درس عقائد

درس عقائد 0%

درس عقائد مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

درس عقائد

مؤلف: آیة اللہ مصباح یزدی
زمرہ جات:

مشاہدے: 12755
ڈاؤنلوڈ: 580

تبصرے:

درس عقائد
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 92 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 12755 / ڈاؤنلوڈ: 580
سائز سائز سائز
درس عقائد

درس عقائد

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

نام کتاب : درس عقائد

مؤلف : آیة اللہ مصباح یزدی

مترجم : ضمیر حسین بہاولپوری

تصحیح مرغوب عالم عسکری سمند پوری

نظر ثانی: فیروز حیدر فیضی

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

کمپوزنگ : علمدار سنٹر

طبع اول: ١٤٢٧ھ ۔ ٢٠٠٦ئ

قال رسول اﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ج٣، ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥ ،اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. و غیرہ.)

بسم الله الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، آیت اللہ مصباح یزدی کی گرانقدر کتاب درس عقائد کو مولانا ضمیر حسین نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

تمام حمد و ثنا اس خدا کے لئے ہے جس نے اس عالم ہستی کو وجود بخشا ، اور انسانوں کی ہدایت کے لئے پے در پے انبیاء کو مبعوث فرمایا، تاکہ انسانوں کے مختار ہوتے ہوئے اُنہیں انتہائی کمال تک پہنچا دیں تاکہ اُن کا شمار اشرف المخلوقات میں ہو جائے ،انسان کے انتہائی کمال تک پہنچنے میں صحیح عقائد کا بہت بڑا عمل و دخل ہے جب تک انسان کے عقائد صحیح نہ ہوں ،اُس وقت تک انتہائی کمال تک پہنچنا نا ممکن ہے اور اسلام کے دشمن ہمیشہ اس بات پر اپنی پوری توانائیاں صرف کرتے چلے آرہے ہیںتا کہ مسلمانوں میں فاسد عقائد رائج کر کے اُن کے درمیان پھوٹ ڈال دیں اور انہیں صراط المستقیم سے منحرف کر کے رہ گمراہی پر لگا دیں ۔

افسوس کا مقام ہے بڑے بڑے دانشمند بھی فاسد عقائد کے سیلاب میں بہتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض تو خدا اور اس کے مبعوث کئے ہوئے رسولوں کے متعلق شک و تردید میں پڑ کر افرط و تفریط کا شکار ہو گئے ، بعض کو خدا کا بیٹا اور بعض کو بالکل اپنے جیسا بلکہ اس سے بھی بد تر ، بعض پیغمبروں کی طرف گناہان کبیرہ کی نسبت دے کر اُن کے قتل پر آمادہ ہو گئے تاکہ اپنے باطل عقائد اور خود ساختہ خدائوں کا دفاع کر سکیں اور اپنے باطل عقائد کا علم ہوتے ہوئے بھی اس پر ڈٹے رہے چونکہ اگر وہ پیغمبر بر حق کو تسلیم کر لیتے تو اُ ن کی شہرت ، سلطنت و ریاست خطرے میں پڑ جاتی ۔

لہذا انہوں نے دنیا کی لالچ میں آکر اپنی آخرت کو تباہ و برباد کرکے ہمیشہ اپنے لئے جہنم کے درد ناک عذاب کو خرید لیا اور دنیا کی چند روزہ فانی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر ترجیح دے دی

زیر نظر کتاب اُن صحیح عقائد پر مشتمل ہے جو ہادیان بر حق کی زبانوں سے بیان ہوئے ہیں جن پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے ۔

اس کتاب کے مؤ لف حضرت آیت ا ﷲ مصباح یزدی دامت برکاتہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ، آپ کا شما ر عصر حاضر کے بزرگترین دانشمندوں میں ہوتاہے ، علم منطق ، فلسفہ وکلام، میں آپ کا چرچا ہر عام و خاص پر عیاں ہے۔

میں نے اُن کی اس کتاب کو اردو داں حضرات کے لئے مناسب سمجھ کر اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ، تاکہ صحیح عقائد کے متلاشی حضرا ت اِن پر عمل کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کر سکیں ۔

اگر چہ اس کتاب میں علمی اصطلاحات زیادہ استعمال ہوئیں ہیں تاہم میں نے اُن کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کی کو شش کی ہے تاکہ تمام قارئین حضرات بصورت احسن مستفیض ہو سکیں۔

آخر میں قارئین گرامی سے گزارش ہے کہ جہاں کہیں غلطی کا شائبہ ملاحظہ فرمائیں تو بطور اصلاح ہمیں مطلع فرمائیں تا کہ آئندہ اڈیشن میں اصلاح ہو سکے ۔

آپ کی دعائوں کا طالب

ضمیر حسین

بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ مولف

الحمد للّه رب العالمین والصلوٰة والسلام علی خیر خلقه محمد و آله الطاهرین لاسیما بقیة اللّه فی الارضین عجل اللّه تعالیٰ فرجه و جعلنا من اعوانه و انصاره.

بنیادی عقائد و افکار ہر باارزش اور اجتماعی و سیاسی نظام کی بنیادپر ہوتے ہیں، یہ عقائد انسانی کردار و اخلاق کو سنوارنے میں ،سو فیصد یا اس سے کمتر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام کے با ارزش نظام کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لئے اس درخت کے ریشوں یعنی نظام عقیدتی کو دلوں میں استوار کرنا ہوگا، تا کہ ہمیشہ مثبت نتائج حاصل ہو سکیں، اور دو جہاں کی کامیابی نصیب ہو سکے ۔اسی وجہ سے اسلامی مفکرین نے آغاز اسلام سے اسلامی عقائد کو مختلف اسلوب اور شکل و صورت میں بیان کیا اور منجملہ علماء کلام نے اس سلسلہ میں مختلف کتابیں لکھیں، اس دور میں بھی نئے شکوک و شبہات کے پیدا ہونے کی وجہ سے مختلف کتابیں معرض وجود میں آئیں ، لیکن غالباً یہ کتابیں دو مختلف اور متفاوت سطح پر لکھیں گئیں ہیں، ان کتابوں کی ایک قسم نہایت سادہ اور زیادہ سے زیادہ توضیحات پر مشتمل ہے اور دوسری قسم پیچیدہ اصطلاحات، سخت بیانات اور سنگین عبارتوں پر مشتمل ہے،لیکن اس کے درمیان ایسی کتابیں جو متوسط درجہ کی اور قابل تدریس ہوں، نہیں ہیں اسی وجہ سے دینی مدارس میں برسوں سے ایسی کتابوں کی کمی کا احساس کیا جاتارہا ہے۔

اسی وجہ سے سازمان تبلیغات اسلامی کے ذمہ دارافراد اور ادارۂ درراہ حق کے فضلا اور علما کی مدد سے اس کتاب کو مرتب کیا گیا ہے ، جسکی چند خصوصیات درج ذیل ہیں۔

١۔ اس کتاب میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مطالب منطقی ترتیب پر منظم ہوں اور تا حد امکان مسائل کو بیان کرنے کے دوران آئندہ کے حوالہ جات سے پرہیز کیا جائے۔

٢۔ عبارتوں کو آسان اور سادہ کرنے کے لئے نہایت کوشش کی گئی ہے، پیچیدہ اصطلاحات اور دشوار عبارتوں سے پوری طرح پرہیز کیا گیا ہے لہٰذامطلب کو واضح کرنے کے لئے ادبی عبارتوں کو ترک کردیا گیا ہے۔

٣۔ مطالب کو ثابت کرنے کے لئے روشن دلائل اور محکم تعابیر کا استعمال کیا گیا ہے متعدد اور سست دلائل سے پرہیز کیا گیا ہے۔

٤۔ مطالب کی توضیح میں زائد وضاحت کو پڑھنے والوں کی طبیعت کے خستہ حال نہ ہونے کا خاص خیال رکھا گیا ہے

٥۔چونکہ یہ کتاب متوسط سطح کے لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے لہٰذا ایسے عمیق استدلالات کہ جسے سمجھنے کے لئے فلسفہ، تفسیر یا فقہ الحدیث جیسے علوم سے آشنائی کی ضرورت ہے پرہیز کیا گیا ہے لیکن جہاں کہیں ایسے استدلالات کی ضرورت پڑی وہاں صرف اختصار کے ساتھ سادے لفظوں میں وضاحت کر دی گئی ہے اور کامل استدلال کے لئے فقط دوسری کتابوں کے حوالے پر اکتفا کیا گیا ہے تا کہ پڑھنے والوں میں جستجو و تحقیق کی امنگ جاگتی رہے۔

٦۔ اس کتاب کے مطالب کو دروس کی شکل میں تقسیم اور متوسط تنہا ایک جلسہ(درس) کے برابر ذکر کیا گیا ہے۔

٧۔بعض دروس کے مہم مطالب کی دوسرے دروس میں کیداً تکرار کی گئی ہے تا کہ پڑھنے والے اچھی طرح سمجھ سکیں۔

٨۔ ہر درس کے آخر میں اسی درس سے مربوط سوالات درج کئے گئے ہیں جو درس کی تفہیم اور اسے پوری طرح سمجھنے میں نہایت مفید و مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

٩۔ لیکن جو بات مسلم ہے وہ یہ کہ مذکورہ کتاب بھی ضعف سے خالی نہیں ہوگی لہٰذا امید ہے کہ اساتذہ محترم اپنی تنقیدات کے ذریعہ ہماری مدد کریں تا کہ آئندہ طبع میں اس کا خیال رکھا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء کی بارگاہ میں یہ درخواست ہے کہ حقیر کی اس ناچیز خدمت کو شرف قبولیت عطاء ہو اور اس طرح سے حوزۂ علمیہ اور شہداء والا مقام کے حقوق میں سے ایک حق ادا ہوجائے۔

قم محمد تقی مصباح یزدی۔

پہلا درس

دین کیا ہے؟

١۔ دین کا مفہوم

٢۔ اصول دین اور فروع دین۔

٣۔ جہاں بینی اور آئیڈیا لوجی۔

٤۔ الٰہی و مادی جہاں بینی۔

٥۔ آسمانی ادیان اور ان کے اصول۔

١۔دین کا مفہوم

اس کتاب کا ہدف عقائد اسلامی کا بیان کرنا ہے جسے اصول دین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لہٰذا کسی بھی وضاحت سے پہلے مناسب یہ ہے کہ کلمہ ''دین'' اور اس سے مشابہ الفاظ کی ایک وضاحت کر دی جائے، اس لئے کہ علم منطق میں ''مبادی تصوری'' (تعریفات) کا مقام تمام مطالب پر مقدم ہے۔

دین ایک عربی کلمہ ہے جس کے معنی لغت میں اطاعت اور جزا کے ہیں اور اصطلاح میں اس جہان، انسان کے پیدا کرنے والے پر عقیدہ رکھنا اور ان عقائد سے متناسب دستورات عملی پر اعتقاد رکھنے کے معنی میں ہے، اسی وجہ سے وہ لوگ جو اس جہان کے خالق پر مطلق اعتقاد نہیں رکھتے اور اس جہان کی خلقت کو اتفاقی حادثہ یا مادی و طبیعی فعل و انفعالات کا نتیجہ سمجھتے ہیں انہیں ''بے دین'' کہا جاتاہے، لیکن وہ لوگ جو اس جہان کے خالق پر اعتقاد رکھتے ہیں، مگر اپنے اعمال و کردار میں انحراف و کج روی کے شکار ہیں انھیں ''بادین'' کہا جاتا ہے، اس طرح روئے زمین پر موجودہ ادیان حق و باطل میں تقسیم کئے جاتے ہیں، لہٰذا دین حق یعنی ایسے قوانین کا مجموعہ جو صحیح عقائد پر مشتمل اور واقعیت کے مطابق ہوںنیز ایسے اعمال کا حکم دے کہ جن کی صحت میں کافی ضمانت پائی جاتی ہو۔

٢۔اصول دین اور فروع دین

گذشتہ مفہوم دین کی توضیحات کے پیش نظر یہ بات روشن ہو گئی کہ کوئی بھی دین ہو دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

١۔ عقائد: جو پایہ و اساس کے حکم میں ہیں۔

٢۔ قوانین عملی: جو انھیں اساس کے مطابق اور انھیں کے ذریعہ وجود میں آئے ہوں۔

لہٰذا یہ بات پوری طرح روشن ہے کہ کسی بھی دین میں اس کے عقائد کو ''اصول'' اور احکام عملی کو (فروع) کا نام دیا جاتا ہے جیسا کہ اسلامی دانشمندوں نے ان دو اصطلاحوں کو عقائد اور احکام اسلامی کے لئے استعمال کیا ہے۔

٣۔جہاں بینی(تصور خلقت) اور آئیڈیالوجی ۔

جہاں بینی اور آئیڈیالوجی کی اصطلاح کم و بیش ایک ہی معنی میں استعمال ہوتی ہے، جہاں بینی کے معنی یہ ہیں (جہان و انسان کے مطابق چند اعتقادات اور بطور کلی ہستی) اور آئیڈیالوجی کے معنی یہ ہیں (انسانی کردار سے مطابق چند کلی نظریات اور آرا)۔

ان دونوں معنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ،کسی بھی عقیدتی اور اصولی نظام کو اس دین کی جہان بینی اور اس کے احکام عملی کے نظام کو آئیڈیالوژی کا نام اور انھیں دین کے اصول و فروع پر تطبیق دی جاتی ہے، لین یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ آئیڈیا لوجی کی اصطلاح احکام جزئی کو شامل نہیں ہوتی جس طرح کہ جہان بینی کی اصطلاح بھی جزئی اعتقادات کے لئے استعمال نہیں ہوتی۔

ایک دوسرا نکتہ کہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کلمہ آئیڈیا لوجی عام معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کہ جو جہان بینی کو بھی شامل ہوتاہے۔(۱)

٤۔الٰہی و مادی جہان بینی۔

انسانوں کے درمیان جہان بینی کی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں لیکن ان سب کو ماوراء طبیعت کے قبول یا اسے انکار کرنے کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، الٰہی جہان بینی، اور مادی جہان بینی۔گذشتہ ادوار میں مادی جہان بینی کے پیروکاروں کو کبھی٫٫ طبیعی'' اور ''دہریہ،، اور کبھی ٫٫زندیق'' اور ''ملحد،، کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، لیکن انھیں ہمارے زمانہ میں ''مادی'' اور ''ماٹریالیٹ'' کہا جاتا ہے، مادی گری کی بھی مختلف شاخیں ہیں، جس میں سے مشہور ترین ( مٹریلزم ڈیالٹیک )ہے کہ جو (مار کسیزم) کا ایک حصہ ہے۔

اس ضمن میں یہ بھی روشن ہو گیا کہ ''جہان بینی'' کا استعمال دینی عقائدسے بھی زیادہ وسیع ہے اس لئے کہ یہ الحادی عقائد کو بھی شامل ہے جیسا کہ آئیڈیا لوجی کی اصطلاح بھی دینی مجموعہ احکام سے مخصوص نہیں ہے۔

٥۔آسمانی ادیان اور ان کے اصول۔

تاریخ ادیان، جامعہ شناسی اور عوام شناسی کے دانشمندوں کے درمیان پیدائشِ ادیان کی کیفیت کے سلسلہ میں اختلاف ہے، لیکن اسلامی اسناد کے ذریعہ جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ دین کا وجود انسان کی پیدائش کے ساتھ ہوا اور پہلے انسان (حضرت آدمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابو البشر) خدا کے رسول، توحیدو یکتا پرستی کے منادی تھے، اور بقیہ شرک آلود ادیان تحریفات، سلیقوں کے اختلاف، فردی اور گروہی اغراض کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔(۲)

ادیان توحید ی ہی ادیان آسمانی ہیں، جو تین کلی اصول میں مشترک ہیں۔

١۔ خدائے یکتا پر اعتقاد ۔

٢۔ عالم آخرت میں ہر انسان کے لئے ابدی حیات، اور جو کچھ اس جہان میں انجام دیا گیا ہے اس کی جزا یا سزا کا پانا۔

٣۔ بعثت انبیاء پر اعتقاد رکھنا تا کہ بشر کو انتہائی کمال اور سعادت دنیوی و اخروی کی طرف ہدایت مل سکے یہ تینوں اصول در اصل ان سوالوں کے جواب میں جو ہر ایک آگاہ انسان کے لئے پیش آئے ہیں، ہستی کا مبدا اور آغاز کیا ہے؟ زندگی کا خاتمہ کیا ہے؟ کس روش کے ذریعہ اچھی زندگی گذارنے کا طریقہ حاصل کیا جاسکتا ہے، وحی کے ذریعہ جو دستور العمل پیش کیا جاتا ہے وہ وہی دینی آئیڈیا لوجی ہے جو الٰہی جہان بینی کا نتیجہ ہے۔

اصلی عقائد لازم و ملزوم اور توابع و تفاصیل سے متصف ہیں جو دینی عقیدتی نظام کو تشکیل دیتے ہیں انھیں اعتقادات میں اختلاف مختلف مذاہب اور فرقوں کی پیدائش کا سبب واقع ہو ئے ہیں جیسا کہ بعض انبیاء کی نبوت اور آسمانی کتاب کے تعین میں اختلاف، ادیان یہودی ، مسیحی اور اسلام کے درمیان تفرقہ کا باعث بنا اور اسی اختلاف کی وجہ سے عقائد واعمال میں ایسے اختلافات اٹھے کہ جو کسی طرح بنیادی اعتقاد سے ھمانگی نہیں رکھتے جیسے، عقیدۂ تثلیث جو توحید کے بالکل ضد ہے، اگر چہ مسیحیوں نے اس کی توجیہ کرنے کی پوری کوشش کرڈالی ہے، یا پھر تعین جانشینی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مسئلہ کہ اسے خدا انتخاب کرے یا عوام الناس جو شیعہ اور سنی گروہوں میں شدید اختلاف کا باعث ہوا۔

نتیجہ:

توحید و نبوت اور معاد کو تمام آسمانی ادیان میں اساسی عقائد میں سے شمار کیا گیا ہے، لیکن وہ عقائد جو اساسی عقائد کے تجربہ و تحلیل کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں، یا انھیں کا ایک حصہ ہیں، ایک خاص اصطلاح کے مطابق انھیںاصلی عقائد میں شمارکیا جاسکتا ہے،جیسے وجود خدا کے اعتقاد کو ایک اصل اور اس کی وحدت کے اعتقاد کو ایک دوسری اصل مان لیا جائے، یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت پر اعتقاد اصول دین کا ایک حصہ ہے، جیسا کہ شیعہ دانشمندوں نے عدل جو ایک فرعی مسئلہ ہے اسے اصول کا جز قرار دیا ہے یا امامت جو نبو ت کی تابع ہے ایک دوسری اصل کے عنوان سے ذکر کیا ہے، درحقیقت کلمہ اصل کا استعمال ایسے اعتقادات کے سلسلہ میں اصطلاح کے تابع ہے اور یہ کسی بھی قسم کے مناقشہ اور بحث کا مقام نہیں ہے۔

اسی وجہ سے کلمہ اصول دین کو دو معنی عام و خاص میں استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کی عام اصطلاح فروع دین اور بعض احکام کے مقابلہ میں بولی جاتی ہے، اور اس کی خاص اصطلاح بنیادی ترین عقائد سے مخصوص ہے، اسی طرح آسمانی ادیان کے درمیان مشترک عقائد جیسے اصول سہ گانہ (توحید ، نبوت اور معاد) بطور مطلق (اصول دین) اور ان کے علاوہ چند اصل کے اضافہ کے ساتھ (اصول دین خاص) یا پھر ایک چند وہ اعتقادات جو کسی مذہب یا فرقہ کی پہچان ہیں، اضافہ کر کے ( اصول دین و مذاہب) یا (ایک مذہب کے اصول عقائد) کاحصہ شمار کئے جا سکتے ہیں۔

سوالات:

١۔دین کے لغوی اور اصطلاحی مفاھیم کو بیان کریں؟

٢۔ جہان بینی اور آئیڈیا لوجی کی تعریف کے علاوہ ان دونوں کے فرق کو واضح کریں؟

٣۔ جہان بینی کی دو کلی کی وضاحت کریں؟

٤۔ اصول دین کی دو عام و خاص اصطلاحیں ہیں اس کی وضاحت کریں؟

٥۔ آسمانی ادیان میں مشترک اصول کیا ہیں، اور ان کی اہمیت کی وجہ کیا ہے؟

___________________

(۱)جہان بینی اورآئیڈیا لوجی کے سلسلہ میں زیادہ معلومات کے لئے رجوع کیا جائے ،کتاب کا نام آئیڈیا لوجی تطبیقی، درس اول۔

(۲)بعض آسمانی ادیان میں جباروں اور ستمگروں کی رضایت حاصل کرنے کے لئے بعض تحریفات کچھ اس طرح ہیں کہ، دین کے دائرے کو خدا کے ساتھ انسان کے رابطہ میں محدود اور احکام دین کو خاص مذہبی مراسم سے مخصوص، سماج کی سیاست اور اس کے امور کو دائرہ دین سے خارج کردیاگیا ہے جبکہ ہر دین آسمانی معاشرہ کی تمام ضرور توں کو بر طرف کر نے کا ذمہ دار ہوتا ہے

تا کہ دنیوی و اخروی سعاد ت حاصل ہو سکے جنھیں سمجھنے کے لئے عام انسانوں کی عقلیں نا کافی ہیں، اس مطلب کی توضیح انشاء اللہ آئندہ آئے گی، اور خدا کی جانب سے مبعوث ہونے والے آخری پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر واجب ہے کہ وہ قیامت تک کے وہ تمام دستورات جو انسانوں کے لئے ضروری ہیں، بیان کریں، اس وجہ سے اسلامی تعلیمات میں اجتماعی و سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ موجود ہے۔