اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات0%

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف: محمد مسجد جامعی
زمرہ جات:

مشاہدے: 3374
ڈاؤنلوڈ: 113

تبصرے:

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 28 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3374 / ڈاؤنلوڈ: 113
سائز سائز سائز
اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

اہل تسنن اور تشیع کے سیاسی نظریات

مؤلف:
اردو

دوسری فصل کے حوالے

(۱)واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ خود پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی خاص طور سے قریش (عرب کا مشہور و معروف خاندان) کے نزدیک بہت زیادہ محترم و مقدس نہ تھی آپ کے ساتھ جو ان کا برتاؤ اور رویہ تھا اس کے مجموعہ سے یہ بات حاصل ہوتی ہے، حتیٰ وہ لوگ عام مسلمانوں کے برابر بھی پیغمبر اکرم کی بہ نسبت عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان و منزلت کو تصور سے بھی کم جانتے تھے جس پر اس زمانہ کے تمام مسلمانوں کا اتفاق تھا۔ مندرجہ ذیل داستان اس کا بہترین نمونہ ہے۔

عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں: ''جو کچھ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنتا تھا اس کو لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اس کے ذریعہ میں اسے محفوظ کرلوں، خاندان قریش نے مجھے اس چیز سے روکا اور کہا:'' ہر وہ چیز جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنتے ہو اسے کیوں لکھتے ہو؟ حالانکہ وہ ایک ایسا انسان ہے جو کبھی غصہ میں آکر اور کبھی رضا و رغبت کے ساتھ بات کرتا ہے۔ پھر میں نے اس کے بعد کچھ نہیں لکھا اور اس بات کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کردیا۔ حضرت نے انگلی سے اپنے دہن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھو! خدا کی قسم جو بھی چیز اس سے خارج ہوتی ہے وہ حق کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتی ہے۔'' مسند احمد، ج۳، ص۱۶۲ دوسرا نمونہ وہی شخص ہے( ذو الخویصرہ) جس نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتراض کیا کہ عدالت کی رعایت کیوں نہیں کی۔ ملل و نحل، ج۱، ص۱۱۶ یہ دو نمونے اور دوسرے بہت سے نمونے اس حقیقت کی حکایت کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں مسلمانوں کے عقاید کی کیفیت، خاص طورپر خاندان قریش نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتنا بلند مرتبہ دے دیا کہ خود اس بات کی توقع رکھنے لگے یعنی کہنے لگے کہ یہ لوگ صحابہ ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ نزدیک ہیں حق تو یہ تھا کہ ان کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہ نسبت بھی ایسا ہی عقیدہ رکھنا چاہئے۔ ان کے واسطے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عملی طورپر کون کون سے عقائد موجود تھے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود قریش نے بعد والے زمانوں میں مسلمانوں کی نظر میں بالا ترین قدرو منزلت کو حاصل کرلیا۔ اس لئے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ لوگ اپنے زعم ناقص میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت زیادہ نزدیک اور ان کے بہت ہی وفادار اصحاب میں سے تھے، اقتضاء الصراط المستقیم کے ص۱۵۰۔ ۱۵۵اور اسی طرح کنز العمال، کی ج۳، ص۲۴۔ ۲۶، پر بھی رجوع کریں۔

(۲)تقریباً تاریخ اسلام کی تمام کتابیں جو زمانۂ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واقعات و حوادث کو شامل ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد کے واقعات، ابوبکر کے انتخاب کی کیفیت کی داستان اور وہ بحثیں جو اس کے ضمن میں آئی ہیں، کم و بیش بغیر کسی اختلاف اور فرق کے نقل کرتی ہیں اور یہ بات اس کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ داستان صحیح ہے نمونہ کے طورپر الامامة و السیاسة کی ج۱، ص۲۔ ۱۷، پر رجوع کریں۔

(۳)اسلام اس نئے معاشرہ کا بانی تھا جس کے دینی اور دنیاوی مقدسات ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ اس امر کو کہ یہ دین جاہلیت کی رسم و رواج اور اس کی میراث کی طرف توجہ دیتے ہوئے کس طرح وجود میں آیا اور اس میں تبدیلی پیدا کرکے برقرار رہا احمد امین نے فجر الاسلام، کے ص۹۶۔ ۹۷، میں اس کی بخوبی وضاحت کردی ہے اور اسی طرح العقیدة والشریعة فی الاسلام، کے ص۹۔ ۴۲، پر بھی رجوع کریں۔

Shorter Encyclopaedia of Islam, PP.۳۵۰-۵۱۰

(۴)الاسلام و اصول الحکم ص۱۷۵۔ ۱۷۶، مزید وضاحت کے لئے آپ اسی کتاب کے ص۱۷۱۔ ۱۸۲پررجوع کریں۔

(۵) چھوٹے سے ایک گروہ نے ابوبکر کی خلافت کو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت کی اوسے جاناہے ۔حسن بصری، محب الدین الطبری اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس گروہ سے متعلق ہیں۔ معالم الخلافة فی الفکر السیاسی الاسلامیص۱۳۳، ابن حزم ایک مفصل اور طاقت فرسا بحث کے ضمن میں اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ثابت کریں کہ ابوبکر کی خلافت حضرت کے واضح بیان کے سبب اور آپ سے منصوص تھی، الفصل ج۴، ص۱۰۷۔ ۱۱۱، اس نظریہ پر تنقید و تبصرہ الاسلام و اصول الحکم کے ص۱۷۲۔ ۱۷۳، پر موجود ہے اور اس پر اس سے بھی زیادہ علمی تنقید النظم الاسلامیة کے ص ۸۴۔۸۵، پر رجوع کریں۔

اس مقام پر قابل توجہ یہ ہے کہ ابن جُزّی جو غرناطہ کے آٹھویں صدی کے معروف علما میں سے ہیں، ابوبکراور عمر کی بھی خلافت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت کے قائل ہیں۔ اس کی کتاب القوانین الفقہیة کے ص۱۷، پر رجوع کریں۔

(۶)ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے میں انصار کی مخالفت کے بارے میں الامامة والسیاسة کے ص۵۔ ۱۰اور اسی طرح ابوبکر اور عمر کی طرف سے انصار کو دیئے گئے جوابات کو ص۶اور ۷ رجوع کریں۔

(۷)ابوبکر کو خلیفہ کے امیدوار کے طورپر نام پیش کرتے وقت ابوسفیان نے اس طرح کہا: ''اے عبدمناف کے بیٹو! کیاتم اس بات پر راضی ہوجاؤ گے کہ قبیلۂ بنی تمیم کا ایک شخص تم پر حکومت کرے؟ خدا کی قسم مدینہ کو گھوڑوں اور جنگجو افراد سے بھر دوں گا۔'' مواقف کے ص۴۰۱ رجوع کریں۔

(۸)بنی ہاشم کی مخالفت کے بارے میں الامامة و السیاسة''کے ص۴۔ ۱۰اور اسی طرح ص۱۳۔ ۱۶، پر بھی رجوع کریں۔

حضرت علیـ کے اقوال جسے آپ نے بعد میں مقابلہ نہ کرنے کی علت اور سبب کے طور پربیان کیا ہے، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت کے موافق بہت زیادہ اور ابوبکر کے مخالفین کی بھی تعداد بہت زیادہ تھی۔ نمونہ کے طورپر آنحضرت کے خطبہ کو الغارات کے ج۱، ص۳۰۲پراور اسی طرح کشف المحجةمیں سید ابن طاؤس نے ان کے کلام کو نقل کیا ہے اس کی طرف رجوع کریں۔

(۹)بہت سے لوگ جن پر مرتد ہونے کا الزام تھا اور ''اہل ردہ'' سے مشہور تھے حقیقت میں وہ لوگ مرتد نہیں تھے۔ وہ لوگ ابوبکر کے سیاسی مخالف اور حریف تھے نہ یہ کہ انھوں نے اسلام کا انکار کیا ہو۔ اس بارے میں خاص طورپر آپ رجوع کریں الاسلام و اصول الحکم کے ص۱۷۷۔ ۱۸۰پر اور اسی طرح النص و الاجتہاد کے ص۱۳۶۔ ۱۵۰ پر رجوع کریں۔ فجر الاسلام ص۸۰۔ ۸۱، پر رجوع کریں۔ جو لوگ تمام ارتداد کے ملزموں کو مرتد واقعی جانتے ہیں ان کے نظریات اور تحلیل و تجزیہ کی کیفیت کو معلوم کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ ابوبکر کے سرسخت مدافع ہیں، اس کے لئے رجوع کریں، البدعة: تحدیدہا و موقف الاسلام منہاص۳۲ اور ۳۳، مولف عزت علی عطیہ، اس داستان کے مصادر کو تفصیل سے نقل کرتے ہیں۔

(۱۰)نمونہ کے واسطے، ابوبکر کے منتخب ہونے کے مخالفین و موافقین کی دلیلوں کو الامامة و السیاسة کے ص۴۔ ۱۶، پر ملا حظہ کریں۔

(۱۱)اس بات پر دلیلیں قائم کرنا کہ خلافت اور امامت کی اپنی ایک حیثیت ہے جو صرف علی ابن ابی طالب کے لئے زیب دے سکتی ہے، نہ فقط آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ، بلکہ بعد میں دوسرے ائمہ ہُدیٰ (ع) کے ذریعہ ایک دوسرے طریقہ سے بھی بیان کی گئی ہے۔ نمونہ کے واسطے امام حسنـ کا معاویہ کے نام خط کو نظریة الامامة عند الشیعة الامامیة کے ص۳۱۸۔ ۳۱۹ پر آپ رجوع کریں ان شرائط کے بارے میں جو امام کے اندر ہونے چاہئے، اس کے لئے شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدیدکی ج۸، ص۲۶۳پر رجوع کریں۔

(۱۲)آنحضرت کے کامل بیان کو الامامة و السیاسة''کی ج۱، ص۱۲، پر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں پر قابل توجہ یہ ہے کہ حضرت کے بیان کے تمام ہوجانے کے بعد بشیر ابن سعد نے جوسعد ابن عباد کے بڑے حریف تھے انھوں نے کہا: ''اگر ابوبکر کی بیعت سے پہلے آپ کا کلام انصار نے سُن لیا ہوتا تو ان میں سے کوئی بھی آپ کی بیعت کی مخالفت نہ کرتا اور نہ ہی کوئی توقف اور اختلاف کرتا۔''بشیر قبیلۂ اوس کا سردار تھا اور بیعت کے بارے میں اس کی مدد اس بات کا سبب بنی کی کہ عمر اپنی خلافت کے آخری زمانہ تک بنی خزرج سے زیادہ بنی اوس کو حصہ دے ۔اس کے لئے محمد مہدی شمس الدین کی کتاب ثورة الحسین کے ص۱۶، پر رجوع کریں۔

(۱۳)بنی ہاشم نے علیـ کا دامن پکڑ لیا تھا اور زبیر بھی انھیں لوگوں کے ساتھ تھا اور بنی امیہ عثمان کے طرفدار تھے اور بنی زہرہ بھی سعد اور عبدالرحمن کے طرفدار تھے...'' آپ الامامة و السیاسة کے ص۱۰۔ ۱۱، پر رجوع کریں۔

(۱۴)طبری ج۳، ص۱۹۷ پر رجوع کریں ۔

(۱۵)ابن قتیبہ نے حضرت علیـ سے بیعت لینے کی داستان کو اس طرح نقل کیا ہے:'' حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دوبارہ سے بیعت لینے کے لئے لوگوں کو بھیجنے کے بعد عمر ایک جماعت کے ہمراہ حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کو ابوبکر کے نزدیک لے گئے، آپ سے کہا گیا: بیعت کرو۔ آپ نے فرمایا: اگر میں بیعت نہ کروں گا تو کیا ہوگا؟ تو ان لوگوں نے کہا: خدا کی قسم تمہاری گردن مار دیں گے تو آپ نے فرمایا: ایسی صورت میں تم نے خدا کے ایک بندہ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی کو قتل کردیا۔ عمر نے کہا: ہاں بندہ خدا ضرور لیکن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی کو نہیں۔ ابوبکر کے سرپر طائر بیٹھے ہوئے تھے یعنی وہ خاموش تھے۔ عمر نے چاہا کہ وہ حضرت سے بیعت لے لے تو اس (ابوبکر) نے جواب میں اس طرح کہا: ''جب تک فاطمہ اس کے ساتھ ہیں ، اس کو کسی چیز کے لئے مجبور نہیں کروں گا۔ الامامة و السیاسة کی ج۱، ص۱۳ پر رجوع کریں۔ ابن قتیبہ اس کو تفصیل کے ساتھ نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں:'' علی، کرم اللہ وجہہ نے، رحلت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے وقت تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔'' نفس حوالۂ سابق، ص۱۴اور اسی طرح ریاحین الشریعةکی ج۲، ص۳۔ ۴۱، پر بھی رجوع فرمائیں۔

(۱۶)سب سے زیادہ اہمیت کا حامل بلکہ فقط ایک دلیل جو اس زمانہ میں قائم کی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ خاندان قریش کے علاوہ دوسرے عربوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اس کے لئے آپ الامامة و السیاسة کے ص۶۔ ۸ پر رجوع کریں۔

بعد میں عمر نے اپنے آخری حج کے سفر کی واپسی کے وقت مدینہ میں ایک خطبہ میں بیان کیا، ابوبکر کو مسند خلافت پر بٹھانے کی داستان اور ان دنوں کے حوادث اور واقعات کو تفصیل سے بیان کیا۔ مسند احمد ابن حنبلکی ج۱، ص۵۵۔ ۵۶، پر رجوع کریں۔

(۱۷)یمامہ میں بارہ سو(۱۲۰۰) مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ان میں سے ۲۳ افراد خاندان قریش سے اور ۷۰ افراد انصار میں سے تھے التنبیہ و الاشراف کے ص۲۴۸ پر رجوع کریں۔

(۱۸)جنگ یمامہ کے بعد عمر کا بھائی زید بھی اس جنگ میں قتل ہوگیا، عمر نے ابوبکر سے اس طرح کہا: ''بہت سے قاریان قرآن جنگ یمامہ میں قتل ہوگئے ڈرتا ہوں کہ دوسری جنگوں میں تمام قاری حضرات قتل کردیئے جائیں اور قرآن کا بہت ساحصہ ضائع ہوجائے۔ اس طرح سوچتا ہوں کہ قرآن کو جمع کرلیا جائے...'' اس کے لئے العواصم من القواصم کے ص۶۷ پر رجوع کریں۔

حاشیہ میں مختلف مآخذاور مختلف نقل موجود ہیں ان کو ملاحظہ کریں۔

(۱۹) ان مرتدوں کے بارے میں جنھوں نے اسلام سے منھ موڑ لیا تھا اور مدینہ کو قطعی دھمکیوں کی چپیٹ میں لاکر کھڑا کردیا تھا۔ بحث کو منقح اور تفصیلی طور پر مطالعہ کرنے کے لئے مویر کی کتاب کی طرف رجوع کریں۔ اور اسی طرح التنبیہ' الاشرافکے ص۲۴۷ ۔ ۲۵۰پر بھی رجوع کریں۔ MuirTheCalighate PP.۱۱-۴۱۰

(۲۰) جس چیز نیمسلمانوں کو مشغول کر رکھا تھا وہ دائمی جنگیں تھیں۔ اس لئے کہ وہ لوگ اس زمانہ میں روم اور ایران کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے۔ الملل و النحل کی ج۱، ص۱۸ پر رجوع کریں۔

(۲۱)کنزالعمال ج۵، ص۶۵۸، نیز العواصم من القواصم کے ص۴۵، اسی صفحہ کے حاشیہ میں اس واقعہ کے بہت سے مآخذ اور مختلف نقلوں کی طرف ملاحظہ کریں۔

(۲۲)حقیقت یہ ہے کہ عمر کی جانشینی میںبہت زیادہ کشمکش اور کھینچا تانی تھی۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں:'' جب ابوبکر مریض تھے ، اسی مرض میںوہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، کچھ صحابہ اس کی عیادت کے لئے آئے۔ عبدالرحمن ابن عوف نے اس کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اے خلیفۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیسے امید وار ہوں کہ تم شفا و سلامتی پالو، ابوبکر نے کہا: کیا تم ایسا سوچتے ہو؟ کہا: ہاں ابو بکر نے کہا: خدا کی قسم میری حالت بہت خراب ہے اور شدید درد ہے۔ لیکن جو کچھ تم مہاجرین کی طرف سے دیکھتا ہوں میرے لئے اس سے بھی کہیںزیادہ دردناک ہے۔ تمہارے امور کو جو میرے نزدیک بہترین شخص ہے میں نے اس کے ذمہ کردیا ہے لیکن تم غرور و تکبر اور بغاوت پر اتر آؤگے اور اس کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہو گے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ دنیا نے تمہاری طرف رخ کرلیا ہے...'' الامامة و السیاسة ج۱، ص۱۸؛ شرح ابن ابی الحدید ج۲۰، ص۲۳؛ ملل و نحل ج۱، ص۲۵۔

ابن ابی الحدید طلحہ کی صریح مخالفت کو بھی نقل کرتا ہے: ''جس وقت ابوبکر نے عمر کو انتخاب کیا، طلحہ نے کہا: خدا وند عالم کو کیا جواب دوگے اگر وہ بندوں سے پوچھے کہ کیوں سخت اور سنگدل شخص کو لوگوں کا حاکم بنادیا ہے۔ ابوبکر نے کہا: مجھے اٹھا کے بیٹھا دو! مجھ کو خدا سے ڈراتے ہو۔ اگر وہ مجھ سے پوچھے گا تو جواب میں کہہ دوں گا: تیرے بندوں میں سے بہترین مرد کو لوگوں کا امیر بنایا ہے اس کے بعد اس (طلحہ) کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔'' (نفس حوالئہ سابق کے ص۲۴، پر رجوع کریں)

ان روایات کی بناپر جن کا تذکرہ کنزالعمال نے اس باب میں کیا ہے۔ طلحہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس انتخاب پر معترض تھے۔ ایک روایت کے مطابق جس کو اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ایک صحابی نقل کرتا ہے کہ عبدالرحمن ابن عوف اور عثمان، ابوبکر کی مجلس میں وارد ہوئے اور تنہائی میں اس سے کچھ خاص باتیں کر تے ہیں۔ اسی وقت کچھ لوگ اس کے پاس آتے ہیں اورعمر کے انتخاب پر اس کی خشونت کی بناپر اعتراض کرتے ہیں۔ کنزالعمال ج۵، ص۶۷۵ ایک دوسری روایت نقل کے مطابق جس وقت ابوبکر کی وصیت، عمر کی خلافت کے لئے لکھی گئی اس وقت طلحہ ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ میں ان لوگوں کی طرف سے گفتگو کرنے آیا ہوں جو تیرے انتخاب پر معترض ہیں۔ عمر کو جو ایک بداخلاق، تندخو اور سخت گیر انسان ہے ایسے شخص کو خلافت کے لئے کیوں انتخاب کیا ہے؟ نفس ماخذ سابق ص۶۷۸۔

خود عمر اپنے انتخاب کے بعد منبر پر گئے اور اس طرح کہنا شروع کردیا: ''خدا یا! میں ایک سنگدل انسان ہوں مجھ کو نرم بنادے، میں ایک ضعیف انسان ہوں مجھے قدرت عنایت کر، میں بخیل ہوں مجھے سخاوت عطاکر۔''نفس ماخذ سابق ص،۶۸۵، پر ان کا خطبہ اس کی تائید کرتا ہے کہ واقعاً ایسے اعتراضات کا بازار گرم تھا اور حتیٰ ان پر یہ اعتراض کی فضا عمومی تھی۔

البتہ اس کے علاوہ اور دوسرے اسباب بھی دخیل ہیں ۔ابن ابی الحدید کہتے ہیں:'' ابوبکر نے اپنے مرض الموت میں صحابہ کو خطاب کرکے اس طرح کہا: ''جس وقت میں نے اپنے نزدیک تم میں سے بہترین کو چُنا، تم سب نے اپنی سانس کو سینے کے اندر حبس کرلیا چاہا کہ یہ امر اسی کے پاس رہنے دوں یہ سب اس لئے ہے کہ تم نے دیکھا کہ دنیا نے تمہاری طرف رخ کرلیا ہے۔ خدا کی قسم حریر و دیبا کے پردوں اور ریشمی مسندوں کو اپنے لئے حاصل کرلو گے۔ شرح ابن ابی الحدید ج۲، ص۲۴

(۲۳)عمر ابوبکر کے بالکل برخلاف اپنے آپ کوایک طرح کی قانون سازی کی صلاحیت کے مالک سمجھتے تھے۔ لیکن جیساکہ ان کی رفتار و گفتار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کو مسلمانوں کے حاکم ہونے اور اپنی ذاتی حیثیت کے اعتبار سے جانتے تھے نہ کہ اپنی ذاتی اور دینی مقام و منزلت کے سبب۔ خود ان کے فرزند عبداللہ روایت کرتے ہیں ایک روز' جابیہ' ایک مقام جو بیت المقدس نے نزدیک واقع ہے اس مقام پر مسلمانوں کو خطاب کرکے اس طرح کہا: ''اے لوگو! میں تمہارے درمیان وہی حیثیت رکھتا ہوں جیسی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے درمیان مقام و منزلت کے حامل تھے۔'' سنن ترمذی ج۴، ص۴۶۵۔

انہوں نے بعد میں اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ واقعا اپنے لئے اس شان کی حکومت کے قائل ہیں۔ اس سلسلہ میں اس کے بہت سارے اقدامات جن کے ذریعہ ایسی شان و شوکت اُبھر کر سامنے آئی اس کے لئے آپ رجوع کریں النص و الاجتہاد کے ص۱۴۸۔ ۳۸۳، پر اس کے بعد کے دور کے فقہا اور متکلمین میں اسی حیثیت اور مقام و منزلت کی بنیاد پر جس کے عمر اور دوسرے خلفا اپنے واسطے قائل تھے ، نیز دوسری دلیلوں کے تحت بھی، جنھوں نے حکومتی احکام کی تفسیر و تدوین کی ہے۔ اس بارے میں آپ الاحکام فی تمیز الفتاویٰ عن الاحکام مؤلفٔ ابن ادیس قرافی کے ص۳۹۰۔ ۳۹۶، پر رجوع کریں۔ خصائص التشریع الاسلامی فی السیاسة و الحکمص۳۱۰۔ ۳۱۹؛ الاعتصام مؤلفۂ شاطبی کی، ج۲، ص۱۲۱۔ ۱۲۲ پر رجوع کریں۔

(۲۴)نمونہ کے واسطے جس وقت عمر نے حضرت علیـ سے ابوبکر کی بیعت لینے کے لئے آنحضرت کے اوپر دباؤ ڈالا، حضرت نے فرمایا:'' اس کودوہ لے کہ کچھ حصہ تجھے بھی نصیب ہوجائے گا۔ تو اس کی امارت اور حکومت کو آج مستحکم کرد ے تا کہ کل تیرے ہی پاس پلٹ کر آنے والی ہے۔ الامامة و السیاسة ج۱، ص۱۱۔ عمر نے اپنا جانشین بناتے وقت کہا: اگر ابوعبیدہ جراح زندہ ہوتے تویہ عہدہ ان کو دیتا۔ نفس حوالئہ سابق ص۲۳، یہاں پر دلچسپ چیز یہ ہے کہ تمام دنیا سے اُٹھ جانے والے لوگوں میں صرف ابوعبید جراح پہلے انسان تھے کہ عمر نے ان کو یاد کرکے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ کیوں زندہ نہیں ہیں۔

(۲۵)من اصول الفکر السیاسی الاسلامی کے ص۳۴۷ پر رجوع کریں۔

(۲۶)یہ بات خلیفہ دوم کی ذاتی اور اخلاقی خصوصیات کا ملاحظہ کرتے ہوئے اور اسی طرح پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ اور تھوڑا سا قبل و بعد کے زمانہ کے اعراب ا ور ان کی تربیتی اور نفسیاتی خصوصیات پر توجہ کر نے سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے بطور نمونہ آپ، کنزالعمال کی ج۵، ص۶۸۷۔ ۶۷۴پر رجوع کریں اسی طرح کتاب عمر ابن خطاب مولف عبدا لکریم الخطیب کے، ص۵۲۔ ۴۲۔ ۳۷۱۔ ۴۴۰اور اسی طرح ان کی وصیت، اپنے بعد والے خلیفہ کے لئے ان کے روحانی اور نفسیاتی افکار اور قلبی جھکاؤ اور روحی اور نفسیاتی حساسیت کی حکایت کرتی ہے۔ آپ اس کے لئے البیان و التبیین کی ج۲، ص۴۷۔ ۴۸ پر رجوع کریں۔

(۲۷)عبداللہ ابن عمر اس زمانہ کے سخت اور خوف ناک حالات کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں:'' پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جیسے ہی اپنی آنکھیں بند کیں، مدینہ نفاق سے بھر گیا اور اعراب مرتد ہوگئے۔ عجمی بھی وجد میں آکر خیالی پلاؤ پکانے لگے اور طرح طرح کے نقشے بناکر کہنے لگے وہ انسان جس کے سایہ میں اعراب نے قدرت حاصل کی تھی وہ اس دنیا سے اُٹھ چکا ہے ۔اس کے بعد ابوبکر نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا: اعراب نے اونٹ ، بھیڑ اور بکری دینے سے انکار کردیا ہے اور دین سے پلٹ گئے اور عجمی لوگ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے سبب تمہارے اوپر حملہ کرنے کا سودا سر میں پالے ہوئے ہیں۔ پس اپنی رائے کو اس بارے میں بیان کرو میں تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں البتہ اس موقع پر میری ذمہ داری زیادہ سنگین ہے۔'' کنزالعمال ج۵، ص۶۶۰۔

(۲۸)وہ روایات جو مسلمانوں کے خوف کو ظاہر کرتی ہیں، یہاں تک کہ عمر کی خلافت کے زمانہ میں ایران سے جنگ ہے وہ بہت زیادہ ہیں۔ ایسا مشہور ہے کہ عمر اس اقدام سے وحشت زدہ تھے اور یہی سبب تھا کہ اس نے چند بار ارادہ کیا تاکہ وہ خود محاذ جنگ پر جائیں ۔یہاں تک کہ حضرت علیـ اپنے ایک مختصر اور پُرمعنی بیان کے ضمن میں ان کے ڈر کو ان کے دل سے نکال دیا اور فی الحال ان کو محاذ جنگ پر جانے سے روکا۔ آپ کے کلام کا ایک حصہ اس طرح سے ہے: ''...اس دین کی کامیابی اور شکست شروع ہی سے کمی اور زیادتی پر نہیں رہی ہے۔ یہ ایک ایسا دین ہے کہ خداوندعالم نے اس کو فاتح بنایا اور اس کے سپاہیوں کو قدرت بخشی اور اس کی مدد فرمائی۔ اور نوبت آہستہ آہستہ یہاں تک آپہنچی... نہج البلاغة خطبہ۱۶۴۔

(۲۹)ایران و روم سے جنگوں میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کی مقدار کو معلوم کرنے کے واسطے اخبار طوال میں رجوع کریں، اسی طرح الکامل فی التاریخکی ج۲، ص۳۸۔ ۶۸، پر رجوع کریں۔

امین اس کتاب سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: ''مسلمانوں نے جنگ جولاء میں بہت زیادہ مال غنیمت اپنے اختیار میں لے لیا جو تمام دوسری جنگوں سے بہت زیادہ تھا اورکثیر تعداد میں عورتیں قیدی ہو کر آئیں نقل کیا جاتا ہے کہ عمر ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے ''خدایا! جنگ جولاء کے اسیر وں کے بچوں کے بارے میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں۔'' فجر الاسلام ص۹۵؛ ملل و نحل ج۱، ص۲۵۔ ۲۶۔ دوسرے مقام پر نافع عمر سے اس طرح روایت کرتے ہیں: ''جس وقت قادسیہ کی فتح کی خبر لائی گئی تو عمر نے کہا :کہ میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں زندہ رہوں اور ان سے تمہاری اولادوں کو دیکھوں۔ لوگوں نے کہا ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟اس نے کہا: اس صورت میں تمہاری رائے کیا ہے کہ ایک شخص میں حیلہ عربی اور عجمی تیز ہوشی جمع ہوجائے؟ ''کنزالعمالکی ج۵، ص۷۰۲ پر رجوع کریں۔

(۳۰)گولڈزیہر ( Goldziher )نے اس نئے تجربہ کو جو کثیر مال کے جمع کرنے سے حاصل ہوا، جنگوں کی وجہ سے حاصل ہوا تھا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی جاتی ہے کہ مال و دولت کے اکٹھا کرنے کی پیشین گوئی فرما دی تھی۔ (کتاب الجہاد، صحیح بخاری،حدیث۳۶،) بخوبی اس کی توضیح دیتی ہے العقیدة و الشریعة فی الا اسلام ص۳۴۰۔ طٰہ حسین نے خلافت کی عمر کے ختم ہوجانے کا سبب دوسری طرح بیان کرتے ہیں جس طرح شیخین کے زمانہ میں موجود تھاویسے بیان کرتے ہیں الاسلامیات ص۶۶۲۔

(۳۱)من اصول الفکر السیاسی الاسلامی ص۳۵۰۔

(۳۲)سیرۂ ابن ہشام ج۴، ص۳۳۷۔ ۳۳۸۔ اور اسی طرحمسند احمد ابن حنبل ج۱، ص ۵۵۔ ۵۶۔

(۳۳)عمر کی وصیت ، اس کی کیفیت اور شرائط کے لئے الاسلامیة و السیاسیة ج۱، ص۲۳۔ ۲۵ پر رجوع کریں۔ عمر اپنی جانشینی کے معین کرنے کے سلسلہ میں متعدد مشکلات اور موانع سے روبرو تھے، اس مقام پر مناسب ہے کہ اس بارے میں علی الوردی کی نظر کو نقل کریں۔ البتہ اس لحاظ سے کہ وہ شیعہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر عمر نے علیـ کو خلافت کے لئے معین نہیں کیا تو صرف خاندان قریش کی مخالفت سے ڈرتا تھا یہاں پر مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس کا نظریہ درست ہے یا نہیں اہم اس زمانہ کے خصوصیات اور حالات کی نشاند ہی ہے: ''بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عمر اپنے بعد خلیفہ معین کرسکتا تھا اور لوگ بھی اس کوعمر سے مان لیتے اور اس کے امیدوار کے آگے سرتسلیم خم کردیتے۔ یہ ایک سرسری اور سطحی نظر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس زمانہ میں پس پردہ کیا گذر رہی تھی۔ اگر عمر حضرت علی ـ کو اپنا جانشین انتخاب کرلیتے تو قطعی طورپر قریش یہ افواہیں اڑاتے جو خود آنحضرت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے۔ کیونکہ ان کو آپ سے سخت دشمنی تھی۔'' اس کے بعد اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید اضافہ کرتا ہے: ''بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عمر حیران تھے اور اس بات کی طرف مائل تھے کہ خلافت کو علیـ کے سپرد کردیں لیکن وہ دیکھ رہے تھے کہ قریش ان کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے...'' وعاظ السلاطین ص۱۹۹۔ ۲۰۱۔

(۳۴)خلیفہ دوم کی ممتاز اور منحصر بہ فرد موقعیت کے باوجود یہ کہ بعد والے زمانوں میں لگاتار کوشش کی جارہی تھی تاکہ سبھی لوگ ا ن کے طریقۂ کار کا اتباع کریں، لیکن کسی نے بھی ان کے جانشین کی تعیین میں ان کی روش کا اتباع نہیں کیا اور اہل سنت کے متکلمین نے بھی باوجود اس کے کہ بعد میں بننے والے خلیفہ کی تمام انواع و اقسام کا ذکر پہلے سے ہی کردیا ہے جس کو خلیفہ سابق معین کرتا تھا اس کو بیان کردیا ہے لیکن اس روش کا نام بھی نہیںلیا ہے۔ الاحکام السلطانیہ ص۶۔ ۱۱۔

(۳۵)کنزالعمال ج۵، ص۷۴۴۔ ۷۴۵۔

(۳۶)الفکر السیاسی الشیعی ص۲۴۸، ماخوذ از الفلسفة السیاسیة الاسلام مصنفہ ابوالعطائ، ص۳۱۔ ۳۲۔

(۳۷)کتاب الزہد احمد ابن حنبل، ج۲، ص۳۹۔ ۴۳؛ اور تاریخ الخلفاء کے ص۱۴۷۔ ۱۵۳ پر بھیرجوع کریں اور خصوصاً محب الدین خطیب کے العواصم من القواصم کے ص۵۳۔ ۵۵۔ ان احادیث کے بارے میں جو عثمان کے فضائل کے بارے بیان کی گئی ہیںان پر جامع اور منصفانہ تنقید کی ہے۔ اس مطلب کو آپ کتاب الغدیر کی ج۹، ص۲۶۵۔ ۲۶۱، پر ملا حظہ کریں۔

(۳۸)مقدمہ ابن خلدونترجمہ محمد پروین گنابادی، ج۱، ص۳۹۰۔ ۳۹۳۔ اس تفصیل کو جس چیز کو ابن خلدون نے مسعودی سے نقل کرتے ہیں اس کو مروج الذہب نامی کتاب کی ج۲، ص۳۴۱۔ ۳۴۲،پر ملاحظہ فرمائیں۔

(۳۹)ملل و نحل ج۱، ص۲۶، عثمان کے گورنروں کی لاپرواہی اور فسق و فجور کے سلسلہ میں آپ رجوع کریں فجر الاسلام کے ص۷۹۔ ۸۱ پر، شہرستانی کے کلام کا وہ حصہ جو عثمان پر ہونے والی اہم تنقیدوں کو شامل ہے خواہ وہ تنقیدیں عثمان کی حیات میں ہوں یا مرنے کے بعد، اپنے اعتراضات کو ثابت کیا ہے؛ ابن عربی کے جوابات مع تفسیر و توجیہ جس کو انہوں نے العوصم من القواصمنامی کتاب کے ص۱۲۲۔ ۶۳پر بیان کیا ہے آپ اس سے مقایسہ کریں۔ خاص طور سے اسی مقام پر محب الدین خطیب کے شدید اللحن حاشیوں کو ملاحظہ کریں۔

(۴۰)ان میں سے ایک نمونہ ولید ابن عتبہ کا ہے جو حاکم کوفہ تھا وہ اپنے ندیموں اور گانے والیوں کے ساتھ رات سے صبح تک شراب پی پی کر اپنی محفل جمائے رہتا تھا ۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ مستی کی حالت میں صبح کی نماز چہار رکعت پڑھادی سجدہ کے عالم میں شراب کا مطالبہ کیا اور مسلمانوں کے اعتراضات کے جواب میں کہا: تم لوگ اگر چاہو تو اور زیادہ پڑھادوں۔ کوفیوں کا عثمان پر اعتراض کرنے کی داستان اور اس پر اس کے ردعمل اور حضرت علی ـ کا اس (ولید) پر حد جاری کرنا ان باتوں کو مروج الذہبنامی کتاب کی ج۲، ص۳۴۴۔ ۳۴۵، پر تلاش کیجئے۔ ابن تیمیہ کے کلام سے مقایسہ کیجئے جہاں عثمان پر اعتراض کرنے والوں کی متعصبانہ اور تکلیف دہ انداز میں اعتراض کی رد کی ہے۔ اس لئے کہ اس نے اپنے فاسق اور لاابالی نزدیک لوگ کو امارت بخشی تھی اس کو بیان کرتا ہے۔ منہاج السنة النبویة کی ج۳، ص۱۷۳۔ ۱۷۶، پر ملاحظہ کیجئے۔

(۴۱)عثمان پر مسلمانوں کے اعتراضات، ان کو محاصر ہ کرنے، اس کے بعد ان کے قتل کئے جانے، ان پر نماز میت پڑھنے اور دفن کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ تاریخ الخلفاء کے ص۱۵۷۔ ۱۶۴ پر ملاحظہ کریں؛ الامامة و السیاسةکی ج۱، ص۳۲۔ ۴۵ پراور ایسے ہی مروج الذہب کی ج۲، ص۳۴۵۔ ۳۵۷، پر تلاش کرسکتے ہیں۔اس مقام پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابن ابی الحدید کہتا ہے عائشہ کا عثمان پر اعتراض اس قدر شدیداور کفن پھاڑ تھا کہ آج کل کوئی اس بات کی جرأت بھی نہیں کرسکتا کہ اس کو کوئی اس طرح کہے جس طرح عائشہ نے عثمان کے بارے میں کہا ہے اور ان کو اتنی ساری نسبتوں سے منسوب کیا ہے۔ شرح ابن ابی الحدید کی ج۲، ص۱۱ پر رجوع کریں۔

(۴۲)عثمان کی فضیلت کے بارے میں معاویہ نے وسیع پیمانے پر جعل حدیث کے اقدامت کئے ہیں اس کے بارے میں آپ، شرح ابن ابی الحدید کی ج۱۱، ص۱۵۔ ۱۶پر رجوع کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی جس کے ذریعہ اموی خاندان کے لوگ اس سے متمسک ہو کر اس بات کی کوشش کررہے تھے کہ اپنی حقانیت اور مشروعیت کو ثابت کرلیں یہ وہ بات تھی جس کی وجہ سے وہ لوگ عثمان کے شرعی و قانونی وارث بن بیٹھے۔ اس بارے میں اموی دربارکے مداحوں اور شعرا نے دادسخن دی ہے۔ لیکن یہ سکہ کا ایک رخ تھا۔ اس کا دوسرا رخ عثمان کی تقدیس اور اس کی حقانیت اور مظلومیت کی تبلیغ تھی۔ جس قدر اس (عثمان) کی شان و منزلت اور حیثیت بڑھتی جا رہی تھی اس کے جانشینوں اور وارثوں کا بھی مرتبہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جیساکہ اس کے برعکس بھی صحیح تھا۔ یعنی اگر عثمان کی منزلت میں شک و تردید کی جاتی تو یہ تردید بنی امیہ کی حیثیت پر بھی اثرانداز ہوتی۔ یہ اہم ترین سبب تھا کہ ایک ایسے انسان کے چہرہ کو تقدس بخشا جارہاتھا جو اپنے زمانۂ خلافت میں لوگوں کی نظر میں تمام کمالات و فضائل اور شخصیت و محبوبیت سے عاری تھے۔ مزید توضیح کے لئے آپ الامویون والخلافة کے ص۱۲۔ ۱۷،پر رجوع کریں۔

ایسی بحثیں جو بعد میں عثمان کی شان اور ان کا خلفائے راشدین سے مقایسہ چاہے متکلمین کے درمیان اور چاہے اہل حدیث کے درمیان ہوں زور پکڑگئیں: اس کے بارے میں آپ شرح ابن ابی الحدیدکی ج۱، ص۶۔ ۱۰،پر رجوع کریں؛ نیز المواقف کے ص۴۰۷۔ ۴۱۳، پر بھی رجوع کریں؛ مذہبی روشن فکروں کی تنقید کے بارے میں اور اسی طرح وہ لوگ جو انقلابی رجحان رکھتے ہیں ان کی تنقیدوں کے بارے میں ''اندیشۂ سیاسی در اسلام معاصر کے ص۱۵۰، پر رجوع کریں۔

(۴۳)محب الدین خطیب کے حاشیوں پر جس کو انھوں نے کتاب العواصم من القواصم کے ص۶۳۔ ۶۵، پر درج کیا ہے اس کی طرف رجوع کریں۔

(۴۴)تاریخ الخلفاء ص۱۶۵۔

(۴۵)الاسلام و اصول الحکم ص۱۸۱۔

(۴۶)یہ معروف جملہ ہے جس کو مختلف مناسب مواقع پر عمر سے نقل کیا گیا ہے۔ اس کے لئے آپ تحریر الاعتقاد کے ص۲۴۵، پر رجوع کریں؛ اور شرح ابن ابی الحدید کی ج۲، ص۲۶پر رجوع کریں۔

(۴۷)''... جن لوگوں نے علیـ کی بیعت کی تو ان کی بیعت کرنے کا اصلی سبب یہ تھا کہ آپ کو مسلمانوں کے درمیان مقام خلافت کے لئے سب سے بہتر پاتے تھے جیساکہ گذشتہ زمانہ کے مسلمان ابوبکر کو مقام خلافت کے لئے سب سے بہتر سمجھتے تھے، اسی لئے اس کا انتخاب بھی کرلیا اور یکے بعد دیگرے عمر اور عثمان کو منتخب کرتے رہے (۲۲۰) اسلام بلا مذاہب ص۱۱۰۔

(۴۸)ان توقعات کے نمونوں میں سے ایک نمونہ ابوموسیٰ اشعری کی تجویز ہے جس کو آپ مروج الذہبکی ج۲، ص۴۰۹، پر ملاحظہ کریں۔

(۴۹)طلحہ و زبیر کا جنگ جمل سے پہلے امام جماعت اور لشکر کی قیادت کے سلسلہ میں اختلاف اس کے لئے آپ ''نقش عائشہ در تاریخ اسلام'' کی ج۲، ص۴۸۔ ۶۵پر رجوع کریں۔

(۵۰)طلحہ کا جنگ جمل کے دوران مروان کے ہاتھوں قتل کئے جانے اور اس کے مدارک میں تنقیدی چھان بین کے بارے میں آپ اسی کتاب کے ص۱۷۳۔ ۷۵ ۱پر رجوع کریں، نیز العواصم من القواصم فی الذب عن سنةابی القاسم کے ص۲۴۰۔ ۲۴۱،پر اور خاص طورپر اسی طرح آپ محب الدین خطیب کے شدید تکلیف دہ جواب کے لئے ان کے حاشیوں میں رجوع کریں۔

(۵۱)اس کے باوجود کہ سعد ابن ابی وقاص کے ایسا انسان علیـ کے ساتھ نہ تھا لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ آپ سے مقابلہ کرے، وہ اس جملہ کو اپنی زبان پر لاتے ہوئے کہ'' میں جنگ نہیں کروں گا کہ مجھے تلوار دو اور وہ میرے بارے میں یہ سوچیں اور دیکھیں اور یہ کہیں کہ یہ راہ راست اور دوسرا خطا پر ہے۔'' حضرت علیـ کی مددسے انکار کردیا الفتنة الکبریکےٰ ص۵پر، لیکن اس کے باوجود امامـ کی تعریف میں یہ کہا: ''پس پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو باتیں علی ـ کے بارے میں میں نے سنی ہیں اگر میرے سر پر آرہ رکھ کر ان کو برا بھلا کہنے کے لئے کہیں کہ ان کو برا بھلا کہوں تب بھی میں ان کو برا بھلا نہیں کہوں گا۔'' کنز العمال اس روایت کو مختلف نقلوں اور سندوں کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ ج۱۳، ص۱۶۲۔ ۱۶۳۔

(۵۲) الخلافة و الامامة عبد الکریم الخطیب' ص۱۲۱۔

(۵۳) مقدمہ ابن خلدون' ج۱، ص۲۹۸۔

(۵۴)شرح ابن ابی الحدید' ج۲۰، ص۸۔

(۵۵) اس خود پسندانہ تفسیر اور اس من چاہی اور ناجائز توقعات کے بہترین نمونہ کو علیـ سے طلحہ و زبیر کے مجادلات میں دیکھا جاسکتا ہے اس کے لئے آپ''نقش عائشہ در تاریخ اسلام'' کے ص۳۵۔ ۴۱، پر رجوع کریں۔

(۵۶)بیشک حضرت علیـ اپنی خلافت کے وقت جن مخالفتوں سے روبرو ہوئے اس کے چند اصلی اسباب تھے ان میں سے ایک سبب خاندان قریش کا آپ سے قدیمی کینہ تھا۔ امام نے بارہا مختلف مواقع پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور قریش والوں کی شکایت کی۔ ایک بار آپ نے فرمایا: ''تمام وہ کینہ جو قریش نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے اپنے دل میں رکھتے تھے مجھ پر ظاہر کردیا اور بعد میں میری اولاد سے بھی اس کینہ کا اظہار کریں گے۔ مجھ کو قریش سے کیا سروکار! خدا اور اس کے رسول کا حکم تھا جس کے باعث میں ان (قریش) سے لڑا۔ کیا خدا و رسول کی اطاعت کرنے والے کی جزا یہی ہے، اگر یہ لوگ مسلمان ہیں۔'' الشیعة و الحاکمون ص۱۷۔

قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس نکتہ کی تہہ تک پہونچ گئے تھے۔ ایک دن عمر نے عباس سے اس طرح کہا:'' اگر ابوبکر کی رائے اپنے مرنے کے بعد کے خلیفہ کے بارے میں نہ ہوتی تو بیشک و شبہہ یہ قدرت تمہارے پاس پہونچ جاتی اوراگر ایسا ہوجاتا تو اپنی قوم سے تمہیں چین کا سانس لینا نصیب نہ ہوتا۔ وہ تم کو اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح ذبح ہونے والی گائے قصاب کو دیکھتی ہے۔'' ایک دوسرے مقام پر ایک جلیل القدر صحابی ابن التیہان نے حضرت علیـ سے کہا: ''قریش کا حسد آپ کی بہ نسبت دو طرح کا ہے۔ ان میں کے اچھے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ہی کی طرح ہوجائیں اور آپ ہی کی طرح معنوی اور روحانی حیثیت بڑھانے میں آپ سے رقابت کریں لیکن ان میں کے جو برے لوگ ہیں وہ آپ سے اس قدر حسد کرتے ہیں جو دل کو سخت بنادیتا ہے اور عمل کو نابود کرنے والا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ آپ کن نعمتوں سے مالا مال ہیں جو آپ کی خوشنودی اور ان کی محرومی کا باعث ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کے برابر ہوجائیں اور آپ سے آگے نکل جائیںکہ وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرپاتے ہیں اور ان کی کوشش بے نتیجہ ہوجاتی ہے چونکہ وہ کامیاب نہیں ہوتے ہیں لہٰذا وہ آپ سے مقابلہ کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا کی قسم آپ تمام قریش سے زیادہ ان کے نزدیک قدردانی کے مستحق ہیں۔ کیونکہ آپ نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ان کے حق کو ادا فرمایا۔ خدا کی قسم ان کی سرکشی میں صرف انھیں کا نقصان ہے۔ انھوں نے اس کے ذریعہ خدا کے عہد کو توڑ دیا اور اس (خدا وند عالم) کا ہاتھ تمام ہاتھوں سے برتر ہے۔ لیکن ہم انصار کے ہاتھ اور زبانیں آپ کے ساتھ ہیں...'' الفکر السیاسی الشیعی کے ص۲۰۴۔ ۲۰۶،پر رجوع کریں ؛خاص طورپر آپ زیاد ابن الغم شعبانی کے نظریات میں رجوع کریں (متوفی۱۵۶) اور اسی طرح شعبی نے بھی اسی باب میں محب الدین خطیب العواصم من القواصم نامی کتاب کے حاشیہ کے ص۱۶۸۔ ۱۶۹، سے نقل کیا ہے۔ واقعیت یہ ہے کہ قریش کی مخالفت صرف حضرت علیـ تک محدود نہ تھی یہ خود پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی شامل تھی کہ اس کے نمونے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عمر کے آخری حصہ میں باربار دیکھے جاسکتے ہیں۔ شیخ مفید، امام صادقـ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس میں کا کچھ حصہ اس طرح ہے: ''پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبر ملی کہ قریش کے بعض لوگوں نے اس طرح کہا ہے: کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کس طرح قدرت کو اپنے اہل بیت کے لئے مستحکم اور استوار بنادیا ہے ان کی وفات کے بعد اس قدرت کو ہم ان (اہل بیت) سے دوبارہ لے لیں گے اور اسے دوسری جگہ پرمقرر کردیں گے...'' امالی، ص۱۲۳۔ قریش کے طعنہ دینے کے باب میں اور ان میں سے سرفہرست ابوسفیان تھاجو بنی ہاشم کو حتیٰ زمان پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بھی طعنہ دیا کرتا تھا اس کے لئے عبداللہ بن عمر کی روایت کو اقتضاء الصراط المستقیم، نامی کتاب مصنفہ ابن تیمیہ کے ص۱۵۵ سے ماخوذ ہے اس پر ملاحظہ فرمائیں اور ایسے ہی ابوسفیان کے کلام کی طرف بھی جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرت حمزہ کی قبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا قاموس الرجال، نامی کتاب کی ج۱۰، ص۸۹، پر رجوع فرمائیں۔

(۵۷)اس زمانہ کے رائج دین کی تبعیت میں ڈاکٹر طہ حسین صاحب کے اقتصادی بدلائو کے بارے میں تحلیل و تجزیہ کو الفتنة الکبریٰ، نامی کتاب میں رجوع کریں۔

(۵۸)نمونہ کے واسطے ابوحمزہ کے خطبہ البیان والتبیین، کی ج۲، ص۱۰۰۔ ۱۰۳، پر رجوع کریںاور یہ کہ پہلے والے دو خلیفہ اور حضرت علی تعارف کس طرح سے کرایا گیا۔

(۵۹)نظریة الامامة لدی الشیعة الاثنا عشر، نامی کتاب کے، ص۲۸۰ پر، ان تنقیدوں کے خلاصہ کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔

(۶۰)معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں اور اس کی اتباع میں پہلے زمانہ کی دینی، سیاسی اور فکری تبدیلیاں اس قدر گہری اور تیز تھیں کہ معاویہ کے جیسے بلا کے سیاسی انسان کو بھی عاجز وناتواں بنادیا۔ اس نے اپنے مرض الموت کے خطبہ میں اپنی ناتوانی اور عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا: ''اے لوگو! ہم بہت ہی سخت اور گیرودار اور فتنہ سے بھرے ہوئے زمانے میں واقع ہوئے ہیں۔ ایسا زمانہ جس میں ایک صالح انسان گنہگار شمار کیا جاتا ہے اور ظالم اپنی سرکشی میں اور اضافہ کردیتا ہے...'' عیون الاخبار، ج۲، ص۲۵۹۔

(۶۱)حقیقت تو یہ ہے کہ عائشہ بہت زیادہ مصمم نہیں تھیں اور حتیٰ کہ حضرت علیـ سے جنگ کرنے کے لئے مائل نہیں تھیں چند بار ارادہ کیا میدان جنگ میں نہ جائیں زیادہ تر عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجہ تھے، حضرت عائشہ کو ان کے قطعی ارادہ سے روک دیا۔ اس کے لئے آپ نقش عائشہ در تاریخ اسلام، نامی کتاب کی ج۲، ص۵۱۔ ۵۲ کی طرف رجوع کریں۔

(۶۲)عائشہ جنگ جمل کے بعد اپنے کئے پر سخت پشیمان ہوئیں اور انھوں نے اسے مختلف طرح سے اظہار اور بیان کیا۔ ان میں سے ایک معاویہ کے ذریعہ حجر بن عدی کی شہادت کے بعداس طرح کہا: ''میں یہ چاہتی ہوں حجر کے خون کے بدلہ لینے کے لئے قیام کروں (اس کا بدلہ لوں) لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں جنگ جمل کی تکرار نہ ہوجائے: الفکر السیا سی الشیعی، ص۲۹۱۔

(۶۳)زبیر کا محاذ جنگ چھوڑ کر چلے جانے کا بڑی ہی باریکی سے جائزہ لینے کے لئے عائشہ در تاریخ اسلام، نامی کتاب کی ج۲، ص۱۶۰۔ ۱۷۰ پر ملاحظہ کیجئے۔

(۶۴)بطور نمونہ الامامة والسیاسة، نامی کتاب کے ص۱۷۷، ۱۸۹،۱۹۱ پر رجوع کریں۔

(۶۵)حقیقت یہ ہے کہ انصار کی حضرت علی بن ابی طالب کی حمایت اور معاویہ اور امویوں کی مخالفت کے بہت سے دلائل اور وجوہات موجود ہیں۔ سب سے زیادہ مخالفت یہ تھی کہ ان لوگوں کو اپنی موافقت کے لئے کھینچ لیا اور یہ سبب مستقل برقرار رہا۔ یہی وجہ تھی کہ معاویہ نے مختلف مواقع پر ان لوگوں کو اس بات کا طعنہ دیا اور یزید اور تمام امویوں نے بھی ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ان کے قتل عام کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ محمود صبحی، مسعودی کے قول سے اس طرح حکایت کرتا ہے: ''جس وقت امام حسنـ نے معاویہ سے صلح، قیس بن سعد نے معاویہ سے جنگ کرنے پر اصرار کیا اور اپنے افراد کو اختیار دیا کہ یا تو امام حسنـ کی طرح صلح پر قائم رہیں یا پھر بغیر امام کی اجازت کے جنگ کو جاری رکھیں۔'' اس کے بعد وہ خود اضافہ کرتا ہے: ہاں اس نے اچھے طریقے سے امویوں کو انصار پر امویوں کی حکومت کے مفہوم کو جان لیا تھا۔ نظریة الامامة لدیٰ الشیعة الاثنا عشریة، ص۴۴۔ایک دوسری جگہ قیس بن سعد ایک خط (نامہ) کے ضمن میں جو نعمان بن بشیر کو لکھا تھا کہ وہ خود انصار میں سے تھے لیکن خاندان اور قبیلہ کے درمیان اختلاف کی بنا پر انصار سے جدا ہوکر معاویہ سے مل گیا تھا، اس طرح لکھا: ''اگر تمام عرب معاویہ کی حمایت میں جمع ہوجائیں، تب بھی انصار اس سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے انصار اور امویوں کی گہری جڑیں رکھنے والی مخالفت کے بارے میں آپ، الامامة و السیاسة،کی ج۱، ص۱۷۷۔ ۲۲۰۔ پر رجوع کریں اور اسی طرح معاویہ اور انصار کے درمیان رقابت کے بارے میں بھی البیان و التبیین، کی جلد۱، ص۱۲۹ پر رجوع کریں۔

(۶۶)اس داستان کو عموماً کتب تاریخ واحادیث نقل کرتی ہیں۔ اس کے لئے آپ ، حاشیہ ملل ونحل، ج۱، ص۱۱۶ پر رجوع کریں۔ یہاں پر مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس کو ابن تیمیہ جیسا شخص بھی السیاسة الشرعیہ، کے ص۴۶ پر نقل کرتا ہے: اس باب میں وہ احادیث جو خوارج کے بارے میں وارد ہوئیں ہیں ان کے بارے میں کنزالعمال، کی،ج ۱۱، ص۲۸۶۔ ۳۲۳ پر رجوع کریں۔

(۶۷)خوارج کے وجود میں آنے اور ان کی پیدائش اور بقا کی کیفیت کے بارے میں بہترین کتاب مصنفہ نایف الخوارج فی العصر الاموی کی معروف نیز قدیمی ترین کتاب الخوارج والشیعة، مولفہ ولہازن، ترجمہ عبدالرحمن بدوی میں کسی طرف بھی رجوع کریں۔

ان کے بارے میں بہترین اور جامع ترین تعریف توصیف کو خود امامـ نے بیان کیا ہے۔ نہروان کی جنگ کے تمام ہونے کے بعد امام سے پوچھا گیا کہ یہ لوگ کون تھے؟ اور کیا یہ لوگ کافر تھے؟ آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے کفر سے فرار کیا۔ ان لوگوں نے پھر پوچھا کیا یہ لوگ منافق تھے؟ آپ نے فرمایا: منافق لوگ خدا کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ خدا کی یاد کثرت سے کرتے ہیں۔ پھر آپ سے یہ سوال کیا گیا کہ آخر وہ کون لوگ تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ایک ایسا گروہ تھا جو فتنہ میں مبتلا ہو گیا۔ لہٰذا وہ لوگ اندھے اور گونگے ہوگئے۔ المصنف شمارہ۱۸۶۵۶ ونیز قرائة جدیدة فی مواقف الخوارج وفکر وادبہم کے ص۷۵۔ ۸۲ پر بھی رجوع کریں۔

(۶۸)بطور نمونہ ابوحمزہ کے اس خطبہ کو جس مقام پر وہ معاویہ، یزیداور بنی مروان کا تعارف کراتا ہے اس کے لئے آپ البیان التبیین، کی ج۲، ص۱۰۰۔ ۱۰۳، پر رجوع کریں۔

بعد میں خوارج کی جانب سے کی گئی اصلاحات اور ان کے درمیانہ اقدام کو آپ ملاحظہ کریں اباضیہ کے فقہ و کلام میں خاص طور پر ازالة الاعتراض عن مخفی آل اباض، و الاصول التاریخیة للفرقة الاباضیة، نامی کتابوں میں رجوع کریں۔

(۶۹)حقیقت یہ ہے کہ متعدد مواقع پر بنی امیہ کی سیاست ایک ایسی سیاست تھی جو قہر وغلبہ، دبائو، دھمکی آمیز انداز، خوف کا ماحول بنانے اور بلا وجہ ایک شخص کو دوسرے پر ترجیح دینے اور جبری دین کا لبادہ پہنے ہوئے تھی، نمونہ کے طور الامامة و السیاسة، کی ج۱، ص۱۹۱۔ ۱۸۳ یزید کے لئے بیعت لینے کے موقع پر معاویہ کے کلام کی طرف رجوع کریں۔ اور زیاد بن سمیہ کا اہل بصرہ سے وحشت ناک خطاب جس کو البیان والتبیین، کی ج۲، ص۵۸۔ ۶۰ پر، اپنے باپ مروان کے مرنے کے بعد عبدالملک کا خطبہ جس کو انساب الاشراف، نامی کتاب کی ج۱، ص۱۶۴ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مصعب بن زبیر کے قتل کرنے کے بعد خود اسی کا خطبہ جس کو الامویون والخلافة، کے ص۱۲۰ پر بھی رجوع کریں۔ اور اسی طرح سے طبری، ج۷، ص۲۱۹ میں بھی ملاحظہ کریں۔ یزید بن عبدالملک کا اپنے دو بیٹوں کی ولایت عہدی کے بارے میں ان کے نام خط اور اسی طرح حجاج کے متعدد خطبے جس کو جاحظ نے البیان والتبیین، نامی کتاب کی جلد دوم میں بیان کیا ہے۔ خاص طورپر عراق کے لوگوں سے اس کا خطاب اسی کتاب کے ص۱۱۴ و ۱۱۵ پر رجوع کریں، خاص طورپر آپ، الامویون والخلافة، نامی کتاب کی طرف مصنفہ، حسین عطوان کی طرف رجوع کر یں۔ سب سے بہتر اور سبق آموز مطلب کے لئے آپ، عبداللہ بن مروان کی داستان کی طرف رجوع کریں جو بنی امیہ کے آخری خلیفہ کا بیٹا تھا، اپنے خاندان کی حکومت کے ختم ہوجانے کو نئے بادشاہ کے عنوان سے اپنی زبانی منصور سے نقل کرتا ہے بادشاہ نے امویوں کی داستان کو سن کر عبداللہ سے یہ کہا: ''یہی وجہ ہے کہ خدا وند عالم نے تمہارے گناہوں کے سبب تم سے عزت اور بزرگی کو چھین لیا اور لباس ذلت پہنا دیا ہے اور انتقام خدا ابھی تمہارے اوپر ختم نہیں ہوا ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسی وقت میرے ہی ملک میں خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے اور تمہاری وجہ سے وہ عذاب مجھ پر بھی آجائے...'' مقدمة ابن خلدون، ج۱، ص۳۹۷ اور ۳۹۸۔

(۷۰) W. M. Watt, the Majesty That was Islam,p.۱۸

شامیوں اور عراقیوں کے فرق کے باب میں جعفری بھی واٹ کے نظریات کی تاکید کرتا ہے۔

(۷۱)لوگوں (عوام الناس) نے میری بیعت کی۔ وہی افراد جنھوں نے ابوبکر وعمر وعثمان کی بیعت توجہ کی ضرورت ہے کی اسی چیز پر ان لوگوں کی بیعت کی تھی... الیٰ آخرہ'' شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص۸۔

(۷۲)علامہ امینی مختلف روایتوں کو ان انگشت شمار اصحاب کے بارے میں نقل کرتے ہیں جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ جنگ صفین میں تھے۔ ایک روایت کی بناپر حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے، وہ ۲۵۰افراد جنہوں نے بیعت رضوان میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جنگ صفین میں حضرت علیـ کے ہم رکاب تھے اور ایک دوسری روایت کی بنا پر ۸۰۰آدمی تھے، ان میں سے ۳۶۰آدمی شہید ہوگئے۔ جیسا کہ جنگ بدر میں حضرت کے ہمراہ شرکت کرنے والے صحابہ ۷۰ و۸۰ یہاں تک کہ ۱۰۰افراد کو بھی نقل کیا گیا ہے۔ خود حضرت علیـ نے ۱۴۵صحابہ کے نام ذکر کئے ہیں عموماً یہی امام کے باوفا ساتھیوں میں سے تھے جو حضرت کے لئے اسی شان اور حیثیت کے قائل تھے جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت کے بارے میں فضیلت بیان کی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اس جنگ میں شہید ہوگئے اور امام اپنے آخری ایام میں بارہا ان سے بچھڑنے کو یاد کرکے گریہ فرماتے تھے اور یہ آرزو فرماتے کہ جتنی جلدی ہوسکے ان سے ملحق ہوجائیں۔ الغدیر، ج۹، ص۳۶۲۔ ۳۶۸ ۔

تسمیة من شہد مع علی حروبہ ان لوگوں کے اسامی جو امیر المومنینـ کے ہمرکاب جنگ میں شہید ہوگئے تراثنا، مجلہ کے تسمیات نامی مقالہ کے شمارہ، ۱۵، کے ص۳۱ پر ملاحظہ ہو۔

(۷۳)اس طرح کے بیانات پہلے دو خلفا نے بہت زیادہ دئیے ہیں اور تاریخی اور مختلف روائی مآخذ میں کثرت کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔ اس کے لئے تجرید الاعتقاد، نامی کتاب مؤلفہ محمد جواد جلالی کے حاشیہ کے ص۲۴۱۔ ۲۵۴ پر رجوع کریں۔

(۷۴)معاویہ کے اقدامات ایسے موثر اور دیرپا تھے کہ بہت سے اہل سنت کے نزدیک اس نے اموی خاندان کو ایک بہت بلند مرتبہ عطا کردیا۔ ''کیونکہ امویوں کا مسئلہ اور ان کا دفاع ہمیشہ سنیوں کی سیاسی فکر کے عنوان سے باقی رہا۔'' ضحی الاسلام کی ج۳، ص۳۲۹ پر رجوع کریں۔

(۷۵)اضواء علی السنة المحمدیة، کے ص۲۱۶ کا ملاحظہ کریں۔ اور یہ کہ ابوہریرہ نے معاویہ کی خوشامد کے واسطے امام علیـ کے خلاف کس طرح بہت سی روایات جعل کیں اور معاویہ کا قدرت پر پہنچنے کے بعد کوفہ میں لوگوں کے سامنے ان کو پڑھا اور اس نے اس کے بابت ایک بہت بڑا انعام حاصل کیا۔

(۷۶)بہت سی ان باتوں (نکات) کو حاصل کرنے کے لئے جو روایت میں موجود ہیں اور شیعوں کے ایک صدی کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کے لئے شرح نہج البلاغہ کی ج۱۱، ص۴۳ پر رجوع کریں۔

(۷۷)حوالہ سابق (شرح نہج البلاغہ) ج۱۱، ص۴۴۔۴۶۔

(۷۸)حوالہ سابق (شرح نہج البلاغہ) ج۱۱، ص۴۶۔

(۷۹)بطور نمونہ اموی شعر کے اشعار کو ملاحظہ کیجئے الامویون والخلافة، کے ص۱۵۔ ۲۱ پر اور عباسی شعرا کے رد کے ساتھ، مروج الذہب، کی ج۳، ص۴۳پر موازنہ کریں۔

(۸۰) Goltziher, Muslim Studies Vol.۲nd P.۱۱۵

(۸۱)اموی لوگ کہتے تھے خلافت ہمارے جملہ حقوق میں سے ایک حق ہے اور انہوں نے اس کو عثمان سے ورثہ میں حاصل کیا ہے۔ عثمان نے شوریٰ کے ذریعہ اس کو حاصل کرلیا لیکن مظلوم قتل ہوگیئے اور ان کا حق پائمال ہوگیا۔ خلافت ان کے خاندان سے باہر چلی گئی اور دوسروں کی طرف منتقل ہوگئی۔ یہ ان کا فریضہ ہے کہ اس کو واپس پلٹانے کے لئے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ امویوں کی طرفداری میں رطب اللسان شعرا اس بات کو مختلف مواقع پر کہا کرتے تھے: الامویون والخلافة، ص۱۳اور تبلیغ کرتے تھے کہ امویوں نے خلافت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے وراثت میں حاصل کی ہے۔ حوالہ سابق ص۱۷۔

یہ تبلیغات اس حد تک موثر ہوگئیں کہ امویوں کی حکومت کے زوال تک ایسا اعتقاد، کم سے کم ان کی اپنی سرحد میں یعنی شام میں کامل شائع تھا۔ مسعودی اس موقع پر روایت کرتے ہیں: ''اس کے بعد کہ مروان، آخری اموی خلیفہ، قتل ہوگیا عبداللہ بن علی شام آئے اور وہاں کے ثروت مند لوگوں کے ایک گروہ کا انتخاب کرکے سفاح کے پاس بھیجا۔ انھوں نے سفاح کے نزدیک قسم کھائی کہ وہ لوگ امویوں کے علاوہ کسی کو پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت نہیں جانتے تھے تاکہ آنحضرت سے میراث حاصل کریں۔ اس مجلس میں ابراہیم بن مہاجر نے ایک شعر پڑھا جس کی بعد میں عباسیوں کے چاہنے والے شعراء نے متابعت کی اور امویوں کے طعنہ دینے کے ضمن میں، بنی عباس کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ورثہ داروں کے نام سے یاد کیا۔'' اس کے لئے آپمروج الذہب، کی ج۳، ص۴۳ پر رجوع کریں۔

(۸۲)اس داستان کی تفصیل کوکتاب مروج الذہب کی ج۲، ص۴۰۶۔ ۴۰۹ پر ملاحظہ کیجئے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ استاد سبحانی اس داستان کا اصلی سبب خلفا کی حقانیت کا عقیدہ جانتے ہیں۔ ''جبکہ یہ عقیدہ تینوں خلفا کے زمانے میں دکھائی نہیں دیتا ہے مہاجرین وانصار کسی فرد کے ذہن میں خطور نہیں کرتا تھا کہ اس کی یا اس کی خلافت کا عقیدہ رکھنا واجب ہے اور جو ان کی خلافت کا معتقد نہیں ہے وہ مومنین کی جماعت سے خارج اور بدعت گزاروں کی جماعت میں داخل ہوگیا ہے۔ اس قاعدہ کو سیاست نے وجود دیا تاکہ علیـ کو طعنہ دیں اور خون عثمان کے انتقام کے سلسلہ میں معاویہ کے خروج کو مشروعیت بخشے۔ شاید عمرو ابن عاص پہلا شخص تھا جس نے اس طرزتفکر کا بیج بویا۔'' اس کے بعد داستان کو مفصل طور پر نقل کرکے اس قسم کا نتیجہ نکالتا ہے: ''یہ داستان اور اسی کی طرح دوسری داستانیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ خلفا کی خلافت کا اعتقاد دشمنی اور رقابت کی مسموم فضا میں پیدا ہوا یہاں تک کہ وہ مکار اور ہوشیار مرد شیخین کی خلافت کے اعتقاد کو وسیلہ بنا کر عثمان کی حقانیت کا اقرار لینا قرار دے...'' الملل والنحل،کی۱، ص۲۶۵۔ ۲۶۶ پر رجوع کریں۔

(۸۳)اس طرح کے واقعہ کے نمونہ کو رجال حول الرسول نامی کتاب میں ملاحظہ کریں۔ اس واقعہ نے حتی ایک آزاد خیال اور خالد محمد خالد کے جیسا تجدد پسند انسان، جو اس کتاب کے مؤلف بھی ہیں ان کو بھی متأثر کردیا ہے۔

(۸۴)بربہاری جو ابن حنبل کی کتاب السنة، کی شرح ہے اس میں کہتے ہیں: ''اس بات کو دل وجان سے ماننا ضروری ہے کہ عمر اور ابوبکر عائشہ کے حجرہ میں مدفون ہیں۔ پس جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کے نزدیک آئو تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کرنے کے بعد ان دونوں پر سلام کرنا واجب ہے۔'' طبقات الحنابلة، نامی کتاب کی ج۲، ص۳۵ سے ماخوذ ہے۔

صحابہ نامی مقالہ سے موازنہ کریں شارٹر انسائکلوپیڈیا آف اسلام میں

Shorter Encyclopaedia of Islam.p.۸۸

اور اسی طرح العواصم والقواصم فی الذب عن سنة ابی القاسم، کی ج۳، ص۲۳۔ ۲۳۰ پر بھی ملاحظہ کریں۔

(۸۵)یہ نکتہ ایسے حساس نکات میں سے ایک ہے، جو بہت ہی قاطع اور ظریف ہے کہ اہل سنت وشیعہ اس طرف زیادہ متوجہ نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اصول اور اپنے عقائد کے مطابق ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں۔ ان نمونوں میں سے ایک بہترین نمونہ کتاب دلائل الصدق، ہے، جو مرحوم شیخ محمد حسین مظفر کی مؤلفہ ہے جو کتاب ابطال الباطل فضل بن روز بہان کی رد میں لکھی گئی ہے کہ خود یہ کتاب ابطال الباطل بھی علامہ حلی کی کتاب نہج الحق کی رد میں لکھی گئی ہے۔ اس کے متن میں کچھ غور و فکر کے بعد اور ابن روز بہان کی اس پر رد اور اس کے بعد مرحوم مظفر کی تنقید سے پتہ لگا لیتا ہے کہ بعض مباحث کاملاً دو مختلف بنیاد وںپر مبنی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے عقائد کے اعتبار سے مسائل پر غور و خوض کرتا ہے اور اسی معیار پر وہ اپنے مدمقابل پر تنقید کرتا ہے۔

(۸۶)بطور نمونہ مقدمہ مفصل ابوریدہ، رسائل الکندی، نامی کتاب پر رجوع کریں۔

(۸۷)صدر اول کے مقدس اور اس کے باعظمت ہوجانے کے سبب کو عبدالہادی حائری مشہور مستشرق انگریز، واٹ سے اس طرح نقل کرتے ہیں: ''تیسری صدی کی نویں اور آخری دہائیوں میں اکثر مسلمانوں پر واضح ہوگیا تھا کہ اپنی اسلامی ماہیت اور حقیقت کو محفوظ رکھنے کے لئے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کو گذشتہ اسلام کی تاریخ کو یا کم از کم اپنے آپ کو صدر اسلام سے وابستہ کرلیں اسی صدی کے آخر میں زیادہ تر وہ لوگ جو طرح طرح کی مذہبی تحریکوں میں مشغول تھے سنی فرقہ کے رواج کو تمام اختلافات کے باوجود قبول کرلیااور یہ اسی معنی میں تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبھی ساتھی اور اصحاب احترام کے قابل ہیں ان میں سے ایک عثمان بھی ہیں جو صدر اول کے مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے نزدیک خلافت کی شائستگی کے بارے میں شک وشبہہ کررہے تھے وہ لوگ مورد احترام قرار پائیں... ادبیات کالج اور انسانی علوم مشہد کے جریدہ، شمارۂ سلسلہ ۵۶، ص۷۳۳۔

(۸۸)معتزلہ کی بڑی مشکلات میں سے ایک مشکل یہ تھی کہ ٹھیک جس زمانے میں ان کی سیاسی، معاشرتی، فکری اور مختلف دینی نظریات روبزوال تھے۔ اپنے آخری اعتقادی اصول و قواعد کو جمع کرنے کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ اس پختگی کی معراج کو قاضی عبدالجبار کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے المغنی، نامی کتاب کے علاوہ کہ اس کی عظمت اور اہمیت کے باوجود علما اہل سنت کے ذریعہ غفلت برتی گئی ہے کہ فقط اس صدی کے پچاس کی دہائی میں یمن میں، معتزلی زیدیوں کا مرکز سامنے آیا، اس کے لئے الاصول الخمسہ، جو معتزلی فکر کی کتابوں میں سے بہترین کتاب ہے اور اپنی پہلی والی کتابوں سے زیادہ شرعی و قرآنی بنیادوں پر استوار ہے اس کی طرف رجوع کریں۔ اگر یہ کتابیں اور دوسری اس طرح کی مشابہ کتابیں جلدی یا کم از کم ابوالحسن اشعری کی کتابوں کے ہمراہ آجاتیں تو اشاعرہ اس طرح کا کامل غلبہ حاصل نہیں کرپاتے۔ اس بارے میں کہ اشاعرہ کن حالات میں میدان میں آئے اور کن اسباب کی وجہ سے کامیاب ہوئے، اس کے لئے بغداد کے بزرگ حنبلیوں کے ساتھ اس کی گفتگو کے ذریعہ آپ طبقات الحنابلة، مئولفہ بر بہاری کی ج۲، ص۱۸۔ ۱۹ پر رجوع کریں۔

(۸۹)ابن حنبل اور معتصم کی گفتگو کی طرف الفکر والدعوة فی الاسلام، نامی رجال کی کتاب، مولفۂ ابوالحسن ندوی، کے صفحات۱۱۸۔ ۱۲۰پر رجوع کریںاور خاص طورپر آپ، مناقب الامام احمد بن حنبل، نامی کتاب میں جو ابن جوزی کی مولفات میں سے ہے کے ص۳۹۷۔ ۴۳۷ پر رجوع کریں، جو معتصم اور واثق سے اپنی بحثوں کی داستان کو تفصیل کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔

(۹۰)ضحی الاسلام، کی ج۳، ص۷۶۔ ۷۵، شرح ابن ابی الحدید، کی ج۴، ص۴۵۴ سے نقل کی گئی ہے، اس کی طرف رجوع کریں۔

(۹۱)ضحی الاسلام، ج۳، ص۸۶۔ ۸۸۔

(۹۲)حوالہ سابق، ص۸۹۔

(۹۳)مقدمة ابن خلدون، ج۲، ص۹۰۷اور ۹۰۸۔

(۹۴)ابن حَزم: حیاتہ وعصرہ وآرائہ وفقہہ، ص۴۸۳ پر رجوع کریں؛ مزید وضاحت کے لئیاسی کتاب کے ص۴۸۳۔ ۴۸۵ پر رجوع کریںاور اسی طرح اس میں بھی رجوع کریں:

Goltziher, The Zahiris Their Doctorine and their History, PP.۱۹۰-۲۰۷

(۹۵)جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ شیعوں کے علاوہ صرف معتزلہ ہی تھے جو صدر اسلام کی تاریخ کو تنقیدی زاویہ نگاہ سے دیکھتے تھے: فجر الاسلام، ص۲۶۶۔ ۲۷۸، ان کے با مقابل اہل حدیث اور حنبلی فرقہ کے لوگ تھے جو اس تاریخی دورہ کو مقدس اور اس دور کے لوگوں کو مقدس ہونے کے علاوہ کچھ اور سوچ ہی نہیں رہے تھے: ''چونکہ بنی امیہ کی تاریخ ان کے دشمنوں یعنی بنی عباس کے دور میں تحریر کی گئی لہٰذا ان کی خوبیاں نہیںلکھی گئی ہیں۔ لیکن احمد بن حنبل بعض امویوں کے صفات کو نقل کرتا تھا جس کی بناپر مستشرقین کو ان کی ان صفات کی تعریف کرنے پر مجبورکرتا تھا مثلاً ان کی امانت داری اور شجاعت کے بیان کرنے پر آمادہ کیا ہے۔'' ضحی الاسلام، ج۲، ص۱۲۲۔ ابن حنبل کی یہ روش زمانہ کے تقاضہ کے مطابق تھی فقط اس کے قطعی اعتقاد سے اس تاریخی دور کی حقانیت اور اس زمانہ کے افراد سے وجود میں آئی تھی۔ اس سلسلہ میں خاص طورپر الائمة الاربعة، کی ج۴، ص۱۱۷، پر رجوع کریں ان دو گروہ کے علاوہ عموماً اہل سنت متوسط موقف کے حامل تھے۔ الاقتصاد فی الاعتقاد، کے ص۲۰۳۔ ۲۰۵۔ گب کے نظریات سے اس کا مقایسہ کیجئے۔

(۹۶)یہ کہ اجتہاد و تأَوّل، (تاویل) کس طرح ان لوگوں کی برائت کا سبب بنا جو لوگ برے کاموں میں ملوث اور مفسد تھے اس کے لئے آپ مقدمہ متمتع سید محمد تقی الحکیم النص والاجتہاد، نامی کتاب کی طرف رجوع کریں و نیز یہ کہ خود اپنی کتاب میں اجتہاد کے کیا معنی ہیں، کہاں اور کن مواقع پر اجتہاد کرسکتے ہیں اس کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح آپ الغدیر، کی ج۱، ص۳۴۱۔ ۳۴۹ کی طرف رجوع کریں۔

اس مقام پرمناسب ہے کہ ایک نمونہ ذکر کریں۔ اس وقت جب خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کی بیوی کے ہتھیانے کی لالچ میں پڑگیا اور اس کو قتل کردیا اور وہ مدینہ واپس آگیا، عمر نے ابوبکر سے چاہا کہ اس سے قصاص کرے۔ ابوبکر نے جواب میں کہا: ''اس کو قتل نہیں کرونگا۔ کیونکہ اس نے اجتہاد کیا اور اس میں اس سے خطا سرزد ہوگئی ہے۔'' الاسلام واصول الحکم، کے ص۱۷۹ پر رجوع کریں اس مفہوم سے بعد میں وسیع پیمانہ پر استفادہ کیا گیا۔ مجرمین کو بھی بری کرنے کے واسطے اور ان کی تاریخی وراثتوں سے بھی بری کرنے کے لئے اور اسی طرح سے اہل سنت کی تاریخی، کلامی اور فقہی افکار کو بنانے سنوارنے کے لئے بطور نمونہ آپ کنزالعمال میں، خالد بن ولید کے فضائل کے باب میں، ج۱۳، ص۳۶۶۔ ۳۸۰ پر رجوع کریں۔

بے شک اس کو منظم کرنے کی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ پہلے درجہ پر دائرہ اجتہاد کو وسعت دی جائے اور دوسرے درجہ میں ان اختلافات کی تفسیر وتوجیہہ تھی جو دو قابل اعتماد افراد کے درمیان پیدا ہوگئی تھی۔ مثلاً عمر اور خالد بن ولیدشعبی کے درمیان اختلاف کے اسباب کے بارے میں جو پہلی صدی کے آخری سالوں کے بزرگ فقہا میں سے ایک ہیں اور اہل سنت کے فقہی و کلامی افکار کو منظم کرنے اور بنانے و سنوارنے میں ایک مؤثر اور اساسی کردار ادا کرتے ہیں وہ اس طرح کہتے ہیں: ''خالد عمر کا ممیرا بھائی (ماموں زاد بھائی) تھا بچپنے میں دونوں نے لڑائی کرلی۔ خالد نے عمر کا پائوں توڑدیا جو ایک عرصئہ دراز کے بعد اچھا ہوا۔ یہی واقعہ دونوں کے درمیان عداوت کا سبب بنا۔'' کنزالعمال، کی ج۱۳، ص۳۶۹اور اسی طرح آپ عمر ابن الخطاب،نامی کتاب کی طرف جو عبدالکریم الخطیب کی تصنیف ہے، اس کے ص۴۲۴۔ ۴۴۰ پر رجوع کریں۔

جنگ جمل وصفین کی توجیہہ اور تفسیر کے بارے میں کہ اس میں اس زمانہ کے برجستہ افراد ایک دوسرے کے مقابلہ میں بغیر اس بات کے کہ ان میں سے کسی ایک کی بھی شخصیت اور موقعیت داغدار ہو اور پوچھ تاچھ کی جائے، اس کے لئے آپ مناقب الخلفاء الاربعةفی مؤلفات الشیعة، عبدالستار التونسوی کی تحریر کے، ص۶۴۔ ۷۰۔ پر رجوع کریں اور اسی طرح آپ البدعة تحدیدہا وموقف الاسلام منہا، کے ص۲۵۔ ۶۱، پر رجوع کریں۔ اثر عزت علی عطیہ، اس باب کے سلسلہ میں خاص طورپر آپ ، العواصم من القواصم، محب الدین الخطیب کے حواشی پر ملاحظہ کیجئے۔ وہ کتاب جو تاریخی اور دینی توجیہہ کی شاہ کار ہے اور یہاں تک کہ اس میں تاریخی اور دینی مسلمات کو اس کی حقیقی اور واقعی شکل کے خلاف مختلف شکل میں تفسیر اور توجیہہ پائی جاتی ہے مثلاً اس کے واسطے آپ معاویہ کا حجر بن عدی کے قتل کردینے کے دستور کو اس کے ص۲۱۱۔ ۲۱۳ پر رجوع کریں اور خطیب کے حاشیہ کے ص۲۱۲ پر ملاحظہ کیجئے ونیز آپ ، خطیب کی جانب سے یزید کے دفاع کے لئے، ص۲۱۴ پر رجوع کریں اور اسی طرح آپ ، ص۲۴۴۔ ۲۵۱ پر رجوع کریں کہ اس دوران ابن عربی، طبری کے علاوہ تمام مورخین کو محکوم کرتے ہیں اور یہ کہ خلفا کے فسق وفجور کی داستان کو کیوں نقل کیا ہے۔

اور اسی طرح آپ رجوع کریں۔ I.Goldziher, The Zahiris, PP.۳-۱۳

اور اسی طرح آپ ابن حزم کے نظریات رائے وقیاس اور تعلیل کے بارے میں رجوع کریں۔

(۹۷)نمونہ کے واسطے، آپ صدر اسلام کے مسلمانوں کی بہ نسبت ابن حنبل کے مختلف نظریات اور زاویہ نگاہ کے لئے آپ۔ الائمة الاربعة، کی ج۴، ص۱۱۷ پر رجوع کریںاور اس کو اس کے سیاسی افکار کے ساتھ مقایسہ کیجئے حوالہ سابق ص۱۹۔ ۱۲۔ ومخصوصاً آپ شرح کتاب السنة، مئولفۂ بربہاری کی طرف رجوع کریں، چوتھی صدی ہجری کے حنبلیوں کے بزرگ عالم، طبقات الحنابلة، کے ص۱۸۔ ۴۵ پر رجوع کریں۔

اور اسی طرح آپ الابانة عن اصول الدیانة، ابوالحسن اشعری کی کتاب کے ص۱۸۔ ۴۵ پر رجوع کریں۔

(۹۸)پچھلے زمانہ کے لوگوں کے بارے میں قضاوت کرنے کا ضابطہ یہ ہے کہ اختلافی مسائل میں ان میں سے ہر ایک کا نظریہ اور موقف کیا ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صداقت وحقانیت دونوں طرف کی صداقت اور حقانیت یقینی (محرز) ہے اور اسی لئے اقدامات کی توجیہہ کرنے کے واسطے بیٹھنا چاہئے۔ نمونہ کے واسطے فارسی ترجمہ ایہا الولد، غزالی، کے ص۳۰۔ ۳۱ پر رجوع کریں۔

(۹۹)آج کے جوان مسلمانوں کے درمیان انقلاب کی طرف مسلحانہ رجحانات اور میلان کی میزان کو کتاب الفریضة الغائیة، مصنفۂ عبدالسلام جوجہاد اسلامی نامی فرقہ کے ایک نظریہ پرداز تھے انہیں ان آخری سالوں میں پھانسی دے دی گئی ہے، اس کتاب میں پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ اپنی اس کتاب کے ایک حصہ میں تحریر کرتے ہیں اس کے بعد کہ معاشرہ کو اسلامی کرنے کے واسطے تمام طریقوں کے بارے میں سفارش اور تجربہ کو بتایا گیا ہے اس بات سے عام ہے کہ احزاب اسلامی کی تاسیس کرنے، پڑھے لکھے مسلمانوں کی ایک نسل کی تربیت کرنا ان کے زمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لینے تک اور لوگوں کو راہ راست کی ہدایت اور وعظ ونصیحت کرنے اور دوسرے علاقہ میں ہجرت کرکے فاتحانہ طورپر واپسی کے لئے حالات کو ہموار کرنے اور انھیں کی طرح دوسری چیزوں کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ''اسلامی ممالک میں دشمن گھریلو یعنی داخلی ہے۔ (یعنی اپنے اندر ہی دشمن ہے) حقیقت میں وہی ہے جس نے سرداری کی کمان کو اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ اس کی نمائندگی کو دوسری حکومتوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے، جس نے قدرت کو مسلمانوں کے ہاتھ سے اچک لیا ہے اور اسی وجہ سے تمام مسلمانوں پر جہاد واجب ہے۔'' کچھ توضیحات کے بعد اضافہ کرتے ہیں: ''خداوند عالم کے فرمان کو جاری کرنے کے لئے اسلامیحکومت کے لئے اقدام کرناضروری ہے۔ ہم اس پار یا اس پار کے نتیجہ پر اصرار نہیں کرتے۔ کافر حکومت کے نابود کرنے کے لئے ہر چیز مسلمانوں کے اختیار میں موجود ہے۔'' پیامبر وفرعون، کے ص۲۴۲۔ ۲۴۷ پر رجوع کریں۔

(۱۰۰)سعدالدین ابراہیم مصر میں اسلامی مجاہدین کی اہم خصوصیات کو، ۷۰ اور ۸۰ کی دہائی میں اس طرح بیان کرتے ہیں: ''کسی گروہ کی عملی شدت پسند ی ہرگز کسی حکومت اور دوسرے لوگوں کے خلاف جو اسلام کے نام پر عمل کرتے ہیں، ان کے خلاف وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔'' Asaf Hussain, Islamic Movements, P.۲۹

(۱۰۱)نسل جدید کے اسلامی اور روشن فکر صاحبان قلم میں سے احتمالاً پہلا شخص جس نے کوشش کی تاکہ اپنی تعبیر کے مطابق ظاہری مسلمان حکام کی فریب دینے والی نقاب کو جس کو انہوں نے اپنے چہرے پر ڈال رکھی تھی اور حقیقت میں اس کے مخالف تھے کہ اس (نقاب) کو نوچ کر پھینک دے، وہ سید قطب تھے۔ خاص طور پر انہوں نے اپنی اہم ترین اور آخری کتاب معالم فی الطریق، اگرچہ یہ کتاب بعد میں بہت زیادہ تنقیدوں کا نشانہ بنی اور بجز ان جوانوں کے جو انقلابی رجحان رکھتے تھے کسی ایک نے بھی اس کی کلیت کو قبول نہ کیا۔ حتیٰ کہ حسن الھضیبی، اخوان المسلمین مصر کے رہبر، سید قطب کی پھانسی کے تختہ پر چڑھ جانے کے بعد صراحت کے ساتھ ان کی کتاب دعاة لاقضاة، میں انتقاد کیا اور یوسف العظم، اخوان المسلمینکا مشہور ترین دانشور اپنی کتاب رائد الفکر الاسلامی المعاصر، کے نام سے ان کے بعض افکار پر تنقید کی۔

لیکن ۷۰ اور ۸۰ کی دہائیوں کے سیاسی حالات نے ان کے افکار کی وسعت کے لئے مناسب حالات فراہم کردیا۔ عملی طور پر سنی دنیا کی موجودہ اسلامی تحریکیں خاص طورپر دنیائے عرب میں سید قطب کے افکار سے متاثر ہیں۔ چاہے اس کی افکار کو مجموعی طور پر قبول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ لیکن یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ انہوں نے مبارزہ طلب اسلامی عقائد ( Idealogy ) کو حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے ایک بند جگہ سے اپنی فعالیت کا آغاز کیا اسی وجہ سے ایسا نہ کرسکے اور یہ ان کے بس کا روگ بھی نہیں ہے۔ وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کو اپنے اعتقادی اصول کو نظر انداز کرنا چاہئے اور اپنی اعتقادی بنیادوں کو اس کے علاوہ کسی اور چیز پر رکھیں۔ ہاںا یسا کرسکتے ہیں کہ ان اصول وضوابط کی دوسری تفسیر کرنے لگیں لیکن یکسر ان کو پس پشت نہیں ڈال سکتے۔ جس وقت تک یہ ایسا کرتے رہیں گے تب تک ان پر اعتراض ہوتے رہیں گے اور کوئی اطمینان بخش جواب بھی نہیں دے سکیں گے اور ان کے اعتقادات بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اس کو پائداری نصیب ہوگی۔

ان کی دوسری غلطی یہ ہے کہ ان لوگوں نے کوشش کی ہے کہ انقلابی لوگوں کی فداکاری اور ایمان واستقامت اور پائداری کے سبب اپنے مقاصد تک پہنچنے کو قطعی بنالیں۔ یہ خیال بنیادی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے جز کو علت تامہ سمجھ لیا ہے اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس پر تکیہ اور تاکید کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس سے نجات دے لیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس غلطی میں دوسرے انقلابی اور غیر اسلامی گروہوں کے جیسے ہیں۔ نمونہ کے طور پر 'فدائیان خلق' انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے پہلے، پہلی دہائی میں انہیں توہمات اور غلطیوں میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مصدق کے زمانہ کی مختلف پارٹیوں کو ان کی استقامت نہ کرنے کی وجہ سے ان پر تنقید وتبصرہ کیا ہے اور فقط فداکاری اور استقامت میں ہی کامیابی کا راز سمجھتے تھے۔ اس کے لئے آپ، جزنی، احمد زادہ اور صفائی فراہانی کی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور خاص طورپر شخص اول یعنی جزنی کی کتابوں میں رجوع کریں۔ اسی طرح آپ، ایدئولوژی وانقلاب، نامی کتاب کے ص۲۱۴۔ ۲۲۰ پر۔ معالم فی الطریق نامی کتاب کی اہمیت کے باب اور اسی کے ذیل میں مختلف نظریات جو بیان کئے گئے ہیں، ان کی طرف رجوع کریں اور اسی طرح سید قطب کی کتاب مصنفۂ عبداللہ عوض اس، ص۳۲۵۔ ۳۲۹ پر رجوع کریں۔

(۱۰۲)دینی پابندیوں سے رہائی پانے کے لئے نسل جدید کی کوششوں کے بارے میں تامل آور السنة النبویة بین اہل الفقہ واہل الحدیث، نامی کتاب خاص طورسے، اس کے ص۷۔ ۱۲، مصنفۂ محمد الغزالی جو موجودہ زمانے کے معتبر ترین دینی عالم ہیں اس میں ملاحظہ کریں مفصل من العقیدة الیٰ الثورة، نامی کتاب جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے اور دور حاضر کے روشن فکر اور اطلاع رکھنے والے شخص حسن حنفی کی تحریر ہے، خاص طور پر آپ ان کی جلد اول کے ص۷۔ ۴۷ پر رجوع کریں۔

(۱۰۳)نمونہ کے طور پر ماوردی کی تصنیف الاحکام السلطانیة، کے ص۵۔ ۲۱ پر رجوع کریں اور اسی طرح ابویعلی کی تصنیف الاحکام السلطانیة، کے ص۱۹۔ ۲۸ پر بھی رجوع کریں۔