کو عقل نہیں سمجھ سکتی اس بنا پر انبیاء علیہم السلام کی ہر بات کو تمام لوگ عقلی طور پر نہیں سمجھ سکتے لہٰذا ان کو لا محالہ حکم خدا کے طور پر سمجھنا ہوگا انبیاء علیہم السلام کی دعوت تبلیغ میں بہت سی باتیں جو سمائی ہوئی ہیں اسی طرح کی ہیںاور انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرنے کی اصل ضرورت یہی تھی کہ جن چیزوں کو لوگوں کی عقل درک نہیں کرتی وہ آکر ان کو سمجھائیں۔اس طرح کی چیزوں کو تمام لوگ اپنی عقل کی روشنی میں کیسے تسلیم کرسکتے ہیں؟ ہاں ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کے ہماری عقل اس چیز کومحسوس کرتی ہے کہ اگر اس نے انبیاء علیہم السلام کے حکم پر عمل کیا تو اس کے بدلے میں جو انھوں نے وعدہ کئے ہیں اور ثواب وعذاب کے جو احتمالات ہیں ان میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن احتیاط کا مسئلہ اس سے الگ ہے کہ عقل اس کے وجود کو اس طر ح سمجھ لے کہ صحیح معنی میں اس کے لئے حجت تمام ہوجائے کہ اگر یہ کام انجام نہ دیا تو یقینا مواخذہ کیا جائے گا اس کو عقل نہیں سمجھ سکتی ۔
بنا بر این تمام لوگوں پر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ خدا کی حجت تمام ہو جانے کے لئے خدا کی ایک ایسی نشانی کا ہونا ضروری ہے اگر وہ نشانی نہ ہو تو تمام لوگوں پر خدا کی حجت تمام نہ ہو۔کیونکہ بہت سے مسائل ایسے ہیںکہ جن کا صحیح ہونا عقل بشر درک نہیں کرسکتی اور اس کے لئے خدا کی حجت تمام نہیں ہوتی ۔
نتیجہ کے طور پرانبیاء علیہم السلام کی تمام دعوت ِتبلیغ لوگوں کے لئے ثابت اور لازم ہونے اور ان پر حجت تمام ہوجانے کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر کی نبوت کووہ سمجھ لیں اور پیغمبر کوسمجھنا اس چیز پر موقوف ہے کہ ان کے پاس نبوت کی کوئی نشانی ہو اور وہ نشانی خداکی طرف سے ہو جو عام طور پر لو گوں میں نظر نہ آتی ہو۔جب لوگ پیغمبر کے پاس اس طرح کی کسی نشانی کا مشاہدہ کریں گے تو فو راَ سمجھ جائیں گے کہ جس وحی کا یہ پیغمبر ادّعا کررہا ہے و ہ بھی خدا کی طرف سے ہی ہو جیسے تمام عقلا ء اپنی زندگی میں اپنی نشانیاں کام میں لاتے ہیں ۔اگر کو ئی شخص آپ کے پاس آکر یہ کہے کہ (میں آپ کے پاس فلاں شخص کا یہ پیغام لیکر حاضر ہوا ہوں کہ آپ فلاں چیز مجھکو دیدیجئے )
توآپ اس سے یہی سوا ل کریں گے کہ :آپ کے پاس فلاں شخص کے پاس سے آنے کا کیا ثبوت ہے ؟
اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا کو ئی خط یا کو ئی نشانی ہونا چاہئے یا وہ کوئی ایسی چیز جانتا ہو جسکا اس شخص کے علاوہ او ر کسی کو علم نہ ہو یا اس پیغام رساں کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز ہو جو فلاں شخص سے مخصوص ہو اگر اس طرح کا کو ئی ثبوت پیغام بر کے پاس مل جا ئے تو ظاہر ہے کہ اس کا فلاں شخص سے رابطہ ثابت ہو جا ئیگا ۔ بہر حال نشانی طلب کرنے کا مقصد پیغام کی صداقت کا پتہ چلا نا ہے لیکن اگر پیغام بر کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو پیغام رساں کے پیغام کو قبول کر نا لازم نہیں ہے حتی کہ اگر آ پ نے امانت اس کے سپر د کر دی تو خود اس کے ذمہ دار ہو ں گے ۔خدا جب پیغمبر کو لو گوں کے در میان مبعوث کر تا ہے تو وہ لو گوں سے جان، مال ،افکار ،عقائد اور ایک لفظ میں پوری ہستی کا طالب ہو تا ہے ۔ یہ سب خدا کے اموال ہیں جو انسانو ں کے پاس امانت کے طور پر ہیں اب اگر کو ئی شخص آ کر یہ کہے کہ یہ سب کچھ مجھے دیدو اپنی جان فلاں جگہ قر بان کر دو اپنا مال فلا ں جگہ خرچ کر دو کیو نکہ یہ سب خدا کی امانتیں ہیں تو جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ شخص خدا کا پیغمبر ہے ہم اس کو یہ چیزیں دینے کا حق نہیں رکھتے ۔ اسی لئے نبی کے پاس کو ئی الہٰی نشانی ہو نا چاہئے اور یہ ایک فطری امر بھی ہے اور اسی لئے قر آ ن کریم میں بہت سی قو موں سے نقل ہوا ہے کہ جب ان کے در میان انبیاء علیہم السلام مبعوث کئے جا تے تھے تو وہ ان سے نبوّت کی نشانی کا مطالبہ کیا کرتے تھے :
(فَأْتِ بِآیَةٍاِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ )(١)
''اگر آ پ سچّے ہیں اور خد ا کے نبی ہیں تو آ پ کے پاس کو ئی نشا نی ہو نا چا ہئے ''۔
اس بنا ء پر انبیاء علیہم السلام کا صاحب اعجاز ہو نا ضرو ری ہے 'جب تک ان کے پاس نبوّت کی نشانی نہ ہواسوقت تک لوگوںپرحجت تمام نہیںہوسکتی ؟

٤۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا تمام انبیاء علیہم السلام صاحب معجزہ تھے یا معجزہ بعض انبیاء علیہم السلام سے مخصوص تھا ؟
تو یہ سوال پیش آتا ہے کہ پھر تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت ِتبلیغ کیسے قابل تسلیم ہو گی اور لو گو ں پر کیسے حجت تمام ہوگی؟
ہمیں ان سوالات کا کہیں عقلی اعتبا ر سے اور کہیں قرآ ن کریم کی آ یات کی روشنی میں جا ئزہ لینا چا ہئے ۔
ابتک ہماری بحث عقلی تھی ۔ہم اجمالی طور پر پہلے عرض کئے دیتے ہیں کہ کوئی ایسی آ یت کہ جس میں صاف طور پر یہ بیان کیا گیا ہو کہ ہر پیغمبر صاحب معجزہ تھا ہم کو قرآ ن ِکریم میں نہیں مل سکی اس صورت میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام صا حب اعجاز نہیں تھے اس لئے کہ (دلیل کا نہ ملنا وجود کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے ) ٢٤ یا ٢٥ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ بقیہ انبیاء علیہم السلام کے نام کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں ہے جبکہ نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں تو بقیہ انبیاء علیہم السلام کے اسمائے گرامی کا قرآن میں ذکر کیوں نہیںآیا ؟اس سے بڑھکر یہ کہ قرآن کریم میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان کی تمام خصوصیات کا بیان ہوا ہو، لازم نہیں ہے ۔کچھ کو صاحب ِمعجزہ کہا ہے اور کچھ کے بارے میں صاحبِ اعجاز ہونے کا بیان نہیں ہے ۔ معلوم ہوا کہ صرف قرآن کا بیان نہ کرنا ان کے صاحب معجزہ نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عقلی طور پر ہر پیغمبر کا صاحب اعجا ز ہو نا ثابت کرسکتے ہیں ؟ یا نہیں ۔ ممکن ہے، کچھ انبیاء علیہم السلام صاحب معجزہ نہ ہوں اور اس میں عقلی طو ر پر کو ئی حرج بھی نہ ہو ، نبوّت کی ضرو رت پر ہما ری دلیل یہ تھی کہ اگر معجزہ نہ ہو گا تولو گو ں پر حجت تمام نہیں ہو گی۔یہ دلیل آیا تمام انبیاء علیہم السلام کے لئے ہے یا نہیں ؟ فرض کیجئے کہ ایک نبی آ یا اور معجزہ بھی ساتھ لا یا اور ثابت ہو گیا کہ وہ نبی ہے اب اپنے بعد وا لے پیغمبر کا وہ تعا رف کر ائے اور کہے کہ میں دنیا سے جا نے والا ہوں میرے بعد فلاں شخص نبی ہے، توکیا اس آنے والے
..............
١۔سو رئہ شعراء آیت ١٥٤۔
پیغمبر کے لئے بھی معجزہ پیش کر نے کی ضرو رت ہے؟ بظاہر اس کو معجزہ دکھا نے کی کو ئی ضرورت نہیں کیو نکہ جس طرح اس سے پہلے نبی کی نبوّت ثابت ہو ئی تھی جو کچھ بھی وہ خدا کی طرف سے بھیجے جا نے کا ادّ عا کرے گا اس کا صحیح ہو نا ثابت ہو گا اگر نبی ہو نا، جو کچھ اس پر وحی ہو ئی ہے خدا کی طرف سے قبول کئے بغیر ہو تو معجزہ کا کو ئی فائدہ نہ ہوگا۔اس لئے کہ معجزہ جو کچھ خدا وند عالم نے اس پر نازل کیاہے اس کی حقّانیت کی نشانی کے طور پر ہی پیش کیا جاتا ہے (اب اگر فرض کیجئے کہ بعض چیزیں وہ اپنی طرف سے بیان کر تا ہے تو ان کا اتّباع ضرو ری ہے یا نہیں؟ یہ دوسرا مسئلہ ہے لیکن اس حد تک یقینی ہے کہ جو با تیں وہ خدا کی طرف سے ہو نے کا ادّ عا کر رہا ہے ان کو تسلیم کرنا چاہئے اور حجت تمام ہے ور نہ ہر لفظ کے لئے تو معجزہ پیش نہیں کیا جا سکتا ۔مثال کے طور پر اگر ایک پیغمبر خدا کی طرف سے معجزے لیکر آئے اور وہ یہ اعلان کرے کہ میں خدا کی طرف سے تمہا رے درمیان بھیجا گیا ہوں اور لوگ بھی سمجھ جائیں کہ اس کا خداوند عالم سے ارتباط ہے تو اس صورت میں اگر وہ پیغمبر اگلے دن کہتا ہے کہ فلاں حکم خدا کی طرف سے نا زل ہو ا ہے تو اس کو مان لینا چاہئے اب ہر حکم کے لئے تو وہ معجزہ پیش نہیں کرے گا اسی طرح اگر اپنے بعد خدا کی طر ف سے آ نے والے کسی پیغمبر کا تعارف کرائے تو کیا عقل کی رو سے بعد میں آ نے والے پیغمبر کا بھی صاحب معجزہ ہو نا ضرو ری ہے ؟
معلوم ہو ا کہ بعض حالات میں بغیر معجزہ کے بھی لو گو ں کے لئے حجت تمام ہو جانا ممکن ہے اگرچہ یہ حجت بھی در اصل کسی سابقہ معجزہ پر ہی قا ئم ہے کیو نکہ اس سے پہلے کے نبی کی نبوّت معجزہ کے ذریعہ ثابت تھی اور اسی کے توسّط سے دو سرے انبیاء علیہم السلام کی نبوّت کا اثبات ممکن ہوا ہے یا ایک ہی وقت میں کئی انبیاء علیہم السلام ہی ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک کا صا حب معجزہ ہو نا کا فی ہے اب وہی اگر دو سرے انبیاء علیہم السلام کی بھی تصدیق فرمادے تو ان کی نبوّ ت ثابت ہو جا ئیگی ۔ حضرت لو ط اور حضرت ابراہیم علیہما السلام ایک ہی زمانہ میں تھے اور دونوں پیغمبر بھی تھے جب حضرت ابراہیم کی نبوّت ثابت ہو گئی اگر آ پ یہ فرما دیں کہ حضرت لو ط علیہ السلام بھی پیغمبر ہیں تو لو کوں پر حجت تمام ہوجائیگی اور الگ سے ان کو معجزہ دکھلا نے کی ضرورت نہ ہو گی ۔یا یہ آیت جس میں خدا فر ما تا ہے :
(اِ ذْاَرْسَلْنَا اِلَیْھِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا۔۔۔)(١)
''اس طرح کہ ہم نے دو رسو لوں کو بھیجا تو ان لو گوں نے جھٹلادیا ''۔
توجیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ ان دو آد میو ں کو حضرت عیسی بن مر یم نے بھیجا تھا چنانچہ حضرت عیسیٰ کی نبوّ ت ہی دلیل کے لئے کا فی تھی اور آ یت میں بھی یہ نہیں ہے کہ ان دو نوں نے کو ئی معجزہ پیش کیا ہو البتّہ یہ ان کے
..............
١۔سورئہ یس آیت١٤۔
صاحب اعجاز نہ ہو نے کی دلیل نہیں ہے ۔ ممکن ہے وہ معجزہ لیکر آئے ہو ں لیکن آیت میں بیان نہ کیا گیا ہو لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوّت ثابت تھی اور آ پ ہی نے ان دونوں حضرات کا پیغمبر کے عنوان سے تعارف کرا یا تھا تو ان کی نبوّت بھی (کو ئی مخصوص معجزہ پیش کئے بغیر ) ثابت ہو جا ئیگی اور لو گو ں پر حتی آئندہ نسلوں کے لئے بھی حجت تمام ہو جائیگی یعنی جب گزشتہ انبیاء علیہم السلام اپنے بعد آنے والے کسی نبی کا اس طرح تعارف کرا ئیں کہ مثلاًسو سال بعد ایک نبی آ ئیگا اور اس کی خصو صیات کو اس طرح بیان فر ما دیں کہ کسی شک و شبہ کی کو ئی گنجائش نہ رہ جائے تو کیا پھر بھی اس نبی کو معجزہ پیش کر نے کی کو ئی ضرو رت ہے ؟جی نہیں !اگر گزشتہ نبی کی نبوّت ثابت ہو چکی تھی اور جن افراد کے در میان اس کوبھیجا جا نا تھا ان تک یہ خبر پہنچ چکی تھی اور اس کے خصو صیات بھی اس طرح بیان کردئے گئے تھے کہ ان میں کسی شک و شبہ کی کو ئی گنجائش با قی نہ رہ گئی تھی تو پھر اس آ نے والے نبی کے لئے اپنی نبوّت کی دلیل میں معجزہ دکھلا نے کی ضرورت نہیں رہ جا ئیگی ۔ہاں اگر وہ ان افراد کے درمیان بھیجا گیا ہو کہ جن پر گزشتہ نبی کی نبوّت ثابت نہ ہو اور اس کا معجزہ اور اس کی خبر ان تک نہ پہنچی ہو تو یہ لوگ معجزے کے مطالبہ کا حق رکھتے ہیں ، جیسا کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ نے حضرت محمّدمصطفےٰ ۖکے آنے کی خبر پہلے سے دیدی تھی۔چنانچہ قرآ ن کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ کی خصوصیات انھو ںنے اس طرح بیان کر دی تھیں :
( یَعْرِفُوْنَہُ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبنائَھُم ْ) (١)
''وہ جس طرح اپنے بچو ں کو پہچانتے تھے (اسی طرح )وہ پیغمبر کو یھی جانتے اور پہچانتے تھے''۔
(وَکَانُوْامِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا )(٢)
''اور ان کے مبعوث ہو نے سے پہلے بشارت دیا کر تے تھے کہ یہ پیغمبر آنے والا ہے اور ہما رے دین کی تائید کر نے والا ہے ''۔
تو کیا اس طرح کے لو کو ں کو حق ہے کہ وہ پیغمبر اسلا م ۖکی نبوّت ثابت نہ ہو نے اور ان پر حجت تمام نہ ہو نے کی بات کریں ؟ ہاں جن لو گو ں کے لئے حضرت مو سی ٰاور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی نبوّت ثا بت نہیں تھی تو ظاہرہے حضرت رسو ل خدا کی نبوّت بھی ثابت نہیں ہو گی یا گزشتہ انبیاء علیہم السلام نے جو بشارتیں دی تھیں ان تک نہ پہنچی ہو ں تو ان کے لئے حجت تمام نہ ہو گی ۔جہاں تک یہو دیو ں اور عیسا ئیوں کا سوال ہے (خاص طور پر جو آپ کے
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت١٤٦۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت ٨٩۔
اوصاف سے پو ری وضاحت کے ساتھ آگاہ تھے) حجت تمام ہو چکی تھی اور نبی اکرم ۖکو ان کے سامنے معجزہ پیش کر نے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔
معلوم ہوا لو گو ں کے لئے کسی نبی کی نبوّ ت معجزہ کے بغیر بھی صرف دوسرے انبیا ء علیہم السلام کی بشارتو ں اور پیشین گو ئیوں کے ذریعہ ثابت ہو جا نا ممکن ہے۔لہٰذا ہر پیغمبر کے لئے یقینی طور پر معجزہ ہو نے پر کو ئی عقلی دلیل نہیں پائی جاتی ۔عقل صرف اتنا کہتی ہے کہ جہاں (تمام حجت معجزہ پر ہی مو قو ف ہو معجزہ کا پیش کر نا ضروری ہے لیکن اس کو تمام انبیا ء علیہم السلام کے لئے کلیہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔



6
معجزہ قرآن کی روشنی میں راہ اور رہنما کی پہچان

معجزہ قرآن کی روشنی میں ہم اس سے پہلے عرض کر چکے ہیں کہ عقلی طور پر یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ لو گو ں پر حجت تمام کر نے کے لئے انبیا ء علیہم السلام کے پاس خدا کی طرف سے کو ئی نشانی ہو نی چاہئے اسی لئے کہتے ہیں کہ پیغمبر کے لئے صاحب ِمعجزہ ہو نا ضروری ہے ،جب تک اتمام حجت معجزہ پر مو قوف ہو پیغمبر کا صاحبِ اعجاز ہو نا یقینا ضرو ری ہے لیکن اگر اتمام حجت معجزہ پر مو قو ف نہ ہو تو پھر معجزہ کی ضرورت پر کو ئی عقلی دلیل نہیں ہے لہٰذا اجمالی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انبیاء کوصاحب ِاعجاز ہو نا چا ہیے۔آئیے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ معجزہ کے با رے میں قر آن کیا فر ماتا ہے ؟
سب سے پہلی بات تو یہ کہ جس معنی میں ہم لفظ ِمعجزہ کا استعمال کرتے ہیں قرآ ن میں استعمال نہیں ہوا ہے ، قرآ ن میںلفظ معجزہ یقینی طور پر کہیں نہیں آیا ہے لیکن اس سے ملتے جلتے الفاظ مثلاًلفظ (معجز) آیا ہے لیکن جس معنی میں ہم استعمال کرتے ہیں اس سے وہ معنی مراد نہیں، قرآن میں معجزہ کے بجائے کلمہ (آیت ) استعمال ہوا ہے یعنی قرآن میںبہت سے مقامات پر کلمہ (آیت)سے مراد معجزہ ہے۔قرآنی مفہوم سے آشنائی اور لفظ (آیت ) کے استعمال کی جگہ جاننے کے لئے کہ کن مقامات پر کلمہ ( آیت)معجزہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہم قرآن میں لفظ آیت کے استعمال کے با رے میں تھوڑی سی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

آیت لغت میںآیت علامت پہچان اور نشانی کو کہتے ہیںخواہ وہ نشانی قابلِ مشاہدہ ہو یعنی آنکھوں میں سما جانے والی ،پرُ کشش اور جاذب نظر ہو اور کسی بات کی علامت یا نشانی ہو خواہ وہ نشانی عقلی ہو۔قرآن کی زبان میں دنیا کے تمام موجودات اﷲ کی نشا نیا ں ہیں۔یعنی ان کے بارے میں غور وفکر کرنے سے انسان خداوند عالم کی ذات اور اس کے صفات علم ، قد رت،حکمت اور عظمت وغیر ہ کی طرف متو جّہ ہوجاتا ہے اور ایک ذرا سی گہری نظر کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ہر چیز کاوجود ''آیت'' ہے۔ کیونکہ وجود ایک رابطہ ہے اور اگر اس کوصحیح طور سے محسوس کیا جائے تو اس کے پرتو میں واجب الوجود خدا کا وجود مشاہدہ کیا جاسکتا ہے دوسرے لفظوں میں چونکہ تمام مخلوقات میں خدا کا جلوہ ہے جو لوگ باطنی بصیرت کے حامل ہیں اور جن کی نگاہوں میں معرفت کی روشنی ہے ان جلووں کے پس منظر میں متجلّی صاحب ِجلوہ کا دیدار کر سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے سب کی آنکھوں میں اتنا دم کہاں ہو سکتا ہے، حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :
(مارأیتُ شیئاالا ورایت اﷲ قبلہ )
'' میں نے کوئی شئے نہیں دیکھی مگر یہ کہ اس سے پہلے اﷲ کا نظارہ کرلیا '' ۔
قرآن میں کلمہ آیت کے استعمال کے مقامات
آیت کے اس گہرے عرفانی مفہوم سے قطع نظر'' آیت '' کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ انسان اس کے بارے میں سو چتا ہے، اس میں ایک اور وجود کا مشاہدہ کرتا ہے کہ یہ اسی کی ایک نشانی ہے۔ قرآن کہتا ہے :
( وَکَأَیِّنْ َمِّنْ آیَةٍ فِیْ السَّمَٰوَٰتِ وَا لْاَرْضِ یَمُرُّوْن َعلَیْھَاوَھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ)(١)
''آسمانوں اور زمین میں کس قدر نشانیاں ہیں جن سے یہ لوگ گذر تے ہیں اور ان سے منھ پھیر ے رہتے ہیں ''۔
یعنی اگر ان موجودات میں ایک ایک کے بارے میں غوروفکر کریں تو خدا کے وجود اور اس کی صفات تک پہنچ جائیںگے لیکن توجّہ نہیں کرتے، منھ موڑ کر گذر جاتے ہیں۔ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :
( وَجَعَلْنَا السَّمَائَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَھُم ْعَنْ آیَا تِھَا مُعْرِضُوْنَ)(٢)
''اور ہم ہی نے آسمان کوایک محفوظ چھت بنایا پھر بھی یہ (کافر )لوگ اس کی نشانیوں سے منھ پھیرے ہوئے ہیں )''۔
یعنی کائنات اور اس کی فضائوں میں پھیلی موجودات کے بارے میں غورو خوض نہیں کرتے کہ ا ن موجو دات کے پرتو میں ان کو پیدا کرنے اور قائم وباقی رکھنے والے پروردگار کو دیکھ سکیں اور اس کی معرفت حاصل کریں ۔
اسی طرح بہت سی آیات میں خداوند عالم نے کائنات کی موجو دات کا ذکر کیا ہے اور ان آیات کے ذیل میں
..............
١۔سورئہ یوسف آیت ١٠٥۔
٢۔سورئہ انبیاء آیت ٣٢۔
کہا ہے :
( اِ نَّ فِیْ ذَ ا لِکَ لَآ یَا تٍ لِقَوْ مٍ یَتَفَکَّرُ وْ ن(َ ،یعَْقِلُْون َ،یُوْ مِنُوْ نَ))
''یعنی اہل فکر،اہل عقل اور اہل ایمان کے لئے ان میں (اﷲکی)نشانیاں ہیں ''۔
لہٰذا اس معنی میں لفظ آیت کا تمام موجودات اور مخلوقاتِ خدا پر اطلاق ہوتا ہے ۔
کبھی قرآن نے ان میں سے موجودات کو خاص طور پر توجہ کا مرکز قرار دیا ہے اور لوگوں کوان پر غوروفکر کرنے کی دعوت دی ہے اور ان سے مخصوص نتائج نکالے اور پیش کئے ہیں چنانچہ سو رئہ یس میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَآیَة لَھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ اَحْیَیْنَا ھَاوَاَخْرَجْنَٰاھَامِنْھَاحَبّاًفَمِنْہُ یَاکُلُوْنَ)(١)
''او ر ہما ری قدر ت کی ایک دلیل یہ ہے کہ ہم مر دہ زمین زندہ کر دیتے اور اس سے دانہ اُگا تے ہیںپس اسے یہ لوگ کھایا کر تے ہیں ''۔
اسی سور ے کی ایک اور آیت میں ار شاد ہو تا ہے :
(وآیَة لَّھُمُ اللَّیْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَاِذَاھُمْ مُّظْلِمُوْنَ )( ٢)
''اور ان کے لئے ایک اور دلیل رات ہے جس سے ہم دن (کا اُجالا ) کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت یہ لوگ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں ''۔
پھر ایک اور آیت میں خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے:
(وَآیَة لَّھُمْ اَنَّاحَمََلْنَاذُرِّیَّتَھُمْ فِی الفُلْکِ المَشْحُوْنِ ) (٣)
'' اور ان کے لئے (میری قدرت کی )ایک اور دلیل یہ ہے کہ ان کے بچوں کو (انبار سے ) لدی ہو ئی کشتی میں سوار کر دیا''
یا سورئہ روم میں مخصوص مو جو دات کو بنیاد قرار دیتے ہو ئے فر ماتا ہے :
(وَمن آیاَتہ کَذَا ٠٠٠وَمن آیا تہ کَذَا ۔۔۔) (٤)
..............
١۔سورئہ یس آیت٣٣۔
٢۔سورئہ یس آیت ٣٧ ۔
٣۔سورئہ یس آیت٤١۔
٤۔ سورئہ روم آیت٢١،٢٤۔
وہ مو جو دات کہ جن کے با رے میں اگر انسان فکر کرے تو فو راً پر ور دگار عالم کی طرف متو جہ ہو جاتا ہے ۔ معلو م ہو ا کہ مندر جہ بالا تمام آیات میں جو لفظ ''آیت '' یا ''آیات ''کا استعمال ہوا ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ کا ئنات کی یہ تمام مو جو دات خدا وند عالم کی نشاندہی کر تی ہیں یا یہ کہ وہ خدا کی نشانی ہیں ۔
''آیت ''کے مصادیق میں آیات تشریعی (یعنی قرآنی آیات )کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے اُن میں فرق نہیں ہے کیو نکہ دو نو ں کے ایک ہی معنی ''نشانی ''ہیں ۔جی ہا ں جو با تیں انبیا ء علیہم السلام پر خدا وند عالم کی جانب سے وحی کی صورت میں نازل ہو ئی ہیں ان کو بھی قر آن نے آیت کہا ہے اس لئے کہ کلام متکلم کی نشاند ہی کر تا ہے ۔کلا م کی خصو صیتیں متکلم کی خصو صیات بتا تی ہیں یہی وجہ ہے اس نے انبیاء علیہم السلام پر جو با تیں وحی فر ما ئی ہیں ان کو اپنی آیات کہا ہے ۔قرآن میں ارشاد خدا وندی ہے :
(ھُوَالَذی اَنزَلَ عَلَیکَ الکتَا بَ منہُ آیات مُّحکَماَت ھُنّّ اُمُّ الکتَابَ وَاُخَرُ مُتَشَٰابِھَا ت )(١)
''(اے رسول )وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی اس میں کی بعض آیتیں محکما ت (صاف و صریح ) ہیں جو تمام آیات کے لئے اصل و بنیا د ہیں او ر بقیہ (آیتیں ) متشابہ ہیں ''۔
ظاہر ہے یہاں آیت سے مراد موجو دات ِعالم نہیں ہیں بلکہ قر آ ن کریم کی یہی تلا وت کی جا نے والی آیات مراد ہیں ۔
سو رئہ بقرہ (آیت٢٥٢) اور سورئہ آل عمران( آیت ١٠٨ )میں اسی کی طرف اشارہ ہے:
( تِلْکَ آیَاتُ اللَّہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ باِلْحَقِّ) (٢)
''اے رسول ) یہ خدا کی آ یتیں ہیں جو ہم حق کے ساتھ آپ پر تلا وت کر رہے ہیں ''۔
یہ آ یت مکمل طور پر دلا لت کر تی ہیں کہ (آیت ) سے مراد کو ئی تلاوت کی جا نے وا لی چیز ہے اور ایسے بہت سے مقا مات ہیں جہاں قرآ ن کے جملوں کو آیت کہا گیا ہے ۔ سو رئہ یو سف کی پہلی اور سو رئہ شعراء نیز سورئہ قصص کی دوسری آ یت میں آ یا ہے :
( تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ المُُبِیْنِ )(٣)
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت ٧۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت ٢٥٢۔اورسورئہ آل عمران آیت١٠٨۔
٣۔سورئہ یوسف آیت١۔
''کتاب خدا کی آ یتیں ہیں جو حقا ئق کو آشکار کرتی ہیں ''۔
اور (وَکَذَ الِکَ اَنزَلْنَاہُ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ)
''اور ہم نے اس (قر آن ) کو یو ںہی روشنی بخش آیات کی صورت میں نازل کیا ''۔
قرآ ن میں اس طرح کی تعبیریں بہت زیا دہ ہیں اور سیکڑو ں مقامات ایسے ہیں کہ جہاں پر قرآ ن کے بعض ٹکڑ وں کو آ یت یا آیات سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
قر آ ن کریم میں لفظ آیت کے ان دو نوں طرح کے استعمال کے پیش نظر قر آ ن کریم میں ذکر (آیات الٰہی) کو دو حصّو ں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :
١۔تکوینی یا قدرتی آیات ۔
٢۔تشریعی یا قرآ نی آیات ۔
تشریعی آیات سے مراد خدا وند عالم کا کلام ہے اور تکوینی آیات سے مراد خدا وند عالم کی مخلو قات ہیں لیکن بعض مقا مات پر لفظ آیت خاص معنی میں استعمال ہوا ہے اور وہ ان مخلو قات کے لئے ہے جو عام علل و اسباب کے ذریعہ وجو د میں نہیں آئی ہیں کیو نکہ وہ اپنے پیدا کر نے والے پر ذرا واضح انداز میں دلالت کر تی ہیں ،مو جو دات عام علل وا سباب کے ذریعہ وجو د پاتے ہیں انسان ان سے بہت زیا دہ ما نو س ہو جا نے کی وجہ سے ان کے پیدا کرنے والے کی طرف تو جہ نہیں دیتا لیکن جب کو ئی وجود غیر معمولی طریقہ سے وجود پاتا ہے تو وہ سب کی نظروں کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے ۔اس وقت ذہن اپنی عام کیفیت سے نکل آتا ہے اور ایک جھٹکا سا محسوس کرتا ہے ۔معلوم ہوا یہ معنای مخصوص یا خاص مقامات غیر معمولی مخلوقات کی تخلیق یا واقعات سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس بارے میں ہم قرآن سے نمونہ کے طور پر چند مقامات بیان کر دیتے ہیں :
حضرت طالوت کی داستان میں جس وقت بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے اپنے پیغمبر سے بھیمطالبہ کیا کہ ان کے لئے ایک فرشتہ معین کریں اور انھوں نے خدا کی طرف سے حضرت طالوت کو معین فرمادیا تو انھوں نے کہا :
(اَنَّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْناَ )(١)
''یہ ہم پر حکومت کی لیاقت نہیں رکھتے ''۔
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٢٤٧۔
ان کا حسب ونسب ہماری طرح نہیں ہے ،ان کے پاس ہماری طرح دولت بھی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ اور خدا کے نبی نے ان کے جواب میں اس آیت کی تلا وت فر ما ئی :
(اِنَّ آیَةَ مُلْکِہِ اَنْ یَاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیہِ سَکِیْنَة مِّنْ رَبِّکُمْ وَبَقِیَّة مِمَّا تَرَکَ آلُ مُوْسَیٰ وَآلُ ھَٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلَٰئِکَةُ)(١)
''اس کے بادشاہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجا ئیگا جس میں تمہارے پرور دگار کی طرف سے تسکین کی چیزیں اور وہ تبّر کات ہوں گے جو موسی اور ہارون کی اولاد چھوڑگئی ہے اور صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوں گے ''۔
یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے لشکر روانہ ہو تا ہے اور ایک صندوق خود بخود ان کے آگے آگے چلنے لگتا ہے تو یہ اس چیز کی علامت ہے کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور خداوند عالم نے ملائکہ کے ذریعہ اس کام کو انجام دیا ہے ۔
اسی طرح ایک اور پیغمبر کی داستان میں خدا وند عالم ارشاد فر ما تا ہے :
(اَوْکَاالَّذِیْ مَرَّعَلَٰی قَرْیَةٍ وَھِیَ خَاوِیَةعَلَٰی عُرُوْشِھَاقَالَ اَنَّٰی یُحْیِ ھَٰذِ ہِ اللَّہُ بَعدَ مَوْتِھَافَاَمَاتَہُ اللَّہُ مِاْئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْماًاَوْبَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِاْئَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلَیٰ طَعَا مِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ واَنْظُرْ اِلیٰ حِمارکَ و لِنَجْعَلَکَ ء ایَةً لِلّنَّاس وَانْظُرْ اِلیَ العِظَامِ کَیفَ نُنْشِزُھَاثُمَّ نَکْسُوھَا لَحْماً فَلَمَّاتَبَیَّنَ لَہُ قَالَ اَعلَمُ ُ اَنَّ اللَّہَ عَلَٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر)(٢)
''یا اس بندے کی مانند جو ایک گائو ں سے گذرا اور وہ گائوں ایسا اجڑا تھا کہ اس کی چھتیں اپنی بنیاد سے ڈھ گئی تھیں یہ دیکھ کر وہ بندہ کہنے لگا اﷲ اب اس آبا دی کو ان کی موت کے بعد کیو نکر زندہ کرے گا خدا نے اُس (بندہ ) کو سو سال تک موت کی نیند سُلا دیا اور پھر انکو زندہ کر دیا (تب ) پوچھا کتنی دیر یہاں پڑ ے رہے ؟عرض کی ایک دن یا ایک دن سے بھی کم (خدا نے ) فرمایا نہیں تم سو سال سے یہاں پڑے ہو ذرا اپنے کھانے پینے (کی چیزوں ) کو تو دیکھو با لکل نہیں بد لی ہیں اور اپنے گدھے پر نظر ڈالو (کہ اس کی ہڈیاں ڈھیر ہو گئی ہیں )ہم چاہتے ہیں کہ لو گو ں کے لئے تمہیں عبرت کا نمو نہ بنا ئیں اور (اب اس گدھے کی )ہڈیو ں کو دیکھتے ہو کہ ہم کیونکر ان کو جوڑ کر ڈھا نچا بنا تے اور پھر ان پر گوشت چڑھا تے ہیں پس جب ان پر خدا کی قدرت ظاہر ہو گئی تو بول اٹھے کہ میں جانتا ہوںکہ بیشک خدا
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ٢٤٨۔
٢۔سو رئہ بقرہ آیت٢٥٩۔
ہرچیز پر قادر ہے ''۔
سو سال تک مردہ رہے دوبارہ زندہ ہو ئے ان کی سواری کا گدھا بھی ہلا ک ہو گیا اور خدا نے اس کو دوبا رہ زندہ کیا اور خدا وند عالم واقعے کے ذیل میں فرماتا ہے :
(وَلِنَجْعَلَکَ آیَةً لِلنَّاسِ)
''اور اﷲ تم کو لو گو ں کے لئے نشانی یا نمونہ بنا نا چاہتا ہے''۔
یقینا تمام چیزیں اﷲ کی نشانیاں ہیں لیکن غیر معمو لی چیزو ں کا ظاہر ہو نا اپنی طرف زیادہ توجہ مر کوز کر لیتا ہے ، اس وجہ سے اسکو خاص طور پر (آیت) کہا گیا ہے ،اور اسی طرح کے مقامات پر لفظ آیت کا اطلاق اسی لئے ہے کہ اس کی دلالت زیادہ واضح ہے اور اپنی طرف لو گو ں کی توجہ زیادہ کھینچتی ہے۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے دستر خوان کی داستان ہے ، جب بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ خدا وند عالم سے کہئے :
ہما رے لئے نعمتو ں سے بھراخوان نازل کرے تو اسوقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کرعرض کی تھی :
( اَللََّھُمَّ رَبَّنَآاَنْزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَآئِ تَکُونُ لَنَاعِیْدًا لِاَوَّلِنَاوَآخِرِنَاوَآیَةً ًمِّنْکَ )(١)
''اے ہما رے پالنے والے ہم پر آسمان سے ایک خوان (نعمت ) نازل فرما کہ وہ ہم لو گو ں کے لئے ہمارے اگلوں او ر پچھلو ں کے لئے بھی عیدی قرار پا ئے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو''۔
چو نکہ یہ ایک غیر معمو لی واقعہ ہے لہٰذا آیت اور نشانی ہے خدا وند عالم نے بھی دعا مستجاب کر تے ہو ئے فرمایا جو شخص بھی اس آ یت کے نازل ہو نے کے بعد فرمان الہٰی سے گریز کرے گا اس پر عذاب نا زل ہو گا علا وہ ازیں جن مقا مات پر انبیاء علیہم السلام نے اپنی نبوت کی نشانی کے طور پر معجزات پیش کئے ہیں وہاں پر بھی لفظ ''آیت '' استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت صالح علیہ السلام نے پہا ڑ کے دامن سے نا قہ نکا لا ہے، فر ما یا تھا :
(ھذہ ناَقَةُ اﷲ آیَة )(٢)
''یہ اﷲ کا ناقہ تمہا رے لئے واضح دلیل ہے ''۔
..............
١۔سورئہ مائدہ آیت ١١٤ ۔
٢۔سورئہ اعراف٧٣۔
اسی طرح حضرت عیسیٰ کی ولا دت بھی ایک غیر معمو لی واقعہ تھا لہٰذا خدا وند عالم نے فرمایا :
(وَ جَعَلنَا ابْنَ مَر یَمَ وَاُمُّہُ آ یَةً )(١)
''اور ہم نے مریم کے بیٹے اور ان کی ماں کو آیت قرار دیا ''۔
ظاہر ہے یہاں پر لفظ آیت عام مخلو قات کے لئے استعمال کئے گئے لفظ آ یت سے الگ ہے یہ مقام ایک خصوصیت رکھتا ہے۔کیو نکہ عام طریقہ سے الگ یہ ایک غیر معمو لی واقعہ ہے اور خدا وند عالم نے معجزہ کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا ہے لہٰذا اسکو (آیت ) قرار دیا ہے ۔
انبیاء علیہم السلام کے اور تمام معجزات کے با رے میں بھی لفظ آیات اور آیت کا استعمال ہو ا ہے مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے با رے میں خدا وند عالم فر ما تا ہے :
( وَلَقَد آ تَینَا مُوسیٰ تِسْعَ آیَاتٍ بَّیّناتٍ )(٢)
'' ہم نے موسی کو نو معجزے با لکل واضح و آشکار عطا کر دیئے ''۔
البتہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو ان کے علا وہ بھی معجزات اور کرا مات عطا کی گئیں تھیں لیکن یہ معجزے نبو ت کی نشانی اور دلیل کے طور پر تھے ۔وہ سب وہ کرا مات تھیں جو آ پ کی زند گی میں متعددمر تبہ بنی اسرائیل کے سا منے رو نما ہو ئیں اور وہ سب بھی ایک معنی میں معجزات ہی تھے لیکن جو چیزیں نبوت کی دلیل کے عنوان سے ابتداء میں آپ کو ملیں دو چیزیں تھیں ایک عصا اور دوسرے ید بیضاء اس کے بعد دو سرے سات معجزے ملے اور یہ سب حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو خدا وند عالم کی طرف سے نبوت کی دلیل کے طور پر عطا کئے گئے تھے ۔
حضرت رسو ل خدا ۖ اور قرآن کے با رے میں بھی لفظ آیت کا استعمال ملتا ہے۔چنا نچہ خدا وند عا لم کا ارشاد ہو تا ہے :
(اَوَلَم یَکُن لَّھُمْ آیَة اَن یَعلَمَہُ عُلَمَائُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ )(٣)
''کیا یہ پہچان ان کے لئے کا فی نہیں ہے کہ بنی اسرا ئیل کے علماء ان سے با خبر ہیں ''۔
البتّہ یہاں پر لفظ '' آیت '' معجزہ کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیاہے بلکہ وہ نشانی اور پہچان ہے جولوگو ں پر حجت تمام کر تی ہے ۔ جب ان کو معلوم تھا کہ گزشتہ انبیاء علیہم السلام نے ایک ایسے آ نے والے نبی کی خبر دی ہے۔ تو وہ
..............
١۔سورئہ مو منو ن آیت ٥٠۔
٢۔سورئہ اسراء آیت ١٠١ ۔
٣۔سورئہ شعراء آیت ١٩٧۔
گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی پیشینگو ئیاں اور علماء بنی اسرائیل کا با خبر ہو نا، صداقت کی نشانی اور پہچان ہے ۔ پیغمبر اکرمۖ کے زمانہ میں بہت سے ایسے واقعات بھی رو نما ہو ئے کہ ان کے با رے میں بھی کلمہ ٔ آیت کا استعمال ہو ا ہے :
(قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَة فِیْ فِئْتَیْنِ الْتَقَتَافِئْة تُقَاتِلُ فی سَبِیْلِ اللَّہِ وَاُخْرَٰی کَافِرَة یَرَوْنَھُمْ مِثْلَیْھِمْ رَأْیَ العَیْنِ۔۔۔ )(١)
''ان دونو ں (کافر ومومن )جما عتو ں میں یقینا تمہا رے لئے عبرت اور نشانی تھی جو آپس میں گتھ گئیں تھیں ایک جما عت خدا کی راہ میں جہاد کر رہی تھی اور دوسرا کا فروں کا گروہ تھا جن کی نگا ہو ں میں (مو منو ں کا لشکر ) دو گُنا نظر آرہا تھا ''۔
جب سپا ہ اسلا م کفار سے رو برو ہو ئی تو اسوقت کرا مات ظاہر ہو ئیں منجملہ یہ کہ کفّار مسلمانو ںکو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اسی وجہ سے ان کے دل میں ڈر پیدا ہو گیا تھا اور ان کا جذ بہ کمزور پڑ گیا تھا جس نے ان کی شکست میں مدد کی یہ بھی ایک الہٰی (آیت )ہے ۔
گزشتہ قو مو ں پر خدا وند عالم کی جا نب سے نا زل ہو نے والے عذاب کو بھی آ یا ت سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ استعمال بھی دو طرح کے ہیں : کبھی عذاب کا جو اثر باقی رہ جا یا کرتا تھا اس اثر کو قر آ ن نے ''آیت '' قرار دیا ہے اور کبھی خود واقعہ کو قر آ ن نے ''آیت ''کہا ہے ۔ فر عون کے با رے میں قرآن فر ما تا ہے :
(فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَ نِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً)(٢)
''پس آج تیرے بدن کو ہم (تہ نشین ہو نے سے ) بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والو ں کے لئے عبرت بن جائے ''۔
فرعو ن کا دریا میں غرق ہو نا بنی اسرائیل کے لئے اﷲکی مدد تھی لیکن خدا وند عالم نے اس کے بعد فر عو ن کے بدن کو دریا کے با ہر پھینک دیا تا کہ آیندہ آ نے والی نسلو ں کے لئے یہ بدن با قی رہے اور اس چیز کی نشاندہی کرا ئے کہ خدا وند عالم اپنے دشمنو ں کو کس طرح نیست و نا بو د کر تا ہے :
(لِتَکُوْ نَ لمَن خلْفَکَ آیةً)
''تاکہ تو اپنے بعد والو ں کے لئے عبرت بن جا ئے ''۔
اسی طرح قرآن کریم میں جناب نوح اور ان کی قوم کے با رے میں فر ما تا ہے :
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت ١٣ ۔
٢۔سو رئہ یونس آیت ٩٢ ۔
( فَاَنجَیْناَہُ وَاَصْحَابَ السَّفِیْنَةوَجَعَلْنَاھَا آیَةً لِلْعَالَمِیْنَ )(١)
''ہم نے ان کو اور کشتی میں سوار ان کے ساتھیو ں کو نجات عطا کردی اور اس کشتی کو دنیا والو ں کے لئے نشان عبرت بنا دیا''۔
اور اس آیت میں فر ما تاہے :
(وَلَقَد تَرَکناَھَا آیَة فَھَل مِنْ مُدَّکِرٍ )(٢)
''بیشک ہم نے اس (کشتی )کو نشانی بنا دیا ہے آیا کو ئی نصیحت لینے والا ہے ؟''۔
اور قوم لو ط کے با رے میںارشاد فر ماتا ہے :
(وَتَرَکناَ فیھَا آیة للَذ ینَ یَخا فُو نَ العَذابَ الالیمَ )(٣)
''اور اس سر زمین پر درد ناک عذاب سے ڈرنے والو ں کے لئے ایک نشانی چھو ڑ دی ''۔
اسی طرح سورئہ شعراء میں آٹھ مقامات پر گزشتہ قو موں پر نازل ہو نے والے عذاب کے واقعات نقل ہوئے ہیں اور ان سب کے ذیل میں قرآن فر ماتا ہے :
( اِنَّ فیِ ذاَلِکَ لَآیَة وَمَا کانَ اَکثَرھُم مُومِنِیْنَ )
''اس میں ہما ری ایک نشانی ہے اور ان میں زیا دہ تر لوگ مو من نہیں تھے ''۔
یہ آٹھ کے آٹھ مقا مات ان انتہائی پریشان کن عذاب کے با رے میں ہیں جو گزشتہ قو مو ں پر نا زل ہو ئے ہیں ۔
مندر جہ بالا تمام مقا ما ت پر لفظ ''آیت ''کے استعمال میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض وقت قر آن نے ایک غیر معمولی واقعہ کو بنیا د بنا کر اسے ایک'' آیت '' قرار دیا ہے اور یہی چیز ہماری بحث سے مر بوط ہے یعنی قر آ ن کریم میں لفظ'' آیت'' کا معجزات کے لئے استعمال ہو ا ہے اب اگر لفظ ''آیت'' مشترک معنوی بھی ہو تو بھی لفظ ''آیت'' کے محل استعمال میں سے ایک اس کاخاص طور سے معجزات کے معنی میں استعمال ہو نا ہے۔معلوم ہوا کہ قرآ ن میں ''معجزہ ''کی لفظ نہیں آئی ہے معجزہ کی جگہ مخصوص طور پر لفظ ''آیت'' کا استعمال ہو ا ہے یہ سب کچھ ہم نے معجزہ کے مفہوم
..............
١۔ عنکبوت آیت ١٥۔
٢۔سورئہ قمر آیت ١٥۔
٣۔سورئہ ذاریات آیت٣٧۔
کی وضا حت کے لئے عرض کر دیاکہ قر آن میںلفظ معجزہ کی جگہ مخصوص طور پر لفظ ''آیت'' کا استعمال ہو ا ہے البتہ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ جہاں بھی لفظ ''آیت'' استعمال ہو ا ہو اس کامطلب معجزہ ہی ہو ۔بلکہ مخصوص مقامات پر لفظ آیت معجزہ کے معنی میں بھی استعمال ہو ا ہے ۔

انبیاء علیہم السلام کے معجزات کیا انبیاء علیہم السلام صاحب معجزہ تھے ؟قر آ ن اس با رے میں کیا فر ماتا ہے ؟
بلا شبہ قر آ ن نے بہت سے مقامات پر کہا ہے کہ ہم نے انبیاء علیہم السلام کو معجزے عطا کئے ہیں ۔
البتہ بعض مقا مات پر ظاہر بیان سے پتہ چلتا ہے کہ جب انبیا ء علیہم السلاممبعوث ہو تے تھے اور اپنی قوم میں تبلیغ شرو ع کرتے تھے تو دعوت کے ابتدائی مرا حل میں ہی اپنے معجزہ کی نشاندہی کر دیاکر تے تھے اور بعض مقامات پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگ انبیاء علیہم السلام سے معجزہ کا مطالبہ کیا کر تے تھے تو وہ اس وقت اپنے معجزے پیش کیا کر تے تھے ۔
منجملہ جن مقامات سے صاف طور پرپتہ چلتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام ابتدائے تبلیغ میں خود ہی اپنے صاحب معجزہ ہو نے کا اعلا ن کر دیتے تھے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مر یم کا واقعہ ہے جن کے لئے اعلان ہو رہا ہے :
(وَرَسُولا اِلَٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ )(١)
''ہم نے حضرت عیسیٰ کو رسو ل کی حیثیت سے بنی اسرائیل میں بھیجا ''۔
اور پھر انھو ں نے کہا :
(اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُم بآ یَةٍ مِنْ رَّبِّکُم اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِنَ الطِّیْنِ )(٢)
''میں معجزہ کے ساتھ تمہا رے پر ور دگار کی طرف سے تمہا رے در میان آیا ہو ںتمہا رے سا منے مٹی سے پرندہ جیسی چیز بنا ئو ںگا ''۔
..............
١۔آل عمران آیت٤٩۔
٢۔ سورہ آل عمران آیت٤٩۔
اس آیت سے ظا ہری (بلکہ صریحی )طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی ابتداء دعوت سے ہی لو گو ں کے سامنے فر مایا کر تے تھے کہ میں نشانی لیکر آ یا ہوں ۔
لیکن بعض مقا مات پر قرآن کی آ یتیں اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ گو یا انبیاء علیہم السلاممبعوث ہو تے تھے اور اپنی دعوت کا اعلان کر تے تھے اور لو گو ں کے مطالبے پر اُن کو معجزہ دکھلا تے تھے ۔چنانچہ حضرت مو سی ٰ علیہ السلام کے متعلق قرآ ن فرماتا ہے کہ جب حضرت مو سیٰ علیہ السلا م نے فر عو ن اور فر عو ن والو ں کو دعوت دی اور ان کے سامنے اپنی رسالت کا اظہار کیا توفر عون نے کہا:
(اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِآیَةٍ فٰا تِ بِھَا اِنْ کُنْتَ مِنَ ا لصَّا دِ قِیْنَ )(١)
''اگر خدا کی طرف سے کو ئی نشانی تمہا رے پاس ہے تو پیش کرو اگر تم سچّو ں میں سے ہو ''۔
اس وقت حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا چھو ڑا جو اژدھا بن گیا ۔اس آ یت سے بظاہر لگتا ہے کہ اس وقت تک حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے ان کے سا منے معجزہ پیش نہیں کیا تھا ۔
حضرت صالح علیہ السلام کے ذکر میں ہے کہ ان کی قوم (قو م ثمود )نے عرض کی :
(مَااَنْتَ الاّبَشَرمِّثْلُنَافَاتِ بآیَةٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِ قِیْنَ قَالَ ھٰذِہِ نَاقَة لَھَا شِرْب وَلَکُم شِرْبُ یَوْمٍ مَعلُوْم ٍ)(٢)
''تم بھی ہما رے جیسے انسان ہو (ورنہ ) اگر سچّے ہو تو نشانی دکھا ئو حضرت صالح نے فر مایا :یہ اونٹنی ہے ،چشمے سے پانی پینے کا حق ایک دن اس کو حاصل ہو گا اور ایک دن تم کواور آ پ نے تاکید کے ساتھ فر ما یا:
( وَلا تَمَسُّوْھَا بِسُوْئٍ فَیَا خُذَ کُم عَذَابُ یَو مٍ عَظِیمٍ )(٣)
''اس کو تکلیف نہ پہنچانا (ورنہ )روز عظیم (قیامت )کا عذاب تم کو گھیر لے گا '' ۔
گو یا آیت میں اس سوال کا جواب بھی دیدیا گیا ہے انبیاء علیہم السلام اپنی نبو ت کے آغاز میں ہی معجزہ پیش
..............
١۔سورہ اعراف١٠٦۔
٢۔سورئہ شعراء آیت ١٥٤۔١٥٦ ۔
٣۔ سورئہ شعراء آیت ١٥٦۔
کر دیتے تھے یا لو گوں کی در خواست کے بعد معجزہ دکھلا یا کر تے تھے ۔
بظاہر بلکہ صاف طور پر آیات شریفہ کا جواب یہ ہے کہ انبیا ء علیہم السلا م کبھی اپنی نبوت کے آغاز میں ہی اور کبھی لوگوں کے مطالبہ کے بعد معجزے دکھلایا کر تے تھے ۔
علا وہ ازین یہ بھی معلو م ہو گیا کہ قر آن، کلی طور پر انبیاء علیہم السلام کے لئے معجزہ کا قائل ہے حتی آخر کی آیتوں کے لہجہ سے اس با ت کا بھی اندازہ ہو تا ہے کہ لو گو ں کو انبیاء علیہم السلام سے معجزہ کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔ جس وقت فر عون نے کہا اگر آ پ کے پاس کو ئی نشانی ہے تو پیش کیجئے حضرت مو سی ٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا البتہ خدا وند عالم نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو یہ دو بر ہان پہلے سے عطا کر دیئے تھے :
( ھٰذَان بُرْھَانانِ مِنْ رَّبِّکُم )
'' یہ تمہا رے پر ور دگار کی طرف سے دو دلیلیں ہیں ''۔
حضرت مو سیٰ علیہ السلام معجزہ پیش کر نے کے لئے آ ما دہ تھے لیکن جب فر عون نے مطالبہ کیا توپیش کردیا۔یہی حال حضرت صالح علیہ السلام کا ہے جیسا کہ مذ کو رہ آ یت کے ذیل میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔

معجزہ کی کیفیت اب بحث یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کس وقت معجزات پیش کیا کر تے تھے ؟کیا وہ ہر وقت اور ہر شخص کے مطالبے پر معجزہ پیش کر دیا کر تے تھے یا ایسا نہیں تھا ؟اور یہ کہ کیا معجزہ اس لئے تھا کہ لوگ قبو ل کرنے پر مجبو ر ہوجائیں یا صرف اتمام حجت کے لئے تھا ؟
اس سلسلہ میں بہت سی آیات بتا تی ہیں کہ لوگ کبھی کبھی معجزات کا مطالبہ کیا کر تے تھے اور مخصوص خواہشیںپیش کر تے تھے لیکن انبیاء علیہم السلام ان کا کو ئی جواب نہیں دیتے تھے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ معجزہ اس لئے نہیں ہے کہ لوگ مجبور ہو کر دین حق کو قبول کر لیں بلکہ اس کا مقصد لو گو ں پر حجت تمام کرنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی نبوت پر ان کے پاس ایک دلیل مو جود ہو ۔چنانچہ کبھی کبھی خداوند عالم اپنے لطف کی وجہ سے کسی پیغمبر کو دو ،تین ، پانچ ،یا دس دس معجزے عطا کر دیتا ہے یایہ کہ اس کی نبو ت ثابت ہو نے کے بعد اس کے ذریعہ کچھ کرا متیں بھی ظا ہر ہو جاتی ہیں ۔یہ سب خدا وند عالم کا فضل ہے ورنہ انبیاء کو معجزہ دینے کی بنیاد اتمام حجت کرنا ہے اور بس، اس سے آگے محض خدا وند عالم کی مصلحت ہے جس کو خدا بہتر جانتا ہے۔اگر مصلحت ہو ئی تو خدا دوسرا معجزہ دیدیتا ہے اور اگر مصلحت نہیں ہو تی تو پہلے معجزہ پر اتمام حجت کر دیتا ہے۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا وند عالم نے حضرت مو سیٰ کو نبوت کے آغاز ہی سے دو معجزے عطا کر رکھے تھے۔ حضرت عیسیٰ کے پاس کئی معجزے تھے۔مٹی سے پرندے بنادینا مردوں کو زندہ کرنا اندھوں کو بینائی عطا کرنا بر ص کے مریضو ں کو شفاء دینا اور اسی طرح غیب کی خبریں دینا وغیرہ۔
( وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاکُلُوْنَ وَمَا تَدَّ خِرُوْنَ فِیْ بُیُوْ تِکُمْ ۔۔۔)( ١)
''اور تم کو اس بات کی خبر دونگا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھر میں ذخیرہ کرتے ہو ''۔
یہ سب خداوند عالم کی مصلحت سے وابستہ ہے کہ وہ کب کسی پیغمبرکو ایک معجزہ عطا کرتا ہے اور کب ایک سے زیادہ ،اس کا کوئی اصول اور فار مولا ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ ہی ہم کو اس کا علم دیا گیا ہے اجمالی طور پر قرآن نے بیان کردیا ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام ایک سے زیادہ معجزہ رکھتے تھے لیکن ایسا نہیں تھا کہ لوگ جس کا بھی مطالبہ کر تے وہ انجام دید یتے تھے قرآن نے کچھ ایسے مقامات بھی بیان کئے ہیںجہاں لو گوں نے کسی مخصوص معجزہ کا مطالبہ کیا اور انبیاء علیہم السلام نے اسے رد کردیا ۔پہلے کلی طور پر کہتا ہے کہ جس نبی کو بھی معجزہ پیش کر نا ہو خدا کے اذن سے پیش کرنا چاہئے ایسا نہیں ہے کہ معجزہ کے سلسلے میں نبی خود مختار ہو بلکہ خدا کی اجازت سے ہی'' معجزہ ''پیش کرے گا ۔ خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے :
( وَمَاکَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَا تِیَ بِآیَةٍاِلَّا بِاذْنِ اللَّہِ)(٢)
''اور کسی پیغمبر کے بس میں نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ دکھائے''۔
کچھ مقامات پر خاص طور سے فرماتا ہے کہ لوگوں نے معجزات کی فرمائشیں کیں لیکن انبیاء نے معجزہ نہیں پیش کیا ۔ حتی بعض آیات کے لہجہ سے اگر دوسری آیات نہ ہو تیں تو یہ وہم پیدا ہو جاتا کہ انبیاء علیہم السلام کو سرے سے معجزہ دیا ہی نہیں گیا تھا اور یہ معجزہ کا انکار کر نے وا لو ں کے لئے ایک دستاویز بن جاتی لیکن ان کے مقابل انبیاء علیہم السلام کے صاحب اعجاز ہو نے پر صاف و صریح آیات مو جو د ہیں اور ان آ یتو ں پر ذرا سی تو جّہ سے اُ ن آ یات کا ابہام دور ہو جاتا ہے کہ جن سے بظا ہر یہ وہم ہو تا تھاکہ انبیاء علیہم السلام سرے سے معجزہ دکھا نے سے انکار کرتے تھے یعنی وہ اتمام حجت کے بعد، معجزہ دکھلا نے کی فر مائش قبول نہیں کر تے تھے یا یہ کہہ لیجئے کہ نا معقول قسم کے خلا فِ مصلحت مطالبے پو رے کر نے سے پر ہیز کر تے تھے مثال کے طو رپر اگر اس طرح کی در خواست کی جاتی کہ جس سے
..............
١۔سورئہ آل عمران ٤٩۔
٢۔سوررئہ مومن آیت ٧٨۔
لو گوں کے سا منے اختیار کا راستہ بند ہو جاتا تو ایسا کرنا حکمت الہٰی کے خلاف تھا اور اصل غرض فوت ہوجاتی ہے معجزہ اس لئے ہو نا چاہئے کہ لو گو ں کو معلوم ہو جا ئے کہ یہ خدا کا پیغمبر ہے اور لوگ پو رے اختیا ر کے ساتھ اس کی اطاعت کریں۔ اب اگر معجزہ ایسا ہو کہ جس سے لو گو ں کا اختیار ان سے سلب ہو جائے تو اس سے خلقت کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ۔معلو م ہو ا کہ انبیاء علیہم السلام اس طرح کی فر ما ئشیں قبول نہیں کر تے تھے اور اسی طرح جو مطالبے لوگ حرص و ہوس کے تحت کر تے تھے اور جن کو پورا کر نے کے لئے نبی کو صبح سے شام تک چو کا لگاکر بیٹھنا پڑے کہ جو شخص جو بھی مطالبہ کرے اس کو نبی انجام دیتا رہے اس طرح کے تمام مطالبو ں سے انبیاء علیہم السلام صرف نظر کر تے تھے۔چونکہ یہ سب غرض خلقت اور حکمت الہٰی کے خلا ف ہے نبی کو ایک مر تبہ لو گو ں کے سامنے اپنی نبوت ثابت کر دینا چاہئے کہ ان پر حجت تمام ہو جا ئے اور بس لیکن اگر ایک شخص نبی سے آ کر کہے کہ اس پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹا دیجئے دو سرا شخص کہے کہ اس در یا کو خشک کر دیجئے تیسرا کہے اس طر ح کیجئے اور چو تھاکہے اس طرح کیجئے تو انبیاء علیہم السلام اس طرح کی چیزو ں کو قبول نہیں فر ما تے تھے یا لوگ طرح طرح کے بہانے کیا کرتے تھے مثال کے طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ کے پاس ایک باغ نہ ہو اور اس میں نہریں اور محل نہ ہو ں تو اس میںمصلحت نہیں پائی جاتی یا یہ کہ آسمان سے سو نے کے کنگن آئیں اور آپ کے ہاتھ میں چلے جائیں یااسی طرح کی دوسری باتیں انبیاء علیہم السلام قبول نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ مصلحت صرف اتنا چاہتی تھی کہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے اور ان کی نبوت ثابت ہوجائے۔ بعض آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی انبیا ء علیہم السلام پر لوگوں کی طرف سے بہت زیادہ دبائو ڈالا جاتا تھا کہ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو فلاں کام انجام دیجئے لیکن اس میں خدا کی مصلحت نہیں ہوتی تھی ،جب لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی تو پھر معجزے کے لئے ان کی دوسری در خواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی۔لوگ اصرار کرتے اور نبی پر دبائو بڑھ جاتا تھا بلکہ بعض او قات تواگر ان کو خداوند عا لم کی تا ئید حاصل نہ ہوتی تووہ دبائوکے تحت ان کے مطالبوں کو جامہ عمل پہنا دیتے۔
لیکن پیغمبر معصو م ہو تے ہیں خدا ن کی خودحفا ظت کرتا ہے اور وہ مصلحت ِحق کے خلاف ارادہ نہیں کرتے لیکن حالات ان کو سخت دبائو میں مبتلا کر دیتے تھے اور با لآ خر ان کو جواب دینا پڑتا تھا کہ ہماری رسالت تو یہی ہے جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو خداوند عالم نے ہم کو جو امر دیا تھا وہ ہم نے تم تک پہنچا دیا اب تم ایمان لائو یا نہ لائو مختلف قسم کی باتیں اس سلسلے میں کیا کر تے تھے چنانچہ پیغمبر اکرم ۖ کے بارے میں آیات سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم پر لوگوں کا دبائو اس قدر بڑھا ہواتھا کہ خداوند عالم کو وحی کرنا پڑتی تھی کہ اے ہمارے نبی مصلحت نہیں ہے آپ ان کے اس طرح کے مطالبے قبول نہ کیجئے گا :
( وَقَالُوْا لَولَا نُزِّلَ عَلَیْہ ِآیَة مِنْ رَبِّہِ)
''نبی پر ان کے پر ور دگار کی طرف سے کیا کو ی معجز ہ نازل نہیں ہوتا ''۔
یہ تو ایسی با ت ہے گو یا نبی اکرم ۖنے ابتک کو ئی معجزہ نہ پیش کیا ہو اور ان کی نبوت کے لئے کوئی دلیل مو جود نہ ہو ،کہتے ہیں کہ نبی اکرم ۖ پر کوئی آیت یعنی معجز ہ کیوں نازل نہیں ہوا ؟ ظاہر ہے ان تمام دلایل اور معجزات پیش کرنے کے باوجود اس طرح کی باتیں محض بہا نہ تلاش کرنا ہے ۔ لہٰذا خدا وند عالم نے ان کے جواب میں فرمایا ( اے ہمارے نبی! )
( قُلْ اِنَّ اللَّہَ قَادِرعَلَٰی اَنْ یُّنَزِّلَ آیَةً وَلٰکِنَّ اَکْثرَھُمْ لَا یَعلَمُوْنَ)( ١)
''(آپ ان سے) کہدیںکہ خدا معجزے کے نازل کرنے پر ضرور قادر ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ (خدا کی مصلحتو ں کو ) نہیں جانتے ''۔
بعض آیات بتاتی ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖبہت زیادہ دبائو میں تھے۔قرآن کا بیان ہے :
(فَلَعَلَّکَ تاَرِک بَعْضَ مَایُوْحَیٰ اِلیَْکَ وَضَائِق بِہِ صَدْرُکَ اَنْ یَقُوْلُْوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیہ ِکَنْز اَوْجَائَ مَعْہُ مَلَک۔۔۔ )( ٢)
''توکیا آپ وہی کے ذریعہ بھیجی گئی بعض باتیں صرف اس خیال سے چھو ڑدیں گے کہ آپ کا دل اس طرح کی باتوں سے بھرگیاہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل کیا گیا یا تصدیق کے لئے ساتھ میں کوئی فرشتہ کیو ں نہیں آیا ''۔
شاید ہم کلمہ (لعلّ) کے با رے میںکہیں بیان کرچکے ہیں :
قرآن میں لعلّ کبھی بولنے والے کے لحاظ سے ،کبھی سننے والے کے لحاظ سے اور کبھی مقام اور حالات کے تقاضے و لحاظ سے استعمال ہوتا ہے۔لعلّ، ترجّی یعنی (شاید)کے معنی میں ہے لیکن اس کے محل ا ستعمال میں فرق ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ شاید فلاں کام ہوجائے یعنی یہ شاید مخاطب کے یہاں پائی جانے والی امید کے لحاظ سے اور کبھی یہ شاید خود متکلم کی تو قّع کو بیان کرتاہے لیکن بعض وقت یہ شاید دونوں میں سے کسی ایک کی بھی توقع اورامیدسے تعلق نہیں
..............
١۔سورئہ انعام آیت ٣٧۔
٢۔سورئہ ہود آیت١٢۔
رکھتابلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ مقام اور حالات اسی چیز کا تقاضا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں بھی جب خداوند عالم یہ فرماتا ہے :
(فَلَعَلَّکَ تَارِک بَعْضَ۔۔۔)ظاہر ہے ایک نبی کے ذہن اقدس میں اپنے فریضۂ رسالت کے چھوڑنے کا تصورپیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی خدا اپنے نبی کے بارے میں اس طرح کی توقع رکھتا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت حالات اتنے سخت ہوچکے تھے کہ ایک عام انسان، انسان ہونے کے نا طے یہ کہنے پر مجبور ہوتا کہ اب میں رسالت کا یہ فریضہ چھوڑ کر اپنے کامو ں میں مشغول ہوجاتا ہوں۔
پس یہ جملہ (فَلَعَلَّکَ تَارِک بَعْضَ مَا یُوْحٰی اِلَیَْکَ)حالت کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے خود پیغمبر کے اعتبار سے استعمال نہیں ہوا ہے۔(وضائق بہ صدرک )اور آپ کا سینہ بہت زیادہ تنگ آچکا ہے ؟ کس بات سے ؟ اس بات سے کہ کفار کہتے ہیں :
(اَنْ یَقُولُوا لَولَا اُنْزَلَ عَلَیْہِ کَنْز اَوْجَائَ مَعَہُ مَلَک )
''ان پر کو ئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہو تا یا ان کے ساتھ فرشتہ کیو ں نہیں آیا ؟تو آپ کا دل تنگ ہے کہ ان کو کیا جواب دے ؟(اِنَّمَااَنْتَ نَذیروَاﷲُ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ وَکِیْلٍ )
''آپ تو صرف ( عذاب سے ) ڈرا نے والے ہیں اور خدا ہر چیز کا ذمہ دار ہے ''۔
آپ اس کے ذمہ دار نہیں کہ کون ایمان لا تا ہے اور کون ایمان نہیں لا تا:
(وَاﷲُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَکِیلٍ )''خدا ہر چیز کا ذمہ دار ہے''۔
آپ صرف اپنا فریضہ انجام دیجئے اس سے زیا دہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ خدا اپنے بندوں کی ہدایت کرتا ہے، چاہیں تو قبول کریںاور چاہیں تو قبول نہ کریں ،آپ سے ان کے افعال کے با رے میں سوال نہیں ہو گا ۔
اسی طرح خدا وند عالم کا یہ فرمان(وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَ اضُھُم ْ)(١)اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم ۖپر بہت سخت تھا کہ میں بشر کی نجات کے لئے حق کے ایسے پیغامات لیکر آیا ہوں لیکن یہ پھر بھی مجھ سے رو گردانی کر تے ہیں چنانچہ نبی اکرم ۖسے خطاب کر کے خداوند عالم فرماتا ہے :
(وَاِنْ کَانَ کَبُرَعَلَیْکَ اِعْرَاضُھُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغَِ نََفَقًافِی الْاَرْضِ اَوْسُلَّما ًفِی ْالسَّمَآئِ فَتَأْتِیَھُمْ بِآیَةٍ)(٢)
..............
١۔سو رئہ انعام آیت ٣٥ ۔
٢۔سورئہ انعام آیت٣٥۔
''اگر ان لوگوں کی روگردانی آپ پر اس قدر سخت ہے تو جائیے اگر ہوسکے تو زمین کی تہو ں میں کوئی سرنگ ڈھونڈھ نکالئے یا آسمان پہ چڑھنے کے لئے سیڑھی لگا لیجئے اور کوئی ایسی نشانی لاکر دکھا دیجئے (کہ یہ لوگ قبول کرلیں اور ایمان لے آئیں ''۔
یعنی خدا کبھی ایسے کام انجام نہیں دیگا اس کے کام لوگوں کی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے اور آپ بھی اس طرح کے کام انجام نہیں دیں گے اور دے بھی نہیں سکتے۔کیونکہ خدا اس کی اجازت نہیں دے گا۔(پھر بھی ) اگر انجام دے سکتے ہوں تو انجام دیجئے ۔اس کے بعد خدا فرماتا ہے :
(وَلَوْشَائَ اللَّہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدَیٰ )
''اگر خدا چا ہتا کہ سب کے سب حتمی طور پر ایمان لے آئیں تو وہ عاجز نہیں تھا ایک کام ایسا کردیتا کہ وہ سب کے سب ایمان لے آتے لیکن خدا کی حکمت اس کی اجازت نہیں دیتی۔اس کا تقاضا ہے کہ انسان راہ حق کو خود اختیار کرے خدا تو صرف اختیار کے استعمال کی زمین فراہم کردیتاہے۔ وہ لوگوں کو مجبور نہیں کرتا کہ سب کے سب راہ حق کو منتخب کر لیں خدا کا یہ مقصد نہیں ہے۔خدا کسی سیاست داں کی مانند نہیںہے کہ وہ ہر روز ایک نئی چال سے لوگوں کو ایک خاص راستہ کی طرف لگادے اور جب ایک طریقہ سے کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرلے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کردیتا ہے کہ وہ صحیح راہ سے واقف ہو جائیں :
اب آگے انسان کو خودصاحب اختیار ہے۔خدا وند عالم فرماتا ہے :
(فَمَنْ شَائَ فَلْیُوْمِنْ وَمَنْ شَائَ فَلْیَکْفُرْ)(١)
''پس جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کا فر ہوجائے''۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہو تا ہے:
(وَلَوشَائَ اﷲُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدَیٰ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ)(٢)
''(نادانی نہ کرو )اگر چاہے سب کو ہدایت پر جمع کردیتا (مگر وہ نہیں چاہتا کہ سب مجبور ہو کرایمان لے آئیں )پس آپ اپنا شمار نادانوں میں نہ ہونے دیں ''۔
ایک مقام پر خدا ارشاد فرماتا ہے:
..............
١۔سورئہ کہف آیت ٢٩۔
٢۔سورئہ انعام٣٥۔
(لَعَلَّکَ بٰخِعنَفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ۔ اِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَآئِ آیَة ًفَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ لَھَاخَاضِعِیْنَ )(١)
''شاید (اس فکر میں آپ)اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے کہ یہ کفار ایمان کیو ں نہیں لاتے اگر ہم چاہتے کہ ہر قیمت پریہ لوگ ایمان لے آئیں تو ان لوگوں پر آسمان سے کوئی ایسا معجزہ نازل کردیتے کہ ان لوگوں کی گر دنیں اسکے سامنے جھک جاتیں''۔
ان سے ملتی جلتی دوسری تعبیر یں بھی ہیں لیکن بہ ظاہر ان کے دوسرے معنی ہیں۔ بعض مقامات پر ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ آیت کیوں نازل نہیں ہوتی ؟شاید پہلی نظر میں یہ خیال آئے کہ وہ کہتے تھے کوئی معجزہ کیوں نہیں لاتے لیکن غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قرآن کی آیات ہیں یعنی کبھی کبھی وحی نازل ہوئے کئی دن ہوجایا کرتے تھے اس وقت منافقین یا کفّار کہا کرتے تھے کہ ان کا جبرئیل کہاں ہے ؟کوئی آیت کیوں نازل نہیں ہوتی ؟کبھی کبھی توہین آمیز الفاظ استعمال کیا کرتے مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے :جائو کہیں سے ایک آدھ گڑھ لائو ۔ پیغمبر اکرم ۖکو ان سب کے یہ طعن وطنز برداشت کرنے پڑتے تھے ۔
سورئہ اعراف میں اس کی طرف اشارہ ہے :
(وَاِذَالَمْ تَأْتِھِمْ بِآیَةٍ قَالُوْا لَوْلَااجْتَبَیْتَھَا قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِع ُمَایُوْحَیٰ اِلَیَّ مِنْ رَبِِّیْ۔۔۔)(٢)
''اور جب آپ ان کے پاس کو ئی آیت نہ پیش کرتے توکہتے آپ نے اسے کیوں نہیں بنا لیا (اے رسول ) آپ کہد یجئے کہ میں تو بس اسی وحی کا پا بند ہوں جو میرے پر ور دگا ر کی طرف سے میرے پاس آتی ہے''۔
لولا اجتبیھا (اجتبائ)''یعنی طول دینا کہیں سے اپنی طرف جذب کر نا''بہ ظاہر اس سے یہ مراد ہے کہ اگر رسول پر کوئی آیت نازل نہ ہوتی، اور وحی میں دیر ہوجاتی تو کہتے آپ ادھر ادھر کہیں سے خود کیوں نہیں بنالیتے ان سے جواب میں کہدیں میں تو بس خدا کی وحی کا پابند ہو ں جب وہ مجھ پر وحی کر ے گا میں پہنچا دونگا اور جب وحی نہ کرے گا تو میں اپنی طرف سے کچھ نہیں پیش کرسکتا ۔
(قُل انَّمَا ا تَّبعُ مایُوحیٰ الیَّ مِنْ رَبّیْ ) بظاہر اس آیت میں ''بآیةٍ ''سے مراد قر آن کی آیت ہے ۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی دوسری آیت بھی ہے اس کے با رے میں بھی یہی احتمال پایا جاتا ہے:
..............
١۔سورئہ شعرا ء آیت٣۔٤۔
٢۔سورئہ اعراف آیت ٢٠٣۔
( وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْلَااُنْزِ لَ عَلَیْہِ آیَة مِنْ رَبِّہِ فَقُلْ اِنَّمَا الغَیْبُ لِلَّہِ فَا نْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِنَ المُنْتَظِرِیْنَ )(١)
''اور کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر کو ئی آیت کیوں نہیں نازل ہو تی تو (اے رسول ) کہد یجئے کہ غیب کا علم تو صرف خدا کے واسطے ہے انتظار کرو اور میں (بھی )تمہا رے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہو ں ''۔
یہاں بھی احتمال ہے کہ آیت سے مراد قر آنی آیات کے نازل ہو نے کا مطالبہ ہو ارشاد ہو تا ہے کہ علم غیب خدا سے مخصوص ہے۔آیات الہٰی غیب سے تعلق رکھتی ہیںاور میرے ہا تھ میں نہیں ہیں،جب خدا چاہتا ہے نازل کرتا ہے میں بھی انتظار کر رہا ہوں جب خدا وحی کرے گا میں تمہارے سامنے بیان کردو نگا ۔
ا لبتہ ایک دوسرا احتمال یہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر کوئی دوسرا معجزہ کیوں نہیں لاتے ۔
اور پھر ارشاد ہوتا ہے :(انّما الغیب لّلہ) یعنی معجزہ کا تعلق بھی غیب سے ہے اور وہ خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔
اسی طرح قرآن نے بعض اہل کتاب کا قول نقل کیا ہے :
(اَلَّذِیْنَ قَالُوْااِنَّ اللَّہَ عَہِدَ اِلَیْنَا اَ لَّانُوْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتَّیٰ یَاتِیَنَابِقُرْبَانٍ تَاکُلُہُ النَّارُ۔۔۔)
'' وہ کہتے تھے کہ خدا نے ہم سے عہد لیا ہے کہ جب تک کوئی رسول ایک قربانی نہ کرے اور اس کو (آ سمانی ) آگ خاکستر نہ بنا دے اس وقت تک ہم اس پر ا یمان نہ لا ئے ''۔
اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو یہ کام انجام دید یجئے پیغمبر اسلام ۖ کو حکم ملتاہے کہ جواب میں کہد یجئے :
( قُلْ قَدْ جَائَکُمْ رُسُل مِنْ قبَْلِی بِا لَبیِّنَاتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ )(٢)
''( اے رسول ) کہد یجئے کہ اگر تم اپنے قول میں سچّے ہو کہ اس طرح کا عمل انجام پانے کے بعد تم ایمان لے آئو گے تو بتائو مجھ سے پہلے کے نبیوں نے جب یہ کام کیا تو ان پر ایمان کیوں نہ لائے؟ نہ صرف یہ کہ ایمان نہ لائے بلکہ تم نے انھیں قتل کر دیا ؟''۔
..............
١۔ سو رئہ یو نس آیت ٢٠۔
٢۔سورئہ آل عمران آیت١٨٣۔
قرآن ان کے ارادوں کو فاش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور ایمان ہی نہیں لانا چاہتے:
اوّ لا ً قرآن اس کی تائیدنہیں کرتاکہ خدانے ایسی کوئی سفارش کی ہو بلکہ قرآن فرماتا ہے : اس سے پہلے پیغمبر آئے واضح اور بیّن دلایل لیکر آئے اس عمل کو بھی انجام دیا توکیوں تم ایمان نہیں لائے اور ان کو قتل کر ڈالا ؟
اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ خداوند عالم لوگوں کی خواہشات نفسانی کا تابع نہیں ہے کہ وہ جو کچھ در خواست کریں خدا اس کو انجام دیدے بلکہ خدا کا کام خود اسی کی اپنی حکمت کی اساس وبنیاد پر ہے جس کو وہ خود جانتا ہے اور صرف جس حد تک اتمام حجت کی ضرورت ہو تی ہے، ضروری جانتا ہے او ر اس سے زیا دہ اس کی مخصوص مصلحتو ں کے تا بع ہے۔
پیغمبر پر کچھ اور معجزات کیو ں نہیں نا زل ہو تے اس کے جوا ب میں قرآ ن فر ما تا ہے :
(وَمَامَنَعْنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالآ یَا تِ اِلَّا اَن کَذَّبَ بِھَاالآوَّلُونَ وآ تَیْنَاثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْابِھَاوَماَنُرْسِلَ بِالآیَاتِ اِلَّاتَخْوِیْفاً ) (١)
''اور ہمیں معجزات کے بھیجنے سے بجز اس کے اور کو ئی وجہ مانع نہیں ہے کہ گزشتہ قو مو ں نے انھیں جھٹلا دیا اور ہم نے قو م ثمو د کو کھلے معجزے کے طور پر او نٹنی عطا کی جو (ہما ری قدرت ) ظاہر کرتی تھی تو ان لو گو ں نے اس پر ظلم کیا اور ہم تو معجزے صرف ڈ را نے کی غرض سے بھیجا کر تے ہیں ''۔
اس مطلب کی ذرا وضاحت ضرو ری ہے آیت کے ظا ہری معنی میں کچھ ابہا م پایا جاتا ہے کہ دو سرو ںکی تکذیب معجزہ لا نے میں کیسے مانع ہو سکتی ہے ؟اس کے مختلف طریقو ں سے جواب دیئے گئے ہیں ۔ منجملہ یہ :
چو نکہ پہلے'' آ یتو ں'' کے بھیجنے سے کو ئی نتیجہ نہ نکل سکا اب اگر اس کے بعد بھی آیتیں بھیجے تو یہ فعل عبث ہو گا اور خدا وند عالم عبث کام انجام نہیں دیتا لیکن اتنا بیان کر دینا بھی کا فی نہیں ہے کیا خدا نہیں جانتا تھا کہ ان معجزو ں کا بھیجنا بے سو د ثابت ہو گا ؟یعنی اگر خدا جا نتا تھاکہ اس سے پہلے بھیجی جا نے والی آیات کا کو ئی فائدہ نہیں ہے تو ان کو نہ
بھیجتا ؟ یہ وجہ جو بیان کی گئی ہے مبہم ہے گو یا خدا کو پہلے یہ علم نہیں تھا کہ اس کا فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا ۔لہٰذا گزشتہ قو مو ں میں بھیج کر امتحان کیا اور جب یہ دیکھ لیا کہ اس کا کو ئی فائدہ نہیں ہے تو کہہ دیا اب نہیں بھیجو ں گا یقینا یہ بات صحیح نہیں ہے اور یقینا کہنے وا لے کا بھی یہ مقصد نہیں ہے پس ہم اس بیان کی اسطرح تکمیل کر سکتے ہیں :
پہلے جو آیت بھیجی گئی وہ اتمام حجت کے لئے تھی اور خدا بھی جانتا تھا کہ لوگ چا ہے ایمان نہ لا ئیں لیکن اتمام حجت کے لئے آ یت کے بھیجنے میں ہی مصلحت ہے اور یہ کام لغو یا بے فا ئدہ نہیں ہے لیکن اب اگر اتمام حجت کے بعد
..............
١۔سو رئہ اسراء آیت ٥٩ ۔
دو بارہ آیت بھیجے تو یہ لغو و بے فائدہ ہو گا۔
بعض دو سرے مفسرین اس آیت کی اس طرح تفسیر کر تے ہیں : اس آیت میں ''آیات '' سے مراد وہ عذاب ہیں جو گزشتہ قو مو ں پر نازل ہو ئے ۔ گزشتہ قو مو ں پر نا زل ہو نے والے عذاب، عذاب استیصال کی صورت میں نازل ہو ا کر تے تھے ۔یعنی پوری قوم نیست و نا بود ہو جایا کر تی تھی ۔ اس طرح کا واقعہ تاریخ میں متعد د مر تبہ پیش آیا ہے ۔ خدا نے کو ئی نشانی نازل کی لو گو ں نے اس کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہو گیا اگر خدا وند عالم اس اُمت پر بھی اُسی طرح کی آیات نازل کر ے تو یہ بھی عذاب کی مستحق ہو گی لیکن اس امت کے ہلا ک کئے جانے میں مصلحت نہیں ہے اس امت کو تو قیامت تک باقی رہنا ہے لہٰذا اس امت پر تباہ کنندہ عذاب نازل نہیں ہو گا مر حو م علامہ طبا طبائی نے اسی مطلب کی تائید کی ہے۔
بہر حال مجمل طور پر ان آ یتو ں سے پتہ چلتا ہے کہ ہر پیغمبر سے جو کچھ مطالبہ کیا جا ئے وہ اس کو انجام دیدے ایسا نہیں ہے ،بلکہ ان سے بہت زیا دہ مطالبے کئے جا تے تھے اور ان پر بہت زیا دہ زور دیا جاتا تھا لیکن انبیاء علیہم السلام ان کو قبول نہیں کر تے تھے کیو نکہ مصلحت نہیں تھی اور حجت بھی تمام ہو چکی تھی۔
نتیجتاًقر آ ن بھی اس بات کی تا ئید کر تا ہے کہ معجزہ ،حجت تمام کر نے کے لئے ہے او ر اس سے زیادہ کی کو ئی ضرو رت بھی نہیں ہے اور ان مخصوص مصلحتو ں کی تا بع ہے جو ہر زمانہ میں مو جو د رہی ہے۔



7
معجزہ کا دائر ئہ حدود راہ اور رہنما کی پہچان

معجزہ کا دائر ئہ حدود معجزہ کے سلسلہ میں ایک یہ مسئلہ بیا ن کیا جاتا ہے کہ کیا معجزہ پیغمبر کی نبوّت کے اثبات سے مخصوص ہے یا معجزہ کا دائرہ نبوّت کے اثبات سے عام ہے ؟یعنی وہ غیر معمولی امور کہ جن کو قرآن نے معجزہ کے عنوان سے بیان کیا ہے آیا وہ ان امور سے ہی مخصوص ہے جو کسی پیغمبر کو اس کی نبو ت کے اثبات کے لئے دیا گیا ہے یا ان مقامات سے مخصوص اور منحصر نہیں ہے ؟
قرآن کریم میں معجزہ کے واقعات کی تحقیق وجستجو سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ معجزہ صرف نبوت کے اثبات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی نبوت کے اثبات کے علاوہ بھی معجزے دکھلائے ہیںاور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ دوسرے خاصان خدا نے بھی خداوند عالم کی عطا کردہ طاقت وقوَت کے ذریعہ معجزات دکھلائے ہیںاور دنیا میں ایسے بھی واقعات رو نما ہوئے ہیں جو ایک انسان کے بس کی بات نہیں ہوسکتے لیکن قدرتی اصولوں کے خلاف محض ارادہ الٰہی کے تحت عالم فطرت سے مافوق بنیادوں پر رو نما ہوئے ہیں ۔ منجملہ خود انسان کی پیدائش، قرآن کریم کی رو سے، قوانین فطرت کے مطابق نہیں تھی ۔یعنی ایسا نہیں تھا کہ مادہ نے مخصوص حالات سے گزرنے کے بعد خود بخود انسان کی شکل اختیار کرلی ہو۔قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کا واقعہ ایک غیرمعمولی امر کی صورت میں بیان ہوا ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلقت کا واقعہ اور کچھ دوسرے واقعات بھی ہیں جن کی طرف ہم اشارہ کرینگے۔یہ سب اثبات نبوت کے لئے معجزہ کے عنوان سے بیان نہیں کئے گئے ہیں ۔لہٰذا بنیادی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی خلقت ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔قوانین فطرت کے بر خلاف ہواہے اسی طرح دوسرے انسان با وجودیکہ اپنے سے پہلے انسانوں کے ذریعہ پیدا ہوئے اور بعد میں پیدا ہونے والوں انسانوں کے لئے ایک قانون فطرت فراہم آگیا لیکن پھر بھی کبھی کبھی اسی قانون آفرینش میں بعض غیر معمولی واقعات بھی وجود میں آئے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادی اسباب وعوامل کے بغیر غیر معمولی طور پر خلق ہوئے۔اسی طرح نبوت کی بنیاد بھی ایک غیر معمولی امر ہے یہ کہ ایک انسان پر وحی ہواور اس کو علم عطا کردیا جائے ایک غیر معمولی واقعہ ہے دینوی اسباب اس بات کے متقاضی نہیں ہوتے کہ ایک انسان کسی مافوق ذات سے اس طرح کا رابطہ نبی کے عنوان سے بر قرار کرے۔در حقیقت خود نبوت قوانین فطرت سے الگ ایک غیر معمولی امور کا ایک سلسلہ ہے جو عذاب کی شکل میں مختلف قوموں پر نازل ہوا اور وہ بھی نبوت کے اثبات کے لئے نہیں تھا۔جیسے حضرت نو ح نے ایک ہزار سال کے بعد خدا وند عالم سے اپنی قوم پر عذاب نا زل کرنے کی دعا فرمائی اور خدا وند عالم نے عذاب نازل کیا اور وہ سب کے سب نیست و نا بود ہو گئے ۔ یہ واقعہ بھی نبوت کے اثبا ت کے لئے معجزہ کی صو رت میں نہیں تھا ۔ بلکہ ایک عذاب الہٰی تھا جو ظا ہراً قدرتی اسباب و عوا مل کے تحت نہیں تھا۔ کیو نکہ اس با رے میں قر آ ن کریم کے لہجے سے لگتا ہے کہ یہ ایک غیر معمو لی واقعہ تھا ۔ اسی طرح قوم عاد،قوم ثمود ،قوم لوط اوردو سری قو مو ں پر جو عذاب نازل ہو ئے یہ سب غیر معمولی انداز میں واقع ہو ئے ہیں یعنی ملائکہ نازل ہو تے عذاب نازل کر تے اور قوم نیست و نا بود ہو جایا کرتی تھی یہ سب واقعات بھی نبو ت کے لئے نہیں تھے۔بلکہ سر کشو ں اور کا فروں کا فیصلہ کر نے کے لئے تھے یہ سب عذاب استیصا ل تھے اوراصو لی طور پر قرآ ن کریم میں عذاب کی جن قسمو ں کو عذاب استیصال کے نام سے بیان کیا گیا ہے وہ سب غیر معمو لی عذاب ہیں جو بہر حال نبو ت کو ثابت کر نے کی غرض سے نہیں تھے۔
اسی طرح جو عذاب تنبیہ کے طور پر کسی قوم یا جماعت پر نازل ہو تے تھے اور وہ سب کے لئے نہیں ہو تے تھے ان کے بھی غیر معمو لی طور پر نازل ہو نے کا امکان پایا جا تا ہے جیسے بنی اسرائیل کے بعض لو گو ں کا بندر اور سُور میں تبدیل ہو نا ( وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَةَ وَالخَنَا زیرَ)''اور ان میں سے کسی کو (مسخ کر کے )بندر اور (کسی کو ) سور بنا دیا ''یہ بھی غیر معمو لی امو ر ہیں جو نبو ت کے اثبات کے لئے نہیں ہیں۔
ان کے علا وہ بھی واقعات ہیں جو قرآ ن کریم میں بہت بڑی تعداد میں مو جو د ہیں جو خاص نو عیت کے غیر معمو لی واقعہ کی نشاندہی کر تے ہیںلیکن نبوت کو ثابت کر نے کے لئے نہیں پیش آ ئے ہیں۔حضرت زکریا کا بوڑھاپے میں صاحب او لا د ہو نا ،اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کاصاحب فر زند ہو نا وغیرہ ۔
اس طرح کے امور کبھی کبھی بعض مومنین کے ایمان پختہ کرنے کیلئے ہوتے تھے اور کبھی دوسری مصلحتوں کو مدّ نظر رکھکر انجام پا تے تھے۔
حتی معجزہ کا دائرہ صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ دوسرے افراد نے بھی معجزات دکھائے ہیں ۔قرآن کریم میں بہت سے ایسے غیر معمولی امور کا ذکر ہے جو انبیائے کرام سے مخصوص نہیں ہیں ۔خاص طور سے وہ علوم جو بعض افراد کو عطا کئے گئے یا وہ الہامات جو بعض افراد پر کئے گئے سب غیر عادی رہے ہیں۔
لہٰذا اس سوال کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معجزہ کا دائرہ صرف ایسے غیر معمولی امور سے مخصوص نہیں ہے جو نبوت کو ثابت کرنے کے لئے انجام دئے جاتے ہیں ۔
اب ہم ان میں سے بعض معجزاتی واقعات بیان کرتے ہیں :
اگر ہم مختلف قوموں پر نازل شدہ عذاب کی تحقیق و جستجو کرنا چاہیں تو بحث طولانی ہوجا ئیگی کیونکہ قرآن کریم میں اس طرح کے مسائل جگہ جگہ تکرار کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ کس قوم پر کو نسا عذاب نازل ہوا ہے اور یہ بحث انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی تاریخ کے موضوع سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔لہٰذا ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرینگے جو مخصوص اشخاص کے لئے قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیںیا انبیاء علیہم السلام کے ان معجزوں کو بیان کریں گے جو نبوت کے اثبات کے لئے قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئے ہیں :

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان دو نشانیوں کے علاوہ جو آپ کو اپنی نبوت کے اثبات کیلئے عطا کی گئیں تھیں بنی اسرائیل کے مصرسے نکل جانے اور فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے کے بعد بھی بہت سے معجزے ظاہر ہوئے جن کو قرآن کریم نے نبو ت کی بنیاد بنایا ہے :
الف :ان کا سب سے پہلا مسئلہ دریا کو پار کر نا تھا :قر آن میں ارشاد ہو تا ہے :
( وَجَٰوَزْنَابِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ۔۔۔)(١)
''اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار کر دیا ''۔
جب بنی اسرائیل نے مصر کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا تو رات کے وقت کھلے اور ایک بڑے دریا کے کنا رے پہنچے جس کو انھیں پار کر نا تھا ۔ تو خدا وند عالم نے دریا کو خشک کر دیا اور بنی اسرائیل اس سے گزر گئے اور یہ کام نبوت کے اثبات کے لئے نہیں تھا اس لئے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی نبوت بنی اسرائیل پر ثابت ہو چکی تھی اور فر عو نیو ں نے آپ کی نبوت کو مانا ہی نہیں تھا ۔ایسی صورت میں معجزہ کی کو ئی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ معجزہ رو نما ہوا اور دریا خشک ہو گیا ۔
ب:بنی اسرائیل طویل راستہ چلنے کی وجہ سے پیاس سے جاں بلب تھے اور پانی میسر نہیں تھا تو حضرت مو سیٰ
..............
١۔سو رئہ اعراف آیت ٣٨ ١۔
نے خدا وند عالم سے اپنی قوم کیلئے پانی کی درخواست کی تو آواز قدرت آ ئی اے موسیٰ علیہ السلام اپنا عصا ایک پتھرپر مارو تا کہ اس سے بنی اسرائیل کے نبیو ں کی تعداد کے مطابق بارہ چشمے جاری ہو ں چنا نچہ اس واقعہ کے بعد سے وہ اس پتھر کو اپنے ساتھ اٹھا کر چلتے تھے جہاں پر بھی ان کو پیاس لگتی تھی اسی عمل کو انجام دیتے تھے ۔اس بارے میں قرآن کریم فر ماتا ہے :
(۔۔۔وَاَوْحَیْنَا اِلَیٰ مُوسَیٰ اِذِاسْتَسْقٰہُ قَومُہُ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَا کَ الحَجَرَ فَاَنْبَجََسَتْ مِنْہُ اثْنَتَاعَشْرَةَ عَیْناًقَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ ۔۔۔) (١)
''اور جب مو سیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے پا نی مانگا تو ہم نے ان پر وحی کی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو (پس ) اس پتھر سے (پا نی کے )بارہ چشمے پھو ٹ نکلے اور ہر قبیلہ نے اپنا چشئمہ آب پالیا ''۔
ج:بنی اسرائیل بیا بان میں گرمی کی شدت سے پریشان تھی تو خدا وند عالم نے ان پر سا یہ کے لئے بادل کے ایک ٹکڑے کو معین فر مادیا کہ وہ ان کو آفتاب کی تمازت سے بچائے۔قرآن کریم میں یہ بات کئی مقامات پر بیا ن ہوئی ہے منجملہ سورئہ بقرہ (آیت ٧ْ٥)میں ہے (وَظَلّلْنَا عَلَیکُمُ الْغَمَامَ۔) (اور ہم نے بنی اسرائیل پر ابر کا سایہ کیا )اور یہ کوئی عام با ت نہیں تھی بلکہ یہ غیر معمولی کام خدا وند عالم کے خاص ارادہ سے واقع ہوا تھا کہ بنی اسرائیل آفتاب کی تمازت سے پریشان نہ ہوں۔
د: چنانچہ بنی اسرائیل (جیسا کہ روایات میں ہے کہ خود بنی اسرائیل کہا کر تے تھے کیو نکہ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کو دھو کہ باز اور ضدی قوم کے عنوان سے تعارف کرایا ہے۔وہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کے احکام کی ٹھیک سے اطاعت نہیں کر تے تھے اور دین کے احکام کو جیسا چاہئے تھاقبول نہیں کر تے تھے )نے یہ تجویز رکھی کہ واقعاًیہ احکام خدا وند عالم کی طرف سے ہیں تو اس پہا ڑ کو اس کی جگہ سے ہٹا دیجے ٔاور ان کی یہ درخواست قبو ل بھی ہو ئی :
(وَاِذْنَتَقْنَاالْجَبَلَ فَوْقَھُمْْ کَاَنَّہُ ظُلَّة وَظَنُّوْااَنَّہُ وَاقِع بِھِمْ۔۔۔ )(٢)
''جب ہم نے ان (کے سروں )پر پہاڑ کو چھت کی طرح لٹکا دیا اور وہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان پر ابھی گر پڑے گا ''۔
البتہ بنی اسرائیل حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کر تے تھے لیکن بہانہ بازی کیا کر تے۔
ر: جس بیا بان میںبنی اسرائیل کچھ مدت تک مقیم رہے وہاں (منّ و سلوی ) کا نزول بھی شاید ایک غیر معمولی
..............
١۔سورئہ اعراف آیت ١٦٠ ۔
٢۔سورئہ اعراف آیت ١٧١ ۔
طریقہ تھا (کیو نکہ بیابان میں سکو نت اختیار کر نے کی وجہ بھی خدا وند عالم کے حکم سے نا فر مانی بنی تھی۔خدا نے حکم دیا تھا کہ شہر میں دا خل ہو کر وہاں کے کا فرو ں سے جنگ کریں ایک بنی اسرائیل نے بھی نہیں مانا اور کہنے لگے موسیٰ علیہ السلام تم اور تمہا را خدا جا ئے ان سے جنگ کرے او ر ان کو شہر سے با ہر کر دے ہم اس کے بعد شہر میں داخل ہو نگے:
(فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَا تِلَا اِنَّا ھَٰھُنَا قَا عِدُوْنَ )(١)
''تم اور تمہارا خدا (جا ئے )اور دو نوں (جا کے )لڑو ہم تو یہیں جمے بیٹھے ہیں''۔
خداوند عالم کے اس حکم کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ خداوند عالم نے حکم دیدیا کہ چایس سال تک اسی بیابان میں زندگی بسر کریں ۔
(اربعین سنة یتیھون فی الارض)و ہ چالیس سال تک مصر کے جنگل میں بھٹکتے رہے صبح کے وقت چلنا شروع کرتے اور چلتے رہتے تھے پھر عصر کے وقت یہ دیکھتے تھے کہ جہاں پر صبح کے وقت تھے اب بھی وہیں پرہیں (البتہ قرآن میں اسکا ذکر نہیں ہے ) اور حضرت موسی علیہ السلام بھی اسی چالیس سال کی مدّت کے دوران دنیا سے کوچ کر گئے ۔اس دوران انھوں نے جب خشک بیابان میں کھانے کی فرمائش کی تو خداوند عالم نے ان پر منّ وسلوی( ٢) نازل کیا ۔
قرآن کریم کے ظاہر کلام سے پتہ چلتا ہے کہ (من و سلوی ) کا نزول ایک غیر معمولی چیز تھی، جولوگ معجزوں کے منکر ہیں آسانی سے اس کی تاویل کرسکتے ہیں جیسا کہ کہا بھی ہے : منّ ایک مخصوص گھا س تھی جس سے ایک خاص قسم کا عرق نکلتا تھا اور سلوی بھی ایک قسم کا پرندہ تھاجو اسی جگہ پر ہوتا تھا وہ لوگ اسی گھاس اور پرندوہ کو کھایا کرتے تھے لیکن ظاہر قرآن سے لگتا ہے منّ سلوی کا نزول بھی ایک غیر معمولی طریقے سے ہوتا تھا لیکن ہم کو اس بات پرزیادہ اصرار نہیں ہے چونکہ صاف طور پر بیان نہیں ہوا ہے لہٰذا ہم نے احتمال کے طور پر لکھا ہے کہ(منّ سلوی ) بھی شاید غیر معمولی طریقہ سے نازل ہوتا تھا ۔
بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ایک سلسلہ ہے جو ان کے ہا تھوں بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوا ہے حالانکہ آپ کی نبوت ثابت ہوچکی تھی اور اپنی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے معجزہ دکھلانے کی ضرورت نہیں تھی ۔
..............
١۔سورئہ ما ئدہ آیت ٢٤۔
٢۔من و سلوی کے مختلف معنی ہیں لیکن مشہور ومعروف یہ ہیں کہ (منّ) تر نجین کو کہتے ہیں اور ( سلوی ) بھنا ہوا گو شت یا (تیتر یا بٹیر ) کے مانند پرندہ ہوتے تھے جنکا وہ شکار کرتے تھے اور ذبح کر کے کھا جاتے تھے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دستر خوان کا وا قعہ ہے جس کا سورئہ ما ئدہ میں ذکر ہے اور اسی مناسبت سے اس سورہ کانام مائدہ (خوان )رکھا گیا ہے اور یہ نبوت کو ثابت کر نے کیلئے نہیں تھا کیونکہ حوار ئین، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کے شاگرد تھے ایک دن ان کے ذہن میں آیا کہ اس طرح کی فرمائش کرنا چاہئے اور انھوں نے کھانے کے لئے حضرت عیسیٰ سے آسمان سے خوان نازل ہونے کی در خواست کردی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی یہ پیشکش قبول کرلی اور خداوند عالم کے حضور دعا مانگی تو خداوند عالم نے اس طرح کا خوان نازل فرمایا اور سب نے کھا یا ۔ یہ بالکل واضح سی بات ہے یہ ایک غیر معمولی بات تھی حضرت عیسیٰ کی درخواست پر آسمان سے خوان نازل ہوا جبکہ یہ نبوت کے اثبات کیلئے نہیں تھا ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات الف :حضرت ابراہیم علیہ السلام بو ڑھے ہوچکے تھے اور حالانکہ آپ کے کوئی اولاد نہ تھی آپ خود بھی بہت بوڑھے ہوگئے تھے اور آپ کی زوجہ (سارہ ) بھی با نجھ تھیں۔جس وقت قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کی غرض سے فرشتے نازل ہوئے وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے چونکہ حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے اور آپ کی ہی طرف سے تبلیغ کرتے تھے اور حضرت لوط نبی تھے لیکن حضرت ابراہیم کی (شریعت کی )اتباع کرتے تھے(١)۔
ملائکہ ابتدا ء میں انسانوں کی شکل میں ظاہر ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خیال کیا کہ آپ کے پاس مہمان آئے ہیں آپ نے ان کی مہمانی کیلئے گوسفند ذبح کرکے حاضر کر نے کا حکم دیا جب کھانالگایا گیا تو انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا اور عام رواج میں یہ چیز بہت معیوب سمجھی جاتی تھی کہ کسی کے گھر مہمان آئے اور میزبان اس کے سامنے کھانا لگا ئے اور مہمان کھا نا کھانے سے پرہیز کرے اگر کوئی ایسا کرے تو اس کو دشمنی اور کینہ کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ لوگ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو پریشان ہوگئے کہ کیا
..............
١۔بعض انبیائ، رسول اور صاحب شریعت ہیں (اگر چہ تمام رسول بھی صاحب شریعت نہیں ہیں)اور دوسرے انبیاء (چاہے وہ ایسے زمانے میں ہو ںیا بعد والے زمانے میں )صاحب شریعت نبی کے تابع ہوتے ہیں چنانچہ حضرت لوط حضرت ابراہیم کی شریعت کے تابع تھے ۔
بات ہے کھانا کیوں نہیں کھاتے ؟ انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیرت کو دور کرنے کیلئے کہا کہ ہم خداوند عالم کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور شہر لوط کو زیر وزبر کرنے کیلئے آئے ہیں۔اسی موقع پر انھوںنے حضرت ابراہیم کو یہ اطلاع دی کہ خداوند عالم آپ کو دو بیٹے عطا کرے گابعض آیات میں ایک بیٹے کا ذکر ہے اوربعض دوسری آیات میں دوبیٹوں کاتذکرہ ہے لیکن زیادہ ترآیات میں صرف حضرت اسحٰق علیہ السلام کا تذکرہ ہے ۔ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ بشارت دی تو آپ کی زوجہ آپ ہی کے پاس تھیں جب انھوں نے سنا:
(فَاَ قْبَلَتِ امْرَأَتُہُ فِی صَُّرَّةٍ فَصَکَّتْ وَجْھَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزعَقِیْم )
''تو ابراہیم کی بی بی چلاتی ہوئی انکے سامنے آئیں اور اپنا منھ پیٹ لیا اور کہنے لگیں ایک تو (میں) بڑھیا (اس پر ) بانجھ لڑکا کیونکر ہوگا ''۔
یہ عورتوں کی عادت ہے کہ کسی تعجب خیز واقعے کے وقت وہ گلا پیٹتی ہیں اس آیت میں مکمل طور پر اس کی منظر کشی کردی گئی ہے (فَصَکَّتْ وَجْھُھَا)اپنے گال پیٹ کر کہا میں صاحب اولاد ہونگی؟ ملائکہ نے کہا (کذلک قال ربک)آپ کے رب نے یو نہی فر ما یا ہے آپ صاحب اولا د ہونگی؟ (فَبَشّرَنَاھَابِاِسحَٰقَ وَ مِنْ وَرَاء اِسْحَٰقَ یَعْقُوْبَ ) مقصود یہ ہے کہ یہ بھی ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔سارہ بھی بانجھ تھیں اور خود حضرت ابراہیم بھی بوڑھے ہوچکے تھے شاید اس وقت آپ کی عمر سو سال ہوگی اسی حالت میں خدانے آپ کو صاحب اولاد ہونے کی بشارت دی۔(١)
ب ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرودیوں کی آگ سے نجات دینے کا واقعہ بھی بہ ظاہرنبوت کے اثبات کے لئے نہیں تھا کیونکہ یہ مسئلہ ثابت ہوچکاتھا اس کے بارے میں بحث کرچکے تھے اورا گرحضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی نبوت کے اثبات کے لئے معجزہ دکھانا لازم تھا تو آپ معجزہ دکھلا چکے تھے اوراور حضرت براہیم علیہ السلام کو آگ میںڈالنے کی ضرورت کہ خدا وند عالم حضرت ابرا ہیم کی پیغمبری کے اثبات کے لئے ان کو آگ سے نجات دے
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت ٦٩۔یہ بشارت کا واقعہ قر آن کریم میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے منجملہ :سورئہ ہود آیت ٧١۔٧٣، سورئہ حجر آیت ٥٣۔٥٥، سورئہ والذاریات آیت٢٨۔٣٠۔
نہیں رہ گئی تھی ۔ بظاہر یہ بھی نبوت کو ثابت کر نے کے لئے نہیں تھابلکہ یہ منجانب اﷲ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ایک کرامت تھی۔اگر چہ یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ خداوند عالم اس کے ذریعہ ان کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پیغمبر ہیں۔اس واقعہ کا بھی قرآن کریم میں بہت زیادہ تذکرہ ہے منجملہ ارشاد ہوتا ہے :
(قُلْنَایَانَارُکُوْنِی بَردًاوَسَلَاماً عَلَٰی اِبرَاہِیْمَ )(١)
''تو ہم نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر با لکل ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا (کہ ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے''
ج:حضرت ابراہیم کے ذریعہ پرندوں کے زندہ ہونے کا واقعہ بھی ہے جب آپ نے خداوند عالم سے درخواست کی تھی کہ اے پروردگار :
(رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَیٰ)(٢)
''اے میرے پروردگار مجھے دکھادے کے تو مردے کو کیونکر زندہ کرتا ہے''۔
حکم ہواابراہیم چارپرندوںکوذبح کرکے ان کے گو شت الگ الگ مقام پر رکھدو۔۔۔اور پھر ان کو آواز دواور جب آپ نے ان کو آواز دی تو وہ زندہ ہوگئے۔یہ بھی نبوت کے اثبا ت کے لئے نہیں تھا کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے علاوہ شاید آپ کے پاس اور کوئی نہیں تھا ایک بیابان میں جہاں آپ کے (اردگرد ) دسیوں پہاڑ پھیلے ہوئے تھے آپ نے یہ کام انجام دیا ممکن ہے کسی اور نے دیکھا بھی نہ ہو ۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی کرامت انبیاء علیہم السلام سے ظاہر ہونے والی کرامات میں سے حضرت زکریا کا واقعہ بھی ہے جس کاقرآن کریم نے دو مقامات پر ذکر کیا ہے ارشاد ہے :
(ذِکْرُرَحْمَةِ رَبِّکَ عَبْدَہُ زَکَرِیَّا)(٣)
''یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی کا ذکر ہے جو(اس نے )اپنے بندہ زکریا کے ساتھ کی تھی''۔
حضرت زکریا علیہ السلام بہت بوڑھے ہوچکے تھے جیسا کہ قرآ ن کریم میں خود جنا ب زکریا کی زبانی آیا ہے :
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت٦٩۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت٢٦٠۔
٣۔سورئہ مریم آیت ٢۔
(قَالَ رَبِّ اِنِّی وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّی )عرض کی اے میرے پالنے والے میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں۔
(وَاشْتَعْلَ الرَّأْسُ شَیْبًا)''اور سر کے بال اور بھویں مکمل طور پر سفید ہوچکی ہیں''۔
(وَکَانَتِ امْرَأَتِیْ عَاقِراً)اور ان کی بیوی بھی اس وقت تک بانجھ تھیں۔پھر بھی انھوں نے خداوندعالم سے فرزند کی دعا کی اور خدا نے بھی آپ کی دعا مستجاب فرمائی اورآپ کو حضرت یحییٰ جیسا فرزند عطا کیا۔
سورئہ آل عمران میں اس بات کا معمولی تمہید کے ساتھ بڑے لطیف انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔یعنی پہلے حضرت مریم علیہا لسلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ آپ کا بیت المقدس میں ایک حجرہ تھا جس میں آپ عبادت میں مشغول رہا کرتی تھیں۔(١)
حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے آپ بیت المقدس کے منتظم تھے ظاہرہے آپ ہی حضرت مریم علیہا السلام کی خبر گیری رکھتے تھے کہ حضرت مریم علیہا السلام کی روز مرہ کی ضروریات پورا کرے لیکن :
(کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَعِنْدَھَارِزْقاً)(٢)
''جب بھی زکر یا ان کے پاس محراب عبادت میں جاتے تو مر یم کے سامنے غذا مو جود پاتے''۔
یہ بھی ایک کرامت تھی جو ایک غیر نبی کے لئے انجام پائی (جن کا ہم نے یہاں پر اپنے مو ضو ع کی مناسبت سے ذکر کر دیا ہے )جناب زکریا علیہ السلام پو چھتے :
(قَالَ یَامَرْیَمُ اَنَّٰی لَکِ ھَٰذَا)
''اے مریم !یہ (کھا نا )تمہا رے پاس کہاں سے آیا ''۔
(قَالَتْ ھُوَمِنْ عِنْدِاللََٰہِ اِنَّ اللَّہَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَآئُ ُبِغَیْرِحِسَا بٍ )
''تو مریم یہ کہہ دیتی کہ یہ خدا کے یہاں سے (آیا )ہے بیشک خدا جس کو چا ہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے ''۔
..............
١۔بنی اسرائیل میں رواج تھا کہ کبھی کبھی اپنی اولاد کو بیت المقدس میں عبادت اور خدمت کے لئے وقف کردیتے تھے حضرت مریم کے باپ نے نذر کی تھی کہ اگر خدا نے ان کو اولاد دی تو وہ اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دیں گے ان کے ذہن میں لڑ کا تھا لیکن جب لڑ کی دیکھی تو کہا (فَلَمّاَ۔۔۔کَالاُنثَٰی) جب اپنے بچہ کو دیکھا تو کہا پرور دگار یہ تو بچی ہے اور خدا بہتر جانتا ہے اس نے کیا پیدا کیا ہے اور لڑکا لڑکی کے مانند نہیں ہے لیکن جیسا کہ نذر کی تھی حضرت مر یم کوبیت المقدس میں لے گئے اور شاید یہ پہلا مو قع تھا کہ ایک لڑکی بیت المقدس میں خدمت اور عبا دت کے لئے لا ئی گئی تھی ۔
٢۔آل عمران آیت ٣٦۔
ایک دو مر تبہ نہیں بلکہ :(کُلَّمَا دَخَل۔۔۔)جب بھی (زکریا ) ان کی محراب عبادت میں جاتے تو مریم کے سا منے غذا مو جو د پا تے ۔یعنی حضرت مریم علیہا لسلام کی روزی آسمان سے نازل ہوا کرتی تھی۔جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا لسلام کے لئے ان چیزو ں کا مشاہدہ کیا کہ خدا اپنے صالح بندوں پر اسی طرح لطف و کرم کرتا ہے تو آپ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں بھی اپنے خدا سے ایک فر زند کی خواہش کروں اور آپ نے دعا کی :
(ھُنَا لِکَ دَعَاْ زَکَرِیَّا رَبَّہُ )
یہ ماجرا دیکھا اور خدا سے دعا کر بیٹھے بہر حال یہ بھی ایک کرامت ہے جو آپ کو عطا کی گئی تھی ۔

حضرت مریم کی کرامت (اِذْقَاْلَتِْ الْمَلَائِکَةُ یَامَرْیَمُ اِنَّ اللَّہَ یُبَشِّرُ کِ بِکَلِمَةٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَیٰ ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْھاًفِیْ الدُّ نْیَاوَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ )(١)
''(جب فرشتوں نے (مریم سے ) کہا اے مریم !خدا تم کو اپنے کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام عیسی ابن مریم ہو گا اور وہ دنیا وآخرت میں آبرو اور خدا کے مقرب بندوں میں ہو گا ''۔
جس وقت حضرت مریم اپنے حجرے میں عبا دت میں مشغو ل تھیں تو فرشتے نے آپ پر وحی کی (اب حضرت مریم نے اس وقت کو اپنی آنکھو ں سے دیکھا یا نہیں یہ آیت سے پتہ نہیں چلتا) آپ کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔
اس کا نام بھی خدا وند عالم نے رکھ دیا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم ،اور اس کی خصو صیات بھی بیان فر ما دی ہیں کہ وہ بچپن میں لو گو ں سے با تیں کرے گا اور اسکے بعد ایسا ویسا کرے گا :
(وَیُکَلِّمَ النَّاس فِی الْمَھْدِ وکَھلاً وَمِنَ الصَّالِحِیْنَ )
''اور جب وہ جھو لے میں پڑا ہو گا اور بڑی عمر کا ہو جا ئیگا لو گو ں سے با تیں کرے گا اور نیکو کا روں میں ہو گا ''
اس وقت حضرت مریم علیہا السلام نے کہا :
(قَالَتْ رَبِّ اَنَّیٰ یَکُوْنُ لِیْ وَلَد وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَر۔۔۔ )
''میں کیسے صا حب فر زند ہوں گی جبکہ میں نے شا دی نہیں کی ہے اور کسی مرد نے مجھے ہاتھ نہیں لگا یاہے''۔
فرشتو ںنے کہا:(قَالَ کَذَ لِکِ اللَّہُ یَخْلُقُ مَایَشَائُ ۔۔۔)
..............
١۔آل عمران آیت ٤٥۔
''خدا کا یہی فیصلہ ہے کہ آپ صا حب ادلا د ہوں''۔
حضر ت مریم علیہا السلام کے صاحب فرزند ہو نے کی بشارت کا واقعہ بھی غیر معمو لی تھااور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان (اگر چہ پیغمبر نہ ہو )فرشتوں کے ذریعہ خدا وند عالم کے مخاطب بن سکتے ہیں اور ان پر الہام (یا عام معنی میں ان پر وحی کی جا سکتی ہے۔)
اس کے بعد حضرت مر یم علیہا السلام نے نا گہاں ایک انسان کو اپنی مخصوص محراب عبادت میں جہاں حضرت زکریا علیہ السلام کے علا وہ اور کو ئی نہیں آ سکتا تھا دیکھا جو ایک خو بصورت جوان کی شکل میں ظاہر ہو ا تھا حضرت مریم نے کہا :
(قَالَتْ اِنِّیِ اَعُوذُبِالرَّحْمَٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیّاً )
حضرت مریم علیہا السلام نہیں سمجھ سکیں کہ یہ جوان فرشتہ ہے آ پ نے خیال کیا کہ کو ئی ایسا شخص ہے جوشاید کسی برے قصد سے یہاں پر آیا ہے لہٰذا اس فرشتہ نے کہا :
(قَالَ اِنَّمَااَنَارَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلَاماًزَکِیّاً )
ایک انسان کے سامنے فرشتہ کا ظا ہر ہو نا بھی ایک غیر معمولی بات ہے اور اسکے بعد حضرت مریم علیہا السلام کا اسباب طبیعی کے بغیر صاحب فر زند ہو نا بھی غیر معمو لی واقعہ ہے جو ایک غیر نبی کے لئے رو نما ہو ا ہے۔



8
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی کرامت راہ اور رہنما کی پہچان

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی کرامت قرآن کریم میں نبی کے لئے بیان کی جا نیوالی کرا متو ں میں سے ایک حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی ما در گرا می کی داستان ہے: (وَاَوْحَیْناَ اِلَٰی اُمِِّ مُوْسَٰی اَنْ اَرْضِعِیْہِ )(١)
یعنی خدا کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے پاس وحی ہوئی کہ تم اس بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا ئے نیل میں ڈال دو اور یہ خوش خبری بھی دیدی گئی کہ ہم اس کو پھر تمہارے پاس پہنچادیں گے اور اس کو (اپنا رسول )بنائیں گے۔
..............
١۔سورئہ قصص آیت٧۔

طا لوت کی کرامت غیر معمولی واقعات میں سے ایک واقعہ طالوت کے تابوت کا بھی ہے طالوت پیغمبر نہیں تھے لیکن خداوند عالم
نے ان کے لئے یہ معجزہ ظاہر کیا تا کہ بنی اسرائیل ان کی حکومت تسلیم کرلیں البتّہ یہ کہاجا سکتا ہے کہ یہ بھی ایک پیغمبر کا معجزہ تھا جن کو روایات میں (صموئیل )کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
لیکن قرآن میں آیت کا لہجہ اس طرح نہیں ہے بلکہ قرآن کہتا ہے :
(وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ آیَةَ مُلْکِہِ اَنْ یَاتِیَکُمُ الَّتابُوتُ فِیہِ سَکِینَة مِنْ رَبِّکُم)(١)
''ان کے (من جانب اﷲ)باد شاہ ہونے کی یہ پہچان ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسکین کی چیزیں ہیں''۔
بہر حال اس میں دو احتمال دیئے جاتے ہیں کہ یاتو یہ صموئیل کیلئے جو نبی تھے معجزہ ہے اگر چہ یہ اثبات نبوت کیلئے نہیں تھا یا پھر یہ طالوت کیلئے کرامت و معجزہ ہے جو خود پیغمبر نہیں تھے۔

ارمیا اور حضرت یونس علیہ السلام کے معجزات اسی طرح (ارمیا )(یا عزیز )کا واقعہ ہے جو سو سال مردہ رہنے کے بعد دو بارہ زندہ کئے گئے یہ واقعہ بھی نبوت کے اثبات کیلئے نہیں تھا بلکہ پیغمبر کیلئے ایک غیر معمولی قسم کا واقعہ تھا ۔
اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے شکم سے نجات پاجانے کا واقعہ ہے : جب حضرت یونس اپنی قوم کی اصلاح سے ناامید ہوگئے تو آپ نے دریا کی راہ لی اور کشتی پر سوار ہوگئے اتفاقاًدریا میں تلاطم ہوااور کشتی ڈوبنے لگی ۔اس زمانہ میں یہ رسم تھی کہ جب کو ئی دریائی جانور کشتی پر حملہ کر تا تھا تو اس سے نجات پانے اور کشتی سے دورکر نے کے لئے قر عہ ڈالا جاتا تھا اور اسکے مطابق کشتی میں بیٹھے کسی ایک شخص کو در یائی جانور کے منھ میں ڈال دیا جاتا تھا ، قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نا م نکل آیا دوسری اورتیسری مرتبہ بھی آپکا ہی نام نکلا آخر کا ر آ پ کو دریا میں ڈالا گیا ۔
ظاہر ہے کہ اس طرح کے جانور کے منھ میں جا نے کے بعدانسان کے بچنے کا کو ئی سوال باقی نہیں رہ جاتا ۔ مچھلی آپ کو نگل گئی آپ نے مچھلی کے شکم میں یہ کہا :
(فَنَادَیٰ فِیْ الظُّلُمَٰتِ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن۔ فَاسْتَجَبْنَالَہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَالِکَ نُنْجِی الْمُوْمِنِیْنَ )(٢)
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٢٤٨۔
٢۔سورئہ انبیاء آیت٨٧۔٨٨۔
''پس ( یو نس نے بطن ما ہی کے )اندھیر ے میں آواز دی کہ (پر ور دگارا !)تیرے سوا کو ئی معبود نہیں تو (ہر عیب سے ) پاک و پاکیزہ ہے بیشک میں ظلم کر نے والو ں میں سے ہوں تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں رنج سے نجات دی اور ہم تو ایما ندارو ں کو یو نہی نجات دیا کرتے ہیں'' ۔
قر آن کریم میں یہ واقعہ کئی جگہ بیان ہو ا ہے اور بعض جگہو ں پر اس کو تفصیل سے بیا ن کیا گیا ہے کہ مچھلی نے آپ کو در یا کے با ہر اگل دیااور خدا نے آپ پر سایہ کے لئے کدو کا درخت اُگا دیا وغیرہ ۔۔۔
بہر حال یہ بھی ایک غیر معمولی واقعہ تھا جو اثبات نبوت کیلئے نہیں تھا۔چونکہ آپ کئی سال تک اپنی نبوت کے فرائض انجام دے چکے تھے اور اپنی قوم سے نا امید ہو چکے تھے۔

حضرت دائو د علیہ السلام کے کرامات قرآن کریم میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے با رے میںآیات زیادہ ہیں کہ خداوند عالم نے ان دونوں باپ بیٹے پر اپنا خاص لطف وکرم رکھا ہے منجملہ یہ کہ حضرت دائود کو زرہ بنانے کی صفت سے نوازا اور آپ کے ہاتھ میں لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا البتہ یہ بھی ایسا نہیں ہے کہ قابل تاویل نہ ہو چنانچہ معجزہ کا انکار کرنے والوں نے اس کی بھی بڑ ی آسانی سے تاویل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جو قرآن فرماتا ہے :( وَعلَمَّنا ہ صنَعَةَ لبوُسٍ) یہ اس وجہ سے ہے کہ خداوند عالم کی صفت ہے کہ وہ تمام اشیاء کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے چنانچہ یہ ایک توحیدی انداز بیان ہے اور لوہے کو نرم کرنا بھی کو ئی غیر معمولی طریقہ سے نہیں تھا بلکہ خدا وند عالم نے آپ کو تعلیم دیدی تھی کہ مثال کے طور پر لو ہے کو نرم کرنے کی ایک بھٹی بنائو اور آپ نے خود تجربوں سے ان تمام چیزوں کو سیکھ لیا تھا کہ کس طرح لو ہے کو نرم کرکے اس کے حلقے تیار کرکے زرہ بنائی جاتی ہے لیکن اس بارے میں قرآن کا انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کو یہ سب معجزہ کے عنوان سے عطا کیا گیا تھا اورخدا لوگوں پر احسان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ داوئو د کو زرہ بنانے کی تعلیم ہم نے دی تا کہ :
(لتُِحْصِنَکُم مِن بَأْسِکُمْ )(١)
''جنگ کے وقت وہ تمہاری حفاظت کریں'' ۔
(اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْد ) سے بھی نہیں ظاہر ہوتاکہ حضرت داوئو د بھٹی میں لوہا رکھ کر نرم کیا کرتے تھے بلکہ ظاہر
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت٨٠ ۔
مطلب یہی ہے کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا ۔اسی طرح حضرت داوئو د علیہ السلام زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے آپ کا لحن اتنا اچھا تھا کہ پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ خدا کی تسبیح میں شریک ہوجاتے تھے ۔معجزہ کا انکار کرنے والے اس کی بھی تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حضرت داوئود علیہ السلام پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر زبور کی تلاوت کرتے تھے توآپ کی آواز پہاڑ سے ٹکراتی تھی اور یہ وہی آواز کی گونج تھی جو لوگ سنتے تھے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور کچھ پرندے بھی ایسے ہیں جن کوانسان کی اچھی آواز بہت پسند ہے اور وہ جمع ہوجاتے ہیںلیکن قرآن کا لہجہ اس بارے میں کسی عام طرح کے واقعہ کی نشاندہی نہیں کرتا ۔
مثال کی طور پر قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَسَخَّرْنَامَعَ دَاوُوْدَالْجِباَلَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ )(١)
''اور ہم نے داوئو د کے ہمراہ پہاڑ اور پرندوں کو بھی تسخیر کرلیا کہ (خداکی )تسبیح کریں''۔
کیا یہ تعبیر آواز کے مر تعش ہونے سے میل کھاتی ہے ؟''والطیر''یعنی''وسخرناالطیریُسَبِّحْنَ ، (وَکُنَّافَاعِلِیْنَ )اس بات کی مزید تاکید ہے کہ اس کام کو ہم نے (یعنی خدا نے) انجام دیا۔ اگر یہ ایک عام واقعہ تھا تو (وکنا فا علین )کی ضرورت نہیں تھی۔
دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
(وَلَقَدْ اٰتَیْنَادَاوُدَمِنَّا فَضْلا ًیَٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہُ وَالطَّیْرَوَاَلَنَّالَہُ الْحَدِ یْدَ۔اَنِ اعْمَلْ سَابِغَٰاتٍ وَقَدِّرْ فِی السَّرْدِ۔۔۔ )(٢)
''اور ہم نے یقیناً داود کو اپنی طرف سے بزرگی عنایت کردی کہ اے پہاڑ و ںاور اے پرند وں ان کے ہم آواز ہوجائو اور ان کے واسطے لو ہے کو نرم کردیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ فراخ وکشادہ زرہیں بنائو اور (کڑیوں کے ) جوڑنے میں اندازہ کا خیال رکھو ۔۔۔''۔
یہ بھی بہ ظاہر آواز کا قدرتی ارتعاش نہیں ہے البتّہ یہ تمام چیز یں انھیں نبوت ثابت کرنے کیلئے نہیں عطا کی گئی تھیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے کرامات ١۔حضرت سلیمان علیہ السلام کوایک معجزہ عطا کیا گیا تھا کہ آپ پرندوں کی باتوں کو سمجھ لیتے تھے:
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت٧٩ ۔
٢۔سورئہ سبا آیت ١٠ ۔١١ ۔
(وَوَرِثَ سُلَیْمَٰانُ دَاوُدَ وَقَالَ یَااَیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِوَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ۔۔۔)(١)
''سلیمان داود کے وارث ہوئے اور کہا لوگوہم کو پرندوں کی بولی بھی سکھائی گئی ہے اور ہمیں (دنیا کی)ہرچیز عطا کی گئی ہے''۔
شاید اس آیت سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ حضرت داود بھی ایسے ہی تھے کیو نکہ آیت میں (عُلَّمْنَا )کہا گیا ہے جو جمع کا صیغہ ہے اور(عُلِمْتُ )نہیں ہے۔
٢۔اور ان آیات سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ جانوروں کی زبان کا جاننا صرف پرندوں تک محدود نہیں تھا بلکہ دوسرے حیوان بھی شامل ہو جا تے تھے چو نکہ حضرت سلیمان علیہ السلام چیونٹیوں کی آواز بھی سن سکتے تھے:
(یَااَیُّھَاالنَّمْلُ ادْخُلُوْامَسَٰکِنَکُمْ ) (٢)
''اے چیو نٹیوںاپنے اپنے سوراخوں میں گھس جائو''۔
حضرت سلیمان نے اسکو سنا اور سمجھ لیا :
(فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًامِنْ قَوْلِھَا۔۔۔ )
'' پس سلیمان اس کی بات سن کر ہنس پڑے۔۔۔''۔
٣۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک معجزہ یہ تھا کہ خدا وند عالم نے آ پ کے لئے ہو ا کو مسخّر کر دیا تھاکہ آپ جس جگہ چا ہتے تھے ہو ا آپ کے حکم سے آپ کے تخت کو اٹھا کر لیجاتی تھی لیکن معجزہ کا انکار کر نے والے کہتے ہیںکہ یہ ایک طرح کا ہو ائی جہاز تھا جو اس زمانہ میں بنا یا گیا تھا لیکن قر آ ن کریم کے لہجہ سے ایسا نہیں لگتا :
(وَلِسُلَیْمانَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْروَرَوَاحُھَٰا شَھْر )(٣)
''اور ہم نے ہوا کو سلیمان کا تابع بنا دیا تھا وہ ایک صبح میں ایک مہینہ کی (مسافت )طے کرلیتے تھے اور رات میں بھی ایک مہینہ کی راہ طے کرتے تھے''۔
اسی سلسلہ کی ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :
(فَسَخَّرْنَالَہُ الرِّیْحََ تَجْرِیْ بِاَمْرِہِ رُخَائً حَیْثُ اَصَابَ )(٤)
..............
١۔سورئہ نمل آیت ١٦۔
٢۔سورئہ نمل آیت١٨۔١٩۔
٣۔سورئہ سبا آیت ١٢۔
٤۔سورئہ ص آیت ٣٦۔
''پس تو ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے تھے ان کے حکم کے مطابق دھیمی چال سے چلتی تھی''۔
٤۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک اور معجزہ تھا کہ خداوند عالم نے ان کے لئے تا نبے کا ایک چشمہ ظاہر کردیا تھا گویا تانبہ پگھلانے کی صنعت ان کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے خداوند عالم فرماتا ہے :
(وَاَسَلْنَالَہُ عَیْنَ الْقِطْرِ )
''اور ہم نے ان کیلئے تانبے (کو پگھلا کر اس)کا چشمہ جاری کردیا تھا ''۔
٥۔اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک اور معجزہ یہ تھا کہ جن اور شیا طین ان کے قبضے میں تھے قرآن کریم فرماتا ہے :
(وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہِ وَمَنْ یَزِغْ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَانُذِ قْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ )(١)
''اوردیو کی ایک جماعت ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے کام (کاج )کرتی تھی اور ان میں سے جس کسی نے ہمارے حکم سے انحراف کیا اسے ہم آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے''۔
اورپھر اس کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ جنات کیا کیاکام کرتے تھے :
(یَعْمَلُوْنَ لَہُ مَایَشَائُ مِنْ مَحَارِیبَ وَتمَٰثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَواب وَقُدُوْرٍ ٍرَاسِیَاتٍ)(٢)
''سلیمان جو کچھ بنوانا چاہتے یہ جنّات او نچے محل اور مجسمے اور حوض کے برابر پیالے اور (بڑی بڑی) دیگے بنادیتے تھے ''۔
اس آیت سے بہ ظاہر پتہ چلتا ہے کہ محل وغیرہ کی سجاوٹ کیلئے تصویر وغیرہ ۔۔۔بنا تے تھے ۔
اسی سلسلہ کی دوسری آیت میں آیا ہے :
(۔۔۔وَالشَّیَٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّائٍ وَغَوَّاصٍ۔ وَآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِیْ الاَصْفَٰادِ)(٣)
''اور دیو کو ان کمے قابو میں کردیا جو عمارت بنانے والے اور غو طہ لگانے والے تھے اور اس کے علاوہ بھی دوسرے
دیوئو ں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑ ے ہوئے تھے''۔
..............
١۔سورئہ سبا آیت١٢۔
٢۔سورئہ سبا آیت١٣۔
٣۔سورئہ ص٣٧۔٣٨۔

اصحاب کہف غیر نبی کیلئے ظاہر ہو نے والی کرامت میں سے ایک اصحاب کہف کا واقعہ بھی ہے جو ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان لو گوں کے لئے جو پیغمبر بھی نہیں تھے خداوند عالم نے ان کو تین سو سال گہری نیند سلا دیا اور پھر ان کوبیدارکیاو۔۔۔''۔
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی غیر معمولی واقعات انسان کے اراد ہ کے تابع نہیں ہوتے یعنی ضروری نہیں ہے ہمیشہ غیرمعمولی کام انسان کے ارادے اور اختیار سے ہی انجام پائیں بلکہ ممکن ہے فرشتوں کے ارادہ سے انجام پائیں البتہ اس میں انسان کے ارادہ کی بھی نفی نہیں کی گئی ہے لیکن اصحاب کہف کا واقعہ اس طرح ہے کہ خود انھوں نے تین سو سال سونے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ کچھ دیر آرام کے بعد دوبارہ اپنے راستہ پر آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن خود ان کے یا کسی دوسرے انسان کے چاہے بغیر خداوند عالم نے ان کو تین سو سال سلا ئے رکھا :

عقلی نکتہ یہاں پر نامناسب نہ ہوگا اگر ایک عقلی نکتے کی طرف اشارہ کردیا جائے :
غیر معمولی واقعات جب کسی انسانی نفس سے منسوب ہوں تو ہم اس وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وجود فلاں موجود کو متا ثر کرنے کرنے یا وجود میں آنے کا ذریعہ بنا ہے اور چونکہ اس کا بدن سے تعلق ہے اس میں مادی شرطیں پائیں جاتی ہیںلیکن جب تقریباً کسی غیر مادی علّت سے منسوب ہو تو یہ سوال پیش آتا ہے کے مجرد تام کی نسبت تمام چیزوں اور تمام جگہوں سے ایک ہوتی ہے تو کیسے ایک مجرد تام بہ درجہ کوئی مخصوص مادی واقعہ کسی جگہ ایجاد کر سکتا ہے ؟ یہ وہ اعتراض ہے جن کا فلسفہ اور معجزات کا عقلی تجزیہ کر نے والوں کو سامنے کرنا پڑ تا ہے اس کے جواب میں وہی بات کہدینا کافی ہے جو خود فلسفہ تمام عادی امور میں دیتے ہیں اور وہ یہ ہے :کوئی بھی مادہ جب (وجود کیلئے ) تیار ہوجاتا ہے عقل وفعّال کے ذریعے اس کو صورت دی جاتی ہے وقت اور جگہ سے اس کا مخصوص ہونا یہ قابل استعداد پر منحصر ہے فاعل کی تاثیر نہیں ہے۔اصحاب کہف کے اندر یہ استعدادجو پیدا ہوئی تھی اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کون سی استعدادتھی لیکن ان کے اندر کچھ ایسے حالات کا پایا جانا کہ جن کا تقا ضا اس طرح کا تھا طے ہے تو معلوم ہوا کہ اس کا فاعل کسی مجرد تام کو مان لے جو ان موجودا ت کا باعث ہوا ہو لیکن اس کا ان افراداور اس زمان سے مخصوص ہونا خود فا عل کی طرف سے ہو تو ان کے ما بین کوئی منافات نہیں پائی جاتی۔

نتیجہ اس پوری بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیر معمولی واقعات خواہ وہ علم کی صورت میں ہوں ،خواہ فرشتوں کے تکلّم یا مخصوص افعال کا نتیجہ ہو انبیاء علیہم السلام سے مخصوص نہیں ہیں اور نہ ہی مقام اور نبوت کے اثبات سے مخصوص ہیں۔عقل کی بنیاد پر جو بات ضروری ہے وہ یہ کہ جب کسی پیغمبرکی نبوت کا اثبات معجزہ پر موقوف ہو تو معجزہ دکھلا یا جانا چاہئے تا کہ حجت تمام ہوجائے لیکن تمام مقامات پر یہ ایک طرح کا خدا کا فضل اور لطف ہے اور جب بھی اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے تو وہ ایک غیرمعمولی کام معجزہ یا کرامت کی صورت میں انجام دیدیتا ہے۔



9
دائمی اعجاز راہ اور رہنما کی پہچان

دائمی اعجاز یہ بیا ن کیا جا چکا ہے کہ اگر انبیاء علیہم السلام کی نبوت کا اثبات معجزہ پر مو قو ف ہو تو حکمت الہٰی تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو معجزہ عطا کر دے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖکے با رے میں اس کی کیا صورت ہے قر آ ن کریم فر ماتا ہے کہ گذشتہ انبیا ء علیہم السلام نے پیغمبر اسلا م ۖکے ظہو ر کی بشارت دی تھی یہا ں تک کہ اہل کتاب پہلے سے آپ کے ظہو ر کے منتظر تھے۔اس بنا ء پر ان کے لئے آنحضرت کی نبو ت ثابت تھی اور اتنے واضح وآشکار قرینے اور نشانیاں مو جود تھیں کہ آنحضرت کی نبوت میں کسی شک وشبہ کی کو ئی گنجائش نہیں تھی ۔ جہاں تک دوسرے لو گو ں کا سوال ہے تو جو بشا رتیں انھیں دی گئیں تھیں اور جن کو وہ بیان کیا کرتے تھے (اور بعد میں متحقق ہو ئیں ) ان کی وجہ سے ان پر بھی حجت تمام ہو چکی تھی لیکن چو نکہ پیغمبر اسلام ۖکسی ایک سر زمین اور کسی ایک زمانہ کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے تھے بلکہ جب تک انسان اس رو ئے زمین پر زندہ ہیں اور زندگی بسر کر تے ر ہیں گے ان کو پیغمبر اسلامۖ کا اتباع کر نا ہے ایسی صورت میں حکمت الہٰی کا یہ تقا ضا ہے کہ آنحضرت ۖ کو ایساجا ودانہ معجزہ عطا کرے جو کسی خاص زمان اور مکان سے مخصوص نہ ہو۔ چو نکہ تمام انبیا ء علیہم السلام کے معجزات صرف اپنے زما نہ والو ں کے لئے جو ان سے ملا قات کر تے تھے ثابت ہو نا کا فی تھا اور اس کے بعد غا ئبین کے لئے حا ضرین کے نقل کر دینے سے ثابت تھا لیکن یہ طریقہ ہمیشہ کے لئے بہت زیا دہ مفید نہ تھا ۔ یعنی اگر صرف دو سروں کے نقل کر نے پر اکتفاء کر لی جاتی تو ہزا روں سال کی مدت میں یہ محض نقل کر نے کا طریقہ آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ۔لہٰذا کو ئی ایسا (دائمی معجزہ ) ہو نا چا ہئے تھا کہ جس کے ذریعہ لوگ ہمیشہ پیغمبر اسلام ۖ کی نبوت کو پہچان سکیں ۔ اسی وجہ سے خداوندعالم نے پیغمبر اسلام ۖ پر ایسی کتاب نازل فر مائی جو بذات خود بڑا ہی عظیم اور جا ودانہ معجزہ ہے۔

اہل کتاب کے نزدیک پیغمبر اسلام ۖ کی نشانیاں (اَلَّذِیْنَ آتَیْنَا ھُمُ الْکِتَا بَ یَعْرِفُوْ نَہُ کَمَا یَعْرِ فُوْنَ اَبْنَا ئَ ھُمْ ) (١)
''اہل کتاب جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (اسی طرح )وہ اس (پیغمبر حضرت محمد)کو بھی پہچانتے ہیں''۔
جس ما حول میں یہ آیت نازل ہو ئی اس کی تحقیق کریں توحقائق کے سمجھنے میں بہت مدد ملے گی خدا وند عالم نے اہل کتاب کے با رے میں پیغمبر اسلام ۖسے اس دشمنی کے با وجود جو ان میں سے بعض آپ کے ساتھ رکھتے تھے صاف طور پر فر مایا ہے:
(ےَعْرِفُوْنَہُ کَمَا یَعْرِفُوْ نَ اَبْنَا ئَ ھُمْ )
''وہ آپ کو اپنے بچوں کی طرح پہچانتے تھے''۔
اگر اس مسئلہ میں کو ئی شک و شبہ ہو تا تو وہ اتنا پرو پگنڈہ کر تے کہ جس کا تصور نہیں، ایسا نہیں ہے ہم اس پیغمبر کو نہیں پہچانتے ،ہماری کتا بوں میں ان کے بارے میںکچھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن قر آن کریم نے دو مرتبہ صاف طور پر کہا ہے کہ کہ وہ اپنے بچو ں کی طرح اِس پیغمبر کو پہچانتے ہیں اور ان کے پاس کہنے کو اس کا کو ئی جواب بھی نہیں تھا ۔
( وکَانُوامِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا فَلَمَّاجَائَ ھُمْ مَاعَرَفُوْا کَفَرُوْابِہِ فَلَعْنَةُ اللَّہِ عَلَی الکَافِرِیْنَ )(٢)
''اہل کتاب با وجودیکہ پہلے (آنحضرت کے ظہور کے ذریعے )کافروںپر فتحیاب ہونے کی دعائیں مانگتے تھے پھر بھی ان کے آنے اور پہچان لینے کے بعد بھی انھوں نے انکار کیا (اور ایمان نہیں لائے)پس کافر وں پر خداکی لعنت ہے ''۔
پیغمبر اسلام ۖکے مبعوث ہونے سے پہلے اہل کتاب مشرکوں کے ساتھ گفتگو کے وقت یہ بشارت دیا کرتے تھے کہ تمہارے درمیان سے ایک پیغمبر مبعوث ہونے والا ہے جو ہماری تصدیق کرے گا اس وقت تم لوگ سمجھو گے کہ ہمارا دین حق ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور اس سے ہماری عزت وآبرو بڑھے گی کہ ہمارا دین باطل نہیں تھا یہی لوگ جو مشرکوں سے اس طرح کی گفتگو کیا کرتے تھے جب پیغمبر اسلام ۖ مبعوث ہوئے تو آپ کو
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ١٤٦ و سورئہ انعام آیت ٢٠۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت ٨٩ ۔
پہچا ننے کے باوجود آپ کے منکر ہوگئے پس کافروں پر خدا لعنت کرے۔
قرآن کلی طور پر فرماتا ہے کہ تورات میں اور انجیل میں بھی اس پیغمبر کے مبعوث ہونے کی بشارت دی گئی تھی :
(اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہُ مَکْتُوْباًعِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالْاِنْجِیْلِ )(١)
''یعنی جو لوگ ہمارے اس رسول سے نبی امّی کے قدم بہ قدم چلتے ہیں کہ جن کا نام انھوں نے اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا دیکھا ہے''۔
مندرجہ بالا آیت میں اہل کتاب کے مومنین کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ اسی پیغمبر کا اتباع کرتے ہیں کہ جس کی بشارت انھوں نے اپنے ہاں توریت وانجیل میں لکھی ہوئی دیکھی ہے۔
پس قرآن ہم کو یہ سمجھا تا ہے کہ پیغمبر اسلا م ۖکے ظہور کی بشارت تورات اور انجیل میں پہلے سے دیدی گئی تھی اور خاص طور سے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبانی نقل فرماتا ہے کہ انھوں نے پیغمبر اسلام (حضرت محمد مصطفی ۖکے ظہور کی بشارت دی تھی اور آپ کا نام (احمد)پہلے سے بتایا تھا:
(وَمُبَشِّراًبِرَسُوْلٍ یَاْ تِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہُ اَحْمَدُ )(٢)
''اور ایک پیغمبر جن کا نام احمد ہو گا اور میرے بعد آئینگے ان کی خو شخبری سناتا ہوں ''۔
(اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْارَسُوْلَھُمْ فَھُمْ لَہُ مُنْکِرُوْنَ )(٣)
''آیا یہ اپنے رسول کو نہیں پہچانتے جو اس کا انکار کر بیٹھے ہیں ''۔
معلوم ہو ا اہل کتاب پیغمبر اسلا م ۖسے مکمل طور پر آشنا تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ وہی پیغمبر ہے کہ جس کے ظہور کی بشارت گذ شتہ انبیاء علیہم السلام نے دی تھی پس قرآن کی رو سے اہل کتاب پر حجت تمام ہو چکی تھی لیکن دوسرو ں کی کیا کیفیت ہے ؟یہ بشا رتیں جو اہل کتاب دیا کر تے تھے اور بعض لوگ اس کی تصدیق بھی کیا کر تے تھے اس سے دو سرو ں کے لئے بھی حجت تمام کر دی تھی یعنی جب کچھ لو گو ں نے آکر یہ خبر دی کہ فلا ں زمانہ میں فلاں قبیلہ سے ایک شخص ان خصو صیات کے ساتھ مبعوث ہو گاتو اس وعدہ کا متحقّق ہونا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ گزشتہ کتا بیںبھی سچی تھیں کہ جن میں سے اس طرح کی خو شخبریاں درج ہیں اور یہ پیغمبر بھی اپنی رسالت کے دعوے میں سچا ہے لہٰذا اہل کتاب جو بشارتیں لو گو ں کے سا منے بیان کر تے تھے اور بعد میں بعض لو گو ں نے بھی اس کی تصدیق کر دی
..............
١۔سورئہ اعراف آیت ١٥٧ ۔
٢۔سورئہ صف آیت ٦۔
٣۔سورئہ مومنون آیت ٦٩ ۔
تھی اس کے سبب دو سرے لو گو ں کے لئے بھی حجت تمام ہو جاتی ہے اس سلسلہ میں قرآن کریم فر ماتا ہے:
(وَشَھِدَ شَاھِد مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلَٰی مِثْلِہِ فَآ مَنَ )(١)
''بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ (شاید ان کے عالم عبد اﷲ سلام کی طرف اشارہ ہے ) گوا ہی بھی دے چکا اور ایمان بھی لے آیا کہ یہ وہی پیغمبر ہے کہ جس کی ہم بشارت دیا کر تے تھے ''۔
ایک اور آیت شریفہ میں ارشاد ہو تا ہے:
( اَوَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ آیَةً اَنْ یَعْلَمَہُ عُلَمَآئُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ) (٢)
''کیا ان کے لئے یہ نشانی کا فی نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس طرح کے نبی کی بعثت سے با خبر ہیں ''۔
معلوم ہو ا گذشتہ کتا بو ں کی بشا رتیں صرف اہل کتاب کے لئے ہی حجت نہیں تھیں بلکہ وہ تمام معا صرین جو ان خو شخبریو ں سے آگاہ تھے اور جنھو ں نے وہ نشانیا ں پیغمبر میں دیکھ لی تھیں ان کے لئے بھی حجت تمام ہو گئی تھی ۔

چیلنج، قر آن کے معجزہ ہو نے کا ثبوت قا رئین کرام جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں چو نکہ پیغمبر اسلام ۖ کی رسالت ابدی اور عالم گیر ہے آپ کا معجزہ بھی عالم گیر ہو نا چا ہئے اسی بناء پر قر آن خود معجزہ کی صورت میں نا زل ہوا۔
قر آن کریم میں بہت سے مقا مات پر یہ دعویٰ موجو د ہے کہ یہ کتاب معجزہ ہے اور کو ئی شخص قرآن کا مثل نہیں لا سکتا ۔ہم یہا ں پر اس مو ضوع سے متعلق آیات مختصر طور پر عرض کر تے ہیں :
پیغمبر اسلام ۖنے متعدد مقامات پر خد ا وند متعال کی طرف سے لو گو ں کو یہ دعوت دی ہے کہ اگر تم لوگوں کو اس کتاب یا میری رسالت میں شک ہے تو تم بھی اس کے مثل کتاب لے آئو۔اتفاق سے بعض لو گ اس طرح کی باتیں کیا کر تے تھے کہ اگر ہم چا ہیں تو اس طرح کی کتاب لا سکتے ہیں قر آ ن کریم ان کے دعوے کو اس طرح نقل کر تا ہے :
(وَاِذَاتُتْلَیٰ عَلَیْھِمْ اٰیاَتُنَاْقَالُوْاقَدْ سَمِعْنَاَلَوْنَشَآئُ لَقُلْنَاْمِثْلَ ھَٰذَآاِنْ ھَٰذَآاِلَّااَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ )(٣)
''اور جب ان کے سا منے ہماری آیتیں پڑھی جا تی ہیں تو بول اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اگر چا ہیں تو اس
..............
١۔سورئہ احقاف آیت ١٠ ۔
٢۔سورئہ شعراء آیت ١٩٧ ۔
٣۔سورئہ انفال آیت ٣١ ۔
طرح کی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ پچھلے لو گو ں کے افسانوں کے سوا ء اور کچھ نہیں ہے ''۔
مقابلہ کی اس دعوت کو چیلنج کہتے ہیں یہ چیلنج قرآن میں کئی طریقہ سے بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ اس قر آن کے مثل لے آئو اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے جیسی کو ئی کتاب یا اس قر آ ن کے سو روں کے مجموعہ جیسا کو ئی مجموعہ لے آئو قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَیٰ اَنْ یَاْتُوابِمِثْلِ ھَٰذَاالْقُرْآنِ لاَ یَأْتُوْنَ بِمِثْلِہِ وَلَوْکَاْنَ بَعْضُھُمٍ لِبَعْضٍ ظَھِیْراً)(١)
''اے رسول )کہہ دیجئے کہ اگر دنیا کے تمام آدمی اور جن اکٹھا ہوں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں گے تو اس کے جیسا نہیں لا سکتے اگر چہ (اس کو شش میں ایک دو سرے کی مدد بھی کریں''۔
اور قر آ ن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:
(فَلْیاْتُوْابِحَدِیْثٍ مِثْلِہِ اِنْ کَانُوْاصَادِقِیْنَ )(٢)
''اگر یہ لو گ سچے ہیں تو ایسا ہی کو ئی کلام بنا لا ئیں ''۔
پس ان دو آیتو ں میں یہ چیلینج کیا گیا ہے کہ اس قر آن کی مانند کو ئی کتاب اور کو ئی کلام اگر لا سکیں تو لے آئیں اور بہ ظاہر مجموعۂ قر آن کا جواب مطلوب ہے لیکن بعض آیات میں پو رے قرآن کی بھی بات نہیں ہے ۔جیسا کہ ایک مقام پر دس سو روں کا اور ایک مقام پر صرف ایک سورہ کا جواب لا نے کا چیلنج کیا گیا ہے جو ظا ہراً قر آن کے چھو ٹے سوروں پر بھی صادق آتا ہے۔یعنی اگر قر آن کے کسی چھو ٹے سورہ کے مثل ایک سطر بھی لے آ تے تو اس آیت کے مطابق پیغمبر اس کو قبو ل کر لیتے اور یہ اس چیز کی نشانی ہو تی کہ یہ کتا ب خدا وند عالم کی کتاب نہیں ہے۔ معلوم ہو ا قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ اگر تمام انسان جمع ہوجائیں تو وہ بھی قرآن کے ایک سطر کے برابر کسی چھوٹے سے سور ہ کا جواب نہیںلاسکتے :
(اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ قُلْ فَأْتُوْابِعشْرِسُوَرٍمِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوْامَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُوْنِ اللَّہِ اِنْ کُنْتُمْ صَٰادِقِیْنَ)(٣)
..............
١۔سو رئہ اسراء آیت ٨٨۔
٢۔سورئہ طورآیت٣٤۔
٣۔سورئہ ہودآیت ١٣۔
''یا یہ لوگ کہتے ہیں یہ شخص اپنی طرف سے گڑھ لیتا ہے اور جھوٹ موٹ اسے خدا کی طرف منصوب کردیتاہے تو آپ ان سے صاف صاف کہدیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں )سچّے ہوتو (زیادہ نہیں )ایسے دس سورہ اپنی طرف سے گڑھ کے لے آئو خدا کے سوا جس جس کو تمھیں بلاتے بن پڑے مدد کے واسطے بلالو ''۔
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو آپ نے خود گڑھ لیا ہے۔تو ان سے کہدیجئے کہ تم بھی اس قرآن کے دس سوروں کے مثل گڑھ کر لے آئو اور جس کو تم چاہو اپنی مدد کے لئے بھی بلاسکتے ہو۔
نہ صرف یہ کہ تم اس کے مثل نہیں لا سکتے بلکہ دوسروں کی مدد کے ذریعہ بھی چاہے جس کسی کو بھی بلالو ایسا نہیں کر سکتے۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
(فَالَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ فَاعْلَمُوْااَنَّمَآ اُ نْزِلَ بِعِلْمِ اﷲِ ۔۔۔)( ١)
''پس اگر وہ قبول نہ کریں تو سمجھ لیجئے کہ یہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور صرف خدا کے علم کی بنیاد پر نازل کیا گیا ہے ''۔
یعنی مقابلے اور چیلنج کی فضا اس قدر آمادہ وتیار ہے کہ اس پر کوئی بھی عاقل انسان اگر غور کرے تو اسے یہ یقین ہوجائیگا کہ یہ کتاب خداوند عالم کی کتاب ہے ۔
کلام عربی زبان میں (بلسانٍ عربی مبین )صاف عربی زبان میں ہے اور انھیں حروف سے ملکر بنی ہے جس میں تمام لوگ باتیں کیا کرتے ہیں ان ہی الفاظ سے بنی جن کا لوگ اپنے محاوروں میںاستعمال کرتے ہیں ، مفردات وہی مفردات ہیں ترکیب نحوی کے لحاظ سے وہی مبتدا خبر، فاعل اور مفعول ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود کوئی شخص قرآن کے دس سورں کے مثال نہیں لا سکتا اور چیلنج کا جواب دینے کیلئے بھی بہت سے تقاضے مو جو د ہیں یہ دیکھتے ہوئے کہ کفّارو مشرکین نے پیغمبر اسلام ۖ کی تبلیغ کے اثر کو ختم کر نے کیلئے اپنی تمام طاقتوں کو صرف کر ڈالا تھا اگر ایک ایک سطر کے دس سورے لکھنا ان کے لئے ممکن ہوتا تو یقین ہے وہ ضرور ایسا کرتے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو یہ بتاتا ہے کہ ایک عام انسان کا کام نہیں ہے قرآن نے ایک دوسری آیت میں مقابلے کی شرط کو اور ہلکا کردیا ہے ارشاد ہو تا ہے:
(اَ مْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ قُلْ فَأْ تُوْابِعشرسُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اِنْ کُنْتُمْ صَاْدِقِیْنَ )(٢)
..............
١۔سو رئہ ہودآیت ١٤۔
٢۔سورئہ ہود آیت ١٣۔
''کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص جھو ٹ ہی (قرآن کی ) خدا کی طرف نسبت دیتا ہے تو آپ (ان سے صاف صاف ) کہہ دیجئے کہ اگر تم (اپنے دعوے میں )سچے ہو تو (زیادہ نہیں )صرف ایک سورہ اپنی طرف سے بناکے لے آئو اور خدا کے سوا جس کسی کو تم سے بلا تے بن پڑے مدد کے واسطے بھی بلا لو ''
ہم دس سوروں سے صرف نظر کرتے ہیں صرف ایک سورہ کا جواب لے آئو اور یہ ایک سورہ بھی صرف ایک انسان نہیں بلکہ جس کو بھی تم چاہو اپنی مدد کے لئے بلالو اپنی تمام طاقتوں اور افکار کو جمع کرلو اور قرآن کے جیسی ایک سطر بنا کے لے آئو ۔
اور رہا یہ مسئلہ کہ بعض آیات میں دس سوروں اور بعض آیات میں صرف سورہ کا چیلنج کیوں کیا گیا ہے ،تو اس بارے میںعام طور پر مفسّر ین قرآن یہ کہتے ہیں کہ یہ درجہ بدرجہ چیلنج ہے ۔
یعنی پہلے یہ چیلنج کیا گیا کہ پورے قرآن کا جواب لے آئو اس کے بعد فرمایا کیا اگر پورے قرآن کا جواب نہیں لاسکتے تو دس سوروں کا جواب لے آئو اس کے بعد فرمایا اگر دس سوروں کا مثل بھی نہیں لا سکتے ہوتو ایک سورہ کا ہی مثل لے آئو اور یہ مد مقابل کی عاجزی کو ثابت کرنے کا زیاد بلیغ اور بہتر طریقہ ہے ۔
لیکن یہ بات اس صورت میں صحیح ہو سکتی ہے کہ آیتیں بھی اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہوں یعنی پہلے وہ آیات نازل ہوئی ہوں کہ جن میں پورے قرآن کے جواب کا چیلنج ہو ،اس کے بعد وہ آیت نازل ہوئی ہو جس میں دس سوروں کا مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہو اور اس کے بعدوہ آیت نازل ہوئی ہو جس میں ایک سورہ کا مثل لانے کا چیلنج ہولیکن قرآنی سوروں کے نازل ہونے سے متعلق روایات کے ساتھ یہ بات میل نہیں کھاتی ۔کیونکہ دس سوروں کا مثل لانے کا چیلنج سورئہ ہود میں ہے اور ایک سورہ کا مثل لانے کا چیلنج سورہ یونس وسورہ بقرہ میں ہے اور عام طور پر جن لوگوں نے قرآن کے سوروں کے نازل ہونے کی ترتیب بیان کی ہے وہ سورئہ یونس کا سورئہ ہود سے پہلے نازل ہونا بیان کرتے ہیں اگر چہ ایک قول یہ بھی ہے کہ سورئہ ہود سورئہ یونس سے پہلے نازل ہوا ہے لیکن زیادہ تر اقوال میں سورئہ یونس کا پہلے نازل ہونا بیان ہوا ہے۔اس بناء پر مشہور روایات کے مطابق درجہ بدرجہ چیلنج میں شدّت کا نظریہ سوروں کے نازل ہونے کی ترتیب کے ساتھ میل نہیں کھاتا اب یا تو ہم غیر مشہور روایت کے قول کو قبول کریں یا پھر کوئی اور وجہ بیان ہونی چاہئے۔
صاحب المیزان علّا مہ طبا طبائی نے اس کی ایک دوسری وجہ بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے :
ایک سورہ کا جواب لانے کا چیلنج ایک جہت سے ہے اور دس سوروں کا جواب لانے کا چیلنج دوسری جہت سے ہے ۔پورا قرآن بلاغت کے لحاظ سے معجزہ ہے اس کے ایک سورہ یا کئی سوروں کے ما بین کوئی فرق نہیں ہے ۔ لہٰذا اگر قرآن کے جیسا ایک سورہ بھی لے آئیں جس میں قرآن جیسی بلاغت ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ قرآن کریم خداوند عالم کا کلام نہیں ہے لیکن صرف بلاغت ہی کسی کلام کے مفیدو رسا ہونے کیلئے کافی نہیں ہے بلکہ مختلف فنون ہیں اور ہر فن کی ایک خاص خصوصیت ہوتی ہے جب خداوند عالم فرماتا ہے کہ دس سوروں کا جواب لے آئو تو گویا یہ کہنا چاہتا ہے کہ کلام میں حُسن پیدا کرنے کے جتنے بھی طریقے اور انداز ممکن ہوسکتے ہیں ان سب کو قرآن چیلنج کرتا ہے گویا یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم کسی بھی اعتبار سے چاہے وہ کلام کا کوئی بھی میدان ہو قرآن کا مثل نہیں لاسکتے ہو۔ قرآن جہاں علوم ومعارف کی بحث ہے تو تم اسکا جواب نہیں لا سکتے ، قرآن جہاں احکام بیان کرتا ہے تم اس کا جواب نہیں لاسکتے قرآن نے جہاں داستانیں اور قصّے بیان کئے ہیں جہاں اخلاق کے موضوع پر باتیں کی ہیں وغیرہ کسی بھی فن میں جن پر قرآن میں گفتگو ہے اگر تم مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو اس کا جواب اسی فن میں لے آئو مثال کے طور پر ایسے دس سورے لے آئو کہ جن میں ہر سورہ کسی خاص روش کا حامل ہو اور کسی خاص فن میں بات ہوئی ہو تمہارے کلام کا قرآن سے اسی وقت مقائسہ کیا جاسکتا ہے کہ جب تم ان تمام فنون میں مقابلہ کرسکو ۔پس ممکن ہے یہ (سورئہ ہود کی) آیت سورئہ یونس کے بعد نا زل ہوئی ہو اور پھر بھی دس سوروں کا جواب لانے کا چیلنج اس میں کیا گیا ہو۔
بہر حال یہ حقیقت ہے کے خداوند عالم نے پو رے قرآن کا بھی، دس سو رہ کا بھی اور ایک سورہ کا بھی مثل لانے کا چیلنج کیا ہے اگر درجہ بہ درجہ چیلنج آیات کے نزول کے ساتھ ثابت ہو جائے تو وہ وجہ سب سے زیادہ واضح اور قابل قبول ہے مند رجہ ذیل آیت میںبھی ایک سورہ کا مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے :
(وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِمَّاْنَزَّ لْنَاعَلَٰی عَبْدِنَافَاْتُوْابِسُوْرَ ةٍ مِّنْ مِثْلِہِ وَادْعُوْا شُھَدَائَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِ قِیْنَ۔فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْاوَلَنْ تَفْعَلُوْافَاتَّقُوْاالنَّارَ الَّتِی وَقُوْدُھاَالنَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ)(١)
''اور اگر تم اس کلام کے با رے میں جو ہم نے اپنے بند ے (محمد )پر نازل کیا ہے شک میں ہو تو اگر تم سچّے ہو تم (بھی ) ایک ایسا ہی سو رہ بنا لا ئو اور خدا کے سواجو تمہا رے گواہ ہو ں ان سب کو (بھی ) بلا لو ،پس اگر تم یہ نہیں کرسکتے ہو اور ہر گز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کے ایندھن بد کار آدمی اور پتھر ہو ں گے اور کا فروں کے لئے تیار کی گئی ہے''۔
تعبیر کے لحاظ سے شاید یہ آیت دوسری آیات سے زیادہ مطلب کو سمجھا سکتی ہو کیو نکہ بحث کے وقت جب دو
..............
١۔سو رئہ بقرہ آیت ٢٣ و ٢٤ ۔
آدمی ایک دوسرے سے بحث کر تے ہیں ایک کہتا ہے کہ اگر تم حق پر ہو تو فلاں کام کر ڈالو زیادہ سے زیادہ یہی تو ہوگا کہ وہ اس کام کو انجام نہیں دے سکے گا اور بحث میں ہار جا ئیگا لیکن قرآن اس پر اکتفا ء نہیں کرتا بلکہ ان کو پوری طرح ابھا رتا اور یہ کام انجام دینے کا شوق دلا تا ہے :
(فَاِ نْ لَمْ تَفْعَلُوْاوَلَنْ تَفْعَلُوْافَاتَّقُوْاالنّاَ رَ ۔۔۔)
صرف تمہارا قبول نہ کرنا اور مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ہم اس کا جواب تو لا سکتے ہیں لیکن لا نہیں رہے ہیں کافی نہیں ہے بلکہ یا تو یہ ثابت کرو کہ یہ خدا کا کلا م نہیں ہے یا پھر اگر تم ثابت نہیں کر سکتے تو تم کو قبول کر لینا چا ہئے لیکن اگر تم نے نہ ثابت کیا اور نہ ہی قبو ل کیا تو سمجھ لو کہ انجام بہت ہی برا ہو گا اور اﷲ کا ابدی عذاب تمہا را انتظار کررہاہے ۔
کو ئی بھی عاقل اس طرح کی تہدید سے متا ثر ہو ئے بغیر نہیں رہے گا اگر اس کا ضمیر زندہ ہے تو وہ اس طرح کے چیلنج کا کو ئی اطمینا ن بخش جواب ضرور ڈھو نڈ ے گا ۔ اس لئے کہ عقل ہر عا قل انسان کو اس طرح کا کو ئی صحیح جواب تلاش کر نے پر ابھا ر تی ہے یا تو اِس کا مثل لے آنا چا ہئے کہ یہ معلوم ہو جا ئے خدا کا کلام نہیں ہے یا کم سے کم خود اپنے اطمینان کے لئے کو ئی دلیل فرا ہم کرے یا (ہار مان کر )اس کو تسلیم کر لینا چا ہئے کہ یہ خدا کا کلام ہے لیکن اگر وہ اس کا مثل نہیں لا سکا تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے خود اس کا جواب لا نا نہیں چا ہا بلکہ پو ری سنجید گی سے کئے گئے اس چیلنج کی موجودگی اس کی عقل کو مندر جہ بالا دو صو ر تو ں میں سے کو ئی ایک صورت کے انتخاب کر لینے پر مجبور کر دیتی ہے در حقیقت یہ آیت تمام آیتو ں سے زیا دہ بلیغ اور رسا ہے جو مدّ مقابل کو فیصلہ کن مقا بلہ کے لئے با لکل تیا ر کر دیتی ہے ۔
(مِثْلِہِ)کی ضمیر کے با رے میں مفسرین کے در میان اختلاف ہے کہ اسکا مر جع کو ن ہے ؟
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ (مِنْ مِثْلِہِ )یعنی (مِنْ مِثْلِ الْقُرْ آن )اور ( کلمہ مِنْ)تبعیض کے لئے ہے ۔ اس بنا پر سو رئہ یو نس کی آیت اور اس آیت دو نو ں کا نتیجہ ایک ہی نکلے گا ۔
لیکن بعض دو سرے مفسرین کہتے ہیں کہ (مثلہ)کی ضمیر (عَبْدِنَا)کی طرف پلٹتی ہے یعنی اس طرح کے شخص کے مثل سے اس طرح کا قر آن لا ئواور یہ قر آن کے دو جہتو ں سے معجزہ ہو نے کی طرف اشارہ ہے :
ایک یہ کہ کو ئی بھی شخص قر آن کے مثل ایک سورہ بھی نہیں لا سکتا ۔
دوسرے یہ کہ خیال رہے ایک ایسا شخص اس طرح کا کلا م لیکر آیا ہے کہ جس نے کسی کے سا منے زا نو ئے ادب تہہ نہیں کیا ہے ۔حتیٰ اگر بہ فرض محال دنیا کے دانشمند تنہا یا مل جل کر اس کا مثل لے بھی آئیں تو خیال رہے کہ پیغمبر نہ تو کو ئی دانش ور ہیں اور انھو ں نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے۔جو شخص کسی مدر سہ میں نہ گیا ہو اور جس نے کسی استاد کے سا منے زا نو ئے ادب نہ تہہ کئے ہو ں وہ اس طرح کی ایک کتاب لیکر آیا ہے اور یہ بہتر طریقہ سے اس چیز کی نشا ند ہی کر تا ہے کہ یہ کلا م کلام خدا ہے اور شاید آیت میں یہ وجہ زیا دہ قوی اور درست ہو ۔

قرآن کریم معجزہ کیوں ہے ؟ قرآن کریم کس رخ سے معجزہ ہے اس بارے میں کافی بحثیں ہیں، کتابیں بھی لکھیں گئی ہیں۔ اور ہم اپنی بحث مکمل کرنے کیلئے قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی وجہیں اجمالی طور پر بیان کرتے ہیں:

١۔صَرف و انصراف بعض علما علم کلام کہتے ہیں کہ قرآن کریم اپنے مطالب و انداز بیان کے اعتبار سے معجزہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم ''صرف یعنی منصرف کردینے ''کی وجہ سے معجزہ ہے ،در حقیقت ایسا نہیں ہے کہ انسان قرآن کی ایک آیت یا سطر کا مثل تیار کرسکے آخر مختلف ترکیبوں سے کام لے کر قرآن کے جیسی ایک سطر کی عبارت تیار کی ہی جاسکتی ہے ۔ بلکہ قرآن تو اس وجہ سے معجزہ ہے کہ خدا لوگوںکو اس طرح کا کام کرنے سے منصرف کردیتاہے ۔
یہ علت ظاہر آیات کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔اس لئے کہ قرآن کا کہنا یہ ہے کہ خود قرآن کریم معجزہ ہے اور کوئی اسکا مثل نہیں لاسکتا نہ یہ کہ خداایسا کرنے سے منصرف کردیتا ہے قرآن کریم بلاغت کی اس منزل پرہے کہ خداوند عالم کی اگر تائید نہ ہوعام انسانوں کی طاقتیں اس کی بلاغت کی سطح تک پہنچنے کیلئے کافی نہیں ہیں ۔اب اگر کوئی شخص کوئی کتاب یا کوئی سورئہ قرآن کریم کے مثل لے آئے تو یہ اس چیز کی نشانی ہے کہ خداوند عالم نے اس کی غیب سے مدد کی ہے ۔یعنی قرآن بذات خود معجزہ ہے ۔

٢۔بلاغت: عام طور پر ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قرآن کریم بلاغت کے اعتبار سے معجزہ ہے بلاغت یہ ہے کہ ''کلام''مقتضائے حال کے مطابق اس طرح بیان کیا جائے کہ متکلم کا مقصد بہترین طریقہ سے ادا ہوجائے ۔ ظاہر ہے ہر کلام کو متکلم کے مقصد اور وقت کے تقاضوں کے تحت پرکھناچاہئے تاکہ اس کے بعدہم یہ مشاہدہ کرسکیں کہ اس کلام میں اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے بہترین طریقہ کا انتخاب کیا گیا ہے یا نہیں بلاغت یہ نہیں ہے کہ صرف الفاظ کی خوبصورتی اور انداز بیان کے لحاظ سے جائزہ لیں بلکہ ان باتوں کے علاوہ متکلم کے مقصد اور مخاطب کے حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے چونکہ خداوند متعال اپنے ہدف کو سب سے بہتر جانتاہے اور اپنے بندوں کی حالت کو بھی سب سے بہتر جانتاہے اور الفاظ کی ترکیبوں پر بھی وہ سب سے زیادہ تسلط رکھتا ہے پس وہ مقتضائے حال کی بنیاد پر اپنے ہدف کو سب سے اچھے طریقہ سے بیان کرسکتا ہے لیکن دوسروں کواس طرح کا تسلط حاصل نہیں ہے ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ کلام میں کن کن نکات کی ر عایت ضروری ہے اور تمام مخاطبین کے حال کو کس طرح مد نظر رکھیںاور کس طرح اس پیچیدہ فارمولے کی بنیاد پر کلام کریں۔قرآن کریم کا مثل نہ لا سکنے کا راز یہی تمام نکات ہیں کیونکہ انسا ن کتنا بھی ذہین اور دور اندیش ہی کیوں نہ ہو آخر کار اس کاذہن محدود ہے اور وہ چند محدود مطالب کو ہی اپنی نظر میں معین کرسکتا ہے اور تمام جہات پر تسلط نہیں رکھتا توجب اس کلام کا قرآن کریم سے مقائسہ کیا جاتاہے اس وقت ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں وہ نکات پائے جاتے ہیں جو دوسرے کلام میں نہیں پائے جاتے اور یہی چیز قرآن کریم کو اس کلام سے ممتاز کردیتی ہے ۔
اس مقام پر ایک بہت دور کا احتمال یہ ہو سکتا ہے : الفاظ کی ترکیبیں آخرکار محدود ہیں اوران ترکیبوں کے درمیان قرآن کریم سے مشابہ جملے تیار کئے جاسکتے ہیں چونکہ حروف محدود ہیں ان سے بننے والے الفاظ اور جملے بھی محدود ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص یہ کام انجام نہیں دے سکتا تودو افراد ایک ساتھ بیٹھ کر غور وفکر کریں دودن میں نہیں کرسکتے تو ایک سال تک باہم کو شش کریں یہ کیسے ممکن ہے کہ چند مخصوص و محدود الفاظ اور حروف سے مر کب جملے اس حد کو پہنچ جائیں کہ کوئی شخص قرآن کریم کا مثل نہ لاسکے ؟چند جملوں کی ترکیبوں سے ایک ایسا خوبصورت جملہ نکالا جاسکتا ہے جو قرآن کی طرح کا ہو ۔یہ کہنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم بلاغت کے اس درجہ پرپہنچاہواہے کہ تاریخ کے طویل دور میں تمام انسان ملکر بھی اس کا مثل نہیں لاسکتے ؟ہاں ہم محسوس کرتے ہیں کہ قرآن کریم دوسرے کلاموں سے زیادہ فصیح و بلیغ کلام ہے اور اپنے اندر پر کشش نکات سموئے ہوئے ہے لیکن قرآن کریم دوسرے تمام کلاموں کے ساتھ لامتناہی فرق نہیںرکھتابلکہ ایک محدود فرق پایا جاتاہے اور ممکن ہے کہ کچھ ایسے انسان پیدا ہو جائیں جو اس فاصلے کو بھی پر کر ڈالیں مختصر طور پرحقیقت سے بعید اس تصور کا سر چشمہ یہ ہے کہ ہم صحیح طور پر یہ نہیں سمجھ سکے کہ کیسے قرآن کریم کیلئے یہ غیر معمولی مقام اور درجہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ہا ں اگرچہ شعراء اور ادباء کے کلام سے یقینا بلند درجہ رکھتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی اس کے قریب پہنچ ہی نہ سکتاہو۔
یہ ضعیف اور مو ہوم خیال اس لئے وجود میں آتا ہے کہ ہم صحیح طریقہ سے قرآن کی بلاغت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کی بلاغت کوئی غیر معمولی اور لاجواب چیز نہیں ہے بلکہ اس کا معیاردوسرے کلاموں سے ذرا بہتر اور بلند ہے لیکن کس قدر زیادہ فصیح و بلیغ ہے اسکا اندازہ ہم نہیں کرسکتے ہیں۔
صاحب'' تفسیرالمیزان''علامہ طباطبائی [نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے اس مثال سے استفادہ کیا ہے :
ہم عام طور پر کسی کلام کے ایک دوسرے سے بہتر ہو نے یا ہر با کمال چیز کے لئے دوسری خوبصورت چیز سے کیفیت کے اعتبار سے بہتر ہو نے کا اندازہ اپنے عام پیمانوں سے نہیں لگا سکتے ،ہم دو محدود چیزوں کا ایک دوسرے سے مقا یسہ کریں تو کسی حد تک ان کے فرق کو سمجھ لیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جب ہم ایک سینٹی میٹر کی لا ئن کا مقا ئسہ ایک میٹر والی لائن سے کرتے ہیں ،تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک میٹر والی لائن ایک سینٹی میٹر والی لائن کے سو گنا بڑی ہے۔تو ہم اس کا تو اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن اسی طرح ہم کیفیات کا ایک دو سرے سے مقا ئسہ نہیں کرسکتے ۔لہٰذا ہم آجکل کے دور میں یہ مشا ہدہ کر تے ہیں کہ سائنس میں تمام مسائل کو کمّی(تعداد )طریقہ سے بیان کر تے ہیں ۔ اس لئے کہ انسان کا ذہن علم حساب کے اعداد اور فا رمو لوں کو جلدی اخذ کر لیتا ہے ۔ مثال کے طور پر آپ ایک خوبصورت منظر کا دوسرے معمولی منظر سے مقا یسہ کریں تو ملا حظہ کریں گے کہ آسانی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ منظر اس منظرسے کتنا خوبصورت ہے ۔مثلاًجب ایک خوبصورت پھول کا اس سے کچھ کم حسین پھول سے مقا یسہ کرتے ہیں تو اس صورت میں انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ پہلا پھول دو سرے پھول سے کتنا خو بصورت ہے ۔
شروع میں تو انسان یہ خیال کر تا ہے کہ یہ پھول اس پھول سے ایک درجہ بہتر ہے لیکن جب ان کے پاس واسطہ کی صورت میں تیسرا پھول لاکر رکھدیاجا ئے تو فوراً آپ یہ کہیں گے کہ ایک درجہ نہیں بلکہ دو درجہ بہتر ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔مرحوم علامہ طبا طبا ئی [فر ما تے ہیں کہ میں جب کتابت کی مشق کرتا تھا حالانکہ میری کتا بت بری بھی نہیں تھی۔ میں پہلے ایک '' ن ''لکھتا تھا اس کے بعد (میر) کی کتابت سے اس کاموازنہ کر تا تھا کہ ان کی کتابت مجھ سے کتنی اچھی ہے ؟تو میں اس کو نہیں سمجھ پاتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ ان کی تحریر میری کتابت سے ایک دو درجہ بہتر ہے ۔ اس کے بعد بطور مثال میں سو عدد '' ن ''لکھتا تھا جس میں ہر ایک دوسرے سے بہتر ہو تا تھا ۔یعنی سو واں ''ن ''پہلے ''ن '' سے سوگنا بہتر ہو تا تھا۔ اس کے بعد پھراس آخری تحریر سے (میر ) کی کتابت کاموازنہ کر تا تھا تو پھر بھی میں اتنا ہی فرق محسوس کر تا تھا جتنا کہ پہلی مرتبہ میں ،میں خیال کر تا تھا کہ (میر )کی کتابت میری کتابت سے ایک دو درجہ بہتر ہے حالانکہ میں نے اِس وقت پہلے سے سو برابر اچھا لکھا تھا تب بھی میں ایک دو درجہ کا فرق ہی محسوس کر تا تھا ۔
یہ مثال ہم نے اس لئے پیش کی ہے تا کہ انسان یہ سمجھ جا ئے کہ وہ کیفیات میں صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ یہ مثال بہت اچھی ہے۔( ہم نے استاد محترم کا شکر یہ ادا کر نے اور ان کی یاد کو تا زہ کر نے کی خا طر اس مثال سے استفادہ کیا ہے )۔بہر حال انسان کا ذہن کیفیات کا موازنہ کر نے اور ان کے درمیا ن فیصلے کر نے کی بہت کم توا نا ئی رکھتا ہے۔بہت ہی مشکل سے آہستہ آہستہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں کے ما بین کتنا فرق ہے ۔
یہی قا عدہ وقا نون حسن اعمال (اچھے اعمال ) میں بھی جا ری ہو تا ہے ۔ مثال کے طور پر جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کا عمل بہت خالص ہے (یعنی بڑے ہی خلوص کے ساتھ صرف اور صرف اللہ کے لئے عمل انجام دیتا ہے ) توچونکہ اس کا عمل خالص ہے تولہٰذااس کے عمل کی بھی اتنی ہی اہمیت ہو گی لیکن اس کے عمل کی اہمیت کتنی زیادہ ہے ؟ اس کے لئے کیفیت کو کمیت (تعداد ) میں بدل کر مثال کے طور پر یہ کہہ سکتے ہیںکہ :اگر خالص عمل انجام دینے والے شخص کا جنت میں ایک درخت ہے توزیادہ خلوص کے ساتھ عمل انجام دینے والے کے دو درخت ہیں یعنی اس کے فرق کو دو گنا تصور کر تے ہیں ۔ لیکن اگر کو ئی دقیق معیار ہو جس کے ذریعہ اس فرق کو سمجھا جا سکے تو اس وقت معلوم ہو تا ہے کہ اخلاص کے ان دو مر تبوں کے درمیان زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے ۔ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور بالکل خلوص کے ساتھ نماز پڑ ھتے ہیں ریا کے لئے نماز نہیں پڑھتے لیکن اس نماز اور حضرت امیر المو منین یا دوسرے تمام ائمہ علیہم السلام کی نمازوں کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ اتنا فرق ہے کہ اگر ہم ساری عمر بیٹھکر اس کا حساب کریں کہ ان کی نماز ہماری نماز سے کتنا بلند درجہ رکھتی ہے تو ہر گز ممکن نہیں ہے ۔
محسوسات کے اندرخاص طور سے معنویات والی چیزوںمیںجہاں معنویت کو سمجھنابھی ضروری ہے یہ مسائل اتنے دقیق و ظریف ہیں کہ انکوعدد کے معیا روں کی کسوٹی پر نہیں پرکھاجا سکتا ۔
آپ نہج البلاغہ کے کسی حصہ کا ایک بہت بڑے شاعر کے کلام سے مقا ئسہ کر یں تو یہ ملا حظہ کریںگے کہ نہج البلاغہ کا کلام بہت ہی زیبا ہے لیکن کتنا زیبا ہے ؟اس کو ہم دقیق طور پر معین نہیں کر سکتے اور یہ فکر کریں گے کہ اس سے بہتر اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن اگر نہج البلاغہ کے کلام کا قر آن مجید سے مقائسہ کر تے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جتنا فرق شاعر اور قرآن کے کلام میں پایا جاتا ہے اتنا ہی فرق قرآن اور نہج البلاغہ کے درمیان پایا جاتا ہے ۔
یہ مثالیں ہم نے اس لئے بیان کی ہیں کہ کمال اور معنوی امور کے درمیان موجود کیفیت کے فرق کو سمجھنے کے لئے ہمارا ذہن آمادہ وتیار ہو جا ئے اور یہ تسلیم کر لیںکہ یہ مسائل کمیات (عدد )کے ساتھ قابل موازنہ نہیں ہیں اور ان کو عدد کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔اس وقت ہم اس مطلب کو تسلیم کر لیں گے کہ ایک کلام خوبصورتی اور بلاغت کے اعتبار سے اس درجہ پر ہوکہ انسان اس تک نہ پہنچ سکے۔
بہر حال قر آن کے معجزہ ہونے کی ایک وجہ اس کی یہی بلاغت ہے جس کا شاہد یہ ہے کہ ہر ایک کی تمنا ؤں کے با وجود تا ریخ انسانیت میں آج تک کو ئی اس کا مثل نہ لا سکااور لطیف بات تو یہ ہے کہ ہم سے بھی یہ نہیں کہا گیاکہ تم اسکا جا ئزہ لو کہ قر آن کتنا بلند و بہتر و بر تر ہے ،بلکہ یہ کہاگیا کہ اگر تم چا ہتے ہو تو اس کا مثل لے آؤ ۔ورنہ اگر اس کے جا ئزہ کی ذمہ داری ہم کو سو نپ دی جاتی تو ہم کبھی بھی اس کا جا ئزہ نہیں لے سکتے تھے ۔ہم صرف اتنا ہی سمجھتے ہیں کہ اس کا مثل نہیں لا یا جا سکتا البتہ اس کو بھی محققین اور ماہرین ہی معین و مشخص کر سکتے ہیں ۔

٣۔ اختلاف نہ ہو نا : قرآن کریم کے معجزہ ہو نے کی ایک اور وجہ جس پر خو د قرآن کا اعتماد ہے وہ اس کے اندر (اختلاف نہ ہونا )ہے :
( اَفَلَا یَتَدَ بَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْکَا نَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللَّہِ لَوَجَدُوْافِیْہِ اِخْتِلَا فاً کَثِیْراً )(١)
..............
١۔سورئہ نساء آیت ٨٢۔
''کیا یہ لوگ قر آن میں غور و فکر نہیں کر تے ہیں کہ وہ اگر غیر خدا کی طرف سے ہو تا تو اس میں بڑا اختلاف ہو تا ''۔
انسان کا کلام ہوتو اختلاف کیوںہو تا ہے اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے :
انسان کے اندر اس دنیا میںتمام ما دی مو جو دات کی طرح تغیر اور تبدیلی ہو تی رہتی ہے۔ ماحول اور انسان کے اندر ہو نے والے تغیر ات انسان کے روحی حالات اور ان سے ظاہر ہو نے والے آثار میں مو ٔثر ہو تے ہیں ۔
ایک طرف تو انسان ہمیشہ تکامل کی حالت میں ہے ،جن چیزوں کو وہ پہلے نہیں جا نتا تھا ان کو سیکھ لیتا ہے ، یہ نئی چیزیں اس کے کلام میں اثر انداز ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح نئے انجام دئے جا نے والے کاموں میں جب اس کے اثر کو دیکھتا ہے تو اس کے ذریعہ بعد والے کاموں کو بہتر طریقہ سے انجا م دینے کے لئے آمادہ رہتاہے ۔اور دوسری طرف انسان کے حالات جیسے :غم اور خوشی ،خوف اور امید وغیرہ۔۔۔بیرونی عوامل اور کبھی کبھی اند رونی عوامل کے ماتحت اس میں تبدیلی کر تے رہتے ہیں اور اس کے کلام میں اثر انداز ہو تے ہیں ۔انسان خو شی کے مو قع پر ایک طریقہ سے بات کر تا ہے اور غم کے مو قع پر دو سرے طریقہ سے بات کر تا ہے ۔پس انسان ایک ما دی مو جودہے اس پرمختلف عوامل اثرانداز ہو تے ہیں اور وہ خودبھی تکامل پیدا کر تا ہے اور اس کی معلو مات میں اضافہ ہو تا ہے ۔اس کے حالات میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے اور ان سب سے اس کے کلام میں اثر پڑتا ہے ، اس بناء پر ایک بھی انسان ایسا نہیں ہے جو اپنی پوری زند گی میں با لکل ایک ہی طریقہ سے با ت کرے جو بلاغت کے اعتبار سے یکنوا خت ہو ،اور مجبوری کے وقت یابھوک اورشکم سیری ،غم اور خو شی ،صحت اور بیماری،اضطراب اور اطمینان ،شکست اور کا میابی وغیرہ کے مو قع پراس کے کلام میں فرق نظرنہ آتا ہو۔
قرآن نے ان تمام چیزوں کے با رے میں گفتگو کی ہے ،اس وقت جب کہ پیغمبرۖبہت زیادہ مشکلوں میں گھرے تھے اور جب آپ فتح و کامرانی کے بلند درجہ پر فا ئز ہو چکے تھے ،جب آپ فقر کی حالت میں زندگی بسر کررہے تھے اور جس دور میں آپ غنی تھے ،جس وقت آپ مریض تھے اور جب آپ صحیح و تندرست تھے اور آخر کار ٢٣سالہ دور میں (جس میں ہر انسان علمی ترقی اور گفتگو میں مہارت حا صل کر تا ہے ) قرآن نے بلاغت کے اعتبار سے ایک ہی اسلوب پر گفتگو کی ہے ۔یہ صحیح ہے کہ ایک کلام خا ص مو قع کے لحاظ سے کہا گیا ہے اور اس کا انداز دوسرے کلام سے جدا ہے لیکن یہ دو نوں صورتیں بلاغت کے اعتبار سے سب سے بلند درجہ کی مالک ہیں ۔پس قر آ ن کے معجزہ ہو نے کی ایک وجہ (اصل بلاغت کے علاوہ )پوری تاریخ نزول میں ایک ہی اسلوب کا باقی رہنا بھی ہے ۔

٤۔پیغمبر امی کی جا نب سے ہے قرآن کے معجزہ ہو نے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن اس شخص پر نا زل ہو ا ہے جس نے کسی سے سبق نہیں پڑھا ،علما ء اور دا نشمندوں سے جس کا کو ئی سرو کار نہ تھا اور اس کا انداز گفتگو بعثت تک دو سرے عام لوگوں کی طرح تھا (شاید ان سے کچھ بلیغ ہو)لیکن آپ کے لہجہ میں ایک دم تبدیلی آئی اور جو چیز آپ کے کلام میں پہلے نہیں پا ئی جاتی تھی وہ دکھا ئی دینے لگی۔پیغمبر اکر م ۖ کے کلمات میں اگرچہ فصاحت و بلاغت کا بلند درجہ پا یا جاتا ہے لیکن اس کے با وجود رسالت کے بعد بھی آپ کے کلمات کا قر آن سے مقائسہ ممکن نہیں ہے۔جیسا کہ خود قر آ ن کریم نے اس مسئلہ کو یوںبیان فر مایا ہے :
(قُلْ لَوْشَائَ اللَّہُ مَاتَلَوْتُہُ عَلَیْکُمْ وَلَااَدْرَیٰکُمْ بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُراًمِنْ قَبْلِہِ اَفَلَاْ تَعْقِلُوْنَ )(١)
''آپ کہد یجئے کہ اگر خدا چا ہتا تو میںتمہا رے سا منے تلاوت نہ کر تا اور تمہیں اس کی اطلاع بھی نہ دیتاآخر میں اس سے پہلے بھی تمہا رے درمیان ایک مدت تک رہ چکا ہوں تو کیا تمہا رے پاس اتنی عقل بھی نہیں ہے ؟''۔
اگر یہ کتاب میری بنائی ہو ئی ہو تی تو فطری طور پر میری پہلی گفتگو کے مشابہ اس میں کو ئی کلام ہو نا چا ہئے تھا۔ یہ مطلب اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کام نا گہانی اور الٰہی کام ہے اور خدا وند عالم چا ہتا ہے کہ میں اس طرح کلام کروں ۔اگر خدا وند عالم مجھ پر وحی نہ کر تا تو میں ان کلمات کو ادا نہیں کر سکتا تھا میں وہی شخص ہو ں جو کل تم لوگو ں سے گفتگو کیا کر تا تھا اور تم میری با توں کو سنا کر تے تھے اورمیرے اور تمہارے درمیان کو ئی غیر معمولی امتیاز نہ تھا ۔پس اگر تم عقل رکھتے ہو تو سمجھو کہ بلاغت کا اچانک یہ عروج امر الٰہی کی تا ئید سے ہے ۔
تا کہ یہ مسئلہ تمام لوگوں پر اچھی طرح واضح ہو جا ئے خدا وندعالم نے پیغمبر اسلام ۖ کی تر بیت اس طرح فرما ئی کہ آپ کے پاس درس پڑھنے اور علم حاصل کر نے کی کوئی جگہ نہ تھی ،اور آپ اکثر افراد کی طرح لکھنا اور پڑھنا بھی نہیں جا نتے تھے ،اس دوران کچھ ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے لکھنا پڑھنا سیکھا تھا لیکن پیغمبر اسلام ۖنے لکھنا اور پڑھنا بھی نہیں سیکھا تھا :
(وَمَاکُنْتَ تَتْلُوْامِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَا بٍ وَلَا تَخُطُّہُ بِیَمِیْنِکَ اِذاً لاَّرْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ )(٢)
''اور اے پیغمبر آپ اس قر آن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے ورنہ یہ اہل با طل شبہ میں پڑجا تے ''
اور خدا وند عالم نے آپ کی ایسی تربیت کی کہ تمام لوگوں کو یہ معلوم رہے کہ آپ اس کلام کے آنے سے پہلے
..............
١۔سورئہ یونس آیت١٦۔
٢۔سورئہ عنکبوت آیت ٤٨۔
نہ پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے تاکہ یہ لوگ سمجھ جا ئیں کہ یہ آپ کا کلام نہیں ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا اورآپ لکھنا اور پڑھنا جا نتے ہوتے تو ممکن تھا کچھ لوگ شک میں پڑجا تے :(اِذاً لاَّرْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ )اورجو لوگ آپ کے دعوے کو با طل کر نا چا ہیں وہ ایسا شبہہ پیداکر سکتے ہیں، لہٰذا کوئی دستا ویز ڈھونڈھ لائیں کہ انھوں نے تو فلاں استاد سے کئی سال تعلیم حا صل کی ہے لیکن آپ اس ماحول ا ور معا شرہ میں پہلے سے مو جود ہیں اور یہ سب آ پ کو پہچا نتے ہیں کہ آپ پڑھنا اور لکھنا نہیں جا نتے تھے اس طرح لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔

٥۔جا معیت : قرآن کے معجزہ ہو نے کی دوسری چند وجہیں مفسرین نے بیان کی ہیں حتی کہ علما ء کلام نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جن میں سے بعض کو چیلنج کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے ان میں سے جس کو چیلنج کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے وہ قر آن کی جا معیت ہے ۔یعنی ایک انسان عقاید، سیاست ، اقتصاد ،اخلاق ،فوجی فنون ا ور ایک جملہ میں یہ سمجھئے کہ جن تمام چیزوں کی انسان کو اپنی زندگی میں ضرورت پڑتی ہے اس میں ماہر ہو ۔ معمولی انسان میں اس طرح کے صفات کا جمع ہو نا محال ہے اور عملی طور پر بھی انسان کی زند گی میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو انسان کسی کام میں تر قی کرنا چاہتاہے وہ اپنی ساری زند گی کو ایک ہی مو ضوع کو حا صل کر نے میں صرف کر دیتا ہے تب کہیں اس علم کا ما ہرہو گا اور لوگوںکی نظروں میںترقی یافتہ شمار کیا جا ئیگا لیکن ایک ہی انسان تمام علوم کا احاطہ کرلے اور ہر شعبہ میں دو سرے تمام ما ہرین سے بہتر ہو جا ئے یہ ایک معمولی انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔

٦۔علمی نکات کا اظہار : قرآن مجید کے معجزہ ہو نے کا ایک اور پہلو وہ علمی نکات ہیں جن کو اس زمانہ میں قبول نہیں کیا جاتا تھا اور تعلیم یافتہ طبقہ ان کو تسلیم نہیں کرتاتھا لیکن پیغمبر اسلام ۖ نے باصراحت اور شجاعت کے ساتھ ان کو بیان فر مایا اور اس کے بعد تدریجی طور پر علوم کی ترقی نے ان کااثبات کیا ہے ۔مثلاً یہی کہ ایک ان پڑھ انسان ایک پست اور پچھڑے ہوئے ملک میں ظہور کر ے اور دنیا کے تمام علمی طبقوں کے با لمقابل مکمل صراحت اور پورے یقین و اعتماد کے ساتھ کسی ایسی چیز کا بیان کر ے جس کے وہ سب مخالف ہوں ،خاص طور سے جس دور میں یہ ثابت ہو جائے کہ جو باتیں انھوں نے بیان فر ما ئی ہیں وہ صحیح ہیںاورجو کچھ دو سروں نے بیان کیا ہے وہ باطل ہے یہ خود اس بات کا شاہد ہے کہ یہ کلام خدا کا ہے ۔ان میں سے ایک نمونہ یہی ہیئت بطلمیوسی کا مسئلہ ہے جس کو دنیا کے علمی طبقوںنے تسلیم کر رکھا تھا لیکن آسمانوں کے سلسلہ میں قرآن کے بیانات افلاک بطلمیوسی کے موافق نہیں تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ افلا ک میں خرق و التیام محال ہے و۔۔۔لیکن قرآن معتقد ہے کہ نہ صرف خرق و التیام محال نہیں ہے بلکہ یہ تمام پاش پاش ہو جا ئیں گے اور قرآن نے کبھی بھی نو آسمانوں پر کوئی تکیہ نہیں کیا ہے وغیرہ۔۔۔۔

٧۔غیبی خبریں : قرآن کے معجزہ ہونے کی ایک اور و جہ قرآن کا غیبی خبریں دینا ہے۔ یہ خبریں دو حصوں میں تقسیم ہو تی ہیں :
١۔ وہ گذ شتہ خبریں جن کو قرآن نے بیان کیا ہے اور ان سے مطلع ہو نے کے لئے قرآن کے علاوہ اور کو ئی دوسراراستہ نہیں تھا : ذَلِکَ مِنْ اَنْبَائِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَا اِلَیْکَ ۔۔۔)
''پیغمبر یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کر رہے ہیں ۔
اور ایک مقام پر ارشاد ہے :
(وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَٰمَھُم اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمََ۔۔۔)(١)
''جب وہ قر عہ ڈال رہے تھے کہ مر یم کی کفالت کو ن کرے گا ''۔
یہ سب غیبی خبریں تھیں جو غیب کے پیغمبر کے لئے تھیں ان میں کچھ آئندہ کے لئے پیشینگو ئیاںہیں جو قرآن میں بیان ہو ئی ہیں اور ہم ان میں سے ذیل میں دو نمونوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ (غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔فِیْ اَدْنیَ الْاَرْضِ وَھُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ۔۔۔)(٢)
'' (یہاں سے) بہت قریب ہے کہ ملک میں رومی (نصار ا اہل فارس آتش پر ستوں سے) ہار گئے مگر یہ لوگ عنقریب ہی اپنے ہا ر جا نے کے بعد چند سالوں میں پھر (اہل فارس پر )غالب آجا ئیں گے ۔۔۔''۔

فتح مکہ (لَقَدْ صَدَقَ اللَّہُ رَسُوْ لَہُ الرُّؤْیَابِالْحَقِّ لَتَدْ خُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَا مَ اِنْ شَائَ اللَّہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُؤُسَکُمْ )(٣)
''بیشک خدا وند عالم نے اپنے رسول کو با لکل سچا خواب دکھلا یا تھا کہ خدا نے چا ہا تو تم لوگ مسجد الحرام میں امن و سکون کے ساتھ سر کے بال منڈا کر اور تھو ڑے سے بال کا ٹ کر داخل ہو گے اور تمھیں کسی طرح کا خوف نہ ہوگا ۔۔۔''۔
پس قرآن کی غیبی خبریں بھی اس آسمانی کتاب کے معجزہ ہو نے میں شمار کی جا تی ہیں ۔
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت٤٤۔
٢۔سورئہ روم آیت ٢۔٤۔
٣۔سورئہ فتح آیت ٢٧۔



10
پیغمبر اسلام ۖکے بقیہ معجزات راہ اور رہنما کی پہچان

پیغمبر اسلام ۖکے بقیہ معجزات ہم اس سے پہلی بحث میں بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کریم وہ معجزہ ہے جو آخر الزمان کی امت پر منت کے طور پر رکھا گیا ہے اور پیغمبر اکر م ۖ پر نا زل ہوا ہے تاکہ قیامت تک امت رسول کے ہاتھوں میں رہے اور امت اس سے اسلام کی حقانیت کی راہ کو طے کر ے اور اپنی سعا دت کی راہ کی معرفت حا صل کرے ۔ اب یہ سوال در پیش ہے :
کیا پیغمبر اسلام ۖ کو قرآن کے علاوہ دوسرے معجزے بھی عطا کئے گئے ہیں یا نہیں ؟
قرآن مجید میں خود اس کے معجزہ ہونے اور اس میں غیبی خبروں کے مندرج ہو نے کے علاوہ پیغمبر اسلامۖ کے بعض معجزات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔اسی طرح خداوند عالم نے متعددمرتبہ جو پیغمبر اسلام ۖ اور آنحضرت کی امت کی غیب سے مدد فرما ئی ہے اس کی طرف بھی اشارہ ہو ا ہے جن میں سے ہر ایک اپنے مقام پر ایک معجزہ شمار کیا جاتا ہے جو پیغمبر اسلام ۖ کی بر کت کے ذریعہ اس امت کو عطا کیا گیا ہے ۔ان معجزات میں سے بعض معجزات کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں :

شقّ ا لقمر (اِقتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ القَمَرُ۔وَاِنْ یَرَوْاآ یَةً یُعْرِضُوا وَیَقُولُواسِحْر مُّستَمِرّ)(١)
''قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے اور یہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تومنھ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلسل جادو ہے ''
اس آیۂ شریفہ سے کہ رسول اللہ کے دور حیات میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے اور یہ اللہ کی نشانی تھی ،چو نکہ اللہ اس کے بعد یہ فر ماتا ہے :(وَ اِنْ یَرَوْاآیَةً یُعْرِضُوْا )''اوریہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تومنھ پھیر لیتے ہیں ''اس کے
..............
١۔سورئہ قمر آیت١۔٢۔
باوجود کہ چا ند دو ٹکڑے ہوا لیکن کفار و مشرکین دشمنان پیغمبر کہتے ہیں :
(سِحْرمُسْتَمِرّ)
''یہ ایک مسلسل جا دو ہے ''۔
اس آیۂ شریفہ کے سلسلہ میں دوسرے نظریہ بھی ہیں جو ان افراد کے ہیں جومعجزاتی چیزوں پر ایمان نہیں رکھتے ہم ان میں سے بعض نظریات کی طرف اشارہ کر تے ہیں :
بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ آیت قیامت سے متعلق ہے ۔یعنی قیا مت میں چاند دو ٹکڑے ہو گااور اس کی نشاندہی ا س سے ہو تی ہے کہ اس کے بعد (اِقْتَرَ بَتِ السَّا عة) بیان ہوا ہے ۔
لیکن جیساکہ قا رئین کرا م آپ نے ملاحظہ فر مایا کہ آیۂ شریفہ کا ظا ہراس نظریے سے سازگار نہیں ہے ، چونکہ ''اِنْشَقَّ الْقَمَرْ ''ایک وقوع پذیر ہو نے والے واقعہ کی نشا ندہی کر تا ہے۔قیامت کے سلسلہ میں فر مایا گیا ہے ''اِقْتَرَبَتِ السَّا عَة '' ''قیامت نز دیک آگئی '' لیکن انشقاق قمر (چاند کا دو ٹکڑے ہو نا)کے متعلق فر ماتا ہے ''وَ انْشَقَّ الْقَمَرْ ''یہ نہیں فرمایا کہ ''اِقْتَرَبَ اِنْشِقَا قَ الْقَمَرُ'' یا ''اِقْتَرَبَتِ السَّاعَة وَاِنْشِقَا قُ الْقَمَر''۔یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم میں قیا مت کے آثار کوبیان کیا گیاہے جس کو روایات میں ( اشرا ط السا عة )کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کو عام طور پرکلمہ'' اِذَا '' سے بیان کیا جاتا ہے :(اِذَاالسَّمَا ئُ انْفَطَرَتْ ، اِذَاالسَّمَا ئُ انْشَقَّتْ)لیکن اس مقام پرانشقّ القمر فر مایا ہے ۔اس کے علاوہ بعد والی آیت اس بات کی شاہد ہے کہ یہ ایک آیت تھی جس کالوگوں نے خود مشاہدہ کیا اوراس کو جا دو سے منسوب کرد یا،خدا فر ماتا ہے کہ یہ اس کے علاوہ دوسری آیت کو بھی دیکھیں گے تو اسی کو جادو کہدیں گے :(وَ اِنْ یَرَوْ اآیَةً یُعْرِضُوْاوَیَقُوْلُوْا سِحْر مُسْتَمِرّ ) ان کے اس قول کی یہاں اس سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہے کہ قیا مت میں شق القمر ہو گا یالوگ جس آیت کو دیکھتے ہیں اسے جا دو کہدیتے ہیں یعنی کیا قیامت میں بھی جا دو کہیں گے؟! وہاں حقیقتیں ظاہر ہوں گی اور کو ئی شخص ان حقیقتوں کا انکار نہیں کر سکتا ۔ پس ظا ہر ہے کہ یہ آیت اسی دنیا سے مر بوط ہے ۔
دوسرے بعض افراد کا کہنا ہے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہو نا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ چاند زمین سے جدا ہو ا ہے اور یہ ایک علمی حقیقت ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے ۔دنیا کی معرفت حا صل کر نے کی ایک تھیوری یہ ہے کہ زمین سورج سے جدا ہو ئی ہے اور چاند زمین سے جدا ہوا ہے، اس بنا پر چاند زمین کا چکر لگاتا ہے اور قمر زمین ہے ۔پس قرآن اس نظریہ کی تا ئید کر تا ہے کہ چاند زمین سے جدا ہوا ہے ۔
اس نظریہ پر بھی پہلے والا اعتراض ہوتا ہے کہ یہ آیت ظاہر کے خلاف ہے ،اس لئے کہ یہ ایک آیت کا بیان معجزہ کی حیثیت سے تھا ایک فطری اور تکو ینی لحا ظ سے نہیں تھا ۔اس کے علاوہ کلمۂ '' انشَقّ''چاند کے زمین سے جدا ہو نے کے با رے میں نہیں ہے ۔اِنْشقَّ یعنی شگافتہ ہو گیا یاپھٹ گیا اگر خدا وند عالم یہ فر مانا چاہتا کہ چاند زمین سے جدا ہوا تو اِشْتَقَّ یا اِنْفَصَل فر مانا چا ہئے تھا۔
بہر حال ہم تو اس سلسلہ میں کو ئی شک ہی نہیں کر تے کہ'' اِنْشَقَّ القمر''سے مراد وہی شق القمر ہے جو پیغمبر اکرم ۖ کے دست مبارک کے ذریعہ وقوع پذیر ہوا تھا ،شیعہ اور اہلسنت سے اس با رے میں متعدد روایات نقل ہو ئی ہیں کہ مہینہ کی چو دہویں رات تھی اور چاند ابھی نکلا ہی تھا کہ پیغمبر اکر م ۖ نے اشارہ کیا اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کچھ دیر تک اسی طرح با قی رہا اور پھر دو نوں ٹکڑے آپس میں مل گئے اور پہلے کی طرح مکمل ہوگئے ۔ یہاں تک کہ بعض اہلسنت علما ء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شق القمر کے سلسلہ میں بعض روایات متوا تر ہیں ۔
اس بارے میں بھی کچھ علمی اعتراضات ہو ئے ہیں کہ ایک آسمانی کرہ کا دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جا نااس کا کیا مطلب ہے؟ یا اگر ایسا ہو ا تھا تودوسرے افراد بھی اس کا مشا ہدہ کرتے،اور یہ تا ریخ میں نقل ہوتااسی طرح کے متعد د اعتراضات کئے ہیں ۔
ہما رے بزرگ علما نے ان سوالوں کے یہ جوابات دئے ہیں :
١۔یہ معجزہ ایک اتفاقی اور اچانک واقعہ تھا ۔ لوگ ہمیشہ بیٹھکر آسمان کی طرف یہ نہیں دیکھاکر تے ہیں کہ کیا کیا حا دثے رو نما ہو رہے ہیں ۔ جو لوگ آسمان کے سلسلہ میں زیادہ جستجو کر تے ہیں وہ اس چیز کے منتظر رہتے ہیں کہ کیا اس طرح کا کو ئی حادثہ واقع ہو سکتا ہے یا نہیں وہ دیکھتے ہیں ۔
٢۔اُس وقت ایسے حالات نہیں تھے کہ تمام حوادث ا ورواقعات تحریر کر لئے جا تے ہوں اور ان سے سب کومطلع کردیا جائے اس زمانہ میں ایک دوسرے سے رابطہ کر نے والے مو جود ہ و سیلے نہیں تھے کہ جن سے فوری طور پرساری دنیا کو مطلع کر دیا جاتا اس کے علا وہ جب کرہ ٔ زمین کے کسی ایک مقام پر اس طرح کا کو ئی واقعہ پیش آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا ئے۔چو نکہ رات کی ابتداء میں یہ واقع ہوا اور اس وقت چاند بہت سے مقامات پر طلوع بھی نہیں ہوتا ۔

لو گوں کے ادراک میں تصرف قرآن فرماتا ہے کہ بعض جنگوں میں خدا وند عالم نے مسلمانوں اور مشرکین کے اذہان میں اس طرح تصرف کیا ہے کہ وہ کسی جنگ میں فوجیوں کی تعداد کو کم یا زیادہ دیکھتے تھے اور اس طرح کہ خداوندعالم مسلمانوں کوجو کا میابی دینا چا ہتا تھا وہ حا صل ہو جا تی تھی ۔دو آیات میں اس مسئلہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
(قَدْ کَانَ لَکُم آیَةفِی فِئَتَیْنِ الْتَقَتَافِئَة تُّقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ وَأُخرَیٰ کَافِرَة یَرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ رَأیَ العَیْنِ وَاللَّہُ یُؤَ یِّدُ بِنَصْرِہِ مَنْ یَّشَآئُ اِنَّ فِی ذَلِکَ لَعِبْرَةً لِّاُوْلیِ الاَبْصَٰر)ِ (١)
''تمہارے واسطے ان دو نوں گرو ہوں کے حالات میں ایک نشانی مو جو د ہے جو میدان جنگ میں آمنے سامنے آئے کہ ایک گروہ راہ ِ خدا میں جہاد کر رہا تھا اور دوسرا کافر تھا جوان مو منین کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا اور اﷲ اپنی نصرت کے ذریعہ جس کی چا ہتا ہے تا ئید کرتا ہے اور اس میں صاحبان نظر کے واسطے سامان عبرت و نصیحت بھی ہے '' ۔
مفسرین قرآن کے ما بین جملہ ''یَرَوْنَھُمْ مِثْلَیْھِمْ ''کے سلسلہ میں بہت زیادہ اختلافات پا ئے جا تے ہیںکہ ''یَرَوْنَ''کا فا عل کو ن ہے ؟اور پہلی ضمیر '' ھُم ''کس کی طرف پلٹتی ہے اور ''مِثْلَیْھِمْ ''کی ضمیر ''ھُمْ ''کا مر جع کیا ہے ؟اس بارے میں کئی وجہیں بیان کی گئی ہیں :
بعض مفسرین کہتے ہیں :مومنین خود کو دو گنا دیکھ رہے تھے تاکہ اپنی کا میابی کی امید لگا ئے رکھیں۔ یہ داستان جنگ بدر سے متعلق ہے ۔مسلمان ٣١٣افراد تھے خدا وند عالم نے ان کی تعداد خود انھیں دو گنا دکھلائی ۔پس یَرَوْنَ کا فاعل اور ضمیر ''ھُمْ '''' یَرَوْنَھُم ْ '' اور '' مِثْلَیْھِمْ ''میں سب مو منین کی طرف پلٹتی ہیں۔
بعض مفسرین کا کہنا ہے :ضمیر یَرَوْنَ کا فاعل کفا ر ہیںلیکن ضمیر''ھُمْ ''مو منین کی طرف پلٹتی ہے یعنی کفار مومنین کو دو گنا دیکھتے تھے ۔یہ کفار کے اذہان پر تصرف تھا جس کی وجہ سے کفار یہ سمجھتے تھے کہ مو منین کی تعداد ٦٢٦ ہے حالانکہ ان کی تعداد تین سو تیرہ سے زیادہ نہیں تھی ۔
اور بعض دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ :یَرَوْنَ کا فاعل کفار ہیں اور مِثْلَیْھِمْ کی ضمیر کفار کی طرف پلٹتی ہے۔ یعنی کفار مو منین کو دو گنا دیکھتے تھے ۔ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی اور مو منین کی تعداد تین سو تیرہ تھی لیکن کفار سو چتے تھے کہ مو منین دو ہزار افراد ہیں ۔یعنی کفار تعدا د کو دو گنا دیکھ رہے تھے مو منین کی تعداد کے دو گنا نہیں ۔
مر حوم علامہ طبا طبائی نے اس احتمال کی تا ئید فر ما ئی ہے کہ یَرَوْنَ کا فاعل کفار ہیں لیکن دو سری دونوں ضمیریں ''ھُمْ ''مو منین کی طرف پلٹتی ہیں یعنی کفار مو منین کو دو گنا دیکھتے تھے یعنی ٦٢٦ آدمی دیکھتے تھے ۔
بہر حال کچھ بھی ہو اس آیت سے ہما رے مقصد کو کو ئی ضرر نہیں پہنچتا ۔یعنی خدا وند عالم نے لوگو ں کے اذہان
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت١٣۔
میں تصرف کیا کہ وہ ایک تعداد کو دو گنا دیکھیں اور یہ مو منین کی کا میابی میں مو ٔثر تھا :
(وَاِذْیُرِیْکُمُوْھُم اِذِالْتَقَیْتُمْ فِیْ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَیُقَلِّلُکُمْ فِیْ اَعْیُنِہِمْ لِیَقْضِیَ اللَّہُ اَمْراًکَانَ مَفعُوْلاً ۔۔۔)(١)
''اور جب خدا مقابلہ کے وقت تمہاری نظروں میںدشمنوں کو کم دکھلا رہا تھا اور ان کی نظر میں تمھیں کم کرکے دکھلا رہا تھا تا کہ اس امر کا فیصلہ کردے جو ہو نے والا تھا اور سارے امور کی بازگشت اﷲہی کی طرف ہے '' ۔
یہاں دو اعتراض در پیش ہیں :
جب طرفین ایک دو سرے کو کم دیکھیں تو اس سے تو کا میابی میں کو ئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر ایک طرف کے افراد دو سری طرف کے افراد کو زیادہ دیکھتے ہیں تویہ اس بات کا باعث ہو نا چا ہئے تھا کہ جس طرف زیادہ افراد دکھا ئی دیں وہ غلبہ حا صل کر لیں چو نکہ اس کا نفسیاتی اثر ہو تا ہے لیکن جب دونوں طرف کے افراد ایک دو سرے کو زیادہ دیکھیں تو دونوں کی نسبت ایک ہے لہٰذا کا میابی میں اس کا کو ئی اثر نہیں ہوگا ۔وہ ایک ہزار آدمی ہوں اور یہ ٣١٣ یا مثال کے طور پروہ ٥٠٠ افراد ہوں اور یہ ١٥٥ افرادہوں پھربھی دونوں کی نسبت ایک ہے۔
ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہ آیت پہلی آیت کے ساتھ کیسے جمع ہو سکتی ہے حالانکہ پہلی آیت میں خداوندعالم نے مو منین پر یہ احسان کیا کہ وہ ان کو دو گنا دیکھتے ہیں ۔یہاں پر بھی احسان کر رہا ہے کہ تم کو کم دیکھتے ہیں۔ان میں مو ٔثر کو نسا ہے ؟اور کس طرح ان کو جمع کیا جا سکتا ہے ؟
ان دو نوں آیات کو اس طرح جمع کیا جا سکتا ہے کہ کفا رمسلمانوں کو جوکم دیکھتے تھے اس میں ایک مصلحت ہے ،اور مو منین کفار کو کم دیکھتے تھے اس میں دوسری مصلحت ہے اور مومنین کو زیادہ دیکھنے میں تیسری مصلحت ہے ۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی وقت میں نہیں تھا ۔ایک مرتبہ کفار مو منین کو کم دیکھتے تھے اور دوسری مر تبہ زیادہ دیکھتے تھے ۔
لیکن یہ سوال کہ کم دیکھنا کس طرح مو منین کی کا میابی میں مؤثرہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر مو منین کفار کی تعداد کو اسی طرح دیکھتے جتنے کہ وہ تھے تو وہ ڈر جاتے اور جنگ کر نے کی ہمت نہ کر پا تے لہٰذا خدا وند عالم نے کفار کی تعداد مو منین کو کم دکھلا ئی تا کہ مو منین خوف نہ کریں ۔
اور کفار کے مو منین کی تعداد کو کم دیکھنے کی مصلحت یہ ہے کہ اگر وہ شروع ہی سے مو منین کی تعداد کو زیادہ دیکھتے
..............
١۔سورئہ انفال آیت٤٤۔
تو فرار کر جا تے اور جنگ ہی نہ ہو تی نتیجتاًجو حکمت اس جنگ کے واقع ہو نے اور مسلمانوں کی کامیابی میں مخفی تھی وہ سا منے نہ آتی ۔خدا وند عالم نے ابتداء میں ان کو مو منین کی تعداد کم دکھلائی تا کہ کفاریہ کہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہیںہم جلدہی ان کا خا تمہ کر ڈالیں گے ۔لیکن جب جنگ شروع ہو گئی اور بھا گنے کا کو ئی مو قع نہ رہ گیا تب انھوں نے مو منین کو اپنے سے دو گنادیکھا لہٰذااُن پر مو منین کا رعب طاری ہو گیا اور وہ شکست کھا گئے ۔
لہٰذا تینوں چیزیں صحیح ہیں اور خدا وند عالم کی طرف سے مو منین کے او پر یہ ایک طرح کی نعمت ہے ۔مو منین کو کم دیکھنے کی مصلحت یہ تھی کہ وہ جنگ کر نے کے لئے قدم بڑھا ئیں ۔'' لِیَقْضِی اللہُ اَمْراً کَانَ مَفْعُوْلاً ''۔
مو منین بھی ان کو کم دیکھتے تھے تا کہ پہلے ہی سے ہا ر نہ مان لیں اور اتفاق سے اسی آیت سے پہلے یہ بیان ہوا ہے کہ خدا وند عالم نے پیغمبر اکرم ۖ کو خواب میں کفار کی تعداد کم دکھلا ئی ۔پیغمبر اکرم ۖ نے خواب میں دیکھا کہ آپ مشرکوں کے کچھ افراد کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں اور اس آیت کے ذیل میں فر ماتا ہے :( وَلَوْاَرَا کَھُمْ کَثِیْراً لَفَشِلْتُمْ )اگر خدا وند عالم خواب میں پیغمبر اکرم ۖ کو ان کی بہت زیادہ تعداد دکھلا دیتا اور پیغمبر اکرم ۖ اس ما جرے کو مو منین کے سا منے بیان فر مادیتے تو مو منین اپنے کمزور ہو نے کا احساس کر تے اور نتیجہ میں کفارسے شکست کھا جا تے ۔
خلاصہ :یہ آیات اس بات پر دلالت کر تی ہیں کہ مو منین اور کفار کے اذہان پر خداوند عالم کی طرف سے ایسا تصرف واقع ہوا جو مو منین کے نفع میں تھا ۔

''القاء رُعب ''اور'' نزول سکون و اطمینان'' خداوند عالم کی طرف سے مسلمانوں کے نفع اور کا میابی میں غیر معمولی طریقہ سے ''القا ء رعب'' کا مسئلہ واقع ہوا۔ یہ مسئلہ بھی کئی آیات اور کئی مقامات پر بیان ہوا ہے ۔ روایات میں بھی بیان ہوا ہے کہ پیغمبراکرم ۖ کا رعب و دبدبہ تھا ۔جب مو منین کفار پر حملہ کر تے تھے تو ان کفار کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا تھا جس کی وجہ سے وہ جنگ میں مات کھا جاتے تھے ۔اس مطلب کو کئی آیات میں بیان کیا گیا ہے جن میں سے چند آیات ہم ذیل میں بیان کر رہے ہیں :
(سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الذَّیْنَ کَفَرُوْاالرُّعْبَ)(١)
'' ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیں گے ''۔
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت١٥١۔
(سَاُ لْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الذَّیْنَ کَفَرُوْا الرُّعْبَ)(١)
''میں عنقریب کفار کے دلوں میں رعب پیدا کروں گا ''۔
مجمو عی طور پر قرآن کریم میں اس کا تذکرہ چا ر مقامات پر کیا گیا ہے کہ خدا وند عالم کفارکے دلوں میں خوف ایجاد کر تا تھا جو ان کی شکست کا باعث ہو تا تھا ۔
(وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوبِھِمُ الرُّعْبَ)(٢)
''اور ان کے دلوںمیں ایسا رعب ڈال دیا ''۔
اور اس کے با لمقابل مو منین کے دلوں میں ''سکینہ''سکون و اطمینان پیدا کردیتا تھا۔
(ثُمَّ اَنْزَلَ اللَّہُ سَکِیْنَتَہُ عَلَیٰ رَسُوْلِہِ وَعَلَیٰ الْمُؤْمِنِیْنَ)(٣)
''پھر اسکے بعد خدانے اپنے رسول اور صاحبان ایمان پر سکون نازل کیا'' ۔
اور دو سری آیت:
(فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِیْنَتَہُ عَلَیْہِ)(٤)
''پھر خدانے اپنی طرف سے پیغمبر پرسکون نازل کردیا ''۔
یہ آیت پیغمبر اکرم ۖ کے سلسلہ میں ہے ۔البتہ یہ پیغمبر اکرم ۖ کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے متعلق ہے کہ جب آپ نے'' غار ثور'' میں قیام فر مایاتھا ۔
دوسری آیات :
(ھُوَالَّذِیْ أَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُومِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْا اِیْمَاناًمَعَ اِیْمَانِھِمْ)(٥)
''وہی خدا ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون نازل کیا ہے تاکہ ان کے ایمان میںمزید اضافہ ہوجائے ''۔
..............
١۔سورئہ انفال آیت١٢۔
٢۔سورئہ احزاب آیت٢٦،سورئہ حشر آیت٢۔
٣۔سورئہ توبہ آیت٢٦۔
٤۔سورئہ توبہ آیت٤٠۔
٥۔سورئہ فتح آیت٤۔
(فَأَ نْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَٰبَہُمْ فَتْحاً قَرِیْباً)(١)
''تو اس نے ان پر سکون و اطمینان اتار دیا اور انھیں قریبی فتح عنایت کردی ''۔
(فَأَ نْزَلَ اللَّہُ سَکِیْنَتَةُ عَلَیٰ رَسُوْلِہِ وَعَلیَ الْمُؤْمِنِیْنَ)(٢)
''تو اﷲنے اپنے رسول اور صاحبان ایمان پر سکون نازل کردیا ''۔
ان مقا مات پر ''انزال سکینہ ''کے بعد دوسری بات بیان فر ماتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا وند عالم آسمان سے فوج بھیجتا تھا کہ لوگ دیکھنے نہ پا ئیں اور وہ فوج مو منین کی مدد کرے :
(وَاَنْزَلَ جُنُوْداً لَّمْ تَرَوْھَا)(٣)
''اور وہ لشکر بھیجے جنھیں تم نے نہیں دیکھا ''۔
دو سری آیت :
(وَاَیَّدَہُ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا)(٤)
''اور ان کی تائید ان لشکروں سے کردی جنھیں تم نہ دیکھ سکے ''۔
پس ایک کرامت جس کے ذریعہ سے خدا وند عالم نے پیغمبر اکرم ۖاور مو منین کی مدد فرمائی وہ غیبی لشکرہیںکہ خو د مو منین بھی اس کو دیکھ نہیں پا تے تھے لیکن وہ مو منین کی کامیابی میں مو ٔثر کردار ادا کر تا بعض آیات میں جنود(بہت سے لشکروں )کے علاوہ (ریح)(یعنی ہوا )کا بھی ذکر ہوا ہے۔ یعنی خدا وندعالم نے ہوا(آندھی) بھیجی جو مسلمانوں کی کا میابی اور کفار کی شکست کا سبب بنی:
(اِذْجَائَ تْکُمْ جُنُود فَأَرْسَلْنَاعَلَیْہِمْ رِیْحاًوَجُنُوداً لَّمْ تَرَوْھَا)(٥)
''جب کفر کے لشکر تمہارے سامنے آگئے اور ہم نے ان کے خلاف تمہاری مدد کے لئے تیز ہوا اور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا ''۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ جنود کون افراد تھے ؟احتمالی طور پر وہ ملائکہ (فرشتے ) ہی تھے ۔بعض آیات میں صاف
..............
١۔سورئہ فتح آیت١٨۔
٢۔سورئہ فتح آیت٢٦۔
٣۔سورئہ توبہ آیت٢٦۔
٤۔سورئہ توبہ آیت٤٠۔
٥۔سورئہ احزاب آیت٩۔
صاف یہ بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم نے ملائکہ کو بھیجا ،لیکن ان کے دیکھنے یا نہ دیکھنے کا ذکر نہیںہوا ہے :
(وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍوَاَنْتُمْ أَذِ لَّة فَاتَّقُوْااللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ) (١)
''اور اﷲنے بدر میں تمہاری مدد کی ہے جب کہ تم کمزور تھے لہٰذا اﷲسے ڈرو شاید تم شکر گذار بن جائو ''۔
رہا مسئلہ یہ کہ خدا وند عالم نے اس آیت میں مومنین کو ذلیل سے کیوں تعبیر کیا حالانکہ خود اس کا فرمان ہے : (اَلْعِزَّةُ للَّہِ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ )''عزت اللہ اور مو منین کے لئے ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر ذلت کفار کے مقابلہ میں یاتو مو منین کی ظا ہری حالت کی مناسبت سے ہے کہ مو منین کی تعداد بہت کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی بہت کم تھا چھ عدد زرہیں اور چند تلواروں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ حالانکہ کفار ہر طرح سے مسلح تھے یا یہ کہ اگر خدا وند عالم کی عطا کردہ عزت نہ ہو توانسان بذات خود ذلیل ہے یعنی بذات خود تم ذلیل تھے اگر خدا وند عالم تم کو عزت نہ دیتا جیسا کہ خدا وند عالم اپنے پیغمبر اکرم ۖسے فرماتا ہے : (وَوَجَدَ کَ ضَالّاًفَھَدی)ٰ ''اور کیا تم کو گم گشتہ پا کر منزل تک نہیں پہنچایا ہے '' اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی موجود کی بذات خود کو ئی عزت نہیں ہے یہ خدا ہے جس نے تم کو با عزت بنا یاہے ۔اور تم کو یہ یا د دلاتا ہے کہ تم بذات خود کوئی عزت نہیں رکھتے ہو ۔خدا نے تم کو عزت عطا کی ہے بہرحال وہ یہ فر ماتا ہے کہ تم جنگ بدر میں ذلیل تھے اور خداوند عالم نے تمہا ری مدد فرمائی (فَاتَّقُوْااللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ )
اس کے بعد فر ماتا ہے :
(اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُوْ مِنِیْنَ اَلَنْ یَکْفِیَکُمْ أَنْ یُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَةِ ئَ الَافٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُنْزَلِیْنَ )(٢)
''اس وقت جب آپ مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیںہے کہ خدا تین ہزار فرشتوں کو نازل کرکے تمہاری مدد کرے ''
مو منین اپنے دلوں میں کمزوری کا احساس کر تے تھے اور کبھی کبھی اس کو اپنی زبان سے بھی بیان کیا کر تے تھے کہ ہم اتنے کم افراد اور وہ اُتنے زیادہ کفار وہ بھی پورے جنگی ساز و سامان کے ساتھ ہم ان کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں ؟
اس کے بعد خدا دو بنیادی چیزوں یعنی صبر اور تقویٰ کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فر ماتا ہے:
..............
١۔سورئہ آ ل عمران آیت١٢٣۔
٢۔سورئہ آل عمران آیت١٢٤۔
(بَلَیٰ اِنْ تَصْبِرُوْاوَتَتَّقُوْاوَیَأَتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھَٰذَایُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ ئَ الَافٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُسَوِّمِیْنَ)(١)
''یقینا اگر تم صبر کروگے اور تقویٰ اختیار کروگے اور دشمن فی الفور تم تک آجائیں گے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے ''۔
اس آیت میںیہ وعدہ کیا گیا ہے کہ خدا وند عالم ملائکہ (فرشتوں )کو تمہا ری مدد کے لئے بھیجے گا لیکن کیا خداوند عالم نے بھیجا یا نہیں ؟
(اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاْسَتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍِ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ)(٢)
''جب تم پروردگار سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی کہ میں ایک ہزار ملائکہ سے تمہاری مدد کررہاہوں جو برابر ایک کے پیچھے ایک آرہے ہیں ''۔
جنگ بدر میں پیغمبر اکرم ۖ اور مو منین نے اپنے ہا تھو ں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کر کے دعا کی اور اس سے مدد کی درخواست کی اور خدا نے بھی ان کی دعا کو مستجاب فر مایا ۔استجابت دعا بھی یہی تھی کہ خدا وندعالم نے فرمایا میں ایک ہزار فر شتوں کو تمہا ری مدد کے لئے نا زل کر وں گا ۔
اب یہ سوال در پیش ہے کہ اس آیت میں پیغمبر اکرم ۖ نے وعدہ کیا تھا کہ تین ہزار فرشتے اور اس کے بعد خدا وند عالم نے بھی فر مایا تھا اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیا تو پا نچ ہزار فرشتے بھیجوں گا لیکن اس آیت میں فر ماتا ہے کہ ہم نے ایک ہزار فرشتے بھیجے ؟
جواب یہ ہے کہ یہ ہزار فرشتے مقد مہ تھے ،اس بات کا شاہد یہ ہے کہ خداوندعالم فرماتا ہے (مُرْدِفِیْنَ) مردف اس مقام پر استعمال ہو تا ہے کہ جب کوئی آگے آگے چلتا ہو اور دوسرا اس کے پیچھے پیچھے آرہا ہو ۔ ابتداء میں یہ ایک ہزار فرشتے نا زل ہو ئے اور اپنے بعد دو ہزار فرشتوں کو لا نے والے تھے ۔پس وہی تین ہزار فرشتے نا زل ہو ئے۔
اب ان ملائکہ نے نا زل ہو کر کیا کیا ؟
(اِذْیُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَةِ أَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوْا الَّذِیْنَ آمَنُوْا)(٣)
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت١٢٥۔
٢۔سورئہ انفال آیت٩۔
٣۔سورئہ انفال آیت١٢۔
''جب تمہارا پروردگار ملائکہ کو وحی کررہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں لہٰذا تم صاحبان ایمان کو ثبات قدم عطا کرو ''۔
ملائکہ نے جنگ بدر میں نا زل ہو کر کیا کردار ادا کیا ،کیا انھوں نے جنگ کی یا کو ئی دو سرا کردار ادا کیا ؟ روایات میں وارد ہوا ہے کہ جنگ بدر میں نا زل ہو نے والے فرشتوں نے کسی شخص کو قتل نہیں کیا ۔جنگ بدر میں اکثر مقتولین کو حضرت علی علیہ السلام اور دوسرے اصحاب نے قتل کیا تھا، ملائکہ کا کام فقط مو منین کی روحی اور معنوی طاقت کو تقویت دینا تھا ۔اس آیت میں بھی فر مایا گیا ہے کہ خدا وند عالم نے ان پر وحی کی کہ میں تمہا رے ساتھ ہوں تم مومنین کو ثابت قدم رکھنا ،ان کے اندر اطمینان و سکون پیداکر نا ۔اس کے بعد اسی آیت میں فر ماتا ہے:
(فَاضْرِبُوافَوْقَ الْاَعنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ )(١)
''لہٰذا تم کفار کی گردن کو مار دو اور ان کی تمام انگلیوں کو پور پور کاٹ دو ''۔
ان دو جملوں کے سلسلہ میں مفسرین کے ما بین اختلاف ہے کہ یہ خطاب کس سے ہے ؟کیا یہ خطاب ملائکہ سے ہے یا مو منین سے ؟
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ خطاب ملائکہ سے ہے اور ان کو جنگ کر نے کا حکم دیا گیا ہے ۔یہ وجہ روایات کے مد نظر اور آیۂ شریفہ کے پہلے جملہ سے ساز گا ر نہیں ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں ملا ئکہ سے خطاب ہے لیکن (اضْرِبُوْافَوْ قَ الْاَعْنَاقِ ۔۔۔)سے مراد سریا ہا تھ یا پیروں کا قطع کر نا نہیں ہے بلکہ ان کا کمزور کر نا مراد ہے ، یعنی فرشتوں نے دو کر دار اداکئے ہیں :ایک یہ کہ مو منین کو تقویت پہنچائیں اور دو سرے یہ کہ دشمنوں کو کمزور کریں ان کے سر پر ما ریںیعنی ان کو ذلیل کریں ، ان کی روحا نی طاقت کو کمزور کریں ،ان کے ہاتھوں پر ضرب لگائیں تاکہ ان کے ہاتھ سست ہو جا ئیں نہ یہ کہ ان کے ہاتھ کٹ جا ئیں ۔
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس آخری جملہ میں مو منین سے خطاب کیا گیا ہے ۔اب جبکہ ہم نے تمہاری مدد کے لئے ملائکہ کو بھیج دیا ہے تو تم اپنی ہمت با ندھے رکھنا اور ان کو نیست ونا بود کر دینا ۔
اس آیت سے متعلق ان تینوں وجہو ں کو بیان کیا گیا ہے اور ممکن ہے دوسری وجہ سب سے بہتر ہو اس لئے کہ( خیرالاموراوسطہا)ہے۔یہ وہ تمام آیات تھیں جو اس بات پر دلالت کر تی ہیں کہ خدا وند عالم کی غیبی طاقت اکثر جنگوں میں مو منین کے شامل حال رہی ہے۔
..............
١۔سورئہ انفال آیت١٢۔
لیکن پیغمبر اکرم ۖ کرامات و معجزات کے سلسلہ میں شیعہ اور اہلسنت سے متعدد روایات نقل ہو ئی ہیںاور چو نکہ ہما ری بحث قر آن سے متعلق ہے لہٰذا ہم ان کو بیان کر نے سے قاصر ہیں لیکن بہت زیادہ متواتر حدیثوں میںہے کہ پیغمبر اکرم ۖسے اتنے زیادہ معجزات ظاہر ہو ئے ہیں کہ ان کا شمار کر نا بہت مشکل کام ہے ۔ کبھی کبھی ایسا اتفاق ہو تا تھا کہ آپ سے ایک ہی دن میں متعددمعجزاتی باتیں ظاہر ہو تی تھیں ۔ان میں سے بعض کفار کی خوا ہش کی وجہ سے اور اپنی نبوت کے اثبات کے لئے ہوا کر تی تھیں ،جبکہ بہت سی دوسری چیزیں اپنی نبوت کے اثبات کے لئے نہیں ہو تی تھیں۔مثال کے طور پر پیغمبر اکرم ۖ جب بیابان میں خیمہ کے اندر تشریف لاتے تھے اور وہاں پر کو ئی بکری ہو تی تھی تو آپ اپنا دست مبارک اس پر رکھ دیتے تھے تو وہ فربہ ہو جا تی تھی اور دودھ دینے لگتی تھی ۔اگر بیمار ہو تی تو شفا پا جا تی تھی وغیرہ وغیرہ اس طرح اور بہت سی مثالیں موجودہیں ۔
کثیر احا دیث میں نقل ہوا ہے کہ کفار پیغمبر اکرم ۖ سے کہا کر تے تھے کہ اگر آپ نے فلاںکام انجام دیدیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے ۔مشہور و معروف واقعہ ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگر آپ سچ فر ما تے ہیں کہ میں خدا کا نبی ہوں تو وسط بیا بان میں کھڑے اس درخت سے کہئے کہ وہ آگے بڑھ کر آئے اور آپ کی رسالت کی گو اہی دے یا یہ سنگریزے آ پ کے دست مبارک میں آکرکلام کریں آنحضرت ۖ نے ان سنگریزوں کو اپنے دست مبارک میں اٹھا یا تو وہ سنگر یزے تسبیح الٰہی کر نے میں مشغول ہو گئے اور اسی طرح کی بہت سی چیزیں بے شمار روایات میں ذکر ہو ئی ہیں۔



11
عصمت راہ اور رہنما کی پہچان

عصمت گذشتہ مباحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ حکمت الٰہی کاتقاضاہے کہ (خداوند)انسانوں کے درمیان کچھ ایسے افراد منتخب کرے جو اسکے اہداف ومقاصد اور ان تک پہنچنے کی راہیں انسانوں کو تعلیم دیں اورپھروہ لوگ بھی ان کو دوسروں تک پہنچائیں ۔
اب یہ سوال پیش آتا ہے :ٹھیک ہے خداوند عالم نے پیغمبر کو منتخب کیا اور اس پر بعض مطالب کی وحی کی کہ اسے بندوں تک پہنچائے ۔اب ہمیں کیسے اطمینان حاصل ہو کہ خداوند عالم نے جو کچھ اپنے پیغمبر پر وحی نازل فرمائی تھی بالکل وہی من وعن بندوں تک پہنچی ہے ؟
دوسرے الفاظ میںوہ پیام جو خداوند عالم کی طرف سے اسکے بندوں پر نازل ہوتا ہے کئی مرحلوں کو طے کرتا ہے تب بندوں تک پہنچتا ہے فرض کیجئے اگر ان مراحل میں کوئی غلطی ہوجائے، بطور مثال ،وحی پہنچانے والے نے پیغمبرتک وحی پہنچانے میں غلطی یا انحراف سے کام لیا ہو،یا پیغمبر وحی کے سمجھنے میں ،یا وحی کی تبلیغ کے وقت غلطی کر بیٹھے یا یہ احتمال ہو کہ العیاذباﷲنبی نے (جان بوجھ کر) کوئی بات بدل کر بیا ن کردی ہے تو جب تک ان مراحل و مراتب کے سلسلے میںہم کو یہ اطمینان نہیں ہوگا کہ اس دوران کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اس وقت تک لوگوں پر حجت تمام نہیں ہوگی تو اسی دلیل کی بنیاد پر کہ جن کے تحت حکمت الہٰی تقاضا کرتی ہے کہ لوگ راہ سعادت و شقاوت کو پہچانیں اور خداوند عالم کی معرفت حا صل کریں ۔جہاں تک مقاصد الٰہی کو درک کرنے کی بات ہے تو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہو ئی ہے یہی دلیل کافی ہے ۔
یعنی جب ہم نے اس بات کو سمجھ لیا کہ خود خدا وند عالم کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ الٰہی مقاصد کا علم حاصل کریں تو جو کچھ اس عالم ہونے کا لازمہ ہے یہی دلیل مرحلہ بہ مرحلہ ان سب کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر ان میں سے کسی ایک مرحلہ میں کوئی غلطی یا خطا ہوجائے تو مقصد ہی فوت ہوجائیگا اوروہ الٰہی مقصد پورا نہیں ہوگا پس یہی دلیل اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ الٰہی اغراض و مقاصد اپنے اصل متن کی صورت میں ہی لوگوں تک پہنچتے ہیں اور خدا کی طرح سے معین درمیانی واسطے کی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتے بنابراین وحی کے لانے والے فرشتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وحی کے حصول اور نبی تک پہنچانے میں کوئی غلطی نہ کریں اور خود انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیغام وحی صحیح طورپر وصول کریں اور اس کو لوگوں تک پہنچانے میں بھی کوئی غلطی وخطا نہ کریں معلوم ہوا کہ اسی پیغام کا اپنے اصل سر چشمہ سے لوگوں تک پہنچنے کے تمام مراحل میں غلطی وخطا سے محفوظ رہنا اسی دلیل کے ذریعہ ثابت ہے۔یعنی اسی دلیل سے وحی کو صحیح طورپر وصول کرنے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے سلسلے میںانبیاء علیہم السلام اور ملائکہ کی عصمت کی ایک قسم ہے جو انبیاء علیہم السلام کیلئے اور انبیاء سے پہلے ملائکہ کیلئے ثابت ہوتی ہے۔
لیکن عصمت کے دوسرے معنی اوردوسرے مراتب بھی ہیں منجملہ یہ کہ عمل کے میدان میں بھی انبیاء کو غلطی نہیں کرنا چاہئے یعنی وہ اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی کی نہ صرف خلاف ورزی نہ کریں بلکہ ان کا عمل بھی خود ان پر نازل ہونے والی وحی کے مطابق ہونا چاہئے حتّیٰ اس سے بھی بڑھکر ان کو اپنی نبوت ورسالت سے پہلے بھی معصوم ہونا چاہئے اور کبھی کسی گنا ہ کا ار تکاب نہیں کر نا چا ہئے اور پھر اس سے بھی بڑھکر نہ صرف یہ کہ وہ گنا ہ و سر کشی نہ کریں بلکہ احکام کو بیان کر نے کے علا وہ بھی ان سے کو ئی غلطی اور سہو و نسیان صا در نہیں ہو نا چا ہئے ۔مذ کو رہ دلیل ، عصمت کے ان مر اتب کو بیان نہیں کرتی بلکہ فقط اتنا بیا ن کر تی ہے کہ وہ ہدف الٰہی کہ جس کا بندو ں کے لئے سمجھنا ضرو ری ہے ، اصل صور ت میں ان تک پہنچنا ہی چا ہئے لیکن یہ کہ انبیا ء علیہم السلام کو اس کے مطابق عمل بھی کر نا چاہئے یا نہیں ؟ یہ دلیل اس بات کو ثابت کر نے کی قدرت نہیں رکھتی بلکہ ہمیں آیات، روا یا ت اور دوسری دلیلو ں سے اس مطلب کو معلوم کر نا ہو گا ۔
پہلے مسئلے میں یعنی ''وحی کو لیکر لو گو ں تک پہنچا نے میں انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہو نا ''اس طور پر کہ وہ کوئی غلطی نہیں کر تے ، یعنی جا ن بو جھ کر خود پر نا زل ہو نے والی وحی کے خلاف ،کو ئی بات لو گو ں تک نہیں پہنچا تے ۔ اس ذیل میں عقلی دلیل کے علا وہ بہت زیا دہ آیات و روا یات مو جو د ہیں جو اس بات کی تا ئیدکرتی ہیں لیکن یہا ں قا بل توجہ بات یہ ہے کہ جس شخص پر ابھی نبی کی نبوت نیز اس کی کتاب کی حقانیت ثابت نہ ہو ئی ہو اس کے لئے کتاب کے مطالب سے استد لال کر نا بے فا ئدہ ہے اس لئے کہ فرض یہ ہے کہ اس کو ابھی نبی اور اس کی کتاب کے با رے میں شک ہے ۔لہٰذا ایسے شخص کے سا منے پہلے عقلی دلیل ہی قا ئم کرنا چا ہئے ۔ہا ں یہ ثابت ہو جا نے کے بعد کہ خداوند عا لم کی طرف سے ایک کتا ب ہی نا زل ہو ئی ہے ۔ اس کتا ب کے مطا لب بھی اس کے لئے حجت ہو ں گے۔مثال کے طور پر یہ ثابت ہو جا نے کے بعد کہ قرآن خدا وند عالم کی طرف سے معجزہ ہے فطری طور پر اس کے مطالب بھی تمام لو گو ں کے لئے حجت ہو ں گے لیکن اس سے پہلے کے مر احل میں ہم جو بھی دلیل پیش کریں اس کی بنیا د عقل پر استوار ہو نا چا ہئے ۔

ملا ئکہ کی عصمت قر آ ن کریم میں وہ آیات مو جو د ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ملا ئکہ معصوم ہیں اور وہ الٰہی پیغامات پہنچا نے میں کو ئی غلطی نہیں کرتے اسی طرح انبیا ء علیہم السلام بھی جان بو جھ کر خطا سے محفوظ ہو نے کے ساتھ ساتھ وحی کے پیغام وصول کر نے اور لو گو ں تک پہنچا نے میں بھی غلطی اور خطا سے محفو ظ ہو تے ہیں ۔
ہم ملا ئکہ کی عصمت کے با رے میں کچھ آیا ت ذیل میں پبش کر رہے ہیں قر آ ن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَقَا لُوْااتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَداً سُبْحَٰنَہُ بَلْ عِبَا دمُّکْرَمُوْنَ۔لَایَسْبِقُوْنَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہِ یَعْمَلُوْنَ)(١)
''اور (اہل مکہ ) کہتے ہیں کہ خدا ئے رحمان صا حب او لاد ہے وہ اس سے پاک و مبرا ہے بلکہ (وہ فرشتے)خدا کے معزز بندے ہیں جو اس کی بات پر اپنی بات مقدم نہیں کر تے اور یہ لو گ اسی کے حکم پر چلتے ہیں ''۔ دوسری آیت
(۔۔۔لَا یَعْصُوْنَ اللَّہَ مَاأَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُوْمَرُوْنَ)(٢)
''خداجس بات کا حکم دیتا ہے فرشتے اس کی نا فر ما نی نہیں کر تے اور وہی کر تے ہیں جو انھیں حکم دیا گیا ہے ''۔
قرآن نے خاص طور سے حضرت جبرئیل کے با رے میں (جو قر آنی وحی میں وا سطہ رہے ہیں) یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ خدا وند عا لم جو کچھ ان پر وحی کر تا تھا وہ من و عن پیغمبر اسلا م ۖ تک اسی طرح پہنچا دیتے تھے ۔ خدا کی وحی اور پیغام وصول کر نے اور اس کو پیغمبر اسلام ۖتک پہنچا نے کے سلسلے میں عصمتِ جبر ئیل کی تصدیق ہے، رہا یہ مسئلہ کہ جنا ب جبر ئیل کے سلسلے میں یہ خا ص طور سے اہتمام کیو ں کیا گیا ؟ اس کا راز یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت جبر ئیل کی نسبت بہت زیا دہ حسا سیت رکھتے تھے بنی اسرا ئیل پر جو کچھ بھی عذا ب نا زل ہو ئے ( خو د ان کے عقیدہ کے مطابق)حضرت جبر ئیل کے ذریعہ ہی نا زل ہو ئے تھے ۔ اسی بنا ء پر وہ پیغمبر اکرم ۖکی خد مت میںحا ضر ہو کر کہنے لگے آپ پر جو فرشتہ نا زل ہو تا ہے کو ن ہے ؟اگر وہ جبر ئیل ہے تو ہم آپ کی با تو ں کو قبو ل نہیں
..............
١۔سو رئہ انبیاء آیت ٢٦۔٢٧۔
٢۔سورئہ تحریم آیت٦۔
کریں گے کیو نکہ ان کو ہم سے دشمنی ہے اس وقت یہ آیت نا زل ہو ئی :
(قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہُ نَزَّ لَہُ عَلَیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ ا للَّہِ)(١)
''(اے رسول ان لو گو ں سے )جو جبر ئیل کے دشمن ہیں کہد یجئے انھو ں نے خدا کے حکم سے(اس قرآن کو)تمہارے قلب پرنازل کیاہے''۔
اس آیۂ شریفہ سے اس با ت کا پتہ چلتا ہے کہ جو کچھ بھی حضرت جبرئیل نے پیغمبر ِ اکرم ۖ پر وحی کیا ہے وہی ہے جو خدا نے ان سے فر ما یا ہے اور انھو ں نے اس کو پہنچا نے میں کو ئی کو تا ہی یا مدا خلت اور تصرف نہیں کیا ہے ۔ قرآن کریم میں ار شاد ہو تا ہے:
( اِ نَّہُ لَقَوْ لُ رَسُوْلٍ کَرِ یْمٍ ۔ذِ یْ قُوَّ ةٍ عِنْدَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ )(٢)
''بیشک یہ (قرآن )ایک معززپیغا مبر( جبرئیل )کی بات ہے جو عرش کے ما لک کی با رگا ہ میں بلند رتبہ ہے فرشتو ں کا سر دار اور اما نت دار ہے ''۔
یہ ان مقا مات میں سے ہے جہا ں ملا ئکہ کو بھی رسو ل کہا گیا ہے اور کچھ دو سری آیات جیسے سورئہ حج میں آیا ہے :
( اﷲُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلَٰئِکَةِ رُسُلاً)(٣)
'' خدا فر شتو ں میں سے بعض کو اپنے احکام پہنچا نے کے لئے (رسول یعنی پیغا مبر کے طور پر) منتخب کر لیتا ہے ''۔
جن اوصاف کا ان آیتو ں میں ذکر ہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ فرشتۂ وحی کی طرف سے کسی تشویش کی ضرورت نہیں ہے فرشتہ ''رسو لٍ کریمٍ ذی قوةٍ '' ہے ۔
چو نکہ ممکن ہے کو ئی یہ خیال کرے کہ جس وقت جبر ئیل وحی لیکر پیغمبر کے پاس آ رہے ہو ںراستہ میں ان پر شیاطین حملہ کر کے وحی (کی آیات ) چھین لیں اور اس میں کو ئی کمی یا زیا دتی کر دیں ۔اسی لئے یہا ں پر جبرئیل کی اس قوت و طاقت پر زور دیا گیا ہے کہ جبر ئیل اس قدر قوی ہیں کہ پیغام پہنچا نے میں کو ئی بھی طا قت ان پر قا بو حا صل نہیں کر سکتی ۔ یقیناً ہم نہیں کہہ سکتے کہ جنا ب جبرئیل تک کس طرح وحی پہنچتی تھی اور پیغمبرتک کس طرح وہ پہنچا تے تھے لیکن معقو ل کے ساتھ محسوس کی تشبیہ کے طور پر یہ فرض کر لیجئے کہ ایک شخص کسی چیز کو لیکر کسی دو سرے شخص کے پاس
..............
١۔ سورئہ بقرہ آیت ٩٧۔
٢۔سو رئہ تکویر آیت ١٩ ۔ ٢١ ۔
٣۔سورئہ حجآیت ٧٥۔
پہنچا نے جا رہا ہے اور راستہ میں کو ئی چو ر اس پر حملہ کر دے یا کسی بہا نہ سے اس چیز میں رد و بدل کر دے ،یا اس میں کسی چیزکی کمی یا زیادتی کر نا چا ہتا ہے ۔ قرآ ن کریم ایسے میں فر ما تا ہے کہ جنا ب جبر ئیل اس طا قت کے مالک ہیں کہ کو ئی بھی طا قت کسی طرح بھی ان کی پیغا م رسا نی میں کو ئی مدا خلت اور تصرف نہیں کر سکتی۔ اب جبکہ معلوم ہو گیا کہ شیا طین جبر ئیل پر غا لب آ کر ان کی رسالت میں کو ئی مد ا خلت او ر تصر ف نہیں کر سکتے تو اب سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ کیا خود جبرئیل اس وحی میں کو ئی تصر ف کر سکتے ہیں ؟ قر آ ن کریم فر ما تا ہے :''مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ'' جبر ئیل تمام فر شتو ں کے سردار اور اما نتدار ہیں ۔ اس بنا پرجبرئیل کی طرف سے بھی وحی میں دخل اندازی اور تصرف کا احتمال نہیں رہ جا تا ۔
ایک اور آیت میںخدا وند عا لم فر ماتا ہے :
(وَمَانَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِرَبِّکَ لَہُ مَا بَیْنَ اَیْدِ یْنَا وَمَاخَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذَٰلِکَ وَمَاکَانَ رَبُّکَ نَسِیّاً )(١)
''اور ہم (فرشتے )آپ کے پر ور دگا ر کے حکم کے بغیر زمین پر نہیں اتر تے جو کچھ ہما رے سا منے اور ہما ری پس پشت اور جو کچھ ان کے در میان ہے (سب کچھ ) اسی کا ہے اور تمہا را پر ور دگا ر کچھ بھو لتا نہیں ہے ''۔
پس یہ آیتیں اس چیز کی ضما نت ہیں کہ ملا ئکہ ہر طرح کی خطا اور شیا طین کے تسلط و تصر ف سے محفو ظ ہیں ۔

عصمتِ انبیا ء علیہم السلام( وحی سمجھنے میں ) کیا انبیا ء علیہم السلام سے وحی سمجھنے میں غلطی ممکن ہے ؟ عا م انسا نو ں کے لئے تو ایسا ہو تا ہے کہ جب وہ کسی سے گفتگو کر تے ہیں تو بعض او قات ان کی بات صحیح طو ر پر نہیں سمجھ پا تے یا کچھ کا کچھ سن لیتے ہیں تو کیا انبیا ء کے بارے میں بھی اس بات کا احتمال ہے کہ مثلاً جب جبر ئیل ان کے پاس خدا کا پیغا م لائیں تو وہ جبر ئیل کی با تیں کچھ کا کچھ سمجھ لیں ؟ یا فرض کیجئے خدا کا پیغام صحیح طور پر سمجھ تو لیں لیکن کیا یہ احتمال پا یا جا تا ہے کہ وہ تبلیغ کے مر حلے میں پیغا م خدا لوگوں تک پہنچا تے وقت غلطی سے دو چا ر ہو جائیں ؟ اور اگر وہ غلطی کے مر تکب نہیں ہو تے تو اس کی دلیل کیا ہے ؟
مذ کو رہ عقلی دلیل کے قطع نظر ، اس سلسلہ میں بھی آ یتیں مو جو د ہیں جو اس بات کی ضا من ہیں کہ انبیا ء علیہم السلام نہ تو وحی کے سمجھنے میں غلطی کر تے اور نہ ہی اس کو لو گو ں تک پہنچا نے میں خطاکر تے ہیں خدا وند عالم ارشا د فر ما تا ہے:
( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْہِرُعَلَی غَیْبِہِ َحَدًا۔ِلاَّمَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ فَِنَّہُ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا۔لِیَعْلَمَ َنْ قَدْ َبْلَغُوارِسَالَاتِ رَبِّہِمْ وََحَاطَ بِمَالَدَیْہِمْ وََحْصَی کُلَّ شَیْئٍ
..............
١۔سورئہ مریم آیت ٦٤ ۔
عَدَدًا )(١)
''(خدا ) غیب کا عالم ہے اور اپنی غیب کی بات کسی پر ظاہر نہیں کر تا مگر وہ جس پیغمبر کو منتخب فر ما ئے تو اس کے آگے اور پیچھے نگہبا ن (فرشتے ) مقرر کر دیتا ہے تا کہ دیکھ لے کہ انھو ں نے اپنے پرور دگار کے پیغا مات (لو گوں تک ) پہنچا دیئے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے سب اس کے حصار میںہے اور ایک ایک چیز اس کے زیر تسلط ہے ''۔
''فانّہُ یَسْلَکُ مِنْ ''اب وہ جس رسول اور پیغمبر کو پسند اور منتخب کر لیتا ہے اس کے آ گے اور پیچھے محافظ لگا دیتا ہے اور اپنے حصار میں رکھتا ہے کو ئی ان پر اعتراض نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی رسالت میں خلل اندازی کر سکتا ہے ۔ وہ اس طرح الٰہی نگہبا نوں کے احا طہ میں رہتے ہیں کہ کو ئی خطا نہیں کر تے ۔
''لِیَعْلَمَ اَنْ قَدْ ۔۔۔''خدا یہ کام انجام دیتا ہے تا کہ وہ سمجھ لے کہ انھو ں نے اپنے پر ور د گا ر کے پیغا مات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیئے ہیں۔
اس آیۂ شریفہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انبیا ئے الٰہی وحی کے سمجھنے اور بعینہ ان ہی الفاظ میں لو گو ں تک (منطوق کلا م پہنچا نے میں )غلطی نہیں کر تے ۔ اس لئے کہ اگر ان میں خطا کا احتمال ہو تو ''لِیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَ بْلَغُوْا رِسَا لَاتِ رَبِّھِمْ ''متحقّق نہیں ہو گا جب خدا وند عالم کے علم میں انھو ں نے اس کے پیغا مات صحیح طور پر لو گو ں پہنچا دیئے ہو ں تو ان میں کسی خطا کا احتما ل نہیں پا یا جاتا ۔ یہ آیت اس چیز کا بہترین ثبو ت ہے کہ انبیا ئے الٰہی وحی کا پیغام سمجھنے اور لو گو ں تک پہنچا نے میںکو ئی غلطی اور خطا نہیں کر تے ۔ یعنی یہ بھی اسی عقلی دلیل کے ما نند ہے کہ اگر ایسانہ ہو تو مقصد بھی فوت ہوجائے گا اور یہ حکمت الٰہی کے خلا ف ہے ۔

کیا انبیا ء علیہم السلام وحی میں کسی چیز کا اضا فہ کر سکتے ہیں ؟ اب جبکہ طے پا گیا کہ انبیاء علیہم السلام وحی کے سمجھنے اور تبلیغ کر نے میں کو ئی غلطی نہیں کر تے بالکل صحیح اور مکمل طور پر لو گو ں تک پہنچا تے ہیں تو کیا ان کے لئے وحی میں کسی چیز کا اضا فہ کرنا ممکن ہے ؟ گذشتہ آیت میں خداوند عالم نے فر ما یا تھا کہ خدا وند عا لم جو کچھ ان پر وحی کر تا ہے انبیا ء اسی طرح اس کو لو گو ں تک پہنچا تے ہیں اور ان کی اس طر ح حفا ظت کرتے ہے کہ خد اوند عا لم کے پیغاما ت بالکل صحیح طور پر لوگوں تک پہنچ جا ئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کے لئے ممکن ہے و ہ وحی میںکسی اور چیز کا اضا فہ کردیں ؟اور کوئی ایسی با ت پر جو خد اوند عا لم نے ان پر وحی نہ کی ہو وحی کے عنو ان سے لوگوں تک پہنچا دیں ؟
..............
١۔سورۂ جن آیت ٢٦۔ ٢٨ ۔
اس منزل میں بھی (گذ شتہ آیات میں ذکر شدہ علت سے عمو می استفا دہ کے علا وہ )بہت سی دلیلیں ہیں جو اس چیز پر دلا لت کر تی ہیں کہ خدا وند عالم بندو ں تک اپنے پیغا ما ت پہنچا نے کے لئے کسی ایسے ہی شخص کو منتخب کر تا ہے کہ جس کے با رے میں اطمینان ہوکہ وہ خیا نت نہیں کرے گا ۔ ور نہ خدا کا مقصد فوت ہو جا ئے گا اگر رسو ل معصوم نہ ہو اوریہ احتمال پا یا جا ئے کہ وہ اپنی طرف سے بھی لو گو ں کے سا منے کچھ بیان کر سکتا ہے تو خدا کی غرض فوت ہوجا ئے گی کیو نکہ لوگ شبہہ میں پڑ جا ئیں گے اور وحی اور غیر وحی میں فرق نہیں کر سکیں گے ۔
ہم اس سلسلہ میں بھی متعدد آ یات سے استفا دہ کر سکتے ہیں پہلے ان آیات کو بیان کر دیں کہ جن میں کلی طور پر کہا گیا ہے کہ نبی پیغام وحی میں اپنی طرف سے کو ئی اضا فہ نہیں کرتا :
( وَمَااَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ اِلَّابِاِذْنِ اللَّہِ)(١)
''اور ہم نے کو ئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ خدا کے حکم کے تحت لو گ اس کے حکم کی اطا عت کریں ''۔
ظا ہر ہے کہ خدا کا رسول جو کچھ بھی لو گو ں تک پہنچا ئے اس پر عمل کرنا لو گو ں کا فریضہ ہے اب اگر پیغمبر اپنی طرف سے کو ئی بات اضافہ کر دے تو اس پر عمل ضروری نہیں ہو گا ۔ حا لا نکہ خداوندعالم نے حکم دیا ہے کہ ہر رسول کی مطلق طور پر اطا عت کر نا چا ہئے ۔ معلوم ہوا کہ جو کچھ بھی انبیاء علیہم السلام الٰہی پیغام کے عنوان سے بیا ن کر تے ہیں وہ خدا کی رضا کے مطابق تا ئید شدہ ہے ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انبیاء علیہم السلام جن با توں کی تبلیغ فر ما تے ہیں وہ سب خدا وند عا لم کی تا ئید شدہ ہیں اور ان کی کلی طور پر اطا عت ہو نی چا ہئے دو سرے لفظو نمیں : خدا وند عا لم ایسے کو پیغمبر نہیں بنا تا جو خدا وند عا لم کے پیغا مات میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضا فہ کر دے ۔
دوسری آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے با رے میں ہے نصا ریٰ کا عقیدہ تھا کہ عیسیٰ بن مر یم نے اپنے کو لو گو ں کے سا منے خدا کے بیٹے کی حیثیت سے پہچنو ا یا ہے اور اپنی پر ستش کر نے کی دعوت دی ہے ۔ بہت سی آیتو ں میں اس مو ضو ع کے با رے میں بحث کی گئی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور اسی انتساب کی بنیا د پر جو نصا ریٰ نے حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دی ہے ایک آیت میں خدا وند عالم حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کر تا ہے :
(ئَ أَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُ مِّیَ اِلَٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللَّہِ۔۔۔)(٢)
..............
١۔سورئہ نسا ء آیت ٦٤۔
٢۔سو رئہ مائدہ آیت ١١٦۔
''کیا تم نے لو گو ں سے کہا ہے کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ما ں کو خدا بنا لو ''۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نفی میں جوا ب دیتے ہو ئے عرض کر تے ہیں :
( اِنْ کُنْتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ۔۔۔ )
''اگر میں نے ایسا کچھ کہا ہو تا تو تجھ کو خود معلوم ہو تا کیونکہ تو میرے دل کی سب بات جا نتا ہے ''۔
پیشِ نظر آیت میں گو یا خدا وند عالم استد لال کے پیرا ئے میں فر ما تا ہے کہ اس کا کو ئی سوال ہی نہیں ہے کہ خداوند عالم کسی کو رسول بنا ئے اور وہ خدا وند عا لم کے اغراض و مقا صد کے خلاف بات کرے ۔ خدا وند عالم بھی کسی ایسے شخص کو کہ جس کے یہاں اس طرح کا احتمال بھی ہو رسا لت کے لئے منتخب نہیں کر سکتا ۔اس کی دو ہی صو رتیں ہوسکتی تھیں یا تو خدا جا ہل ہو تا اور اس کو یہ معلو م ہی نہ ہو تا کہ یہ شخص ایسا کرے گا یا یہ کہ وہ عا جز ہو تا اور اس کو ایسا کرنے سے نہ روک سکتا اور خدا وند عالم نہ جا ہل ہے اور نہ عاجز،اور وہ فر ماتا ہے :
(وَمَاکَانَ لِبَشَرٍاَنْ یُوْ تِیَہُ اللَّہُ الْکِتَٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنَّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِکُوْنُوْا عِبَا داً لِّی مِنْ دُوْنِ اﷲِ)(١)
''کسی آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ خدا اسے کتاب ، حکم اور نبوت عطا فر ما ئے اور وہ لو گو ں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جا ؤ ''۔
کیا خدا ایسے کو پیغمبر بنا سکتا ہے کہ خدا نے تو اس کو تو حید کی رہنما ئی کے لئے بھیجا ہو اور وہ لوگوں کو شرک کی دعوت دے ؟ خدا وند عالم کبھی بھی ایسے پیغمبر کا انتخاب نہیں کر سکتا ۔
پیغمبراسلام ۖکے با رے میں ہے کہ مشر کین آپ کی طرف افتراء کی نسبت دیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے (العیاذ با ﷲ ) آپ جو کلمات خدا سے منسوب کر تے ہیں وہ خود آپ ہی کے کلمات ہیں صرف اس لئے کہ لو گ قبو ل کر لیں، کہتے ہیں کہ خدا نے ایسا فر ما یا ہے ۔ بہت سی آ یات ہیں جن میں خدا وند عا لم نے مشر کین کی زبا نی پیغمبر پر افترا ء کی نسبت نقل کی ہے ۔ آج بھی بعض دا نشور اور مستشر قین جب دین اسلا م کا ایک تر قی یا فتہ دین کے عنو ا ن سے تعا رف کرا تے ہیں اور دین اسلا م کی تعلیما ت کی تعریف کر تے ہیں اس کے سا تھ ہی یہ کہتے ہیں کہ اسلا م کا قانون بنا نے وا لے (نبی) بات منو ا نے کے لئے اپنی با ت کو خدا سے منسوب کر دیتے تھے ۔ اس زما نہ میں بھی اس طرح کی
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت ٧٩۔
با تیں تھیں لیکن جو دین اسلا م قبو ل نہیں کر نا چا ہتے تھے ۔وہی اس طرح کی با تیں بنا یا کر تے تھے۔ خداوندعالم فر ما تا ہے کہ اگر یہ طے ہو تا کہ جو کچھ ہم نے اپنے نبی پر وحی کی ہے وہ اسکے خلاف ایک حرف بھی لو گو ں سے کہیں گے تو ہم ان کو ایسا کر نے کی مہلت ہی نہ دیتے ار شا د ہو تا ہے:
( وَ لَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَابَعْضَ الاَ قَاوِیْلِ۔لَاَخَذْنَامِنْہُ بِالْیَمِیْنِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہ الْوَ تِیْنَ۔فَمَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَٰجِزِیْنَ )(١)
''اگر رسو ل ہما ری طرف سے کو ئی با ت گڑھ کر کہتے تو ہم پو ری قو ت کے سا تھ ان کو رو ک دیتے اور پھر ہم ان کی رگِ حیا ت ہی قطع کر دیتے اور تم میں کو ئی مجھے اس سے روک نہیں سکتا تھا '' ۔
یہا ں پر (لَا خَذْ نَا مِنْہ ُ بِا لْیَمِیْنِ) ''تو ہم ان کو دا ہنے ہا تھ سے پکڑ لیتے ''سے مرا د یہ ہے کہ ہم ان کو اپنی پو ری قوّت سے روک دیتے ۔ ( عربی زبان میں اس طرح کے جملے قد رت کی علا مت ہو تے ہیں کیو نکہ عام طو ر پر انسا ن کا داہنا ہاتھ اس کے با ئیں ہا تھ سے زیا دہ قو ی ہو تا ہے ) اور نہ صرف یہ کہ ہم ایسی بات کر نے سے روک دیتے بلکہ ان کی رگ حیا ت کو منقطع کر دیتے ''ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَ تِیْنَ ''اور کو ئی شخص ہم کو ایسا کر نے سے روک بھی نہیں سکتا تھا۔
یہ آیا ت اس چیز پر دلا لت کر تی ہیںکہ انبیا ء علیہم السلام وحی کو سمجھنے اور اس کو من و عن لو گو ں تک پہنچا نے میں کو ئی بھی غلطی یاخطا نہیں کر تے اور نہ ہی اپنی طرف سے اس میں کسی چیز کا اضا فہ کرتے ہیں ۔

مقا مِ عمل میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت عقل ہم سے کہتی ہے کہ بندو ں تک الٰہی پیغام من و عن با لکل صحیح پہنچنا چا ہئے لہٰذا انبیا ء علیہم السلام کاوحی کے سمجھنے اور لوگو ں تک پہنچا نے میںقطعی طو ر پر معصو م ہو نا ثا بت ہے لیکن مقا م عمل میں بھی خود انبیا ء علیہم السلام ان پیغامات پر ضرور عمل کر تے ہیں اس کو ثا بت کر نے کے لئے یہ دلیل کا فی نہیں ہے۔ بعض علما ء علم کلام نے مقا م عمل میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت عقل کے ذریعہ ثا بت کر نے کی چند صورتیں بیا ن کی ہیں منجملہ وہ کہتے ہیں :
قو ل کی طرح عمل بھی کسی کا م کے جا ئز ہو نے پر دلا لت کر تا ہے ۔ اگر پیغمبر (العیا ذ با ﷲ ) کسی گنا ہ کا ارتکاب کر تے تو لو گ ان کے عمل کو اس گنا ہ کے جا ئز ہو نے کی دلیل سمجھتے اور اس سے بھی خدا وند عالم کی حکمت فوت ہوجاتی۔ خدا وند عالم نے انبیا ء علیہم السلام کو اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ لو گو ں کوسمجھائیںکہ کونسا کام کر نا چا ہئے اور کو نساکام
..............
١۔سورئہ الحا قہ آیت ٤٤تا٤٧۔
نہیں کر نا چا ہئے ۔ اگر کو ئی پیغمبر عملی طور پر کسی گنا ہ کا مرتکب ہو تولوگ اُس کو اِس گنا ہ کے جا ئز ہو نے کی دلیل سمجھیں گے اور اس سے خدا کی حکمت فوت ہوجا ئے گی ۔
یہ دلیل بہت زیا دہ یقین آور نہیں ہے اس لئے کہ ممکن ہے کو ئی شخص خدا کے پیغا م کو صحیح طو ر پر لوگوں تک پہنچادے اور اُن سے کہے کہ اس کے مطابق کام انجا م دینا چا ہئے لیکن میں بھی تمہا ری طرح کبھی کبھی گنا ہ کا مر تکب ہو جا تا ہوں اور میرا فلا ں کام خلا ف ورزی کی وجہ سے تھا لیکن تم اس گنا ہ کا ارتکاب نہ کر نا ۔ عقل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اتنا کہنا کا فی نہیں ہے اور یہ عقلی طور پر محا ل بھی نہیں ہے البتہ ہما رے پاس کتا ب و سنت سے کا فی دلیلیں موجود ہیں جو اس چیز پر دلا لت کر تی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام حتیٰ رسالت سے پہلے بھی معصوم ہو تے ہیں لیکن عصمت کی ضرورت پر عقلی دلیل کاقا ئم کر نا آ سا ن نہیں ہے ۔ ہم عقل کے ذریعہ جو بات انبیا ء علیہم السلام کی عصمت کے لئے ثابت کر سکتے ہیں وہ وحی کے سمجھنے اور اس کو ٹھیک ٹھیک لو گو ں تک پہنچا نے کے سلسلے میں ان کا معصوم ہو نا ہے ۔ ہاں یہ خدا وند عالم کی طرف سے ایک لطف ہے کہ انبیا ء علیہم السلام عملی طور پر بھی خطا و غلطی سے معصوم ہو تے ہیں کیونکہ خطا و غلطی سے معصوم ہو نے کی وجہ سے لوگ ان پر زیادہ اعتماد کر یں گے اور ان کی رفتا ر لو گو ں کیلئے نمو نۂ عمل ہوگی اور لوگ ان (معصو موں ) کی رفتار و کر دار سے پو ری طرح تمسک کر سکیں گے۔ یہ ان پر خداوند عالم کا ایک لطف ہے لیکن ہم اس بات کی ضرو رت عقلی دلیل کے ذریعہ ثا بت نہیں کر سکتے البتہ انبیا ء علیہم السلام کی عصمت پربہت سی آیات دلالت کر تی ہیں اور روا یات بھی کثر ت سے مو جو د ہیں۔
اس مسئلہ میں مسلما نو ں کے مختلف فر قو ں کے در میان کئی جہتو ں سے کم و بیش اختلاف رہا ہے انبیا ء علیہم السلام نبو ت ملنے کے بعد معصو م ہو تے ہیں اس با رے میں تقر یباً سبھی متفق ہیں لیکن بعض کے نز دیک نبو ت ملنے سے پہلے معصیت کا امکان پایا جا تا ہے اور بعض کا خیا ل ہے کہ انبیا ء علیہم السلام ایسا فعل انجا م دے سکتے ہیںجو بعد میں خود ان کے دین میں حرا م ہو جا ئے لیکن ابھی حرا م نہیں ہو ا ہے اور بعض کا یہ نظر یہ ہے کہ وہ صرف گنا ہ کبیرہ سے معصو م ہو تے ہیں ۔
ان تمام نظر یو ں کے طر فدا روں نے اپنے اپنے نظر یو ں کو ثا بت کر نے کے لئے کچھ عقلی دلیلیں پیش کی ہیں منجملہ یہ کہ : اگر کو ئی شخص کسی گنا ہ کامر تکب ہو ا ہوتو یہ اس شخص کے وقار کو ختم کر دیتا ہے اور لوگ ایسے شخص پر اعتماد نہیں کر تے۔ لہٰذا نبی کو خو د بھی عملی طور پر بُرے اعمال سے محفو ظ رہنا چا ہئے تاکہ لو گو ں کی نظر میں قا بل اعتماد رہے ۔ اس دلیل کی بنیاد بھی گمان پر ہے اس لئے کہ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ایک شخص کے پاس کتاب ہے اور وہ اِس کتاب کو خداوند عا لم کی طرف سے لو گو ں کے لئے لیکر آیا ہے اور اس کتا ب کو اس نے لو گو ں تک پہنچا کر حجت تمام کر دی ہے تو اس صورت میں خود اس کو بھی کتا ب کے خلا ف عمل نہیں کر نا چا ہئے اس پر کو ئی عقلی دلیل قا ئم کرنا مشکل ہے البتہ اس کی تر جیح اور اولو یت میں کو ئی شبہ نہیں ہے ۔
بہر حا ل شیعو ں کا عقیدہ ہے کہ انبیا ء علیہم السلام اپنی پیدا ئش سے مو ت تک تمام گنا ہو ں سے خواہ کبیر ہ ہو یا صغیرہ محفو ظ ہیں اور حضرت آ دم علیہ السلام سے لیکر حضرت خا تم النبیین تک کسی ایک نبی نے بھی اپنی پو ری عمر کے دوران چھو ٹے سے چھو ٹے گنا ہ کا بھی ارتکا ب نہیں کیا ہے لیکن اہلسنت کے بعض فر قے ہم سے اس با رے میں کم و بیش اختلاف رکھتے ہیں اور انھو ں نے بعض شکو ک و شبہات بھی پیدا کئے ہیں شا ید ہم بعد میں ان میں سے بعض شبہات کو بیا ن کریں ۔

مقا مِ عمل میں انبیا ء کے معصوم ہو نے پر کیا کو ئی قر آ نی دلیل ہے ؟ قر آن کریم کی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ انسا نو ں کے در میا ن کچھ ایسے ''مخلَص ''بند ے ہیں جن کی خلقت کے پہلے دن سے ہی جب شیطا ن نے بنی آ دم کو گمرا ہ کر نے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے یہا ں ان افرا د کو گمرا ہ کر نے کی طمع نہیں تھی چنا نچہ خدا وند عا لم کے در با ر سے نکا لے جا نے کے بعد اس نے قسم کھا کر کہا تھا :
(فَبِعِزَّ تِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔اِ لَّا عِبَادَ کَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ )(١)
''تیری عزت (و جلال ) کی قسم تیرے مخلَص بند و ں کے سوا ہر ایک کو ضرور گمرا ہ کر وں گا ''۔
یہ''مخلصین ''بندے کس طرح کے ہیں کہ خو د شیطا ن بھی جانتا تھا کہ میں ان کو گمراہ نہیں کرسکتا ؟ وہ کون سے بندے ہیںاور ان کی کیا خصوصیتیں ہیں ؟تعبیر مخلص سے یہ مطلب نکالا جاسکتاہے کہ یہ وہ افراد ہیں جن کو خداوند متعال نے صرف اپنے لئے پاک و مخلص کیا ہے ۔
قا رئین کرام : یہا ں یہ بیان کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ َمخلص (لام پر زبر )کے ساتھ اور مخلِص (لام پر زیر ) کے ساتھ دو الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں (زیر کے ساتھ ) مخلصین وہ لوگ ہیں جو اپنی جگہ خود خلوص نیت سے خدا کے لئے عمل انجام دیتے ہیں لیکن (زبر کے ساتھ ) مخلصین وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے پاک نیت اور مخلص بنایا ہے صرف ان کے عمل میں ہی خلوص نہیں ہے بلکہ وہ خود بھی مجسمۂ خلوص ہیں یعنی ان کا پورا وجود خدا کے لئے ہے ۔ چنانچہ ان افراد سے شیطان کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ یہ مخلص کی تعبیر تقریباً اسی اصطلاح معصوم پر منطبق ہوتی ہے ۔ جب ہم معصوم کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ جس کو خداوند عالم نے گناہوں سے محفوظ کردیا ہے ( البتہ یہاں پہ
..............
١۔سورئہ ص آیت ٨٢ ۔٨٣ ۔
یاد رکھنا چاہئے کہ یہ چیز صاحب اختیار ہونے کے منافی نہیں ہیں۔ خدا نے صرف ان کے گناہ نہ کرنے کی ضمانت لی ہے ۔ اْ ن کا اختیار سلب نہیں کیا ہے ) قرآن کریم میں معصوم کی اصطلاح استعمال نہیں ہو ئی ہے جو تعبیر'' معصوم '' کے مفہوم پر منطبق ہوتی ہے ۔ یہ وہ بندے ہیں جن کو خداوندعالم نے خالص اپنے لئے قرار دیا ہے ، اور ان کے یہاں شیطان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے اور وہ اس طرح کے ہیں کہ خود شیطان بھی ان کو گمراہ کرنے کی ہو س میں نہیں آتا۔ قرآن کریم نے کچھ ایسے انبیا ء علیہم السلام کے نام لئے ہیں جو خدا کے مخلص بندے ہیں :
( اِ نَّہْ مِنْ عِبَادِنَاالْمُخْلِصِیْنَ وَکَانَ مُخْلِصَاً)
''بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھا اور وہ میرا مخلَص بندہ تھا ''۔
ان مخلص بندوں کے با رے میں بعض مقامات پر وضاحت کی گئی ہے کہ خداوند عالم چاہتا ہے کہ ان کو برے کاموں سے دور رکھے اور ان کے وجود کو ہر طرح کے انحرافات اور پلیدیوں سے محفوظ رکھے اور ان ہی مقامات میںسے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے جس میں قرآن نے عزیز مصر کی بیوی زلیخا کا حضرت یوسف علیہ السلام پر عاشق ہو جا نا ذکر کیا ہے یہا ں تک کہ زلیخا نے ایک ایسا کمر ہ تیا رکیا جو ہر رخ سے محفو ظ اور تنہا ہو اور وہا ں حضر ت یوسف علیہ السلام کو مشتعل کر نے کے تمام وسا ئل بھی فرا ہم تھے ا ور وہ بہا نے سے آپ کو کمرہ میںلے گئی اور دروازوں کو اس طرح بند کیا کہ کسی دو سرے کو اس کی خبر نہ ہو سکے ۔ روا یات میں یہا ں تک ہے کہ اس نے کمرہ کے چاروں طرف آ ئینہ بندی کر دی تھی کہ حضرت یو سف علیہ السلام جس طرف بھی نظر اٹھا ئیں زلیخا ہی کی تصو یر دکھائی دے اس طرح کے حا لات میں قر آ ن کریم فر ما تا ہے :
( وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَا اَنْ رَّئَ ا بُرْھَٰنَ رَبِّہِ کَذَٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْئَ وَالْفَحْشَآئَ اِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَاالْمُخْلَصِیْنَ ) (١)
''اس عو رت نے تو ان کو حا صل کر نے کا پکا ارادہ کر لیا تھا اب اگر انھو ں نے اپنے پر ور دگا ر کی دلیل نہ دیکھی ہو تی تو وہ بھی اس کا قصد کر بیٹھتے (لیکن ) ہم نے ایسا کیا کہ ان سے برا ئی اور بد کا ری کو دور رکھیں ، بیشک وہ (یوسف) ہما رے ''مخلَص '' بندو ں میں تھے ''۔
ظا ہر ہے اس طرح کے مو ا قع پراگر خدا وند عالم کا خا ص لطف نہ ہو تو ایک عا م انسان اپنے نفس پر کنٹرو ل نہیں کر سکتا ۔ ایسے میں جب عزیز مصر کی بیو ی حضر ت یو سف علیہ السلام کی طرف بڑھی تو قبل اس کے کہ آپ بھی اس
..............
١۔سو رئہ یو سف آیت ٢٤ ۔
کی طرف ما ئل ہو ں خدا وند عا لم نے ان پراپنی دلیل آشکا ر کر دی اور یہ کام اس لئے کیا کہ حضرت یو سف گنا ہ سے محفو ظ رہیں ۔ رہی با ت کہ وہ دلیل کیا تھی جو خدا وند عا لم نے حضرت یو سف علیہ السلام پر آشکار کی تھی ؟ اس بارے میں کچھ ایسی آ یا ت نقل ہو ئی ہیں جن کے مطالب اطمینان بخش نہیں ہیں ۔
قر آ ن کریم نے وا ضح طور پر یہ بیا ن نہیں کیا ہے کہ حضرت یو سف علیہ السلام نے کیا چیزدیکھی تھی ۔ قر آ ن نے صرف اتنا کہا ہے کہ حضر ت یو سف علیہ السلام نے ''خدا کی دلیل ''کا مشا ہد ہ کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ کو ئی غیبی بات ان پر آ شکا ر ہو ئی تھی ''دلیل ''یا ''بر ہا ن ''کی لفظ عا م طو ر سے اس جگہ بو لی جا تی ہے جہا ں انسان کو کو ئی علم حاصل ہو ۔ حضرت یو سف علیہ السلام نے کو ئی ایسی نشا نی کا مشا ہد ہ کیا جس نے ان کو غفلت سے بچا لیا ۔ ہم عر فان کی اصطلا ح میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ''الٰہی تجلّی '' تھی لیکن کیا تھی اور کس طرح کی تھی ؟ قر آ ن اس با رے میں کچھ نہیں کہتا اور ہم کو بھی نہیںپتہ کہ وہ کیا ہے کہ انھو ں نے کس چیز کا مشا ہدہ فر ما یا تھا ۔ بہر حال کو ئی ایسی چیز دیکھی تھی جس نے ان کو غفلت سے بچا لیا اور ان کی توجہ خدا وند عالم کی طرف مبذو ل کر دی ، الٰہی دلیل تھی ، خدا وند عا لم فر ماتا ہے کہ ہم نے یہ کام انجام دیا ''لنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْئَ وَالْفَْحْشَا ئَ ''تا کہ ان کو گنا ہ اور برائی سے دور رکھے ، کیوں؟ ''اِ نَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ''اس لئے کہ حضرت یو سف علیہ السلام خدا کے مخلَص بند وں میں سے تھے اور ہم اپنے مخلص بند وں سے اسی طرح پیش آ تے ہیں ۔ یعنی جب بھی ان کے سا منے انحراف کے بیر ونی عوا مل آتے ہیں ہم ان کو راہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔
قر آ ن کریم میں خدا وند عا لم نے پیغمبر اکر م ۖ کے با رے میں بھی اسی طرح کے بعض حا لا ت نقل کئے ہیں ایک جگہ خدا فر ماتا ہے :
(وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنَٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْئاً قَلِیْلاً ۔ اِذاً لَّاَذَقْنَٰکَ ضِعْفَ الْحَیَوَٰةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیْنَانَصِیْراً )(١)
''اور اگر ہم تم کو ثا بت قدم نہ رکھتے تو دور نہیں تھا کہ تم بھی کسی حد تک ان کی طرف راغب ہو جا تے اور (اگر تم ایسا کر تے تو )ہم تم کو زند گی میں بھی اور مر نے پر بھی دو ہرے (عذاب ) کا مزہ چکھا دیتے اور پھر تم کو ہمارے مقابلہ میں کو ئی مدد گا ر نہ ملتا ''
اللہ نے اس وا قعہ کی طرف اس آ یت میں اشا رہ کیا ہے کہ کچھ لو گ پیغمبر اکرم ۖ کو ذاتی مقا صد کے تحت
..............
١۔سورئہ اسراء آیت ٧٤ ۔٧٥ ۔
اپنے فر یضہ کی انجام دہی میں کمزور دکھا نا چا ہتے تھے چنا نچہ آ نحضرت ۖ کی بعثت کے طو یل دور میں کئی ایسے مواقع پیش آ ئے ہیں کہ کچھ لوگ (کبھی کبھی آ پ کے دو ست و احباب بھی) ایسے کام کر نے کی فکر میں رہتے تھے کہ پیغمبر اکرم ۖکوبعض الٰہی احکام انجام دینے سے رو ک دیا جا ئے ۔ مثال کے طو ر پر کبھی کبھی بیجا قسم کی سفارشیں کرتے یعنی آ ج کی زبا ن میں پا رٹی با زی سے کام لیتے تھے چنا نچہ اگر کو ئی چو ری کر تا تو قانو ن کے تحت اس کے ہاتھ کٹنے چا ہئے تھے لیکن اس کے خا ندان کے افراد اپنے خا ندان کو اس بدنا می اور ننگ و عار سے بچا نے کے لئے متعدد بہانوں کے ذریعہ پیغمبر اکرم ۖکے سا منے یہ کو شش کر تے کہ آ نحضر ت اس چو ر کے متعلق حد جاری کرنے سے با ز آ جا ئیں اس قدر با تیں بنا تے اور ایسا ما حو ل تیا ر کر تے کہ کو ئی بھی اور شخص ہو تا تو ان کی بات قبول کر لیتا ۔ پیغمبر اکرم ۖکا بھی ایک انسان کی حیثیت سے جب ایسے حا لات پیش آجا تے تھے تو متا ثر ہونا ایک فطری امر تھا لیکن خدا وند عا لم ایسا نہیں ہو نے دیتا تھا، آ پ کو ملا ئکہ کی تا ئید حا صل تھی وحی نا زل ہو تی یا الہام ہو تا اور پیغمبر اکرم ۖاپنے فیصلے میں ثا بت قدم رہتے اسی طرح کے ایک مو قع کا اس آیت میں ذکر ہے خداوندعالم فرماتا ہے ''لَوْلا اَنْ ثَبَّتْنَا کَ '' ''اگر ہم تم کو ثا بت قدم نہ رکھتے ''''لَقَدْ کِدْ تَّ تَرْکَن اِ لِیْھِمْ شَیْئاً قَلِیْلاً '' ''تو قریب ہو تا کہ تم بھی کسی حد تک ان کی طرف ما ئل ہو جا ؤ اور ان کی با توں پر اعتماد کر لو '' لیکن ہم تمہا ری حفاظت کرتے اور تم کو ثا بت قدم رکھتے ہیں یقیناً کو ئی انسان اگرچہ وہ خدا کا پیغمبر ہی کیو ں نہ ہو کسی بھی عالم میں اللہ کی مدد سے بے نیا ز نہیں ہے اور پیغمبر کی فضیلت یہی ہے کہ خدا وند عا لم اس کی حفا ظت کر تا ہے۔
ان آیتو ں سے یہ استفا دہ ہو تا ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ کو بھی خدا وند عا لم کے تما م مخلَص بندوں کی ما نند جب بھی بیر و نی عوا مل شکوک و شبہا ت میں گھیر تے تو خدا وند متعال غیبی طریقہ سے آپ کی مدد کرتا اور آپ ہر طرح کی لغز ش سے محفو ظ رہتے اور عصمت کا مطلب بھی یہی ہے ۔

کیا عصمت ''جبر '' ہے ؟ عصمت یعنی حدا وند عا لم ایک انسا ن کو ہر اُس وسیلہ سے جو اس کے علم میں ہے گنا ہ اور برا ئی سے محفو ظ رکھے لیکن کیا اس کا مطلب جبر ہے یا نہیں ، انسا ن خود اپنے اختیا ر سے گنا ہ کو تر ک کر تا ہے اس با رے میں ہم اجما لی طو ر پر عر ض کر دیں کہ اس چیز پر بہت سی دلیلیں مو جو د ہیں پیغمبر بھی دو سرے تمام انسا نو ں کی طرح مکلف ہیں اور ان کو بھی ان کے اعما ل پر ثو ا ب دیا جا ئے گا اور چو نکہ اعما ل اختیا ری ہیں ، وہ گنا ہ کو ترک کر نے میں مجبور نہیں ہیں بلکہ مختا رہیں لیکن خدا وند عا لم نے ان کو اس طرح خَلْق فر ما یا ہے اور اُن کو وہ عقل عطا کی ہے کہ اپنے اختیا ر سے بُرے کامو ں کو ہاتھ نہیں لگا تے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اُ ن سے اُ ن کا اختیار سلب کر لیا گیا ہو، ور نہ اختیا ر کے بغیر گنا ہ نہ کر نا کو ئی ہنر نہیں ہو گا ، اس لئے کہ جس شخص کو خدا بُرے کا مو ں سے زبر دستی رو کے گا وہ رک ہی جا ئیگا ۔ ایک انسان کے عنوان سے پیغمبر کا کما ل یہی ہے کہ وہ اپنے اختیا ر کے با وجود خو د کو گنا ہ سے دور رکھتا ہے ۔ تو اب سوا ل یہ ہے کہ یہ کس طرح کی عصمت ہے ؟ یعنی اس کو یو ں سمجھئے کہ خدا وند عا لم نے انسا نو ں کے درمیان کچھ افرا د اس قدر مستعد اور کا مل خلق کئے ہیں کہ ان کے با رے میں اسے علم ہے کہ وہ افراد بذا ت خود گنا ہ کے مر تکب نہیں ہو ں گے ، خدا وند عا لم کے احکام کی اطا عت کر تے رہیں گے ۔ خداوندعا لم اپنے اسی علم غیب کے تحت چو نکہ وہ ان کی سر نو شت سے آ گا ہ ہے ان کو ہی اپنی رسا لت کے لئے منتخب کر تا ہے جو اپنے اختیا ر کے با وجود خدا کی نا فر ما نی کے ذریعہ گناہوں کا ارتکا ب نہیں کرتے ۔ البتہ یہ کو ئی زیا دتی یا نا انصا فی نہیں ہے یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا وندعا لم پیغمبر کی جو برے کامو ں سے بچنے میں مدد فر ما تا ہے اس میں دو سرو ں کی مدد سے دریغ کر تا ہے بلکہ قا عدہ اور اصو ل کے تحت خدا مدد کر تا ہے در اصل ، خدا وند عا لم تمام مو منین اور راہ خیر میں قدم اٹھا نے وا لے تمام لو گو ں کی مدد کر تا ہے۔ مگر اس کی مدد نہ ان افراد کی سعی و کوشش کے مطابق ایک قاعدے اور اصول کے تحت ہوتی ہے جو شخص ایک قدم آگے بڑھاتا ہے خداوند عالم دس قدم بڑھکر اس کی مدد کرتا ہے اگر کوئی سو قدم آگے بڑھاتا ہے اسی اعتبار سے خدا اس کی مدد کرتا ہے چونکہ پیغمبر اپنی تمام قوت و توانائی خدا کی بندگی کی راہ میںلگا دیتے ہیں اور کسی قسم کی کوئی کو تاہی نہیں کرتے۔ خداوند عالم بھی جہاں ان کی غیر معمولی مددکی ضرورت ہوکوئی دریغ نہیں کرتا لیکن اس مدد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو جبر کانام دیا جائے یا ان سے ان کا اختیار سَلْب کرلینے کے مترادف ہو۔
جب خداوند عالم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے اپنی دلیل آشکار کی ہے وہاں مد د تواسی بنیادپر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس طرح کی مدد کی لیاقت رکھتے تھے اور انھوں نے بھی جب خدائی دلیل دیکھی تو اس کی مدد سے استفادہ کرتے ہوئے (زلیخا کے خیال سے)منصرف ہوگئے اور ان کے دل میں گناہ کا قصد بھی پیدا نہ ہوسکا ۔
خداوند عالم کی جانب سے اس طرح انبیاء علیہم السلام کی جو غیبی امداد ہوتی ہے اس کے بھی قاعدے اور اصول ہیں اور کسی بھی طرح یہ چیز اختیار سلب کرنے کا باعث نہیں بنتی ۔اس بات کو ذہن سے قریب کرنے کیلئے یوں سمجھئے کہ بہت سے ایسے برے کام ہیں کہ جن کی تمام برائیوں سے ہم آگا ہ ہیں اور کبھی بھی ہم ان کو انجام دینے کا قصد نہیں کرتے لیکن ہم اسکے انجام دینے سے مجبور بھی نہیں ایک بہت ہی گندی چیز جس کا کھانا کوئی شخص اپنی عمر کے کسی بھی مرحلے میں قصد و ارادہ کے ساتھ پسند نہیں کرتا اور نہیں کھاتا تو کیا کسی نے اس کو نہ کھانے پر مجبور کیا ہے؟قطعاًمجبور نہیں ہے لیکن اسکا کھانا اسکے خیال میںنہیں آتا۔انبیاء علیہم السلام بھی خداوند عالم کے عطا کردہ علم کے ذریعہ گناہوں کی گندگی کو اس طرح مشاہدہ کرتے ہیں کہ کبھی بھی ان کے ارتکاب کی ہوس نہیں کرتے لیکن ہم ایک بارپھر تاکید کے ساتھ کہدیں کہ اس کا مطلب ہر گز جبر نہیں ہے ۔



12
عصمت انبیاء علیہم السلام سے متعلق شبہات راہ اور رہنما کی پہچان

عصمت انبیاء علیہم السلام سے متعلق شبہات ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ شیعہ حضرات کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کرام اپنی خلقت سے لے کر اپنی زندگی کی آخری سانس تک معصوم ہوتے ہیںا ور صرف یہ کہ وحی سمجھنے اور اسکی تبلیغ کرنے میں غلطی نہیں کر تے بلکہ اپنے شخصی افعال و کر دارمیں بھی غلطی یاخطا نہیں کرتے لیکن اہلسنت کے درمیان خاص طور سے اس مسئلہ میں ، متعدد اقوال موجود ہیں جس میں انھو ں نے عصمت کے بعض در جا ت کا انکار کیا ہے ،ان میں سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا نبوت ملنے سے پہلے معصوم ہونا لازمی نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام نبوت ملنے کے بعدبھی ممکن ہے گناہان صغیرہ کے مرتکب ہوں۔ انھوں نے اپنے اقوال کے لئے قرآن کریم کی آیات بھی سند میں پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ بعض آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام فی الجملہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں بہر حا ل یہ بحث شیعہ اور اہل سنت کے درمیان صدر اسلام سے ہی مو جو د ہے اور عصمت انبیاء علیہم السلام کی دلیل میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت کا انکار کرنے والوںکے شکو ک و شبہات کے جواب کے بار ے میں ا ہل بیت علیہم السلام سے بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیںیہاں تک کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام کے دور میں مامون نے جو سوالات آپ سے کیے تھے ان میں سے بعض سوالات عصمت انبیاء علیہم السلام اور ا س کے با رے میں بعض شبہات کے سلسلے میںتھے جو ہماری حد یث کی کتابو ں میں نقل ہوئے ہیں۔
ہم اس بحث میں بعض ان آیات کو نقل کر رہے ہیں جن میں انبیاء کے معصوم نہ ہونے کے بارے میںوہم پیدا ہو اہے ۔

حضرت آدم علیہ السلام بعض آیات میں یہ مطلب پیش کیا گیا ہے کہ خداوند عالم نے حضرت آدم علیہ السلام کو ایک مخصوص درخت کے پاس جانے سے منع کردیا شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو وسوسہ دلایا اور آپ نے اس درخت سے پھل کھالیا جوآپ کے بہشت سے نکلنے کا با عث بنا ۔
قرآن کریم میں یہ واقعہ کئی جگہ پربیان ہواہے اور سب سے زیا دہ صاف طور پر ان آیات میں بیان ہواہے :
(وَعَصَیٰ آدَمُ رَبَّہُ فَغَوَیٰ۔ثُمَّ اجْتَبَٰہُ رَبُّہُ فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدَیٰ)(١)
''اور آدم نے اپنے پروردگار کا گناہ کیا اور راہ گم کر دی اس کے بعد ان کے پروردگار نے ان کو منتخب کیا اور ان کی توبہ قبول کی اور ا ن کی ہدا یت کر دی ''۔
دوسری آیتوں سے بھی یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے اس ترکِ اولیٰ کے بعد استغفار کیا :
(فَتَلَقَّیٰ آدَمُ مِنْ رَبِّہِ کَلَمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ۔۔۔)(٢)
''پھرآدم نے پروردگار سے چند الفاظ سیکھے پس خدا نے ان(الفاظ کی برکت سے) ان کی توبہ قبول کرلی ''۔
قر آ ن کریم میں اس وا قعہ کے ذیل میں''عصیا ن استغفار اور توبہ '' کے ما نند الفاظ استعمال ہو ئے ہیں ۔ دوسرے انبیا ء کے با رے میں بھی ایسے ہی الفاظ آئے ہیں کہ جن سے اس با ت کا وہم پیدا ہو تا ہے ۔ مقد مہ کے طور پر ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چا ہئے کہ عصیان ، استغفاراور توبہ کی مانند الفاظ جہاں کہیں بھی استعمال ہوںہر جگہ یہ اُس عصمت کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے ، جس کے ہم قائل ہیں چنانچہ جس عصمت کے ہم معتقد ہیں اس کا مطلب حرام چیزوں کے ارتکاب سے معصوم ہونا ہے ۔یعنی اگر شارع مقدس کی طرف سے کسی حرام کام سے منع کیا گیا ہو تو انبیاء علیہم السلام اس کام کے مرتکب نہیں ہوتے لیکن اگر نہی اور مخالفت تنز یہی یا ارشاد ی ممانعت ہو (یعنی تقدس اور پاکیزگی کی شان باقی رکھنے کے لئے نصیحت کے طور پر کسی چیز سے روکاگیا ہوتو ) اگرچہ اس پر عصیان کا ا طلاق ہی کیوں نہ ہو تاہو تو یہ عصیان عصمت کے منافی نہیں ہے ۔
..............
١۔سورۂ طہ آیت ١٢١و١٢٢۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت٣٧۔
اسی آیۂ شریفہ کے با رے میں کہ جس میں حضرت آدم علیہ السلام کی طرف عصیان اور توبہ کی نسبت دی گئی ہے ایک غلط فہمی ہے کہ جس کے جواب میں شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ عصیان کسی فعل حرام کی مما نعت کی نسبت نہیں ہے ۔ در اصل، خداوند عالم کسی بندہ کو کسی کام سے اس لئے منع کرے کہ اس کام کا کر نا آخرت کے عذاب کا باعث ہوگا یعنی اگریہ کام کیا تو آخرت میں شقاوت اور خداوند عالم سے دوری کا باعث ہوگا اور یہ کہ کسی کام سے اس لئے روکا جا ئے کہ یہ کام دنیا میں نا مطلوب نتا ئج کا با عث بنے گا اگر چہ یہ شقاوت اور عذاب آخرت یا خداوند عالم سے دور ی کا باعث نہ ہو ۔ ان دونوں با توں میں بڑا فرق ہے درخت کاپھل کھا نے کی مما نعت ،نہی تحریمی یعنی فعل حرام کی مما نعت نہ تھی کہ اس کا نہ کرنا لازم و ضروری ہو، اس کی دلیل اور گواہ اسی سورئہ طہٰ کی وہ آیات ہیں کہ جن میں خداوندعالم نے حضرت آدم علیہ السلام کو جہاں اس امر سے رو کا ہے خود ہی اس نہی کی علت بھی بیان کردی ہے :
( فَلَایُخْرِجَنَّکُمَامِنَ الجَنَّةِ فَتَشْقَیٰ۔اِ نَّ لَکَ اَلَّاتَجُوْعَ فِیْھَاوَلَاتَعْرَیٰ۔ وَاَنَّکَ لَا تَظمَؤُا فِیْھاوَ لَا تَضْحَیٰ )(١)
''ہم نے آدم سے کہدیا:شیطان تم دو نوں کو بہشت سے نکال نہ دے ورنہ تم ( دنیا کی مصیبت میں پھنس جائو گے) ( بہشت میں ) تمھیں یہ ( آرام ) ہے کہ نہ تم یہاں بھو کے رہو گے اور نہ برہنہ اور نہ یہاں پیاسے رہو گے اور نہ دھوپ میں جلوگے '' ۔
اس ممانعت کی وجہ خداوند عالم کا یہ فرمان ہے : تم مو جو د ہ آرام و آسائش سے محروم ہو جا ئو گے۔
اس مقام پر بہت سی بحثیں وجود میں آتی ہیں یہ کہ جس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام سے یہ خطاب ہوا ہے۔ آیا وہ دنیا عالم تکلیف تھی اور بندوں پر احکام عائد ہو چکے تھے یا نہیں ؟ فرائض اورتکلیف اِس دار دنیا اور اس عالم خاکی سے تعلق رکھتے ہیں اور جب آدم علیہ السلام اس عالَم میں بھیج دئے گئے تو آپ سے خطاب ہوا :
( فَاِمَّایَا تِیَنَّکُمْ مِنِّی ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَاخَوْفعَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ)(٢)
''اگر تمہارے پاس میری طرف سے کو ئی رہنما ئی کی جا ئے تو جو میری ہدایت پر چلیں گے اُن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ ر نجیدہ ہو ں گے ''۔
اس سے پہلے سرے سے کو ئی فریضہ تھا ہی نہیں ، یہ اوا مر و نوا ہی ایک امر تکوینی کی حکا یت کر تے ہیں یا یہ کہئے
..............
١۔سورئہ طہ آیت ١١٧۔١١٩۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت ٣٨۔
کہ عقل کی رہنما ئی کی گئی ہے ان زحمتو ں کی طرف رہنما ئی ہے جو اس نہی کی مخا لفت پر مر تب ہو تی ہیں ۔ اس مقام پر شیعہ علما ء نے جو وضا حتیں دی ہیں مختلف ہیں بعض علماء کا کہنا ہے کہ وہ عالَم عا لَمِ تکلیف نہیں تھا اور بعض علما ء کا کہنا ہے کہ یہ فریضہ تحر یمی نہیں تھابلکہ تنز یہی تھا اور عام طور پر یہ ا صطلا ح رائج ہے کہ حضر ت آ دم علیہ السلام نے ترک اولیٰ کیا تھا یعنی ایک تنز یہی تکلیف نہ کھا نے کے سلسلہ میں تھی اور حضرت آ دم علیہ السلام نے اس تنز یہی تکلیف کے خلاف کیا۔ اس دلیل کا مطلب یہ ہو ا کہ اس زما نہ میں بھی شرعی تکلیف یا (فریضہ) اگر چہ تنز یہی صو رت میں ہی سہی مو جو د تھا لیکن دوسری تو ضیح یہ ہے کہ اس زما نہ میں سرے سے فریضہ مرتب ہی نہیں ہوتا تھااور اس حکم اور ممانعت کی کو ئی دوسری صورت بیان کر نے کی ضرورت ہے ۔
بہر حال اس غلط فہمی کا ہم یہ جواب دے سکتے ہیں کہ عصیا ن یا ''گناہ '' کی اصطلاح چو نکہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ عصیان ایک شر عی فریضے کی ادا ئیگی سے متعلق تھا اور اس کی تا ئید اس بات سے ہو تی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اس درخت کے پا س جا نے سے منع کیا گیا تواس مما نعت کی علت بھی بیان کر دی گئی کہ اگر تم نے اس کا م کو انجام دیا تو زحمت میں پڑ جا ؤ گے اور تم سے(بہشت کی) یہ آ رام و آ سا ئش چھن جا ئے گی اوریہ زبان کسی فعل حرام سے منع کرنے کی زبان نہیں ہے اور ائمہ علیہم السلام سے عصمت کے متعلق نقل ہو نے وا لی روا یا ت کے منا فی نہیںہیں۔

حضرت ابر اہیم اور حضرت یو سف علیہما السلا م حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قو م سے چا ند ،سورج اور ستا روں کی پر ستش کے متعلق مبا حثہ کیا اور بت پر ستی کے خلاف جنگ کا فیصلہ کر لیا اور مو قع کی تلاش میں تھے کہ بتوں کے خلاف آواز بلند کریںاور ایک توحیدی تحریک کی بنیا د رکھیں۔ لہٰذا آپ کے ذہن میں یہ با ت آ ئی کہ اہل شہر جس دن مخصوص رسو ما ت انجام دینے کیلئے شہر سے با ہرجاتے ہیں اسی دن یہ کام کیا جا سکتا ہے اور پھر خود کو اس کے لئے آمادہ کرلیا کہ جب شہر والے شہر سے باہر نکل جائیںگے تو وہ بت خانہ میں جاکر بتوں کو توڑڈالیں گے۔ اہل شہر باہر جاتے وقت ظا ہر ہے آپ سے بھی کہتے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلئے۔چونکہ آپ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے کہ جس کے سر پرست (آزر)بت تراش تھے اس طرح کے پیشہ کا یہی تقاضا تھا کہ جب خاندان والے شہر سے باہر جائیں تو تمام افراد منجملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی (جو اس خاندان کی ایک فرد تھے) اپنے ہمراہ لے جائیں ۔حضرت ابراہیم نے شہر سے باہر نہ جانے اور اپنے منصو بے پر عمل کرنے کی غرض سے اپنے کو مریض ظا ہرکیا قرآن کریم فرماتا ہے:
(فَنَظَرَنَظْرَةً فِی النُّجُوْمِ۔فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْم)(١)
''تو ابراہیم نے ستاروں کی طرف ایک نظر دیکھا ا ور کہا کہ میں بیمار ہوں '' ۔
اس آیت سے کچھ مفسرین نے یہ استفادہ کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حقیقت کے بر خلاف بات کی تھی کیونکہ آپ مریض نہیں تھے اور فرمایا تھا(اِنِّیْ سَقِیْمُ)(میں بیمار ہوں) پس معلوم ہواکہ پیغمبر کا نبوت سے پہلے کذب بیانی سے کام لینا ممکن ہے اب یا تو نبوت سے پہلے گناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،یا یہ کہ پھروہ گناہ صغیرہ تھا جس کے ارتکاب سے نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
اسی طرح کی گفتگو حضرت یو سف علیہ السلام کے با رے میںبھی ہے ۔ وہ مشہور و معروف واقعہ ہے کہ جب (قحط میںگرفتار)حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپ کے پاس کھانے پینے کی اشیاء لینے کیلئے آئے اور دو سری مرتبہ ا پنے ساتھ اشیائے خو ردو نوش لینے کے لئے بنیا مین کو بھی لے آئے توحضرت یو سف علیہ السلام نے کا رندوں کو حکم دیا کہ چپ کے سے وزن کر نے والا پیمانہ ان کے سا مان میں رکھ دیا جائے تا کہ اس کے بہا نے ان کے بھائی ''بنیا مین '' کو وہاں روکاجاسکے چنا نچہ چپکے سے ایک پیمانہ ان کے سامان میں رکھ دیا گیا ۔ جب وہ جانے لگے تو کا رندوں نے کہا کہ تم لوگ یہاں سے نہیں جاسکتے اس لئے کہ تم نے چوری کی ہے اور تم کو عدالت میں پیش کیا جا ئے گاخداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے:
(فَلَمَّاجَھَّزَھْم بِجَھَازِھِم جَعْلَ الِسّقَا یَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثْمَّ اَ ذَّنَ مُؤَذِّن اَ یََّتُھَاالْعِیْرُ اِ نَّکُمْ لَسَارِقُوْنَ )(٢)
'' پھر جب یو سف نے ان کا سازو سامان (سفر غلّہ و غیرہ ) درست کرادیا تو(اشارے سے) اپنے بھائی کے اسباب میںایک پیمانہ رکھوادیا پھر ایک شخص للکار کے بولا کہ اے قافلہ والو تم لوگوں نے چور ی کی ہے ''۔
انھو ں نے کہا نہیںہم چوری کرنے نہیں آئے ہیں آخر کار ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو وہ پیمانہ ان ہی کے سامان سے نکلا اور اس طرح بنیامین کو آپ نے اپنے پاس روک لیا ۔
گویاحضرت یوسف علیہ السلام کے حکم سے ان کے بھا ئیوں پر چوری کی تہمت لگائی گئی حالانکہ تہمت لگا نا جائز
..............
١۔سورئہ صافات آیت ٨٨و ٨٩۔
٢۔سور ئہ یو سف آیت ٧٠ ۔
نہیں ہے ۔ پتہ چلا کہ ایسے فعل کا انبیاء علیہم السلام سے سرز د ہو نا ممکن ہے ۔
ان غلط فہمیوں کے مختلف انداز سے جواب دیئے گئے ہیں :
بعض کہتے ہیں کہ یہ '' تو ریہ '' تھا ۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو فرمایا '' اِنِی سقیم'' اس سے آپ نے واقعاً بیمار ہونامراد نہیںلیا تھا بلکہ آپ نے توریہ کیا تھا ۔ اسی طرح جب حضرت یو سف علیہ السلام کے ملازموں نے یہ اعلان کیا کہ '' اِ نَّکْم سَاَرِقُوْنَ '' ( یقیناً تم لوگوں نے چور ی کی ہے ) تو اس سے مراد یہ تھی کہ(مثلاً) ''تم نے حضر ت یو سف علیہ السلام کو چْرا یا ہے'' ۔ تو یہ تو ریہ تھا لیکن اس کا اور زیادہ مد لّل و قاطع جواب دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام جگہوں پر جھوٹ بو لنا حرام نہیں ہے بلکہ بعض مو قعوں پر حتّیٰ جھوٹ بو لنا واجب بھی ہو سکتاہے اور بعض مو قعوں پر جھوٹ بولنا مباح بھی ہے اور یہ خیال کہ ''مطلق طور پر جھوٹ بولنا حرام ہے'' ایک با طل تصور ہے ۔ ان تمام واقعوں میں ایک ضروری مصلحت تھی جو اگر جھوٹ نہ بولا جاتاتو مصلحت فوت ہوجاتی ۔ مثال کے طور پر اگر ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا دقیق نظر وں سے مطالعہ کریں تو یہ دیکھیں گے کہ آپ ایک انقلاب اور تحریک کے ذریعہ لوگوں کو اس بات کی طر ف متو جّہ کرنا چاہتے تھے کہ بت پر ستش کے لایق نہیں ہیں اور اس کی راہ یہی تھی کہ بیماری کے بہانے شہر میں رک کر بتوں کو تو ڑ دیں اور شرعی طور پر بیماری کا یہ بہانہ حرام نہیں ہے۔
اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں اگر آپ کے بھائیوںکی سمجھ میںیہ آجاتا کہ حضرت یوسف علیہ السلام ان کے بھائی ہیں تو شرمندگی اور شر مساری یا سزا کی وجہ سے فرار کرجاتے اور پھر آپ کے پاس نہ آتے اور اگر وہ اپنے ساتھ بنیامین کو لیجاتے تو پھر آپ کے پاس حضرت یعقوب کے آنے کی کوئی راہ نہ ر ہتی اور اس کام میں جو مصلحتیں مضمر تھیں حا صل نہ ہوپاتیں ۔فرض کیجئے یہ صاف جھوٹ بھی ہو تو بنیامین کواپنے پاس رو کنے کے لئے آپ نے جو چال چلی اس لئے تھی کہ حضرت یعقوب کے مصر آنے کی راہ ہموارہوسکے اور آپ کے بھائی اپنے کئے پر توبہ کریں وغیرہ وغیرہ ۔
بنا بر ایں ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس کے تحت اس طرح کا جھوٹ بھی حرام ہو۔ اس کے علاوہ یہ جملہ''انکم لسارقون'' بھی حضرت یو سف علیہ السلام کا جملہ نہیں ہے بلکہ یہ اعلان کرنے والے کا جملہ ہے شاید اس نے یہ خیال کیا ہو کہ حقیقت میں انھوں نے چوری کی ہے اگرقابل اعتراض بات ہے تو اس کے مقدمات میں ہے کہ جنا ب یوسف علیہ السلام نے یہ حیلہ کیوں کیا یعنی آپ نے یہ حکم کیوںصادر کیاکہ ناپ کا پیمانہ ان کے سامان میں رکھ دیا جائے کہ وہ شخص ''انکم لسارقون''کہنے پر مجبور ہو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام حالات الٰہی تدبیرکے تحت بعض مصلحتوں کو پورا کرنے کی غرض سے طے پا ئے تھے کہ جن کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: (کَذَلِکَ کِدْنَا لِیِوْسُفْ)''یوسف کو بھائی کے روکنے کی یہ تدبیرہم نے بتائی تھی ''۔

حضرت یونس علیہ السلام دوسری آیت حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میںہے کہ جب آپ اپنی قوم سے الگ ہونے کے بعد دریا میں گرے اور مچھلی کے شکم میںچلے گئے تو دعاء کی :
(فَنَادَیٰ فِی الظُّلُمَاتِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ)(١)
''پھر تاریکیوں میں جاکر آوازدی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو (ہر عیب سے)پاک و پاکیزہ ہے بیشگ میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میںسے تھا ''۔
جناب یونس نے اپنے قصورکا اقرار کرتے ہوئے فرمایا :''میںہی ظالم ہوں ''توگویاانبیاء کیلئے بھی ظلم اور گناہ کا ارتکاب کرنا جائز ہے اور اتفّاق سے یہ واقعہ بھی رسالت کے بعد کاہے لہٰذا یہ آیت ان دلیلوں میں سے ہے جن سے انبیاء علیہم السلام کی طرف سے یہاں تک کہ نبوت کے بعد بھی صغیرہ کے ارتکاب کے جائز ہو نے کا استدلال کیاگیا ہے۔
اس شبہہ کا جواب بھی واضح ہے اس لئے کہ جس عصمت کا ہم دعویٰ کر تے ہیں وہ ارتکاب محرمات سے معصوم ہوناہے لیکن غیر محرمات کا ارتکاب (اس پر عصیان اور ظلم کا اطلاق کیوںنہ ہو) انبیاء علیہم السلام کی عصمت سے منافات نہیں رکھتا ہے حضرت یونس علیہ السلام کے لئے بہتر تھا کہ اپنی قوم کے درمیان رہتے اور ان کو ترک نہ کرتے لیکن انھو ں نے جلدی کی اور یہ جلدی کرناترک اولیٰ تھا'' ترک واجب'' نہیں تھا اور اس کام پر ظلم کا اطلاق بھی اسی مناسبت سے ہوا کہ انھوں نے وہ کام ترک کر دیا تھا جس کا انجام دینا (یعنی قوم کے ساتھ ہی رہنا )اولیٰ تھا۔ یہی سبب بنا کہ آپ مچھلی کے منھ میں جا پڑے اور مشکلات میں مبتلا ہوگئے ۔
اسی طرح لفظ مغفرت یا ''بخشنا'' وغیرہ کی تعبیر اس چیز پر دلالت نہیں کرتا کہ خداوند عالم نے کسی فعل حرام کے گنا ہ کو مغفرت کا مو رد قرار دیاہے ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم نے ترک اولیٰ پر مترتّب ہونے والے آثار کو دور کردیا ہر چیز کابخشنا خود اسی چیز کی مناسبت سے ہے حرام گناہ کے بخشنے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے عذاب سے نجات دی ہے لیکن ترک اولیٰ کے بخشنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پرجو معمولی اثرات مترتب ہوسکتے تھے رفع
..............
١۔سورئہ انبیاء آیت ٨٧۔
ہوجائیں۔چنا نچہ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو مچھلی کے شکم سے نجات مل گئی اوروہ دوبارہ اپنی قوم میں واپس آکر ان کی رہنمائی میں مشغول ہوگئے ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی طرح کا ایک اور مقام حضرت موسی علیہ السلام کی اس مشہور ومعروف داستان سے متعلق ہے کہ ایک روز جب آپ فرعون کے محل سے باہر نکلے آپ نے دیکھا ایک فرعونی بنی اسرائیل کے ایک شخص سے لڑرہاہے ۔توحضرت مو سیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ایک شخص پر ہو نے والے ظلم کودو ر کرنے کی غرض سے فرعونی کوایک گھونسا مارا اور وہ شخص گرااور دنیا سے رخصت ہوگیا :
(فَوَکَزَہُ مُوْسَیٰ فَقَضَیٰ عَلَیْہِ)
''پس موسیٰ نے ایک گھو نسا ماراتو اسکا کام تمام ہوگیا ''۔
یہ خبر فرعون کو ملی تو لوگ ان کی تلاش میں نکل پڑے اور حضر ت مو سیٰ علیہ السلام نے بھی وہاں سے نکل جانا بہترسمجھا ۔۔۔اور با لآخر مدین چلے گئے ۔شہر مدین سے واپس پلٹتے وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خداوندعالم نے خطاب فرمایاکہ اے موسیٰ تم فرعون کے پاس جائو اورفر عو نیوں کو (توحید کی) دعوت دو تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی :
(وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْب فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ)(١)
''اور میں نے ان کے خیال میں ایک جرم کیاہے پس مجھے ڈرہے کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں ''۔
خداوند عالم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ یقین دلایاکہ میں تمہاری حفاظت کرونگا جب حضرت موسیٰ حضرت ہارون کے ہمراہ فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہچان لیا اور کہا:
(قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَاوَلِیْداًوَلَبِثْتَ فِیْنَامِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ)(٢)
''فرعون نے کہا کیا ہم نے بچپنے میں تمہاری پرورش نہیں کی اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے درمیان نہیں گذارے '' ۔
اور اس کے بعد اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
..............
١۔سورئہ شعراآیت ١٤۔
٢۔سورئہ شعراآیت١٨۔
(وَفَعَلْتَ فَعَلْتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ)
''اور تم نے وہ کام جو کیا ہے (ایک مردقبطی کا خون )کیا نہیں کیا؟پس تم (میری نعمتوں کے) منکر اور ناشکرے ہو'' ۔
سابقہ تو تمہارا یہ ہے اور آئے ہو مجھکو یہ دعوت دینے کہ میں اپنے ملک و سلطنت سے دست بر دار ہو جا ئوں ؟ !
حضر ت مو سیٰ علیہ السلام نے اس کے جوا ب میں فر ما یا :
(قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذاًوَاَنَاْمِنَ الضَّآلِّیْنَ )
''مو سیٰ نے کہا (ہا ں ) میں نے اس وقت اس کام کوکیا(اور سمجھ لو کہ) میں اس وقت راہ گم کر دینے والوں میں سے تھا ''۔
اس آیت کے جملہ ''وَاَنَامِنَ الضَّا لِّیْنّ''اور اسی طرح''وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْب''سے بعض نے استد لال کیا ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کے لئے نبوت سے پہلے گنا ہ کر نا اور گمرا ہ ہو نا ممکن ہے ۔
اس شبہ کے بھی متعدد جو ا ب دیئے گئے ہیں ۔ بعض جوا بات لفظ ''ضلال''کے با رے میں ہیں جس کے ''گمراہ ''کے بجا ئے دو سرے معنی بیان کئے ہیں کہ ان کا لا زمہ گنا ہ نہیں ہے ۔ منجملہ انھو ں نے کہا ہے کہ ضلال کا مطلب ''عدم عمد ''(یاجان بو جھ کر کام نہ کرنا )اور ''جہل ''یا بھول ہے ۔ چنا نچہ'' جہل'' کبھی علم کے مقا بل استعمال کیا جا تا ہے اور کبھی عمد(یعنی با لا رادہ کام کرنے ) کے مقا بل میں استعمال کیا جا تا ہے ۔چنا نچہ حضر ت مو سیٰ علیہ السلام یہ فر ما نا چا ہتے تھے کہ میں نے اس مرد قبطی کو قتل کر نا نہیں چا ہا تھا بلکہ میں تو مرد بنی اسرا ئیل کو (اس کے ظلم سے) نجات دلا نا چا ہتا تھالہٰذا اس کا بھولے سے مجھ سے قتل ہو گیا ۔گو یا آپ نے یہ فر ما یا (وَاَ نَامِن َالْمُخْطِئِینَ) یعنی یہ قتل خطا کے تحت ہو گیا تھا ۔
کچھ دو سرے افراد نے ''ضلال ''کے معنی ''محبت ''بتا ئے ہیں ( یہ ان عجیب با توں میں سے ہے جو کبھی کبھی بیان کی جا تی ہیں )اور وہ ستد لال میں وہ آیت پیش کر تے ہیں کہ جس میں حضرت یعقو ب علیہ السلام کے بیٹو ں نے ان سے کہا تھا ''اِ نَّکَ فِیْ ضَلَا لِکَ الْقَدِیْمِ''''یقینا آپ اپنے پر ا نی( محبت) میں (پڑے ہو ئے )ہیں ''
یہاں لفظ ''ضلالت'' سے ان کی مراد حضرت یعقو ب کی حضر ت یو سف سے محبت تھی ۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ضلال کے ایک معنی محبت بھی ہیں ۔ ''اَنَامِنَ الضَّا لِّیْنَ '' یعنی ''اَنَامِنَ الْمُحِبِّیْنَ ''محبین للٰہ۔
اس با رے میں دو سری وجہیں بھی بیان کی گئیں ہیں ۔ جن میں سے اگر بعض بیا ن نہ کر تے تو بہتر تھا ۔ مرحو م علا مہ طبا طبا ئی نے اس کی وجہ یہ بیا ن فر ما ئی ہے کہ میں اس وقت نہیں سمجھ سکا کہ اس جھگڑ ے کو کس طرح ختم کیا جا ئے اور اس جھگڑ ے کو حل کر نے کی بہترصورت سے نا واقف تھا ۔لہٰذا میں نے ایک گھو نسا ما ردیا جس سے یہ حادثہ رو نما ہو گیا ۔ معلوم ہو ا کہ ضلال سے مراد جہل ہے اور جہل سے مراد اس کام کو احسن طریقہ سے انجام دینے سے جاہل ہو نا ہے ۔
بعض کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ فر عون کی دل جوئی کا ایک طریقہ تھا ۔فر عون نے کہا تم اس وقت گمرا ہ تھے ۔ حضرت مو سیٰ علیہ السلام بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا کرکہنا چا ہتے تھے کہ اس زما نہ کی گمرا ہی کا آ ج کی دعوت حق سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ اصل مسئلہ کو بیا ن کر نے کے لئے دلجو ئی کا انداز اپنا یا تھا کہ اس گفتگو کو ختم کیا جا سکے۔
بہر حال ان آ یات میں (کا فر) اور (ضالّ ) کی لفظیںاصطلا حی معنی میں استعمال نہیں ہو ئی ہیںاورکسی حرام کے ارتکاب پر دلالت نہیں کر تیں ۔

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما ا لسلام خدا وند عالم حضرت سلیما ن علیہ السلام کے با رے میں فر ما تا ہے :
(وَاَلْقَیْنَا عَلَیٰ کُرْسِیِّہِ جَسَداً ثُمَّ اَنَابَ )(١)
''اور ہم نے ان کے تخت پر ایک بے جان جسم لا کر گرا دیا تو پھر انھو ں نے خدا کی طرف تو جہ کی'' ۔
اور حضر ت داؤد علیہ السلام کے با رے میں ہے کہ جب آپ کی خد مت میں دو آدمی آئے ایک نے کہا:
(اِ نَّ ھَٰذَااَخِیْ لَہُ تِسْع وَ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَلِیَ نَعْجَة وَاحِدَ ة فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَاوَعَزَّ نِیْ فِیْ الْخِطَابِ )(٢)
''یہ (شخص) میرا بھا ئی ہے اور اس کے پا س ننا نو ے دُنبیاں ہیںاور میر ے پاس صرف ایک ہے اس پر بھی یہ مجھ سے کہتا ہے کہ وہ ایک دُنبی مجھے دیدو اور زبان درازی میں مجھ پر حا وی ہوجاتا ہے'' ۔
( لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَا لِ نَعْجَتِکَ اِلَیٰ نِعَاجِہِ)
''داؤ د نے ''بغیر اس کے کہ دو سرے فریق سے کچھ پو چھیں '' کہد یا کہ یہ جو تیر ی دنبی لے کر اپنی دُنبیو ں میں اضافہ کر نا چا ہتا ہے ظلم کا مر تکب ہوا ہے '' ۔
..............
١۔سور ئہ ص آیت ٣٤۔
٢۔سو رئہ ص آیت ٢٣۔ ٢٤۔
حضرت دا ؤد علیہ السلام نے فیصلہ کر نے میں جلد ی دکھا ئی دلیل ما نگنے اور عدالتی کا ر روائی کے مقد مات فراہم ہو نے سے پہلے ہی صر ف مدّعا کے بیان پر ہی فیصلہ کر تے ہو ئے کہد یا (لَقَدْ ظَلَمَکَ)یہ درست نہیں ہے!!
اس اعتراض کا بھی یہ جوا ب د یاجا سکتاہے کہ با قا عدہ قسم کی کو ئی عدالتی کا ر روائی نہیں تھی۔ یعنی حقیقت میں حضرت داؤ د ایک کی چیز دو سرے کو نہیں دینا چا ہتے تھے فیصلہ تو اس وقت ہو تا جب اس کی بنیا د پرایک سے لیکر دوسرے کو دے دیتے اور جس ملکیت کے با رے میںجھگڑا ہے وہ ایک کے حق میں ثابت ہو جا ئے ۔ یہا ں ایسا نہیں ہوادو افرادکے درمیان صرف ایک عام سی گفتگو ہو رہی تھی : ان میں سے ایک کہہ رہا تھا کہ وہ ایک گو سفند جو اس کے پاس ہے وہ بھی مجھے دید و دوسرا کہہ رہا تھا نہیں دو نگا اور پھردو نوں حضرت داؤ د علیہ السلام کی خد مت میں حاضر ہو ئے اور اپنی بات دہرائی۔ معلوم ہوا یہ کوئی باقا عدہ عدالتی کا ر روائی نہ تھی کہ جس میں دو طرفہ بیان اور دلیل کی ضرورت پڑتی لہٰذا جناب داؤد نے کوئی خلاف شر ع کام انجا م نہیں دیا تھا ۔ ہاں بہتر یہی تھا کہ آ پ فیصلہ میں جلد ی نہ کر تے اور دقّتِ نظر سے کام لیتے ۔
حضرت دا ؤد علیہ السلام اسی بات پر چا لیس دن تک اشک ندامت بہاتے اور استغفار کر تے رہے اس وقت خطاب ہو ا :( یَادَاؤُدُ اِنّا جَعَلْنَا کَ خَلِیْفَةً فِیْ الْاَرْضِ )
''اے داؤ د ہم نے تم کو زمین میں (اپنا ) نا ئب قرار دیا ''۔
تم جو محض تر کِ اولیٰ کی وجہ سے چا لیس دن سے گر یہ کر رہے ہو یقیناًتم لو گو ں کے در میان ہما رے خلیفہ اور قا ضی ہو نے کی صلا حیت اور لیا قت رکھتے ہو ۔نتیجہ کے طو ر پر یہ آ یات بھی ایک نبی کے ذریعہ کسی حرا م شر عی کے ارتکاب پر دلالت نہیں کر تیں ۔



13
حضرت محمد مصطفےٰ ۖ راہ اور رہنما کی پہچان

حضرت محمد مصطفےٰ ۖ کچھ اور آیتیں پیغمبر اسلام ۖ کے با رے میں ہیں جن میں سے بعض میں پیغمبراکر م ۖ کی طرف علی الظاہر گناہ اور استغفار کی نسبت یہا ں تک کہ گذشتہ آ یتو ں سے بھی زیا دہ صاف الفاظ میں نظر آتی ہے ۔

پہلی آیت ( اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُبِیْناً۔لِیَغْفِرَلَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَ نْبِکَ وَمَاتَاَخَّرَ)(١)
..............
١۔سو رئہ فتح آیت ا۔
''ہم نے حقیقتاً تم کو کھلم کھلا فتح عطا کی تا کہ خدا تمہا رے اگلے اور پچھلے گنا ہ معاف کر دے''۔
یہ آیت سے اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ پیغمبر اکر م ۖ بھی(نعوذ با ﷲ ) گنا ہ کے مر تکب ہو ئے وہ بھی ایک مر تبہ نہیںبلکہ آپ نے کم سے کم دو مر تبہ ،ایک گناہ ما تقد م (یعنی زما نۂ گذشتہ سے اور دو سرا ما تا خر(یعنی آنے وا لے زمانہ سے تعلق رکھتاہے )اور خدا نے ان کو بخش دیا ہے۔
جو آ یتیںذنب (گنا ہ ) اور استغفار پر دلالت کر تی ہیں ان کا مجمو عی طور پرایک جواب ہے اور سو رئہ فتح کی پہلی آ یت کا ایک مخصو ص جوا ب ہے ۔
جن آ یا ت میں مطلق طور پر استغفارکا حکم دیا گیا ہے یا ان میں'' ذنب ''یعنی گناہ کی لفظ استعمال ہو ئی ہے وہ بھی پہلے بیان شدہ مقد مہ کی رو شنی میں اس بات پر دلا لت نہیں کر تیں کہ پیغمبر نے ( العیاذ باﷲ ) حرام شر عی کا ارتکاب کیا ہو ۔ہاں ،فی الجملہ ظا ہرِ آیت سے گنا ہ کا اثبات ہو تا ہے اور اس گنا ہ کی بہ نسبت خدا وند عا لم کی طرف سے مغفرت بھی ثابت ہے ۔
پہلی نظر میں ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ یہ گنا ہ تر کِ اولیٰ یا کسی مکروہ فعل کے ارتکاب سے تعلق رکھتا ہے لیکن ذرا غور و فکر کے بعد یہ کہا جا سکتاہے کہ یہ آ یتیں حتی پیغمبراکر م ۖ سے کسی مکروہ فعل کے ارتکاب کو بھی ثابت نہیں کرتیں ۔اس بات کی وضاحت کے لئے ایک مقد مہ کی ضرو رت ہے : کبھی لفظ ذنب (گناہ ) خدا وند عا لم کے کسی ایسے قا نون کی مخالفت کے معنی میں استعما ل ہو تا ہے کہ جس پر عمل لازم ہے،جس پر ممکن ہے دنیا میں سزا ملے، اور اگر دنیا میں سزا نہیں ملی تو آ خرت میں بہر حا ل اس کی جزا ء سزا دی جا ئیگی لیکن کبھی لفظ '' ذنب ''کامعنوی مدارج کے لحا ظ سے استعمال ہو تا ہے۔
مر حوم علا مہ طبا طبا ئی '' تفسیر میزا ن ''میں فر ما تے ہیں '' ذنب '' تین طرح کا قابل تصور ہے :
١۔ ذنبِ قا نو نی (وضعی) یعنی ایک قا نون بنا دیا گیا اور اس کی مخا لفت کی جا ئے جو حرام ہے ۔
٢۔ذنبِ اخلا قی :یعنی انسا ن ایک ایسے عمل کا ارتکاب کرے جو مکا رمِ اخلا ق سے منا فات رکھتا ہو اگر چہ وہ شرعی اعتبا ر سے حرا م نہ ہو یعنی وہ عمل جو نا پسند آثا ر انسان کی روح پرمر تب کرے اور ان دونو ں سے الگ ایک تیسری صورت ہے یعنی :
٣۔مقا م محبت میں کسی عمل کا انجام دینا درست نہ ہو جو قا نو نی مخا لفت نہیں ہے اور نہ ہی اخلا قی رذا یل کا سبب ہے لیکن مقام محبت اس کا متقاضی نہیں ہے ۔ محبت تقا ضا کر تی ہے کہ محب، محبو ب کے تئیں پوری طرح مطیع و منقاد ہو اس کی پو ری تو جہ اپنے محبوب کی طرف ہو اور کسی حا ل میں بھی وہ اپنے محبو ب سے غافل نہ ہو اسکا تمام رنج و غم اس لئے ہو کہ اس کا محبوب کیا چا ہتا ہے تاکہ وہی کام انجام دے اور اپنے محبوب کے سواکسی اور کی فکرنہ کرے ۔
مقام محبت کے بھی خا ص آ داب ہو تے ہیں جن کا حساب و کتاب قانون اور اخلاقیات سے جدا ہے محب اور محبوب کے درمیان ایک خاص رابطہ ہو تا ہے ۔ او لیا ئے خدا اور انبیا ئے عظام چونکہ خدا کی محبت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔ تو ا س مقا م محبت کا تقا ضا ہے کہ ان کی پو ری تو جہ اپنے معبو د کی طرف ہو ،خدا وند عالم کے علا وہ کسی اور کی بالکل فکر نہ کریں اور خدا وند عا لم کی رضا کے سواکسی اورچیز کی خواہش نہ ہو ۔ اگر اس مقا م محبت کے خلاف کو ئی فعل انجام پایا اور اپنے محبو ب حقیقی کے علا وہ کسی اور کی طرف متو جہ ہو ئے تو اس کو اپنے لئے گنا ہ تصو ر کر تے ہیں اور مقام استغفا رمیں وہ اس گنا ہ سے استغفا ر کر تے ہیں ۔
البتہ تما م اولیا ء و انبیا ء علیہم السلام کا ایک مقام اورایک ہی منز لت نہیں ہے بلکہ ان کے مرا تب جدا جدا ہیں اور ہر ایک اپنے مقا م کی منا سبت سے گنا ہ کا احساس کر سکتا ہے ۔ ایک در جہ کے افراد کیلئے ممکن ہے ایک کام گناہ نہ ہو لیکن اس سے بلند مرتبہ والے نبی یا ولی کی نظر میں اس کام کا ارتکاب گناہ شمار ہوتا ہو بہر حال جتنا بھی خداوند عالم سے قریب ہوتاجائیگا اتناہی احساس گنا ہ بھی لطیف لیکن اس کے ساتھ ہی عظیم ہوتاجائیگامثال کے طورپرذہن کو قریب کرنے کے لئے فرض کیجئے کہ عام طور پر رائج امورمیں اگر ایک بڑی شخصیت مثلاً ایک مجتہدمرجع تقلید یا کسی دنیاوی منصب پر فا ئز شخص کو نظر میں رکھ لیجئے تو جتنے لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کے تعلقات ایک طرح کے نہیں ہوتے تعلق کا ایک عام درجہ ہے جس کے تحت تمام افراد کا ایک ہی فریضہ ہے اس درجہ میں ان کی توہین کرنا یا مثال کے طورپربرا بھلا کہنا یا گالی دینا حرام ہے اور اگر کوئی شخص توہین نہ کرے تووہ کسی گناہ کا مرتکب نہیں کہا جائے گا ۔فرض کیجئے کہ اگر ایک بے معرفت شخص ان کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ جائے تو کوئی اس کو گنا ہگار نہیں کہے گا لیکن جو افراداس اعلیٰ مر تبہ شخص سے قریب ہیںان کے فرائض بھی اُس کے تئیں زیادہ ہیں اگر وہ ان فرائض کو انجام نہ دیں تو ممکن ہے قانونی خلاف ورزی نہ کہی جائے لیکن انھوں نے اپنے مقام و مر تبہ کے تقا ضے کو پورا نہیں کیاہے جو شخص بھی اس اعلیٰ مرتبہ شخصیت سے جتنا زیادہ قریب ہوگااُتنا ہی اس کا فریضہ بھی زیادہ ہوگا جس کا دوسرے کو احساس بھی نہیں ہوگا کہ یہ بھی کوئی فریضہ ہوسکتا ہے اور اُن کویہ کام انجام دینا چاہئے اصل میں جو لوگ اس سطح کے افراد نہیں ہیں وہ یہ محسوس نہیں کر سکتے کہ اس طرح کا بھی کوئی فریضہ ہے لیکن وہ ایسا مخصوص مقام ہے کہ اس کے فرائض بھی مخصوص ہیںوہ لوگ جو اس عظیم شخصیت کے مقرب ہیںآمدورفت کے وقت بھی ان کا فریضہ ہے کہ اُن کی طرف پیٹھ نہ کریںاور اگر کبھی خلاف ادب کوئی عمل ان سے سرزد ہوجاتا ہے تووہ اس کو اپنے لئے گنا ہ شمار کرتے ہیں ۔
پس اس طرح کے اشخاص کی طرف گناہ کی نسبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ان محرمات کے مرتکب ہوئے ہیں جن سے عام لوگوں کو منع کیا گیا ہے وہ اس درجہ اور اس مقام پر فا ئز افراد سے مخصوص ایک چیز ہے ا ن کے لئے جو معرفت و بصیرت کے لحاظ سے ایک اعلیٰ درجہ پر فا ئز ہیں ممکن ہے ان کی نظر میں گناہ اتنا بڑا ہو جو عام لوگوں کے محرمات کے ارتکاب سے بھی کہیں زیادہ عظیم ہو اور اگر ایسا کوئی فعل سر زد ہو جا ئے تووہ ایک عام آدمی کے مقابل کہ جس سے کوئی حرام فعل سر زد ہوگیا ہو کہیں زیادہ گناہ کا احساس کرتاہے اور یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے : (حسنات الابرارسیئات المقرّبین )
مقربین کے اپنے تقرب کے اعتبار سے ہی مخصوص فرائض ہوتے ہیں جن کی خلاف ورزی وہ اپنے لئے گناہ شمار کرتے ہیں اور اس گنا ہ کا لازمہ اپنے محبوب سے دور ی ہے نہ یہ کہ ان گناہوں کالازمہ عذاب جہنّم اور بہشت سے محرومی ہو ان کوسب سے زیادہ یہ خوف رہتاہے کہ کہیں ان کے محبوب کا لطف کم نہ ہوجائے اور وہ اس کی بے تو جہی کا مرکز قرار پاجائیں، ان کیلئے ایسا ہوجانا جہنَم کے ہر عذاب سے زیادہ سخت اور عظیم ہے اور چو نکہ ان کو یہ ڈرلگا رہتاہے کہ کہیں ان سے کوئی ایسا فعل سرزدنہ ہوجائے کہ وہ اس کی آنکھوں سے گرجائیں اور ہم پر اسکالطف کم نہ ہوجائے لہٰذا ان کوخوف بھی سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اگر ان سے کوئی ایسا فعل سرزدہ ہوگیاہوجو اس سے دوری کا باعث ہو تووہ دو سروں سے زیادہ خائف ہوجاتے ہیں اور توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں ۔
پیغمبر اکرم ۖتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تھے بلا شبہ آپ پروردگار عالم سے تقرب کے اعلیٰ ترین درجہ پر فا ئز تھے اور سب سے بلند مرتبے پر فا ئز ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ آ پ کی ذمہ داریاں بھی سب سے سخت ہوںلہٰذا آپ کو فرائض کے پورا نہ کرنے کی بھی سب سے زیا دہ فکر رہتی تھی کہ فریضہ میں کو تا ہی نہ ہو نے پا ئے بہرحال دنیا وی زندگی کے بھی کچھ ضروریات ہیں حتیٰ ممکن ہے یہ ضروریات شرعی طور پر واجب بھی ہوں لیکن وہی چیز جوقانونی طور پر واجب ہے ممکن ہے مقام محبت میں وہی کام گناہ شمار ہو ۔محبت کا لازمہ یہ ہے کہ محب کی توجہ صرف اور صرف اپنے محبوب کی طرف ہو لیکن خود محبوب کا حکم ہے کہ جائو شادی کرو، زندگی بسرکرو،کھانا کھائو اور لوگوں کے ساتھ معاشرت کرو یہ تمام واجب فریضے ہیں جن کو انجام دینا چاہئے لیکن انسان اپنی جگہ احساس گناہ کرتاہے ۔فکر یہ ہے کہ کہیںتوجہ کا ایک حصہ بھی غیر خدا کی طرف مر کوز نہ ہو جا ئے اس کے بعد بھی یقیناً ایسا نہیں ہے کہ دنیوی زندگی کی ضروریات کی طرف توجہ ان کو خدا سے غا فل کر دے لیکن ڈرتے ہیں کہ کہیں اس میں معمو لی ترین کمی یا کمزوری نہ آجائے اسی لئے اس حد تک بھی دنیوی امور کی طرف توجہ وہ اپنے لئے گنا ہ تصور کر تے ہیں ۔
بنا بریں پیغمبر اسلام ۖجیسے کی طرف گناہ اور استغفار کی نسبت دنیا ان کے اس مقام و مر تبہ کے اعتبارسے ہے کہ جس پر وہ فا ئز تھے اور اس کی یہی تو جیہ کی جاتی ہے۔ ائمہ اطہار سے مروی یا منسوب مناجات اور دعائو ں میں جو مطالب بیان ہو ئے ہیں کہ جن میں ائمہ نے اپنے لئے سب سے بڑے گناہگا ر ہو نے کی بات کی ہے ۔مثلاً یہ کہنا کہ : ''کو ن ہے جس نے میر ے طرح یوں گنا ہ کئے ہوں '' ان سب کی بھی تو جیہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقام و مر تبہ کے اعتبار سے کہ جس پر وہ فا ئز تھے خدا کے علا وہ کسی اور طرف اپنی معمولی ترین توجہ کو بھی اپنے لئے سب سے بڑا گنا ہ سمجھتے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے کو سب سے بڑا گنا ہ گار کیو ں سمجھتے تھے ؟اس لئے کہ وہ اس چیز سے آگا ہ تھے کہ اور لو گ اُس فریضہ کے حا مل نہیں ہیں اس لئے کہ وہ ان کی ما نندمعرفت اور محبت نہیں رکھتے ۔ پس معلوم ہوا کہ ان کی طرف گنا ہ کی نسبت قطعی طورپر حرا م شر عی کے ارتکاب کے معنی میں نہیں ہے لیکن سورئہ فتح کی آیت میں :
(اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاًمُبِیْنًا۔لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ)
''ہم نے تم کو حقیقتاً کھلی ہوئی فتح عطا کی ہے تا کہ خدا تمہا رے اگلے اور پچھلے گنا ہ معا ف کر دے ''
اگر غو ر و فکر کریں تو معلوم ہو گا کہ اس آ یت میں ایک اور خصو صیت پا ئی جا تی ہے، خو د آ یت اس با ت کی گواہ ہے کہ یہ گنا ہ ان مسا ئل سے کو ئی ربط نہیںرکھتا یہ کو نسا گنا ہ ہے کہ جب پیغمبر ِ اکر م کو فتح ملتی ہے تو آپ کا گنا ہ بخش دیا جاتا ہے یہ پیغمبر اکرم ۖ کی قیا دت میں مسلما نو ں کو فتح نصیب ہو ئی ہے جس میں کفا ر و مشر کین کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔ خدا وند عا لم فر ما تا ہے : ہم نے تم کو یہ کھلی فتح عطا کی تا کہ تمہا رے گنا ہ معا ف کر دیں ۔ اس کا گنا ہ سے کیا تعلق ہے ؟اتفا ق سے یہی سوال ما مو ن نے امام رضا علیہ السلام سے پو چھا تھاتو آ پ نے فر ما یاتھا:یہ وہ گنا ہ تھاجس کی مشرکین نے پیغمبراکرم ۖ کی طرف نسبت دی تھی ۔ یعنی مشر کین کے عقیدہ کے مطا بق پیغمبر ِ اکرم ۖنے سب سے بڑ ے گنا ہ کا ارتکاب کیا تھا کیونکہ آ پ نے ان کے بتو ں کو برا کہا تھا اور ان کے دین کے خلاف جنگ کی تھی اور یہ وہ گناہ ہے جو فتحِ مبین کے ذریعہ مٹا دیا گیااور ختم کر دیا گیا ایسا نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ نے ( العیا ذ باﷲ ) خدا کی نسبت کو ئی گنا ہ انجا م دیا ہو ۔سوال یہ ہے کہ خدا نے کیو ں بخشا ؟ تو یہ قر آ ن کے ان ہی توحیدی بیا نوں میں سے ہے ۔جس کا بار بار قر آن میں ذکر ہوا ہے کسی بھی نا پسند چیز کا اثرجب محو ہو تا ہے تو خدا اس کو محو کر دیتا ہے ویسے ہی ہے کہ جس طرح خداوندعالم نے پیغمبر اکر م ۖکو یہ فتح عنا یت فر ما ئی ہے پس تو جو کچھ بھی اس فتح کے آثار متر تب ہوں گے وہ خدا کے ذریعہ مر تب ہوں گے منجملہ یہ کہ مشر کین کی نظر میں جو آ ثا رِ گنا ہ تھے وہ مٹ گئے اور اب اُن میں اس طرح کا کو ئی احسا س با قی نہیں رہے گا ۔معلوم ہوا کہ اس کا بھی شر عی گنا ہ سے قطعی کوئی رابطہ نہیںہے ۔

دو سری آیت (عَفَااللَّہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ حَتَّیٰ یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَ قُوْاوَتَعْلمَ الْکَا ذِبِیْنَ )(١)
..............
١۔سورئہ تو بہ آیت ٤٣۔
''(اے ہما رے رسو ل )خدا آ پ کو معاف فر ما ئے آپ نے کس لئے انھیں ( پیچھے رکنے کی) اجا زت دے دی ؟ چا ہئے تھاکہ سچ بو لنے وا لے آشکار ہو جا ئیں اور آپ جھو ٹو ں کوبھی پہچان لیں ''
آیۂ کر یمہ کے آ غاز میں جملہ ہے(عَفَا اﷲُ عنْکَ)(اللہ آپ کو معاف کرے ) ممکن ہے کو ئی اس جملہ سے خیال کر بیٹھے کہ پیغمبراکرم ۖ نے (العیا ذ با ﷲ )کسی گنا ہ کا ارتکاب کیا تھا اور خدا وند عا لم نے ان کو معا ف فرمادیا ۔لہٰذا خود یہی جملہ عدم عصمت کے غلط تصور کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ دو سرے جملہ میں خدا وند عا لم فر ما تا ہے کہ (لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ ) ''آپ نے کس لئے انھیں رکنے کی اجا زت دیدی ''خود یہ سوالیہ جملہ بھی جواب طلبی کی نشاندہی کر رہا ہے اور پیغمبر اکرم ۖکے معصو م نہ ہو نے کے توہّم کا سر چشمہ ہو سکتا ہے ۔چنا نچہ اس آیت کا مفہو م وا ضح کر نے اور اس طرح کے شبہہ کو دور کر نے کے لئے آیت کے شانِ نزول اور اس کے مفا د کے با رے میں کچھ عرض کر نا ضروری ہے : یہ آیت ان منا فقو ں یا اُن (ضعیف الا یما ن ) افرا د کے سلسلہ میں نا زل ہو ئی ہے جوجنگ و جہا دسے فرار اختیار کر نے کے لئے بہانہ پر بہا نہ تلاش کیا کر تے تھے اوربا وجو دیکہ ایک مر تبہ پیغمبراکرم ۖ نے ایک جنگ میںرضا کا رانہ طور پر تمام لو گوں کی شرکت کا اعلان فر ما یا تھا کچھ لو گو ں نے آ پ کے اس فرمان کی خلاف ورزی کی اور جنگ کر نے کے لئے نہیں گئے ۔ تو آیت نا زل ہو ئی جس میں ان کی بہت سختی سے سرزنش کی گئی ۔ کچھ اور افراد تھے جو آپ کی خد مت میں حا ضر ہو تے اورآپ کے سا منے طرح طرح کی با تیں بناکرجنگ سے فرار کی اجا زت طلب کرتے تھے مثال کے طور پر کہتے کہ ہم کو کچھ ضروری کام ہے یا ہم سخت مشکلو ں سے دو چا ر ہیں لہٰذا ہم کو شہر میں رہنے کی اجا زت دیدیں ۔ در حقیقت کو ئی معقو ل عذر نہیں تھا لیکن اپنے عمل پرپر دہ ڈالنے کے لئے کہ کوئی اگر ان پر اعتراض کرے تو اس کو جوا ب دے سکیں کہ ہم نے رسول اللہ سے اجا زت لے لی ہے آنحضرت ۖ کی خد مت میں حا ضر ہو تے اور جہاد میں شریک نہ ہو نے اجا زت طلب کر تے تھے۔ آنحضرت بھی ان کو پہچا نتے اور ان کے انداز گفتگو سے ہی سمجھ لیتے تھے کہ یہ منا فقین یا'' ضعیف الا یمان'' ہیں (وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِیْ لَحَنِ الْقَوْلِ )(١)
''اور تم انھیں ان کے اندازِ گفتگو سے ہی ضرورپہچا ن لو گے ''
لیکن ان کی ظا ہر ی شان باقی رکھنے کے لئے آپ ان کو شہر میں رہنے کی اجا زت مر حمت فر ما دیتے اور یہ پیغمبر اکر م ۖکے نہا یت ہی کریم او رمہر با ن ہو نے کی وجہ سے تھا ایک طرف تو آپ کو یہ خیا ل تھا کہ لو گو ںکے راز
..............
١۔سورئہ محمد آیت ٣٠۔
فاش نہ ہو جا ئیں اور دو سری طرف یہ فکر تھی کہ جب کما نڈر یہ اعلان کر دے کہ سب جنگ میں شریک ہوں اور کچھ افراد کما نڈر کے اس اعلان کی صاف طو ر پرمخالفت کر یں توخود یہ مخا لفت دو سرے افراد میں بھی جرأ ت کا سبب بن جاتی ہے اور کما نڈر کے فرمان کی اہمیت کو کم کر تی ہے ان ہی دو وجہو ں کی بنا ء پر پیغمبراکرم ۖ ان کو شہر میں رہنے کی اجازت مرحمت فر ما دیتے کہ تم شہر میں رہ سکتے ہو ۔ آیۂ کریمہ اسی مو قع پر نا زل ہو ئی اور (عَفَا اﷲُ عَنْک) کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ سے ایک ان چا ہا امر صا در ہوا ہے ۔ چنا نچہ انبیا ء علیہم السلام کی عصمت کا عقیدہ رکھنے وا لے بعض مفسّر ین اس کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ یہ در گذر تر کِ اولیٰ پر تھی نہ کہ معصیت پر ۔ یعنی خداوند عا لم نے پیغمبر اکرم ۖ کو اختیا ر دے رکھا تھا کہ وہ جس کو منا سب سمجھیں شہر میں ر ہنے کی اجازت دے سکتے ہیں اور آنحضرت ۖ کا انھیں اجا زت دینا حرام نہیں تھا اس لئے آ پ نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ یہا ں زیا دہ سے زیا دہ آیت اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ ان کو اجا زت نہ دینا بہتر تھا اور (عَفَا اﷲ ُعَنْکَ) کا مطلب یہ ہے کہ خدا آپ کے اس تر کِ اولیٰ کو معا ف فرمائے لیکن علا مہ طبا طبا ئی [ فر ما تے ہیں کہ یہ حتی تر کِ اولیٰ بھی نہیں تھا اور آیت کا مقصود بھی یہ بیان کرنا نہیں ہے کہ یہ کام جو آپ نے کیا ہے انجا م نہ دیتے تو اولیٰ تھا ۔بلکہ نا راضگی کی زبان میں مدح کی گئی ہے ۔ کبھی تو ایک شخص کی برا ہ راست مدح کی جا تی ہے مثا ل کے طو ر پر کہا جاتا ہے کہ فلا ں شخص بہت مہر با ن اور ہمدردہے اور کبھی ممکن ہے اس طور پرکہ بہ ظاہر نا راضگی کا اظہارہو مدح کی جا تی ہے اور مدح کر نے کا زیادہ بلیغ طریقہ بھی یہی ہے ۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں: کہ تم کتنے ہمدرد ہو ، ہمدردی کی بھی کو ئی حد ہو تی ہے! یہ آیت اسی طرح کامطلب بیا ن کر رہی ہے ۔ اس لئے کہ خداوندعالم اس آیت کے ذیل میں ہی فر ما تا ہے :
(وَلَوْاَرَادُوْاالْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہُ عُدَّةً) (١)
''اور اگر یہ لوگ (جنگ کے لئے )نکلنے کاارادہ رکھتے تواپنے لئے کچھ سازوسامان تو تیار کئے ہو تے ''۔
وہ سرے سے نکلنے کا قصد ہی نہیں رکھتے تھے اور خدا وندعا لم چو نکہ ان کے دلو ں کے حا ل سے با خبر تھا وہ کسی لائق نہیں ہیں فر ماتا ہے :
(وَلٰکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعَا ثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْامَعَ الْقَاعِدِیْنَ)(٢)
..............
١۔سورئہ توبہ آیت ٤٦۔
٢۔سورئہ تو بہ آیت ٤٦۔
''لیکن خدا نے ان کی (جنگ کے لئے )رضا کا رانہ شمو لیت کو نا پسند کیا تو ان کو کا ہل بنا دیا اور (گو یا )ان سے کہد یا کہ تم (جنگ سے)گریز کر نے وا لو ں کے ساتھ بیٹھے رہو ''۔
ان کے اندر جہا د میں شریک ہو نے کی لیا قت نہ ہو نے کی وجہ سے ہی خدا وند عا لم خود نہیں چا ہتا تھا کہ وہ جنگ میں شریک ہوںاوریہ عذابِ الٰہی تھا جس کے تحت ان میں سستی اور بہا نے با زی کی حالت پیدا ہو گئی تھی ، خداوند عالم تو یہاں تک فر ما تا ہے:(لَوْخَرَجُوْافِیْکُمْ مَّازَادُوْکُمْ اِلَّاخَبَا لاً ) (١)
''اگر یہ لو گ تمہا رے ساتھ( جنگ کے لئے ) نکلتے بھی تو تم میں فسا د بر پا کر نے کے سوا کچھ نہ کرتے ''
معلوم ہوا ان کا جہا د میںشریک نہ ہو نا ہی الٰہی مصلحت تھی۔لہٰذاآیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اولیٰ یہ تھا کہ آپ ان کو جہا د میں شریک ہو نے کی اجا زت نہ دیتے حتی خود اسی آیت میں اس لہجہ کی وجہ بھی مو جودہے کہ اگر آپ ان کو اجا زت دیدیتے تو (یتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاوَتَعْلَمَ الْکَاذِ بِیْنَ)''آپ پر سچ بو لنے وا لے ظا ہر ہوجاتے اور آپ جھو ٹوں کو بھی پہچان لیتے '' معلو م ہو جاتا کون سچ بو لنے وا لے ہیں اور کون جھو ٹ بولنے وا لے ہیں اگر آپ ان کو اجا زت نہ دیتے تو جو سچے تھے وہ جہا د میں شر کت کر تے اور جو جھو ٹے تھے معلوم ہو جا تا وہ جھوٹے ہیں دل سے اطا عت گذار نہیں ہیں ۔پس ایسا نہیںہے کہ واقعا مصلحت یہ تھی کہ پیغمبر ان کو اجا زت نہ دیں بلکہ آیت میں پیغمبر اکرم ۖ کی مدح کی جا رہی ہے کہ آنحضرت ۖ نہا یت ہی ہمدرد و مہر با ن ہیں اور یہ ناراضگی کے پیرائے میںمدح کا بلیغ انداز ہے ، اور آیت میں (عَفَا اﷲُ عَنْکَ) خبریہ جملہ نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے گنا ہ یا تر کِ اولیٰ کیاتھا اور خدا وند عالم نے اس کو معاف کر دیا بلکہ یہ انشا ء اور دعا ہے ۔بات کو ذہن سے قریب کر نے کے لئے ہم اپنی روز مرّہ کی زبان میں عمو ماً کہا کر تے ہیں کہ (خدا آپ کے باپ کی مغفرت کرے )اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم آپ کے باپ کو گنا ہگار ثابت کر نا چا ہتے ہیں ۔ معلوم ہو ا کہ آیۂ شر یفہ میں نا راضگی کا لہجہ نا راضگی کے لئے نہیں ہے ۔ بلکہ محبوب نے ناراضگی والے لہجہ میں مدحِ لطیف کی ہے جو اس ظا ہری نا راضگی میں مخفی ہے لیکن ہاں (اِیَّاکَ اَعْنِیْ وَاسْمَعِیْ یَا جَا رّة)کے عنوان سے اس
..............
١۔سو رئہ تو بہ آیت ٤٧۔
میں منا فقین اور ضعیف الا یمان افراد کی نسبت عتا ب ہے ۔یہی بات المیزان میں علامہ طبا طبا ئی نے اس آیت کے ذیل میں بیان کی ہے ۔ بہر حال یہ آیت پیغمبر اکرم ۖسے حتی تر کِ اولیٰ صا در ہو نے پر بھی دلالت نہیں کرتی۔

تیسری آیت ( وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اﷲُعَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ علیکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اﷲَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا ﷲُ مُبْدِ یْہِ وَتَخْشَیْ النَّا سَ وَاﷲُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ)(١)
''اور (اے رسول ) آپ نے جب اس شخص (زید بن حا رثہ) سے کہ جس کوخدا نے نعمت سے نوازاتھا اور آپ نے خود بھی اس پر انعام کیا تھاکہا: کہ اپنی بیوی کو اپنی زو جیت سے الگ نہ کرو اور خدا سے ڈرتے رہو حا لانکہ آ پ اس بات کو اپنے دل میں چھپا ئے ہو ئے تھے کہ جس کو خدا نے ظا ہر کر دیا آپ لو گو ں سے ڈر تے تھے حا لانکہ خدا اس کا زیا دہ حقدار تھا کہ آپ اس سے ڈرتے ''۔
یہ (روا یتو ں اور خود آیۂ شریفہ کی روشنی میں مو جود قرینہ کے مطابق ) پیغمبر اکر م ۖ کے منھ بو لے بیٹے زیدبن حا ر ثہ تھے ، وہ بہت با کما ل جوا ن تھے جن کو اس زما نہ کے معمو ل کے مطابق پیغمبراکرم ۖنے اپنا منھ بو لا بیٹا قرار دید یا تھا اس زما نہ میں دستو ر تھا کہ بعض افراد کسی جو ان ( خا ص طو ر سے غلام ) کو اپنابیٹا بنا لیا کر تے تھے اور اس زما نہ کے رسم و رواج کے مطابق اس پرنسلی اور واقعی فر زند کے جیسے احکام جا ری ہوتے تھے اور اس کو میراث بھی دی جاتی تھی جس طرح حقیقی فر زند کی شا دی کے بعد اس کی بیوی با پ کی بہو شما ر کی جا تی ہے اور اس کی محرم ہو جا تی ہے اور باپ کا اس سے شادی کر نا حرام ہے اگر چہ بیٹا اسے طلا ق ہی کیو ں نہ دیدے ۔اس زما نہ میں یہی احکا م منھ بولے بیٹے پر بھی جا ری کئے جا تے تھے ۔ دینِ اسلا م میں اس رسم کو ختم ہو نا چا ہئے تھا کیونکہ کہ یہ ایک غلط رسم تھی ۔
سورئہ احزاب کے آغاز میں خدا وند عا لم ارشاد فر ما تا ہے :
( اُدْعُوْھُمْ لِآ بَائِھِمْ ھو اَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِ )(٢)
''لے پا لکو ں کو ان کے( اصل)با پ کی طرف نسبت دو کیونکہ یہی خدا کے نز دیک انصا ف سے قریب ہے''
..............
١۔سورئہ احزاب آیت٣٧۔
٢۔سورئہ احزاب آیت ٥۔
اسی سنت کو تو ڑنے کے لئے حکمتِ الٰہی کا تقاضا ہو ا کہ خود پیغمبر ِ اکرم ۖ اس رسم کو اپنے منھ بو لے بیٹے کے ذریعہ توڑیں تا کہ لو گو ں کو یقین ہو جا ئے اور دورِ جا ہلیت کی اس رسم کا اختتام ہو جا ئے۔
زید شا دی شدہ تھے اور اﷲ نے پیغمبر اکرم ۖپر وحی کی کہ آپ زید کی زو جہ سے عقد کرلیں یعنی زید اپنی زو جہ کو طلاق دید یں اور آپ اس سے عقد کر لیں تا کہ دورِ جا ہلیت کی اس رسم کا خاتمہ ہو جا ئے پیغمبر اکرم ۖپر یہ وحی نا زل ہو چکی تھی کہ اس طرح کا وا قعہ پیش آ ئیگا ۔ ایک دن زید نے آ نحضرت ۖکی خد مت میں حا ضر ہو کر عرض کی کہ میں اپنی زو جہ کو طلا ق دینا چا ہتا ہو ںآ نحضرت ۖ نے فر مایا :نہیں اپنی زو جہ کوالگ نہ کر و ، تقو یٰ اختیا ر کرو اور عدل و انصاف کی رعا یت کرو ۔
یہ آیت اسی مو قع پر نا زل ہو ئی :( وَاِذْ تَقُوْ لُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہ)وہ شخص جس پر خدا نے انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام سے نوازاتھا ۔آپ نے اس سے کہا ( اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْ جَکَ وَ اتَّقِ اﷲَ )''اپنی بیوی کو اپنی زو جیت میں رہنے دو ۔ یہ اس وقت تھا کہ(وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اﷲُ مُبْد یْہِ)''آپ اس بات کو اپنے دل میں چھپا رہے تھے کہ جس کو آشکار کر نے کا خدا فیصلہ کر چکا تھا (وَ تَخْشی النَّا سَ)اور آپ لو گو ں سے ڈر رہے تھے ''(وَاﷲُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ )'' جبکہ خدا سے ڈرنا زیا دہ سزا وار ہے ''
اسلام دشمنو ں نے اس آیۂ شریفہ کے متعلق ایک داستان گڑھ ڈالی اور افسوس بعض مسلمانوں میں بھی اس کا چر چا ہو نے لگا اور اس کو کتا بو ں میں بھی لکھ ماراجس سے وہ اسلام کے دشمنوں کے لئے ایک دستا ویز بن گئی یہاں تک کہ اس دور میں بھی اس کو پیغمبر کی ایک کمزوری شما ر کر تے ہیں ۔ دشمنان اسلام نے (معا ذاللہ کہا اور لکھا ہے کہ ایک روز پیغمبراکرم ۖکی نظرمبا رک زید کی خو بصو رت بیوی پر پڑ گئی تو آپ کا دل اس پر آ گیا اور آپ اس کے عا شق ہوگئے آپ اس سے شا دی کے خو اہشمند تھے لیکن اس سے عقد کر نے کی کوئی راہ نہ تھی آپ کو یہ خو ف تھا کہ کہیں لو گ اس بات سے مطلع ہو کر یہ نہ کہنے لگیں کہ پیغمبر اس جوان عو رت پر فریفتہ ہو گئے ہیں اﷲ نے بھی پیغمبر کی دلی آ رزو کو پو را کر نے کے اسباب فر ا ہم کئے کہ زید اپنی زو جہ کو طلاق دیدیں اور پیغمبر اس سے عقد کر لیں لیکن دشمنانِ اسلام تو یہا ں تک کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ۖنے اپنی دلی آرزو کو پورا کرنے کے لئے یہ آیات خود بنائی ہیں انھو ں نے یہ تمام مقد مات فرا ہم کر نے کے بعد فر ما دیا کہ : آیۂ شریفہ نا زل ہو ئی ہے اور خدا وند عالم نے فر ما یا ہے کہ۔۔۔
بالکل اسی طرح کی داستان کہ جس کی حضر ت دا ؤد علیہ السلام کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ آپ اپنے ایک صحا بی کی بیوی پر فریفتہ ہو گئے تھے وغیرہ وغیرہ اور دشمنانِ اسلام ثبوت میں آیت کا یہ ٹکڑا پیش کر تے ہیں کہ ''تم لوگوں سے ڈرتے ہو '' اور کہتے ہیں کہ انسا ن اسی وقت ڈرتا ہے جب وہ خدا وند عالم کی مر ضی کے خلاف کو ئی کام انجام دے ۔یہ ایک جھو ٹی داستان ہے جو اسلام کے دشمنوں نے گڑھی ہے در اصل، پیغمبر اکرم ۖ کو خوف یہ تھا کہ لو گ اپنے درمیا ن رائج اس مستحکم رسم کا توڑا جانا قبول نہیں کر سکیں گے کیو نکہ ان کے نقطۂ نظر سے یہ کام ایسا تھا کہ گو یا کسی نے اپنے حقیقی فرزند کی زو جہ سے عقدکر لیاہو، آپ کو لو گو ں کے درمیان اپنی آبرو ریزی کا ڈر نہیںتھا بلکہ آپ اس لئے ڈر رہے تھے کہ کہیں خداکے اس حکم کو لوگ قبو ل نہ کریں آپ کسی منا سب وقت کی تلاش میںتھے اور آپ خدا وند عا لم کی طرف سے کسی ایسے واقعہ کے پیش آنے کے منتظر تھے جس کے ذریعہ لو گو ں کی مصلحتیں بھی پو ری ہوجا ئیں او ر حکمتِ الٰہی بھی محقّق ہوجا ئے اور لوگ بھی اس کو تسلیم کر لیںاور نا فر ما نی نہ کریں ۔ با لکل اسی سے ملتا جلتا مسئلہ غدیر کی ولا یت کاہے ارشاد ہو تا ہے :
( یَااَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّا سِ )(١)
''اے رسول جو حکم تمہا رے پر ور دگا ر کی طرف سے تم پر نا زل کیا گیا ہے لو گوں تک پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گو یارسالت کا کو ئی پیغام نہیں پہنچایا اور خدا تم کو لو گو ں کے شر سے محفو ظ رکھے گا''
اس منزل میں بھی پیغمبراکرم ۖکو یہ خو ف تھا کہ کہیں لو گ امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کی ولا یت کو تسلیم نہ کریں۔یہ خوف در حقیقت امر الٰہی کی جہت میں تھا ۔آپ کو یہ خوف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ حکمِ خدا کو تسلیم نہ کریں آپ اس لئے نہیں ڈر رہے تھے کہ میری عزّت چلی جائے گی جیسا کہ دشمنا نِ اسلام نے خیال کیا ہے اسی مقام پرخدا فر ماتا ہے :تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَااﷲُ مُبْدِیہِ)جس چیز کو آنحضر ت ۖ لوگوں سے چھپا رہے تھے یہ وہی چیز تھی جس کی آپ پر وحی ہوچکی تھی کہ یہ کام ہو نا ضروری ہے آپ لو گو ں پر آشکار نہیں کر رہے تھے اور لو گو ں سے اس طرح کا انداز اختیار کئے ہو ئے تھے کہ لوگ متوجہ ہو ں کہ پیغمبر نتیجہ سے با خبر ہیں ۔ لہٰذا جب زید نے آپ کی خد مت میں حا ضر ہو کر یہ عرض کی کہ میں اپنی زو جہ کو طلا ق دینا چا ہتا ہو ں تو آنحضرت ۖنے فرمایا ''نہیں طلاق نہ دو بلکہ اپنی ازدواجی زندگی جا ری رکھو ''۔ آپ نے یہ (العیاذ با ﷲ ) اپنے عشق کو مخفی رکھنے کے لئے نہیں فر ما یا تھا بلکہ آپ کو یہ خو ف تھا کہ کہیں لوگ اس امر کو قبول نہ کریں اور امرخدا کی اطا عت سے انکار نہ کردیں ۔
بنا بر ایں آیت کا مفہوم یہ نکلتا ہے :آ پ نے اپنے منھ بو لے بیٹے سے کہ جس پر آپ کے خدا نے اور خود آپ نے بھی انعام و احسا ن کیا تھاسفارش کی کہ تم اپنی زو جہ کو اپنی زو جیت میں رکھو حا لانکہ وہ بات کہ جس کی آپ پر
..............
١۔سورئہ ما ئدہ آیت ٦٧۔
وحی ہو چکی تھی کہ اس کو آپ کی زوجیت میں لا نا مقصود ہے آپ نے لو گو ں سے مخفی رکھی آپ لو گو ں سے خو ف زدہ تھے کہ کہیں وہ حکمِ خدا کی خلا ف ور زی نہ کریں، (وَاﷲِ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَاہُ) کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ'' لو گو ں سے خو ف'' اور'' خدا سے خوف ''کے در میا ن مقا ئسہ کیا گیا ہو یعنی لو گوںسے خو ف خداوندعا لم سے خو ف کے ساتھ منافات رکھتا ہو کہ آپ کو خدا سے خو ف کر نا چا ہئے لو گو ں سے نہیں ، یہاں دو نو ں باتوںمیں کو ئی ٹکرا ؤ نہیں ہے بلکہ پیغمبراکرم ۖ کو تسلی دینے اور اس بات کی طرف متو جّہ کر نے کے لئے ہے کہ آپ اپنی تو جہ کا مر کز خدا وند عا لم کو قرار دیں، خدا بھی آپ کی حفا ظت کر ے گا آپ پر یشان نہ ہو ں ۔یقینا پیغمبراکر م ۖ معصو م ہیں اور آپ تمام صفاتِ کما ل کے آخری درجہ پر فا ئز ہیں لیکن اِن کما لات کا لا زمہ یہ نہیں ہے کہ آپ خداوندعا لم سے بے نیا ز ہوجائیںبلکہ آ پ خدا وند عا لم کی عطا کر دہ تعلیم و تر بیت کے ذریعہ ہی معصو م خلق ہو ئے ہیں اور آ پ کے پا س سب کچھ خدا وند عا لم کا ہی دیا ہو ا عطیہ ہے ۔
بہر حا ل پیغمبر اکر م ۖکے با رے میں قرآنی آیا ت نے یہ بتا یا ہے کہ خدا وند عا لم کا لطف و کرم جو آپ کے شا مل حال ہے ہر مقا م پر آپ کا محا فظ ہے ،آپ کی تر بیت اور آپ کو متو جہ کر تے رہنا اس چیز کو ثابت کر تا ہے کہ خدا وند عا لم کی طرف سے اس طرح کا لطف پیغمبرکے شا مل حال ہے۔چنا نچہ ''وَاﷲ اَ حَقُُّ اَنْ تَخْشاَہُ''کا مطلب بھی پیغمبر کو اس حقیقت کی طرف متو جہ کر نا ہے کہ آپ کو صرف اور صر ف خدا سے ڈرنا چا ہئے ۔دوسرے لو گ آپ کا کچھ نہیں بگا ڑ سکتے اور خدا نے جب کسی امر کو متحقّق کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کو متحقّق ہو نا ہی ہے اور خدا اس امر میں آ پ کی خود حفا ظت کر ے گا اس طرف سے آپ با لکل مطمئن رہیں ۔ اوراس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ پیغمبر کی طرف سے تشویش تھی بلکہ اس کا مطلب حالات کا فرا ہم ہو جا نا تھا حالات اس چیز کے متقا ضی تھے کہ ایک انسان کو اس طرح کی تشویش ہو ۔ اور خدا نے وحی ،الہام اور اپنی خا ص تر بیت کے ذریعہ ان تمام پریشا نیوں سے (جو عام طور پر جو ایک انسا ن کو پیش آ تی ہیں ) پیغمبر کی حفا ظت فر ما ئی ۔
معلوم ہوا یہ آیت بھی عصمت کے منا فی کسی چیزپر دلالت نہیں کر تی ۔اور وہ داستان بھی گڑھی ہو ئی ہے ۔

چو تھی آیت : (یَااَیُّھَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَااَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ وَاللَّہُ غَفُوْررَحِیْمُ )(١)
''اے رسو ل جو چیز خدا نے حلا ل کی ہے تم اس سے اپنی بیویو ں کی خو شنو دی کے لئے کیو ں خود پر حرام کر رہے
..............
١۔سورئہ تحریم آ یت ١۔
ہو اور خدا تو بڑا بخشنے والا مہر با ن ہے ''۔
یہ اسلام دشمن عنا صر کا ایک بہت تیزحر بہ ہے اور دین ِ اسلا م کی مخا لفت میں لکھی جا نے وا لی کتابو ں میں خاص طو ر سے اس آ یت کاسہا را لیاگیا ہے ان کا کہنا ہے کہ خود قرآن کریم نے کہاہے کہ پیغمبر (العیا ذ باﷲ ) امور شرعی میں مد اخلت کیا کر تے تھے حلا ل کو حرام کر دیتے تھے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ یہ آیت نا زل ہو ئی کہ آپ اس طرح کے کا م کیو ں انجا م دیتے ہیں ؟!
جی ہاں اسلام دشمنو ں نے اس مسئلہ کو یہ رنگ دیاہے کہ وحی اور قرآنی مطالب سے بلکہ اس سے بھی پہلے درجہ میں نبی کی سنّت سے لو گوں کا اعتمادسلب کر لیں۔
اس مقام پر بھی شبہ کو دور کرنے کیلئے آیت کے مطلب اور اسکے شأن نزول کو مد نظر رکھنا چاہئے یہ آیت ایک ایسی داستان سے متعلق ہے جس کو روایتوں میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے علاوہ ازیں پیغمبر اکر م ۖ کی بعض ازواج سے متعلق بھی ایسے مطالب ہیں جن میں خداوندعالم نے اُن پر عتاب کیا ہے اور ان پر شدید حملے کئے گئے ہیں اور بعید نہیںہے کہ اس طرح کے واقعات میں پیغمبر اکرم ۖکی بعض ازواج (عائشہ اور حفصہ جو ابوبکر اور عمر کی بیٹیاں تھیں)سے متعلق شبہے پیدا ہو جا ئیںا ور اصل قضیہ روشن و واضح نہ ہو چونکہ اہلسنّت حضرات پیغمبر اکرم ۖکی تمام ازواج کوتقدس کے سب سے بلند مرتبہ پر فائز سمجھتے ہیں اورکسی طریقہ سے بھی ان کی شان میں کوئی کمی نہیں چا ہتے لہٰذا مطلب کو حتّیٰ الا مکان اس طرح بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو بالکل بری قرار دیاجاسکے لیکن ان آیتوں کالہجہ اتنا سخت اور واضح ہے کہ کسی شخص کیلئے کوئی عذر باقی نہیں رہتا خداوندعالم فرماتا ہے :
(وَاِذْاَسَرَّالنَّبِیُّ اِلَیٰ بَعْضِ اَزْوَاجِہِ حَدِیْثاً )
پیغمبر اکرم ۖنے اپنی بعض بیو یوں سے راز کی بات کہی اور تا کید کر دی کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کریں انھوں نے مخالفت کی اورکچھ با تیں دوسروں سے کہہ دیں اور راز فاش کر دیا خدانے وحی کے ذریعہ اس امر کو رسول پر ظاہر کردیا کہ ایک یا دو بیویوں نے آپ کے راز کو فاش کردیا ہے جب رسول نے اُن سے باز پُرس کی توکہنے لگیں آپ سے کس نے کہا کہ ہم نے خبر دی ہے؟پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا :(قَالَ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ)اس نے خبر دی ہے جو ہر بات سے آگاہ ہے اس کے بعد خداوند عالم ان سے خطاب فرماتا ہے کہ تم یہ خیال نہ کرنا کہ( ہماری اپنی زبان میں ) تم میں سرخاب کے کو ئی پر لگے ہیں ۔ اگر رسول تم کو طلاق دیدیں تواُن کو اُن کا پروردگار تم سے اچھی بیویاں عطا کردے گا اور اگر تم پیغمبر اکر م ۖ سے دشمنی پر اتر آئیںتو یہ خیال نہ کرنا کہ تم ان کوشکست دے دوگی کیونکہ خدا، جبرئیل اور تمام ایماندار اشخاص ان کے دو ست و مدد گارہیں کبھی بھی یہ خیال نہ کرنا کہ تم اپنی سا زشوں کے ذریعہ ان کو شکست دیدوگی ۔
ظا ہر ہے بات بہت اہم تھی گو یا پیغمبر اکرم ۖکے خلاف سا زش تھی اسی لئے خدا وند عا لم نے ان کو اس انداز سے با خبر کیا ہے کہ تم کچھ نہیں ہو ۔ خدا ،ایما ندا ر افراد اور جبر ئیل ان کے ساتھ ہیںاور تم ان کا کچھ نہیںبگا ڑ سکتی ہو ۔ مسئلہ بہت ہی اہم تھا، اسی وجہ سے قر آ ن کریم نے ان کی سخت طریقہ سے سر زنش کی ہے۔
صرف اس خیال سے کہ کہیںوہ مطا لب و مقا صد قا رئین پر واضح نہ ہوں عرض ہے کہ اس سلسلہ میں عجیب و غریب واقعا ت نقل کیے گئے ہیں ۔ منجملہ عا مہ کی روایت ہے کہ ایک روز پیغمبر ا کرم ۖ اپنی بیوی ''سودہ'' کے یہاں تشریف فر ما تھے انھوںنے آ پ کے لئے شہد کا شر بت تیا ر کیا جس سے ایک خا ص قسم کی بو آ رہی تھی ۔ جب آنحضرت ۖ وہ شربت نو ش فر ما کر عا ئشہ کے پاس گئے تو انھوںنے منھ مو ڑ تے ہو ئے کہا :او نہہ یہ کیسی بوہے ؟ کچھ دیر بعد آ نحضرت ۖحفصہ کے پا س تشر یف لے گئے تو انھوںنے بھی اسی طرح کے الفا ظ ادا کئے تو آنحضرت ۖ سمجھ گئے کہ ان لوگوں کو اس شربت کی بو پسند نہیں ہے اس وقت آپ نے قسم کھا ئی کہ اب اس کا شربت نہیں پیئیں گے اس وقت آیت نا زل ہو ئی :
( یَااَیُّھَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآأَحَلَّ اللَّہُ لَکَ )
شہد کا شر بت حلال ہے آپ اس کو اپنے اوپرکیو ں حرا م قرار دے رہے ہیں ؟اس آیت کے شا ن نزول میں جو داستانیں نقل کی گئی ہیں یہ ان میں سے ایک ہے ۔
شیعی منقول روا یات میں یہ بات دوسری طرح نقل ہو ئی ہے کہ ایک دن حضرت رسو ل خد ا ۖاپنے بیت الشرف میں تشریف فر ما تھے اور آپ کی بیوی ما ریۂ قبطیہ جو پہلے کنیز تھیں آ پ کے حجرہ میں مو جو د تھیں اور بعض روایات کے مطابق آ نحضرت ۖ کا سرِ مبا رک ما ریہ قبطیہ کے زانو پر تھا اور آپ آرام فر ما تھے اسی دوران عائشہ اور حفصہ دو نوں حجرے میں دا خل ہو ئیں تو انھیںیہ حا لت دیکھ کرتعجب ہو اکہ ان کی مو جو د گی میں پیغمبر اکرم اپنا سر مبارک ایک کنیز ( زوجہ ) کی گو د میں کیوں رکھتے ہیں ۔ انھوں نے آپ سے جنگ و جدل شرو ع کر دی اور آپ کے خلاف محاذ آرائی کا فیصلہ کر لیا ،اور نا راضگی کے انداز میں کہاکہ اب ہم دو نو ں آپ کے پاس نہیں آ ئینگے وغیرہ وغیرہ پیغمبر اکرم ۖنے ان کو خاموش کرنے کے لئے کہ گھر میں ہنگا مہ نہ کریں قسم کھائی کہ میں اب ماریہ کے پاس نہیں جائو ںگاانھوں نے بھی پیغمبر اکرم ۖ کی اس قسم کے بعد راحت کی سانس لی اور قصّہ تمام ہوگیا ۔
اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر چہ آپ بعض کی ازواج چا ہتی ہیں کہ آپ اپنی دوسری (بیوی) پر نظر نہ اٹھا ئیں لیکن آپ کو ان کی خوشی کا اتنا خیال نہیں کرنا چاہیے :(لِمَ تُحَرِّمُ مَااَحَلَّ اﷲ ُ لَکَ)خداوند عالم نے پیغمبر اکرم ۖ پر کنیزکو حلال قرار دیا تھا اوران کی خو شی کے لئے پیغمبر اکرم ۖنے یہ قسم کھالی تھی کہ اب اس کنیز کے نزدیک نہیں جا ئیں گے خداوند عالم فرماتاہے کہ آپ نے اس طرح کی قسم کیوں کھائی ؟!(قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّةَ أَیْمَانِکُمْ۔۔۔)''خدانے اس طرح کی قسموں کاتوڑدینا آ پ پرلازم قراردیا ہے '' روایات کے مطابق مسئلہ اس موضوع سے مربوط ہے اور اہلسنّت کی روایات میں دوسری باتیں بیان کی گئی ہیں ۔
بہر حال پیغمبر اکر م ۖنے جو چیز خود پر حرام قرار دی تھی کو ئی بد عت نہیں کی تھی اس کو تشریع کا نام بھی نہیں دیاجا سکتا یعنی جس چیز کو خداوند عالم نے حلال قرار دیا تھا آنحضرت ۖنے اس کے حرام ہو نے کا حکم نہیں دیا تھا۔ کیونکہ بعدکی آیت میں تا ئید ہو تی ہے :(قَد ْفَرَضَ اﷲُ لَکُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَٰنَکُمْ۔۔۔)میں ''خدانے اس طرح قسموں کو توڑڈالناآپ پر لازم کردیا ہے ''یہ (تَحِلَّةَ)اُسی تحریم کے مقابل میں ہے اور دونوں کا مصدر باب تفعیل ہے۔ یعنی اس تحریم کے مقابلہ میں جوتم نے کی ہے خدانے تمہارے لئے اس کو حلال قرار دینا لازم قرار دیا ہے یعنی جس چیز کو تم نے اپنے لئے ممنوع قرار دیا ہے اس کی ممنوعیت ختم کردو ۔ '' اَیْمَان''(تَحِلَّہ )کی ایمان کے ذریعہ بتایاہے کہ اس چیز کو قسم کے ذریعہ حرام قرار دیا گیاتھا پیغمبر اکرم ۖ نے قسم کے ذریعہ ایک چیز اپنے اوپر حرام قرار دی تھی قانون وضع نہیں کیا تھا اور کیسے ممکن ہے کہ جس کے لئے خداوندقدوس فرماتاہے :
(وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔ لَاَخَذْنَامِنْہُ بِالْیَمِیْن)(١)
''اگر رسول ہماری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت دیتے تو ہم پوری قوت سے ان کوروک دیتے''۔
وہ اس (رسول )کو اپنے خلاف قانون بنانے کی اجازت دیدے ؟اس طرح کی چیز تمام انبیاء علیہم السلام کیلئے محال ہے چہ جائیکہ پیغمبر اسلام ۖجو تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں اور خود آیت بھی اس چیز کی شھادت دیتی ہے کہ یہ تحریم قا نو نی یا شر عی نہیں تھی کو ئی بھی شخص ایک مباح کام انجام نہ دینے کی قسم کھا سکتاہے ۔آنحضرت نے بھی اپنی ازواج کے مطالبات کو حتّیٰ الامکان پورا کرنے کی کوشش فرمائی اور ایک کام جو حلال تھا اس کے انجام نہ دینے کی قسم کھالی اور یہ آپ کا نہایت ہی لطف تھاجو آپ نے دوسروں کے آرام کیلئے اپنے کو زحمت میں ڈالنا گوارا کیا لیکن خداوند عالم آنحضرت سے خطاب فرماتاہے چو نکہ اس مسئلہ میں مصلحتیں ہیں تو آپ اپنی قسم توڑدیں اور قسم کے ذریعہ جو چیز اپنے لئے حرام قرار دی ہے حلال کیجئے ۔
پس حقیقت میں یہ (لِمْ تُحَرِّم)سورئہ توبہ میں (لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ)کی مانند ہے یہ بھی محبت بھری ناراضگی
..............
١۔سورئہ الحا قة آیت٤٤۔٤٥۔
کے لہجے میں ایک قسم کی مدح ہے یعنی صحیح ہے کہ آپ کو دوسروں کی خوا ہش کا خیال کرنا چاہئے لیکن کس قدر؟ کیا اس حد تک کہ خود کو زحمت میں ڈال دیں ؟ہم یہ نہیںچاہتے کہ آپ بذات خود اپنے کو اتنی زحمت میں ڈال دیں کہ دوسروں کی خو ا ہشوں پر حلال چیزوں کو بھی اپنے لئے حرام قرار دیدیں یہ خداوندعالم کا امر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کام پیغمبر اکرم ۖنے انجام دیا ہے وہ برا کام ہے بلکہ یہ پیغمبر اکرم ۖکی طرف سے دوسروں کی نسبت ہمدردی ، محبت، مہر بانی اور ایثارکے مقابلہ میں آنحضرت ۖ پر خداوند عالم کا لطف و کرم ہے اس لئے کہ آپ نے اپنی ازواج کے لئے اپنی خوا ہشات کو قربان کردیا خداوند عالم نے اس ایثار و قر بانی کے جواب میں کہاہے کہ اے رسول اپنی قسم سے صرف نظر کرومیں اپنے حق سے در گذر کر تا ہوں اس بناء پر یہ لہجہ اگرچہ ظاہر میں جواب طلب کر نے کا ہے لیکن حقیقت میں ایک طرح کی مدح ہے جس میں پیغمبر اکر م ۖ کی دوسروں کی نسبت کمال ہمدردی اور ایثار کی تعریف ہے ۔
بہر حال یہ آیت بھی ان دوسری آیات میں سے ہے جو اس چیز پردلالت کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ اپنی زندگی اور گھر یلوما حول میں کتنی مشکلوں کو برداشت کیا کرتے تھے ، اس مسئلہ کی اہمیّت اس وقت اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے جب ہم بقیہ سورئہ تحریم کا آخر تک مطالعہ کریں اس لئے کہ خداوندعالم نے سورہ کے آخرمیں مومنوں اور کافروں کے لئے حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی ازواج اور ان کے مقابلہ میں فرعون کی زوجہ اور حضرت مریم کی مثالیں بیان کی ہیں ،سورہ کا لہجہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖکو تسلی دی گئی ہے کہ اگر آپ کو اس طرح کی ازواج کا سامنا ہے تو حضرت نوح اور حضرت لوط بھی اس طرح کی ازواج کا سامنا رہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو نہ توکوئی شخص چھپا سکتا ہے اورنہ ہی اس کے لئے کوئی بہانہ تلاش کرسکتا ہے ان ازواج کے سلسلے میں آیہ شریفہ کا لہجہ اتنا سخت ہے جس کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے ۔

پانچویں آیت یہ آیت شک و شبہ ایجاد کر نے کے اعتبار سے دوسری تمام آیتوں سے زیادہ محکم ہے یعنی اس آیت سے پیغمبر اکر م ۖ کی عصمت میں یہاں تک کہ مقام تبلیغ رسالت میں بھی شبہ پیدا ہو جاتا ہے گذشتہ آیات ایک شخص کے عمل سے متعلق تھیں لیکن اس آیت کا شبہ اصل تبلیغ رسالت سے متعلق ہے سورئہ حج میںخداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :
(وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ وَ لَا نَبِیٍّ اِ لَّا اِذَا تَمَنَّیٰ اَلْقَی الشَّیْطَٰنُ فِیْ اُمْنِیَّتِہِ فَیَنْسَخُ اللَّہُ مَا یُلْقِیْ الشَّیْطَٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللَّہُ آیَاتِہِ وَاللَّہُ عَلِیْمُ حَکِیْم۔ لِیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِ یْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضوَالْقَاسِیَةِقُلُوْبُھُمْ وَاِنَّ الظَّالِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ۔وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَیُؤْمِنُوْابِہِ۔۔۔ )(١)
''اور (اے رسو ل ) ہم نے تم سے پہلے کو ئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجامگر یہ کہ جس وقت اس نے کو ئی آرزو کی تو شیطان نے اس کی آ رزو میں (اپنی طرف سے ) خلل ڈالا تو خدا نے جو وسوسہ شیطا ن نے پیدا کیا تھا اسے مٹادیا پھر اپنی آیات (احکام ) کواستحکام بخشا اور خدا تو بڑا دا نا اور حکیم ہے ایسا اس لئے ہے کہ ان کی با توں میں جو کچھ شیطان نے خلل ڈالا ہے اس کو ان لو گو ں کی آ زما ئش (کا ذریعہ )قرار دے کہ جن کے دلو ں میں (کفرکا مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور ظا لمین یقیناً بہت سخت اختلاف میں پڑ ے ہو ئے ہیں اوریہ اس لئے بھی ہے کہ صا حبا نِ علم جان لیں کہ بیشک یہ قر آن تمہا رے پر ور دگا ر کی طرف سے بر حق ہے اور اس پر وہ ایمان لا ئیں ''۔
اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق اہل سنت کی تفسیرو ں اور احا دیث کی کتا بو ں میں ایک عجیب و غر یب داستان نقل کی گئی ہے جس نے تبلیغِ رسالت میں پیغمبراکر م ۖکی عصمت سے متعلق ایک بہت بڑا شبہہ ایجا د کردیا ہے اور اس با رے میں انھو ں نے سعیداور ابن عباس سے متعدد روا یتیں بھی نقل کی ہیں اور سیو طی اورابن حجر جیسے کئی دو سرے افراد نے صراحت کے ساتھ کہاہے کہ ان روایتوں کی سند بھی صحیح ہے ۔
داستان کچھ اس طرح ہے : جب سورئہ نجم نا زل ہوا تو پیغمبرۖ مکہ میں اس کی قرا ئت فر ما رہے تھے ۔یہاں تک کہ آ پ اس آیت:
( اَفَرَأیْتُمْ اللَّا تَ وَالْعُزَّیٰ وَمَنَوٰ ةَ الثَّا لِثَةَ الْاُ خْرَیٰ )پر پہنچے ' 'کیا تم لو گو ں نے لا ت و عزّیٰ کو دیکھا ہے اور منا ت کو جو ان کا تیسرا ہے؟ ''
اس وقت شیطان نے آ پ کی زبا نِ اقدس پر یہ دو جملے جا ری کردیئے :
'' تِلْکَ الْغَرَانِیْقَ الْعُلَیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْ تَجَیٰ '' اس کے بعد آ نحضرت سجدہ ریز ہو ئے اور لو گو ں نے بھی سجد ہ ادا کیا پھر جبر ئیل نا زل ہو ئے اور سوا ل کیا کہ آ پ نے یہ کیا پڑھ دیا ؟ نبی نے فر ما یا کہ میں نے اپنی زبا ن پر یہ دو جملے جا ری کئے ہیں جبر ئیل نے کہا کہ میں نے آ پ پر یہ وحی نہیں کی تھی ۔ یہ جملے شیطان نے القا ء کئے ہیں اس وقت پیغمبراکر م ۖنے لو گو ں کے سا منے یہ اعلان فر ما یا کہ یہ دو جملے قر آنی جملے نہیں ہیں ۔
بعض اہلِ سنّت نے اس دا ستان کے صحیح السند ہو نے کی تا ئید کے بعد اس داستان کو مند رجہ بالابات کامصداق
..............
١۔ سورئہ حج آیت٥٢سے ٥٤۔
قرار دیا ہے ان کی نظر میں سے آیت کا مضمو ن کچھ اس طرح سے ہے : کہ جب بھی کو ئی پیغمبر آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرنا چا ہتاشیطان اس میں کوئی چیز القاء کر دیتا۔ اس اعتبا رسے تمنّیٰ کے معنی تلا وت اور قر ائت کے ہیں اور انھو ں نے شاہد مثال کے لئے شعرا ئے عرب میں سے کسی ایک شا عر کا شعر بھی نقل کیا ہے جس میں تمنّیٰ قرا ئت کے معنی میں استعما ل ہو ا ہے پس ''اِذَا تَمَنّیٰ''یعنی جس وقت وہ تلا وت کر نا چا ہتے تھے تو ''اُلْقِیَ الشَّیْطَان فِی اُمْنِیَّتِہِ ''یعنی فِیْ قَرَائَتِہِ''شیطا ن ان کی قرا ئت میں کچھ چیز وں کا القا ء کر دیتا تھا ۔ منجملہ اس داستان میں شیطان نے دو جملے القا ء کر دیئے اورچو نکہ شیطان یہ کام انجام دیتا ہے لہٰذا :(فَیَنْسَخَ اﷲُ مَایُلْقِیْ الشّیَطَان) ''خدا شیطان کے القا ء کئے ہو ئے جملو ں کو نسخ کر دیتا ہے ''
جیسا کہ یہا ں پر جبر ئیل آ ئے اور اُس کے جملو ں کو نسخ کیا اور یہ کو ئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس میں تمام انبیاء مبتلا ء ہو ئے ہیں شیطان اپنی بات القاء کر تااوراس کے بعدخداوندعالم اس کومنسوخ کردیاکرتا ۔
یہ بات قطع نظر اس سے کہ پیغمبر اکر م ۖکی عصمت میں شبہ ایجاد کر تی ہے اس سے تو بنیادی طور پروحی اور قرآن کریم پر اعتماد ختم ہوجاتاہے یعنی دشمنان اسلام کے لئے ایک بہت بڑی دستا ویز ہے جو یہ کہہ سکتے ہیں کہ خود قرآن کریم میں یہ کہاگیاہے کہ وحی کے وقت شیطان کچھ مطالب پیغمبر اکرم ۖ پر القاء کرد یتا تھا اس بناء پریہ کیسے معلوم ہوکہ جن آیات کو قرآن کریم کا جزء کہاجاتا ہے وہ شیطانی القائات کا حصہ نہ ہو اور اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ بعدمیں جبرئیل نازل ہوئے اور انھوں نے یہ فرمایا کہ وہ آیات نسخ ہوگئی ہیں تو بھی ممکن ہے وہ نسخ تو ہوگئی ہوں لیکن قرآن کریم سے نکا لی نہ گئی ہوں ۔
قرآن کے اعتبارو اعتماد پر سب سے بڑی ضرب جو لگا ئی جا سکتی تھی یہی ہے اور ا فسوس! وہ بات کہ جس کو ہم حقیقی معنی میں (القی الشیطان فی اُ مْنِیَّتِہِ )کہہ سکتے ہیں یہی روایت اور داستان ہے جو ہمارے برادران اہلسنّت نے اپنی کتابوں میں لکھ دی ہے بلا شبہ یہ وہی شیطانی القائات ہیں ۔
یہ روایت اوّل سے آخر تک اپنے جھوٹے ہونے کی خود گواہی دیتی ہے، ایسا فرض کرلیجئے کہ پیغمبر ۖنہ ہوتے بلکہ کوئی عام شخص ہوتا جو عوام الناس کو توحید کی دعوت دیتا تو کیاایک عام موحّد بھی تین بتوں کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے :''اِنََّ شَفَاعَتَھُنّ تَرْتَجِیْ ؟!''وہی شخص جو (ھٰؤُلََائِ شُفَعَائُ نَاعِنْدَ اﷲِ)کے دعوے کی مذمت کر رہاہے کہ ان کی حیثیت کیا ہے؟! یہ شفاعت کے کیا کام آئیں گے؟! کیا ان میں شعور و عقل ہے ؟ کیا خدا نے ان کو شفاعت کرنے کی اجازت دیدی ہے ؟ کیا شفاعت کاکوئی قاعدہ و قانون نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے وہ شفاعت کرے ؟اس وقت یہی شخص کہہ رہاہے کہ ہم ان بتوں سے شفاعت کے امید وار ہیں اور پھر ان کے سامنے سجدہ ریز بھی ہوجاتا ہے؟ کیا ایک عام شخص سے بھی اس طرح کا فعل سرزد ہونا معقول ہے ؟چہ جائیکہ ہم اس فعل کو پیغمبر اکرم سے منسوب کریں !بعض نے عذر تراشا ہے کہتے ہیں کہ یہ سبقت لسانی تھی زبا ن پھسل گئی تھی، پیغمبر اکرم ۖنے دل سے یہ جملے زبان پر جاری کئے ہوں،ایسا نہیں ہے لیکن یہ عذر گناہ سے بد ترہے ۔
ایک تو یہ کہ سبقت لسانی ایک حرف یا ایک جملہ میں ہوتاہے نہ کہ دو طویل جملے کہ ان کا مطلب ہی بنیادی طورپر دعوت پیغمبر کے مخالف ہو۔
دوسرے یہ کہ سبقت لسانی کے بعدبات کر نے والا سجدہ ریز نہیں ہوتا !
بہر حال کسی شک و شبہ کے بغیر یہ داستان دشمنان اسلام کی گڑھی ہوئی ہے اور ان کے گڑھنے کی علامتیں بھی اس میں آشکار و ظاہر ہیں ۔
لیکن آیۂ شریفہ کی تلاوت اورتلاوت میں شیطانی خلل سے کوئی ربط نہیںہے ۔اگر کسی شعر میں لفظ ِ تمنّیٰ پڑھنے کے معنی میں استعما ل بھی ہوا ہو (جو خود بھی قابل غور ہے ) توشا ید ا س کی وجہ یہ ہوکہ جب انسان کسی چیز کی آرزو کر تا ہے تو عموماً زبا ن پر جا ری کر تا ہے اور یہ زبا ن پر جا ری ہو نا ہی تمنّا کی حکا یت کر تا ہے شاید اسی وجہ سے اس کو تمنّا کہا گیا ہو ورنہ کلمۂ تمنّا کا اصل مطلب پڑ ھنا اور تلا وت کر نا نہیں ہے ۔ سب جا نتے ہیں کہ تمنّا یعنی آ رزو کرنا اور آ رزو کرناکسے کہتے ہیں ؟ آ رزو کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں ایک خا کہ اور منصوبہ تیا ر کر ے اور دل اس کو عملی جا مہ پہنانا چا ہے ۔ ایک پیغمبر، پیغمبر ہو نے کی حیثیت سے کس چیز کی تمنّا کرتاہے ؟ ظاہرہے وہ پیغمبر اپنی رسالت کے محقق ہو نے کی آرزو کر تا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ جب بھی کو ئی پیغمبر کو ئی آرزو کرے وہ محقق ہوجائے ۔ بلکہ شیطان اس آ رزو کے متحقّق ہو نے میں خلل اورمشکلیں ایجا د کر تا ہے وہ کیسے ان مشکلوں کو ایجا د کر تا ہے ؟ شیطان کا کام وسو سہ کر نا ہے ، وہ لو گو ں کے اذہا ن میں وسو سہ کر تا ہے ، ان کو ایمان نہیں لا نے دیتا کہ پیغمبر کی آرزو پوری ہو اور خدا وند عا لم ان شیطانی وسو سو ں کو نیست و نا بود کردیتا ہے اور اس شبہہ کی بنیاد پر آیت کا یہ فقرہ ہے '' فَیَنْسَخَ اﷲُ مَا یُلْقِیْ الشّیْطَانُ '' چو نکہ لفظ نسخ کے اصطلا ح میں ایک خاص معنی ہیں اور اس کا متعلّق کلام یا حکمِ الٰہی ہے جبکہ نسخ کے لغوی معنی زائل کر نا اور محو کر نا ہیں ۔ نسخ کے دو معنی ہیں :
١۔ایک چیز کو دو سری جگہ نقل کر نا ، نسخہ کر نایا فو ٹو کا پی کر نا ۔
٢۔کسی چیز کا محو کر نا
جملہ ''فَیَنْسَخَ اﷲُ ''یعنی خدا وند عا لم ان شیطا نی وسوسوں کو نیست و نا بود اور اس کے با لمقا بل آ یاتِ الٰہی کو محکم و مضبو ط کردیتا ہے ۔ آخر کا ر انبیاء علیہم السلام غا لب ہو ں گے ''لَاَ غْلَبَنَّ اَنَاوَرُسُلِیْ ''''میں اور میرے رسول غالب آ نے وا لے ہیں '' لیکن آیت کے ذیل میں جو یہ فر مایا ہے:
(لِیَجْعَلَ مَایُلْقِیْ الشّیْطَا نُ فِتْنَةً لِلَّذِ یْنَ فِیْ قُلُوْ بِھِمْ مَرَض)
''اور شیطان جو (وسوسہ) ڈ التا( بھی) ہے اس لئے ہے کہ خدا اسے ان لو کو ں کی آ زما ئش (کا ذریعہ ) قرار دے کہ جن کے دلو ں میں( کفر کا )مرض ہے ''
شا ید اس بات کی طرف اشا رہ ہو کہ ٹھیک ہے با لآ خر، کار خدا وند ی کو ہی کا میاب و کا مران ہو ناہے اور انبیا ء علیہم السلام غالب آئیں گے لیکن بنیادی طورپر شیطان کا وجو د عا لَم کے کلی مصا لح کا جزاور انسا ن کی آ زما ئش و امتحان کا وسیلہ و ذریعہ ہے تا کہ ایک طرف جن لو گو ں کے دلو ں میں کفر کا مر ض ہے اور قسی القلب ہیں شیطا نی وسوسوں سے دو چا ر ہو ں اور دوسری طرف :
(وَلِیَعْلَمَ الَّذِ یْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ )
'' جن لو گو ں کو کتب سما وی کا علم عطا ہو ا ہے وہ جا ن لیں کہ یہ وحی بیشک تمہا رے پر ور دگا ر کی طرف سے برحق ہے '' ۔
مو منین شیطا نی وسوسو ں کا مقا بلہ کر یں ،گمراہ انسانو ں اور جنو ں کی کا ر شکنی ان کو متز لزل نہ کرے اور جو کچھ پیغمبر پر نا زل ہو ا ہے اس کے بر حق ہو نے پر علم یقینی کے ساتھ پختہ و راسخ رہیں ۔
معلوم ہوا کہ جو کچھ ان لو گو ں نے تصورکیا ہے اس پر یہ آیۂ شریفہ ہر گزدلا لت نہیں کر تی اور وہ داستان تو بالکل گڑھی ہو ئی ہے ۔



14
غیرانبیا ء علیہم السلام کا معصوم ہو نا راہ اور رہنما کی پہچان

غیرانبیا ء علیہم السلام کا معصوم ہو نا ہم عرض کر چکے ہیں کہ قرآ ن ِ مجید کی آ یات سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبرپیغام وحی لینے اور پہنچا نے میں معصو م ہو تے ہیںیہا ں تک کہ رسالت الٰہی کسی خطا اور انحراف کے بغیر لو گو ں تک پہنچ جاتی ہے اور دوسرے دلا یل سے چا ہے وہ عقلی ہو ں یا نقلی یہ ثابت ہے کہ انبیا ء علیہم السلام تبلیغِ وحی میں معصوم ہو نے کے علا وہ وحی کے مطابق عمل کر نے میں بھی معصوم ہو تے ہیں بلکہ شیعہ حضرات کے کھلے عقا ید کی رو سے وہ کسی غلطی ، اور سہو و نسیان سے بھی دوچار نہیں ہو تے ۔ اس سلسلہ میں کچھ شکوک بھی تھے جن کی حتی المقدور وضاحت کے ساتھ ہم نے جواب بھی عرض کر دیئے ہیں :
اب اس مقا م پر ایک دوسرا سوا ل یہ پیش آ تا ہے :کیا عصمت، انبیا ء علیہم السلام سے مخصوص ہے ؟ یا انبیا ء علیہم السلام کے علا وہ بھی کچھ لو گ معصو م ہو سکتے ہیں ؟ اور کیا قر آ ن مجید کی آ یا ت اس سلسلہ میں ہما ری کچھ رہنما ئی کر تی ہیں یا نہیں؟
اس بحث کو چھیڑ نے سے پہلے خود عصمت کے مفہوم کی وضا حت کر نا ضرو ری ہے ۔ عصمت سے مرا د صرف گناہ کا ترک کرنا نہیں ہے ۔ اگر کسی انسان سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو تو کافی نہیں ہے کہ ہم اس کو معصوم کہہ بیٹھیں ۔اس لئے کہ اولاً انسان مکلف ہونا چا ہئے یعنی اس عمر کو پہنچ چکا ہو کہ اس پر شرعی فریضہ عا ئد ہو تا ہواور اس وقت وہ فریضہ کی مخالفت نہ کرے ورنہ اگر کوئی انسان ابھی مکلّف نہیں ہو اہے تو وہ اس مقام پر نہیں ہے کہ اس کے لئے کہیں معصو م ہے کہ نہیں ؟ مثلاً بچے کے لئے بالغ ہونے سے پہلے (معصوم ہونے یا نہ ہونے کی)بحث نہیں اٹھتی اگر ان کو معصوم کہاجاتا ہے تویہ ایک تسامح ہے معلوم ہواان کے اندر گنا ہ کرنے کی قوت ہونی چاہئے یعنی مکلف ہوں البتہ سب انسانوں کے لئے احکام یکسان نہیں ہوتے ہمارے پاس ایسے دلایل موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ممکن ہے کچھ لوگ قانونی سن سے پہلے ہی مکلف ہوجائیں جیسے ائمہ اطہار رسمی اور ظاھری بلوغ سے پہلے ہی مکلف ہیں اور ان بلند مرتبوں پر فائز ہونے کی بنا پر اپنی ذمہ داریوں کی بہ نسبت متعہد اور ملتزم ہیں امام پانچ سال یا اس سے کم و بیش عمرمیں امام ہوسکتاہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ذمہ داریوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ بہر حال عصمت کا مسئلہ اس شخص سے متعلق ہوتاہے جو مکلف ہو،چاہے وہ معمو لی اعتبار سے مکلف ہو جیسے عام طو ر سے لو گ ایک مخصو ص عمر میں مکلف ہو تے ہیں چا ہے مخصوص طو ر پر مکلف ہو جیسے انبیا ء اور ائمہ علیہم السلام غیر متعارف عمر میں مکلف ہو تے ہیں ۔
دو سرے اگر مکلّف شخص میں معصیت کر نے کی طا قت نہ ہو جس کی بنا ء پر اس سے گنا ہ سرزد نہیں ہو تا تو اس کو بھی معصو م نہیں کہا جاتا ۔ عصمت کا مطلب یہ ہے کہ انسا ن کے اندر گنا ہ کر نے کی طا قت اور تمام شر طیں مو جو د ہو ں اس کے با و جود بھی وہ گنا ہ نہ کر ے ۔ چا ہے معمو لی اور متعا رف شرطیں ہو ں یا استثنا ئی شر طیں ہو ں ۔ اس کی وضا حت کچھ اس طرح ہے :
ہر انسان کچھ ایسے ملکہ کا ما لک ہو تا ہے جس کی وجہ سے اس سے کچھ مخصو ص کام صا در ہو تے ہیں مثلاً بہا در آدمی کے اند ر ایک ملکہ ہو تا ہے یعنی اس میں ایک ایسی کیفیت را سخ ہو جا تی ہے جو اس سے کچھ کا مو ں کے انجا م دینے اور دوسرے کا مو ں کے تر ک کر نے کا تقا ضا کر تی ہے ۔ پس ملکۂ عفت اور ملکۂ سخا وت بھی ایسے ہی ہیں معمولی طور پر یہ ملکا ت جن کے متعلق اخلا ق میں بحث کی جا تی ہے اسی طرح کے ہیں جو متعا رف و معمولی حا لات و شر طو ں میں کچھ کا مو ں کے انجام دینے کا منشاء ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل نہ کرنا محال نہیں ہو تا یعنی بہا در آ دمی اس کو کہا جا تا ہے جو معمو لی حالات و شرطوں میں نہیں ڈرتا لیکن اگر کو ئی غیر معمو لی وا قعہ پیش آ جا ئے تو ممکن ہے وہ ڈرجائے ۔ہا ں اگر انسان کے اندر یہ ملکہ بہت زیا دہ راسخ ہو جا ئے اور در جۂ کما ل تک پہنچ جا ئے تو غیر معمو لی اور استثنا ئی حو ا دث بھی اس پر اثر اندا ز نہیں ہو سکتے ۔ مثا ل کے طور پر ملکۂ عفت اتنا مستحکم و قوی ہو جا ئے کہ اگر وہ حالات جو حضرت یوسف علیہ السلام کو پیش آئے اس کے سامنے آجا ئیں تو بھی گنا ہ نہیں کر تا، اسی طرح دو سرے تمام ملکا ت اس قدر قو ی ہو ں کہ کسی بھی حال میں گنا ہ سر زد نہ ہو اگر چہ غیر معمولی حا لات ہی کیو ں نہ پیدا ہوجائیں۔ اگر کسی انسان کے اندر ایسا ملکہ پیدا ہو جا ئے تو اس کو معصو م کہاجا تا ہے ۔
عصمت کی تعریف یوںکر سکتے ہیں ''عصمت انسا ن میں پا یا جا نے وا لاوہ ملکہ ہے جو انسان کو ہر حا ل میں گناہ سے محفو ظ رکھتا ہے ''البتہ ہما را یہ کہنا کہ یہ ملکہ انسا ن کی حفا ظت کر تا ہے اس بات سے منا فات نہیں رکھتا کہ خدا انسان کی حفا ظت کر تا ہے اس لئے کہ تو حید افعا لی تقا ضا کر تی ہے کہ کسی بھی مو جو د کے پاس جو کچھ ہے اور جوکام بھی وہ انجام دیتا ہے اس کی انتہا ء اور بنیادی با زگشت خدا کی طرف ہے ۔ خدا ہی اس کے اندر موجود ملکہ عصمت کے ذریعہ اس کی حفا ظت کر تا ہے۔
اب ہمیں یہ دیکھناہے کہ کیا یہ ملکہ صر ف انبیا ء علیہم السلام سے مخصو ص ہے یا غیر ا نبیا ء علیہم السلام میں بھی اس کے پا ئے جا نے کا امکان ہے، اس کے بھی دو مر حلے ہیں ایک مر حلۂ ثبو ت دوسرا مر حلۂ اثبات ،یعنی پہلے یہ ثابت ہو نا چا ہئے کہ ایک شخص میں اس طرح کا ملکہ پا یا جا نا کیاممکن ہے؟ اور دوسرے مر حلے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا غیر انبیاء میں اس طرح کا ملکہ ثابت کر نے کی ہما رے پا س کو ئی دلیل ہے یا نہیں ؟ جہاں تک ایک انسان کے اندر اس طرح کاملکہ پائے جانے کی بات ہے تو ہمیں کوئی مشکل نہیں ہے اور نہ ہی اس مفروضہ میں کوئی محا ل عقلی لا زم آ تا ہے ۔ ہما رے پا س ایسی دلیلیں اور ثبوت مو جو د ہیں جن سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ یہ ملکہ انبیا ء سے مخصو ص نہیں ہے مثال کے طور پر آ یۂ کر یمہ (الّا عِبَا دَ اﷲِ الْمُخْلَصِیْنَ )یعنی ''شیطا ن اﷲ کے مخلص بندوں کو گمرا ہ کرنے کی ہوس نہیں کر سکتا'' عام ہے اورمخلصین میں غیر انبیا ء بھی شامل ہو سکتے ہیں اس اخلا ص اور عصمت کوصرف انبیاء میں مخصو ص کر دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ۔ جو شخص بھی مخلَص ہو اس آ یۂ کریمہ کے مطابق معصوم ہو گا چونکہ شیطان اس کو فریب نہیں دے سکتا ۔رہی یہ بات کہ معصو مین کو ن لو گ ہیں ؟ اورکیا صرف انبیا ء علیہم السلام ہی معصوم ہیںیا نہیں ؟ اس کے لئے الگ سے دلیل کی ضر و رت ہے خود آ یۂ کریمہ اس با ت کا انکا ر نہیں کر تی کہ غیر انبیاء بھی معصوم ہو سکتے ہیں حتی ذہن کو مطمئن اور ما نوس کر نے کے لئے ہم نمو نہ کے طو ر پر کچھ ایسے مقامات بیان کر رہے ہیں کہ جن میں قرآن کریم نے غیر انبیا ء کے معصو م ہو نے کی طرف اشا رہ کیا ہے :
مثال کے طو ر پر خدا وند عا لم حضر ت مریم سلا م اﷲ علیہا کے با رے میں فر ما تا ہے:
( وَاِذْقَالَتِ الْمَلَا ئِکَةُ یَامَرْیَمُ اِنَّ اللَّہَ اصْطَفٰیکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰیکِ عَلَیٰ نِسَآئِ الْعَالَمِیْنَ )(١)
''اور جب فرشتو ں نے کہا اے مر یم بیشک اﷲ نے آپ کو منتخب کیاہے اور آپ کوپا ک و پا کیزہ بنا یا ہے اور عا لمین کی تمام عو رتوں پر آپ کو بر تری عطا کی ہے ''۔
ہما ری بحث کلمۂ (طَھَّرَکِ )سے ہے کہ لفظ تطہیر تقا ضا کر تا ہے کہ کسی طرح کی آ لو دگی ان کے قریب نہیں آسکتی وہ گناہان صغیرہ اور کبیرہ کی ہر برائی سے پاک ہیں پس یہ ثابت ہے کہ غیر انبیا ء بھی عصمت و طہا رت کے اس در جہ پر فا ئز ہو تے ہیں کہ تمام عمر ان سے کو ئی بھی گنا ہ صغیرہ اور کبیرہ سر زد نہیں ہو سکتا ۔
..............
١۔سورئہ آل عمران آیت ٤٢۔

اَئمہ علیہم السلام کی عصمت اہلِ تشیّع کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ۖاوربا رہ اما م علیہم السلام اور اسی طرح حضرت فا طمہ زہرا سلا م اﷲ علیہا پیغمبریا امام نہ ہو نے کے با وجود معصو م ہیں معلوم ہو ا کہ عصمت انبیا ء سے مخصو ص نہیں ہے بلکہ غیر انبیاء بھی معصوم ہو سکتے ہیں یہاں اس بات کی طرف دھیان رہے کہ جس عصمت سے ان تیرہ شخصیتو ں کو منسو ب کیا جا تا ہے وہی عصمت ہے جو پیغمبر اکرمۖ کے لئے ثابت ہے، یعنی شیعہ حضرات کے مشہو ر قو ل کے مطابق ( گناہ سے بھی معصوم ہیں اور خطا اور سہو و نسیا ن سے بھی معصوم ہیں )اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس امت میں چو دہ معصو مو ں کے علا وہ کوئی او ر گنا ہو ں سے محفو ظ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے دو سرے افرا د کے ہو نے کا بھی امکا ن ہے جو اس طرح کے ما حول میں زند گی بسر کر رہے ہو ں کہ تمام حالات میںملکۂ تقو یٰ و عدالت ان کو گنا ہ سے اس طرح محفو ظ رکھے کہ انھو ں نے کبھی کو ئی گنا ہ نہ کیا ہو حتی یہ بھی ممکن ہے کہ ان چو دہ ہستیو ں کے علا وہ کچھ لوگ ملکۂ تقو یٰ کے ان اعلیٰ مرا تب پر فا ئز ہو ں کہ حتی غیر معمو لی حا لات بھی اگرپیش آ ئیں تو ان سے کو ئی گنا ہ سرزد نہ ہو ۔ ان چو دہ ہستیو ں کے لئے عصمت کا مخصو ص ہونا اس معنی میںہے جو پیغمبر اسلا م ۖکے لئے ثابت ہے اورجس کا لا زمہ خطا اور نسیان سے بھی محفو ظ ہونا ہے ۔ پس یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ حضر ت سلما ن بھی ملکۂ عصمت پر فا ئز ہوں اور مختلف حالات میں ان سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو اہو اور اگر اس سے بھی زیا دہ سخت حا لات ان کے لئے پیش آ جا تے تب بھی ان سے کو ئی گنا ہ سرزد نہ ہو تا لیکن ممکن ہے کہ کسی مقام پر اپنے فیصلے میں غلطی کر گئے ہو ں کیونکہ اپنے تمام فیصلوں میں خطا سے محفو ظ رہنے کا چو دہ معصو مو ں کے علا وہ کسی اور کے لئے اثبا ت نہیں کیا جا سکتا اگرچہ ممکن ہے وہ ملکۂ عدالت کے ایک ایسے بلند مر تبہ پر فا ئز ہو ں کہ اس کو بھی عصمت کا نام دیا جاسکے اور اس کی نفی کے لئے بھی ہمارے پاس کو ئی دلیل نہیں ہے اور شاید پیغبر اسلام ۖ کا یہ قول (سَلْمَا نُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْت) اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ بعض خصو صیا ت جو اہل بیت علیہم السلام کے لئے ثابت ہیں ان کے لئے بھی ثابت ہو ں ، اورشاید علما ء ، فقہا ء اور شیعوں کی عظیم شخصیتو ں کے درمیا ن ایسے افرا د مو جو د رہے ہو ں اور اب بھی مو جو د ہو ں جو عدالت اور تقوےٰ کے اس بلند درجہ پر فا ئز ہو ں کہ کسی بھی طرح کے حالات میںہوں معصیتِ خدا سے پر ہیز کر تے ہو ں ۔ مرحوم سید رضی اور سید مر تضیٰ کا مشہو ر و معرو ف واقعہ ہے ( البتہ یہ داستا ن سوفیصدی صحیح ہے میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا ) لیکن ان دو بزرگوں کا شما ر ان افراد میں ہو تا ہے جو عدالت اور تقویٰ کے اعتبا ر سے غیر معمولی مرتبہ پر فا ئز تھے واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن طے پایا یہ دو نوں متقی عا لمو ں میں سے ایک نما ز جما عت میں امام بنے اور دوسرا ما مو م، اب یہ کہ گھر میں تھے اور ان کی ما در گرا می کی پیشکش تھی یا کچھ اور ،میں نے جزئیات قلمبند نہیں کی ہیں اور یقین سے نہیں کہہ سکتا) مر حوم سید مرتضیٰ نے امامت کے لئے اشا رتاً او لو یت کا اظہا ر کر تے ہو ئے فر مایا : ٹھیک ہے وہ شخص پیش امام بنے جس نے اب تک کو ئی گنا ہ نہ کیا ہوتواس وقت سید رضی نے فر مایا : بلکہ بہتر ہے وہ شخص پیش امام ہو جس نے گنا ہ کا خیا ل تک نہ کیاہو، یہ اس بات کی طرف اشا رہ تھا کہ انھو ں نے اپنی عمر بھی گناہ کا تصو ر تک نہیں کیا ہے، اور یہ بعید بھی نہیں ہے خدا کے بہت سے ایسے لا ئق بندے ہیں اگر ہم اس کے اہل نہیں ہیں تو ہمیں اس کا انکا ر بھی نہیں کر نا چاہۓ۔ پس وہ عصمت کہ جس کی ہم ان چو دہ معصو مو ں کی طرف نسبت دیتے ہیں وہی عصمت ہے جو خو د پیغمبر اکرم ۖمیں پا ئی جا تی ہے جس کی وجہ سے وہ ہرطرح کی غلطی اور سہوو نسیان سے بھی محفوظ تھے ۔ اسی طرح ہما ری مراد اس عصمت سے ہے جو مقامِ اثبا ت میں دلیل رکھتی ہو ممکن ہے کو ئی شخص اپنی زند گی میں گنا ہ کاخیال تک نہ کرے لیکن اس کے پاس اس کی کو ئی ضمانت نہ ہو اور وہ دوسروں کے سامنے یہ ثابت نہ کر سکے کہ اس کے دل میں کبھی گنا ہ کا تصورآیاہے یا نہیں ؟ آیا کسی کے حق میںسو ء ظن کیا ہے یا نہیں ؟ لیکن چو دہ معصو مو ں کے سلسلے میں عصمت ثابت کرنے کی دلیل مو جو د ہے۔
بہت سی روا یات اس بات کو ثا بت کر تی ہیںپس معلوم ہوا چو دہ معصو موں کی عصمت اور ان افرادکے درمیان کہ جن سے کو ئی گنا ہ سرزد نہ ہوا ہوحتی انھوں نے گنا ہ کا تصور بھی نہ کیا ہو دو فر ق ہے :
١۔ائمہ علیہم السلام کی عصمت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ وہ خطاا ورسہوو نسیان سے بھی محفو ظ ہیں ۔
٢۔ ان کی عصمت پر ہما رے پاس دلیلیں مو جو د ہیں ۔

اَئمہ علیہم السلام کی عصمت پر قر آ نی دلیل کیاقرآن کریم کی آیات سے ان ذواتِ مقدسہ کی عصمت پر کو ئی دلیل مو جو د ہے یا نہیں ؟
اس کے جواب میں متعدد آیات مو جو د ہیںلیکن ہم ان میں سے نمو نہ کے طور پرصرف دو آ یتیں پیش کررہے ہیں ارشاد ہو تا ہے:
( یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنَوُااَطِیْعُوْااللَّہَ وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الْاَمْرِمِنْکُمْ ۔۔۔)(١)
''اے ایما ن لا نے وا لو اﷲ کی اطاعت کر واور اپنے رسول اور اولی الا مر کی اطا عت کرو ''۔
اہل تشیّع اور اہل سنّت دونوں کی معتبر روایات کے مطا بق او لی الامر سے مراد با رہ امام ہیں حتی برادران اہلسنّت نے کچھ ایسی روا یتیں نقل کی ہیں کہ جن میں پیغمبر اسلام ۖنے اولی الا مر کے عنوان سے بارہ اما موں کا تعا رف
..............
١۔سو رۂ نسا ء آیت٥٩۔
کرا یا ہے۔ شیعہ حضرات سے تو اس سلسلہ میں بہت سی روا یتیں نقل ہو ئی ہیں ہم روا یا ت کے قطع نظرپہلے یہ جا ئزہ لیتے ہیں کہ کیا خوداس آیت سے اولی الامر کے لئے عصمت ثا بت کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ پھر مقام تطبیق میں ہم یہ دیکھیں کہ او لی الامر کو ن لوگ ہیں ؟
آیۂ کریمہ میں یہ بیا ن کہاگیا ہے کہ اے ایما ن لا نے وا لو خدا، رسو ل اور او لی الا مر کی اطاعت کرو ۔ آیت کے آغاز میں ''اَ طِیْعُوْا اﷲ'' اس کے بعد ''اَطِیْعُوْا الرَّ سُوْل ''اور اس کے بعد ''وَاُوْ لِیْ الاَمْرِمِنْکُمْ '' آ یا ہے۔ خدا کی اطا عت کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کے نا زل کر دہ احکام پر عمل کر ے اور ہر گز مخا لفت نہ کرے لیکن اطا عتِ رسول اور او لی لامر کا جہاں تک سوال ہے تورسول کی اطا عت کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ لو گو ں تک رسالتِ الٰہیہ کے عنوان سے جو کچھ پہنچا یا ہے یعنی وہ احکام جو خدا نے اس کے ذریعہ نا زل کئے ہیں اُن پر عمل کریںدر حقیقت خدا کے ان اوا مر و نوا ہی پر عمل کر نا اطا عتِ رسول بھی ہے کیو نکہ پیغمبر ، خدا اور لو گو ں کے درمیا ن ابلاغ کا ذریعہ ہیں ۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکر م ۖکی ایک اور حیثیت ا ور منزلت بھی ہے جس کی وجہ سے ان کی اطا عت وا جب ہے اور وہ مقامِ ولا یت و حکو مت ہے۔ ہم پر صرف اس چیز کا حکم نہیں ہے کہ پیغمبر کی بس انھیں احکام میں اطاعت کریں جو اس نے خدا کی جانب سے احکام کلی کے طور پر بیان کئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ ہما را فریضہ ہے کہ اپنی زندگی کے دوران جو بھی اوامرو نوا ہی پیغمبر ۖنے مولویت اور ولا یت کے عنوان سے دیئے ہیںہم ان کی بھی اطاعت اور پیر وی کریں ۔ مزیدوضا حت کے لئے عرض کروںکہ ایک دفعہ پیغمبر اکرم ۖایک آیت کی تلا وت فر ما تے جوکسی حکمِ الٰہی پر دلالت کر تی ہے تو ہم اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً نماز وروزہ وغیر ہ وا جب ہیں اور اس واجب پر عمل ضروری ہے پس ان احکام پر عمل کر نا خدا کی اطا عت بھی ہے اور اس کے رسو ل کی بھی اطاعت ہے ۔
خدا کی اطا عت اس لئے ہے کہ وہ حکم نا زل کر نے والا ہے اور پیغمبر کی اطا عت اس لئے ہے کہ وہ اس حکم کو پہنچا نے والے ہیں ۔بنیادی طور پر نبوّ ت اور رسالت اس سے زیا دہ کا تقاضا نہیں کر تی، جب ہم یہ سمجھ گئے کہ ایک شخص اﷲ کا رسو ل ہے تو اس کے رسو ل ہو نے تقا ضا یہ ہے کہ وہ جو کچھ رسا لتِ الٰہی کے عنوا ن سے ہما رے لئے لے کر آ ئے اسے قبول کریں لیکن اس کے ہر حکم کی اطا عت ضروری ہے یا نہیں ؟ خود رسا لت اس کا تقاضانہیں کر تی اس کے لئے ایک اوردلیل کی ضرو رت ہے ایک مرتبہ وحی کے ذریعہ حکم ہو تا ہے کہ ر سول جو کچھ دے یاکہے اس کی اطاعت کر و،تو اب اس حکم سے رسول کے لئے ایک دو سرا مقام ثا بت ہو تا ہے کہ عا م امو ر میں بھی اس کی اطا عت ضروری ہے ۔ کبھی خود وحی کے الفاظ میں یہ بات نہیں ملتی بعد میں جب نبی اکرم ۖ کی رسا لت ہما رے لئے ثابت ہوگئی آ نحضر ت ۖ کی رسا لت میںہی یہ بات کہی جاتی ہے:
( وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَسُوْلٍ اِلَّالِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللَّہِ ۔۔۔)(١)
''اور ہم نے کسی پیغمبر کو نہیںبھیجا مگر یہ کہ لو گ اذنِ خدا سے ان کی اطا عت کریں ''۔
ہم اس قرآنی دلیل کے تحت چونکہ ہر رسو ل کی اطا عت کر نا وا جب سمجھتے ہیں اگر یہ آیت نا زل نہ ہو ئی ہوتی تو صرف عقلی دلیل کے تحت چونکہ یہ پیغمبر ہے اور پیغمبر کی تمام مسا ئل میں اطا عت ہو نی چاہئے ہم نہ سمجھ پا تے لیکن چونکہ یہ آیت نازل ہوئی لہٰذا اس دلیل نقل پر اعتما د کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ رسو ل کی اطاعت ضروری ہے ۔ لہٰذا پیغمبر حکو مت سے متعلق معا ملات اور لو گو ں کی زندگی سے متعلق امو ر میں جو امر و نہی کرتا ہے '' ولیِ امر '' کی حیثیت سے اس کی اطا عت واجب ہے ۔ یہ رسالت کے علاوہ ایک دوسرا مقام ہے ۔ اسی طرح اگر وہ کسی معا ملہ کا فیصلہ کریں تو ان کے فیصلہ کو بھی تسلیم کر نا چا ہئے کیونکہ وہ خدا وند عا لم کی طرف سے قا ضی بن کر آ ئے ہیں ۔
معلوم ہوا مندر جہ با لاجا ئزے کی روشنی میں تین مقام ثابت ہو تے ہیں :
ایک مقا مِ حکومت :یعنی نبی اکرم ۖولیِّ امر ، مد بّر اورمعا شرہ کی عنان ہاتھ میں رکھنے والے سائس رہبر ( ساسة العباد )ہیں ۔یعنی حاکم ہیں۔دو سرا مقا مِ قضا وت : یعنی دو فریقوں کے مابین فیصلہ کر نا ،قاضی و منصف ،اورتیسرا مقام، رسالت اور الٰہی پیغام رسانی،یعنی رسول ہیں اور ان تینو ں مقا ما ت کے لئے قرآن کریم میں آ یات موجو د ہیں :پہلے مقام و مرتبہ سے متعلق خدا وند عالم قرآ ن کریم میں ارشاد فر ماتا ہے :
( اِ نَّآاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآاَرَٰکَ اللَّہُ۔۔۔) (٢)
''(اے رسو ل )ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتا ب اس لئے نا زل کی ہے کہ جس طرح خدا نے تمہا ری رہنمائی کی ہے لو گو ں کے در میا ن فیصلہ کرو ''۔
اور اسی سو رئہ نساء کی دوسری آیت میں ارشا د ہو تا ہے :
(فَلَا وَرَبِّکَ لَایُوْمِنُوْنَ حَتَّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَبَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْافِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجاًمِمَّاقَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْاتَسْلِیْماً )(١)
'' پس (اے رسول ) آ پ کے پر ور دگا ر کی قسم یہ لوگ صاحبِ ایمان نہ ہو ں گے جب تک اپنے با ہمی جھگڑو ں میں آپ کو اپنا حا کم (نہ) بنا ئیں اور جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس سے کسی طرح دل تنگ بھی نہ ہوں اور آپ
..............
١۔سورئہ نساء آیت ٦٤ ۔
٢۔سو رئہ نساء آیت١٠٥۔
٣۔سورئہ نساء آیت ٦٥۔
کے فیصلے کے سا منے سرا پا تسلیم ہو جا ئیں '' ۔
اسی طرح ولا یتِ امر ، تد بیر اور حا کمیت کے مسئلے میں کہ وہ مسلما نو ں کو جس چیز کا بھی حکم دیں سب کو تسلیم کرلینا چا ہئے ۔ خدا وند عا لم ارشاد فرما تا ہے :
(اَ لنَّبِیُّ اَوْلَیٰ بِالْمَوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ )(١)
''نبی تو مو منین پر خود اُن سے بڑھکر حق رکھتے ہیں '' ۔
اس سلسلہ میں دو سری آ یتیں بھی ہیں منجملہ وہ آیت جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں: (اَطِیْعُوْااللَّہَ وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الْاَمْرِمِنْکُمْ )(٢)
''خدا کی اطاعت کرو اور رسو ل کی اور تم میں سے جو صا حبانِ امر ہیں اُن کی اطاعت کرو ''۔
اس آیۂ شریفہ میں کلمۂ(اَطِیْعُوْ ا ) دو مر تبہ استعما ل ہو ا ہے ایک مرتبہ اس کو خدا سے منسو ب کیا گیا ہے اور دوسری مر تبہ اسکی رسو ل اور او لی الامر سے نسبت دی گئی ہے اور رسو ل اور او لی الا مر کی اطاعت کا ایک(اَطِیْعُوْا)کے تحت ایک ساتھ حکم ہوا ہے ۔ خدا وند عا لم نے (اَطِیْعُوْااﷲَ وَالرَّسُوْلَ وَاَطِیْعُوْااُولِی الاَمْرِمِنْکُمْ)نہیں فر ما یا ہے ۔ خدا کو ایک (اَطِیْعُوْا)کے ساتھ بیا ن فر مایا اور رسو ل اور اولی الامر کو ایک ساتھ ایک ہی امر کامتعلق قرار دیا ہے، اس سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ دوسرا (اَطِیْعُوْا)رسول اور اولی الا مر کے درمیان مشترک ہے ۔

اولی الامر کی شان کیا ہے ؟ اولی الامر یعنی وہ افراد جو لو گو ں کے امو ر کو چلا تے ہیں اور لو گو ں پرحکومت کا حق رکھتے ہیں ظا ہر ہے کہ رسول اور اولی الا مر سے یکساں طورپر متعلق ہو نے والا یہ امر پیغمبر اکرم ۖکی رسا لت کے اس پہلو سے تعلق رکھتا ہے جو ولا یتِ امر ، تدبیر اور معا شرہ کے امور سے مر بوط ہے لہٰذارسو ل اور او لی الا مردو نو ں خدا کی طرف سے واجب الاطا عت ہو نے کے امر میں مشترک ہیںتو کیا،اس اطاعت کا واجب ہو نا کسی قید وشرط کے ساتھ ہے یا نہیں ؟ آیت مطلق ہے جس طرح (اَطِیْعُوْ ا اﷲ)َحکم ہے اسی طرح '' اَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْ لِیْ ا لْامْرِمِنْکُمْ '' حکم ہے ؟! دو اعتبا ر سے آ یۂ شریفہ اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ آیۂ شریفہ میں جن اولی الا مرکا ذکر ہے ان کی مطلق طو رپراطاعت
..............
١۔سو رئہ احزاب آیت ٦۔
٢۔سورئہ نساء آیت ٥٩۔
وا جب ہے :ایک تو اس لحاظ سے کہ ''اَطِیْعُوْ ا '' مطلق طو ر پرکہا ہے اور دوسرے اس لحا ظ سے کہ اولی الا مر کی اطاعت کا حکم ،رسو ل کی اطا عت سے جڑی ہوئی ہے اور دونو ں کی اطا عت خدا وند متعا ل کی اطاعت سے وابستہ ہے۔ تو معلو م ہو ا کہ ان او لی الامر کے اوامر و نوا ہی کی مطلق طو ر پر اطا عت ہو نا چا ہئے ۔ اگر یہ افراد معصیت سے محفوظ نہ ہو تے اور ان افراد کے با رے میں معصیت کا احتمال پایا جا تا تو ممکن تھا کہ ان کے اوا مر و نوا ہی بھی معصیت سے مربو ط ہو ں اور خدا وند عا لم کے امر و نہی کی مخالفت کا با عث بنیں تو اس صورت میں یہ صحیح نہیں تھا کہ خدا کی اطا عت بھی واجب ہو اور ان کی اطاعت بھی وا جب ہو۔'' اَطِیْعُوْا اﷲَ '' کا تقاضاء یہ ہے کہ جس چیز کا خدا نے حکم دیا ہے اس کی اطا عت کرو اگر چہ دوسرے اس کے خلاف کیوں نہ حکم دیں اور ''اطیعوا الرسول واولی الامر''کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی مطلق طو ر پر اطا عت واجب ہو اب اگر خدا وند عالم کے حکم کے خلاف ہوتوبھی اس کے مطلق ہو نے کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی اطاعت وا جب ہے توایسی صورت میں لا زم آئیگا کہ ہمارے لئے ایک ہی وقت میںدومتناقض امرواجب ہوںمثال کے طو رپراگر(العیاذ با للہ) پیغمبر اکرم ۖکسی گنا ہ کا حکم صا در فر ما تے تو ''اطیعو ااﷲ''کا تقاضاتھاکہ اس گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور ''اطیعو االرسول ''کا تقاضا ہوتاکہ نبی کی بات مانیں یعنی ایک ہی مسئلہ میں دو متضاد فرائض ہوجاتے !پتہ چلا کہ آیت میں اس چیز کی ضمانت ہے کہ رسول اور اولی الامر کے اوامر کبھی بھی خداوندعالم کے اوامر کے خلاف نہیں ہوسکتے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوںمعصوم ہیں اور یہ خود اس چیز کی ضمانت ہے کہ یہ بزرگان کبھی بھی حکم الٰہی کے خلاف امرو نہی نہیں کرسکتے ممکن ہے کوئی یہ فکر کر بیٹھے کہ اس اطلاق کو بھی مقید کیا جاسکتا ہے ۔یعنی ''اَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَ اُوْلیَ الامْرِمِنْکُمْ'' اس معنی میں مقید یا تخصیص کے قابل ہے کہ ''اطیعواالرسول الافیما خالف اﷲ''اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے قرآن میں بہت سے مطلق اور عام احکام ہیں جن کی دوسری عقلی یانقلی دلیلوں کے ذریعہ تخصیص یا تقیید کی گئی ہے،ہمارے پاس دلیل نقلی ہے ''لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق ''جو تخصیص کا کام کرتی ہے دلیل عقلی بھی ،وہ محکم قرینہ ہے کہ کسی بھی صورت میں خداوند عالم کی مخالفت جائز نہیں ہے معلوم ہواکہ یہ عقلی اور نقلی دلیل آیت کے اطلاق کو مقیدکرتی ہے ان کے معصوم ہونے پر دلالت نہیں کرتی ۔
لیکن یہ بات ذہن کی پیداوار ہے یعنی کبھی کبھی ہم اپنے ذہن میں اس طرح کاقاعدہ فرض کرلیتے ہیں کہ ہاں عام قابل تخصیص ہے اور مطلق قابل تقییدہے لیکن جب ہم الگ سے بعض عام اور خاص پر نگاہ ڈالتے ہیںتو دیکھتے ہیں کہ وہ تخصیص اور تقید کو قبول نہیں کرتے اور اگر ان پر تخصیص یا تقیید کا حکم جاری کیاجائے تووہ عرف عام میں قبیح اور مستہجن ہے ۔علم فقہ میںایسے بہت سے موارد ہیں جہاں ہمارے فقہا ء یہ فرماتے ہیں کہ''مامن عام الاوقد خص''لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ بعض عام کے لئے تخصیص کی گنجائش نہیں ہے یعنی عرف عام میں کلام کا مفہوم ایسی عمومیت رکھتا ہے کہ اگر اس پر تخصیص لگا ئی جا ئے تو اس کو متناقض خیال کرتے ہیں مخصّص نہیںمانتے اور یہاں اسی طرح کی صورت ہے مثال کے طور پر آیہ شریفہ میں خدافرماتاہے :
(وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاذْنِ اللَّہِ)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی پیغمبر فرمائیں اسکی اطاعت کرنی چاہئے بعد میں اگرکہاجا ئے کہ (لا تطع الر سول فیھاخالف امراللَّہ)''یعنی اﷲ کے حکم کے خلاف جو حکم دے اس میں رسول کی اطاعت نہ کرو '' تو عرف عام میں ان دو نوں بیانوں میں تناقص ہے یعنی آیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی امر میں رسول کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے ۔ اسکے علاوہ قرآن کریم کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اہم موارد میں جہاںشک و شبہ کا اندیشہ ہو اگر ان میں تخصیص و تقیید کی ضرورت ہو تو صاف طور پر بیان کردیتا ہے ۔ اس طرح کے بہت سے مقامات جہاں اس سے کم اہمیت کے مسائل ہیں جب قرآن کریم دیکھتا ہے کہ ممکن ہے حکم عام سے غلط مطلب نکال لیا جائے تو وضاحت کے لئے تقیید کردیتا ہے ۔ مثال کے طور پر والدین سے نیکی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے :
( وَقَضَیٰ رَبُّکَ اَلَّاتَعْبُدُوااِلَّااِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔۔۔)(١)
''اور تمہارے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اسکے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔۔۔''۔
یہاں چونکہ یہ شبہہ ہو تا ہے کہ اگر والدین کہیں کہ فلا ں کام انجام نہ دو یا فلا ں گنا ہ کر و تو اس صو رت میں ہمارا کیا فریضہ ہے ؟تو خدا وند عالم فر ماتا ہے :
(وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِی مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْم فَلاَ تُطِعْھُمَا۔۔۔) (٢)
''اوراگروہ کسی کو میرا شریک بنانے پرمجبور کریں جسکا تمھیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا۔۔۔'' اب ایک ایسے مسئلہ میں جہاںیہ احتمال ہو کہ اولی الا مر ہو نے کے اعتبار سے کہیں کوئی غلط فا ئدہ نہ اٹھا ئے اور
..............
١۔ سورئہ اسراء آیت٢٣۔
٢۔سورئہ عنکبو ت آیت ٨۔
اپنے ذاتی نظریات لو گو ں پر نہ لاد دے(کیو نکہ یہ عام سی چیز ہے کہ جب بھی کسی نا اہل کے ہاتھ میں حکو مت آجاتی ہے وہ اپنے نظر یا ت لو گو ں پر لاد دیتا ہے اور اپنے مفادات حا صل کر نے کے چکر میں لگا رہتا ہے ) اس طرح کے حالات میں قر آ ن کریم مطلق طو ر پر فر ماتا ہے : (اَطِیْعُوْاالر سول و اُوْلِی الْاَ مْرِ مِنْکُمْ )اور اس میں کوئی قیدو شرط بیان نہیں فرمائی یہ طریقہ قرآن کریم کے اندازبیان سے بالکل بعیدہے مطلب اتنا واضح و روشن ہے کہ ''فخر رازی''(جن کو بعض نے''امام المشککین'' کے لقب سے یاد کیا ہے )اعتراف کرتے ہیں کہ یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے البتہ اولی الامر کی مطابقت اور مصادیق معین کرنے میں غلطی کر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں : ''اولی الامر سے مراد کسی بھی اسلامی معاشرہ کے اہل حل و عقد ہیں اوریہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع حجت ہے اور جہاں بھی اہل حل وعقد کسی بات پر اجماع کر لیں تو ان کی نظرغلطی و خطا سے محفوظ ہے (١) بہر حال قرآن کریم نے اس امت کے جن افراد کو اولی الامر کہا ہے ان کی عصمت پراس آیہ کریمہ کو دلیل کے عنوان سے پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے مصادیق معین کرنے کے سلسلے میںتمام احکام کی تفصیل کی طرح پیغمبر اکر م ۖ سے پوچھناچاہئے ۔
ائمہ اطہار علیہم السلام کے زمانہ میں کبھی کبھی مخالفین اس طرح کے شبہے ایجاد کیا کرتے تھے کہ اگر تم یہ عقیدہ رکھتے ہوکہ بارہ امام خداکی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں اوران کی اطاعت واجب ہے اور ان کا مقام تمام لوگوں سے بلند و بالا ہے تو ان میں سے کسی کا نام قرآن کریم میں کیوں نہیں آیا؟ ہمارے آج کے دور میں بھی اس طرح کے عا میانہ شبہے پیدا کئے جاتے ہیں متعدد روایتیں اس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس طرح کے شبہات رائج تھے۔ حضرات نے اس کے جواب کا طریقہ بتایا ہے: قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے لیکن کیا نماز کی رکعتوں کی تعداد بھی معین کی گئی ہے ؟ تو اس بارے میں عوام کا فریضہ کیا ہے ؟رکعتوں کی تعداد کس سے پو چھیں گے ؟کیا پیغمبر اکرم ۖسے سوال کرنے کے علاوہ ان کا کوئی اور فریضہ تھا ؟!اس بار ے میں قرآن کریم فرماتا ہے:
(وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ )(٢)
''اور آپ کی طرف بھی ذکر کو(قرآن )نازل کیا ہے تاکہ وہ احکام واضح کردیں جو لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں اور شاید وہ غور وفکر کریں ''۔
..............
١۔مزید تفصیل کے لئے ملا حظہ فر مائیں ''تفسیر المیزان ''علامہ طبا طبائی نیز الامامت والولایت فی القرآن الکریم' '۔
٢۔ سورئہ نحل آیت٤٤۔
پیغمبر اکرم ۖ کا کام احکام کی تفصیل بیان کرنا ہے اسی طرح زکوٰةدینے کا حکم نازل ہواکیا قرآن کریم میں ہے کہ ہرچالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰة ادا کرنی چاہئے ؟یہ حکم روایت میں آیاہے اور پیغمبر اکرم ۖ نے بیان فرمایا ہے ،حج کا حکم نازل ہواتو کیا قرآن کریم میں طواف کے بارے میں بیان ہواہے کہ طواف میں سات چکّر لگانا چاہئے ؟ لوگوں نے کہاں سے سیکھا؟کیا پیغمبر اکرم ۖ کے فرمان کے علاوہ کہیں اورسے ملا ہے ؟
اس آیت کے با رے میں بھی سب سے اولیٰ اور سب سے زیادہ جاننے والے مفسراور حامل قرآن ،یعنی حضرت رسول اکرم ۖنے اولی الامر کا تعین کر دیا ہے جب آپ سے سوال کیا گیا توحضور ۖنے بارہ اماموں کا تعین فرمادیااور میں عرض کر چکا ہوںکہ اہل سنت کی روایات میں بھی آیاہے؛ انھوں نے ''جابربن عبداﷲانصاری ''سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضور ۖنے بارہ اماموں کو معین و مشخصّ فرمایا ہے ۔
اس بناء پر اولی الامر کومعین ومشخّص کرنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم ۖکے قول کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ہم کو ان کی بات ماننا چا ہئے اور اس کے مطابق روایتیں بھی موجودہیں اور اس بارے میں ہمارے لئے ذرہ
بھی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کے ثبوت میںیہ آیت پیش کی جاتی ہے :
(اِنَّمَایُرِیْدُاللَّہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا)(١)
''(اے اہل بیت )خدا تو بس یہ چا ہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی )برا ئی سے دور رکھے اور جو پا ک و پا کیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاک و پا کیزہ رکھے ''۔
اس آیہ شریفہ سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ خداوندعالم نے اس آیت میں ''اہل بیت '' کے نام سے ایک گروہ کو خطاب فرمایاہے اورحصر کے طورپر کہاہے کہ خدانے تو بس تم کو پاک رکھنے کا ارادہ کرلیاہے ۔یقیناًیہ ارادہ اور فیصلہ اس گروہ سے مخصوص ہے اور خداوندعالم نے جوعام انسانوں کے پاک کرنے کااعلان کیا ہے اس سے مختلف ہے وہ تشریعی ارادہ ہے جس کا واقع ہونا لازم نہیں ہے خداوند عالم غسل اوروضو کے حکم کے ساتھ فرماتا ہے :(یُرِیْدُ اﷲِ لِیُطَھِّرَکُمْ)خداوند عالم تم کو وضو اور غسل کے ذریعہ سے پاک کرناچاہتاہے یہ تشریعی ارادہ ہے اور متحقق ہونے کی ضمانت نہیں رکھتا ۔
اب اگر جو طہارت اس آیت میں بیان کی گئی وہی طہارت ہو جو ارادۂ تشریعی کے تحت ہے تووہ ایک خاص
..............
١۔سورئہ احزاب آیت ٣٣۔
گروہ سے مخصوص نہیں ہے ،خداوندعالم کا تشریعی ارادہ تمام انسانوں کی طہارت سے تعلق رکھتا ہے لیکن یہ ارادہ جو ایک خاص گروہ سے مخصوص ہے تکوینی ارادہ ہے جو متحقق ہونے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ معلوم ہواکہ خداوندعالم نے اس امت میں وہ لوگ کہ جن کو ''اہل بیت علیہم السلام''ہونے کا شرف حاصل ہے ان کی نسبت تکوینی ارادہ فرمایا ہے کہ یہ افراد طاہرر ہیں اور مطلق طور پر ان میں یقیناًطہارت متحقّق ہوگی اور ''یطھرکم تطھیرا ''کی تکراراُن کی تطہیر میں مبالغہ پر دلالت کرتی ہے ۔

اہل بیت علیہم السلام کون ہیں ؟ بعض برادران اہل سنّت اور شیعہ کے نام سے منسوب ایک گروہ جس نے اُن ہی کی پیروی کی ہے آیة تطہیر سے قبل کے جملوں کو قرینہ قرار دیکر یہ خیال کیا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے مراد پیغمبر اکر م ۖ کی ازواج ہیں چونکہ اس آیت سے پہلے کی آیات میں نبی اکرم ۖ کی ازواج سے خطاب ہے ، اسی کو قرینہ مان کر انھوں نے کہاہے کہ اس ارادہ سے تشریعی ارادہ مرادہے کیونکہ کوئی بھی ازواج نبی کی عصمت کا مدعی نہیں ہے یہاں تک کہ اہل سنت بھی مانتے ہیں کہ وہ معصوم نہیں تھیں ۔ قرآ ن نے بھی صاف طور پر بیان کیا ہے کہ وہ معصوم نہیں تھیں انھوں نے حتی پیغمبر اکر م ۖکو تکلیفیں بھی دی ہیں اور قرآن نے ان کی سرزنش کی ہے معلوم ہوا کہ یہ آیت ان کی عصمت پر دلالت نہیں کرتی ۔
اس غلط فہمی کا جواب یہ ہے کہ خودآیت کاسیاق اس بات کا شاہد ہے کہ اس میں ''ازواج نبی '' سے خطاب نہیں ہے اس لئے کہ آیت سے پہلے کے جملوںمیں تمام ضمیریں مؤنث کی ضمیریں ہیں جبکہ اس آیت میں خدا فرماتاہے (لِیُذْھِبَ عَنْکُمْ) اور بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیںآتی کہ اگر اُن ہی سے خطاب تھا تو ضمیر اور آیت کاسیاق و لہجہ کیوںبدل دیا گیا ۔اس کے علاوہ شیعہ اور اہلسنّت کی ستّر سے زیادہ صحیح اور غیر صحیح طریقہ سے نقل ہونے والی روایتیں ہیں (جن میں بیشتر (روایتیں بہ ظاہراہلسنّت سے نقل ہوئی ہیں )اور ان سبھی میں کہا گیاہے کہ یہ آیت ''خمسہ طیّبہ ''یا ''پنجتن پاک'' سے مخصوص ہے اور یہ جملۂ شریفہ تمام جملوں سے جدا اور مستقل طور پر خمسۂ طیبّہ کی شان میں نازل ہواہے ۔
اگر ہم اس بارے میں فریقین کے طریقہ سے نقل ہونے والی ستّر روایتوں پر اعتماد نہ کریں تو پھر کس چیز پر اعتماد کریںگے ؟!اس بناء پر کسی بھی با انصاف محقق کیلئے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ یہ آیت، خمسۂ طیبّہ کی شأن میں نازل ہوئی ہے اور ان کی مخصوص طہارت پر دلالت کرتی ہے جس کوہم ''عصمت''کہتے ہیں اور جودلیل کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے یعنی گناہان صغیرہ اور کبیرہ سے پاک ہونا اور یہ ارادۂ تکوینی الٰہی کا مقتضی ہے ۔
خداوند عالم کے ارادۂ تکوینی کا مطلب یہ ہے کہ عصمت و طہارت یقیناً متحقق ہوگی اور ہوئی ہے البتہ اسکامطلب جبر نہیں ہے اور ہم نے الٰہی ارادہ کی بحث میں یہ واضح کردیا ہے کہ خداوندعالم کا تکوینی ارادہ ،چاہے وہ عالم میں پوراہوچکاہویا پوراہونے والا ہو،فاعل مختار کے اختیار سے ہوچاہے نظام جبرکے تحت قدرتی کا رندوں کے ذریعہ پورا ہوبہ ہر صورت پورا ہوتاہے لیکن الٰہی ارادہ فاعل مختار کے ارادہ کے طول میںہے نہ کہ عرض میں ۔ یہاں پر جب خدا فرماتاہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی طہارت یقینی اور خداوند عالم کے ارادۂ تکوینی کے تحت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مجبورہیںبلکہ ان کے لئے ضمانت لی گئی ہے کہ وہ خود اپنے اختیار سے گناہ نہیں کرتے اور وہ طاہر خلق ہوئے ہیں ۔
لیکن نبی کی ازواج کا واقعہ بھی دلچسپ ہے جن روایتوں کو اہلسنّت نے نقل کیاہے ان میں قابل توجہ مطالب موجود ہیں مثال کے طورپر ''تفسیر ثعلبی ''میں عائشہ سے نقل ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تومیں نے پیغمبر اکرمۖ سے سوال کیا : أ انا مِنْ اَھلَ بَیْتِکَ ؟کیا میں آپ کے اہل بیت علیہم السلام میں سے ہوں ؟ آنحضرت نے فرمایا:(تنحی انت علی خیر)نہیں ، الگ ہی رہو، ام سلمہ سے نقل ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تومیں نے عرض کی کیا میں آپ کے اہل بیت علیہم السلا م میں سے ہوں تو آنحضرت ۖنے فرمایا : (انت علی خیر ) تم خیرپرہو،لیکن یہ نہیں فرمایا کہ تم میرے اہل بیت علیہم السلام میں ہو ۔
ان روایتوں کو خود ازواج نے نقل کیا ہے کہ اس آیت میں ازواج نبی شامل نہیں ہیں لیکن دیگ سے زیادہ گرم چمچے پیدا ہوگئے اور کہتے ہیں کہ یہ آیت ازواج نبی کی شان میں نازل ہوئی ہے اور عصمت پر دلالت نہیں کرتی، خداوند عالم جو قابل ہدایت ہیں ان کی ہدایت فرمائے(انشاء اﷲ)اور جو ہدایت کے قابل نہیںہیں مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔

ادیان کا اشتراک اور امتیاز قرآن کریم سے پتہ چلتاہے کہ نبوت کا سلسلہ اول سے لیکر آخر تک ایک ہی سلسلہ ہے اس لحاظ سے بھی کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو خدائے وحدہ لاشریک نے ہی مبعوث کیاہے اور اس اعتبار سے بھی کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد بھی ایک ہی ہے ،نبوت کے پیغامات جن کو دین کہاجاتا ہے اسی اصول پر مبنی ہیں کہ خدائے وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرنی اور اسکی اطاعت کرنی چاہئے دوسرے لفظوں میں انسان کوخدائے واحد کے حضور مطلق طورپر بغیر کسی قیدو شرط کے اپنے کو تسلیم کردینا چاہئے۔

اسلام ،دعوت انبیاء علیہم السلام کی روح ہم مندرجہ بالا مطلب کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمام آسمانی ادیان کی اسا س و بنیاد ایک چیز سے زیادہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ اپنے کو خداوندعالم کے سامنے تسلیم کردیں، دوسرے لفظو ں میں تمام آسمانی ادیان ایک ہی دین ہیں وروہ ''اسلام'' ہے ۔
البتّہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وحی کے مطالب میں جوتمام انبیاء علیہم السلام پر کسی بھی زمان و مکان میں نازل ہو ئے ہیں کسی طرح کاکوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ،بلکہ بعض احکام کے جزئیات کامختلف زمانوں اور جگہوں یا مختلف اقوام کے اعتبار سے الگ ہوناممکن ہے لیکن سب کی اساس و بنیاد ایک ہی ہے اوروہ خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت ہے۔
(اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللَّہِ الْاِسْلَاٰمُ وَمَااخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوتُوْاالْکِتَابَ اِلَّامِنْ بَعْدِ مَاجَائَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاًبَیْنَہُمْ وَمَنْ یَکْفُرْ بِآیَاتِ اللَّہِ فَاِنَّ اللَّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلَّہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِیْنَ اُوتُواالْکِتَابَ وَالْاُمِّیِّیْنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْاوَاِنْ تَوَلَّوْافَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ وَاللَّہُ بَصِیْربِالْعِبَادِ)(١)
''دین، اﷲ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ علم آنے کے بعد، صرف آپس کی شرارتوں کی بناء پر اور جوبھی آیات الٰہی کا انکار کرے (سن لے)کہ خدا بہت جلد حساب کرلینے والا ہے ۔(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ آپ سے کٹ حجتی کریں تو کہہ دیجئے کہ میرا رخ تمام تر اﷲ کی طرف ہے اور میرے پیرو بھی ایسے ہی ہیں اور پھر اہل کتاب اور جاہل مشرکین سے پوچھئے کیا تم بھی اسلام لے آئے ہو؟ اگر وہ اسلام لے آئے ہیں توگویا ہدایت پاگئے اور اگر منھ پھیر لیں تو آپ کا فرض صرف تبلیغ ہے اور بس اور اﷲ اپنے بندوں کو خوب پہچانتاہے''۔
معلوم ہوا دعوت انبیاء علیہم السلام کی روح وجان یہی اسلام ہے قرآن کریم کی آیات سے بھی اس بات کا اثبات ہوتا ہے ۔خداوند عالم فرماتاہے :
(وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ اِبْرَاھِیْمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدِ اصْطَفَیْنَٰہُ فِی الدُّنْیَاوَ اِنَّہُ فِی الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ)( ٢)
''اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے منھ مو ڑے مگر یہ کہ اپنے کو بیوقوف اور نا سمجھ ثابت کرے؟
اور ہم نے ابراہیم کو دنیا میں منتخب قرار دیا ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں ''۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتخاب اس طرح عمل میںآیاکہ:
(اِذْقَالَ لَہُ رَبُّہُ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَٰالَمِیْنَ)(٣)
''جب ان سے ان کے پروردگار نے کہا کہ اپنے کو میرے حوالے کردو تو انھوں نے کہا کہ میں رب العالمین کے سامنے سرا پا تسلیم ہوں''۔
معلوم ہوا الٰہی انتخاب کا معیار یہی اسلام اور خود سپر دگی ہے ۔
صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کاہی دین اسلام نہیں تھا بلکہ آپ نے اپنے فرزند کو بھی اسی دین اسلام کی وصیّت فرمائی تھی:
(وَوَصَّیٰ بِہَا اِبْرَاھِیْمُ بَنِیْہِ)(٤)
..............
١۔آل عمران آیت ١٩۔٢٠۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت١٣٠۔
٣۔سورئہ بقرہ آیت ١٣١۔
٤۔سورئہ بقرہ آیت١٣٢۔
''اور اسی بات کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو وصیت کی ''۔
اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں کو اسی دین اسلام کے بارے میں وصیّت فرمائی تھی :
(یَابَنِیَّ اِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَموتُنَّ اِلَّاوَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ)(١)
''اے میرے فرزند اﷲ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کردیا ہے اب اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجائو''۔
ایک اور آیت میں بھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں کو اسی دین اسلام کے بارے میں وصیّت فرمائی ہے:
(اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَآئَ اِذْ حَضَرَیَعْقوبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِی قَالُوْانَعْبُدُ الٰھَکَ وَاِلَٰہَ اٰبَائِ کَ اِبْرَاھِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ وَاِسْحَٰقَ اِلَٰھاً وَاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُوْنَ) (٢)
''کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کا وقت موت آیا اور انھوں نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو انھوں نے کہا کہ آپ کے اور آپ کے آباء و اجدادابرہیم و اسماعیل و اسحاق کے پروردگار، خدائے وحدئہ لا شریک کی، اور ہم اس کے مسلمان اور اور سراپا تسلیم ہیں ''۔
حقیقت اسلام وہی فرمان خدا کو قبول کرناہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے تمام فرمان ہمیشہ یکساں رہے ہیںیا فرق کرتے رہے ہیں ؟ایک الگ مسئلہ ہے یہاں تک کہ ایک ہی دین میں بھی احکام خداکا ایک زمانہ سے دوسرے زمانہ میں الگ ہونا ممکن ہے دین اسلام میں بھی شروع میں تمام مسلمان بیت المقد س کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس وقت بھی یہی اسلام تھا اورجب خداوند عالم نے فرمایا کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو توبھی اسلام کا تقاضا تھا کہ اس دوسرے حکم کو قبول کریں۔
اگر ادیان سابق میں بھی اس طرح کی چیزیں تھیں یعنی ایک دین میں ایک چیز حلال تھی اور دوسرے دین میں حرام تو یہ بھی اسی طرح کا نسخ ہے جو بعض وقت ایک ہی دین میں واقع ہوتاہے ۔
اس بناپرکہہ سکتے ہیں کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی روح وجان یہی خداوندعالم کے سامنے تسلیم ہوناہے
..............
١۔سورئہ بقرہ ١٣٣۔
٢۔سورئہ بقرہ آیت١٣٣۔
اور یہی وہ چیز ہے جسکا انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے یعنی فطرت انسانی تقاضا کرتی ہے کہ اپنے اختیارسے خداوندعالم کے سامنے تسلیم ہو ں،دین اسکے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔
(فَأَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْہَالَاتَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَٰلِکَ الدِّیْنُ القَیِّمُ)( ١)
''آپ اپنا رخ کسی انحراف کے بغیر دین کی طرف رکھیں یہ دین و فطرت الٰہی کہ جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیاہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور یہی پا ئدار دین ہے''۔
اس آیت سے صاف طور پرپتہ چلتا ہے کہ انسانی فطرت تقاضا کر تی ہے کہ اﷲکی طرف جھکا ؤاور خود کو اس کے مقابل تسلیم کردیں اور اسی سورہ میںایک دوسری جگہ پھر خداوند عالم فرماتاہے :
(فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنَ القَیِّمِ۔۔۔)(٢)
''اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں ''۔

تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان ضروری ہے ایک مسلمان کوتمام انبیاء علیہم السلام کے احکام و قوانین کا مطیع اور فرمانبردار ہونا چاہئے اوران میں سے کسی کے درمیان اور نیز ان کی کتابوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا چاہئے اسلئے کہ وہ سب خداوندعالم کی طرف سے مبعوث کئے گئے ہیں اور جس شخص نے اپنے کو خداوندعالم کے سامنے تسلیم کردیا ہواس کو اس کی نازل کردہ چیز بھی قبول کرنا چاہئے اور اس بات کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء علیہم السلام سے بھی فرمایا اور عہد لیاہے کہ وہ ایک دوسر ے کی تائید کریں اورہر نبی کو اپنے پہلے کے نبی پر ایمان رکھنا چاہیے مومنین کو بھی گزشتہ انبیاء علیہم السلام اور ان پر وحی کئے جانے والے تمام قوانین پر ایمان رکھنا چاہئے ۔خداوند عالم فرماتاہے :
(وَاِذْاَخَذَاللَّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَآئَ اتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَٰبٍ وَحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُوْل مُصَدِّق لِمَا
مَعَکُمْ لِتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنْصُرُنَّہُ قَالَ ئَ أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَیٰ ذَٰلِکُمْ أِصْرِیْ قَالُوأَقْرَرْنَاقَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَاْمَعَکُمْ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ۔ فَمَنَّ تَوَلَّیٰ بَعْدَ ذَٰلِکَ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ)(٣)
..............
١۔سورئہ روم آیت٣٠ ۔
٢۔ سورئہ روم آیت ٤٣۔
٣۔سورئہ آل عمران آیت ٨١و٨٢۔
''اور جب خدانے تمام انبیاء سے عہدلیا کہ ہم تم کو جو کتاب و حکمت دے رہے ہیں اس کے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمھاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے تو تم سب اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا اور پھر پوچھا کیا تم ان باتوں کا اقرار کرتے ہو اور ہمارے عہد کو قبول کرتے ہو سب نے کہاہم اقرار کرتے ہیں۔ارشاد ہوا:بس تم سب گواہ رہنااورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔اس کے بعد جو انحراف کرے گا وہ فاسقین میں ہوگا''۔
یہ دین خدا ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کو عطاکیا گیا اور ان سب سے عہد لیاگیاہے کہ اس سلسلہ کو قبول کریں اور ان کی تصدیق اور تأئیدکریں۔کسی مخصوص نبی کی اتباع کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو سب کو ایک خداکی طرف دعوت دیتارہا ہے اسکے بعد خداوندعالم فرماتاہے:
(اَفَغَیْرَدِیْنِ اللَّہِ یَبْغُوْنَ وَلَہُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعَاًوَکَرْھاًوَ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ)(١)
''کیا لوگ دین خدا کے علاوہ کچھ اور تلاش کر رہے ہیں جب کہ زمین ا ور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اپنے اختیار سے یا غیر اختیاری طور پر اسی کی با رگاہ میں سر خم کئے ہو ئے ہیں اور سب کو اسی کی بارگا ہ میں وا پس جا نا ہے ''۔
اس آیت کے بعد فرماتاہے :
(قُلْ ئَ امَنَّا بِاللَّہِ وَمَااُنْزِلَ عَلَیْنَاوَمَااُنْزِلَ عَلَیٰ اِ بْرَٰھِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطِ وَمَااُوْتِیَ مُوْسیَٰ وَعِیْسَیٰ وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّ بِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُوْنَ )(٢)
'' ان سے کہہ دیجئے کہ ہما را اﷲ پر ،اور اس پرجو ہم پر نا زل ہو ا ہے اور(اسی طرح) جو ابرا ہیم اسما عیل، اسحاق ،یعقو ب اور اسباط پر نا زل ہو ا ہے اور جو مو سیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ہمارا ایمان ہے ہم انکے درمیان کوئی تفر یق نہیں رکھتے اور ہم سب خدا کے اطا عت گذاربند ے ہیں ''۔
اور اسکے بعد خداوندعالم فرماتا ہے :
(وَمَنْ یَبْتَغِ غیْرَالْاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِیْ الْأَخِرَةِ مِنَ الْخَٰسِرِیْنَ)َ(٣)
''اور جو اسلا م کے علا وہ کو ئی بھی دین اختیار کر ے گا وہ دین اس سے قبو ل نہ کیا جا ئیگا اور وہ قیا مت کے دن خسا رہ اٹھا نے والو ں میں ہو گا ''۔
دوسری آیتوںسے بھی ادیان اور انبیاء علیہم السلام کی ایک دوسرے سے وابستگی کا پتہ چلتا ہے ایک جگہ خدا
..............
١۔ سورئہ آل عمران آیت٨٣۔
٢۔سورۂ آل عمران آیت٨٤۔
٣۔سورئہ آل عمران آیت٨٥۔
فرماتاہے :
(شَرَعَ لَکُم مِنَ الدِّ یْنَِ مَاوَصَّیٰ بِہِ نُوْحاًوَّالَّذِ یْ اَوْحَیْنَآاِلَیْکَ وَمَاوَصَّیْنَابِہِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسَیٰ وَعِیْسَیٰ اَنْ اَقِیْمُوْاالدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْافِیْہِ کَبُرَعَلَیٰ الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ اللَّہُ یَجْتَبِیْ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَائُ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ۔وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّامِنْ بَعْدِ مَاجَا ئَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاًبَیْنَھُمْ ۔۔۔)(١)
'' اس نے آپ کے لئے وہ آئین بنا یاہے جس کی نو ح کو نصیحت کی تھی اور جس کی (اے نبی) آپ کی طرف وحی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم ، مو سیٰ اور عیسیٰ کو بھی کی ہے کہ دین کو قا ئم کریں اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پا ئے مشر کین کو وہ بات گراں گذر تی ہے جس کی آپ انھیں دعوت دے رہیںاﷲ جس کو چا ہتا ہے اپنی رسالت کے لئے چُن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجو ع کر تا ہے اس کی اپنی طرف ہدا یت کر دیتا ہے اور لو گو ں نے آپس میں تفر قہ نہیں کیا مگر یہ کہ جب ان کو علم و دانش ہاتھ آگیااور ایک دوسرے پر تسلط مل گیا''۔
اوراس کے بعد آخر میں خداوندعالم ارشاد فرماتاہے :
(۔۔۔وَقُلْ ئَ امَنْتُ بِمَآاَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتَٰبٍ )(٢)
''اور کہہ دیجئے کہ میرا ایمان ہر اس کتاب پر ہے جو خدا نے نا زل کی ہے ''۔
یعنی الٰہی کتابوںاور وحی کے مطالب میں کوئی تعارض اور ٹکراؤنہیں ہے سب ایک ہی راہ کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک ہی چیز کی دعوت دیتے ہیں اور تمام لوگوں کو انھیں قبول کرنا چاہئے۔
خداوندعالم، متّقین کی تعریف کر تے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
(وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ۔۔۔)(٣)
''وہ لوگ ان تمام با توں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے رسول ) آپ پر نا زل ہوئی ہیں اور جو آپ سے پہلے نا زل کی گئی ہیں '' ۔
ایک اور آیت میں فرماتاہے :
(قُوْلُوْائَ امَنَّابِاللَّہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ اِلَیٰ اِبْرَٰھِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ وَ اِسْحَٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَااُوْتِیَ مُوْسَیٰ وَعِیْسَیٰ وَمآاُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّ بِّھِمْ لَاْنُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہُ
..............
١۔ سورئہ شوریٰ آیت۔٣ا۔١٤۔
٢۔سور ئہ شوریٰ آیت ١٥۔
٣۔سورئہ بقرہ آیت٤۔
مُسْلِمُوْنَ۔فَاِنْ ئَ امَنُوْابِمِثْلِ مَآئَ امَنْتُمْ بِہِ فَقَدِاھْتَدَوْاوَاِنْ تَوَلَّوْافَاِنَّمَاھُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللَّہُ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ)(١)
''اور (مسلمانو) تم ان سے کہو کہ ہم اﷲ پر اور جو اس نے ہما ری طرف بھیجا ہے اور جو ابر ا ہیم ، اسما عیل ، اسحٰق ، یعقوب ،اولادِ یعقوب کی طرف نا زل کیا ہے اور جو مو سیٰ ،عیسیٰ اور انبیاء کو پر ور دگار کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ایمان لے آئے ہیں ہم پیغمبروں میں تفریق نہیں کر تے اور ہم سب خدا کے سچے مسلمان ہیں ۔اب اگر یہ لوگ بھی ان سب پر تمہاری طرح ایمان لے آئیں تو ہدایت یا فتہ ہو جا ئیں گے لیکن اگر منھ مو ڑلیں تو یہ صرف تمہاری ہی مخالفت ہے پس اُ ن کے خلاف تمہا رے لئے خدا کا فی ہے وہ بڑا سننے والا بھی ہے اور جا ننے والا بھی ''۔
(اٰ مَنَ الرَّ سُوْلُ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ وَالْمُوْ مِنُوْنَ کُلّ اٰمَنَ بِاﷲِ وَمَلٰئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ ۔۔۔)
''رسول خود بھی ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جوکچھ اُن پر ان کے پر ور دگا رکی طرف سے نا زل کیا گیا ہے ا ورتمام مو منین بھی اﷲ،اس کے ملا ئکہ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں '' ۔
(یَاَاَیُّھَاالَّذِیْن ئَ امَنُوْا ئَ امِنُوْا بِاللَّہِ وَرَسُوْلِہِ وَالْکِتَٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلَیٰ رَسُوْلِہِ وَالْکِتَٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۔۔۔)(٢)
''اے ایمان وا لو خدا اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (محمد )پر نا زل کی ہے اور اس کتا ب پر جو اس نے پہلے نا زل کی ہے ایمان لا ؤ''۔
بنابرین، جولوگ اس طرح کا ایمان نہیں رکھتے اور مطلق طور پر کسی قید وشرط کے بغیر خدا کے سا منے تسلیم نہیں ہوسکتے ان کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا ۔
ہم نے اس سے پہلے توحیدکی بحث میں کہاتھا کہ ایک خدا پرست مومن کے لئے اس بات پر ایمان ضروری ہے کہ پوری کا ئنات کا خالق ایک ہی ہے (خالقیت میں توحید )اور وہی پوری کا ئنات کے تخلیقی نظام اور شرعی نظام کا پرور دگار بھی ہے (ربوبیت میں توحید )؛اب اگر کوئی توحید خا لقیت پر ایمان رکھتا ہو اور ربوبیت میں توحید کا انکار کرے تو گو یا وہ اصل توحید کا ہی منکر ہے ۔ مو من کا ان دونوں پر ایمان ضروری ہے اور تجزیہ کریں تو اسی حقیقت کا پتہ چلے گا توحید ،خدا کے سا منے خود کو تسلیم کر دینے کا نام ہے ''ایمان با للہ ''کی تو ضیح کریںتو یہ تمام مطالب
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ١٣٦و١٣٧۔
٢۔سورئہ نساء آیت ١٣٦۔
سا منے آتے ہیں ورنہ ہم نے عرض کیا تھا کہ شیطان خدا پر ایمان کے با وجود تمام کفار و مشرکین سے بد تر تھا کیوں اس کا ایمان مطلق نہیں تھا ایسا نہیں ہے کہ ایمان کے متعلقات ایمان کے مدارج طے کر تے ہوں یعنی جو خدا کی خالقیت مانتا ہو اس نے ایک حد تک سعادت پا لی ہو جی نہیں ،وہ ایمان کے کسی درجہ پر نہیں ہے اس کا ایمان زیرو ہے خدا وند عالم ارشا د فر ماتا ہے :
(اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُ وْنَ بِاﷲِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْابَیْنَ اﷲِ وَرُسُلِہِ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ)(١)
''بیشک کچھ لوگ ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور خدا اور رسول کے درمیان جدا ئی ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کو نہیںما نیں گے ''۔
(وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَٰلِکَ سَبِیْلاً )(٢)
''اور وہ چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے درمیان، کوئی نیا راستہ نکال لیں''۔
(أُولَٰئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ حَقًّاوَاَعْتَدْنَالِلْکَافِرِیْنَ عَذَ اباًمُھِیْناً)(٣)
''اس طرح کے لوگ در حقیقت کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے بڑا رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھاہے ''۔
(وَالَّذینَ ئَ امَنُوابِاﷲِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اَحَدٍ مِنْہُمْ أُولَٰئِکَ سَوْفَ یُؤتِیْہِمْ اُجُوْرَھُمْ وَکَانَ اﷲُ غَفُورَاًرَحِیْماً)(٤)
''اور جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں اوراس کے رسولوں کے درمیان جدائی کے قائل نہیں ہیںخدا عنقریب انھیں ان کا اجر عطا کرے گا اور وہ بہت زیادہ بخشنے والااور مہربانی کرنے والاہے ''۔
معلوم ہواجس طرح مقام تو حید میں اُس کے تمام ضروری مراتب کا تسلیم کر نا ،ضروری ہے نبو ت میںبھی جو کچھ اللہ کی طرف سے نا زل ہو ان سب کا قبو ل کر نا ضروری ہے، اس لئے کہ بعض کا انکار گو یاکل کا انکار ہے اور جن لوگوں نے خدا وند عالم کے تمام احکام کو قبول نہیں کیا خدا وند عالم نے ان کی سر زنش کی ہے :
..............
١۔سورئہ نساء آیت١٤٩۔
٢۔سورۂ نساء آیت١٥٠۔
٣۔سورۂ نساء آیت ١٥١۔
٤۔سورۂ نساء آیت ١٥٢۔
( قُلْ یَااَھْلَ الْکِتَٰبِ ھَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّااِلَّااَنْ ئَ امَنَّابِاللَّہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فَٰسِقُوْنَ)(١)
''(پیغمبر آپ) کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیا تم ہم سے صرف اس بات پر ناراض ہوکہ ہم اﷲاور اس نے جوکچھ ہم پر یا ہم سے پہلے نازل کیا ہے ان سب پر ایمان لائے ہیں اور تمہاری(تو) اکثریت فاسق اور نافرمان ہے''۔
قر آن نے اسی پر اکتفاء نہیں کی ہے ،بلکہ جو لوگ دین میں یا اس کی کتا بوں اور رسولوں کے درمیان جدائی کے قائل ہوئے ہیں انہیں مشر کین میں شمار کیاہے :
(وَلَاتَکُوْنُوْامِنَ الْمُشْرِکِیْنَ)(٢)
''اورخبردار مشرکین میں نہ ہوجانا''۔
اس کے بعد تفسیرو تشریح کر تا ہے:
(مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَہُمْ وَکَانُواشِیَعاًکُلُّ حِزْبٍ بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ)(٣)
''وہ لوگ کہ جنھوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھرہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی میں مست اور مگن ہے''۔
یہ بھی ایک قسم کا شرک ہی ہے کہ انسان دین کے بعض احکام کو تو قبول کر تا ہو اور بعض احکام کا انکار کر دے، اس نے بعض احکام کو کس اساس و بنیاد پر ترک کیاہے ؟اگر بعض احکام کو قبول کر نا اللہ کی تشریعی ربوبیت پر ایمان رکھنا ہے تو بعض احکام کا انکار اور ان کی جگہ کسی دو سری چیز کے تسلیم کرنے کا مطلب کسی دو سرے کو معبود تسلیم کر لینا ہے ۔ پس جو لوگ دین میں تفر قہ اندازی کے قائل ہیں وہ گویا حقیقت میں مشرک ہیں ۔
(وَ اَنَّ ھَذَاصِرَٰاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاَتَّبِعُوْہُ۔۔۔)(٤)
''اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو ۔۔۔''۔
..............
١۔سورئہ ما ئدہ آیت٥٩۔
٢۔سورئہ روم آیت ٣١۔
٣۔سورئہ روم آیت ٣٢۔
٤۔سورئہ انعام آیت١٥٣۔
ایک دو سرے مقام پر خدا ئے یکتا و یگانہ کی پر ستش کو''سیدھا راستہ''کہا گیا ہے ۔
(وَاَنِ اعْبُدُونِیْ ھَذَٰا صِرَٰاط مُسْتَقِیْم)(١)
''اور میری ہی عبادت کرنا یہی صراط مستقیم اورسیدھا راستہ ہے ''۔
(وَلَا تَّتَبِعُّواالسُبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیِْلِہِ)
''اورمختلف راستوں پر نہ چلوکیونکہ اس طرح راہ خداسے بھٹک کر بکھر جاؤ گے''۔
(ذَٰلِکُم وَصَّٰکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)(٢)
''اس لئے پروردگار نے ہدایت کی ہے کہ تم اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ''
یہا ں سے ہم پر اُس آیت کا مفہوم با لکل واضح ہو جا تا ہے کہ جس میں خد وند عالم فر ماتا ہے:
(وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعاً وَلَا تَفَرَّقُوْا۔۔۔)(٣)
''اور اﷲکی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو ''۔
یہاں پر تفر قہ سے مراد اللہ کے دین اور اللہ کی راہ سے تفر قہ کر نا ہے ۔خدا کے راستے سے منحر ف نہ ہونا اس لئے کہ یہ اختلاف اور جدائی کا با عث ہے ۔
تمہا ری وحدت اور یکجہتی کاوسیلہ یہی ہے کہ تم سب کے سب خدا کی راہ میں،ایک راستہ اور ایک مقصد کی طرف حر کت کرو ۔دو سرے وسائل تمہا رے متفرق ہو نے کا با عث نہ بنیں۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُواشِیَعاً لَسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْ ئٍ)(٤)
''جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے''۔
اس بنا پر اسلام کا تقاضا ہے کہ جو کچھ بھی خدا نے بھیجا ہے کسی بھی دور میں کسی بھی نبی پر کیوں نہ بھیجا ہوان کو تسلیم کیا جا ئے ۔یہ بات اس بات کی نشا ندہی کر تی ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی تعلیمات میں کو ئی تنا قض و تضاد نہیں پایا جاتا ، اس لئے کہ اگر ان میں تضاد ہوتا اور ایک کا قبول کر نا دوسرے کے قبول نہ کر نے کا سبب بنتا تو انسان کے لئے ہرایک
..............
١۔سورئہ یس آیت٦١۔
٢۔سورئہ انعام آیت١٥٣۔
٣۔سورئہ آل عمران آیت ١٠٣۔
٤۔سورئہ انعام آیت ١٥٩۔
کا قبول کر نا ممکن نہیں تھا جب ہم خدا کی نازل کی ہوئی تمام چیزوں کو قبول کر تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان کو ئی اختلاف نہیں ہے اگر جزئی احکام میں بعض اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم اُس زمانہ تک معتبر تھا یا کسی خاص شخص اورگروہ کے لئے خدا وند عالم کی طرف سے ایک مخصوص حکم یا دستور آیا تھااور دوسرے افراد بھی ان قوانین کا ان کے لئے صحیح اور بجا ہونا قبول کر تے ہیں ۔ تورات پر ایمان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم اس زمانہ میں بھی تو رات کے حکم پر عمل کر یں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بنی اسرائیل اور اُن کے زمانہ سے مخصوص تھا اور توریت میں بغیر کسی تحریف کے آیا ہے اس کو صحیح اور حق سمجھیں لیکن اس زمانہ میں خدا وند عالم کے قوانین پر عمل کر نے کے متعلق ہم کو یہ دیکھنا چا ہئے کہ اس دور میں خداوندعالم ہم سے کیا چا ہتا ہے ۔
پس کسی پیغمبر پر ایمان لاناتمام انبیا ء علیہم السلام پر ایمان رکھنے کا بھی متقاضی ہے ،کیونکہ سب کا ایک ہی راستہ ہے ۔
اگر حقیقت میں کو ئی حضرت مو سیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاحضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے تو اس کو تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لا نا چا ہئے ۔کیا حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے نبی کی لوگوں کو بشارت نہیں دی تھی ؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت محمد ۖکے آنے کی بشارت نہیں دی تھی ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو ایمان رکھتا ہو لیکن جس نبی کاخود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تعارف کرائیں ان پر ایمان نہ لا ئے یہ انکار،حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعو ت کا انکار ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا ہے اور ان کے دین پر عمل کر تے ہیں حقیقت میں وہ مومن ہیں یا یہ کہ وہ جا نتے ہیں کہ یہ پیغمبروہی پیغمبر ہے کہ جس کے آ نے کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی اور ان پر ایمان لا نے کی سفارش کی تھی اور یہ ان کے مومن ہو نے کے لئے کا فی ہے ۔
بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس کی بنیاد پر جو لوگ اس زمانہ میں اپنے کو کسی گزشتہ نبی کا پیروسمجھتے ہیں اگر ان پر حجت تمام ہو گئی ہو اور حضرت محمد خا تم النبیین ۖ کی نبو ت ان کے لئے ثابت ہوتو ان کا خود اپنے نبی پر ایمان لا نا تقاضا کر تا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ۖپر بھی ایمان لا ئیں، آج کے دور میں حضرت مو سیٰ علیہ السلام کاپیرو حقیقی یہو دی وہی ہے جو مسلمان ہو ،اس لئے کہ یہو دیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فر مایا ہے اس کو تسلیم کریں ،حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فر ما یا تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو ان کی مدد کرنا اور ان کی دعوت پر لبیک کہنا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایاتھا :
(وَ مُبَشِّراً بِرَسُوْ لٍ یَا تِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُہُ اَحْمَد)

پس حقیقی نصرانی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اتباع کر نے والا وہ ہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پیغمبر اسلا م ۖکی نبوت کو تسلیم کر تا ہو ۔
کو ئی فرق نہیں ہے چا ہے یہودی ہو ،نصرانی ہو یا مسلمان سب کو اسلام اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر نا ہے۔حقیقی یہو دی وہی ہے جو پیغمبر اسلام ۖ پر ایمان رکھتا ہو ،اور حقیقی مسلمان وہی ہے جو حضرت مو سیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کر تا ہو لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس دور میں جو چا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تابع ہو جا ئے اور جو چا ہے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا تابع ہو جا ئے ۔حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا پیرو وہ ہے جو حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور پیغمبر اسلام ۖ کی نبوت اگر اس کے لئے ثابت ہو گئی ہو تو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔ ورنہ اس نے حضرت موسیٰ کی نبوت کے بعض حصہ کو قبول نہیں کیا ہے ،اور جب ایک حصہ کو قبول نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پوری نبوت ِمو سیٰ علیہ السلام کو تسلیم نہیں کیا ہے ،اس لئے ہم عرض کر چکے ہیں کہ کسی چون و چرا اور کسی قید و شرط کے بغیر قبول کرنا چا ہئے۔اگرایساہو تو پھر کو ئی اختلاف ہی با قی نہیں رہ جاتا ۔ حضرت مو سیٰ پیغمبر ہیں اور جب تک آپ کی نبوت کے لئے کو ئی نا سخ نہ آجا ئے اس وقت تک آ پ کے لا ئے ہو ئے احکام کی اطاعت وا جب ہے۔اگر ہم بھی اس زمانہ میں ہو تے تو تو رات کے قوانین پر عمل کر تے ۔بعد کے زمانہ میں اگر بعض احکام تبدیل ہو چکے ہوں تو جدید احکام پرہی عمل کر نا چاہئے ویسے ہی کہ جیسے خود حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہو کہ اب اس کے بعد اس طرح عمل کرنا ۔
پس معلوم ہوا کہ دین ایک ہے اور دین کے کچھ احکام میں جزئی قسم کا اختلاف دین کو دو نہیں کرد یتا ،ہمیشہ سے یہی دین تھا اور ہمیشہ یہی دین رہے گا ۔



15
ادیان کے اختلاف کی وجہیں راہ اور رہنما کی پہچان

ادیان کے اختلاف کی وجہیں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ ادیا ن الٰہی کے در میان بعض احکام میں جزئی اختلافات پا ئے جا تے ہیں لیکن تمام ادیان کی اساس و بنیاد ایک ہی ہے ،اور سب کو ایک ہی دین شمار کیا جا سکتا ہے پھر بھی کچھ ایسے اسباب پیش آئے جس کے تحت بنیادی طور پر ایک دین دو سرے دین کا مخا لف نظر آنے لگا ہم یہاں اس طرح کے بعض اسباب و عوا مل بیا ن کر رہے ہیں:

١۔بغا وت و سر کشی قر آن نے اس بات پر زور دیاہے کہ یہ اختلافات نا حق قسم کی دین سے بغا وت ا ور سر کشی اور ایک دوسرے پر تسلط کی ہوس سے وجود میں آئے ہیں ۔متعدد آیات میں اس بات کی تا کید ہے کہ ادیان کے ما بین اختلافات نہ جہالت کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں اور نہ ہی اس وجہ سے ہیں کہ ان کے درمیان حقیقت میں اختلافات موجودتھے بلکہ یہ اختلافات علما ئے اہل کتاب کی سرکشی اور نفسانی خو ا ہشات کی وجہ سے پیداہو ئے ہیں ، انھو ں نے ا پنے ذاتی اغراض و مقاصد کی وجہ سے یہ اختلافات ایجا د کئے ہیں ۔آئیے اس موضوع سے متعلق آیات کا جا ئزہ لیتے ہیں :
(وَمَااخْتَلَفَ فیہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَاجَائَ تْہُمُ الْبَیِِّنٰتُ بَغْیاًبَیْنَہُمْ)(١)
''اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا سوائے ان لوگوں کے کہ جن کے درمیان کتاب نا زل ہوئی ہے اور جن پر دلیلیں واضح ہوچکی تھیںصرف آپس میں بغاوت اور تعدی کی بناء پراختلاف کر بیٹھے ''۔
(وَمَااخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوتُواالکِتَٰبَ اِلَّامِنْ بَعْدِ مَا جَائَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاًبَیْنَہُمْ)(٢)
''اہل کتاب نے محض علم ملنے کے بعد تسلط کی ہوس میںایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے'' ۔
(وَئَ اتَیْنَٰھُمْ بَیِِّنَاتٍ مِنَ الْامْرِ فَمَااخْتَلَفُوْااِلَّامِنْ بَعْدِمَاجَائَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَہُمْ۔۔۔)(٣)
''اور انھیں اپنے امرکی کھلی ہوئی نشانیاں عطا کردیں پھر ان لوگوں نے اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ جب علم مل گیاآپس میں ایک دوسرے پر تسلط کی غرض سے اختلاف کر بیٹھے''۔
(وَمَاتَفَرَّقُوْااِلَّامِنْ بَعَدَمَاجَائَ ھُمُ العِلمُ بَغِیاًبَینَھُمْ۔۔۔)(٤)
'' اور ان لوگو ں نے آپس میں تفر قہ اسی وقت پیداکیا ہے جب ا ن کے پاس علم آچکا تھا اور یہ صرف تسلط پسندی کی وجہ سے تھا ''۔
( وَمَاتَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوتُوْاالکِتَٰبَ اِلَّامِنْ بَعْدِمَاجَائَ تْہُمُ البَیِّنَةُ)(٥)
' ' اور یہ اہل کتاب متفر ق نہیں ہو ئے مگر اس وقت جب ان کے پاس کھلی ہو ئی دلیل آگئی'' ۔
پس امتوں پر خدا کی حجت تمام ہے ، اس نے ایک ہی دین اور ایک ہی راستہ تمام امتو ں کیلئے معین فرمایا اوریکے
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٢١٣۔
٢۔سورئہ آل عمران آیت١٩۔
٣۔سورئہ جاثیہ آیت١٧۔
٤۔سورئہ شوریٰ آیت١٤۔
٥۔سورہ بینہ آیت ٤۔
بعددیگرے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ بھیج دیا(ثُمَّ اَرْسَلْنَارُسُلُنَا تَتْریٰ) اور وہ سب ایک ہی راستہ ،اور ایک ہی دین کی دعوت دیا کر تے تھے خدا اور اس کے نبیوں کی جا نب سے کوئی اختلاف نہیں تھااور لوگوں پر حجتیں بھی تمام کی جا چکی تھیں مگر یہ اختلافات خود امتوں خا ص طور سے علما ئے اہل کتاب کی سر کشی کی بناء پر وجود میں آگئے ۔
اس بات کو پیش نظررکھیں تو بعض آیات سے جو شبہہ پیدا ہوتا ہے اس کا جواب معلوم ہو جا تا ہے ۔
مثا ل کے طور پر ایک آیت میں ارشا د ہو تا ہے :
( اِنَّ الَّذِیْنَ ئَ امَنُوْاوَالَّذینَ ھَادُوْاوَالصَّٰبِئُوْنَ والنَّصَٰرَیٰ مَنْ ئَ امَنَ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِوَعَمِلَ صَالِحاًفَلَاخَوف عَلَیْہِمْ وَلَاھُمْ یَحَزَنُوْنَ )(١)
''بیشک جو لوگ ایمان لا ئے یا جو لوگ یہودی ،ستارہ پرست اور عیسائی بن گئے ہیں ان میں جو بھی اﷲ اور آخرت پر واقعی ایمان لائے گا اور عمل صالح کرے گا اس کے لئے نہ خوف ہے اور نہ اُ سے حزن ہوگا ''۔
اس آیت سے بعض لو گو ں کو شبہہ ہواہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا وند عالم اِس زمانہ میں بھی مختلف ادیان کو قبول کر لے گا ،اور اس زمانہ میں بھی کسی کے یہو دی یا نصرانی ہو نے اور اپنے دین پر عمل کر نے میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔
جو باتیں ہم نے عرض کی ہیں انکے پیش نظر اگر کسی شخص کے لئے بعدکے دین کا صحیح ہو ناثا بت ہو جائے (البتہ اگر ثابت نہ ہو تو وہ ''مستضعف ''ہے اور یہ ایک دو سری بات ہے )اور اسکے با وجود وہ پہلے دین کو اختیار کئے رہے تو کسی صورت میں بھی یہ دین قبول نہیں کیا جا ئے گا :(فَلَنْ یُقْبَل منہُ)کیونکہ وہ خود جانتا تھا کہ خداوند عالم نے فر مایا ہے کہ اس دین کی پیروی کر واوراس نے پیروی نہیں کی اسکا انکار کیا اور کسی ایک نبی کا انکا ر کرنا گو یا تمام انبیاء علیہم السلام کا انکار کر نا ہے۔لہٰذا اسکا کو ئی مطلب نہیں ہوگاکہ اسلام جو فر ماتا ہے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان ضروری ہے، اگر تم نے ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کیا تو گو یا تمام انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا ہے اسکے با وجود اسکی نظر میں اسلام کے آنے کے بعد بھی اگرکوئی یہو دی اپنے دین پر عمل کر ے تو اسمیں کو ئی حرج نہ ہو یہ تناقض ہے اور معقول نہیں ہے کہ اسلام آئین یہو دیت اور نصرا نیت پرعمل کر نے کی اس دور میں میں بھی اجازت دیدے ہاں اگرکسی نے خود اپنے زمانہ کے دین پر عمل کیا ہے تو اُسکا اجر محفوظ ہے اگر کہیں اس زمانہ میں بھی مستضعف افراد ہوں اور جس حد تک انکے لئے حجت تمام ہو چکی ہے اس پر عمل پیرا ہوں تو وہ مستضعفین کا حکم رکھتے ہیں اوربقیہ احکام اور
..............
١۔سو رئہ ما ئدہ آیت٦٩۔
فرائض دینیہ انکے لئے ثابت نہیں ہیں لیکن اگر کسی کے لئے ثا بت ہوجا ئے یا اس نے دین کی معرفت اور تلاش میں واقعی طور پر کو تا ہی کی ہو تو اس صورت میں اگر وہ دین سابق کے تمام دستورات پرمو بہ مو عمل کرے تو بھی اسکا عذرقبول نہیں کیا جا ئگا ۔''فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ''۔
(اِ نَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَالَّذِیْنَ ھَادُوْاوَالصَّٰبِئِیْنَ وَالنَّصَٰارَیٰ وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اشْرَکُوْااِنَّ اﷲَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَٰمَةِ اِنَّ اﷲَ عَلَیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْد )(١)
''بیشک جو لوگ ایمان لا ئے اور جنھو ں نے یہو دیت اختیار کی یا ستا رہ پرست ہو گئے یا نصرانی اور آتش پرست ہو گئے یا مشرک ہو گئے ہیں خدا قیا مت کے دن ان سب کے درمیان یقینی فیصلہ کر دے گا کہ اﷲ ہر شیٔ کا نگراں اور گوا ہ ہے ''۔
ظا ہر ہے کہ یہ آیت ان تما م گروہو ں کی تا ئیدمیں نہیں آئی ہے بلکہ یوم حساب سے خبر دارکررہی ہے۔ ارشاد ہو تا ہے کہ جن لو گو ں میں یہ اختلافات پا ئے جا تے ہیں اور وہ حق کو قبول کرنا نہیں چا ہتے ایک دن خدا وند ان کا فیصلہ کر ے گا اور ہرایک کو (اس کے اعمال کے مطابق) جزاء یا سزاء دے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا ان کی تا ئید کر رہا ہے چو نکہ اس میں ''الَّذِ یْنَ اشْرَکُوْ''بھی موجود ہے حالانکہ قرآن کا صاف اعلان ہے(اِنَّ اﷲَ لَایَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہِ )''اور شرک کرنے والوں کو نہیں بخشے گا' '۔
پس واضح ہے کہ یہ آیت مقامِ تا ئید میں نہیں ہے ما قبل آیت میں بھی خدا نے کہاہے مو منین ، یہود ، نصا ریٰ ستا رہ پرست اگر صرف اپنے با ایمان ہو نے کا دعویٰ کر یں یا اپنے کو یہو دی یا نصرانی کہلا ئیں تو یہ کو ئی میزان و معیار نہیں ہے بلکہ معیار یہ ہے کہ وہ اﷲ پر ایمان رکھتے ہوںاور اس کے قوا نین و احکام پر عمل پیرا ہو ں، اب ان کا نام کچھ بھی ہولیکن اﷲپر ایمان کا لا زمہ یہ ہے کہ اس کی نا زل کی ہو ئی تما م چیزوں پرایمان ہو اور اگرخدا کی نا زل کر دہ چیزوں پر ایمان نہ ہو توخدا اور اسکی آیا ت کا انکا ر کفر ہے ۔
پس اگر اس آیت میں اپنی جگہ فرض کر لیں کہ کچھ ابہام پا یا جاتا ہے تو بھی اس سے پہلے کی آیت کی روشنی میں ختم ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیا دہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت متشا بہات میں سے ہے اور وہ آیت محکمات میں سے ہے جو اس شبہہ کو دور کرتی ہے حالانکہ اگر ہم خود آیت پر غو ر و فکر کریں تو اس مطلب کو بخو بی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ آیت اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ یہ تمام عنا وین اور گروہ بندیاں سعا دت اور شقاوت ( بد بختی )کا معیا ر نہیں ہیں۔ خدا نا موں کو
..............
١۔سورہ حج آیت ١٧۔
نہیں دیکھتا بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا یہ شخص خدا اور قیا مت پر ایمان رکھتا ہے اور کیا اس نے عمل ِصالح انجام دیاہے یا نہیں ۔
سوال یہ ہے کہ عملِ صالح کس کو کہتے ہیں ؟عملِ صا لح اس عمل کو کہتے ہیںکہ جس کا خدا نے حکم دیا ہو ۔ اب اگر خدا وند عالم اپنے کسی بندہ کو ایک کام انجام دینے کا حکم دے اور وہ اس کی مخا لفت کر ے تو کیا یہ مخا لفت عمل ِ صالح ہے؟!عمل صالح کے تحت جس شخص کیلئے حجت تمام ہو چکی ہوچا ہے وہ کسی بھی زما نہ میں ہوئی ہو،اسے خدا وند عالم کے دستور کے مطابق عمل انجا م دینا چا ہئے ۔
ا س بات کے قطع نظر ہم قر آنِ کریم میں دیکھتے ہیں کہ خدا وند عالم نے صرف مشر کین اور انہی ادیان کے منکرین سے ہی جنگ کر نے کاحکم نہیں دیا ہے بلکہ خدا تو اہلِ کتاب کی نسبت بھی فر ماتا ہے ''ان سے جنگ کرو یہا ں تک کہ وہ دین حق کو قبول کر لیں یا جزیہ دینے پر آما دہ ہو جا ئیں اگر وہ جزیہ دیں تو تم ان کو قتل نہ کر نا'' یعنی ظا ہر ی طور پروہ تمہا رے سا منے سرِ تسلیم خم کر دیںگے اور اسلا می ملک میں زند گی بسر کر یںگے لیکن یہ ان کی سعا دت کی ضمانت نہیں ہے ۔اب اگر ان کا دین حق ہے اوراسلا م اسکی تا ئید کر تا ہے تو پھر خدا نے ان سے جنگ کر نے کا حکم کیوںصادر فر مایا ہے ؟:
( قَاتِلُوْاالَّذِیْنَ لَایُوْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَلَابِالْیَوْ مِ الْآخِرِوَلَایُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اﷲُ وَرَسُوْلُہُ وَلَایَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْکِتَا بَ حتَّیٰ یُعْطُوْاالْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَھُمْ صَاغِرُوْنَ)(١)
''اہل کتا ب میں سے جو لوگ خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جس چیز کو خدا اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرا م نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کر تے ان سے جنگ کرویہا ں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ تمہیں جز یہ ادا کرنے پر آما دہ ہو جا ئیں''۔
البتہّ شیعی روایات میںہم دیکھتے ہیں کہ یہ حکم اُسی زمانہ سے مخصوص تھا اورآخری حکم جو حضرت امامِ زمانہ کے ذریعہ جا ری ہو گا وہ یہ ہے کہ حضر ت کے ظہور کے زما نہ میں ان (اہل کتا ب) سے جزیہ بھی قبول نہیں کیا جا ئیگا بلکہ جو معا ملہ تمام کافرو ں کے ساتھ ہو گا وہی معا ملہ ان کے ساتھ بھی ہو گا ۔
بہر حال اس با ت میں کو ئی شک نہیں ہو نا چا ہئے کہ قر آ ن کی نظر میں عصر حا ضر کے تمام ادیا ن قا بل قبو ل نہیں ہیں اس لئے کہ اگر دین،دین حق ہے تو تمام انبیا ء علیہم السلام کو قبو ل کر ے گا اور کسی بھی نبی اور کتاب کے بارے میں فر ق کا قا ئل نہیں ہو گا ۔
..............
١۔سورئہ تو بہ آیت ٢٩۔

٢۔تحریف آج الٰہی اد یا ن میںبہت سی با تیں تحر یف کر دی گئی ہیں ۔ قرآنِ کریم نے یہ بات صرا حت کے ساتھ بیا ن کی ہے کہ علما ئے اہل کتاب بہت سی باتیں اپنی طرف سے گڑھ لیتے اور ان کو خدا کی طرف منسو ب کر دیا کر تے تھے یہا ں تک کہ کچھ مطالب لکھ کر کہدیاکر تے تھے کہ یہ کتا بِ خدا ہے۔ تا ریخی طور پر بھی یہ بات مکمل طو رسے ثابت ہے کہ گز شتہ تمام ادیان تحر یف کی نظر ہو چکے ہیں اوربنیا دی طور پر اگر کو ئی ان ادیا ن کی مو جو دہ کتا بو ں کا مطا لعہ کرے تو اس کو ان کتا بوں میں بہت سی متضا د با تیں مل جا ئینگی اور چونکہ ہم اس وقت تا ریخی اسنا د کی تحقیق نہیںکر ر ہے ہیں لہٰذا ا س موضوع سے دلچسپی رکھنے وا لے حضرا ت کو اس سلسلہ میں لکھی جا نے وا لی متعددکتا بو ں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں(١)خود قر آ ن کریم کی آیات بھی اس بات کی شا ہد ہیں کہ اہل کتاب تحریف سے کام لیتے تھے ۔
(فَوَیْل لِلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھَٰذَامِنْ عِنْدِاﷲِ لِیَشْتَرُوْابِہِ ثَمَنا ًقَلِیْلاً فَوَیْل لَّھُمْ مِمَّاکَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْل لَھُمْ مِمَّایَکْسِبُوْنَ)
''پس وا ئے ہو ان لو گو ں پر جو اپنے سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاںسے (آئی ) ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھو ڑا فا ئدہ حا صل کر لیں پس تف ہے اس پرجو انھوں نے اپنے ہا تھو ں سے لکھاہے اور پھر تف ہے اس کما ئی پر جو انھوں نے کما ئی ہے ''۔
ظا ہر ہے کہ اس کام میں ان کے ما دی مفادات تھے ۔ احتما ل ہے کہ کچھ ایسے حُکّا م تھے جو اپنے اغراض و مقاصد کے تحت علما ئے اہلِ کتا ب کو رقم دیا کر تے تھے کہ وہ وحی کے عنوا ن سے کچھ مطالب لکھیں اور لو گو ں کے سامنے پیش کریں :
(وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقاً یَلْوُوْنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتَابِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتَابِ وَمَاھُوَمِنَ الْکِتَابِ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَمِنْ عِنْدِاﷲِ وَمَاھُوَمِنْ عِنْدِاﷲِ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اﷲِالْکَذِ بَ وُھُمْ یَعْلَمُوْنَ)(٢)
''ان ہی یہو دیو ں میں بعض وہ ہیں جو کتاب خدا کے اندازمیں باتیں کر تے ہیں تا کہ لوگ خیال کریں کہ ان کی باتیںکتاب خدا کی با تیںہیںحا لانکہ وہ خدا کی کتاب نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب اﷲ کی طرف سے
..............
١۔نمونہ کے طور پر ملا حظہ فر ما ئیں الھدیٰ الیٰ دین المصطفیٰ ،شیخ جوا د بلا غی ۔
٢۔سورئہ آل عمران آیت ٧٨۔
ہے حا لا نکہ اﷲ کی طرف سے ہر گز نہیں ہے اور خود جا نتے ہیں کہ وہ خدا کے خلا ف جھوٹ باندھ رہے ہیں '' ۔
دوسری جگہ ارشاد ہو تا ہے:
(اَ فَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُوْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْکَانَ فَرِیْق مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَا مَ اﷲِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہُ مِنْ بَعْدِ مَاعَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ )(١)
'' کیا تمھیں امید ہے کہ یہ یہو دی تم پرایمان لے آ ئیں گے جب کہ ان کا ایک گروہ کلامِ خدا کو سن کر تحریف کر دیتا تھا حا لانکہ سب سمجھتے بھی تھے اور جا نتے بھی تھے ''۔
اس تحریف میں تحریف لفظی اور تحریف ِ معنو ی دونوں ہی کا امکان پا یا جا تا ہے یعنی ممکن ہے وہ حتی کلام کی لفظیں تو یاد رکھتے ہوں لیکن اس کلام کی تفسیر با لرّائے کر تے ہوں اور معا نی بدل کر کلام پر حمل کر تے ہوں لیکن دوسری آیات میں آیا ہے کہ وہ لفظو ں میں بھی ردّو بدل کیا کر تے تھے ۔
معلوم ہوا قرآن کی رو سے اس میں کو ئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہو د و نصا ریٰ کی کتا بو ں میں ایسے جعلی اور تحریف شدہ مطالب مو جو د ہیں جو خدا وند عا لم کی طرف سے نا زل نہیں ہو ئے ہیں ۔ ہم اجما لی طورپرآپ کی اطلاع کے لئے ان تحریفات کے دو نمونوں کی طرف اشا رہ کر تے ہیں :
تو ریت میں آیا ہے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا فلا ں سال انتقا ل ہوا ۔اب ان سے یہ سوا ل کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کتاب وہی ہے جو حضرت مو سیٰ علیہ السلام پر نا زل ہو ئی ہے تو اس میں یہ کیسے لکھ دیا گیا کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کافلا ں سال انتقال ہوا ؟کیا خو د حضرت مو سیٰ علیہ السلام فر ما سکتے ہیں کہ حضرتِ مو سیٰ علیہ السلام کا فلاں سال انتقال ہو ا ہے؟ !
جہاں تک انجیل کا سوال ہے خو د نصا ریٰ بھی یہ دعو یٰ نہیں کر تے کہ یہ وہی خدا کی طرف سے نا زل شدہ کتاب ہے ۔ ان کے پاس اس وقت چار انجیلیں ہیںجبکہ اس سے پہلے ان کے پاس اس سے بھی زیا دہ انجیلیں تھیں اور ان چا روں انجیلو ں کو ایک خاص شخص نے تحریر کیا ہے کہ جن کے نا موں سے یہ انجیلیں منسوب ہیں ۔ ان میں بھی اس طرح کی داستا نیں مو جو د ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فلاں دن آئے اور اپنے شا گر دوں کے ساتھ بیٹھے ان سے کہا اور اس کے بعد فلاں جگہ چلے گئے وغیرہ کسی تا ریخی کتاب کے مثل ہے ۔خو د وہ لو گ بھی یہ دعو یٰ نہیں کر تے کہ
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٧٥۔
یہ وہی کتاب ہے جو حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام پر نا زل ہو ئی تھی ۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ بعد میں حضرتِ عیسیٰ کے شا گر د و ں نے انجیل کے مطالب کو اس شکل میں منظّم و مر تّب کیاہے اور ان انجیلو ں کا مطالعہ کر نے والا شخص خوب جانتا ہے کہ یہ خدا وند عالم کی نا زل کی ہو ئی کتا بیں نہیں ہیں ۔
بہر حال ادیا ن سلف کی اتباع کر نے وا لو ں کے پاس مو جو دہ کتا بیں تحریف شدہ ہیں اور ان کا کوئی اعتبار بھی نہیں ہے ۔

احکام کے جزئیات میںادیان ایک نہیں ہیں ہم نے ملا حظہ کیا کہ اکثر ادیان میں اختلافات اہل کتاب کی سرکشی کی وجہ سے ظا ہر ہو ئے اور انھو ں نے خدا کی کتاب میں تحریف بھی کی ،لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام ادیان کے جز ئی احکام مشتر ک ہوں قرآ ن کریم اس مطلب کے متعلق فر ما تا ہے :
(لِکُلٍ جَعَلْنَامِنْکُمْ شِرْعَةًوَمِنْہٰاجاًوَلَوْشَٰائَ اﷲُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآئَ اتَٰکُمْ ۔۔۔)(١)
''ہم نے سب کے لئے الگ الگ شریعت اور راستہ مقررکردیا ہے اور خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنادیتا لیکن وہ اپنے دیئے ہوئے قانون سے تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے۔۔۔''۔
شریعت وہ راستہ ہے جو نہر پر ختم ہو تا ہے اور شرعہ بھی اسی راستہ نیز اس راستہ کو کہا جاتا ہے جو کسی ہدف و مقصد تک پہنچتا ہے ۔شرع ، شرعہ اور شریعت بھی ایک ہی مادہ سے ہیں ۔شارع بھی اسی ما دہ سے ہے جس کے معنی سڑک اور عام راستے کے ہیں ۔
اس آیۂ شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ سب ایک ہی پروگرام نہیں رکھتے تھے اس بات کی تا ئید خداوند عالم کا یہ فرمان کر تا ہے :(وَلَوْشَائَ اللہ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَاحِدَ ةً) یہ جملہ ممکن ہے دو سرے مطلب کی نشا ندہی کر رہا ہو جو دوسری آیات میں مو جو د ہے کہ اگر خدا چا ہتا تو سب کو ایک امت قرار دیتا یعنی سب کوزبر دستی حق کی ہدایت کرتا لیکن یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اگر چا ہتا تو امتوں پر نازل ہو نے والے مختلف احکام کو یکساں و برابر قرار دیتا لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ احکام کے درمیان کم و بیش اختلافات پا ئے جا ئیں(لِیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَااٰتٰکُمْ )
..............
١۔سورئہ ما ئدہ آیت ٤٨۔
تاکہ ان احکام کے متعلق یاجو کچھ خدا وند عالم نے تم کو عطا کیا ہے وسیلۂ آزما ئش قرار پا ئیںایک امت کے لئے امتحان وآزما ئش کے وسایل کچھ تھے اور دوسری امت کیلئے کچھ اور تھے پس معلوم ہوا کہ احکام جزئیات میں امتوں کے درمیان اختلافات پا ئے جا تے تھے ۔
اس سے بھی زیادہ واضح یہ آیت ہے :
(لِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَامَنْسَکاًھُمْ نَاسِکُوہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ۔۔۔)(١)
''ہر امّت کے لئے ایک طریقہ قرار دیا کہ اس پر وہ عمل کریں لہٰذا اس امرمیں ان لوگوں کو آپ سے الجھنانہیں چاہئے آپ انھیں اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں ''
اورتقریباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لازم و ضروری بھی تھا کہ تمام امتوں کے لئے احکام کے جزئیات یکساں نہ ہوں ،مثال کے طور پر مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ عربی زبان میں نماز پڑھیں توکیا بنی اسرائیل کی نماز بھی عربی زبان میں تھی ؟کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا یایہ کہ انھیں بھی کعبہ کی طرف رخ کر کے نما ز پڑھنے کاحکم تھا ؟ ایسا نہیں ہے۔ قر با نی کا طریقہ ،روزہ کا حکم ،وقت اور ان کی تعداد یکساں نہیں تھی ؟اس با رے میں متعدد روا یتیں مو جود ہیں پس معلوم ہوا یہ جو کہا جاتا ہے کہ تمام امتوں کا دین یا شریعت ایک ہے اس سے اصل احکام کا ایک ہونا مرادہے ، لیکن ان کے انجام دینے کے طور طریقوں میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کئے گئے تو آپ نے فر مایا :
(۔۔۔وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ۔۔۔)(٢)
''اور میں بعض چیزوں کو حلال قراردیتا ہوںجوتم پر حرام تھیں''۔
یہ آیت صاف صاف بیان کر تی ہے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بہت سے کام ان کی امّت کے لئے حرام تھے جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حلال قرار دیدیاتھا۔
حضرت محمد مصطفےٰ ۖ کے با رے میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبَٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الخَبَٰئِثَ )(٣)
..............
١۔سورئہ حج آیت٦٧۔
٢۔سورئہ آل عمران آیت٥٠۔
٣۔سورئہ اعراف آیت١٥٧۔
''اورانھوں نے پاکیزہ چیزوں کو ان پر حلا ل قرار دیاہے اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیا ہے''۔
فی الجملہ کچھ چیزیں حلال ہوئیں اور کچھ چیزیں حرام ہوئیں اس میں کو ئی شک نہیںہے لیکن یہ منسوخ کیا جانا ویسے ہی ہے جیسے خود ایک شریعت میں کوئی ایک چیز بعد میں منسوخ کر دی جا ئے اور اسلام میں اگر کو ئی کہے کہ نسخ نہیں ہے تو یہ تو قرآن کی نص ودلیل ہے کہ تغییر قبلہ ایک منسوخ کیا جا نے والاحکم ہے اسی طرح کچھ دو سرے احکام بھی تھے جو منسوخ ہوئے ہیں۔ مختصر یہ کہ بعض احکام کا منسوخ ہوناخودایک شریعت میں بھی ممکن ہے اور کئی شریعتوں میں بھی اس کا امکان پایا جاتا ہے ۔اگر ایک شریعت میںکوئی چیز منسوخ کردی جا ئے تو اس کا مطلب گزشتہ شریعت کی تکذ یب نہیں ہے بلکہ وہ حکم بھی اپنے زمانہ میں حق تھا ۔
پس شریعتوں کے ما بین جزئی احکام میں اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کئی ہیں، بلکہ دین ایک ہے اور وہ اسلام ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام نے اسی دین کی دعوت دی ہے اور تمام مو منین اور مسلمانوں کو تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھنا چا ہئے ۔اس مقام پر یہ مطلب بیان کر دینا بیجا نہ ہوگا کہ جب ہم کسی پیغمبر سے اس کا دین قبول کرلیں تو ہم کو ا س کے احکام میں فرق کر نے کا کوئی حق نہیں ہے ،اس لئے کہ ایسا کر نا دین کے تمام پہلوؤں کا انکار کر دینے اور تمام انبیاء علیہم السلام کا انکار کر نے کے مثل ہے ، ایک دین کے تمام ارکان و دستور پر بغیر کسی قید و شرط کے ایمان رکھنا چا ہئے۔
خداوند عالم اہل کتاب کی سر زنش کر تے ہوئے ارشاد فر ماتا ہے :
(اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَاجَزَائُ مَنْ یَفْعَلُ ذَٰلِکَ مَنْکُمْ اِلّاخِزْی فِی الْحَیَٰوةِ الدُّنْیَاوَیَوْمَ الْقِیَٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلَیٰ اشَدِّالْعَذَابِ وَمَااﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ )(١)
''کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور ایک حصے کا انکار کردیتے ہو؟ایسا کرنے والوںکی سزا سوائے اسکے کہ زندگانی دنیا میں ذلیل ہوں اور قیامت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف پلٹا دیے جائیں کچھ نہیں ہے اور اﷲ تمہارے کرتوت سے بے خبر نہیں ہے ۔''
اس آیت سے بھی تا ئید ہو تی ہے کہ دین کے بعض احکام کو قبول کر ناور بعض احکام کو رد کرناگو یا اس کے تمام احکام کورد کردینا ہے اوراس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ ہے کہ مرتدضروریات اسلام میں سے کسی ایک ضرورت کا انکار کر نے سے کا فر ہوجاتا ہے ، یعنی اس دنیا میں بھی اس کا خون ضائع ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ کفار کے ساتھ محشور کیا جائے گا ۔
پس ہما رے لئے تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت اور ان کی تمام تعلیمات پر ایمان ضروری ہے اور ان بزرگواروں کے احکام میں سے کسی ایک حکم کا جان بوجھ کرانکارکرناگویا تمام احکام کے انکار کر نے کے مانند ہے ۔
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت٨٥۔


16
رہنما کی پہچان راہ اور رہنما کی پہچان

رہنما کی پہچان

انبیاء علیہم السلام معارف قرآن کے ذیل میں ہم اب تک چار مو ضوعات :
١۔ خدا کی معرفت
٢۔دنیا کی پہچان
٣۔انسان کی شناخت
٤۔راستے کی پہچان پر گفتگو کر چکے ہیں۔
پیش نظر حصہ( رہنما کی معرفت )کے با رے میں ہے جو انبیاء علیہم السلام کے متعلق بحث کے لحاظ سے راستہ کی پہچان کا ہی ایک حصہ کہا جا سکتا ہے ۔اس بحث کوچھیڑ نے سے پہلے دو با توں کا بیان کر دینا ضروری ہے :

قرآن میں تا ریخی مباحث کا محور قرآن مجید میں انبیا ء علیہم السلام اور ان سے متعلق مطالب کے سلسلہ میں بہت سی آیات ہیںجن میں قرآن کے تاریخی زا ویۂ نگاہ کا ایک اہم حصہ موجودہے ۔ یہاںیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مو رخین نے اپنی تمام بحثوں میں (چا ہے وہ داستان نویس ہوں یا تاریخ نگار اپنے تا ریخی جا ئزوں میںانسان کے مادی پہلو ؤں کو محور قرار دیا ہے۔ وقا ئع نگا روں نے عام طور سے تاریخ کا محور بادشاہوں اور حکمر ا نوں کو بنایا ہے اور ان ہی کے حالات کے مطابق تا ریخ قلمبند کی ہے البتہ ان کے ذکر کے ذیل میں معا شر ے اور قوموں کے حالات بھی ذکر کر دیئے ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی تواریخ میں جن سے تاریخ نگا ری کا ایک اہم حصہ تشکیل پاتا ہے بحث کا محور حکومت ہے البتہ جن افراد نے تا ریخ کے با رے میں تجزیہ وتحلیل سے کام لیا ہے زیادہ ترعوام اور ملتوں کے مسائل پر زور دیا ہے ، ان میں ایک گروہ نے تاریخ کا محور اقتصاد کو قرار دیا ہے جیسے مارکسسٹ حضرات جو تا ریخی حوا دث کا اقتصاد کے محور پر معا شرے کے معا شی حالات کے پس منظر میں جا ئزہ لیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ تاریخ کا اصل پہیّا اقتصاد ہے اور انسانی معا شروں میں جو تغیر و تبدل ہو تے ہیں پیدا وار کے و سائل میں رو نما ہو نے والی تبدیلی کی وجہ سے ہوا کر تے ہیں۔ تجزیا تی تاریخ لکھنے والوں کے بعض دو سرے گروہ اگر چہ دو سرے اسباب و محر کات پر بھی زور دیتے ہیں لیکن انھوں نے زیادہ تر آدمی کے مادی پہلو ؤںاور اس کی دنیا وی اور حیوانی زند گی پر اعتماد کیا ہے۔
قرآن مجید کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے تا ریخ کا محورمعنویت کو قرار دیاہے ۔ قرآن کے تما م مبا حث کے مانند قرآن کی تا ریخی دا ستانوں کا محور بھی'' توحید ''ہے۔اور قرآن کر یم کے تاریخی واقعات اسی محور کے ارد گرد گھو متے ہیں۔یہی وجہ ہے قرآن کی تاریخی واقعات کے مر کزی کر دار انبیاء ہیں جن کا معاشرہ میں اثر و رسوخ خدا کی وحدانیت اور یکتا پر ستی کی دعوت کے ساتھ ، خدا کی اطاعت اور دوسرے تمام معنوی امور سے وا بستہ ہے ۔یہ بہت ہی اہم بات ہے جو ہم کو قرآن سے سیکھنا چا ہئے اور ما دہ پر ستوں کے نظریوںکی اتباع کر نے سے پر ہیز کر نا چا ہئے ، کیونکہ انسانوں کی انسانیت اس کے معنوی پہلو ؤںکے گرد گھو متی ہے اور حق یہی ہے کہ انسان اور انسانی معا شرے کی تا ریخ کا انسانی پہلوؤں کے اعتبار سے جا ئزہ لینا چا ہئے ،کیو نکہ اس صورت میں خدا وند عالم کی بندگی سے چا ہیں یانہ چا ہیںبہر حال رابطہ پیدا ہو جاتا ہے۔

قرآ ن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے متعلق آیات کی تقسیم قرآن کریم انبیاء علیہم السلام سے متعلق جومطالب بیان ہو ئے ہیں مجمو عی طور پر تین حصوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں :
پہلے حصے میں وہ مطالب ہیںجو خود انبیاء علیہم السلام کے با رے میں ہیں اس سے قطع نظر کہ اُن کا لوگوں کے ساتھ کیا رابطہ رہا ہے ۔
دوسرا حصہ عوا م الناس کے ساتھ انبیا ء علیہم السلام کے رابطہ کے سلسلہ میں ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ عوام الناس کاانبیاء کے ساتھ کیا رویّہ رہا ہے اور جواب میں انبیاء علیہم السلام عوام کے ساتھ کس طرح پیش آئے ہیں ۔
تیسرے حصہ میں بھی اس میں بھی انبیاء علیہم السلام کی مختلف قوموں کا ذکر ہے اور ان کی زندگانی کے تغیرات اور ان کے انجام کے با رے میں خبر دی گئی ہے ۔
یقیناً یہ آخری حصہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت سے غیر مر بوط نہیں کہا جا سکتا اگر چہ اس میں قوموںکے ساتھ انبیاء علیہم السلام کے براہ راست رابطہ کو ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا ہے ۔یہ تینوں حصے بھی الگ الگ دو حصوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔
پہلے حصہ کے ایک جز ء میں مختلف انبیاء علیہم السلام میں عام طور پر مشتر ک بنیادی خصوصیات اور حالات بیان کئے گئے ہیں اور دوسرے جزء میں ہر نبی یا رسول کے مخصوص حالات بیان ہو ئے ہیں۔
دو سرے حصہ کے بھی دو جزء ہیں ایک میں تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کے ساتھ دوطرفہ مختلف پہلوؤ ں کو بیان کیا گیا ہے اور دو سرے حصہ میں مخصوص انبیاء علیہم السلام کے اپنی مخصوص قوم سے مخصوص رفتا ر کا ذکر کیاگیا ہے۔ تیسرے حصہ کے پہلے باب میں مختلف قومو ں کے عمو می اور بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور دوسرے باب میں قومو ں کے خاص پہلوؤں کا بیان ہے ۔
اس میںکوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا چھ قسموں کا تفصیلی جا ئزہ لینا قرآن مجید کی بیشمار آیا ت کے مطالعہ کے بغیرممکن نہیں ہے اور اس طرح کا تفصیلی جا ئزہ موجودہ بحث کے دا ئرے سے باہر ہے اس لئے ہم نے انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کے ایک دو سرے سے بنیادی قسم کے تعلقات کے ذکرپر ہی اکتفا کی ہے ۔

قرآن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے اوصاف قرآن کریم کی بہت سی آیات میں تقریباً تمام انبیاء علیہم السلام کے اجتماعی اوصاف بیان ہوئے ہیں ہم یہاں ان ہی عمومی اوصاف کا ذکر کررہے ہیں

رسول ،نبی اورنذیر قرآن کریم میں تین صفات نبی، رسول اور نذیر تمام انبیاء علیہم السلام کیلئے ذکر ہوئے ہیں اسکے علاوہ دوسرے صفات بھی بیان کئے گئے ہیں جو یا تو عمومیت نہیں رکھتے یا پھر انبیاء علیہم السلام کی خصوصیت کے عنوان سے تنہاذکر نہیں ہواہے ۔مثال کے طور پر قرآن کریم میں ''بشیر''کی صفت انبیاء علیہم السلام کے لئے ذکر ہوئی ہے لیکن وہ کہیں پر بھی تنہا استعمال نہیں ہوئی ہے۔اسکے بر خلاف نذیر کی صفت تنہا بھی ذکر ہوئی ہے حالانکہ بہت سی آیات میں بشیر اور نذیر ایک دوسرے کے پہلوبہ پہلو ذکر ہوئے ہیں ۔ (مبشرین ومنذرین،نَذِیْراًوبشیرا) قرآن پیغمبروں کا نذیر کے عنوان سے تعارف کرتے ہوئے کہتاہے:
(وَاِنْ مِنْ اُمَّةٍ اِلّٰا خَلاٰ فِیْہا نَذِیر)(١)
''اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والانہ گذرا ہو''۔
لیکن قرآن کریم میں کہیں لفظ'' بشیر ''تنہا نہیں آیا ہے۔یہ ایک نفسانی اور تربیتی نکتہ ہے اور اس چیز پر دلالت کرتا ہے کہ انسان کی تعمیر اور تربیت کیلئے ''انذار''یعنی خوف دلانا''تبشیر''یعنی بشارت دینے سے زیادہ اہم
..............
١۔سورہ فاطرآیت٢٤۔
ہے۔دوسرے لفظوں میں ،انسان خوف کا عمل''امید''کے عمل سے بہت زیادہ مؤثر ہے ۔انسان جہاں اپنی زندگی میں تغیر اور تبدیلی ایجاد کرنا،اپنے کسی ارادہ سے منصرف ہونا اور دوسروں کی پیشکش پر کوئی دوسری رفتار منتخب کرنا چاہتا ہے اس کیلئے (انداز)کا عمل ''تبشیر''کے عمل سے کہیں زیادہ مؤثر ہے ۔شاید اسی بنیاد پر قرآن نے پیغمبروں کے لئے صفات کے طور پر تنہا ''نذیر''کی خصوصیت کو بیان کیا ہے ''بشیر''کی خصوصیت تنہا بیان نہیں کی ہے ،بہر حال قرآن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے لئے تین اسماء نبی،رسول اور نذیر عمومیت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔
نذیر ڈرانے والے اور خوف دلانے والے کو کہتے ہیں ۔ہروہ پیغمبر جو انسان کی رہنمائی اور انسانوں کی ہدایت کیلئے مبعوث ہوتاہے اس کی دعوت''انداز''کے ساتھ ہوتی ہے ۔وہ لوگوں کو برے کاموں کے انجام سے ڈراتا ہے اور غلط قسم کے عقائد و افکار کے عقاب سے ان کو خوف دلاتاہے تاکہ وہ ان کو اس طرح کے غلط کاموں سے روک سکے ۔
رسول اس شخص کو کہتے ہیں جو پیغام کا حامل ہوتا ہے اور ایک شخص کی طرف سے دوسرے شخص کی طرف بھیجا جاتاہے اور یہ بات پورے مکمل یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بہت سے انبیاء علیہم السلام خداکی طرف سے لوگوں کیلئے رسالت یعنی (پیغام )کے حامل رہے ہیں ۔خدا مرسل ہے ،لوگ ''مرسل الیھم''ہیںاور انبیاء علیہم السلام بھی ''رسول''یا''مرسل''ہیں۔درحقیت ''پیغمبر''اور پیمبر فارسی میں ''رسول''کو ہی کہتے ہیں ۔
ان تینوں صفات میں نبی کا مفہوم زیادہ وضاحت چاہتا ہے:جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لفظ نبی کی اصل کے سلسلے میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس لفظ کا مادّہ ''نبوت'' رفعت یا (بلندی)کے معنی میں ہیں اور بعض دوسرے افراد کہتے ہیں کہ یہ ''نبأ''سے مشتق ہے اور اس کے معنی ''خبر''کے ہیں ۔شاید دوسرا احتمال زیادہ قوی ہو اگر چہ معنویت اور انسانیت کے لحاظ سے تمام انبیاء علیہم السلام بہت ہی بلند و بالامقام رکھتے ہیں اوروہ معاشرہ کے ممتاز افراد ہوتے ہیں لیکن خدااور انسان کے مابین ان کی وساطت کے بیان میں ان کی رفعت و بلندی کی طرف اشارہ کرنے کی کوئی مناسبت سمجھ میں نہیں آتی ۔لہٰذا قوی احتمال یہی ہے کہ نبی کا اصل مادّہ ''نبأ ''ہو اور نبی وہ ہے جس کے پاس ایسی خبریںہو ں کہ جن سے دوسرے بے خبر ہوںاور یہ مخصوص خبریں وہی غیب کی خبریں ہیں ۔ اس بیان کی روشنی میں ہم نبی اس شخص کو کہہ سکتے ہیں جو غیب کی اطلاع رکھتاہو اور اسکے پاس غیب کی خبریں ہوں۔

رسول اورنبی کا فرق نبوت اور رسالت کے مفہوم اور ان دونوں کے مصداق آپس میں کیا نسبت رکھتے ہیں اس پر بہت زیادہ بحثیں ہوئی ہیں ۔یقینا اگر نبوت اور رسالت کے مفہوم کے درمیان عام خاص مطلق کی نسبت پائی جاتی ہوتو قدرتی طور پر ان دونوں کے مصداق میں بھی وہی نسبت ہوگی لیکن ان دونوں لفظوں کے لغوی معنی سے یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ ان دونوں مفاہیم کے درمیان کوئی اشتراک نہیں ہے ۔نبوت کا مطلب چاہے رفعت ہو اور چاہے حاملِ خبر ہونا ہو رسالت کا مفہوم یہ نہیں ہے ۔ہاں رسالت کا لازمہ یعنی خداوند عالم کی طرف سے پیغام کے حامل ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ رسول اس پیغام سے مطلع ہو۔لیکن مفہوم رسالت میں نبوت کے معنی شامل نہیں ہیں۔ ہاں اس کے لوازم کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ نبوت کا مفہوم رسالت کے مفہوم میں شامل ہے۔
مصداق کے اعتبار سے بھی (جیسا کہ آیات اور ان سے بھی زیادہ صریح انداز میں روایات سے استفادہ ہوتاہے)نبوت اور رسالت کے درمیان عام خاص مطلق کی نسبت ہے ممکن ہے کوئی کہے کہ نبوت کا رسالت سے اعم ہونے کا دعویٰ بعض آیات کے ظاہری مطالب کے ساتھ سازگار نہیں ہے مثال کے طورپر خداوند عالم بعض آیات میں ارشاد فرماتا ہے:
(وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِیًّ اِلّٰا۔۔۔)(١)
''اورہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول یا نبی نہیں بھیجا ہے کہ۔۔۔''۔
حالانکہ اگر نبی رسول سے اعم ہوتا تو خداوندعالم کو (وَمَااَرْسَلْنَامِنْ نَبِیٍّ)فرمانا چاہیے تھا اور رسول کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا ۔اس لئے کہ جب عام کا ذکر کردیا جائے تو خاص بھی اس کے ضمن میں آجاتا ہے ۔اس بناء پر خاص کا عام کے پہلو میں ذکر کرنا بلاغت کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔اسی طرح خداوند عالم بعض انبیاء علیہم السلام کے بارے میں فرماتاہے :
(۔۔۔وَکَانَ رَسُولًا نَبِیّاً)(٢)
''۔۔۔اور رسول ونبی تھے ''۔
حالانکہ مقام توصیف میں خاص کے بعد عام ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ۔یہ ویسی ہی ہے کہ جیسے کہا جائے :''فلاں شخص(قفہا میں)اعلم ہے اور فقیہ بھی ہے ''تو ظاہر ہے کہ (اَعْلَم)ْ کے اندر فقیہ کے معنی موجود ہیں۔
..............
١۔سورئہ حج آیت٥٢۔
٢۔سورئہ مریم آیت٥١۔
اگر رسالت کیلئے نبوت لازمی ہوتو نبی ہونے کا رسول ہونے کے بعد ذکر کرنا مناسب نہ ہوتا۔
علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں اس اعتراض کا جواب دیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ ''نبی''اور ''رسول'' دومتباین اور مختلف مفہوم رکھتے ہیں اگر چہ رسالت کیلئے نبوت بھی لازم ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ نبوت کا مفہوم رسالت کے مفہوم میں شامل ہو ۔رسول قاصد اور ایلچی کو کہتے ہیں یعنی وہ شخص جو ایک چیز کسی شخص سے لیکر دوسرے شخص تک پہنچانے کے لئے واسطہ ہو اور نبی اس کو کہا جاتا ہے جو اہم غیبی خبریںرکھتا ہے ۔یہ دو مفہوم ایک دوسرے سے جدا ہیں اور اگر مصداق کے اعتبار سے ایک دوسرے کیلئے اخص ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں مفہوم کے اعتبار سے مشترک ہیں دوسرے لفظو ں میں ان کے درمیان عام خاص کی نسبت مصدا ق کے اعتبار سے ہے مفہو م کے اعتبار سے نہیں ۔
ان دونو ں میں فرق کیا ہے؟ علامہ طبا طبا ئی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ما بین رسول اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خا ص رسا لت کا حا مل ہو کبھی انبیاء علیہم السلام کلی طو ر پر خداوند عالم کی عبا دت ،اطاعت اور راہِ حق پر (جو خدا وند عالم کی بند گی کی راہ ہے )گا مزن رہنے کی دعوت دیتے ہیں لیکن کبھی خدا وند عالم کی طرف سے امت کے لئے خاص پیغام رکھتے ہیں اس بنا ء پر جس کے پاس خدا وند عالم کی طرف سے مخصوص پیغام ہو رسول کہا جاتا ہے اور جو کلی طور پر لو گوں کو راہِ حق کی دعوت دیتا ہے اس کو ''نبی''کہتے ہیں ان دونوں مفہو مو ں کے مدّ نظر ''کَانَ رَسُوْلاً نَبِیّاً''کی اس طرح تو جیہ کی جا سکتی ہے :''رَسُوْ لاً''یعنی خا ص قو م کیلئے مخصوص رسالت رکھتا ہے اور''نَبِیّاً'' یعنی غیبی خبر و ں سے آگا ہ تھا ۔ اس صورت میں تکرا ر کی مشکل پیش نہیں آ ئیگی۔ آیت ( مَااَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ مِنْرَسُوْلٍ وَ لَانَبِیٍّ)میں ان ہی دو مقام کی طرف اشارہ ہے ۔ ممکن ہے دو مقام کسی شخص میں جمع ہو جا ئیں اور ممکن ہے کسی شخص میں جمع نہ ہو ں ۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر رسول نبی بھی ہو آیت میں بھی مقامِ رسالت اور مقا مِ نبوّت رکھنے وا لوںکا ذکر ہے لیکن یہ ثابت کر نے کیلئے تما م رسول مقا مِ نبوّت کے بھی حا مل ہو تے ہیں کسی دو سری دلیل کی ضرو رت ہے ۔
مندر جہ بالا تو جیہ نبو ت اور رسالت کے لغوی مفہوم کے ساتھ بھی سا ز گار ہے ۔ البتہ علّا مہ طبا طبا ئی نے ایک دوسرے فرق کی طرف بھی اشا رہ کیا ہے جو پہلے فرق کے بر خلاف اِن دونوں لفظوں کے لغوی معنی سے قا بلِ استفا دہ نہیں ہے بلکہ اس کا ماخذ روایات ہیں اس طرح کی روا یات اصولِ کا فی میں بھی ہیں جن میں سے ایک روایت میں آیا ہے :رسول وہ ہے جو فر شتۂ وحی کو بیداری کے عا لم میں دیکھتا ہے اور اس سے گفتگو کر تا ہے لیکن نبی وہ ہے جس پر خواب میں وحی ہو تی ہے(١) جیسا کہ ہم نے عر ض کیا کہ یہ فرق لفظ رسول اور لفظِ نبی سے لغوی اعتبا ر سے حا صل نہیں ہو تا بلکہ یہ ایک خصوصیت ہے جو الگ سے بیا ن ہو ئی ہے ۔

انبیاء علیہم السلام کی تعداد قرآن کریم کی کچھ آیات اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ خدا وند عالم نے کثیر تعداد میں انبیا ء مبعوث کئے ہیں اور قرآنِ کریم میں ان میں سے صرف چند انبیا ء علیہم السلام کی داستان بیان کی گئی ہے۔ قرآنِ کریم میں صا ف طور پر ٢٥ انبیاء علیہم السلام کے اسما ئے گرامی کا تذ کرہ ہے لیکن یہ بھی صاف طور پر بیا ن کر دیا ہے کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام بھی تھے جن کے نہ تو اسماء قرآنِ کریم میں بیان ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کی داستا نیں بیان ہو ئی ہیں لیکن پیغمبرو ں کی تعداد کتنی تھی یہ قر آ ن کر یم کے الفا ظ سے معلوم نہیں ہو تا ۔
روا یات میں بھی انبیاء علیہم السلام کی کثرت کی طرف اشا رہ ہے لیکن ان کی تعداد بہت کم روایتو ں میں بیا ن کی گئی ہے۔ ایک روایت میں پیغمبرو ں کی تعداد ایک لا کھ چو بیس ہزا ر اور رسو لو ں کی تعداد تین سو تیرہ معین کی گئی ہے۔(٢) اب یہ روایت کتنی قا بلِ اعتما د ہے یہ الگ بحث ہے ۔ بہر حال اس طرح کی بات بعض روا یتو ں میں موجود ہے ۔
اب ہم مجمو عی طور پر ، انبیا ء علیہم السلام کے با رے میں نا زل ہو نے والی آیات کا تذ کرہ کررہے ہیں ارشاد ہو تا ہے :
(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔۔۔)(٣)
''اور یقینا ہم نے ہر امّت میںایک رسول بھیجاہے ۔۔۔''۔

کلمۂ امت کی وضاحت جس امت کے لئے رسول بھیجا جا ئے اس سے کیا مرا د ہے ؟ امت کے لغت میں متعدد معنی ہیں منجملہ یہ کہ :انسا نو ں کے کسی مجمو عہ ، پیشوا ، راستہ اور زما نہ کو امت کہتے ہیں ۔ قر آ نِ کریم میں ''امةً وا حِدَ ةً '' ایک مشخص و معین زمانہ کے معنی میں استعمال ہو ا ہے ۔
..............
١۔ ملا حظہ کیجئے بہ: کلینی ، الکافی (الا صول ) ، کتا ب الحجة ، با ب الفرق بین الر سو ل والنبیّ والمحدَث ۔
٢۔بصا ئر الد رجات صفحہ ١٢١ ،الخصال صفحہ ٣٠٠ اور ٦٤١ ۔
٣۔سورئہ نحل آیت٣٦۔
اورایک مقام پر ارشاد ہو تا ہے :
(اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّةً)''بیشک ابراہیم ایک مستقل امّت ہیں'' شا یدیہاں لفظ امت اما م کے معنی میں استعمال ہو ا ہے لیکن قر آنِ کریم میں زیا دہ تر مقا مات پر یہ کلمہ ''لو گو ں کے ایک مخصوص گر وہ ''کے معنی میں استعمال ہو ا ہے ۔اب یہ گروہ کن خصوصیات کا حا مل ہو کہ اس کو امت کہا جا سکے اس کی کو ئی وضا حت نہیں کی گئی ہے۔ بعض افراد کہتے ہیں امت یعنی لو گو ں کا وہ گروہ جن کا ہدف مشترک ہو یا ان کی زند گی بسر کر نے کا عنوا ن مشترک ہو یا ان کے ایک دو سرے سے کا فی روا بط مشترک ہوںلیکن قرآ ن ِ کریم میں اس لفظ کااستعمال اس تفسیر کے ساتھ موا فق نہیں ہے ۔
قرآن کریم میں حیوانوں کے گروہ کو بھی ( اُمَم ) کہا گیاہے :
(۔۔۔اِلَّااُمَم اَمْثَالُکُمْ)(١)
''جو اپنی جگہ تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتاہو''۔
اس بناء پر کلمہ امت قرآن کریم میں تقریباً جماعت کے مساوی ہے۔یعنی کچھ افراد کا مجموعہ چاہے وہ انسان ہوں یا حیوان اب رہا قرآن کا یہ جملہ ''کہ ہر امت کیلئے ایک رسول تھا ،اس سے مراد انسانوں کا ہر گروہ''ہے لیکن قرآن نے اس اعتبار سے انسانوں کی کسی جماعت کو ایک مجموعہ یا گروہ شمارکیا ہے یہ بات واضح نہیں ہے ۔کسی شک و شبہ کے بغیر انسانوں کے مجموعہ پر ''امت واحد '' کا اطلاق ایک اعتبا ری امر ہے لیکن سوا ل یہ ہے کہ اس ا عتبار کی بنیاد اور معیا ر کیا ہے؟ جس طرح ہم اسکول میں طلبہ کی ایک جما عت کو ایک ساتھ سبق پڑھنے کے لحا ظ سے ایک جما عت یا کلاس کہتے ہیںیا ہم فو ج کی ایک جما عت کو ان کے درمیا ن مخصوص قو انین میں اشترا ک کی وجہ سے ایک یونٹ کہتے ہیں ۔اسی طرح انسانو ں کے مجموعہ کو بھی مشترکہ طو ر پر ایک ہی دین کے پیرو ہو نے کی وجہ سے ایک مجموعہ شمار کر سکتے ہیں ۔ دوسرے لفظو ں میں حضر ت مو سیٰ علیہ السلام کی شر یعت کی پیر وی کر نے والوں کو شریعت میں اشتراک کی وجہ سے '' حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی امت شما ر کر تے ہیں '' اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک امت کے افراد کا ایک ہی زمانہ میں یا ایک ہی جگہ پر زند گی بسر کر نا یا ان کے درمیان اقتصا دی روا بط میں بھی اشترا ک پا یا جانا ''ایک امت '' شمار کر یں یا اسی طرح جگہ کے اشتراک کا لحا ظ کر تے ہو ئے جو لوگ کسی مخصوص جغرا فیا ئی حدود میں زند گی بسر کر رہے ہو ں ان کو بھی ''ایک امت''کہا جا سکتا ہے۔ اب یہ سوال پیش آ تا ہے کہ لفظ ''امت''سے مند ر جہ ذیل قسم
..............
١۔سورئہ انعام آیت ٨ ٣۔
کی آیات میں کیا مرا د ہے ؟
(وَلَقَدْ بَعَثْنٰا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلاً ۔۔۔)(١)
''اور یقینا ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا ہے ۔۔۔''۔
اور ایک آیت میں یہ ارشاد ہو تا ہے :
(۔۔۔وَاِنْ مِنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْر)(٢)
''اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گذراہو ''۔
یہا ں لفظ ''امت ''انسا نو ں کے کس طرح کے مجمو عہ کے لئے استعمال ہو ا ہے ؟ اور اس مجمو عہ کے درمیان وجہ اشتراک کیا ہے ؟ کیا اس سے مرا د یہ ہے کہ ہر زمانہ میں انسانو ں کا ایک ایسا مجموعہ رہا ہے کہ جن کی ہدا یت کے لئے پیغمبر مبعوث کئے گئے ہیں ؟یا امت سے مراد مخصو ص جغرا فیا ئی حدود میںرہنے والے افراد یا ایک ایسی قوم ہے جو ایک ہی زبان بو لتی ہو ؟
حقیقت یہ ہے کہ ان سوالات کے جوا بات قر آ ن کریم کی آیات سے نہیں ملتے ۔ ہاں یہ بات مسلّم ہے کہ قرآنِ کریم نے انسانو ں کے جن مجمو عہ کو امت شما ر کیا ہے ان کے با رے میں اعلان کیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک امت کے لئے کو ئی نہ کو ئی پیغمبر ضرور مبعوث ہو ا ہے لیکن قر آ ن کا کسی ایک مجمو عہ کو امت میں شما ر کر نے کا معیار ہمارے لئے آ شکار نہیں ہے ۔

انبیاء علیہم السلام کی کثرت قرآ نِ کریم کی کچھ آیات صرف اس چیز پر دلالت کر تی ہیں کہ لو گو ں کے درمیان بڑی تعداد میں پیغمبر مبعوث کئے گئے ہیں ۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہے:
(اِذْ جَائَتْہُمْ الرُّسُل ُ مِنْ بَیْنِ اَیْدِ یْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ۔۔۔)(٣)
..............
١۔سورئہ نحل آیت٣٦۔
٢۔سورئہ فاطر آیت٢٤۔
٣۔سورئہ فصلّت آیت١٤۔
''جب ان کے پاس سامنے سے اور پیچھے سے ہمارے نمائندے آئے ۔۔۔''۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ انبیائے الٰہی کی تعداد اس قدر زیا دہ تھی گو یا ان کے آگے پیچھے انبیاء علیہم السلام ہی انبیاء علیہم السلام تھے ۔ اسی طرح خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے :
(ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا۔۔۔)(١)
''اور اسکے بعد ہم نے مسلسل رسول بھیجے ۔۔۔''۔
یہ آیت بھی اس بات کی طرف اشا رہ کر تی ہے کہ کم و بیش ہر زمانہ میں پیغمبر مو جو د تھے اور خداوند عالم کا ار شاد ہو تا ہے :
(وَ لِکُلِّ اُمَّةٍ رَسُوْل۔۔)(٢)
''اور ہر امّت میںایک رسول ہو اہے ۔۔۔''۔
ان آیات میں مجمل طور پر یہ حقیقت بیان ہو ئی ہے کہ خدا وند عالم نے قو موں اور امتو ں کے در میان بڑ ی تعداد میں نبیوں کو مبعوث کیا ہے لیکن اس بات کی وضا حت نہیں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعداد کتنی تھی اور کیا ہر زمانہ میں صرف ایک ہی پیغمبر رہا ہے یا ایک ہی زمانہ میں ایک سے زیا دہ پیغمبر بھی مبعوث کئے گئے ہیں ۔
قرآنِ کریم سے تو نہیں مگر کچھ دوسری دلیلو ں سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ کبھی کبھی ایک ہی وقت اور ایک ہی زمانہ میں متعدد پیغمبر مبعوث ہو ئے ہیں اسی طرح حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے وا قعہ سے مر بوط آیات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام آپ کے ہم عصر تھے اور حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کر تے تھے ۔ علاوہ ازین کچھ آیات سے کئی پیغمبروں کا ایک ہی زما نہ میں موجود ہو نا پتہ چلتا ہے ۔خدا وند عالم کا ارشا د ہو تا ہے :
(اِذْاَرْسَلْنَا اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْ ھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ۔۔۔)(٣)
''اس وقت جب ہم نے ان کے پا س دو رسولوں کو بھیجا لیکن ان لوگوں نے ان دونو ں کو جھو ٹا خیال کیاتو ہم نے ایک تیسرے پیغمبر کے ذریعہ ان دونو ں کی تا ئید کر دی ''۔
ان تمام با توں کے با وجو د کچھ اور سوا لا ت بھی ہیں جن کے جوا بات قرآ ن کی آیات سے حا صل نہیں ہو تے جیسے گذ شتہ امتو ں میں ہر ایک کے درمیان مبعوث کئے جا نے والے انبیا ء کے نام اور دوسری تفصیلات کیا ہیں؟ کیا
..............
١۔سورئہ مومنون آیت٤٤۔
٢۔سورئہ یونس آیت٤٧۔
٣۔سورئہ یس آیت ١٤ ۔
کوئی زمانہ ایسا بھی گذر اہے کہ جس وقت لو گو ں کے درمیان کوئی پیغمبر مو جو د نہ رہا ہو ؟ یہ وہ سوا لات ہیں کہ جن کے صاف و صریح جوا بات ظوا ہر آیات سے پتہ نہیں چلتے البتہ آخر ی سوا ل کے با رے میں کچھ اس طرح کے مشترک مضمون کی حا مل روا یات مو جو د ہیں '' لَا تَخْلُوْالْاَرْضَ مِنْ حُجَّةٍ''(١)
''زمین کبھی حجتِ خدا سے خا لی نہیں رہ سکتی ''۔
لیکن اس روایت سے بھی مندرجہ بالا آخر ی سوال کا جو ا ب صریح طور پر نہیں دیا جا سکتاچو نکہ حجت نبی اور رسول دو نو ں کو کہتے ہیں اور اس میں امام (اور پیغمبر کے وصی ) بھی شا مل ہیں اس بنا ء پر اس روایت کے سہا رے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتاکہ انسانو ں کے درمیان کسی فا صلے کے بغیر ہمیشہ پیغمبر مو جو د رہے ہیں ۔
یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم مسلما نو ں کے عقیدے کے مطابق پیغمبر اکر م ۖ کے بعدزمین و زمان کا پیغمبر سے خا لی ہو نا مسلّم ہے اور یہ بات ضروریاتِ اسلام سے ہو نے کے علاوہ جو آیات نبوّت کے ختم ہو نے پر دلالت کر تی ہیں ان سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے لیکن ہم کو قر آنِ کریم سے کو ئی ایسی دلیل نہ مل سکی جس کے تحت پیغمبر اسلا م ۖسے پہلے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کی مو جو د گی ثابت ہو ۔
قرآنِ کریم کی آیات سے ایک اور بات جس کا پتہ چلتا ہے یہ ہے کہ صرف کچھ ہی انبیائے الٰہی کے اسما ء اور ان کے حا لاتِ زند گی قرآنِ کریم نے بیان کئے ہیں ، تمام انبیاء علیہم السلام کی داستان قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہو ئی ہے ۔خدا وند عالم ارشا د فر ماتا ہے
(اِنَّااَوْْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمٰااَوْحَیْنَااِلیٰ نُوْحٍ وَالنَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِہِ وَاَوْحَیْنَااِلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبٰاطِ وَعِیْسٰی وَاَیُّوْبَ وَیُوْنُسَ وَ ھٰرُوْنَ وَسُلیْمَٰنَ وَاٰتَیْنَا دَاوُوْد َزَبوُراً۔ وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰھُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلاً لَمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ اﷲُ مُوْسیٰ تَکْلِیْماً) (٢)
''ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح نوح اور ان کے بعد کے انبیاء کی طرف وحی کی تھی اور ابراہیم ،اسماعیل ،اسحاق ،یعقوب،اسباط، عیسیٰ، ایوب،یونس، ہارون، اور سلیمان کی طرف وحی کی ہے اور داؤد کو زبور عطا کی ہے اور بہت سے رسول (بھیجے) جن کے قصے ہم آپ سے پہلے ہی بیان کرچکے ہیں اور بہت سے ایسے رسول (بھیجے) جن کا تذکرہ ہم نے تم سے نہیں کیا ہے اور اﷲنے تو موسیٰ سے (کھل کر ) با تیں بھی کی ہیں ''۔
..............
١۔الکا فی (الاصول )کتا ب الحجة باب ا نَّ الاَ رْ ضَ لَا تَخْلُوْ ا مِنْ حُجَّةٍ ۔
٢۔سورئہ نساء آیت ١٦٣۔١٦٤۔
ایک دوسری آیت میں ارشا د ہو تا ہے :
(وَلَقَدْ اَرْسَلْنَارُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَنْ قَصَصْنَاعَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ۔۔۔)(١)
''اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے ۔۔۔''۔
ان آیا ت سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد اُن سے کہیں زیا دہ ہے کہ جن کی داستان قرآنِ کریم میں بیان کی گئی ہے ۔

انبیاء علیہم السلام کی جنس قر آنِ کریم نے انبیاء علیہم السلام کے با رے میں ایک با ت عمومیت کے ساتھ یہ بیان کی ہے کہ تما م انبیاء علیہم السلام صرف مرد ہو ئے ہیں :
(وَمَااَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ اِلّٰارِجَالًا نُوحِیْ اِلَیْہِمْ مِنْ اَھْلِ الْقُرَیٰ۔۔۔)(٢)
''او ر (اے رسول )آپ سے پہلے بھی ہم نے آ با دیو ں میں رہنے وا لے ان مر دوں کے سواکہ جن پر وحی کی ہے کسی کو (رسول بنا کر ) نہیں بھیجا ''۔
(وَمَااَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ اِلّٰارِجَالًا نُوْحِیْ اِلَیْہِم فَسْئَلُوْااَھْلَ الذِّ کْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْ نَ )(٣)
''اور ہم نے آپ سے پہلے بھی سوا ئے اُن مَردوں کے کہ جن کی طر ف ہم وحی بھیجتے تھے کسی کو پیغمبر نہیں بنایا پس اگر تم خودنہیں جانتے ہوتو اہل ذکر سے دریافت کرو''۔
(وَمَااَرْسَلْنَاقَبْلَکَ اِلّٰا رِجَالًا نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ۔۔۔)(٤)
''اور ہم نے آپ سے پہلے بھی سو ا ئے ان مر دوں کے کہ جن پرہم وحی کیا کرتے تھے کسی کورسو ل بنا کر نہیں بھیجا ''۔
چنانچہ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا مذکورہ آیات کے ظاہر بلکہ ان کے صاف و صریح بیان سے معلوم ہوتا ہے
کہ تمام پیغمبر مرد تھے اور عورتوں کے درمیان سے کوئی بھی پیغمبر مبعوث نہیں کیا گیا۔
..............
١۔سورئہ غافر آیت٧٨۔
٢۔سورئہ یوسف آیت١٠٩۔
٣۔سورئہ نحل آیت٤٣۔
٤۔سورئہ انبیاء آیت٧ ۔



17
اپنی قوم کا ہم زبان ہونا راہ اور رہنما کی پہچان

اپنی قوم کا ہم زبان ہونا قرآن کریم میں پیغمبروں کی ایک اور عمومی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ہر پیغمبر کو امت کی زبان میں تبلیغ کے لئے بھیجا گیا ہے یعنی جو رسول جس مخصوص قوم کیلئے رسول بنا کر بھیجا گیا اس نے اسی قوم کی زبان میں گفتگو کی ہے یہاں تک کہ جو پیغمبر پوری دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ان کو بھی جس قوم کے درمیان بھیجا گیا ہے اور جس قوم کے درمیان انھوں نے زندگی بسر کی ہے اسی قوم کی زبان میں گفتگو کیا کرتے تھے ۔مندرجہ ذیل آیات انبیاء علیہم السلام کا خود اپنی قوم کا ہم زبان ہونا بیان کرتی ہیں۔
(فَاِنَّمَا یَسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَّکَّروُنَ)(١)
''پس ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے کہ شاید یہ لوگ نصیحت مان لیں ''۔
(نَزَلَ بِہ الرّوُحُ الْاَمِیْنُ۔عَلَیٰ قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنْذِرینَ۔بِلِسَانٍ عَرَ بِیٍّ مُبِیْنٍ)(٢)
''اسے جبرئیل امین لے کرنازل ہوئے ہیں یہ آپ کے قلب پر نازل ہواہے تاکہ آپ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں یہ واضح عربی زبان میں ہے ''۔
یہ دوسری آیت اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم عام فہم عربی زبان میں نازل ہوا ہے:
(وَمَااَرْسَلْنَا مِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا بِلِسِانِ قَوْ مِہِ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ۔۔۔)(٣)
''اور ہم نے کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کو خود اس کی زبان دے کر بھیجا ہے تا کہ ان کے سا منے بیان کرسکے ''۔
یہ آخری آیت اپنی قو م کا ہم زبان ہو نے کے علا وہ پیغمبر کے بھیجے جا نے کی غرض و غا یت کی طرف بھی اشارہ کر تی ہے : پیغمبر کو مبعوث کر نے کا ہد ف قوم تک اس ( پیغمبر )کے ذریعہ الٰہی اہداف و مقا صد پہنچانا ہے ۔ بنابرایں اگر پیغمبر کی زبا ن (جو قوم کے ساتھ رابطے کا اصل ذریعہ ہے ) اپنی قو م کی زبان سے مختلف ہو تو وہ کا مل طور پر
..............
١۔سورئہ دخان آیت٥٨۔
٢۔سورئہ شعراء آیت١٩٣۔١٩٥۔
٣۔سورئہ ابراہیم آیت٤۔
رسالت کا فریضہ ادا کر نے اور اپنے مبعوث ہو نے کے اہدا ف و مقا صد کو پو را کر نے میں کا میاب نہیں ہو سکے گا ۔

دعوتِ توحید قر آ ن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے عمو می اوصاف میں سے ایک خدا ئے واحد کی عبا دت کی دعوت بھی ہے اور قرآنِ کریم کی متعدد آیات اس چیز پر دلالت کر تی ہیں کہ تما م انبیاء علیہم السلام کی تبلیغ میں سرِ فہرست لوگو ں کو توحید کی دعوت دینا رہا ہے ارشاد ہو تا ہے:
(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُ مَّةٍ رَسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوْااﷲَ وَاجْتَنِبُوْا الطَّاغُوْتَ)(١)
'' اور در حقیقت ہم نے ہر امت میں ایک (نہ ایک) رسو ل ضرور بھیجا کہ کہے :لو گو !خدا کی عبا دت کرو او ر طاغوت کی پر ستش سے دور رہو ''۔
( وَمَااَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْ لٍ اِلَّانُوْحِیْ اِلَیْہِ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِ لَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ )(٢)
'' اور ہم نے آپ سے پہلے کو ئی رسو ل نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان پر وحی کی کہ میرے سوا کو ئی معبود نہیں پس میری عبا دت کیا کرو ''
اوردوسرے سورہ میں ارشا د ہو تا ہے :
( اِذْجَائَتْھُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ اَلَّا تَعْبُدُ وْااِلَّا اﷲَ ۔۔)(٣)
'' جب ان کے پاس ان کے آگے ، پیچھے ہما رے پیغمبر آ ئے (اور کہا ) خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کر نا ''۔
ہا ں ہر پیغمبر مسئلۂ تو حید اپنے خا ص طریقہ سے بیان کر تا تھا لیکن مجمو عی طور پر ان کی تعلیم کا ماحصل وہی خدائے یکتا کی پرستش تھی ۔ چنا نچہ بغیر کسی شک وشبہ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام الٰہی انبیا ء کی دعوت کی اصل روح اورحقیقتِ مشتر کہ یہی تو حیدمسئلہ اور خد ائے وحد ہُ لا شریک کی پر ستش رہی ہے ۔

معا شرہ میں رائج برا ئیو ں اور بد عنو انیو ں سے جنگ تمام انبیاء علیہم السلام خدا ئے وحدہ لا شریک کی عبا دت کی دعوت کے علاوہ کہ جس کی وہ سبھی عام طور پر دعوت دیا کر تے تھے اپنی امت میں رائج بد عنوانیو ں سے مقا بلے کے لئے اٹھ کھڑے ہو تے تھے ۔ نمونہ کے طور پر حضرت
..............
١۔سورئہ نحل آیت ٣٦۔
٢۔سورئہ ا نبیاء آیت ٢٥۔
٣۔سورئہ فصلت آیت١٤ ۔
شعیب کے زما نہ میں ''کم فروشی ''کا روا ج تھا ۔اس بنا ء پر حضرتِ شعیب علیہ السلام کوخا ص طور پر اس اقتصا دی بدعنوانی سے جنگ کے لئے بھیجا گیا تھا ۔وہ اپنی امت سے کہتے تھے :
( َوْفُوا الْکَیْلَ وَلاَتَکُونُوا مِنْ الْمُخْسِرِینَ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیمِ۔وَلاَتَبْخَسُوا النَّاسَ َشْیَائَہُمْ وَلاَتَعْثَوْا فِی الَْرْضِ مُفْسِدِینَ )(١)
''(جب کو ئی چیز ناپ کر دو تو ) پیمانہ بھر کر دیا کرو (کم نہ دیا کرو ) اور (جب تو ل کر دو ) ٹھیک ترا زو سے (ڈنڈی سیدھی رکھکر )تو لو اور لو گو ں کے مال کی قیمت کم نہ لگا یا کرو ''
حضرت لوط علیہ السلام کے زمانہ میں ان کی امت کے درمیان عام طور پر بد چلنی شا ئع و رائج ہو چکی تھی لہٰذا حضرتِ لوط علیہ السلام اس معا شرتی برا ئی سے مقا بلے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے خداوند عالم قر آنِ کریم میں ارشاد فر ماتا ہے :
(اَتَاتُوْنَ الذُّ کْرَانَ مِنَ العَٰلَمِیْنَ ۔وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ قَوْم عَادُوْنَ )(٢)
''کیا تم سا رے جہان کے لوگو ں میں مر دوں ہی کے پاس جا تے ہو ؟اور خدا وند عالم نے جو بیبیاں تمہارے وا سطے پیدا کی ہیں انھیں چھو ڑ ے ہو ئے ہو ( نہیں ) بلکہ تم لوگ اپنی حد سے نکل گئے ہو''۔

فضیلت کے اعتبا ر سے مرا تب کا فرق ایک اور اصو ل جس پر قرآنِ کریم نے بہت زیا دہ زور دیا ہے یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے درمیان فضیلت
اور کما ل کے لحا ظ سے فرق ہو تا ہے ،قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:
(تِلْکَ الرُّ سُلُ فَضَّلْنَا بَعضَھُمْ عَلَیٰ بَعْضٍ ۔۔۔)(٣)
'' ان میں بعض رسو لو ں کو ہم نے بعض دو سرے رسو لو ں پر فضیلت دی ہے۔۔۔''۔
اور اس آیت سے ملتی جلتی دوسری آیت میں ارشاد ہو تاہے :
(وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلَیٰ بَعْضٍ ) (٤)
..............
١۔سورئہ شعرأ آیت ١٨١۔ ١٨٣۔
٢۔سورئہ شعرا آیت١٦٥۔١٦٦۔
٣۔سورئہ بقرہ آیت٢٥٣۔
٤۔سورئہ اسراء آیت٥٥۔
''اور ہم نے یقینا بعض پیغمبروں کو بعض پرفضیلت دی ہے ''۔
ان آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تما م انبیائے الٰہی کما ل کے اعتبا ر سے مسا وی نہیں تھے اور معنوی مقا م کے اعتبار سے ایک دو سرے سے فر ق کر تے تھے ۔

اجر طلب کر نے سے پر ہیز انبیا ء علیہم السلام کی ایک اور مشتر کہ خصو صیت یہ ہے کہ انھو ں نے ہر گز اپنی امت سے رسا لت کی راہ میں اٹھا ئی جا نے والی طا قت فرسا زحمتو ں کے عوض کو ئی اجر و مز دوری نہیں طلب کی ۔ انبیاء کی زبا نی یہ بات صاف طور پر نقل ہو ئی ہے کہ وہ اپنی امت سے مخا طب ہو کر فر ما یا کر تے تھے :
ہم تمہا ری رہنما ئی اور تعلیم و تر بیت کے عو ض تم سے کو ئی اجر نہیں چا ہتے کیو نکہ ہما ری اجرت خداوند عالم کے ذمہ ہے ۔ اس کے سلسلہ میں سب سے جا مع سورہ ، سورئہ شعراء ہے۔ جس میں پا نچ مقا مات پر پیغمبر وں کی داستان بیا ن کر نے کے بعد قرآن کہتا ہے:
( وَمَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عََلیٰ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ)(١)
''اور اس (تبلیغ رسالت ) کے بد لے میں تم سے کو ئی اجرنہیں چا ہتا میری اجرت تو بس سا رے جہان کے پالنے وا لے (خدا ) کے ذمہ ہے ''۔
یہ آیت کہ جس میں حضرتِ نوح ، ہود، صا لح ، لوط اور شعیب علیہم السلام جیسے پیغمبروں کی حکا یت بیان ہوئی ہے واضح طور پر اس واقعیت سے پر دہ اٹھا تی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کسی بھی طرح کی تو قع یا مطالبہ اپنی زحمتو ں کے سلسلے میں لوگو ں سے نہیں رکھتے تھے اور ان کی امید صرف اور صرف خدا وند عالم کے فضل و کرم سے وابستہ تھی ۔
قر آن کریم کی چند آیات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖبھی گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی مانند لوگوں سے کسی طرح کے اجر کی تو قع نہیں رکھتے تھے :
(وَمَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ ھُوَ اِ لَّا ذِکْر لِلْعَالَمِیْنَ )(٢)
'' اور تم اس (کام ) کے بد لے ان سے کو ئی صلہ نہیں چا ہتے ۔ وہ (قرآن ) دنیا وا لو ں کے لئے نصیحت کے
علا وہ اور کچھ نہیں ہے ''۔
..............
١۔سورئہ شعراء آیت١٠٩،١٢٧،١٤٥،١٦٤،١٨٠۔
٢۔سورئہ یوسف آیت ١٠٤۔
(قُلْ مَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِِیْنَ )(١)
''(اے رسول )آپ ان سے کہد یں میں تم سے نہ اس (تبلیغِ رسالت ) کا کو ئی بد لہ چا ہتا ہو ں اور نہ میں ان لو گو ں میں ہو ں کہ خود ساختہ چیزو ں کی خدا کی طرف نسبت دیدوں ''۔
بعض دو سری آیا ت میں اس حقیقت کو استفہا مِ انکا ری کی صو رت میں بیا ن کیا گیا ہے ۔
(اَمْ تَسْئَلُھُمْ اَجْراًفَھُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُوْ نَ)(٢)
''(اے رسول ) کیا آپ نے ان سے (تبلیغِ رسالت کا ) کو ئی صلہ ما نگا ہے اور ان لو گو ں پر تاوان میں (وعدہ پو را کر نے کا ) بھا ری بو جھ پڑ رہا ہے ؟!''۔
بغیر کسی شک و شبہ کے دو سو روں میں دہرا ئی جا نے والی اس آیت میں استفہام(اور سوالیہ انداز) استفہامِ انکا ری کی قسم سے ہے۔ لہٰذا اس آیت میں بھی ایک دو سرے رُخ سے یہی حقیقت بیان ہو ئی ہے کہ پیغمبراسلام نے اپنی امت سے تبلیغ رسالت کے سلسلے میں کسی اجر کا مطالبہ نہیں کیا ہے ۔
ابھی ذکر شدہ تمام آیات میں کسی بھی قسم کے اجر کی درخواست کا مطلق طور پر انکا ر ہے لیکن بعض دو سری آیات سے اس سلسلہ میں ایک طرح کے استثنا ء کا پتہ چلتا ہے :
(قُلْ لَاْ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبَیٰ ۔۔۔)(٣)
''(اے رسول ) آپ کہدیں کہ میں اس ( تبلیغ رسالت ) کا اپنے قر ابتدا رو ں کی محبت کے سوا تم سے کو ئی صلہ نہیں چا ہتا ''۔
(قُلْ مَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍاِلَّا مَنْ شَائَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلَیٰ رَبِّہِ سَبِیْلاً)(٤)
''( ان لو گو ں سے )آپ کہد یں کہ اس (تبلیغ رسالت ) پر تم سے کو ئی اجر نہیں چا ہتا ہو ں مگر یہ کہ جو چا ہے اپنے پر ور دگار تک پہنچنے کی راہ اختیار کرے ''۔
پہلی نظر میں ممکن ہے کو ئی یہ گمان کرے کہ مذ کو رہ دو آیتیں ایک استثنا ئے حقیقی ہیں اس معنی میں کہ پیغمبر اسلام ۖنے ( تمام انبیا ء علیہم السلام کے بر خلاف اور دوسری آیات میں مذ کورہ خود اپنی گفتگو کے بر خلاف ( کہ جن
..............
١۔سورئہ ص آیت ٨٦۔
٢۔سورئہ طور آیت ٤٠ اور سورئہ قلم آیت ٤٦۔
٣۔سورئہ شو ریٰ آیت٢٣۔
٤۔سورئہ فر قان آیت٥٧۔
میں کلی طور پر ہر طرح کے اجر کے مطالبہ کی نفی کی گئی ہے ) ان دو نو ں آیات میں لو گو ں سے تبلیغ رسالت کا اجر اور بد لا طلب کیا ہے لیکن پہلی نظر میں پیش آ نے والا یہ تصور صحیح نہیں ہے کیو نکہ ان دونو ں آیتو ں کے مطالب پر غور و فکر کرنے سے یہ بات روشن ہو جا تی ہے کہ جس چیز کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ ان چیزو ں میں سے نہیں ہے جو عام طو ر پر لوگ کسی عمل کے انجام دینے کے بعد مز دوری کے عنوان سے طلب کیا کر تے ہیں ۔ عر ف عام میں مزدو ری اس منفعت کو کہتے ہیں جو مزدوری دینے والا کسی مزدور کو دیتا ہے ۔ دوسرے لفظو ں میں یہ مز دو ری پا نے والا شخص ہے جو وہ اپنے انجا م دیئے گئے کام کے بد لے میں پا تا ہے اور اس کی منفعت سے بہرہ مند ہو تا ہے ۔ اجر ت کے اس مفہو م سے یہ بات واضح ہوجا تی ہے کہ اس میں جن چیز و ں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے یعنی ''الَّا الْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبَیٰ ''اور ''مَنْ شَا ئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلیٰ رّبِّہِ سَبِیْلاً '' استثنا نہیں ہے (١) اس لئے کہ یہ وہ اجر تیں ہیں جس کا فا ئدہ خو د ذاتِ پیغمبر کی طرف نہیں پلٹتا بلکہ یہ تو امت اسلامی ہے جوخا ندا نِ پیغمبراکرم ۖ سے دو ستی کے ذریعہ الٰہی راہ پر گا مزن ہو کر فائد ہ اٹھا ئے گی ۔
مندر جہ بالا بیان کی روشنی میں کسی کے ذہن میں یہ با طل خیا ل نہیں آنا چا ہئے کہ ( نعوذ باﷲ)پیغمبر اکرم مقام و منصب کے خوا ہا ں تھے اور ان کا مقصد لو گو ں کے درمیان محبوبیت حا صل کر نا تھا اور چا ہتے تھے کہ اُن کے بعد لو گو ں کی نظر اُن کے خا ندا ن پر مر کو زرہے ۔
جی نہیں ، ایسا نہیں ہے بلکہ نبی اکر م ۖ آپ کے اقر باء سے محبت و مو دت اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام سے دوستی ایک ایسا امر ہے جو بالآ خر خود لو گو ں کے فا ئدے میں ہے اور خود ان کی سعا دت اور کمال کے لئے ہے اور اصو لی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستثنیٰ کئے گئے دو نوں امر کی بر گشت با لآخر ایک ہی چیز کی طرف ہے ۔ اس لئے کے کسی بھی شک و شبہ کے بغیر پیغمبر اکرم ۖکی طرف سے اپنے اہل بیت علیہم السلام کو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنانے کی وصیت، آپ کا کوئی ذاتی کام نہ تھا بلکہ خدا کے حکم کے تحت تھا۔پیغمبر اکرم ۖکو خداوند عالم کی طرف سے اس امر پر مامور کیاگیا تھاکہ آپ اہل بیت علیہم السلام کا رسالت کے تسلسل اور امت کی رہنمائی کے لئے جو اعلیٰ مقام رکھتے ہیں لوگوں کے گوش گذار فرمادیںاور بلاشبہ اہل بیت علیہم السلام سے تمسک خداوند عالم کی راہ پر چلنے کا کامل و واضح مصداق ہے ۔
آخری دو آیتوں کی جو تفسیربیان کی گئی ہے اور زیادہ صراحت کے ساتھ مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے :

١۔( اجر ) کے مذکو رہ معنی کے مدِّ نظر علما ئے علم نحو کے اعتبار سے ان آیات میں استثنا ئے مذ کور استثنا ئے منقطع کی قسم سے ہے کہ جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے ۔
(قُلْ مَا سَأَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍفَھُوَ لَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَیٰ اﷲِ ۔۔۔)(١)
اس آیت کی دو طرح سے تفسیر کی گئی ہے پہلی تفسیر کے مطابق جو مندرجہ بالا بیان سے مناسبت رکھتی ہے ۔ آیت میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام ۖنے اجر و مزدوری کے طور پر جس چیز کا مطالبہ کیا ہے۔ حقیقت میں وہ وہی چیز ہے جس کا فائدہ خود لوگوں کی طرف پلٹتا ہے یعنی حقیقی اجر لینے والی خود امت ہے لیکن دوسری تفسیر کے مطابق آیت سر ے سے اجرت کی نفی کررہی ہے یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں جو کچھ بھی تم سے اپنی رسالت کے عوض میرا مطالبہ ہے وہ میں نے تم ہی کو بخش دیا۔ (جیسے کوئی قرض دینے والا مقروض سے کہتا ہے :اگر میراتم سے کچھ مطالبہ ہو تو وہ میں نے تم ہی کو بخش دیا )۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آخر کی تین آیتوں کو دعائے ندبہ میں بڑے ہی اچھّے اور خوبصورت انداز میں ایک دوسرے سے مرتبط کرکے بیان کیاگیا ہے:
(۔۔۔ثُمَّ جَعَلْتَ اَجْرَمُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ مَوَدَّتَھُمْ فِیْ کِتَا بِکَ فَقُلْتَ قُلْ لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراًاِلَّاالْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبَیٰ وَقُلْتَ مَاسَئَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍفَھُوَلَکُمْ وَ قُلْتَ مَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَائَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلَیٰ رَبِّہِ سَبِیْلاً فَکَانُوْاھُمُ السَّبِیْلُ اِلَیْکَ وَالْمَسْلَکَ اِلیٰ رِضْوَانِکَ ۔۔۔)
''اس وقت تو (اے پر ور دگا ر )نے اپنے قرآن میں رسالتِ محمد ۖکی اجرت امّت کی اہل بیت سے محبت دوستی قرار دی جہا ں تو نے فر مایاہے :
''اے رسول ''آپ کہدیں کہ میں اس( تبلیغ رسالت)کا اپنے قرابتداروں (اہل بیت) کی محبت کے سوا تم (امتوں)سے کوئی صلہ نہیں مانگتااور پھر تونے فرمایا :''اے رسول''آپ (یہ بھی)کہدیںکہ (تبلیغ رسالت کی ) میں نے تم سے جو اجرت مانگی ہے وہ تمہارے ہی فائدہ میں ہے اور پھر تونے فرمایا :''(اے رسول )آپ یہ بھی کہدیں کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا مگر (یہ کہ ) خدا کی راہ پر چلے ۔پس (آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ )اہل بیت پیغمبر تجھ تک اور تیری جنت رضوان تک پہنچنے کا راستہ (اورر اہبر)ہیں ''۔
..............
١۔ سورئہ سبا آیت ٤٧۔

اولواالعزم انبیاء علیہم السلام انبیاء علیہم السلام سے متعلق ایک بحث یہ ہے کہ کیا تمام انبیا ء علیہم السلام کی رسالت ساری دنیا کے لئے عمومی رسالت تھی یا ہر نبی ایک خاص گروہ کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ اس مسئلہ کے جواب میں مفسرین میں اختلاف پا یا جاتا ہے پھر بھی مندرجہ ذیل دو با توں پر سب کا اتفاق ہے
١۔ تقر یباً تمام مفسر ین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی رسالت عا لمی رسالت نہیں تھی دوسرے لفظو ں میں کم از کم بعض انبیا ء علیہم السلام کی رسالت ایک مخصوص قوم تک محدود تھی ۔
٢۔بعض نا سمجھ افراد نے جس شبہ کا اظہار کیا ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ تمام دنیا والوں کیلئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی رسالت کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں ہے ۔
علاّمہ طباطبائی نے قرآن کریم کی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انبیاء کے درمیان پا نچ پیغمبر صا حبِ شریعت اور آسمانی کتاب یا صحیفے اور اجتما عی احکام لیکر آئے ہیں۔ وہ پانچ انبیاء علیہم السلام حضرتِ نو ح علیہ السلام، حضرتِ ابرا ہیم علیہ السلام ، حضر ت مو سیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، اور حضر ت محمد مصطفےٰ ۖ ہیں، ان ہی پا نچوں حضرات کو قر آن کریم نے اولو االعزم پیغمبر کے نا م سے یا د کیا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(فَا صْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ۔۔۔)(١)
..............
١۔سو رئہ احقاف آیت٣٥۔
'' پس ( اے رسول ) جس طرح اولواالعزم( عالی ہمت ) انبیاء صبر کر تے رہے تم بھی صبر کرو ''۔
علامہ طبا طبائی کی نظر میں یہ پانچ او لو االعزم پیغمبر وہ ہیں جن میں ہر ایک مند رجہ بالا خصو صیات کے علاوہ اپنے زمانہ میں پوری دنیا کے لئے رسول رہا ہے اور ان کی دعوت کسی خاص گروہ سے مخصو ص نہیں رہی ہے اس کے بر خلاف بقیہ تمام انبیا ء علیہم السلام ہیںجو ایک مخصو ص گرو ہ کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ علامہ طبا طبا ئی نے مندر جہ بالا دعوے کو ثابت کر نے کے لئے قرآنِ کریم کی آیات شا ہد میں پیش کی ہیں ۔ (١) یہا ں یہ با ت بھی قا بلِ ذکر ہے کہ ان پانچ افراد کو بعض روا یتو ں میں بھی او لو االعزم انبیاء علیہم السلام کے نا م سے یا د کیا گیا ہے اور ان کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔(٢)

کیا اولو ا العزم انبیا ء علیہم السلام ہی صا حبا نِ کتاب و شریعت ہیں ؟ جیسا کہ بیان کیا گیا اس میں کو ئی شک نہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے ایک گرو ہ کو قر آن کریم نے اولو ا العزم انبیاء علیہم السلام کے نا م سے یا د کیا ہے اور سورئہ احقا ف میں(فَاصْبِرْکَمَا صَبَرَ اُوْلُوْاالْعَزْمِ مِنَ الرُّ سُلِ )اس مسئلے پر واضح طور سے دلا لت کر تی ہے لیکن کسی بھی قطعی دلیل کے ذریعہ پتہ نہیںچلتا کہ یہ او لوا العزم انبیاء علیہم السلام کو ن سے انبیاء علیہم السلام ہیں ؟ آیا یہ او لو ا العزم انبیا ء وہی انبیاء علیہم السلام ہیں کہ جن پر آسمانی کتا بیں نا زل ہو ئی ہیں ؟ یا او لو االعزم ا نبیاء علیہم السلام سے مراد رسو لو ں کا وہ گروہ ہے جوصا حبِ شریعت ہے ؟ یہ وہ سوا لات ہیں جن کے جوا بات کے لئے ہمارے پاس کو ئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ دو سرے الفاظ میں قر آن کریم کی کوئی آیت یا توا تر کے ساتھ منقو ل کو ئی بھی روایت ایسی نقل نہیں ہو ئی ہے جس سے یہ معلوم ہو تا ہو کہ صرف پانچ انبیاء علیہم السلام (یعنی حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابرا ہیم علیہ السلام ، حضرت مو سیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفےٰ) ہی صا حبا ن کتاب و شریعت ہو ئے ہیں ۔البتہ جیسا کہ ہم پہلے اشا رہ کرچکے ہیں بعض روایات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اولو االعز م انبیاء علیہم السلام صرف یہی پانچ ا نبیاء علیہم السلام ہیں لیکن یہ روا یات حدّ توا تر تک نہیں پہنچتیں اس بنا پر ان
..............
١۔رجوع کیجئے : سید محمد حسین طبا طبائی ، المیزا ن فی تفسیر القر آن انتشا را ت اعلمی جلد ٢ صفحہ ١٤١ و ١٤٢ ۔)
٢۔ نمونہ کے طور پر ملا حظہ کیجئے ، کلینی کی الا صو ل من الکا فی ، کتاب الحجة باب طبقات الا نبیاء والرّسل والا ئمہ حدیث ٣ ۔ علامہ طبا طبائی رحمة اﷲ علیہ کے بقول کہ او لو ا العزم پیغمبر پا نچ افراد ہیں اس مطلب پر روایت حد مستفیض پر دلا لت کر تی ہیں ۔ ملاحظہ ہو المیزان جلد ٢ صفحہ ١٤٥ ، ١٤٦ اور جلد ١٨ صفحہ ٢٢٠ ۔
کو دلیل ظنی شما ر کیا جاتا ہے دلیل قطعی نہیں ہیں۔ ان مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا تا ہے کہ اگر ہم کو کو ئی ایسی آیت یا روایت ملے جو اس چیز پر دلالت کر ے کہ او لو االعزم ا نبیاء علیہم السلام صا حبا نِ کتاب و شریعت ان پانچ انبیا ء سے زیادہ ہیں تو وہ دلیل کسی معا رض کے بغیر قا بل قبول ہوگی اور اس کے مطالب کی تصدیق کی جا سکتی ہے ۔ بہر حال اس وقت یہی کہا جا سکتا ہے کہ صا حبا نِ کتاب و شریعت ا نبیاء علیہم السلام کوان پا نچ انبیا ء علیہم السلام میں منحصر کر نادلیلِ ظنی کے تحت ہے اور اس کا اظہا ر صرف بعض روایات سے ہو تا ہے ۔

صا حبانِ کتا ب او لو االعزم ا نبیاء علیہم السلام کی رسالت کا دا ئرہ اب سوا ل یہ ہے کہ آیا او لو ا العزم انبیاء علیہم السلام کی رسالت (چا ہے وہ پا نچ افراد ہو ں یا زیادہ ) ساری دنیا کے لئے تھی یا ان میں سے ہر ایک نبی کسی خا ص قو م کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا تھا؟ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشا رہ کرچکے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر اسلام ۖکی رسالت پوری دنیا کیلئے تھی لیکن دوسرے اولوا العزم انبیاء علیہم السلام کے بارے میںکیا کہا جائے ؟ اس سوال کے جواب میں اسلامی دانشمندوں نے دو بنیادی نظر یے پیش کئے ہیں :
الف:اولوا العزم انبیاء علیہم السلام کی رسالت عا لمی رسالت نہیں تھی یعنی پور ی دنیا کے لئے وہ رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے مثال کے طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام صرف بنی اسرائیل کیلئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور ان کی دعوت اسی قوم سے مخصوص تھی ۔بعض آیات سے بھی ان کے اس دعوے کی تائید ہوتی ہے
( وَ رَسُوْلاً اِلَیٰ بَنِیْ اِسْرَا ئِیْلَ ۔۔۔)(١)
''اور (عیسیٰ کو )رسو ل کے عنوان سے بنی اسرا ئیل کی طرف بھیجے گا ''
(وَاِذْ قَالَ عِیْسَیٰ ابْنُ مَرْیَمَ یَٰبَنِیْ اِسْرَا ئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ اِلَیْکُمْ ۔۔۔)(٢)
''اور جب عیسیٰ بن مر یم نے کہا اے بنی اسرا ئیل میں تمہا رے پاس خدا کا بھیجا ہوا (آیا) ہوں ''۔(٣)
مندجہ بالا آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انبیاء علیہم السلام کی رسالت پوری دنیا کیلئے نہیں تھی اس بناء پر ایک
..............
١۔سورئہ آلِ عمران آیت٤٩۔
٢۔سورئہ صف آیت٦۔
٣۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میںبھی بہت سی آیات ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ خاص بنی اسرائیل کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے مثال کے طور پر سورئہ اسراء کی دوسری آیت میں ارشاد خداوندی ہے :
(وَآتَیْنَا مُوْسَیٰ الْکِتَابَ وَجَعَلْنَاہ ھُدیً لِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔۔۔)''اور ہم نے موسیٰ کو کتاب(توریت)عطا کی اور اسکو بنی اسرائیل کا رہنما قرار دیا ۔۔۔'' اسی طرح ملاحظہ فرمائیں سورئہ اسراء (آیت١٠١)سورئہ طہ آیت٤٧،سورئہ شعراء آیت ١٧۔اور سورئہ غا فر آیت٥٣۔
پیغمبر کے آسمانی کتاب کے حا مل ہونے اور اس کے عا لمی ہو نے کے مابین کوئی لزو م نہیں پایا جاتا ۔
ب۔دوسرے نظریہ کی بنیاد پر اولوا العزم انبیاء علیہم السلام اور صاحبان کتاب دو طرح کے تبلیغی فرائض انجام دیتے تھے ۔
١۔خدا کی عبادت ،توحید اور شرک نہ کرنے کی دعوت ۔
٢۔ایک خاص شریعت اور احکام کی دعوت ۔پہلی دعوت پوری دنیا کیلئے تھی اس کے برخلاف دوسری دعوت ایک خا ص قوم سے مخصوص تھی مثال کے طور پر آیات قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو پیغام توحید کے ساتھ شرک نہ کرنے کی دعوت دی تھی اور اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اپنے اعتقادی پہلو سے فرعون اور فرعونیوں کے لئے بھی شامل تھی حالانکہ ان کا بنی اسرائیل میں شمار نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کے مصر سے خارج ہونے اور ان کے اس سرزمین میں پہنچنے کے بعد کہ جس کا خدا نے حکم دیا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کچھ تختیاں نازل ہوئیں ان الواح پر وہ احکام درج تھے جو قوم بنی اسرائیل سے مخصوص تھے اس میںدوسرے قبیلوںاور قوموں کو خطاب نہیں کیا گیا تھا ۔
اس خیال کی بنیاد پر حامل کتاب انبیاء علیہم السلام ایک طرف تو دعوت عام کے تحت پوری دنیا کو توحید یعنی خدائے لاشریک کی عبادت کی دعوت دیا کرتے تھے اور دوسری طرف اپنی قوم والوں کو مخصوص احکام و شرائع کی دعوت دیا کرتے تھے اور قوم پر ان احکام کی اطاعت واجب تھی ۔
یہ دونوں نظریے اس باب میں بیان کئے گئے تمام نظریوں میں سب سے اہم نظریے ہیں۔ ان نظریوں کے تنقید ی جائزے اور اپنی رائے کے اظہار سے پہلے تمہید کے طور پر چندمقدموں کا بیان کردینا ضروری ہے ۔



18
ادیان الٰہی ایک ہیں یا کئی؟ راہ اور رہنما کی پہچان

ادیان الٰہی ایک ہیں یا کئی؟ پہلا مقدمہ دینوں اور شریعتوں کے اختلافات کے بارے میں ہے ۔گذشتہ بحثوں میں یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ اصولی طور پر تمام ادیان اور آسمانی شریعتیں اس طرح ایک ہی دین میں پروئے ہوئے ہیں کہ ان کو متعدد ادیان شمار نہیں کیا جاسکتا ۔اب ممکن ہے کوئی کہے بہر حال آسمانی ادیان میں کچھ جزئی اختلافات دیکھنے میںآتے ہیں جن کا کسی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا اور ان اختلافات کو دیکھتے ہوئے آسمانی ادیان کے ایک ہونے کا دعویٰ کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں پہلے ادیان کے مابین ایک دوسرے سے اختلاف کی کیفیت کا جا ئزہ لیں اور اسکے بعد یہ دیکھیں کہ کیا یہ اختلافات خدا کے ادیان کی اصل روح میں بھی اختلاف کا باعث ہیں یا نہیں؟در اصل ادیان حق کے مابین جو اختلافات قابل تصوّر ہیں تین حصّوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں ۔
الف :پہلے حصے میں وہ فرق آتے ہیں جو دو ادیان کے احکام کے دائرے میں اختلاف کا نتیجہ ہیں :
ممکن ہے ایک دین کی آسمانی کتاب کے احکام و قوانین کا دائرہ دوسرے دین کی آسمانی کتاب کے دائرے سے زیادہ وسیع ہو۔اس صورت میں ہم کو کچھ ایسے احکام نظر آئیںگے جو ایک دین میں تو بیان کئے گئے ہیں لیکن دوسرے دین میں ان کا کوئی نا م و نشان بھی نہیں ہے ۔یہ اختلاف شاید دو امتوں کے درمیان ان کے پیچیدہ قسم کے معاشرتی روابط میں موجود اختلافات کا نتیجہ ہو بعض معاشرے سماجی طور پر سادہ زندگی بسر کیا کرتے تھے اور ان کے افراد کے درمیان معاشرتی روابط میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں تھی ۔ظاہر ہے اس طرح کے معاشرہ میں مخصوص معاشرتی قوانین بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی اور پیغمبر کے ذریعے اس طرح کے احکام کا بھیجا جانا بھی بیکار تھا۔ اسکے مقابل کچھ معاشرے بہت ہی پیچیدہ قسم کے معاشرتی امور میں الجھے ہوئے تھے اور یہ حقیقت اس بات کی متقاضی تھی کہ ان کیلئے مخصوص احکام و قوانین بنائے جائیں ۔اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غالباً اس قسم کے اختلاف کی ایک دلیل مختلف امتوں اور معاشروں کا اپنی ساخت کے اعتبار سے مختلف ہونا رہا ہو جو اپنی جگہ خود شریعت اور معاشرتی احکام کے دائرہ میں شریعتوں کے اختلاف کا سبب ہوئے ہوں البتّہ جیسا کہ ہم نے اپنی تحریر میں زور دیا ہے یہ بات صرف احتمال کے طور پر پیش کی گئی ہے جو پہلی قسم کے اختلاف کی دلیل کے عنوان سے ذہن میں آتی ہے۔
ب:اختلاف کی دوسری قسم ان امور سے تعلق رکھتی ہے جہاں شرعی حکم کے طورپر ایک دین میں بیان کیا ہوا قانون اور حکم دوسرے دین میں نسخ کردیا گیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے امور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی موسوی شریعت کے زمانہ میں بنی اسرائیل پر حرام تھے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں حلال ہوگئے ۔ دوسرے لفظوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے بعض احکام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آئین و شریعت میں منسوخ کردیئے گئے قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی، جب آپ بنی اسرائیل کے درمیان مبعوث کئے گئے ،فرماتاہے: (۔۔۔ وَلِاُُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔۔۔)(١)
''۔۔۔اورمیں بعض ان چیزوں کو حلال قرار دوگاں جو تم پر حرام تھیں ۔۔۔''۔
اس طرح گذشتہ شریعت کے بعض احکام کا نئی شریعت میں نسخ کردیا جانابھی دو شریعتوں میں ایک قسم کے اختلاف کا باعث بنا ہے ۔
ج:اختلاف کی تیسری قسم ایسے مقامات سے تعلق رکھتی ہے جہاں کسی دین میں ایک حکم بنیادی طور پر جس وقت
..............
١۔سورئہ آلِ عمران آیت٥٠۔
بیا ن کیا گیاہے اسی وقت سے اس کو ایک خاص گروہ یا خاص قوم سے اس طرح مخصوص کردیا گیا ہوکہ حتّیٰ اس حکم میں خود اس قوم کے معاصر دوسرے گروہوں یا قوموں کو شامل نہ کیا گیا ہو۔چنانچہ بنی اسرائیل پر حرام کی جانے والی بعض چیزیں اسی قسم کی تھیں :
( فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُواحَرَّمْنَاعَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ ُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ کَثِیرًا۔وََخْذِہِمُ الرِّبَاوَقَدْ نُہُواعَنْہُ وََکْلِہِمْ َمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وََعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْہُمْ عَذَابًاَلِیمًا )(١)
''پس ان یہو دیو ں کے ظلم کی بنا ء پر ہم نے جن پا کیزہ چیزو ں کو حلال کر رکھا تھا ان پر حر ا م کر دیا اور ان کے اکثر لو گو ں کو را ہِ خدا سے رو کنے کی بنا پر اور سود لینے کی بناء پر جس سے انھیں روکا گیا تھا اور ناجائز طریقہ سے لوگوںکا مال کھانے کی بناء پر(حلال چیزیں حرام کر دیں) اور ہم نے کافروں کے لئے بڑا دردناک عذاب مہیا کیا ہے ''۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ان آیات میں بظاہر (من الذین ھادوا )سے یہ پتہ چلتاہے کہ بعض حلال امور کا حرام کہا جانامخصوص طور پر بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے درمیان عام طور پر رائج بعض گناہ(جیسے ظلم و ستم کرنا اور سود لینا)اس کا سبب بنے تھے ۔اس بناء پراگر اسی زمانہ یا اس کے بعد والے زمانوں میں کوئی پیغمبر کسی دوسری قوم میں مبعوث کیا جائے گا تو اس کی شریعت میں یہ چیز حرام نہیں ہوگی ۔
یہاں یہ بات بیان کردینا ضروری ہے کہ اختلاف کی آخری دو قسموں کے درمیان بہت باریک سا فرق ہے۔دوسری قسم کے اختلافا ت ہمیشہ دو مختلف زمانوں کے لحاظ سے رو نما ہوئے ہیں کیونکہ اس کے ذیل میںبھی وہ مقامات آتے ہیں کہ جہاں ایک حکم کسی مخصوص شریعت میں ایک خاص زمانہ کیلئے بنایاجاتاہے اور کچھ مدت گذرجانے کے بعدوہ حکم دوسری شریعت میں منسوخ ہوجاتاہے لیکن تیسری قسم کا اختلاف ایک زمانہ میں بھی اس طرح واقع ہوسکتا ہے کہ فرض کیجئے دو شریعتیں ایک دوسرے کی معاصرہیں اور ان میں سے ایک شریعت میں ایسا حکم موجود ہے جو کسی ایک قوم سے مخصوص ہے لیکن دوسری شریعت میں (جو دوسری قوم کیلئے نازل ہوئی ہے )وہ حکم نہیں پایا جاتابہر حال یہ جو کچھ میں نے عرض کیا وہ مختلف طریقوں سے ادیان الٰہی کے درمیان ممکنہ یاواقعی اختلاف کی قسمیں ہیں اور اس مقام پر دو نکتوں کی طرف توجہ لازم ہے :
..............
١۔سورئہ نساء آیت ١٦٠۔١٦١۔
ایک :جیسا کہ غور و فکر سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ مختلف شریعتوں میں بیان شدہ تمام اختلافات مشیّت الٰہی کے تابع ہیں اور ان میں حقیقی مصلحتیں پائی جاتی ہیں جو مختلف قوموں کے درمیان موجود مخصوص حالات اور خصوصیّات کے تحت ہیں۔دوسرے لفظوںمیں یہ اختلافات امتوں پرزبر دستی نہیں لادے گئے تھے اور نہ ہی شارع مقدّس کے دائرہ ارادہ سے خارج تھے ۔
دو :ادیان الٰہی کے پیرؤوں کے درمیان کچھ اختلافات ان تحریفات کی وجہ سے وجود میں آئے ہیںجو خود آسمانی شریعتوں کے طرفداروں نے تاریخ کے طویل دور میں انجام دئے ہیں چنانچہ ہم نے اس سے قبل جو تقسیم بندی کی تھی اس میں اس طرح کے اختلافات کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے ۔

دین کے اندر اختلافات اب یہ دیکھنا چاہیے کہ مندرجہ بالا اختلاف کی تینوں قسمیں کیا ایک ہی دین میں راہ بنا سکتی ہیں الٰہی ادیان میں اختلاف کی پہلی قسم دینی احکام و قوانین کے دائرے میں اختلاف سے تعلق رکھتی ہے اور بظاہر اس طرح کے اختلاف ایک ہی دین میں پایا جاناممکن ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر اکرم ۖ کی بعثت کی ابتداء میں تمام احکام ایک ساتھ نازل ہوئے ہیں بلکہ اسلامی احکام بعثت کے بعد کئی سال کے دور ان پہنچائے گئے ۔ پیغمبر اکرم ابتداء میں محدود دائرے میں کچھ احکام لیکر آئے تھے اور پھر ان احکام میں آہستہ آہستہ قدم بہ قدم وسعت عطا کی ہے ۔اس تاریخی حقیقت کے پیش نظر ممکن ہے کہ ایک دین کے احکام کا دائرہ اس دین کے لا نے والے پیغمبر کی زندگی کے دوران دو مختلف مرحلوں سے گذرے :
ایک مرحلہ میں دائرہ احکام محدود ہوا اور دوسرے مرحلہ میں دائرہ احکام وسیع اور پھیلاہوا ہو ۔
یہاں پہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس طرح کا اختلاف ایک دین کو کئی ادیان قرار دینے کا باعث نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے الٰہی ادیان میں اس قسم کے اختلاف کو خدا کے دین میں بنیادی دوئی اور کثرت کی دلیل اور علامت نہیں سمجھناچاہئے ۔دوسرے لفظوں میں جس طرح یہ اختلاف اندرونی طورپر (اسلام جیسے)ایک دین میں ممکن ہے اس طرح کے اختلاف اگر دودین کے اندر ہوں تو اس کو ان کے درمیان کسی بنیادی اختلاف کی دلیل نہیں بنا یا جاسکتا ۔
دوسری قسم کے اختلاف میں بھی یہی بات صادق آتی ہے ۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اسلام کے آغاز میںبعض احکام (جیسے قبلہ کا مسئلہ )ایک عنوان سے بیان کیاگیا اور اسکے بعد وہ حکم منسوخ کرکے دوسرا حکم دیدیا گیا اسی طرح سورئہ نور میں اکثر مفسرّین قرآن کے خیال کے مطابق ایک ایسا حکم بیان ہوا ہے جو بعد میں منسوخ کردیا گیا :
(اَلزَّانِیْ لَا ینْکِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّا نِیَةُ لَا یَنْکِحُھَااِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِک وَحُرِّمَ ذَالِکَ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ)( ١)
''زانی مرد، زانیہ یا مشرکہ عو رت ہی سے نکا ح کر ے گا اور زانیہ عو رت زانی مرد یا مشرک مرد ہی سے نکا ح کرے گی کہ یہ صا حبانِ ایمان پر حرام ہیں ''۔
اکثر مفسروں کے عقیدے کے مطابق مندرجہ بالا آیت سے ایک مسلمان زانی یا زانیہ کا کسی مشرک کے ساتھ شادی کرنا جائز ہے لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیااور موجودہ حکم شرعی کے تحت اس طرح کی شادی صحیح نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی بیان کردینا ضروری ہے کہ عصر حاضر کے بعض بزرگوں نے اس آیت کی ایک دوسرے طریقہ سے تفسیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آیت میں حکم شرعی بیان نہیں ہوا ہے لیکن حق یہی ہے کہ یہ آیت حکم شرعی کے بیان میں ظہور رکھتی ہے یعنی بظاہر اس میں شرعی حکم بیان ہوا ہے ۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے بعض ابتدائی احکام منسوخ بھی ہوئے ہیں ۔اس بناء پر خود ایک شریعت کے اندر نسخ واقع ہونا ایک ممکن امر ہے اور اس شریعت کی وحدت کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔اگر کسی شریعت میں کوئی حکم خدا ایک مدت تک ثابت رہے اور اسکے بعد منسوخ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شریعت ہی بدل گئی ہے ۔اس بناء پر جس طرح ایک دین کے اندر کسی حکم کامنسوخ ہونا کسی شریعت یا دین کے منسوخ ہونے کا باعث نہیں ہوتا اسی طرح کسی پیغمبر کے ذریعہ ایک الٰہی دین کے گذشتہ احکام کا منسوخ کیا جانا ان دونوں شریعتوں میں کسی بنیادی اختلاف کی دلیل نہیں کہاجائے گا۔مثال کے طور پر یہ حقیقت کہ حضرت عیسیٰ کے آنے کے بعد حضرت موسیٰ کی شریعت کے بعض احکام منسوخ ہوگئے بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے مذکورہ احکام خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور حیات میں منسوخ ہوگئے ہوں اور ان دونوں مفروضوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے مختصر یہ کہ دو شریعتوں میںاختلاف کی یہ دوسری قسم بھی (پہلی قسم کی طرح)بنیادی طورپر کئی ادیان ہونے کا باعث نہیں ہے ۔اب اختلاف کی تیسری قسم کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟کیا اختلاف کی یہ قسم بھی کسی دین کے اندر واقع ہوئی ہے ؟ اسکے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہ ظاہر اس طرح کا اختلاف ایک دین کے اندر ممکن ہے اور اس میں کوئی عقلی قباحت نہیں ہے یعنی ممکن ہے ایک شریعت کے بعض احکام کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھتے ہوں اور بقیہ تمام احکام عام ہوں۔
بیان شدہ مطالب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مختلف ادیان الٰہی کے درمیان موجود اختلافات کو ایک ہی دین میں
..............
١۔سورئہ نور آیت٣۔
اس کے مشابہ اختلافات کے وقوع یا امکان وقوع کی بنیاد پر ان کی ذات میں جدائی کا باعث نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ اس اساس و بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ حقیقی دین ایک ہی ہے اوروہ اسلام کے علاوہ کچھ نہیں ہے لیکن زمانے کے تقاضوں کے اعتبار سے ان کے احکام کے دائرے اور ان پر عمل کرنے والوں کے لحاظ سے تبدیلی ہوئی ہے ۔اس بناء پر تمام ادیان الٰہی کی اساس و بنیاد ایک ہے اگر چہ زیر بحث اختلافات کی موجود گی کے تحت ایک طرح سے ادیان الٰہی کا کئی یاالگ الگ دین ہونا نظر میں رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ حقیقت دین ایک ہی ہے اور یہ حقیقت واحدہ وہی اسلام (اپنے معنائے عام میں )ہے:(اِنَّ الدِیْنَ عِنْدَاﷲِالِاسْلَامُُ) لیکن تاریخ کے طویل دور میں زمانہ کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف شریعتیں انسانوں کے درمیان نازل ہوئی ہیں۔اس بناء پر دین الٰہی کا ایک ہونا شریعتوں کے کئی ہونے کے ساتھ بالکل سازگار ہے۔

عا لمی رسالت کا مفہو م اولو االعزم انبیاء علیہم السلام کی رسالت کے عالمی ہو نے کے مسئلہ کا جوا ب عرض کر نے سے پہلے ایک اور بات مقدمہ کے طور پر بیا ن کر دینا ضرو ری سمجھتا ہو ں وہ یہ کہ رسالت کے جہا نی ہو نے سے مراد کیا ہے ؟اگر کسی بھی صو رت سے تما م قو مو ں سے رابطہ اور ملتو ں سے رابطہ بر قرار کر کے ان تک خدا کا پیغام پہنچانا ایک رسو ل کے فر ائض میں شا مل ہو تو اس کو عالمی رسالت کا حا مل رسو ل کہا جاتا ہے۔ اس کے با لمقابل ایک پیغمبر کی رسا لت اس وقت تک عالمی نہیں ہو گی کہ جب تک پوری دنیا تک اپنی دعوت پہنچانا ا س کے فر ائض میں شا مل نہ ہو بلکہ وہ ایک خا ص قوم کے لئے مبعوث کیا گیا ہو، یقینا ایک پیغمبر کے تمام لو گو ں کے لئے مبعوث نہ کئے جا نے کی مختلف وجہیں ہو سکتی ہیں :
ایک دفعہ ممکن ہے تمام قو مو ں سے رابطہ بر قرار کر نے کے مروجہ وسا ئل اس کے پا س نہ ہو ں، یا پیغمبر کے اختیار میں اصو لی طور پر اس طرح کا فریضہ انجام دینے کے لئے مو قع نہ ہو ۔ سب جا نتے ہیں کہ گز شتہ زما نوں میں دور دراز علا قو ں سے رابطہ بر قرار کر نا آسان کام نہیں تھا اور بعض دور دراز ملکو ں کا سفر کر نا عام طور پر ایک غیر ممکن امر شمار کیا جا تا تھا ۔ظا ہر ہے ایسے حا لات میں جبکہ سفر کے وسائل بالکل ابتدا ئی تھے اور ایک شخص کے لئے پو ری دنیا سے رابطہ بر قرار کر نے کا امکان نہیں تھا ۔
ممکن ہے کو ئی کہے اگر چہ گز شتہ زما نوں اور دور دراز علا قو ں سے عام طور پر رائج طریقو ں سے رابطہ بر قرار کر نا ممکن نہ رہا ہو لیکن الٰہی انبیاء علیہم السلام کے لئے کسی غیر معمو لی طریقے ، مثلاً معجزہ وغیرہ سے کام لیکر اس کام کا انجام دینا مسلم طور پر ممکن تھا ۔ ا س کے جوا ب میں اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ تا ریخی شو ا ہد کی روشنی میں انبیاء علیہم السلام کی روش یہ رہی ہے کہ اس طرح کے مو قعو ں پر وہ غیرمعمولی طریقے یعنی معجزے وغیرہ سے کام نہیں لیتے تھے۔ خدا کے پیغمبر مخصوص مقا مات پر ہی معجزہ دکھا نے کا اقدام کیا کر تے تھے اور یہ مقا مات بھی صرف ان کی رسالت اور دعوتِ تبلیغ کے الٰہی ہو نے کی تائید سے تعلق رکھتے ہیں دعوت تبلیغ میں آسانی کے لئے وہ اعجاز کا سہا را نہیںلیتے تھے ۔
بہر حال یہ بات مسلّم ہے کہ تمام قو موں اور ملّتوں کے ساتھ رائج طریقہ سے رابطہ بر قرار کر نا تمام انبیا ء کے لئے ممکن نہیں تھا اور بظا ہر دنیوی وسائل سے ما فوق غیر معمو لی طریقوں سے استفا دہ کرنے پر وہ ما مور بھی نہیں تھے ۔ مذ کو رہ مفہو م کی بنیاد پر یہ ادّعا کیا جا سکتا ہے کہ صرف پیغمبر اسلا م ۖ کی رسالت پو ری دنیا کے لئے عا لمی رسالت تھی اور آپ اپنی دعوتِ تبلیغ میں غیر عرب اقوام تک الٰہی پیغام پہنچا نے کے لئے ما مور کئے گئے تھے لیکن بقیہ تمام انبیاء کی رسالت بظاہر عا لمی رسالت نہیں تھی ۔
یہا ں ، چند با توں پر تو جہ ضر وری ہے :
پہلی بات یہ کہ جن قو مو ں میں تبلیغ کے لئے پیغمبر بھیجے گئے تھے ان سے مراد قو مو ں کی ایک ایک فرد نہیں بلکہ جو کچھ ان سے توقع تھی نیز جو چیز پیغمبر کے فرا ئض میں شا مل تھی اپنا پیغام قو مو ں کے سردار تک پہنچا دینا رہا ہے ۔
دوم یہ کہ تبلیغ رسالت کی ذمہ داری چا ہے پیغمبر اکرم ۖکے دور حیات میں پو ری ہو یا اُنکی وفا ت کے بعد آپ کی وفا ت کے بعد آپکے او صیاء یعنی ائمہ معصوم کے ذریعہ پو ری ہو دو نوں کو شا مل ہے۔
سوم یہ کہ پیغمبر اکرم ۖ کا اپنی عمو می اور عالمی رسالت پر فا ئز ہو نا اس معنی میں نہیں ہے کہ اب اس کا م کی راہ میں حا ئل تمام عملی رکا وٹیں بر طرف ہو گئی ہیں بلکہ بہت سے مقا مات پر آپ کو تبلیغ میں رکاوٹوں کا سامنا کر نا پڑتا تھا اور ایسی صورت میں مسلمہ طور پر پیغمبر اکرم ۖ کے کا ندھو ںسے اس کی ذمہ داری اٹھا لی گئی ہے ۔

تمام الٰہی انبیاء علیہم السلام پر ایمان ضروری ہے ہم عرض کر چکے ہیں کہ تا ریخی شوا ہد کے مطابق پیغمبر اکرم ۖ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام کی رسالت عا لمی نہیں تھی لیکن اس بات کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر ان انبیاء کی قو مو ں کے علا وہ کو ئی شخص ان کی دعوت سے آگا ہ ہو جا ئے تو اس کے لئے اس دعوت سے انکا ر جا ئز ہو ۔ جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ''راہ کی معر فت ''میں بحث کے آخری حصے میں عرض کیا تھا کہ نبو ت ایک الٰہی سلسلہ ہے اور ہر مو من کے لئے تمام انبیا ء علیہم السلام پر ایمان لا نا ضروری ہے اس با رے میں قر آ ن کریم فرماتا ہے :
(ئَ ا مَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ وَالْمُؤْ مِنُوْ نَ کُُلّ ئَ ا مَنَ بِاﷲِ وَمَلٰئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہِ۔۔۔)(١)
'' رسول ان تمام با توں پر ایمان رکھتا ہے جو اس(خدا ) کی طرف نا زل کی گئی ہیں او رمو منین بھی سب اﷲ اور ملا ئکہ اور مر سلین پر ایمان رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم رسو لوں کے درمیان تفر یق نہیں کر تے ۔۔۔''۔
اس بناء پر اگر کوئی کسی کو کسی پیغمبر کی رسالت کا علم دے اوروہ اس پیغمبر کی رسالت پر ایمان نہ لائے توگویا اس نے تمام انبیاء علیہم السلام کی رسالت کا انکار کردیا ہے ۔یہ حکم اسی طرح ان افراد کے لئے بھی ہے جو کسی نبی کی قوم میں شمار نہیں ہوتے یعنی جس قوم کے درمیان پیغمبر مبعوث کیاگیا ہے ۔ان میں نہیں ہیں مثال کے طور پر چین میں زندگی بسر کرنے والا اگر اس بات سے باخبر ہوکہ مشرقی وسطیٰ میں اس علاقے کی قوموں کیلئے ایک پیغمبر مبعوث ہواہے تو اس پر اس پیغمبر اکرم ۖ کی دعوت کاقبول کرنا لازم ہے۔
اب ممکن ہے یہ سوال پیدا ہوکہ مذکورہ اصول کے تحت ایک شخص جو دو پیغمبروں کے دور حیات میں زندگی بسر کررہا ہو اگر دونوں پیغمبروں کی رسالت سے آگاہ ہوجائے اور ان دونوں پیغمبروںکی شریعت کے بعض احکام میں اختلاف بھی پایا جاتاہو توایسے میںاس شخص کا کیا فریضہ ہے ؟اس سوال کے جواب میں کہناچاہیے کہ:اگر بالفرض دو ہم عصر انبیاء علیہم السلام کے درمیان اختلاف ہو تو یہ اختلاف صرف اسی صورت میں قابل تصور ہے کہ ان دونوں میں سے ایک پیغمبر کسی خاص گروہ کیلئے خاص احکام لیکر مبعوث ہواہو اس صورت میں اگر منظور نظر شخص مذکورہ گروہ سے الگ ہو(جیسا کہ کچھ خاص احکام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں صرف قوم یہود سے مخصوص تھے)تو اس پر ان مخصوص احکام کا بجالانا لازم نہ ہوگا مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی غیر یہودی شخص اگر آنحضرت کی رسالت سے با خبر ہوجائے تواس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن اس شخص پر یہودی قوم سے مخصوص احکام پر عمل کرنا لازم نہیںہے جبکہ اس پر بقیہ تمام احکام وقوانین کی اطاعت لازم ہے ۔
قرآن کریم کی آیات کے مطابق اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جنوںکا ایک گروہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیااور اسکے بعد حضرت رسول خدا ۖ کی رسالت کا علم ہوجانے کے بعد انھوں نے دین اسلام کو قبول کرلیا ۔ حالانکہ ہمارے پاس کوئی دلیل ایسی نہیں ہے جو اس چیز پر دلالت کرتی ہوکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جنوں کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے تھے ان کا ایک گروہ توریت کے نازل ہونے کی خبر ملنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام پرایمان
..............
١۔سورئہ بقرہ آیت ٢٨٥۔
لے آیا۔ قر آن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَاِذْصَرَفْنَااِلَیْکَ نَفَراًمِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرآنَ فَلَمّٰاحَضَرُوْہُ قَالُوْاأنْصِتُوافَلَمَّاقُضِیَ وَلَّوْااِلَیٰ قَوْمِھِمْ مُنْذِرِیْنَ٭قَالُوْایَٰقَوْمَنَااِنَّاسَمِعْنٰا کِتَاباً اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسَیٰ مُصَدِّقاً لِمَابَیْنَ یَدَیْہ یَہدِیْ اِلیٰ الحَقِّ وَاِلَیٰ طَرِیقٍ مُسْتَقِیْمٍ)(١)
''اور جب ہم نے جنات سے ایک گروہ کو آپ کی طرف متوجہ کیا کہ قرآن سنیں تو جب وہ حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ خاموشی سے سنو پھر جب تلاوت تمام ہوگئی تو فوراً پلٹ کر اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر آگئے کہنے لگے کہ اے قوم والوہم نے ایک کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے یہ اپنے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور حق و انصاف اور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والی ہے ''۔
جنوں نے یہ جو کہا ہے کہ:''مِنْ بَعْدِ مُوسَیٰ''''موسیٰ کے بعد''اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا درمیان میں کوئی ذکر نہ کرنا بتاتا ہے کہ ابھی تک وہ (جن)حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کررہے تھے اور قرآن سے آشنا ہوجانے کے بعد انھوں نے اپنی قوم کے پاس جاکران کو اسلام کی دعوت دی۔سورئہ مبارکہ جن میں بھی اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے:
(قُلْ اُوحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَر مِنَ الجِنِّ فَقَالوُااِنّاسَمِعْنَاقُرْآناًعَجَباً۔یَہْدی اِلیَ الرُّشْدِ فَآمَنَّابِہِ۔۔۔)(٢)
''پیغمبر اکرم آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر قرآن کو سنا توکہنے لگے کہ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی ہدایت کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔۔۔''۔
بہر حال یہ آیتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ اگر کوئی مکلّف کسی پیغمبر کی رسالت سے باخبر ہوجائے تو اس کو اس
پیغمبر ۖکی رسالت قبول کرنا چاہئے چاہے وہ پیغمبر اس قوم کی طرف مبعوث نہ کیاگیا ہواور رسالت قبول نہ کرنے کے بعد اس پیغمبر کی تعلیمات کو بھی صحیح سمجھے اور اس کے عام احکام کی (جو کسی قوم یا گروہ سے مخصوص نہ ہوں ) اطاعت و پیروی کرلے ۔
..............
١۔سورئہ احقاف آیت٢٩۔٣٠۔
٢۔سورئہ جن آیت١۔٢۔
البتہ الٰہی انبیاء کی رسالت کے پیغامات پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کسی قوم یا گروہ کے لئے مخصوص احکام انگلیوں پر گنے چنے ہی ملیں گے۔مجموعی طور پر انبیاء کی تعلیمات کی روح سبھی کے لئے مشترک احکام اور اصول پر استوار ہوتی تھی ۔
مثال کے طور پر نماز اور زکوٰة کی مانند عبادتیں تمام ادیان میں تھیں اور ان میں زیادہ سے زیادہ اختلاف ان اعمال کی شکل و صورت میں رہاہے اسی طرح دوسرے احکام جیسے ظلم اور زیادتی کرنے کم تولنے،غیبت کرنے ،شراب پینے زنا کرنے وغیرہ کی ممانعت اور معاشرتی اور خاندانی تعلقات سے متعلق قوانین تمام دینوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔
بہر حال مندرجہ بالامطالب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک پیغمبر کی رسالت کے عالمی ہونے کا مسئلہ اور یہ کہ علم کی صورت میں ایک پیغمبر کی رسالت پر پوری دنیا کا ایمان لانا ضروری ہوتا یہ دو الگ الگ مسئلے ہیں اور ایک دوسرے سے جداہیں اس بناء پر بہت سے انبیاء کی رسالت کے عالمی رسالت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عوام الناس ان کی تائید یا تکذیب کے سلسلے میں آزاد و خود مختار ہوںبلکہ اگر کسی پیغمبر ۖکی رسالت پر ایمان لاناہر مکلّف کا فریضہ ہے اور نبی کی تکذیب کی صورت میں اسکا عذر ہرگز قابل قبول نہیں ہے ۔
ہم پہلے یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض انبیاء علیہم السلام کے فرائض دو قسم کے تھے:
پہلافریضہ: تو حید کی دعوت دیناتھا ۔دوسرا فریضہ :ان تمام اصول اور احکام کی دعوت دینا تھا جو کسی خاص قوم سے مخصوص ہوتے تھے ۔مذکورہ گز ارشات کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں ہے اس لئے کہ انبیاء کے تمام احکام و قوانین ان تمام افراد کے لئے لازم العمل ہیں جو ان کی رسالت سے آگاہ ہوجائیں قرآن کریم کے مطابق خدا کے پیغمبر جس طرح لوگوں کو خدا کی وحدانیت کی دعوت دیا کرتے تھے ان کو مطلق طور پر اپنی اطاعت اور پیروی کی دعوت بھی دیتے تھے قرآن کریم فرماتاہے :
(وَمَااَرْسَلْنَامِنْ رَسُولٍ اِلّالِیُطَاعَ بِِذْنِ اﷲِ۔۔۔)(١)
''اور ہم نے کسی بھی رسول کو نہیں بھیجا ہے مگر یہ کہ حکم خدا سے لوگ ان کی اطاعت کریں ۔۔۔''۔
..............
١۔سورئہ نساء آیت٦٤۔
قرآن کریم نے بہت سے انبیائے الٰہی کی زبانی اعلان کیا ہے :
(فَاتَّقُوْا اﷲَ وَاَطِیْعُوْنِ)(١)
''پس تم خدا سے ڈرواور میری اطاعت کرو ''۔
اور ایک آیت میں ار شاد ہو تا ہے :
(تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَیٰ عَبْدِہِ لِیَکوُنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً)(٢)
''بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا ہے تاکہ وہ سارے عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والابن جائے ''۔
اس بناء پر ایسا نہیں ہے کہ مثلاً مصر کے قبیلوں سے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت (چونکہ بنی اسرائیل کے ہم قوم نہیں تھے )اس بات میں محدودہوکہ وہ ان کو بھی بت پرستی چھوڑنے اور خدائے وحدہ لاشریک کی پرستش کرنے کی دعوت دیں لیکن ان کی اعتقادی یا عملی رخ سے اس منزل کی طرف رہنمائی سے پرہیز کریں ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ (جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں )اگر یہ تسلیم کرلیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شروع میں صرف بنی اسرا ئیل کے لئے مبعوث کئے گئے تھے تو بھی آپ کی دعوت کے دائرے میں قبطیوں کے آجانے کے بعد موسیٰ علیہ السلام پر لازم ہوگیا تھاکہ ان کو بھی اپنی تعلیمات سے(تمام تفصیلات کے ساتھ)آگاہ کردیں اور خود ان (قبیلوں) کا بھی فریضہ تھاکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو قبول کریں اور اسکے تمام احکام پر (سوائے ان قوانین کے جو یہودی قوم سے مخصوص تھے ) عمل کریں ۔
..............
١۔یہ تعبیر متعدد آیتوں میں متعدد پیغمبروں کی زبانی نقل ہو ئی ہے ۔مثال کے طور پر ملا حظہ فر ما ئیں سورئہ آل عمران آیت٥٠ اور سورئہ شعراء آیت١١٠ ،١٤٤ ،١٦٣ ۔
٢۔سورۂ فرقان آیت ١۔

انبیاء علیہم السلام کی رسالت کا عالمی ہونا گفتگو کے اس حصہ میں بیان کئے گئے مطالب سے صاف صاف یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ایک معنی کے لحاظ سے اگر رسالت کے عالمی ہونے کا جائزہ لیں تو بہت سے انبیاء علیہم السلام کو پوری دنیا کیلئے نہیں بھیجا گیاتھا لیکن
دوسرے معنی کے لحاظ سے تمام انبیاء علیہم السلام کی رسالت پوری دینا کیلئے تھی یعنی اگر رسالت کے عالمی ہونے کا
مطلب یہ ہو کہ پیغمبر کا فریضہ ہے وہ اپنی تعلیمات صرف اپنی قوم تک محدود نہ رکھے بلکہ دنیا کی تمام یا کم از کم اہم قوموں تک ضرور پہنچائے تو اس معنی میں بہت سے پیغمبر یہاں تک کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی رسالت بھی عالمی رسالت نہیں تھی لیکن اگر عالمی رسالت کا مطلب یہ ہو کہ متعلقہ تمام ''قوموں تک سابقے کی صورت میں اپنی رسالت کا پیغام پہنچانا نبی پر لازم ہے اور کسی نبی کی نبوت سے آگاہ ہونے کے بعد تمام مکلفین پر اس کی اطاعت و پیروی لازم ہے ''تو اس معنی میں تمام انبیاء کی رسالت عمومی اور عالمی رسالت تھی ۔

پیغمبر اسلام ۖکی رسالت کا عالمی ہونا اگر چہ پیغمبر اسلام ۖکی عالمی رسالت پر گفتگو ۔ نبوت خا صہ کی بحث میں(پیغمبر اسلام ۖ سے متعلق بحث کے تحت ) کی جا تی تو زیادہ منا سب ہو تا مگر یہا ں مجمو عی طور پراس مسئلہ کا بیان کر دینا بھی شا ید بے جا نہ ہو گا ۔ بنیا دی سوال یہ ہے کہ '' کیا پیغمبر اسلام ۖ عالمی رسالت کے حا مل تھے ؟''
ایسا محسو س ہو تا ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ کی رسالت کا عا لمی ہو نا اسلام کے ضر وریات دین میں سے ہے ۔ پھر بھی منا سب معلوم ہو تا ہے (خا ص طور سے مخا لفین نے جو شبہات ایجا د کئے ہیں ) ان کو بر طرف کر نے کے لئے فر یقین کی دلیلو ں کا جا ئزہ لیں اور اپنا مد عا علمی دلا ئل سے ثا بت کریں ۔ اس بحث میں اُن آیات کا جو اسلام کی عالمی رسالت کو ثابت کر تی ہیں اور ان آیات کا جن سے مخا لفین نے استفا دہ کیا ہے تحقیقی جا ئزہ لینا ضر و ری ہے ۔
قرآن کریم کی کچھ آیات با لکل واضح طور پر دعو ت اسلام کے عا لمی ہو نے پر دلالت کر تی ہیں ایک آیت میں ارشاد ہو تا ہے :
(تَبَارَ کَ الَّذِ یْ نَزَّ لَ الْفُرْ قَا نَ عَلَیٰ عَبْدِ ہِ لِیَکُوْ نَ لِلْعَٰلَمِیْنَ نَذِ یْراً )(١)
''وہ ذات (خدا )بہت با بر کت ہے جس نے اپنے بندے پر فر قان (یعنی حق کو با طل سے جدا کر نے والی کتاب )نا زل کی تا کہ تما م دنیا ؤ ں کے لئے ڈ را نے والا ہو ''۔
یہ آیت صاف طور پر دلالت کر تی ہے کہ پیغمبر اسلام ۖ تمام عالمین کے لئے ''نذ یر '' بنا کر مبعو ث کئے گئے ہیںاور انذار یعنی خبر دار کر نے کا فریضہ (جو آپ کی رسالت اور پیغمبری کا حصہ ہے ) کسی خاص قوم یا گروہ سے مخصوص نہیں ہے ایک اور مقام پر قرآن، نبی اسلا م ۖکی زبا نی کہتا ہے:
..............
١۔سورئہ فر قان آیت١۔
(۔۔۔وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھَذَا الْقُرآنُُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمنْ بَلَغَ )(١)
''۔۔۔اور یہ قرآن مجھ پر اس لئے وحی کیاگیاہے کہ میںتمھیںاورجس شخص تک اس کاپیغام پہنچے اس کے ذریعہ اسے ڈراؤں۔۔۔''۔
جیسا کہ آپ نے ملا حظہ فر مایا کہ اس آیت میں '' مَنْ بَلَغَ ''ایک عمو می تعبیر ہے ''کہ جس تک بھی یہ پیغام پہنچے''یعنی اسلا می دعو ت کے تحت آنے وا لے تمام افراد چا ہے (وہ کسی بھی قوم و گروہ اور وہ کسی بھی جگہ اور زمانہ سے کیو ں نہ تعلق رکھتے ہو ں )سب شا مل ہیں ۔ قرآن ایک آیت میں فر ماتا ہے :
(وَمَااَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَةًلِلْعَٰلَمِیْنَ)(٢)
''اور (اے رسول )ہم نے آپ کو دنیا ؤں کے لو گو ں کیلئے سر ا پا رحمت بنا کر بھیجا ہے ''۔
البتہ آخر ی آیت دلا لت کے لحا ظ سے پہلی دو آیتو ں کے ما نند نہیں ہے اس لئے کہ ''پیغمبر کا تمام دنیا ؤں کے لئے رحمت ہو نا ''صاف طو ر پر تمام دنیا ؤ ں کے لئے مبعوث ہو نے پر بھی دلالت نہیں کرتا لیکن اس کے با وجود آخری آیت سے بہ ظا ہر یہ مطلب بھی نکلتا ہے کیو نکہ پیغمبر اکرم ۖکے رحمت ہو نے میں یقینی طور پر وہ رحمت شا مل ہے جو را ہِ حق کی ہدا یت اور امت کی رہنما ئی کے ذریعہ ان کو نصیب ہو تی ہے ۔
قر آ ن کریم کی بعض آیتیں اس چیز کو بیان کر تی ہیں کہ دینِ اسلام تمام ادیان پر غالب آجا ئے گا ۔ اور اس طرح کی آیا ت بھی اپنی جگہ پیغمبر اسلام ۖکی رسالت کے عا لمی ہو نے پر دلالت کر تی ہیں :
(ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْ لَہُ بِالْھُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَیٰ الدِّ یْنِ کُلِّہِ وَ کَفَیٰ بِاﷲِ شَھِیْداً)(٣)
'' وہ وہی توہے جس نے اپنے رسو ل کو ہدایت کے(قصد) سے سچادین دے کر بھیجا تا کہ اس کو تمام ادیا نِ عالم پر غالب بنا ئے اور گو اہی کے لئے توبس خدا ہی کا فی ہے ''۔
..............
١۔سورئہ انعام آیت١٩۔
٢۔ سورئہ انبیاء آیت١٠٧۔
٣۔سو رئہ فتح آیت٢٨۔
اسی مطلب کو قر آ ن حکیم کی دو آیتوں میں بھی بیان کیا گیا ہے خدا فر ماتا ہے:
(ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَیٰ الدِّیْنِ کُلِّہ ِوَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ)(١)
''وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسو ل کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنا ئے چا ہے مشر کین کو کتنا ہی نا گوا ر کیو ں نہ ہو ''۔
یہ آیتیں صاف صاف اس چیز پر دلالت کر تی ہیں کہ دین اسلام دنیا کے تمام ادیان پر غالب و کا مران ہو گا اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا یا کم سے کم دو سرے ادیان پر دین اسلام چھا جا ئیگا اور یہ حقیقت دین اسلام کے عالمی ہو نے کے علاوہ اور کچھ بیا ن نہیں کر تی ۔
یہا ں یہ بات بھی لا ئق ذکر ہے کہ ''غلبہ ''کے مفہو م میں دو احتمال پا ئے جا تے ہیں :
١۔غلبۂ تشر یعی ۔
٢۔غلبۂ تکو ینی ۔
پہلے مفہوم سے جو بات لا زم آتی ہے وہ ہما رے مد عا سے بہت قر یب ہے اس لئے کہ اس کا کو ئی مطلب ہی نہیں ہو گا کہ دین اسلام تو عا لمی نہ ہو لیکن اس کے اصو ل و قو انین دو سرے تمام ادیان کے اصو ل و قو انین پر حا کم ہوجا ئیں اور اگر دوسرے معنی بھی مرا د لئے جا ئیں تو آیت کا سیاق اس چیز کو بیان کر رہا ہے کہ یہ غلبہ وہ استحقاق ہے جو دین اسلام کی ذاتی صلا حیتو ں کا نتیجہ ہے اور تمام ادیان پر غلبہ کی صلا حیت صرف اسلام کی عا لمی دعو ت کے ساتھ ہی معقول ہو سکتی ہے ۔ بنا بر این اگر اسلام کے تمام ادیان پر غالب آجا نے سے مراد حتی اس کا تکو ینی غلبہ ہو تو یہ غلبہ بھی اسلامی احکام و شریعت کے دو سرے تمام احکام و قو انین پر غالب آجا نے کو فرض کئے بغیر قا بلِ تصو ر نہیں ہے ۔
قر آ ن کی آیات کا دو سرا مجمو عہ وہ ہے جس میں پیغمبر اسلام کا '' ناس ''یعنی (انسانوں) کے درمیان مبعوث ہو نا اور قرآن کا '' ناس ''کے لئے نا زل ہو نا ذکر ہو ا ہے ۔ مثال کے طور پرسورئہ ابراہیم کا اس طرح آغاز ہو اہے :
( کِتَٰاب اَنْزَلْنا ہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِ جَ النّاسَ مِنَ الظُّلُمَٰتِ اِلَیٰ النُّوْرِبِاِ ذْنِ رَبِّھِمْ اِلَیٰ صِرَاطِ الْعَزِیْزِالْحَمِیْدِ)(٢)
..............
١۔سورئہ صف آیت٩،اور سورئہ تو بہ آیت٣٣۔
٢۔سورئہ ابرا ہیم آیت١۔
'' (اے رسول یہ قر آن وہ) کتا ب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اس لئے نا زل کی ہے تا کہ آپ لو گو ں کو حکمِ خدا سے تا ریکیو ں سے نکا ل کر روشنی میںلا ئیںاس کی سیدھی راہ پر لا ئیں جو سب پر غالب اور سزا وا ر حمد ہے'' ۔
اسی طرح دوسری آیت میں بیان ہو ا ہے :
(ھَٰذابَلَٰغ لِلنَّا سِ وَلیُنْذَرُوْا بِہِ)(١)
''یہ قرآن لو گو ں کے لئے ایک پیغام ہے (تاکہ اسی کے ذریعہ ہدایت یا فتہ ہو جا ئیں ) اور اس کے ذریعہ (عذا ب خدا سے )ڈرتے رہیں ''۔
کچھ دوسری آیتوں میں قر آن کریم کا ایک ایسی کتاب کے عنوان سے ذکر ہے جو سا ری دنیا کے لئے بھیجی گئی ہے :
(اِنْ ھُوَ اِلَّاذِکْرلِلْعَٰا لَمِیْنَ )(٢)
'' اوریہ( قر آن) تو عا لمین کے لئے سوا ئے نصیحت کے (کچھ نہیں )ہے ''۔
(وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکْر لِلْعَٰلَمِیْنَ )(٣)
''اور حا لانکہ یہ( قرآن )تو سا رے جہان کے وا سطے سوا ئے نصیحت کے اور کچھ نہیں ہے '' ۔
چو نکہ '' ناس'' یعنی ''لوگ '' اور عا لمین ''یعنی تمام دنیا ئیں ''جیسے الفاظ صاف طور پر قر آ ن کریم اور پیغمبر کی رسالت کے مخا طبین کی عمو میت پر دلا لت کر تے ہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیات بھی رسالت اسلام کے مکمل طور پر عالمی ہو نے کی دلیل ہیں۔
..............
١۔سورئہ ابرا ہیم آیت ٥٢۔
٢۔سورئہ یو سف آیت١٠٤ ،سورئہ ص آیت٨٧اور سورئہ تکو یر آیت٢٧۔
٣۔سورئہ قلم آیت٥٢۔



19
مخا لفین کی دلیلو ں پر ایک نظر راہ اور رہنما کی پہچان

مخا لفین کی دلیلو ں پر ایک نظر مذکو رہ آ یتو ں کے پہلو بہ پہلو دو سری آیات بھی ہیں جو ممکن ہے پہلی نظر میں دین اسلام کے عا لمی نہ ہو نے پر دلا لت کر تی محسو س ہو ں چنا نچہ ان آ یات کو بعض نے پیغمبر اسلام ۖکی دعو ت اسلام کے مخصوص ہو نے کے اپنے دعو ے کو ثا بت کر نے کے ثبو ت کے طور پر پیش بھی کیا ہے یہ شبہ اس لئے پیدا ہوا ہے کہ ان آ یات میں عرب قوم یا ان کے کسی مخصوص گرو ہ کو ''انذار کر نے یعنی ڈرا نے کی بات کی گئی ہے جیسا کہ سورئہ شوریٰ میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ قُرْآناً عَرَبِیّاً لِتُنْذِرَاُمَّ الْقُرَیٰ وَمَنْ حَوْلَھَا )(١)
''اور ہم نے اسی طرح آپ پر عربی قر آن کی وحی بھیجی کہ آپ مکہ اور اس کے اطراف والو ں کو ڈرائیں ''۔
(وَھَٰذَٰاکِتَا باَنْزَلْنَاہُ مُبَارَک مُصَدِّ قُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَلِتُنْذِرَاُمَّ الْقُرَیٰ وَمَنْ حَوْلَھَا )(٢)
''اور یہ (قرآن) وہ کتا ب ہے جس کو ہم نے برکت کے ساتھ نا زل کیا ہے اور (یہ کتاب ) ان کتا بو ں کی تصدیق کر تی ہے جو اس کے پہلے آ چکی ہیں اور اس لئے نا زل کیاہے کہ آپ مکہ اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو ڈرائیں '' ۔
ان آیات میں پیغمبر کے ذریعہ انذار یا ڈرا ئے جا نے کے مخا طب مکہ اور ا س کے اطراف کے لوگ بیان کئے گئے ہیں ۔
سورئہ مبا رکۂ یس اور قصص میں بھی آیا ہے:
(۔۔۔لِتُنْذِرَقَوْماًمَا اُنْذِرَئَ ابَاؤُھُمْ فَھُمْ غَافِلُوْ نَ )(٣)
''تا کہ آپ ان لو گو ں کو کہ جن کے باپ دادا ڈرائے نہیںگئے اور غفلت میں پڑے رہ گئے ڈراؤ ''۔
(لِتُنْذِرَقَوْماًمَاأَ تَٰھُمْ مِنْ نَذِیْرٍ مِنْ قَبْلِکَ ۔۔۔)(٤)
''آپ ان لو گوں کوجن کے پاس آپ سے پہلے کو ئی ڈرا نے والا نہیں آیاڈراؤ ''۔
یہ آیتیں بھی اس چیز کو بیان کر تی ہیں کہ پیغمبر اسلام ۖ اس قوم کے انذار کے لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ جس کے درمیان آ پ سے پہلے خدا وند عالم کی جا نب سے کو ئی انذار کر نے والا نہیں آیا تھا اور بہ ظاہر اس قوم سے مراد بھی اہل عرب ہیں ۔
سورئہ شعراء میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر ۖاپنے اقرباء کو انذار کر نے کے لئے ہی مبعوث کئے گئے تھے:
(وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ)(٥)
''پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ دا روں کو ڈرا ئیے''۔
..............
١۔ سورئہ شوریٰ آیت ٧۔
٢۔سورئہ انعام آیت ٩٢۔
٣۔سورئہ مبا رکۂ یس آیت ٦۔
٤۔ سورئہ قصص آیت ٤٦ ۔
٥۔سورئہ شعراء آیت ٢١٤۔
جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں پہلی نظر میں ان آیات سے یہی گمان پیدا ہو تا ہے کہ پیغمبر اسلا م ۖ کی دعوت رسالت ایک خا ص جما عت سے مخصوص تھی لیکن ان آیات کے اسلوب و روش پر غور کر نے سے یہ بات وا ضح ہو جا تی ہے کہ ان میں سے کو ئی بھی آیت پیغمبر اسلام ۖکی دعوت کو کسی جما عت میں منحصر و مخصوص ہو نے پر دلالت نہیں کر تی ۔ ان میں کچھ آیتیں اس بات کو بیان کر تی ہیں کہ پیغمبرعر بوں کے درمیان کیوں مبعوث ہوئے ؟اور بیان کر تی ہیں کہ اس کی ایک وجہ عر بو ں کا ایک عرصہ سے انبیا ئے الٰہی سے محر وم ہو نا تھا اور یہ مسئلہ خود اپنی جگہ اس بات کا سبب بنا کہ وہ عام طور پر جہالت و بے خبری کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ ظا ہر ہے کہ پیغمبر اسلا م ۖ کا عربوں کے در میان مبعوث ہو نا کسی بھی طرح آپ کی رسا لت کا ان (عر بوں )سے مخصوص ہو نا نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ آیات بھی کچھ دوسری آیات سے ملتی جلتی ہیں جو بیان کر تی ہیں کہ عر بوں کے درمیان کیو ں خو د ان ہی کی قو م سے پیغمبر مبعوث ہوئے ارشاد ہو تا ہے :
(وَلَوْنَزَّلْنٰہُ عَلَیٰ بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ ۔فَقَرَاَہُ عَلَیْھِمْ مَاکَانُوْابِہِ مُوْمِنِیْن)َ (١)
''اور اگر ہم اس قر آ ن کو کسی غیر عرب زبان قوم میں نا زل کر تے اور (پیغمبر ) ا ن کے سا منے پڑھتا تو وہ اس پر ایمان نہ لا تے'' ۔
ہما ری بحث سے مر بوط بعض دو سری آ یتیں پیغمبر اسلام ۖکی دعوت کے مختلف مر حلوں کو بیان کر تی ہیں۔ ہم جا نتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ۖ کی دعوت اگر چہ سبھی کے لئے تھی پھر بھی تبلیغ کی راہ ہموا ر کر نے اور عملی رکاوٹوں کو بر طرف کر نے کی غرض سے پیغمبر اسلام ۖ کی دعوت کا آغا زایک خاص دا ئرہ میں ہوا اور پھر بعد کے مرحلوں میں دا ئرہ وسیع ہو تا چلا گیا یہا ں تک کہ اپنے دور کی سب سے بڑی تہذیب و تمدن کو اس نے اپنا مخا طب قرار دیا۔ یہی وجہ ہے بعثت کے آغاز میں (وَاَ نْذِرْعَشِیْرَ تَکَ الْاَ قْرَبِیْنَ )''اپنے قر یبی خا ندان وا لوں کو ڈرائیے''والی آیتیں صرف پیغمبر اسلام ۖکی تبلیغ کے ابتدا ئی مرا حل کے دا ئرے کو بیان کر تی ہیں (١)بہر حال اگر چہ پہلی نظر میں ممکن ہے کہ ان آیات سے رسا لت اسلام کے محدود ہو نے کا گمان ہو لیکن ان آیات انذار پر غور و
..............
١۔سورئہ شعرا ء آیت ٩٨ا۔١٩٩ ۔
١۔ظا ہری طور پر سورئہ شو ریٰ کی( آیت٧)کو سو رئہ انعام کی (آیت ٩٢)پر حمل کر تے ہو ئے رسالت کے عالمی ہو نے کے دو سرے مرحلہ کو جا نا جا سکتا ہے ۔
فکر کرنے سے (خاص طو ر سے ان آیات پر تو جہ کے بعد کہ جن میں رسالت کے عام ہو نے کا ذکر ہے) یہ گمان بھی ختم ہو جا تا ہے کسی غرض یا تعصب سے عا ری وہ شخص جو عمو میت پر دلا لت کر نے وا لی آیات کو ان آیا ت کے پہلو میں قرار دے کر دیکھتا ہے تو تصدیق کر تا ہے کہ پیغمبر اسلا م ۖکی دعوت اسلام عر بوں سے مخصوص نہیں تھی ۔ اس کے علاوہ تا ریخ کے مسلم الثبوت شوا ہد بھی (مثلاً پیغمبر اکر مۖ کی جا نب سے تمام مما لک کے سر برا ہو ں کے پاس دعوت اسلام کے لئے اپنے سفیروںکابھیجاجانا)اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔

تبلیغ اسلام کے تئیں جنوںکا کر دار یہا ں تک یہ بات روشن ہو جا تی ہے کہ تمام لوگ (ناس) پیغمبر اسلام ۖ کی تبلیغ کے مخا طب تھے اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ دعوت اسلام جنا ت کو بھی شامل ہے ؟
بہ ظا ہر قر آ ن کر یم میں یہ بات صاف طور پر بیان نہیں ہو ئی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیںکہ لفظ ''ناس '' (یعنی لوگ )(جو بعض آیات میں آیا ہے جیسے ''ھُدیً لِلنّاسِ''،''کَا فَّة للنَّا س''ِ اور''بَلَا غ للنَّاسِ''بہ ظا ہر انسانو ں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور جنو ں کو شا مل نہیں ہے البتہ سو رئہ ''ناس '' کی آخری آ یتوں میں یہ احتمال پایاجاتا ہے کہ ممکن ہے ''ناس ''میں جنو ں کو بھی شا مل رکھا گیا ہو:
(مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَالنََا سِ)(١)
''اند ر سے وسوسہ کر نے وا لے کے شر سے پنا ہ ما نگتا ہو ں جو لو گو ں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر تا ہے ۔وہ (وسو سہ پیدا کر نے والا )جنات میں سے ہو یا انسا نو ں میں سے ''
عبا رت ''مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّا سِ ''میں حرف ''مِنْ ''منِ بیانیہ ہے ۔ اس عبارت میںدو احتمال پا ئے جا تے ہیں : ایک تو یہ کہ اس میں ''خنّا س ''کی وضا حت کی گئی ہے ۔ دو سرے یہ کہ اس ''ناس '' کے ذریعہ ''فی صدورالنّا س'' کی وضا حت کی گئی ہو ،چنا نچہ دوسری صورت میں آیات کے معنی یہ ہو ں گے ''لو گو ں کے دلو ں میں'' یعنی ''جنا ت اور انسانو ں کے دلوں میں '' البتہ حق یہ ہے کہ دو سرا احتمال بہت ضغیف ہے اور لفظ ''ناس ''کا ظاہری طو ر پر انسان سے مخصوص ہو نا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن دو سرے احتمال کو صرف احتمال کی حد تک ر د بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
..............
١۔سورئہ ناس آیت ٤۔٦۔
بہر حال جن آیات میں لفظ '' ناس ''استعمال ہو ا ہے وہ صاف طور پر دلالت کر تی ہیں کہ جنا ت اسلام کی دعوت میں شا مل نہیں تھے لیکن جن آیات میں لفظ ''عا لمین ''استعمال ہو ا ہے ان سے یہ مطلب نکا لا جا سکتا ہے ۔اس لئے کہ ''عا لمین ''ہو ش و خرد رکھنے وا لے تما م عا قلو ں کو شا مل ہے اور اس اعتبار سے اس میں جنا ت کی جما عت بھی شامل ہے ۔
ان آیات کے علا وہ بعض روا یات میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) ''ثقلین '' کی جا نب مبعوث کئے گئے ہیں (١)سورئہ احقاف کی آیات بھی اسی مفہو م کی تا ئید کرتی ہیں ارشاد ہو تا ہے :
(وَاِذْصَرَفْنَااِلَیْکَ نَفَراًمِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْآنَ۔۔۔)(٢)
''اور جب (قوم ) جن سے کچھ افراد آپ کے پاس بھیجے کہ قر آن کو سنیں ۔۔۔''۔
اس آیت کو اپنا مد عا ثابت کر نے اور اس پر دلیل لا نے کے لئے میں نے اس لئے نہیں پیش کیا کہ معلوم ہے آیت میں اس بات کی کو ئی تصر یح نہیں کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام ۖنے جنو ں کو اپنا پیغام سنا نے کے لئے دعو ت دی ہو بلکہ ممکن ہے خدا وند عالم نے خود کو ئی سبیل نکا لی ہو کہ جنو ں کا ایک گروہ خود آئے اور پیغمبر کی با تیں غور سے سنے ۔
دوسری بات یہ کہ حتی اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ جن پیغمبر اسلام ۖکی دعو ت کے مخا طب نہیں تھے اور آپ کی تبلیغ انسا نو ں سے مخصو ص تھی تو بھی گز شتہ مطالب کی بنیاد پر جنو ں کا فر یضہ تھا کہ پیغمبر اسلام ۖکی دعوت سے آ گا ہی کے بعد اس کو قبو ل کر ے اور اس پر ایمان لا ئے ۔

ظہو ر اسلام کے بعد بقیہ تمام ادیان کا غیر معتبر ہو نا قر آن کر یم کی بعض آیات سے گما ن ہو تا ہے کہ ان آیات کے مطابق پیغمبر اسلام ۖ کے مبعوث ہونے کے بعدبھی دو سرے ادیا ن کی قا نونی حیثیت باقی ہے ۔
گذ شتہ بحثو ں سے یہ وا ضح ہے کہ اس طرح کا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے اور ظہو ر اسلام کے بعد اسلام سے باخبر ہو نے وا لے ہر با لغ و عا قل پر اسلام قبو ل کر نا اور مسلما نوں کی صف میں شا مل ہو نا وا جب ہے ۔
اسی طرح قر آن میں ایسی آیات مو جو د ہیں جن میں اہل کتا ب کے بعض گرو ہ کی تعر یف کی گئی ہے ۔
..............
١۔ ملا حظہ فر ما ئیے: بحا ر الا نوار جلد ٦٣ صفحہ ٢٩٧ ،حد یث نمبر ٤ ۔ اور جلد ١٠٢ صفحہ ١٠٥ حدیث ١٣۔
٢۔سورئہ احقاف آیت ٢٩۔
نمو نہ کے طور پر ہم سورئہ آل ِعمران میں پڑھتے ہیں :
(لَیْسُواسَوَائً مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّة قَائِمَةیَتْلُوْنَ ئَ ایٰتِ اﷲِ آنٰائَ اللَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ )(١)
''یہ لوگ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ۔(بلکہ) اہلِ کتاب میں کچھ لوگ درست کر دا ر بھی ہیں جو راتو ں کو اُٹھکر خدا کی آیتیں پڑ ھا کر تے اور سجدے کیا کر تے ہیں ''۔
اس آیت میں بعض اہل کتاب کی تعر یف سے ممکن ہے یہ گمان پیدا ہو کہ دین اسلام کے ساتھ ہی قر آن نے ان کی بھی تا ئید کی ہے اور ان کے دین کی قا نو نی حیثیت کو قبول کیا ہے لیکن یہ خیال غلط ہے اس لئے کہ اس آیت کا مطلب دو حال سے خا رج نہیں ہے :
پہلا احتمال تو یہ ہے کہ اس آیت میں ان اہل کتاب کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے کہ جنھو ں نے رسول اسلام کے دور حیات میں دین اسلام قبو ل کر نے سے انکار کیا تھا ۔ بلکہ اس کلیہ کو بیان کیا ہے کہ اہل کتاب کے در میان بھی (چا ہے ما ضی کی بات ہو یا حا ل کی )اچھے اور برے دو نوں طرح کے افراد رہے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ تمام یہو دی یا عیسا ئی خدا نا شناس انسان رہے ہو ں ۔ اسی بنا پر کہا جا تا ہے کہ تمام اہل کتاب کی تمام زما نوں میں، ایک ہی طرح سے مذ مت نہیں کر نا چا ہئے بلکہ ان میں ایک گروہ خدا کی عبا دت اور آیا ت الٰہی کی تلا وت کر نے والا بھی رہا ہے ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ مند ر جہ بالا آیت ان لو گو ں کے با رے میں ہو کہ جن تک اس وقت دعو ت اسلام نہ پہنچی ہو یا جن پر اﷲ کی حجت تمام نہ ہو ئی ہو ۔ لہٰذا جب بھی حجت تمام ہو جا ئے تو اہل کتاب کے اچھے افراد بغیر کسی شک و شبہہ کے اسلام قبول کر لیں گے ۔سورئہ مبا رکۂ ما ئدہ میں نصا ریٰ کے ایک گروہ کی اس طرح صفت بیا ن کی گئی ہے :
(وَاِذَاسَمِعُوْامَااُنْزِ لَ اِلَیٰ الرَّسُوْ لِ تَریٰ اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّ مْعِ مِمَّاعَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ۔۔۔)(٢)
''اور جب یہ لوگ اس (قرآن)کو سنتے ہیں جو ہما رے رسول پر نا زل کیا گیا ہے تو دیکھو کس طرح حقیقت سے آشنا ہو جا نے کے سبب انکی آنکھو ں سے بیسا ختہ آنسو جا ری ہو جا تے ہیں '' ۔
یہ گرو ہ ان ہی لو گو ں کا ہے جو حجت تمام ہو نے سے پہلے اہل عبا دت و دعا تھے :
(اُ مَّةً قَائِمَةً یَتْلُوْنَ آیَٰا تِ اﷲِ )
..............
١۔سو رئہ آل عمران آیت١١٣۔
٢۔سورئہ ما ئدہ آیت ٨٣۔
''جو را توں کو اٹھکر خدا کی آیتو ں کی تلاوت کر تے ہیں ''اور جب وہ قر آن سے آشنا ہو جا تے ہیں تو(تَریٰ
اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّ مْعِ ۔۔۔)
'' ان کی آنکھو ں سے بیساختہ آ نسو جا ری ہو جا تے ہیں ''۔
اس بنا پر اہل کتاب کا وہ گر وہ جو حجت تمام ہو جا نے کے بعد بھی اپنے دین پر ڈٹا رہے قرآن کی نظر میں کسی بھی صورت قا بل ستا یش و تعریف نہیں کہا جا ئے گا ۔

انبیاء علیہم السلام کی امتیں انبیاء علیہم السلام کے عا م طور پر مشتر ک اوصاف کی تحقیق و جستجو کے بعد اب ''انبیاء ''کی قوموں کے بارے میں گفتگو ضروری ہے لیکن بحث کے آ غاز سے پہلے خود اس بحث کے طریقہ و روش سے متعلق چند نکتے بیا ن کردینا مفید ہیں ۔میری نظر میں انبیاء علیہم السلام کی امتو ں کے با رے میں کسی قر آنی تحقیق و جستجو کے دوطریقے ہوسکتے ہیں :
ایک تو یہ کہ مختلف امتو ں سے متعلق آیات کو تفصیل کے ساتھ الگ الگ رکھ کر تحقیق کی جا ئے اور پھر آیات کی تقسیم بندی اور تحقیقی جا ئزے کے بعد ان سے حا صل ہو نے وا لے نتیجو ں کا جا ئزہ لیا جا ئے ۔ تحقیق کا یہ طریقہ طویل گفتگو کا طا لب ہے اور اس مقام پر اس کی گنجا ئش نہیں ہے ۔
دوسرا طریقہ جس کو ہم نے اپنا یا ہے یہ ہے کہ پہلے تو تمام امتو ں کے ما بین بعض مجمو عی اور مشترک موضوعات کو پیش نظر رکھا جا ئے اور پھر قر آ ن کریم کی آیات کی بنیاد پر ان کا جا ئزہ لیا جا ئے ۔
انبیاء علیہم السلام کی امتوں کے با رے میں قر آ ن کریم سے ایک تو اس نکتہ کا پتہ چلتا ہے کہ ان تمام قو موں میں ہر ایک نے اپنے پیغمبر کے ساتھ کسی نہ کسی طرح مخا لف مو قف اپنایا اور ان کا مقا بلہ کر نے کے لئے اٹھ کھڑ ے ہو ئے ہیں بعض آیات اس بات کی شہا دت دیتی ہیں کہ تمام الٰہی انبیاء کو ان کی امتو ں نے جھٹلایا ہے ۔ اس تا ریخی حقیقت کو دیکھ کر جس کی قر آن کریم نے تا ئید فر ما ئی ہے چند سوا ل پیدا ہو تے ہیں ،کیا ایک قوم کے تمام افراد یکساں طور پر ایک دو سرے کے ہمراہ ہو کر اپنے پیغمبر سے مقا بلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہو تے یا شرو ع میں معا شرہ کے مخصوص افراد مخا لفت کا پرچم بلند کر تے اور اس کے بعد دو سرے گر وہ ان سے آکر مل جا یا کر تے تھے ۔
اس حقیقت کے پیش نظر کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت انسانی فطرت کے مطابق ہوا کر تی تھی اور دین اسلام (اپنے عام معنی کے لحا ظ سے )چو نکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا دین ہے اور دین فطرت ہے لہٰذا دیکھنا چا ہئے کہ انبیا ء علیہم السلام کی طویل تا ریخ میں وہ کو نسے اسباب تھے جن کی وجہ سے تمام قو میں اپنے پیغمبر کی مخا لفت کے لئے کھڑی ہوجایا کر تی تھیں ؟ مخا لفین کا رویہ انبیاء علیہم السلام سے کس طرح کا تھا اور وہ انبیاء علیہم السلام سے مقا بلہ کے لئے کن طریقو ں سے فا ئدہ اٹھا تے تھے ؟ان گر و ہو ں کا انجام کیا ہوا؟اور وہ کس عا قبت کے منتظر ہیں ؟

مو جو دہ بحث کا علو م سما جیات ونفسیات سے رابطہ ! مذ کو رہ سوا لو ں کے جوابات تلاش کر نے سے پہلے منا سب معلوم ہو تا ہے اس بحث کے ساتھ مختصر طور پر علوم سما جیات اور اجتماعی نفسیات کے تعلق کے با رے میں کچھ گفتگو ہو جا ئے چنا نچہ اس سلسلہ میں چند سبق آموز نکات کہ جن کا قر آ ن کر یم سے استنباط کیا جا سکتا ہے ہم بیا ن کر تے ہیں ۔ ہم کو معلوم ہے کہ قر آن کریم کی روش یہ نہیں ہے کہ ہر بات تفصیل سے ،مختلف عنو ا نو ں کے تحت اور جدا جدا بیان کرے بلکہ کبھی کبھی قر آن کر یم بعض اہم مطالب صرف اشا رہ میں بیان کر جا تا ہے کہ اگر ان کے با رے میں غور کر یں تو انسان کے سا منے معر فت کے بہت سے ابواب کھل جا ئیں ۔ ایسے موقعوں پر ہم اگراپنے سوالات قر آن کے سا منے پیش کر یں تو قر آن کے مخصوص طریقہ کو سا منے رکھ کر اپنے سوا لات کے جوا بات حا صل کر سکتے ہیں ۔ اس صورت میں اشا روں میں بیان کی گئی قر آنی تعبیر یں ایسی بیش قیمت کنجی ثا بت ہو ں گی کہ جن سے علوم و معا رف کے بیش بہا خزا نو ں سے بھرے بڑے بڑے در وا زوں کے قفل کھو لے جا سکتے ہیں اور شاید مو جو دہ بحث کچھ اسی انداز کی ہے اگر اس مو ضوع سے متعلق قر آن کریم کی آیات پر غور کر یں تو سما جیات ،فلسفۂ تا ریخ ، اجتما عی اور انفرا دی نفسیات وغیرہ سے متعلق بہت سی ایسی با تیں معلوم ہو جا ئیں گی کہ جن سے ہر ایک کے با رے میں عرصۂ دراز تک تحقیق و جستجو کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے ۔ آئندہ بحثو ں میں ایسے بعض مطالب جو قابل استنباط ہیں ہم اشا رہ کر یں گے ۔
اب ہم مختصر طور پر مو جو دہ بحث کے ساتھ دو اہم علوم یعنی سما جیات اور اجتما عی نفسیات کے تعلق پر گفتگو کر تے ہیں ۔ ہم کو معلوم ہے کہ سما جیات میں بنیا دی ترین بحث یہ ہے کہ اس میں مختلف موجو دات کے وجو د کے اسباب ، پیدائش کی کیفیت نشو و نما کے مرا حل اور تغییرات اور ان کے نتا ئج و اثرات پر گفتگو ہو تی ہے ۔ اس بنیاد پر مختلف معاشروں میں لو گو ں کا پیغمبروں کی مخا لفت کر نا یہ خود ایک عجیب اور قا بل توجہ اجتما عی مسئلہ ہے کہ جس کی علم سما جیا ت کے نقطۂ نظر سے علل و اسباب کی تحقیق، سما جی ڈھا نچے کی بنا وٹ ،اس میں رو نما ہو نے وا لے تغییرات اور آثار و نتا ئج کا جا ئزہ لیا جا سکتا ہے اور یہ بات مسلّم ہے کہ اس با رے میں قر آن کر یم سے سوا لو ں کے جوا بات حا صل کئے جاسکتے ہیں ، قر آن کر یم کا مخصوص تبصرہ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ چنا نچہ اس طرح کی تحقیقات ایک طرف تو سما جیات کے مبا حث کو کہیں زیا دہ مالا مال کر دے گی اور دو سری طرف ان سے حا صل شدہ نتیجو ں کی بنیاد پر علم سما جیات کے بہت سے اسلامی یا قر آنی نظر یا ت کا ایک بڑا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
یہ بحث اجتما عی نفسیات کے ساتھ بھی اسی بنیاد پر تعلق پیدا کر لیتی ہے کہ اجتما عی مسائل جیسے لو گو ں کا انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نا ، اس حیثیت سے کہ انسان کے ہی ایجا د کر دہ مسائل ہیں اور مخصوص د ما غی اور نفسیاتی وجوہات کے تحت پیدا ہو تے ہیں اس بنا پر کو ئی بھی اجتما عی عمل جومعا شرے کے کسی ایک طبقہ میں یا پو رے معا شرے میں رو نما ہو تا ہے اس طبقے یا معا شرے کی نفسیاتی خصو صیات کا نتیجہ ہو تا ہے اور ان نفسیاتی اسباب و عوا مل کا مطا لعہ اجتما عی نفسیات کے فر ائض میں سے ہے ۔
اس بنا ء پر امتو ں کی انبیا ئے الٰہی کے ساتھ مخا لفت اِن قو موں کی کو نسی نفسیا تی خصو صیت سے متأثر ہے اس بات کی تحقیق اجتما عی نفسیات کی بحثو ں کے دا ئرے میں شما ر ہو گی ، علاوہ بر این انبیاء کے خلاف اجتما عی مقا بلہ آرا ئی کے سا تھ افراد اور معا شرے کے با ہمی ار تباط کا مطا لعہ بھی ایک اور اہم مسئلہ ہے جس کو قر آن کر یم میں علم سما جیات کے اصول و نظر یات یا اجتما عی نفسیات کے نقطۂ نظر سے تحقیق و جستجو کا محور قرار دیا جا سکتا ہے ۔

خو د امتو ں کے ذریعے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب سو شل سا ئنس کے بعض علو م کے ساتھ بحث کے بعض پہلو ؤںکے رابطہ کی طرف اشارہ کے بعد ہم گفتگو کے اس حصہ میں پہلے اُن آیات کا ذکر کر رہے ہیں جن میں گذشتہ امتوں کی جانب سے اپنے انبیاء علیہم السلام کی اصل مخالفت کو بیان کیاگیا ہے ۔
قرآن کریم میں ایسی بہت سی آیات ہیں کہ جو کسی نہ کسی انداز سے اس تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان میں سے بعض آیات میں (نمونہ کے طور پر ) بعض قوموں کے نام لئے گئے ہیں اور پھر ان کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے خلاف مشترکہ رد عمل کو بیان کیا گیا ہے :
قر آن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :(اَلَمْ یَا تِکُمْ نَبَؤُالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَعَادٍوَثَمُوْدَ وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِھِمْ لَا یَعْلَمُھُمْ اِلَّااﷲُ جَا ئَتْھُمْ رَسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرَدُّوْااَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ وَقَالُوْااِنَّاکَفَرْنَا بِمَا اُرْسِلْتُمْ بِہِ وَ اِنَّالَفِیْ شَکٍ ِمَّا تَدْعُوْنَنااِلَیْہِ مُرِیْبٍ )(١)
..............
١۔سورئہ ابراہیم آیت ٩۔
''کیا تمہا رے پاس ان لو گو ں کی خبر نہیں پہنچی جو ہم سے پہلے تھے (جیسے)نوح کی قوم اور عاد و ثمو د اور جو ان کے بعد ہو ئے ہیں جن کو خدا کے سوا کو ئی جانتا ہی نہیں؟ ان کے پاس ان کے انبیاء علیہم السلام واضح دلیلیں لیکر آئے لیکن ان لو گوں نے (اعتراض کے عنوان سے منھ بند کرنے کے لئے ) ان کے ہاتھ ان کے منھ پر رکھ دیئے اور کہنے لگے : تم کوخدا کی طرف سے جو ذمہ داری دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کو نہیں ما نتے اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلارہے ہو تو اس کے بارے میںہم بڑے گہرے شک میں ہیں '' ۔
آیت میں (وَالَّذین من بعد ھم ۔۔۔)کی عبارت سے واضح ہے کہ یہ بات کچھ خاص قو موں سے مخصوص ہیں۔
بلکہ بہت سی قوموں میں جاری رہی ہے ۔ اسی طرح صیغۂ جمع (انبأئ)کے مقام پر صیغۂ مفرد(نبأ)کا استعمال اس چیز کی غمّازی کرتا ہے کہ ان تمام قوموں کی ایک مشترک داستان ہے : ان سب کے درمیان خدا کے پیغمبر مبعوث ہو ئے لیکن ان سب نے ان نبیوں کو جھٹلایا ۔ عبارت (فَرُدُّوُااَیدِ یَھُمْ فیِ اَفوَا ھِھِم) عربی زبان کی ایک ضرب المثل ہے جو ایسے مقام پر بولی جاتی ہے جہاں بات بالکل صاف صاف دو ٹوک کرنا ہوتا ہے چنانچہ اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے نبیوں سے بالکل صاف و واضح طور پر کہدیا تھا کہ ہم آپ کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور ہمیں آپ کی دعوت کے صحیح ہونے میں شک ہے ۔
قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میںپیغمبر اسلام ۖکی تسلی اور دلداری کی گئی ہے کہ آپ کی رسالت کی مخالفت اور تکذیب صرف ان عرب مشرکوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ گذشتہ اقوام نے بھی اپنے انبیا ء علیہم السلام کی تکذیب کی ہے سورئہ حج میں قرآن کریم رسول اسلام ۖسے فرماتا ہے :
(وَاِنْ یُکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَعَاد وَثَمُوْدُ۔ وَقَوْمُ اِبْرَٰھِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحَابُ مَدْیَنَ وَکُذِّ بَ مُوْسَیٰ فَاَمْلَیْتُ لِلْکَافِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْ تُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ)(١)
اور اگر پیغمبر یہ لوگ آپ کو جھٹلا تے ہیںتو ان سے پہلے قوم نوح نے اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم نے اور اسی طرح مدین کے رہنے والوں نے (اپنے اپنے پیغمبروں کو)جھٹلایا ہے ۔اور موسیٰ (بھی)جھٹلا ئے جاچکے ہیں پس میں نے کافروں کو کچھ مہلت دیدی اور پھر (ان کا گر یبان )کس دیا دیکھئے تو میرا عذاب کیسا تھا ''۔
..............
١۔سورئہ حج آیت ٤٢۔٤٤۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَاِنْ یُکَذِّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُل مِنْ قَبْلِکَ۔۔۔)(١)
''اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا ئیں تویقین ما نئے آپ سے پہلے (بھی)بہتیرے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں۔۔۔''
ارشاد ہو تا ہے :
(کَذَّ بَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَاَصْحَا بُ الرَّ سِّ وَثَمُوْ دُ۔وَعَٰاد وَفِرْعَوْ نُ وَ اِخْوٰانُ لُوْط۔ وَاَصْحَا بُ الْاَ یْکَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ کُلُّ کَذَّ بَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدٍ)(٢)
'' ان سے پہلے قوم نو ح کی قوم اصحا ب رس اور ثمو د نے بھی تکذیب کی تھی اور قوم عا دو فرعون اور برا درانِ لوط نے بھی اور اصحا بِ ایکہ اور قوم تبع نے( مختصر یہ کہ ) سبھی نے ہما رے پیغمبروں کو جھٹلا یا(نتیجہ میں) ہما را (عذاب کا) وعدہ پو را ہو کر رہا ''۔
سورئہ فاطر میں ارشاد ہو تا ہے :
( وَاِ نْ یُکَذِّ بُوْکَ فَقَدْکَذَّبَ الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ جَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَٰاتِ وَبِالزُّبُرِوَبِالْکِتَٰابِ الْمُنِیْرِ۔ ثُمَّ اَخَذْ تُ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْافَکَیْفَ کَا نَ نَکِیْرِ)(٣)
''اور اگر یہ لو گ آپ کو جھٹلا ئیں تو یقینا ان سے پہلے وا لو ں نے بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو ) جھٹلایاہے (حا لا نکہ )جب ان کے پاس ان کے پیغمبرواضح و روشن دلیلیں،صحیفے اور کھلی کتاب لیکر آئے تھے پس ہم نے ان لوگوں کو جو کا فر ہو بیٹھے تھے جکڑ لیا(دیکھئے تو) میرا عذاب( ان پر) کیسا (سخت) ہوا ؟'' ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:
( فَاِنْ کَذَّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّ بَ رُسُل مِنْْ قَبْلِکَ جَائُ وْابِا لْبَیِّناتِ وَالزُّبُرِ وَالکِتَابِ الْمُنِیْرِ ) (٤)
''اگر انھو ں نے آپ کو جھٹلایاتوآپ یقین رکھئے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسو ل روشن معجزے ، صحیفے
..............
١۔سورئہ فا طرآیت ٤۔
٢۔سورئہ ق آیت ١٢۔١٤۔
٣۔سورئہ فا طر آیت٢٥۔٢٦۔
٤۔سورئہ آلِ عمران آیت ١٨٤۔
اورنو را نی کتاب لیکر آ چکے ہیں(جن کو جھٹلا یا گیا ہے )''۔
سورئہ سبا میں ارشاد ہو تا ہے :(وَکَذّ بَ الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَمَابَلَغُوْامِعْشاَرَمَٰااٰ تَیْنٰھُمْ فَکَذَّبُوْارُسُلِی فَکَیْفَ کا نَ نَکِیْرِ)(١)
'' اورجو لوگ ان سے پہلے تھے انھو ں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلا یا تھا حا لانکہ ہم نے جتنا ان لو گو ں کو دیا تھا یہ کفار (ابھی )اس کے دسو یں حصہ کو (بھی)نہیں پہو نچے پس ان لو گو ں نے میرے پیغمبر کو جھٹلا یاتو( دیکھا کہ) ہما را عذاب(ان پر ) کیسا (سخت )ہوا ''۔
مندر جہ بالا آیات کے علا وہ دوسری آیات میں بھی مخصوص قو موں کے جھٹلا نے کا ذکر ہے اور خدا وند عا لم کے پیغمبروں کی مخا لفت کا پردہ چا ک کیا گیا ہے۔ہم یہاں ان آیا ت کے کچھ نمو نے پیش کر رہے ہیں :
سورئہ شعراء میں ارشاد ہو تا ہے :(کَذَّ بَتْ قَوْمُ نُوْ حِ الْمُرْ سَلِیْنَ )(٢)
'' نو ح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا''۔
اس کے بعد اسی سورہ میں فر ماتا ہے:
( کَذَّ بَتْ عَا د الْمُرْسَلِیْنَ )(٣)
'' ( قو م) عا د نے خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا ''۔
اور آگے بڑھکر کہتا ہے :
( کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ )(٤)
'' ( قو مِ) ثمو د نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا '' ۔
اور اسی سورہ کی ایک اور آیت میں ارشاد ہو تا ہے:
( کَذَّ بَتْ قَوْمُ لُوْطِ الْمُرْسَلِیْنَ )(٥)
''اور قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ''۔(٦)
..............
١۔سورئہ سبا آیت٤٥۔
٢۔سورئہ شعراء آیت ١٠٥۔
٣۔سورئہ شعراء آیت١٢٣۔
٤۔سورئہ شعراء آیت ١٤١۔
٥۔سورئہ شعراء آیت١٦٠۔
٦۔اسی طرح سورئہ قمر آیت ٩ ،١٨، ٢٣ اور ٣٣ ملا حظہ فر ما ئیں ۔


انبیاء علیہم السلام سے جنگ کر نے وا لے سردا روں کی پہچان گذ شتہ گفتگو کے پیش نظر قر آن کر یم کی آیات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ گذ شتہ تمام قو مو ں نے نبیو ں کو جھٹلایا اور انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کرنا ان کا معمول تھا۔اب یہ سوال ہے کہ کیا اس مخالفت میں معاشرہ کے تمام افراد برابر سے شریک تھے یا ابتداء میں کسی مخصوص طبقہ کے افراد مخالفت کیلئے اٹھتے اور پھر ان کی دعوت پر دوسرے لوگ پیغمبر کی مخالفت میں ان کے ساتھ ہوجایا کرتے تھے ؟
اس سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ قرآن نے دوسرے مفروضے پر زور دیا ہے اور کچھ مخصوص گروہوں کا انبیاء علیہم السلام سے جنگ کی ابتدا کرنے اور انبیاء علیہم السلام کو جھٹلانے میں پیش پیش رہنے کے عنوان سے تعارف کرا یا ہے ۔چنانچہ قرآن کے مطابق پہلے ایک خاص طبقہ کے لوگ ہی انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کیا کر تے تھے اور ا س کے بعد مختلف طریقو ں سے یہ گروہ یا افراد عامل لو گوں کے افکار کو منحر ف کر نے کے وسا ئل فر ا ہم کیا کرتے تھے ۔ قر آن کر یم نے انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نے وا لے سر دا روں کے کچھ او صا ف بیان کئے ہیں جن میں سب سے اہم صفت'' اتراف '' ہے ۔''اتراف'' کا مطلب یہ ہے کہ انسان نعمتو ں کی فر ا وانی کی وجہ سے سر کشی اور طغیان پرتُل جا ئے اور مترف اس شخصکو کہتے ہیں جو ما دی نعمتوں اور لذّتوں میں غر ق ہو جا ئے قر آن کر یم کی متعدد آیات میں انبیاء کی مخا لفت کر نے والوں میں سب سے پہلے متر فوں کا تذ کر ہ ہوا ہے :
سورئہ سبامیں ارشاد ہو تا ہے :
(وَمَااَرْسَلْنَٰافِیْ قَرْیةٍ مِنْ نَذِیْرٍ اِلّاَقَا لَ مُتْرَفُوھَٰااِنَّٰابِمَٰا اُرْسِلْتُمْ بِہِ کَٰافِرُوْنَ۔وَقَٰالُوْانَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَٰالاً وَاَوْلَادَاً وَمٰانَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ)(١)
''اورہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا(پیغمبر)نہیں بھیجامگر یہ کہ وہا ں کے عیش پسندبڑ ے لوگ یہ کہہ اٹھے کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں ما نتے اور( یہ بھی )کہتے ہما رے پاس تو مال اور اولاد دو سروں سے کہیں زیا دہ ہے اور ہم پر عذاب نہیں ہو گا ''۔
اس آیت سے چند نکتے حا صل ہو تے ہیں :
١۔ہر قوم کے درمیان سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نے والا گروہ اس قوم کے آرام پسند بڑے لو گو ں کا ہو تا تھا ۔یہ گروہ با لکل صاف صاف انبیا ء علیہم السلام کی دعوت قبو ل نہ کر نے کا اعلان کر تا تھا ۔
..............
١۔سورئہ سبا ٔ یت ٣٤ ۔٣٥۔
٢۔اِن بڑے لو گو ں کا یہ کہنا تھا کہ ہما رے خا ندان کاقوم و قبیلہ کے لحا ظ سے طا قتور ،دولتمند اور اجتما عی اقتدار کا حا مل ہو نا انبیاء علیہم السلام سے ہر طرح بلند و بر تر اور ہر طرح کے عذاب سے محفو ظ ہو نے کا معیار ہے ۔
اُن کے اس فلسفے سے ایک دوسرا نکتہ یہ نکلتا ہے کہ ان معا شروں میں کسی طبقہ کی دو سرے طبقوں سے بلندی و بر تری کا معیار دولت و ثر وت اور انسانی طا قت و قوت کا زیا دہ ہو نا تھا ۔
قرآن میں ارشاد ہو تا ہے :
(وَکَذَ ٰلِکَ مَااَرْسَلْنٰامِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیةٍ مِنْ نَذِیْرٍاِلّاَقَٰالَ مُتْرَفُوھَااِنّٰاوَجَدْ نَا اَبٰائَ نَاعَلَیٰ اُمَّةٍ وَاِنّٰاعَلَیٰ آثٰارِھِمْ مُقْتَدُوْنَ)(١)
''اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرا نے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہا ں کے آرام پسند لوگو ں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا ؤںکو ایک آئین اور طریقہ پر پایاہے اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ''۔
اس آیت میں بھی دو لتمند طبقہ کے با رے میںگفتگو ہے اور ان کے ایک دو سرے بہا نہ کا ذکر ہے کہ ہم اپنے دادا کے طریقہ کو ہی جا ری رکھیں گے اور ہم کو کسی نئے طریقہ کی کو ئی ضر ورت نہیں ہے ۔
بعض آیات میں ''ملأ ''کا لفظ بھی آیا ہے نمو نہ کے طور پر قرآن کریم میںنوح کی قوم کے متعلق خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے :
(قَٰالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ اِنّٰا لَنَرَٰکَ فِیْ ضَلاٰلٍ مُبِیْنٍ)(٢)
''ان کی قو م کے سر داروں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہم تم کو کھلم کھلا گمر ا ہی میں مبتلا دیکھتے ہیں ''۔
اس بنیاد پر انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت میں پیش پیش افراد کی ایک صفت یہ ہے کہ قوم کے سر دار اپنے نبی پر کھلم کھلا گمرا ہی میں مبتلا ہو نے کی تہمت لگا تے تھے ہم اس با رے میں انبیاء علیہم السلام کے مخا لفو ں کے طریقوں سے متعلق بحث میں تفصیل سے گفتگو کر یں گے ۔
(قَٰالَ الْمَلَاُ الَّذِْیْنَ کَفَرُوامِنْ قَوْمِہِ اِنّٰالَنَرَیکَ فِیْ سَفَٰاھَةٍ وَاِنّٰالَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ)(٣)
..............
١۔سورئہ زخرف آیت٢٣۔
٢۔سورئہ اعراف آیت٦٠۔
٣۔سورئہ اعراف آیت٦٦۔
قوم ثمود کے با رے میں ار شاد ہو تا ہے :
''قوم کے سر دار جو کا فر تھے کہنے لگے ہم تو بیشک تم کو ایک طرح کی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور پوری سنجید گی سے تم کو جھو ٹا سمجھتے ہیں ''۔
اس آیت میں بھی ایک خاص طبقہ '' ملأ ''یعنی وہی قوم کے سر داروں پر زور دیا گیا ہے اور یہ زور دینا اس چیز کو بیان کر تا ہے کہ یہ گروہ مخا لفت کر نے میں آگے آگے تھا ایک اور آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ طبقۂ'' ملأ ''اہل استکبار کا مغرور و سر کش گروہ تھا خداوند عالم قرآن میں ار شاد فر ما تا ہے :
(قَالَ الْمَلَا ُٔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَن مِنْہُمْ اَتَعَلَمُونَ اَنَّ صَلِحاً مُرْسَل مِنْ رَّبِّہ قَالُوْااِنّٰابِمَااُرْسِلَ بِہِ مُؤمِنُوْنَ ۔قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا اِنّٰابِالَّذِیْ اٰمَنْتُمْ بِہِ کَافِرُوْنَ)(١)
'' ان کی قوم کے سر دار نے جن کوقوت و اقتدار نے بڑا بنا دیا تھا کمزو ر و محروم لو گو ں سے جو ان میں ایمان لائے تھے کہاکیا تمھیں معلوم ہے کہ صالح اپنے پر ور دگا ر کی طرف سے بھیجے گئے سچے رسول ہیں انھوں نے جواب دیا کہ بلا شبہ جن باتو ں کا وہ پیغام لا ئے ہیں ہما را تو اس پر ایمان ہے تب جن لوگوں کو (اپنی استکباری طاقت و قوت پر ) گھمنڈ تھا کہنے لگے ہم تو جس پر تم ایمان لائے ہو اسے نہیں مانتے ''۔
مستکبرین بذات خود حق قبول کر نے اور انبیا ء علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہنے سے انکار کے علا وہ دوسروں کو بھی بہکا نے ،چنگل میں جکڑ لینے اور ان کے دل و دماغ میں شک و شبہ کے بیج بو کر ان کے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ۔
بہر حال مذ کو رہ تمام آیتو ں کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ وہ خاص طبقہ جو انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کا جھنڈا بلند کر نے میں پہل کیا کر تا تھا معا شرے میںخو ش حال آرام پسند اور عیاش طبقہ تھا جو اپنی دولت اور اپنے قوم و قبیلہ کے بل بو تے پر افتخار و گھمنڈ کر تا تھا ۔
..............
١۔سورئہ اعراف آیت ٧٥۔٧٦۔اور سورئہ اعراف آیت ٨٨۔



20