• ابتداء
  • پچھلا
  • 32 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6070 / ڈاؤنلوڈ: 805
سائز سائز سائز
مرا پیمبر عظیم تر ہے

مرا پیمبر عظیم تر ہے

مؤلف:
اردو

نہ میرے سخن کو سخن کہو

نہ میرے سخن کو سخن کہو نہ مری نوا کو نوا کہو

میری جاں کو صحنِ حرم کہو مرے دل کو غارِ حرا کہو

٭

میں لکھوں جو مدحِ شہِ اُمم اور جبرائیل بنیں قلم

میں ہوں ایک ذرۂ بے درہم مگر آفتابِ ثناء کہو

٭

طلبِ شہِ عربی کروں میں طوافِ حُبِ نبی کروں

مگر ایک بے ادبی کروں مجھے اُس گلی کا گدا کہو

٭

نہ دھنک، نہ تارا، نہ پھول ہوں قدمِ حضور کی دھُول ہوں

میں شہیدِ عشقِ رسول ہوں میری موت کو بھی بقا کہو

٭

جو غریب عشق نورد ہو اُسے کیوں نہ خواہشِ درد ہو

میرا چہرہ کتنا ہی زرد ہو میری زندگی کو ہرا کہو

٭

ملے آپ سے سندِ وفا ہوں بلند مرتبۂ صفا

میں کہوں محمدِ مصطفیٰ کہو تم بھی صلے علیٰ کہو

٭

۲۱

وہ پیام ہیں کہ پیامبر وہ ہمارے جیسا نہیں مگر

وہ ہے ایک آئینۂ بشر مگر اُس کو عکسِ خدا کہو

٭

یہ مظفر ایسا مکین ہے کہ فلک پہ جس کی زمین ہے

یہ سگِ براق نشین ہے اسے شہسوارِ صبا کہو

٭٭٭

۲۲

حمدِ باری تعالیٰ

تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کھُل جائیں

میری آنکھوں پہ بھی یا رب تیرے اسرار کھُل جائیں

٭

میں تیری رحمتوں کے ہاتھ خود کو بیچنے لگوں

مری تنہائیوں میں عشق کے بازار کھُل جائیں

٭

جوارِ عرشِ اعظم اس قدر مجھ کو عطا کر دے

مرے اندر کے غاروں پر ترے انوار کھُل جائیں

٭

اتاروں معرفت کی ناؤ جب تیرے سمندر میں

تو مجھ پر باد بانوں کی طرح منجدھار کھُل جائیں

٭

اندھیروں میں بھی تو اتنا نظر آنے لگے مجھ کو

کہ سناٹے بھی مانندِ لبِ اظہار کھُل جائیں

٭

مرے مالک مرے حرفِ دعا کی لاج رکھ لینا

ملے تو بہ کو رستہ ، بابِ استغفار کھُل جائیں

٭

مظفر وارثی کی اس قدر تجھ تک رسائی ہو

کہ اس کے ذہن پر سب معنیِ افکار کھُل جائیں

٭٭٭

۲۳

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

وہ اپنے کردار کی زبانی

بتائے قرآن کے معانی

اس آئینے میں خدا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

سماعتوں پر یقین کرنا

دھوئیں کے اندر ہے رنگ بھرنا

ابد کی آنکھیں بھی جس کو دیکھیں

وہ کُہسارِ ازل کا جھرنا

جبینِ خیرالبشر سے پھُوٹے

یقینِ اہلِ نظر سے پھُوٹے

فنا کے پتلو! بقا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

۲۴

ہزاروں لوگ ایسے محترم ہیں

جو صاحبِ خامہ و عَلم ہیں

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبی کی

وہ سب اکٹھے بھی اُس سے کم ہیں

بڑے بڑوں سے بھی وہ بڑا ہے

افق کے منبر پہ وہ کھڑا ہے

خطیبِ ارض و سما کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

وہ دستِ رحمت دراز رکھے

نگاہِ عالم نواز رکھے

گناہ سے اپنے اُمتی کو

وہ خلوتوں میں بھی باز رکھے

دریچۂ روح سے وہ جھانکے

کھُلے ہیں در اُس پہ ہر مکاں کے

مکینِ دار الہدٰی کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

۲۵

ہر ایک سانس اُس کی زندگی کا

ہے ایک مینار روشنی کا

جریدۂ وقت پر رقم ہے

ہر ایک لمحہ میرے نبی کا

اگر کوئی ذات دائمی ہے

تو صرف میرے حضور کی ہے

ہر اک صدی کی صدا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

ہر ایک فرزندِ ارضِ خاکی

رہا پناہوں میں مصطفےٰﷺ کی

کوئی کہیں کا، کوئی کہیں کا

نہ کوئی بد دل، نہ کوئی شاکی

جو درسگاہِ نبی سے نکلے

غلام بھی شاہ بن کے نکلے

معلمِ ارتقاء کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو

٭

۲۶

قدم اُٹھائے جہاں پہ رکھ کر

چراغ سے ہر نشاں پی رکھ کر

کھلائے کَوڑی کو بھی وہ حلوہ

خود اپنی نوکِ زباں پہ رکھ کر

زمانہ لائے نظیر اُس کی

فلاحِ انساں فقیر اُس کی

کمال ہے جس ادا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ ﷺ کو دیکھو

٭٭٭

۲۷

نعت حبیب خداؐ

جو ملے حیات خضر مجھے اور اسے میں صرف ثنا کروں

تیرا شکر پھر بھی ادا نہ ہو تیرا شکر کیسے ادا کروں

٭

تیرے لطف کی کوئی حد نہیں گنوں کس طرح کہ عدد نہیں

نہیں کوئی تیرے سوا میرا کسے یاد تیرے سوا کروں

٭

تیرے در پہ خم رہے سر میرا تیری رحمتوں پہ گزر میرا

میں کہا کروں تو سنا کرے تو دیا کرے میں لیا کروں

٭

مجھے خوشبوؤں کی کلاہ دے مجھے روشنی سی نگاہ دے

کبھی پھول بن کے مہک اٹھوں کبھی شمع بن کے جلا کروں

٭

میں بہت ہی عاجز و بے نوا تیرے آگے میری بساط کیا

کوئی بھول ہو تو معاف کر مجھے بخش دے جو خطا کروں

٭

میرے ایک دامنِ عمر میں ہیں نجانے کتنی ندامتیں

میرا خاتمہ بھی بخیر ہو یہی رات دن میں دعا کروں

٭٭٭

۲۸

مجھے وہ زباں نہیں چاہئے

جو تری ثنا میں نہ ہو فنا مجھے وہ زباں نہیں چاہیئے

ترے پیار میں ہیں مری رتیں مجھے یہ جہاں نہیں چاہیئے

٭

تری خاکِ پا یے میری حنا ترا عکس بھی میرا آئینہ

میں فقط نظر تو نظارہ گر مجھے تو کہاں نہیں چاہیئے

٭

جو نظر میں ہو ترا روپ بھی شبِ ماہ لگتی ہے دھوپ بھی

تری رحمتیں جو پناہ دیں کوئی سائباں نہیں چاہیئے

٭

مری سانس ہوں تیری چاپ ہو فلک اور زمیں کا ملاپ ہو

تری روشنی کے سوا کوئی سرِ کوئے جاں نہیں چاہیئے

٭

مرے دھیان کو وہ رسائی دے مجھے تو یہیں سے دکھائی دے

کوئی واسطہ کوئی راستہ کوئی کارواں نہیں چاہیئے

٭٭٭

۲۹

وہی نبی ہے

روشنی حق سے پھوٹ کر جس بن گئی ہے ، وہی نبی ہے

تمام تخلیق کا جو کردار مرکزی ہے ، وہی نبی ہے

٭

وجودِ آدم سے تابہ عیسی ہر اک زمانہ ہے مبتدی سا

صدی صدی جس کے عہد سے درس لے رہی ہے ، وہی نبی ہے

٭

خدا کی رحمت ہے نام اس کا ، فلاح انساں پیام اس کا

ڈھلی ہوئی اس پیام میں جس کی زندگی ہے ، وہی نبی ہے

٭

بشر ہے وہ یا کلام میں باری میں میں اس کی ہر اک ادا کا قاری

تمام قرآن کی جو تصویر معنوی ہے ، وہی نبی ہے

٭

بسائی دنیائے اندرونی ، بنی مسیحا نگاہ خونی

درستیِ نقشۂ خیالات جس نے کی ہے ، وہی نبی ہے

٭

جو اس گلی کے ایاز ٹھہرے وہ لوگ تاریخ ساز ٹھہرے

کمال سالاری جہاں جس کی پیروی ہے ، وہی نبی ہے

٭

قدم نشان قدم سے بالا ، وجود اس کا عدم سے بالا

جو اول کائنات ہو کر بھی آخری ہے ، وہی نبی ہے

٭

۳۰

نہ صرف وہ اس جہاں سے گزرا ، وہ آسماں آسماں سے گزرا

نگاہ سائنس داں بھی جس پر لگی ہوئی ہے ، وہی نبی ہے

٭

جو کوئی امرت بھی دے نہ چکھنا ، لگن مظفر اسی کی رکھنا

سنوار دی جس نے تیری دنیا و دیں وہی نبی ہے ، وہی نبی ہے

٭٭٭

۳۱

فہرست

حمد ۴

یا رحمۃ العالمین ۵

علم محمد ، عدل محمد، پیار محمد ۸

مرا پیمبر عظیم تر ہے ۱۱

نعت پاک ۱۵

نعت رسول پاک ۱۶

تو کجا من کجا ۱۸

لانبی بعدی ۲۰

نہ میرے سخن کو سخن کہو ۲۱

حمدِ باری تعالیٰ ۲۳

محمدِ مصطفیٰﷺ کو دیکھو ۲۴

نعت حبیب خداؐ ۲۸

مجھے وہ زباں نہیں چاہئے ۲۹

وہی نبی ہے ۳۰

۳۲