احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)0%

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق) مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 326

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محمد حسین فلاح زادہ
زمرہ جات:

صفحے: 326
مشاہدے: 7536
ڈاؤنلوڈ: 168

تبصرے:

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 326 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7536 / ڈاؤنلوڈ: 168
سائز سائز سائز
احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

احکام کی تعلیم(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۲

احکام کی تعلیم

(مراجع عظام کے فتاویٰ کے مطابق)

تنظیم و ترتیب

حجة الاسلام و المسلمین محمد حسین فلاح زادہ

ترجمہ:

سید قلبی حسین رضوی

مجمع جہانی اہل بیت (ع)

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے

۴

اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علام محمد حسین فلاح زادہ کی گرانقدر کتاب'' احکام کی تعلیم'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیںاور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۵

مقدمہ

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پوری تاریخ بشریت میں مصلحین اور خیر خواہوں کی ہمیشہ یہ تلاش و کوشش رہی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالیں، جس میں انسانی قدریں حاکم ہوں اور معاشرہ برائیوں سے پاک ہو۔

اس مقصد تک پہنچنے اور ایسے سماج کی تشکیل کے لئے کہ جسے بعض اوقات ''مدینہ فاضلہ'' کے نام سے یاد کرتے ہیں کچھ قوانین و ضوابط کے بارے میں بھی توجہ کی ہے تاکہ سماج کے افراد ؛اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے اور اپنے ہم نوع سے روابط برقراررکھنے کے سلسلہ میں صحیح راستہ پر چل سکیں۔

دین اسلام جو کہ بشری سعادتوں کی تضمین کا آخری مکتب ہے، ایسے معاشرے کی تشکیل کے اعتقاد کو درست سمجھتا ہے ،اور انسان کے فکرو اندیشہ کو صحیح رخ دینے کے سلسلے میں کچھ ایسے خاص اصول وقواعد پر اعتقادرکھتاہے جو کائنات کی ابتداء وانتہا کو مشخص کرتے ہیں اور انسان کو پست افکار وبے ہودہ حالات سے نجات دلاتے ہوئے با مقصد زندگی کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔

۶

البتہ اسلام صرف صحیح اعتقاد کو مفید اور کار آمد نہیں سمجھتا بلکہ لوگوں سے اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ کردار وعمل کے میدان میں بھی صحیح اور غلط راستہ کو پہچانیں اور اچھائیوں کو اپناتے ہوئے برائیوں سے پرہیز کریں۔(١)

اسلام کے جس شعبہ پر اس منصوبہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسے ''فقہ ''یا ''احکام'' کہتے ہیں جو درحقیقت میں یہ عملی قوانین کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے،نیز ان کی تفسیر وتبیین معصومین علیہم السلام نے کی ہے ، یہ وہ قوانین(احکام) ہیں جو قطعاًنا قابل تغیرہیں اور ان کے اصول پر کسی قسم کا خدشہ پڑے بغیر(٢) یہ تمام موضوعات، بیرونی مصادیق اور رونما ہونے والے حوادث(٣) کا احاطہ کرتے ہیں۔

ان قوانین کی معلومات ہمیشہ دینی مدرسوں کے بنیادی اور اساسی اسباق میںشامل رہی ہے چنانچہ وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی علمی معاشرہے کے تشکیل کی ایک اصلی بنیاد علم فقہ ہے، اور اسلامی علوم کے فقہاء کے عالی ترین اور قابل قدر دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا نام دینی مدارس کی تاریخ کے افق پر ہمیشہ چمکتا ہوا نظر آتاہے۔ بقول امام خمینی:

'' علمائے اسلام صدیوں سے محرومین کی پناہ گاہ بنے رہے ہیں اور مستضعفین ہمیشہ بزرگ فقہائکے شیرین اور خوشگوار چشمۂ معرفت سے سیراب ہوتے رہے ہیں ''(٤)

علمائے اسلام نے اسلامی فقہ کے تحفظ اور شریعت مقدس کے دفاع میں بہت سی تلخیاں اور سختیاںبرداشت کی ہیں ،اور حلال وحرام اوردینی مسائل کی، کسی قسم کے دخل وتصرف کے بغیر ترویج کرتے رہے ہیں۔

____________________

(١)قال علی (علیه السلام)الایمان معرفة بالقلب، وقول باللسان وعمل بالارکان (شرح نہج البلاغہ، ج ١٩، ص٥١)

(٢)حضرت ولی عصرعلیہ السلام کے اس خط کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ نے ایسے حوادث کے موقع پر احادیث اہل بیت علیہم السلام کے راویوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے (وسائل الشیعہ، ج ١٨، ص ١٠١)

(٣)عن الصادق علیه السلام ):''...حتی جاء محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فجاء بالقرآن وبشریعته ومنهاجه فحلاله حلال الیٰ یوم القیامة وحرامه حرام الیٰ یوم القیامة (اصول کافی ج ٢ ص ١٧ حدیث ٢)

(٤) صحیفہ ٔ نور،ج ٢ ،ص ٨٩.

۷

کتنی کتابیں ایسی ہیں جو تقیہ کی حالت میں اور جیلوںکی کال کو ٹھریوں میں تالیف کی گئی ہیں۔(١) اور کتنے کتب خانے،جو علماء کی سیکڑوں سالوں کی محنتوں کا نتیجہ تھے، لوٹ کھسوٹ اور غارت گری کے شکار ہوچکے یا دشمنوں کے غیض و غضب اور کینہ پروری کی آگ میں جل کے خاکستر ہوچکے ہیں، اس سے بڑھ کر کتنے علمائ، دین کی حفاظت کرتے ہوئے جان کی بازی لگا کر اپنے خون سے فقہ کی کتابوں کے اور اق کو رنگین کرگئے ، یہی نہیں بلکہ بعض اوقات ان کی لاشوں کو نذر آتش کرکے ان کی راکھ ہوا میں اڑادی گئی!(٢)

لیکن ان تمام مشکلات اور سختیوں کے باوجود ان علماء نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تلاش وکوشش کو جاری رکھتے ہوئے فقہی مسائل کو ان کے منابع سے استنباط کرکے بہترین صورت میں ترتیب دے کر لوگوں کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیش کرتے رہے ہیں ۔

آج کل مراجع عظام کے رسالے جو ''توضیح المسائل'' کے عنوان سے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں، یہ انھیں فقہاکی زحمتوںکاثمرہ ہیں،یہ کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ان توضیح المسائل'' میں موجودہ احکام میں سے صرف ایک حکم کے استنباط کے لئے طویل وقت صرف ہواہے ۔ لیکن چونکہ موجودہ ''توضیح المسائل'' عام لوگوں کے مطالعہ اوراستفادہ کے لئے تالیف کی گئی ہیں اور گزشتہ پچاس برسوں سے اسی روش پر باقی ہیں اور اس مدت کے دوران اس کی تالیف کے طریقہ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لائی گئی ہے، اس لئے اس میں بعض اصطلاحیںاہل فن سے مربوط ہیں اور بعض مقامات پر ان میں پیچیدہ ، مشکل اور غیر مانوس عبارتیں بھی پائی جاتی ہیں جو عام نوجوانوںکے لئے ناقابل فہم ہیں لہٰذا اسے نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کامناسب متن قرار نہیں دیا جاسکتا، اگرچہ اس قسم کی عبارتیں اپنی جگہ پر ایک خاص طبقہ کی ضرورت سے بالاتر مقصد کے لئے مرتب کی گئی ہیں اور وہ اپنی جگہ پر مفید وقابل قدر ہیں، اس کی مثال ایک دواخانہ کی ہے جس سے معاثرے کے تمام لوگ استفادہ کرتے ہیں۔

____________________

(١)جیسے کتاب '' اللمعة الدمشقیہ'' تالیف فقیہ نا مدارمحمد ابن مکی العاملی معروف بہ شہیداول.

(٢)جیسے شہیداول (اور شہید ثالث)

۸

قدیم زمانے سے آج تک دینی مدارس میں مختلف علمی مضامین، منجملہ'' فقہ'' کو مختلف درجوںمیں پڑھانے کے لئے مخصوص کتابیں معین کی جاتی رہی ہیں، یہ رسم نہ تھی اور نہ ہے کہ جدید طلاب کو '' شیخ انصاری کی مکاسب''(١) پڑھائی جائے یا علم اصول میں ابتداء سے ہی '' محقق خراسانی کی کفایہ''(٢) پڑھائی جائے، اور یا فلسفہ میں شروع سے ہی''ملا صدراکی ''ا سفار'' شروع کروائی جائے بلکہ ابتداء میں سادہ، رواں اور چھوٹی کتابیں پڑھائی جا تی ہیں، اور رفتہ رفتہ مفصل اور عمیق کتابوں کو پڑھایا جاتاہے۔

اس وقت حوزۂ علمیہ (دینی مدارس) میں فقہ کی تعلیم درج ذیل تین مرحلوں میں منقسم ہے:

١۔غیراستدلالی فقہ،جیسے: توضیح المسائل'' اور ''العروة الوثقی''(٤)

٢۔نیم استدلالی فقہ، جیسے : ''الروضة البھیة''(٥) اور '' شرائع ُالاسلام''(٦)

٣۔استدلالی فقہ، جیسے: ''جواہر الکلام''(٧) اور ''الحدائق الناضرہ''(٨)

____________________

(١)یہ کتاب معاملات (لین دین) کے احکام پر مشتمل ہے اور جلیل القدر فقیہ شیخ مرتضی انصاری کی تالیف ہے آج کل یہ کتاب حوزہ ٔعلمیہ(دینی مدارس) کی عالی درجات میں پڑھائی جاتی ہے

(٢)یہ اصول فقہ کی کتاب ہے جو گرانقدر دانشور محمدکاظم خراسانی کی تالیف ہے، یہ اس وقت حوزہ علمیہ کی عالی سطح میں پڑھائی جاتی ہے.

(٣)یہ کتاب اسلامی فلسفہ کی ایک بے نظیر کتاب ہے جسے صدر الدین محمد شیرازی نے تالیف کیا ہے.

(٤)یہ کتاب علم فقہ میں ہے اور اس میں فقہ کے اہم مسائل موجود ہیں بلکہ فقہی موضوع میں فرعی مسائل کے اعتبار سے بے نظیر کتاب ہے، اسے بزرگ فقیہ سید محمدکاظم یزدی نے تالیف فرمایا ہے ۔

(٥) یہ کتاب علم فقہ میں ہے جسے قابل قدر دانشور زین الدین علی ابن احمد عاملی معروف بہ شہید ثانی''نے تالیف کیا ہے .یہ کتاب حقیقت میں شہید اول شمس الدین محمد مکی کی تالیف کردہ ''اللمعة الدمشقیة''کی شرح ہے.

(٦)یہ فقہ کی کتاب ہے،اور علامہ محقق جعفر ابن حسن یحییٰ بن سعید معروف بہ محقق حلی کی تالیف کردہ ہے، اور برسوں تک حوزہ علمیہ میں اسے پڑھایا جاتا رہا ہے.

(٧)یہ کتاب شیعہ فقہ کی ایک عظیم دائرة المعارف ہے جو شیخ محمد حسن نجفی کی تالیف کردہ ہے.

(٨)یہ فقہ کی ایک مفصل کتاب ہے جسے قابل قدر محدث اور فقیہ شیخ یوسف بحرانی نے تالیف فرمایا ہے.

۹

اس بناء پر معاشرے کے افراد کے فہم وادراک اور ضرورت کے مطابق کچھ کتابیںتالیف کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مؤمنین کسی مشکل کے بغیر اپنے شرعی فرائض کو سیکھ سکیں اور بہتر طور پر اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرسکیں۔

اگرچہ اس سلسلے میں اب تک قابل قدر کوششیں کی جاچکی ہیں اور کچھ کتابیں شائع بھی ہوچکی ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر قابل استفادہ ہے، لیکن ایسی کتابیں، جو افراد کے تعلیمی مدارج اور ان کے پیشہ کے مطابق ان کی ضروریات کو پورا کرسکیں ، تالیف نہیں کی گئی ہیں، لہٰذااس طرح کی کتابیں تالیف کرنے کی ضرورت کا پوری طرح احساس کیا جارہا ہے۔

اس ضرورت نے ہمیںاس امر کی ترغیب دلائی کہ ملک میں موجودہ تعلیمی نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہی مسائل کو، فقہاکے فتاویٰ میں کسی قسم کی تبدیلی لائے بغیر اور صرف عبارتوں اوراصطلاحات کو عام فہم بناکر مثالوں کے ساتھ ، کتابی صورت میںتالیف کریں۔

ممکن ہے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہوں جنہوں نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہ کی ہو لیکن دینی مسائل میں یونیورسٹی سطح کے افرادسے زیادہ آگاہ ہوں لہٰذا اس کتاب کی تالیف کے دوران اکثر لوگوں کی سطح فکری کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔

بہر کیف جو کچھ اس سلسلے میں اب تک تیار کیا جاچکا ہے یا تیار ہورہا ہے وہ حسب ذیل ہے:

*تعلیم احکام: بچوں کے لئے ۔

* تعلیم احکام : سطح ایک کے لئے ۔

*تعلیم احکام : سطح عالی ۔یونیورسٹی کے طلاب کے لئے۔

* تدریس احکام کی روش: اساتذہ اور دینیعلوم کے طلاب کے لئے ۔

۱۰

چند نکات کی یاد دہانی:

١۔اس کتاب کا متن ؛ جمہوریہ اسلامی ایران کے بانی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی (قدس سرہ)کے فتاویٰ کے مطابق ہے۔

٢۔تین مراجع یعنی حضرت آیت اللہ العظمیٰ اراکی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی کے فتاویٰ اضافہ کئے گئے ہیں ۔اختلاف کی صورت میں اسی صفحہ پراس علامت(ز) کے ذریعہ ان کے فتاویٰ کو مشخص کردیا گیا ہے۔

٣۔ کتاب کے متن میں عام طور سے ضروری اور کلی مسائل بیان کئے گئے ہیں اور جزئی مسائل کو کم بیان کیا گیا ہے اور ان میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے ، اس کے علاوہ تمام اختلافی فتاویٰ ایسے نہیں ہیں کہ اگر مقلد متن پر عمل کرے تو اس نے اپنے مرجع تقلید کے فتویٰ کے خلاف عمل کیا ہو، یا کسی واجب کو ترک کیا ہو، مثال کے طور پر اگر متن میں موجود مسئلہ بعنوان فتوی ذکر ہوا ہو لیکن کسی دوسرے کا مرجع تقلید اس مسئلہ میں احتیاط واجب کا قائل ہو ، اور اس کا مقلد ان کے فتویٰ پر عمل کرے تو اس نے اسی احتیاط پر عمل کیا ہے اور کوئی مشکل نہیں ہے۔

٤۔مسائل کو انتخاب کرتے وقت کوشش یہ رہی ہے کہ جوانوںکی ضرورت کے پیش نظر مسائل کا انتخاب کیاجائے، اگر کہیں کوئی فرعی مسئلہ حذف ہوگیا ہے تو عنوان کچھ اس انداز سے رکھا گیا ہے تا کہ فتویٰ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، مثال کے طور پر مطہرات کی بحث میں، باوجود اس کے کہ مطہرات دس ہیں،اس کتاب میں صرف پانچ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے لیکن مسئلہ کو حسب ذیل صورت میں پیش کیا گیا ہے:

''تمام نجس چیزیں پاک ہوجاتی ہیں اور پاک کرنے والی عمدہ چیزیں حسب ذیل ہیں...''

۱۱

٥۔ یہ ایک تدریسی کتاب ہے جو معلم کے توسط سے پڑھائی جاتی ہے اس کے باوجود کوشش کی گئی ہے کہ اسے ایسے تالیف کیا جائے تاکہ اس کا براہ راست مطالعہ کرنا بھی مفید ہو اور مطالعہ کرنے والے بھی شرعی مسائل کو سمجھ سکیں ۔

٦۔ قارئین کرام اگر مسائل کی تفصیلات جاننا چاہیں یا مسائل کے متن کو ان کے منابع میں دیکھنا چاہیں تو اس کے لئے ہر صفحہ کے آخر پر مسائل کے حوالے تحریر کردئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ مراجع تقلید کے حواشی بھی ان کی توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر کے ساتھ درج کئے گئے ہیں ۔

٧۔ ہم مراجع عظام سے معذرت خواہ ہیں کہ اختصار کے پیش نظر حواشی میں ان کے اسم گرامی کے ساتھ پورے القاب نہیںلاسکے ہیں اور صرف مشہور لقب پر اکتفا کیا ہے۔

٨۔ موجود کتاب، اشاعت سے پہلے، متعدد بار پڑھائی جاچکی ہے، نیز ممکن حد تک نواقص بھی برطرف کئے جا چکے ہیں، حوزہ علمیہ کے افاضل احباب کی عنایتوںاور ان کے مطالعہ اور راہنمائی کے علاوہ، ہائی اسکول کے چند نوجوانوں نے بھی اس کا مطالعہ کیا اور طباعت سے پہلے تحقیق کی ہے، تا کہ مخاطب کی علمی سطح کے مطابق ہوںلہٰذا میںیہاں پر تمام مخلصین کا شکر گزار ہوں۔

اختصار کے پیش نظر حواشی میں مندرجہ ذیل علائم سے استفادہ کیا گیا ہے:

ج =جلد ، ص =صفحہ ، م = مسئلہ ، س =سوال

٩۔ اس کتاب کو تالیف کرتے وقت درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے :

* تحریرالوسیلہ ۔ ۔امام خمینی ۔۔ناشر: دارالانوار، بیروت ۔

*العروةالوثقیٰ۔۔(دوجلدی)۔۔مراجع تقلید کے حواشی کے ساتھ، ناشر، انتشارات علمیہ اسلامیہ۔

* وسیلتہ النجاة۔۔ حاشیہ آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی ۔۔ ناشر: دارالتعارف للمطبوعات ،بیروت

* رسالۂ توضیح المسائل۔۔ امام خمینی۔۔ناشر: بنیاد ثپروھشہای اسلامی، آستان قدس رضوی

*رسالۂ توضیح المسائل۔۔ آیت اللہ الظمیٰ گلپائگانی ۔۔ ناشر:،دارالقرآن الکریم

*رسالۂ توضیح المسائل۔آیت اللہ الغظیٰ اراکی۔۔ ناشر،دفتر تبلیغات اسلامی۔ حوزہ علمیہ قم

* رسالۂ توضیح المسائل۔۔آیت اللہ العظمیٰ خوئی ۔۔ مبطع، علمی پریس

*استفتاآت امام خمینی۔۔ناشر:،دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔

۱۲

امید ہے (انشاء اللہ ) یہ تالیف، عزیز نوجوانوں کے لئے احکام کو سمجھنے میں مفید ثابت ہوگی، بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو زندگی کے تمام مراحل میں مدد فرمائے ۔

آخر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس کتاب کا مطالعہ کرکے میری راہنمائی فرمائی اور خداوند متعال کی عنایتوں کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یہ توقیق بخشی۔

ہم دوستوں کی تعمیری تجاویز کا خیر مقدم اور استقبال کریں گے۔

رَبَّنَاتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ (١)

موسم گرما: ١٩٩٣ئ۔

محمد حسین فلاح زادہ برقوئی

قم المقدسہ

____________________

(١)سورہ بقرہ آیت ١٢٧.

۱۳

سبق نمبر١

اسلام میں احکام کا مقام

اسلام آخری اورکامل ترین دین ہے ،جس کے تمام پروگرام اور دستور العمل فطرت اور انسانی مصلحتوں کے مطابق ہیں، چنانچہ ان کو عملی جامہ پہنانا انسان کی سعادت وخوش بختی کی ضمانت ہے اور جس معاشرے میںیہ اسلامی قوانین نافذ ہوجائیں وہ مثالی معاشرہ ہوسکتا ہے اس سبق کا موضوع یعنی احکام،اسلام کے انسان ساز قوانین کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

اسلام کے حیات بخش پروگرام حسب ذیل حصوں پر مشتمل ہیں:

الف : اعتقادی دستورالعمل یعنی اصول دین۔

ب: عملی احکام، یعنی فروع دین۔

ج: نفسیات وکردار سے متعلق مسائل، جسے اخلاق کہا جاتاہے۔

پہلا حصہ :

یہ وہ دستور العمل ہیں جن کے ذریعہ انسان کی فکر واعتقاد کو درست کیا جاتاہے، انسان کو عقائد کے سلسلے میں دلیل کے ذریعہ اعتقاد پیداکرنا چاہئے ( اگرچہ دلائل سادہ ہوں)۔ چونکہ اسلام کے دستور العمل کا یہ حصہ اعتقادات سے مربوط ہے اور ان میں یقین پیدا کرنے کی ضروت ہے، اس لئے ان میں دوسروں کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے ۔

دوسرا حصہ:

یہ ایک عملی دستورالعمل ہے، جس میں انسان کا فریضہ معین ہوتاہے کہ کن کاموں کو انجام دے اور کن کاموں سے اجتناب کرے ایسے دستورالعمل کو '' احکام '' کہتے ہیں اور ایسے احکام کو جاننے کے لئے تقلید اور کسی (ماہر)مجتہد کی پیروی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۱۴

احکام کی قسمیں:

انسان جوبھی کام انجام دیتا ہے، اس سے متعلق اسلام میں ایک خاص حکم موجود ہے اور یہ احکام حسب ذیل ہیں:

١۔ واجب : وہ کام جس کا انجام دینا ضروری ہے اور اس کے ترک کرنے میں عذاب ہے، جیسے: نماز و روزہ....

٢۔حرام: وہ کام جس کا ترک کرنا ضروری ہے، اوراس کے انجام دینے میں عذاب ہے، جیسے: جھوٹ اور ظلم...

٣۔ مستحب: وہ کام جس کا انجام دینا اچھا اور باعث ثواب ہے، لیکن اس کے ترک کرنے میں عذاب نہیں ، جیسے: نمازشب وصدقہ

٤۔ مکروہ: وہ کام جس کا ترک کرنا اچھا اور موجب ثواب ہے لیکن اس کے انجام دینے میں عذاب نہیں، جیسے: کھانے پر پھونک مارنا ، یا گرم کھانا کھانا...

٥۔ مباح: وہ کام جس کا انجام دینا یا ترک کرنا مساوی ہے اور نہ اس میں کوئی عذاب ہے اور نہ ثواب، جیسے : چلنا، بیٹھنا...(١)

____________________

(١) الفتاویٰ الواضحة، ج ١، ص ٨٣.

۱۵

تقلید

تقلید کے معنی پیروی کرنا اور نقش قدم پر چلنا ہے ،یہاں تقلید کے معنی ''فقیہ'' کی پیروی کرنا ہے یعنی اپنے کاموں کو مجتہد کے فتویٰ کے مطابق انجام دینا۔(١)

١۔ جوشخص خود مجتہد نہیں اوراحکام ودستورات الٰہی کو حاصل بھی نہیں کرسکتا تواُسے مجتہد کی تقلید کرنا چاہئے ۔(٢)

٢۔احکام دین میں اکثر لوگوں کا فریضہ تقلید کرناہے چونکہ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو احکام میں اجتہاد کرسکتے ہیں۔(٣)

٣۔ جس مجتہد کی دوسرے لوگ تقلید کرتے ہیں اسے ''مرجع تقلید'' کہتے ہیں۔

٤۔ جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:

* عادل ہو *شیعہ اثنا عشری ہو ۔ * زندہ ہو ۔ * احتیاط واجب کی بناپر اعلم ہو اور دنیا طلب نہ ہو۔(٤) * مرد ہو۔ *بالغ ہو۔

شرائط مرجع تقلید کی وضاحت:

١۔ عادل اسے کہتے ہیں، جو تقویٰ وپرہیز گاری کی ایسی منزل پر فائز ہو،جہاں واجبات کو انجام دیتا ہو اور گناہوں سے پرہیز کرتا ہو،نیز گناہان کبیرہ ( * )سے پرہیز اور گناہان صغیرہ کی تکرار سے

____________________

(١)تحریر الوسیلہ ،ج ١،ص ٥.

(٢) تحریر الوسیلہ ،ج ١، ص ٥.

(٣) تحریر الوسیلہ، ج ١، ص٥.

(٤) ۔ توضیح المسائل ،م٢.

* گناہ کبیرہ،ایسا گناہ جس کے ارتکاب پر عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے، جیسے : جھوٹ، تہمت وغیرہ

۱۶

اجتناب، عدالت کی علامت ہے۔ *(١)

٢۔ تازہ بالغ ہونے والے نے اگر تقلید نہ کی ہو تو اسے چاہئے کسی ایسے مجتہد کو اپنا مرجع تقلید قرار دے جو زندہ ہو ، مردہ مجتہد کی تقلید نہیں کی جاسکتی ہے۔(٢)

٣۔ جو کسی مجتہد کی تقلیدکرتا ہو، اگر اس کا مرجع تقلید مرجائے تو وہ زندہ مجتہد کی اجازت سے اپنے مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہ سکتاہے۔(٣)

٤۔ جن مسائل کے بارے میں مردہ مجتہد نے کوئی فتویٰ نہ دیا ہو اور اسی طرح جنگ وصلح وغیرہ جیسے نئے مسائل کے بارے میں، میت کی تقلید پر باقی رہنے والے شخص کو زندہ مجتہد کی تقلید کرنی چاہئے۔(٤)

٥۔جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، وہ مذہب جعفری کا پیرو؛یعنی شیعہ اثنا عشری ہو۔ لہٰذاشیعہ، احکام میں کسی غیر اثناء عشری مجتہد کی تقلید نہیں کرسکتے ۔(٥)

٦۔ اسلام نے مرد اور عورت کا فریضہ ان کی فطری حالت اور تخلیقی کیفیت کے لحاظ سے معین کیا ہے۔ مرجعیت کی انتہائی زبردست اور بھاری ذمہ داری کو عورتوں کے کندھوں سے اٹھالینا، ہرگز ان کی آزادی سے محرومیت نہیں ہے چونکہ اسلام میں، عورتوں کو بھی حق ہے کہ اسلامی علوم میں اجتہاد تک تعلیم حاصل کریں اور احکام الٰہی کو ان کے منابع (قرآن وروایات) سے استخراج کریں اور کسی کی تقلید نہ کریں۔

____________________

(١)تحریر الوسیلہ، ج ١١، ص ١٠، م ٢٨

(٢)تحریرالوسیلہ ،ج ١، ص ٧ ،م ١٣

(٣) تحریر الوسیلہ، ج ١ ، ص ٧، م ١٣.

(٤) استفتا آت، ج ١،ص ١٢، س ٢٠.

(٥)توضیح المسائل،م٢.

*(گلپائیگا نی۔ خوئی)عدالت یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں اس کے ہمسایوں یا اس کے جاننے والوں سے اس کا حال واحوال پوچھا جائے تو اس کی اچھائی اور نیکی کو بیان کریں ۔

۱۷

٧۔ اعلم وہ ہے جو(قرآن وروایات سے)احکام کے استخراج میں دوسرے مجتہدوں سے ماہر تر ہو۔(١)

٨۔ مکلف پر واجب ہے کہ مجتہداعلم کو پہنچاننے میں جستجو کرے۔(٢)

٩۔انسان تقلید کرنے میں آزاد ہے اور کسی کے تابع نہیں ہے ۔ مثلاًاس سلسلے میں عورت مردکی تابع نہیں ہے ، وہ جس کسی کو واجدشرائط پائے اس کی تقلید کرسکتی ہے،اگرچہ اس کا شوہر کسی اور مجتہد کا مقلد ہو۔(٣)

____________________

(١)العروة الوثقیٰ، ج اص٧، م١٧.

(٢)تحریر الوسیلہ ،ج ١، ص ٦، م ٥.

(٣) استفتاآت، ج ١، ص ١٣، س ٢٥.

۱۸

سبق نمبرایک کا خلاصہ

١۔ اسلام کے مجموعی پروگرام سے مراد : عقائد، احکام اوراخلاق ہے۔

٢۔ احکام تکلیفی سے مراد : واجب، حرام ، مستحب، مکروہ اور مباح ہے۔

٣۔ تقلید، یعنی مجتہد کے قتویٰ پر عمل کرنا۔

٤*ندہ مجتہد کی اجازت سے میت کی تقلید پر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں ۔

٥۔جو شخص تقلید میت پر باقی ہو، اسے نئے مسائل میں زندہ مجتہد کی تقلید کرنی چاہئے ۔

٦۔ ہر شخص تقلید کرنے میں آزاد ہے اور کسی کے تابع نہیں ۔

۱۹

سوالات:

١۔ اصول دین کتنے ہیں؟

٢۔ اصول اور فروع دین کے سلسلے میں مکلف کا فریضہ بیان کیجئے۔

٣۔ اسلامی دستوار العمل کے پانچ نمونے بیان کیجئے۔

٤۔ اگر کوئی عورت درجہ اجتہاد پر پہنچ جائے تو کیا وہ اپنے فتویٰ کے مطابق عمل کرسکتی ہے،یا اسے دوسروں کی تقلید کرنا چاہئے؟

٥۔ عادل کون ہے اور اسے کیسے پہچانا جائے گا ؟

٦۔ تقلید میت پر باقی رہنے والے شخص کے لئے، زمانے کے حالات کے مطابق پیش آنے والے نئے مسائل، جیسے :جنگ وجہاد میں، فریضہ کیا ہے؟

۲۰