المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 15760
ڈاؤنلوڈ: 345

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15760 / ڈاؤنلوڈ: 345
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

یہی ارادہ ہے کہ وہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح سے پاک بنائے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے(۱)

حضرت ابو بکر کا حق تھا کہ حضرت سیدہ کے دعوی کے بےچون وچرا تسلیم کرلیے ۔کیونکہ تاریخ وحدیث کا مشہور واقعہ ہے کہ کہ حضور کے ساتھ ایک اعرابی نے ناقہ کے متعلق تنازعہ کیا ۔ ہردو فریق ناقہ کی ملکیت کے دعویدار تھے ۔اعرابی نے رسول خدا (ع) سے گواہ طلب کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے حضور کے حق کے متعلق گواہی دی ۔ اور جب حضرت خزیمہ سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ گواہی بغیر علم کے کیوں دے دی ہے ؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم محمد کی نبوت اور وحی کی بھی تو گواہی دیتے ہیں جب کہ ہم نے جبریل امین کو اپنی آنکھوں سے اترتے نہیں دیکھا ۔جب ہم نبوت ورسالت جیسے عظیم منصب کی ان دیکھے گواہی دے دیتے ہیں تو کیا ہم اپنے نبی کے لئے ایک اونٹنی نہیں دیں گے ؟ رسول خدا (ص) نے حضرت خزیمہ کی شہادت کو صحیح قراردیا اور انہیں "ذو الشہادتین " یعنی دو گواہیوں والا قراردیا ۔

حضرت خزیمہ کی طرح اگر حضرت ابو بکر بھی حضرت سیدہ کی روایت ہبہ کو بدون شہود تسلیم کر لیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مناسب تھا ۔اس کے برعکس حضرت ابو بکر کی "لاوارثی" حدیث کے متعلق جناب زہرا (س) نے ان سے گواہ نہیں مانگے تھے ۔جب کہ حضرت سیدہ اس روایت کی صحت سے بھی منکر تھیں ۔

اور علی (ع) جیسے صدیق اکبر کی گواہی رد کرنے کا بھی حضرت ابو بکر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا ۔اور ام ایمن جو کہ رسولخدا (ص) کی دایہ تھیں جن کی پوری زندگی اسلام اور رسول اسلام کی خدمت میں گزری تھی ، ان کی گواہی کو رد کرنے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی تھی ۔

____________________

(۱):- الاحزاب

۱۰۱

خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد

حضرت ابو بکر کا موقف میراث انتہائی عجیب وغریب ہے ۔

۱:- انہوں نے رسول خدا کی تلوار ان کی نعلین اور دستانے مبارک علی (ع) کے پاس رہنے دی تھی اور اس کے متعلق نہ تو انہوں نے علی (ع) سے کوئی تنازعہ کیا اور نہ ہی علی سے گواہ طلب کیے ۔

۲:-علاوہ ازیں رسول خدا (ص) نے مرض الموت میں حضرت علی (ع) کو اپنی تلوار اور انگشتری عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابو بکر نے علی (ع) سے ان دونوں چیزوں کی واپسی کا کوئی تقاضا نہیں کیا ۔

اگر تلوار اور انگشتری ہبہ ہوسکتی ہے اور خلیفہ اسے واپس نہیں لیتے اسی طرح سے فدک بھی تو ہبہ ہوچکا تھا ۔ اس کی واپسی کے لئے یہ ساری تگ و دو کیوں کی گئی ؟

۳:- جس لباس میں حضور اکرم نے وفات پائی تھی ،لباس حضرت فاطمہ (س) نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔حضرت ابوبکر نے لباس رسول (س) کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔

۴:- ازواج رسول (ص) سے بھی رسولخدا (ص) کے مکان خالی کرنے کامطالبہ نہیں کیا گیا۔

۵:-عامل بحرین علاء بن حضرمی سے خلیفہ صاحب کے پاس مال بھیجا ۔حضرت جابر نے خلیفہ صاحب سے کہا کہ رسول خدا(ص) نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس مال آیا تو میں تمہیں اتنا مال دون گا ۔اب جب کہ رسول خدا کی وفات ہوچکی ہے اورآپ اس وقت خلیفۃ المسلمین ہیں ۔لہذا مجھے اتنا مال دیں ۔ حضرت ابو بکر نے ان سے کسی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ان کی زبان پر اعتماد کرتے

۱۰۲

ہوئے انہیں مطلوبہ مال فراہم کیا(۱) ۔

تو کیا حضرت خاتو ن جنت (س) جابر جتنی بھی صادق اللہجہ نہ تھیں ؟

۶:- جب خلیفہ صاحب کے پاس مال بحرین آیا تو ابو بشیر المازنی ان کے پاس گئے اور کہا کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا تھا جب بحرین سے مال آیا تو میں تجھے دوں گا ۔حضرت ابو بکر نے اس کی بات سن کر تین تھیلیاں بھر کر انہیں مال دیا ۔

تاریخ کا طالب علم اس وقت انتہائی پریشان ہوجاتا ہے کہ جب کہ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہے ایک گم نام صحابی اگر مطالبہ کرے تو اس کی بات کو سچ سمجھا جا تا ہے اور اگر بنت رسول (س) اپنا حق مانگیں تو ان سے گواہ طلب کیئے جاتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ گواہوں کی گواہی کو بھی ٹھکرا دیا جاتا ہے اور رسول خدا (ص) کی خاتون جنت بیٹی کو خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے ۔

اگر "لاوارثی"حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے بڑی قباحتیں لازم آئیں گی ۔اس حدیث کے تحت رسول خدا (ص) کو ان کے مکان میں دفن نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ رسول خدا(ص) کی وفات کی وجہ سے ان کا تمام ترکہ صدقہ بن جاتا ہے اور وہ عوامی ملکیت میں بد جاتا ہے ۔اب جب کہ آپ کی وفات ہوئی تو مکان بھی تو صدقہ میں شامل ہوگیا ۔رسول خدا (ص) کا اس مکان سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور جس مکان سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ وہ تو اس میں دفن کیسے ہوں گے ؟

اور عجیب بات یہ ہے کہ خود حضرت ابو بکر ہی دوسری حدیث کے راوی ہیں کہ "انبیاء کی جہاں وفات ہوتی ہے وہ وہاں ہی دفن ہوتے ہیں " اگر انبیاء اپنی جائے وفات پر دفن ہوتے ہیں تو وہ جگہ ان کی ہوتی ہے یا صدقہ کا مال ہوتا ہے ۔؟

اب اگر وہ مال وترکہ صدقہ ہوتا ہے تو انبیائے کرام کی وہاں تدفین صحیح نہیں ہے اور اگر تدفین صحیح اور درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ان کا ترکہ

____________________

(۱):- صحیح بخاری سوم –ص ۱۸۰

۱۰۳

صدقہ میں تبدیل نہیں ہوتا ۔

تعجب ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں جو واضح تناقض و تضاد ہے کیا حضرت ابو بکر کو اپنی ہی بیان کردہ دونوں حدیثوں کے تضاد کا ادراک نہیں ہوا تھا ؟

اگر مزید وضاحت کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حدیث پڑھی کہ " نبی جہاں وفات پاتے ہیں ۔اسی جگہ ہی دفن ہوتے ہیں "

تو نبی کی جائے وفات دو میں سے ایک جگہ تو ضرور ہوگی ۔

۱:- یا تونبی اپنی ملکیت میں وفات پائے گا ۔

۲:- یا کسی غیر کی ملکیت میں وفات پائے گا ۔

اگر اپنی ملکیت میں نبی وفات پاتا ہے تو اس کی وفات پر وہ جگہ تو صدقہ بن گئی اور جو چیز مرنے والے سے متعلق ہی نہ ہو اس میں دفن ہونا ہی غلط ہے ۔

اگر بالفرض نبی کسی غیر کی زمین پر وفات پاتا ہے تو وہ زمین تو پہلے سے ہی غیر کی ہے اس میں تو دفن ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

لہذا اگر لاوارثی حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ آخر انبیاء کو کہاں دفن ہونا چاہئیے ؟

علاوہ ازیں حضرت ابو بکر کو یہ حق کس نے تفویض کیا تھا کہ وہ رسول خدا (ص) کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کریں ۔ جب کہ وہ زمین خود رسول خدا (ص) کی ملکیت سے نکل کر صدقہ میں تبدیل ہوچکی تھی ؟ اور اس مقام پر یہ تسلیم کیاجائے کہ وہ حجرہ حضور اکرم (ص) کی ملکیت ہی تھا اور وہ وفات کے بعد بھی "بیت النبی " ہی تھا تو بیت النبی کے داخلہ کے لئے اللہ نے پہلی شرط یہ عائد کی ہے کہ پہلے نبی سے اجازت لی جائے بعد ازاں ان کے گھر میں قدم رکھا جائے تو کیا حضرت ابو بکر رسول خدا کی زندگی میں ان سے دفن ہونے کی اجازت حاصل کرچکے تھے ؟

یا رسول خدا(ص) اپنی زندگی میں یہ کہہ کر گئے تھے کہ خلیفہ اول کو میرے پہلو

۱۰۴

میں دفن کیا جائے ؟

الغرض "لاوارثی " حدیث کو صحیح تسلیم کرنے سے یہ تمام قباحتیں جنم لیتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ اہل سنت مفسرین نے انبیاء کی میراث حاصل کرنے کی آیات کے متعلق ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا کہ ان آیات سے میرا ث علمی مراد ہے ۔اور ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آسکی کہ علم وفضل کب سے میراث بنا ہے اگر علم وفضل میراث ہوتا تو ہر عالم باپ کا بیٹا عالم ہوتا ہے اور ہر جاہل باپ کا بیٹا جاہل ہوتا ہے ۔علم نفس اور علم اجتماع اس مفروضہ کی تردید کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ حضرت ابو بکر نے جناب سیدہ (س) کو محروم الارث کرکے بزعم خویش اس حدیث پر عمل کیا جس کے وہ واحد راوی تھے ۔

اور اپنی منفرد حدیث پر عمل کرتے وقت عالم اسلام کی اس مستند و موثق حدیث کو بھول گئے جس کی صحت کا انہیں خود بھی اقرار تھا ۔

رسول اکرم (ص) کی مشہور ترین حدیث ہے :-"فاطمة بضعة منّی من اذاها فقد آذانی ،ومن آذانی فقد آذی الله "(۱) ۔

"فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی "۔

اور حضرت سیدہ کو محروم رکھتے وقت حضرت ابو بکر کو ابو العاص بن ربیع کا واقعہ بھی مد نظر رکھنا چاہیۓ تھا ۔

اس واقعہ کی تفصیل مورخ ابن اثیر نے یوں بیان کی ہے :-

"جنگ بدر کے قیدیوں میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبد الشمس بھی تھا ۔یہ شخص زینب بنت خدیجہ (رض) کا شوہر تھا ۔

مکہ کے تمام جنگی قیدیوں نے فدیہ دے کر رہائی حاصل کی ۔زینب بنت

____________________

(۱):- درج بالا حدیث کا مفہوم صحیح بخاری میں موجود ہے ۔

۱۰۵

خدیجہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ الکبری نے انہیں دیا تھا ۔

جب جناب رسول خدا (ص) نے اس بار کو دیکھا تو انہیں حضرت خدیجہ کی یاد آئی اور خدیجہ کی یاد سے بڑے متاثر ہوئے اور مسلمانوں سے فرمایا :-" اگر تم زینب کے قیدی کو رہا کرسکو اور اس کا بھیجا ہوا فدیہ بھی واپس کر سکتے ہوتو کرو ۔مسلمانوں نے ابو العاص کو حضرت زینب بنت خدیجہ کی وجہ سے رہا کردیا اور ان کا فدیہ بھی واپس کردیا ۔

فتح مکہ سے پہلے ایک دفعہ ابو العاص بن ربیع اپنا اور باقی قریش کے چند افراد کا مال لے کر شام جارہا تھا ۔راستہ میں مسلمانوں کے ایک سریہ سے مڈبھیڑ ہوگئی ۔مسلمانوں نے اس کا سامان لوٹ لیا اور جب رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی زینب بنت خدیجہ کے پاس آگیا ۔اور جب رسول خدا نماز صبح کے لئے مسجد جارہے تھے تو زینب نے آواز دی لوگو!" میں ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے چکی ہوں ۔"

رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا مال اسے واپس کر دو یہ میری خواہش ہے اور تم مال واپس نہ کرو پھر بھی تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔

لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی خواہش کے سامنے ہم اپنی گردن جھکائے دیتے ہیں اور ہم اس کا مال واپس کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں نے اس کا تمام سامان حتی کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی بھی اسے واپس کردی(۱) ۔"

درج بالا واقعہ میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ مسلمانوں نے وہ مال غنیمت جو کہ ان کا شرعی حق تھا ۔وہ بھی رسول خدا (ص) کی پروردہ جناب زینب کی وجہ سے ابو العاص بن ربیع کو واپس کردیا ۔اگر خدا نخواستہ بالفرض حضرت ابو بکر یہ سمجھتے تھے کہ حضرت سیدہ (س) کی میراث نہیں ہے تو بھی انہیں ابو العاص کے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت سیدہ کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہئیے تھا ۔

یا حضرت ابو بکر کا یہ کردار سنت رسول کے مطابق تھا ؟

____________________

(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص ۹۳-۹۴

۱۰۶

سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ

ب :- حضرت عمر بن الخطاب

اما والله لقد تقمّصها ابن ابی قحافة و انّه لیعلم انّ محلّی منها محلّ القطب من الرحی ینحدر عنی السیل ولا یرقی الی الطیر فسدلت درنها ثوبا وطویت عنها کشحا وطفقت ارتای بین ان اصول بید جذآء او اصبر علی طخیه عمیاء یهرم فیها الکبیر و یشب فیها الصغیر ویکدح فیها مومن حتی یلقی ربّه فرایت انّ الصبر علی هاتا اجحی فصبرت وفی العین قذی وفی الحلق شجا اری تراثی نهیا حتی مضی الاول لسبیله فادلی بها الی ابن الخطاب بعده ثم تمثل بقول الاعشی "

شتّان ما یومی علی کورها ویوم حیّان اخی جابر

فیا عجبا بینا هو یستقیلها فی حیاته اذ عقدها لاخر بعد وفاته لشد ماتشطرّا ضرعیها "(۱)

خدا کی قسم ؛ فرزند ابو قحافہ نے پیراہن خلافت پہن لیا ۔حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جوچکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے ۔میں وہ (کوہ بلند) ہوں جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گراجاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مارسکتا ۔(اس کے باجود ) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور مومن اس میں جد وجہد کرتاہوا اپنے

____________________

(۱):-نہج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ ۔

۱۰۷

پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا ۔ لہذا میں کیا ۔حالانکہ آنکھوں میں غبار اندوہ کی خلش تھی اور حلق میں غم ورنج کے پھندے لگے ہوئے تھے ۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابن خطاب کو دے گیا ۔پھر حضرت نے بطور تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھا :

"کہاں یہ دن جو ناقہ ی پالا ن پہ کٹتا ہے اور کہا وہ دن جو حیان برادر جابر کی صحبت میں گزرتا تھا ۔"

تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرتا گیا ۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔

تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لیے استوار کرتا گیا ۔بے شک ان دو نوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔

بے شک ایسا ہی ہوا ۔حضرت عمر کی محنت سے جو خلافت ابوبکر کو ملی تھی ۔انہوں نے وہ خلافت حضرت عمر کے حوالے کی ۔

حضرت عمر کی نا مزدگی سے پہلے انہوں نے حضرت عثمان بن عفان اور عبد الرحمان بن عوف کو بلایا اور ان سے حضرت عمر کی باقاعدہ نامزدگی کے لیے مشورہ طلب کیا ۔تو عبدالرحمان بن عوف نے کہا " آپ اس کے متعلق جو سوچتے ہیں وہ اس سے بہتر ہیں "عبدالرحمان یہ جانتے تھے کہ خلیفہ اول کے دور میں بھی مرکزی کردار عمر ہی ادا کرتے رہے ۔جب کہ وہ حضرت ابو بکر کے تصورات سے بھی زیادہ بہتر تھے یعنی چہ معنی دارد؟ اور حضرت عثمان بن عفان کا جواب یہ تھا کہ "ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہماری بزم میں ان جیسا کوئی اور نہیں ہے ۔"

اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بالکل بجا فرمایا ہے کیوں کہ سقیفائی حکومت کے کرداروں میں خلیفہ ثانی لاجواب شخصیت کے حامل تھے ۔

۱۰۸

ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ ان دونوں مشیروں نے یہ مشورہ اپنے ضمیر کی آواز پر دیا تھا یا خلیفہ صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا ؟

خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت

بہر نوع حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمر کی نامزدگی کی وصیت تحریر کریں ۔

مورخین رقم طراز ہیں کہ حضرت ابو بکر اپنی وصیت تحریر کراتے گئے اور حضرت عثمان لکھتے گئے ۔ابھی حضرت عمر کا نام تحریر نہیں ہوا تھا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور حضرت عثمان نے اپنی فہم و فراست سے حضرت عمر کا نام تحریر کردیا اور جب حضرت ابو بکر کو ہوش آیا تو حضرت عثمان نے انہیں حضرت عمر کا نام پڑھ کر سنایا جسے حضرت ابوبکر نے درست قراردیا اور مذکورہ نام لکھنے پر حضرت عثمان کو آفرین وتحسین کہی ۔

۱:- آج تک ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ حضرت عثمان نے متوفی کی وصیت میں از خود حضرت عمر کا نام داخل کیوں کیا ؟

۲:- اور کیا یہ کارنامہ ان کی اولیات میں شمار کیا جائے گا ؟

۳:- اور کیا اگر ہم فرض کرلیں کہ حضرت ابو بکر اسی بے ہوشی کے دورہ سے ہی جانبرد نہیں ہوئے تھے تو اس وصیت نامہ کی شرعی حیثیت کیا قرار پائے گی ؟

۴:- حضرت عمر کی نامزدگی کے لئے پوری جماعت صحابہ میں سے صرف دوافراد وکو ہی مشہورہ کے قابل کیوں سمجھا گیا ؟

۵:- ان دونوں بزرگواروں میں آخر وہ کون سی خاصیت تھی جس سے دوسرے صحابہ محروم تھے ؟

۶:- حضرت ابو بکر کے اس اقدام کے متعلق یہ کہہ کر امت اسلامیہ کو مطمئن

۱۰۹

کردیا جاتا ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی ہمدردی کے لئے ایسا کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول خدا کو اپنی امت س اتنی ہمدردی بھی نہ تھی جتنی حضرت ابو بکر کو تھی ؟

۷:-حضرت ابو بکر عالم نزع میں حضرت عمر کی نامزدگی تحریر کرائیں وہ تو درست ہے اور اگر جناب رسول خدا(ص) اپنے مرض موت میں کوئی وصیت تحریر کرانا چاہیں تو اسے ہذیان کہا جائے ؟

۸:- اگر سینکڑوں بر س بعد کوئی شخص یہ کہنے کی جسارت کرے کہ وہ وصیت نامہ حضرت ابو بکر کی بے ہوشی اور ہذیان کی حالت میں تحریر کیا گیا تھا ۔ تو کیا ایسا کہنے والے شخص کو دین اسلام کا دوست کہا جائے گا یا دشمن ؟ اور اس کے ساتھ امت اسلامیہ یہ فیصلہ بھی کرے کہ اگر کوئی شخص یہی الفاظ رسول خدا (ص) کے متعلق کہے تو اس کے لئے کیا کہاجائے ؟

۹:- حضرت ابو بکر و عمر کا نظریہ یہ تھا کہ رسول خدا نے کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں کیا تھا اور اگر حضرت ابو بکر بھی رسول خدا کی پیروی کرتے ہوئے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہ کرتے تو کیا یہ عمل سنت رسول کی اتباع نہ کہلاتا ؟

۱۰:-اگر حضرت علی کے لئے مشورہ کرلیا جاتا اور اس کے لئے مہاجرین و انصار سے رائے طلب کی جاتی تو اس میں آخر کیا قباحت تھی ؟

ان تمام سوالات کا سادہ سا اور حقیقت پسندانہ جواب یہی ہے کہ حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنانے میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔

حضرت ابو بکر اس طرح سے حضرت عمر کے مقروض احسان تھے ۔چنانچہ انہوں نے یہ قرض اپنی وفات کے وقت ادا کردیا ۔

۱۱۰

شوری

حتیّ اذا مضی الثانی لسبیله جعلها فی جماعة زعم انی احدهم فیا لله و للشوری حتی اعترض الریب فی مع الاول منهم حتی صرت اقرن الی هذه النظائر لکنی اسغفت اذا اسفوا وطرت اذا طارو فصغی رجل منهم لضغنه ومال الاخر لصهر مع هن وهن (الامام علی بن ابی طالب )

اور دوسرا جب جانے لگا تو خلافت کو ایک جماعت میں محدود کرگیا اور مجھے بھی اسی جماعت کا ایک فرد خیال کیا ۔اے اللہ مجھے اس شوری سے کیا لگاؤ ؟استحقاق وفضیلت میں کب شک تھا جو اب ان لوگوں میں بھی شامل کرلیا ہوں ۔مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ویسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں ۔یعنی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں ۔ان میں سے ایک شخص تو کینہ وعناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسرا دامادی اور بعض ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا "(۱) ۔

ابن اثیر عمربن میمون کی زبانی شوری کی داستان یوں بیان کرتے ہیں :-

جب حضرت عمر قاتلانہ حملہ کی وجہ سے زخمی ہوئے تو انہیں کہا گیا کہ آپ کسی کو اپنا جانشین بنائیں ۔ تو انہوں نے کہا کسے اپنا جانشین بناؤں ؟

اگر آج ابو عبیدہ زندہ ہوتا تو میں اسے جانشین بنا تا اور اپنے رب کے حضور عرض کرتا کہ پروردگار میں اسے جانشین بنا کر آیاہوں جس کے متعلق میں نے تیرے حبیب سے سنا تھا کہ ابو عبیدہ میر ی امت کا امین ہے ۔

____________________

(۱):- نہج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ سے اقتباس ۔

۱۱۱

اگر آج سالم مولی حذیفہ زندہ ہوتا تو میں اسے اپنا جانشین بناتا اور اگر میرا رب مجھ سے پوچھتا تو میں عرض کرتا کہ خداوند ا! میں نے اسے جانشین بنا کر آیا جس کے متعلق میں نے تیرے رسول (ص) سے سنا تھا کہ سالم اللہ سے بڑی محبت کرنے والا ہے "(۱) ۔

ہاں ہمیں بھی یقین ہے کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو حضرت عمر انہیں ہی خلیفہ بناتے ۔شاید امین امت کی وجہ سے تو نہ بناتے البتہ اس لئے انہیں خلیفہ ضرور بناتے کہ وہ ان کے ساتھ سقیفہ میں شامل تھے اور اگر ایسا ہوتا تو خلفائے راشدین کی تعداد بھی اج چار کی بجائے پانچ ہوتی ۔بشرطیکہ خلافت اگر حضرت علی (علیہ السلام )کو ملتی۔

تاریخ کا طالب علم اس روایت کو دیکھ کر انتہائی متعجب ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی زندگی کے آخری لمحات میں تو مسلمانوں نے ان ے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ ہمیں بے وارث چھوڑ کرم ت جائیں لیکن رسول خدا (ص) کی خدمت میں کسی نے یہ درخواست نہیں کی کہ آپ بھی اپنا جانشین بناکر جائیں ۔

اور اہل سنت کے نظریہ کے مطابق جناب رسول خدا (ص) کو امت کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اسی لئے انہوں نے خلیفہ کا انتخاب امت کے افراد کے کاندھوں پہ ڈال دیا تھا اور انہیں اس بات سے قطعا سروکار نہ تھی کہ اس حساس مسئلہ کی وجہ سے امت میں کتنی خون ریز لڑائیاں ہوں گی اور امت کتنے فرقوں میں بٹ جائے گی ۔

ہاں اللہ بھلا کرے شیخین حضرات کا کہ انہوں نے اس مسئلہ کا بروقت ادراک کرلیا تھا اور امت کوممکنہ تباہی سے بچالیا ۔اگر ابو عبیدہ بن جراح یا سالم مولی حذیفہ اتنے ہی لائق وفائق تھے تو حضرت عمر نے سقیفہ مین انہیں خلیفہ کیوں نہ بنالیا تھا ؟ اور ان کا حق تھا کہ انصار سے کہتے کہ تم ابو عبیدہ کی بیعت کرو اور سب

____________________

(۱):- ابن اثیر۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۳۴۔

۱۱۲

سے پہلے میں بھی اس کی بیعت کرتاہوں کیونکہ رسول خدا (ص) نے انہیں اس امت کا امین قرار فرمایا تھا ؟

یا ان کی بجائے سالم مولی حذیفہ کی بیعت کر لیتے اور فرماتے کہ یہ اللہ سے شدید محبت رکھنے والے بزرگ ہیں؟

آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے ابو عبیدہ کو "امین الامت " قرار دیا تھا جب کہ حضرت ابو بکر کے لئے اس قسم کا کوئی لقب موجود نہ تھا تو پھر افضل کو چھوڑ کر مفضول کی بیعت کیوں کی گئی ؟اور اگر سقیفہ میں یہ کار خیر نہ ہوسکا تھا تو حضرت ابو بکر جب حضرت عمر کو نامزد کر رہے تھے تو حضرت عمر کا حق تھا کہ وہ خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کردیتے کہ آپ میری بجائے ابو عبیدہ کو اپنا جانشین مقرر فرمائیں کیونکہ وہ " امین الامت "ہیں ۔

علاوہ ازیں حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اگر سالم زندہ ہوتے تو میں آج انہیں اپنا جانشین بناتا ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے سقیفہ میں ایک حدیث پڑھی تھی اور اسی کی وجہ سے انصار کے لئے خلافت کو شجرہ ممنوعہ قرار دیا تھا ، اس حدیث کے الفاظ یہ تھے :- الائمۃ من قریش" امام قریش سے ہوں گے ۔

تو کیا حضرت سالم کا تعلق بھی قریش سے تھا ؟

اگر نہیں تھا تو حضرت عمر نے ان کی خلافت کیلئے اپنی حسرت کا اظہار کیوں فرمایا تھا ؟

اگر سالم کا تعلق قریش سے نہ تھا تو حضرت عمر کی اس حسرت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کے لئے قریشی ہونا غیر ضروری ہے تو کیا اس صورت دونوں خلفاء کا موقف جداگانہ نہ تھا ؟ اور اگر دونوں کا موقف الگ الگ تھا تو ان میں سے کس کا موقف صحیح تھا اور کس کا موقف غلط تھا ؟۔

۱۱۳

حضرت سالم کے خلیفہ بنانے کی حسرت اس لئے تھی کہ وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے تھے ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استحقاق خلافت صرف اسے حاصل ہے جو اللہ سے شدید محبت رکھتا ہو ۔

آیا حضرت عمر کے ذہن سے اس وقت یہ حدیث محو ہوچکی تھی جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ۔

"لااعطین هذه الرّایة غدا رجلا یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله یفتح الله علی یدیه "

کل میں علم اسے عطا کروں گا جو مرد ہوگا ۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ہوگا اور اللہ اور رسول کا محبوب ہوگا ۔اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا(۱) ۔

اس حدیث میں رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں اور اللہ اور رسول (ص) کے محبوب ہیں ۔حضرت سالم کے متعلق تو صرف یہی حدیث تھی کہ وہ محب خدا ہیں لیکن ان کے محبوب خدا ہونے کی گواہی کسی حدیث میں نہیں ملتی ۔جب سالم صرف محب خدا ہونے کی وجہ سے مستحق خلافت قرار پائے تو علی (ع) جو کہ محب خدا بھی تھے اور محبوب خدا بھی تھے انہیں حضرت عمر نے اپنا خلیفہ نامزد کیوں نہ کیا ؟ بہر نوع حضرت عمر نے ایک شوری تشکیل دی جس میں حضرت علی (ع) ،حضرت عثمان ،سعد ابن اب وقاص اور عبدالرحمان بن عوف اور زبیر بن عوام کے ساتھ طلحہ بن عبیداللہ کو شامل کیا گیا ۔اور ان سے فرمایا میری وفات کے بعد تم تین دن مشورہ کرنا اور اسی دوران صہیب لوگوں کو نماز پڑھا ئیں گے ۔چوتھے دن تمہارا امیر ضرور ہونا

____________________

(۱):-صحیح مسلم ۔جلد دوم ۔ص ۲۲۴

۱۱۴

چاہئیے۔میرا بیٹا عبداللہ بن عمر تمہارے اجلاس میں بطور مشیر شریک ہوگا لیکن اس کا خلافت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔بعد ازاں حضرت عمر نے ابوطلحہ انصاری کو بلا کر فرمایا کہ :- "تم پچاس افراد کا گروہ لے کر افراد شوری کی نگہبانی کرتے رہنا ۔یہاں تک کہ یہ لوگ کسی کو اپنا میر بنالیں ۔"

اس کے بعد مقداد بن اسود کو بلا کر فرمایا کہ :-

"میری تدفین کے بعد تم ان لوگوں کو اکٹھا کرنا یہاں تک کہ وہ اپنا حاکم مقرر کرلیں ۔اگر پانچ افراد ایک رائے پر جمع ہوں اور ایک انکار کررہا ہو تم تم تلوار سے اس کا سر قلم کردینا اور اگرچار ایک رائے ہوں اور دو مخالف ہوں تو دو کے سر قلم کردینا اور اگر ایک طرف بھی تین افراد ہوں اور دوسری طرف بھی تین ہوں تو میرے فرزند عبداللہ بن عمر کو حکم بنالینا ، اور اگر وہ لوگ میرے فرزند کے فیصلے کو قبول نہ کریں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہوں ،تم اسی کی حمایت کرنا اور دوسرے تین افراد کو قتل کردینا ۔

قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس مقام پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جائیں اور سوچیں کہ حضرت عمر نے اپنی وصیت میں فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب میری تدفین کے بعد کیا جائے ۔تو کیا حضرت عمر نے رسول خدا کی وفات کے وقت بھی ایسا ہی کیا تھا ؟

جب کہ اسلامی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ رسول خدا(ص) کا جسد اطہر ابھی گھر میں ہی موجود تھا کہ سقیفہ کی کاروائی شروع ہوگئی ۔

تو جو شخصیت خلیفہ کے انتخاب کو اتنا اہم تصور کرتی تھی کہ رسول خدا کی تدفین پر بھی اسے فوقیت حاصل ہے ۔اپنی باری آنے پر انہیں سقیفائی تعجیل کا حکم کیوں نہ دیا ؟

یہ ایک جملہ معترضہ تھا ۔اب واقعات تاریخ کی جانب آئیں ۔اسکے بعد

۱۱۵

حضرت عمر کی وفات ہوگئی اور صہیب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو مقداد نے اصحاب شوری کو جمع کیا جن میں طلحہ غیر حاضر تھے ۔

شوری کی کاروائی

شوری کی کاروائی شروع ہوئی ۔عبدالرحمن بن عوف نے کہا :- تم میں سے کوئی جو اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کرلے اور اپنے سے بہتر شخص کا انتخاب کرے " عبدالرحمن کی تجویز پر کسی نے بھی لبیک نہ کی ۔انہوں نے خود کہا کہ میں اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کررہا ہوں ۔ حضرت عثمان نے کہا :- "میں تمہارے اس اقدام کو بنظر استحسان دیکھتا ہوں " باقی لوگوں نے کہا کہ ہم بھی عبدالرحمن کے اس کام پر راضی ہیں ۔ اس دوران علی( علیہ السلام )خاموش بیٹھے یہ سب دیکھتے اور سنتے رہے ۔ عبدالرحمن نے حضرت علی (علیہ السلام) سے کہا :- ابو الحسن ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت علی نے فرمایا " پہلے تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم حق کو ترجیح دوگے اور خواہشات کی اتباع نہ کروگے اور امت اسلامیہ کی پوری خیر خواہی کروگے ۔"

"عبد الرحمن بن عوف نے ان باتوں کا حضرت علی (علیہ السلام ) سے وعدہ کر لیا ۔"(۱)

اس طویل بحث ومباحثہ کے بعد ابن عوف نے حضرت علی (علیہ السلام ) کی طرف دیکھ کر کہا کہ :- " میں آپ کی بیعت کرتاہوں اس کے لئے آپ کو اللہ کی کتاب ، رسول خدا (ص) کی سنت اور سیرت شیخین پر عمل کرنا ہوگا ۔

حضرت علی (علیہ السلام ) نے فرمایا :- " میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول (ص) اور اپنے ذاتی اجتہاد پر عمل کروں گا "-

اس کے بعد عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان سے کہا کہ میں آپ کی بیعت کرتاہوں مگر آپ کو اللہ کی کتاب ،سنت رسول (ص) اور سیرت شیخین

____________________

(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۳۵-۳۶

۱۱۶

پر عمل کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا مجھے یہ تینوں شرائط منظور ہیں ۔

عبدالرحمن بن عوف نے تین مرتبہ حضرت علی کے سامنے اپنی شرائط پیش کیں لیکن حضرت علی (علیہ السلام) نے ہر مرتبہ سیرت شیخین ماننے سے انکار کردیا ۔

جب عبدالرحمن کو یقین ہوگیا کہ علی سیرت شیخین کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تو اس نے حضرت عثمان کی بیعت کرلی اورکہا :- السلام علیک یا امیر المومنین "۔

یہ دیکھ کر حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے علم تھا کہ تجھے خلیفہ گر کا کردار اسی لئے سونپا گیا تھا اور تو نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ پر حرف بحرف عمل کیا(۱) ۔

چند سوال

اس مقام پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ

۱:- کیا عبدالرحمن نے اتفاقی طورپر حضرت عثمان کی بیعت کی تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انہوں نے ایسا کیا تھا ؟

۲:-کیا سیرت شیخین کا لاحقہ شامل کرنے کا مقصد حضرت علی کو خلافت سے علیحدہ کرنا تھا یا اس کا کوئی اور مقصد بھی تھا ؟

اس مقام پر ہم شوری پر وارد ہونے والے سوالات سے قبل دو امور کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں :

۱:-مورخ طبری رقم طراز ہیں کہ "جب حضرت عمر زخمی تھے تو انہیں ابو عبیدہ اور سالم کی بے وقت موت کا شدید احساس تھا اور بار بار اس حسرت کا انہوں نے ذکر بھی کیا کہ کاش اگر وہ زندہ ہوتے تو ان میں سے کسی ایک کو خلافت کی مسند پر متمکن کردیتے ۔صحابہ کی ایک جماعت ان کی عیادت کیلئے آئی ،ان میں حضرت

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ۔ص ۵۰-۶۷

۱۱۷

علی (علیہ السلام ) بھی موجود تھے ۔ حضرت عمر نے عیادت کرنے والوں سے کہا :میں چاہتاتھا کہ میں کسی ایسے شخص کو حاکم بنا کر جاؤں جو تم لوگوں کو حق کی راہ پر چلاسکے ۔یہ کہہ کر انہوں نے علی کی طرف اشارہ کیا ۔

پھر مجھے نیند آئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص باغ میں داخل ہوا اور اس مین پودے لگائے اورپودوں پر لگنے والے پھولوں کو اس نے چن چن کر اپنے رکھنا شروع کیا ۔ اس خواب کی تعبیر میں نے یہ لی کہ اللہ عنقریب عمر کو موت دینے والا ہے ۔

اب میں زندہ اور مردہ تمہارا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہوں ؟لہذا اب تم میرے میں اسے خلافت کے امیداواروں میں داخل نہیں کرنا چاہتا ۔ویسے میرا خیال یہ ہے کہ حکومت عثمان یا علی (ع) میں سے کسی ایک کو ملے گی ۔

اگر عثمان حاکم بن گئے تو ان میں نرمی بہت ہے ۔

اور اگر علی (ع) حاکم بن گئے تو ان میں مزاح ہے لیکن وہ لوگوں کو حق پر چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں(۱)

ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے

۲:- ایک اور مورخ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک دفعہ طلحہ ۔زبیر۔ سعد،عبدالرحمن ،عثمان ،اور علی (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا :

زبیر!تو کیا چیز ہے؟ایک دن انسان ہے اور دوسرے دن شیطان ۔

____________________

(۱):-مورخ طبری ۔تاریخ الامم والملوک ۔جلد دوم ۔ص ۳۴-۳۵

۱۱۸

طلحہ ! تو کیا ہے ؟رسول خدا (ص) تیری اس گفتگو کی وجہ سے تجھ سے وقت وفات تک ناراض تھے اور تیری گفتگو کی وجہ سے ہی ازواج محمد(ص)کے ساتھ نکاح کی حرمت والی آیت نازل ہوئی ۔

ایک اور دوسری روایت کے لفظ یہ ہیں۔

طلحہ! کیا تو وہی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا تھا کہ اگر محمد کی وفات ہوگئی تو میں ان کی بیویوں سے شادی کروں گا ۔اللہ نے محمد(ص) کو ہماری چچا زاد لڑکیوں کا ہم سے زیادہ وارث نہین بنایا ۔اور تیری اسی گستاخی کی وجہ سے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی :-ما کان لکم ان توذوا رسول الله ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا " تمہیں رسول خدا کو اذیت نہیں دینی چاہیے اورنہ ہی ان کی بیویوں سے تم کبھی نکاح کرسکتے ہو(۱)

"ہمارے شیخ ابو عثمان جاحظ کہاکرتے تھے کہ کہ کاش اس وقت کوئی شخص حضرت عمر سے کہہ دیتا کہ جب ان ہستیوں کی حقیقت یہ تھی تو پھر آپ نے ان کے متعلق یہ کیوں فرمایا تھا کہ رسول خدا (ص) بوقت وفات ان سے راضی تھے ؟ اور اگر ایسا ہوتا تویقینا حضرت عمر لاجواب ہوجاتے ۔

بعد ازاں سعد ابن ابی وقاص کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ۔تو تو لوٹنے والی جماعت کا امیر ہے ،تو ایک شکاری شخص کے تیر کمان سے کھیلنے والل انسان ہے ۔قبیلہ زہرہ کا خلافت اور عوام کے امور سے کیا تعلق ہے ؟

پھر عبد الرحمن بن عوف کی جانب متوجہ ہوکر کہا :" جس شخص میں تمہاری جتنی کمزوری پائی جائے وہ خلافت کے لئے ناموزوں ہوتا ہے اور پھر "زہرہ" کا خلافت سے تعلق ہی کیا ہے ؟"

پھر علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا :اگر تمہارے اندر مزاح نہ ہوتی

____________________

(۱):- الاحزاب ۔۵۳

۱۱۹

تو خدا کی قسم ! تم ہی خلافت کے حق دار تھے ۔ خدا کی قسم ! اگر حاکم بن گئے تو لوگوں کو واضح اور روشن راہ پر چلاؤگے ۔

پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا : میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ قریش تمہیں حاکم بنالیں گے اور تم کنبہ پرور انسان ہو ۔ تم بنی امیہ اور ابی معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کروگے اور مسلمانوں کا بیت المال ان کے ہی حوالہ کردوگے(۱) ۔"

بزم شوری میں حضرت علی (علیہ السلام)کا احتجاج

اس موقعہ پر حضرت علی(ع) نے ارکان شوری کے سامنے اپنے حق کے اثبات کے لئے طویل احتجاج فرمایا اور ان سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا :- "میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو تمہارے صدق وکذب سے باخبر ہے ۔مجھے بتاؤ کہ

۱:- تمہارے اندر میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بھائی کو اللہ نے جنت میں دو پر دئیے ہیں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کا چچا سیدالشہدا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳:- کیا میرے علاوہ کسی کی زوجہ سیدہ نساء العالمین ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴:- کیا میرے علاوہ کسی کے بیٹوں کو رسول اللہ کا بیٹا اللہ نے قرار دیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

____________________

(۱):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہیج البلاغہ ۔جلد سوم ص ۱۷۰

۱۲۰