المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 17090
ڈاؤنلوڈ: 384

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 17090 / ڈاؤنلوڈ: 384
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المیہ جمعرات

تالیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیجانی سماوی (تیونس)

مترجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقصود احمد انصاری

ای بک کمپوزنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظی

نیٹ ورک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبکہ امامین حسنین علیھما السلام

۳

اعوذ بالله من الشیطان الرجیم

بسم الله الرحمان الرحیم

الحمد الله رب العالمین

والصلواة والسلام والتحیة و الاکرام علی سید الاونبیاء والمرسلین

واهل بیته الطیبین الطاهرین المعصومین

الذین اذهب الله عنهم الرجس وطهر هم تطهیرا

وغضب الله علی اعدائهم الی یوم الدین

٭٭٭٭٭

۴

مقدّمہ مؤلف

قارئین کرام !

ہر دور میں مسئلہ امامت وخلافت کے متعلق اہل علم نے کتابیں تصنیف کیں اور مقالات لکھے اور یہ مقالات سال کے چار موسموں کی طرح یکے بعد دیگرے لکھے جاتے رہے ۔

شہرستانی نے " الملل والنحل" میں بالکل بجا لکھا ہے کہ امت اسلامیہ میں مسئلہ خلافت پر جس قدر نزاع ہوا ہے اتنا نزاع کسی دوسرے مسئلہ پر دیکھنے میں نہیں آیا ۔

میں نے اپنی سابقہ کتابوں میں ان عوامل پر کافی بحث کی ہے جو مسلمانوں کی بد نصیبی اور زوال کا سبب بنے اور بحمد اللہ میری کتابوں کو قارئین کرام کے ایک طبقہ میں کافی نصیب ہوئی ۔اس پزیرائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ میں خود زندگی کے ایک طویل عرصہ تک اندھی تقلید میں مبتلا رہا پھر اللہ تعالی نے مجھ پر خاص کرم کیا اور اس اندھی تقلید کے حلقہ سے مجھے باہر نکالا اور حقیقت کی معرفت عطا فرمائی اور ادراک حق میں مانع پردوں اور حجابات کو میری نگاہوں سے دور کردیا ۔

اس نعمت غیر مترقبہ کے شکرانے کا تقاضا بنتا تھا کہ میں حق کا دفاع کروں ۔اور اپنے قلم ،زبان ،اور ہاتھ کی تمام توانائیوں کو کام میں لا کر حق کی نصرت کروں ۔

۵

الغرض یہ کتاب اسی شکرانہ نعمت کے طور پر لکھی گئی ہے ۔اور آپ نے اس کتاب کا ایک طویل عرصہ تک انتظار کیا ۔جس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو بہت سے افراد مجھ پر خفا بھی ہوئے ۔جب کہ حق پرست احباب نے میری حوصلہ افزائی بھی فرمائی ۔ ناراض اذہان نے مجھ پر بعض غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگانے سے گریز نہیں کیا ۔اور حوصلہ شکن حالات کے باوجود میں بلا خوف لومتہ الائمہ کتاب لکھنے میں مصروف رہا اور اسے کے ساتھ میں نے دل ودماغ میں یہ فیصلہ کیا کہ دنیا کے ہر الزام کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن ضمیر اور حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔

موجودہ کتاب "المیہ جمعرات " اس درد کی داستان ہے جسے سینکڑوں بر س بیت چکے ہیں ۔لیکن امت اسلامیہ کے وجود میں آج بھی اس درد کی ٹیسیں محسوس ہو رہی ہیں اور جب تک سلسلہ روز شب باقی ہے اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ۔

آپ اس ہولناک منظر کو ذہن میں لائیں ۔یہ وہ وقت تھا جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی کا چراغ بجھنے والا تھا ۔ رسول خدا نے اسامہ بن زید کی لشکر مقرر کیا ۔خلفائے ثلاثہ اور دیگر اکابر صحابہ کو اس لشکر میں جانے کا حکم صادر فرمایا ۔لیکن خلفائے ثلاثہ نے لشکر کی روانگی میں جان بوجھ کر تاخیر کرائی اور یہ کہہ کر لشکر کو جانے سے روکتے رہے کہ "حضور اکرم کی طبیعت ناساز ہے ۔اور ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے ام المومنین عائشہ انہیں لمحہ لمحہ کی خبر دے رہی تھیں ۔

ام المومنین اپنے والد محترم کو اس لئے خبریں فراہم کر رہی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے والد مدینہ آکر مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔اور پھر ان کی "امامت الصلواۃ"کو بنیاد بنا کر انہیں خلافت رسول کا حقدار ثابت کیا جائے ۔

جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت تکلیف میں تھے ۔انھوں نے

۶

جب لوگوں کا شور غوغا سنا تو پوچھا کہ معاملہ کیا ہے ؟اس وقت آپ کو بتایا گیا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں ۔

جب آپ نے یہ الفاظ سنے تو اپنا تمام جسمانی درد بھول گئے اور حکم دیا کہ انہیں سہارا دے کر مسجد میں لے جائیں ۔ارشاد نبوی سن کر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو سہارا دیا ۔ آپ ان کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد میں آئے اور آتے ہی حضرت ابو بکر کو مصلائے امامت سے پیچھے ہٹا دیا اور خود مسلمانوں کو نماز پڑھائی ۔

جناب رسول خدا نے خود جماعت کراکے مزعومہ خلافت وفضیلت کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر رکھ دیں اور اس گروہ کو اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ امامت نماز کا بہانہ کر کے خلافت کا دعوی کر سکے ۔حضرت سید الانبیاء نے لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والوں پر کھلے لفظوں مین اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا بلکہ نفرین فرمائی ۔انہی دنوں مدینہ طیبہ میں ایک سانحہ پیش آیا :

حمعرات کا دن تھا ۔جناب رسول خدا (ص) بیماری کی وجہ سے بے تاب تھے اور لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والے افراد حضور کریم کے بیت الشرف میں بظاہر عیادت کرنے آئے ہوئے تھے اور اس گروہ میں حضرت عمر بن خطاب نمایا ں تھے ۔ حضور اکرم نے حاضرین سے کاغذ اور قلم طلب فرمایا تاکہ امت کو ہمیشہ کی گمراہی سے بچایا جاسکے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابدا ولن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض"

"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں : اللہ کی کتاب او راپنی عترت اہل بیت ۔تم جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے ۔میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ۔یہاں تک کہ

۷

میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ۔"

حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو ٹھکرا کر کہا "حسبنا کتاب اللہ " ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے " اور یہ کہ محمد(ص) اس وقت ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ با اللہ )

حضرت عمر کے الفاظ سے آنحضرت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا "قوموا عنی " میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ جب حضور اکرم کی زندگی میں ہی آپ کے فرمان کو لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا تو آپ کے بعد آپ کے فرامین پر کیا عمل ہوا ہوگا ؟

حضرت عمر کے جواب کو کسی طرح سے بھی حسن نیت یا اجتہاد پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔

اس درد نکا واقعہ کی تفصیل اور علمائے اہل سنت کی جانب سے جو جوابات دیئے گئے ہیں اور وہ جواب جتنے کمزور ہیں ، اس کے لئے ہم اپنے قارئین کے سامنے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین اعلی اللہ مقامہ کی کتاب "النص و الاجتھاد"اور "المراجعات" سے اقتباسات پیش کرتے ہیں ۔

۸

حدیث قرطاس:-

اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصحاب صحاح اور اصحاب مسانید اور اہل سیر و تاریخ رقم طراز ہیں ۔

ہم بحث کی ابتدا امام بخاری سے کرتے ہیں :

اما م بخاری اپنی اسناد س عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقت آخر تھا اور اس وقت گھر میں بہت سے افراد جمع تھے جن میں عمربن خطاب بھی موجود تھے ۔

۹

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو گے "۔

حضرت عمر نے کہا نبی پر درد کا غلبہ ہے ۔تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔اس پر گھر میں بیٹھے ہوئے افراد تکرار کرنے لگے ۔کچھ کہتے تھے کہ قلم دوات لاؤ تاکہ حضور تمہیں وہ چیز لکھ دیں تمہیں گمراہی سے بچا سکے اور کچھ وہی کچھ کہتے تھے جو عمر نے کہا تھا ۔

جب حضور اکرم کے پاس شوروغوغا زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا :" میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ"۔

عبد اللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ : سب سے بڑا المیہ اور سانحہ یہی ہوا کہ لوگوں نے اپنے اختلاف اور شور وغوغا کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو نوشتہ لکھنے سے روکر دیا ۔ اسی حدیث کو امام مسلم نیشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں " کتاب الوصیۃ" کے آخر میں درج کیا ہے ۔

اسی روایت کو امام احمد بن حنبل نے ابن عباس کی زبانی نقل کیا ہے ۔

اور اکثر محدثین نے "ان النبی لیھجر" کے الفاظ میں بے ادبی اور گستاخی کی جھلک دیکھ کر اس میں تصرّف معنوی سے کام لیتے ہوئے " ان النبی قد غلب علیہ الوجع " یعنی (حضور ص پر درد کا غلبہ ہے ) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کے فرمان کو لفظ "ہذیان" سے تعبیر کیا تھا ۔ لیکن بعد میں آنے والے محدثین نے اس لفظ کی کراہت کو کم کرنے کے لئے دوسرے الفاظ تراشے ۔

ہمارے اس دعوی کی تصدیق کے لئے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوھری کی

۱۰

کتاب "کتاب السقیفہ "کا مطالعہ فرمائیں ۔

علامہ مذکور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔لمّا حضرت رسو ل الله (ص) الوفاة و فی البیت رجال فیهم عمر بن الخطاب قال رسول الله ایتونی بدواة وصحیفة اکتب لکم کتابا لاتصلون بعده قال ،فقال عمر کلمة معناها ان الوجع قد غلب علی رسول (ص) ثم قال عندنا القرآن حسبنا کتاب الله فاختلف ممن فی البیت و اختصموا فمن قائل قربو ا یکتب لکم النبی (ص) ومن قائل ما قال عمر فلمّا اکثروا اللغط واللغو والاختلاف غضب (ص) فقال قوموا ۔(الحدیث)

جب رسول خدا(ص) کاآخری وقت آیا اس وقت گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔ ان میں عمر بن خطاب بھی تھے ۔رسول خدا نے فرمایا : میرے پاس دوات اور کا غذ لاؤ میں تمھیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوگے ۔

یہ سن کر حضرت عمر نے ایک بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس وقت رسول خدا پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد میں اختلاف ہوگیا اور آپس میں جھگڑنے لگے کچھ لوگ وہی کہتے تھے جو عمر نے کہاتھا ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور جھگڑا بڑھا تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا "اٹھ چلے جاؤ"الحدیث

جوہری کے الفاظ سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ "حضور پر درد کا غلبہ ہے " جیسے محتاط الفاظ " روایت بالعنی "کے طور پر وارد ہوئے ہیں ورنہ حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو صریحا "ہذیان "کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ آپ محدثین کی کتابوں میں یہ سب دیکھیں گے کہ جب وہ اس واقعہ کی روایت لفظ "ہذیان" سے کرتے ہیں تو انہیں ان کی مسلکی وابستگی اس بات کی

۱۱

اجازت نہیں دیتی کہ کھل کر یہ بیان کر سکیں کہ "ہذیان" کی تہمت لگانے والا اور رسول خدا کے دماغ پر حملہ کرنے والا کون تھا ۔

اس مقام پر پہنچ کر واقعہ کے اہم کردار کو نمایاں کرنے کی بجائے اسے بے نام ونشان چھوڑ کر گزر جاتے ہیں ۔

جیسا کہ امام بخاری "کتاب الجہاد والسیر" کے باب "جوائز الوفد" میں لکھتے ہیں :-حدثنا قبیصة حدثنا ابن عیینة عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر عن ابن عباس انه قال یو م الخمیس وما یو م الخمیس ثمّ بکی حتی خضب دمعه الحصیاء ،فقال اشتد برسول الله (ص) وجعه یو م الخمیس فقال ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعده ابدا فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازعوا فقالوا هجر رسول الله (ص) قال(ص) دعونی فالذی انا فیه خیر مما تدعوننی الیه واوصی عند موته بثلاث ،اخرجوا المشرکین من جزیرة العرب واجیزو ا الوقد بنحو ما کنت اجیزه (قال) ونسیت الثالثة ۔

(بحذف اسناد) ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ؛ ہائے وہ کیا دن تھا پنچ شنبہ کا ! یہ کہہ کر اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے سنگریزے تر ہوگئے ۔پھر کہااسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا کی تکلیف بہت بڑھ گئی تر ہوگئے ۔ پھر کہا اسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا(ص) کی تکلیف بہت بڑھ گئ تھی ۔ آنحضرت نے فرمایا "میرے پا س کاغذ اور قلم لاؤ ۔میں تمھیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہوسکو "

اس پر لوگ جھگڑنے لگے ۔حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ۔لوگوں نے کہا : رسول "بے ہودہ بک رہے ہیں (نعوذ با اللہ)۔اس پر آنحضرت نے فرمایا " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آنحضرت نے وفات سے پہلے تین وصیتیں فرمائیں :ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرو اور دوسری وصیت یہ تھی کہ وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح باقی رکھو جس طرح میں بھیجا کرتا تھا ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ تیسری وصیت میں بھول گیا ۔"

۱۲

جی ہاں ! تیسری بات جسے فراموش کردیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہئے تھے تاکہ امت کے افراد گمراہی سے محفوظ رہیں یعنی امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی خلافت ۔

سیاسی شاطروں نے محدثیں کو مجبور کیا کہ وہ اس چیز کو جانتے بوجھتے بھول جائیں ۔جیسا کہ مفتی حنفیہ شیخ ابو سلیمان داؤد نے صراحت کی ہے اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم "کتاب الوصیۃ " کے آخر میں بواسطہ سعید بن جبیر ، ابن عباس سے ایک دوسرے طریقہ سے روایت کیا ہے ۔

"ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ، ہائے وہ دن کیا دن تھا پنچ شنبہ کا !

پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور رخساروں پر یوں بہتے دیکھے گئے جیسے موتی کی لڑی ہو۔

اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا :

"میرے پاس دوات اور کاغذ یا لوح ودوات لاؤ تا کہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم پھر کبھی گمراہ نہ ہو" تو لوگوں نے اس پر کہا :رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ باللہ)(۱)

صحاح ستہ کا مطالعہ کریں اور اس مصیبت کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس شخص نے سب سے پہلے "ہذیان" کی بات کی وہ حضرت عمر ہی تھے ۔انہوں نے ہی سب سے پہلے یہ جملہ کہا تھا اور اس کے بعد ان کے ہم خیال افراد نے ان کی ہم نوائی کی تھی ۔

آپ ابن عباس کا یہ فقرہ پہلی حدیث میں سن چکے ہیں ۔ گھر میں موجود افراد آپس میں تکرار کرنے لگے ۔بعض کہتے تھے کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ رسول (ص)وہ نوشتہ

____________________

(۱):-صحیح مسلم جلد دوم صفحہ ۲۲۲ علاوہ ازاین اس حدیث کو انہی الفاظ میں امام احمد نے مسند جلد اول ص ۳۵۵ پر روایت کیا ہے ۔اس کے علاوہ بھی اجلہ حفاظ حدیث نے نقل کیا ہے ۔

۱۳

لکھ جائیں اور بعض حضرت عمر کی موافقت کرتے رہے ۔یعنی وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر سے روایت کی ہے کہ : جب رسول خدا بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : میرے پاس کا غذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔اس پر پردے کے پیچھے سے عورتوں نے کہا تم سنتے نہیں کہ رسول (ص) کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے کہا :تم یوسف والی عورتیں ہو جب رسول (ص) بیمار پڑتے ہیں تو اپنی آنکھیں نچوڑ ڈالتی ہو اور جب تندرست ہوتے ہیں تو گردن پر سوار رہتی ہو ۔

رسول خدا نے فرمایا :"عورتوں کو جانے دو یہ تم سے تو بہتر ہی ہیں "(۱)

اس واقعہ سے آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ یہاں صحابہ نے ارشاد پیغمبر کی تعمیل نہیں کی ۔اگر حضور (ص) کی بات مان لیتے تو ہمیشہ

کے لیئے گمراہی سے بچ جاتے ۔

اے کاش کہ صحابہ رسول خدا (ص) کی بات مانتے ٹال دیتے لیکن رسول خدا کو یہ روکھا جواب تو نہ دیتے کہ "حسبنا کتا ب اللہ "(ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے )۔

اس فقرہ سے تو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ معاذاللہ جیسے رسول خدا جانتے ہی نہ تھے ۔ اس کے اسرار ورموز سے زیادہ واقف تھے ۔

اے کاش! اس پر اکتفا کر لیا ہوتا اور رسول خدا (ص) کے دماغ پر حملہ نہ کیا ہوتا اور یہ نہ کہتے کہ رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہے ہیں ۔یہ الفاظ کہہ کر رسول کریم کو ناگہانی صدمہ نہ پہنچاتے ۔

____________________

(۱):- اسی روایت کو امام بخاری نے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا اور امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی روایت کی ہے ۔

۱۴

رسول خدا چند گھڑی کے مہمان تھے ۔آپ کا دم واپسین تھا۔ ایسی حالت میں یہ ایذا رسانی کہاں تک مناسب تھی؟ کیسی بات کہہ کر رسول کو رخصت کررہے ہیں ؟

گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کیا یہ واضح اعلان نہیں سنا تھا "ما آتاکم الرسول فخذوه وما نها کم عنه فانتهوا ۔۔۔۔۔"یعنی رسول جو کچھ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز ہو"

اور رسول خدا(ص) پر ہذیان کی تہمت لگاتے وقت انہیں قرآن مجید کی یہ آیت بھول گئی تھی "انه لقو ل رسول کریم ذی قوة عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین وما صاحبکم بمجنون " یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کی زبان کا پیغام ہے ۔جو بڑا قوی ،عرش کے مالک کی بارگاہ میں بلند مرتبہ ہے ۔ وہاں سب فرشتوں کا سردار اور امانت دار ہے اور تمہارے ساتھی (محمد) دیوانے نہیں ہیں "۔

اور کیا قول رسول کو ہذیان کہنے والوں نے یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟ "انه لقول رسول کریم وماهو بقول شاعر قلیلا ما یومنون ولا بقول کا هن قلیلا ما تذکرون تنزیل من رب العالمین "۔ یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا پیغام ہے اور یہ کسی شاعر کی تک بندی نہیں ۔تم لوگ تو بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ کسی کاہن کی خیالی بات ہے تم لوگ تو بہت کم غور کرتے ہو ۔یہ سارے جہاں کے پروردگار کا نازل کیا ہوا کلام ہے ۔"

اور کیا قول رسول (ص) کو ٹھکرانے والوں نے قرآن مجید کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟"و النجم اذا هوی ما ضل صاحبکم وما غوی وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی علّمه شدید القوی "۔قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکا ۔تمھارے رفیق( محمدص) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بہکے وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے ۔ان کو بڑی طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے " نیز اس طرح دوسری واضح اور روشن آیات قرآن مجید میں بکثرت موجود

۱۵

ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ رسول مہمل وبے ہودہ بات کہنے سے پاک و منزہ ہیں ۔ علاوہ ازاین خود تنہا عقل سلیم بھی رسول سے مہمل اور بے ہودہ باتوں کا صادر ہونا محال سمجھتی ہے ۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ صحابہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت رسول (ص)حضرت علی (ع) کے لئے خلافت کی بات کو مزید پکا کردینا چاہتے ہیں اور آج تک آپ نے حضرت علی (ع)کے جانشینی اور خلافت کے جتنے اعلانات کئے تھے انہیں تحریری صورت دینا چاہتے تھے اسی لئے حضرت عمر اور ان کے حامی افراد نے رسول خدا (ص) کی بات کو کاٹ دیا تھا ۔ یہ صرف ہمارا پیدا کردہ تخیل نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف حضرت عمر نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے کیا تھا(۱) ۔

اگر آپ رسول خدا(ص)کے اس قول "میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے "۔

اور حدیث ثقلین کے اس فقرہ پر کہ :-

"میں تم میں دو گراں چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے : ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت " توجہ فرمائیں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ دونوں حدیثوں سے رسول خدا کا مقصود ایک ہی تھا ۔

پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:-

رسول خدا (ص) نے حالت مرض میں کاغذ اور قلم دوات اس لئے طلب کیا تھا کہ حدیث ثقلین کے مفہوم کو تحریری صورت لکھ کردے دیا جائے ۔

____________________

(۱):-ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ۱۴۰ طبع مصر

۱۶

اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے لوگوں کے اختلاف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ کیوں نہ لکھا ۔اور جمعرات کے دن سے اپنے روز وفات یعنی سوموار تک کیوں نہ لکھا اور لکھنے کا ارادہ آخر انہوں نے کیوں ملتوی کردیا ؟

درج بالا سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ نوشتہ نہ لکھنے کا سبب حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہوں کا وہ فقرہ تھا جسے بو ل کر ان لوگوں نے رسول خدا (ص) کو دکھ دیا تھا اور یہی سن کر رسول خدا نے نوشتہ نہ لکھا کیوں اتنا سخت جملہ سننے کے بعد نوشتہ لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا ۔اگر بالفرض لکھ بھی دیا جاتا تو فتنہ وفساد اور بڑھ جاتا اور اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوجاتی ۔

اگر رسول (ص) لکھ بھی جاتے تو یہی لوگ کہتے کہ "اس نوشتہ کی کوئی اہمیت نہیں یہ حالت ہذیان لکھا گیا ہے "

جن لوگوں نے حضور کریم کے روبروان کی حدیث کو ہذیان قراردیا تھا تو کیا وہ بعد میں لکھے جانے والے نوشتہ کو تسلیم کر سکتے تھے ؟

اور اگر رسول اپنی بات پر مصر رہتے اور نوشتہ لکھ بھی دیتے تو وہ اور ان کے جواری نوشتہ رسول (ص) کو ہذیان ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور دگادیتے اور اثبات ہذیان کے لئے کئی کتابیں تصنیف ہوتیں ۔مباحثے کیے جاتے اور اس نوشتہ کو بے اثر بنا نے کےلئے ہر ممکنہ ترکیب استعمال کی جاتی ۔

اسی وجہ سے حکیم اسلام کی حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اب نوشتہ کا ارادہ ہی ترک کردیا جائے تاکہ رسول کے منہ آنے والے اور ان کے حاشیہ بردار آپ کی نبوت میں طعن کا دروازہ نہ کھول دیں ۔

اور اس کے ساتھ ساتھ رسول خدا (ص) یہ جانتے تھے کہ علی علیہ السلام اوران کے دوستدار اس نوشتہ کے مفہوم پر عمل کریں گے خواہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے اور اگر مخالفین کیلئے لکھ بھی دیا جائے تو وہ نہ تو اس کو مانیں گے اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے ۔

۱۷

واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات:

جب علامہ سید عبدالحسین شرف الدین عاملی نے حدیث قرطاس کی تفصیلات جامعہ ازہر مصر کے اس وقت کے وائس چانسلر علامہ شیخ سلیم البشری کو لکھ کر روانہ فرمائیں تو انہوں نے اس کے متعلق علمائے اہل سنت کی تاویلات لکھ کر بھیجیں اور اس کے ساتھ اپنا ناطق فیصلہ بھی تحریر فرمایا ۔

قارئین کرام کے لئے ہم موصوف کا جواب اور اس جواب پر خود ان کا عدم اطمینان انہی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں :-

"شایدآنحضرت (ص) نے جس وقت کاغذ اور قلم دوات لانے کا حکم دیا تھا اس وقت آپ کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔دراصل آپ صرف آزمانا چاہتے تھے ۔عام صحابہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی مگر حضرت عمر سمجھ گئے تھے کہ آپ ہمیں صرف آزمانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے انہوں نے صحابہ کو کاغذ اور قلم دوات لانے سے روک دیا ۔ لہذا حضرت عمر کی ممانعت کو توفیق ایزدی سمجھنا چاہئے اور اسے ان ک ایک کرامت جاننا چاہئے ۔

لیکن انصاف یہ کہ رسول خدا(ص)کا فرمان "لن تضلوا بعدی "(تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے )اس کا جواب کو بننے نہیں دیتا ۔

کیونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کا دوسرا جواب ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ گے اور میں تمھارے لئے وہ نوشتہ دوں گا تو اس کے بعد تم گمراہ نہ ہوسکوگے ۔

اور یہ امر مخفی نہیں ہے کہ محض امتحان اور آزمائش کے لئے اس طرح کی خبر بیان کرنا کھلا ہو اجھوٹ ہے ۔جس سے انبیاء علیہم السلام کے کلام کا پاک ہونا لازم و لابد ہے اور اس موقع پر کاغذ اور قلم دوات لانا ،نہ لانے کی نسبت بہتر تھا۔

۱۸

علاوہ ازیں یہ جواب اور بھی کئی لحاظ سے محل تامل ہے ۔لہذا یہ جواب صحیح نہیں ہے ۔ اس کے لئے کوئی اور عذر پیش کرنا چاہئے ۔اس مقام پر صفائی کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے کاغذ اور قلم دوات لانے کا جو حکم دیا تو یہ حکم انتہائی لازمی وضروری نہ تھا کہ اسکے متعلق مزید وضاحت چاہی نہ جا سکتی ۔

یہ حکم مشورہ کے طور پر تھا اورکئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صحابہ رسول خدا کے بعض احکام دوبارہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔مزید استصواب کیا کرتے تھے ۔خصوصا حضرت عمر تو بہت زیادہ ۔

انہیں اپنے متعلق یقین تھا کہ وہ مصالح کوبہتر سمجھتے ہیں اور وہ توفیق ایزدی کے حامل ہیں اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ان کا ظن وتخمین غلظ نہیں ہوتا ۔

اسی لئے حضرت عمر نے چاہا کہ رسول کو زحمت نہ اٹھانی پڑے ۔کیونکہ رسول پہلے ہی سخت تکلیف میں تھے ۔اندریں حالات اگر لکھنے بیٹھ جاتے تو تکلیف اور بڑھ سکتی تھی۔

اسی لئے حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا ار ان کی رائے تھی کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا بہتر ہے ۔

علاوہ ازایں حضرت عمر کو خوف تھا کہ رسول کہیں ایسی باتیں نہ لکھ ڈالیں،جن کے بجا لانے سے لوگ عاجز آجائیں اور نوشتہ رسول پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سزا کے مستحق ٹھہریں ۔کیونکہ جو کچھ رسول لکھ جاتے وہ تو بہر حال مخصوص اور قطعی ہوتا ۔ اس میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی ۔

یا حضرت عمر کو شاید منافقین کی طرف سے یہ خوف محسوس ہو ا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منافقین نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ حالت مرض میں لکھا ہوا ہوتا اور اس وجہ سے بڑے فتنے وفساد کا اندیشہ تھا اسی لئے حضرت عمر نے کہاتھا "حسبنا کتاب الله " ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے اورحسبنا کتاب الله " کے

۱۹

جملہ کی تائید قرآن مجید کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے :"ما فرطنا فی الکتاب من شیء "ہم نے کتاب میں کوئی چیز چھوڑ ی جو بیان نہ کردی ہو۔

نیز یہ بھی ارشاد خداوندی ہے :- "الیوم اکملت لکم دینکم " آج کے دن دین میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے ۔

اسی وجہ سے حضرت عمر مطمئن تھے کہ امت گمراہ نہ ہوسکے گی ۔کیونکہ خداوند عالم دین کو کامل اور امت پر اپنی نعمت کا اتمام کرچکا ہے ۔

ان آیات کی وجہ سے امت کی گمراہی کا اندیشہ نہیں تھا ۔ اسی لئے مزید کسی نوشتہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی ۔

یہ ان لوگوں کے جوابات ہیں اور یہ جوابات جتنے کمزور اور رکیک ہیں وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔کیونکہ رسول خدا کا فقرہ" لن تضلو بعدی "(تاکہ تم ہرگز گمراہ نہ ہوسکو) بتا تا ہے کہ آپ کا حکم ایک قطعی اور لازمی حکم تھا ۔

ایسے امر میں جو گمراہی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہو ،قدرت رکھتے ہوئے ہر ممکن جدو جہد کرنا بلا شک وشبہ واجب اور لازم ہے ۔

نیز آنحضرت پر اس فقرہ کا ناگوار گزرنا اور بالخصوص حضرت عمر کے اس جملہ کا برا منانا اور ان لوگوں کے تعمیل حکم نہ کرنے پر آپ کا ارشاد فرمانا کہ "میرے پاس سے اٹھ چلے جاؤ " یہ اس بات کی قظعی دلیل ہے کہ آپ نے کاغذ اور قلم دولت لانے کا جو حکم دیا تھا ۔ وہ لازم اور واجب تھا ۔آپ نے مذکورہ حکم بغرض مشورہ نہیں دیا تھا ۔

اگر کوئی کہے کہ نوشتہ لکھنا ایسا ہی واجب ولازم تھا تو محض چند لوگوں کی مخالفت سے آپ نے لکھنے کا ارادہ ملتوی کیوں کردیا تھا۔

کفار آپ کی تبلیغ اسلام کےمخالف تھے مگر آپ نے ان کی مخالفت کی پروا

۲۰