حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا0%

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا مؤلف:
زمرہ جات: امام حسین(علیہ السلام)
صفحے: 11

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا

مؤلف: صفدر ہمٰدانی
زمرہ جات:

صفحے: 11
مشاہدے: 1188
ڈاؤنلوڈ: 56

تبصرے:

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(1)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(2)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(3)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(4)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(5)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(6)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(7)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(8)

  • حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(9)

  • یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے

  • مرثیۂ نو

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 11 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 1188 / ڈاؤنلوڈ: 56
سائز سائز سائز
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا

مؤلف:
اردو
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(1) ماخذ: اردو کی برقی کتاب
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۱)
صفدر ہمٰدانی وہ روشنی ہے علی کی گھر میں فلک سے جو نور بہہ رہا iiہے
محبتوں کے کنول کھلے ہیں پہاڑ نفرت کا ڈھہ رہا iiہے

تمام شب آسماں سے لے کر زمیں تلک ذکرِ شہ رہا iiہے
عجب چراغاں ہے کہکشاں کا مَلَک مَلَک سے یہ کہہ رہا iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
خُدا کے پیارے نبی کے پیارے علی کے پیارے حسین iiآئے
ہوا نے سورج کو دی مبارک قرآں کے پارے حسین iiآئے

زمیں خوشی سے تھرک رہی تھی تھے رقصاں تارے حسین آئے
شفق،صدف، روشنی، ہوائیں سبھی پکارے حسین iiآئے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
فلک نے صدقے میں چاندنی دی زمیں نے لعل و گہر iiلٹائے
نبی نے والنجم رُخ کو چوما علی رِدا والقمر کی iiلائے

لبوں سے جرات نے پاؤں چومے گھٹے جلالت مآب سائے
دھنک، کھنک، زندگی، حرارت ،شجر،حجر سب یہ کہنے آئے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۱
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٢) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۲) صفدر ہمٰدانی حسین مہرِ مبیں ہے نُطقِ مبیں ہے کانِ یقیں ہے بے iiشک
وہ کشتۂ حق وہ ناصرِ حق وہ شام گُستر امیں ہے بے iiشک

وہ صبر پیما ں وہ ماہِ ایماں خُدا کے دل میں مکیں ہے بے شک
وہ فاتحِ ظلم و جورو نفرت نبی کی روشن جبیں ہے بے iiشک


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
وہ معنیِ کُن،وہ منشائے رب حسین صدق و صفا کا iiمحور
وہ جانِ زہرا وہ نفسِ حیدر وہ سر تا پا عکسِ روئے iiسرور

وہ تاجدارِ معارفِ حق وہ بےکس و ناتواں کا iiیاور
وہ ایک یزداں مزاج بندہ وہ آرزوئے ہر اِک پیمبر


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
سوار دوشِ رسول کا وہ صحیفہ شانِ بتول کا iiوہ
وہ نازشِ وقت ،میرِ ملت ہے منبع حق کے اصول کا iiوہ

حسین سازِ ازل کا نغمہ قصیدہ میرے رسول کا iiوہ
وہ نورِ شمعِ حریمِ حیدر شرف دعائے قبول کا iiوہ


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۲
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٣) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۳) صفدر ہمٰدانی وہ پورِ حیدر وہ نورِ حیدر خُدا کی عظمت کی وہ iiصداقت
وہ قوتِ قلبِ مصطفیٰ ہے وہ کربلا میں خُدائے iiہمت

وہ موت جس سے حیات مانگے وہ جس کی ہر اک ادا iiعبادت
وہ جس کا سجدہ بقائے دیں ہے وہ جس کی خیرات ہے شہادت


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
لہو سے روشن ہوا دیارِ خلیل جس کے حسین وہ iiہے
پڑھے قصیدے تا حشر فکرِ جمیل جس کے حسین وہ iiہے

ہاں پر بچھائے قدم تلے جبرئیل جس کے حسین وہ ہے
ہر اِک گلی میں یہ نام پر ہے سبیل جس کے حسین وہ ہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
جو کربلا میں ہوئی تھی نازل خُدا کی آیت حسین وہ iiہے
وہ جس کی قرآں نے بارہا دی ہے خود شہادت حسین وہ iiہے

لکھی ہے دینِ خُدا کی جس نے لہو سے قسمت حسین وہ iiہے
وہ بعد نبیوں کے جس کی جاری رہی ہدایت حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۳
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٤) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۴) صفدر ہمٰدانی جو شمعِ عرفاں، مزاجِ قرآں نبی کا ایماں حسین وہ iiہے
وہ نور صبحِ ازل میں جس کا ہوا نمایاں حسین وہ iiہے

لہو کے ذرے ہیں جس کے صحراؤں میں درخشاں حسین وہ iiہے
کرم سے جس کے ہے آج بھی با شعور انساں حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
بدل دئے جس نے اپنے خوں سے ستم کے دھارے حسین وہ ہے
زکوٰة ہیں جس کے نور کی یہ فلک پہ تارے حسین وہ iiہے

وہ جس نے کربل میں رنگ مٹی کے سب نکھارے حسین وہ iiہے
مدد کی خاطر وہ جس کو اللہ کا دیں پُکارے حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
وہ جس کو زینب کے دل دھڑکتے کا چین کہیئے حسین وہ iiہے
یقیں کی حد کو حضور کا نورِ عین کہیئے حسین وہ iiہے

حسین کہیئے امام کہیئے یا پھر شہِ مشرقین کہیئے حسین وہ iiہے
خُدا کے اور مصطفیٰ کے ہاں بین بین کہیئے حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۴
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٥) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۵) صفدر ہمٰدانی وہ جس نے عزت کتاب کی اور قلم کی رکھی حسین وہ iiہے
وہ جس نے دشتِ بلا میں حُرمت عَلَم کی رکھی حسین وہ iiہے

وہ جس نے ظلمت میں آس اُسکے کرم کی رکھی حسین وہ iiہے
وہ جس نے تکریم حشر تک کو حرم کی رکھی حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
جو کربلا کی اندھیری راتوں میں روشنی ہے حسین وہ iiہے
شہادتوں کے سفر کا حاصل جو زندگی ہے حسین وہ iiہے

گلاب میں جو لہو کی خوشبو سے تازگی ہے حسین وہ iiہے
بزیرِ خنجر جو ایک پیاسے کی بندگی ہے حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
وہ جس نے لکھا ہے موت کا اپنی آپ عنواں حسین وہ iiہے
وہ نام جس کا سُنیں تو ظلمت کدے ہوں لرزاں حسین وہ ہے

قسم خُدا کی خُدا پہ بھی جس جری کا احساں حسین وہ ہے
وہ جس کی آمد پہ سب ملائک ہوئے غزلخواں حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۵
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٦) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۶) صفدر ہمٰدانی ابد تلک کربلا نے پایا دوام جس سے حسین وہ iiہے
وہ تشنہ لب کر رہی تھی فطرت کلام جس سے حسین وہ ہے

خُدا کے دیں کو ملا ابد تک دوام جس سے حسین وہ iiہے
وہی کہ منسوب ہے غریبوں کی شام جس سے حسین وہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین کشتی حسین طوفاں حسین ساحل حسین iiلنگر
حسین اعلیٰ حسین بالا حسین مسجد حسین iiمنبر

حسین غازی حسین قاسم حسین اصغر حسین iiاکبر
حسین سجدہ حسین فردا حسین گردن حسین iiخنجر


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین آقا حسین داتا حسین مولا حسین شاہ iiہے
حسین ہادی حسین رہبر حسین سید ہے بادشاہ iiہے

حسین آیاتِ د ل نشیں ہے قسم خُدا کی کہ دیں پناہ iiہے
حسین مرنے کا ایک رستہ حسین جینے کی ایک راہ iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۶
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٧) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۷) صفدر ہمٰدانی حسین درسِ عمل بھی فخرِ ملَل بھی جانِ بتول بھی iiہے
حسین ایماں حسین عرفاں حسین نورِ رسول بھی iiہے

حسین یاور حسین داور حسین اصلِ اصول بھی iiہے
وہ کشتۂ حق ہوا ہے بے شک عنایتوں کا نزول بھی iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین سجدہ حسین کعبہ حسین صبحِ ظہور بھی iiہے
حسین مکہ،نجف مدینہ حسین قرآں ز بور بھی iiہے

لباس ہے عقل و آگہی کا حسین فکر و شعور بھی iiہے
اذاں بھی وہ اوجِ آسماں بھی حسین رب کا غرور بھی ہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین عالی حسین والی حسین مسجد حسین iiمنبر
حسین ہستی حسین بستی حسین پرچم حسین iiلشکر

حسین گوہر حسین جوہر حسین تسنیم حوضِ iiکوثر
حسین ہمت حسین جرات حسین خندق حسین خیبر


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۷
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٨) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۸) صفدر ہمٰدانی حسین راہبر حسین صابر حسین روح ہے حسین جاں ہے
وہ لختِ زہرا قرآں کا پارہ حسین معراجِ عاشقاں iiہے

حسین منزل حسین ساحل خزاں کے موسم میں گُلستاں ہے
حسین گُل ہے حسین کُل ہے قسم شہادت کا آسماں iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین بادل حسین بارش حسین موسم حسین پانی
حسین مقتل لہو کا جنگل کٹا کے سر درگُزر کا iiبانی

حسین حمدو ثنا کی مستی حسین اک سوزِ نوحہ iiخوانی
حسین شاہِد حسین واحِد کہاں سے لاؤ گے اُس کا iiثانی


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین دائم حسین قائم حسین بحرِ حیا میں iiگوہر
حسین عالم حسین اعظم حسین تشنہ لبی کا iiجوہر

حسین تارا لہو کا دھارا حسین فتح و ظفر iiسراسر
حسین طاہر حسین اطہر حسین اپنی جگہ iiپیمبر


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۸
حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا(٩) حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا
(۹)
صفدر ہمٰدانی حسین مرگِ ملوکیت ہے حسین انکار جبر کا iiہے
حسین معراجِ تشنگی ہے حسین معیار صبر کا iiہے

حسین کر ب و بلا کی تپتی زمیں پہ سایہ اک ابر کا iiہے
حسین جینے کا حوصلہ بھی مگر مددگار قبر کا iiہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

***
حسین کے رُخ کا نور صفدر خُدا گواہ ہے خُدا کا رنگ iiہے
حسین دل سے تو کہہ کے دیکھو یہ نام خود اک جزا کا رنگ ہے

یہ لفظ سارے عطا ہیں اُن کی یہ منقبت التجا کا رنگ ہے
حسین کہنا حسین لکھنا قسم ہے وردِ دعا کا رنگ ہے


حسین میرا حسین تیرا حسین سب iiکا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب iiکا

٭٭٭

۹
یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے صفدر ہمٰدانی اک اور نیا بابِ سخن کھولا ہے میں iiنے میزانِ محبت میں گہر تولا ہے میں iiنے
اس روح پہ لکھا سانسوں سے جو مولا ہے میں نے شبیر کو معلوم ہے کیا بولا ہے میں نے
یہ علم ہے صفدر مجھے قسمت کا دھنی iiہوں مولائی ہوں میں حیدری ہوں پنجتنی iiہوں

فن مجھ کو ملا ہے یہ نبی زاروں کے در iiسے زہرا تری چوکھٹ سے محمد ترے گھر iiسے
لفظوں کو عطا روشنی ہو شمس و قمر iiسے طالب ہوں فقط داد کا اربابِ ہُنر iiسے
اس بزم میں اب نور جو اُترے گا وہ iiتکنا ہر سمت گلستان جو بکھرے گا وہ iiتکنا

اس بزم میں ہے مدحتِ شبیر کی iiخوشبو جس طرح سے ہیں شام نے کھولے ہوئے iiگیسو
خوشبو مرے الفاظ کی پھیلی ہوئی ہر سو ہر لفظ کو تولے ہے مودت کا iiترازو
ماتم کے ہیں یہ داغ جو سینے پہ سجے iiہیں صفدر تجھے سرخاب کے پر آج لگے iiہیں

ہر بند میں ہر مصرعہ مودت کا ہے iiاظہار آیات کی طرح سے ہے اشعار کا iiمعیار
پھیلی ہوئی مجلس میں فقط نکہتِ iiافکار ایسے میں ہوں خوشنودیِ مولا کا طلبگار
ہر بیت میں جو فکر کا ایک پھول کھلے iiگا اس کا تو صلہ ساقیِ کوثر سے ملے iiگا

ایسے میں قلم میرا جو قندیلِ حرم iiہے احسان ہے شبیر کا اللہ کا کرم iiہے
اک وصفِ جداگانہ یہ اندازِ رقم iiہے سچ پوچھیں اگر آپ قلم،میرا علم iiہے
انوارِ محمد کا بیاں ہے سرِ محفل ہر حرف مرا نور فشاں ہے سرِ iiمحفل

اللہ کی ہاں رحمتِ بے حد کی قسم iiہے ہاتھوں میں ترے مولا عقیدت کا بھرم iiہے
الفاظ کی صورت میں ترا ابرِ کرم iiہے ہر لفظ مرا جاہ و حشم ،ناز و نعم iiہے
اس فکر کی حد ہے اسے معراج ہوئی iiہے معراج یہ اب سر کا مرے تاج ہوئی iiہے

میں جانتا ہوں خوب ہے کیا مدح کی منزل ہوں اُس کا مدح خوان جو ہے عشق میں iiکامل
وہ جس کی مودت میں دھڑکتا ہے مرا iiدل یہ لفظ کہاں انکی ثنا خوانی کے iiقابل
اُن کا جو کرم ہو تو یہ دشوار نہیں iiہے مطلوب مرا وہ ہے فلک جس کی زمیں iiہے

اشعار میں اب بجلی چمک جائے گی iiتکنا سورج کی طرح بیت دمک جائے گی iiتکنا
اب ساری فضا جیسے مہک جائے گی iiتکنا اس عشق میں بینائی دہک جائے گی iiتکنا
الفاظ کو معلوم ہے یہ حدِ ادب ہے اب سامنے لو اُن کے مرا دستِ طلب iiہے

اے دستِ طلب فکر نہ کر ہم ہیں ترے iiساتھ اے گردشِ ایام ٹھہر ہم ہیں ترے iiساتھ
مت ڈال زمانے پہ نظر ہم ہیں ترے iiساتھ دے دنیا کو فردا کی خبر ہم ہیں ترے iiساتھ
اے دستِ طلب ہو کوئی اسباب کی iiصورت تارہ بھی نظر آئے جو ماہتاب کی iiصورت

اے دستِ طلب مانگ لے اُس در کی رسائی جس در کے غلاموں میں بھی ہے عقدہ iiکُشائی
اس در پہ شہنشاہوں کی عزت ہے گدائی اس در کی فقیری ہے دو عالم کی iiخدائی
یہ در ہے وہ در جس سے ہر اعزاز ملا iiہے جینے کا یقیں،مرنے کا انداز ملا iiہے

اے دستِ طلب جھکنا نہیں دولتِ زر iiپر ہووے نہ تکبر کہیں لکھنے کے ہُنر iiپر
کرنا نہ بھروسہ کبھی شب پر نہ سحر iiپر نکلو جو کبھی مرثیہ لکھنے کے سفر iiپر
تاثیرِ سخن،زورِ قلم ساتھ میں iiرکھنا دل درد سے لبریز تو غم ہاتھ میں iiرکھنا

اے دستِ طلب گرمیِ بازارِ سخن iiدیکھ مجلس میں ہے پھیلا ہوا انوارِ سخن iiدیکھ
مولا کے تصدق میں یہ دربارِ سخن iiدیکھ ہاں کیفیتِ قلب تو اظہارِ سخن دیکھ
یہ مرثیہ لکھنا بھی فضیلت کا نشاں iiہے ماہتاب ہے یہ وہ کہ جو محشر میں عیاں iiہے

اے دستِ طلب کر لے طلب جدتِ iiافکار یہ مرثیہ ہے نظم و غزل کے نہیں iiاشعار
عشق آلِ محمد سے ہے ان شعروں کا iiمعیار ہر دم رہو خوشنودیِ حیدر کے طلبگار
جو دل میں طلب ہے وہ پیمبر سے ملے iiگی بن کر یہ دعا پھول مرے لب پہ کھلے iiگی

ہر لفظ کہ جس طرح گُلِ باغِ ارم iiہے بے شک ہے دعا زہرا کی زینب کا کرم iiہے
یوں ذہن کشادہ ہے کہ جوں بابِ حرم iiہے کوثر کی طرح پاک مرا دیدۂ نم iiہے
ہر بیت پہ ہاں مرحبا جبریل کہے iiگا اب نام مرا دیکھنا تا حشر رہے iiگا

اللہ کے مطلوب ہیں جو اُن کا بیاں iiہے اس گھر کا ہر اک فرد محمد کی زباں iiہے
یہ عشق بھی سچ ہے کہ عیاں ہو کے نہاں iiہے اس گھر کی حفاظت میں اقامت ہے اذاں ہے
ایمان کی طرح جو فروزاں یہ وہ گھر iiہے تاریکیوں میں ہے جو چراغاں یہ وہ گھر iiہے

اس گھر میں ہر اک پیرو جواں اہلِ نظر ہے سچ بات تو یہ مرکزِ امیدِ ظفر iiہے
یہ وہ ہیں جنہیں ہر کس و ناکس کی خبر iiہے دہلیز یہ معراج کی بھی راہ گزر iiہے
اس در کا مَلَک،نجم و قمر چوم رہا iiہے اس در پہ زمیں کیا ہے فلک گھوم رہا iiہے

اس گھر میں مشیت کو مچلتے ہوئے iiدیکھا اس در پہ پہاڑوں کو بھی چلتے ہوئے iiدیکھا
پانی کو یہاں آگ اگلتے ہوئے iiدیکھا ہاں حُر کے مقدر کو بدلتے ہوئے iiدیکھا
موت ان سے طلب کرتی ہے جینے کی اجازت ملتی ہے اسی در سے مدینے کی iiاجازت

یہ وادیِ پُر نور ہے صحرائے زماں iiمیں پیغامِ بہاراں ہے یہ گھر فصلِ خزاں iiمیں
یوں ذکر انہی کا ہوا قرآں میں اذاں iiمیں بخشش کا وسیلہ ہے یہ گھر دونوں جہاں میں
اللہ نے اس گھر کو جہاں ساز کہا iiہے کُن میں جو نہاں ہے اسے وہ راز کہا iiہے

اس در سے خورشید نمودار ہوا iiہے صحرا اسی دہلیز پہ گُلزار ہوا iiہے
انساں کا مقدر یہیں بیدار ہوا ہے خالق کی تمناؤں کا اظہار ہوا iiہے
بھٹکے ہوئے انساں کو یہی راہ دکھا iiدیں ذرے کو اگر چاہیں تو ماہتاب بنا iiدیں

یہ قبلۂ ایمان ہیں یہ کعبۂ iiحاجات دن کی طرح روشن ہے اسی در پہ سیاہ iiرات
ہاں وصفِ عزاداری اسی گھر کی ہے iiسوغات تم چاہو تو اس در پہ بدل سکتے ہو iiحالات
اس آئینۂ دل کو جِلا ان سے ملی iiہے ہاں شمس و قمر کو بھی ضیا ان سے ملی iiہے

اس در کے فقیروں میں سلاطینِ زماں iiہیں ہو بات اگر عزم کی تو کوہِ گراں iiہیں
ان ہی کے تصدق میں تو احساس جواں iiہے خالق نے کہا ان کو جہاں کے نگراں iiہیں
ہم ان سے محبت یونہی بے جا نہیں iiرکھتے یہ اپنے تسلط میں بھلا کیا نہیں iiرکھتے

اس در پہ ٹھہر جاتی ہے ہاں گردشِ iiایام اُترے ہیں ستارے اسی چوکھٹ پہ ہر اک iiشام
ہاں صبر کی دولت ہے میسر یہاں ہر iiگام روشن ہے یہاں صبح کی طرح شبِ iiآلام
فطرت کی رواں نبض یہاں رُک نہیں iiسکتی ناپاک جبیں آ کے یہاں جھُک نہیں iiسکتی

اس در پہ سمجھ آتی ہے ہر رمزِ مشیت صدقے میں انہی کے ملی آدم کو iiفضیلت
قرآن کی آیات کی یہ گھر ہے iiوضاحت ہے ان کے مزاجوں سے عیاں اللہ کی iiعادت
انساں کو یہیں تحفۂ آواز ملا iiہے جبریل کو تسبیح کا اعزاز ملا ہے

ہے بعدِ خدا گھر یہی تقدیس کا iiمحور اس گھر سے نظر آتا ہے معراج کا iiمنظر
بے شک ہے یہ گھر مرکزِ انوارِ iiپیمبر ہاں خوشبوئے حسنین سے یہ گھر ہے iiمعطر
پروانۂ جنت کے لیئے ہم کو خبر iiہے اللہ کا در ہے یا ید اللہ کا در iiہے

اس گھر کی ہے بنیاد میں ایماں کی حرارت جو ان کی رضا ہے وہی اللہ کی iiمشیت
یہ حفظِ عبادت ہیں یہ بنیادِ iiعبادت اس گھر کی اطاعت میں ہے اللہ کی iiاطاعت
تطہیر کی آیات میں اس در کی ہے iiتعریف یہ سورۂ کوثر بھی اسی گھر کی ہے iiتعریف

اس گھر کی فضا رشکِ گلستانِ ارم iiہے توصیف میں ان کی جو زیادہ لکھو کم iiہے
خالق نے جو کھائی ہے وہ ان ہی قَسَم ہے اس گھر کی مدح ذکرِ شہنشاہِ اُمم iiہے
لیں سانس تو خوشبوئے صبا پھیلتی جائے انوار کی بارش سے ضیا پھیلتی iiجائے

اس گھر میں کھِلی روشنیِ صبحِ ازل iiہے کوثر کے چمکتے ہوئے پانی کا کنول iiہے
اس در پہ ہر اک پنجۂ طاغوت بھی شل iiہے ان کے جو حرف لکھا تاج محل iiہے
اس در پہ کوئی راز بھی پنہاں نہیں iiرہتا جو ان اک انہیں اُس کا تو ایماں نہیں iiرہتا

اس گھر کو ملائک نے کہا عرش کا زینہ انہوں نے ہی سکھلایا ہے سجدوں کا iiقرینہ
اس گھر کا ہر اک فرد شہادت کا iiنگینہ یہ گھر ہے نجف، کرب و بلا، iiمکہ،مدینہ
دیواریں پڑھیں اس کی پیمبر کا iiقصیدہ رضوان نے خود لکھا ہے اس گھر کا iiقصیدہ

یہ گھر ہے یا اللہ کی عظمت کا نشاں iiہے ہر ایک مکیں اس کا مسیحائے جہاں ہے
گونگی ہوئی اس بزم میں موسیٰ کی زباں iiہے اس گھر پہ فرشتوں کو بھی کعبے کا گماں iiہے
اس گھر کی زمیں خطۂ فردوسِ بریں iiہے گھر ایسا جہانوں میں کوئی اور نہیں ہے

خیرات ہیں اس گھر کی یہ سب چاند iiستارے جبریل بھی اس در پہ مقدر کو iiسنوارے
یہ وہ ہیں بدل دیتے ہیں جو وقت کے iiدھارے بخشش کے لیئے نوح بھی اس در پہ پکارے
خود رب نے بھی ہاں مرضیِ رب ان کو کہا iiہے تخلیقِ دو عالم کا سبب ان کو کہا ہے

یہ گھر ہے یا پھر ہے حرمِ خالقِ iiاکبر ہے اس کی زمیں عرشِ معلیٰ کے iiبرابر
اس مٹی کے ذروں میں ہے نورِ مہ و iiاختر اس گھر میں ہے پھیلی ہوئی خوشبوئے iiپیمبر
اس گھر کا شرف بیتِ الہی سے ملا iiہے صحرائے عرب میں جوں کوئی پھول کھِلا iiہے

ایمان کی تعلیم کا مرکز ہے یہی iiگھر ہاں کوثر و تسنیم کا مرکز ہے یہی iiگھر
عرفان کی تقسیم کا مرکز ہے یہی گھر الحمد کی تفہیم کا مرکز ہے یہی iiگھر
یہ در درِ حسنین ہے یہ معبدِ حق iiہے یاں پہلا سبق شوقِ شہادت کا سبق ہے

اس خانۂ زہرا کو کہو نور کا iiمخزن یہ گھر نہیں گلہائے محمد کا ہے iiمسکن
سوچوں سے فزوں ان کی عنایات کا iiدامن والشمس کی طرح سے ہر اک چہرہ ہے iiروشن
اللہ نے انہیں لائقِ تعظیم کہا iiہے یٰسین کہا،احسنِ تقویم کہا ہے

اس گھر نے سکھایا ہے محبت کا iiقرینہ یہ درس اسی گھر سے ملا موت ہے iiجینا
اعزاز اسی گھر کا شہنشاہِ iiمدینہ وہ نوح کا سفینہ تھا یہ حیدر کا iiسفینہ
دہلیز کو اس گھر کی صبا چوم رہی iiہے تک تک کے اسے غارِ حرا جھوم رہی ہے

یہ غارِ حرا شاہدِ اقرارِ iiرسالت دامن میں لیئے دونوں جہانوں کی تھی iiرحمت
اس غار کی قسمت تھی محمد کی iiعبادت اب تک ہے یہ اعلانِ نبوت کی iiعلامت
انوار کی بارش ہوئی اس غار پہ دن iiرات مسحور ہے یہ قسمتِ بیدار پہ دن iiرات

ہوتا ہے یہاں صبح و مسا ذکرِ iiمحمد کرتی ہے یہاں آ کے صبا ذکرِ iiمحمد
کونین کے خالق کی عطا ذکرِ iiمحمد سچ پوچھیں تو ہے ذکرِ خُدا،ذکرِ محمد
جبریلِ امیں لائے یہیں تاجِ iiرسالت اللہ بھی پہنائے یہیں تاجِ iiرسالت

یہ غارِ حرا مسکنِ خورشیدِ iiنبوت یہ غارِ حرا شاہدِ اعلانِ iiنبوت
اسلام کے آغاز کی یہ پہلی iiشہادت لہرایا ملائک نے یہیں پرچمِ iiوحدت
یہ غار گواہی بنی نورِ ازلی iiکی یاں پر بھی محمد کو ضرورت تھی علی iiکی

لاریب رسالت کا نگہبان علی ہے اسرارِ الہی کا گلستان علی iiہے
ہر سلسلۂ خیر عنوان علی iiہے اسلام پہ اللہ کا احسان علی iiہے
کیا جنگ علی کی تھی محمد کے عدو iiسے یہ فیض بھی پہنچا ابوطالب کے لہو iiسے

سچ کہہ دوں محمد کا بھی ایمان علی iiہے ہے فخرِ نبی نازشِ سلمان علی iiہے
ہر دور میں ہر فتح کا اعلان علی ہے ہاں حشر کی منزل کا بھی سامان علی iiہے
تقسیم ہوئیں نعمتیں ساری اسی گھر iiسے شرمندہ اجل تھی ابوطالب کے پسر iiسے

جو رشکِ ملائک ہے وہ انسان علی iiہے اللہ کی مشیت کا بھی ارمان علی iiہے
قرآن کہے جس کو وہ میزان علی ہے اس دل کی حسیں بستی کا سلطان علی iiہے
کعبے کو شرف ان کی ولادت سے عطا iiہے وہ پھول ہے جو قلبِ محمد میں کھِلا iiہے

جرار علی حیدرو صفدر بھی علی iiہے سجدے میں سخاوت کا سمندر بھی علی iiہے
یہ شان ہے کہ نفسِ پیمبر بھی علی iiہے باہر بھی علی ہے مرے اندر بھی علی iiہے
آغوشِ پیمبر میں پَلا ہے علی حیدر اک نور کے پیکر میں ڈھلا ہے علی iiحیدر

ہر دور کے فرعون پہ مولا مرا غالب ایمانِ علی مظہرِ شانِ iiابوطالب
عاجز ہوئے اس در پہ معانی و iiمطالب ہر ایک ولی ان کی محبت کا ہے طالب
یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے قرآں کہے قرآں کی حفاظت ہے علی iiسے
٭٭٭

۱۰
مرثیۂ نو حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا مرثیۂ نو
(۱) صفدر ہمٰدانی اک عجب صورت حالات مرے چاروں iiطرف دن میں بھی جیسے سیاہ رات مرے چاروں iiطرف
بے کفن لاشوں کی سوغات مرے چاروں iiطرف خون میں غلطاں ہیں آیات مرے چاروں iiطرف
اس برس کیا ہے کہ موضوعِ سخن ملتا iiنہیں فکر کی شاخ پہ کیوں پھول کوئی کھلتا iiنہیں
**جسم زخموں سے مرا چور ہے کیسے لکھوں جب قلم لکھنے سے معذور ہے کیسے iiلکھوں
دل مدینے سے بہت دور ہے کیسے iiلکھوں ظُلم یہ وعدۂ جمہور ہے کیسے iiلکھوں
کوئی بتلاؤ ہوا عا لم ِ اسلام کو iiکیا پڑھ نہیں سکتے ہیں ہم اپنے ہی انجام کو کیا
**وقت کے چہرے پہ لکھی ہے عجب iiمایوسی اب دعاؤں میں لگے کرنے طلب iiمایوسی
زخم ہی زخم عجم سارا عرب iiمایوسی مرگِ ملت کا فقط ایک سبب iiمایوسی
فخر صدیوں کا مرا پنجۂ طاغوت میں iiہے روحِ افکار مقید مری تابوت میں ہے
**مصلحت کیا ہے جو اس ظلم پہ خاموش ہیں iiسب موت کے پنجے میں ہیں اس لیئے بے ہوش ہیں سب
خون پیتے ہیں یہ کہنے کو تو مے نوش ہیں iiسب حکمراں نشۂ طاقت میں یوں مدہوش ہیں iiسب
پیاس بجھ جائے یہی تیغِ عدو چاہتی ہے یہ زمیں اور بھلا کتنا لہو چاہتی iiہے
**نصرتِ حق ہو کہاں جذبۂ نصرت iiناپید جبر کے سامنے انکار کی جرات iiناپید
ذکر مظلوم کا اور ظلم سے نفرت iiناپید حد تو یہ آلِ محمد سے محبت iiناپید
نامِ جمہور پہ تخریب کا سامان ہے iiآج شہر تو جل گئے روشن مگر ایوان ہے iiآج
**جس طرف دیکھئے دہشت کی فضا چھائی iiہوئی جسم ساکت ہوا اور آنکھ ہے پتھرائی iiہوئی
اب نہ احساس یہ باقی ہے کہ رسوائی iiہوئی روشنی اپنے ہی سائے سے ہے گھبرائی iiہوئی
ایسے حالات یزیدوں کو جنم دیتے iiہیں با ضمیروں کو مورخ کا قلم دیتے ہیں
**اسی خاموشی سے ہاں ظلم جنم لیتا iiہے حد سے بڑھ جائے تو انگڑائی قلم لیتا iiہے
اور قلم سورۂ رحماں کی قسم لیتا iiہے فاتحِ صبر پھر ہاتھوں میں علم لیتا iiہے
اب پسینوں سے گلابوں کی مہک اٹھتی iiہے سچ تو یہ ہے کہ شبِ تار چمک اٹھتی iiہے
**اس شبِ تار میں تطہیر کا شعلہ iiروشن فکر روشن ہوئی آنکھیں مرا چہرہ iiروشن
صاف آنکھوں میں نظر آتا ہے جذبہ iiروشن اہلِ حق کے لیئے ہر ایک اشارہ iiروشن
اس شبِ تار میں روشن ہوئے ہجرت کے iiچراغ خون سے دل کے جلائے ہیں محبت کے iiچراغ
**وہ محبت جو ہواؤں میں جلاتی ہے iiچراغ وہ محبت جو لگاتی ہے محبت کا iiسراغ
ماتمی سینوں پہ روشن جوں مودت کے ہوں iiداغ وہ دلِ عاشق ِ شبیر میں خوشبوؤں کا iiباغ
کربلا میں یہ محبت جو بکھر جاتی iiہے پھر محبت کی بھی معراج نظر آتی iiہے
**ہو محبت تو لگیں سنگ بھی الماس و iiگہر مثلِ ماہتاب چمکنے لگیں رُخسارِ سحر
منقبت شان میں شان میں حیدر کی پڑھیں شمس و iiقمر اور قلم عجز سے آغاز کرے اپنا iiسفر
یہ وہ آیت ہے جو ہر وقت کا سلطان iiپڑھے یہ محبت ہے جو نیزے پہ بھی قرآن iiپڑھے
**وہ محبت کہ جسے صبر کی کہہ لیجے iiاساس وہ محبت کہ بجھے جس کی فقط نیزے سے iiپیاس
وہ محبت کی جو پہنے ہے شہادت کا iiلباس وہ محبت کہ حقیقت میں جو قرآن iiشناس
اس محبت میں فنا ہو جو وہ جلوہ دیکھے کربلا والی حقیقت کو سراپا iiدیکھے
**فلسفی جذبِ محبت کو قضا کہتے iiہیں صوفیا اس کو حدِ ارض و سما کہتے iiہیں
عشق والے اسے جینے کی سزا کہتے ہیں ہم علی والے محبت کو خدا کہتے iiہیں
حُر کے دل میں جو اتر جائے تو ایمان iiبنے آ کے شبیر کے ہونٹوں پہ یہ قرآن iiبنے
**یہ محبت ہے جو ہر ناز و ادا پر بھاری نطقِ داؤد پہ موسیٰ کے عصا پر iiبھاری
تاجِ شاہی پہ فقیہوں کی قبا پر بھاری ہاں غلط یہ بھی نہیں ارض و سما پر iiبھاری
معتبر حشر کے دن ہو گی گواہی اس iiکی صبح کے ماتھے پہ اک نور سیاہی اس iiکی
**غالب و مومن و شبلی و انیس و iiرومی خسرو و حافظ و خیام و دبیر و سعدی
جوش و فردوسی و عطار و جنید و iiکلبی کُشتہ و ذوق و مسیحا و رئیس و iiمصحفی
یہ وہ ہیں جنہوں نے ہر لفظ محبت iiلکھا اور محبت کو ہی ا لفاظ کی طاقت iiلکھا
**اس محبت کو فرشتے بھی پڑھیں مثلِ درود یہ محبت ہے وہ در جس پہ مَلَک سر iiبسجود
اس محبت کا یہ اعجاز کہ شاہد مشہود اس محبت کا تقاضہ ہے کہ پابندِ iiحدود
اس محبت نے شہادت کا جو اعلان iiکیا سچ تو یہ عرش پہ اللہ کو حیران iiکیا
**اس محبت کا ہے اعجاز اطاعت کے iiچراغ کربلا میں ہوئے روشن جو شہادت کے iiچراغ
خون سے اپنے جلائے ہیں محبت کے iiچراغ ظلم در پہ تھا بجھا دے وہ شریعت کے چراغ
اک بڑا حملہ محبت پہ جو اغیار کا iiتھا سب کا سب معرکہ قرآن سے انکار کا iiتھا
**کربلا والے محبت کو بچانے iiنکلے ایک شبیر نہیں ساتھ زمانے iiنکلے
نصرتِ حق کے دیئے خوں سے جلانے نکلے نوکِ نیزہ پہ وہ قرآن سنانے iiنکلے
جبر کا معرکہ تھا صبر کے معیار کے iiساتھ جنگ تھی آلِ محمد کے یہ کردار کے iiساتھ
**کربلا جنگ تھی طاغوت و جہالت کے iiخلاف بے عمل ظالم و جابر کی قیادت کے iiخلاف
تھا حکومت کا ہر اک کام شریعت کے خلاف ایسے حالات تھے سب دیں سے محبت کے iiخلاف
دیں کی نصرت کو جو اللہ کے بندے iiنکلے باندھ کر سر پہ کفن دشت میں بچے iiنکلے
**فاطمہ زہرا کے لو گود کے پالے iiنکلے یوں لگا جیسے محبت کے صحیفے iiنکلے
ساتھ بچوں کے جواں نکلے تو بوڑھے iiنکلے جس طرح تیغِ برہنہ سے ہوں شعلے iiنکلے
آنکھ میں اب جو ذرا ذوقِ ہنر آ iiجائے کربلا سامنے آنکھوں کے نظر آ iiجائے
**کربلا مہرِ محبت ترا ذرہ ذرہ تشنگی اب بھی بھٹکتی ہے یہاں پر ہر iiجا
چاند زہرا کا تری خاک پہ پیاسا iiتڑپا کربلا اب بھی ترے ساتھ ہے تشنہ iiدریا
آج بھی کرب و بلا ظلم کی مرقد کا iiنشاں خاکِ اکسیر ہے یہ صبر کی سرحد کا نشاں
**ہاں وہ اصغر کہ تھا ہتھیار تبسم جس iiکا طاقتِ جور و ستم سے تھا تصادم جس iiکا
اک بڑا حملہ تھا خاموش تکلم جس iiکا آج بھی جن و ملک کرتے ہیں ماتم جس iiکا
اُسی اصغر کے تبسم نے بقا پائی iiہے کیسی چھ ماہ کے بچے نے ادا پائی iiہے
**دشتِ غربت میں فلک نے یہ تماشہ iiدیکھا سامنے پیاسوں کے طاقت کا وہ دریا iiدیکھا
دم گھُٹا وقت کا اور نبض کو ٹھہرا دیکھا یہ بہتر تھے وہاں فوجوں کو صف آرا iiدیکھا
طے یونہی مرحلۂ تیغ و گلو ہونے iiلگا عصر کا وقت تھا اور خوں سے وضو ہونے iiلگا
**وہ جو ہم شکلِ پیمبر تھا تمدن کا iiشباب حُسنِ اکبر کے بیاں پر ہو تصدق iiمہتاب
ہاں حصار اسکا کیئے رہتی تھی خوشبوئے iiگلاب فرش پر عرش سے اُتری وہ محبت کی iiکتاب
جس نے دریائے تکلم کو روانی iiبخشی جس نے تا حشر اذانوں کو جوانی iiبخشی
**صبحِ عاشور میں اکبر کی اذان کی iiآواز نکتۂ جنگ کا ٹھہرا یہی لمحہ iiآغاز
تیر چلنے لگے دشمن کے کھُلا جبر کا راز جان دینے کو تھے آمادہ یہاں اہلِ iiنماز
وہ گھڑی آلِ محمد پہ بہت سخت iiہوئی اک سنان سینۂ اکبر میں جو پیوست iiہوئی
**بعدِ اکبر علی اصغر کا یزیدوں سے iiخطاب شیر خواری میں بھی بچے نے دکھایا وہ iiشباب
تیرِ حُرمل کا دیا خشک گلے سے یوں iiجواب کھِل گئے ہونٹوں پہ اصغر کے لہو رنگ گلاب
خون حُرمل نے بظاہر علی اصغر کو iiکیا سچ کہوں قتل مگر فکرِ پیمبر کو iiکیا
**خونِ بے شیر ملا شہ نے رُخِ انور iiپر ہر طرف نوحہ کُناں سینہ زناں جن و بشر
لاش ہاتھوں پہ تھی معصوم کی حیران iiپدر آ کے خیمے میں کہا مادرِ اصغر ہو iiکدھر
علی اصغر تمہیں ملنے کے لیئے آیا iiہے خونِ ناحق نے ترے بچے کو مہکایا ہے
**عصر کے وقت میں اب ہو گئے تنہا iiشبیر تشنگی ہونٹوں پہ اور صبر کا دریا iiشبیر
سامنے لشکرِ بے دیں کے صف آرا شبیر اسکے سانسوں کی ابھی تک ہے ہوا میں iiتاثیر
رُخ پہ شبیر کے جس پیاس سی لہراتی ہے شرم سی کوثر و تسنیم کو آ جاتی iiہے
**عصر کے وقت میں ہے سوئے فلک شہ کی iiنظر اب نہ عباس نہ اکبر ہیں نہ اصغر سا iiپسر
دن ڈھلا پھیل گئی دشتِ ستم میں یہ iiخبر لُٹ گئے آلِ نبی ختم محمد کا ہے iiگھر
ارضِ کربل جوں سمندر کا بھنور لگنے iiلگی عصر عاشور قیامت کی سحر لگنے iiلگی
**عرش پہ جن و ملک نے کہا انا اللہ تشنہ لب مارا گیا فاطمہ کا نورِ iiنگاہ
خون سے سرخ زمیں ہو گئی تاریخ iiسیاہ نوکِ نیزہ کی بلندی پہ محبت کا iiگواہ
سر کو معراج تلاوت کو صدا حاصل iiہے خونِ ناحق سے محبت کو بقا حاصل iiہے
**تھی زمیں لرزے میں اور اہلِ فلک نوحہ کُناں وہ قیامت تھی کہ ہو روزِ قیامت iiحیراں
دشتِ پُر ہول میں جاری تھا غضب کا iiطوفاں رُک گیا سانس مشیت کا جو بکھرا iiقرآں
سر قلم ہو گئے پر آلِ نبی جیت iiگئی جبر کی موت ہوئی تشنہ لبی جیت iiگئی
**خونِ شبیر کی سورج میں چمک آج بھی iiہے ہر سو پھیلی وہ محبت کی دھنک آج بھی iiہے
خونِ اصغر کی ہر اک گُل میں مہک آج بھی iiہے کربلا قصر سلاطیں میں دھمک آج بھی iiہے
معنیِ قلت و کثرت کو بدل دیتی ہے کربلا تخت کو پاؤں میں مسل دیتی iiہے
**اب قلم روک لو صفدر کہ ہوا وقتِ سحر خالقِ کون و مکاں سے یہ کہو رو رو iiکر
نفرتیں ختم ہوں مولا یہ محبت ہو iiاَمَر دیں حسین ابنِ علی مرثیہ لکھنے کا iiثمر
ہو جو توفیق تو مظلوم کو طاقت iiلکھوں اس قلم سے میں سدا لفظِ محبت iiلکھوں
٭٭٭

۱۱