اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 4438
ڈاؤنلوڈ: 256

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4438 / ڈاؤنلوڈ: 256
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

پہلی فصل کے حوالے

(۱)مثال کے طورپر اس مقام پر عیسائیت کے اقدامات کے بارے میں رجوع کریں:

Vatican Counil ۲nd The Conciliar and Post Conciliar Documents,PP.۹۰۳-۹۱۱

(۲)اس سے زیادہ وضاحت کے لئے دیکھئے العقیدة و الشریعة فی الاسلام ص۲۵۰۔ ۲۶۰ اور البدعة: تحدیدہا و الموقف الاسلام منہا،نامی کتاب میں بھی رجوع کریں۔

(۳)اس سے زیادہ وضاحت کے لئے تیسری اور چوتھی فصل میں دیکھئے۔

(۴)برائے نمونہ، رجوع کریں۔

. Asaf Hussain,Islamic Movements in Egypt, Pakistan and Iran

(۵)اس بحث کے واضح ہونے کے لئے لازم ہے کہ معاشرہ اور تاریخ پر اسلام کی تاثیر کی کیفیت کو معاشرہ اور تاریخ پر معاشرتی اور تاریخی تغیرات کے پیدا ہونے میں اس کا کردار کیا ہے، ایک دین کی حیثیت سے دین اسلام کی دوسری خصوصیات کے بارے میں تحقیق کی جائے۔ اس بارے میں کتاب ایدئولوژی و انقلاب، نامی کتاب کے ص۱۱۱۔ ۱۴۹، و نیز الفکر السیاسی الشیعی، کے ص۳۷۔ ۱۱۵ اور العقیدة و الشریعة فی الاسلام کے ص۱۳۳۔ ۱۷۷ پر بھی رجوع کریں۔

(۶)شیعہ اور سنی کے نظریاتی اختلاف کی روشنی میں مؤثر اختلاف کو حاصل کرنے کے لئے اس طولانی مدت میں شیعہ اور سنی معاشرہ پر موجودہ زمانے کی پوری مدت میں کیا اثر ڈالا ہے اس کو معلوم کرنے کے لئے رجوع کریں۔ Faith and Power PP.۳۱-۵۵ الفکر السیاسی الشیعی نامی کتاب کے ص۳۷۔ ۱۸۰، کتاب کے آخر میں بہترین اور قابل اعتنا مصادر (منابع) اس بارے میں پائے جاتے ہیں۔

(۷)بہترین مآ خذ میں سے ایک ماخذ جس پر توجہ کرکے بخوبی شیعہ و سنی کے دینی اور فکری، رجحانات کے ڈھانچہ میں فرق کوجانا جاسکتا ہے اور اسی طرح شیعہ حضرات اور اہل سنت کی عاطفی اور جذبات پر مبنی حساسیت کو بھی اور ان کے سوچنے کی کیفیت اور ان کی تاریخ پر نظر کو اور خصوصاً صدر اسلام کی تاریخ کو حاصل کیا جاسکتا ہے، کچھ ایسی کتابیں بھی ہیں (جن سے یہ چیز اچھی طرح معلوم ہوسکتی ہے) جو ان سنیوں نے لکھی ہیں جو سنی سے شیعہ ہوگئے ہیں ان کتابوں میں اس سے بحث کی گئی ہے۔ نمونہ کے طورپر آپ محاکمہ تاریخ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مؤلفۂ قاضی بہجت آفندی، لماذا اخترت مذہب الشیعہمؤلفۂامین الانطاکی اور خصوصاً اس طرح کی آخری کتاب جس کو تونس کے روشن فکر سنی عالم جو بعد میں شیعہ ہوگئے، انہوں نے ثم اہتدیت کے عنوان پر لکھی ہے مؤلفۂ محمد تیجانی السماوی ۔ اسی طرح نظریة الامامة الشیعة الامامیةنامی کتاب کی طرف بھی رجوع کریں (مولف) احمد محمود صبحی، ص۱۵۔ ۶۸

(۸)الشیعة والحاکمون، ص۲۶۔۲۷؛

(۹)الفکر السیاسی الشیعی، ص۶۴۔ ۶۵

(۱۰)اس بات کو عبد الکریم الخطیب نے اپنی کتاب سد باب الاجتہاد و ما ترتب علیہ میں اچھی طرح توضیح دی ہے۔خصوصاً اس کے ص۳۔ ۸ پر رجوع کیجئے۔

(۱۱)حقیقت یہ ہے کہ علما اہل تشیع و تسنن اعتقادی، تاریخی، فکری اور معاشرتی اعتبار سے دو طرح کے حالات سے متاثر ہوکر وجود میں آئے ہیں اور ترقی حاصل کی ہے اور یہ بات خصوصاً آخری صدیوں میں اور خاص طورپر موجودہ زمانے میں زیادہ صحیح ہے۔ شیعہ مذہب میں علما اور روحانیت کو ایک مستقل حیثیت حاصل ہے۔ جیساکہ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ مشکل تنہا یہ نہیں ہے کہ یہ معاشرہ اور ادارہ اقتصادی اور تشکیلاتی طورپر مستقل اور کسی سے وابستہ نہیں ہے۔ زیادہ اہمیت کا حامل یہ ہے کہ یہ ادارہ عوام الناس اور حکومت دونوں کی طرف سے قانونی طورپر ایک مستقل حیثیت حامل ہے اور خود (علما) بھی اس بارے میں راسخ یقین رکھتے ہیں اور اسی طرح شیعہ معاشرہ کا بھی یہی عقیدہ ہے، یا کم از کم ایرانی معاشرہ، اس طرح ہے کہ وہ اس سے بے توجہی اور بے اعتنائی نہیں کرسکتا ہے۔

ایرانی معاشرہ کم از کم قاچاری نظام کے زمانہ کے بعد سے خصوصاً ان مواقع پر جو عوام سے متعلق ہیں اس طرح وجود میں آیا ہے گویا وہ ہمیشہ اس ادارہ کی طرف رجوع کرنے کے لئے ضرورت مند اور محتاج ہے۔ اس حد تک کہ اس مقام پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سے قبل کہ یہ ادارہ (علما) عوام الناس کا ضرورت مند ہو یہ عوام ہیں جو مختلف اسباب کی بناپر اس (ا تحاداور کمیٹی) کے محتاج رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر یہ کہا جائے کہ علما کا گروہ حقیقت میں ہمارے عوام کی مادی، دینی، نفسیاتی اور روحی مشکلات کو برطرف کر نے والا ہے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ یہی سبب ہے کہ بہت سی اندرونی اور بیرونی مشکلات کے باوجود اب تک یہ چیز باقی ہے۔ یہ صنف کم سے کم گذشتہ دو تین صدیوں کے درمیان لوگوں کی قلبی (عاطفی) اور اخلاقی بہت بڑی تکیہ گاہ رہی ہے۔ وہ لوگ (عوام الناس) نہ صرف یہ کہ اس کے خواہش مند تھے کہ وہ اپنی ذاتی اور فردی زندگی کی مشکلات میں ان (علما) کی طرف رجوع کر یں اور اپنی مشکلات اور مصیبتوں کو حل کرنے کے لئے ان سے امداد کی درخواست کرتے تھے۔

ان باتوں (نکات) کا کامل جائزہ میں طوالت کا باعث ہے۔ لیکن اس مقام پر مسئلہ شیعوں کی روحانیت اور مرجعیت کی طرف پلٹتا ہے، ایسا ہی ہے۔ لیکن ان اسباب اور تجربیات میں سے کوئی بھی مسئلہ اہل سنت کے درمیان نہیں پایا جاتا ہے اور شاید اس کا وجود میں آنا ممکن بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے اعتقادی معیار جدا اور ان کا فردی، معاشرتی اور تاریخی تجربہ اور ہے۔ ان کے نزدیک ایک عالم کی حیثیت اسلامی اور فقہی مسائل کے ماہر سے زیادہ نہیں ہے جس طرح معاشرہ میں مختلف مشغلے اور پیشے پائے جاتے ہیں اور ہر ایک شخص کسی نہ کسی چیز میں مشغول ہے، علما بھی امامت جمعہ و جماعت اور دینی و فقہی مسائل کے مطالعہ میں مشغول ہیں اور ان مواقع پر ان کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

افسوس کا مقام ہے کہ آخری زمانہ کے بدلاؤ اور تعلیمی نظام کی اصلاح نے ان لوگوں کو زیادہ قانونی، سرکاری اورمغرب پرست بنادیا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ لوگ عوام الناس سے بہت دور ہوگئے ہیں۔ شیخ کشک مشہور ترین اور عربی عوام کا محبوب ترین خطیب نے اپنے ایک خطبہ کے ضمن میں ۱۹اپریل ۱۹۸۱ئ کو علمائے ''ازہر'' اور تمام علمائے دین کو خطاب کرتے ہوئے اس طرح بیان کیا (للکارا) ۱۹۶۱ئ میں ''اصلاح'' کے نام سے ایک ضربہ ''جامعۂ الازہر'' کو پہنچایا گیا کہ جس نے واقعاً اس (جامعہ ازہر) کو نابود کردیا۔ اے جامعہ ازہر والو! مجھے بتاؤ کہ جب تم اپنی سند کو لیتے ہو تو قرآن کا کون سا حصہ حفظ کرتے ہو اور کتنے سوروں کو ازبر (زبانی) پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہو؟ آج کل ''ازہر'' سے فارغ التحصیل ہوکر لوگ جب نکلتے ہیں تو وہ قرآن کو دیکھ کر بھی صحیح طریقہ سے نہیں پڑھ سکتے۔ ''جامعہ ازہر'' نے اتنا سخت ضربہ کھایا ہے یہ کب سے یہ طے پایا گیاہے کہ جامعہ ازہر سے شیخ یعنی وائس چانسلر کو فلسفہ کا ماہر ہونا ضروری ہے( ایک وائس چانسلر (شیخ) نے جرمن سے ڈاکڑیٹ (پی.ایچ.ڈی کی) ڈگری حاصل کی تھی) اس سے پہلے والے شیخ نے فرانس سے فلسفہ میں (پی.ایچ.ڈی) کی ڈگری حاصل کی تھی۔ آیا مسلمان حضرات اس قدر عقیم اور بے صلاحیت ہیں کہ وہ پی. ایچ. ڈی. کی ڈگری لینے کے لئے فرانس جائیں؟ مجھے نہیں معلوم کہ بعد میں آنے والا شیخ کون ہوگا۔ شاید ایک فوجی اعلیٰ کمان کا افسر (جرنل) جامعہ ازہر پر قبضہ جمالے کوئی کیا جانے؟ لیکن بہرحال اصلاح کے زمانے سے، اسلام کے رہبر نے اس کی ہر طرح کی رہبری اور ہدایت کو چھوڑ دیا ہے۔'' اور بعد میں اس طرح اضافہ کرتا ہے: ''نئے مفکروں کا اس زمانے میں نئے طریقہ کے مطابق بغیر استاد یا شیخ کے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ وہ براہ راست کتابوں میں رجوع کرتے ہیں لیکن کچھ بھی ان کے پَلّے نہیں پڑتا ،یعنی کچھ بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ ان دنوں ایک ستر سالہ مؤمن واعظ کی جگہ ایک نوبالغ لڑکا لے لیتا ہے ابن تیمیہ اور ابن عبد الوہاب کے چند کلمے اور کچھ صفحات پڑھ کر آیا محافظ ایمان ہوسکتا ہے۔ کتنی مضحکہ خیز نمائش! اے شیخ ازہر اور وہ تمام لوگو! جو خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہو اور اسلام کو تم نے چوپایوں کے چرنے کی جگہ (چراگاہوں) میں تبدیل کردیا ہے کہ جس کاجو بھی جی چاہے اس میں چرنے لگے۔'' پیامبر و فرعون، ص۲۱۹۔ ۲۲۲۔

ان تنقیدوں اور دوسری تنقیدیں جو کہ کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں اس کے باوجود یہ کہنا چاہئے کہ جو ناخواستہ طورپر ان معاشروں میں، سیاسی فعال زندگی سے دوری اختیار کرلی ہے اور یہ بہت زیادہ مشکلات خاص طور سے سنیوں کے مذہبی معاشرہ میں پیدا کردی گئی ہیں۔ ان (اہل سنت) کے معاشروں میں اسلامی تحریکوں کے منحرف ہوجانے کا اصلی سبب انھیں واقعات اور حادثات کی طرف پلٹتا ہے۔ البتہ اس کی تاکید کرنی چاہئے کہ یہ فاصلہ کا ہوجانا ان کی گذشتہ موقعیت کا فطری اور قہری نتیجہ ہے، یہاں تک کہ آگاہانہ ارادہ اور کبھی کبھی ان کا غیر ذمہ دارانہ اقدام سبب بنا ہے، اسلامی تحریکیں منحرف ہوگئی ہے۔ یہ ان کا مسئلہ آج کا مسئلہ نہیں ہے بل کہ ان کی تاریخ کا مسئلہ ہے اور نہ ہی موجودہ آخری صدی کے حالات کا مسئلہ ہے جو تاریخ کی گہرائیوں میں اپنی جڑیں پھیلائے ہوئے ہے۔

یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ رشید رضا کے ایسا شیعہ مخالف انسان جو شیعوں سے پکی دشمنی رکھتا ہے علمائے شیعہ کی مؤثر فعالیت اور ان کے اساسی کردار اور ان کے اسلامی معاشرہ کی حفاظت کی کوشش کی صریحی طور پر قدردانی کرتا ہے حتیٰ کہ اپنے مذہب کے علما کو بھی تاکید کرتا ہے کہ ان (شیعہ علما) کی طرح اپنا کردار پیش کریں اور فعالیت کو انجام دیں۔ اس کے لئے اندیشۂ سیاسی در اسلام معاصر، نامی کتاب کے ص۱۴۱۔ ۱۴۲، کی طرف رجوع کریں۔

اہل سنت کی روحانیت کے ڈھانچہ اور پوری تاریخ اسلام میں ان کے کردار کے بارے میں آپ اس کتاب کے مفید مقالہ کے سلسلہ میں آپ اس کتاب میں رجوع کریں۔

Gibb and Bowen, Islamic Society and the West, PP.۸۱-۱۱۳

اور اسی طرح رجوع کریں، قابل مطالعہ کتاب الاسلام بین العلماء و الحکام عبد العزیز البدری کی تالیف کی طرف علمائے دین اور جدت پسندوں اور ترقی پسند لوگوں کی طرف سے تنقیدوں اور اعتراضات کے بازار گرم ہونے کے بارے میں نمونہ کے طورپر آپ رجوع کریں۔ عربی دنیا کے ایک مذہبی روشن فکر اور نفوذ رکھنے والے شخص خالد محمد خالد کی تنقیدوں میں سے ایک کتاب الشیعہ فی المیزان مغنیہ میں: ص۳۷۵۔؛ ۳۷۸

عرب کے غیر مذہبی فکروں میں سے ایک بہت معتبر ادیب احمد بہاء الدین کی تنقیدوں میں سے ایک کتاب الاسلام و الخلافة فی العصر الحدیثکے ص۱۸۔ ۳۴، پر اساسی کردار کے بارے میں اس کا بے طرفانہ اور ہمدردانہ نظریہ خصوصاًقدیم عربی ادب کی حفاظت میں ان کا مؤثر حصہ دیکھنے کے لئے من حاضراللغة العربیة کے ص۲۴، ۲۵ پر رجوع کریں۔

(۱۲)واضح ترین بات جس کی طرف اوپر والی عبارت میں اشارہ ہوچکا ہے نمونہ کے طورپر شیخ جعفر کاشف الغطاء اور فتح علی شاہ کے روابط میں اس کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی طرف رجوع کریں، رویا روئیتہای اندیشہ گران ایران بادو رویہ تمدن بورژ وازی غرب، ایران کے متفکرین اور مغربی مفکرین کے درمیان پہلی مرتبہ مقابلہ، کے ص۳۲۹، ۳۳۲ پر، دوسرے بہت سے نمونوں کی ''کول'' نشان دہی کرتا ہے۔

Roots of North Indian Shi,ism In Iran and Iraq., PP.۱۱۳-۲۰۴

(۱۳)، معالم الخلافة فی الفکر السیاسی الاسلامی نامی کتاب کے ص۱۲۶و ۱۲۵ پر رجوع کریںاور اسی طرح النظریات السیاسیة الاسلامیة کے،ص۷۱، ۷۲ پر بھی رجوع کریں۔

(۱۴)مک ڈونالڈ گولڈ زیہر ) ( Goldziher اس طرح نقل کرتا ہے: ''شیعہ کے درمیان اب بھی مجتہد مطلق پائے جاتے ہیں۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ (شیعہ حضرات) مجتہدین کرام کو امام غائب کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ اسی بناپر مجتہدین کرام کی موقعیت اور مقام ومنزلت بالکل علما اہل سنت سے مختلف ہے۔ انہوں نے شاہ پر آزادانہ طور پر اعتراض بھی کرتے ہیں اور اس کو کنٹرول بھی (مہار) کرلیتے ہیں۔ لیکن اہل سنت کے علما مجموعی طورپر اس کی حکومت کے تابع اور اسی کے افراد شمار کئے جاتے ہیں۔''

Shorter Encyclopaedia of Islam, P.۱۵۸

(۱۵)علما کی صنف (جمعیت) کی طرح دوسرے ادارے بھی اس کے مقابلہ میں مثال کے طور پر مذہبی کمیٹیاں اور مذہبی انجمنیں جو ایران جیسے ملک میں وجود میں آئی ہیں، ہمیشہ معاشرہ کے اسلامی ہونے کی محافظت کرتے رہے ہیں، بہت سے اہل سنت کے مذہبی روشن فکروں نے اسلامی پارٹیوں (گروہ) کی تاسیس کی تجویز پیش کی ہے۔ اس فکر کی ابتدا میں ان کا سب سے پہلا مقصد یہ تھا کہ یہ ادارے اور انجمنیں قانونی اور معاشرتی طورپر اسلامی قوانین کی حفاظت کے لئے وجود میں آئیں نہ یہ کہ وہ سیاسی کر و فر میں مصروف ہوجائیں (ایرانی معاشرہ میں مرکزی حکومتوں کے مہار کرنے اور مغربی بے راہ روی کو روکنے اور ان کی جدت پسندی اور دین مخالف و قوم مخالف طاقتوں پر قابو پانے والی طاقت کے حامل یہی علمائے دین ہی تھے) معاشرتی اور یہاں تک کہ معیشت کے قدیمی ذرائع کے مراکز اور بازار کے بھی محافظ تھے۔لیکن یا یہ ادار ے تمام اسلامی ممالک میں نہیں پائے جاتے تھے یا اگر موجود بھی تھے تو ان کے اندر اتنی طاقت اور استقلال نہیں پایا جاتا تھا۔ ان ممالک میں جو چیزیں حکومتوں کو کنٹرول اور مہار کرتیں یا ان کو ڈراتی تھیں، وہ لوگوں کے عام افکار تھے۔ لیکن اول یہ کہ یہ سبب بر محل عکس العمل ظا ہر نہیں کر سکتے تھے اور دوسرے یہ کہ موجودہ حکومتوں کی تہدید اور پروپگنڈوں سے متأثر ہوجاتے تھے لہٰذا روشن فکر لوگ اور صالح و مذہبی علما نے اسلامی احزاب کی تاسیس اور بنیاد کی فکر میں پڑ گئے۔ مثلاً کتاب معالم الخلافة فی الفکر السیاسی الاسلامی کے مؤلف ایسے احزاب (گروہ) کی تاسیس کو جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرنا چاہتے ہوں اس کو واجب جانتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں: ''پس اگر کوئی حزب ایسے عمل پر اقدام کرے جس کا اشارہ آیت میں ہوا ہے تو یہ عمل بقیہ مسلمانوں کے اس عمل کے انجام نہ دینے کے گناہ کو ختم کردے گا، اس کے انجام نہ دینے کا گناہ بقیہ لوگوں کی گردن سے اُٹھا لیا جائے گا۔ کیونکہ یہ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) واجب کفائی ہے اور شرعاً جائز نہیں ہے کہ دوسرے احزاب کی تشکیل میں کوئی مانع قرار پائے۔ اس لئے کہ یہ منع کرنا واجب کے مقابلہ میں قیام کرنے کے مترادف اور حرام ہے۔'' اس کے بعد وہ اضافہ کرتے ہیں:'' جیساکہ واجب کے قائم کے لئے حاکم کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسے قیام کی نسبت حاکم کی اجازت پر موقوف کردینا حرام ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کا اسلامی احزاب قائم کرنے کے لئے اسلامی حکومتوں کی اجازت ضروری نہیں ہے۔''اسی مقام پر ص۲۷۳اور ۲۷۴ پر رجوع کریں۔

ایک دوسرا مؤلف اس بارے میں اس طرح کہتا ہے: ''نقد اور اعتراض انھیں حقوق میں سے ایک حق ہے جس کو اسلام نے تمام اسلامی معاشرہ میں رہنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ لہٰذا اگر کچھ لوگ چا ہیں کہ لوگوں کو اپنے افکار و نظریات کی طرف دعوت دیں تو وہ لوگ اس کے ذریعہ احزاب اور کمیٹیاں بناسکتے ہیں۔''

نظام الحکم فی الاسلام کیص۹۲۔ مزید وضاحت کے لئے دیکھئے اخوان المسلمین و الجماعات الاسلامیّہ الحیاة السیاسیة المصریة، ۱۹۔ ۴۸؛ ۳۱۔ ۱۳۲پر، نیز معالم فی الطریق کیص۱۷۳، پررجوع کریں۔

(۱۶)پیامبر و فرعون، کے، ص۲۸۳۔ ۲۹۵پر رجوع کریں۔

(۱۷)جنوبی امریکہ میں انقلابی فکر کے بارے میں اور یہ کہ اس کی خصوصیات کس حدتک تیسری دنیا کے بہت سے خصوصاً اسلامی دنیا کے ممالک میں موجودہ انقلابی افکار کے خصوصیات سے کس قدر مختلف ہیں، اس کے لئے رجوع کیجئے فیدل و مذہب، کی طرف جو'' فری بتو ''کی تحریر اور خاص طورپر چگوارا کے ظریات اور خطابات کے مجموعہ کی طرف اس عنوان کے تحت Che Guevara and The Cuban Revolution اور اگر چگوارا کے بائیں بازو کے افکار کو جاننے کے لئے مثلاً ایران میں انھیں بائیں بازو کے افکار کا ہمزاد موجود تھا جو انقلاب کی کامیابی سے پہلے فدائیان خلق، کی راہ و روش اور ان کے نظریات کا حامل تھااس کتاب کا قیاس جدید نظریہ پردازوں کے بہت بڑے رئیس ''بیژن جزنی'' کی کتابوں کے ساتھ کیا جائے، زیادہ توضیح کے واسطے آپ رجوع کریں ایدئولوژی و انقلا ب کے ص۲۱۴، ۲۲۰اور ایران دیکتاتوری و پیشرفت (ایران آمریت اور ترقی) کے ص۳۷، ۲۴۲، کی طرف مراجعہ کیا جائے۔

Islam and the Search for Social Order in Modren Egypt

اسی طرح مصر کے معاشرہ کی فکری، سیاسی اور معاشرتی انقلاب کو بیسویں صدی کے نصف اول کے روشن فکروں میں سے ایک اہم ترین اور سب سے زیادہ اثر انداز محمد حسین ہیکل کی بایو گرافی کی روشنی میں ان کے بارے میں تحقیق کی جائے۔

(۱۸)نمونہ کے طورپر آن روزہا (وہ ایام) ترجمۂ حسین خدیوجم'' کی طرف رجوع کیا جائے۔

(۱۹)بطور نمونہ، طٰہٰ حسین کے نظریات کی طرف رجوع کریں جس کو انھوں نے اپنی جنجالی کتاب مستقبل الثقافة فی مصر(مصری ثقافت کا مستقبل) ۴۰ئ کی دہائی کے شروع میں تحریر کی ہے وہ اس کے ایک حصہ میں اس طرح تحریر کرتے ہیں: ''تحریک کا راستہ صاف ستھرا اور بالکل سیدھا ہے اور اس میں شک و شبہہ اور کسی بھی طرح کی کوئی کجی نہیں پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے یورپ والوں کی طرح اپنی زندگی ڈھال کر ان کی روش کو اختیار کریں اور ان کے راستہ پر چلنا چاہئے تاکہ جدید تمدن میں بالکل انھیں کی طرح ہوکر ان کے شریک ہوجائیں وہ چاہے اچھی ہوں یا بری خوشگوار ہوں یا تلخ چاہے وہ ان کی طرف سے ضروری ہوں یا ان کو برے لگتے ہوں، چاہے اس کی اچھائیاں ہوں یا خرابیاں۔ جو شخص اس کے علاوہ سوچے وہ یا تو فریب کار ہے اور یا فریب خوردہ (دھوکہ میں پڑا ہو) ہے'' مؤلفات فی المیزان، کے،ص۱۹ سے نقل کیا گیا ہے۔ اس سے ان کی تنقید اور اجمالی نظریات کی تحقیق کی جاسکتی ہے۔

E.Von Grunebaum. Islam, PP.۲۰۸-۱۶

(۲۰)المعالم الاسلامی و الاستعمار السیاسی و الاجتماعی و الثقافی، میں رجوع کریں خصوصاً اس کے ص۱۵۸۔ ۱۵۹پر رجوع کریں۔

(۲۱)محمد المبارک شام کا رہنے والا ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اپنے وطن شام کے بارے میں زندہ توصیف کو اپنی کتاب الفکر الاسلامی الحدیث فی مواجھة الافکار الغربی کے تفصیلی مقدمہ میں تحریر کرتا ہے۔ ایک ایسی تعریف و توصیف جو درد و رنج سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا درد و رنج جو اس کی تہذیب و ثقافت، زبان و ادب رسومات اور اس کے دینی مظاہر اور اس کی تہذیب و ثقافت پر حملہ (ہجوم) سے پیدا ہوا ہے۔ خصوصاً اسلام در جہان امروز، (اسلام اور عصر حاضر) ''مؤلفۂ کانٹ ول اسمتھ'' کی کتاب کے، ص۱۱۴۔ ۱۶۱ پر رجوع کیجئے، جو عربوں کے مذہبی احساسات کے مجروح ہونے کو بڑی ہی ہمدردی اور دلسوزی کے ساتھ بیان کرتا ہے اور اسی طرح سے نئے زمانہ میں مسلمانوں کے حالات کی تشریح کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے مطالعات کا بین الاقوامی جریدہ، شمارہ۴، ۱۹۸۱ئ۔

(۲۲)اس قسم کے چند نمونوں کو کتاب ناسیو نالیسم ترک و تمدن باختر، مؤلفٔ ضیاء کوک آلب،( جدید ترکی کے معنوی باپ) کی اس تصنیف میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کو سید حسین نصر اپنی کتاب علم و تمدن در اسلام، کی عالمانہ تمہید میں جو اس نظر و تفسیر پر ایک تنقید ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اسی طرح ایدئولوژی وانقلاب، کے ص۶۴۔ ۹۳ پر رجوع کریں۔

(۲۳)اس تاریخی حصہ میں مسلمانوں اور ان کے حالات اور فکری خصوصیات اور مسلمان روشن فکروں کی فکری خصوصیات معلوم کرنے کے لئے خصوصاً آپ اس تاریخی دور میں ملاحظہ کیجئے جہاں پر ضمنی طورپر ان کے نظریات پر تنقید بھی کی ہے۔ G. E. Von Grunebaum, Islam, ۱۹۴۹, PP.۱۸۵-۸۶

(۲۴)افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی ممالک کے مذہبی سماج کی طرف سے تہذیب نو کی طرف جھکاؤ کی بہ نسبت جوابدہی کے بارے میں اور اسی طرح ان کے نفسیات پر پڑنے والے اثرات کے محاذ سے بھی مسلمان جوانوں کے رجحانات کے بارے میں بہت ہی سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔ اس بارے میں ''ایدئولوژی و انقلاب' کے صفحات ۱۶۹۔ ۱۷۸پر رجوع کریں ؛ '' پیامبر و فرعون'' کے ص ۲۷۳اور ۲۹۵ پر رجوع کریں اس طرح ایک سعد الدین ابراہیم مشہور مصری معاشرہ شناس جس نے اکثر مصر کی معاشرتی اور اسلامی تحریکوں کے بارے میں کام کیا ہے اس کی تحقیقات کی طرف رجوع کیا جائے اس کے مقالہ کے خلاصہ کو اور خود مؤلف اور اس کی کارکردگیوں سے روشناس کرایا گیا ہے خصوصاً اس کا وہ مقالہ اس An Anatomy of Egypt Militant Islamic Groups .کے عنوان کے تحت مطالعات مشرق وسطیٰ، مطبوعہ ۱۹۸۱ئ کے بین الاقوامی جریدہ کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۲۵)ملاحظہ کریں معیشتی اور معاشرتی تبدیلیوں کی تاثیر کے بار ے میں تیسری دنیا کے جوانوں کی جدائی خواہی کی تحریک (اصالت خواہ ) کے بارے میں، ہند و پاکستان، نامی کتاب کے ص۱۴۱۔ ۱۹۱اور اسی طرح سعد الدین کی کتاب جو The New Arab Social Order .کے عنوان کے تحت ہے اس کی طرف رجوع کریں۔

(۲۶)بیشتر توضیح کے واسطے اس کتاب میں رجوع کریں۔

Islamic Future, The Shape of Ideas to Come, PP,۴۷-۵۹

(۲۷) ہند و پاکستان، کے ص۹۱، ۱۴۱،پررجوع کریں۔

(۲۸)یہ نکتہ اور اس سے وجود میں آنے والے عوارض کی طرف ہیملٹن گب اچھی طرح سے توضیح دے رہا ہے: Modren Trends In Islam, PP,۱۲۴-۱۲۷

(۲۹)نمونہ کے طورپر رجوع کریں: Inside the Iranian Revolution, PP,۳۹-۵۸ .،اور اسی طرح: ایدئولوژی و انقلاب، کے ص۱۵۰۔ ۱۸۴پر بھی رجوع کریں۔

(۳۰)مزید وضاحت کے لئے موج سوم، میں خصوصاً اس کے ص ۳۔ ۲۷۔ ۴۳۱۔ ۴۵۳۔ ۴۵۴۔ ۶۱۱۔

(۳۱) ( Idealogy ) مارکسیزم ایڈ یا لوجی کی بنیاد اور فکری عمارت کچھ اس طرح تھی کہ وہ اپنے ماننے والوں اور حاشیہ نشینوں کو ہر وہ شخص جو اس کامخالف ہے اور بنیادی طورپر اس کی افکار کے مخالف تھا ان کوطلب کرلیتا ان سے بیزاری سے پیش آنے کی دعوت دیتا۔ ان لوگوں کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے کہ جو لوگ ان کی فکر سے ہم آہنگ نہیں تھے ان کے خلاف بڑی ہی سختی اور شدت کے ساتھ پیش آیا گیا ہے، نمونہ کے طورپر ملاحظہ ہو کتاب درزیر زمینی خدا، کا واقعہ ملاحظہ ہو جس میں چینی اور روسی کمیونسٹوں کے ذریعہ ترکستان الشرقیہ، مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کا کس بے رحمی سے قلع قمع کیا گیا ہے اس داستان میں اس کی کیفت کو بیان کیا گیا ہے اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ سماچیان کے ساتھ قیام کے بارے میں خاص طور سے اس کے صفحات پر رجوع کیا جائے ، ۵۱، ۱۳۱،

جو چیز اس ملک کے استحکام اور اتحاد کی حفاظت کرتی تھی وہ عملی طورپر اس کے خلافمرکزی حکومت کا فولادی آہنین مشت موجود تھا حجری اور فولادی تہذیب اور عہد استالینی،ا ور جنگ جہانی دوم کے زمانہ والے اکتبر والے انقلاب کے زمانہ کی نسل ظلم ستیزی کے خلاف ارتباط پیدا کرتا اور زندہ قوموں کے آرمانی ثقافتوں کا ان کے ملتے جلتے اجزاء سے پیوند مارکسیسم کی نگاہ میں ایسی قوم جو مارکسیزم کو اس کے نزدیک لائی، صنعتی اور اقتصادی تغییرات اور انقلاب کا وجود میں نہ آنا اور اسی کے اتباع میں سیاسی اور فکری بدلاؤ جو عموماً ۷۰ئ کے آخری دہائی اور ۸۰ئ کی آخری دہائی میں وجود میں آیا اور آج یہ تمام تغییرات اور تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں نمونہ کے طورپر ملاحظہ ہو کتاب گفتگو با استالین, خاص طور سے اس کے ص۲۴۳، ۲۸۷ پر رجوع کریں۔

(۳۳)خصوصاً امپراطوری فروپاشیدہ، کے ص۲۴۷۔ ۲۹۵، پر رجوع کریں۔

(۳۴)فرانسوی مارکسیزم کے ص۳۰، ۴۹، پر رجوع کریں۔

(۳۵)طبقہ جدید، کے صفحات ۱۳۰، ۱۳۲، پر رجوع کریں۔

(۳۶)روسی مسلمان مبلغین کے ذریعہ اسلام اور مارکسیزم کے درمیان یکسانیت پیدا کرنا اور اس کے کم مدت اور طویل مدت میں حاصل ہونے والے نتائج، خاص طورپر'' امپراطوری فروپاشیدہ ''کے ص۲۶۱۔ ۲۷۸پرملاحظہ کریں۔

(۳۷)یہ مشکل تمام ان افکار سے متعلق ہے جو بعض دلیلوں کے سبب ان کے سمجھنے اور ان سے وابستگی کے علاوہ آگے بڑھ رہی ہے مارکسیزم بھی تیسری دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسی مشکلات سے روبرو رہی ہے۔توضیح کے لئے ملاحظہ ہو ''ایدئولوژی و انقلاب'' ص۲۱۵، ۲۱۶۔

(۳۸) Muhammedanism کے جیسی مختصر اور دقیق کتاب کی آخری فصل میں ملاحظہ کیجئے

ہیملٹن گب نے اپنی کتاب میں ایک زمانہ پہلے بڑی ہی دقت اور ہوشیاری کے ساتھ عصر حاضر میں اسلامی عقب نشینی کے ناممکن ہونے کے بارے میں بیان کیا ہے۔

(۳۹)اس تطبیق کا بہترین نمونہ Vatican Council ۲nd, PP,۹۰۳-۱۰۱۴ :

آپ کو یہ مل جائے گا کہ اسلام اور عیسائیت کا عکس العمل جدید تمدن کے مقابلہ میں اس کے اثر کو نئی تہذیب کے ماننے والوں پر بھی چھوڑا۔ اس بارے میں خصوصاً آپ روشن فکران عرب و غرب, کے ص۱۴، ۷ ۱،پر رجوع کریں۔

(۴۰)بلانٹ اپنی کتاب The Future of Islam, London, ۱۸۸۲ میں معتقد تھا کہ مستقبل لا مذہب مسلمانوں سے متعلق ہے یعنی سماج میں ان کا بول بالا ہوگا۔'' Islamic Futures,P,۲۵

(۴۱)موجودہ صدی میں مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ ترقی پسند اور نئی فکر کے حامل افراد پروٹسٹان کی تحریک سے قوت لیکربغیر اس توجہ کے قیام کردیا کہ انھیں کے جیسا کوئی اقدام کر یں اہمیت کا حامل مسئلہ یہ تھا کہ ان کے بعض افراد کا' لوٹر' کی طرح عوام بعض گروہ کی طرف سے تعارف کرایا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ لوگ بھی اسی کی طرح کامیابی حاصل کرلیں گے اور ہم نے یہ دیکھ لیا کہ ایسا نہ ہوگا۔ اس کا ایک بہترین نمونہ عبدالرزاق ہے اس کے باوجود کہ اس کی کتاب الاسلام و الاصول الحکم تقریباً پوری کتاب تاریخی اور علمی حقائق پر استوار ہے لیکن چونکہ اہل سنت کے بنیادی اصول کی مخالف تھی لہٰذا اپنے لئے راستہ نہ بناسکی۔ اس لئے کہ اس کے اصول ایسے نہیں تھے جو زمانہ کے ساتھ ساتھ پُرانے ہوجائیں اور وہ بھُلا دیئے جائیں۔

یہاں مناسب ہے کہ وہ چیز جو اس زمانہ کی معتبر اور معروف ترین نشریات میں سے یعنی المقتطف نامی جریدہ جو اس کتاب اور اس کے مؤلف کی شان میں تحریر کیا گیا ہے میں اُسے نقل کر رہا ہوں: ''اس کتاب نے جو غوغا اپنے مؤلف کے خلاف مچایا جو جامعہ ازہر کے علما میں سے ہیں اور شرعی عدالت کے قاضیوں میں سے ہیں، ان کے خلاف جنجال برپا کردیا اس نے ہم کو اس شور و ہنگامہ کی یاد دلادی جو عیسائیت میں دینی مصلح اور ان کے پیشوا لوٹر کے خلاف برپا کیا گیا تھا ۔وہ ایسا شخص تھا جس کے اقدام کا نتیجہ اور زیادہ تاثیر عیسائی ممالک کے دینی، ادبی اور مادی حلقوں میں تھاہماری نظروں میں جو کچھ عبد الرزاق نے تحریر کیا ہے وہی اثر پڑنے والا ہے جو لوٹر کی تحریر کی وجہ سے اثر پڑا ہے ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کچھ لوٹر اور اس کے ساتھیوں نے کہا اور کیا وہ پورا کا پورا درست تھا، اسی طرح اس وجہ سے بھی نہیں کہ ہم عبد الرزاق کے بارے میں اس بات کے قائل ہیں کہ عبد الرزاق اور ان کی طرح کے لوگوں نے جوکچھ کہا ہے، وہ سب کچھ صحیح اور اس میں خطا و لغزش کا گذر نہیں ہے، بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ بعض متفکرین کا شبہہ آمیز تنقیدی موقف بحث و تحقیق اور چھان بین تک پہونچا دیتا ہے اور پردوں کو چاک کرکے حقائق کو آشکار کر دیتا ہے۔ ہم ابھی تک نہیں بھولے ہیں کہ شیخ محمد عبدہ کے خلاف سب نے مل کر کیا کیا ہنگامہ کیا ،لیکن آ ہستہ آہستہ امو سلادھار بارش تھم گئی یہاں تک کہ انھیں (شیخ محمد عبدہ کو) امام کا لقب مل گیا ۔سب لوگوں نے ان کی اقتدا کی اور ان کے راستہ کو اپنا لیا۔ المقتطف اکتوبر ۱۹۲۵ئ کے شمارہ کے ص۳۳۲، پر محمد عمارہ کی کتاب الاسلام و اصول الحکم کے مقدمہ کے صفحہ ۲۴، سے نقل کیاگیا ہے۔

Johnsen,"International"Islam The Economist,۳,jan,۱۹۸۰

ماخوذ از Asaf Hussain, Islamic Movemeuts: P.۱۲th

(۴۳)ان حقائق کو بہت سے انگریزوں نے اگرچہ وہ دشمنی اور کینہ سے بھرے انداز اختیار کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ Islamic Futures, PP.۴۳-۴۴

Ibid. PP.۲۷-۳۵ اور اسی طرح The Dagger of Islam, PP.۴-۹: ۶۹-۸۲

کہ اس درمیان مؤلف نے مغرب پرست عیسائیوں اور عربی دنیا میں دنیا پرست مسلمانوں کے فرق کو جدید تمدن سے ملنے پر واضح کیا ہے اس کے واسطے رجوع کریں The Dagger of Isran, p. ۲۷-۳۵

(۴۴) عیسائیت کا تمدن کے ساتھ روبرو ہونے اور یہ کہ آج کل کے انسانوں کے واسطے کیا پیغام رکھتا ہے اور کیا پیغام رکھ سکتا ہے اس کے بارے میں آپ رجوع کیجئے آج کے عیسائیوں کے بزرگ علما میں سے ایک بزرگ عالم کی طرف جس نے مندرجہ ذیل عنوان پر لکھا ہے۔

On Being a Christian, PP.۲۵-۵۱:۸۹-۱۱۲: ۵۵۴-۶۰۱

(۴۵)اس بارے میں بہترین نمونہ سید قطب الدین کی کتاب معالم فی الطریق ہے۔ اس کتاب کے ابتدائی اور اہم مقاصد میں سے ایک مقصد ان لوگوں کی جرئت مندانہ اور پوری قدرت کے ساتھ آخری رد ہے جو مؤلف کی تعبیر کے مطابق شکست خوردہ اور سست عناصرہیں (المہزومون روحیاًو عقلیاً)اور ان کی کوشش یہ ہے کہ آج کل کی جدت پسندی اور چٹک بھڑک کو اسلام میں نمایاں کردیں اور اسلام کی شجاعت اور بہادری کی روح کو بالکل سے ختم کردیں۔ اگرچہ یہ کتاب ایک ایسے تیز گام گروہ کے دستورالعمل کے عنوان سے جن لوگوں نے اسلامی معاشرہ کی تاسیس کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے ان کے واسطے لکھی گئی ہے ملاحظہ ہو اس کے ص۵۰، ۵۱ ،کی طرف۔ لیکن گویا اس کی اصلی ذمہ داری تمام ان لوگوں کی واقعی اور ہمہ جانبہ مخالفت کا قد علم کرنا ہے جو اسلامی تہذیب اور اس کی حقیقت کواہمیت نہیں دیتے ہیں۔ الفکر الاسلامی الحدیث وصلتہ بالافکار الغربی نامی کتا ب کی چوتھی طباعت کے مقدمہ کی طرف بھی رجوع کریں اس کا مؤلف صریحاً کہتا ہے:'' ایسے مشرق پسند لوگوں کی کوششوں کا خطرہ جو ہمیشہ مسلمانوں کو نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے دین کو معتدل کریں اس طرح کہ وہ جدید تمدن کے ساتھ سازگار ہوجائے، مسلماً مارکس کے نظریہ کے تحت چلنے والے نظام کے خطرہ سے کم نہیں ہے'' قابل ذکر بات یہ ہے کہ مؤلف نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جب مارکسیزم نے اپنا ڈیرہ تمام جگہ ڈال دیا تھا۔ زیادہ انقلابی اور جاندار نمونوں کو معلوم کرنے کے لئے مصر و شام کی اخوان المسلمین کمیٹی کے الدعوة و النذیر نامی جریدہ کے مختلف شماروں کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۴۶)یہاں پر لازم ہے کہ اگرچہ اہم نقطہ کو اجمالاً تحریک اسلامی کے آئندہ روابط کے بارے میں یاددہانی کرادوں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس بارے میں سنجیدگی اور حق گوئی کے طورپر حقیقت کو بہت کم بیان کیا گیاہے اور یہ اس تحریک کی کمزوریوں میں سے ایک بہت بڑی کمزوری ہے بہرحال کوشش کریں گے کہ ہم چند اہم نکات کو بیان کریں۔

موجودہ اسلامی تحریک کی بنیادی مشکلات میں سے ایک مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی تمام مشکلات کا حل صرف ایمان اور ایثار کی روشنی میں تلاش کرناچاہتی ہے عصر حاضر کی زندگی کی اہم ضروریات کو تقریباً نظر انداز کردیتی ہے اور ان ضرورتوں کو مغربی تہذیب و تمدن سے بہت کم جدا کرتی ہے۔ مغربی تمدن بلکہ بہتر ہے کہ تمدن جدید کا نام دیں ،کیونکہ اب یہ تمدن فقط مغرب سے متعلق نہیں ہے، اب یہ تمدن عالمی تمدن ہوگیا ہے اور اس انقلاب میں سبھی لوگوں کا کردار اور حصہ ہے، یہ مسئلہ کا ایک رخ ہے اور آج کی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لوازم ایک دوسرا مسئلہ ہے۔ دنیا میں عقیدہ کاحامل کوئی بھی مسلمان بلکہ کوئی بھی مومن اور موحد کلی طورپر اس تمدن اور تہذیب کی کاملاً طرفداری نہیں کرسکتا۔ یہ چیز بہت واضح اور روشن ہے اس میں کسی قسم کی بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ آج کی دینا میں زندگی بھی چند اصول و ضوابط کی پابندی کی محتاج ہے ان اصول کی طرف توجہ دیئے بغیر زندگی نہیں کی جاسکتی یا کم از کم باعزت اور مستقل طورپر زندگی گذارنا بس دشوار کام ہے۔ پابندی اور غورو فکراور پیہم کوشش کرتے رہنا اپنی ذمہ داری کو جاننا نظم اور قانون مندی، کام کی طرف رغبت، انتظام سنبھالنا، قانون کی فرمابرداری اور قانون شکنی کے لئے عذر نہ تراشنا۔ ذمہ داری کو قبول کرنا اور غیر ذمہ دارانہ مداخلت سے پرہیز کرنا اور اپنی ہی حدتک محدود رہنا اور اپنی قدرت اور وسعت سے زیادہ توقع نہ رکھنا، نعاشرتی طورپر اپنے آپ کو ہم آہنگ کرکے اس کا تعاون کرنا اور آخرکار علم و عقل کی بنیاد پر فکر کرنا اور محاسبہ کے اعتبار سے پختہ ارادہ ہے اور تصمیم کرنا۔ البتہ اس مقام پر جہاں پر علم و عقل اور محاسبہ کو مداخلت کرنی چاہئے وہ مقامات انھیں لوازم میں سے ہیں۔ اگر گذشتہ زمانہ میں ان چیزوں کی طرف توجہ کئے بغیر معاشرہ کا ادارہ کرنا ممکن بھی ہوتا ہے، لیکن آج کل (علم و عقل کے بغیر) بالکل ممکن نہیں ہے۔ اور تعجب کا مقام یہ ہے کہ اسلام نے بھی ان تمام چیزوں کے بارے میں صریحی اور تاکیدی حکم دیا ہے،لیکن ان آخری صدیوں میں مسلمان لوگ اس طرح زندگی بسر کرتے رہے ہیں کہ دوسری ہر ملت و امت سے بہت کم ان چیزوں کے پابند رہے ہیں۔ ان چیزوں پر پابندی نہ کرنے کی بہت سے تاریخی، معاشرتی، اخلاقی، تربیتی اور نفسیاتی اسباب تھے کہ ہمیں ان کو اچھی طرح غور و فکر کرکے پہچان لینا چاہئے۔

اہم ترین دلیلوں میں سے ایک دلیل مسلمانوں کا اسلام کے بارے میں عمیق ذاتی اور فردی نظریہ رکھنا ہے۔ ماضی میں ایک اچھا شخص وہ سمجھا جاتا تھا ،جو عبادی احکام کو بجالانے کے علاوہ مثال کے طورپر اہل خیرات بھی ہو۔ مسجد، مدرسہ، پانی کے ذخیرہ انتظام اور پُل اور اس کے ایسی چیزیں بناکر لوگوں کے لئے وقف کردینا تھا۔ موجودہ دور میں لوگوں کی دین فہمی معاشرتی اور انقلابی میلان کے زیراثر قرار پاگئی ہے، اس زمانہ میں اچھا شخص اُسے کہا جاتا ہے جو مثال کے طورپر بے دینوں، مفسدوں اور جباروں سے زیادہ مقابلوں کے مختلف میدانوں میں بہترین استقامت کے جوہر دکھائے۔ بیشک یہ تمام چیزیں حقیقی ایمان کی علامتیں ہیں۔ لیکن مشکل اس مقام پر ہے کہ اس طرح کی علامتوں کے علاوہ، دینی ایمان کے دوسرے مظاہر کی طرف اساسی اعتبار سے یکسر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ ان کی نظر میں کسی شخص کے اچھے ہونے کا یہ معیار نہیں ہے کہ مثال کے طورپر وہ اچھے طریقہ سے غور و خوض اور حوصلہ کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشغول ہوجائے اور یا لگاتار کام میں لگے رہ کر امانت داری کے ساتھ کام کو آخر تک پہنچائے یا لوگوں کے ساتھ مل کر ان کا تعاون کرے جو آج کی صنعتی اور تکنیکی زندگی کا لازمہ ہے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ خلوص کے ساتھ کام میں مشغول ہوجائے کسی بات کو اچھے طریقے سے کان دھرکے سُنے اور مختلف بہانوں کے ذریعہ کام سے جی نہ چرائے اور وہ امور جو اس سے متعلق نہیں ہیں ان میں مداخلت نہ کرے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے مفاہیم اور مطالب ہمارے درمیان جانے پہچانے نہیں ہیں، دین اور دینی ذمہ داری سے کوئی رابطہ نہیں ہے یہاں تک کہ یہ بھی کہنا چاہئے کہ اس قسم کے مسائل نہ فقط پہچانے ہوئے نہیں ہیں بلکہ عملی طورپر ان کے مخالف ہیں جو حاکمیت رکھتا ہے اور اس کو اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ نمونہ کے طورپر اگر ''چالاکی'' کے مفہوم کو ہمارے عرف کے درمیان بیان کیا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کے مصادیق کون لوگ ہیں تو بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ کسی حدتک ذہن و فکر و روح پر حاکم مفاہیم ہیں چاہے فردی یا ذاتی ہوں یا معاشرتی ہوں، جو آج کی دنیا میں ضروریات زندگی سے تضاد اور اختلاف رکھتے ہیں، اس سے بدتر یہ ہے کہ اس قسم کے مفاہیم نے دین میں اپنی جگہ بنالی ہے اور ایسے بہت کم لوگ ہیں جو ان کو دین، ایمان اور اخلاص کے خلاف گردانتے اور جانتے ہیں۔ جب تک یہ مشکل کم سے کم اطمینان بخش انداز پر حل نہ ہوگی، معاشرہ ترقی کے زینوں کو طے نہیں کرسکتا۔ جیساکہ اس کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے کہ یہ مشکل صرف ہماری مشکل نہیں ہے بلکہ کم و بیش تمام اسلامی معاشروں اور عصر حاضر کی اسلامی تحریک کے لئے یہ مشکل ہے۔ ہماری مشکلات کا حل فقط خود جوش پیدا ہونے والی فداکاری میں نہیں ہے ان معنی میں ایثار اور فداکاری جو آج کل رائج ہیں اس سے ہماری مشکل حل نہ ہوگی۔ اور بیشک یہ شرط لازم و ضروری ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ یہ ایثار اور فداکاری ان اصول و اقدار کے ساتھ ہونا چاہئے جو اس تاریخی دور میں زندگی کے لئے ضروری ہے اور ان اصول و اقدار کا آپسی ارتباط ضروری ہے، اس میں اس طرح رابطہ ہونا چاہئے کہ ہماری اور اس امت اسلامی کی سرفرازی اسی رابطہ کی مرہون منت ہے۔ یہ پیوند اس طرح ہونا چاہئے کہ نہ دینی بنیادوں کو کوئی نقصان پہونچیاور نہ ہی یہ مفاہیم اتنے زیادہ پست ہوجائیں کہ ہر قانون شکن، فریضہ ناشناس، بے نظم، آرام طلب، لاپراوہ اور جہالت اور ہر طرح کی بات کو کسی نہ کسی اعتبار سے ان کی توجیہ کرے یا ان کو قانونی اور جائز قرار دے۔ اسلامی دنیا کے اس وسیع دائرہ میں قدرے تسامح کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسلامی ممالک جو ایران کے مشرقی سمت میں واقع ہیں، وہ اس مشکل سے کم تر روبرو ہوئے ہیں اور جتنابھی مشرق کی طرف بڑھتے جائیں، یہ مشکل کم ہوتی جاتی ہے۔ ترکی اور اصولی طورپر ترک زبان لوگ چاہے وہ ایران میں ہوں یا بیرون ایران، مختلف اسباب کی وجہ سے ایرانیوں سے کم اس مشکل سے روبرو ہوئے ہیں۔ عربی دنیا میں یہ مشکل ایران ہی کی طرح سنجیدہ، پیچیدہ اور عمیق ہے اگرچہ ان ممالک میں سے ہر ایک ملک میں گذشتہ حالات کے اعتبار سے قوی اتحاد کا استحکام، استعماری تجربہ اور موجودہ حکومت کی نوعیت کے اعتبار سے، اس مشکل میں شدت و ضعف پایا جاتا ہے۔ اس کی بیشتر وضاحت کے لئے آپ '' افریقہ میراث گذشتہ و موقعیت آئندہ'' کے ص۸۱۔ ۸۶،پر رجوع کریں اور اسی طرح دو کتاب ضیاء الدین سردار کی ہیںجو دنیائے اسلام کے معاشرتی، معیشتی اور ثقافتی مسائل کے معروف ماہر ہیں، وہ کتابیں اس عنوان کے تحت ہیں:

The Future of Muslim Civilization, Islamic Futures ,

(۴۷)گذشتہ زمانہ کے بعض علما اور اسی طرح عصر حاضر کے صاحبان قلم اس فرق کی طرف عالمانہ طورپرتوجہ کر رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے علما میں سے آپ رجوع کریںکتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل کے مصنف ابن حزم،ج، ع، ص۹۴۔ ان کے بیان کا کچھ حصہ اس طرح ہے: ''یہ صحیح نہیں ہے کہ، آپ اپنی روایتوں کے ذریعہ ان( شیعوں) کے خلاف دلیل پیش کریں۔ کیونکہ وہ لوگ ہماری روایات کو قبول نہیں کرتے ہیں اور اسی طرح وہ لوگ بھی اپنی روایتوں کے ذریعہ ہمارے اوپر احتجاج نہیں کرسکتے کیونکہ ہم ان کی روایات کو صحیح نہیں جانتے یہ ضروری ہے کہ مباحثہ کے دونوں فریق ایسی چیز کے ذریعہ استدلال کریں (احتجاج کریں) جو ایک دوسرے کو قابل قبول ہو چاہے اس سے دلیل پیش کرنے والا خود اس کا قائل ہو یا قائل نہ ہو...''

اور دور جدید کے صاحبان قلم یعنی متأخرین کی طرف آپ رجوع کرنا چاہیں تو معالم الخلافة فی الفکر السیاسی الاسلامی کے ص۱۳۱۔ ۱۳۸اور کتاب الفکر السیاسی الشیعی کے ص۱۱۶۔ ۱۸۰، پر رجوع کریں ۔