دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)

دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)0%

دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)

مؤلف: اقبال احمد قاسمی
زمرہ جات:

مشاہدے: 20565
ڈاؤنلوڈ: 1023

تبصرے:

دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 120 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 20565 / ڈاؤنلوڈ: 1023
سائز سائز سائز
دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)

دستور المرکبات (اصول و قوانین ترکیب ادویہ)

مؤلف:
اردو

سنُون

وجہ تسمیہ

سِن عربی زبان میں دانت کو کہتے ہیں۔ دانت پر ملے جانے والے باریک سفوف کو سَنون کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اُردو میں منجن اِس کا مترادِف ہے۔ دیگر مرکبات کی طرح منجنوں کے متعدد نسخے رائج ہیں۔

سنونِ ابیض

وجہ تسمیہ

سفید رنگت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا۔

جزءِ خاص

طباشیر کبود

استعمالات

برائے اوجاع اخراس۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

طباشیر، رِخام، زبد البحر، نمک اندرانی، اُشنان، کافور۔

طریقۂ استعمال

ادویہ کو ہم وزن لے کر اُس کا باریک سفوف کر کے فتیلہ بنا کر دانتوں پر لگائیں اور کلّی کر کے دانتوں کو صاف کر لیں (بحوالہ کتاب الحادی زکریا رازی)۔

سنون پوست مغیلان

وجہ تسمیہ

مغیلان / ببول ، اِس نسخہ میں بطورِ خاص شامل ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

دانت اور مسوڑھوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔ دانتوں کی چمک اور صفائی کے علاوہ اِن کے ہلنے میں مفد ہے، قابض الیاف و عضلات لِشّہ ہے۔

جزءِ خاص

پوست بیخ مغیلان

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

پوست بیخ ببول ۴۰ گرام، سنگ جراحت، کات سفید ہر ایک ۱۰ گرام فلفل سیاہ، زنجبیل ہر ایک ایک گرام باریک پیس کر منجن کام میں لائیں۔

سنُون تنباکو

افعال و خواص اور محل استعمال

دانتوں کے درد میں مفید ہے۔ مسوڑھوں کی فاسد رطوبت کو خارِج کرتا اور دانتوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔

جزءِ خاص

برگ تنباکو

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

برگ تنباکو ، فلفل سیاہ ہم وزن باریک سفوف کر کے منجن بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

سنُونِ چوب چینی

افعال و خواص اور محل استعمال

حابس لثہ دامیہ مسوڑھوں کا خون روکتا ہے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔

جزءِ خاص

چوب چینی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

شب یمانی، کات سفید،برادہ آہن، پوست درخت مولسری ہر ایک ۳۰ گرام توتیا بریاں ۲۰ گرام ،ہیرا کسیس ،چوب چینی ہر ایک ۱۰،۱۰ گرام ، پوست ہلیلہ ۸ گرام، پوست انار تُرش ۵ گرام۔ جملہ ادویہ کو باریک پیس کر بطور منجن استعمال کریں۔

سنُونِ کلاں

افعال و خواص اور محل استعمال

یہ مرکب بھی دانتوں اور مسوڑھوں کے خون کو بند کرتا ہے۔ دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ منھ کی بدبو زائل کرتا ہے۔لثّہ دامیہ ( Bleeding Gums ) میں مفید ہے۔

جزءِ خاص

برادۂ آہن

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

مصطگی رومی ،مازو سبز، توتیائے سبز بریاں ، پھٹکری بریاں ، ہلیلہ زرد، ہر ایک ۳ ۔ ۳ گرام، کہرباء بسد احمر ہر ایک ۴ گرام ہیرا کسیس،چھالیہ سوختہ، کات سفید، سنگ جراحت ہر ایک ۶ گرام ،چوب چینی ،پوست بیخ مولسری،ہر ایک ۷ گرام شاخ گوزن سوختہ، برادہ آہن ۱۰ ۔ ۱۰ گرام ادویہ کو باریک پیس کرسنوناً استعمال میں لائیں۔

سیّالات

سیّالات، بالخصوص ماء الفضہ اور ماء الذھب عرب اطِبّاء کی ایجاد ات میں سے ہیں ، البتہ ہندوستان میں اِس روایت کو جاری رکھنے کا سہرا مسیح الملک حکیم اجمل خان کے سَر ہے۔اِس ضمن میں زیر نظر میں چند ایسے سیّالات کو شامل کیا گیا ہے جن کی معالجاتی افادیت و اہیتض مسلّم ہے۔

سیّالِ فولاد

وجہ تسمیہ

اپنے مخصوص خواص کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

مقوی معدہ و جگر اور مؤلِّد دم ہے۔ امراض معدہ و جگر میں بطور خاص مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

برادہ فولاد ۱۰ گرام، تیزاب شورہ ۳۰ ملی لیٹر میں پانی ۱۰ ملی لیٹر ملا کر آگ پر رکھیں۔ فولاد حل ہونے پر پانی سو ( ۱۰۰) ملی لیٹر میں ملا کر کچھ دیر مزید رکھ دیں۔ بعد میں زلال نتھار لیں اور استعمال میں ں لائیں۔

مقدار خوراک

۵ قطرے سادہ پانی میں ملا کر استعمال کریں۔

سیّال کافور

وجہ تسمیہ

جزءِ خاص کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

ہیضہ ، تخمہ اور فساد ہضم میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

کافور خالص ۱۰ گرام، الکوحل یا شراب سادہ ۵۰ ملی لیٹر میں حل کریں اور بوقت ضرورت استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۵ قطرے پانی میں ملا کر استعمال کریں۔

سیّالِ کبریت

افعال و خواص اور محل استعمال

ہاضم طعام، دافع فساد خون، مصفی خون۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گندھکِ اَملسار ۵۰ گرام، کشتہ صدف ۱۰۰ گرام باریک کر کے دو لیٹر پانی میں حل کریں۔ پھر آتشیں شیشی میں ڈال کر نرم آنچ پر رکھیں۔ جب پانی ۲۵۰ ملی لیٹر رہ جائے تو نتھار کر چھان لیں اور محفوظ رکھ لیں ، بعدہٗ استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۳ تا ۵ قطرے پانی میں ملا کر استعمال کریں۔

سیّال نوشادر

افعال و خواص اور محل استعمال

عظم کبد و طحال میں مفید ہے۔ مشتہی طعام ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

بغیر بجھا چونا ۴ کلو لے کر مٹی کی ہانڈی میں نصف چونا نیچے بچھا کر نوشادر ۲۵۰ گرام درمیان میں رکھ کر نصف چونا اوپرسے رکھیں اور ہانڈی کو بند کر کے گل حکمت کریں۔ پھر بارہ گھنٹہ آگ پر رکھیں۔ سَرد ہو جانے پر نوشادر نکال کر چونے کو ۱۰ لیٹر پانی میں ڈالیں اور خوب حل کریں۔ ۲۴ گھنٹے کے بعد نتھار کر پانی کو آگ پر رکھیں۔ جب پانی خشک ہو جائے اور نوشادر باقی رہ جائے تو نوشادر کو چینی کے برتن میں محفوظ کر لیں ، سیالِ نوشادر تیار ہو جائے گا۔

مقدار خوراک

۵ قطرے پانی میں ملا کر بعد طعام استعمال کرائیں۔

شب یار۔ شب یارات

فارسی لفظ ہے جس کے معنی شب والا، یعنی بوقت شب استعمال ہونے والی دواء ہے۔ اِس مرکب کا نام شب یار اِس لئے رکھا گیا کہ یہ رات کو ہی استعمال کرایا جاتا ہے اور اِس کے بعد مریض کو سُلا دیا جاتا ہے تاکہ مریض کی بیداری اور اُس کی جسمانی حرکت دواء کے عمل کو کمزور نہ کر دے کیونکہ بیداری اور حرکت کی حالت میں دواء معدہ وامعاء سے جلد اُتر جاتی ہے اور اُس کا عمل پورا نہیں ہو پاتا اور دواء کھلا کر مریض کو سُلا دینے سے قوتیں دواء کو اچھی طرح سے فعل و انفعال میں لے آتی ہیں۔ صاحبِ مفتاح نے لکھا ہے کہ شب یار کے معنی صبر کے ہیں اور صبر (ایلوا) ہی اِس مرکب کا جزء خاص ہے۔ اِس لئے اِن مرکبات کو شب یارات سے موسوم کیا گیا جن میں صبرمرکبات کے ذخیرہ میں بطور جزء شامل ہو۔شب یا رات کے متعدد نسخے ہیں جن میں سب سے مشہور نسخہ حَب شب یار کا ہے۔ (دیکھئے حبِّ( شب یار)

شربت

وجہ تسمیہ

عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں شربت کے لئے شراب کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کی جمع اشربہ ہوتی ہے۔ اصطلاحاً شربت ہر اُس ’’سیّال شیریں مشروب‘‘ کو کہا جاتا ہے جو میوہ جات کے پانی مثلاً آبِ انار، آبِ انگور، آبِ سیب وغیرہ یا ادویہ کے جوشاندہ یا خیساندہ سے تیار کیا گیا ہو اور اُس میں شہد ، قند سفید یا مصری شامل کر کے اُس کا قوام تیار کیا گیا ہو۔

در اصل یہ خام ادویہ کی حفاظت کا ایک فنّی طریقہ ہے جس سے آب و ہوا سے متاثر ہو کر جَلد فاسد ہو جانے والی اشیاء مثلاً پھلوں کے رَس اور ادویہ کا خیساندہ وغیرہ محفوظ ہو جائے اور دواؤں کے اجزائے مؤثرہ اِس شیرینی میں معلّق اور قائم رہ سکیں۔

بعض شربتوں میں قند سفید اور مصری کے ہمراہ شیرخِشت شہد یا تر نجبین ملا کر قوام تیار کیا جاتا ہے لیکن تر نجبین کو پہلے ادویہ کے پانی یا جوشاندہ وخیساندہ میں حل کر کے چھان لینا چاہیے تاکہ یہ کانٹوں اور تنکوں وغیرہ سے صاف ہو جائے۔

اگر شربت میں کتیرا اور دم الاخوین جیسی غیر حل پذیر ادویہ شامل کرنی ہوں تو اُن کو شربت کا قوام تیار کرنے کے بعد باریک پیس کر شامل کرنا چاہیے۔ شربت میں اگر مغزیات شامل کرنے ہوں تو اُن کو علا حدہ سے پیس کر قوام کی تیاری کے وقت شیرہ کی شکل میں شامل کیا جائے گا۔

جس برتن میں شربت رکھا جائے وہ بالکل خشک ہونا چاہیے کیونکہ معمولی سی نمی بھی شربت کو فاسد کر دیتی ہے۔ اِس کے لئے چینی یا شیشے کے محفوظ الہوابرتن انسب ہوتے ہیں۔

میوہ جات کا شربت

وہ شربت جو پھلوں کے رَس سے تیار کئے جاتے ہیں ، اُن کے لئے مطلوبہ پھلوں کا رَس حاصل کر کے اُس کے وزن سے ڈھائی یا تین گنا شیرینی شامل کر کے قوام تیار کیا جاتا ہے۔ اگر ایسے میوہ جات سے شربت تاسر کرنا ہو جن کا رَس حاصل کرنا دشوار ہے ، مثلاً آلو بخارہ اور زرشک وغیرہ تو اُن کو پانی میں بھگو کر ملنے کے بعد چھان کر شیرینی ملا کر شربت تیار کیا جائے لیکن یہ طریقہ تُر ش پھلوں کے ساتھ استعمال میں لایا جاتا ہے۔

البتہ اگر پھل شیریں ہوں مثلاً عناب و انجیر تو اُن کو پانی میں جوش دے کر چھان لیں ، اِس کے بعد شیرینی ملا کر شربت تیار کریں اور اگر خشک ادویہ سے شربت تیار کرنا ہو تو اُن کو دواء کے آٹھ تا دس گنا پانی میں رات کے وقت بھگو کر رکھ دیں اور صبح کو جوش دیں ، جب تہائی (۱/۳ ) پانی باقی رہ جائے تو ہلکے ہاتھوں سے مل کر چھان لیں اور اُس میں حسبِ ضرورت دو چند یاسہ چند شیرینی شامل کر کے شربت تیار کریں۔

ملاحظہ: یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ شربت کا قوام جس قدر گاڑھا ہوگا ، اُسی قدر زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکے گا۔ اِس کے قوام کے پختہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اِس کے ایک یا دو قطرے علاحدہ کر کے اُنگلی سے اُٹھائے جائیں۔ اگر اُن میں تار بن جائے تو یہ صحیح قوام ہے۔ اِس کے علاوہ اِس کا ایک یا دو قطرہ زمین پر گرانے سے پھیلتا نہیں ہے بلکہ گولائی لئے ہوئے اُبھرا ہو ا نظر آتا ہے، یہ بھی صحت قوام کی دلیل ہے۔

شربت آلو بالو

وجہ تسمیہ

آلو بالو کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

مدربول اور مخرج سنگ گردہ و مثانہ ہے۔

جزءِ خاص

آلو بالو

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

آلو بالو نصف کلو رات کو دو لیٹر پانی میں بھگوئیں۔ صبح کو جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ۲ کلو کا قوام تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ احمد شاہی

احمد شاہ ابدالی کے لئے ترتیب دئیے جانے کی وجہ سے اِسی نام سے موسوم و معنون ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

جنون اورمالیخولیا میں نافع ہے۔

جزء خاص

گلِ گاؤ زباں

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گلِ گاؤ زباں ۲۰ گرام، برگِ بادر نجبویہ ، گلِ نیلوفر، تخم فرنج مشک، اسطوخودوس، برگ سناء مکی ہر ایک ۱۰ گرام ، گل بنفشہ ، گُلِ سُرخ ہر ایک ۵ گرام۔تمام ادویہ کو یک شبانہ پانی میں بھگوئیں ، صبح کو جوش دے کر مل چھان کر نبات سفید ۲۵۰ گرام عرقِ گلاب ۲۵۰ ملی لیٹر کا اِضافہ کر کے قوام بنائیں اور شربت تیار کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر ہمراہ آبِ سادہ۔

شربتِ احمد شاہی بہ نسخہ دیگر

اجزاء

اجزاء برگِ گاؤزبان ۲۰ گرام، برگِ بادر نجبویہ ۲۰ گرام، گلِ نیلو فر ۲۰ گرام، تخم فرنجمشک ۲۰ گرام، ہلیلہ سیاہ، افتیمون وِلایتی، بسفائج فستقی، برگ فرنجمشک، اسطوخودوس، برگ سناء مکی ۲۰ ۔ ۲۰ گرام، گل بنفشہ، گل سُرخ ۶ ۔ ۶ گرام۔ جملہ ادویہ کو رات میں پانی میں بھگو دیں ، صبح جوش دے کر مل چھان کر مصری ۲۵۰ گرام ، عرقِ گلاب ۱۵۰ ملی لیٹر میں شامل کر کے قوام بنائیں اور مرکب کو محفوظ کر کے استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر، ہمراہ آبِ سادہ یا عرقِ گاؤ زباں۔

شربتِ اعجاز

وجہ تسمیہ

اپنے سریع التاثیر افعال و خواص اور اپنی معجز نمائی کی وجہ سے شربتِ اعجاز کے نام سے موسوم کیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال:سل و دِق اورسعال یابس میں مفید ہے۔

جزءِ خاص

برگ اڑوسہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

برگ اڑوسہ۵۰۰ g ، عناب وِلایتی ۲۰ عدد سپستاں ۶۰ عدد کتیرا وصمغ عربی ہر ایک ۱۰ گرام بہدا نہ شیریں ۱۵ گرام اصل السوس مقشر، تخم خباّزی، تخمِ خطمی، گلِ نیلوفر، گل بنفشہ ہر ایک ۲۰ گرام صمغ عربی اور کتیرے کے علاوہ سب دواؤں کو پانی میں جوش دیں۔ پھر مل چھان کر قند سفید ایک کلوکے قوام میں شربت بنائیں اور صمغ عربی اور کتیرا باریک پیس کرمرکب میں داخل کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ انار تُرش

وجہ تسمیہ:اپنے جزء خاص انارتُرش کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال:مقوی قلب ہے۔ معدہ کی حرارت کو زائل کرتا ہے۔ دافع عطش و متلی و قے، معدّل صفراء ،مانع صفرا۔

جزءِ خاص

انار تُرش

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

آب انار تُرش ۲ لیٹر پودینہ سبز عود خام ،مصطگی ، آملہ، ہر ایک ۷ گرام پوست بیرون پستہ ۱۵ گرام، مصطگی کے علاوہ سب دواؤں کونیم کوب کر کے پانی میں جوش دیں اور مل چھان کر آبِ انارِترش اور قند سفید ایک کلو شامل کر کے قوام بنائیں۔ اِس کے بعد مصطگی کو علیحدہ سفوف کر کے داخل قوام کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لیٹر، کسی مناسب عرق کے ہمراہ۔

شربتِ انار شیریں

افعال و خواص اور محل استعمال

اِس کے خواص بھی کم و بیش شربتِ انار تُرش جیسے ہی ہیں۔

جزءِ خاص

انار شیریں

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

آبِ انار شیریں ایک لیٹر پانی میں جوش دیں۔ جب نصف پانی باقی رہ جائے تو قند سفید ایک کلو شامل کر کے قوام بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ سے ۵۰ ملی لیٹر ہمراہ آبِ سادہ یا عرق مناسب۔

شربتِ انجبار

استعمالات

جریان الدم میں نافع ہے۔ نفث الدم ، نزف الدم، نکسیر، اسہال دموی، کثرت طمث وغیرہ میں حابس دم ہونے کی وجہ سے مفید ومستعمل ہے۔ معدہ اور جگر کی اصلاح اور تقویت کرتا ہے۔

جزءِ خاص

بیخ انجبار

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

بیخ انجبار ۲۵ گرام، خرنوب شامی ۲۰ گرام ،برادہ صندل سُرخ ، برادہ صندل سفید، حب الآس ہر ایک ۱۰ گرام آب آہن تاب حسبِ ضرورت میں ۲۴ گھنٹے بھگوئیں۔ پھر صبح کو جوش دے کر مل چھان کر قند سفید نصف کلو کے قوام میں مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بنفشہ

وجہ تسمیہ

گل بنفشہ کی شمولیت کی وجہ سے ’’شربتِ بنفشہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

نزلہ، زکام، دردِ سر، بخار ،سعال اور ذات الرَّیہ میں مفید ہے۔

جزءِ خاص

گل بنفشہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گل بنفشہ ۱۲۵ گرام پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید کا قوام بنائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بزوری

وجہ تسمیہ

بزور بزر کی جمع ہے جس کے معنی تخم کے ہیں۔ اِس کے اجزاء میں تخموں کی شمولیت کی وجہ سے اِسے شربت بزوری کا نام دیا گیا ہے۔

مزاجاًحار بارِد اور معتدل اجزاء کی رِعایت سے اِس کی تین قس میں ہیں۔ شربت بزوری بارِد، شربت بزوری حار، شربت بزوری معتدل۔

شربتِ بزوری بارِد

افعال و خواص اور محل استعمال

جگر کے حار امراض کے لئے مخصوص شربت ہے۔ جگر کی حرارت کو زائل کرتا ہے اور اُس کی اصلاح کرتا ہے۔ مدر بول و حیض ہے ،نیز دافع حمیات ہے۔

جزءِ خاص

بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

بیخ کاسنی ۲۰ گرام ، تخم خرپزہ، تخم خیارین ہر ایک ۱۵ گرام، مغز ، تخم تربوز ۸ گرام پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بزوری حار

افعال و خواص اور محل استعمال

جگر کے بارِد امراض و احوال میں مفید ہے۔ جگر اور معدہ کی برودت کو زائل کرتا ہے اور گردہ و مثانہ کے امراض کو فائدہ دیتا ہے۔

جزءِ خاص

بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

بیخ کاسنی ۷۵ گرام، تخم کاسنی، بیخ بادیان ہر ایک ۵۰ گرام، تخم کرفس، بیخ کرفس، تخم کشوث،درصرّہ بستہ ( پوٹلی میں باندھ کر) ہر ایک ۲۵ گرام سب دواؤں کو ڈیڑھ لیٹر پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام تیار کریں اور مرکب بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بزوری معتدل

افعال و خواص اور محل استعمال

جگر ،گردہ، مثانہ اور رحم کے فضلات کو بذریعہ ادرار خارج کرتا ہے۔ مرکب بخاروں میں نافع ہے۔

جزءِ خاص

بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

تخم کاسنی، تخم خیارین، تخم خرپزہ، بیخ بادیان ہر ایک ۲۵ گرام، بیخ کاسنی ۵۰ گرام سب کو پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ توت

وجہ تسمیہ

توت اِس کا جزءِ خاص ہے جس کے نام پریہ موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

حلق کے اورام ، درد اور خناق میں مفید ہے، دافع سوزِش حلق اور مشتہی طعام بھی ہے۔

جزء خاص

شہتوت

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

آبِ شہتوت سیاہ (توت سیاہ کارَس) بقدرِ ضرورت لے کر جوش دیں۔ جب اِس کا نصف باقی رہ جائے تو ہم وزن شکر سفید ملا کر قوام تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر صبح و شام۔

شربتِ دینار

وجہ تسمیہ

۱ ۔ تخم کشوث کو دینار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ دینار اکثر کیسہ (تھیلی) میں رکھا جاتا ہے اور تخم کشوث کو جوشاندہ اور دوسرے مشروبات میں در صُرّہ بستہ (پوٹلی میں باندھ کر) استعمال کرنے کی شرط ہے ، اِسی لئے فارسی میں تخم کشوث کو تخم کیسہ بھی کہتے ہیں۔

۲ ۔ اِس شربت کا رنگ دینار کے رنگ جیسا ہوتا ہے اس لئے اِس کو شربتِ دینار کہتے ہیں۔

۳ ۔ عباسی عہد کا مشہور طبیب بختیشوع جو اِس شربت کا مؤجد ہے، وہ اِس کی ایک خاص مقدار ایک دینار میں فروخت کرتا تھا اِس لئے یہ شربت دینار کے نام سے مشہور ہوا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

امراض جگر اور تلینِ شکم کے لئے مخصوص ہے۔ معدہ ، جگر ، رحم اور مثانہ کے اوجاع، استسقائ، ذات الجنب اور موسمی بخاروں میں مفید ہے۔

جزءِ خاص

تخم کشوث

دیگر اجزاء ا مع طریقۂ تیاری

پوست بیخ کاسنی ۱۰۰ گرام، تخم کاسنی، گُلِ سُرخ ہر ایک ۵۰ گرام گل نیلو فر،گلِ گاؤ زباں ہر ایک ۲۵ گرام، تخم کشوث ۸۰ گرام (در صرّہ بستہ)۔

جملہ ادویہ کو پانی میں جوش دے کر چھان کر قند سفید ایک کلو شامل کر کے قوام بنائیں اور ریوند چینی ۴۰ گرام سفوف کر کے داخل قوام کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ زوفاسادہ

وجہ تسمیہ

گلِ زوفا کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال

کھانسی اور ضیق النَّفس میں مفید ہے۔

جزءِ خاص

زوف

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گلِ زوفا خشک ( صاف کیا ہوا) ۲۵۰ گرام ۲۴ گھنٹہ پانی میں بھگو کر جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید دو کلو کا قوام کر کے شربت بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لٹرپ

شربتِ زوفا مرکب

افعال و خواص اور محل استعمال

منقی صدر اور مخرج بلغم ہے۔ بلغمی کھانسی اور ضیق النَّفس کو فائدہ دیتا ہے۔

جزءِ خاص

گلِ زوف

دیگر اجز اء مع طریقۂ تیاری

انجیر ۱۰ عدد تخم خطمی، اصل السوس ، ایر ساہر ایک ۱۰ گرام ،بادیان ،تخم کرفس ہر ایک ۱۵ گرام ،پر سیاؤشاں ۱۸ گرام ، گلِ زوفا خشک ۲۵ گرام، مویز منقیٰ ۱۰۰ گرام یک شبانہ و روز پانی میں بھگو کر جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید ایک کلو اور گل قند نصف کلو کا قوام کر کے شربت بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لیٹر آبِ سادہ یا مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

شربتِ صندل

افعال و خواص اور محل استعمال

خفقان اور وحشتِ قلب میں مفید ہے۔ جگر اور معدہ کی حرارت کو زائل کرتا ہے۔

جزءِ خاص

صندل سفید

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

برادہ صندل سفید ۵۰ گرام پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لیٹر آبِ سادہ یا مناسب بدرقہ کے ساتھ استعمال کریں۔

شربتِ عنَّاب

افعال و خواص اور محل استعمال

فساد خون میں مفید ہے۔ امراض صدر اور امراض فساد دَم کے علاوہ اِس کا استعمال بچوں کو چیچک کے حملہ سے محفوظ رکھتا ہے۔

جزءِ خاص

عنّاب وِلایتی۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

عناب نصف کلو نیم کوب کر کے دو لیٹر پانی میں جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید ڈیڑھ کلو کا قوام بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

شربت فواکہ

وجہ تسمیہ

پھلوں کی شمولیت کی وجہ سے شربت فواکہ کہلاتا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

عام جسمانی کمزوری دور کرتا ہے اور تمام اعضاء کو قوت دیتا ہے۔

جزءِ خاص

فواکہ ، بطور خاص انار اور سیب۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

آبِ انار شیریں ، آبِ انار تُرش، آب بہی شیریں ، آبِ بہی تُرش، آبِ سیب شیریں ، آبِ سیب تُرش، آبِ امرود ہر ایک ایک لیٹر ،زرشک نصف لیٹر سب کو جوش دے کر قند سفید تین کلو کا قوام بنائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربت فولاد

وجہ تسمیہ

برادۂ فولاد بطور

جزءِ خاص کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

خون کی کمی میں مفید ہے۔ خون میں حمرۃ الدَّم کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ عام جسمانی کمزوری دور کرتا ہے اور ہضم غذا میں مدد دیتا ہے۔فقرالدم کی خاص دواء ہے۔

جزءِ خاص

برادۂ فولاد

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

بادیان ، نانخواہ، برگ پودینہ، تخم شبت، حلتیت خالص، کشنیز، فلفل دراز، فلفل سیاہ، سعد کوفی ، ساذج ہندی ، تخم خرفۂ سیاہ، تج قلمی، سنبل الطیب، زنجبیل ، تخم ہالون ہر ایک ۵ گرام پانی میں جوش دیں۔ پھر برادہ فولاد ۲۵ گرام تیزاب شورہ ۱۲۵ ملی لیٹر، میں حل کر کے دواؤں کے جوشاندہ میں مع سرکۂ جامن پاؤ کلو ملائیں اور ستِّ لیموں ۷ گرام کا اِضافہ کر کے ڈھائی کلو شکر کا قوام تیار کریں۔ قوام تیار ہونے کے بعد تُرشہ نمک ، تُرشہ کبریت ہر ایک ۱۲ ملی لیٹر ترشہ سم الفار ڈھائی ملی لیٹر کااِضافہ کریں۔

مقدار خوراک

۵ سے ۱۰ ملی لیٹر بعد غذائیں۔

شربتِ گڑھل

افعال و خواص اور محل استعمال

تفریح و تقویتِ قلب کے لئے مفید ہے۔ دافع خفقان ہے۔ ضعفِ قلب میں مفید ہے حرارت کو تسکین دیتا ہے۔

جزءِ خاص

گلِ گڑھل

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گل گڑھل سو عدد سبز پتیوں کو دور کر کے چینی کے برتن میں رکھیں اور اُس میں آبِ لیموں کاغذی ۲۵۰ ملی لیٹر ڈالیں۔ ۲۴ گھنٹہ بعد ایک کلو نبات سفیدبارِش کے پانی دو ۲ لیٹر میں حل کر کے اُسی برتن میں ملائیں۔ پھر چند روز بعد چھان کر قوام تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لیٹر۔

شربت مصفی خون

وجہ تسمیہ

اپنے فعل خاص ’’تصفیہ خون‘‘ سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال

فساد دم ، خارِش، قروح و بثور(پھوڑے، پھنسی) میں مفید ہے۔ سوداوی مادہ کا اخراج اور تنقیہ کرتا ہے۔

جزءِ خاص

چوب چینی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

چوب چینی، برگ شیشم ہر ایک ۳۰ گرام عنّاب پوست ہلیلہ کابلی ہر ایک ۵۰ گرام برگِ سناء مکی ۳۰ گرام رات کو گرم پانی میں بھگو کر صبح جوش دیں اور مل چھان کر ترنجبین، شیرخشت، شہد خالص ہر ایک ۴۰۰ گرام شامل کر کے قوام بنائیں۔

مقدار خوراک

۵۰ ملی لیٹر

شربت نیلو فر

افعال و خواص اور محل استعمال

صفرا کی حدّت کو ختم کرتا ہے۔ پیاس کو تسکین دیتا ہے۔مفرّح و مقوِّی قلب ہے۔

جزءِ خاص

گلِ نیلوفر

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گل نیلو فر ۱۰۰ گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح کو جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں اور شربت تیار کریں۔

مقدار خوراک

۲۵ ملی لیٹر

شربت وَرد

افعال و خواص اور محل استعمال

ملیّن شکم ہے۔ ضعف معدہ اور سوزِشِ معدہ میں مفید ہے۔ گردہ و مثانہ کو قوت دیتا ہے۔ فساد خون، حمیات مرکَّبہ و غیر مرکَّبہ اور امراض جگر و طحال میں نافع ہے۔

جزءِ خاص

گلِ سُرخ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری

گُلِ سُرخ ایک کلو ، تازہ پانی پانچ لیٹر میں جوش دیں ، جب ایک لیٹر پانی باقی رہ جائے تو چھان کر قند سفید ۳ کلو کا قوام بنائیں اور مذکورہ امراض و احوال میں استعمال کرائیں۔

شربتِ وَرد مکرَّر

شربتِ وَرد کو عام طور پر مکرَّر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کی ترکیب تیاری یہ ہے کہ ایک کلو گُلِ سُرخ کو پانچ لیٹر پانی میں جوش دیں۔ بچے ہوئے ایک لیٹر پانی میں پھر مزید ایک کلو کُلِ سُرخ کو شامل کر کے دوبارہ جوش دیں۔ جب تہائی پانی باقی رہ جائے تو اُسے چھان کر قند سفید ۲ کلو کا قوام تیار کریں اور شربت بنائیں۔ یہی شربتِ وَرد مکرَّر کہلاتا ہے۔

مقدار خوراک

۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔