اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 3375
ڈاؤنلوڈ: 113

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3375 / ڈاؤنلوڈ: 113
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

پہلی فصل

دور حاضر کی دینی تحریکیں

آخری دس سال کے دوران اسلامی دنیا،عالمی سطح پر سب سے زیادہ بے چینی کا شکار، خبروں میں پیش پیش رہی ہے اور یہ مسئلہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا ہے اور نہ ہے، بلکہ پوری اسلامی دنیا کا یہی حال ہے۔ اگرچہ اس مدت میں ایران اسلام پسندی کا مرکز، بلکہ اس تحریک کا روح رواں اور جوش و خروش کا محوررہا ہے۔

آج کل جس چیز کو اسلام کے احیا اور اسلامی اصول پسندی سے تعبیر کیا جارہا ہے، اس وقت اسلامی دنیا کے آخری مغربی حصے یعنی ''تیونس''اورمراکش تک اور مشرق میں اس کے آخری حصہ یعنی انڈونیشیا اور مسلمان نشین بستیوں پر مشتمل فیلپاین تک پھیل چکی ہے۔ بے شک ان تمام اسلامی ممالک بلکہ مسلمان نشیں ان ملکوں میں بھی جہاں وہ ملک کی آبادی کی نسبت اقلیت میں ہیں، اس سے قطع نظر کہ وہ مقامی باشندے ہیں یا غیرمقامی مہاجر، اس نئی اسلامی لہرسے متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کے اثر کو قبول کرنے کی کیفیت اور میزان یکساں نہیں ہے ، حالات کے اعتبار سے ان میں فرق پایا جاتا ہے۔

البتہ یہ انقلابات اور بے چینیاں صرف ان آخری دس سالوںسے مخصوص نہیں ہیں۔ شایداسلامی دنیا میں موجودہ اضطراب اور بے چینی اس صدی کے دوران دنیا کے دوسرے حصوں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ اور نسبةً زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ کم سے کم یہ تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ موجودہ ادیان کے درمیان ،اسلام جس نے ایک دین کی حیثیت سے اور ایک تہذیب اور تمدن کے عنوان سے ،ایک مستقل تہذیب اور تمدن خود خلق کی ہے اور اس کے حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اپنے کاندھوں کے اوپر اٹھا رکھی ہے، دیگر تمام ادیان سے کہیں زیادہ اس دوران انقلابی ، ثابت قدم اور بر سر پیکار رہاہے۔ کسی بھی دوسرے دین نے اس حدتک نئی تہذیب و تمدن کی ہمہ گیر توسیع پسندی کے خلاف اپنا ردعمل نہیں دکھایا ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ انہوں نے ایک زمانہ میں کچھ عرصہ کے لئے کسی مثبت یا منفی پہلو سے انقلابی اقدام اور مقابلہ سے کام لیا ہو، لیکن بالآخر یا تو انہوں نے اس تہذیب کے تسلط کو قبول کرلیا یا پھر اس ایک طرح کی مفاہمت کے ساتھ صلح آمیز زندگی بسر کرنے کے لئے جھک گئے۔ یعنی اپنے اصول اور معیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو موجودہ حالات کے سانچے میں ڈھال لیا ۔ کیونکہ اس کے علاوہ اپنے تحفظ کے لئے ان کے پاس نہ تو کوئی اور چارۂ کار تھا اور نہ ہی وہ کسی اور طرح سے اپنی اولاد اور پیرووںکے انحراف کو روک سکتے تھے۔(۱)

مختلف ادیان کے درمیان صرف اور صرف اسلام ایک ایسا دین تھاجو اپنے اصول و قوانین اور مذہبی حقائق پر ثابت قدم رہ کرنئی تہذیب وتمدن میں ضم نہیں ہوا اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر برابر سے مقابلہ کیا اورکم سے کم اپنی سرزمینوں میں، اپنی حاکمیت اوربقا کی جنگ لڑتارہا۔ وہ حکمرانی جو نئی تہذیب و ثقافت اور اس کے علم بردار وں کے ذریعہ یا تو ناقابل قبول تھی یا پھر وہ اس کو محدود کردینا چاہتے تھے۔ اس آخری دہائی بلکہ صدی کے دوران اس دین کی استقامت اور مقابلہ آرائی کے واقعات اور کوششوں کی داستانیں ان کے سیاسی اور معاشرتی وجود کے تحقق اور مجاہدت و مقابلے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ سب چیزیں خود اسی دین کی بدولت ہیں۔ اس دین کی اندرونی ساخت کچھ اس طرح کی ہے کہ وہ اپنے پیرووں کو خود اپنے آپ کو ثابت کرنے اور غیروں کو ٹھکرا دینے کی کوشش کرتے رہنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک مسلمان جب تک مسلمان ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دین کے اصول و قوانین کی پابندی کرے۔ یہ اس کے اعتقاد نیز اس کی اخروی فلاح و نجات اور دنیوی عزت و سربلندی کا لازمہ ہے۔ یہ ایک دینی اور اعتقادی ضرورت اور ایک ناقابل تبدیل فریضہ ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کسی مختصر یا طویل زمانہ میں کسی سبب کے تحت مثلاً ضعف ایمان، یا پھر سماج اور معاشرہ کے نامناسب حالات کی بناپر اور عملی طور پر یہ فریضہ انجام نہ پائے لیکن ہمیشہ کے لئے اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک اسلام ہے اور مسلمان باقی ہے، یہ فریضہ بھی رہے گا اور اس بات کا احتمال پایا جاتا ہے کہ یہ دین (یعنی دین اسلام) موجودہ حالات کے خلاف موقف اپنائے اور صورت حال کو اسلام سے ہماہنگ کرنے کے ارادہ سے حالات کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو۔

مختصر یہ کہ اس دین کا ہربیگانہ چیز سے مقابلہ اور پیکار خود اس کی ذات اور حقیقت کی طرف پلٹتا ہے۔ یہ مقابلہ آرائی کسی وقتی ابال یا جوش و جذبات کا نتیجہ اور مختصر مدت میں ختم ہوجانے والی چیز نہیں ہے۔ اگرچہ مجموعی طورپر بیرونی اسباب و عوامل اس کے وجود و ظہور، اور وجود و ظہور کی کیفیت میں اہم کردار رکھتے ہیں، لیکن اصل سبب خود اسی دین کے اندر موجود ہے بیرونی اسباب و عوامل صرف حالات کو سزاوار و ہموار کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام ''سنت'' و ''بدعت'' کے درمیان ایک مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والی جنگ کی تاریخ ہے۔ تاریخ اسلام سنت کو قائم کرنے اور بدعت کو ختم کرنے کی ایک مسلسل تلاش اور کوشش ہے۔(۲)

اب یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ اس بدعت کی شکل اور اس کے پہلو کیا ہیں۔ جب تک بدعت کا وجود رہے گا جنگ بھی جاری رہے گی اور یقینا بدعت کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے لہٰذا قدرتی طورپر یہ جنگ و مقابلہ بھی کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے، اگرچہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ یہ مقابلہ گرماگرم سیاسی انداز کا نہ ہو۔ مبارزہ کی شکل کیا ہو درحقیقت حالات طئے کرتے ہیں۔ لیکن اس کو ایک اصول کے طور پر جاری رہنا دین طئے کرتا ہے۔(۳)

اسلام کی پوری تاریخ خصوصاً آخری صدی اور دہائی کے دوران شیعہ اور سنی دونوں فرقوں میں ہم نے اس طرح کی جہادی کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ و استحکام اور اسلام کے علاوہ جو کچھ بھی ہے تمام چیزوں کو ٹھکرا دینے کے سلسلے میں شیعوں اور سنیوں دونوں نے برابر سے ایک ہی انداز اور ایک ہی جذبے کے تحت جدوجہد کی ہے۔ درحقیقت اس مقابلہ آرائی کی بازگشت خود اسلام کی طرف ہے اور یہ مقابلے دو طرح کے نہیں ہوسکتے یہی وجہ ہے ایران کی مانند مذہبی ملکوں کے مقابلے اور پیکار کی داستانیں دوسرے اسلامی ممالک مثلاً عراق، شام، مصر اور پاکستان وغیرہ کے واقعات سے بنیادی قسم کا فرق نہیں رکھتیں اور اسی لئے دور حاضر کی تاریخ نے ان داستانوں کو یکساں طورپر بیان کیا ہے۔(۴) لیکن ان سب کے باوجود قبول کرنا ہوگا کہ ان کے درمیان کچھ فرق بھی پائے جاتے ہیں اور اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جائے تو بہت سی مشکلات اور غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اتحاد و یکجہتی کی کوششوں کی طرف موجودہ جھکاؤ اس بات سے مانع رہا ہے کہ ان فرقوں کو صحیح طور سے سمجھا اور جائزہ لیا جائے اور یہ ایک بڑی مشکل ہے جو صرف اسی صورت میں حل ہوسکتی ہے کہ جب پوری غیرجانبداری اور جرأت و دلیری کے ساتھ اس سے روبرو ہوا جائے۔

یہ فرق ایک طرف تو شیعہ نشین اور سنی نشین ممالک کے سیاسی، تاریخی، معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے مختلف حالات اور امتیازات سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسری طرف اس نے ان دونوں مکاتب فکر کے اعتقادی خصوصیات ہیں اور ان خصوصیات نے معاشرتی مذہبی اور اعتقادی عمارت بنانے میں اپنے معتقدین کے درمیان جو کردار ادا کیا ہے ان سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان دونوں فرقوں کا اسلام اور دینی عقائد کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کا انداز دوطرح کا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی دین فہمی اور عقائد کی روشنی میں پوری تاریخ کے دوران میں دو طرح کی مختلف خصوصیات سے متاثر ہوکر پروان چڑھے ہیں۔ دو الگ الگ ثقافتی، سیاسی اور معاشرتی ماحول میں زندگی بسر کی ہے ہیں لہٰذا ان کی نفسیات اور مذہبی شخصیت، افکار و نظریات اور مذہبی جذبات اور احساسات بھی دو طرح کے ہیں۔(۵)

اب چونکہ ان کے نظری عقائد کی خصوصیات کا تحقیقی جائزہ اسلامی تحریک کی موجودہ صورت حال کو ذرا گہرائی سے بہتر طورپر سمجھنے میں مدد کرسکتا ہے، ان دونوں (شیعہ اور اہل سنت) کے سیاسی افکار کی تحقیق بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے لہٰذا تمہید کے طور پر ہم اس کو بیان کررہے ہیں۔(۶)

شیعہ اور سنی حضرات کے سیاسی افکار کے سرچشمے

پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ اصو ل و اسباب، چاہے تاریخی ہوں، یا فقہی اور کلامی (شیعوں اور سنیوں کی اور مذہبی سیاسی سوجھ بوجھ کی تشکیل میں کس طرح موثر ہوئے ہیں اور کیوں اس طرح وجود میں آئے ہیں؟ اور اس طرز تفکر نے ان کی گذشتہ اور موجودہ دینی سیاسی تغیرات کی تاریخ پر کیا اثر ڈالے ہیں اور ڈال رہے ہیں؟ آیا ان دونوں کی سیاسی اور معاشرتی حتیٰ ثقافتی تبدیلیوں کا سفر جہاں دین و مذہب کے ساتھ آمیزش اور ٹکراؤ ہوا ہے، یکساں رہا ہے یا دونوں میں فرق پایا جاتا ہے اور اگر فرق رہا ہے تو یہ فرق کس حد تک سیاست اور دین کے دائرے میں دونوں کے نظریاتی بنیادوں اور دونوں کے باہمی رابطہ کی کیفیتوں سے متائثر رہا ہے؟ نیز یہ کہ اس فہم نے دونوں مذہب کے ماننے والوں کے معاشرتی اور معنوی ڈھانچہ پر کیا اثر ڈالا ہے؟

اس موضوع کی گہرائی کے ساتھ تحقیق صرف اس لئے اہم نہیں ہے کہ اس کی روشنی میں اہل تشیع اور اہل سنت کے ماضی کو بہتر طورپر سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس پر توجہ دیئے بغیر اسلامی تحریک کی موجودہ حالت کو صحیح طورپر سمجھا نہیں جاسکتا۔ اگرچہ ممکن ہے کہ موجودہ اسلامی تحریک، شیعہ اور سنی علاقوں میں یا کم سے کم بعض علاقوں میں یکساں طور پر احاطہ کئے ہوئے ہو ،لیکن اس سے اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ تحریک ایک ہی جیسے مقدمات اور بنیادی نظریات سے وجود میں آئی، پھولی پھلی اور آگے بڑھی ہے تو یہ غلط ہے۔ سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی حالات کی تاثیر نیز ان دونوں مذاہب کے پیرووں کے کم و بیش مشترکہ سامراجی تجربات اور تاریخی ماحول موجودہ حالات وجود میں لانے میں اس قدر قوی اور فیصلہ کن رہے ہیں کہ کسی متشکلہ امر کے آغاز میں ہی ان دونوں مکاتب کی اعتقادی خصوصیات اور سیاسی، مذہبی عمارت کی اہمیت کو دو طرح سے اسلامی تحریک کے عملی تعیین میں صاف طورپر پرکھا جاسکتا ہے۔

البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مختلف میدانوں منجملہ سیاسی افکار کے دائرے میں ان دونوں کے بہت سے مشترکات کو نظر اندار کردیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں میں باہمی شباہتوں بلکہ بہت سارے مشترکات کے باوجود باریک قسم کے اہم فرق پائے جاتے ہیں۔ ایسے فرق اور امتیازات جن کو آج کے پیچیدہ حالات نے اور زیادہ بہتر طورپر نمایاں کردیا ہے۔ ان باریک اور ذہن سے پھسل جانے والے فرقوں سے غیر جانبدارانہ صحیح واقفیت جس قدر گہری ہوگی اتنا ہی ایک دوسرے کی شناخت میں مددگار ہوگی اور باہمی مشکلات و بدگمانیوں کو زائل کردے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کو پیش کرکے ان کے بارے میں بحث کی جائے نہ یہ کہ ان کو پوشیدہ رکھا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ اور سنی، خصوصاً سیاسی نظریات میں بالکل دو طرح کے مختلف مکاتب ہیں اور سیاسی و مذہبی تحریک، ان دونوں معاشروں میں دو طرح سے وجود میں آئی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر ایک معاشرتی اور سیاسی تحریک خود اپنے حلقے میں موجود سماجی اور نفسیاتی حقیقتوں، تاریخی تجربوں اور اعتقادوں سے متاثر ہوتی ہے اب جبکہ یہ ثابت ہے کہ حقیقتیں مختلف ہیں تو فطری طورپر تحریک کو بھی متاثر کردیں گی۔ ایک شیعہ اور ایک سنی کے مذہبی نفسیات بھی مختلف ہیں اور ان دونوں کے دینی و معاشرتی ڈھانچہ میں بھی فرق پایا جاتا ہے اور جب ایسا ہے تو نتیجہ بھی خواہ مخواہ اس فرق سے ضرور متاثر ہوگا۔(۷)

بطور نمونہ ایران میں عام طورپر اہل سنت کے یہاں دینی اور سیاسی رہبری کا نہ ہونا عصر حاضر کی اسلامی تحریک میں ایک بڑی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ یہ تنقیدی پہلو شیعوں اور سنیوں کے درمیان ایک بے جا موازنہ کی دین ہے اور ناقدین نے اس نکتہ کو نظر انداز کردیا ہے کہ یہ خصوصیات دونوں کی فقہی، کلامی عمارت، روایتی تاریخ نیز نفسیاتی اور معاشرتی ڈھانچہ سے متاثر ہے۔ ایسی بنیادیں اور ضرورتیں اصولی طورپر ًاہل سنت کے یہاں نہیں پائی جاتیں جبکہ شیعہ، شیعہ ہونے کی حیثیت سے، نہ یہ کہ وہ ایرانی ہے یا موجودہ زمانہ میں زندگی بسر کررہا ہے، اپنے دینی لزوم کے تحت، نہ صرف رہبری کو قبول کرتا ہے بلکہ خود رہبر تربیت کرتا رہا ہے اور یہ ضرورت اور لزوم اہل سنت کے یہاں نہیں ہے۔ نہ تو ان کے یہاں اس طرح کا کوئی نظریاتی سرچشمہ پایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے یہاں کوئی تاریخی تجربہ رہا ہے؛ نہ تو ان کی معنوی اور مذہبی عمارت اس طرح کے ستون پر کھڑی اور بلند ہوئی ہے کہ وہ ہر مسئلہ میں اپنے مرجع دینی کی طرف رجوع کریں اور نہ ہی ان کے مذہبی معاشرہ کا ڈھانچہ اس طرح کا ہے کہ کسی ایسے شخص کو اپنے فیصلوں میں آخری نقطۂ اقتدار قرار دیں۔

مختلف نظریات

اس بحث کی اہمیت کے پیش نظر کہ جس کی یہ حامل ہے بہتر ہے ہم پہلے کتاب ''الفکر السیاسی الشیعی'' کے مؤلف علامہ محمد جواد مغنیہ کی بصیرت افروز تنقید کا ایک حصہ یہاں پرنقل کردیں۔ علامہ موصوف اپنی کتاب ''الشیعہ و الحاکمون'' میں تحریر فرماتے ہیں: ''جمہور اہل سنت حاکم جائر کی اطاعت اور اس کے ظلم و جور پر صبر کرنے کو واجب جانتے ہیںاور اس کے خلاف خروج کی اجازت نہیں دیتے، لیکن شیعہ ظلم اور برائی کے خلاف انقلاب اور مقابلے کو واجب جانتے ہیں۔ شیعیت اس مسئلہ میں سنیت کی مخالف ہے اور اس نے اس کا مقابلہ کیا ہے۔ اکثر اہل سنت کی نظر میں کسی ظالم و جابر حاکم کے خلاف خروج دین اور اسلام سے خروج ہے اور شیعوں کی نظر میں اس طرح کا خروج عین دین ہے اس کے برخلاف ظلم پر صبر کرنا دین سے خروج شمار ہوگا۔ اور اسی مقام پر احمد امین اور ان کی مانند دوسروں کے اس قول کی سچی اور صحیح علت سمجھ میں آتی ہے جو کہتے ہیں: ''شیعیت ہر اس فرد کے لئے جو اسلام کی نابودی کا درپے ہو ایک سائباں ہے'' کیونکہ احمد امین اور ان کے بزرگوں کی نظر میں، اسلام ایک حاکم کے وجود میں، چاہے ظالم ہو یا عادل، مجسم ہوتا ہے لہٰذا ہر وہ شخص جو اس کے مقابلہ میں قیام کرے اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ لیکن شیعوں کی نظر میں خود حاکم ظالم ہے اور وہ اسلام سے خارج ہے... اسی بناپر یہ بات تعجب آور نہیں ہونی چاہئے کہ وہ (احمد امین) ایک شیعہ کو اگر ''نابود کرنے والے'' سے تعبیر کریں۔ ''جی ہاں! یقینا شیعہ گمراہی اور برائی کو نابود کرنے والے ہیں۔''

''یہ حسن بصری تھے جو کہا کرتے تھے: ''بنی امیہ کی اطاعت واجب ہے اگرچہ وہ ظلم و ستم ہی کیوں نہ کریں... خدا کی قسم ان کے ذریعہ جو بھلائی سامنے آئی ہے وہ ان کی برائی سے کہیں زیادہ ہے۔'' اس کے بعد وہ اپنے بیان میں مزید اضافہ کرتے ہیں: ''شیعوں کے ائمہ، فقہا اور ادبا نے ہمیشہ حکام جور کے خلاف قیام کیا ہے اور ان کی مدد اور تعاون کو گناہ اور معصیت میں قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ تشیع اپنی حقیقت اور ماہیت کے لحاظ سے باطل کے خلاف قیام اور استقامت کا حامی ہے اور وہ حق کی برقراری کے لئے ایثار کا حکم دیتا ہے اور یہ معقول نہیں ہے کہ صاحبان قوت و اقتدار اس بات سے غافل رہے ہوں، یہی سبب ہے کہ وہ حکام جور شیعوں کو آزار و اذیت میں مبتلا رکھتے تھے اور ہر جگہ ان کا پیچھا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے علمائے سوء کو خرید لیا اور دونوں (حکام جور اور علمائے سوئ) نے مل کر طئے کرلیا کہ خدا و رسول کے مخلص مومنین اور ان کو قتل کردیں۔ یہ لوگ ان کے قتل کو مبارک سمجھتے اور ان کے خروج کے خلاف، اس دین سے کہ جس کی وہ تفسیر کرتے تھے، فتویٰ دیا کرتے تھے۔''(۸)

جواد مغنیہ کی یہ بات خود اپنے مذہب کے سلسلے میں شیعوں کے عمومی تصویر کو بیان کرتی ہے اور اسی طرح اہل سنت اور ان کے علمائے سوء کے بارے میں ان کے خیال کی ترجمان اور یہ بیان اگرچہ اپنی حدتک صحیح ہے لیکن یہ کامل اور مکمل نہیں ہے؛ حقیقت کا ایک حصہ ہے نہ کہ پوری حقیقت؛ دیکھنا ہوگا کہ کیوں یہ ایسے اور وہ ویسے ہیں؟ آیا یہ صورت صرف شخصی اور اخلاقی دلائل کا نتیجہ ہے یا مسئلہ اس سے زیادہ گہرا اور باریک ہے۔ ان دونوں مکاتب فکر کے مواقف کا جائزہ لینے کے لئے پہلے مرحلہ میں ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ انھوں نے اپنے اعتقادی، فکری، معاشرتی اور تاریخی فیصلوں میں کن بنیادوں پر عمل کیا ہے اور ان کے لزومات اور پابندیاں کیا رہی ہیں؟ کیونکہ وہ بہرحال اپنے اعتقادی، فقہی اور کلامی حدود سے باہر قدم نہیں نکال سکتے تھے۔ جو شخص اپنے اصول و ضوابط اور اعتقادی ذمہ داریوں کے تحت اپنے قدم اٹھاتاہے نہ فقط یہ کہ وہ شخص سرزنش کے قابل نہیں ہے، بلکہ اگر وہ اس کام کو اخلاص اور حسن نیت کے ساتھ انجام دے تو وہ قابل ستائش اور تعریف بھی ہے۔

اگر کوئی اعتراض اور تنقید بھی ہو تو اسے بھی آزادی کے ساتھ ہونا چاہئے نہ یہ کہ خاص اصول (قواعد) اور معیار کو قبول کرکے اس کی پابندی کی جائے اور اسی طرح اصول اور فرائض سے دست بردار ہوکر توقع رکھنا ایک بے محل اور بے جا توقع کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

مغنیہ کے بیانات نقل کرنے کے بعد (نقاد) تنقید کرنے والا اس طرح تنقید کرتا ہے: ''بغیر اس کے ہم اس بارے میں تعصب سے کام لیں اور تعصب کی آگ بھڑکائیں استاد مغنیہ کی قدر دانی اورشکریہ ادا کرتے ہوئے ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ ہم ان کے اس تجزیہ کی موافقت نہیں کرسکتے۔ ان کی احساساتی اور خاص روش پر توجہ کئے بغیر ایک عام انسان یہ احساس کرتا ہے کہ شیعہ اور اہل سنت کا حکام کے ساتھ سلوک اور برتاؤ بنیادی طورپر دو طرح کا رہا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد یہ دونوں حکام کی حاکمیت کے تحت دو مختلف حالات میں زندگی بسر کیا کرتے تھے۔''

اس کے بعد وہ اس طرح اضافہ کرتا ہے'': وہ نظریات جو فقہائے عظام سے صادر ہوتے تھے وہ کوئی شخصی اور ذاتی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ وہ عا م مسائل سے متعلق تھا کسی فقیہ سے صادر ہونے والا فتویٰ اس کی شخصیت اور ذات سے مخصوص نہیں تھا، بلکہ ان کے ماننے والے اور پیروی کرنے والوں، مریدوں اور مقلدوں کو بھی شامل ہوتا تھا۔ لہٰذا کسی بھی مسئلہ کی اس طرح تحقیق و تجزیہ نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے بیان میں ایک بہت بڑا اشتباہ اور غلط فہمی ہوگئی ہے جس پر کوئی ایک بھی محقق ان کی موافقت نہیں کرسکتا، اگرچہ یہ نظریہ کچھ ایسے حقائق اور مطالب پر بھی مشتمل ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہمیں اپنے موقف اور نظر یہ کے بیان میں شجاع اور صاف گو ہونا چاہئے، لیکن اس کے حدود اربعہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بیان میں صراحت صرف ایک وسیلہ کی حیثیت رکھتی ہے نہ یہ کہ یہی ہمارا اصلی مقصد ہے لہٰذا اس صورت میں ہم نے اپنے مقصد کو وسیلہ پر قربان کردیا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف موقف یہ ہے کہ ظالم حاکم سے متعلق شیعوں کا موقف یہ ہے جس کی بازگشت ایک عمیق اور گہرے معیار کی طرف ہوتی ہے اس کی بنیاد ائمہ معصومین(ع) کا حکام کے ساتھ سلوک اور رویہ ہے اور شیعہ ان (ائمہ معصومین(ع)) کے تابع ہیں۔''(۹)

پھر بھی یہ مسئلہ کا ایک رخ ہے۔ اور اس کا دوسرا رخ خود عوام ہی کی طرف پلٹتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اہل سنت کی فقہی و کلامی عمار ت نیز اہل سنت کا اجماع اور تاریخی تجربہ ان کے علما کے متعلق ان کے سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں ہمیشہ ان کے علما کی کارکردگی اور فعالیت میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ اور ایسا بھی ہے کہ اہل سنت کے علما کی ایسی محدودیت نے اس پوری تاریخ میں عوام کی سطح امید کو بھی محدود بنادیا ہے۔ ایک مذہبی عالم کے بارے میں ان کی فکر او رسوچ بھی شیعوں سے بہت زیادہ مختلف ہے اور شیعوں کا اپنے علما کے بارے میں سوچنے میں فرق کے ساتھ ساتھ ان (شیعہ و اہل سنت) کی (اپنے علما کے ساتھ) توقع بھی ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔

اہل سنت کے درمیان ان کا مذہبی عالم وہ شخص ہے جو باتقویٰ انسان ہو اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ اسلامی علوم میں خاص مہارت کا بھی حامل ہے اور اسی لئے وہ اپنے دینی مسائل میں اس (عالم دین) کی طرف رجوع کرتے ہیں۔(۱۰)

لیکن شیعہ نقطہ نظر سے ان کا عالم ان معیاروں سے کہیں اونچا ہے وہ لوگوں کے امن و امان کا مرکز اور ان کی پناہ گاہ ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ لوگ دینی مسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی امور میں بھی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے سیاسی ، سماجی اور معاشر ہ کے مختلف مسائل میں بھی اس سے کسب تکلیف کرتے ہیں اور یہ ایسا کیوں ہے؟ اس فرق اور اختلاف کو فقط معاشرتی دائرہ میں تلاش نہیں کرنا چاہئے ۔ ایک طرح سے اس اختلاف کا اہم جز سماج اور معاشرہ ہے اور وہ اس کے اعتقادی اور نظری ( Ideologic ) اسباب کے تحت ہے ۔ شیعوں کے نزدیک اجتہاد کے دروازہ کا کھلا ہونا اور زندہ مجتہد کی تقلید کا واجب ہونا، بالکل درست اہل سنت کے برخلاف ہے، یہ اہم ترین دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔ اس کے لازم اور ضروری ہونے کا فطری اور منطقی نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں پر ضروری ہے کہ وہ لوگ ''اپنے جدید مسائل میں''(حوادث واقعہ) چاہے جس قسم کا نیا مسئلہ ہو اور وہ جس موضوع سے بھی متعلق ہو، دینی ضرورت کے تحت زندہ مجتہد کی طرف رجوع کریں اور اپنے جواب کو اس سے حاصل کریں اور اس کے ذاتی نظریہ کومعلوم کریں اس لئے کہ یہی (یعنی اس سے سوال کرنا) اور اس کی اطاعت کے واجب ہونے کے لئے معتبر اور قابل قبول ہے۔ اور ایک سنی عالم کی حیثیت ،فتویٰ نقل کرنے والے سے زیادہ نہیں ہے، (اس عالم سے چار مجتہدوں میں سے کسی ایک مجتہد کا نظریہ معلوم کرنا) اور وہ فتویٰ بھی ایسا فتویٰ جو ایک ہزار سال سے بھی زیادہ سابقہ رکھتا ہے۔ (اسی کے مقابلہ میں) ایک شیعہ عالم اپنی نظر بیان کرتا ہے یا کم از کم کسی زندہ مجتہد کے نظریہ کو بیان کرتا ہے۔ نفسیاتی اور ذاتی اعتبار سے بھی وہ شخص جو اجتہاد اور مقام فتویٰ تک پہونچ گیا ہو اور جس کی روحی اور ذاتی حیثیت جو زیادہ سے زیادہ نقل فتویٰ کے آخری مرحلہ تک پہنچ پائی ہو ان کا باہم مقایسہ نہیں کیا جاسکتا اور ان میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کی ذہنی اور ذاتی سطح جو اپنا جواب پانے کے لئے دو مختلف عالموں سے رجوع کرتے ہیں۔ اگر یہ فرق ماضی میں اسلامی مراکز خصوصاً اسلامی ممالک کے مذہبی معاشرہ کے بند ہونے کے سبب اور معاشرتی ثقافتی اور اقتصادی حالات کے بدلاؤ میں سستی کی بناپر کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں تھا، آج اس فرق کے ظاہر کرنے کا موقع فراہم ہوگیا ہے۔

اس مقام پر نکتہ یہ ہے کہ یہ تفاوت اور فرق کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ایسا فرق ہے کہ کم و بیش یہ دونوں مذہبوں کی ابتدا سے چلا آرہا ہے البتہ موجودہ دور میں پردۂ خفاء سے نکل کر سیاسی عرصہ میں معاشرتی تجلی حاصل کرلی ہے۔

اس سے قطع نظر کہ اہل سنت کے اپنے بہت سے ایسے امور ہیں جن میںوہ لوگ حاکم کو یہ حق دیتے ہیں اور تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں، لیکن شیعہ فقہ میں ان تمام امور میں فقیہ کی طرف رجوع کیا جاتاہے۔ یہ موضوع صرف سیاسی حیثیت کا حامل نہیں ہے۔ اس کی معاشرتی حیثیت بہ در جہ ہا بہت ہی قوی اور بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور ایسی صورت میں شیعہ عالم بھی اپنے کو ضروری اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اور لوگ بھی اپنے تمام امور میں اس (مجتہد جامع الشرائط) کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لہٰذا شیعہ عالم بھی اپنے آپ کو واجب الاتباع سمجھتا ہے اور لوگ بھی اس کی اطاعت کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ایسے مسائل اہل سنت کا معاشرہ اور ان کی تاریخ نے کبھی بھی ایسا تجربہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ ایسے تجربہ حاصل کرنے پر قادر ہیں اور بہت بعید ہے کہ وہ (اہل سنت) آئندہ بھی اس بات کا تجربہ کرپائیں۔(۱۱)

دینی قیادت

دینی مرجعیت کا مفہوم اور مجتہد جامع الشرائط کی اطاعت کا واجب ہونا دقیق طورپر شیعہ فقہ اور علم کلام کے معیار سے وجود میں آیا ہے۔ یہ موازین اورمعیار جس طرح سے کہ مجتہدین کرام کو ان کے بلند و بالا مقام پر پہنچاتا ہے، لوگوں کو بھی ان (مجتہدین کرام) کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے۔ بات صرف اتنی سی نہیں ہے کہ شیعہ حضرات اپنے روز مرہ پیش آنے والے مسائل میں مجتہدین کرام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر مذہب تشیع کی (شیعہ) بنا وٹ کچھ اس طرح ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہیں کہ ایسے مجتہدین کی تربیت کرکے ان کو سماج کے واسطے پیش کریں۔ پھر بھی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ شیعہ علما اپنے ہم پلہ سنی علما کے مقابلہ میں جنگ طلب اور شجاع ترین رہے ہیں، بلکہ مسئلہ اس بات میں ہے کہ انھوں نے شیعوں کے نظری معیار کو مضبوط کر نے والی حتی ایسی خصوصیات کے موجد اور بانی ہیں۔(۱۲)

ایک شیعہ عالم اپنے عقاید پر بھروسہ کرتے ہوئے بغیر کسی شک و شبہہ اور کسی خوف و ہراس ایک حکومت کے مقابلہ میں ایسے مقامات پر جہاں وہ ضروری سمجھے قیام کرے ہے اور لوگوں کو اس قیام کی طرف دعوت دے ۔ لیکن اس کے مقابلہ میں ایک سنی عالم اپنے عقاید کے کون سے حصوں پر تکیہ کرکے ایسا اقدام کرے۔ یہ صحیح ہے کہ سنی فقہ اور کلام میں بھی ظالم حاکم اور باد شاہ کے مقابلہ استقامت جس کو وہ جائز یا پھر لزوم کا قائل ہو ایسے مقابلہ کے کچھ نمونے ملتے ہیں لیکن اولاً یہ نمونے معارضہ اور ٹکراؤ (یعنی اس کے مقابلہ میں مخالف قول) سے دوچار ہیں۔ یعنی بہت سے مقامات پر اہل سنت کے درمیان بہت زیادہ مثالیں اوربہت ہی معتبرا قوال اس فکر کے مد مقابل موجود ہیں (اہل سنت کے نزدیک)۔(۱۳) دوسرے یہ کہ کم از کم ہم یہ صراحت اور قاطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جو قطعی نصوص (یعنی قرآنی دلیلیں اور روایات ائمہ) شیعہ فقہ اور کلام میں موجود ہیں وہ سنی فقہ اور کلام میں ہرگز اس صراحت و قاطعیت کے ساتھ نہیں پائی جاتی ہیں اور اصل نکتہ یہی ہے۔ ایسے حالات میں کس طرح ایسے علما کے میدان میں آنے کی توقع کرسکتے ہیںجو اپنے اعتقادی و کلامی ا ور فقہی مسائل میں ذمہ داری کو قبول کرکے پابندی بھی کر یں اور عین اسی عالم میں وہ ایسی جنگ طلب خصوصیات کے بھی مالک ہوں۔

اس نقطۂ نظر سے یہ مسئلہ شخصی اور ذاتی مسئلہ نہیں ہوگا اور صرف شیعہ اور سنی علما کی ذاتی خصلتوں پر ختم نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ یہ ان دو نوں کے فقہی اور کلامی ڈھانچہ کا لب لباب ہے جس کے سب ان کے عالموں اور ماننے والوں کو اہم سیاسی مسائل میں اور اس کے مقابلہ میں اپنا اپنا مسلک اختیار کرنے میں ان لوگوںکی دو طرح سے پرورش اور تربیت کی ہے۔ فطری طورپر اس فکری اور نظری معیار کو اس پوری طولانی مدت میں معاشرتی اور سیاسی بنیادوں اور ان کے مذہبی رجحان کی عمارت کو اپنی خصوصیات کے مطابق مستحکم اور استوار کرکے عملی طورپر شیعہ حضرات اہل سنت و الجماعت اور ان دو مذہبوں کے علما کو دو مختلف تاریخی، معاشرتی، فکری اور اعتقادی میدان میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔(۱۴) اگر ہم یہ چاہیںکہ ان دونوں (شیعہ اور سنی) کے فرق کی طرف توجہ دیئے بغیر ان کے بارے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی البتہ یہ ممکن ہے کہ اہل سنت کے فعال جوانوں کا ایک مذہبی اور دیندار گروہ احزاب اسلامی کے ایسے مجموعہ میں (اسلامی گروہ) جمع ہوکر کسی ایک شخص کو سیاسی اور مذہبی ریاست کی کرسی پر بٹھادیں لیکن یہ بہت سخت ہے کہ ایسا قدم اس لحاظ سے کہ دینی بنیاد اور اس کے لزوم سے عاری رہے اور اور ایسی توفیق حاصل کر کے اس کی بقاء کے ضامن ہو جائے اور ایسے سخت حقائق سے مقابلہ کرنے میں خود درہم برہم نہ ہو۔ اس سے قطع نظر ایسے محدود اقدام کو تمام معاشرہ اور سماج میں نفاذ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ہر معاشرہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے ترقی کے راستہ پر گامزن ہوجاتا ہے نہ کہ کسی خاص گروہ کے منشا اور چاہت کی بنیاد پر کہ جس طرح وہ چاہیں معاشرہ کو اس ڈگر پر لگادیں۔(۱۵)

بہرحال یہاں پر ان اختلاف اور فرق کی کامل توضیح دینا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ بلکہ اس مقام پر اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ یہ دونوں مذہبوں کے حامل لوگ موجود ہیں اور ان دونوں مذہبوں کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں پائی جاتی ہیں۔ (ان کے بارے میں قضاوت کرنے سے پہلے) یہ لازم ہے کہ علمی اور بغیر کسی پیش داوری اور پہلے سے فیصلہ کئے ہوئے ان کو پہچانا جائے تاکہ ہم نتیجہ کے طورپر ایک دوسرے کی بہتر پہچان کرسکیں اور اپنے اپنے اعتقادی خصوصیات سے زیادہ ایک دوسرے سے توقع نہ رکھیںاور ہر ایک کی وسعت کا لحاظ رکھیں۔ اس لئے کہ ایسی مشکلیں خصوصاً ان آخری سالوں میں موجود رہی ہیں۔

یہ معلوم کرنے کے لئے کہ شیعہ حضرات اور اہل سنت کی سیاسی افکار کی موجودہ اسلامی تحریک پر کیا اثر پڑا ہے، اس تحریک کی خصوصیات کو واضح و آشکار ہو نی چاہئیں۔ البتہ اس بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جاچکا ہے۔ بلا شک و شبہہ ان آخری دس سالوں کے دوران ۱ بین الاقوامی سطح پر اس تحریک کے برابر ۱ لوگوں کے افکار اور نظریات کی توجہ کا مرکز نہیں بن پایا اور اپنی طرف جذب نہیں کرپایا ہے۔ البتہ اس مقام پر تحلیل و تجزیہ یا تکرار مقصود نہیں ہے بلکہ موجودہ زمانہ میں تاریخی اور معاشرتی پس منظر میں پوری تیسری دنیا جس کا ایک حصہ اسلامی دنیا ہے اس کے بارے میں چھان بین مقصود ہے۔

اپنے موقف سے اوپر اُٹھ کر سوچنا اور جامع رویۂ نگاہ سے، موجودہ اسلامی تحریک دورجدید کی تاریخ کا پیش خیمہ (طلیعہ) ہے جو تقریباً تمام تیسری دنیا پر چھاگیا ہے۔ اگرچہ اس تاریخی دورہ ظہور کے نمونے تیسری دنیا میں یکساں طور پر نہیں ہیں، لیکن جزوی طورپر ساری دنیا میں یہ پایا جاتا ہے؛ اور اسلامی دنیا میں کچھ خاص اسباب کی بناپر زیادہ قدرت کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے۔ اگرچہ اسلامی دنیا میں بھی تاریخی حالات کے اعتبار سے اور دینی نفوذ کی گہرائی اور گیرائی کے تحت نیز اقتصادی تکنیکی و معاشرتی اور خلاقیت کے معیار کے اعتبار سے نیز سیاسی حجم کے بدلاؤ کے اعتبار سے، اس موج کی قدرت اور قوت مختلف ہے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کی وسعت ہر جگہ موجود ہے اور یہ تمام اشیا پر اثرانداز ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

جس وقت سے تیسری دنیا کے ممالک عصر جدید میں وارد ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے ورود کی کیفیت علاقوں کے اختلاف کے اعتبار سے بہت زیادہ مختلف تھی، ایک جدید تاریخی دور کا آغاز ہوگیا جو کم و بیش ۶۰ئ کی دہائی کے آخر میں اور ۷۰ئ کی دہائی کے شروع تک یہ (دور) باقی رہا۔ اس زمانہ کے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوا، جو از کم تہذیب و ثقافت، یاسی اور معاشرتی لحاظ سے ان کی طرف جھکاؤ کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ جو اپنے پہلے والے دور سے بہت زیادہ اہم فرق کا حامل ہے۔ البتہ یہ فطری بات ہے کہ اس آخری دور میں تمام ممالک میں شروعات اور ابتدا کی تاریخ ایک نہیں ہے۔ تاریخی، اقتصادی اور سیاسی خصوصیات کے اعتبار سے ان تمام ممالک میں جلدی اور دیر سے بلکہ آخری دورہ میں شدت اور ضعف کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ۶۰ئ کی دہائی کے آغاز سے لے کر ۷۰ئکی دہائی کے آخر اور ۸۰ئ کی دہائی کے شروع تک عموماً تیسری دنیا کی حکومتوں میں موجودہ اضطراب اور بے چینیاں بالخصوص اسلامی دنیا میں اس دور جدید کی سیاسی علامتوں کے عنوان سے رونما ہوئی ہیں۔(۱۶) جو یا تو یکسر اور کاملاً اس تاریخی دورہ کی تخلیق ہیں یا ان خصوصیات کی زیر اثر قرار پائی ہیں۔

جس وقت سے تیسری دنیا والوں نے اس جدید تاریخ اور تمدن کے ساتھ وارد ہوئے ہیں، اب چاہے استعمار کے راستہ کو اختیار کیا ہو اور چاہے زمانہ کے عمومی حالات اور فطری طور بغیر کسی سامراجی سیاست کو بروئے کار لائے ہوئے اس کام کو انجام دیا ہو، وہاں پر تاریخ کے نئے دور کا آغاز ہو جا تا ہے ۔وہ لوگ اس سے پہلے وہ اپنے گذشتہ طریقہ پر زندگی بسر کرتے تھے۔ اس طرح ان کی چین، جاپان سے لے کر ہندوستان، ایران، مصر اور تمام افریقی ممالک اس دور جدید کی لپیٹ میں آگئے اورجنوبی امریکہ کے ممالک کچھ تاریخی اسباب و عوامل اور ملکی آبادی کی بناپر ہماری اس بحث میں داخل نہیں ہیں۔ یعنی ہماری اس بحث سے خود بخود خارج ہوگئے ہیں۔ گفتگو ان ممالک کے اس گروہ کے بارے میں ہے جو خود اپنی ایک تاریخ اور مستقل تہذیب و تمدن کے حامل تھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہے تھے اور اچانک اس نئی دنیا کے روبرو ہوئے تو ان میں تغیر اورتبدیلی پیدا ہوگئی اور اس طرح سے ان لوگوں نے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا۔بغیر اس کے کہ یہ تاریخی صانحہ جنوبی امریکہ کے مانند لوگوں کا جوق در جوق ہجرت کرنا، جو ثقافت اور تمدن کے لحاظ سے وہاں کے مقامی لوگوں سے بہت زیادہ فرق رکھتے تھے، اس کو قطع کردیا جائے اور طرح طرح کی تبدیلیاں ان پر تحمیل ہو جائیں۔( یعنی ان کے چاہت کے خلاف ان پر لاد دی جائیں)۔(۱۷)

ان سرزمینوں پر اس موجود تغیر و تبدل اور تبدیلی سے پہلے ان کی اپنی ذاتی تاریخی وثقافتی خصوصیات ایک حدود اربعہ میں تھیں لیکن جس وقت سے اس (نئی تہذیب) سے روبرو ہوئے اور آہستہ آہستہ اپنے اندر گیرائی اور وسعت پیدا کرلی تو ایک نئے دور کا آغاز ہونا شروع ہوگیا۔ یہ دور کچھ خصوصیات کا مالک تھا جو ہماری بحث سے متعلق ہیں ان میں سے چند اہم خصوصیتوں کی طرف اشارہ کریں گے۔

شخصیات اور دانشوروں کی حکومت

اس دور کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ دانشور اور پڑھا لکھا طبقہ جن کے ہاتھوں میں زمام ِحکومت اور اقتدار تھا،وہ طبقہ جدید تہذیب و ثقافت سے اچھا خاصا متاثر تھا۔ باوجود اس کے کہ کبھی اس طبقہ (دانشور اور شخصیات) کی تاثیر بہت ہی عمیق اور گہری اور کبھی تاثیر قبول کرنے میں والہانہ انداز اختیار کرلیتی اور اپنے آپ کو بھول جانے اور سرمست ہونے کی حد تک پہنچ دیتی تھی، اس کے بر خلاف عوام کی اکثریت نے ۶۰ ئ و ۷۰ئکی دہائی کی ابتدا میں، مختلف معاشرتی واقتصادی حالات کے تیزیا سست اور مدھم بدلاؤ کے اعتبار سے سماج کے بسیط اور محدود ہونے اور حسب منشا براہ راست پورے طور پر اس نئی تہذیب کے اثر کو قبول نہیں کیا تھا۔ وہ لوگ اپنے روایتی اور قدیمی ماحول پر خاص طرز پر اپنی قدیمی روایت جو ان کے پہلے والوں سے ان کو میراث کے طور پر ملی تھی اسی کے مطابق اپنی زندگی بسر کررہے تھے۔ ان کے مقدسات وہی قدیم مقدسات اور ان کے زندگی گذارنے کا طریقہ، ان کی چاہتیں اور ان کا مثالیہ کردار اور نمونہء عمل( Idial ) سب کچھ قدیمی طور طریقہ پر تھیں۔ اگرچہ تہذیبِ نو کے بعض عناصر، چاہے ان دانشوروں، روشن فکر اور پڑھے لکھے طبقہ کے ذریعہ یاوہ لوگ اپنی زندگی میں روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے اور تکنیکی چیزوں ( Technologic )کے روز افزوں دبائو کے تحت ان کی زندگی کا جز بن گئے تھے، لیکن وہ مجموعی حیثیت سے اتنی مقدار میں اثر انداز ہو کر حالات میں تبدیلی لانے پر قادر نہیں تھے۔ معاشرتی،مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی بنیادیں یا تو بالکل ویسے ہی اپنی ہی قدیمی شکل میںباقی تھیںاوریا ان میں جدید انقلاب کی روشنی میںاس حد تک تبدیلی نہیں آئی تھی کہ ان کی قدیمی روایات،رسم و رواج اوران کی بنیادیںبالکل نابود ہوجائیں۔(۱۸)

یہ تاریخ کا تیسرا موڑ یا دور تیسری دنیا اور اسی طرح اسلامی ممالک میں بھی دو اہم خصوصیات کاحامل ہے۔ایک تو وہی خصوصیت ہے جسے سابقاً بیان کیا گیا ہے۔ یعنی دانشور، روشن فکر اور پڑھے لکھے طبقہ میں گہری تاثیر اور جن کے ہاتھوں میں ان کے معاشرہ کی زمام حکومت تھی ان لوگوں کا جدید تہذیب سے بے حد متاثر ہونا اور کم و بیش اپنی قدیمی تہذیب اور روایات سے دور ہوجانا (البتہ افراد، حالات اور ان کے علاقوں کے اعتبار سے اس تاثیر میں فرق پایا جاتا تھا) مذہب و ثقافت اور قدیمی وراثتوں اور رسومات عوام الناس کے ذریعہ ہمیشہ باقی اور زندہ رہیں۔ دوسری خصوصیت یہ تھی کہ تمام معاشرہ پر جو نظام حاکم تھا اس پر بغیر کسی اختلاف اور نزاع کے قہر برساتے ہوئے اپنے مقدس نظام کو مصمم ارادہ والے نظام اور سماج کے کلی نظام پر تہذیب نو کو مسلط کردیا تھا، البتہ یہ تسلط اور قبضہ بھی ان دانشوروں کے ذریعہ وجود میں آیا۔ جو لوگ نئی تہذیب سے بہت زیادہ متاثر تھے یہ غلبہ اور اقتدار ایک طرف سے ان دانشوروں اور شخصیات کے پختہ اعتقاد راسخ سے متعلق تھا جو نئی تہذیب کی مطلق برتری کے معتقد اور قائل تھے۔(۱۹) اور دوسری طرف سے ان عوام سے متعلق تھا جن کو ضمنی طور پر وہ عوام الناس اقرار کررہے تھے کہ اگر ایک خاص ماحول میں قدیمی روایات کے مطابق اپنے معاشرے میں زندگی بسر کررہے تھے، لیکن وہ ایک طرح سے اس نئی تہذیب کی بالادستی اور برتری کا یقین رکھ تے تھے۔ ایک ایسا اعتماد اور اطمینان کم سے کم واضح طور پر تہذیب کی بہ نسبت مخالفت کا اعلان نہ کرنے کے ذریعہ حاصل ہوا۔ اگر چہ بعض لوگوں نے خود جوش ، وقتی اور ناپائیدار مخالفت بھی کی جواس نئی تہذیب کے خلاف دیکھنے میں آئی ہیں، لیکن یہ مخالفتیں منظم نظام کے تحت، دائمی، پائیدار سوچے سمجھے نظام کے تحت نہیں تھیں۔بے شک اس دوران تہذیبِ نو کو تسلط بخشنے میں استعماری طاقتوں اور سامراج نے بھی بنیاد ی کر دار ادا کیا ہے۔(۲۰)

اجمالی طور پر اس تاریخی دور کی یہ فطرت عموماً تمام تیسری دنیا کے ممالک اور اسلامی دنیا کے ملکوں کی دور حاضر کی تاریخ بھی یہی رہی ہے۔ عوام الناس کی اکثریت اور ان سے متعلق تہذیب و ثقافت موجودہ پُرکار، فعّال، سیاسی، معاشرتی اورتہذیب تمدن کے ساتھ موجود رہی ہے۔ اس جدید تر طرز کے مالک دانشور اور نخبگان ہی حاکم مطلق تھے۔ ایک ایسی حاکمیت جو تاریخ جدید میں وارد ہونے سے پہلے جو کہ ظالمانہ حاکمیت کی اساس پر قائم تھی۔ صرف فرق یہ تھا کی یہ لوگ اپنی حکومت کو ظاہری طور پر نئی ) ( Modern اور سنوارے ہوئے تھے اور اتفاقاً یہی ظاہری خوبصورتی، ان کی حکومت کی پائیداری میں زیادہ مددکررہی تھی۔ ان کا واحد ہدف اور مقصد یہ تھا کہ معاشرہ کواس سمت لے جائیں جو ان کے لئے اہمیت اور ان کی خصوصیات کی طرف رہنمائی کرتا تھا اور یہ تمام چیزیں ظاہری طور پر تمام لوگوں کی رضا مندی کے سبب انجام پاتا تھا کم از کم قدیم وراثتوں کے ورثہ داروں اور اس کی حفاظت کرنے والے محافظین کے سکوت اور خاموشی کی بنا پر انجام تک پہنچتا تھا۔(۲۱) البتہ یہ ہرگز اس معنی میں نہیں تھا کہ تہذیب و ثقافت اور گزشتہ میراث یکسر فراموش کردی گئی تھیں اور نئی تہذیب کے دلدادہ اور جدت پسند دانشور حکام اس کی طرف توجہ نہیں کررہے تھے۔ ایسا ہرگز نہیں تھا بلکہ کبھی کبھی قدیم وراثتوں کی حفاظت کی تاکید بھی کی جاتی تھی۔ بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ نئے اور ان کے اہمیت کے حامل نظام اور تہذیب نو کی کیفیت پر غور و فکر کے بعد اس کے بارے میں خوب چھان بین اور قضاوت کی جاتی تھی۔ لہذا اس کی حقیقت سے بہت کم اور جو عام لوگوں کے درمیان موجود تھی، شباہت اور یکسانیت پائی جاتی تھی۔ گذشتہ زمانے کی ایسی تصویر اس کی ہویت و حقیقت، ضرورتوں، ان کے قلبی لگاؤ، مقاصد اور ثقافت، وہی معاشرہ پر حاکم ثقافت اور (نئی تہذیب کے علمبردار) حکام وقت یعنی دانشوروں کے ساتھ سازگار اورہم آہنگ تھیں۔(۲۲)

دقیق طور پر اسی کے تحت سبب عوام اپنی فعالیت کے اعتبار سے سیاسی اور معاشرتی زندگی میں فعال تھے۔ وہ لوگ ایسا وسیلہ تھے جو صاحبان قدرت اور معاشرہ کے جاہ طلب لوگوں کی خدمت میں آجاتے تھے، البتہ ہر دو فکریں جدیدیت کی علمبردار اور جدت پسندی کے عنوان سے سماج میں جانے جاتے تھے۔ اور عوام الناس اپنی کو ئی خاص نظر نہیں رکھتے تھے اورکبھی کبھی بے توجہی اور خوف و حراس کے ساتھ حوادث پر نظر رکھتے تھے نہ تو وہ لوگ عقلی اور فکری اعتبار سے اس حد تک پہنچے ہوئے تھے کہ وہ لوگ جدید اور نئے نظریات کو حاصل کرلیں اور نہ ہی اس بات کی قدرت رکھتے تھے کہ تہذیب نو سے مقابلہ کر یں اور ان کی بلا منازعہ نئی تہذیب تمدن اور اس کی دعوت دینے والوں اور ان کے حامیوں جو کہ اس کے معاشرہ پر حاکم تھے اس کے مقابلہ میں آواز اُٹھا سکیں۔ تمدن نو، اس کی دعوت دینے والوں اور ان کے حامیوں کے زرق برق نے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا۔یہ بھی اسی کے سبب ہے اس تاریخی دورہ کے سیاسی، معاشرتی بدلاؤ، تغیرات اکثر ان حکام (داشمندوں اور مفکروں) کے ذریعہ جوکہ موجودہ حاکم نظام کے خلاف سوچتے ہیں اکثر حکام یاجدا گانہ سونچ رکھنے والے شخصیت حاکم نظام کے ذریعہ اپنی موجودگی کو ثابت کردیتے تھے، البتہ اس کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس میں جوہری اور حقیقی فرق نہیں پایا جاتا تھا(یعنی بنیادی و اساسی مخالفت نہیں تھی) کیونکہ ہر دو طبقے صاحبان اقتدار (حاکم) اور چاہے ان کے سیاسی مخالف کہ ان میں کے اکثر سب کے سب طرز نو کی حامل شخصیات تھیں وہ لوگ Modernity ) جدت پسندی اور جدید تمدن کو مثالیہ کردار بنانے میں باہم مشترک تھے۔ اختلاف یا تو قدرت کے حصول کے بارے میں یا انداز اور سلیقہ کے بارے میں تھا۔ بعد والے دورہ کے بالکل برخلاف جو تغیر اور تبدیلی کو نہ تو یہ گروہ ایسا تھا جو عملی طور پر جو وہ لوگ ہیں جو اس کو وجود بخشتے ہیں۔(۲۳) جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس دورہ کے سیاسی اور معاشرتی یہاں تک کہ فکری اور ثقافتی انقلاب مغرب پرست جدت پسند دانشوروں کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔ عام لوگ انقلابوں اور اپنی معاشرتی زندگی میں ایک کنارہ ہوجاتے ہیں اور لوگ یا لاپرواہی کے ساتھ دنیا کے حوادث کا نظارہ کرنے پر چُپّی سادھ لیتے ہیں یا ان کے ذریعہ اس نئی تہذیب کو مستحکم کیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ بہرحال اس سے متاثر اور اس کے تابع ہیں نہ یہ کہ وہ خود فعال، سر نوشت ساز اور صاحب ارادہ بھی نہیں ہیں۔ اس مدت میں بھی قدرت دانشوروں اور شخصیات کے ہاتھ میں ہی تھی اور ان کے سیاسی قائدین، جو حکام وقت کے مخالف تھے وہ بھی انہیں دانشوروں میں سے تھے۔ گویا سیاسی اور معاشرتی فعالیت اور اثر کو قبول نہ کرنے کی صلاحیت عوام الناس کی عملی زندگی کے حالات سے زیادہ وسیع پیمانہ پر وجود میں آتی تھی۔