میراحسین تیرا حسین علیہ السلام

میراحسین تیرا حسین علیہ السلام0%

میراحسین تیرا حسین علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 81

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 81 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 10124 / ڈاؤنلوڈ: 676
سائز سائز سائز
میراحسین تیرا حسین علیہ السلام

میراحسین تیرا حسین علیہ السلام

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

میرا حسین تیرا حسین

ماخذ: اردو کی برقی کتاب

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

۳

فیض احمد فیض

رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے

ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے

مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے

مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے

٭

تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے

یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے

٭٭

دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی تھی

پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی

ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی

یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی

٭

رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے ایسے

تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے

٭٭

۴

اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار

اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے سردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار

اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار

٭

مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے تھے

ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے

٭٭

کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی

ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی

ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا تھی

ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا تھی

٭

پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو دیکھا

پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا

٭٭

۵

الحمد قریب آیا غمِ عشق کا ساحل

الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی نازل

بازی ہے بہت سخت میانِ حق و باطل

وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل

٭

بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو

باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو

٭٭

پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ چمکی

اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی

نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ چمکی

شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی

٭

دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا صحرا

خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا صحرا

٭٭

۶

پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ اعدا

تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا

ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا

یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا

٭

کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا نے

خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء نے

٭٭

فرمایا کہ کیوں در پۓ ‌آزار ہو لوگو

حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو لوگو

واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو لوگو

معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو لوگو

٭

کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی ہے

معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی ہے

٭٭

۷

سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم کو

اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم کو

زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو

جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم کو

٭

سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے

اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس ہے

٭٭

طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار

باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے پرستار

انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے طرفدار

ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے مددگار

٭

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے

جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ‌ہے

٭٭

۸

تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے گا

تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا

جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے گا

جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے گا

٭

نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے گا

نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے گا

٭٭

کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے شبّیر

پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے شبیر

قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے شبیر

خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے شبیر

٭

مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا

اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا

٭٭٭

۹

سوگواران حُسین سے خطاب

جوش ملیح آبادی

اِنقلابِ تُند خُو جس وقت اُٹھائے گا نظر

کَروٹیں لے گی زمیں، ہوگا فلک زیر و زبر

٭

کانپ کر ہونٹوں پر آ جائے گی رُوحِ بحر و بر

وقت کا پیرانہ سالی سے بھڑک اُٹھے گا سر

٭

موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا

ہاں مگر نامِ حسین علیہ السلام ابن علیؓ رہ جائے گا

٭

کون؟ جو ہستی کے دھوکے میں نہ آیا، وہ حسینؓ

سَر کٹا کر بھی نہ جس نے سر جھکایا ، وہ حسینؓ

٭

جس نے مر کر غیرتِ حق کو جِلایا، وہ حسینؓ

موت کا منہ دیکھ کر جو مُسکرایا، وہ حسینؓ

٭

کانپتی ہے جس کی پیری کو جوانی دیکھ کر

ہنس دیا جو تیغِ قاتل کی رَوانی دیکھ کر

٭

۱۰

ہاں نگاہِ غور سے دیکھ اے گروہِ مومنیں!

جا رہا ہے کربلا خیرالبشر کا جانشیں

٭

آسماں ہے لرزہ بر اندام، جنبش میں زمیں

فرق پر ہے سایہ افگن شہپرِ روح الامیں

٭

اے شگوفو،السَّلام، اے خفتہ کلیو الوداع

اے مدینے کی نظر افروز گلیو الوداع

٭

ہوشیار، اے ساکت و خاموش کُوفے! ہوشیار

آرہے ہیں دیکھ وہ اعدا قطار اندر قطار

٭

ہونے والی ہے کشاکش درمیانِ نور و نار

اپنے وعدوں پر پہاڑوں کی طرح رہ استوار

٭

صبح قبضہ کر کے رہتی ہے اندھیری رات پر

جو بہادر ہیں، اَڑے رہتے ہیں اپنی بات پر

٭

۱۱

لُو کے جھکّڑ چل رہے ہیں، غیظ میں ہے آفتاب

سُرخ ذرّوں کا سمندر کھا رہا ہے پیچ و تاب

٭

تشنگی، گَرمی، تلاطُم، آگ، دہشت، اضطراب

کیوں مسلمانو! یہ منزل، اور آلِ بُو تراب ؓ

٭

کس خطا پر تم نے بدلے ان سے گن گن کے لیئے

فاطمہؓ نے ان کو پالا تھا اسی دن کے لیئے؟

٭

لو وہ مقتل کا سَماں ہے، وہ حریفوں کی قطار

بہ رہی ہے نہر لو وہ سامنے بیگانہ وار

٭

وہ ہوا اسلام کا سرتاج مَرکب پر سَوار

دھوپ میں وہ برق سی چمکی، وہ نکلی ذوالفقار

٭

آ گئی رَن میں اجل، تیغ دو دَم تولے ہوئے

جانبِ اعدا بڑھا دوزخ وہ منہ کھولے ہوئے

٭

۱۲

دُور تک ہلنے لگی گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمیں

کوہ تھرّانے لگے، تیورا گئی فوجِ لعین

٭

زد پر آ کر کوئی بچ جائے، نہیں، ممکن نہیں

لُو حسین ابن علیؓ نے وہ چڑھا لی آستیں

٭

آستیں چڑھتے ہی خونِ ہاشمی گرما گیا

ناخدا! ہشیار، دریا میں تلاطُم آگیا

٭

ظُہر کے ہنگام، کچھ جھکنے لگا جب آفتاب

ذوقِ طاعت نے دلِ مولیٰ میں کھایا پیچ و تاب

٭

آ کے خیمے سے کسی نے دوڑ کر تھامی رکاب

ہو گئی بزمِ رسالت میں امامت باریاب

٭

تشنہ لب ذرّوں پہ خُونِ مشکبو بہنے لگا

خاک پر اسلام کے دل کا لَہُو بہنے لگا

٭

۱۳

آفرین چشم و چراغِ دُود مانِ مصطفیٰؐ

آفرین صد آفرین و مرحبا صد مرحبا

٭

مرتبہ انسان کو تو نے دوبالا کر دیا

جان دے کر، اہلِ دل کو تو سبق یہ دے گیا

٭

کشتیِ ایمان کو خونِ دل میں کھپنا چاہئے

حق پہ جب آنچ آئے تو یوں جان دینا چاہئے

٭

اے مُحیطِ کربلا! اے ارضِ بے آب و گیاہ

جراتِ مردانۂ شبیرؓ کی رہنا گواہ!

٭

حشر تک گونجے گا تجھ میں نعرہ ہائے لا الہ

کج رہے گی فخر سے فرقِ رسالت پر کُلاہ

٭

یہ شہادت اک سبق ہے حق پرستی کے لیئے

اک ستونِ روشنی ہے بحرِ ہستی کے لیئے

٭

۱۴

تُم سے کچھ کہنا ہے اب اے سوگوارانِ حسینؓ

یاد بھی ہے تم کو تعلیمِ امامِ مشرقین؟

٭

تا کُجا بھولے رہو گے غزوۂ بدر و حنین؟

کب تک آخر ذاکروں کے تاجرانہ شورشین؟

٭

ذاکروں نے موت کے سانچے میں دل ڈھالے نہیں

یہ شہیدِ کربلا کے چاہنے والے نہیں

٭

کہہ چکا ہوں بار بار، اور اب بھی کہتا ہوں یہی

مانعِ شیون نہیں میرا پیغامِ زندگی

٭

لیکن اتنی عرض ہے اے نو اسیرِ بُزدلی

اپنی نبضوں میں رواں کر خونِ سر جوشِ علیؓ

٭

ابنِ کوثر! پہلے اپنی تلخ کامی کو تو دیکھ

اپنے ماتھے کی ذرا مُہرِ غلامی کو تو دیکھ

٭

۱۵

جس کو ذِلّت کا نہ ہو احساس وہ نامرد ہے

ننگِ پہلو ہے وہ دل جو بے نیازِ درد ہے

٭

حق نہیں جینے کا اُس کو جس کا، چہرہ زرد ہے

خود کشی ہے فرض اُس پر، خون جس کا سرد ہے

٭

وقتِ بیداری نہ غالب ہو سکے جو نَوم پر

لعنت ایسی خُفتہ ملّت پر، تُف ایسی قوم پر!

٭

زندہ رہنا ہے تو میرِ کارواں بن کر رہو

اس زمیں کی پستیوں میں آسماں بن کر رہو

٭

دورِ حق ہو تو نسیمِ بوستاں بن کر رہو

عہدِ باطل ہو تو تیغِ بے اماں بن کر رہو

٭

دوستوں کے پاس آؤ نور پھیلاتے ہوئے

دُشمنوں کی صف سے گزرو آگ برساتے ہوئے

٭

۱۶

دورِ محکومی میں راحت کفر، عشرت، ہے حرام

مہ وشوں کی چاہ، ساقی کی محبت ہے حرام

٭

علم ناجائز ہے، دستارِ فضیلت ہے حرام

انتہا یہ ہے غُلاموں کی عبادت ہے حرام

٭

کوئے ذلّت میں، ٹھہرنا کیا، گزرنا بھی ہے حرام

صرف جینا ہی نہیں، اس طرح مرنا بھی ہے حرام

٭٭٭

۱۷

حفیظ جالندھری

لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا

تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا

یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے

کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

یہ جس کی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے

کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے

غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر

اٹھی صدائے الاماں زبان شرق و غرب سے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے

زمین بھی تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے

مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شکن فلک فگن

کمالِ صبر و تن دہی سے محو کارزار ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

۱۸

دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے

کہ جسکے دبدبے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے

حبیبِ مصطفی ہے مجاہدِ خدا ہے یہ

کہ جس طرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے

اُدھر ہیں دشمنانِ دیں ادھر فقط امام ہے

مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے

کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭٭

۱۹

سلام اُس پر

احمد فراز

حسین

اے میرے سر بریدہ

بدن دریدہ

سدا ترا نام برگزیدہ

میں کربلا کے لہو لہو دشت میں تجھے

دشمنوں کے نرغے میں

تیغ در دست دیکھتا ہوں

میں دیکھتا ہوں

کہ تیرے سارے رفیق

سب ہمنوا

سبھی جانفروش

اپنے سروں کی فصلیں کٹا چکے ہیں

گلاب سے جسم اپنے خوں میں نہا چکے ہیں

ہوائے جانکاہ کے بگولے

چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہیں

مسافرانِ رہِ وفا، لٹ لٹا چکے ہیں

۲۰