اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 5216
ڈاؤنلوڈ: 330

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5216 / ڈاؤنلوڈ: 330
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

تیسری فصل کے حوالے

(۱)ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ بنی امیہ کے کچھ لوگ ایک ساتھ ہوکر معاویہ کے پاس گئے اور اس سے کہا: ''اے امیر المؤمنین! تمہیں جو چاہیئے تھا وہ حاصل کرلیا۔ لیکن ابھی تک کیوں اس مرد (حضرت امام علی ابن ابی طالب) پر لعنت کرنے سے باز نہیں آتے؟ معاویہ نے جواب میں کہا: خد اکی قسم میں اس وقت تک اپنے اس عمل سے دست بردار نہیں ہوں گا جب تک کہ بچے اسی لعنت پر بزرگ نہ ہوجائیں اور بزرگ لوگ اسی پر بوڑھے نہ ہوجائیں اور کوئی بھی ذاکر اس کی ایک بھی فضیلت کو بھی نقل نہ کرے۔'' النص والاجتھاد، کے ص۴۹۹ پرجو شرح ابن ابی الحدید، کی ج۱، ص۴۶۳ سے منقول ہے۔ اسی مطلب کو ابوجعفر اسکافی کے کلام سے مقائسہ کریں کہ اس نے کہا: ''اگر خد اکی خاص توجہ اس مرد (حضرت امام علیـ) کے ساتھ نہ ہوتی تو جو کچھ بنی امیہ اور بنی مروان نے اس کے خلاف انجام دیا ہے، ان کی فضیلت میں ایک حدیث بھی باقی نہیں بچتی۔ '' دوسرے نمونوں کو حاصل کرنے کے لئے شرح ابن ابی الحدید، کی ج۴، ص۵۶۔ ۱۱۶، پر رجوع کریں۔

(۲)گولڈزیہر نقل کرتاہے: اموی لوگ نماز عید کے خطبہ کو نماز پر مقدم کرتے تھے تاکہ لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے ان کے کلام کو سن لیں اور اس کے بعد مزید اضافہ کرتا ہے وہ لوگ نماز پڑھ کر مسجد کو ترک کر دیتے تھے تاکہ وہ خطبے جو حب اور حضرت امام علیـ کی لعنت کے سلسلہ میں ہوتا تھا اسے نہ سنیں۔

Goldziher, Muslim Studies, Vol.۲nd, P.۵۱

(۳)اس سلسلہ میں مخصوصاً آپ الاسلام واصول الحکم، نامی کتاب کی طرف رجوع کریں۔ جس میں اس واقعہ کی بخوبی تحلیل و تجزیہ اور تنقید بھی کی گئی ہے۔ ص۱۱۳۔ ۱۳۶، ۱۸۰۔ ۱۸۲۔

(۴)اموی لوگ عباسیوں کے بر خلاف نہ تو دین کے ضرورت مند تھے اور نہ تو اس کا تظاہر ہی کرتے تھے۔ تربیت اور ان کے نفسیات، عادات اور ان کے اخلاقیات زیادہ تر جاہلیت اور بدویت سے تال میل کھاتے تھے، ان کا کردار بھی اسی کے مطابق تھا۔ ان لوگوں کی سیاست بیشتر ایک قبیلہ کے سردار سے میل کھاتی تھی نہ کہ خلیفہ اور ایک بڑی سلطنت کے بادشاہ سے۔ یہی وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے بہت ہی تیزی سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ معاویہ جو دوسروں سے زیادہ حفظ ظاہر کی رعایت کرتا تھا وہ خود کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ''میرا ہدف تم لوگوں پر حکومت کرنا ہے اور مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے کہ تمھیں نماز کے لئے آمادہ کروں اور زکاة کے لئے ابھاروں اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ ایسا ہی کرتے ہو۔ '' الامویون والخلافة، کے ص۱۳، یا یہ کہ عبدالملک آشکارا کہا کرتا تھا: ''ائے لوگو! راہ مستقیم پر آجاؤ اور اپنی ہواء و ہوس کو چھوڑ دو اور تفرقہ سے پرہیز کرو اور ہمیں مسلسل مہاجرین اولین کی طرح اعمال انجام دینے کے لئے نہ کہو اور تم ان لوگوں کو نہیں جانتے ہو کہ ان لوگوں کی روش اور کردار کیا تھا...'' الامویون والخلافة، کے ص۱۲۲۔

لیکن عباسی (خلفا) لوگ ایسے نہ تھے ان کی ہمیشہ یہی کوشش تھی کہ جہاں تک ہوسکے دین کے احکامات پر پابند رہنے کا دکھاوا کریں، ''عباسیوں کے دور خلافت کا ابتدائی حصہ دینی رنگ لئے ہوئے تھا، تاکہ اس طرح وہ لوگوں کے درمیان ان کی دینی عظمت میں اضافہ ہوجائے۔ یہ روش منصور کے زمانہ میں شدید ہوگئی تھی، اس لئے کہ اس دور میں ان لوگوں کی کمی نہیں تھی جن لوگوں نے اس کے خلاف قیام کیا...'' مبادی نظام الحکم فی الاسلام، ص۵۸۴۔ امویوں کی جاہلی تعصب کا ایک نمونہ یہ ہے: ''اموی خلفا اس شخص کی بیعت کو پسند نہیں کرتے تھے جس کی ماں کنیز رہ چکی ہو۔ '' تاریخ ابن عساکر، ج۵، ص۲۰۶۔ یا یہ کہ ابن ابی الحدید یہ کہتا ہے: ''امویوں کے یہاں یہ مشہور تھا کہ ان کا آخری خلیفہ وہ ہے جس کی ماں کنیز ہو۔ اسی وجہ سے خلافت کو ایسے شخص کے حوالہ نہیں کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر قرار یہی ہوتا تو پھر مسلمة بن عبد الملک ان میں سے سب سے بہتر ہوتا۔ '' شرح ابن ابی الحدید، کی ج۷، ص۱۵۷، پر رجوع کریں۔ اور اسی طرح الامویون والخلافة، نامی کتاب کے ص۴۵، پر رجوع کریں۔ فجر الاسلام، ص۹۱۔

عباسیوں کی روش بالکل اس کے بر عکس تھی اور عباسی لوگ صرف موالیوں (کنیزوں) سے شادی کرتے تھے۔ ۸۰۰ئ کے بعد کوئی ایسا خلیفہ ہوا ہی نہیں جو کسی آزاد عورت سے پیدا ہوا ہو۔

G. F. Grunebaum, Classical Islam, P.۸۰. Goldziher, Muslim Studies, Vol ۲nd PP.۳۸-۸۸

عباسیوں اور امویوں کی سیاست اور ان کی روش کے اختلاف کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے آپ مذکورہ کتاب کے ص۸۹۔ ۸۰، پر خاص طور سے رجوع کریں:

(۵)البیان والتبیین، ج۲، ص۱۰۲۔ ۱۰۳۔

(۶)صدر اسلام کے متعلق شیعوں کے تنقیدی نظریات کی محکومیت کو معلوم کرنے کے لئے آپ کتاب السنة مؤلفۂ بر بہاری، طبقات الحنابلہ، کی ج۲، ص۱۸۔ ۴۵ پر رجوع کریں۔

(۷)تحول و ثبات، ص۸۷۔ ۱۰۰۔

(۸)نظریة الامامة لدی الشیعة الامامیة، ص۳۱۹ اور ۳۲۰۔

(۹)سابق حوالہ، ص۳۲۱۔

(۱۰)مثلا مقریزی جو صدرا سلام اور اس کے بعد والی صدیوں کے حوادث کی تاریخ اور اس ثقافت کے متعلق مطلع ترین افراد میں سے شمار کئے جاتے ہیں وہ ہر اس عبارت کو رد کرتے ہیں جس میں صحابہ کرام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قضا و قدر، صفات خدا یا آیات متشابہ کے سلسلہ میں سوال کیا گیا ہے، ان کی نظر میں وہ سب روایات جعلی اور وضع کی گئی ہیں اس لئے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے صرف عبادات اور اس کی کیفیات کے سلسلہ میں سوال کیا جاتا تھا۔ خطط مقریزی، ج۴، ص۱۸۰، پر رجوع کریں۔ اسی نظریہ کے نقد کو معلوم کرنے کے لئے کتاب النظم الاسلامیة، کے ص۷۴۔ ۷۷، پر ملاحظہ کریں۔

(۱۱)اعلام الموقعین، ج۴، ص۱۱۸۔ ۱۵۶ جس میں اصحاب اور تابعین کی اتباع کے وجوب کے سلسلہ میں سیرحاصل بحث کی گئی ہے اور آپ اسی طرح کتاب تراث الخلافة الراشدین کے ص۱۴ اور ۱۵، پر بھی رجوع کرسکتے بر بہاری اپنی کتاب السنة ابن حنبلکی شرح میں صحابہ کے اتباع کے وجوب کے باب میں بیان کرتے ہیں: ''جان لو کہ دین تقلید ہے۔ تقلید بھی اصحاب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی... پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب سے خطاب کرکے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ جو میرے بعد زندہ رہیں گے وہ بہت زیادہ اختلافات کا مشاہدہ کریں گے لہٰذا خبردار! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی انھیں جدید اور حادث امور میں گرفتار ہوجاؤ کہ اس میں گرفتار ہونا ضلالت ہے۔ تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفا ئے راشدین کی اطاعت کرو۔ جو کتاب طبقات الحنابلة، کی ج۲، ص۲۹ سے منقول ہے۔ اور ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں: ''خدارا! خدارا! اپنے نفس کو بچائے رکھنا، صحابہ اور سلف صالح کے آثار کی اتباع تم پر واجب ہے۔ اور ان کی تقلید بھی تم پر لازم ہے، اس لئے کہ دین خود تقلید کا نام ہے۔ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے صحابہ کی تقلید۔ جو انھیں قبول کرلے گا وہ غلطی میں نہیں پڑے گااور ان لوگوں کے بعد ان کی تقلید کرنا اور سکون و چین کا سانس لینا اور اس (تقلید) سے تجاوز نہ کرنا۔'' سابق حوالہ، ص۳۹۔ ایک اور مقام پر اس سے زیادہ واضح انداز میں کہتے ہیں: ''اگر تم نے یہ سنا کہ کوئی شخص رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس پر طعنہ کر رہا ہے اور اسے قبول نہیں کرتا یا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اخبار میں سے کسی خبر کا انکار کررہا ہے، اس کے اسلام کو متہم (مشکوک) جانو۔ اس لئے کہ وہ بے دین انسان ہے اور ااس نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ کو برا بھلا کہا اور ان پر طعنہ کئے ہیں۔ کیونکہ ہم نے خدا و رسول، قرآن، خیر و شراور دنیا و آخرت کو گذشتگان کے آثار کے ذریعہ ہی پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اضافہ کرتا ہے: ''قرآن زیادہ محتاج ہے سنت کا قرآن کی نسبت احتیاج کے مقابلہ میں، سابق حوالہ، ص۴۵۔

(۱۲)الفتاوی الحدیثة، ص۳۰۵۔ عبداللہ ابن مبارک کے سلسلہ میں ایسے ہی نظریہ کو بیان کیا گیا ہے اور اس کی شخصیت اور خصوصیات کے لئے آپ، الاسلام بین العلما والحکام، ص۲۲۸ اور ۲۲۹۔

(۱۳)طبقات الحنابلة، ج۲، ص۲۱۔

(۱۴)اس نظریہ کی تنقید کے با ب میں کہ اصحاب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان قطعاً منافق اور فاسق بھی موجود تھے اور یہاں تک کہ بعض ایسے بھی تھے جن پر خود رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لعنت کی تھی، اس سلسلہ میں معلومات کے لئے آپ: الملل والنحلکی طرف رجوع کر سکتے ہیں استاد سبحانی، ص۱۹۱۔ ۲۲۸۔ نیز النص والاجتہاد، ص۵۱۹۔ ۵۲۵؛ اور مخصوصاً اس سلسلہ میں محمد تیجانی کی زندہ بحث کو کتاب ثم اھتدیت، میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ص۷۷۔ ۱۲۲۔ اضواء علی سنة المحمدیة، کے ص۳۲۹، ص۳۵۶۔ ۳۶۳ پر ملاحظہ کریں۔

(۱۵)خصوصاً کتاب الفصل فی الملل والاھواء والنحل، کی ج۴، ص۹۴ پر مراجعہ فرمائیں؛ نیز کتاب الفصول المھمة فی تألیف الامة، کے ص۷۔ ۶۰؛ پر بھی رجوع کرسکتے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ کتاب ثم اھتدیت، کے ص۴۱۔ ۴۴ کی طرف رکوع کیا جائے۔

(۱۶)الائمة الاربعة، ج۴، ص۱۱۷۔

(۱۷)طبقات الحنابلة، کی ج۲، ص۳۵۔ ۳۷، پر اسے ملاحظہ کریں۔ کتاب العواصم والقواصم فی الذب عن سنة ابی القاسم، کی ج۳، ص۲۳۔ ۲۳۰ پر رجوع کریں۔

(۱۸)القوانین الفقہیة، ص۱۸۔

(۱۹)العواصم من القواصم، کے ص۲۳۱ اور ۲۳۲ پر رجوع کریں، محمود صبحی ابن عربی اور انھیں کے جیسے افراد کی شدید تنقیدوں کے سلسلہ میں اس طرح اظہار نظر کرتا ہے: ''اس کے باوجود کہ امام حسینـ کی نسبت اہل ظاہر اور سلفیوں کا عقیدہ دینی عقائد کے باعث وجود میں آیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا زاویہ نگاہ خالص دینی نہیں تھا۔ ان میں سے اکثر شام کے باشندے تھے، مانند ابن تیمیہ یا اندلس سے متعلق تھے جیسے ابن حزم اور ابن عربی، ان لوگوں کے نظریات اقلیمی تعصب کے شایبوں اور یا اموی تعصبات سے خالی نہ تھے۔ اور اصولاً ان لوگوں کے نظریات شیعوں کے عقائد کے مخالف تھے... اور چونکہ امام حسینـ کی شہادت شیعوں کے عقائد کے بنیادی منابع میں سے ایک تھا، شیعوں کے مختلف فرقوں کا وجود اور ان کا باقی رہنا اسی واقعہ کے مرہون منت ہے، لہٰذا اسے غلط اور کم اہمیت دکھانا اور یا اس جرم کی نسبت کوفیوں کی طرف دینا جو دراصل پوری شیعت کو نابود کرنے کی ایک کوشش تھی۔'' نظریة الامامة، کے ص۳۳۸ پر رجوع کریں۔

(۲۰)امام حسینـ پر دوسری تنقیدوں کے بارے میں جو آپ پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے متعلق معلومات کے لئے آپ نظریة الامامة، نامی کتاب کے ص۳۳۸ اور ۳۳۹ پر رجوع کرسکتے ہیں۔

(۲۱)تعجب کی بات تو اس مقام پر ہے کہ ابن حنبل، ابن عربی کے نقل کے مطابق تنہا اس سخن کی وجہ سے کہ وہ خود یزید کی زبان سے مطلب کو نقل کرتا ہے، اسے جلیل القدر اور عظیم المنزلت مانا ہے اس حدتک کہ اسے انھوں نے اپنی کتاب الزہد، میں اس کا نام زہاد اور صحابہ و تابعین کی صف میں شمار کیا ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے آپ العواصم من القواصم، نامی کتاب کے ص۲۳۲ اور ۲۳۳، پر تلاش کریں۔ یزید سے دفاع کے باب میں جسے انھوںنے دینی رجحان کے تحت ذکر کیا ہے، اسی طرح اسی کتاب کے حاشیہ میں محب الدین خطیب کے قول کی طرف رجوع کریں، ص۲۲۷ اور ۲۲۸، اس مقام پر جہاں معاویہ کا یزید کو ولی عہد بنانے کے اقدام کے بارے میں اس کا دفاع کرتے ہیں، نیز اسی شخص کی کتاب کے حاشیہ کے ص۲۱۵ اور ۳۴۸ پر رجوع کریں۔

(۲۲)نظریة الامامة لدی الشیعة الاثنی عشریة، ص۳۴۷، ۳۴۸۔

(۲۳)شرح ابن ابی الحدید، ج۲، ص۸۔ ۳۵۔

(۲۴)الاقتصار فی الاعتقاد، کے ص۲۰۳ اور ۲۰۵؛ کتاب شرح ابن ابی الحدید، میں امام الحرمین جوینی کے نظریات کے لئے ج۲۰، ص۱۰۔ ۱۲؛ اس کے نظریات کی تنقید کا بھی جو بہترین اور بے طرف ترین تنقیدوں میں سے ایک ہے اسی مقام پر ص۱۳۔ ۳۴؛ میں تلاش کریں۔

(۲۵)ایھا الولد، فارسی ترجمہ، ص۳۰؛ جو غزالی نامہ کے ص۴۱۹۔ ۴۳۶، سے منقول ہے۔ غزالی کا استدلال کہ وہ کہتا ہے: ''اس لئے کہ احادیث نبوی اور دوسرے صحیح مدارک اور مآخذ کی بنیاد پر کسی بھی مسلمان پر لعنت کرنا حرام ہے۔'' اسی مطلب کو اس کے استاد امام الحرمین جوینی ایک مستدل اور جامع ترین بیان کے ذریعہ وضاحت کرتے ہیں۔ شرح ابن ابی الحدید، کی ج۲۰، ص۱۱، پر رجوع کریں۔

(۲۶)یزید پر لعنت بھیجنے کے مخالفین اور موافقین کے نظریات اور دونوں طرح کے مطالب پر مشتمل احادیث اور دونوں طرف کے دلائل کو معلوم کرنے کے لئے ابن الجوزی کی کتاب الرد علی المتعصب العنید کے عنوان سے مذکور ہے جو بہترین اور مستند ترین کتاب ہے آپ اس پر رجوع کریں۔

(۲۷)اہل سنت اور شیعوں کی تاریخی فہم اور نظریات ابتدا سے ہی جدا رہے ہیں۔ یہ فرق گذشتہ زمانہ میں عموماً صدر اسلام کی تاریخ میں خلاصہ ہوجاتا تھا اور آج کل پوری تاریخ اسلام کو شامل ہے بلکہ تاریخ اپنے عام مفہوم میں بھی تمامی ادوار کو شامل ہے۔ صدر اسلام کے متعلق ان دونوں زاویۂ نگاہ اور فہم کے فرق کا مقایسہ کریں کتاب العواصم من القواصماور اس پر محب الدین خطیب کے مقدمہ اور حاشیوں کو النص و الاجتہاداور اسی طرح الغدیر، مخصوصاً اس کی ۴، ۶ اور ۷ویں جلد کی طرف رجوع کریں۔

لیکن آج کل تبدیلی آچکی ہے۔ اس معنی میں اہل سنت کے روشن فکروں کی تاریخی فہم خاص طور سے صدر اسلام کے متعلق بعض اسباب کے تحت شیعوں کے نظریات سے نزدیک ہوگئی ہیں۔ اس مدعا کی پہلی دلیل، دینی تعصبات میں کمی آجانا اور دوسری دلیل تاریخی تنقید کے جدید قواعد و ضوابط کی طرف متوجہ ہوجانا ہے۔ شاید اس گروہ کے بہترین نمائندہ طہ حسین ہیں جنھوں نے اپنی کتاب الفتنة الکبری، کی پہلی جلد جس میں ان کے نظریات اور تحلیل و تجزیہ کیا ہے اور دوسری جلد میں بھی بہت سے مواقع پر وہ شیعوں کے نظریات سے بہت نزدیک بلکہ ان سے موافق ہیں۔ اگرچہ علامہ مرحوم امینی الغدیر، کی ج۹، ص۲۵۱۔ ۲۵۴، پر نیز انور الجندی اپنی کتاب مؤلفات فی المیزان، کے ص۶۔ ۱۹، میں اس کتاب پر تنقید کی ہے لیکن اس کی طرح کے بہت سے نمونے تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ بطور نمونہ آپ کتاب اندیشہ سیاسی در اسلام معاصر، نامی کتاب کے ص۳۰۸۔ ۳۳۲، پر کہ اس مقام پر جہاں دور حاضر کے سنی مصنفین کا واقعہ عاشورا کی بارے میں اس کی چھان بین اور تحلیل و تجزیہ کے طریقہ کو بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ابھی بھی دینی علما اور روشن فکروں کی کمی نہیں ہے جو گذشتہ متعصبین کی روش کو اپنائے ہوئے ہیں۔ بطور نمونہ مراجعہ کریں محمد الحامد الفقی کے حاشیہ کی طرف جو کتاب اقتضاء الصراط المستقیم، مؤلفہ ابن تیمیہ انصار السنة المحمدیة، کی جماعت کے صدر اور مذکورہ کتاب کے مصحح بھی ہیں مخصوصاً ص۱۶۵ و ۱۶۶؛ التاریخ الاسلامی و فکر القرن العشرین، نامی کتاب میں بھی رجوع کریں خصوصیت کے ساتھ اس کتاب کے مقدمہ اور ص۸۷۔ ۱۰۶، اس کتاب کے مؤلف فاروق عمر جو روشن فکروں میں سے ایک ہیں۔

(۲۸) Maqime Rodinron. Marqiom and The Muslim World, PP. ۳۴-۵۹, ۱۹۴-۲۰۳

(۲۹), v ifclrhgcsu ۳/۴ hg ۳/۴ dk hfvhidl ۳/۴ vfhvc ?v iihxlfhv. hsblx ۳/۴ vlwv ۳/۴ v

(۳۰)معالم فی الطریق، ص۱۷۔ ۱۹۔

(۳۱)سابق حوالہ، ص۱۰۵۔ ۱۰۶۔

(۳۲)سابق حوالہ، ص۱۴۹۔ ۱۵۰۔

(۳۳)سابق حوالہ، ص۶۰۔ ۶۱۔

(۳۴)الازہر کی فتوا کمیٹی کے رئیس شیخ سبکی، قطب کی کتاب کے سلسلہ میں اس طرح فرمایا: ''اگرچہ کتاب معالم فی الطریق، پہلی نظر میں ایک ایسی کتاب نظر آئے جسے دیکھ کر ایسا معلوم ہو کہ اس میں اسلام سے توسل کیا گیا ہے لیکن اس کا فتنہ انگیز طریقہ اور اس کے مصیبت بار اثرات جوانوں اور قاریوں کا وہ طبقہ جو اسلام کے متعلق کافی معلومات کے حامل نہیں ہیں، ان کے لئے اس کتاب کا مطالعہ اسلام سے بیزاری کا موجب ہے۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نزدیک زمانہ کے علاوہ دوسرے ادوار کو جاہلی دور کا نام دینا کفر آمیز عمل ہے۔'' پیامبر و فرعون، ص۶۲۔ دوسرے ناقدین کی تنقیدوں کے بارے میں اسی مقام پر ص۶۳۔ ۷۱ پر رجوع کریں اس سلسلہ میں خاص طور سے آپ رائد الفکر الاسلامی المعاصرمؤلفہ یوسف العظم ص۳۰۵۔ ۳۰۹، کی طرف رجوع کریں واسی طرح سید قطب کی طرف بھی: خلاصة حیاتہ و منھجہ فی الحرکة، کے ص۲۱۵۔ ۲۲۰، پر رجوع کریں ان لوگوںکے سلسلہ میں جنھوں نے دینی فریضہ سمجھتے ہوئے سید قطب پر تنقید یا ان سے دفاع کیا ہے۔ سید قطب کے بارے میں کتاب الادیب الناقد، مؤلفہ عبد اللہ عوض الخباص نامی کتاب کے ص۳۲۵، ۳۲۹ پر رجوع کریں۔

(۳۵)معالم فی الطریق، ص۹۔

(۳۶)سید قطب نے اپنی کتاب معالم فی الطریق، میں جس میں انہوں نے حالات کا اجمالی جائزہ لینے کے لئے مذکورہ کتاب کو تحریر کیا اور ان کے موافقین و مخالفین کے نظریات کا خلاصہ معلوم کرنے کے لئے الادیب الناقد، مؤلفہ سید قطب، کی کتاب کے ص۳۲۵۔ ۳۲۹ پر رجوع کریں۔

(۳۷)بطور نمونہ سبکی نے قطب پر تنقید کرتے ہوئے اس طرح اظہار خیال کیا: ''سید قطب نے خوارج کی طرح لاحکم الا لِلّٰہ کے مفہوم سے استفادہ کیا ہے تاکہ مسلمانوں کو ہر قسم کی دنیاوی حاکمیت سے مخالفت کی دعوت دیں۔ '' اس کے بعد اضافہ کرتے ہیں: ''اس کے برخلاف قرآن نے مسلمان حاکم کی اطاعت کی وصیت کی ہے اور حاکم کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اتباع کے ذیل میں اپنی رعیت کے درمیان عدل کے مطابق حکومت کرے۔ اس کے علاوہ غالباً مسلمان ممالک کے پیشوا اور حکام نیک ہیں۔'' پیامبر و فرعون، نامی کتاب کے ص۶۲۔ اور الشیعة والحاکمون، نامی کتاب کے ص۷ پر رجوع کریں؛ا لفکر السیاسی الشیعی، کے ص۲۶۹ پر بھی رجوع کریں۔

(۳۸)متقدمین کی تاریخ کے متعلق فکر و فہم کا بہترین نمونہ ابن عربی کی العواصم من القواصم، نامی کتاب ہے اور دور حاضر کا بہترین نمونہ اسی کتاب پر محب الدین خطیب کے حاشیے ہیں۔ قابل توجہ یہ ہے حتیٰ کہ ابن عربی ابن قتیبہ، مسعودی جیسے مؤرخین حتیٰ مبرد جیسا شخص جو ابن عربی کی نظر میں ایک ایسا شخص ہے جس نے تاریخ کی ناگفتہ بہ باتوں کو بیان کیا ہے، ان پر شدت سے تنقید کرتے ہیں۔ العواصم من القواصم، کے ص۲۴۸و ۲۴۹ پر، انھوں نے شدت کے ساتھ ابن قتیبہ اور ان کی کتاب الامامة والسیاسة، پر تنقید کرتے ہیں۔ اور اس کو شیعہ شمار کرتے ہیں حالانکہ یہ مسلم ہے کہ وہ شیعہ نہیں تھے۔ اس مدعا کی بہترین دلیل ان کی کتا ب تأویل مختلف الاحادیث، مخصوصاً، ا س کا ص۷۰۔ ۷۳ ہے۔ وہ خود اور انھیں جیسے دوسرے افراد ایک باعظمت اور کسی تضاد اور خلاف کے بغیر تاریخ کو پسند کرتے ہیں اور کسی بھی صورت مائل نہیں ہیں کہ اسے کسی دوسری طرح پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام مؤرخین میں صرف طبری کو پسند کرتے ہیں اور اسے موثق مانتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی بات کو نہیں سننا چاہئے۔ سابق حوالہ، ص۲۴۸۔

محب الدین خطیب نے بیشتر شدت اور حدت کے ساتھ ابن عربی کے نظریات سے دفاع کرتے ہیں اور یہ نکتہ ان کے مقدمہ اور اس کے حاشیوں کے مطالعہ کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے جیسے کہ الامامة والسیاسة، کو ابن قتیبہ کی کتاب نہیں مانتے اور مسعودی کو شیعہ اور مبرد کو خوارج سے نزدیک مانتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کتاب تحول و ثبات، کے ص ۱۲۱، ۲۱۴۔ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

(۳۹)اہل سنت اصولاً (اساساً) تاریخ کی بہ نسبت خوش بین زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مخصوصاً اس مقام پر جہاں تاریخ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ ہو۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ایسی قیمتی اور باعث افتخار میراث کا وارث سمجھتے ہیں اور ہر اس شخص کے مقابلہ میں جس کا مقصد اس کو بے اہمیت اور انھیں کم اہمیت دکھانا ہو، فوراً ردعمل ظاہر کرتے ہیں بطور نمونہ آپ مراجعہ کریں کتاب الاسلام و اصول الحکم، کی رد میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، خضر حسین سے لیکر ضیاء الدین الریس تک ہر ایک نے اس کے تنقیدی موقف بلکہ ان کی تعبیر کے مطابق تاریخ کے متعلق بدبینی پر سخت تنقید کی ہے، مخصوصاً اس کے واسطے آپ الاسلام والخلافة فی العصر الحدیث، نامی کتاب کے ص۲۵۰۔ ۲۹۲ پر رجوع کریںاور کتاب الاسلام و اصول الحکم، پر محمد عمارہ کے مقدمہ کے ص۷۱۔ ۹۴ کی طرف رجوع کیا جائے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ تاریخ کے متعلق اس دور جدید میں اہل سنت کی خوش بینی کی فکر کی نسبت بہت زیادہ جدید روشن فکروں کے استقبال کا باعث ہوئی ہے۔ جس کے بہت زیادہ اسباب ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہیں کہ اپنی مستقل حقیقت سے آگاہی اور شعور، غرب کی جانب سے مدام تحقیر، خود غربیوں کی جانب سے میراث اسلامی کی عظمت اور اسے اہمیت کے حامل ہونے کا یقین دلانا، نئی دنیا میں وارد ہونے کے لئے اس مقام ( Stage ) کے ہونے کی ضرورت اور آخرکار ان مباحث کا صاحبان قدرت کے سیاسی کھیل کے ساتھ متصل ہوجانا، یہ وہی اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگ دوبارہ اپنے گذشتہ تاریخ کی طرف پلٹ آئے۔ بطور نمونہ التاریخ الاسلامی و فکر القرن العشریں، نامی کتاب کی طرف آپ رجوع کریں۔ لیکن اس بار مانند سابق مسئلہ یہ نہیں تھا کہ اس کو مثبت نگاہوں سے دیکھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ اسے باعظمت اور باشکوہ دکھائیں دوسروں کو بھی اس بات کا یقین دلائیں اور خود بھی اپنے یقین کو مستحکم کرلیں۔ ان کا ہدف گذشتہ کو کشف کرنا نہیں تھا۔ اس لئے کہ یہ کشف کیا جاچکا تھا۔ اس کا مقصد اس کی عظمت کو ثابت کرنا تھا اور یہ امر متعدد فکری اور عقایدی ہرج ومرج اور نابرابری کا باعث ہوا اور بہت ساری خواہشات کو اپنے ساتھ لایا۔ اب انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا تھیاور اب کیا ہیں اور ان کی کیا کیا قدرتیں اور ان کی مشکلات کیا ہیں اور اب وہ کیا چاہتے ہیں اور انھیں کس چیز کی ضرورت ہے؟

گرونبام نامی شخص نے اس ذہنی اور فکری آشفتگی کو دور حاضر کے بزرگ ترین گب ( Gibb ) نامی عرب شناسوں میں سے ایک ہے اس سے اس طرح نقل کرتا ہے: ''۱۹۴۲ئ میں گب نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا: میں نے اب تک یورپ کی کسی بھی زبان میں نہیں دیکھا ہے کہ ایک عرب چاہے وہ کسی بھی گروہ کی جانب سے ہو اس نے کوئی ایک کتاب بھی لکھی ہو جو کسی ایک یورپی طالب علم کی مدد کرے جس سے وہ عربی ثقافت کی جڑوں کا پتہ لگاسکے۔ اس سے ہٹ کر بلکہ اب تک میں نے خود رعربی زبان میں کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی ہے جو خود اعراب کو عربی ثقافت کے معانی کا تحلیل و تجزیہ کرکے اسے بیان کرسکے۔ '' وہ اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ''اس کلام کو غیر اعراب کی اعراب کو اپنے آپ اور مغربی لوگوں پر بھی وہ لوگ اپنی ثقافت کو پہچنوانے میں اور اس کی وضاحت اور تفسیر میں بھی ان (اعراب) کی ناکامی میں مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔ یہ بات ابھی بھی صحیح ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سالوں تک یہ کلام ایساہی رہے... ایسے دینی، سیاسی اور ثقافتی مقاصد اور ایک ایسی تحقیق تک پہونچنے کے لئے بندھ بنائے ہوئے ہیں یا کم سے کم اس راہ میں مانع ہیں جس کا ہدف اسلامی تمدن کی تفسیر اور توضیح ہے۔ جب بھی شرق وسطیٰ کے مسلمان اپنے سوابق کے متعلق یا غرب کے متعلق بات کریں تو سب سے پہلے ان کا فیصلہ سیاسی ہوتا ہے۔ ''

G. E. Von Grunebaum, Islam, ۱۹۴۹,PP. ۱۸۵-۸۶

نیز کتاب تحول و ثبات، نامی کتاب کے ص۱۷۳۔ ۱۹۹ پر بھی آپ رجوع کریں۔

(۴۰)اصولاً شیعوں کے نزدیک اہم ترین، بلکہ جذباتی ترین اور سب سے زیادہ حمایت کرنے والا معیار شیعوں کے دور حاضر کے مذہبی ادبیات کی بنیادیں، کم سے کم ایران میں حکام پر تنقید رہی ہے۔ اس حدتک کہ آخری دہائیوں کے مصنفین اور روشن فکر حضرات تنقید کرنے کو اپنا فرض منصبی سمجھتے رہے ہیں۔

(۴۱)بطور نمونہ آخری پانچ صدیوں کے درمیان ایرانیوں اور عثمانیوں کی حکومتوں کے درمیان تاریخی تسلسل کا ایک دوسرے سے مقایسہ کریں۔

(۴۲)عصر حاضر میںسیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں اور تغیرات سے متعلق عربوں کی فکری تبدیلیوں کو معلوم کرنے کے لئے تحول و ثبات، نامی کتاب کے ص۳۲۔ ۵۸ اور ۱۷۴ پر رجوع کریں۔ ۱۸۲، نیز مقالہ مدرنیزہ کردن اسلام و تئوری بہ عاریت گرفتن فرہنگ، کی طرف رجوع کریں جو کتاب

G. E.Von Grunebaum, Islam. ۱۹۴۹, PP. ۱۸۵-۸۶ کی طرف رجوع کریں۔

(۴۳)بائیں بازو کی پارٹی اور لادینیت کے حامیوں کی طرف سے عبدالرزاق کی کتاب کے استقبال سے متعلق آگاہی کے لئے الاسلام و الخلافة فی العصر الحدیث، نامی کتاب کے ص۹۔۲۱ کی طرف رجوع کریں۔ ان لوگوں نے اس کتاب کی اس طرح توصیف کی ہے: ''ایک ایسی کتاب ہے جس نے آگ بھڑکادی، ایک ایسی آگ جو اب تک خاموش نہیں ہوئی ہے، مصر کی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اسلامی کتاب، سب سے زیادہ اہمیت کی حامل کتاب، عظیم بحران کا آغاز ہوتا ہے، بادشاہ کے مقابلہ میں عالم، کفر سے متہم عالم کا محاکمہ، بادشاہ ایک عالم کے خلاف تنہا بے ناصر و مددگار کھڑا ہوگیا ہے، ان تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے جس میں دنیائے اسلام اور عربی دنیا نے ۸۰ کی پوری دہائی میں گذارا یہ کتاب یا کم سے کم اس کتاب میں موجودہ مطالب مستقبل میں لوگوں کی توجہ اور غور و فکر کا باعث دوبارہ استقبال سے روبرو ہوگی۔ جیساکہ ان آخری سالوں میں یہ کتاب متعدد بار زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہے یہ واقعہ ایک کتاب کے لئے بہت بڑی بات ہے۔

(۴۴)بطور نمونہ نظام الاسلام، نامی کتاب کی طرف رجوع کریں مؤلفہ محمد المبارک کے ص۵۔۲۹ معالم الخلافة الاسلامیة، نامی کتاب کے ص ۷۱۔ ۸۳ پر بھی رجوع کریں۔

(۴۵)الاسلام واصول الحکم، ص۱۲۹۔

(۴۶)سابق حوالہ، ص۱۳۲۔

(۴۷)سابق حوالہ، ص۱۳۶۔

(۴۸)سابق حوالہ، ص۱۶۸۔

(۴۹)سابق حوالہ، ص۱۷۵۔

(۵۰)سابق حوالہ، ص۱۷۸، ابوبکر کا زکات کے معین کرنے میں ان کی جنگ کی حقانیت اس حد تک اہل سنت کے درمیان اجماعی اور اتفاقی حیثیت کی حامل ہے جس کی وجہ سے بے شمار فقہی احکام ظہور میں آئے اس کے لئے فقہ السنة، نامی کتاب مصنفہ السید سابق کی ج۱، ص۲۸۷، ۲۹۳ پر رجوع کریں۔

(۵۱)سابق حوالہ، ص۱۸۱۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو خلافت کے شرعی اور عقلی وجوب کے قائل نہیں تھے وہ بھی ضرورت کے تحت اجماع مسلمین کے توسط سے اس کے لزوم اور وجوب کے قائل ہوگئے تھے۔ النظم الاسلامیة، نا می کتاب کے ص۲۸۰۔ ۲۹۳ پر رجوع کریں۔ جس میں آرنولڈ کے نظریات پر تنقید کرتا ہے۔

(۵۲)سابق حوالہ، ص۱۳۱۔

(۵۳)العقیدة والثورة،نامی کتاب کی طرف رجوع کریں۔

(۵۴)کنزالعمال، ج۶، ص۴۔ ۸۹ پر رجوع کریں۔

(۵۵)الاسلام والخلافة فی العصر الحدیث، ص۳۱ پر رجوع کریں۔

الاسلام و اصول الحکم، نامی کتابنے ہلچل مچادینے کے باوجود خاص طور سے دینی حلقوں میں شعلہ بھڑکا دیا، لیکن پھر بھی اس کتاب کے مؤلف کے افکار اور مطالب بعض متدینین کے نزدیک مقبول اور مورد استقبال قرار پاگئے۔ ان لوگوں میں سے ایک عبدالحمید متولی تھے۔ وہ بھی عبد الرزاق کی طرح نظام خلافت کی مشروعیت کا انکار نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کو باقی رکھنے سے امت کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس امت پر عسر و حرج حاکم ہوجائے گا جبکہ شریعت نے نظام کے معطل ہوجانے سے منع کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نظام کو قائم کرنا ایک ناممکن اور محال امر ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہنا چاہئے کہ اسلام نے کسی خاص انداز کے نظام حکومت کی سفارش نہیں کی ہے۔ وہ آخر میں نتیجہ لیتے ہیں کہ خلافت اسلام سے نہیں ہے اور اس کا اسلام سے کوئی ربط نہیں ہے۔ معالم الخلافة فی الاسلام؛ الفکر السیاسی الاسلامی، کے ص۷۴ اور ۷۵ جو کتاب متولی سے منقول ہے وہاں پر رجوع کریں، مبادی نظام الحکم فی الاسلام، کے ص۵۴۸۔ ۵۵۰ پر رجوع کریں۔

(۵۶)چونکہ سیاسی اور حکومتی مفاہیم اور اصولاً (قاعدتاً) وہ تمام مسائل جو خلافت و امامت سے متعلق ہیں اہل سنت کے نزدیک صدر اسلام کے تاریخی حقائق سے وجود میں آئے ہیں بلکہ یہاں تک کہ کہا جاسکتا ہے (کہ یہ مفاہیم اور حدبندیوں اور تعریفوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے مگر یہ کہ اس دور کے حوادث کو ضابطہ مند بنانے اور اصولی شکل دینے) جس کے لئے دین و سنت کے برابراہمیت کے قائل تھے۔ اسی وجہ سے حد سے زیادہ واقع بینی اور اس کی طرفداری کا لبا دہ اڑھا دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ گویا موجود واقعیت کو قبول کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا اور اس بات کے لئے بھی مائل نہیں ہے کہ موجودہ موقعیت کو اس سے بہتر موقعیت کی خاطر ختم کردیا جائے اور اس امر کے لئے اس حد تک مصر ہے کہ ایسے عمل میں ہاتھ بڑھانے کو حرام اور ناجائز شمار کیا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ حالت اگرچہ اسوہ ( Ideal ) نہیں ہے لیکن ان کی نظر میں نہائی تحلیل اور دنیا شناسی کے مطابق کسی بھی قسم کی تبدیلی اور تغیر سے بہتر ہے اور اس کی حفاظت ہونی چاہئے کہ یہ امر ان کی نظر میں بھی لوگوں کے دین اور دنیا کی مصلحت کے لئے بھی مفید ہے۔ المواقف، نامی کتاب کے ص۳۹۶۔ ۳۹۷۔ پر اس جگہ جہاں ان لوگوں کے نظریات کی رد کرتے ہیں جو اس بات کے کوشاں ہیں کہ قاعدۂ لاضرر کی مدد سے سلطان کی موجودگی اور اس کی اطاعت کے وجوب کے بطلان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس بارے میں صاحب مواقف کی رد اہل سنت کے سیاسی افکار کا بہترین اور کوتاہ ترین بیان ہے۔ اعلام الموقعین، نامی کتاب کی ج۳، ص۳۔ ۷، پر رجوع کریں اور مخصوصاً کتاب السیاسة الشرعیة، کے ص۳۔ ۱۷ پر رجوع کریں۔

اس کے درمیان بعض ایسے لوگ رہے ہیں جو اصل مذکور کی کاملاً رعایت کرتے ہوئے، معاشرتی اصلاحات کے اقدامات لئے کی سفارش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی لگادی ہے کہ جبکہ فضا پرسکون اور بغیر کسی حادثہ کے ہو۔ ان سب میں سر فہرست ابن تیمیہ ہے۔ وہ اپنی کتاب میں اس مقام پر جہاں اپنی مذکورہ کتاب کے بعض حصہ میں اس کے بعد کہ وہ کہتا ہے کہ ہدف یہ ہے کہ دین کو حاکمیت کی ضرورت ہے وہاں پر اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور اس امر کو آیات و روایات کے ذریعہ ثابت کیا ہے۔ اس کے بعد اس طرح کہتا ہے: ''پس اگر ہدف یہی ہو تو پھر اقرب فالاقرب کی رعایت ضروری ہے اور یہ دیکھیں کہ حاکمیت کے ان دونوں امیدواروں میں سے کون اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے زیادہ مناسب ہے اسے حاکم بنادیں۔ '' سابق حوالہ، ص۲۴ پر رجوع کریں۔

البتہ ایسے نظریہ کے بے شمار فوائد دیکھنے میں آئے ہیں اور اب بھی ہیں۔ جب ہدف یہ بن جائے کہ موجودہ حالات کی حفاظت کی جائے اور اس کی اصلاح اس حد تک کہ عمومی تغیر یا سیاسی تبدیلی کا باعث نہ بنے، فطری طورپر نیک و بد کو پہچاننے کے معیار اور یہ کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہیے، بالکل تبدیلی اس صورت میں وجود میں آجائے گی۔ یہاں پر تشخیص کا معیار موجودہ واقعیت بن جائے گانہ کہ اس سے وسیع تر نظریات مثال کے طورپر اصل دینی نظریات سے نشأت پائے یا کم سے کم دینی افکار کو مشعل راہ بنائے۔ ابن تیمیہ کی روایت کے مطابق ابن حنبل کے اس کلام میں غور و فکر کریں: ''ابن حنبل سے ایسے لوگوں کے سلسلہ میں سوال کیا گیا۔ جن میں سے ہر دو لشکر کے سردار ہیں ان میں سے ایک قوی اور فاسق و فاجر ہے اور دوسرا شخص، ضعیف اور صالح ہے۔ تو ان دونوں میں سے کس کی ہمراہی میں جہاد کے لئے جائے؟ ابن حنبل نے اس طرح جواب دیا: لیکن یہ کہ جو شخص فاسق اور طاقتور ہے اس کی قدرت مسلمانوں کے لئے ہے اور اس کا فسق خود اسی کے لئے ہے لیکن جو شخص صالح اور کمزور ہے، اس کی خوبی خود اسی کے لئے ہے۔'' اس کا ضعف مسلمانوں کے لئے ہے۔ لہٰذا اس صورت میں قوی اور فاجر شخص کی ہمراہی میںجہاد کے لئے جانا چاہیئے اور پھر اپنے اس جواب کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایک حدیث کے ذریعہ اس کی توجیہ اور تکمیل کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ''خداوندعالم اس دین کی فاجر افراد کے ذریعہ کرتا ہے...'' ص۱۷۔

ایک دوسرے مقام پر پھر ابن تیمیہ نقل کرتا ہے: ایک بزرگ عالم دین سے سوال کیا گیا اگر قضاوت کے شغل کے لئے کسی فاسق عالم یا دیندار جاہل کے علاوہ کوئی نہ مل سکے تو ان دونوں میں سے کون مقد م ہوگا؟ تو اس عالم نے جواب دیا: اگر فساد کے غلبہ کی وجہ سے اس دیندار کی زیادہ ضرورت ہو تو وہ مقدم کیاجائے گا اور اگر حقوقی مسائل کی پیچیدگی کی وجہ سے اس عالم کی زیادہ ضرورت ہو تو پھر اسے مقدم کیا جائے گا۔ '' اس کے بعد وہ خود (ابن تیمیہ) اپنی عبارت میں کچھ اس طرح اضافہ کرتے ہیں: ''اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے جن میں کاملاً شرائط نہیں پائے جاتے ہیں جب انھیں ولایت کا عطا کرنا صحیح ہے جب کہ افراد میں وہ دوسرے موجود افراد بہتر ہوں تو اس مقام پر واجب ہے کہ ان کا تعاون کیا جائے اور حالات میں سدھار لانے کی کوشش کرے تاکہ وہ چیز حاصل ہوجائے جس کے لئے لوگ ناچار ہوں...'' ص۲۰ اور ۲۱ پر رجوع کریں۔

ایک دوسرے مقام پر اسی نکتہ کی اس سے زیادہ واضح انداز میں بیان کرتا ہے: تعاون کی دوقسمیں ہیں۔ تقوی اور نیکی پر تعاون جیسے جہاد، اقامہ حدود، شرعی حقوق کو لے کر اس کو مستحقین کے حوالہ کرنا۔ یہ تعاون کی وہی قسم ہے جس کے لئے خدا اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے اور اگر کوئی اس بات سے ڈر کرکہ کہیں ظالموں کی مدد نہ ہو، ایسے اقدام سے اپنے آپ کو روک لے تو اس نے واجب عینی یا کفائی کو ترک کیاہے اس گمان کے تحت کہ ایک فرد متقی اور پرہیزگار ہیاور بسا اوقات تقویٰ کے ساتھ ڈر اور سستی میں اشتباہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ دونوں ہی کاامساک اور اپنے آپ کو روک لینا ہے۔ تعاون کی دوسری قسم گناہ و ظلم پر تعاون کرنا ہے جیسے ناحق کسی کے قتل پر مدد کرنا یاکسی شخص کے مال محترم کا غصب کرلینا یا کسی کو ناحق مارنا اور اس کے ایسے دوسرے تعاون۔ تعاون کی ایسی قسم ہے جسے خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حرام قراردیا ہے اور اس سے منع کیا ہے۔'' ص۴۲۔

ایسی فکر کی بنیاد پر اس کے درک اور تفسیر کی کیفیت ایک دوسرے اعتبار سے معاشرہ میں ایک طرح کی بدعنوانی اور گڑبڑی ہے۔ وہ صرف سلطان کو فساد کا باعث نہیں سمجھتا ؛ بلکہ اس میں کچھ حصہ میں رعایا کو بھی شریک سمجھتا ہے۔ اس مسئلہ میں اس کا زاویۂ نگاہ تنہا سیاسی نہیں ہے، بلکہ معاشرتی اور ثقافتی بھی ہے۔ اس کی کتاب السیاسة الشرعیة، کی فصل سوم کا عنوان اس طرح ہے: ''والیوں اور رعایا کے ظلم کے باب میں'' ص۳۸۔ ۴۲ اور اس کے بعض دوسرے مقام پر کہتے ہیں: ''والیوں اور رعایا کی طرف سے کثرت سے ظلم سرزد ہوتا ہے یہ لوگ جو چیز حلال نہیں ہے اسے اپنالیتے ہیں اور جو امر واجب ہوتا ہے اس سے منع کردیتے ہیں۔ جیساکہ کبھی فوجی اور کسان بھی ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ لوگوں میں کے بعض گروہ جہاد سے منھ پھیر لیتے ہیں اور والی لوگ مال خد اکو اکٹھا کرتے ہیں جبکہ ان کا اکٹھا کرنا حرام ہے...'' ص۳۸ اور ۳۹۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ طرز فکر ایک طولانی سابقہ کا حامل ہے۔ اس طرح نقل کیا جاتا ہے کہ ایک روز اہل کوفہ کا ایک گروہ عمر کے پاس آیا اور اپنے والی سعد ابن ابی وقاص کے خلاف شکایت کی اس نے کہا: ''ائے لوگو! کون ہے جو مجھے کوفیوں کے لئے شائستہ ہو اور میرے ضمیر کو سکون پہنچائے؟ اگر کسی متقی شخص کو وہاں کا والی بناؤں تو اسے یہ ناتواں بنادیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ناتواں اور ضعیف کو والی بنایا ہے اور اگر کسی قدرتمند کو ان پر حاکم بناؤں تو اسے گمراہی اور خیانت کا الزام لگاتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ ایک فاجر کو حاکم بنادیا ہے۔ '' اس مجلس میں مغیرہ بن شعبہ حاضر تھا اور اس نے ایسے کہا: ''ائے امیرالمؤمنین! ایک متقی اور ضعیف شخص کا تقویٰ خود اسی کے لئے ہے اور اس کا ضعف آپ کے لئے ہے اور ایک طاقتور فاجر انسان کی طاقت آپ کے لئے اور اس کا فسق خود اسی کے لئے ہے۔ '' عمر نے کہا: ''تم نے درست کہا۔ تو وہی قدرتمند اور فاجر انسان ہے پس ان لوگوں کی طرف جاؤ'' اور اس کو کوفہ کی حکومت عطا کردی۔ عمر ابن خطاب، مصنفہ عبدالکریم خطیب، ص۲۷۶۔ مغیرہ کی شخصیت اور اس کی خصوصیات کو معلوم کرنے کیلئے شرح ابن ابی الحدید، نامی کتاب کی ج۲۰، ص۸۔ ۱۰ پر رجوع کریں۔

ایسے نمونے خاص طور سے عمر کے زمانہ میں کثرت سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مختلف موارد میں سے بہترین مورد معاویہ کا شام میں اور عمرو عاص کا مصر میں والی کے عنوان سے باقی رکھنا ہے کہ ان میں سے ہر دو اپنے کردار کی وجہ سے عمر کی تنقید کا نشانہ بنے بلکہ اس کے غصب کا موجب بھی تھے۔ لیکن اس کے باوجود آخری نکتہ کی رعایت کی بناپر انھیں امارت سے معزول نہیں کیا۔ سابق حوالہ، ص کی ترتیب کے اعتبار سے۲۷۲ اور ۲۷۷ پر رجوع کریں۔ ایسے ہی طرز فکر کے نمونوں کو حجاج کے کلام میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے آپ اغراض السیاسة فی اعراض الریاسة، نامی کتاب مؤلفۂ علی ابن محمد سمرقندی کے ص۲۸۵ پر رجوع کریں۔ نیز طبقات الحنابلة، نامی کتاب کی ج۲، ص ۳۶ پر بھی رجوع کریں۔

اس آخری نکتہ کی کامل توضیح اس فکر کی فقہی، کلامی اور تاریخی بنیادوں کو ثابت کرنے، بعد میں آنے والے ادوار اور دور حاضر میں اس کے پیش آنے والے نتائج اور برے اثرات، اہل سنت کی مذہبی عمارت کو وجود دینے اور علما و عوام کے نفسیات کو جاننا طول کا باعث ہے اس کو شکل دینے میں اساسی کردار ادا کیا ہے۔ اس نکتہ کو یہاں بیان کرنے کا ہدف صرف ایک ایسے کی یاددہانی تھی جو بہت اہمیت کی حامل ہے عین اس عالم میں کہ حساس ترین اور ظریف ترین نقاط میں سے ہے کہ معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں کو شدت سے جدا کرتا ہے ان آخری دہائیوں میں اہم بنیادی تبدیلیوں کے وجود میں آنے کے باوجود ابھی بھی اس تفاوت کو وضاحت کے ساتھ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، اہل سنت کے درمیان آنے والے دور میں سیاسی بدلاؤ لانے والے عناصر کی کمی کے ساتھ یہ ہر صورت مستقبل میں سنیوں کے درمیان کثیر دلائل کے تحت قہراً ایسا ہوکر رہے گااور یہ فرق اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔ نیز آپ رجوع کریں:

Gibb, Studies on The Civilization of Islam, PP.۱۴۱-۶۶

(۵۷)اہل سنت کے درمیان حکومت کی نظریہ پردازی( Theory ) کے باب میں اور حاکم کے خصوصیات اور ان دونوں کے درمیان رابطہ کے متعلق معلومات کے لئے من اصول الفکر السیاسی الاسلامی، نامی کتاب کے ص۳۵۹۔ ۳۸۹پر رجوع کریں، حاکم اور حکومت میں ارتباط کو معلوم کرنے کے لئے نظام الاسلام، کے ص۱۱۔ ۵۰ پر بھی رجوع کریں۔ خصائص التشریع الاسلامی فی السیاسة والحکم، نامی کتاب مؤلفہ فتحی الدرینی کے ص۲۶۳۔ ۳۱۹ پر بھی رجوع کریں۔

(۵۸)اس نکتہ کے بارے میں کہ شیعہ زاویۂ نگاہ سے امامت اور اس کے ضمن میں امام کے کیا شرائط ہیں؟ نمونہ کے طورپر حضرت امیر المؤمنین امام علیـ کے اس باب سے متعلق خطبوں میں سے ایک خطبہ کے لئے شرح ابن ابی الحدید، نامی کتاب کی ج۸، ص۲۶۳ کی طرف رجوع کریں۔

(۵۹)بطور نمونہ الاحکام السلطانیة، نامی کتاب مصنفہ ابویعلی ص۱۹۔ ۲۵ پر رجوع کریں جس کا ایک حصہ اس طرح ہے: خلافت قہر و غلبہ کے ذریعہ منعقد ہوتی ہے اور بیعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ''جو شخص بھی تلوار کے زورپر غالب آجائے اور وہ امیر المؤمنین کہلوائے، پس ہر اس شخص پر جو بھی خدا پر اور روز جزا پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس حاکم سے سرپیچی کرے اور اسے اپنا امام نہ سمجھے خواہ وہ اچھا ہو یا برا ہی کیوں نہ ہو۔ '' پھر اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ''امامت نماز جمعہ اس شخص کے ذمہ ہے جو غالب آجائے۔ '' ابن عمر سے نقل کرتا ہے کہ حرہ کے وحشت ناک واقعہ میں (جو یزید کے دور میں عوام الناس کا قتل عام کیا گیا واقع ہوا، اصحاب اورتابعین قتل کئے گئے اور ان کی ناموس پر تجاوز کیا گیا۔ ) حکام کے ساتھ نماز پڑھی اور جب لوگوں نے اعتراض کرنے والوں کے جواب میں کہا: ''ہم اس کے ساتھ ہیں جو کامیاب ہوجائے۔'' سابق حوالہ، ص۲۳۔

اس سے زیادہ بہتر اور واضح انداز میں ابن حنبل کے قول کی طرف الائمة الاربعة، نامی کتاب کی ج۴، ص۱۱۹ اور ۱۲۰ پر رجوع کریں۔

(۶۰)الامامة والسیاسة، ج۱، ص۱۲۔ ایک دوسرا نمونہ بشیر ابن سعد انصاری کا کلام ہے جب حضرت امام علیـ نے اپنے ایک بیان میں خاندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوصاف بیان کئے اور یہ کہ یہی خلافت کیلئے اولویت رکھتے ہیں انھیں خلافت کے لئے اولی سمجھا تو سعد نے آپ کو مخاطب کرکے کہا: ''ائے علی! اگر انصار نے ان باتوں کو ابوبکر کی بیعت سے پہلے سن لیا ہوتا تو ان میں سے کوئی ایک بھی اس امر میں تمہارے بارے میں اختلاف نہ کرتا۔ '' سابق حوالہ، ص۱۲۔ ''اگر خلیفہ فاسق ہوجائے تو اسے معزول نہیںکیا جاسکتا، حنفی فقہا سب کے سب متفق القول ہوکر ایک ہی رائے دی ہے۔ خلافت کے لئے عدالت شرط نہیںہے لہذا فاسق مرد بھی خلیفہ بن سکتا ہے، اگرچہ اس کا خلیفہ بننا مکروہ ہے۔ '' ''عبدالکریم البکاء نقل کرتا ہے: میں نے اصحاب پیغمبر میں سے دس صحابیوں کو دیکھا کہ ان سبھی لوگوں نے جائر حکام کی امامت میں نماز پڑھی۔ کتاب معالم الخلافة الاسلامیة، ص۳۰۶ اور ۳۰۷۔

(۶۱)اس کے بہترین نمونوں میں سے ایک نمونہ خود امام حسینـ کی صریح تنقید ہے جس میں ان علما کی سخت مذمت کی ہے جو ستم پرست اور بدعہد رہے ہیں۔ کتاب تحف العقول، ص۱۷۱، ۱۷۲۔

(۶۲)من اصول الفکر السیاسی الاسلامی، ص۴۳۸، ۴۴۴۔

(۶۳)کتاب الخلافة والامامة، مصنفہ عبدالکریم خطیب، ص۳۰۳۔

(۶۴)کتاب' 'الاسلام و اصول الحکم، بڑے ہی اچھے انداز میں اس داستان کی تحلیل اور چھان بین کی گئی ہے۔ خاص طور سے ص۱۶۸۔ ۱۸۲پر مراجعہ کریں۔

(۶۵)گولڈزیہر نے بہترین انداز میں عباسیوں کے اقدامات کے اثرات کو مسلمانوں کی فقہی و کلامی اور احادیث کے مجموعہ کی عمارت کو شکل صورت دینے اور ان کی موقعیت کے استحکام کے بارے میں بھی توضیح دیتا ہے۔

. Goldziher, Muslim Studies, Vol ۲nd, PP. ۷۵-۷۷

(۶۶)مفہوم علیت کے باب میں اور بنیادی طور سے اعراب کی عقلانی زندگی کے بارے میں فجر الاسلام، نامی کتاب کے ص۳۰۔ ۴۹ پر رجوع کریں۔

(۶۷)فجر الاسلام، ص۳۹۔

(۶۸)سابق حوالہ، ص۴۰۔ سیرۂ ابن ہشام سے منقول ہے ۔

(۶۹)السنة النبویة بین اہل العقد واہل الحدیث، ص۹۵۔ یہ کتاب ایک مشہور و معروف اور بزرگ ترین روشن فکر علما میں سے ایک شخص کی تصنیف ہے جو بہترین نمونوں میں سے ایک ہے، جس میں مصنف نے خود اپنے اور اپنے اس مؤلف اور اس کے ہم فکر اور مسلمان طرفداروں سلفی اور وہابی مسلک لوگوں کی دین اسلام سے متعلق فہم میں پائے جانے والے فرق کو بخوبی بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اس زاویہ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے اپنے مضمون کے اعتبار سے اس قدر اہم نہیںہے، اس کے ضمن میں مؤلف نے سعودی عربیہ کے طالبعلموں سے ہوئے اپنے مناقشہ کو جو حلیت اور حرمت غنا کے سلسلہ میں ہے اور یہ کہ غنا کی کون سی قسم حرام ہے، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں مشغول تدریس تھے، اپنے اسی مناقشہ اور مناظرہ کو درج کیا ہے اور اس کے بعد بازگو کرتے ہیں: ''...اس کے بعد میں نے اس سے سنجیدگی سے کہا: اسلام ایک اقلیمی دین نہیں ہے جو تمھیں سے متعلق ہو اور صرف تمھیں اس کو درک کرسکو اور صرف تمہیں اس کی تفسیر سے واقف ہو۔ تمھاری فقہ ایک بدوی، خشک اور محدود ہے اور جب تم اس فقہ اور اسلام کو ایک ردیف میں قرار دیتے ہو اور اس دور کو جدا نہ ہونے والا دور قرار دیتے ہو تو اس عمل کے ذریعہ اسلام کو سبک اور لوگوں کو نظر انداز کردیتے ہو اور یہ اسلامی فریضہ اور ہدایت کی بہ نسبت ایک بہت بڑا ظلم ہے...۔ ص۷۵۔ ۷۶۔

(۷۰)فجر الاسلام، ص۴۱، ۴۲۔

(۷۱)سابق حوالہ، ص۴۳ جو کتاب الملل والنحل، شہرستانی سے منقول ہے۔

(۷۲)عیسائی اور یہودی علما مخصوصاً وہ علما جو مسلمان ہوگئے ہیں مسلمانوں کے افکار اور عقائد میں ان کی تاثیر کو معلوم کرنے کے لئے الملل والنحل، نامی کتاب مؤلفہ استاد سبحانی کے ص۷۱۔ ۹۶ معاویہ کی دوستی کے افسانہ اور اس کی ترویج کے سلسلہ میں معلومات کے لئے آپ مروج الذہب، نامی کتاب کی ج۳، ص۳۹ پر رجوع کریں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صدر اول کے عربوں کی ابتدائی بسیط ذہنیت اور ان کی ثقافت اور بہت سارے سوالات جو اسلام کے آنے سے اور ان لوگوں کا دوسری اقوام و ملل سے میل جول کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں (بے شمار سوالات) اٹھے تھے اور ان کی حساس و تجسس پسند طبیعت اس احترام کے ساتھ جس کے لئے اپنے واسطے دوران جاہلیت سے قائل تھے، یہ خود علما اہل کتاب کا مسلمانوں میں نفوذ کے لئے حالات کی فراہمی کی بہترین دلیل ہے۔ ابن خلدون اس مقام پر جہاں وہ قرآن کی تفسیروں کے سلسلہ میں بحث کرتے ہیں بڑی ہی ہوشیاری اور کیاست کے ساتھ اس نکتہ کی طرف اشارہ اور تاکید کرتے ہیں کہ اس کی اہمیت کے لحاظ سے، ہم اس نکتہ کو کامل ذکر کررہے ہیں: ''ایک تفسیر روایتی جو سلف کے ذریعہ نقل ہوئی احادیث اور آثار کی طرف مستند ہے جو ناسخ و منسوخ کو پہچاننا، نزول آیات کو جاننااور ان کے مقاصد کو سمجھنا ہے اور ان تمام مسائل کو جاننے کے لئے صرف ایک راستہ رہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم صحابہ اور تابعین سے (روایات کو) نقل کریں اور متقدمین نے اس راہ میں ایک کامل مجموعہ آمادہ کیا ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے ہوتے ہوئے ان کی کتب اور منقولات صحیح اور سقیم اور قابل قبول اور مردود روایات پر مشتمل ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ عرب قوم اہل کتاب اور دانشور نہیں تھے، بلکہ ان کی طبیعت پر بادیہ نشینی اور جاہلیت کی عادت غالب آگئی تھی اور ہمیشہ ایسے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور جب بھی مسائل کو سیکھنے کا ارادہ کرتے تھے کہ انسانی نفوس اس کی شناخت کے لئے کمر ہمت باندھتا ہے، جیسے تکوینی اعتبار سے مودر چیزوں کا وجود میں آنا اور آغاز خلقت اور جہان ہستی کے اسرار جیسے مسائل کے بارے میں ان لوگوں سے سوال کرتے تھے جو ان سے پہلے اہل کتاب تھیاور وہ لوگ اہل توریت یہودی اور عیسائیوں میں سے کچھ لوگ تھے جو ان کی روش کے اعتبار سے زندگی کرتے تھے۔ اور اس زمانہ میں توریت کی پیروی کرنے والے، اعراب کے درمیان زندگی کررہے تھے اور خود انھیں لوگوں کی طرح بادیہ نشین تھیاور اس طرح کے مسائل کو جس قدر اہل کتاب کے عوام آگاہ تھے یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے تھے اکثر توریت کی پیروی کرنے والے لوگ حمیرانی تھے اور دین یہود کو اختیار کئے ہوئے تھے اور جب یہی لوگ اسلام پر ایمان لائے تو انھیں معلومات پر ان لوگوں نے اکتفا کی جس پر اب تک عمل کرتے آئے تھے اور ان کی احکام شرعی سے وابستگی جن موارد میں احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں پر ویسے ہی باقی تھے جیسے آغاز خلقت کی خبریں، پیشین گوئیاں اور جو چیزیں ملاحم کو شامل ہیں، انھیں کے ایسی دوسری چیزوں میں انھیں معلومات پر باقی رہے۔ وہ گروہ کعب الاحبار، وہب بن منبہ اور عبداللہ ابن سلام پر مشتمل تھا اور انھیں جیسے دوسرے افراد ہیں۔ اسی وجہ سے اس طرح کے مقاصد کی تفسیریں روایات اور منقولات جو ان پر موقوف ہوئی تھیں وہ انبار ہوگئیں اور وہ ان مسائل میں شمار نہیں ہوتی تھیں کہ جن کی بازگشت شرعی احکام کی طرف ہوتی ہیں کہ وہ صحت جو عمل کا موجب ہے اس کے سلسلہ میں تأمل اور بیان کیا جاسکے۔

اور مفسرین نے بھی ان کے سلسلہ میں تساہلی سے کام لیا اور اپنی تفسیری ایسی کو کتابوں حکایتوں سے بھر دیا اور ان لوگوں کی جڑیں اور بنیادیں جیساکہ ذکر کرچکے ہیں کہ توریت کی پیروی کرنے والے بادیہ نشین ہیں اور جو کچھ بھی نقل کیا ہے وہ غور و خوض اور و تحقیق و آگاہی کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود یہ گروہ معروف ہوگیا اور انھیں ایک عظیم مقام ملا، یہی چاہے دینی اعتبار سے امت مسلمہ میں خاص اہمیت اور فضیلت کے حامل ہوگئے اور اسی سبب سے ان کی منقولات اسی زمانہ سے مقبولیت پاگئیں...'' مقدمة ابن خلدون، ترجمہ فارسی کی ج۲، ص۸۹۱۔ ۸۹۲ پر رجوع کریں۔ مخصوصاً رجوع کریں کتاب:

Goldziher, Muslim Studies, Vol ۲nd, PP. ۱۵۲-۵۹

(۷۳) مثال کے طور پر جب بعض اصحاب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ جب آپ لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں تو کس چیز کے بارے میں باتیں کرتے ہیں؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا: ''ہم شعر پڑھتے ہیں اور جاہلیت کے دور کے واقعات ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔'' فجر الاسلام، ص۹۵، یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صدر اول کے مسلمان کس قدر میراث جاہلی سے وابستہ تھے ایسے بے شمار نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔

(۷۴)اس موضوع کے تحت نمونہ کے لئے السنة، نامی کتاب مؤلفہ احمد ابن حنبل کی طرف رجوع کریں۔ اس کے ایک نمونہ کو نقل کررہے ہیں: ''عمرو ابن محمد روایت کرتے ہیں کہ میں سالم بن عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور سوال کیا کہ کیا زنا کا مرتکب ہونا قضاء و قدر کی وجہ سے ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: ہاں، کیا میرے لئے لکھا جاتا ہے؟ تو کہا: ہاں، کیا میں اس پر عذاب کیا جاؤں گا؟ اس کی طرف پتھر کا ایک ٹکڑا مارا۔'' السنة، ص۱۴۳۔

(۷۵)امیر المومنین حضرت علی ـزمانہ جاہلیت میں عربوں کی طاقت فرسا حالات اور سخت زندگی اور شدید تنگی معاش کی طرف اپنے متعدد خطبوں میں اشارہ کیا ہے۔ بطور نمونہ آپ کے اس خطبہ کی طرف جسے آپ نے عثمان کا مسند خلافت پر آنے کے بعد بیان کیا، کنزالعمال، کی ج۵، ص۷۱۸، پر رجوع کریں۔ اس کے مطابق اس خطبہ میں امامـ نے عربوں کو معیشت کے اعتبار سے فقیرترین افراد اور لباس کے اعتبار سے سب سے زیادہ پرانا لباس پہننے والوں کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ آپ آنحضرت کے دوسرے خطبہ میں اس مطلب کی طرف جس میں آپ نے اشارے فرمائے ہیں، الغارات نامی کتاب کی ج۱، ص۳۰۲ پر رجوع کریں۔

(۷۶)لیکن مذہب مجبّرہ (جبر کی طرف میلان رکھنے والے) کا سلسلہ معاویہ اور خلفاے بنی مروان کے زمانہ میں شروع ہوا۔ باب ذکر المعتزلہ، خود امویوں کا جبر کی طرف مائل ہونے اور ان کے اشعار سے آگاہی کے لئے آپ الامویون و الخلافة، نامی کتاب کے ص۲۷۔ ۴۷ پر رجوع کریں۔

(۷۷)بہترین لوگوں میں سے ایک شخص جس نے اس واقعہ کی تشریح کی ہے، وہ عبدالرزاق ہیں: ''تمام مسلمین اور عموم علماے اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ حکومت اور قدرت کو خدا سے حاصل کرتا ہے۔ جس عبارت کو ہم ذیل میں بیان کریں گے اس میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ یہ لوگ خلیفہ کو زمین پرخدا کا سایہ (ظل اللہ) سمجھتے ہیں اور منصور کا گمان تو یہ تھا کہ وہ زمین پر خدا کا سلطان ہے۔ اس نظریہ کو ابتدائی صدیوں سے ہی علما اور شعرا اپنے اشعار میں اظہار کیا کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ خلیفہ کو ہمیشہ خدا انتخاب کرتا ہے اور خلافت کو اس کے سپرد کرتا ہے... یہاں تک کہ کبھی خلیفہ کو خدا کے مقابلہ میں لاکر کھڑا کردیتے ہیں یا اس سے نزدیک قرار دیتے تھے شاعر کے اس شعر کی طرح: جو تم چاہتے ہو وہی ہوکر رہے گا نہ کہ وہ چیز جو مقدر ہوچکی ہے۔ حکمرانی کر کہ تو ہی واحد قہار ہے...۔'' الاسلام واصول الحکم، ص۱۱۷۔ ۱۱۸ا ور اسی طرح ص۱۱۳۔ ۱۲۰ پر بھی رجوع کریں۔ خاص طور سے اسی سلسلہ میں حسن حنفی کے بہت اچھے بیان کا مطالعہ کریں من العقیدة الی الثورة، نامی کتاب کی ج۱، ص۲۱۔ ۲۹ پر رجوع کریں۔

(۷۸)عیون الاخبار، نامی کتاب کی ج۲، ص۲۴۷ پر رجوع کریں۔

(۷۹)اغراض السیاسةفی اعراض الریاسة، ص۲۷۱۔

(۸۰)نظریة الامامة، ص۳۳۴۔

(۸۱)اس مسئلہ میں معتزلی لوگ حسن بصری کو اپنے گروہ میں سے جانتے ہیں باب ذکر المعتزلہ، نامی کتاب مؤلفہ احمد ابن یحی ابن مرتضی، کے ص۱۲۔ ۱۵ پر رجوع کریں۔ حسن بصری نے عبد الملک اور حجاج کو جو خطوط لکھے ہیں ان کے بارے میں آپ سابق حوالہ، کے ص۱۲۔ ۱۴ پر رجوع کریں۔ اور الامویون و الخلافة، نامی کتاب کے ص۳۶ پر بھی رجوع کریں۔

(۸۲)معاویہ کے متعلق حسن بصری نے جو تنقیدیں کی ہیں ان سے اطلاع کے لئے طبقات ابن سعد، نامی کتاب کی ج۱، ص۱۱۹ پر رجوع کریں۔

(۸۳)حسن بصری نے حجاج سے مقابلہ کے لئے لوگوں کو منع کیا تھا اس کے استدلال کی کیفیت معلوم کرنے کے سلسلہ میں الشیعة والحاکمون، نامی کتاب کے ص۲۶ پر رجوع کریں۔

(۸۴)حجاج کی توصیف میں اس نے جو کچھ کہا ہے اس کے لئے آپ الائمة الاربعة، نامی کتاب کی ج۱، ص۲۵۷ پر رجوع کریں۔

(۸۵)اس کے تفصیلی واقعہ کو مقتل الحسین، نامی کتاب مؤلفہ عبدالرزاق مقرم کے ص۴۲۲ و ۴۲۳ پر ملاحظہ فرمائیں۔ اسی طرح منتہٰی الآمال، سنگی طبع، ج۱، ص۳۶۲ پر بھی رجوع کریں۔

(۸۶)مفصل واقعہ کو مقتل الحسین، نامی کتاب کے ص۴۵۲اور منتہٰی الآمال، ج۱، ص۳۵۷ پر ملاحظہ کریں۔

(۸۷)الامامة والسیاسة، ج۱، ص۲۰۳۔

(۸۸)سابق حوالہ، ج۱، ص۱۹۱۔

(۸۹)تاریخ طبری، ج۵، ص۲۲۰۔

(۹۰)الامویون والخلافة، ص۲۶۔ ۲۸۔

(۹۱)کنزالعمال، ج۶، ص۴۔ ۸۹۔

(۹۲)سابق حوالہ، ص۳۹۔ ۴۷۔

(۹۳)امویوں کے دور میں ائمہ طاہرین (ع) اور ان کے شیعوں کے علاوہ بہت کم ان کی اندھے اور شل کردینے والے جبر کی مسموم تبلیغات کے مقابلہ میں چھٹ پٹ مخالفت کی آوازیں بلند ہوئیں۔ یہ لوگ عموماً آزاد مستقل فکر کے حامل تھے جو فکری، سیاسی اور دینی وجوہات کی بناپر حاکم کے مقابلہ قرار پائے اور ان کے مقابلہ میں عقائدی جنگ کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے جن میں سر فہرست غیلان دمشقی ہیں جو بعد میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ہشام کے ہاتھوں قتل کردئے گئے، ان کا شمار انھیں لوگوںمیں سے ہوتا ہے۔ دوسرے نمونہ کے لئے باب ذکر المعتزلة، نامی کتاب کے ص۵۔ ۲۳ پر رجوع کریں۔

''غیلان دمشقی امویوں پر بہت زیادہ تنقیدکرتے تھے۔ اس لئے کہ خلافت کے متعلق ان کے نظریات ان (غیلان دمشقی) کے نزدیک قابل قبول نہیں تھے۔ ان کے ظلم و استبداد کے مقابلہ میں اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اور علانیہ طورپر امویوں کی کتاب و سنت کی مخالفت کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتے تھے۔ چونکہ امویوں نے حکومت میں فاسق و فاجر افراد کو جمع کرکے کلیدی عہدے عطا کردیئے تھے اور ان کے کارندے لوگوں پر ستم کرتے تھے، وہ ان سے مقابلہ کرتے اور ان کی کرتوتوں کو فاش کردیتے تھے، معروف ہے کہ ہشام نے انھیں قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا جس کے نتیجہ میں انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا۔ اس لئے کہ انھوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا تھا کہ وہ خد اکا خلیفہ ہے، مسلمانوں کے اموال میں بے جا تصرفات کی وجہ سے سینہ سپر ہوجاتے تھے اور ارمنستان کے لوگوں کو اس (ہشام) کے خلاف انقلاب اور قیام کی دعوت دی تھی، الامویون والخلافة، ص۱۷۶۔

غیلان اور ان کی شخصیت، افکار اور ان کے انجام کار کے متعلق معلومات کے لئے ملل ونحل، نامی کتاب کے ص۱۲۷ پر رجوع کریں۔ خصوصاً باب ذکر المعتزلة، نامی کتاب کے ص۱۵۔ ۱۷ پر رجوع کریں؛ جس میں انھوں نے امویوں کے اسراف کے مقابلہ میں شجاعانہ اعتراض کیا ہے، ''اس نے عمرابن عبدالعزیز سے چاہا تاکہ وہ اسے خزانہ اور ردمظالم کو بیچنے پر مامور کردے اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ انھوں نے تمام اموال کو تمام لوگوں کے سامنے رکھ دیا اس سامان میں سے ایک (جوراب) موزہ تھا جس کی قیمت تیش ہزار درہم تھی۔ وہ آوازیں لگارہے تھے: ''کون ہے جو یہ کہے کہ یہ لوگ ہدایت کے امام ہیں حالانکہ لوگ اتنے اموال کے ہوتے ہوئے بھوکے مرے جارہے ہیں؟ سابق حوالہ، ص۱۶، قابل توجہ تو یہ ہے کہ غیلان خود اپنے زمانہ میں بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے۔ انھیں کے سلسلہ میں یہ مشہور ہے کہ جب حسن بصری نے ان کو ارکان حج بجالاتے ہوئے دیکھا تو کہا: ''کیا اس شخص کو دیکھ رہے ہو؟ خدا کی قسم وہ شام کے لوگوں پر خدا کی حجت ہے۔ '' باب ذکر المعتزلة، ص۱۵۔

(۹۴)بطور نمونہ اس سلسلہ میں احمد ابن حنبل کے عقائد کی کتاب الائمة الاربعة، نامی کتاب کی ج۴، ص۱۱۹ و ۱۳۰ کی طرف رجوع کریں۔ نیز مناقب الامام احمد ابن حنبل، نامی کتاب مؤلفہ ابن جوزی کے ص۴۲۹۔ ۴۶۲ کی طرف رجوع کریں۔

(۹۵)مرجئہ کہتے ہیں: ''اگر کوئی شخص باایمان ہو تو اسے اس کے گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتے، جیساکہ اگر کوئی شخص کفر اختیار کرے تو اس کی اطاعت کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی۔ ان میں سے بعض فرقوںکا عقیدہ یہ تھا کہ ایمان یعنی خدا کی معرفت اور اس کی بارگاہ میں خضوع ہے۔ قلب سے محبت رکھنا ہے اور جس شخص میں یہ اوصاف جمع ہوجائیں وہ مومن ہے گناہوں پر ارتکاباور اس کی اطاعت اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی اور گناہوں کے مقابلہ میں اسے معذب نہیں کیا جائے گا۔'' الفکر السیاسی الشیعی، نامی کتاب کے ص۶۱ جو شرح مواقف کے آٹھویں جزء سے منقول ہے اس پر رجوع کریں۔

(۹۶)زندقہ اور مرجئہ کی اباحی گری کے سلسلہ میں الزندقة والشعوبیة فی العصر العباسی الاول، نامی کتاب مؤلفہ حسین عطوان پر رجوع کریں۔

(۹۷)مرجئہ کے بارے میں زیادہ جاننے کے لئے حالات اور پیدائش کے سلسلہ میں ان ثقافتی اور معاشرتی حالات کے معلومات کیلئے النظم الاسلامیة، نامی کتاب کے ص۱۳۴۔ ۱۴۹ پر رجوع کریں۔ اور فجر الاسلام، نامی کتاب کے ص۲۷۹۔ ۲۸۲ پر رجوع کریںمرجئہ اور قدریہ کی مذمت میں احادیث سے اطلاع کے لئے السنة، نامی کتاب مؤلفہ احمد ابن حنبل پر رجوع کریں۔

(۹۸)جاہلیت کی ثقافت کی خصوصیات کو معلوم کرنے کیلئے فجر الاسلام، نامی کتاب کے ص۱۔ ۶۶ پر رجوع کریں۔

(۹۹)مہاجرین میں سے ایک شخص نے اس طرح کہا: ''عجمیوں کے بچوں نے بہشت میں گویا نقب لگاکر اس سے باہر آگئے ہیں اور ہمارے بچے تنور میں کالے ہوجانے والے ایندھن کی طرح ہیں۔'' عیون الاخبار، ج۴، ص۴۰۔

(۱۰۰)مثلاً کتاب الاغانی، کے علاوہ آپ دیوان ابونواس کی طرف رجوع کریں، عجیب تو یہ ہے کہ مدینہ میں غنا کا اس حد تک رواج تھا کہ کوفی طعنہ کستے ہوئے کہتے تھے: مدینہ موسیقی اور غنا کا شہر ہے۔ اور معتقد تھے کہ فقہ حنفیوں سے کوفہ میں سیکھنا چاہیئے۔ بطور نمونہ کوفیوں کے اشعار کی طرف جسے انھوں نے ہجو میں کہے ہیں، الائمة الاربعة، کی ج۲، ص۹ اور ۱۰ پر رجوع کریں، البتہ یہ حقیقت ہے کہ یزید کے دور میں مکہ اور مدینہ میں غنا کا دور دورہ تھا۔ فجر الاسلام، نامی کتاب کے ص۸۱ پر رجوع کریں۔ لیکن مقام توجہ تو یہ ہے کہ بربہاری کے جیسا شخص جو بزرگان حنابلہ میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے مدینہ سے ایک خاص قلبی لگاؤ اور ارادت رکھتا ہے۔ عبداللہ ابن مبارک سے اس طرح نقل کرتا ہے اور اس کی دوسروں کو بھی وصیت کرتا ہے: ''کوفیوں سے رفض کے علاوہ کوئی چیز، شامیوں سے (منھ زوری) خودسری کے علاوہ کچھ، بصریوں سے قدر کے علاوہ کوئی چیز، خراسانیوں سے ارجاء کے علاوہ کوئی چیز، مکیوں سے صرافی کے علاوہ کوئی اور چیز اور مدینہ میں رہنے والوں سے غنا کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہ لینا۔ '' اس کے بعد وہ خود اضافہ کرتے ہیں: ان لوگوں سے یہ چیزیں نہ لینا۔ طبقات الحنابلة، ص۷۔

(۱۰۱)حقیقت تو یہ ہے کہ امویوں اور ان کے سرداروں کا فسق و فجور اس حدتک بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی حاکمیت کو باقی رکھنے کے لئے ایسے راستہ کی تلاش میں تھے جو قابل قبول طریقہ پر ان کو بری کرسکے اور ان کے اعمال کی توجیہ کرسکے (مرجئہ کی فکر کی طرح) اپنی حاکمیت کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ ہم یہاں پر ان میں سے دو نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یزید ابن عبد الملک جو یزید ابن معاویہ کا نواسہ تھا اور عمر ابن عبدالعزیز کا جانشین تھا، عیاش اور ہوسران شخص تھا، اس کے پاس حبابہ اور سلامة نامی دو کنیزیں تھیں، جن سے وہ بہت زیادہ عشق کرتا تھا۔ اتفاق سے پہلے سلامہ اور اس کے کچھ دن گذرنے کے بعد بعض لوگوں کے مطابق سترہ دن بعد حبابہ مرگئی۔ لیکن یزید نے حبابہ کو چند دنوں تک دفن نہیں ہونے دیا اور اپنے پاس رکھے رہا۔ اس کے مصاحبین نے اس کی ملامت کرنا شروع کردی تو آخرکار اس نے اس کو دفن کردیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ اس کی قبر کھود ڈالی تاکہ دوبارہ اس کو دیکھ لے اس کے لئے ۔ مآثر الاناقة فی معالم الخلافة، کی ج۱، ص۱۴۵اور ۱۴۶ پر رجوع کریں۔

صاحب اغانی نقل کرتا ہے کہ عبداللہ ابن مروان نے حارث ابن خالد مخزومی کو مکہ کا والی بنادیا حارث طلحہ کی بیٹی عائشہ کا عاشق ہوجاتا ہے۔ عائشہ نے حارث کو پیغام کہلوایا کہ وہ نماز میں دیر کردے یہاں تک کہ میں اپنے طواف کو تمام کرلوں۔ حارث نے بھی مؤذنوں کو دستور دے دیا کہ وہ نماز میں دیر کریں یہاں تک کہ عائشہ اپنے طواف کو انجام دے لیں حاجیوں کو یہ بات بہت بری لگی اور بہت گراں گذری۔ یہاں تک کہ عبداللہ نے اس کو معزول کردیا۔ فجر الاسلام، ص۸۲ منقول از الاغانی، ج۳، ص۱۰۳۔ اور ابو حمزہ خارجی کی زندہ توصیف کو بھی جسے اس نے عبدالملک کے لئے اپنے خطبہ کے ضمن میں مکہ میں تقریر کی ہے اس کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔ وہ اس کا اخلاقی فساد، شہوترانی، صرف بیجا اور حبابہ اور سلامہ کی داستان کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔ البیان والتبیین، کی ج۲، ص۱۰۱ پر رجوع کریں۔

اغانی کی یہ فسق و فجور سے بھری ہوئی گذارش ( Report ) جو اس نے اموی اور عباسی خلفا کے بارے میں بیان کی ہے اتنی زیادہ ذلیل کرنے والی ہے کہ اہل سنت کے پختہ لوگ مؤلف اور کتاب دونوں ہی کو غلط کہنے پر لگ گئے ہیں۔ قدما میں آپ العواصم من القواصم، نامی کتاب کے ص۴۹۔ ۲۵۱ پر رجوع کیجئے۔ اور دور حاضر میں آپ مؤلفات فی المیزان، نامی کتاب کے ص۱۰۰۔ ۱۰۳ کی طرف رجوع کریں۔