المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 14211
ڈاؤنلوڈ: 305

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 14211 / ڈاؤنلوڈ: 305
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

۵:-کیا تم میں سے کسی کے بیٹے جوانان جنت کے سردار ہیں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶:- کیا تم میں مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کے ناسخ وومنسوخ کا عالم ہے ؟

ارکان شوری نے کہا نہیں ۔

۷:- کیا تم میں سے کسی کے لئے آیت تطہیر نازل ہوئی ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۸:- کیا میرے علاوہ کبھی تم نے بھی جبریل امین کو دحیہ کلبی کی صورت میں دیکھا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۹:- کیا میرے علاوہ کسی کے لئے "من کنت مولاه " کا اعلان کیا گیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۰:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسولخدا (ص) ن ےاپنا بھائی بنایا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی خندق کا فاتح ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۲:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو ہارون محمدی کا اعزاز نصیب ہوا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے اللہ نے قرآن کی دس آیات میں "مومن "کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۴:- کیا میرے علاوہ شب ہجرت رسول خدا(ص) کے بستر پر تم میں سے کوئی سویا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۲۱

۱۵:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جنگ احد کے دن اس کے ساتھ فرشتے کھڑے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کی گود میں رسول خدا(ص) کی وفات ہوئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول خدا (ص) کو غسل دیا ہو اور ان کی تجہیز وتکفین کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۸:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے پاس رسول خدا (ص) کا اسلحہ ،علم ،اور انگشتری ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۱۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسولخدا(ص) نے اپنے کندھوں پر سوار کیا ہو اور اس نے بت توڑے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۰:- کیا میرے علاوہ ہاتف غیبی نے کسی کے لئے "لافتی الا علی لا سیف الا ذولفقار " کی ندا کی ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے حضور (ص) کے ساتھ بھنے ہوئے پرندے کا گوشت کھایا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۲:- کیا میرے علاوہ کسی اور کے لئے رسول خدا نے کہا تھا کہ تو دنیا اور

۱۲۲

آخرت میں میرا علمدار ہوگا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۳:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی نے آیت نجوی پر عمل کیا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۴:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا کا "خاصف النعل " ہونے کا شرف حاصل ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۵:- کیا میرے رسول خدا نے کسی اور کے لئے کہا تھا کہ تو مجھے ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے اور میرے بعد سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے سو کجھوروں کے عوض پانی کے سو ڈول نکال کر وہ کجھوریں رسول خدا (ص) کو کھلائی ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے بدر کے دن تین ہزار ملائکہ نے سلام کیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۸:- کیا میرے علاوہ تم کوئی مسلم اول بھی ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۲۹:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندرکوئی ایسا ہے کہ رسول خدا(ص) جس کے گھر سے سب سے آخر میں نکلتے اور سب سے پہلے اس کے گھر جاتے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۰:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق نبی اکرم نے فرمایا ہو "تو ہی میرا پہلا مصدّق ہے اور حوض کوثر پر تو ہی میرے پاس سب سے پہلے آئے گا ؟

۱۲۳

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کے افراد خاندان کو رسول خدا مباہلہ میں لے گئے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۲:-کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس نے حالت رکوع میں زکوۃ دی ہو اور اللہ نے اس کے حق میں "انّما ولیکم الله ورسوله " کی آیت نازل فرمائی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۳:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جسکے متعلق سورۃ دہر نازل ہوئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۴:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جس کے متعلق اللہ نے "اجعلتم سقایة الحاج وعمارة المسجد الحرام کمن آمن بالله والیوم الآخر و جاهد فی سبیل الله لا یستوؤن عند الله " کی آیت نازل کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۵:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے ایسے ایک ہزار کلمات تعلیم کئے ہوں کہ ان میں سے ہر کلمہ ایک ہزار کلمات کی چابی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ رسولخدا (ص) نے سرگوشی کی ہو اور معترضین کویہ کہہ کر خاموش کیا ہو کہ "میں نے اس سے سرگوشی نہیں بلکہ اللہ نے کی ہے "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے پیغمبر نے فرمایا وہ"انت و شیعتک الفائزون یوم القیامة

۱۲۴

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۸:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو۔"وہ جھوٹا ہے جو گمان کرے کہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور علی سے بغض رکھتا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۳۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے؟ جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو " جو میرے ٹکڑوں سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی ۔ آپ سے دریافت کیا کہ آپ کے ٹکڑے کون ہیں ؟تو فرمایا :- وہ علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین (علیھم السلام) ہیں ۔

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۰:- کیا میرے تم میں کوئی ایسا ہے جسے نبی اکرم نے فرمایا ہو "انت خیر البشر بعد النبیّین ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کو‏ئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے حق وباطل کا میزان قرار دیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا (ص) نے چادر تطہیر میں داخل کیا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جو غار ثور مین رسالت مآب کے لئے کھانا لے کر جاتا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۴:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو

۱۲۵

"انت اخی و وزیری وصاحبی من اهلی

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۵:-کیا تم میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو "انت اقدمهم سلما و افضلهم علما واکثرهم حلما

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۶:- کیا تم میں سے میرے علاوہ کسی نے مرحب یہودی کو قتل کیا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے خیبر کے ایسے وزنی دروازے کو جسے چالیس انسان مل کر حرکت دیتے تھے ۔اکھاڑا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۸:-کیا میرے علاوہ کسی کے سب وشتم کو سول خدا نے اپنی ذات پر سب وشتم قرار دیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۴۹:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کی منزل جنت کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو کہ تمہاری منزل میری منزل کے متصل ہوگی ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۰:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول کریم (ص) کا فرمان ہو کہ تو بروز قیامت عرش کے داہنی جانب ہوگا اور اللہ تجھے دو کپڑے پہنائے گا ایک سبز ہوگا اور دوسرا گلابی ہوگا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۱:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے تمام لوگوں سے سات برس قبل نماز پڑھی ہو‏؟

۱۲۶

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی محبت کو رسول خدا نے اپنی محبت اور جس کی عداوت کو اپنی عداوت قرار دیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی ولایت کی تبلیغ اللہ نے اپنے رسول پر فرض کی ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۴:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے "یعسوب المومنین "کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۵:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے "لابعثنّ الیکم رجلا امتحن الله قلبه للایمان " کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۶:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے جنت کا انا ر کھلایا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے رسول خدا نے فرمایا ہو " میں نے اپنے رب سے جو طلب کیا اس نے مجھے عطا کیا اور میں نے جو کچھ اپنے لئے طلب کیا وہی کچھ تیرے لئے طلب کیا ؟"

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۸:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ "تو امر خداوندی پر قائم رہنے والا اور عہد خداوندی کو نبھانے والا اور تقسیم میں مساوات کا خیال رکھنے والا اور اللہ کی نظر میں زیادہ رتبہ والا ہے ؟"

۱۲۷

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۵۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ " اس امت میں مجھے وہی برتری حاصل ہےجوسورج کی چاند پر اور چاند کی دوسرے ستاروں پر ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۰:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے دوست کو جنت اور دشمن کو دوزخ کی بشارت دی گئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۱:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو"لوگ مختلف درختوں سے ہیں اور میں اور تو ایک ہی درخت سے ہیں "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۲:- کیا تم میں سے کسی کو رسول خدا(ص) نے "سید العرب "فرمایا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۳:- کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کا جبرئیل مہمان ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۴:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے سورۃ براءت کی تبلیغ کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

۶۵:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی جنت اور دوزخ کے بانٹنے والا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

اس کے بعد آپ نے ارکان شوری سے فرمایا جب تم میرے یہ فضائل جانتے ہو تو حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی نہ کرو ۔لیکن عبد الرحمن بن عوف اور اس کے ساتھیوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو خلافت سے محروم کردیا (الاحتجاج ۔من المترجم عفی عنہ )

۱۲۸

مجلس شوری کا تجزیہ

شوری اور شوری ممبران کے متعلق آپ نے حضرت عمر کے نظریات ملاحظہ فرمائے ۔انہون نےممبران کے متعلق اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار فرمایا ۔حضرت عمر نے محدود شوری تشکیل دی تھی جب کہ اس حساس مسئلہ کے لئے وسیع البنیاد شوری کی ضرورت تھی ۔

۱:- حضرت عمر نے شوری کو مشروط بنادیا تھا ، انہیں آزادی فکر کی اجازت نہیں دی گئی ۔

۲:- شوری کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے باندھ دئیے گئے کہ محافظ کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ ان میں سے جو بھی اکثریتی رائے سے اختلاف کرے ،اسے بلا تامل موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔

۳:- اگر دونوں طرف سے ممبران کی تعداد برابر ہو تو پھر عبدالرحمن بن عوف کی پارٹی کو ترجیح دی جائے آخر عبدالرحمن ابن عوف کی رائے کو ہی آخری اور حتمی رائے قراردینے کی کیا ضرورت تھی ؟

۴:-کیا عبد الرحمن بن عوف کی رائے کو اس لئے تو فیصلہ کن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے دس برس پہلے حضرت ابوبکر کے استفسار پرحضرت عمر کی حمایت کی تھی ؟

۵:- کیا قرآن وسنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ جو عبدالرحمن بن عوف کی رائے کی مخالفت کرے وہ واجب القتل ہے ؟

۶:- ایک مومن کے قتل کی سزا تو اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے "ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فیها وغضب الله علیه ولعنه واعدله عذابا عظیما " جو کوئی جان بوجھ کر مومن قتل کرے ان کی جزا جہنم ہے وہ اس

۱۲۹

میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے "۔

جب کہ ایک عام مومن کے قتل کی یہ سزا یہے تو اصحاب رسول اور وہ بھی حضرت کے بقول جن سے رسول خدا راضی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، ان کے قتل کی سزا کیا ہوگی ؟

۷:- برادران اہل سنت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : میرے بعد صحابی ستاروں ک طرح ہیں ۔تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔

توکیا مذکورہ حدیث حضرت عمر کے پیش نظر نہ تھی کہ ان ستاروں کا اختلاف امت اسلامیہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ آخر انہوں نے اختلافی ستاروں کو قتل کرنے کا فرمان صادر کیوں فرمایا ؟

۸:-کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کو قتل کرنا درست سمجھا جاتا ہے ؟

۹:- کیا عبدالرحمن بن عوف کی شخصیت حق وباطل کا معیار تھی کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جائے ؟

۱۰ :- حضرت عمر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس نظریہ کے قائل رہے تھے کہ خلیفہ مقرر نہ کرنا سنت رسول ہے اور حضرت ابو بکر کی سنت ہے ۔تو آخر وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے حضرت عمر نے رسول خدا(ص) کی سنت کو چھوڑ کر سنت ابو بکر کی پیروی کی؟

۱۱:-قرآن مجید میں رسول خدا کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے راستے سے انحراف کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔اس کے باوجود وہ علل واسباب کیا تھے جن کی بنا پر اتباع رسول کو چھوڑنا پڑا ۔؟

۱۲:- خلافت کو صرف چھ افراد میں منحصر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور ان

۱۳۰

کے علاوہ پوری امت اسلامیہ میں کوئی جوہر قابل نہیں تھا ؟

۱۳:- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ ان سے رسول خدا (ص) راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ،تو ہمیں اس جواب کے تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کیونکہ شوری ممبران میں سے طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق خود حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ :

تمہاری اس غلط گفتگو کی وجہ سے رسول خدا (ص) مرتے دم تک تجھ سے ناراض تھے ۔ جب ایسے فرد بھی شوری میں شامل تھے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ ان افراد کی تعیین رضائے رسول کی وجہ سے عمل میں آئی تھی ؟

۱۴:- اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان افراد سے رسول خدا (ص) راضی تھے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے علاوہ حضور کریم باقی تمام صحابہ اور امت اسلامیہ سے ناراض تھے ؟

۱۵:- اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ کیا قرارپائے گی کہ رسول خدا تو ہزاروں افراد سے راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوں اور خلافت کو صرف چھ افراد میں محدود کیا جائے ؟

۱۶:-سعید بن عمرو بن نفیل کے متعلق حضرت عمر نے خود اعتراف کیا کہ ان میں شوری کی شمولیت کی جملہ صفات موجود نہیں ہیں ۔اس کے باوجود انہیں شوری کا ممبر کیوں نہ بننے دیا گیا ؟

۱۷:- حضرت علی کے متعلق خلیفہ ثانی نے جو تبصرہ کیا کہ ان میں مزاح زیادہ ہے ۔تو کیا حضرت عمر کے علاوہ بھی کسی نے حضر ت علی کے متعلق یہ رائے دی تھی ؟

۱۸:- کیا حضرت علی کی زندگی کا مطالعہ صرف حضرت عمر کو ہی نصیب ہوا تھا ۔ان کے علاوہ حضرت علی کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل تھی ؟

اگر ان کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل نہ تھی تو باقی دنیا کو علی میں مزاح

۱۳۱

کا عیب آخر کیوں نظر نہ آیا ؟

اس کے لئے ابن عباس کا یہ قول بھی ہمیشہ مدنظر چاہئیے کہ حضرت علی (ع) اتنے بارعب تھے کہ ہم ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے گفتگو کا آغاز کرنے سے گھبرایا کرتے تھے ۔

۱۹:-شوری کے لئے جن افراد کو چنا گیا ، کیا ان سب کی اسلامی خدمات یکساں تھیں یا ان میں کچھ فرق بھی تھا؟اوراگر فرق اور یقینا تھا تو پھر حضرت عمر نے ان سب کو ایک ہی صف میں کیوں لا کھڑا کیا ؟۔

۲۰:- کیا شوری ممبران کے ایک دوسرے سے خاندانی اور عائلی روابط تو نہ تھے ؟

۲۱:- اگر ان کے درمیان عائلی روابط موجود تھے تو کیا وہ قرابت داری کی وجہ سے کسی کی ناجائز حمایت بھی کرسکتے تھے یا نہیں ؟

۲۲:-کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ طلحہ کا تعلق حضرت ابو بکر کے خاندان بنی تمیم سے تھا اور اس خاندان کی علی سے تعلقات کی نوعیت پیچ پیچ تھی ؟

۲۳:- سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور بنی زہرہ کے یہ دونوں چشم وچراغ بنی امیہ سے قریبی رشتہ داری رکھتے تھے ۔سعد بن ابی وقاص کی ماں حمنہ بنت سفیان تھی اور وہ حضرت عثمان کی بہن تھیں اور کیا اس نازک مرحلہ پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ عبدالرحمن اپنی بیوی کے بھائی کو چھوڑ کر کسی اور کی حمایت کریں گے؟

۲۴:- حضرت علی کے متعلق حضرت عمر کے ریمارکس کو اگر درست بھی

۱۳۲

تسلیم کرلیا جائے تو کیا حس مزاح کی وجہ سے کسی کو حق سے محروم ٹھہرانا درست ہے ؟

۲۵:- مورخ طبری کی روایت آپ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر نے خود کہا تھا کہ علی لوگوں کو حق پرچلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ بات درست تھی اور یقینا درست بھی ہے تو پھر وہ کونسے عوامل تھے جس کی بنیاد پر علی (ع) کے انتخاب کو مشکوک بنایا گیا؟ علاوہ ازیں شوری کے اجلاس میں جو "پھرتیاں " دکھائی گئیں وہ بھی قابل توجہ ہیں ۔

۲۶:-عبد الرحمن بن عوف نے بڑی چالاکی دکھائی اور اپنے آپ کو خلافت کی امیدواری سے دستبراری کرلیا تا کہ لوگ ان کی غیر جانبداری پر کوئی تنقید نہ کرسکیں ۔

تو اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی دست برادری ایک اتفاقیہ امر تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کی ایک کڑی تھی ؟

۲۷:- عبدالرحمن نے اپنی دست برداری کے بعد اپنے قریبی عزیز کو منتخب نہیں کیا تھا ؟

۲۸:-کیا حضرت عثمان کے انتخاب میں اقرباء پروری کا جذبہ تو کار فرما نہ تھا ؟

۲۹:- عبد الرحمن بن عوف نے خلافت کیلئے تین شرائط عائد کی تھیں (۱)اللہ کی کتاب(۲)سنت رسول (۳)سیرت شیخین ۔ان شرائط میں کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کی موجودگی کے باوجود"سیرت شیخین" کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟

۳۰:- سیرت شیخین اگر قرآن وسنت کی تعبیر وتفسیر ہے تو شرائط میں کتاب وسنت کی شرط تو پہلے سے موجود تھی ۔ اس کے باوجود اس شرط کو الگ کیوں رکھا گیا ؟

۳۱:- اور اگر سیرت شیخین قرآن وسنت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی تو خلافت کے لئے اسے ایک شرط کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ؟

۳۲:- کتب تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے مواقع نظر آتے ہیں جہاں حضرت

۱۳۳

ابو بکر کا موقف کچھ تھا اور حضرت عمر کا موقف کچھ اور تھا تو اب ان کے بعد میں آنے والا خلیفہ اگر سیرت شيخین کو قبول بھی کرلیتا تو جس مسئلہ میں خود شیخین کا باہمی اختلاف تھا۔ اس مسئلہ میں وہ کسی کی سیرت کو ترجیح دیتا اور کس کی سیرت سے انحراف کرتا؟ تاریخ وحدیث میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں حضرت عمر کا طرز عمل سیرت نبوی سے مختلف تھا۔

حضرت عمر کے بعض اجتہادات

۱:- جناب رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر اپنے اپنے دور میں تمام مسلمانوں کو یکساں طورپر عطیات وروزینے دیا کرتے تھے اور حضرت ابو بکر نے سابقین اولین کو بھی زیادہ روزینہ انکار کردیا تھا۔ لیکن حضرت عمر نے اس مسئلہ میں ان دونوں کی مخالفت کی اور اپنے زمانہ خلافت میں یکساں وظیفہ دینے کے طریقے کو ختم کردیا اور کسی کا وظیفہ کم اور کسی کا زیادہ مقررکیا(۱)

حضرت عمر ایک عجیب نفسیات رکھتے تھے" کبھی سلام پہ ناراض اور کبھی دشنام پہ خوش " تو ان کے کردار کو خلافت کے لئے شرط قرار دینا کسی طرح سے بھی قرین دانش نہیں تھا ۔حضرت عمر کی اس سیمانی فطرت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ۔

۱:- ایک شخص ان کے پاس آیا اور فریاد کی ہے کہ : فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے آپ مجھے انصاف فراہم کریں ۔

حضرت عمر نے اپنا درہ فضا میں بلند کیا اور فریادی کے سر پر دے مارا اور کہا جب عمر نکما ہوتا ہے تو تم اس وقت نہیں آتے اور جب عمر امور مسلمین میں مصروف ہوتا ہے تو تم فریاد یں لے کر اس کے پاس آجاتے ہو۔

____________________

(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ۔ص ۹-۱۰

۱۳۴

فریادی بے چارہ آہ زاری کرتا ہوا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کہ اس فریادی کو دوبارہ لایا جائے اور جب وہ آیا تو درہ اٹھا کر اس ہاتھوں میں دیا اور کہا اب تم مجھ سے قصاص لے لو ۔

فریادی نے کہا میں نے اللہ اور تمہاری خاطر تمہیں معاف کیا ہے ۔

حضرت عمر نے کہا کہ : تم یا اللہ کے لئے معاف کردیا صرف مجھے میری خاطر معاف کرو ۔فریادی نے کہا تو پھر میں اللہ کے لئے تمہیں معاف کرتا ہوں ۔

اس کے بعد فریادی سے کہا کہ اب تم واپس چلے جاؤ(۱)

"عدل فاروقی " سیمابی کیفیت کا حامل تھا جہاں فریادی کو انصاف کی جگہ بعض اوقات کوڑے کھانا پڑتے تھے ۔

۲:- حضرت عمر نے نعمان بن عدی بن نفیلہ کو علاقہ "میسان" کا عامل مقرر کیا کچھ دنوں بعد حضرت عمر کو کسی نے نعمان کی ایک نظم سنائی ۔ جس میں رنگ تغزل وتشبیب نمایاں تھا۔ حضرت عمر نے انہیں لکھا کہ میں نے تجھے تیرے عہدہ سے معزول کردیا ہے ۔لہذا تم واپس آجاؤ ۔

جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے کبھی نہ تو شراب پی ہے اور نہ ہی کبھی عورتوں سے عشق لڑایا ہے ۔ یہ تو صرف شاعر انہ رنگ تھا جس کا اظہار میرے اشعار سے ہوا ہے ۔

حضرت عمر نے کہا درست ہے لیکن تم آج سے میری حکومت کے لئے کوئی کا م سرانجام نہیں دوگے ۔

۳:- ایک قریشی کو حضرت عمر نے عامل بنایا ۔اسکا ایک شعر حضرت عمر کو سنا یا گیا

اسقنی شربة تروی عظامی واسق بالله مثلها ابن هشام

مجھے ایک گھونٹ پلا جس سے میری ہڈیاں سیراب ہوں اور اس جیسا

____________________

(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ۔ص ۲۰۰۔

۱۳۵

ایک پیالہ ابن ہشام کو بھی پلا ۔

شعر سن کر حضرت عمر نے بلا یا ۔شاعر صاحب بڑے کایاں تھے جب آئے تو حضرت عمر پوچھا ۔مذکورہ شعرتم نے کہاتھا؟

اس نے کہا جی ہاں !کیا اس کے ساتھ والا دوسرا شعر آپ نے نہیں سنا ؟

کہا نہیں ۔ شاعر نے کہاکہ اس کا دوسرا شعر یہ ہے ۔

عسلا باردا بمآء غمام اننی لااحب شرب المدام

بارش کے ٹھنڈے پانی میں شہد ملا کر مجھے پلا ۔میں شراب پینے کو پسند نہیں کرتا ۔

اس کی اس حاضر جوابی کو سن کر حضرت عمر بڑے محفوظ ہوئے اور کہا تم اپنے فرائض بدستور سرانجام دیتے رہو۔

۴:- حضرت عمر نے ایک عامل سے قرآن واحکام کے متعلق سوالات کئے تو اس نے تسلی بخش جواب دئیے تو اسے کہا تم اپنا کام سرانجام دیتے رہو ۔جاتے ہوئے وہ واپس آیا اور رات میں نے ایک خواب دیکھاہے کہ آپ اس کی تعبیر بتائیں ۔حضرت عمر نے کہا خواب بیان کرو ۔اس نے کہا ۔رات میں نے سورج اور چاند کو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا اور ہر ایک کے پاس لشکر بھی تھا ۔ حضرت عمر نے پوچھا تم کس لشکرمیں تھے ؟ اس نے کہا کہ میں چاند کے لشکر میں شامل تھا ۔

حضرت عمر نے کہا۔ میں نے تجھے معزول کردیا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "وجعلنا اللیل والنهار ایتین فمحونا آیة اللیل وجعلنا آیة النها ر مبصرة " ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ۔ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا(۱)

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۹۸ ۔بنی اسرائیل ۱۲

۱۳۶

۵:- مقام حدیبیہ پر رسول خدا اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ :مکہ کا جو فردمسلمانوں کے پاس جائے گا مسلمان اسے واپس کریں گے مسلمانوں کا کوئی شخص اگر مکہ والوں کے پاس پناہ لےگا تو واپس نہ کیا جائے گا ۔

اس شرط کو دیکھ کر حضرت عمر بہت ناراض ہوئے اور حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان کے سامنے احتجاج کیا پھر رسول خدا کے پاس آکر بیٹھے اور کہا ۔آپ ہمیں دین میں کیوں رسوا کرنا چاہتے ہیں ؟

رسول خدا (ص) نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرونگا ۔

حضرت عمر ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا خدا کی قسم !اگر آج میرے پاس مددگار ہوتے تو میں رسوائی کبھی برداشت نہ کرتا(۱)

حضرت عمر ایک رات عبدالرحمن بن عوف کو ساتھ لے کر شہر میں چل رہے تھے انہوں نے چند افراد کو شراب پیتے ہوئے دیکھ لیا ۔ عبدالرحمن سے کہا میں انہیں پہچان چکا ہوں ۔جب صبح ہوئی تو ان لوگوں کو بلا کر کہا ۔رات تم شراب نوشی کیوں کر رہے تھے ؟

ان میں سے ایک شخص نے کہا :- آپ کو کس نے بتایا ؟

حضرت عمر نے کہا:- رات میں نے تمہیں اپنی آنکھوں سے مے نوشی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اس شخص نے کہا ۔ کیا اللہ نے آپ کو تجسس سے قرآن میں منع نہیں کیا ؟حضرت عمر نے اسے معاف کردیا ۔

____________________

(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ص ۳۰

۱۳۷

سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف

اس سے قبل ہم تقسیم غنائم اور صلح حدیبیہ کے متن میں حضرت عمر کے اختلاف کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ علاوہ ازیں مزید اختلافات بطور "مشتے از خردارے" نقل کرتے ہیں ۔سیرت کے اختلاف کی یہ چند مثالیں ہیں ورنہ :-

سفینہ چاہیئے اس بحر بے کراں کے لئے

۱:- فتح خیبر کے بعد رسول خدا (ص) نے یہود خیبر سے معاہدہ کیا تھا کہ خیبر کے باغات کی نگرانی کریں گے اور بٹائی میں انہیں آدھا حصہ دیاجائے گا ۔رسول خدا (ص) کی زندگی میں یہی ہوتا رہا ۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں بھی اسی معاہدہ پر عمل ہوتا رہا ۔حضرت عمر نے ان سے زمین وباغات واپس لے لئے اور انہیں جلاوطن کردیا ۔

۲:- رسول خدا نے وادی القری کو فتح کیا اور وہاں کے یہود سے بھی خیبر کے یہودیوں جیسا معاہدہ فرمایا ۔

حضرت عمر نے اپنے دور اقتدار میں انہیں جلاوطن کر کے شام بھیج دیا اور ان سے تمام زمین چھین لی(۱) ۔

سیرت شیخین کا باہمی تضاد

گزشتہ اوراق میں ہم کچھ اختلا فات کا تذکرہ کرچکے ہیں اور ان صفحات میں بطور نمونہ چند مزید اختلاف نقل کرتے ہیں اور صاحبان علم سے دریافت کرتے ہیں کہ جب ان دونوں بزرگوں کی سیرت ایک دوسرے سے ہی نہیں ملتی تھی تو سیرت شیخین کی اصطلاح وضع کیوں کی گئی اور اسے حصول خلافت کیلئے شرط کیوں قراردیا گیا ۔

____________________

(۱):- البلاذری ۔فتوح البلدان ۔ص ۳۶۔

۱۳۸

۱:- عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے عرض کی ! اے خلیفۃ الرسول ! ہمارے پاس بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی زراعت وغیرہ نہیں ہوتی ۔اگر آپ وہ زمین ہمیں عنایت کردیں تو ہم وہاں محنت کریں گے ممکن ہے کسی دن وہ ہمیں فائدہ بھی دے جائے ۔

حضرت ابو بکر نے ان کی درخواست سن کر حاضرین سے مشورہ لیا ۔

حاضرین نے زمین دینے کی حامی بھری ۔پھر حضرت ابوبکر نے انہیں اس زمین کی ملکیت تحریر کردی اور گواہوں نے بھی دستخط کردئیے ۔لیکن اس وقت حضرت عمر موجود نہ تھے ۔ راستے میں حضرت عمر کی ان سے ملاقات ہوگئی اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ زمین کی ملکیت کا گوشوارہ ہے حضرت عمر نے ان سے مذکورہ تحریر لے کر اسے پھاڑ ڈالا اور انہیں کہا : رسول خدا (ص) جس زمانے میں تمہاری تالیف قلب کیا کرتے تھے وہ اسلام کی ذلت کے دن تھے اور آج الحمدللہ اسلام ترقی کرچکا ہے ۔ہمیں تمہاری تالیف قلب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

یہ سن کر وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور حضرت عمر کے سلوک کا شکوہ کیا ۔اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے اور بڑے ناراض لہجہ میں حضرت ابو بکر سے پو چھا : آپ نے ان دونوں کو جو زمین دی ہے کیا وہ آپ کی ذاتی جاگیر ہے یا تمام مسلمانوں کی ہے ؟

حضرت ابو بکر نے کہا: یہ تمام مسلمانوں کی جاگیر ہے ۔پھر حضرت عمر نے کہا آپ نے جماعت مسلمین کے مشورہ کے بغیر انہیں زمین کیوں دے دی ؟

حضرت ابو بکر نے کہا میں نے ان حاضرین سے مشورہ کیا تھا اور ان کے مشورہ اور اجازت سے ہی میں نے ان کو زمین دی تھی ۔

حضرت عمر نے کہا: کیا مسلمانوں کا ہر فرد صحیح مشورہ دینے کا اہل ہوتا ہے ؟؟(۱)

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۱۰۸ طبع اول

۱۳۹

۲:- حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی سیرت کے اختلاف کو مالک بن نویرہ کے واقعہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

مالک بن نویرہ کا واقعہ

یہ تاریخ اسلام کا ایک افسوس ناک واقعہ ہے ۔اس واقعہ میں خالد بن ولید نے اجتماعی اور دینی لحاظ سے بہت غلطیاں کیں ۔

۱:- خلیفہ کی اجازت کے بغیر خالد نے مالک بن نویرہ پر لشکر کشی کی۔

۲:- دینی اعتبار سے مالک پر لشکر کشی ناجائز تھی ۔

۳:- خالد نے مالک کے قتل کرنے کا جن الفاظ میں حکم دیا اسے "غدر "سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب ہے ۔جس کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے ۔

۴:- ابھی مالک کی لاش بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ خالد نے مالک کی بیوی سے نکاح کرلیا ۔قانون عفت ،انسانی وجدان اور اسلامی شریعت اس نکاح کی اجازت نہیں دیتے مگر ان تمام جرائم کو حضرت ابو بکر نے معاف کردیا ۔جب کہ حضرت عمر نے خالد کی اس حرکت کوناپسند کیا اور جب خلیفہ مقرر ہوئے تو خالد کو معزول کردیا ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :

ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ "جب خالد فزارہ ، اسد اور بنی طے کی لڑائی سے فارغ ہوا تو اس نے "بطاح" کا رخ کیا ۔اس وادی میں مالک بن نویرہ اور اس کی قوم رہائش پزیر تھی ۔ خالد کے کچھ ساتھیوں نے اس کا ساتھ دینے سے معذرت کی اور کہا کہ ہمیں خلیفہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ۔خلیفہ نے ہمیں کہا تھا کہ جب ہم "بزاحہ" سے فارغ ہوجائیں تو خلیفہ کے حکم ثانی کا انتظار کریں ۔خالد نےکہا : میں تمھارا سالار ہوں ۔ مالک بن نویرہ میرے پنجے میں پھنس چکا ہے اگر تم میرے ساتھ نہیں چلتے تو مت چلو میں اپنے ساتھ مہاجرین کا دستہ لے کرچلا جاؤں گا ۔"

۱۴۰