اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 3372
ڈاؤنلوڈ: 112

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3372 / ڈاؤنلوڈ: 112
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

جو ا نوں کا میدان میں وا رد ہو نا

اقتصادی اور معاشرتی حالات کا تیزی سے بدلنا اور سیاسی ثقافتی دباؤکا بڑھ جانا ۵۰ ئ کی دہائی کی ابتدا اور اس کے بعد، ایک دوسرے تاریخی دور کے وجود میں آنے کے حالات ہموار ہوئے، جو زیر بحث ہیں۔ ایک ایسا دور جو فکری اور ثقافتی رجحان اور اسی طرح معاشرتی ضروریات ، سیاسی اقتضا اور اس کے نظام رہبری کے لحاظ سے پہلے والے دور سے مختلف اور جدا ہے۔تیزی کے ساتھ اقتصادی ، صنعتی اور تکنیکی تبدیلی کا آنا ( Technologic ) قدیم معاشروں کا منحصر اور محدود ہوجانا بلکہ تقریباً ان تجاری مراکز کا بند ہو جانا یہ چیزیں عام لوگوں کی اندرونی خواہشات کو چکنا چور کردیتی ہیں۔ ان کے معاشرہ کو بند اور انحصار سے بچنے کے جدید علم وفکر اور فلسفہ سے روبرو کردیتی ہے۔ جیسا کہ ان (عام لوگوں) کو اپنی قدیم تہذیب کی باواسطہ یا بلا واسطہ توہین وتحقیر اور ذلت ان کی قدیمی وراثتوں، رسم رواج اوردین و مذہب کے مقابلہ میں حساس اور ناراض کردیتا اور تیوریوں پر بل آنے لگتے ہیں۔ عام لوگوں کا بڑے شہروں میں آباد ہونا، وہاں کی آبادی کا بڑھنا، گروہی مواصلاتی نظام میں وسعت، تعلیم و تربیت کا عام ہوجانا، طبقاتی تضاد اور مخالفت کی زیادتی، ایسے اداروں میں سستی اور کندی کا آجانا بلکہ ان کا درہم برہم ہوجانا (ایسے ادارے) جو معاشر میں کسی شخص یا فرد کی مقام و منزلت اور اس کی شخصیت بنانے میں اساسی کردار ادا کرتے ہیں، (یہ تمام چیزیں) ایک نئی صورت حال کو جنم دیتی ہیں اور آخر کارظاہری اعتبار سے روشن فکروں کی تجدد پسندانہ حکومت جس کے پائے ثبات میں تزلزل ممکن نہیں ہے اورحاکم کی فکر اورآرزو نیز اسکی جدت پسندی کا لباس پہنتی ہیں۔(۲۴)

اب یہ کہ لوگوں کی قلبی خواہش کس طرح منتقل ہوکر ختم ہوئی اور دوسرے دورکا کس طرح آغاز ہوا اور معاشرتی اور ثقافتی حالات اور اس کا مطلق العنان تصرف کس طرح نابود ہو گی اور ایسا رجحان اور یہ قلبی میلان قاعدةً کیوں کر وجود میں آیا اور یہ قلبی میلان علاقوں اور معاشرہ کے کس حصہ میں زیادہ قوی اور مستحکم تھا؟ یہ ایسے مسائل ہیں جن کی الگ سے مفصل بحث کی ضرورت ہے۔اس مقام پر جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ یہ دورہ (اس صدی کے) دو تین گذشتہ دہائیوں سے شروع ہوا، البتہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ شدت و ضعف(کمی وزیادتی)تقدم وتاخر تمام علاقوں میں اس کی علامتیں اور نشانیاں گذشتہ دہائی کے درمیان ظاہر ہو گئیں اور اس دور کی اہم خصوصیت'' حقیقت کی تلاش'' اور صرف اپنے آپ کو اہمیت دینا'' ہے۔ دوسری عبارت میں یہ کہا جائے کہ اس (دور) کا اصلی مقصد قومی، ملی، دینی، نسلی، لسانی اصالت اور حقائق کی طرف پلٹنا ہے، یہ چیزیں تاریخی اور ثقافتی امتیازات ہیں یہاں تک کہ اگر تجزیہ طلبی اور تو ڑ پھوڑ کا سبب بنے۔(۲۵)

ایسے دورہ کی پیدایش کے مظاہر کو تیسری دنیا کے بہت سے ممالک میں تلاش کہ کیاجاسکتاہے۔ تیسری دنیاکے بہت سے ممالک کے معاشرتی اور سیاسی اضطراب اور ناامنی، یہ اس مقام پر ان کے معاشرتی،سیاسی اورثقافتی حالات کی طرف پلٹتا ہے اور اکثر اسی دور جدید کی پیدائش کا سبب ہے،اس صدی کی آخری دہائی کی اسلامی تحریک کو بھی ان طبقہ بندیوں کے اندر جگہ دے سکتے ہیں۔(۲۶)

دورہ ٔجدید پہلے والے دورہ کے مقابلہ میں اہم تفاوت (فرق) کا حامل ہے۔ اس کی فطرت اور حقیقت کے اعتبار سے ہو یا اس کے معاشرتی اور ثقافتی حالات کے اعتبار سے اور یا اس کے مقاصد اور اس کی طرف جھکاؤ اور رجحانات (قلبی لگاؤ)کے اعتبار سے ہو۔ پہلے دورہ کی پیدائش نئی ثقافت اور تمدن کے ملاپ کا نتیجہ ہے اور گذشتہ تاریخی رہ گذر سے اُلٹے پاؤں واپس پلٹ آنے اور معاشرہ کو نئی تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش، اس مقام پر صاحبان قدرت اور حکام نے کم سے کم منتظمین (حکومت کے منتظمین) سے متعلق ہوتا، اس طرح کا تھا۔ یہاں اس کے مقابل ایک عکس العمل سامنے آیا ہے ایسے آنکھ بند کر کے اثر قبول کرنے والے ملاپ کے مقابلہ میں بغیر کسی قید و شرط تابع ہونے اور اپنے آپ کو ان کی فکر کے مطابق ڈھال لینے کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیںکہ (معاشرہ) اپنی اصالت اور قدیمی حقائق کی طرف لوٹ جائیں۔ اگرچہ اس ہدف تک پہنچنے کے لئے انہیں بھاری قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ وہاں پر قدرت اور حکومت کی باگ ڈور مغرب پرست دانشوروں کے ہاتھوں میں تھی اور وہاں کے لوگ عملی طور پر میدان سے دورتھے، وہ دور سے ان کی سیاست بازیوں کا نظارہ کررہے تھے اور یہاں پر حکومت اور اقتدار ان جوانوں کے ہاتھ میں ہے جو دور جدید کے معیار سے اپنا منھ موڑے ہوئے ہیں ۔اور لوگوں کی اکثریت (عوام الناس) بطور فعال سیاسی اور معاشرتی زندگی میں وارد ہوگئی ہے۔

ان دو تاریخی مرحلوں کے آپس میں بہت زیادہ اختلافات کے باوجود، دوسرے مرحلے کی پیدائش پہلے مرحلے کی حاکمیت کا فطری اور منطقی نتیجہ ہے۔ جدید تمدن نے تیسری دنیا میں داخل ہوتے ہی، اس طرح آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا کہ کسی شخص میں بھی اس سے مقابلہ اور ٹکر لینے کی ہمت تک باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ایک مختصر ساگروہ اسی( جدید تمدن)میں ضم ہوگیا اور لوگوں کی اکثریت کسی شدید عکس العمل کے بغیر تماشائی بنی رہی اور اس کے مقابلہ میں سکوت اختیار کر لیا۔ لیکن یہ ان کی آخری تسلیم اورخود سپردگی کے معنی میں نہیں تھی کہ انہوںنے اپنے آپ کو ان کے حوالہ کردیا ہو (خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کے رہنے والے روشن اور درخشاں تہذیب و ثقافت کے وارث اور مالک تھے۔) گویا ان پر ایک قسم کا سکتہ (بے ہوشی) طاری ہوگیا تھا اور یہ حالت(اس صدی کے) آخری دو تین دہائیوں تک اسی بے ہوشی میں باقی ر ہی اور ان لوگوں کا اس حالت سے خارج نہ ہونا دوسرے نورانی مرحلہ کا پیش خیمہ تھی۔

بہر حال یہ بھی لازم تھا کہ ایک مدت گذر جاتی اور حالات میں بدلاؤ اور انقلابات رونما ہوتے اور تجربے حاصل ہوجاتے اور اس کے ساتھ جس میں واقعیت کے خلاف نامطلوب حالات سے ٹکر لینا پڑتا اور موجودہ حاکم کے مقابلہ میں قیام کی جرأت و جسارت پیدا ہوجاتی، تاکہ اتنا بڑا تغیر و تحول پیدا ہوجائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے بڑے بڑے اقتصادی اور معاشرتی انقلاب، اقتصادی اور معاشرتی تبدیلیاں دوسرے تاریخی مرحلہ کو وجود بخشنے اور ظہور میں لانے کے لئے بہترین حالات فراہم کرنے والی رہی ہیں۔ قدیمی معاشرہ کا تربیت یافتہ جوان بہت ہی کم اور ضروری خصوصیات سے محروم تھا جو قدرت، ثقافت و تمدن اور موجودہ نظامِ حاکم کے مقابلہ کے لئے قیام کرسکے۔ اس کا امکان پایا جاتا ہے کہ ایمان میں استحکام اورپختگی اور دینی مسائل میں تعصب اس کو اس اقدام پر ابھارے اور یہ کوئی اقدام کر بیٹھے، لیکن یہ اقدام ایک بڑے حادثہ اور تحریک کو وجود میں نہیں لاسکتا ہے اور ایک جدید تاریخی دورہ کو اپنے ساتھ نہیں لاسکتا ۔ بعنوان مثال سکھوں کی تحریک جو ۸۰ ء کی دہائی کے اوائل سے اب تک اپنی مرکزی حکومت کے مقابلہ میں سخت استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتی رہی ہے، سکھون کی تحریک سب سے زیادہ ان آخری دہائیوںمیں ہندوستانی معاشرہ کے بہت بڑے تغیرات کی مرہون منت رہی ہے، نیز ہندوستانی قدرت مند لوگوں کے دستورالعمل بنانے کی کیفیت کی بھی مرہون منت ہے۔ بے شک اگر بجز اس آخری سبب کے علاوہ تمام اسباب موجود ہوتے تو بنیادی طور پر ایسی تحریک وجود ہی میں نہیں آتی یا کم از کم ایسے حدود اربعہ اور اس میں اتنی استقامت اور شدت پیدا نہ ہوتی(۲۷)

موجودہ اسلامی تحریک بھی مندرجہ بالا نکات کی طرف توجہ دیتے ہوئے جائزہ لینے کے قابل ہے اور دینی اور سیاسی علامت کے عنوا ن سے اسلامی دنیا کا یہ دوسرا تاریخی مرحلہ ہے۔ اگرچہ یہ تحریک، تیسری دنیا کی غیر اسلامی حکومتوں میں اس کے مشابہ دوسری سیاسی تحریکوں سے مقایسہ اور موازنہ میں یہ تحریک وسیع اور کافی عمیق( و گہری) ہے، البتہ یہ خصوصیات اسلام اور اسلامی تمدن کی طرف پلٹتی ہیں۔

دین اسلام مورد اعتقاد دین ہونے اور اسلامی تمدن اور ثقافت کے عنوان سے قابل فخر شان و شوکت والی میراث ہے ،جو اور عین اسی عالم میں مسلمانوں کی موجودہ تاریخی حقیقت بنانے کے اعتبار سے طرح موجودہ مسلمانوں کو سنوارنے والی ہے، اسلامی معاشروں کا جدید تمد ن سے روبرو ہوتے ہی، اسلامی تمدن لگا تار کسی نہ کسی طرح سے نکتہ چینی کا مرکز تنقید اور حملہ کی آماج گاہ حتیٰ مورد تجاوز قرار پایا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں نے بھی موجودہ تقاضوں کے تحت ان کے حملوں کا مقابلہ کر کے عکس العمل ظاہر کیا ہے، لیکن یہ عکس العمل کبھی بھی اس حد تک نہیں پہنچا کہ مغرب پرست حکام جو اسلامی مراکز پر قابض تھے ان کے افکار اور ان کی حکومت اور اقتدار کو ختم کرپائیں۔ اور اگر کبھی ایسے مواقع پیش بھی آئے ہیں تو وہ بہت ہی محدود اور بے اہمیت اور سطحی تھے اور زیادہ تر یہ حالات دینی پختگی، استحکام اور اس میں بہت زیادہ پابندی سے وجود میں آتی تھی نہ کہ فکرمیں بلندی، مطلوبہ معاشرتی اور ثقافتی پختگی اور بالیدگی کے استعمال اور صحیح سوجھ بوجھ کے سبب وجود میں آئی ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب (مغرب پرستی) اس مدت میںاسی طرح اپنا پورے اقتدار کے ساتھ ان کے اتہامات کے مقابلہ میںاپنا قبضہ اور تسلط جمائے ہوا تھا حتیٰ کہ اسلام کا دفاع بھی انھیں کی مدد کا محتاج اور نیازمند تھا۔ ان کی دلیلوں کا لب لباب اس طرح تھا کہ اسلام تبھی حق ہو سکتا ہے جب وہ اگر مغربی تمدن اور جدید تمدن کے معیار کے مطابق اور موافق ہو اس لئے کہ اسلام در اصل انہیں (مغربی تمدن) کی طرح ہے بلکہ وہ ہو بہ ہو وہی ہے۔ اس مدت میں ساری کوششیں صرف اس بات پرکی جارہی تھیں کہ اسلام کے ایسا کوئی نیا تمدن کھوج نکالیں اور اس طرح سے انہیں کی حقانیت ثابت ہوجائے۔(۲۸)

یہ حالات تقریباً ۶۰ ء کی دہائی تک جاری اور برقرار رہے۔ لیکن وہ تمام اسباب جن کا ذکر طوالت کا باعث ہے، اس بات کا سبب بناکہ مسلمانوں اور خاص طور پر جو ان طبقہ اور طلبا ( Students ) تیسری دنیا کے اپنے ہم عمر ساتھیوں کی طرح، شدت و سرعت کے ساتھ، دوسرا راستہ اختیار کرلیں۔ اس طرح دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا۔ جن ممالک میں اقتصادی، معاشرتی نیز ثقافتی، فکری اور مذہبی اور ثقافتی تغیرات میں تیزی و گہرائی زیادہ پائی جاتی تھی ان ممالک میں ایمان اور اسلامی تہذیب و ثقافت پر زیادہ ہجوم اور حملہ تھا اور اس پر مستقل دبائو بنا ہوا تھا ان علاقوں میں اسلام بہت جلدی نمایاں ہوا اور طاقتور اور عمیق تر ہوگیا اور انھیں ممالک کے ذریعہ دوسرے علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے البتہ معاشرتی، و فکری و دینی رجحان اور اس کے حالات کے اعتبار سے کس حد تک اس جدید مرحلہ سے سازگار ہو کر زیر اثر قرار پاگئے۔

مشر قی سیاسی محاذ (( Bloc میں تبدیلیاں

یہاں پر مناسب ہے کہ مشرقی سیاسی محاذ ( Bloc ) کی موجودہ تبدیلیوں کو جو وہاں کے ساکن لوگوں، خاندانوں اور ملتوں کی مذہبی، دینی، قومی اور ثقافتی حقائق اور اسباب کا اثر قبول کئے ہوئے ہیں ان کے بارے میں اشارہ کیا جائے۔ اگرچہ اس میں شک نہیں کہ اس( Bloc )سیاسی محاذ نے بہت سی مختلف دلیلوں (دلائل) اور اسباب کے ذریعہ تیسری دنیا کو دینی و ملی اور ثقافتی اصالت کی طرف لگاکر،ان کی اصالت اور حقائق کی طرف کھینچ لے گئی ہے ،لیکن یہ بات بھی قابل انکار نہیں ہے کہ یہ دونوں موجودہ زمانہ میں اپنے مقاصد کو پانے کے لئے کم و بیش ایک ہی مقصد کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ظن غالب کی بنا پر اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیابی کے لئے ایک دوسرے کی تحریک ہر ایک اپنے لئے راستہ کھوج نکالنے کاسبب بنی ہے۔ اس بلاک Bloc ) (میں رہنے والے بعض قومی و نسلی اور خاندانی گروہ کی خود مختاری اور انفرادیت کی خواہش کبھی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ بلا شک و شبہہ اصالت اور حقیقت پرستی اور انفرادیت کی لہرتیسری دنیا والوں میں تحریک کی آگضرور دوڑا دے گی۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بات کیا ہے اور وہ کیسے وجود میں آئی ہے؟

جیسا کہ تیسری دنیا کے موجودہ انقلابات اور تبدیلیاں عموماًایک جدید تاریخی دورہ کے سبب ان ممالک کی تاریخ میں وجود میں آئی ہے، ان پیوستہ سالوں میں مشرقی سیاسی محاذ (بلاک) کے بہت عظیم اور بہت سریع اور تیز تغیرات کے بھی جدید تاریخی مظاہر میں سے ایک مظہرجس کا آغاز ایک مدت سے ہو چکا ہے اور وہ اسی طرح باقی ہے اور باقی رہے گا۔ ان دونوں دوروں میں جو بنیادی اور اساسی فرق پایا جاتا ہے وہ اسی میں ہے کہ پہلے تاریخی دورہ کا تعلق تیسری دنیا سے ہے اور اس کی تاریخ مختلف اسباب و عوامل کے زیر اثر ہے جن میں سے اکثر نظامی، سیاسی اورتکنیکی کمزوریوں کے زیر اثر ہیں، وہ کمزوری اسی علاقہ میں باقی رہے گی، لیکن تاریخ کا موجودہ اور آخری دور اگرچہ وہ موجودہ زمانہ میں مشرقی بلوک( bloc ) میں ہے، لیکن یہ کہ (اوّلاً) اس کی پیدائش کے کچھ اسباب و عوامل بین الاقومی دلائل اور وجوہات کے حامل ہیں اور صنعتی ا ور غیر صنعتی چیزوں میں تیز تبدیلیاں (چاہے وہ فوجی۔ ٹکنا لوجی ہو اور چاہے غیر فوجی ٹکنولوجی ہو) ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں ترقی یافتہ ممالک سے متعلق ہے۔(۳۰) دوسرا اس لحاظ سے ہے کہ یہ خیمہ (مشرقی بلاک) بین الاقوامی سطح کے دو بڑے سیاسی حصہ داروں میں سے ایک رہا ہے، لہذا اس کے محصلہ نتائج اس کے ملکی حدود سے بہت زیادہ وسیع اور بہت گہری حدود تک پہونچ جا ئے گا اور موجودہ دور کی پوری تاریخ میں ایک بہت بڑی گہری اور عمیق تبدیلی پر ہی تمام ہوگی۔

بہر حال سب سے زیادہ اہم اس دور کی خصوصیات کا حاصل کرنا ہے اور یہ کہ کیوں اور کس طرح یہ دور رونما ہوا ہے،؟ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اس دورکی پیدائش میں مختلف اسباب اور عوامل دخیل اور شریک رہے ہیں۔ یہاں پر اس دوران جائزہ لینے کا مقصد وہاں پر اس حد تک ہے کہ ثقافتی حقائق، ثقافت کے اپنے عام مفہوم کی طرف پلٹتے ہیں

یہ کہ یہ خصوصیات کیا ہیں؟ اور اس کے پیدائش کے اسباب اور عوامل کون کون سے ہیں؟اس نکتہ کے واضح اور آشکار ہونے کا لازمہ ہے کہ تہذیب و تمدن اور اس کی نئی تاریخ کا آغاز کس طرح ہوا؟ اور ان ممالک میں (اس سے مراد وہ ممالک ہیں جنہوں نے بعد میںمشرقی خیمہ ( Bloc ) کو ڈھوندھ نکالا) اس کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا ہے (مشرقی بلوک ) ان ممالک میں کس طرح اپنے قدم جما کر وہاں پر ڈٹ گیا اور کس طرح ان ممالک میں جذب ہوکر اس نے اپنا کام شروع کیا؟ اور کیا کیا تغیرات اس نے پیدا کئے؟ اور قدیمی تہذیبوں، ثقافتوں ، تمدنوںا ور قومی و لسانی اور دینی و مذہبی وراثتوں اور مجموعی طورپر یہ کہا جائے کہ جو چیزیں اس سر زمین کے لوگوں کی تاریخی، ملی ،قومی ماہیت اور حقیقت کوتعمیر کرنے والی ہیں ان کے ساتھ اس (مشرقی بلاک)کاکیا رویہ رہا ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس معاشرہ پر حاکم طاقت (حکومت) نے اس بارے میں کیا موقف اختیار کیا؟ اور کس طرح اس نے صنعتی، اقتصادی اور معاشرتی میدان میں ان کو وسعت دے کر ترقی کے راستہ پر گامزن کردیا؟آخرکار آیا قدیمی تہذیب و ثقافت کو بالکل نظر انداز کر دیا اور نئی تہذیب ثقافت اور اس کی ضروریات اور چاہتوں کے علاوہ بالکل کچھ نہ سوچا اور یا مقامی تہذیب و ثقافت کے پھلنے پھولنے کے لئے کوئی موقع نہیں چھوڑا اور ا سے دشمنی کی نگاہ سے نہیںدیکھا۔(۳۱)

اس (نکتہ) بات کا جائزہ لینازمانۂ حال اور آئندہ کے بہت سے تغیرات کی بنیاد کو واضح اور آشکار کر تا ہے ۔ اگرچہ مشرقی سیاسی محاذ ( Bloc ) کے بہت زیادہ محسوس اسباب و عوامل جو اکثر سیاسی، اقتصادی ا ور صنعتی حیثیت کے حامل تھے وہ تبدیلیاں شروع ہوگئیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تحولات اور تبدیلیاںقاعدتاً بدلاؤ لا نے والی پوشیدہ صلاحیتیں ایک اعتبار سے ان تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں، اس کو اپنے فطری راستوں پر قرار پا جانا چاہئے تھا۔ البتہ ان راستوں میں سے ایک بہترین راستہ اور طریقہ حقیقت طلبی اور قدیمی روایتی رسم و رواج پر لگا دینے کا راستہ تھا۔ اکثراً اسی سونچ کے زیر نظر اور اس کے ماتحت ہے کہ تغیرات اور تحولات، اس مقام پر لوگوں سے متعلق ہیںاور کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور قوی احتمال کی بنا پر یہ ماتحتی بھی موجودہ سیاسی اور معاشرتی تغیرات و تحولات میں خود ہی مؤثر سہم (حصہ) کی حیثیت رکھتا ہے، مستقبل میں بھی یہ اپنی اہمیت کو اسی طرح محفوظ رکھے گا۔

اس سے بھی زیادہ واضح انداز میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جدید تمدن نے شروع میں جنوبی یورپ کے کچھ علاقوں اور اس کے بعد مغربی یورپ میں وجود میں آئے اور پھر اپنے پیر جمالئے وہاں پر یہ پھلا پھولا اور پروان چڑھا۔ یہ تمدن فطری طور پر طرح طرح کے تغیرات اور تحولات کا محصول اور ثمرہ تھا کہ عام طور پر مغربی یورپ کے ممالک کو رنسانس کے بعد میں آنے والی صدیوں پر محیط ہوگئے تھے۔( یعنی ان پر پوری طرح مسلط ہوگئے) لہذا اس کے علاوہ کہ ان علاقوںمیں انہوںنے اپنے مختلف تاریخی مراحل کو گذارا تھا، اپنے آپ کو ان سر زمینوں کے تاریخی ، سیاسی ا ور معاشرتی حالات کے مطابق ڈھال لیا تھا اور موجودہ حالات کو بھی اپنے لئے سازگار اور ہماہنگ بنالیا تھا۔ یہ تمدن (تمدن نو) اسی درخت کا ایک پھل ہے اور یہ دونوں باہم کامل سازگاری اور فعالیت میں دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اور مد مقابل تھے۔

توسیع اور ترقی کا بر ابر اور خلّا ق نہ ہو نا

لیکن یہ تناسب اور باہم سازگاری و ہم آہنگی جو مغربی یورپ میں موجود تھی اوردوسرے علاقوں میں ہرگز ایسا نہیں تھا منجملہ مشرقی یورپ اور روس اگرچہ مشرقی یوروپ کے بعض ممالک مثل یوگوسلاوی (چک اسلواکی)، مشرقی جرمنی اور ایک حد تک مجارستان و لہستان گذشتہ اور موجودہ صدی میں کمیونسٹوںکے قبضہ سے پہلے یا تو وہ خود مغربی یورپ سے وابستہ تھے یا پھر کم سے کم اس کے ثقافتی مراکز سے وابستہ تھے یا بلا واسطہ اور تدریجی طور پر اس سے متاثر ہورہے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مشرقی یورپی ممالک نہ ان (مغربی ممالک) کے جغرافیائی مراکز سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی ان کے ثقافتی مراکز سے ان کا کوئی رابطہ تھا۔

یہ بات متحدہ روس (اب روس تقسیم ہو کر بہت سے ملکوں میں تبدیل ہوگیا ہے۔(بقلم مصحح)کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔ یہ ملک خود ایک برّ اعظم کے مانند ہے کہ جس نے یورپ اور ایشیا کے ایک بڑے حصہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، مختلف قومیں، ملتیں اور مختلف ثقافتوں کواپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ اس (روس) کے مغربی حصوں میں آباد غیر روسی لوگ جن کی تہذیب و ثقافت اور خصوصیات مغربی یورپ والوں سے مشا بہ ہے مثال کے طور پر بالکان کے ثقافتی مرکز سے وابستہ اور اس علاقے کے رہنے والوں کے مانند ہیں یعنی ان سے شباہت رکھتے ہیں اس کے ایشیاکے گرد و نواح کے علا قوں کے لوگ مرکزی ایشیا اور ایشیا ئے بعید کے لوگوں کی جیسی خصوصیات کے مالک ہیں یہاں تک کہ مغربی ایشیا کی قومیں اور اس میں زندگی بسر کرنے والی دوسری قومیں بھی اسی سے شباہت رکھتی ہیں۔(۳۲)

اگرچہ تمدن جدید کی ان سر زمینوں میں آمد اس حد تک کہ تیسری دنیا کے ممالک میں اس کا وارد ہونا خاص طور سے وہ ممالک جو قدیمی اور روایتی زندہ ثقافتوں والی مستحکم اور قدرت مند تھیں مشکل ساز نہیں تھیں، لیکن اس تہذیب و ثقافت کی آمد اوربالخصوص اس کے وارد ہونے کی کیفیت اتنی زیادہ آسان اور بے زحمت نہیں تھیں۔ یہ پریشانیاں اور تکلیفیں ان سر زمینوں پر حاکم ثقافت اور نئی تہذیب وتمدن کے ٹکرائو سے کہیں زیادہ پہلے تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے مانند، بنیادی جڑوں کی حامل رہے، مختلف شعبوں میں معاشرے کے لئے صنعتی، اقتصادی اوراجتماعی میدانوں میں معاشرہ کی تعمیر کے لئے اب بھی بہت سی مشکلات موجود تھیں۔

مارکس کے نظری عقیدہ ( Marxism )کی تابع حکومتیں خودان ممالک پر حاکم، نظام پیش قدم لوگوں کے عنوان سے جدید تمدن کی وسعت اور صنعتی نوسازی اور اپنے معاشروںکو جدید ( Modern ) بنانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ نئی ساخت و ساز سے ان کا مسلح ہونا جوان کی نظر میں بطور کامل اشتراکیت کے نظام میں نمایاں ہوکر چمک رہی تھیں اور متجلی تھیں، فوجی و سیاسی ا ور اقتصادی طاقت کو ان ممالک میں متمرکز بناکر مقامی، قومی اور دینی ثقافتوں کی حقیقت جیسے تھی ان کو ویسے ہی ظاہر ہونے سے مانع تھیں۔ یا ان لوگوں کو سانس لینے کے لئے کوئی موقع فراہم نہیں ہونے دیا آخرکار ان لوگوں کو صرف اتنی فرصت دی جاتی تھی کہ وہ اپنی تہذیب کو ''مارکس'' کے نظریہ سے مطابقت دے لیں اور اسے اپنے دین اور ثقافت کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کریںاور اس تفسیر کو در حد امکان مناسب ترین تفسیر سمجھ کر قبول کریں اور اسی کے مطابق عمل کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ''مارکس'' کے نظریہ کو مطلق العنان اور آزاد چھوڑ کر اس کو حقیقت کی شناخت کا معیار قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کو بہترین اور آخری راہ حل سمجھ لیا جائے اور اس فکر ونظر کی رعب ووحشت اور طاقت کے بل بوتے پر تبلیغ و ترویج کرکے اس کو منوا لیا ،یا موجودہ اور رائج تہذیبوں اور ثقافتوں کو زبردستی بے حس کرکے پردۂ خفا میں ڈال دیا، اس کے بغیر کہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں یا اس کو ذراسا بھی کمزور کریں۔(۳۳)

مشرقی خیمہ( Block )کے بعض ممالک کا فعال، خلاق اور عمومی سہم نہ رکھنے کے سبب تمدن نو کے وجود میں لانے اور اس کے( پھلنے وپھولنے) ترقی دینے میںکسی سیاسی کردار کا حامل نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی ان ممالک کا اس ثقافت سے تضاد اور اختلاف اور ان کی بیگانگی اور اس کے بابت اس مقام پر مفید اورکار آمد تجربہ کا نہ رکھنا اور اشتراکیت اور مارکسیسم کے قالب میں ان حکومتوں پر قابض ہوجانا (خود تمدن جدید کی تجلیات میں سے ہے یہ اسی صورت میں ہے کہ مغربی یورپ کے حالات و احوال انیسویں صدی کے وسط میں اس جدید تمدن کے حالات کے لئے مقتضی ہوئے بلکہ اس کی ضرورت محسوس کی۔)(۳۴)

فوجی اور سیاسی آمرانہ نظام اور اس چیز کا باعث ہوئی کہ مقامی و علاقائی تہذیب وتمدن اور ثقافتوںکواپنے اظہار وجود اور موجودہ صورت حال سے مطابقت دینے کی انہیں مہلت ہی نہ ملے، یا وہ خود اپنے آپ خاموشی اختیار کرلیں یا ان کو زبردستی سکوت کے لئے مجبور کردیا جائے۔

قدیمی وراثتوں کے بارے میں حساسیت

ایک طرف مرکزی حکومتوں کا دبائو ان تہذیبوں اور ثقافتوں سے وابستہ لوگوں کو اپنے قدیم ا ور وراثتی تہذیب کی نسبت حساس بنا رہا تھا اور دوسری طرف سے موجودہ صنعتی اور اقتصادی تغیرات کو اپنے اور اپنی حقیقت کے بارے میں سوچنا جو ان حساسیتوں میںجلوہ گر تھا، اس چیز پر آمادگی کے تمام حالات فراہم کرکے ان کو مستحکم اور قوی بنا رہا تھا (جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں) اقتصادی اور صنعتی تغیرات اس کے بالکل برخلاف لوگوں بالخصوص جوانوں کو قدیمی میراث اور تمدن کے بارے میں یہ تصور چاہے مذہبی ہو یا تاریخی اور یا ثقافتی وراثت کے بارے میں ہو، طولانی مدت میں آہستہ آہستہ اس سے تعلق بڑھارہا ہے۔

عموماً یہ ممالک اس سے پہلے کہ سالم اور کھلی فضا میں بغیر کسی آمر (حاکم) کے دبائو کے اس نظری اعتقاد سے مسلح ہو کر جو اس بات کے مدعی تھے کہ وہ بہشت جس کا آخرت میں وعدہ کیا گیا ہے اس کو روئے زمین پر لے آئیں گے، نئی تاریخ کو نئے تمدن کی روشنی میں آزما ئیںایک دوسرے کے ساتھ ساتھ زندگی گذارنے اور ملی ا ور قومی مصلحتوں کے بارے میں فکر کرنا سیکھیں، وہ اپنی ہی تعمیر پر مجبور ہوکر خود اپنے کو اشتراکیت کی خصوصیتوں اور اعتقاد کے مطابق سنوارنے میںمشغول ہو گئے۔ ان کی اقتصادی و صنعتی وسعت اور معاشرہ اور ثقافت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم اپنی قدیمی اور قومی وراثتوں کی حفاظت کے شعور کو بھی بیدار کریں اور ملی یکجہتی اور اتحاد کو تقویت بخشیں وہ لوگ ایسی صلاحیت کے مالک نہیں تھے۔(۳۵) البتہ یہ مشکل اس وقت تک باقی رہی جب تک ان کے سر پر فولادی ہتھوڑا پڑتا رہا اور اظہار کرنے کی جرئت نہیں تھی لیکن جیسے ہی دباؤ کی شدت اور زور کم ہوا، حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آگئی۔

یہ اہم ترین دلیلوںمیںسے ایک دلیل ہے جو مشرقی یورپ کے ترقی یافتہ اورصنعتی ممالک میں قومی بے چینی اور اضطراب کے نہ پائے جانے کو واضح اور آشکار کرتی ہے۔ان ممالک کا ترقی حاصل کر لینا اور صنعتی اعتبارسے ترقی یافتہ ہو جانا''مارکس'' کے نظری اعتقاد کی تابع حکو متوںسے پہلے والے نظام کامرہون منت ہے۔ یہ اس معنی میں ہے کہ وہ لوگ تسلط سے پہلے کافی آزاد فضا میں، جدید تمدن کا تجربہ کر چکے ہیں اور اس تجربے کے درمیان ملی ا ور معاشرتی مطلوبہ اتحادپاچکے ہیں۔ البتہ اس کامقصدیہ نہیںہے کہ ہم دوسرے اسباب کی کار کردگی کو نظر انداز کردیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان کی صنعتی ا وراقتصادی ترقی اس لحاظ سے ہے کہ ان کی ترقی کی کافی آزاد ماحول اور کھلی فضامیں مضبوطی اور قاطعیت کے ساتھ بنیاد رکھی گئی ہے اور یہ بھی کوشش کی ہے کہ ملی و قومی اتحادا ور انسجام کو مقتدرانہ طور پرہدیہ کے عنوان سے پیش کرے۔

اگر ان حادثات کے برخلاف دیکھنا چاہیں تو روس کی آزادی طلب ریاستوں کے نظریہ میں روس کے مختلف صوبوں یوگو سلاوی، رومانی اور بلغارستان کی قومی کشیدگی میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ روس کی جنوبی جمہوری ریاستوں کے موجودہ رجحانات میں بھی یہی حکم نافذاور رائج ہے۔ اگرچہ عملی رجحانات کا عملی ڈھانچہ ان آزاد ریاستوں (حکومتوں) میں اس لحاظ سے ہے کہ اس کے رہنے والے (باشندے) عموماً مسلمان ہیں لہٰذا بالٹیک کے علاقہ کی مرکزی جمہوری ریاستوں میں اس کی عملی کیفیت میں فرق پایا جاتا ہے، یہ تفاوت ایک طرف سے دین اسلام کی وجہ سے ہے کیوں کہ اس کے مقدسات مختلف اوربلکہ جدید ثقافت کے مقدسات کے بالکل بر خلاف ہیںبلکہ ''مارکس'' کے نظام کے مطابق چلنے والی حکومتیں اور اس کے رسم و رواج اور نئی تہذیب و تمدن کے قضاد (خلاف) کی طرف پلٹتا ہے اوردوسری طرف سے ثقافت کی حقیقت جس کو یہ دین وجود میں لایا اور اس کو پالا پوسا اور پروان چڑھایا ہے۔(۳۶)

بالٹیک کے علاقہ کی موجودہ ثقافت عیسائیت سے متاثرہے اکثراً '' کیتھولک '' عیسائی اور بعض ارتھوڈکس عیسائی ہیں۔ اور پروٹسٹان سے پرورش پاکر وجود میں آئی ہے۔ لہذا روس کی جنوبی آزاد ریاستوں پر حاکم ثقافت سے زیادہ نئی ثقافت میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ خود مختار اور آزادی خواہ جنوبی آزاد ریاستوں کے تغیرات و تحولات کی ماہیت مذہبی حقیقت کی بہ نسبت قومی اور ثقافتی حقیقت سے زیادہ مشابہ ہیں لیکن چونکہ یہ ثقافت اسلامی ثقافت ہے نہ کہ عیسائی ثقافت لہذا چند جہات کی بنا پر مرکزی بالٹیک کے علاقہ حقیقت کے جو یا رجحانات سے متفاوت اور مختلف ہے۔

جو کچھ بھی اوپر کہا گیا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سیاسی، بین الاقوامی اور اقتصادی یا دوسرے اسباب مثال کے طور پر آزادی خواہی اور مغربی سطح کے برابر سطح زندگی لانے کی چاہت اس درمیان ان باتوں کا کوئی دخل نہیں تھا اوراگر اس کا حصہ مان بھی لیا جائے تو بہت ہی کم تھا۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ سب سے زیادہ اہم اور حالات کو بدلنے والے مقامات میں سے ایک مقام کو تجلی بخشنے اور یہ کہ اس کی پیدائش کے اسباب اور کیفیتں کیا ہیں اور انقلاب برپا کرکے پورے دورہ کی اصلاح کرنے کے حالات کو اجاگر کیا جائے۔ اس کے شبیہ رجحانات کی پیدائش کے اسباب اور کیفیتوں کا تیسری دینا سے کیا فرق پایا جاتا ہے؟ اب اپنی اصل بحث کی طرف پلٹتے ہیں۔

گذشتہ حقائق کی تلاش

اسی ترح سے اصالت اور حقایق کی طرف قلبی جھکاؤ، حتیٰ بہتر یہ ہے کہ ہم اس طرح کہیں کہ ان حقایق اور اصالت کی طرف ہجوم بڑی ہی تیزی سے شروع ہوگیا تاریخ کے اس مرحلے میں یہ فکر سب سے زیادہ ترقی طلب اور سب سے زیادہ اپنے حامی رکھنے والی موجودہ معاشرتی اور سیاسی فکر تھی، لہٰذا دوسرے بہت سے لوگوں کو جو موجودہ سیاسی حکومت سے ایک طرح سے ناراض اور ہم آہنگ نہیں تھے، ان لوگوں کو اس فکر نے اپنے زیر سایہ کھینچ لیا۔ یہ بالکل اسی سبب کے تحت ہے فکر کے زیر سایہ بہت سی طاقتیں جمع ہوگئی ہیں جو عناد، بغاوت اور سرکشی کی حالت سے دوچار ہیں اور کبھی کبھی ان کے خلاف ساز شیں رچنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ وہ معاشرے جو بڑی تیزی کے ساتھ جدت پسندی کو رواج دینے کی ہوا میں لگے ہوئے ہیں وہ لوگ خاندانی، تربیتی اور اخلاقی حیثیت سے فاقد ہیں اورکثرت سے پائے جا تے ہیں۔ جس وقت اقتصادی، صنعتی اورمعاشرتی تغیرات کا حجم (کسی معاشرہ میں) اس کی ہضم کرنے کی صلاحیت سے وسیع ہو جس کو سماج اور معاشرہ برداشت نہ کرپائے تو ایسی مشکلات کے جھیلنے کے لئے اس کا انتظار کرتے رہنا چاہئے۔(۳۷)

مندرجہ بالا نکتہ کی طرف توجہ دینا تیسری دنیا کی موجودہ سیاسی تحریکوں کی موجودہ حالت کو بھی صحیح سمجھنے کے واسطے اسلامی تحریکیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمام موجودہ طاقتیں جو ان کے اندر پائی جاتی ہیں، ان مقاصد کا عقیدہ رکھتے ہوئے اس پر کاربند ہوں، بلکہ وہ ان تحریکوں سے اسی لئے وابستہ ہیں کہ وہ اپنی قلبی اور باطنی خواہشات کا مناسب جواب دینے کیلئے اس راہ سے بہتر کوئی اور راہ نہیں پاتے ہیں اسی لئے کہ موجودہ حالات سے ٹکر لیناان کی ا فکار کے نقطۂ مرکزی کو تشکیل دیتا ہے، اسے تلاش نہیں کرپائے ہیں۔

اس واقعہ کے مختلف اسباب ہیں۔ لیکن وہ تمام اسباب اسلام اور اس کی استثنائی خصوصیات کی طرف پلٹتے ہیں۔ اسلام پورے موجودہ دور میں، نہ صرف ایک دین کے عنوان سے، بلکہ تہذیب و تمدن اور ثقافت کے خالق اور اسلامی ماہیت اور حقیقت کے اعتبار سے بھی اس پرحملہ اور تجاوزکیا گیا۔ لہذا نئی اسلا می تحریک، نہ صرف یہ کہ وہ اسلام کی عظمت اور تقدس کے ساتھ دوبارہ واپسی کے خواہاں ہیں ایک عقیدتی اور با عظمت نظام ہے، بلکہ اسلامی وراثتوں اور ان پراعتماد اور بھروسہ کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔جدید تاریخی دور میں تیسری دنیا والوں کی اپنی اصالت و حقیقت اور انحصار طلبی مسلمانوں کے درمیان وراثت اور اسلامی ماہیت اور حقیقت کی طرف بازگشت کی صورت میں نمایاں ہوئی ہے۔

اسلام اپنی پوری گذشتہ تاریخ میں کبھی بھی کسی کے تحت تسلط اور دباؤ میں نہیں تھا، تاکہ وہ اپنے پیروں کو پیچھے ہٹائے اور زندگی کے فعال معاشرتی، سیاسی ا ورثقافتی میدان کو چھوڑ کر ہٹ جائے، لیکن ایسادباؤ پورے دور جدید میں عملی طور پر موجودتھا۔ یہ دباؤ نہ یہ کہ صرف جدید نہیں تھا اور ماضی میں اس کی کوئی نظیر نہیں تھی بلکہ اس (اسلام) کے اندرونی اور ذاتی خصوصیات کے مخالف بھی تھا۔ جیسا کہ دوسرے ادیان سے شمولیت اور پھیلاؤ کے اعتبار سے اسلام کی طرح ان کے پاس اصالت پسندی نہیں پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ لوگ بہتر طریقہ سے عصر نو کے دباؤ میں آسکتے ہیں اور اس سے ہماہنگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن دین مقدس اسلام ایسا ہرگز نہیں کرسکتا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرسکتا ہے۔

مغرب پرست مسلمان تجزیہ نگاروں یا وہ اہل یورپ جن کی نظر جہاں اسلام کے حوادث اور واقعات پر رہتی ہے، وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھے، وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی گذشتہ صدی میں مقابلہ اور استقامت صرف ان کا خالص تعصب اور دین میں اندھی تقلید کی بنا پر تھا جو آہستہ آہستہ زمانہ کے ساتھ ساتھ نابود ہوجائیگا، وہ لوگ اسی حساب سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ لوگ اس دین اسلام کی ذات اور اس کے اندر پائے جانے والے جوہر سے بے خبر اور غافل تھے اور یہ بھول گئے تھے کہ وہ چیز جو نئے زمانہ کے دباؤ کے ساتھ سازگار اور ہم آہنگ نہیں ہے وہ خود اسلام کا ذاتی جوہر ہے نہ یہ کہ ان (انگریزوں) کے کہنے کے مطابق اس کے ماننے والوں کو متعصب بنیاد پرست اور رجعت پسند کہا جائے۔(۳۸)

جو کچھ یہ لوگ (انگریز) اورمغرب پرست مسلمانوں کو، اتنی بڑی غلطی کی طرف کھینچ لایا، یہ اصلاح طلبی کا راستہ تھا، جس کو عیسائیت نے طے کیا اور تقریباً دوسرے تمام ادیان نے بھی کم وبیش اسی راہ کو طے کیا۔ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اسلام بھی ایک دین کے عنوان سے اسی راستہ کا انتخاب کر کے اس پر گامزن ہوجائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ اسلام کی حقیقت ، عیسائیت حقیقت سے مختلف ہے اور اپنے ماننے وا لے مسلمانوں سے اسی ماہیت اور حقیقت کے لحاظ سے توقع بھی رکھتا ہے۔ ایمان کی شرط، اس دین کی کلیت اور تمامیت میں ایمان شرط ہے (اسلام) اور اہمیت کا حامل یہ تھا کہ عیسائیت کی طرح اس کلیت کو بانٹا نہیں جاسکتا۔ (یعنی تقسیم کے قابل نہیں ہے) مومنین اور زمانہ کا ہر دور میں اجماع اصول اور اس کے حدود اربعہ کی تعریف( اور اس کی حد بندی) میں، عیسائیت کی طرح، کوئی مداخلت نہیں تھی۔ اس موضوع کی اہمیت کے لحاظ سے اس کا اجمالی جائزہ لیں گے۔

اسلام، عیسا ئیت اور تمدن جدید

دین اسلام اور عیسائیت جدید تمدن سے ملاپ کے بارے میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ یہ تمدن عیسائیت کے آئین میں، پلا بڑھا اور اسی کے زیر نظر پروان چڑھا اور موجود ہوگیا ہے لہذا اس (عیسائیت) کی اس (نئے تمدن) سے ہم آہنگی اور سازگاری اسلام کی بہ نسبت کہیں زیادہ تھی اور اب بھی ہے، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عیسائیت ایک دین کے عنوان سے اپنے کو ان تغیرات کے ساتھ جو اس تمدن کے ترقی کرنے سے پیدا ہوئے اور نئی نئی ضرورتیں علمی، سماجیاتی،سیاسی اور ثقافتی حتیٰ اخلاقی ا ور تربیتی مختلف میدان میں پیدا کردی تھیں وہ اپنے آپ ایک طرح سے تمدن نو سے مطابقت کرسکتی تھیں اور یہ مطابقت پہلے درجہ میں خود اس دین کی ذاتی خصوصیات کی مرہون منت تھی۔(۳۹) عیسائیت کو اس کے مرکزی نقطہ سے تعبیر کیا جاتا تھا یعنی حضرت عیسیٰ ـ اور کتاب انجیل کے پیغام اور دستورات اور عہد عتیق سے بھی تعبیر کیا جاتا تھا، جو بعد میں عیسائیت کے ایک جز کے عنوان سے قانونی طور پر پہچانا جانے لگا،اور اس کے کچھ ضمنی حصے جو کلیسا کے پادری (روحانی) اور اہل کلیسا کے ذریعہ تدوین کئے گئے تھے، اس میں اضافہ کردیا گیا تھا تاکہ عیسائیت کو ایک ایسے جامع وکامل دین میں تبدیلی کر دے جو کہ قرون وسطیٰ میں مؤمنین، تمام مادی، معنوی و ذاتی اور معاشرتی امور پر مشتمل تھی۔

قرون وسطیٰ میں یورپ پر عیسائیت اسی طرح حاکم تھی جس طرح اسلام اس دور کے مسلمانوں پر حاکم تھا۔ یہ دونوں دین یکساں طور پر اپنے ماننے والوں کی تمام مختلف جہات سے فردی اور اجتماعی زندگی میں ضرورتیں پورا کرتے اورفعالانہ طور پر حاضر رہتے تھے، اس فرق (تفاوت) کے ساتھ کہ اسلام کی تمامیت ذات خود اسی سے وجود میں آئی تھی، یعنی قرآن و سنت سے پیدا ہوئی تھی اور صرف اس زمانہ کی عیسائیت کی حقیقت بعض ابتدائی کے ایک حصہ کی طرف پلٹتی تھی۔ حقیقت میں یہ کلیسا کے پادری ا ور معنوی روحانیوں (پادریوں) اور کلیسا والوں کا اجماع ہی تھا جو عیسائیت کے خلاء اور کم و کاست کی تلافی کیا کرتا تھا تاکہ ایک جامع اور کامل دین میں تبدیل ہوجائے۔

یہ فطری بات ہے کہ یہ دونوں دین اس دباؤ کے مقابلہ میں جو ان کے مقابلہ کے لئے اٹھتا تھا ان کے عقب نشینی اور اس کی واپسی کا خواستگار تھا، دو مختلف کیفیتوں کا عکس العمل ظاہر کریں، ایک جگہ پر خود یہی دین تھا جو اس کے اصول و قوانین اور بنیادوں اور اس کے حدود اربعہ کو بیان اور معین کرتا تھا اور دوسری جگہ پر اس (دینی) مجموعہ کے کچھ حصے شارع مقدس کے ذریعہ نہیں بلکہ بعض دوسروں کے ذریعہ اگرچہ وہ لوگ بھی مقدس اور معتبر تھے مگر وہ لوگ ہرگز شارع مقدس کے ہم پلہ اہمیت حاصل نہیں کرسکتے تھے، ان کے ذریعہ اس دینی مجموعہ کی توضیح اور تعیین کی جاتی تھی۔اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی رائے کا اعتبار اور ان کا حجت ہونا بھی جن کو خود دین سے حاصل کر نا چاہئیے نہ کہ مومنین کے اجماع اور اتفاق سے ۔ یہ اہل کلیسا کا اتفاق اور اجماع تھا جس نے قدیسین اور کلیسا کے روحانیوں اور پادریوں کو اس مقام و منزلت پر لاکر کھڑا کردیا تھا کہ ان کے نظریات اور آرا کو دین کے برا بر اور قانون کا درجہ دیکر اس کا ایک حصہ سمجھ لیا جا ئے ۔

عملی طور پر بھی یہ دونوں (دین) جدید تمدن کے مقابلہ میں حقیقی طور پر اس کے رقیب بلکہ اس کے مخالف محسوب ہوتے تھے، دو طرح سے رد عمل کا اظہار کیا۔ عیسائیت نے ایک طویل عرصہ تک اس کا مقابلہ کیا مگر یہ مقابلہ فطری طور پر تاریخی بہاؤ کے رخ کا مخالف تھا اور اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں تھا آخر کار یہ استقامت اور مقابلہ شکست کھا گیا۔اس مقابلہ کے دوام نہ پانے اور اس کے بکھرجانے کے بہت سے وجوہات ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک و شبھہ نہیں کہ اس کی اہم ترین نقصان اور ضرر قبول کرنے والی خصوصیت خود اسی سے متعلق ہوتی تھی۔ اسی خصوصیت نے لوٹر اور کالون اور دوسرے تمام پروٹسٹا نیزم ( Protestant ) کے بانیوں کی پرورش کی اور ان کو میدان میں لے آئی۔ وہ لوگ جنھوں نے دوسری تعبیر کی وہ تمام سختیوں اور موانع کے باوجود نفوذ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہے کہ جو لوگ خالص اور حقیقی ابتدائی عیسائیت کی طرف رجوع کرنے کے مدعی تھے، وہ لوگ عیسائیت کو ہر اس چیز سے سنوارنے کی فکر میں لگ گئے جس کا آہستہ آہستہ کلیسااور اہل کلیسا کے ذریعہ بڑھاوا دیا گیاتھا۔ انہوں نے اس فکر و خیال کے ساتھ میدان میں قدم رکھا اور ایسی فکر کو آگے بڑھانے کے لئے حالات بھی مناسب اور سازگار تھے۔ لہٰذا بڑی تیزی کے ساتھ یہ نظریہ پھیلا اور تمام رکاوٹوں کو بالکل صفح ھستی سے ختم کر دیا۔ ایسا حادثہ کسی اسلامی مملکت میں وجود میں نہیں آسکتا تھا جو بعد میں اپنے آپ کو وسعت دے۔

اگرچہ اسلام میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو اس آخری صدی کے دوران عیسائی ( Protastant ) مذہب کی پروٹسٹان شاخ کی پیروی کرتے ہوئے اٹھے یا اس کی طرف توجہ دئیے بغیر،کم و بیش ایسے مقاصد کی پیروی کرتے تھے۔ لیکن یا یہ لوگ شروع ہی سے شکست کھا گئے اور یا یہ کہ نتیجةً اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔(۴۰) جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اس کا اصلی سبب یہ تھا کہ یہ دو دین دو مختلف ماہیت اور حقیقت کے حامل ہیں۔ مذہبی اصلاح کے معنی یہ ہیں کہ بعض مذہبی اعتقادات کو ترک کردیا جائے اور بلکہ عیسائیت کے معیار پر عیسائیت میںیہ اتفاق رونما ہو سکتا ہے اور اسلام میں اس اتفاق کے رونما ہونے کا امکان بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ ایک عیسائی ہو سکتا ہے کہ معتقد اور مومن بھی ہو وہ اور اضافات کو اس اعتبارسے کہ یہ اضافات شارع واقعی سے متعلق نہیں ہے لہٰذا اس کو ایک کونے میں ڈال دے (یہ اصل شریعت عیسیٰ میں نہیں ہے) یہ چیز اس کے ایمان و اخلاص کے مخالف اور منافی نہیں تھی لیکن ایک مومن اور معتقد مسلمان ایسا ہرگز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ جس چیز پر وہ ایمان و عقیدہ رکھتا اور اس پر پابند تھا وہ تمام چیزیں اسلام کی طرف سے تھیں نہ یہ کہ وہ علمائے اسلام کی طرف سے آئیں کہ جن پر انہوںنے اتفاق کرلیا تھا۔

البتہ اسلام میں بھی دوسرے آئین مذاہب اور مکتب فکر کی طرح پوری تاریخ میں خود ساختہ بہت زیادہ اضافے پائے جاتے تھے اور اس کے بہت سے قواعد اور قوانین اور مفاہیم جس کو خود اسلام نے بیان کیا تھا، اس کے خلاف بہت سی رنگ برنگ تفسیریں دیکھنے کو ملتی اور رائج تھیں۔بہت سے لوگوں نے قیام کیا تاکہ ان اضافات کو آہستہ آہستہ ختم کردیں ان غیر صحیح تفسیروں کی اصلاح کریں اور اس کو حقیقت کے مطابق پہچنوائیں۔ لیکن یہ اصلاحات ان اصلاحات کے بر خلاف ہیں جو عیسائیت یا دوسرے ادیان میں پائی جاتی ہیں اور جدید تمدن اور تاریخ کی درخواست کے عین مطابق قرار پائی ہیں۔ یہ تمدن اس سے زیادہ کہ ان ادیان میں اصلاح اور اس کے بنانے اور سنوارنے کا ان کے آخری معنی میں طلبگار ہو، (ادیان) کی تقسیم اور ٹکڑے ٹکڑے کر دینے اور ان کی عقب نشینی اور ان کو پیچھے ڈال دینے کے خواہاں تھے۔ تمدن نو چاہتا تھا کہ دین اپنے تمام معاشرتی مسائل کو یکسر پس پشت ڈال دے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ اس (تمدن جدید) کا مقصد یہ تھا عیسائیت اور دوسرے ادیان بھی ان کو تعمیری اور مثبت جواب دے سکتے تھے۔ لیکن اسلام سے یہ ممکن ہی نہ تھا۔ اور اصلاح طلب مسلمان جو اپنے ایسے اہداف تک پہنچنے کے لئے وہ اپنے خیال خام میں اصلاح کے لئے سبقت کی یا اصلاح کے لئے اقدام کیا تھا ،جلدی یا کچھ دیر میں اسے شکست اٹھانی پڑی۔ اصالت پسندی کی موجودہ تحریک اصلاح طلبی کی تحریکوں اور ان کے افکار، خود یہ ان کی شکست پر بہترین دلیل ہیں اصلاح طلبی کی تحریکیں ہی ہیں جو ایسے افکار اور اہداف کی مالک ہیں،ان کی شکست سیاسی دلائل سے زیادہ اعتقادی دلیلوں کی حامل تھی یعنی ان کی شکست کا واحد سبب مذہبی اور اعتقادی معیار تھے۔(۴۱)

البتہ اسلام اور عیسائیت کا تفاوت اور ان دونوں کا جدید تمدن سے مقابلہ، صرف اسی نکتہ پر ختم نہیں ہوتا ہے عیسائیت ''لوٹر پذیر'' ہے اور اسلام ''لوٹر پذیر'' نہیں ہے یا عیسائیت کے پروٹسٹان کے ایسا گروہ عیسائیت میں تغیر اور انقلاب پیدا کرکے کامیاب ہوسکتا ہے لیکن اسلام میں ایسا بدلاؤ ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔ عیسائیت کی اصلی شاخ اور حقیقت پسند جدید تمدن اسلام کے برتاؤ کے مقابلہ میں مخالف ٹکراؤ کا حامل ہے یہ بھی ان دونوں کی حقیقت اور اس کے اندرونی ڈھانچہ کی طرف پلٹتا ہے۔ اور یہ اسلام کا جامع اور کامل ہونا اور اس کے دستورات اور احکام کے کامل نفاذاور یہ کہ اخروی کامیابی حتی ہم مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ دنیاوی عزت بھی ایسے کامل دستاویز پر کی مرہون منت ہے، دوسرے ادیان کے بر خلاف یا کم از کم ان کی موجودہ تفسیر کے خلاف، یہ بات بڑھتے ہوئے او رنئی تاریخ کو ذلیل و خوار کردینے والے دباؤ کے مقابل اس دین کی اصالت کا محافظ ہے۔

جانسن) ( Johnston نے اس بات کی دوسر ے زاویہ نگاہ سے اس طرح توضیح دی ہے: ''آج اسلام اور مغربی دنیا باہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کئے ہوئے ہیں اس طرح کہ وہ لوگ مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے کہ کسی بھی بڑے دین میں ایسی صف آرائی نہیں ہوئی ہے نہ عیسائیت میںکہ وہ خود مغربی دنیا کا ایک حصہ ہے اور جدت پسندی کے ذریعہ وہ اسی میںضم ہو گیا ہے، ہندوایزم کو اور بودھ ایزم کے طریقہ پر تحلیل و تجزیہ نہیں کیا ہے کیوں کہ ان کی گہرائی میں صرف روحانیت پائی جاتی ہے اور روح کی نجات و فلاح کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے اور نہ ہی یہودیت کہ ایک بہت چھوٹا سا آئین و مذہب اور ایک قوم و ملت میں محدود ہے۔ اور ان ادیان کے مذہبی رہنماؤں میں سے کسی رہنما کا وہ اثر نہیں ہے جتنا کسی خلیفہ، مہدی اور آیت ا...کا اثر مغربی دنیا پر ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام نے ڈیڑھ ہزار سال کے عرصہ میں مغرب کے ساتھ نظامی (فوجی) مقابلہ بنائے رکھا اور دور حاضر حالت میں بھی وہی جنگی صورت حال اور ٹکراؤ کا سلسلہ باقی ہے۔''(۴۲)

اگرچہ اس کی تحقیق اور چھان بین اور اس کی تفسیر اسلام اور مغرب کے مسلحانہ اور سیاسی ٹکراؤ پر ناظر ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ ٹکراؤ اسلام کی دینی حیثیت سے ہے جو اپنے حقائق اور اصالت پر زوردیتا ہے اس جدید تمدن کے مقابلہ میں جو درمیانی رویہ اختیار کرنے کا خواہاں، بلکہ اس کے پیچھے ہٹنے کا خواہاں ہے۔

دو با رہ پلٹنا

لہٰذا اس دین کی ذاتی خصوصیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اس دین نے ایک مدت کے لئے اس جدید تاریخی میدان کو ترک کردیا، (اور گوشہ نشینی اختیار کرلی) مگر ایسا نہیں ہے کہ آج کل متحرک اور فعالانہ طور پر میدان میں قدم رکھ دیا ہے؟ جو کچھ آج ہم دیکھتے ہیں، یہ اس کے اندرونی خصوصیات کے ساتھ با ہمی توافق اور آپسی سازگاری ہے اور اس سے پہلے جن چیزوں کو دیکھتے تھے، وہ ایک عارضی اور ناپائیدارحادثہ تھا۔خصوصاًیہ کہ کوئی بھی دین اس دین کے برابر اس طرح سے کہ ہر طرف سے معاشرہ اور تاریخ میں اس قدر عمیق رسائی نہیں رکھتا ہے اور اپنا اثر نہیں ڈالتا ہے اور اس حد تک کہ اپنے پیروؤں کو اپنے مقصد کے حصول کے لئے اکٹھا کرنے اور اپنے مقاصد کو وجود بخش نے پر قادر نہیں ہے۔ جیسا کہ اس کا خاصہ مغرب سے پیکار اور بلکہ اپنے غیر سے آمادہ پیکار رہنا دین اسلام میں دوسرے ادیان سے زیادہ عمیق اور قاطع ہے۔(۴۳)

حقیقت میںموجودہ اسلامی تحریک جدید تمدن کے پوری دنیا پر چھاجانے کے مقابلہ میں اس دین کی استقامت کا ایک نمونہ ہے۔ اس کا اصلی مقصد یہ ہے کہ اس کو اسلامی دنیا میں چھاجانے سے روکنا ہے جو خود اس سے متعلق ہے اور یہ ایک فطری امر ہے۔ ایسے جریان کا فقدان غیر فطری امر اور سوال طلب ہے؟، نہ یہ کہ اس کا وجود سوال طلب ہو اگر دوسرے ادیان اور ثقافتیں ایسی تحریک کی حامل نہیں تھیں، یا کم از کم اگر ایسی ہوں بھی تو وہ اتنی گہرائی اور شدت کی حامل نہیں تھیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر جدید تمدن کے دنیا پر چھاجانے کے مخالف نہیں تھے۔ یا پھر یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ اپنی حکومت اورسرزمین کے واسطے ایسے مقدسات اور معیار جو اس کو واجب اور لازم جانیں ان کے پاس نہیں ہیں اور یا اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ اس بات پر قادر تھے کہ اپنے معیار کو ان کے معیاروں اور مقدسات کو تمدن جدید اور اہم موجودہ نظام کے ساتھ ہماہنگ اور موافق بناسکیں۔(۴۴)

البتہ، اس بات کا اضافہ کرناچاہیے کہ اسلامی معاشرہ میں اس آخری صدی میں رونما ہونے والے انقلابات اس طرح تھے کہ اس استقامت اور ٹکراؤ کے لئے ضروری مادی طاقت کو فراہم کرلیا ہے۔ اس زمانہ کے حوادث اور واقعات اور پے در پے مسلمانوں کو جدید تمدن کے ذریعہ دھچکے لگے ہیں،اس سے ان کے افکار، اعتقاد ات اور ان کی شخصیت کی کچھ اس طرح پرورش کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اتنی بڑی اور عظیم تحریک کی خدمت کے لئے آمادہ کرلیں۔

اس بات کا پتہ لگانے کے لئے اس کا بہترین نمونہ اس آخری دوران میں اسلامی فکر کی تحقیق اور اس کی چھان بین ہے جس سے مسلمان ابتدائی دہائیوں میں اسلام اور جدید تمدن کے مقابلہ اس طرح مرعوب ہوگئے تھے کہ وہ اپنے دین کے دفاع کے سلسلہ میں اس کے سوا کہ اسلام کو تمدن نو کے برابر ثابت کریں کچھ اور سوچ ہی نہیں رہے تھے وہ لوگ معذرت خواہی کے جواب کے ذریعہ اپنے زعم ناقص میں اس شباہت اور برابری کو ثابت کر نا چاہتے تھے ۔ بعد میں آنے والی نسل خود اپنے او پر تکیہ کرتے ہوئے اپنے اعتقادات کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنے میں لگ گئی۔ اس نسل کا ہدف اپنے اسلاف کی طرح اسلام کو جدید تمدن کے معیار کے مطابق اس کے مانند اور برابر ثابت کرنا نہیں تھا۔ بلکہ نسل جدید کا مقصد (ہدف) یہ تھا کہ ان کو اس کی مستقل طور پر توضیح دیں۔ آج کل کی نسل کا علم وفہم اور بیان قاعدةً (اصولی طور پر) دوسری طرح اور جداگانہ ہے اور وہ اپنے دین کی پورے طور پر حاکمیت اورچاہتوں کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے اور یہ نسل اس سے کم پر قانع اور مطمئن ہونے والی نہیں ہے، اس نسل کی نظر میں صرف اسلام ہی حق وباطل کا معیار ہے اور یہ دوسرے (تمدن) ہیں جن کا مقایسہ اسلامی معیار پر کیا جائے نہ یہ کہ اسلام کا قیاس دوسروں سے (یعنی اسلام کا قیاس دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کے ساتھ نہ کیا جائے چونکہ اس سے ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔)(۴۵)

یہ تغیر اور تبدیلی خود اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ مسلمانوں میں دینی رجحانات کی شناخت اور ذہنی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے خصوصاً جوانوں اور مسلم طلبا( Muslim Students ) کی فکر میں انقلاب آیا ہے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تغیرات اور تبدیلیاں ایک ساتھ تمام اسلامی ممالک میں فکری اور اعتقادی انقلاب کا آجانا بلکہ اسلامی ممالک میں معاشرتی، اقتصادی اور معیشتی ، معاشرتی اور سیاسی تغیرات کے ساتھ ساتھ یہ بدلاؤ پیدا ہوگئے ہیں۔ لہٰذا بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے کو قوی اور مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔ یہاں تک کہ ۷۰ ء کی دہائی کے آخر میں اوج کی آخری منزل تک پہونچ گیا اور لوگوں میں نئے حالات ا ورحوادث کو وجود بخشا جس کا سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ یہ تحریک (اس دور جدید کی) سیاسی،( دینی اورمعاشرتی) اور دور جدید کی ثقافتی نشانی اور علامت ہے کہ اس (تحریک) نے دنیا کے تمام غیر صنعتی ممالک بجز جنوبی امریکہ کے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ عموماً دور جدید اپنے پہلے والے دورہ کا نتیجہ ہے۔ یعنی ایک ایسا دور جو اپنے زرق وبرق و قدرت اور جدید تمدن کی تکنیک ( Technology ) نے یوروپ کے علاوہ دوسرے علاقوں کے تمدنوں کو اپنے رعب و داب اور دھمکی میںلیکر، وحشت پھیلائی اور دوسرے تمدنوں کو پردہ ٔ خفا میںڈال دیا ۔(یعنی دوسرے تمدن بے اہمیت ہوگئے تھے۔)

اور خود نے چومکھا غلبہ کرکے اس پر اپنا قبضہ جمالیا۔ نئی حالت جو نئے تمدن کے غلبہ کے ہمراہ تھا، یہ زیادہ تر عارضی اور ناپائدار تھا یہاں تک کہ فطری طور پر اس ناپائیداری میں استحکام بنا رہا اس طرح، لحاظ کیا جاتا تھا کہ بغیر کسی سبب اور علت کے قدیمی میراث کو فراموشی کے سپرد کردیا تھا اور اس قدیم تہذیب و تمدن کی اولاد اور اس کے وارثوں کو بھی سکوت وخاموشی پر مجبور کردیا تھا۔

یہ فراموشی جو اکثر ذلت و رسوائی کے ہمراہ تھی، ایک طولانی مدت تک باقی نہیں رہ سکتی تھی۔ لیکن اس زمانہ کو ختم ہونے کے لئے بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ مقدمات کو فراہم کیا جائے۔ کچھ مقدمات اور حالات آخری صدی میں پیدا ہو گئے، آخری دو تین دہائیوں میں اپنے مقام و منزلت اور بلندی کو پالیا اور تیسری دنیا کو تاریخ کے ایک نئے دور میں لاکر کھڑا کردیا۔ اس نئے تاریخی دور نے دنیائے اسلام کو بھی شد ت اور زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ نیا دور کن اسباب و عوامل اور طاقتوں کے زیر اثر ہے اور اس کے اچھے اور برے پہلو کیا ہیں؟ اور وہ اپنی پائیداری اور خلاقیت اور سربلندی کی کس حد تک حفاظت کرسکتا ہے ؟ یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے کہ اگر جدید دور کی حقیقت طلبی کا عقیدہ اور نظریہ کہ یہ دور خود کسی نہ کسی طریقہ سے اس دور کی مخلوق ہے، تیسری دنیا خصوصاً اسلامی دنیا کی مختلف ضرورتوں کا جواب دہ ہو، ایک طرح سے اصالت اور تجدد پسندی اور اس کی طرف میلان اور تبدیلی کی خواہش، اگر ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر فدا نہ ہوں تو ایسی صورت میں اطمینان کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظری اعتقاد ( Idiology ) میدا ن کارزار میں کامیاب ہوجائے گا۔ اصالت سے وابستگی آج کی بہت زیادہ اور مختلف ضرورتوں کو نظر انداز کرکے اس پرشتاب اور آئے دن تبدیلی کی شاہد دنیا، تنہا اس کامیابی کی ضامن نہیں ہوسکتی (یعنی کامیابی نصیب نہ ہوسکے گی) اور یہ بات ہمارے زمانے میں یعنی ۸۰ء کی دہائی اور اس کے بعد آنے والی دہائی میں گذشتہ تاریخ کے تمام زمانوں سے زیادہ صحیح ہے۔ اس کی طرف توجہ دینا نہ صرف یہ کہ اس معرکہ میں حقیقت طلبی جس کی بنیاد ڈالی جاچکی ہے نظری اعتقاد کی کامیابی کی ضامن ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جدید دور کی پائیداری اور اس کا ہمیشہ باقی رہنا کامیابی اور کامرانی بھی اسی کی مرہون منت ہے۔ اس نظری عقائد ( Idiology ) کی شکست اور اس دور جدید کی ضروریات واحتیاجات کے پورا کرنے کی توانائی نہ رکھنا، تقریباً اس دور کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گی۔(۴۶)

اس مقام پر بہتر یہ ہے کہ کتاب کے آئندہ حصہ میں جس حصہ کے بارے میں بحث کی جائے گی اس کی طرف اشارہ کریں۔ شیعہ حضرات اور اہل سنت کی سیاسی فکر کی تحقیق اور اس کی چھان بین کے لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اصولاً( قاعدتاً)ان دو مذہبوں کی حقیقت کیا ہے اور ان دونوں کے خصوصیات اور اختلافات کیا ہیں؟

عقید تی اختلا فات کی جڑیں (بنیادیں)

اس موقع پر بنیادی مشکل یہ ہے کہ ان دو مذہبوں کے تفاوت اور اختلاف کا مرکز صرف حضرت علیـ کی خلافت کو بنایا جاتا ہے۔ مسئلہ اور مشکل یہ نہیں ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بلا فصل وصی ہیں یا کہ چوتھے خلیفہ۔ ان دونوں کے اختلاف کا خلاصہ اسی مقام پر نہیں ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر بحث کا مرکز ذات اورشخصیت نہیں ہے اور یہ کہ وہ کون ہے۔ بحث کا مرکز شان اور اس کا مقام و منزلت ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ (شان) مقام و منزلت کیا ہیں؟ اور کون شخص اور کون کون اشخاص اس شان و شوکت اور مقام کے حامل ہیں؟دوسرے لفظوں میں یہ کہ بحث مصادیق سے زیادہ مفاہیم پر مبنی ہے۔ شروع میں بحث اس بارے میں ہے کہ امامت کا مفہوم کیا ہے؟نہ یہ کہ امام کون ہے؟ اگر اس مسئلہ پر ایک تاریخی مسئلہ کی حیثیت سے نظر کریں تو یہ ایک (بہت بڑی) غلطی محسوب ہوگی اور حقیقت یہ ہے کہ یہ مفہوم(امامت) اہل سنت وتشیع کے تمام مختلف زاویہ نگاہ اور دینی افکار کے حدود اربعہ کو متاثر کرتا ہے۔

اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ کہا جائے۔ شیعوں کا اعتقادی، فقہی اورکلامی ڈھانچہ اور اس کے بعد، تاریخی تجربہ، اہل سنت وتشیع کا نفسیاتی اور معاشرتی ڈھانچہ اور اہل سنت دو طرح کے مختلف اسباب سے متاثر ہوکر وجود میں آئے اور پروان چڑھے۔ اس اختلاف (تفاوت) کا اصلی سبب یہ ہے کہ اہل سنت اسلام کو (ماورائے اسلام) خلفائے راشدین وصحابہ اورتابعین کے زمانے میں اسلام کے وجود کے بارے میں صوری خیال کرتے ہیں اور پھر اسلام کو اسی زاویۂ نظر سے دیکھ کر اس کی تفسیر کرتے ہیں۔ لیکن شیعہ حضرات اس کو جانشینی کے سلسلہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکیداور سفارش اور فرمان کے مطابق اسلام کے بارے میں فکر کرتے ہیں۔ ایک (فرقہ) اسلام کو صدر اسلام کی تاریخ کے اعتبار سے دیکھتا ہے اور دوسرا (فرقہ) صدر اول کی تاریخ کو اسلامی معیاروں اور قواعد و ضوابط کے اعتبار سے جائزہ لیتاہے۔ ایک جگہ دین کو صدر اسلام کی تاریخ کے اعتبار سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے اور دوسری جگہ تاریخ کو دین سے ہٹ کر پرکھا جاتا ہے۔یہ دو نوں کاملاً، مختلف زاویہ نگاہ کے حامل ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ وسنی کے اصلی اختلافات اور ان دونوں کے اہم امتیازات اور شناخت دو کلامی اورفقہی مکتب کے اعتبار سے یہ اختلافات وجود میں آئے ہیں۔(۴۷)

جس وقت صدر اسلام کی تاریخ، خصوصیت کے ساتھ خلفائے راشدین کے زمانہ کی اہمیت و عظمت و منزلت خود اسلام کے ہم پلہ ہوجائے، تو یقینا یہ اسلام دوسرے گروہ کے اسلام سے مختلف ہوگا جو گروہ نہ فقط اس تاریخ کی اہمیت ومنزلت کامعتقد نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت کا قائل ہی نہیں ہے، بلکہ اس کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنجیدگی کا حامل ہے کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں کا اختلاف، اسلام کو سمجھنے میں دو مختلف معیار کی بنا پر ہے ۔

ایک جگہ امامت و خلافت وامام وخلیفہ کو ایک زاویہ سے سمجھا جاتا ہیاور دوسرے مقام پر (گروہ میں) دوسری طرح سے درک کیا جاتاہے۔ دوسری طرف شان وخصوصیات پیغمبر کی قدر و منزلت اور بعد میں آنے والے خلیفہ (امام) کی خصوصیات کو گھٹاکر برابر کردیا جاتا ہے اور دوسری جگہ پر امام کی خصوصیات اور اس کے مقام و منزلت کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک بڑھا دیا جاتا ہے(البتہ یہ فطری بات ہے کہ وحی اور نبوت کے علاوہ) ان دو نظریات کے پیش نظر بہت سے مسائل وجود میں آتے ہیں کہ جن کا ظہور میں عموماً سیاسی افکار ہی میں ہوتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ ان دونوں فرقوں کے سیاسی افکار اسلام کے بارے میں تمام دوسری بحثوں سے زیادہ ان کے فہم و ادراک اور مختلف زاویہ نگاہ سے متاثر ہو نے کی وجہ سے ہے۔

یہاں پر ایک بات یاد دلانا ضروری ہے کہ اس طرح کی بحثوں کے پیش کرنے سے غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے مثال کے طور پر اگر ایسے اختلافات پائے جاتے ہیں پھر وحدت اسلامی کے کیا معانی ہوسکتے ہیں ؟ یا یہ کہ وحدت اصل ہے یعنی اساسی حیثیت کی حامل ہے۔ لہٰذا ان بحثوں کا یہاں پر چھیڑنا مناسب نہیں ہے۔اوّلاً ان تمام اختلافات کے باوجود ان دو فرقوں کے درمیان وسیع اور مسلم معیار جن میں شک و شبھہ نا ممکن ہے، ان کی برکت سے اور دوسرے عام اسلامی فرقوں سے بھی اس قدر مشترک بنیادی مسائل پائے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ خود یہ دین یعنی اسلام نے اس طرح باہم ملنے جلنے اور آپس میں اتحاد کے بارے میں شرعی ذمہ داری کے عنوان سے اس کی بہت زیادہ تاکید کی اور حکم دیا ہے۔ لہٰذا اصولی طور پر یہ مطالب ہماری بحث سے جدا ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان دو مذاہب کی گذشتہ تاریخ کے صحیح اور تجزیاتی درک و فہم اور ان دونوں کی موجودہ حالت کی صحیح چھان بین کے لئے لازم ہے کہ ان دونوں کی بہ غور شناخت کی جائے اور ان کے مختلف اجزا و عوامل کو ان لوگوں کی سیاسی فکر کو وجود میں لانے اور اس کو بال و پر عطا کرنے کے بارے میں جائزہ لیا جائے۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اور بعد میں کہا جائے گاوہ اس امر سے متعلق ہوگا اور اس مقصد کے علاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہوگا۔