چار یار

چار  یار0%

چار  یار مؤلف:
زمرہ جات: اسلامی شخصیتیں
صفحے: 180

چار  یار

مؤلف: عبد الکریم مشتاق
زمرہ جات:

صفحے: 180
مشاہدے: 7169
ڈاؤنلوڈ: 230

تبصرے:

چار یار
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 180 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7169 / ڈاؤنلوڈ: 230
سائز سائز سائز
چار  یار

چار یار

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب : چار ۴ یار

مؤلفہ: عبد الکریم مشتاق

ای بک کپوزنگ :حافظی

نیٹ ورک: شبکہ امامین حسنین علیھما السلام

۳

معنون

میں بندہ حقیر ،شرمندہ وعاجز پر تقصیر اپنی یہ ادنی خدمت یاران رسول حضرت علی علیہ السلام ،ابو ذر غفاری ،مقداد،اور مولی رسول سلمان الفارسی رضی اللہ عنھم کے اسماء مبارکہ سے معنون کرتا ہوں اور ان حقیقی چار یاروں کے وسیلے سے بارگاہ رب العالمین میں ملتجی ہوں کہ وہ تمام مسلمانوں میں سچی محبت ،یقین محکم ۔باہمی ۔اتحاد اور قرآنی نظم وضبط پیداکرے (آمین)

احقر العباد

عبد الکریم مشتاق

۴

بسم الله الرحمان الرحیم ۔

اللہ سبحانہ تعالی نے قرآن مجید میں تمام اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ "یا ایھا الّذین آمنوا لا تتو لّوا قوما غضب اللہ علیھم ۔۔الخ" اے ایما ن والو جن لوگوں پر خدا نے غضب ڈھایا ہے ان سے محبت مت رکھو ۔(سورہ الممتحنہ پارہ نمبر ۲۸ آیت ۱۳)

ہم شیعہ اثنا عشریہ پر یہ یہ عرصہ دراز سے الزام بے بنیاد عائد کیا جارہا ہے کہ شیعہ صحابہ کو براجانتے ہیں، معاذاللہ ان کو گالیاں دیتے ہیں ،حالانکہ آج تک مخالفین اپنے اس دعوی کو ثابت نہ کرسکے کیونکہ بحمد اللہ وبعونہ ہم تمام نیک وعدل پسند وفقاء رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ صرف عقیدۃ بزرگ مانتے ہیں بلکہ ان کو ہدایت کا نشان تسلیم کرتے ہیں ۔البتہ ہم ان حضرات سے سے محبت نہیں رکھتے جو مغضوب خدا قرار پائے اور ہمارا یہ مختار قرآن حکیم کی نص جلی کی متابعت میں ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیت وافی ہدایت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے ۔

ہمارا مذہب یہ ہے کہ صحابی کے دومعانی ہیں یعنی ایک تعریف عام کہ جو کوئی بھی صحبت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں پہنچا وہ صحابی ہے اور دوسری تعریف خاص ہے کہ جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور حالت ایمان میں دنیا سے رخصت ہوا ۔

۵

اسی مؤخر الذکر تعریف کو ملحوظ رکھتے ہوئے اہل تشیع اصحاب رسول (رض) کو محترم و معظم تسلیم کرتے ہیں ۔قرآن مجید میں ان ہی رفقاء (رض) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعریف ایمان اور مدح اعمال صالحہ بیان ہوئی ہیں ۔ اسی طرح اور الذکر اشخاص کی مذمت (نفاق و کفر و ارتداد و‏‏غیرہ کی وجہ سے ) کلام پاک میں مذکو ر ہے ۔ اسی طرح کتب احادث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں "باب الفتن" میں ایسے ہی اصحاب کا تذکرہ موجود ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے زاری فرمائیں گے ۔

ایسے مقدوحانہ اور ممدوحانہ اقتباسات کی قرآن و احادیث میں موجود گی بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں مومن و منافق ہر دو طرح کے اشخاص تھے پس "کل" کو برا جاننے والا مذہب امامیہ کی رو سے ملّت اسلامیہ سے ہی باہر ہے کیونکہ وہ منکر قرآن ہے ۔اسی طرح "کل" سے محبت کرنے والا اور تمام کو "عدول" سمجھنے والا مخالف قرآن اور منکر حکم خدا ہے ۔جیسا کہ اوپر نقل کردہ آیت سے صاف ظاہر ہے ۔

پس توفیق الہیہ کے طفیل شیعوں نے بتمسک ثقلین اچھے اور برے میں تمیز کرلی اور پوری احتیاط سے ان لوگوں سے محبت نہ کی جو ازروئے قرآن مغضوب قرار پاتے ہیں ۔ اہل شیعہ نے اس اصول کی پابندی کی کہ جن لوگوں سے ثقل دوم (اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نے بے زاری اختیار کی انکی طرف نگاہ محبت نہ اٹھائی ۔ ہم نے جانچ پڑتال کا یہ معیار اختیار کیا کہ جس نے اہل بیت رسول(ع) سے محبت رکھی ہم نے اسے مو من کامل وفرد متقی مانا اور اجس جس نے ثقل دوم

۶

سے عداوت رکھی ہم بھی اس سے نفرت کرتے ہیں ۔

اہل سنت والجماعتہ کے قطب العالم حضرت مولوی رشید احمد گنگو ہی نے ہمارے خلاف ایک کتاب "ھدایۃ الشیعۃ" نامی تحریر فرمائی اس کتاب میں حضرت صاحب رقم کرتے ہیں کہ "لاریب اہل سنت صحابی اس کو کہتے ہیں کہ با ا سلام خدمت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور با ایمان انتقال کیا اور مرتد ہوکر مرنے والے کو صحابی نہیں کہتے "(ھدایۃ الشیعۃص ۲۲)

پس یہی عقیدہ شیعوں کا ہے پھر اختلاف کیسا؟

اسی کتاب میں گنگوہی صاحب آگے جاکر لکھتے ہیں کہ "بعض منافق بھی صحابہ میں ملے ہوئے تھے ۔ہر چند ان کے نفاق کی خبر صحابہ کو تھی مگر ظاہر پر تھا اور انجام کا رسب ممیّز ہوگئے تھے کسی کا حال مخفی نہ رہا تھا"(ھدایۃ الشیعۃ ص ۵۷)۔

اب خود فیصلہ کر لیا جائے کہ ایسے منافقین لائق تعظیم ہوسکتے ہیں یا نہیں ۔حالانکہ دائرہ اصحاب میں داخل تھے ۔اگر یہ لوگ کسی عزّت کے مستحق نہ تھے تو پھر "سب کے احترام" کی پابندی کیونکر مستحسن قرار پائے گی۔؟

مجھے یہ لکھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے مخالفین نے ہمارے خلاف کس قدر بے ہودہ اور من گھڑت پرو پیگنڈا کر رکھا ہے کہ شیعہ اصحاب کو نہیں مانتے ، لوگ بلا تحقیق یہ تہمت ہم پر باندھتے ہیں اور ہماری صفائی پر کان دھرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔اگر ہماری معروضات سماعت فرمائی جائیں تو بڑی آسانی سے ان وجوہات سے آگاہی ہوسکتی

۷

ہے جو اس نزاع کا باعث ہیں ۔معمولی سا غور وفکر حق وباطل کی تمیز کرنے میں کافی ہوسکتا ہے ۔

یاد رکھیں ! ہادی عالمین ، رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت حمیدہ کو دو وسیلوں کے سپرد کیا ہے ۔اول ۔کتاب اللہ(قرآن)اور ۔دوم۔ عترت نبی (اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )۔جیسا کہ حدیث ثقلین کی تائید میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں تحریر کیا ہے ۔پس اسی کے تحت شیعہ ہر اس ہستی کا احترام کرتے ہیں جو ان فرمودہ رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ ہو ۔اور جس نے ان کوچھوڑا اسے شیعوں نے بھی چھوڑ دیا ۔اب جب کبھی یہ سوال آجائے کہ فلاں بزرگ کو شیعہ واجب التعظیم نہیں سمجھتے تو سمجھ لیجئے کہ فریق مخالف ہی کی قوی شہادت کی بنا پر اسی فرد پر یہ الزام ہے کہ اس نے حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے تمسک بالثقلین کا حکم نہیں مانا ۔ یا تو وہ مخدومہ کونین ،خاتو ن جنت ،سید طاہرہ سلام اللہ علیھا کی ناراضگی کا باعث ہوا اور مغضوبین کے زمرے میں آگیا کیونکہ بخاری شریف میں ہے کہ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا "فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے ،جس نے اسے غضبناکیا اس نے مجھے غضبناک کر لیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدا کو غضبناک کیا "

یا پھر کسی نے صرف ایک ہی ثقل کتاب اللہ کو کافی کہکر دوسرے ثقل سے عداوت کرکے نافرمانی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ۔ کوئی ثقل اوّل کو نذر آتش کرکے توہین ثقلین کا مرتکب ہوا اور کچھ ایسے نڈر ہوئے کہ اہل بیت (ع) سے رزم آرائی کر کے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑائی مول لی ۔ المختصر

۸

بلاوجہ وجواز محکم ہو کسی سے عداوت نہیں رکھتے ۔

خدا بہتر جانتا ہے کہ شر پسند لوگ ہم پر بلا وجہ اتہام طرازی کرتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی عزت نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کی ذوات بابرکات کے واسطے سے اپنی دعائیں بارگاہ سامع الدعوات میں عرض کرتے ہیں چنانچہ سیّد الساجدین ،امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات جو صحیفہ کاملہ میں منقول ہیں اس بات کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ ہم صحابہ (رض) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیدائی اور حبدار ہیں ۔ان کے مراتب جلیلہ کے معترف اور فضائل ومناقب کے معتقد ہیں ۔عبارت مندرجہ ذیل کی نقل کے بعد ہم پر اصحاب دشمنی کے بہتان کی قلعی سب پر کھل جاتی ہے چنانچہ ارشاد معصوم (ع) ہے کہ

"خداوندا ! رحمت نازل فرما اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنھوں نے حق صحبت نہایت خوبی سے ادا کیا ۔جنھوں نے ہر طرح کے مصائب اور تکالیف کو ان کی اعانت میں گوارہ کیا ۔ جنہوں نے ان کی رسالت تسلیم کرنے میں جلدی فرمائی۔اور جن ان کی دعوت کی اجابت میں سبقت کی ۔جب ان کو رسول خدا نے اپنی رسالت کی حجتیں بتائیں تو انھوں نے بلا توقف قبول کیا ۔ان کی نبوت کے اظہار میں اپنے آباؤ اولاد کو قتل کیا ۔ جب ان لوگوں نے دامن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھاما تو ان کے کنبے وخاندان کے افراد نے ان سے قطع تعلق کرلیا اور جب وہ پیغمبر کی قربت

۹

میں آئے تو ان کے رشتہ داروں نے ان سے ناطے توڑلئے۔پس خدایا ! مت بھول تو ان باتوں کو جو اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تیرے لئے چھوڑا اور راضی کردینا تو ان کو اپنی رضا مندی سے اس لئے کہ انھوں نے خلقت خدا کو تیری طرف جمع کردیا اور تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دعوت دین اسلام کا حق ادا کردیا ۔ الہی ! وہ شکر کرنے کے لائق ہیں کہ انھوں نے اپنی قوم اور خانوادے اپنے گھر ووطن کو تیری خاطر چھوڑا ،اپنے عیش و آرام کو ترک کرکے ضیق معاش کو تیرے لئے اختیار کیا اور خداوندا! ان کے تابعین کوجزائے خیر دے ۔جو دعا کیا کرتے ہیں کہ پروردگار ہماری مغفرت کر اور ہمارےف ان بھایئوں کی جو ہم میں سے ایمان میں سبقت لے گئے ہیں وہ تابعین ایسے ہیں کہ ان اصحاب (رض) کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔اور ان کے نشانات کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی ہدایت کی اقتدا کرتے ہیں جن کو کوئی شک ان کی نصرت میں نہیں آتا جن کے دل میں کوئی شبہ ان کے آثار کی پیروی میں نہیں آتا ،کیسے تابعین جو معاون ومدد گار اصحاب (رض) کے ہیں ۔جو ان کی ہدایت کے مطابق رہتے ہیں ۔اور ان کے موافق ہدایت پاتے ہیں ۔اور جو اصحاب (رض) سے اتفاق رکھتے ہیں اور جو کچھ اصحاب نے انھیں پہنچایا اس میں ان پر کچھ تہمت نہیں کرتے ۔خدایا رحمت نازل کر ان اصحاب (رض) کی اتباع کرنے والوں پر آج کے دن جس دن میں ہم (موجود) ہیں تا قیامت او ران کی ازواج واولاد پر۔(آمین)

ان مراتب وفضائل کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ہم پر نفرین صحابہ کی تہمت باندھے تو اس کا سبب عداوت بے معنی نہیں تو اور کیا ہے ؟

۱۰

بارالہا!تجھے معلوم ہے کہ ہم اس الزام سے بھری ہیں۔ لہذا ہم یہ معاملہ تیری جانب لوٹاتے ہیں اور تجھے تیرے محبوب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منظور نظر اصحاب کاواسطہ دیتے ہیں کہ حق وباطل کا فیصلہ فرما ۔

"انّا من المجرمین منتقمین"

ہمارے مخالفین نے یہاں تک زبان درازی کی ہے کہ شیعہ تما اصحاب کو مرتد سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کے بعد اصحاب رسول کا درجہ تمام امت سے بلند ہے لیکن ہم صحابی کہتے ہی اس فرد کا مل کو ہیں جو اظہر اقوال کی بنا پر حالت ایمان میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دائرہ صحبت میں تشریف لایا اور مومن ہی فوت ہوا ۔ مطلب ہمارے مختار کا صاف ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں رسو ل اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مقبول سے ملاقات کے بعد عہد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا بعد عہدرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایمان کی حالت میں فوت ہوا وہ صحابی کہلانے کا حق ہی اسی مرد ناجی کو ہے ۔ اس کے برعکس جس کسی کا خاتمہ بالخیر نہ ہوگا وہ شرف صحابیت کی دنیوی واخروی مراعات سے محروم ہوگا ۔ویسے تو کتب فریقین میں صحابہ کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار نفوس تک مرقوم ہوئی ہے لیکن ان میں مدارج کے لحاظ سے یقینا مراتب کا فرق ہے ۔

علامہ ابن قتیبہ کی تحقیق کے مطابق مندرجہ ذیل سترہ اصحاب النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امتیاز حاصل ہے ۔

۱:- حضرت سلمان فارسی ۔۲:- حضرت ابو ذر ‏‏غفاری ۔۳:- حضرت مقداد بن اسود ۔۴:- حضرت عمار یاسر ۔۵:- حضرت خالد بن معید ۔۶

۱۱

:- حضرت بریدہ اسلمی ۔۷:- حضرت ابی بن کعب ۔۸:- حضرت خذیفہ بن ثابت ۔۹:- حضرت سہل بن حنیف ۔

۱۰:-حضرت عثمان بن حنیف ۔۱۱:- حضرت ابو ایوب انصاری۔۱۲:- حضرت حذیفہ بن یمان ۔۱۳:-حضرت سعد بن یمان۔۱۴:- حضرت قیس بن سعد ۔۱۵:- حضرت عباس بن عبد المطلب ۔۱۶:- حضرت عبداللہ بن عباس ۔۱۷:- حضرت ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنھم ۔

حجۃ الا سلام علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء اعلی اللہ مقامہ نس اس سلسلے میں تین سو نفوس کا حوالہ دیا ہے ۔

علامہ نوری نے حضرت سلمان فارسی،ابوذر، مقداد، عمار ، ابو سا مانی ، حذیفہ اور ابو عمرہ کو ممتاز صحابہ میں شمار کیا ہے ۔ امام اہلسنت علامہ ابو حاتم سجستانی بصری بغدادی اپنی کتاب " الزینت " میں لکھتے ہیں کہ عہد رسول میں جو لفظ سب سے پہلے متداول اور مشہور ہوا وہ "شیعہ " ہے اور یہ لفظ (شیعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چار صحابہ حضرات سلمان ، ابوذر،مقداد اور عمار یاسر رضی اللہ عنھم کا طرہ امتیاز بن گیا تھا (روح القرآن ص ۶۶)۔

اس تصریح سےثابت ہوا کہ زمان رسول میں صحابہ کرام کا ایا گروہ ایسا موجود تھا جو خود کو شیعہ کہلواتے تھے ۔پس لقب شیعہ قدامت تاریخ کے لحاظ سے مقدم ٹھہر ا اور شیعوں کا وجود دور رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ثابت ہوگیا ۔

الغرض ہم اپنے دین و مذہب میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہیں ہیں نہ ہی ہم صحابہ رسول کے مراتب میں فرق و تمیز کرنے

۱۲

میں ارشاد خداوندی کے مخالف ہیں۔ حلقہ اصحاب میں جو صحابہ عظام رضوا ن اللہ علیھم صداقت شعار اور حق پرست تھے ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ جو صحابہ متمسک بالثقلین تھے اور صفات حسنہ سے متصف تھے انھیں محبوب ودوست رکھتے ہیں البتہ ہماری پر خاموش ان دوست نما اصحاب سے ہے جنھوں نے خدا ورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خیانت کی ہم ایسے لوگوں کی پیروی کرنا دین حق سے غداری سمجبھتے ہیں ۔پس ہم ظالم نام نہاد صحابہ پر اعتماد نہیں کرتے نہ ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں کہ انھوں نے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ دشمنی کی ۔

جب مخالفین مذہب اہل بیت ہمارے مسلک میں کوئی اور خامی تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر وہ ایسی جھوٹی تہمتیں باندھنے میں اپنا بچاؤ دیکھتے ہیں اور اس قسم کی رقیق باتیں ہم سے منسوب کرتے ہیں جن کا تصور بھی صحیح الدماغ شخص نہیں کرسکتا چنانچہ ایسا ہی اوچھا ہتیھیار ہمارے خلاف یہ استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ شیعہ تمام صحابہ کو کافر قرار دیتے ہیں اور یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو گالیاں بکتے ہیں ۔

ہم نے ا س مسئلہ پر اس کتاب میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور مدلّل و شرین مباحثوں سے اپنے موقف کو پیش خدمت کیا ہے نیز عالی مرتبت اصحاب رسول میں سے چار جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے انشا اللہ مخالفین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ شیعوں پر یہ بے ہودہ الزام کہ وہ صحا بہ کے منکر ہیں اور تمام صحابیوں کو معاذاللہ کا فر سمجھتے ہیں قطعا غلط اور

۱۳

سراسر بہتان ہے ۔ یہ بات محض تعصّب وفرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ ہے ۔ذوق سلیم رکھنے والے قارئین پر اس حقیقت کا انکشاف ہو جائے گا کہ مخالفین نے یہ چال کس ہو شیاری سے چلی اور اس کا پس منظر کیا تھا ۔

آغاز کتاب سے قبل ہو اپنے مسلمان بھائیوں سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ راہ خدا کسی بات کو زبان سے ادا کرنے سے پہلے اس پر سوچ بچار کرلیا کریں ۔اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا کریں ۔ اسلاف کی کور کورانہ تقلید اور غلط قیاسات کبھی ہدایت کے معاون نہیں ہو تے ہیں لہذا باہمی اتحاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی پر الزام دینے سے پہلے اس کی مکمل چھان بین کر لیا کریں نیز سازشی جالوں او ر مستورہ ریشہ دوانیوں سے خبردار رہا کریں کیوں کہ اسی طریقہ سے امت میں اتحاد و یک جہتی اور باہمی اخوت برقرار رہ سکتی ہے جو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے او ر ہماری ملت اب مزید کسی انتشار وفساد کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے ۔ اب جذبات کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی بھی ضرورت ہے اور قوم کی ترقی و استقلال کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب مؤعظہ حسنہ کی تعلیم اسلام پر عمل کریں اور لا اکراہ فی الدین کے قرآنی حکم کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ شکریہ

ملتجی

عبد الکریم مشتاق

*****

۱۴

چار یار رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

" عن ابن بریدة عن ابیه قال "قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ان الله امرنی یحب اربعة و اخبر نی انه یحبهم قیل یا رسول الله اسمعهم لنا قال علی منهم ،یقول ذالک ثلا ثة و ابوذر و المقداد و سلمان و امرنی احبهم و اخبرنی انه یحبهم "

(جامع ترمذی جلد دوم ص ۵۷۴ مطبوعہ :نو لکشور پریس لکھنؤ)

"حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اللہ تعالی نے مجھے چار شخصوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ میں (اللہ) بھی ان( چاروں ) کو دوست رکھتا ہوں ۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کے نام ہم کو بتا ئیں (رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے) فرمایا ،"علی ان میں سے ہے "۔اور آپ نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اور حضرت ابوذر (غفاری) حضرت مقداد (بن اسود)اور حضرت سلمان( فارسی) اور حضور نے مجھے (روای کو) ان کی محبت کو حکم دیا ہے ۔اور خبر دی ہے کہ میں بھی(حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) ان کو اپنا یار رکھتا ہوں "

حدیث منقولہ بالا میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چار یاروں کا تعارف اس جامع انداز میں کروایا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی فضیلت نہیں ہوسکتی جو کسی غیر معصوم ہستی کو نصیب ہو سکے کہ اللہ تعالی نے ان چاربزرگواروں کی محبت کا حکم صادر فرمایا ہے اور ان کو اپنا دوست قرار دیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی تاکید فرمائی ہے کہ وہ ان کو اپنا یار بنا ئے رکھے ۔

۱۵

مقام افسوس ہے کہ ایسے عظیم مرتبت اصحاب رسول کے فضائل و مناقب کو اتنے پردوں میں ڈھانپا جا چکا ہے کہ عام مسلمان ان یا ران خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اسماء مبارکہ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ ان کے کمالات و اعزازات کا اخفاء نہایت گھناؤ نی محلاتی سازش کے تحت ضروری ہوا اور ایسے ایسے بندوبست کئے گئے کہ ان نجوم ہدایت کی روشنی ماند پڑ جائے مگر باوجود لاکھ حیلہ جوئی کے مخالفین کی تمام تدابیر الٹی ہو گئیں اور ان جلیل القدر اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشانات کی پیروی کے بغیر راہ ہدایت نصیب نہ ہو سکی ۔ ہم مسرور ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں تو فیق عطا فرما ئی کہ یاران خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی درگا ہوں میں نذرا نہ عقیدت پیش کرسکیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ان مقتدر نفوس کی تعریف و توصیف ہم جیسے ناقص بندوں بس کی بات نہیں ہے جبکہ ان گرامی قدر حضرات کی مدح سرائی خداوند قدوس نے اپنے کلام پلاک میں فرمائی اور رسول مقدس نے ان کے تقدس کی قصیدہ خوانی اپنی احادیث پاک کے ذریعے فرمائی ۔ ائمہ طاہرین نے اپنی زبان مطہر سے ان متبرک ہستیوں سے محبت وعقیدت رکھنے کی تائید کی ۔تاہم حصول ثواب کی خاطر ہم ان برگزیدہ محبوبان خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت کے جذبات کا اظہار کرنے میں دلی مسرت اور قلبی فرحت محسوس کر رہے ہیں ۔اور یقین واثق رکھتے ہیں کہ ہماری یہ ادنی سی خدمت مقبول ہوگی ۔

قبل اس کے ہم یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مناقب نقل کریں ضروری خیال کرتے ہیں کہ چند مقدمات پیش کریں جن میں ان مسائل کا تصفیہ ہوجائے کہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بلند پایہ ہستیوں کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جس کا یہ استحقاق محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے غیروں کو ان پر

۱۶

فوقیت کیوں دی جانے لگی ہے ۔ اس بات کا سبب کیا تھا کہ زمانہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان اصحاب باوفا کو جو مقامات عالیہ نصیب تھے بعد میں ان کی قدر نہ کی گئی ۔ امت حمیدہ کے ان درخشیدہ ستاروں کی روشنی کے مدھم پڑجانے کا باعث کیا ہوا ۔ اور کیوں بے جرم وخطا ان یاران رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بے اعتنائی کا سلوک کیا گیا چونکہ اس قسم کے سوالات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اس لئے ان پر حسب استطا عت گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

مقدمہ:-

اگر ہم تاریخ عالم کا مطالعہ باریک بینی سے کریں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تمام عظیم الشان مدبّر ین سلطنت کی سیاست کے دو مشترکہ اصول اساسی تھے ۔ جو ان کامیابی کے راز تھے پہلا یہ کہ " اپنے مقاصد کے حصول کی خا طر ہر ایک امر ما سوا کی طرف سے مطلقا بے تو جہی اختیار کرکے اس کو قطعا نظر انداز کردینا ۔"

مذہب اور محبت دوبڑی طاقتیں ہیں لیکن ان فرماں رواؤں نے ان طاقتوں کو بھی مفلوج بنا کر اپنا سکہ جمایا ۔ دوسرا کہ " اپنے ارادہ اور دلی راز کو اس طرح خفیہ رکھنا ، کہ عوام الناس کو اس کی بھنک بھی نہ لگ ۔اگر ایمانداررانہ رائے قائم کی جائے تو میرے خیال میں کمال سلطنت اسلامیہ کے پہلے بادشاہوں ہوں خصوصا حضرت عمر بن خطاب کو اس ہنر میں حاصل ہو ا دنیا کے کسی بھی حکمران کو نصیب نہ ہو سکا ۔حتی کہ آج کے مغربی سیاستدان بھی اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتے ۔ جب ہم فاروق اعظم اہل سنتہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ساری عمر اس مقصد کے حاصل کرنے میں گزاردی ۔مرتے مرگئے مگر سوائے چند مقرب افراد کے انھوں نے عوام الناس پر اپنا مقصد ظاہر نہ ہونے دیا ۔ یہ بلا شبہ دینون سیاست اور طرز جہاں بانی کا آخری درجہ کمال ہے حضرت عمر کو جن لوگوں سے سیاسی اختلاف

۱۷

بھی ہوتا تھا آپ ظاہری طور پر ان سے خبر خیر خواہی کا دم بھرتے تھے ۔مثلا حضرت علی علیہ السلام سے ان کو مسئلہ خلافت میں اتفاق نہ تھا پھر بھی وہ ان کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے آپ کی اس عاقلانہ سیاست کا پتہ اس واقعہ سے چلتا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت عمر کو حضرت علی علیہ السلام کی عزت وتوقیر کرتے دیکھ کر پوچھ لیا کہ آپ (عمر) جتنی تعظیم و تکریم علی ابن ابی طالب علیھما السلام کی کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے ؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ کیوں نہ کروں کیوں کہ وہ تو میرا بھی مو لا ہے ۔اور تمام مومنین و مومنات کا مولا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب ن ےکس خوبی ہے یہ تاثر پیش کردیا کہ غدیر خم والی جو روایت لوگوں میں چل رہی ہے وہ کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں فقط اتنا ہے کہ علی مولا ہے ۔اور مولا کے معنی حاکم نہیں ۔حاکم میں ہوں ،مولا علی ہے ۔

لاکھ جتن کرلو ۔ہزاروں کتابیں لکھ ڈالو مگر وہ اثر نہ ہوگا جو جناب ابن خطاب کے اس ایک جملہ سے ہوگیا

۔اگر حضرت عمر اس پر علمی کرنا شروع کرتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اب تخت پر قابض ہو کر الٹی سیدھی تاویلوں پر اتر آئے ہیں ۔مگر ان کے اس طرز عمل اور اس کی تشریح سے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر ہوا ان کو معلوم ہو ا کہ ایک آدمی مولا وآقا بھی ہو سکتا ہے ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو عمر جو علی علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ایک لمحے کے لئے بھی علی علیہ السلام کی موجودگی میں مسند حکومت پر نہ بیٹھتے ۔اس ظاہری تعظیم و تکریم کی ایک اور سیاسی وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ابھی وہ وقت نہ آیا تھا کہ ہر وقت و ہر طرح علی علیہ السلا م کی توہین ہو سکے ۔دعوی فدک کے باعث عوام میں ہیجان پیدا ہوگیا تھا لہذا سیاسی تدبر ایسے حالات میں دو تقاضے کرتا تھا یا تو قیر فریق مخالف کا کا م کردیا جائے یا پھر اظاہری وضعداری حسن وخوبی سے

۱۸

جاری رکھی جائے ۔کیونکہ اگر زیادہ تنگ کیا جاتا تو نتیجہ "تنگ آمد بہ جنگ آمد" کا احتمال تھا پھر حضرت علی علیہ السلام صاحب رسوخ بھی تو تھے لہذا حضرت علی علیہ السلام کی لوگوں میں عزت ووقعت کا لحاظ رکھنا ضروری تھا مگر جس خوبصورت سیا سی انداز سے آئندہ چشم پو شی کی گئی وہ سیاستدانوں سے داد تحسین حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔اصحاب ثلاثہ کی سیاست ایک ہی تھی ایک کی کمی دوسرا پوری کردیتا تھا ۔اور اس بحث کا محل اس کتاب میں موجود نہیں ہے ،ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ محض حصول استحکام اقتدار کے لئے یہ تدبیر بروئے کا لائی گئ کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی اقدار کو پامال کیا جائے ۔عوام الناس کے دلوں سے ان کی محبت اورعقیدت ختم کردی جائے اس کوشش میں علاوہ دیگر ترکیب کے ایک یہ بڑی موثر وکارگر تدبیر آزمائی گئی کہ وہ قرآنی آیات جو حضرات اہل بیت علیھم السلام اور شیعیان اہل بیت کے حق میں نازل ہوئیں ان کی من گھڑت تاویلیں اور خود ساختہ تفاسیر مرتب کی گئیں اور بڑے محتاط طریقہ سے ان کا اجرا کیا گیا ۔فضائل ومناقب کی احادیث کی اشاعت کو ممنوع قرار دیا گیا اور بارگاہ رسالت سے عطا شدہ القابات کو غیر مستحق افراد کے حق میں غصب کرلیا گیا ۔صاحبان اقتدار کی شان میں جھوٹی احادیث وضع کی گئیں اور ان کی نشر واشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اس تدبیر سے یہ فائدہ ہو ا کہ لوگ حقیقی بزرگوں کی معرفت سے بے بہرہ رہے اور بادشاہوں یا ان کے حواریوں کے گن گانے لگے اور مخالفین حکومت مورد عتاب شاہی قرار پائے ان کو اس قدر گم نام بنادیا گیا کہ آج لوگوں کی بعض ممتاز اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں ہے ۔

۱۹

اخفائے فضائل

مقدمہ دوم:-

قرن اول میں کسی صحابی کے فضائل کا انحصار دوباتوں پر ہوتا تھا ۔اول ارشادات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جن میں فضائل کا ذکر ہو اور دوم خود صحابی کے سوانح حیات ۔

بر سر اقتدار طبقہ کی کوشش یہی رہی کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اصحاب کے متعلق ان دونوں امور کو لوگوں کی یاد سے محو کردیا جائے سوانح حیات کے لئے تو آسان ترکیب تھی کہ ان کا ذکر ہی عام طور پر نہ کیا جائے اور لوگوں کو جاہ ہشم اور مال وزر کی جانب متوجہ رکھا جائے اور جو جو واقعات و صفات و اعزازات زیادہ فضل وفخر کے قابل تھے ان صفات میں حقیقی متصف لوگوں کے برخلاف اپنے من پسند لوگوں کا ظاہر کیا جائے ۔ہم خیال صحابہ کو دربار حکومت میں ترجیح دی جائے ۔ مثلا حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت وبہادری کے چرچے عام تھے یہ شہرت حکومت کی نظر میں کھٹکی اس صفت کے مقابلہ میں نئے ہیرو پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔لہذا ید اللہ و اسداللہ کی بجائے سیف اللہ تیار کرنی پڑی جرنیل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کسی جنگ میں شریک نہ کیا تاکہ ان کی صفت کرّاری وغیرفرّاری لوگوں کے سامنے نہ آئے ۔ اسی طرح دوسرا امر احادیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دربارہ فضائل ہے لہذا ان کی روک تھام کا مکمل بندوبست کیاگیا اس طرح کہ جبرا حکومت کی طاقت کے خوف سے اور باری انعامات کے لالچ سے لوگوں کو ایسی احادیث بیان کرنے سے روکا گیا جن میں مخالفین حکومت کے فضائل کا تذکرہ تھا ۔بلکہ ملکی قانون کے مطابق ایسی احادیث رسول کی

۲۰