تفسیر نمونہ جلد ۱۰

تفسیر نمونہ 0%

تفسیر نمونہ مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن

تفسیر نمونہ

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 7920
ڈاؤنلوڈ: 301


تبصرے:

جلد 1 جلد 4 جلد 5 جلد 7 جلد 8 جلد 9 جلد 10 جلد 11 جلد 12
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 93 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7920 / ڈاؤنلوڈ: 301
سائز سائز سائز
تفسیر نمونہ

تفسیر نمونہ جلد 10

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

تفسیر نمونہ جلد دہم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری

سورہ یوسف

آیات ۵۴،۵۵،۵۶،۵۷

۵۴۔( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ اٴَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ اٴَمِینٌ ) ۔

۵۵ ۔( قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْاٴَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ ) ۔

۵۶ ۔( وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ یَتَبَوَّاٴُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَاءُ نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلاَنُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۵۷ ۔( وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۴ ۔(مصر کے) باد شا ہ نے کہا :اس ( یوسف ) کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اسے اپنے ساتھ مخصوص کر لوں ۔

جب( یوسف اس کے پاس آئے اور )اس سے گفتگو کی ( تو باد شاہ کو ان کی عقل و فہم کا اندازہ ہوا) تو اس نے کہا: آج تو ہمارے ہاں اعلیٰ قدر و منزلت رکھتا ہے تو قابل اعتماد ہ۔

۵۵ ۔ (یوسف نے )کہا: مجھے ( مصر کی ) زمین کے خزانوں کا سر پرست بنادے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا اور آگاہ ہوں ۔

۵۶ ۔ اس طرح ہم یوسف کو ( مصر کی ) زمین میں قدرت دی کہ اب جہاں چاہتا اس میں رہتا ( اور اس میں تصرف کرتا) ہم جسے چاہتے ہیں ( اور لائق سمجھے ہیں ) اپنی رحمت سے نواز تے ہیں اور ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع کرتے ۔

۵۷ ۔ اور جو ایمان لائے ہیں اور پر ہیز گار ہیں آخرت کا اجر ان کے لئے بہتر ہے ۔

یوسفعليه‌السلام مصر کے خزانہ دار کی حیثیت سے

حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی کی عجیب زندگی کی تفصیل میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ آخر ان کی پاکدامنی سب پر ثابت ہو گئی یہاں تک کہ ان کے دشمنوں نے ان کی پاکیز گی کی گواہی دی اور یہ ثا بت ہو گیا کہ جس گناہ کی وجہ سے وہ زندان میں ڈالے گئے تھے وہ پاکدامنی تقویٰ اور پر ہیز گاری کے سواکچھ نہ تھا۔

ضمناً یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ بے گناہ قیدی علم ، آگہی، دانشمندی ، انتظامی صلاحیت اور فہم و فراست کی بہت اعلیٰ سطح کا مرکز ہے کیونکہ اس نے ” ملک‘ ‘( بادشاہ مصر) کے خوان کی تعبیر بتاتے ہوئے آئندہ کی پیچیدہ اقتصادی مشکلات بیان کرتے ہوئے ساتھ ہی ان سے نجات کے راستے کی نشاندہی بھی کردی تھی ۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے ؛ ” باد شاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اسے اپنامشیر اور نمائندہ خاص بناؤ‘ ‘ اور اپنی مشکلات حل کرنے کے لئے اس کے علم و دانش اور انتظامی صلاحیت سے مدد لوں( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ اٴَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی ) ۔

پادشاہ کا پر جوش پیام لیکر اس کا خاص نمائندہ قید خانے میں یوسف کے پاس پہنچا۔ اس نے بادشا ہ کی طرف سلام و دعا پہنچا یا اور بتا یا کہ اسے آ پ سے شدید لگاؤ ہو گیا ہے ۔ اس نے مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق سے متعلق آپ کی درخواست کی عملی جامہ پہنا یا اور سب نے کھل کر آپ کی پاکدامنی اور بے گناہی کی گواہی دی ہے ۔ لہٰذا اب تاخیر کرنے کی گنجائش نہیں رہی اٹھیئے تاکہ ہم اس کے پاس چلیں ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام پادشاہ کے پاس تشریف لائے ۔ ان کی آپس میں بات چیت ہوئی ۔ باد شاہ نے ان کی گفتگو سنی اور آپ کی پر مغز اور نہایت اعلیٰ باتیں سنیں ۔ اس نے دیکھا کہ آپ کی باتیں انتہائی علم و دانش اور دانائی سے معمور ہیں تو پہلے سے بھی زیادہ آپ کا شیفتہ ہو گیا۔

کہنے لگا : آپ آج سے ہمارے ہاں اعلیٰ قدرت و منزل اور وسیع اختیارات کے حامل ہیں اور ہمارے نزدیک قابل ِ اعتماد رہیں گے( فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ اٴَمِینٌ ) ۔

آج سے اس ملک کے اہم کام آپ کے سپرد ہیں اور آپ کو امور کی اصلاح کے لئے کمر ہمت باندھ لینا چاہئیے کیونکہ میرے خواب کی جو تعبیر آپ نے بیان کی ہے اس کے مطابق اس ملک کو شدید اقتصادی بحران در پیش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس بحران پر صرف آپ ہی قابو پا سکتے ہیں ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے تجویز پیش کہ مجھے اس علاقہ ک ے خزانوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے کیونکہ میں اچھا محافظ ہوں اور اس کام کے اسرار سے بھی واقف ہوں( قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْاٴَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ ) ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام اچھی طرح جانتے تھے کہ ظلم سے بھرے اس معاشرے کی پریشانیوں کی ایک اہم بنیاد اس کے اقتصادی مسائل میں ہیں ۔ لہٰذا انھوں نے سوچا کہ جب کہ انہیں مجبور اً آپ کی طرف آنا پڑا تو کیا ہی اچھا ہے کہ مصر کی اقتصادیات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور محروم و مستضعف عوام کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور جتنا ہو سکے طبقاتی تفاقت اور اونچ نیچ کو کم کریں ، مظلوموں کا حق ظالموں سے لیں اور اس وسیع ملک کی بد حالی کو دور کریں ۔ آپ کی نظر میں تھا کہ خاص طور پر زرعی مسائل اس ملک میں زیادہ اہم ہیں اس بات پر بھی توجہ رکھنا ہو گی چندسال فراوانی کے ہوں گے اور پھر خشکی کے سال در پش ہوں گے لہٰذا لوگوں کو زیادہ سے زیادہ غلّے پیدا کرنے اور پھر انہیں احتیاط سے محفوظ رکھنے اور نہایت کم خرچ کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا تاکہ قحط کے سالوں کے لئے غلہ ذخیرہ کیا جاسکے ۔ لہٰذا اس مقصد کے لئے آپ کو یہی بہتر معلوم ہواکہ آپ مصر کے خزانوں کو اپنی سر پرستی میں لینے کی تجویز پیش کریں ۔

بعض نے لکھا ہے کہ اس سال بادشاہ سخت مشکلات میں گھرا ہوا تھا اور کسی طرح ان سے نجات چاہتا تھا لہٰذا اس نے تمام امور کی باگ ڈور حضرت یوسفعليه‌السلام کے ہاتھ میں دے دی اور خود کنارہ کشی اختیار کرلی ۔

بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ اس نے عزیز مصرکی جگہ حضرت یوسفعليه‌السلام کواپنا وزیر اعظم بنا لیا۔

یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے ظاہری مفہوم کے مطابق وہ صرف مصر کے وزیر خزانہ بنے ہوں لیکن اسی سورہ کی آیت ۱۰۰ ۔ اور۔ ۱۰۱/ کہ جن کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی اس امر کی دلیل ہیں کہ آخر کار آپ بادشاہ ہوگئے اورتمام امور مملکت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں آگئی ۔ اگر چہ آیت ۸۸/ میں ہے کہ یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا :” ی( ا ایها العزیز ) “ ۔

یہ امر کی دلیل ہے کہ آپ نے عزیز مصر کا منصب سنبھالا مگر اس میں کوئی مانع نہیں کہ آپ نے یہ مناسب تدریجاً حاصل کئے ہوں ۔ پہلے وزیر خزانہ ہوئے ہوں پھر وزیر اعظم اور پھر بادشاہ ۔

بہر حال اس مقام پر خدا کہتا ہے : اور اس طرح ہم نے یوسفعليه‌السلام سر زمین مصر پر قدرت عطا کی کہ وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا تھا( وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ یَتَبَوَّاٴُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَاءُ ) ۔

جی ہاں ! ہم اپنی رحمت اور مادی و روحانی نعمتیں جسے چاہتے ہیں اور اہل پاتےہیں عطا کرتے ہیں ( نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ) ۔

اور ہم نیکو کاروں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کریں گے “۔ اگر چہ اس میں تاخیر ہو جائے تاہم آخر کار جو کچھ ان کے لائق ہوا انہیں دیں گے کیونکہ ہم کسی نیک کو فراموش نہیں کرتے( وَلاَنُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم صرف دنیاوی اجر ہی نہیں دیں بلکہ ”جو اجر انہیں آخرت میں ملے گا وہ اہل ایمان اور صاحبان ِ تقویٰ کے لئے زیادہ اچھا ہے“( وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام نے طاغوت وقت کی دعوت کیونکر قبول کی ؟

زیر بحث آیات کی طرف توجہ ہوتے ہیں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی طاغوت زمانہ سے وزارت ِ خزانہ یا وزارت عظمیٰ کا منصب قبول کرنے اور اس کے ساتھ ملکر کام کرنے پر کیسے تیار ہو گئے؟

اس سوال کا جواب خود مندرجہ بالا آیات ہی میں پوشیدہ ہے ۔ وہ یہ کہ آپ نے یہ منصب ایک ’ حفیظ و علیم “ شخصیت کی حیثیت سے قبول کیا تاکہ عوام کے مفاد میں بیت المال کی حفاظت کریں اور اسے انہی کے مفاد میں خرچ کریں خصوصاً مستضعف اور محروم کے حقوق کو جو اکثر معاشروں میں پامال ہوتے ہیں ان تک پہنچائیں ۔

علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے کہا ہے وہ علم و تعبیر کے ذریعے جانتے تھے کہ مصری قوم کو ایک شدید اقتصادی بحران پیش آنے والا ہے لہٰذا اس کے مقابلے کے لئے دقیق پروگرام اور قریب سے اس کی نگرانی کے بغیر ممکن تھا کہ بہت سے لوگ تباہ و بر باد ہو جاتے، لہٰذا اس مصیبت سے عوال کی نجات اور بے گناہ انسانوں کی جان کی حفاظت کے لئے ضروری تھا کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کو جو موقع مل رہا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور تمام لوگوں خصوصاً محروم عوام کے لئے اس سے استفادہ کرتے کیونکہ اقتصادی بحران اور قحط سالی میں سب سے زیادہ خطرہ انہیں لوگوں کی جان کو تھا اور بحرانوں کی پہلی قربانی یہی لو گ ہوتے ہیں ۔

فقہ میں ظالم کی حکومت قبول کرنے کی بحث میں بھی یہ بات تفصیل سے آئی ہے کہ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا ہمیشہ حرام نہیں ہوتا بلکہ کبھی مستحب بھی ہوتا ہے اور ایسا اس صورت میں ہوتاہے جب اس منصب کو قبول کرنے کے فوائد اور دینی تقاضے اس کی حکومت کی تقویت پہنچنے کے نقصانات سے زیادہ ہوں ۔

متعدد روایات میں آیاہے کہ آئمہ اہل بیتعليه‌السلام بھی اپنے قریبی ساتھیوں کو اس قسم کی اجازت دے دیتے تھے مثلاً علی بن یقطین امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ انھوں نے اپنے زمانے کے فرعون ہارون رشید کی وزارت امامعليه‌السلام کی اجازت سے قبول کی ۔

بہرصورت اس قسم کے مناصب قبول کرنے یا رد کرنے کا انحصار ’ قانون ِ اہم و فہم “ پر ہے ۔ اس کے نفع و نقصان کو دینی اور اجتماعی لحاظ سے پرکھا جانا چاہیئے ۔ بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ایسا عہدہ قبول کرنا ظالم کی معزولی پر منتج ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بعض روایات کے مطابق حضرت یوسفعليه‌السلام کے ساتھ بھی یہی اتفاق ہوا اور کبھی ایسا عمل بعد ازآں انقلاب و قیام کا سر چشمہ بن جاتا ہے کیونکہ منصب قبول کرنے والا شخص حکومت کے اندر سے انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ شاید مومن آل ِ فرعون اسی قسم کی ایک مثال تھے ۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسے افراد مظلوموں اور محروموں کے لئے پناہ گاہ بن جاتے ہیں اور ان کے لئے حکومتی ظلم میں کمی کاباعث بن جاتے ہیں ان مقاصد میں سے کوئی ایک بھی حاصل ہورہا ہوتو ایسے عہدہے قبول کرنے کا جواز بن جاتا ہے ۔

ایک مشہور روایت میں امام صادقعليه‌السلام ایسے ہی افرد کے بارے میں فرماتے ہیں :

کفارة عمل السلطان قضاء حوائج الاخوان

ظالم حکومت کا ساتھ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ بھائیوں کی ضروریات پوری کی جائیں ۔(۱)

لیکن یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن میں حلال و حرام کی سر حد ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتی ہے ۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ انسان تھوڑی سی سہل انگاری کی وجہ سے غلط طور پر ظالم کا ساتھ دینے لگتا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جب کہ وہ سمجھ رہاہوتا ہے کہ میں عبادت اور خدمت خلق میں مشغول ہوں ۔

بعض اوقات سوء استفادہ کرنے والے افراد حضرت یوسفعليه‌السلام یا علی بن یقطین کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ ان کے کام کوحضرت یوسفعليه‌السلام اور علی بن یقطین سے کوئی نسبت نہیں ہوتی ۔(۲)

یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ مصر کا ظالم بادشاہ اس کے لئے کیسے تیار ہو گیا جب کہ وہ جانتا تھا کہ حضرت یوسف ظلم و ستم استعماری ہتھکنڈوں اور استشمار کے لئے ہر گز تیار نہ ہوں گے بلکہ اس کے برعکس اس کے مظالم میں رکاوٹ بنیں گے ۔

ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب چندان مشکل نہیں رہتا ، وہ یہ کہ بعض اوقات معاشرتی اور اقتصادی بحران اس طرح کے ہوتے ہیں کہ خود سروں کی حکومت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیتے ہیں اسی طرح سے کہ انہیں اپنی ہر چیز خطرے میں نظر آتی ہے ۔ ایسے مواقع پر ہلاکت سے بچنے کے لئے وہ یہاں ک تیار ہو جاتے ہیں کہ ایک عادلانہ عموامی حکومت کو قبول کرلیں تاکہ اپنے آپ کو بچا سکیں ۔

۲ ۔ اقتصادی مسائل اور انتظامی صلاحیت کی اہمیت :

بعض مکاتب بالکل یک جہتی ہیں اور ہر چیز کو اقتصادی پہلو میں منحصر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے انسان اور اس کے وجودکی مختلف جہات کو نہیں پہنچانا ۔ ہم اگر چہ ان مکاتب سے اتفاق نہیں کرتے تا ہم معاشروں کی زندگی میں خصوصیت سے اتصادی مسائل کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مندر جہ بالا آیات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کیونکہ تمام مناصب میں سے حضرت یوسفعليه‌السلام نے وزارت خزانہ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کہ اگر انہوں نے اسے ٹھیک کرلیا تو مصر کی زیادہ تر پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور عدالت ِ اقتصادی کے ذریعے وہ دوسری مشکلات پر بھی قابو پا سکیں گے ۔

اسلامی روایات میں بھی اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے جس میں لوگوں کی روحانی او رمادی زندگی (قوام الدین و الدنیا )کی حقیقی دو بنیادوں میں سے ایک اقتصادی مسائل بیان کی گئی جب کہ دوسری آگہی اور علم و دانش کو شمار کیا گیا ہے ۔ گر چہ مسلمانوں نے ابھی تک اس اہمیت کی طرف توجہ نہیں کی کہ جو اسلام نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اس حصے کو دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان زندگی کے اس حصے میں اپنے دشمنوں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور پس ماندہ ہیں ۔

لیکن مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں روز بروز بیداری اور آگاہی میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے امید بندھتی ہے کہ مستقبل میں مسلمان اقتصادی میدان میں کاوشوں کو ایک بہت بڑی اسلامی عبادت سمجھتے ہوئے انجام دینے لگیں کے اور اس لحاظ سے اسلام کے بے رحم دشمنوں کی نسبت جو پس ماندگی ہے اسے دور کریں گے ۔

ضمناً حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ جو کہا ہے کہ : ”( انی حفیظ علیم ) “ ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے کسی حساس منصب کو قبول کرنے کے لئے صرف امانت داری ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت بھی ضروری ہے اور اس کے علاوہ علم و آگاہی اور مہارت بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے ”حفیظ“کے ساتھ ساتھ ” علیم “ بھی کہا ہے ۔

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بے خبری ، عدم مہارت اور انتظامی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے جو خطرات پیدا ہوتے ہیں وہ خیانت سے پیدا ہونے والے خطرات سے کم نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات اس سے بد تر اور زیادہ ہوتے ہیں ۔

ان واضح اسلامی تعلیمات کے باوجود معلوم نہیں بعض مسلمان انتطامی صلاحیت اور علم و آگہی کے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور عہدے سپرد کرنے کے لئے وہ صرف امانت و دیانت کو شرائط سمجھتے ہیں حالانکہ پیغمبر اسلام اور حضرت علیعليه‌السلام کی دور حکومت میں ان کی سیرت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ بزرگوار آگاہی اور انتطامی صلاحیت کو امانت و دیانت کی طرح اہمیت دیتے تھے ۔

۳ ۔ مصارف کی نگرانی :

اقتصادی مسائل میں صرف زیادہ سے زیادہ اجناس پیدا کرنے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ بعض اوقات مصارت او رمخارج پر کنٹرول کرنا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے دورِ حکومت میں فراوانی نعمت کے سات سالوں میں مصارف پر سختی سے کنٹرول کیا تاکہ اجناس کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سختی کے سالوں کے لئے بچا کر کھ سکیں ۔

در حقیقت یہ دونوں چیزیں ایک دوسر ے سے جدا نہیں ہوسکتیں ۔ زیادہ پیدا وار اس وقت مفید ہو تی ہے جب اسے زیادہ صحیح طور پر کنٹرول کرکے استعمال کیا جا سکے اور مصارف پر کنٹرول اس وقت زیادہ مفید ہے جب اس کے ساتھ پیداوار بھی زیادہ ے زیادہ ہو۔

مصر میں حضرت یوسفعليه‌السلام کی اقتصادی سیاست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ترقی پذیر اقتصادی نظام صرف زمانہ حال پر نظر نہیں رکھتابلکہ آئندہ پر بھی نظر رکھتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی نظر ہوتی ہے اور یہ انتہائی خود غرضی ہے کہ ہم صرف اپنے آ کے منافع کی فکر میں رہیں مثلاًزمین میں موجود تمام ذخائر کو لوٹ لیں اور آئندہ آنے والوں کی کوئی فکر نہ کریں اور یہ نہ سوچین کہ وہ کن حالات میں زندگی بسر کریں گے کیا ہمارے بھائی صرف وہی ہیں جو آج ہمارے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور بعد میں آنے والے ہمارے کچھ نہیں لگتے؟

یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض اوقات روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے مصر کے لوگوں میں طبقاتی فاوت او رلوٹ کسوٹ کو ختم کرنے کے لئے قحط کے سالوں سے استفادہ کیا ۔ آپ نے زیادہ پیداوار کرکے عرصے میں لوگوں سے غذائی مواد خرید لیا اور اس کے لئے تیارکئے گئے بڑے بڑے گواموں میں اسے ذخیرہ کیا ۔ جب یہ سال گذر گئے اور قحط کے سال شروع ہوئے تو پہلے سال اجناس کو درہم و دینار کے بدلے بیچا ۔ اس طرح کرنسی کا ایک بڑا حصہ جمع کرلیا ۔ دوسرے سال اسباب زینت اور جواہرات کے بدلے اجناس کو بیچا۔

البتہ جن کے پاس یہ چیزیں نہ تھیں انہیں مستثنیٰ رکھا ۔ تیسرے برس چوپایوں کے بدلے ، چوتھے برس غلاموں اور کنیزوں کے عوض ، پانچویں برس عمارات کے بدلے ، چھٹے برس زرعی زمینوں اور پانی کے عوض اور ساتویں خود مصر کے لوگوں کے بدلے اجناس دیں ۔ پھر یہ سب چیزیں انہیں ( عادلانہ طور پر ) واپس کردیں اور کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ عوام کو بلا ؤ مصیبت اور بے سروسامانی سے نجاد دلواں ۔(۳)

۴ ۔ اپنی تعریف یا اپنا تعارف :

اس میں اس میں شک نہیں کہ اپنی تعریف کرنا ایک ناپسند یدہ کام ہے لیکن اس کے باوجود یہ کلی قانون نہیں بعض اوقات حالات کا تقاضا ہوتا ہے اورضروری ہوتا ہے کہ انسان معاشرے کو اپنا تعارف کروائے تاکہ لوگ اسے پہچانیں اور اس کی مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور وہ ایک پوشیدہ اور متروک خزانے کی طرح نہ رہ جائے ۔

مندرجہ بالاآیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے مصر کی وزارت ِ خزانہ کئے منصب کے لئے آپ کو تجویز کرتے ہوئے ” حفیظ علیم “ کے الفاظ سے اپنی تعریف کی کیونکہ ضروری تھا کہ بادشاہ ِ مصر اور دوسرے لو گ جان لیں کہ آپ ایسی صفات کے حامل ہیں جو اسے شعبے کی سر پرستی کے لئے بہت ہی ضروری ہیں ۔

اسی لئے تفسیر عیاشی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپعليه‌السلام سے سوال کیا گیا : کیا جائز ہے کہ انسان آپ اپنی تعریف کرے ۔

آپعليه‌السلام نے فرمایا :نعم ،اذا اضطر الیه اما سمعت قول یوسف اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم وقول العبد الصالح و انا لکم ناصح امین ۔

جی ہاں ! جب اس کے سوا چارہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ کیا تو نے حضرت یوسفعليه‌السلام کا قول نہیں سنا ۔ انہوں نے فرمایا : مجھے زمین کے خزانوں پر مقر کردو کیونکہ میں امین او رآگاہ ہوں ۔ اسی طرح خدا کے عبد صالح ہودعليه‌السلام نے فرمایا :میں تمہارے لئے خیراخواہ اور امین ہوں ۔(۴)

یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خطبہ شقشقیہ اور نہج البلاغہ کے دیگر خطبوں میں حضرت علیعليه‌السلام نے جو اپنی تعریف کی ہے اور اپنے آپ کو محور ِ خلافت کا قب قرار دیا ہے کہ جس کی اوج فکر اور مقام ِ والا تک فکر انسانی کا پرندہ پر نہیں مارسکتااور علوم کی آبشار ان کے کوہسار وجود سے گرتے ہیں ۔ اور اسی قسم کی دیگر تعریفیں سب اس لئے ہیں کہ نا آگاہ اور بے خبر لوگ ا ٓپ کے مقام کو سمجھیں اور آپ کے گنجینہ وجود سے معاشرے کی بہبود کے لئے استفادہ کریں ۔

۵ ۔ روحانی اجر بہتر ہے :

اگر چہ بہت سے نیک لوگوں کو اس جہان میں مادی اجر مل جاتا ہے جیساکہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنی پاکدامنی ، صبر ، پارسائی اور تقویٰ کا نتیجہ اسی دنیا میں پالیا اور اگر وہ پاکدامن نہ ہوتے تو ہرگز اس مقام تک نہ پہنچتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگوں کو اس قسم کی توقع رکھنا چاہئیے اور اگر انہیں مادی اجر نہ ملے تو وہ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ ان پر ظلم ہوا ہے کیونکہ اصلی اجر توو ہ ہے جو آئندہ زندگی میں انسان کے انتظار میں ہے ۔

شاید اسی اشتباہ رفع کرنے اور اس توہم کو دور کرنے کے لئے قرآن زیر بحث ِ آیات میں حضرت یوسفعليه‌السلام کے دنیا وی اجر کا ذکر کرکے بعد مزید فرماتا ہے :( ولاجر الاٰخرة خیر للذین اٰمنوا وکانوا یتقون )

اہل ایمان اور صاحبان تقویٰ کے لئے اجر آخرت برتر و بہتر ہے ۔

۶ ۔قیدیوں کے حقوق کی حمایت :

قید خانوں میں ہمیشہ نیک لوگ ہی نہیں رہے ۔ ان میں کبھی بے گناہ رہے ہیں اور کبھی مجرم لیکن ہر صورت میں اصول ِ انسانی کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئیے ۔ ہوسکتا ہے کہ آج کی دنیا یہ سمجھے کہ قید یوں کے حقوق کی آواز اسی دور میں بلند ہو ئی ہے لیکن اسلام کی پر افتخار تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے اپنی حکومت کی ابتداہی میں قید یوں کے بارے میں نصیحتیں فرمائیں نیز حضرت علیعليه‌السلام نے اپنے ظالم قاتل عبد الرحمن بن ملجم مرادی کے بارے میں جو وصیت فرمائی وہ تو ہم سب نے سنی ہے کہ آپعليه‌السلام نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ آپعليه‌السلام نے اپنے لئے آنے والا دودھ اس کے لئے بھیجا اور اسے قتل کرنے کے بارے میں فرمایا: اسے ایک سے زیادہ ضرب نہ لگائی جائے کیونکہ اس نے صرف ایک ضرب لگائی ہے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام بھی جب قید خانہ میں تھے تو آپ قیدیوں کے لئے مہربان رفیق ، دلسوز ساتھی اور خیر خواہ مشیر تھے اور جب آپ قید خانہ سے جانے لگے تو سب سے پہلے آپ نے دنیا کی توجہ قید یوں کے حالت کی طرف مبذول کرائی اور ان کے حقوق کی حمایت کی اور ان سے اظہار ِ ہمدردی کیا ۔ آپ نے حکم کہ قید خانہ کے دروازے پر عبارت لکھیں :

هٰذا قبور الاحیاء، و بیت الاحزانو تجربة الاصدقاء و شماتة الاعداء

یہ زندوں کا قبرستان ہے غموں کا گھر ہے ، دوستوں کی آزمائش گاہ ہے اور دشمنوں کی سر زنش کی جگہ ہے ۔ ۵

حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ دعا کرتے ہوئے قیدیوں سے اپنے لگاؤ کاظہارکیا :

اللهم اعطف علیهم بقلوب الاخیار ، ولا تعم علیهم الاخبار ۔

بارالہٰا ! اپنے نیک بندوں کے دل ان کی طرف متوجہ کردے اور ان سے خبروں کو پوشیدہ نہ رکھ ۔ ۶

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں :

فذٰلک یکون اصحاب السجن اعرف الناس بالاخبار فی کل بلدة

یہی وجہ ہے کہ ہر شہر میں قیدی اس شہر کی خبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں ۔

اس بات کو خود ہم نے قید کے دوران آزامایاہے ۔ استثنائی مواقع کے علاوہ قیدیوں تک ایسی ایسی خبریں عجیب مخفی طریقوں سے پہنچ جاتی تھیں کہ جن سے قید خانے کے مامور آگاہ نہیں ہوتے تھے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ قید خانے میں آنے والے نئے قیدیوں کو قید خانے میں ایسی خبریں سننے کو ملتیں جن سے وہ باہر آگاہ نہ ہوتے تھے ۔

اب اگر ہم اس کی مثالوں میں پڑگئے تو مقصد سے دور ہو جائیں گے ۔

____________________

۱۔ وسائل الشیعہ جلد ۲ ص ۱۳۹ ( سفینة البحار جلد ۲ ص۲۵۲ پر اسی قسم کا مضمون امام کاظم علیہ السلام سے علی بن یقطین کے بارے میں منقول ہے ) ۔

یہ روایت بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

۲۔کئی ایک روایات جو امام علی بن موسیٰ رضاعليه‌السلام سے منقول ہیں ، میں ہے کہ کچھ افراد جو اسلامی معیاروں سے ناآشنا تھے بعض اوقات آپعليه‌السلام پر اعتراض کرتے کہ آپعليه‌السلام نے اس زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے اعتنائی کے باوجود مامون کی ولی عہدی کو قبول کرلیا ہے ۔ امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا: کیا پیغمبر افضل ہے یا وصی پیغمبر ؟ انہوں نے کہا نہیں پیغمبر ہی افضل ہے ۔ فرمایا : کون افضل ہے مسلمان یا مشر ک ؟ انہوں نے عرض کیا: مسلمان، فرمایا عزیز مصر مشرک تھا اور یوسف پیغمبر تھے اور مومون ( ظاہراً) مسلمان ہے اور میں پیغمبر کا وصی ہوں اور یوسفعليه‌السلام نے عزیز مصر سے چاہا کہ انہیں مصر کے خزانوں پر مامون کریں اور کہا کہ میں حفیظ و علیم ہوں اور جب کہ میں اس منصب کو قبول کرنے پر مجبور تھا ۔( وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۱۴۶) ۔

۳۔ اس حدیث کو اختصارسے ذکر کیا گیاہے اورصرف مفہوم پیش کیا گیا ہے ۔ یہ امام علی بن موسیٰ رضاعليه‌السلام سے منقول ہے ۔ تفسیر مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۴۴۔ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۴ تفسیرالثقلین جلد ۲ ص ۴۳۳۔

۵۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص ۴۳۲۔

۶-نور الثقلین ، جلد ۲ ص ۴۳۲۔