حمد و مناجات اورنعت

حمد و مناجات اورنعت0%

حمد و مناجات اورنعت مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 53

حمد و مناجات اورنعت

مؤلف: ڈاکٹرمحمد شرف الدین ساحل
زمرہ جات:

صفحے: 53
مشاہدے: 7933
ڈاؤنلوڈ: 629

تبصرے:

حمد و مناجات اورنعت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 53 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7933 / ڈاؤنلوڈ: 629
سائز سائز سائز
حمد و مناجات اورنعت

حمد و مناجات اورنعت

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

حمد ونعت

ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل

ماخذ :اردو کی برقی کتاب

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

کس زباں سے میں کروں حمد خدائے قیوم

کام دیتی ہے یہاں پر نہ فراست، نہ علوم

۔ ۔ ۔ ساحل۔ ۔ ۔

۳

حمد باریِ تعالیٰ

(۱)

فہم و ادراک تھک گئے مولا

تو سمجھ سے اس قدر بالا

*

صرف چھ دن میں لفظ کُن کہہ کر

تو نے پیدا کیے ہیں ارض و سما

*

تیری قدرت کے شاہکارِ حسیں

پھول، برگِ حنا و موجِ صبا

*

بحر، دریا، ندی، پہاڑ، دھنک

گلستاں، کھیت، وادی و صحرا

*

بیج کو قوتِ نمو دے کر

شق کیا ارضِ سخت کا سینا

*

ساری دنیا کو کر دیا غرقاب

تیرا قہر و جلال ہے ایسا

*

رس و تبّع و ایکہ، عاد و ثمود

سب کو تیرے عذاب نے گھیرا

*

۴

سینۂ کوہ چیر کر تو نے

حاملہ اونٹنی کیا پیدا

*

سرفرازیِ اہلِ حق کے لیے

تیری قدرت سے پھٹ گیا دریا

*

امر سے اپنے ابنِ مریمؑ کو

کر کے ظاہر، شرف جہاں میں دیا

*

اپنے محبوبؐ کی دعا سن کر

ماہتابِ حسیں دو ٹکڑے کیا

*

سر بلندی فقط اسی کو ملی

تیری عظمت کو جس نے پہچانا

*

تو جو چاہے تو سنگ پانی ہو

تیرے قبضے میں سب ہیں یا اللہ

*

التجا بس یہی ہے ساحل کی

اِس گنہگار پر کرم فرما

***

۵

حمد ہے آفتاب کا منظر

(۲)

حمد ہے آفتاب کا منظر

گردشِ انقلاب کا منظر

*

بادلوں کے سیاہ جھرمٹ میں

تیز رو ماہتاب کا منظر

*

بحرِ پُر شور کے تلاطم میں

لہر و موج و حباب کا منظر

*

تتلیوں کے پروں کی نقّاشی

حسنِ رنگِ گلاب کا منظر

*

نرم و نازک ہوا کے کاندھوں پر

اُڑتے پھرتے سحاب کا منظر

*

اُس کی قدرت کا ہی کرشمہ ہے

موسمِ لاجواب کا منظر

*

فرش مخمل پہ کروٹیں لیتا

زندگی کے عذاب کا منظر

*

۶

حالتِ بیکسی میں کانٹوں پر

شوقِ کارِ ثواب کا منظر

*

ظلمتِ شب میں، گھر کے کونے میں

شمع کے التہاب کا منظر

*

عہدِ طفلی سے عہدِ پیری تک

نعمتِ بے حساب کا منظر

*

فکرِ ساحل کو روک دیتا ہے

حیرت و استعجاب کا منظر

***

۷

جو پُر یقیں ہیں انھی کو اٹھان دیتا ہے

(۳)

جو پُر یقیں ہیں انھی کو اٹھان دیتا ہے

خدا پرند کو اونچی اڑان دیتا ہے

*

اسی کا کلمۂ توحید افضل و اعلا

یہ دیکھ روز مؤذّن اذان دیتا ہے

*

دعائیں مانگ اسی سے تو بے مکانی پر

وہی زمین پہ سب کو مکان دیتا ہے

*

اگر وہ چاہے ہری کھیتوں کو کر دے تباہ

اُسی کے اِذن پہ فصلیں کسان دیتا ہے

*

غرور کس لیے تجھ کو ہے خوش کلامی پر

وہ چاہتا ہے تو شیریں زبان دیتا ہے

*

عطا وہ کرتا ہے جنت کی اُس کو ہر نعمت

جو اُس کے دیں کے لیے اپنی جان دیتا ہے

*

اُسی کی ذات پہ ساحل یقین رکھ، ورنہ

وہ انحراف پہ وہم و گمان دیتا ہے

***

۸

خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے

(۴)

خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے

وہی ذراتِ بے مایہ کو عظمت بخش دیتا ہے

*

وہ شہرت یافتہ کو پل میں کر دیتا ہے رسوا بھی

ذلیل و خوار کو چاہے تو عزت بخش دیتا ہے

*

کبھی دانشوروں پر تنگ کر دیتا ہے وہ روزی

کبھی جاہل کو بھی انعامِ دولت بخش دیتا ہے

*

وہ لے کر تاجِ شاہی کو کسی سرکش شہنشاہ سے

کسی کمزور کو دے کر حکومت بخش دیتا ہے

*

وہی بے چین رکھتا ہے امیرِ شہر کو شب بھر

یقیں کی سیج پر مفلس کو راحت بخش دیتا ہے

*

فضائے شر میں، کارِ خیر کو ملتی ہے یوں عزت

وہ جب نفرت کے بدلے دل کو چاہت بخش دیتا ہے

*

سمجھ لیتا ہے ساحلؔ جو بھی اس رازِ مشیت کو

وہ اُس انسان کو نورِ حقیقت بخش دیتا ہے

***

۹

گردشِ شام اور سحر میں تو

(۵)

گردشِ شام اور سحر میں تو

ہر پرندے کے بال و پر میں تو

*

مور کے پنکھ میں تری قدرت

برق، سیلاب اور بھنور میں تو

*

تیری توحید کی علامت ہیں

پھول، غنچہ، کلی، ثمر میں تو

*

ان کی تابندگی ہے امر ترا

لعل و یاقوت میں گہر میں تو

*

ریگِ صحرا میں، صحنِ گلشن میں

کھیت میں، دشت میں، کھنڈر میں تو

*

کوئی انکار کر نہیں سکتا

مٹی، پانی، ہوا، شرر میں تو

*

سارا عالم ہے تیرے قبضے میں

ملک، صوبہ، نگر نگر میں تو

*

۱۰

یہ نتیجہ ہے حسنِ فطرت کا

بس گیا ہے مری نظر میں تو

*

دل میں ساحلؔ کے تو ہی رہتا ہے

اس کی مغموم چشمِ تر میں تو

***

۱۱

وجود اُس کا ہے مشک و گلاب سے ظاہر

(۶)

وجود اُس کا ہے مشک و گلاب سے ظاہر

یہ جگمگائے ہوئے ماہتاب سے ظاہر

*

جو اُس کے حکم سے روشن ازل سے ہے اب تک

حریفِ ظلمتِ شب، آفتاب سے ظاہر

*

نسیم، برق، شرر، بادِ تند، قوسِ قزح

شفق، نجوم، خلا و سراب سے ظاہر

*

بہشت و دوزخ و قہر و جلال، حور و ملک

جزا، سزا و ثواب و عذاب سے ظاہر

*

منی و علقہ و مضغہ کی پرورش سے عیاں

ضعیفی، طفلی، و عہدِ شباب سے ظاہر

*

ہر ایک لفظ میں کونین جذب ہے جس کے

اُسی مقدس و اطہر کتاب سے ظاہر

*

یقین آئے نہ اِن پر تو ہوگا وہ ساحلؔ

بروزِ حشر حساب و کتاب سے ظاہر

***

۱۲

مسکراتے ہوئے شہروں کو مٹایا تو نے

(۷)

مسکراتے ہوئے شہروں کو مٹایا تو نے

اور ویران علاقوں کو بسایا تو نے

*

رونے والوں کو اچانک ہی ہنسایا تو نے

ہنسنے والوں کو اِسی طرح رُلایا تو نے

*

ماں کی ممتا میں سما کر سبھی بچوں کو سدا

تھپکی دے دے کے محبت سے سلایا تو نے

*

وقت پر اپنے گرا بارشِ رحمت بن کر

بحرِ پُر شور سے بادل جو اٹھایا تو نے

*

اس سے سیراب ہے ہر لمحہ حیاتِ انساں

رحمتِ خاص کا وہ دریا بہایا تو نے

*

یہ بھی رحمت ہے تری بھیج کے دنیا میں رسولؐ

اپنی توحید کا پیغام سنایا تو نے

*

تیری توصیف میں یہ مصرعِ ساحل بھی ہے

اس کی رسوائی سے ہر وقت بچایا جائے

***

۱۳

کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا

(۸)

کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا

قطرے کو تو نے سیپ میں گوہر بنا دیا

*

یہ بھی اصل میں تری تقدیر کا کمال

جس نے امیرِ شہر کو نوکر بنا دیا

*

دستِ دعا کو دیکھ کے جب مہرباں ہوا

بے انتہا غریب کو افسر بنا دیا

*

کل رو رہا تھا جو، ہے وہی آج شادماں

بدتر کو تو نے آن میں بہتر بنا دیا

*

علما بھی اس کی فکر گم ہوکے رہ گئے

کم علم کو اک ایسا سخنور بنا دیا

*

اس طرح سے بچا لیا اپنے خلیلؑ کو

نارِ غضب کو پھول کا بستر بنا دیا

*

جس کو بھی چاہا اس کو دیا عزت و شرف

اور جس کو چاہا اپنا پیمبر بنا دیا

*

۱۴

خنجر کو شاخِ گل کی کبھی دی نزاکتیں

اور شاخِ گل کو وقت پہ خنجر بنا دیا

*

لذت نشاط کی ملی ہر حال میں اسے

ساحلؔ کا تو نے ایسا مقدر بنا دیا

***

۱۵

ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون

(۹)

ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون

بن گیا موتی اسے تابندگی دیتا ہے کون

*

آگیا موسم خزاں کا، موت سب کو آ گئی

مردہ پودوں کو دوبارہ زندگی دیتا ہے کون

*

بن گئی ہیں پھول سب اپنے چٹکنے کے سبب

لب پہ کلیوں کے اچانک ہی ہنسی دیتا ہے کون

*

یہ ہیں سب بے جان ان میں جان کیسے آ گئی

تال، سر، لفظ و صدا کو دلکشی دیتا ہے کون

*

کھو گیا اس کی نوا میں تو مگر یہ بھی تو دیکھ

نالۂ بلبل میں درد و نغمگی دیتا ہے کون

*

ان کی تابانی سے نظروں کو ہٹا کر یہ بھی سوچ

انجم و شمس و قمر کو روشنی دیتا ہے کون

*

اپنے شعروں پر ہے ساحلؔ کیوں تجھے اتنا غرور

سوچ کہ شاعر کو ذوقِ شاعری دیتا ہے کون

***

۱۶

ردائے ظلمتِ شب پل میں پھاڑ کر تو نے

(۱۰)

ردائے ظلمتِ شب پل میں پھاڑ کر تو نے

نکالی گردشِ ایام کی سحر تو نے

*

میرا عقیدہ ہے، ایسا ہے قادرِ مطلق

جو سنگ ریزے تھے ان کو کیا گہر تو نے

*

جو مضطرب رکھے اس کو جگر کے ٹکڑے پر

دیا ہے ماں کو وہی عشقِ معتبر تو نے

*

رسولِؐ صادق و مصدوق و امّی کے ذریعے

بدل دی خیرِ مکمل سے فکرِ شر تو نے

*

اٹھائی جس پہ، اسے معرفت ملی تیری

عطا کی بندۂ مومن کو وہ نظر تو نے

*

مرے کریم! ترا شکر اس عنایت پر

دیا ہے مجھ کر ضرورت کا مال و زر تو نے

*

ہے اعتراف کہ ساحل ہے مطمئن اس میں

دیا ہے اس کو وراثت میں ایسا گھر تو نے

***

۱۷

واحد ہے، بے نیاز و بے اولاد و آل ہے

(۱۱)

واحد ہے، بے نیاز و بے اولاد و آل ہے

تو ربِ کائنات ہے اور ذوالجلال ہے

*

ہر شے میں اس جہاں کی جو حسنِ و جمال ہے

تیری ہی صنعتوں کا یہ روشن کمال ہے

*

احسن ہے کون تیرے سوا خالقین میں

کاریگری میں تیری بڑا اعتدال ہے

*

سیارے سارے رہتے ہیں اپنی حدود میں

شمسی و قمری نظم ترا بے مثال ہے

*

اک دوسرے کو لے نہیں سکتے گرفت میں

سیّارگان میں کہاں اتنی مجال ہے

*

قائم ہے تیرے حکم سے ہی ان کی گردشیں

ورنہ یہ کام اصل میں امرِ محال ہے

*

یہ التجا ہے حسبِ ضرورت ہی دے اسے

ساحل کا تیرے آگے جو دستِ سوال ہے

***

۱۸

معبودِ حقیقی

نہیں معبود کوئی

بس اک اللّٰہ معبودِ حقیقی ہے

*

چراغِ نور ہو جیسے کسی قندیل کے اندر

رکھا ہو ایک شیشے کے کنول میں وہ

ہے شیشے کا کنول شفاف مثلِ کوکبِ پُر نور

وہ روشن روغن زیتون سے ہے جو مبارک اک شجر ہے

*

ہے اس کی روشنی مشرق کی جانب

اور نہ ہی مغرب کی جانب

وہی ہے حیّ و قیّوم

*

نہ اس کو اونگھ آتی ہے

نہ اس کو نیند آتی ہے

زمیں اور آسمانوں میں ہے جو کچھ

سب اس کی ملکیت ہے

بغیرِ اذن اس کے کر نہیں سکتا

سفارش کوئی بھی اس سے کسی کے واسطے

ہمارے آگے جو کچھ ہو رہا ہے

ہمارے پیچھے جو کچھ ہو چکا ہے

*

۱۹

اسے سب کی خبر ہے

احاطہ کر نہیں سکتا ہے کوئی علم کا اس کے کسی شئی میں

مگر وہ جتنا چاہے

اسی کی حکمرانی ہے زمین و آسمانوں میں

وہ تھکتا ہی نہیں اپنی حکومت کو چلانے میں

وہی ہے اکبر و مولیٰ

وہی سب حاکموں کا حاکمِ اعلا

وہ جس کو چاہتا ہے حکمرانی بخش دیتا ہے

وہ جس سے چاہتا ہے حکمرانی چھین لیتا ہے

وہ جس کو چاہتا ہے عزت و ناموس دیتا ہے

وہ جس کو چاہتا ہے خوار کر دیتا ہے پل بھر میں

وہ جس کو چاہتا ہے سب سے زیادہ رزق دیتا ہے

ہے اس کے ہاتھ میں سب کچھ

وہی ہے حاکمِ اعلا

***

۲۰