اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 3367
ڈاؤنلوڈ: 111

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3367 / ڈاؤنلوڈ: 111
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

عمل اور اس کے شرائط

مذکورہ بالا نظریات میں جو نکتہ اہمیت کا حامل ہے وہ خود عمل ہے اور ان کے شرائط کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ حالانکہ کسی بھی عمل کا شرائط اس عمل کے جزء ہوتے ہیں لہٰذا ان کا خود عمل سے جدا ہونا نا ممکن ہے۔ ان کی نظر میں نماز جماعت و جمعہ تنہا ایک عبادی عمل کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا ان کا عمل خیر اور مطلوب ہونا( ان کے شرائط سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہ کسی بھی شخص کی امامت میں انجام پائے ) اس کی سفارش اور اس پر زور دیا گیا ہے اور اسے مجزی اور تام بھی قرار دیا گیا ہے۔ اب اگر یہ بات اپنی جگہ پر درست ہو، یہ ان عبادتوں میں ہے کہ جہاں یہ عمل انفرادی حیثیت رکھتا ہے لیکن نماز جماعت و جمعہ یا جہاد میں ،یہ کہنا درست نہیں ہو سکتا۔

اگر اس بات کو قبول کرلیا ہے کہ نماز جمعہ و جماعت ، جیسا کہ اخبار و احایث اور سیرہ نبوی سے سمجھ میں آتا ہے ، ''یہ اہم اور حساس ترین اسلامی شعائر میں سے ہے ا ور یہ مسلم اور طے شدہ ہے کہ اخلاص و توحید و اسلام اور اسلامی عبادتیں نمایاں ظاہر اور دکھائی دینے والی ہیں۔ اس لئے کہ ان کے نمایاں ہونے میں اہل شرق و غرب یعنی سبھی لوگوں کے لئے حجت و دلیل ہے۔''(۳۷)

اور عملی طورپر پوری تاریخ میں یہ اہم شعائر میں سے رہے ہیں، لہٰذا ایسی صورت میں جبکہ وہ خود اس قدر اہم ہیں تو ان کی امامت کے سلسلہ میں یہ کہہ کر کہ نماز ایک مطلوب اور قابل توصیف امر ہے اس کے بارے میں سستی برتیں یا انھیں بے اہمیت بتا یا جائے۔ پس یہ بات قابل قبول نہیںہے کہ وہ اسلامی شعائر جس کے ذریعہ اسلام اپنی واقعیت اور معاشرتی صورت نمایاں کرتا ہے، ایک ایسے شخص کے ذمہ ہوں جو کم سے کم دینی ا ور اخلاقی صلاحیت بھی حامل نہ ہو اسلامی شعائر جو خود دین ایک حصہ ہیں اور بلکہ دین کے اہم ترین رکن کی حیثیت رکھتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص جو خود دینی اقدار کی مخالفت کا مظہر ہے کم سے کم اس سے بیگانہ ہے، اس کی امامت کا ذمہ دار بن جائے(۳۸) یہ موضوع اس سے کا بہت واضح ہے کہ اس کے بارے میں کسی قسم کا بھی مناقشہ کیا جائے ۔

اس سے ہٹ کر صدر اسلام میں کسی بھی امام کی امامت میں نمازوں کی ادائیگی صرف اس معنی میں نہیں تھا خواہ نماز یومیہ ہو یا نماز جمعہ انجام پاجاتی تھی بلکہ یہ اقتدا بھی زیادہ معانی کی حامل تھی اور یہی زیادہ معانی کا حامل ہونا زیادہ لوکوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ اس دور میں لوگوں کی نظر میں یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ فلاں شخص چونکہ جماعت میںحاضر ہو گیا ہے، اس لئے اس نے اپنی نماز ادا کرلی ہے۔ ایسا کوئی نظریہ نہیں تھا، سب سے پہلے مسئلہ یہ تھا کہ کسی بھی فرد کا کسی کی امامت میں نماز کا ادا کرنا اس کی امامت کو قبول کرنے اور اس کو قانونی اور آئینی حیثیت دینے کے معنی میں تھا۔ کہ اس نے اس کی امامت اور ولدیت کو نماز میں شریک ہونے کی وجہ سے تائید کردی تھی(۳۹)

جیساکہ ہم نے اس سے پہلے بھی ذکر کیاکہ نماز جمعہ وجماعت وحدت کی نشانی اور مسلمانوں کے متفق ہونے نیز اس حاکم کو قانونی طورپر قبول کرنے کے معنی میں تھا۔ ان دو نمازوں میں شرکت کا قہر نتیجہ یہی تھا اور یہ بلا واسطہ حاکم کی حکومت کو قبول کرنے اور اس کی قدرت کے ارکان کو مستحکم کرنے اور اس کی تائید پر تمام ہوتا تھااور یہ مسئلہ نماز میں شرکت کرنے والے کی نیت سے بھی متعلق نہیں تھا کہ وہ کیا ایسا چاہتا ہے یا نہیں چاہتا ہے؟ بلکہ اس دور کے عرف میں اس کا تنہا شریک ہو جانا اس کی تائید کے معنی و مفہوم میں تھا۔ جب عبد اللہ ابن عمر نے یہ جملہ کہا: نماز جمعہ کی امامت تنہا اس شخص کا حق ہے جو اپنے رقیبوں سے جنگ میں کامیاب ہوجائے ۔(۴۰) یہ جملہ اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ یہ بات تنہا عبداللہ ابن عمر کی نہیں بلکہ اس دور کے عام مسلمانوں کی فکر تھی۔

یہاں ہماری بحث یہ نہیں ہے کہ یہ طرزفکر کن معیاروں پر قائم ہے اور اس کے مختلف پہلو کیا ہیں اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ بلکہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ علما اہل سنت کس طرح سوچتے ہیں اور ایسا کیوں سوچتے؟ مثلا ابن تیمیہ کتاب السیاسہ الشرعیة میں ایک مقام پر رقم طراز ہیں: ''تعاون کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم: خوبیوں میں تعاون اور مدد کرنا مثلا جہاد اور اقامہ حدود سے لیکر حقوق شرعیہ کے لینے اور اسے مستحقوں کو دینا یہ وہ امور ہیں کہ جن کے لئے خدا و رسول نے حکم دیا ہے۔ بہت زیادہ ایسا ہے جو اس بات سے ڈر کر کہ مبادا کہیں ایسانہ ہو کہ وہ ظالموں کے مددگاروں میں اس کا شمار ہوجائے ، مدد سے ہاتھ کھینچ لے ، پس اس نے ایک واجب عینی یا واجب کفائی کو ترک کر دیا ہے ایسا توہم کہ ایک شخص باورع، متقی ا ور پرہیزگار ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خوف و سستی اور پرہیزگاری ایک دوسرے سے مشتبہ ہو جاتے۔ ہیں اس لئے کہ دونوں کا مطلب رکنا اور بازآجانا ہے۔ دوسری قسم: گناہ و دشمنی پر مدد کرنا ہے۔ مثال کے طور پر نفس محترم کو قتل کرنے میں مدد کرنا یا مال محترم کو غصب کرنے میں مدد کرنا یا کسی کو مارنے میں مدد کرنا جو مستحق نہ ہو یا اور ایسی ہی دوسری بہت ساریمثالیں۔ یہ تمام وہ امور ہیں جنھیں خداا و ر اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔''(۴۱)

بلاشک و شبہہ ایسی طرزفکر جیساکہ ہم نے نماز جمعہ و جماعت کی بحث میں بیان کیا، دینی پابندیاں ایک طرف تو دوسری طرف صدر اسلام کے ناہنجارحالات کا نتیجہ رہی ہیںاور اس در میان اسے فروغ دینے میں اموی اور ابتدا میں عباسی خلفا نے خوب کردار اداکیا ہے۔ اس کا امکانی راہ حل وہی ہے جسے ان لوگوں نے انتخاب کیا ۔ یعنی ان لوگوں نے بعض مواقع پر عدالت کی شرط حذف کردیا مثلا ان کے لئے یہ ناممکن تھا کہ قرآن کی وہ آیات جو جہاد اور صدقات و زکوة کا حکم دیتی ہیں، ان سے چشم پوشی کرلیں، لہذا اس مقام پر ان لوگوں کے لئے تنہا معیار ان احکام کا بجالانا ہے اور اب یہ اہمیت نہیں رکھتا ہے کہ وہ کس کی قیادت میں اور کس ہدف کے تحت انجام پائے۔

اتفاق سے یہ مسائل وقت کے حکام کی خاص توجہ کا مرکز بھی تھے۔ وہ جس جنگ کو خود جہاد سمجھتے تھے اس میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو لازم جانتے تھے۔ جس طرح سے اس بات کو بھی پسند کرتے تھے کہ لوگوں کے شرعی حقوق کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ لہذا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا تھا کہ وہ ان احکام کو تعطیل کرنے کی فکر میں پڑتے یا اسے کمزور بناتے، یا کم سے کم جو ان کی بلند پروازیوں کے امکان کو ختم کر دیتے۔ اس لئے کہ وہ ایک طرف سے ان احکام کے جاری ہونے سے مادی منافع سے بہرہ مند ہوتے تھے اور دوسری طرف اس کے معنوی منافع بھی حاصل کرلیتے تھے اور اس طرح وہ اپنے آپ کو راہ خدا کے مجاہد اور غازیوں میں شمار بھی کرتے تھے، ان کا یہ عمل ان کی موقعیت کو مستحکم بنانے اور ان کی عوام الناس میں مقیول بنانے میں کافی مدد کررہا تھا۔(۴۲)

ہم نے ابھی تک جن دلائل کو بیان کیا ہے، ان کے باوجود یہ کہنا بجا ہے کہ نماز جمعہ و جماعت میں عدالت کی شرط کو معتبر نہ سمجھنا اور اس طرزفکر کو ایجاد کرنے، اسے محکم اور مضبوط بنانے اور دوسرے مقامات میں پورے طور سے ایک بڑی مدد کی ہے اس لئے کہ ہر علاقہ میں تمام لو گ ہر روز ان دوفریضوں سے سروکار رکھتے رہے ہیں اس کے بر خلاف یہ دونوں سبھی لوگوں کو یہ فریضہ پانچ اوقات میں ہر فرد کے لئے یکسا ں طور پر شامل ہے۔ اور ان باتوں سے ہٹ کر خود نماز، خوا اس کی شرعی حیثیت کا لحاظ کیا جائے اور چاہے لوگوں کے فہم کے اعتبار وں سے ایک خاص مقام کا حامل ہے۔ پس جب شرط عدالت کو ایسے اہم فریضہ سے ساقط کردی جائے گی تو عدالت کی شرط اور اس کے اعتبار کا ختم کر دینا مسلم ہے کہ دوسرے موارد سے بھی عدالت کی شرط ختم ہوجائے گی اور اس طرح دوسرے موارد سے عدالت کی شرط کے حذف ہوجانے سے کسی شخص کی آواز کو اعتراض اور تعجب کے عنوان سے بلند کر دے تو یہ اس کا فطری عمل ہوگا۔ بلکہ اساسی طور پر ایک ایسی جدید اسلامی فکر اپنے اصول و ضوابط کے مطابق مضبودا کردے اورآہستہ آہستہ اس کو وجود میں لائے۔

جس وقت قتادہ نے سعید ابن مسیب جو کہ تابعین کے اکابر زاہدوں میں سے تھا اپنے عقیدہ پر اصرار اور اس پر زور دینے کی وجہ سے کہ( ایک زمانہ میں دو خلیفہ کی بیعت نہیں کی جاسکتی لیکن دوسری طرف عبدالملک اس سے یہ چاہ رہا تھا کہ اپنے دو بیٹوں ولید اور سلیمان کے لئے ایک ہی وقت میں ان سے بیعت لینا لے لے)۔(۴۳) کئی بار عبدالملک کے حکم سے شدید شکنجوں کا شکار ہوئے، سوال کیا گیا کہ کیا ہم حجاج ابن یوسف کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا: ہم اس سے بھی بدتر کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں۔(۴۴) صحابہ اور تابعین عموماً ایسے ہی تھے، جیسا کہ عبداللہ ابن عمر حجاج کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے اسی طرح خوارج کے رئیس نجدہ کی امامت میں بھی نماز پڑھتے تھے ۔(۴۵) البتہ یہ حقیقت ہے کہ اس دور میں شیعہ حضرات اور ان کے سردار اور بزرگان بھی ان نمازوں میں شریک ہوتے تھے۔(۴۶) لیکن جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے اشارہ کیا کہ ان کا یہ عمل ایک خاص دلیل کی بنا پر تھا نہ یہ کہ وہ حضرات نماز جمعہ و جماعت میں عدالت کی شرط کے معتقد نہ تھے۔

یہ مسئلہ اہم حساس ترین نکات میں سے ہے جس نے اہل تسنن اور اہل تشیع کے فقہی و کلامی ، اس کے اعباع میں معاشرتی بناوٹ، نفسیاتی،سیاسی تبدیلیاں اور ان کی تاریخ کو جدا کردیا ہے۔ اس دور میں اس زمانہ کے حالات سے جدا قانونی حیثیت کا حامل اور اس سے وجود میں آنے والی ضرورہیں اور شیعوں کے افکار اپنے ابتدائی ایام سے ہی مقبول تھے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔ اس طرح سے عدالت اپنے فقہی حدود میں کہیں زیادہ واضح اور وسیع پیمانہ پر ان دو گروہوں کے کلامی مفہوم کو ایجاد کرنے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کرگئی، نیز اس نکتہ پر توجہ کئے بغیر ان کے تاریخی، سیاسی، معاشرتیاور دینی تغیرات کے سلسلہ میں صحیح تحلیل و نجزیہ اور مختلف قسم کے رفاہ کو آیندہ کے بدلاؤ کے ساتھ وجود میں لانے کے بارے میں تحقیق نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ ہم اس کے بغیر ان کے آئندہ کی تاریخ میں رشد و نمو سے متعلق ایجاد ہونے والی رکاوٹوں اور تحقیق و بررسی کر سکیں۔

اور اس طرح شیعوں کے فقہی و کلامی نظام نے اہل تسنن کی عدالت کے بر عکس اپنی موقعیت کو محفوظ کررکھا ہے، اگرچہ شیعہ جس عدالت کے قائل تھے اسے معاشرتی نظام کو عملی طور پر تحقق بخشنے میں ناکام رہے ہیں لیکن ہمیشہ اسے عملی کرنے کے رہے ہیں اور کم سے کم اپنی آرزو کے عنوان سے اس کے بارے میں فکر کرتے ر ہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت کے درمیان ایسی بات دیکھنے میں نہیں آتی اور اگر کبھی ایسا دیکھا بھی جائے تو وہ بھی ان کے شیعت سے لگاؤ کی بنا پر اور ایسا اتفاک زمانہ کے مختلف حصہ میں دیکھا گیا ہے۔(۴۷)

علی الوردی اسی مطلب کو بخوبی بیان کرتے ہیں: مذہب شیعہ اس دور میں ایک آتش فشاںکی طرح خاموش ہے۔ ایسا آتش فشاں ایک دور میں ابل رہاتھا اور زمانے گذرنے کے ساتھ ساتھ خاموش ہوگیا ہے۔ اس میں اور دوسرے پہاڑوں میں بس یہی فرق ہے کہ اس کے دہانے سے دھواں نکلتا ہے۔ لیکن ایک خاموش آتش فشاں اپنی ظاہری خاموشی کے باوجود خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ اس میں اور دوسرے پہاڑوں میں فرق یہ ہے کہ یہ اپنے اندر پگھلی ہوئی آگ رکھتا ہے جس کے متعلق کسی کو نہیں معلوم کہ اس میں کب انفجار واقع ہو جائے گا۔'' پھراپنے بیان میں اس طرح اضافہ کرتے ہیں: اشنا عشری شیعہ کے عقا ئد کچھ اس طرح سے تھے کہ ان کو تاریخ کے کسی بھی دور میں حکام وقت پر تنقید کرنے اور اُن سے ٹکراؤ اور معارضہ سے باز نہیں آئے ہیں۔ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر حکومت ظالم، جابر، غاصب اور شرعی حیثیت سے خالی ہے مگر یہ کہ اس حکومت کی باگ ڈور ایک عادل شیعہ اور، یا علی ابن ابی طالب کی اولاد میں سے جو معصوم ہو ں وہ اس کی باگڈور کو سنبھال لے۔ اس بنیاد پر شیعہ حضرات ایک دائمی انقلاب کی حیثیت رکھتے تھے جو ایک پل بھی قرار نہیں لیتے تھے اور حکام وقت کا مقابلہ کرنے سے رکتے نہیں تھے اور حاکم کواپنے ائمۂ معصومین(ع) کے ضوابط کی ان کسوٹی پر مقایسہ کرتے تھے جس کے وہ خود معتقد ہوتے تھے، اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو غاصب اور ناقص تصور کرتے تھے۔ شیعوں کا یہ عقیدہ صدر اسلام سے لیکر اب تک،پھلتا پھولتا اور ان کے اور حکام کے درمیان دشمنی میں گہرائی اور اس عقیدہ کی جڑیں پختہ ہوتی گئیں یہی وجہ تھی کہ انھیں زندیق، رافضیاور ملحد ہونے کی تہمت لگائی گئی۔ ضمنی طور پر ''رفض'' کی صفت دین اور حکومت دونوں ہی معنی میں خارج ہوجانا تھا ۔ جس شدت کے ساتھ انہیں ان مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا ان حکام کی طرف سے کرنا پڑ رہا تھا اسکی وجہ سے وہ لوگ( شیعہ)ترجیح دیتے تھے کہ انہیں شیعہ اور رافضی کے بدلے ملحد اور کافر کہاجائے، معاویہ اور اس کے اموی خلف اور ان کے بعد عباسیوں نے انھیں خاموش کرنے کی پوری کوشش کر ڈالی اور انواع و اقسام کے شکنجوں کا سہارا لیا تاکہ ان کو جڑ سے ختم کر دیں، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ شیعہ ایسے تمام اقدامات کا ڈت کر مقابلہ کرتے رہے اور مستقبل میں بھی ستمگروں اور ان لوگوں سے مقابلہ اور نبردآزمائی کرتے رہیں گے جو انسانی کرامت اور ان کے حقوق سے کھلواڑ کررہے ہیں۔(۴۸) البتہ ان کی یہ روش اپنے خاص نتائج کی حامل بھی ہے کہ ان میں سب سے اہمیت کا حامل اس کا متضاد ہوناہے ہر وہ چیز جو پائیداری، ثبات قدمی اور تاریخی استمرار سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

شیعوں کے نزدیک عدالت کو ایک اصل کے عنوان سے قبول کر لینے سے ایک دینی رنگ اور ایک خاص دینی فہم و ادراک اس کے ہمراہ آگئی۔ خود شیعوں کا جوش میں آجانا، تحریک کو قبول کرنا، فداکاری اور ان کی آرزوئیں اسی ایک نکتہ کو قبول کر لینے کا نتیجہ ہیں۔ البتہ دوسرے عوامل بھی ایسے خصائص کو وجود لانے میں مددگار رہے ہیں کہ جن میں سب سے زیادہ اہم واقعۂ عاشورا ہے لیکن مسئلہ تو یہاں ہے کہ یہ واقعہ خود شیعوں کے نزدیک ایک آزادی طلبی، عدالت خواہی اور مردانگی ساتھ زندگی بسر کرنا ایک اعلیٰ نمونہ ہے لہٰذا یہ واقعہ اس کی تائید اورانھیں اوصاف کے استحکام اوروہی عدالت کاآرمانی مفہوم ہے۔

یہ سارے عوامل باعث ہوئے کہ شیعت کی پوری تاریخ میں عدالت کی سب سے زیادہابھارنے اور اکسانے والی آرزو، ایک اہم مقصد اور تمنا کی صورت میں باقی ہے۔ اور یہ اسی طرح تاابد باقی رہے گی۔ یہ شیعی افکار پر اعتقاد کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ جب تک یہ مذہب اور مکتب فکر باقی رہے گا اور اپنے پیروکاروں کو ایمان اورقوت بخشتا رہے گا اور ذہنی و نفسیاتی بناوٹ اور دینی فہم و ادراک کو متاثرہے، ایسی خصوصیت کی ضرور حامل ہوگی۔ اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ بعض اسباب و عوامل کے تحت وہ کم مدت یا طولانی مدت تک کے لئے بے حرکت ہوجائے لیکن کبھی بھی پوری طرح نابود نہیں ہوسکتی۔

اہل سنت کا عدالت کو ایک اصل کے عنوان سے قبول نہ کرنے نے ان کے اندر دینی رجحان کو اور اسی طرح ایک دوسرے میںدرک وفہم ایجاد کردیا۔ یہ دونوں ان کے نزدیک ایک ایسے مرکز میں پروان چڑھے ہیںکہ عوام الناس کے نفع میں تمام ہوئی ہے۔ یعنی قدرت، امنیت اور موجودہ صورت حال کو قبول کرنا ہے۔ ان میں کون سا عامل باعث ہوا ہے کہ متعدد روایات اور نصوص میں نماز جمعہ وجماعت کے متعلق شرطِ عدالت کی صراحت کے باوجود ان نمازوں کے امام کے تقوی، دینداری اور عدالت کو واجب قرار دیتی ہیں۔(۴۹) (اور وہ نصوص جن کا ان کے نزدیک کامل اعتبار ہے۔) ان تمام عوامل کے باوجود اسے کوئی اہمیت کیوں نہیں دی گئی یا کم از کم کم اہمیت بنانے میں مشغول رہے ہیں۔ کیا اسے قبول کر لینے کی صورت میں پیش آنے والے اعتراضات اور اس کے نتائج کی وحشت(عدالت کو قبول نہ کرنے کا) باعث ہوئی؟ ہاں! دینی رجحانات اور قدرت و امنیت کے مفہوم کے تحت دین کا شعور و ادراک پیدا ہوا جو عدالت کا رقیب بن کر سامنے آیا اور اس کو پیچھے ڈال دیا تھا،اس کے سبب یہ وجود میں آیا۔

اس ماجرا کے بھی کچھ خاص نتائج ہیں جن میں اہم ترین اس دینی فکر کے تصور کا ان عوامل سے موافق ہونا ہے جس کے ذریعہ ہم نے ثبات، استقرار اور تاریخی استمرار سے تعبیر کیا ہے۔ جب کہ اس کی موجودہ صورت حال اپنی کم سے کم مشروعیت کی حامل تھی جو اسے نامشروع قرار دے اور عین اس عالم میں کہ کوئی اس سے زیادہ وسیع اور جائز آرزوئیں موجود نہ تھیں نیز اس کے حصول کے لئے لوگوں کو غور و خوض اور تحریک کی دعوت نہ دے، دینی تفکرات اور لوگوںکے دینی رجحانات اور ان کی سوجھ بوجھ بھی ایسی نہیں تھی جو ایسی دعوتوں پر لبیک کہے، ایسی صورت میں فطری طور پر ایسے ہی ثبات اور استقرار کا حاصل ہونا مسلم ہے۔

البتہ ہر گز اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تشیع اور تسنن کی نگاہ سے تاریخ لازمی طور ایسی رہی ہے یا آئندہ بھی ایسی ہی برقرار رہے گی۔ دوسرے عوامل بھی رہے ہیں جس میں ہر ایک نے اپنے اعتبارسے کردار ادا کیا ہے۔ ان دونوں مذہبوں کی تاریخ نے ان عوامل کی تاثیر اور تأثرات کو اکٹھا کرلیا ہے۔ جو کچھ اوپر کہا جاچکا ہے وہ اہم ترین اور فیصلہ کن عوامل میں شمار ہوتے ہیں اور بعد میں اہمیت کے حامل رہیں گے۔ ہم جو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے اس کو اس وجہ سے کہا ہے کہ یہ فکر ان دو گروہ کے دینی افکار اور ان کی روح، ان کے باطن اور ضمیر میں سے مخلوط ہوگئے ہیںایسی جڑ جو کہ ان دونوں فرقوں کے افکار و عقائدسے پیدا ہوئی ہے۔لہٰذا جب تک ان افکار کے حامی زندہ رہیں گے، اس وقت تک ایسے واقعات اور حوادث باقی رہیں گے۔

حکومت کی ذمہ داریاں

لیکن دوسرا عامل ،گذشتہ ادوار میں حکومت اور قدرت کا مفہوم رہا ہے۔ اس دور سے مکمل جدا اور اس کے برخلاف ہے جس میں حکومت تنہا ایک خاد م کی حیثیت رکھتی ہے۔لیکن گذشتہ ادوار مین حکومت کا پہلا قدم امنیت برقرار کرناتھا۔ لیکن اس دور میں حکومت سے خدمت طلب کی جاتی ہے اور قدیم ایام میں اس سے داخلی اورخارجی امنیت کی ضمانت مانگی جاتی تھی، لوگوں کی یہ توقع گذشتہ لوگوںکی حکومت سے متعلق افکار کا نتیجہ تھی اور یہ بھی اس دور کے حالات سے متأ ثر ہونے کا نتیجہ تھی۔ ان لوگوں کی نظر میں حکومت ایک ایسامجموعہ تھی جو لوگوں کے مال، جان اور ان کی ناموس کی محافظ تھی اور اس کی پہلی ذمہ داری ان امور کو بنانا سنوارنا اور ان کو انجام دینا تھا نہ یہ کہ خدمات کا پیش کرنا مثلاً حفظان صحت اور علاج و معالجہ، ثقافت، ماحول کی درستگی، تعلیم، سالم تفریحکی فراہمی اور دوسری بہت ساری خدمات کی فراہمی تھی۔نئے زمانہ میں تبدیلیوں نے حکومت اور اس کی ذمہ داریوں کے مفہوم میں تغیر ایجاد کردیا اور امنیت کو برقرار کرنے کو انھیں فرائض کی انجام دہی میں سے ایک جزو مان لیا گیا وہ بھی نہ یہ کہ سب سے زیادہ اہمیت کے عنوان سے مانا۔

لیکن گذشتہ ایام میں مخصوصا مشرقی اسلامی دنیا میں جہاں پر سیاسی ثبات اور استمرار کی بالکل خبر نہیں تھی اور ایسی صورتحال نہیںتھی، اس لئے کہ اس دور میں تمام چیزیں اور سارے مقدسات امنیت میں خلاصہ ہو جاتے تھے اور حائز اہمیت اور مطلوب یہ تھا کہ حکومت میں اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ سماج میں امنیت کا تحفہ لا سکے ۔ حکومت کے لئے امنیت کو برقرار کرنا اپنے شہریوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی جو ان کے لئے مہیا کر سکتی تھی، اگر مسئلہ کو آج کے جدید زاویۂ نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ بلکہ گذشتہ زمانہ کے حالات پر توجہ رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس موضوع کی اہمیت کے تحت اہل سنت کے بزرگ متکلمین اور فقہا کے اندیشہ اورپریشانیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر چیز کی بازگشت اسی امنیت کی طرف ہوتی ہے خواہ وہ حفظ شعائر کا مسئلہ ہو یا حدود اور احکام الہی کے اجراء کا مسئلہ یا لوگوںکی جان و ناموس و مال کا مسئلہ ہو۔ ان کی نظر میں حکومت جہاں حافظ دین تھی وہیں لوگوںکی جانوں کی حفاظت کرنے والی بھی تھی لہذا حکومت ان کی دنیوی و اخروی مصلحتوںکو پورا کرتی تھی۔

عموماًاہل سنت کے بزرگوں نے امامت و خلافت کے متعلق جو کتابیں تحریر کی ہیں یااسی مناسبت سے اس موضوع کے تحت خامہ فرسائی کی ہے۔ انھوں نے حکومت کی سب پہلی اور اہم ترین ذمہ داری حفظ امنیت کو قرار دیا ہے؛ یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگوں نے تو ایسی ذمہ داریوں کو تعریف و تشریح کے عنوان سے انتخاب کیا ہے، خواہ وہ ایک محتاط فرد، صوفی خیال جیسے غزالی سے لیکر،(۵۰) ابن تیمیہ کے ایسے سرسخت اور متعصب انسان تک ،(۵۱) ماوردی کے ایسا سیاست باز سیاسی دانشور سے لیکر،(۵۲) ابن خلدون کے ایسے روشن فکر اور متفکر فیلسوف تک۔(۵۳) یہ لوگ جس دور میں زندگی گذار رہے تھے ایسی حساسیت کو محسوس کررہے تھے البتہ ان کا ایسا نظریہ ایک فطری مسئلہ تھا۔

شاید آپ کے ذہن میں سوال اٹھے کہ پھر شیعوں کے یہاں ایسا کیوں پیش نہیںآیا ؟ یعنی شیعی بزرگ فقہا اور متکلمین نے موضوع امنیت اور اس کی حفاظت کے بابت اس حد تک اپنی حساسیت کو آشکار کیوں نہیں کیا؟ جب کہ وہ لوگ بھی قدیم زمانہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور وہ بھی ہونے والے بدلاؤ اور حوادث کا نزدیک سے مشاہدہ کر رہے تھے؟ تو اس کے جواب میںیہ کہا جاسکتا ہے اولاً امنیت، حفظ ناموس، جان، مال اور ناحق خون کے بہانے کے متعلق شیعوں کا اندیشہ اہل سنت کے علما سے کم نہیں تھا لیکن ایسی حساسیت کے باوجود پھر بھی عدالت کے مفہوم کو فراموشی کے حوالہ کیوں نہیں کر دیا اور ان کے افکار اور اعتقادات میں یہ اصل امنیت کے تحت الشعاع کیوں نہیں قرارپائی۔ ہاں! یہ سب کچھ ائمہ علیہم السلام کی سیرت اور ان نصوص کے سبب تھا۔ جو ان کے نزدیک قابل قبول تھیں۔ یعنی اس موضوع کے لئے ان کے پاس ا یک خاص دلیل تھی کہ اگر ان کے پاس بھی یہ دلیل نہ ہوتی تو وہ بھی اہل سنت کے بزرگوں کی طرح گذشتہ حالات سے متاثر ہو کر حفظ امنیت کے مصالح اور معاشرہ میں سکون و آرام کی خاطر ویسا ہی سوچتے جیسا کہ اہل سنت کے بزرگ علما سوچا کرتے تھے۔

آخر کار تیسرا عامل، جو تاریخی حقائق اور اس کی ضرورتوں سے وجود میں آیا ہے۔ زمانہ کے کچھ حصوں کے علاوہ اسلام کی پوری تاریخ میں عملی طور سے قدرت اکثر اہل سنت کے ہاتھوں میں رہی ہے، سماج اور اس کی سرحدوں کی حفاظت اور امنیت انھیں لوگوں کے ذمہ رہی ہے۔ اس دور میں شیعہ سماج ایک مختصر سماج تھا اور یہ اقلیت میں تھے، بہت کم ایسا ہوا کہ ایسی ذمہ داریوں کو شیعوں نے سنبھالا ہو۔ البتہ یہاں پر شیعوں سے مراد اثنا عشری ہیں۔ اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مسئلہ فطری تھا کہ اہلسنت کی سیاسی فکر اہل تشیع کے سیاسی نظریہ سے کہیں زیادہ وسیع اور عمیق ہے خارجی و داخلی امنیت کو برقرار رکھنے اور سماج اور معاشرہ میں امن و امان قائم کرنے، اس کے مقدمات اور لوازمات کے سلسلہ میں زیادہ متاثر ہوں۔ جب ان کی فقہ اور کلام پھلا پھولا اور اسے بالیدگی حاصل ہوگئی اور اس میں وسعت پیدا ہوئی کہ وہ لوگ صدیوں کی ملک داری کے تجربہ کے حامل اور خارجی سرحدوں کے محافظ اور وارث تھے اور انھیں اس کی سرحدوں میں امنیت قائم کرنے میں کافی مہارت حاصل ہوچکی تھی۔ لیکن شیعوں کی فقہ اور کلام نے اپنی وسعت کے دور میں ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ تو اکثر عملی حقائق کے بدلہ نظری اصول اور معیار پر تکیہ کرتے تھے۔

خاص طور سے یہ کہ اسلام اپنی پوری تاریخ میں، ہمیشہ داخلی اور خارجی کینہ توز اور سرسخت مخالفین سے برسر پیکار رہا ہے۔ وہ بھی ایسی مڈبھیڑ جو اب تک ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ختم ہوگی۔ بنیادی طور پر دار الاسلام کی جغرافیائی موقعیت کچھ ایسی تھی کہ وہ اپنی وسعت و ظہور کے ابتدائی ایام سے ہی دشمنوں کی جانب سے غیر محفوظ اور لگاتار بے امان حملوں کا شکار رہا ہے۔ ان سب میں ایک زیادہ اہم خطرہ مشرق کی جانب سے تھا کہ وہاں پر زرد پوست قومیں جو ایشائے وسطیٰ میں ابتدا ہی سے اسلام کے مشرقی حصہ کے لئے خطرہ بنی ہوئی تھیں ایسی دھمکی جو مغلوں کے حملوں کے مدتوں بعد تک باقی رہی۔ دوسرا خطرہ مغرب کی جانب سے تھا جس میں عیسائی اور صلیبی لوگ پیش قدم تھے جن کا موجودہ صدی کی ابتدا تک فوجی عنوان سے خطرہ لاحق رہا اور ابھی بھی اپنے دوسرے بھیس میں باقی ہے۔(۵۴)

دارالاسلام کی وسعت

اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ دارالاسلام کی حکومت میں وسعت جو مختلف اقوام، ملتوں، ادیان و مذاہب نسل و خاندان اور تہذیبوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی، یہ بذات خود ایک دوسری پریشانی تھی۔ کوئی بھی دین (اسلام کی طرح) اپنے اندر اس سے زیادہ رنگارنگی نہیں پائی جاتی ہے البتہ ایسی ہماہنگی یکجہتی اتحاد و اتفاق کو بھی برقرار نہیں کرسکا ہے۔ لیکن یہاں پر جو بات اہم ہے وہ اس اختلاف اور رنگارنگی ردعمل سے خالی نہیں تھی۔ یہ بھی خود اسلام کے مختلف درک و فہم کے لئے مناسب موقع ہے۔ نتیجہ کے طورپر بے پناہ فرقہ واریت اور دینی ثقافتی تناؤ اور سیاسی ومعاشرتی بے چینی کو جنم دیگا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دین اپنیابتدا سے ہی، ایک طرف اپنے بیرونی حملہ آوروں سے روبرو تھا اور دوسری طرف سے درونی سرکشوں سے مقابلہ تھااوراسلامی حکومت کی وسعت اور اس کا آزادی نے اس کو آسان بنا دیا تھا کہ جو بھی چاہے اس کا گرویدہ ہو جائے نیز اس میں عظیم قابلیت پائی جاتی تھی جس میں نتیجةً مختلف تفسیریں اورتوجیہات وغیرہ کا تلاشنا ایک فطری امر تھا۔ ان دونوں میںسے ہر ایک بڑی ہی آسانی سے درونی مختلف الفکر لوگ جو مقابلہ آرائی حتیٰ قتل و غارت اور ایک دوسرے کے قتل عام پر کمر بستہ ہو جاتے جس سے وہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں او ر بے چینی اور ناامنی ایجاد کریں اور یا کم سے کم اس کو ہوا دیں۔

اس مقام پر مناسب ہے کہ ہم ابن ابی الحدید کے کچھ نظریات کا تذکرہ کریں، عراقیوں کی فرقہ واریت کے اسباب کو ابوہرزہ کی زبانی نقل کیا ہے جو خود مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ان کی فرقہ واریت کا خود ایک نمونہ ہے اور اس کی پیدائش کے علل اسباب کو نقل کریں:'' سرزمین عراق تمام اسلامی فرقوں کا مرکز رہی ہے اس لئے کہ یہ سر زمین پرانی تہذیب و تمدن کا سنگم تھی ، اس لئے کہ جہاں ایرانیوں اور کلدانیوں کے علوم پائے جاتے تھے۔ وہیں ان ملتوں کے باقی ماندہ ثقافتوں اور تمدنوں جس میں یونانی فلسفہ اور ہندیوں کے افکار کا خمیر تھا پایا جاتا تھا اوریہ افکار اسلامی طرز تفکر میںمخلوط ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے یہ مختلف اسلامی فرقوں کے وجود میں آنے اور ان کے پھلنے پھولنے اور پروان کی سرزمین تھی۔ ابن ابی الحدید کہ عراق میں مختلف فرقوںکے اسباب کہ وہ کیسے وجود میں آئے اس کی وضاحت کرتے ہیں : میرے لئے عراقیوں اور آنحضرت کے دوران کے عربوں میں جو فرق ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ یہ سب عراق اور اس میں کوفہ کے رہنے والے ہیں۔ عراق کی طبیعت اور ان کی طینت کچھ اس طرح ہے کہ وہ ہمیشہ عجیب و غریب مذاہب پر عقیدہ رکھنے والوں اور نئے نئے ادیان کے ماننے والوں کو پروان چڑھایا اوراور انہیں سماج کے حوالہ کیا ہے ، اس زمین کے باشندے اہل بصیرت اور صاحبان غور و خوض اور مطالب میں دقت کرنے والے ہیں اور نظریات اور عقائد میںمذاہب پراعتراض کرنے والے ہیں۔ مانی، دیصان، مزدک وغیرہ اسی سرزمین کے رہنے والے تھے جو ساسانی بادشاہوں کے دور حکومت میں میدان میںآئے۔ نہ تو حجاز والوں کی طینت و طبیعت ایسی ہے اور نہ ہی ان کے ذہن و فکر ایسے ہیں۔(۵۵)

ابن ابی الحدید کا نظریہ نہ صرف عراق کے بارے میں بلکہ بہت سے دوسرے علاقوں کے سلسلہ میں بھی صحیح تھا۔ وہی دلائل جن کی وجہ سے عراق میں مختلف فرقے وجود میں آئے یاکم سے کم اس کے پھلنے پھولنے اور پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے بعینہ وہی دلائل دوسرے اسلامی ممالک میں بھی موجود تھے۔ اسلام کی تقدیر کچھ اس طرح لکھ دی گئی تھی کہ اسلام دوسرے مقامات پر پھیلے پرورش پائے جو دیرینہ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہے ہیں۔

ایسے حالات میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس سے امنیت اور قدرت کے سوا کوئی اور خواب نہ دیکھے، اسلام اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ ایسی مشکلات سے دوچار رہا ہے، اس سے خارجی خطروں سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہ جس کا ایک نمونہ شرق اسلام میں مغولوں کے حملے ہیں کہ جس کی وجہ سے حد درجہ تباہی و بربادی ظہور میں آئی اسی طرح اپنی تاریخ میں غرب کی جانب سے کینہ توزی اور دائمی دشمنی اور عیسائیت کے ساتھ محاذ آرائی رہی ہے اور اگر کسی دور میں یہ جنگیں بظاہر خاموش نظر آئیں تو صرف تجدید قوت کی خاطر تھیں نہ یہ کہ یہ لڑائی ہمیشہ کے لئے تمام ہوگئی ہے۔ عیسائیت اور کلیسا کی تشکیل قرون وسطیٰ میں اسلام کو ایک غاصب دشمن کی حیثیت سے سمجھتی تھی وہ بھی ایسا غاصب کہ جس نے اس کی بعض سرزمینوں پر قبضہ کرلیا ہو اور اس کی اصالت و حقانیت کے خلاف قیام کیا ہو۔ اگرچہ اسلام اپنی تعلیمات کی بنیاد پر انھیں اہل کتاب فرض کرتا ہے لیکن عیسائیت دور حاضر سے پہلے مسلمانوں کو ایک کافر سمجھتے تھے اور اسکی نابودی کے علاوہ کچھ اور سوچ نہیں سکتے تھے۔(۵۶) لیکن اس دور میں اسلام کو ایک دین کے عنوان سے قبول کرنے کے بجائے اس کے نابود کرنے کے درپئے تھے۔

عیسائی طاقتوں کی دھمکی

مثلا حائری ساندرس کی زبانی عیسائیوں کا مسلمانوں کی نسبت عقیدہ کے سلسلہ میں لکھتا ہے:'' بہت کم سچے عیسائی ملیں گے جو عصر اعتقاد میں کسی سے گفتگو کے دوران آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کے مقابلہ میں پر سکون رہ جائیں کہ اس کی نظر میں آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کا مذہب ایک کفرآمیز مذہب تھا اور اس کے چاہنے والوں نے۔ مثلا قرن اول سے قرن ہفتم تک سوریہ کو حکومت بیزانس سے جدا کرلیا تھا۔ عیسائیت کا نام و نشان خود اس کے مرکز پیدائش سے مٹادیا تھا۔''(۵۷) اور پھر وہ خود اس طرح اقرار کرتا ہے:'' اس طرح سے عالم عیسائیت یعنی یورپ اسلام سیکھتا تھا اور یہی سبب تھا جس کی وجہ سے اسلام اور اس کے ماننے والوں کا سرسخت دشمن رہا اور برا بھلا کہتا رہا یہاں تک کہ پائک ( Pike ) آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کے سلسلہ میں جو اس نے کتاب لکھی ہے اس میں اقرار کرتاہے: کہ محمد ایک عظیم الشان انسان ہیں جو دوسرے معروف انسانوں کے مقابلہ میں ہر ایک سے زیادہ تہمت و افتراء کا نشانہ بنے۔''(۵۸)

جیسا کہ ہم نے بیان کیاکہ تاریخ کے کسی بھی دور میں عیسائیوں کی دشمنی اسلام کی بہ نسبت ختم نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ ہمیشہ اسلام کے طاقتور،اعتقادی، دائمی اور منظم دشمن رہے ہیں۔ اسلامی سرزمینوں پر ان کے حملے شرقی حملہ آوروں کے بالکل برخلاف جو کہ اکثر بت پرست تھے اس طرح سے کہ خود جوش طور پر اور زرخیز زمینوں، چراگاہوں اور قتل و غارتگری اور آباد علاقوں اور آبادی پر اس عنوان سے حملہ کرتے تھے اور چونکہ ان کا کوئی مذہب نہ ہوتا تھا لہٰذا مرور زمان کے ساتھ مسلمان ہوکر اسلامی معاشرہ میں گھل مل جاتے تھے۔ (عیسائیت کا مشن ) ایک ایسا سوچا سمجھا، معین، خاص ہدف اور مخصوص طرز فکر کی بنیاد پر تھا، وہ صرف اسلام کو ناپسند ہی نہیں کرتے تھے بلکہ مسلمانوںکو عیسائی کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ شرقی حملہ آوروں کا ہدف قتل و غارتگری اورمکمل نابودی تھا لیکن غربی حملہ آور اس کے علاوہ اسلام کی نابودی اور دارالاسلام کو تباہ و برباد کرنے پر کمربستہ تھے۔

مرکز کیتھولک یعنی روم اور یورپی حکومتیں غرناطہ کی حکومت کا ختم ہوجانا، Ferdinand,) lsabella ( کی متحدہ فوج کے مقابلہ میں غرناطہ کے نصیریوں کے خاندان سلسلہ کا آخری حاکم ابو عبداللہ کا شکست کھا جاناصرف ایک شکست نہیں تھی، بلکہ ایک ناقابل فراموش کامیابی تھی جو عیسائیت کو عالم اسلام کے مقابلہ میں حاصل ہوئی تھی اور ساندرس کے قول کے مطابق غرناطہ کا حادثہ ایک ناتمام انتقام اور عالم عیسائیت کا اسلام سے ایک معمولی اور ہلکاسا بدلہ تھا جو ان سے لیا تھا۔ یورپ جو ہمیشہ اسلام کی مادی و معنوی ترقیوں کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ اور یہ اس کی پریشانی مسلمانوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح ہوجانے کے بعد کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی غرناطہ حکومت کا ساقط ہوجانا اس جہت سے ان کے لئے اور بھی عظیم تھا مسلمانوں کی شکست کا جشن منایا گیا جبکہ ''بارتولد'' کے نوشتہ کے مطابق غرناطہ کا ساقط ہوجانا اسلام میں ایک دھماکے کا کام کرگیا اور مسلمانوں کو سیاہ پوش بنا دیا، کیتھولک کلیساؤں کے سربراہوں نے اس مناسبت سے خود رم اور واتیکان میں جشن و سرور کی محفلیں برپا کیں۔

ایک فرانسوی مؤرخ اپنی کتاب بنام ''جم سلطان'' میں لکھتا ہے: جب غرناطہ حکومت کے گرجانے کی خبر منتشر ہوئی واٹیکان اور شہر روم کے مختلف مقامات چراغاں ہوا، جشن، نمائش، گھوڑ سواری اور گائے بازی کے مسابقات پے در پے برپا ہوتے رہے۔ انھیں نمائشوں میں سے ایک نمائش میں دو لوگ بنام (( Ferdinand, lsabella ''فرذینانڈ ایسابل ''کا حلیہ بناکر ظاہر ہوئے اور ان کے سامنے ایک دوسرا شخص ابوعبد اللہ کے بھیس میں زنجیر و بیڑی میں جکڑا ان دونوں کے قدموں پر گرا ہوا تھا۔ تماشائی اسپانیائی شہزادی اور شہزادے نے اپنے اتحاد کے ذریعہ مسلمانوں کو سینکڑوں سال بعد شکست دیدی غرناطہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا، تو وہ لوگ شاہ اور اس کی بیگم کے روبرو خوشی میں شاد و خرم ہو ہو کر خوش حالی سے نعرے لگاتے تھے۔

اس جشن کے چشم دید گواہ میں بایزید دوم، سلطان عثمانی کا بھائی جم تھا کہ جسے پاپ نے سلطان عثمان کو خوش رفتار رہنے کے لئے اسے اپنے پاس قید کررکھا تھا۔ اسی فرانسوی مؤرخ کے بقول، ابوعبد اللہ کا پابہ زنجیر ہونا اور اس (( Ferdinand, lsabella کے قدموں میں گرنا ہر نمائش سے زیادہ اس شاہزادہ کے لئے سخت تھا۔ ایسی نمائشوںکو دیکھتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کیتھولک کے سربراہ ایسی نمائشوں کے برپا کرنے کے ذریعہ مسلمانوں کی ذلت کو دکھانا چاہتے تھے اور وہ بھی جم سلطان کے سامنے یا اس کے دائرہ ٔ اطلاع میں برپا کرنا جو اپنے دور کی سب بڑی اسلامی حکومت کے تخت و تاج کا مالک ہونے والا تھا۔ وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ عالم عیسائیت کو سمجھا نا چاہتے تھے کہ

۱۔اب جہان اسلام زمان سابق کے بر خلاف غرب کے مقابلہ میں ناتواں اور عیسائیت اسلام کے مقابلہ میں کامیاب ہے۔

۲۔مسلمانوں اور مخصوصا عثمانی بادشاہوں کی اند رونی کیفیت کا شیرازہ بکھیر دیا جن میں حکمرانی اور جہان بانی کا شوق پایا جارہا تھا۔(۵۹)

قدرت اور امنیت

ایسے حالات میں یہ فطری طور پر افکار و محسوسات قدرت و امنیت کے خالق اور حافظ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور عدالت سے کوئی سر وکار نہ ہو کہ اس کی رعایت کی جارہی ہے یا نہیں، ان حالات میں جو بات قابل اہمیت تھی وہ صاحب قدرت اور شان و شوکت کا حامل ہونا تھا اس لئے کہ یہی عوامل دشمن کو ڈرا سکتے تھے اور اسلام کی سرحدوں کی محافظت کرسکتے تھے اسی وجہ سے ہر ایک حاکم کو قدرت مند بنانے اور اسے صاحب قوت بنانے کی فکر میں مشغول ہوتا تھا۔ یہ ہر ایک کا وظیفہ ہے اور وہ بھی ایک دینی اور اسلامی وظیفہ۔ اس لئے ان کے نزدیک اسلام سے دفاع اس طرح حاکم سے دفاع کے مترادف تھا، کہ حاکم سے دفاع کئے بغیر اسلام سے دفاع ممکن نہیں تھا ان لوگوں کی نظر میں شخص حاکم اہم نہیں تھا اور وہ کیا کرتا ہے اور کس حد تک احکام اسلامی نیز عدالت کا پابند ہے، یہ سب ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا بس ان کے لئے یہ اہم تھا کہ وہ اسلام کا نمونہ ہے اور ہر ایک کو اسی کی خدمت میںہونا چاہئے، اس کے احکامات اور فرامین کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قوی بنانے میں تمام تر کوشش صرف کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ا س لئے کہ یہ ظاہری شان و شوکت ہے جو داخلی دشمنوں کو خاموش رہنے پر مجبور کردیتی ہے اور بیگانوں کو ڈراتی اور امن و امان قائم کرتی ہے۔(۶۰)

اسی نکتہ کو ابن حنبل اس مقام پر بڑے اچھے انداز سے توضیح دیتے ہیں کہ جہاں حکام کی اطاعت کو واجب شرعی قرار دیتے ہیں، حکام اور امیر المؤمنین کی اطاعت واجب ہے خواہ وہ صالح ہو یا فاجر ہو اور اس شخص کی اطاعت جسے لوگوں نے خلیفہ کے عنوان سے قبول کرلیا ہے یا وہ شخص جو شمشیر یا قہر و غلبہ کے ذریعہ ان پر مسلط اور ان کا خلیفہ بن گیا یا امیر المؤمنین کے لقب سے ملقب ہوا ہے جہاد امیروں کی ہمراہی میں لازم ہے خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، روز قیامت تک مقبول ہے، ان کی طرف سے غنائم کی تقسیم، خراج اور حدود کو قائم کرنا قبول ہے، کسی کو کوئی حق نہیں ہے جو اسے طعنہ دے یا ان کے مقابلہ میں کھڑا ہو۔ انھیں صدقات دینا جائز اور کافی ہے، خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، ان کی امامت میں نماز پڑھنا اور وہ شخص کہ جس کی امامت میں نماز صحیح ہے، ان کی امامت میں نماز پڑھنا صحیح ہیاور جو ان نمازوں کا اعادہ کرے بدعت گذاری، آثار سلف کو اہمیت نہ دینا اور سنت کی مخالفت ہیاور جو امیروں کی امامت میں نماز جمعہ پڑھنے کو صحیح نہ سمجھتا ہو وہ صالح ہوں یا فاجر، گویا اس نے نماز کی فضیلت کو درک نہیں کیاہے، بلکہ سنت تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ دو رکعت نماز بجالائی جائیاور اس کے کامل ہونے کا اعتقاد بھی رکھا جائے اور اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کرنا چاہئیاور اگر کوئی مسلمانوں کے امام پر خروج کرے جبکہ لوگوں نے اس کے گرد حلقہ بنا لیا ہو اور اس سے خواہ اپنی رضا و رغبت سے یا قہر و غلبہ کی وجہ سے راضی ہوگئے ہوں، تو اس نے مسلمانوں اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کی ہے اور اگر وہ مرجائے تو جاہلیت کی موت مرے گا۔(۶۱)

مسلمان صدر اسلام میں ایسے حالات میں جی رہے تھے اور یہ کلام صدر اسلام میں کہ جس میں اہل سنت کے کلامی و فقہی عقائد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، صحیح تھا۔ یہ اصول و قوائد ایسے ہی شرائط اور ضرورتوں کے تحت بنائے گئے۔ البتہ آنے والی دہائیوں نے اسے ثابت بھی کردیا کہ حجاج بن یوسف نے اپنے کلام میں اس دور کے لوگوں کی ذہنیت اور ان کی حساسیت کو بخوبی بیان کیا ہے جس کی بعد میں امیروں نے اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے تائید کی ہے۔ وہ کہتا ہے:

''ضعف السلطان اضر من جوره لان ضعفه یعم و جوره اخص''

یعنی سلطان کے ضعیف ہونے کا ضرر اس کے ستم سے کہیں زیادہ ہے اس لئے کہ اس کا ستم خاص لوگوں کو اور ضعف ہر ایک کو شامل ہوتا ہے۔(۶۲)

اس دور میں اس بات کا امکان تھا کہ اس میں سے صرف کسی ایک کا انتخاب کیا جائے، یا فسادات، ہرج و مرجاور خارجی دھمکیوں پر راضی ہوجائیں یا پھر حاکم کے ظلم و استبداد اور جور کے سامنے تسلیم ہوجائیں اس کے اسلام کی سیدھی راہ اور عدالت سے منحرف ہوجانے کو تحمل کریں، ایسے حالات میں عموما دوسری صورت کو انتخاب کیا جاتا ہے۔

غزالی کا نظریہ

غزالی اس مقام پر اپنے نظریہ کو بیان کرتے ہیں کہ جہاں امامت کے عقلی نہیں بلکہ شرعی وجوب کے اثبات کی کوشش کرتے ہوئے ایسے مطالب کو ذکر کرتے ہیں کہ جو گذشتہ بیان کی گئی مشکلات اور اس کی وجہ سے ہونے والے اعتراضات پر ایک روشنی بھی ہے...۔

لیکن دوسرا مقدمہاور وہ یہ ہے کہ قوی او بہادر سلطان کے ذریعہ دنیاوی امور، جان و مال کی امنیت برقرار رکھی جاسکتی ہے، اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ جب کوئی سلطان یا خلیفہ مرجاتا ہے تو اگر اس کے مرتے ہی کوئی قابل اطاعت خلیفہ یا اس کا جانشین نہیں آتا تو فساد شروع ہوجاتا ہے اور ہر طرف قتل و غارتگری پھیل جاتی ہے، قحط و بھوک مری شروع ہوجاتی ہے اور چوپایے مرنے لگتے ہیں اور صنعتیں بند ہو جاتیں ہیں، اشرار قتل و غارتگری میں مشغول ہو جاتے ہیں اور کسی کو موقع بھی نہیں مل پاتا ہے مگر یہ کہ کوئی اپنی جان بچا کر فرار کرجائے، عبادت یا تحصیل علم میں مشغول ہو جائے، ایسے فسادات میں اکثر مارے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے۔ دین و سلطان جوڑواں ہیں۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی وہ بہت جلد نابود ہو جاتی ہیاور جس کا کوئی نگہبان نہیں ہوتا نتیجةً ضائع ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر عاقل انسان کو یہ معلوم ہے کہ عوام کو ان کے مختلف طبقات، افکار اور رجحانات کے ساتھ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور کوئی ایسا فرد ان کا نگہبان نہ ہو جو انھیں جمع کرسکے تو وہ نابود ہو جائیں گے، اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے مگر یہ کہ ایک قدرتمند سلطان کہ جو ہر ایک پر مسلط ہو۔

پس اب یہ بات روشن ہو گئی کہ کسی نظام کو باقی رکھنے کے لئے ایک سلطان کی ضرورت ہے۔ دین کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے دنیوی نظام کی حفاظت کی ضرورت ہے اور اخروی فلاح و بہبود کے لئے دین کے نظام کی ضرورت ہے اور یہی وہ نکتہ ہے کہ جو انبیاء (ع) کا ہدف رہا ہے، پس معلوم ہوا کہ امام کا ہونا شرعی ضرورت ہے کہ جس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے، لہٰذا اس نکتہ کو خوب یاد رکھ لو۔(۶۳) لیکن قاضی عبد الرحمن بن احمد ایجی، معروف متکلم اسی نظریہ کو بیان کرتے ہیں، وہ وجوب نصب امام کے لئے ضرر محتمل کو قرار دیتے ہیں اور اس نکتہ کی تصریح میں فرماتے ہیں:

اب ہم اپنے علم کی بنیاد پر کم و بیش یہ جانتے ہیں کہ شارع کا مختلف قوانین کے وضع کرنے کا مقصد، وہ خواہ معاملات یا مناکحات سے متعلق ہو یا جہاد، حدود، و قصاص یا روز جمعہ و اعیاد دینی شعائر کی تعظیم، ہو ان کے تحت کچھ مصلحتیں ہیں جو دنیا یا آخرت میں اس کے بندوں کے نفع میں ہیں اور رہیں گیاور یہ مصالح اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتے کہ جب تک کے شرع کی جانب سے کوئی امام معین نہیں کیا جاتا تاکہ جو اس سے مربوط ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے، اس لئے کہ عوام اپنی مختلف خصلتوں، آرزؤں، نظریات، جھگڑے کے ہوتے ہوئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی دوسرے کے سامنے تسلیم ہوجائے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں جنگیں اور فسادات شروع ہوجاتے ہیں بسا اوقات سب کی ہلاکت ہوجاتی ہے یہ اس تجربہ کا نتیجہ ہے، جو ایک سلطان کے مرنے سے اس کے جانشین کے نصب ہونے تک جو فسادات ہوتے ہیں اس سے سمجھ میں آتا ہے اس لئے کہ اگر دوسرے خلیفہ یا سلطان کے انتخاب میں تاخیر ہوجائے تو روز مرہ کی زندگی معطل اور بے کار ہوجاتی ہے اور اس میں ہرج و مرج واقع ہوجاتا ہے اور اس مدت میں ہر ایک اپنی جان و مال اور ناموس کی حفاظت کے لئے دست بہ شمشیر ہو جاتا ہے جو دین اور تمام مسلمین کی نابودی کا باعث ہے۔(۶۴)

ہم نے مذکورہ بالا قول کو اس کی اہمیت کے پیش نظر کامل طور پر ذکر کر دیا ہے لیکن ان نکات کے ہوتے ہوئے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ دوسرا انتخاب یعنی حاکم کے ظلم و استبداد کے سامنے سر جھکا دینا اور اس کا راہ مستقیم اور اسلامی عدالت سے منحرف ہونا کہ جو خود ہی ایک قسم کی ضرورت کا نتیجہ تھا، ان کے درمیان استبداد پسندی کے تفکر کو جنم دینے کا باعث تھا اور اسی کی مناسبت سے تمام امور و جوانب میں افکار و مبانی کو اپنے مطابق شکل دی۔ یہ ایک وقتی ضرورت کے عنوان سے باقی اور جاوید اثر چھوڑتی ہے کہ جواب تک باقی ہے اور جوان نسلوں کو دانشوروں کی طرف سے بے شمار اشکالات پر آمادہ کیا ہے۔(۶۵)

حفظ نظام

یہ عوامل کا مجموعہ حفظ نظام اور اس کی فکری ضرورت کے پیش نظر ہے، صرف مسئلہ یہ تھا کہ نظام محفوظ رہے اور یہ ضرورت تمام ضرورتوں پر اولویت رکھتی تھی اور دوسرے عوامل یا تو اسے قوی بنانے یا وہ فرعی اور امر ثانوی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایسا طرز فکر طبیعی طور پر ہر قسم کے نطفۂ اعتراض خواہ وہ عدالت کی برقراری یا سنت پیغمبر پہ عملی بازگشت کے عنوان سے ہوں، اسے وہیں دبا دے گا، اس تفکر کے دائرے میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ عموم افراد اس نطام کو قوی، مستحکماور اس کی حفاظت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور جو بھی اس سے جدا ہے وہ مسلمانوں کی صف سے خارج ہے یہاں تک کہ دین سے خارج ہوجانے کا نتیجہ ہو جایا کرتا تھا۔ ان شرائط کے تحت حد اقل اعتراض اگر ہوسکتا ہے تو وہ قلبی اور شخصی ہو سکتا ہے یعنی انسان حاکم کی بدعتوں کو دل سے قبول نہ کرے لیکن چونکہ اس کے سامنے اعتراض کرنا مسلمانوں کی صف سے خارج ہوجانے کا باعث ہے لہذا اس کا اظہار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کی ذمہ داری صرف قول و فعل کے بدلے دل سے انکار کرنا ہے۔ آنے والی داستان اس نکتہ کی خوب وضاحت کرتی ہے۔

ایک روز بغداد کے فقہا جمع ہوکر ابن حنبل کے پاس آئے اور کہنے لگے: اس شخص سے مراد عباسی خلیفہ واثق ہے جو مامون اور معتصم کی طرح خلق قرآن کی تبلیغ کرتا تھا، اس نے لوگوں کے عقائد کو فاسد کردیا ہے اور اپنے اس عمل سے باز نہیں آتا کچھ کرنا ہوگا؛ فقہا کا ارادہ یہ تھا کہ وہاں ابن حنبل سے اس کے مقابلہ میں ایستادگی (مقابلہ) کا فتوا حاصل کریں لیکن اس نے جواب میں کہا کہ تمھاری ذمہ داری صرف قلبی انکار ہے، آپ لوگ اپنے دل میں اس عقیدہ کا انکار کریں لیکن اس کے مقابلہ میں کھڑے ہونے یا اس کی مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔(۶۶)

ابن حنبل نے جو کچھ کہا وہ عافیت طلبی یا کسی ڈر کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وہ سختیوں کے دور کے قہرمان تھے جسے بعد میں ایام المحنة کا نام دیا گیا وہ خلق قرآن کے نظریہ کے اصلی ترین مخالفین میں سے تھے اور اس راہ میں اس حد تک اصرار کیا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی اور انھیں بے حد مارا گیا، معتصم کے دور میں انھیں اس قدر تازیانے مارے گئے کہ نزدیک تھا کہ ان کی جان نکل جائے، ان کا جواب دینا عافیت طلبی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وہ واقعا ایسی ہی فکر رکھتے تھے اور اسی کی وصیت بھی کیا کرتے تھے۔(۶۷)

لیکن وہ کیوں ایسی فکر کے حامل تھے یہ امر ان کے فقہی و کلامی مبانی سے مربوط ہے کہ جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، ان کا عقیدہ تھا کہ قہر و غلبہ اور تلوار کے زور پر امامت و خلافت ثابت تو ہوجاتی ہے اور جب وہ قائم ہوجائے تو کسی کو کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اس کے سامنے قیام کرے اور جو قیام بھی ہوگا وہ نامشروع ہوگا۔ پس جب نظام اور حفظ نظام اصالت کی شکل اختیار کرلیں تو اس صورت میں یہ امر کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ کون اس کے مالک ہیں، یا اس میں حاکم کے شرائط ہیں یا نہیں، یہ مسئلہ بے اہمیت ہوجائے گا۔ اصل نظام کا قدرتمند ہونا ہے نہ کہ وہ شرع و عدالت کے موافق ہے یا نہیں، یہ مسئلہ وجوب اطاعت و مشروعیت کا باعث بنتا ہے نہ کہ اس کی خصوصیات اطاعت و مشروعیت کا باعث ہے اور چونکہ ایسے شرائط حاکم میں پائے جاتے ہیں لہٰذا اس خلیفہ کی اطاعت واجب ہے جو خلق قرآن کا معتقد اور اس کی تبلیغ و ترویج کرتا ہے۔ اس لئے کہ لوگوں کا اعتقاد تھا کہ حاکم کی مخالفت کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات قولی و فعلی امر بہ معروف اور نہی از منکر کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہیں لہٰذا اس سے پرہیز کیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک حق بات ہے، لیکن اگر اس کے حدود معین نہ ہوں اور ہر صورت میں اسے درست مان لیا جائے تو اس صورت میں استبداد اور دین و عدالت سے انحراف کے لئے ایک بہترین موقع فراہم ہو جائے گا جیسا کہ ایسا ہی ہوا بھی ہے۔(۶۸)

بالکل اسی بنیاد پر تھا کہ جس کی وجہ سے ابن حنبل نے کہا کہ واثق کے خلاف زبان اعتراض نہ کھولنا اور کوئی اقدام بھی نہ کرنا اور اسی نکتہ کی وجہ سے تھا کہ معتصم، شدت پسند، جاہل اور قدرتمند خلیفہ کو امیر المؤمنین کے علاوہ کسی دوسرے نام سے نہ نوازیں، جب کہ اسی کے ہاتھوں شدید تریں شکنجے برداشت کئے۔(۶۹)

یہی وہ عوامل تھے کہ جس نے اہل سنت کے بزرگ علما کے ذہنوں میں مسئلہ امنیت اور اسکے نظامی تحفظ کی فکر ڈال دی بالخصوص تیسرا عامل نہایت مؤثر اور فیصلہ کن تھا، نیز یہ اہل سنت اور اہل تشیع میں ایک اساسی فرق تھا اور وہ عامل کہ جس کی وجہ سے شیعوں کو طول تاریخ میں مذمت یا انھیں سرزنش کی جاتی رہی، یہی تیسرا (آخری) عامل تھا۔ انھوں نے ہمیشہ کہا اور کہتے ہیں کہ شیعہ اپنے اقدامات کے ذریعہ مسلمانوں کی صفوں سے خارج اور اختلاف کے پیدا ہونے کا باعث ہیں، بلکہ بعض تو اسی علت کی وجہ سے امام حسینـ پر اعتراض کرتے ہیں، کہ کیوں انھوں نے مسلمانوں کے اجماع کے خلاف قدم اُٹھایا اور ان(کی صفوف) میں تفرقہ ڈالا۔(۷۰)

یہاں پر مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امامـ پر کی جانے والی تنقید صحیح ہے یا نہیں یعنی کیا امامـ نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا یا مسئلہ کچھ اور تھا، یہاں جو چیز ہر ایک سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ تنقید ان کے افکار اور اعتقاد کا نتیجہ ہے، ایسے خیالات کا مالک ہونا ایسی ہی تنقیدوں کا باعث ہوتا ہے اور ایسا ہوا بھی۔ وہ لوگ جو امامـ پر اعتراض کرتے ہیں وہ ایسے خیالات کے مالک ہیں اور وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی زبانیں بند رکھیں ان مخصوص روایات کی وجہ سے ہے کہ جو آپ کی شان میں ہیں بلکہ اہل سنت کے بزرگ علما نے ان روایات کو نقل بھی کیا ہے۔ یعنی مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کرنے کی حرمت جو ان کے افکار کا ایک طبیعی نتیجہ تھا اور وہ روایات جو امامـ کی شان اور مرتبہ پر دلالت کرتی ہیں، ان دونوں کے درمیان تضاد کو دیکھتے ہوئے احادیث کو اختیار کیا ہے، ان لوگوں کا خاموش رہنا بلکہ بعض مواقع پر تمجید و تعریف کرنا اسی علت کی وجہ سے تھا نہ اس وجہ سے تھا کہ واقعہ کربلا ان کے فقہی و کلامی موازین اور معیار سے موافق تھا۔ البتہ اس مقام پر اہل سنت کے ان علما کے سلسلہ میں ہماری بحث ہے جو الگ تھلگ اور حکومتوں سے وابستہ نہیں ہیں، ورنہ ان کے درمیان دین فروش اور ظلم و استبداد کے خوگر علما بھی ہیں جو فاسد حکام کے اعمال و کردار کی توجیہ کے لئے لاف و گزاف باتیں کرتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں اگرچہ ان کی بات امام حسینـ کی اہانت کا باعث ہی کیوں نہ بنے۔

ابن قیم کا نظریہ

اس مقام پر بہتر ہے کہ اہل سنت کے فقہا میں سے ایک عظیم فقیہ ابن قیم کے نظریہ کو ذکر کریں، وہ اپنی اہم اور واقعی کتاب اعلام الموقعین میں ایک جدا فصل بنام زمان و مکان، احوال و نیاتاور نتائج کے تغیر کے ساتھ فتوی کا مختلف اور متغیر ہو جانا ہے، وہ اس فصل میں کہتے ہیں: کہ کیا شریعت لوگوں کے دنیوی اور اخروی مصلحتوں کی وجہ سے بنی ہے؟ ایک مفصل بحث کرتے ہیں اور پھر نہی از منکر کے درجات اور اس کے شرائط کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس نکتہ کے تحت اس طرح اپنے بیان کو جاری رکھتے ہیں: آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت نے نہی از منکر کو واجب قرار دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ وہ احکامات اجراء ہوں جسے خدا اور اس کا رسول پسند کرتا ہے، پس اگر اسی نہی از منکر کی وجہ سے کوئی عظیم منکر اور عصیان انجام پائے کہ جسے خدا اور اس کا رسول ناپسند کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ خدا ایسے منکر کو پسند نہیں کرتا اور اسے انجام دینے والے کو عذاب دے گا جیسے کہ قیام اور خروج کے ذریعہ سلطان یا کسی والی (گورنر) کے لئے نہی از منکر کرنا، کیونکہ یہ نہی از منکر ابد تک کے لئے ہر فتنہ کی جڑ ہے، اصحاب نے آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت سے ان والیوں اور امیروں سے قتال کرنے کے سلسلہ میں سوال کرتے ہیں کہ جو نماز میں اس کے وقت سے تاخیر کرتے ہیں، تو کیا ہم ان سے قتال کریں؟ تو آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت نے جواب میں فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ نماز کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی امیر کو کسی ایسے کام میں مشغول دیکھے جو اس کے نزدیک مکروہ ہے تو صبر کرے اور اس کی اطاعت سے منھ نہ موڑے۔اگر کوئی شخص اسلام پر وارد ہونے والی بڑی یا چھوٹی بلاؤں کا تجزیہ کرے تو اسے بخوبی معلوم ہوگا کہ یہ سب کچھ اس اصل پر عمل نہ کرنے اور منکر پر صبر نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں نے ایک منکر کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے بڑی مصیبت میں گرفتار ہوگئے، آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت نے مکہ میں بڑے بڑے منکرات اور ناپسندیدہ امور کا مشاہدہ کیا، لیکن آپ میں اتنی قدرت نہ تھی کہ اس کی روک تھام کرتے۔ لیکن جب خدا وند عالم نے مکہ کو آپ کے لئے فتح کردیا اور وہ دار السلام بن گیا تو پھر آپ نے خانہ کعبہ میں تبدیلی لانے کے لئے کمر ہمت باندھی اور اسے ویسا ہی بنایا جیساکہ جناب ابراہیمـ نے بنایا تھا، لیکن جس بات نے آپ کو اس مہم سے روکے رکھا تھا درواقع آپ قادر بھی تھے لیکن ایک بڑے فتنہ میں گرفتار ہوجانے کا ڈر تھا، اس لئے کہ اس حرکت کو قریش برداشت نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور کفر کو چھوڑے ہوئے انھیں زیادہ دن نہیں گذرے تھے، یہی علت تھی کہ جس کی وجہ سے آپ نے امیروں سے جنگ کا حکم نہیں دیا اور اس منکر کو روکنے کیلئے کوئی اقدام نہ کریں ورنہ اس سے بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔(۷۱)