• شروع
  • پچھلا
  • 37 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 1486 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 177
سائز سائز سائز
قرآن، کائنات اور انسان

قرآن، کائنات اور انسان

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

قرآن، کائنات اور انسان

پرویز ہاشمی

ماخذ: اردوکی برقی کتاب

۲

پیش لفظ

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ ان کی آنکھ کھلی تو وقت دیکھا۔ تین بج رہے تھے، "اس وقت فون! یا اللہ خیر!" بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔ وہ جوتا پہنے بغیر اپنے کمرے سے نکلے۔ فون لاؤنج میں رکھا تھا۔ یہ کھٹکا بھی ذہن میں تھا کہ کہیں فون بند ہی نہ ہو جائے۔ وہ جلدی سے فون تک پہنچے۔ رسیور اٹھایا۔ السلام علیکم سے بات کا آغاز کیا، مگر جواب میں انھیں وہ کچھ کہا گیا جس کی ان کو ہرگز ہرگز توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ انھیں محض تنگ کرنے کے لیے فون کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کا پہلا رد عمل غصے ہی کا تھا لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھے جو سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں۔ انھوں نے سوچا کہ اگر میں نے ان لوگوں کو ڈانٹا، برا بھلا کہا تو ان کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ تنگ ہونے والے کی جھڑکیوں، گالیوں اور جھنجھلاہٹ سے لطف اندوز ہوں۔ چنانچہ انھوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ ان کا مقصد ہرگز پورا نہیں کریں گے۔ لمحوں میں کیے گئے اس فیصلے پر وہ ڈٹے رہے۔ فون کرنے والے نوجوان تھے۔ وہ باری باری ان سے بات کرتے، انھیں چڑانے کی کوشش کرتے مگر وہ ان کے سامنے برف کی چٹان بن گئے تھے۔ وہ ان کی ہر بات کا انتہائی شائستگی سے جواب دیتے۔ ان کے اس رویے نے نوجوانوں کے ضمیر کو جگا دیا۔ اب ان کے لہجے میں بھی شائستگی اور احترام آ چکا تھا اور پھر یہ گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران میں انھوں نے نوجوانوں سے ہر موضوع پر بات کی۔ نوجوانوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیکل کے طالب علم ہیں۔ مطالعہ کرنے کے بعد اپنی تھکن اتارنے کے لیے انھوں نے کچھ "انجوائے" کرنے کا پروگرام بنایا اور اب تک وہ انیس آدمیوں کو جگا کر خوب "انجوائے" کر چکے ہیں۔ تب ان صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں کی تفریح کچھ مہنگی قسم کی نہیں ہے؟ نوجوان ذہین تھے، ان کی بات سمجھ گئے اور کہنے لگے: "ہاں آپ کی بات درست ہے، ان انیس لوگوں میں کچھ ضعیف بھی تھے، بیمار بھی اور دن بھر کے تھکے ہوئے بھی!" ایسا کہتے ہوئے ان کی آواز میں پچھتاوا اور شرم ساری صاف ٹپک رہی تھی۔

۳

مزید خفت سے بچاتے ہوئے انھوں نے نوجوانوں سے کہا کہ مجھے نماز کے لیے اٹھنا ہی تھا، آپ نے احسان کیا جو مجھے بر وقت اٹھا دیا۔ اس جملے سے فون کرنے والے بالکل ہی ڈھے پڑے، آخر میں انھوں نے ان صاحب کے دفتر کا پتا پوچھا اور فون بند کر دیا۔ اگلے روز وہ چاروں نوجوان دفتر میں موجود تھے اور انھیں یہ بتا رہے تھے کہ انھوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انھیں زندگی گزارنے کا ایک نیا ڈھنگ معلوم ہوا ہے۔

بدی کو نیکی، شر کو خیر اور غصے کی چنگھاڑ کو دل آویز مسکراہٹ میں تبدیل کرنے والے ان صاحب کا نام پرویز ہاشمی ہے جن کی یہ مختصر کتاب آ پ کے ہاتھوں میں ہے۔

اقبال نے کہا تھا:

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت

فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم

ہاشمی صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے دل کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ہاشمی صاحب جدید تعلیم اور اخلاقی تعلیم و تربیت کے ایک خوب صورت امتزاج کے حامل مصعب اسکول سسٹم کے چیئرمین ہیں۔ ادارہ علم و تحقیق، المورد کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر ہیں۔ دنیوی تعلیم کے اعتبار سے سول انجینئر اور ایک کنسٹرکشن کمپنی، Enpar Group کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ وہ دین کے بھی بہت سنجیدہ طالب علم ہیں۔ بہت وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور اپنے فہم دین، حاصل مطالعہ اور اپنے نتائج فکر کو دوسروں کے سامنے سوچ بچار ( food for thought ) کے لیے رکھنے میں بہت سرگرم رہتے ہیں۔ ان کی یہ مختصر مگر بہت اہم کتاب اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

المورد کے ساتھ الحاق شدہ ہماری مشترکہ کاوش اردو ویب سائٹ "ہم سب دوست" ( www.humsubdost.org ) کے ایک سیکشن "دانش ور نوجوانوں کے لیے" سے حاصل کر کے، دعوتی تاثیر کی حامل یہ فکر انگیز تحریر کتابی صورت میں شائع کی جا رہی ہے۔

نعیم احمد بلوچ / محمد بلال

۴

دیباچہ

یہ محض اندھا عقیدہ ( Blind Faith ) نہیں کہ قرآن مجید، الہی کلام ہے، بلکہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے، جسے عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس مختصر کتاب میں کچھ ایسے ہی دلائل بیان کیے گئے ہیں، جنھیں پیش کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ ہمارے اندر زندگی کے اعلی حقائق کے بارے میں سوچ بچار کا عمل ( Thought Process ) شروع ہو جائے اور ہم ذہنی طور پر اللہ تعالی کے آخری Reminder کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کرنے لگیں۔

اس کتاب کو بہتر بنانے کے لیے اگر قارئین اپنے مشوروں سے نوازیں تو میں بے حد شکر گزار ہوں گا۔

پرویز ہاشمی

A۱۲ شادمان I لاہور

فون: ۷۵۸۶۲۳۸ - ۷۵۸۶۷۹۳۷

ای میل: parvezhashmy@hotmail.com

۵

قرآن، کائنات اور انسان

قرآن مجید تقریباً پندرہ سو سال پہلے نازل ہوا۔ اس کے نزول کا مقصد موجودہ عارضی زندگی میں انسان کی بحیثیت فرد اور معاشرہ رہنمائی کرنا ہے۔ انسان کو چونکہ ہمیشہ ہی سے ہدایت کی ضرورت رہی ہے اور رہے گی، اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے اس آخری پیغام کو ہمیشہ کے لیے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ کر لیا ہے:

"بے شک ہم نے ہی اس پیغام کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔" (الحجر۱۵:۹)

اگرچہ قرآن مجید کے Reader کو اس میں حیرت انگیز طور پر متعدد ایسی آیات ملیں گی جو کسی نہ کسی طرح سائنسی مظاہر سے متعلق ہیں، تاہم ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید اصلاً کوئی سائنس کی کتاب نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد سائنس کی Promotion ہے۔ اس کا بنیادی پیغام آیندہ آنے والی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کی یاددہانی اور منادی ہے۔ وہ اس حقیقت کی جانب مختلف اسالیب میں توجہ دلاتا ہے۔ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے وہ انسان کو خود اس کے اپنے اندر موجود نشانیوں اور کائنات میں پھیلے ہوئے مختلف مظاہر پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ان سائنسی مظاہر کے متعلق قرآن مجید کا بیان مختصر اور جامع ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ ان اشاروں کو مشعل راہ بنا کر تحقیق کریں اور حقائق کی تہ تک پہنچیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کے آخرت کے متعلق موروثی عقیدے کو یقین میں بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، بلکہ علم اور ایجادات کی دنیا میں بھی انھیں سب سے ممتاز بنا سکتا ہے۔

ابتداً عرب کے مسلمانوں نے قرآن کی اسی ہدایت پر عمل کیا اور سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ جدید سائنسی علوم کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ انھی سے اہل یورپ نے یہ علم سیکھا اور اسے آگے بڑھایا اور اس طرح وہ دنیا کے لیڈر بن گئے۔

۶

اکیسویں صدی میں انسانی علم کی سطح بہت بلند ہو چکی ہے۔ جدید سائنس نے ایسے ایسے انکشافات کیے ہیں، جن کے متعلق انسان پہلے تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب تک کے تمام دریافت شدہ مسلمہ حقائق ( Established Facts ) بغیر کسی استثنا کے قرآن مجید میں درج بیانات کے عین مطابق ہیں۔ اسی حقیقت کو مشہور فرنچ سرجن سائنس دان موریس بکائی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب The Bible, The Quran and Science میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق جدید سائنس نے قرآن مجید کی بیشتر ایسی آیات کو سمجھنا آسان کر دیا ہے جن کی صحیح تشریح سائنسی علوم کی کمی کی وجہ سے پہلے ممکن نہ تھی۔

۷

رحم مادر میں تخلیق کے مدارج

رحم مادر میں بچے کی تخلیق کے مدارج ( Embryology ) کا علم جس تفصیل اور صحت کے ساتھ ہمیں اب حاصل ہے، وہ پہلے ممکن نہ تھا، کیونکہ رحم مادر کے اندر کا عمل فلمانے والے Microscopic Cameras ایجاد ہی نہیں ہوئے تھے، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کیمروں کی مدد سے جو حقائق سامنے آ رہے ہیں، وہ قرآنی بیانات کے عین مطابق ہیں۔ دنیا کے مشہور ترین Embryologist ڈاکٹر کیتھ مور کے مطابق قرآن مجید اس علم یعنی Embryology میں وقت سے بہت آگے ہے۔

قرآن مجید Embryo کے دوسرے مرحلے کو "علقہ" یعنی جونک کہتا ہے۔ اس بیان کی حقیقت پہلے کسی بھی انسان کی سمجھ سے باہر تھی۔ دو مسلمان ڈاکٹروں نے اس علم یعنی Embryology کے ماہر ترین انسان ڈاکٹر کیتھ مور سے رابطہ کیا اور انھیں تحقیق پر آمادہ کیا، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ تحقیق کے نتیجے میں ڈاکٹر کیتھ مور پر حیرت ناک انکشاف ہوا کہ واقعی حمل کے تقریباً چوتھے ہفتے میں Embryo کی شکل ہو بہو جونک جیسی ہوتی ہے اور وہ جونک ہی کی طرح Uterus کی دیوار سے چپک کر ماں سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے۔ ڈاکٹر مور نے کینیڈین ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں اپنی ریسرچ کی تفصیل بتائی اور کہا:

"آج سے پہلے کسی انسان کو اس حقیقت کا علم ہونا قطعاً ناممکن ہے کیونکہ Micer Lenses ایجاد ہی اب ہوئے ہیں۔ چنانچہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس کا علم ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ چودہ سو سال پرانی کتاب میں اس کے ذکر کی صرف اور صرف ایک ہی توجیہ ہو سکتی ہے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کو اس نے Reveal کیا ہے جو ہر چیز کا خود بنانے والا ہے۔"

ڈاکٹر مور نے اپنی کتاب The Developing Human" ۳rd Edition ۱۹۸۲ " میں Embryo کی اس Stage "علقہ" کو بیان کیا ہے اور جونک اور علقہ کی تصاویر ساتھ ساتھ دی ہیں جنھیں دیکھ کر پہچاننا محال ہے کہ ان میں Embryo کون سا ہے اور جونک کون سی ہے۔ دیکھیے قرآن مجید دوسری زندگی پر دلیل دیتے ہوئے کس خوبی سے Embryo کے مراحل بیان کر رہا ہے:

۸

"اے لوگو! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کے ایک قطرے سے، پھر جونک سے، پھر لوتھڑے سے، (جس میں سے) کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لیے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کر دیں اور ہم رحموں میں ٹھیرا دیتے ہیں، جو چاہتے ہیں اور ایک مدت معین کے لیے۔ پھر ہم تم کو ایک بچے کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے بعض پہلے مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ جاتے ہیں، حتی کہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔"

(الحج۲۲:۵)

"اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا، ہم نے پانی کی ایک بوند کو جونک کی شکل میں ایک محفوظ مستقر میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جونک کی شکل دی، پھر جونک کو گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ پس بڑا ہی با برکت ہے، اللہ بہترین پیدا کرنے والا، پھر ان سب کے بعد لازماً مرنا ہے۔ پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔"

(المومنون ۲۳:۱۲-۱۶)

"پڑھ اپنے مالک کے نام سے جس نے تخلیق کیا انسان کو ایک جونک کی سی چیز سے۔" (العلق۹۶:۱-۲)

قرآن مجید ایک ایسے زمانے میں نازل ہوا جب انسان کی افزائش نسل سے متعلق معلومات نہایت محدود تھیں۔ قرون وسطی میں اور جدید زمانے تک بھی اس موضوع کو ہر قسم کی بے سروپا کہانیاں گھیرے ہوئے تھیں۔ اس ضمن میں صحیح معلومات کا آغاز خوردبین کی ایجاد کے بعد شروع ہوا۔ لہذا علم جنین ( Embryology ) کے بنیادی تصورات سے متعلق معلومات نزول قرآن اور اس کے بعد کی صدیوں تک نا معلوم تھیں، مگر حیرت انگیز طور پر قرآن افزائش نسل کے مراحل کو نہ صرف واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے، بلکہ کسی ایک مقام پر بھی ان کے غیر صحیح ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

۹

قرآن میں ان مدارج سے متعلق ہر بات آسان لفظوں میں بیان کر دی گئی ہے، جو آسانی سے انسان کی سمجھ میں آنے والی ہے اور صدیوں بعد دریافت ہونے والے حقائق سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ مثلاً بار آوری کا عمل رقیق مادے کی نہایت قلیل مقدار سے انجام پانا، مرد کے مادہ منویہ کا بچے کی جنس کا ذمہ دار ہونا، بار آور شدہ بیضہ کا استقرار تین پردوں کے اندر ہونا اور رحم کے اندر Embryo کا ارتقا۔ ڈاکٹر موریس بکائی کے بقول پندرہ سو سال پرانی کتاب کے ان بیانات اور جدید سائنس سے حاصل شدہ ان حقائق میں مطابقت کے نتیجے میں آدمی مکمل طور پر حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔

تمام اجرام فلکی کا حرکت پذیر ہونا

قرآن مجید کے نزول کے وقت یونانی مفکر بطلیموس ( Ptolemy ) کا نظریہ کائنات مانا جاتا تھا جس کے مطابق زمین کائنات کا مرکز ( Centre ) ہے اور اس کے علاوہ تمام اجرام فلکی اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ چاند ایک Hollow Ball میں Fixed ہے جو شیشے جیسی کسی شے سے بنا ہوا ہے۔ دیگر سیارے ( Planets ) اور سورج بھی Hollow Ball میں ہیں، جس میں ستارے Fixed ہیں۔ اس نے تمام نظام کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ستاروں کا ظاہر ہونا اور ڈوبنا بھی اسی Ball کی حرکت کی وجہ سے ہے۔

اہل یورپ پندرھویں صدی تک ان نظریات کو درست سمجھتے رہے۔ اس کے بعد یورپ میں سائنسی ریسرچ کے دور کا آغاز ہوا۔ سولہویں صدی میں پولینڈ کے ماہر فلکیات Copernicus نے اپنا انقلابی نظریہ پیش کیا جس کے مطابق مرکز زمین نہیں، بلکہ سورج ہے۔ زمین اور دیگر سیارے اپنے اپنے مرکز کے گرد گھومتے ہوئے، دائروں میں سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ ایک اور ماہر فلکیات Kepler Johannes نے سترھویں صدی میں بتایا کہ سیارے دائرے میں نہیں، بلکہ Ellipse میں گردش کر رہے ہیں۔ اطالوی سائنس دان گلیلیو نے اپنی بنائی ہوئی دوربین سے مشاہدہ کر کے ان حقائق کی تصدیق کی۔

۱۰

یہ سائنسی نتائج، چونکہ بائیبل کے بیانات سے مطابقت نہ رکھتے تھے، اس لیے کلیسا ( Church ) نے ان تحقیقات کو نہ صرف مذہب کے خلاف قرار دیا، بلکہ فتوی لگا دیا کہ جو کوئی انھیں تسلیم کر ے گا، وہ کافر تصور ہوگا اور اسے سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔ جب بھی کوئی اہل علم ان تحقیقات کے حق میں آواز بلند کرتا تو اسے کافر قرار دے کر سخت ترین سزائیں دی جاتیں اور اسے بائیبل میں موجود نظریات ماننے پر مجبور کیا جاتا۔ اسی سبب سے مغرب میں اہل علم مذہب سے باغی ہو گئے۔ بعض وجوہ کے باعث ہمارے ہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ چونکہ ذہنی طور پر اہل مغرب کے پیچھے چلتا ہے، لہذا ان کی تقلید میں اس نے بھی اپنے دین سے باغیانہ روش اختیار کر لی اور مذہب اور سائنس کو جدا تصور کیا۔ انھوں نے یہ زحمت ہی نہ کی کہ قرآن کا خود مطالعہ کرتے اور دیکھتے کہ کیا اس میں بھی ایسے ہی غلط نظریات موجود ہیں؟

ہم نے قرآن مجید پر ملاؤں کا قبضہ تسلیم کر لیا۔ ان کی بے سروپا کہانیاں سن کر تصور کر لیا کہ شاید قرآن بھی اسی قسم کی حکایتوں اور قصوں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ ملا کو جدید تعلیم اور قرآن حکیم پر غور و فکر اور تدبر سے کوئی سروکار نہ تھا، لہذا ہم لوگوں تک یہ بات پہنچ ہی نہ سکی کہ قرآن حکیم کے بیانات نہ صرف ثابت شدہ سائنسی تحقیقات کے عین مطابق ہیں، بلکہ محققین کی آیندہ تحقیق کے لیے بھی اس میں Guide Line موجود ہے۔

گلیلیو کے بعد آئزک نیوٹن نے ۱۶۶۸ء میں بہتر دوربین بنائی اور اپنے مشہور قانون Law of Gravitational Attraction کے ذریعے سے اجرام فلکی کی حرکات کے اصول وضع کیے۔ انسانی علم کا دائرہ وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتا گیا اور امریکہ کے Edmin Hubble نے بیسویں صدی کی اہم ترین دریافت یہ کی کہ ساری کہکشائیں ( Galaxies ) بڑی تیزی سے ایک دوسرے سے پرے ہٹ رہی ہیں، تمام اجرام فلکی تیر رہے ہیں اور کوئی شے بھی ساکن نہیں ہے۔

۱۱

Ptolemy سے لے کر Hubble تک تقریباً دو ہزار سال کی سائنسی ترقی کے بعد انسان اس چیز کو معلوم کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ ہر شے اپنے اپنے مدار میں حرکت پذیر ہے اور کوئی چیز بھی ساکن نہیں ہے۔ یہی حقیقت تقریباً انہی الفاظ میں قرآن حکیم کے مختلف مقامات پر بیان ہوئی ہے۔ اگر اہل علم نے قرآن سے رہنمائی لی ہوتی تو انھیں ان حقائق کو دریافت کرنے میں اتنا وقت صرف نہ کرنا پڑتا:

"اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند بنائے۔ ان میں سے ہر ایک ایک خاص مدار ( Orbit ) کے اندر گردش کر رہا ہے۔" (الانبیاء۲۱:۳۳)

"نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات اور دن پر سبقت کر سکتی ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے خاص دائرے میں گردش کر رہا ہے۔" (یسین۳۶:۴۰)

"اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کر رہا ہے۔ یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے۔" (یسین۳۶:۳۸)

"اس نے آسمانوں اور زمین کو ایک مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے اور دن کو رات پر۔ اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک چل رہا ہے، ایک خاص مقرر شدہ مدت تک کے لیے۔" (الزمر۳۹:۵)

"وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک گردش کر رہا ہے، ایک معین مدت کے لیے۔" (فاطر۳۵:۱۳)

برسوں کی تحقیق کے بعد انسانی علم اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ اس کائنات میں موجود کوئی شے ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، خواہ وہ سورج ہو، کوئی اور ستارہ ہو یا کہکشاں، ایک مدت کے بعد انھیں ختم ہو جانا ہے۔ ہم غور کریں تو مذکورہ آیات قرآنی سے جہاں یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ ہر چیز حرکت میں ہے، وہاں یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ یہ حرکت ہمیشہ کے لیے نہیں، بلکہ ایک مقرر شدہ مدت تک ہی کے لیے ہے۔

۱۲

کائنات کا ازلی نہ ہونا

قرآن مجید کے مطابق موجودہ زمین و آسمان یعنی کائنات ازلی نہیں، بلکہ اسے ایک خاص لمحے ( Particular instant ) میں تخلیق کیا گیا ہے اور ایک مقررہ مدت کے بعد یہ ختم کر دی جائے گی۔ اس کائنات کا واحد مقصد قرآن مجید کے مطابق انسانوں اور جنوں ( Intelligent Beings ) کی درجہ بندی یعنی Grading ہے۔

قرآن مجید کے تصور کے برعکس مدتوں سے انسان کا خیال تھا کہ یہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، مگر جدید سائنس نے بیسویں صدی کے اختتام پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ازلی نہیں، بلکہ ایک خاص لمحے ایک زبردست دھماکے ( Big Bang ) سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ اگرچہ George Lemaitre نے اس نظریے کو ۱۹۲۷ء میں پیش کیا تھا، لیکن سائنس دانوں کی تائید اسے مدتوں Falsification Tests سے گزرنے کے بعد اس صدی کے آخر ہی میں پہنچ کر حاصل ہوئی ہے۔ کائنات کے اختتام کے بارے میں اگرچہ سائنس دان ابھی یک سو نہیں، مگر وہ دن دور نہیں جب اس معاملے میں بھی قرآن مجید کے بیانات کی تصدیق ہو جائے گی:

"وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ( Originator )ہے اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے-‘‘(البقرہ۲:۱۱۷)

"اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔"(ہود۱۱:۷)

"اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، تاکہ بدلہ دیا جائے، ہر جان کو، اس کے کیے کا اور ان کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہو گی۔"(الجاثیہ۴۵:۲۲)

۱۳

"ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جواس کے مابین ہے، با مقصد اور ایک معین مدت تک کے لیے بنایا ہے۔" (الاحقاف۴۶:۳)

"کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، نہیں پیدا کیا، مگر ایک مقصد کے ساتھ اور ایک مدت مقررہ تک کے لیے۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔" (الروم ۳۰:۸)

پہاڑوں کا زمین کو متوازن رکھنا

جدید تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پہاڑ اصل میں زمین کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ جدید جغرافیائی اصطلاح میں اس توازن کو Isostasy کہا جاتا ہے، جس کے مطابق زمین کی سطح پر جو ہلکا مادہ تھا، وہ پہاڑوں کی شکل میں ابھر آیا اور جو بھاری مادہ تھا، وہ گہری خندقوں کی صورت میں دب گیا جن میں اب سمندر کا پانی بھرا ہوا ہے۔ اس طرح ابھار اور دباؤ نے مل کر زمین کا توازن برقرار رکھا ہے۔

آئیں دیکھیں کہ اس ضمن میں پندرہ سو سال قبل نازل ہونے والی عظیم کتاب کیا فرماتی ہے، جس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ اس کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے:

"اور ہم نے زمین میں پہاڑ گا ڑ دیے کہ وہ ان کو لے کر لڑھک نہ جائے اور ان پہاڑوں کے اندر ہم نے راستے کے لیے درے بنائے، تاکہ وہ راہ پائیں۔"(الانبیاء ۲۱:۳۱)

"اس نے بنایا آسمانوں کو، بغیر ایسے ستونوں کے جو تمھیں نظر آئیں اور زمین پر پہاڑ گاڑ دیے کہ و ہ تمھارے سمیت لڑھک نہ جائے۔" (لقمان ۳۱:۱۰)

۱۴

شہد اور شہد کی مکھی

قرآن مجید میں شہد کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس میں شفا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

"اور تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر القا کیا کہ تو پہاڑوں، اور درختوں، اور لوگ جو چھتیں اٹھاتے ہیں، ان میں چھتے بنا، پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس، پھر اپنے پروردگار کے ہموار راستوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ بے شک اس کے اندر بڑی نشانی ہے، ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔"(النحل ۱۶:۲۸-۲۹)

مسلمانوں نے اس آیت کی روشنی میں، شہد کے طبی پہلوؤں پر بہت زور دیا اور ان کے ہاں دوا سازی کے فن میں اسے غیر معمولی درجہ حاصل رہا، جبکہ مغربی دنیا اس کے اس پہلو سے اس صدی تک ناواقف رہی۔ ان کے ہاں یہ محض Liquid Food تھا، لیکن اس صدی میں یورپ کے سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ شہد میں واقعی Antiseptic Properties موجود ہیں۔

شہد ہی کے ضمن میں قرآن حکیم کے ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک کی تلاش میں نکلنے والی مکھیاں نر ( Drones ) نہیں، بلکہ مادہ ہوتی ہیں، کیونکہ قرآن مجید نے یہاں ان کے لیے مونث کے صیغے( Female Gender ) استعمال کیے ہیں۔ یہ فرق ماضی قریب تک کسی کو معلوم نہیں تھا، کیونکہ اس موضوع پر اتنی تحقیق Microscopic Lenses کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ نر اور مادہ مکھی کا یہ فرق آج بھی کوئی Expert ہی جان سکتا ہے، لیکن قرآن مجید نے چودہ صدیاں پہلے ہی اس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔

۱۵

قرآن کا ہر تضاد سے پاک ہونا

قرآن مجید کا اپنے بیانات سے متعلق دعوی ہے کہ یہ ہر قسم کے تضادات

( Inconsistencies ) سے پاک ہے:

"کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سے تضادات پاتے۔" (النساء ۴:۸۲)

تضاد کے دو پہلو ہو سکتے ہیں: ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ داخلی تضاد یا غیر مطابقت یہ ہے کہ کتاب کا ایک بیان دوسرے بیان سے ٹکرا رہا ہو اور خارجی تضاد یہ ہے کہ کتاب کا کوئی بیان خارجی دنیا یا کائنات کے مسلمہ حقائق سے متصادم ہو جائے۔

اس مقام پر ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سائنسی نظریات ( Theories ) اور مسلمہ سائنسی حقائق ( Established Scientific Facts ) میں فرق ہوتا ہے، جسے ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ چیزیں ہمیشہ نظریات کی حد تک رہتی ہیں اور کچھ نظریات ایک طویل عرصے تک Falsification Tests سے گزرنے کے بعد مسلمہ حقائق کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے، کسی زمانے میں نظریہ تھا، لیکن اب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اور اسی طرح یہ کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں یہ محض ایک Reflecting body ہے، کبھی نظریہ تھا، لیکن اب ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اسی طرح Buoyancy Principle ، تمام Heavenly Bodies کی اپنے اپنے مدار میں حرکت، کائنات کا نقطہ آغاز اور اسی طرح متعدد نظریات اب مسلمہ حقائق بن چکے ہیں۔ اگر کائنات اپنے Physical Laws برقرار رکھتی ہے تو کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا، جب Scientists ان حقائق کے متعلق مختلف رائے قائم کر سکیں۔

ہمارے اکثر و بیشتر مذہبی علما نظریات اور مسلمہ حقائق کے اس فرق سے آگاہ نہیں، لہذا وہ اپنے Religious Dogma کے تحت سائنس کی ہر شے کو رد کرنے کے در پے رہتے ہیں اور دوسری طرف کچھ جدید تعلیم یافتہ لوگ، اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے اپنے Scientific Dogma کے تحت سائنس کی ہر چیز کو قرآن مجید میں ٹھونسنے پر تلے رہتے ہیں۔

۱۶

یہ دو انتہائیں ہیں، جبکہ حقیقت ان کے مابین ہے۔ ہمارے پیش نظر یہ ہمیشہ رہنا چاہیے کہ قرآن مجید نہ کوئی سائنس کی کتاب ہے اور نہ اس کا مقصد سائنس کو Promote کرنا ہے۔ اس کا بنیادی پیغام آخرت کی یاد دہانی ہے۔ اس پر دلائل دیتے ہوئے وہ Passing References کے طور پر کائنات کے مختلف مظاہر کا ذکر کرتا ہے۔ ان References اور مسلمہ سائنسی حقائق میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔ لہذا قرآن مجید داخلی تضادات ہی سے نہیں بلکہ خارجی تضادات سے بھی پاک ہے، جبکہ کوئی بھی انسانی تصنیف ان عیوب سے مبرا نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ انسان کا ایک خاص زمان و مکان ( Time and Space ) میں محدود ہونا ہے۔ چونکہ اللہ تعالی کا علم زمان و مکان سے بالا ہے، اس لیے اس کی تصنیف میں تضادات نہیں ہو سکتے۔

آئیں دیکھیں کہ قرآن مجید یہ دعوی انسانی تاریخ سے کیسے ثابت کرتا ہے۔

۱۷

ملک اور فرعون

انسان کو دلائل دیتے ہوئے قرآن مجید نے قدرتی مظاہر کے علاوہ رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی قوموں کی تاریخ کے ایسے References دیئے ہیں جن کا نزول قرآن کے وقت کسی کو علم نہ تھا اور جو صدیوں بعد آثار قدیمہ کی کھدائی کے نتیجے میں معلوم ہوئے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید حضرت موسی علیہ السلام کے ہم عصر مصری بادشاہ کو فرعون کہتا ہے، مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے ہم عصر مصری بادشاہ کو فرعون نہیں بلکہ "ملک" کہتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید کے نزول کے وقت مصری تاریخ کی واحد Source بائیبل میں دونوں پیغمبروں کے ہم عصر بادشاہوں کو فرعون کہا گیا ہے، لیکن اب ہر صاحب علم جانتا ہے کہ بائیبل کی یہ بات تاریخی اعتبار سے غلط ہے، کیونکہ حضرت یوسف کے زمانے میں مصر پر ان لوگوں کی حکومت تھی جنھیں چرواہے بادشاہ ( Hyksos Kings ) کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے اور باہر سے آ کر مصر پر قابض ہو گئے تھے، مگر بعد میں مصریوں نے ان غیر ملکی حکمرانوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔ ان مصری حکمرانوں نے اپنے لیے فرعون (یعنی سورج کا دیوتا کی اولاد) کا لقب اختیار کیا۔

قرآن مجید کے نزول کے زمانے میں یہ تاریخی واقعات لوگوں کو معلوم نہ تھے۔ بہت عرصے بعد آثار قدیمہ کی کھدائی کے نتیجے میں یہ حقائق دریافت ہوئے اور پھر ان کی بنیاد پر قدیم مصر کی تاریخ مرتب کی گئی۔ لیکن دیکھیے چودہ سو سال پہلے نہ صرف قرآن مجید نے زمین میں دفن تاریخ ہمارے سامنے رکھ دی، بلکہ بائیبل میں تحریف کی نشان دہی بھی کر دی۔

۱۸

فرعون کی لاش کا محفوظ ہونا

حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلے میں غرق ہونے والے فرعون کا ذاتی نام Merneptah تھا اور وہ رعمسیس دوئم کا فرزند تھا۔ نزول قرآن کے وقت فرعون کے غرق ہونے کے واقعہ کا ذکر صرف بائیبل کے مخطوطات میں تھا اور اس میں بھی صرف اتنا لکھا تھا: "خداوند نے سمندر کے بیچ ہی مصریوں کو تہ و بالا کر دیا اور فرعون کے سارے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا۔" (خروج ۱۴:۲۸) اس وقت قرآن نے حیرت انگیز طور پر یہ اعلان کیا کہ فرعون کا جسم محفوظ ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے سبق بنے گا۔

"اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا تو ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے فوجیوں نے، سرکشی اور زیادتی کی غرض سے۔ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بول اٹھا کہ ایمان لایا کہ نہیں ہے کوئی معبود، مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، میں اس کے فرماں برداروں میں بنتا ہوں۔ جواب دیا گیا۔ اب ایمان لاتا ہے، حالانکہ تم نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے اور بے شک بہت سارے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔"

(یونس ۱۰: ۹۲ تا۹۵)

جب قرآن کی یہ آیت اتری تو یہ نہایت عجیب بات تھی۔ اس وقت کسی کو خیال تک نہ تھا کہ فرعون کا جسم کہیں محفوظ موجود ہوگا، مگر پروفیسر لاریٹ نے ۱۸۹۸ء میں آیت کے نزول سے تقریباً تیرہ سو سال بعد اس فرعون کے جسم کو مصر کے ایک قدیم مقبرے میں دریافت کر لیا۔

۱۹

ارم کی دریافت

" National Geographic " دسمبر ۱۹۷۸، جلد ۱۵۴ کے مطابق Dr. Pettinato کو Ebla (شام) میں آثار قدیمہ کی کھدائی کرتے ہوئے Stone Tablets کی صورت میں لائبریری ملی جس میں انھیں بہت سے ایسے شہروں کے نام بھی ملے جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بعد کے ادوار میں بنے ہیں مثلاً Beirut ، Babylos ، Damascus اور Gaza ۔ ان کے علاوہ دو شہروں کے مزید نام ملے جو بائیبل میں مذکور ہیں یعنی Gomorah and Sodom ۔ اسی طرح ایک اور شہر Iram کا ذکر بھی ملا جو Dr. Pettinto کے مطابق تاریخ دانوں کے لیے تو گمنام ہے، مگر قرآن کی ۸۹ ویں سورہ میں مذکورہ ہے۔ یعنی ۱۹۷۸ء میں Ebla کی کھدائی سے ثابت ہو گیا کہ ارم نام کا شہر اس دنیا میں کبھی موجود تھا۔

فروری ۱۹۹۲ء کے ٹائم میگزین کے مطابق Nichdas clapp نے سیٹلائٹ کے Space Imaging Radar System سے مدد لے کر عمان کے قریب اسی شہر کے آثار دریافت کر لیے ہیں۔ تقریباً ۱۹۰۰ فٹ ریت کے نیچے سے جو پہلی عمارت برآمد ہوئی، اس کی نمایاں چیز اس کے تقریباً نوے فٹ کے سربلند ستون ہیں:

"دیکھا نہیں، کیا کیا تیرے خداوند نے عاد کے ساتھ، ستونوں والے ارم کے ساتھ۔"

(الفجر۸۹:۶-۷)

۲۰