البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم0%

البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤلف:
قسم: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)

  • شروع
  • پچھلا
  • 17 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 2247 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 95
سائز سائز سائز
البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تالیف : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

تحقیق و تدوین : فیض اﷲ بغدادی (منھاجین)

معاون تحقیق : اجمل علی مجددی (منھاجین)

نظرِثانی : ضیاء اﷲ نیر

زیر اِہتمام : فرید ملت (رح) ریسرچ اِنسٹیٹیوٹ

www.research.com.pk

مطبع : منہاجُ القرآن پرنٹرز، لاہور

اِشاعتِ اوّل : نومبر ۲۰۰۴ء

تعداد : ۱۱۰۰

قیمت : ۱۴۰ روپے

قیمت اِمپورٹڈ پیپر : ۲۳۰ روپے

ماخذ:منہاجُ بکس

پیش لفظ

الحمد ﷲ رب العالمين و الصلاة و السلام علی سيد المرسلين أما بعد!

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہم پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیر و توقیر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قلبی محبت اور امت پر واجب حقوق کی کما حقہ ادائیگی فرض قرار دی ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو ازرہِ تعلیم ارشاد فرمایا :

( إنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا لِتُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِه وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّ أَصِيْلًا )

القرآن، الفتح، ۴۸ : ۸، ۹

’’بے شک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم (لوگ) اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

مندرجہ بالا آیت ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر لازمی طور پر بجا لائیں یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی توحید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیرو توقیر کو اپنی تسبیح پر مقدم کیا ہے اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پایاں عظمت و اہمیت کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا یہ قول :

( فَالََّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِه وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ اُوْلٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )

’’پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

الأعراف، ۷ : ۱۵۷

درج بالا آیت بھی ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم پر واجب حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتی ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہم پر جن حقوق کی بجا آوری لازم آتی ہے۔ ان میں ایک حق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود و سلام کا بھیجنا ہے جیسا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :

( إِنَّ اﷲَ وَ مَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا )

القرآن، احزاب، ۳۳ : ۵۶

’’بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر (کثرت کے ساتھ) درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ‘‘

پس درود و سلام وہ افضل ترین اور منفرد عبادت ہے اور یہ وہ افضل ترین عمل ہے جس میں اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی بندوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے بندے کو اﷲ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور اس کے ذریعے گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی اور قیامت کے روز حسرت و ملال سے امان نصیب ہوتا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے والے کے لئے درود و سلام کی فضیلت و اہمیت جاننے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے عوض اﷲ اور اس کے فرشتے اس شخص پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے نمایاں علمی و تصنیفی کارناموں میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے مختلف دینی موضوعات پر سلسلہ وار اربعینات تالیف کی ہیں اس سلسلہ میں چند ایک اربعینات پہلے ہی شائع ہو کر قارئین تک پہنچ چکی ہیں اسی سلسلہ کی ایک تازہ کڑی’’ألبَدْرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُنُوِّ و المَقَامِ صلی الله عليه وآله وسلم‘‘ ہے جو کم و بیش ۲۷۵ مستند احادیث کا مجموعہ ہے اور یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے درود و سلام کے موضوع سے متعلق احکام، فضائل، صیغ، ترغیب و ترھیب اور وہ مقامات جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا مسنون اور مستحب ہے پر مشتمل متعدد احادیث جمع فرمائی ہیں۔

اس کتاب سے استفادہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کے ساتھ ان کے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے تعلق حبی و عشقی کو مزید جلا بخشنے کا باعث بنے گا۔

فصل : ۱

أمر اﷲ تعالٰی المؤمنين بالصلاة والسلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم

(اﷲ تبارک وتعالیٰ کا مومنوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم)

( إِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ يَأَ يُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمَا .)

القرآن، ا لأحزاب، ۳۳ : ۵۶

(بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو)

۱ (۱) عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلي قال لقيني کعب بن عجرة فقال ألا أهدي لک هدية إن النبي صلي اﷲ عليه وسلم خرج علينا فقلنا يارسول اﷲ قد علمنا کيف نسلم عليک فکيف نصلي عليک قال : قولوا : أللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کماصليت علي إبراهيم وآلِ إبراهيم إنک حميد مجيد أللهم بارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم إنک حميد مجيد.

۱. بخاري، الصحيح، ۵ : ۲۳۳۸، کتاب الدعوات، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۹۹۲

۲. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۵۲۶، رقم : ۱۹۶۷

’’حضرت عبدالرحمٰن بن ابولیلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم عرض گزار ہوئے :۔ یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی خدمت میں سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجا کریں؟ فرمایا کہ یوں کہاکرو : اے اﷲ! درود بھیج حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پراور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جیسے تونے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بیشک تو بہت تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت دے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جیسے تونے برکت دی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والاہے۔‘‘

۲ (۲) عن أبي سعيد نالخدري قال : قلنا يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک فکيف نصلي عليک قال قولوا أللهم صل علي محمد عبدک ورسولک کماصليت علي إبراهيم وبارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم.

۱. بخاري، الصحيح، ۵ : ۲۳۳۹، کتاب الدعوات، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۹۹۷

۲. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۲، کتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۳

۳. احمدبن حنبل، المسند، ۳ : ۴۷، رقم : ۱۱۴۵۱

۴. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۴۶، رقم : ۸۶۳۳

۵. ابويعلي، المسند، ۲ : ۵۱۵، رقم : ۱۳۶۴

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا تو ایسے ہے لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہو : اے اﷲ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج جو تیرے بندے اور رسول ہیں جیسے تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا اور برکت نازل فرما حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام کو برکت دی۔‘‘

۳ (۳) عن أبي مسعود الأنصاري قال : أتانا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ونحن في مجلس سعد ابن عبادة فقال له بشير بن سعد أمرنا اﷲ أن نصلي عليک يا رسول اﷲ فکيف نصلي عليک قال فسکت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حتي تمنينا أنه لم يسأله ثم قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا أللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کماصليت علي إبراهيم وبارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم في العالمين إنک حميد مجيد والسلام کماقد علمتم.

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۳۵۹، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة الاحزاب، رقم : ۳۲۲۰

۲. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۱۱۳

’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے (اس وقت) ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے۔ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود شریف بھیجنے کا حکم دیا (ہمیں بتائیے) ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح درود شریف بھیجیں؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے حتی کہ ہم نے خواہش کی کہ کاش انہوں نے یہ سوال نہ پوچھا ہوتا، پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہو ’’اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر اس طرح رحمت بھیج جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ وبرتر ہے۔ اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پر برکت اسی طرح نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو دونوں جہانوں میں برکت دی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ و برتر ہے۔‘‘

۴ (۴) عن کعب بن عجرة أنه قال لما نزلت هذه الآية (يا أيهاالذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما) جاء رجل إلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک فکيف الصلاة؟ فقال : قولوا ’’أللهم صل علي محمد و علي آل محمد کماصليت علي إبراهيم إنک حميد مجيد أللهم بارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم إنک حميد مجيد.‘‘

۱. ابوعوانه، المسند، ۱ : ۵۲۷، رقم : ۱۹۷۰

۲. يوسف بن موسي، معتصر المختصر، ۱ : ۵۴

۳. ابن عبدالبر، التمهيد، ۱۶ : ۱۸۵

۴. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۱ : ۱۱۷

۵. ابو نعيم، حلية الأوليا، ۴ : ۳۵۶

۶. ابو نعيم، حلية الأوليا، ۷ : ۱۰۸

’’حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’اے مومنو! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو‘‘ تو اس وقت ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام تو اس طرح بھیجا جاتا ہے درود کس طرح بھیجا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس طرح کہو : ’’اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر اس طرح درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر درود نازل فرمایا بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو برکت عطا فرمائی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ و برتر ہے۔‘‘

۵ (۵) عن أنس بن مالک أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَ مرة صلي اﷲ عليه عشرا.

۱. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۹

۲. ابو يعليٰ، المسند، ۷ : ۷۵، رقم : ۴۰۰۲

۳. طيالسي، المسند، ۱ : ۲۸۳، رقم : ۶۱۲۲

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳

۵. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۵۹

۶. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۵، باب ثواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۶۱

۷. ابونعيم، حلية الاولياء، ۴ : ۳۴۷

۸. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۷ : ۳۸۳

۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۲

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے سامنے بھی میرا ذکر ہو اسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘

۶ (۶) عن أبي إسحاق عن يروي قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا.

۱. ابو يعلي، المعجم، ۱ : ۲۰۳، رقم : ۲۴۰

۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۶۲، رقم : ۴۹۴۸

۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۶۰

۴. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۲۹

’’حضرت ابو اسحاق حضرت یروی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘

۷ (۷) عن الحسن بن علي رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : حيثما کنتم فصلوا عَلَيَّ فإن صلاتکم تبلغني.

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۱۱۷، رقم : ۳۶۵

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲

۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۶۲، رقم : ۲۵۷۱

۴. مناوي، فيض القدير، ۳ : ۴۰۰

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو بیشک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتاہے۔‘‘

۸ (۸) عن أنس رضي الله عنه قال : قال عليه الصلاة والسلام : أکثروا الصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم عَلَيَّ مغفرة لذنوبکم واطلبوا لي الدرجة والوسيلة، فإن وسيلتي عند ربي شفاعتي.

منادي، فيض القدير، ۲ : ۸۸

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر درود کی کثرت کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے گناہوں کی مغفرت ہے اور مجھ پر (درود بھیجنے کے علاوہ) اللہ تعالیٰ سے میرے لئے بلند درجہ اور وسیلہ کی دعا بھی مانگا کرو بے شک اللہ کے ہاں میرا وسیلہ (تمہارے حق میں شفاعت ہے۔ )‘‘

۹ (۹) عن أنس قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرني فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ واحدة صليت عليه عشراً.

۱. ابو يعلي، المسند، ۶ : ۳۵۴، رقم : ۳۶۸۱

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۳۷، باب کتابة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم لمن ذکره اوذکر عنده

۳. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۴ : ۳۹۵، رقم : ۱۵۶۷

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہوں۔‘‘

۱۰ (۱۰) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثر وا الصلاة عَلَيَّ فإنه من صلي عَلَيَّ صَليَ اﷲ عليه وسلّم عشراً.

قيسراني، تذکرة الحفاظ، ۴ : ۱۳۴۱

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو بے شک جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور دس مرتبہ سلام بھیجتا ہے۔‘‘

فصل : ۲

کيفية الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی کیفیت)

۱۱ (۱) عن أبي حميد الساعدي رضي الله عنه أنهم قالوا : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کيف نُصلي عليک؟ فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قولوا : أللهم صلِّ علي محمد و أزواجه و ذريته، کما صليت علي آل إبراهيم و بارک علي محمد و أزواجه و ذريته کما بارکت علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ.

۱. بخاري، الصحيح، ۳ : ۱۲۳۲، کتاب الأنبياء، باب يزفون النسلان في المشي، رقم : ۳۱۸۹

۲. مسلم، الصحيح، ۱ : ۳۰۶، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۴۰۶

۳. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۳، کتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۵

۴. مالک، الموطا، ۱ : ۱۶۵، باب ما جاء في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۳۹۵

۵. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۴، رقم : ۱۲۱۷

۶. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۵۴۶، رقم : ۲۰۳۹

۷. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، ۱ : ۳۸۲

’’حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات اور اولاد کو برکت عطا فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

۱۲ (۲) عن کعب بن عجْرة رضي الله عنه قال : قلنا يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک قد علمنا فکيف الصلاة؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا : أللهم صلِّ علي محمد و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و آل إبراهيم، إنک حميد مجيدٌ و بارک علي محمد و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ قال : و قال ابن أبي ليلي ونحن نقول : وعلينا معهم.

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۳۵۲، کتاب الصلاة، باب ما جاء في صفة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۴۸۳

۲. نسائي، السنن، ۳ : ۴۷، کتاب السهو، باب نوع آخر، رقم : ۱۲۸۷

۳. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۲، رقم : ۱۲۱۰

۴. حميدي، المسند، ۲ : ۳۱۰، رقم : ۷۱۱

۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱۹ : ۱۳۱، رقم : ۲۸۷

۶. يوسف بن موسي، معتصر المختصر، ۱ : ۵۴

’’حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا تو جان لیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جیسا کہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ ابن ابو لیلی یہ درود پڑھنے کے بعد یہ فرمایا کرتے تھے کہ ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمت نازل فرما۔‘‘

۱۳ (۳) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : إذا صَلَّيْتُمْ علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فأحسنوا الصلاة عليه فإنکُم لا تدرون لعل ذلک يُعرض عليه قال فقالوا له : فَعلِّمنا قال : قولوا : أللهم أجعل صلاتک و رحمتک و برکاتک علي سيد المرسلين، و إمام الخير، و قائد الخير و رسول الرحمة. أللهم أبعثه مقامًا محمودًا، يَغْبطه به الأولون و الآخرون أللهم صلّ علي محمد و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيد. أللهم بارک علي محمد و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ.

۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۳، کتاب اقامة الصلاة و السنة فيها، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۶

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۱۱۵، رقم : ۸۵۹۴

۳. شاشي، المسند، ۲ : ۸۹، رقم : ۸۵۹۴

۴. بيهقي، شعب الإيمان، ۲ : ۲۰۸، رقم : ۱۵۵۰

۵. کناني، مصباح الزجاجة، ۱ : ۱۱۱، رقم : ۳۳۲

۶. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۵۰۳، رقم : ۲۴۹۲

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو تو بڑے احسن انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ یہ درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا آپ ہمیں سکھائیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے فرمایا کہو : ’’اے میرے اﷲ تو اپنا درود اور رحمت اور برکتیں رسولوں کے سردار اہل تقوی کے امام اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بندے اور رسول جو کہ بھلائی اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں کے لئے خاص فرما اے میرے اﷲ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس کی خواہش اولین اور آخرین کرتے ہیں اے میرے اﷲ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اوربزرگی والا ہے۔‘‘

۱۴ (۴) عن عقبة بن عمرو قال : قُوْلُوْا : أللهم صل علي محمدٍ النبي الأمي و علي آل محمدٍ.

ابو داؤد، السنن، ۱ : ۲۵۸، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي بعد التشهد، رقم : ۹۸۱

’’حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے یوں کہا کرو : ’’اے میرے اﷲ تو درود بھیج حضرت محمد نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر۔‘‘

۱۵ (۵) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم من سره أن يکتال بالمکيال الأوفي إذا صلي علينا أهل البيت فليقل : أللهم صل علي محمد النبي و أزواجه العالمين أمهات المؤمنين و ذريته وأهل بيته کما صليت علي آل إبراهيم إنَّک حميدٌ مجيدٌ.

ابو داؤد، السنن،

۱ : ۲۵۸، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۹۸۲

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کوپسند ہو کہ اس کا نامہ اعمال اجرو ثواب کے پورے پیمانے سے ناپا جائے تو (اسے چاہئے کہ) ہم اہل بیت پر درود بھیجے اور یوں کہے : ’’اے اﷲ تو حضرت محمد نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات، امہات المومنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت پر درود بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

۱۶ (۶) عن زيد بن خارجة الأنصاري قال : أنا سألت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کيف نصلي عليک؟ فقال : صلوا علي واجتهدوا في الدعاء و قولوا : أللهم صل علي محمد و علي آل محمد.

۱. نسائي، السنن، ۳ : ۴۸، رقم : ۱۲۹۲

۲. نسائي، السنن الکبريٰ، ۱ : ۳۸۳، رقم : ۹۸۸۱

۳. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۱۹

۴. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۲، رقم : ۵۳

۵. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۵۴

۶. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۰۴

’’حضرت زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر درود بھیجا کرو اور خوب گڑگڑا کر دعا کیا کرو اور یوں کہا کرو : ’’اے اﷲ تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج۔‘‘

۱۷ (۷) عن عقبة بن عمرو رضي الله عنه قال : أقبل رَجلٌ حتي جلس بين يدي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ونحن عنده فقال : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أمّا السلام عليک فقد عرفناه، فکيف نُصلي عليک إذا نحن صلينا في صلاتنا؟ قال : فَصمت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حتي أحببنا أنَّ الرجل، لم يسأله ثم قال صلي الله عليه وآله وسلم : إذا صليتم عليَّ فقولوا : أللهم صلِّ علي محمد النبي الأميّ و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، و بارک علي محمد النبي الأمي و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ هذا إسناد حسن متصل.

۱. دار قطني، السنن، ۱ : ۳۵۴، رقم : ۲، باب ذکر وجوب الصلاة

۲. ابن حبان، الصحيح، ۵ : ۲۸۹، رقم : ۱۹۵۹

۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۴۰۱، رقم : ۹۸۸

۴. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۴۷، رقم : ۸۶۳۵

۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱۷ : ۲۵۱، رقم : ۶۹۸

۶. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۱۴۶، رقم : ۲۶۷۲

’’حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا پھر اس نے سوال کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کا بھیجنا تو ہم نے جان لیا لیکن جب ہم حالتِ نماز میں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے جس سے ہم نے چاہا کہ کاش سوال کرنے والے آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم مجھ پر درود بھیجو تو یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ حضرت محمد نبی اُمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور اے اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی امی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطا فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

۱۸ (۸) عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه کان يقول : أللهم إجعل صلواتک و برکاتک و رحمتک علي سيد المرسلين و إمام المتقين و خاتم النبيين، محمد عبدک و رسولک إمام الخير و قائد الخير و رسوله الرحمة أللهم إبعثه يوم القيامة مقامًا محمودًا يغْبِطهُ الأولون و الآخرون، أللهم صلّ علي محمد و آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم أللهم بارک علي محمد و علي اٰل محمد کما بارکت علي اٰل إبراهيم إنک حميدٌ مجيدٌ.

۱. عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۳، رقم : ۳۱۰۹

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۱۱۵، رقم : ۸۵۹۵

۳. عسقلاني، المطالب العالية، ۳ : ۲۲۴، رقم : ۳۳۲۴ برواية ابن عمر رضي الله عنه

’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ’’اے میرے اﷲ تو اپنے درودوں برکتوں اور رحمتوں کو رسولوں کے سردار، متقین کے امام، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں کے لئے خاص فرما۔ اے اﷲ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس کی خواہش پہلے اور بعد میں آنے والے لوگ کرتے ہیں۔ اے میرے اﷲ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطا فرما۔ جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

۱۹ (۹) عن بريدة رضي الله عنه قال : قلنا يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قد علمنا کيف نسلم عليک فکيف نصلي عليک؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا أللهم إجعل صلواتک و برکاتک علي آل محمد، کما جعلتها علي آل إبراهيم إنک حميدٌ مجيدٌ.

هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳

’’حضرت بریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا تو ہم جان گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کہو : ’’اے میرے اﷲ تو اپنے درودوں اور برکتوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص کر دے جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کے لئے خاص کیا تھا بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘

۲۰ (۱۰) عن زيد بن وهب رضي الله عنه قال لي ابن مسعود رضي الله عنه : لا تدع إذا کان يوم الجمعة أن تصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ألف مرة، تقول : أللهم صلِّ علي محمد.

۱. ابو نعيم، حلية الأولياء، ۸ : ۲۳۷

۲. سيوطي، الدر المنثور، ۵ : ۴۱۲

’’حضرت زید بن وھب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو جمعہ کے روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک ہزار مرتبہ درود بھیجنے کا عمل مت ترک کر اور درود اس طرح بھیج : ’’اے میرے اﷲ درود بھیج حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔‘‘