یہ حقیقت ہے

یہ حقیقت ہے0%

یہ حقیقت ہے مؤلف:
زمرہ جات: ادیان اور مذاھب
صفحے: 58

یہ حقیقت ہے

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین آقای جعفر الہادی
زمرہ جات:

صفحے: 58
مشاہدے: 2096
ڈاؤنلوڈ: 206

تبصرے:

یہ حقیقت ہے
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 58 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2096 / ڈاؤنلوڈ: 206
سائز سائز سائز
یہ حقیقت ہے

یہ حقیقت ہے

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

کتاب کا نام : یہ حقیقت ہے

مؤلف : حجة الاسلام و المسلمین آقای جعفر الہادی

مترجم: محمد منیر خان لکھیم پوری

نظر ثانی: سیدکمیل اصغر زیدی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

کمپوزنگ : المرسل

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ۱۴۲۶ھ ۲۰۰۶ ء

۳

بسم الله الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگرچہ رسول اسلام کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتو رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای شیخ جعفر الہا دی کاگرانقدر رسالہ'' الحقیقة کما ہی'' کو فاضل جلیل مولانا محمد منیر خان صاحب لکھیم پوری نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس رسالے کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

باہمی شناخت کی ضرورت

( وَجَعَلْناکُمْ شُعُوْباًوَقَبائِلَ لِتَعارَفُوْا ) (۱)

اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔

اسلام جب آیا تو لوگ آپس میں متفرق اور مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہی نہیں تھے ،بلکہ ایک دوسرے سے لڑائی، جھگڑے اور خون خرابے میں مبتلا تھے ، مگر اسلامی تعلیمات کے طفیل میںآپسی دشمنی اور ایک دوسرے سے اجنبیت کی جگہ میل جول اور عداوت کی جگہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور قطع تعلق کی جگہ قربت پیدا ہوئی ،او راس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملت اسلامیہ ایک عظیم امت کی شکل میںسامنے آئی ، جس

____________________

(۱)سورہ حجرات۱۳.

۷

نے (اس وقت ) عظیم اسلامی تہذیب و تمدن کو پیش کیا ،اور اسلام سے وابستہ گروہوں کو ہر ظالم و جابر سے بچالیا ،اور ان کی پشت و پناہی کی ،جس کی بناپر یہ امت تمام اقوام عالم میں محترم قرارپائی ،اور سرکش جباروں کی نگاہوں میں رعب و دبدبہ اور ہیبت کے ساتھ ظاہر ہوئی۔

لیکن یہ سب چیزیں نہیں وجود میں آئیں مگر امت مسلمہ کے درمیان آپس کا اتحادو وحدت اور تمام گروہوں کاباہمی ارتباط رکھنے کی بنا پر ،جوکہ د ین اسلام کے سایہ میں حاصل ہواتھا ،حالانکہ ان سب کی شہریت ، رائے ، ثقافت، پہچان ، اور تقلید الگ الگ تھی ، البتہ اصول و اساس ، فرائض و واجبات میں اتفاق و اتحاد کافی حد تک موجود تھا، یقیناً وحدت قوت، اور اختلاف کمزوری ہے ۔

بہرحال یہ مسئلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ باہمی جان پہچان اور آپسی میل جول کی جگہ اختلافات نے لے لی ، اور تفاہم کی جگہ ایک دوسرے سے منافرت آگئی ، اور ایک گروہ دوسرے گروہ کے بارے میں کفر کے فتوے دینے لگا ، اس طرح فاصلے پر فاصلے بڑھتے گئے، جس کی وجہ سے جو رہی سہی عزت تھی وہ بھی رخصت ہوگئی ،اور مسلمانوں کی ساری شان و شوکت ختم ہوگئی اور سارا رعب و دبدبہ جاتا رہا ، اورحالت یہ ہوئی کہ قیادت کی علمبردار قوم سرکشوں کے ہاتھوں ذلت و رسوائی اٹھانے پر مجبور ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی نشو و نما کے دہانوں میں لومڑی اور بھیڑئے صفت افراد قابض ہوگئے ،یہی نہیں بلکہ ان کے گھروں کے اندر تمام عالم کی برائیاں،ملعون اشخاص اور نوع بشرکے مبغوض ترین افراد گھس آئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا سارا مال ومنال لوٹ لیا گیا ،اور ان کے مقدسات کی توہین ہونے لگی ، اور ان کی عزتیں فاسقوں و فاجروںکی مرہون منت ہوگئیں ،اور تنزلی کے بعد تنزلی ، انحطاط کے بعد انحطاط ، اور شکست کے بعد شکست ہونے لگی، کہیں اندلس میں شکست فاش، کہیں بخارا، سمر قند، تاشقند ،بغداد ، ماضی اور حال میں ، اور فلسطین اور افغانستان میں ہار پہ ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔

۸

اور حال یہ ہوگیا کہ لوگ مدد کیلئے بلاتے تھے لیکن کوئی جواب دینے والا نہ تھا ، فریاد کرنے والے تھے مگر کوئی فریاد رس نہ تھا ۔

ایسا کیوں ہوا ، اس لئے کہ مرض کچھ اور تھا اور ا س کی دوا اور ، اﷲ نے تمام امور کی باگ ڈور ان کے ظاہری اسباب پر چھوڑ رکھی ہے ،کیا اس امت کی اصلاح اس چیز کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی ہوسکتی ہے کہ جس سے ابتداء میں ہوئی تھی؟

آج امت اسلام اپنے خلاف کئے جانے والے سماجی ، عقیدتی اوروحدت کے مخالف شدید اور سخت ترین حملہ سے جوجھ رہی ہے ، مذہبی میدانوں میں اندر سے اختلاف کیا جارہا ہے ، اجتہادی چیزوں کو اختلافی چیز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، اور یہ حملہ ایسا ہے کہ اس کا ثمرہ اور اس کے ( برے ) نتائج ظاہر ہونے ہی والے ہیں ،کیا ایسے موقع پر ہم لوگوں کے لئے سزاوار نہیںکہ اپنی وحدت کی صفوں کومتصل رکھیں، اور آپسی تعلقات کو محکم اُستوار کریں ؟ ہم مانتے ہیں کہ اگر چہ ہمارے بعض مذہبی رسومات جدا جدا ہیں مگر ہمارے درمیان بیشتر چیزیں ایسی ہیں جو مشترک ہیں جیسے کتاب و سنت جو کہ ہمارا مرکز اور سر چشمہ ہیں وہ مشترک ہیں ، توحید و نبوت ، آخرت پر سب کا ایمان ہے، نماز و روزہ ، حج و زکاة ، جہاد ،اور حلال و حرام یہ سب حکم شریعت ہیں جو سب کیلئے مشترک ہیں ، نبی اکرم اور ان کی آل سے محبت ، اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرنا ہمارے مشترکات میںسے ہیں ، البتہ اس میں کمی یا زیادتی ضرور پائی جاتی ہے ، کوئی زیادہ محبت و دشمنی کا دعویٰ کرتا ہے اور کوئی کم ، لیکن یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک ہاتھ کی تمام انگلیاں آخر میں ایک ہی جگہ( جوڑ سے) جاکرملتی ہیں ،حالانکہ یہ طول و عرض اور شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، یا اس کی مثال ایک جسم جیسیہے ، جس کے اعضاء و جوارح مختلف ہوتے ہوئے ہیں، مگر بشری فطرت کے مطابق جسمانی پیکر کے اندر ان میںہر ایک کا کردار جدا جدا ہوتا ہے اور ان کی شکلوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں اور ان کا مجموعہ ایک ہی جسم کہلاتا ہے۔

۹

چنانچہ بعید نہیں کہ امت اسلامیہ کی تشبیہ جو ''ید ِواحد''اور ایک بدن سے دی گئی ہے اس میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔

سابق میں مختلف اسلامی فرقوںا ور مذاہب کے علماء ایک دوسرے کیساتھ بغیر کسی اختلاف وتنازعہ کے زندگی گزارتے تھے ، بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مددکیا کرتے تھے ، حتی بعض نے ایک دوسرے کی کلامییا فقہی کتابوں کے شرح تک کی ہے، اور ایک دوسرے سے شرف تلمذ حاصل کیا ،یہاں تک کہ بعض تو دوسرے کی تکریم کی بناپر بلند ہوئے، اور ایک دوسرے کی رائے کی تائید کرتے ، بعض بعض کو اجازۂ روایت دیتے ، یا ایک دوسرے سے اجازۂ نقل روایت لیتے تھے تاکہ ان کے فرقے اور مذہب کی کتابوں سے روایت نقل کرسکیں ، اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے ،اور انھیں امام بناتے ، دوسرے کو زکاة دیتے، ایک دوسرے کے مذہب کو مانتے تھے ، خلاصہ یہ کہ تمام گروہ بڑے پیار ومحبت سے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے زندگی گزارتے تھے، یہاں تک کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ان کے درمیان کوئی اختلاف ہی نہیں ہے ، جبکہ ان کے درمیان تنقیدیں اور اعتراضات بھی ہوتے تھے لیکن یہ تنقیدیں مہذب اور مؤدب انداز میں کسی علمی موضوعی رد ہوتی تھی ۔

اس کے لئے زندہ اور تاریخی دلیلیں موجود ہیں ،جو اس عمیق اور وسیع تعاون پر دلالت کرتی ہیں ، مسلم علماء نے اسی تعاون کے ذریعہ اسلامی ثقافت اور میراث کو سیراب کیا ہے،انھیں چیزوںکے ذریعہ مذہبی آزادی کے میدان میں انھوں نے تعجب آور مثالیں قائم کی ہیں بلکہ وہ اسی تعاون کے ذریعہ دنیا میں قابل احترام قرار پائے ہیں ۔

۱۰

یہ مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ علمائے امت مسلمہ ایک جگہ جمع نہ ہوسکیں ، اور صلح و صفائی سے کسی مسئلے میں بحث و مباحثہ نہ کرسکیں ، اور کسی اختلافی مسئلے میں اخلاص و صدق نیت کے ساتھ غور و خوض نہ کرسکیں، نیز ہر گروہ کی دلیلوں اور براہین کو نہ پہچان سکیں۔

جیسے یہ بات کتنی معقول اورحسین ہے کہ ہر فرقہ اپنے عقائد اور فقہی و فکری موقف کو آزادانہ طور پر اور واضح فضا میں پیش کرے ، تاکہ ان کے خلاف جو اتہام، اعتراض خصومت اور بیجا جوش میں آنے کا جو امورسبب بنتے ہیں وہ واضح اور روشن ہوجائیں،اوراس بات کو سبھی جان لیں کہ ہمارے درمیان مشترک ،اور اختلافی مسائل کیا ہیں تاکہ اس سے لو گ جان لیں کہ مسلمانوں کے درمیان ایسی چیزیں زیادہ ہیں جن پر سب کااتفاق ہے، اور ان کے مقابلہ میں اختلافی چیزیں کم ہیں ، اس سے مسلمانوں کے درمیان موجود اختلاف کے فاصلے کم ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے نزدیک آجائیں گے ۔

یہ رسالہ اسی راستہ کا ایک قدم ہے ، تاکہ حقیقت روشن ہو جائے ، اور اس کو سب لوگ اچھی طرح پہچان لیں ،بیشک اﷲ توفیق دینے والا ہے ۔

۱۱

فرقۂ امامیہ جعفریہ

۱۔دور حاضر میں امامیہ فرقہ مسلمانوں کاایک بڑافرقہ ہے :

۱۔دور حاضر میں امامیہ فرقہ مسلمانوں کاایک بڑافرقہ ہے ، جس کی کل تعداد مسلمانوں کے تقریباً ایک چوتھائی ہے ، اور اس فرقہ کی تاریخی جڑیں صدر اسلام کے اس دن سے شروع ہوتی ہیں کہ جس دن سورہ بینہ کی یہ آیت نازل ہوئی تھی :

( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَعَمِلُواالصَّالِحَاْتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُالْبَرِیَّةِ ) (۱)

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا وہی بہترین مخلوق ہیں۔

چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا نے اپنا ہاتھ علی ـکے شانے پر رکھا اس وقت اصحاب بھی وہاں موجود تھے، اور آپ نے فرمایا :

'' یٰا عَلِیُّ اَنْتَ وَ شِیْعَتُکَ هُمُ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ''

____________________

(۱)سورہ بینہ ، آیت : ۷.

۱۲

اے علی! تو اور تیرے شیعہ بہترین مخلوق ہیں ۔

مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں دیکھئے : تفسیر طبری ( جامع البیان ). در منثور ؛مؤلفہ علامہ جلال الدین سیوطی شافعی تفسیر رو ح المعانی ؛مؤلفہ آلوسی بغدادی شافعی

اسی وجہ سے یہ فرقہ - جو کہ امام جعفر صادق ـ کی فقہ میں ان کا پیرو ہونے کی بنا پر ان کی طرف منسوب ہے- شیعہ فرقہ کے نام سے مشہورہوا ۔

۲۔شیعہ فرقہ کثیر تعداددنیا کے مختلف ممالک میں زندگی بسرکرتاہے :

۲۔شیعہ فرقہ کثیر تعداد میں ایران ، عراق ، پاکستان اور ہندوستان میں زندگی بسرکرتاہے ، اسی طرح اس کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک ، ترکی ، سیریا ( شام )، لبنان، روس اور اس سے جدا ہونے ہونے والے جدید ممالک میں موجود ہے ، نیز یہ فرقہ یورپی مالک جیسے انگلینڈ ، جرمنی ، فرانس اور امریکہ ، اسی طرح افریقی ممالک ، اور مشرقی ایشیا میں بھی پھیلا ہوا ہے ، ان مقامات پر ان کی اپنی مسجدیں اور علمی ، ثقافتی اور سماجی مراکز بھی ہیں ۔

۳:-۔ اس فرقہ کے افراد دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ بڑے پیار و محبت سے رہتے ہیں

۳۔ اس فرقہ کے افراد اگرچہ مختلف ممالک ،قوموں اور متعدد رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ بڑے پیار و محبت سے رہتے ہیں ،اور تمام آسان یا مشکل میدانوں میں سچے دل ا ور اخلاص کے ساتھ ان کا تعاون کرتے ہیں،ا ور یہ سب اس فرمان خدا پر عمل کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں:( اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة ) (۱)

____________________

سورۂ حجرات، آیت۱۰.

۱۳

مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔

یا اس قول خدا پر عمل کرتے ہیں :

( وَتَعاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ) (۱)

نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مددکرو ۔

اور رسول اکرم کے اس قول کی پابندی کرتے ہوئے:

۱''المسلمون یدواحد علی من سواهم ''

مسلمان آپس میں ایک دوسرے کیلئے ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔(۲)

یا آپ کا یہ قول ان کے لئے مشعل راہ ہے :

۲'' المؤمنون کا لجسد الواحد ''

مسلمان باہم ایک جسم کی مانند ہیں۔(۳)

۴:-ملت اسلامیہ کے دفاع کے سلسلے میں اس فرقہ کا ایک اہم اورواضح کردار

۴۔ پوری تاریخ اسلام میں دین خدا اور ملت اسلامیہ کے دفاع کے سلسلے میں اس فرقہ کا ایک اہم اورواضح کردار رہا ہے،جیسے اس کی حکومتوں اور ریاستوں نے اسلامی ثقافت اور تمدن کی ہمیشہ خدمت کی ہے ، نیز اس فرقہ کے علماء اور دانشوروں نے اسلامی میراث کو غنی بنانے اور بچانے کے سلسلے میں مختلف علمی اور تجربی میدانوں میںجیسے

____________________

(۱)مائدہ ، آیت ۲.

(۲)مسند احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۲۱۵.

(۳)الصحیح البخاری ،ج ۱،کتاب الادب، ص ۲۷.

۱۴

تفسیر،حدیث،عقائد،فقہ،اصول،اخلاق،درایہ،رجال،فلسفہ،موعظہ،حکومت،سماجیات، زبان وادب،بلکہ طب اورفیزیکس کیمیا،ریاضیات،نجوم،اوراس کے علاوہ متعددحیاتیاتی علوم کے بارے میں لاکھوں کتابیں تحریر کرکے اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، بلکہ بہت سے علوم کے موجد دانشور تو اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔(۱)

____________________

(۱)دیکھئے : محمد صدر کی کتاب '' تاسیس الشیعة لعلوم الاسلام؛ الذریعة الی تصانیف الشیعة (۲۹جلد) ؛ مؤلفہ آقا بزرگ طہرانی .کشف الظنون ؛مؤلفہ آفندی .معجم المؤلفین ؛ مؤلفہ عمررضا کحالہ .اعیان الشیعة ؛ مؤلفہ محسن امین عاملی.وغیرہ

۱۵

۵۔ شیعہ فرقہ معتقد ہے کہ خدااحدو صمد ہے

۵۔ شیعہ فرقہ معتقد ہے کہ خدااحدو صمد ہے، نہ اس نے کسی کو جنا ہے اورنہ اسے کسی نے جنم دیا ہے ، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے ، اور اس سے جسمانیت ، جہت ، مکان ، زمان ، تغیر ، حرکت، صعود ونزول وغیرہ جیسی صفات جو اس کی صفات کمال وجمال و جلال کے شایان و شان نہیں ہیں،ان کی نفی کرتا ہے۔

اور شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور حکم اور تشریع (شریعت کاقانون بنانا ) صرف اسی کے ہاتھ میں ہے، اور ہر طرح کا شرک چاہے وہ خفی ہو یا جلی ایک عظیم ظلم اور نہ بخشا جانے والا گناہ ہے ۔

اورشیعوں نے یہ عقائد ؛عقل محکم (سالم) سے اخذ کئے ہیں، جن کی تائید و تصدیق کتاب خدا اور سنت شریفہ سے بھی ہوتی ہے۔

اور شیعوں نے اپنے عقائد کے میدان میں ان احادیث پر تکیہ نہیں کیا ہے جن میں اسرائیلیات ( جعلی توریت اور انجیل ) اور مجوسیت کی گڑھی ہوئی باتوں کی آمیزش ہے، جنھوں نے اﷲ کو بشر کی مانند ماناہے، اوروہ اس کی تشبیہ مخلوق سے دیتے ہیں، یا پھر ی اس کی طرف ظلم و جور، اور لغو و عبث جیسے افعال کی نسبت دیتے ہیں ،حالانکہ اﷲ تعالی ان تمام باتوں سے نہایت بلند و برتر ہے،یا یہ لوگ خدا کے پاک و پاکیزہ معصوم نبیوں کی طرف برائیوں اور قبیح باتوںکی نسبت دیتے ہیں ۔

۱۶

۶۔شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا عادل اور حکیم ہے

۶۔شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا عادل اور حکیم ہے ،اور اس نے عدل و حکمت سے خلق کیا ، چاہے وہ جماد ہویا نبات ، حیوان ہو یا انسان ، آسمان ہو یا زمین ، اس نے کوئی شۓ عبث خلق نہیں کی ہے،کیونکہ عبث( فضول یا بیکار ہونا) نہ تنہا اس کے عدل و حکمت کے منافی ہے بلکہ اس کی اس الو ہیت سے بھی منافی ہے جس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند متعال کے لئے تمام کمالات کا اثبات کیا جائے ، اور اس سے ہر قسم کے نقص کی نفی کی جائے ۔

۷:-بعثت انبیا اوررسولوں کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ

۷۔ شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا وند متعال نے عدل و حکمت کے ساتھ ابتدائے خلقت ہی سے اس کی طرف انبیاء اور رسولوں کو معصوم بنا کر بھیجا ، اور پھر انھیں وسیع علم سے آراستہ کیاجو وحی کے ذریعہ اﷲ کی جانب سے انھیں عطا کیا گیا ،اور یہ سب کچھ نوع بشر کی ہدایت اور اسے اس کے گمشدہ کمال تک پہنچانے کیلئے تھا تاکہ اس کے ذریعہ ایسی طاعت کی طرف بھی اس کی راہنمائی ہوجائے جو اسے جنتی بنانے کے ساتھ ساتھ پروردگار کی خوشنودی اور اس کی رحمت کا مستحق قرادیدے، اوران انبیاء و مرسلین کے درمیان آدم ، نوح ، ابراہیم ، عیسی ،موسی اور حضرت محمد مصطفے (ع) سب سے مشہور ہیں ، جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے، یا جن کے اسماء اور حالات سنت شریفہ میں ذکرہوئے ہیں ۔

۱۷

۸:-نجات پانے والوں کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ

۸۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ جو اﷲ کی اطاعت کرے ، اس کے اوامر کو نافذ کرے ، اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس کے قوانین پر عمل کرے وہ نجات یافتہ اور کامیاب ہے ، اور وہی مستحق مدح و ثواب ہے ، چاہے وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، اور جس نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کے اوامر کو نہیں پہچانا ، اور اﷲ کے احکام کے بجائے دوسروںکے احکام کے بندھن میں بندھ گیا ، وہ مستحق مذمت اور ہلاک شدہ اور گھاٹاا ٹھانے والوں میں سے ہے ، چاہے وہ قرشی سید ہی کیوں نہ ہو ، جیسا کہ پیغمبر اسلام کی حدیث شریف میں آیا ہے۔

شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ثواب و عقاب ملنے کی جگہ روز قیامت ہے جس دن حساب و کتاب ، میزان و جنت و نار سب کے سامنے ہوں گے ، اور یہ مرحلہ برزخ اور عالم قبر کے بعد ہوگا ،نیز عقیدہ ٔتناسخ جس کے منکرین معاد قائل ہیں، اس کو شیعہ باطل قرار دیتے ہیں کیونکہ عقیدۂ تناسخ سے قرآن کریم ا ور حدیث مطہرہ کی تکذیب لازم آتی ہے۔

۹:ختم نبوت کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ

۹۔ شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء ومرسلین کی آخری فرد اور ان سب سے افضل نبی حضرت محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب ہیں، جنھیں خداوند متعال نے ہر خطا اور لغزش سے محفوظ رکھا اور ہر گناہ صغیرہ و کبیرہ سے معصوم قرار دیا چاہے وہ قبل نبوت ہویا بعد نبوت ،چاہے تبلیغ کا مرحلہ ہو یاتبلیغ کے علاوہ کوئی اور کام ہو ،اور ان کے اوپر قرآن کریم نازل کیا ، تاکہ وہ حیات بشری کیلئے ایک دائمی دستور العمل قرار پائے ، پس رسول اسلام نے رسالت کی تبلیغ کی اور امانت کو صداقت و اخلاص کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دیا ، اور اس اہم اور قیمتی راستے میں ہر ممکن کوشش کی ، شیعہ حضرات کے یہاں رسول اسلام کی شخصیت ،آ پ کے خصوصیات، معجزات اور آ پ کے حالات سے متعلق سینکڑوں کتابیں موجود ہیں ۔

بطور نمونہ دیکھئے : کتاب'' الارشاد '' مؤلفہ شیخ مفید اعلام الوری ، اعلام الہدی ؛ مؤلفہطبرسی موسوعہ(معجم) بحار الانوار ؛مؤلفہ علامہ مجلسی .اور موجودہ دور کی ، موسوعة الرسول المصطفی ؛ مؤلفہمحسن خاتمی.

۱۸

۱۰:نزول قرآن کے بارے میں شیعوں کانظریہ

۱۰۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم حضرت محمد مصطفی پر جبرئیل امین کے ذریعہ نازل ہوا ، جسے کچھ بزرگ صحابہ نے رسول اسلام حضرت محمد مطفی کے دور نبوت میں ہی آپ کے حکم سے تدوین کیا ،جن میں سر فہرست حضرت علی بن ابی طالب ـہیں ،ان حضرات نے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ اس کو لفظ بہ لفظ بھی یاد کیا اور اس کے حروف و کلمات نیز سورے اور آیات کی تعداد بھی مشخص اور معین کردی ، اس طرح یہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک منتقل ہوتا آرہا ہے ، اور آج مسلمانوں کے تمام فرقے رات و دن اس کی تلاوت کرتے ہیں ، نہ اس میں کوئی زیادتی ہوئی اور نہ ہی کوئی کمی، یہ ہر قسم کی تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے ، شیعہ حضرات کے یہاں اس بارے میں بھی متعدد چھوٹی اور بڑی کتابیں موجودہیں ۔(۱)

۱۱:خلافت کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ

۱۱۔ شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب حضرت محمد مصطفی کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آ پ نے حضرت علی ـ کو تمام مسلمانوں کی رہبری کیلئے اپنا خلیفہ اور لوگوں کے لئے امام کے طورپر منصبوب کیا ، تاکہ علی ان کی سیاسی قیادت اورفکری راہنمائی فرمائیں، اور ان کی مشکلوں کو حل کریں ، اور ان کے نفوس کا تزکیہ اور ان کی تربیت کریں،اور یہ سب خدا کے حکم سے مقام غدیر خم میں رسول کی حیات کے آخری دور اور حج آخر کے بعد،ان مسلمان حاجیوں کے جم غفیر کے درمیان انجام پایاجو آپ کے ساتھ اسی وقت حج کرکے واپس آرہے تھے ، جن کی تعداد بعض روایات کی بناپر ایک لاکھ تک پہنچتی ہے ، اور اس مناسبت پر متعدد آیتیں نازل ہوئیں ۔(۲)

____________________

(۱)تاریخ قرآن ؛ زنجانی التمہید فی علوم القرآن ؛ مؤلفہ محمد ہادی معرفت وغیرہ وغیرہ

(۲) (یا اَیُّهٰاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ َاِلَیکَ مِنْ رَبِّک وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَه وَاللّٰهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّاس )سورہ مائدہ ،آیت ۶۷. دوسری آیت:یہ آیت بھی اسی سلسلے میں نازل ہوئی :(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وْرَضِیْتُ لَکُمُ اْلِاسْلامَ دِیْناً )سورہ مائدہ ، آیت ۳. (اَلْیَوْمَ یَئِسَ الًّذِیْنَ کَفَرُوْا، مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَاْ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ )سورہ مائدہ ، آیت ۳. نیز یہ آیت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے :

(سَئَلَ سَائِل بِعَذَاْبٍ وَاْقعٍ ٭ لِلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَهُ دَاْفِع ) سورہ معارج ، آیت ۲.

۱۹

اس کے بعد نبی اکرم نے علی ـ کے ہاتھوں پر لوگوں سے بیعت طلب کی، چنانچہ تمام لوگوں نے علی کی بیعت کی اور ان بیعت کرنے والوں میں سب سے آگے مہاجرین و انصار کے بزرگ اور مشہور صحابہ تھے، مزید تفصیل کے لئے دیکھئے :کتاب'' الغدیر''جس میں علامہ امینی نے مسلمانوں کے تفسیری اور تاریخی مصادر و مآخذ سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔

۱۲:عصمت اور وسیع علم

۱۲۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ چونکہ - رسول اکرم کے بعد-امام کی ذمہ داری وہی ہے جو نبی کی ہوتی ہے جیسے امت کی قیادت و ہدایت ، تعلیم و تربیت ، تبیین احکام اوران کی مشکلات کا حل کرنا ، نیز سماجی اہم امور کا حل کرنا،لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام اور خلیفہ ایسا ہونا چاہیئے کہ لو گ اس پر بھروسہ اور اعتبار کرتے ہوں ، تاکہ وہ امت کو امن و امان کے ساحل تک پہونچا جا سکے ، پس امام تمام صلاحیتوں اور صفات میں نبی جیسا ہونا چاہیئے ، (جیسے عصمت اور وسیع علم )کیونکہ امام کے فرائض بھی نبی کی طرح ہوتے

ہیں، البتہ وحی اور نبوت کے علاوہ ، کیونکہ نبوت حضرت محمد بن عبداﷲ پر ختم ہوگئی، آپ ہی خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں ، نیز آپ کا دین خاتم الادیان ، اور آپ کی شریعت خاتم الشرائع اور کتاب خاتم الکتب ہے ،نہ آپ کے بعد کوئی نبی ، اور نہ آپ کے دین کے بعد کوئی دین ،اور اسی طرح نہ آپ کی شریعت کے بعد کوئی شریعت آئیگی۔ ( شیعوں کے پاس اس میدان میں بھی متعدداور متنوع ضخیم اور فکری واستدلالی کتابیں موجود ہیں.)

۲۰