المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 19534
ڈاؤنلوڈ: 491

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 19534 / ڈاؤنلوڈ: 491
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

سعید بن عاص کو ایک لاکھ درہم ملے

سعید بن عاص نے اپنی چار صاحبزادیوں کی شادی کی تو اس کی ایک ایک بیٹی کو بیت المال سے ایک ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔ان واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بلاذری رقم طراز ہیں ۔ سنہ ۲۷ھ میں اسلامی لشکر نے افریقہ فتح کیا اور وہاں سے بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ اس مال غنمیت کا خمس مروان بن حکم کو دیا گیا ۔علاوہ ازیں سنہ ۲۷ ھ میں عبداللہ بن ابی سرح جو کہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے کی زیر سرکردگی افریقہ پر حملہ کیاگیا ۔مسلمان فوج نے افریقہ فتح کرلیا ۔فوج کے سالار نے ایک لاکھ درہم کے بدلے سارا خمس خرید لیا اور بعداز اں حضرت عثمان س انہوں نے مذکورہ رقم معاف کرنے کی درخواست کی ۔حضرت عثمان نے انہیں رقم معاف کردی۔

زکواۃ کے اونٹ مدینہ لائے گئے ۔حضرت عثمان نے تمام اونٹ حارث بن حکم بن ابی العاص کو عطا کردئیے۔

حضرت عثمان نے حکم بن عاص کو بنی قضاعہ کی زکواۃ کا عامل مقرر کیا اور وہاں سے تین لاکھ درہم کی وصولی ہوئی ۔وہ ساری رقم انہیں دے دی گئ‏۔

حارث بن حکم بن ابی العاص کو تین لاکھ درہم دیئے گئے ۔

اور زید بن ثابت انصاری کو ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔

بیت المال کا یہ استحصال حضرت ابو ذر سے نہ دیکھا گیا اور انہوں نے مدینہ کے بازاروں اور گلیوں میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھنی شروع کی :-والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔الایۃ "

"جو لو گ سونا چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیں ۔یہی سونا اور چاندی دوزخ کی آگ میں گرم کرکے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں میں داغا جائے گا اور ان

۱۶۱

سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا وہ خزانہ ہے جسے تم جمع کیا کرتے تھے(۱)

"حضرت ابو ذر کے اس طرز عمل کی مروان نے حضرت عثمان کے پاس شکایت کی حضرت عثمان نے انہیں کہلا بھیجا کہ تم اس حرکت سے باز آجاؤ ۔

حضرت ابو ذر نے کہا: عثمان مجھے اللہ کی کتاب کی تلاوت سے باز رکھنا چاہتا ہے ؟ خدا کی قسم میں عثمان کی ناراضگی برداشت کرسکتا ہوں لیکن اللہ کی ناراضگی برادشت نہیں کرسکتا ۔

آپ نے حضرت عثمان کی مالی پالیسی ملاحظہ فرمائی ۔چند لمحات کے لئے اس مقام پر ٹھہر جائیں اور اس کے بر عکس حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔کیونکہ ۔

بضدها تتبین الاشیاء

حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی

حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں حضرت حسین (ع) کا ایک مہمان آیا ۔انہوں نے ایک درہم ادھار لے کر روٹی خریدی ۔سالن کے لئے ان کے پاس رقم موجود نہ تھی ۔انہوں نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ یمن سے جو شہد آیا ہے اس میں سے ایک رطل کی مقداد میں شہد دیں ۔قنبر نے حکم کی تعمیل کی اور ایک رطل شہد انہیں لاکر دی ۔چند دنوں کے بعد حضرت علی نے تقسیم خاطر وہ شہد منگایا اور شہد کی مشک کو دیکھ کر فرمایا ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ کمی ہوئی ہے ۔ قنبر نے عرض کی :- جی ہاں ! آپ کے فرزند حسین (ع) نے ایک مہمان کی خاطر ایک رطل شہد مجھ سے لی تھی ۔

یہ سن کر حضرت علی (ع) نا راض ہوئے اور فرمایا کہ حسین (ع) کو بلاؤ۔جب

____________________

(۱):- التوبہ ۳۴

۱۶۲

حسین (ع) آگئے تو حضرت علی نے فرمایا :- حسین بیٹے ! تقسیم سے پہلے تم نے ایک رطل شہد بیت المال سے کیوں لی ہے ؟

حسین (ع) نے عرض کی :-بابا جان ! جب تقسیم ہوجائے گی تو میں اپنے حصہ سے اتنی مقدار واپس کردوں گا ۔

اس پر حضرت علی (ع) نے فرمایا :- یہ درست ہے کہ اس میں تمہارا بھی حصہ ہے لیکن تقسیم سے پہلے تم شہد لینے کے مجاز نہیں تھے ۔ بعد ازآں قنبر کو ایک درہم دے کر فرمایا کہ اس درہم سے بہترین شہد خرید کر دوسرے سہد میں شامل کردو ۔

حضرت علی (ع) کے عدل کے لئے عقیل کا واقعہ ہی کافی ہے ۔

اس واقعہ کو عقیل نے خود معاویہ بن ابی سفیان کے دربار میں اس وقت سنایا جب وہ علی (ع) ک عدل سے بھاگ کر وہاں پہنچے تھے کہ مجھے شدید غربت نے اپنی لپیٹ میں لیا تو میں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر اپنے بھائی علی (ع) کے پاس گیا ۔میرے بچوں کے چہروں پر غربت ویاس چھائی ہوئی تھی اور بھوک کی وجہ سے ان کے چہرے زرد ہوچکے تھے ۔

میرے بھائی علی (ع) نے کہا کہ تم آج شام میرے پاس آنا ۔چنانچہ شام کے وقت میرا ایک بیٹا ہاتھ پکڑے ہوئے ان کے پاس لےگیا ۔انہوں نے میرے بچے کو مجھ سے ہٹا دیا اور مجھے کہا کہ اور قریب آجاؤ ۔میں سمجھا کہ علی مجھے زرد دولت کی تھیلی دیں گے لیکن انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگ کی طرح گرم لوہے رکھا اور اس کی وجہ سے میں یوں گرا جیسا کہ بیل قصاب کے ہاتھ سے گرتا ہے(۱) ۔

اس واقعہ کو خود حضرت علی (ع) نے اپنے ایک خطبہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے ۔

"رایت عقیلا وقد املق حتی استما حنی مین برّکم صاعا ورایت

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغہ

۱۶۳

صبیانه شعث الشعور ، غیر الالوان من فقرهم ،عاودنی موکّدا وکرّرا علیّ القول مرددا ۔۔۔۔۔"(الامام علی بن ابی طالب)

"بخدا میں نے عقیل کو سخت فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھا ۔یہاں تک کہ وہ تمہارے حصہ کے گیہوں میں ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے اور میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھر ہوئے تھے اور فقر بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکے تھے گویا ۔ان کے چہرے نیل چھڑک کرسیاہ کردئیے گئے ہیں وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو باربار دہرایا ۔میں نے ان کی باتوں کو کان دے کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھوں اپنا دین بھیج ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہوجاؤں گا مگر میں نے یہ کیا کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ عبرت حاصل کریں ۔چنانچہ وہ اس طرح سے چیخے جس طرح بیمار درد وکرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس داغ دینے سے جل جائے ۔ پھر میں نے ان سے کہا :- اسے عقیل ! رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم لوہے کے اس ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں بغیر جلانے کی نیت کے تپا یا ہےاور مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو جسے خدائے قہار نے اپنے غضب س بھڑکایا ہے ۔تم اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں ۔"(۱)

ہمیں علی علیہ السلام کی زندگی صداقت اور انسانی عزت نفس کابلند ترین نمونہ نظر آتی ہے ۔

آپ جانتے ہیں کہ خوارج سے حضرت علی علیہ السلام کو کتنی نفرت تھی ۔آپ انہیں باطل پر سمجھتے تھے ۔ اس کے باوجود حضرت علی (ع) کا ان سے طرز عمل کیا تھا ۔اس کے لئے ڈاکٹر طہ حسین مصری کے بیان کردہ واقعہ کو پڑھیں :-

____________________

(۱):-نہج البلاغہ کے خطبہ ۲۲۱ سے اقتباس ۔

۱۶۴

"حضرت علی (ع)کے پاس حریث بن راشد السامی خارجی آیا اور کہا اللہ کی قسم میں نہ تو آپ کا فرمان مانوں گا اور نہ ہی آپ کے پیچھے نماز پڑوں گا ۔اس کے ان جملوں پر حضرت نے ناراضگی کا اظہار نہ کیا اور نہ ہی اسے اس پر کوئی سزا دی ۔آپ نے اسے بحث و مباحثہ کی دعوت دی اور فرمایا تم مجھ سے بحث کر لو تاکہ تمارے سامنے واضح ہوجائے اس نے دوسرے دن آنے کا وعدہ کیا اور آپ نے قبول کرلیا "(۱) ۔

ایک خارجی کے ساتھ حضرت علی (ع) کا سلوک ملاحظہ فرمائیں اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت عمار کے ساتھ حضرت عثمان کا بھی سلوک ملاحظہ فرمائیں ۔ تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ علی (ع) کیا تھے اور عثمان کیا تھے ؟

حضرت عثمان نے اسلامی خزانہ کو صرف اپنے اقرباء پر ہی نہیں لٹایا بلکہ اس دور کے مشاہیر کو بھی اس سے وافر حصہ دیا ۔حضرت عثمان نے زبیر بن عوام کو چھ لاکھ عطا کئے ۔طلحہ بن عبیداللہ کو ایک لاکھ عطا کئے اور تمام قرضہ بھی معاف کردیا ۔

ایک طرف سے اپنے رشتہ داروں پر یہ نوازشات جاری تھیں ۔جب کہ دوسری طرح عامتہ المسلمین بھوک وافلاس اور شدید ترین غربت کا شکار تھے ۔

کیونکہ بیت المال کا اکثر حصہ تو بنی امیہ اور مقربین کی نذر ہوگیا ۔غریب عوام کو دینے کے لئے خزانہ خالی تھا ۔

چند مشاہیر کی دولت

حضرت عثمان کے دور خلافت میں اشرافیہ طبقہ کی جائیداد کی ایک ہلکی سی جھلک مسعودی نے یوں بیان کی ہے ۔

صحابہ کی ایک جماعت اس زمانہ میں بڑی مالدار بن گئی اور انہوں نے

____________________

(۱):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۱۲۵

۱۶۵

بڑی بڑی جاگیریں خریدلیں اور عظیم الشان محلات تعمیر کرلئے ۔ ان میں سے زبیر بن عوام نے بصرہ میں اپنا محل تعمیر کرایا جو اس وقت ۳۳۲ ہجری میں بھی اپنی اصل حالت میں پورے جاہ وجلال کے ساتھ موجود ہے ۔ اس میں تاجر اور سرمایہ دار آکر ٹھہرا کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ انہوں نے مصر ،کوفہ اور سکندریہ میں بھی عالی شان محل تعمیر کرائے ۔اسکے علاوہ اس کی دوسری جاگیروں کے متعلق بھی اہل علم جانتے ہیں ۔ زبیر کی وفات کے وقت اس کے گھر سے نقد سرمایہ پچاس ہزار دینار برآمد ہوئے ۔علاوہ ازیں انہوں نے اپنے پیچھے ایک ہزار گھوڑے اور ایک ہزار لونڈیاں چھوڑیں ۔

طلحہ بن عبیداللہ التمیمی نے بھی کوفہ میں عظیم الشان محل تعمیر کیا اور عراق سے طلحہ کے غلہ کی یومیہ آمدنی ایک ہزار دینار تھی ۔جب کہ دوسر ے مورخین اس سے بھی زیادہ بیان کرتے ہیں ۔عراق کے علاوہ باقی علاقوں سے اس کی کمائی اس سے بھی زیادہ تھی ۔ اس نے مدینہ میں ایک مثالی محل تعمیر کرایا جس میں جص اور ساج استعمال کیا گیا تھا ۔

عبدالرحمن بن عوف زہری نےبھی فلک بوس محل تعمیر کرایا اور اسے وسعت بھی دی ۔اس کے اصطبل میں ایک ہزار گھوڑے ہر وقت بندھے رہتے تھے ۔ اس کے پاس ہزار اونٹ اور دس ہزار بکریاں تھیں ۔ وفات کے وقت ان کی چار بیویا ں تھیں اور ہر بیوی کو چوارسی ہزار (۸۴۰۰۰) دینار ملے ۔"(۱)

"اہل جنت " کے سرمایہ کی آپ نے ہلکی سی جھلک مشاہدہ فرمائی ۔جب حاکم ہی بیت المال کو دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہو تو آپ رعایا سے صبر وقناعت کی امید کیسے کریں گے ۔ اس دور کے عمّال وحکام سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ

____________________

(۱):- مسعودی ۔مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد ۲ ص ۲۲۲

۱۶۶

انہوں نے اسی بہتی گنگا سے ہاتھ نہیں دھوئے ہوں گے ؟

حضرت عثمان نے بنی امیہ کو صرف درہم ودینار دینے پر ہی کتفاء نہیں کی بلکہ انہیں بڑی بڑی جاگیریں بھی عطا فرمائیں ۔ ممکن ہے کہ اس مقام پر حضرت عثمان کے بہی خواہ اہل سنت اور معتزلہ ان کی صفائی میں یہ کہین کہ انہوں نے یہ زمینیں اس لئے دی تھیں تا کہ زمینیں آباد ہوجائیں ۔

اس کے جواب میں شیعہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جواب تو حضرت عثمان نے بھی خود نہیں دیا تھا ۔یہ جواب ناقص اور " مدعی سست اور گواہ چست "والا معاملہ ہے ۔ اس کے جواب میں شیعہ یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ جاگیریں صرف بنی امیہ کو ہی کیوں دی گئی تھیں ؟ کیا بنی امیہ زمینوں کے اسپیشلسٹ تھے(۱) ؟

ڈاکٹر صاحب کے اس بیان کے بعد یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ حضرت عثمان کی اس مالیاتی پالیسی کے دو نتیجے نکلے اور دونوں ایک دوسرے سے خراب تر تھے ۔

۱:- مسلمانوں کے مال کو ناحق خرچ کیا گیا ۔

۲:- اور اس کی وجہ سے ایک نو دولتیے طبقہ نے جنم لیا جن کا مطمع نظر دوسروں کے حقوق کو غصب کرنا اور اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرنا تھا ۔ اور یہ نو دولتیہ طبقہ اپنی دولت بچانے کے لئے کسی بھی برے سے برے حاکم کی اطاعت پر بھی کمربستہ ہوسکتا تھا اور مذکورہ طبقہ ایک خاص امتیاز اکا بھی خواہش مند تھا اور اپنی دولت کو تحفظ دینے کے لئے ہر اس حکومت کو خوش آمدید کہنے پر آمادہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لئۓ مضر لیکن ان کے لئے مفید ہو ۔

حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں یہی سرمایہ دار طبقہ ہی ان کی مخالفت میں پیش پیش تھا ۔ انہوں نے حضرت علی کی مخالفت اپنے سرمایہ اور جاگیروں کے تحفظ کے لئے کی تھی ۔

____________________

(۱):-ڈاکٹر طہ حسین ۔مصری الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۹۳۔۱۹۴

۱۶۷

حضرت عثمان کی مالیاتی پالیسی کے بنیادی خدوخال آپ نے مشاہدہ کئے اور آئیے دیکھیں کہ ان کی دیگر حکومتی پالیسیاں کیا تھیں ؟

حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی

حضرت عثمان کی دوسری حکومتی پالیسی کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ ان کی کوئی ذاتی پالیسی سرے سے تھی ہی نہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ بنی امیہ پر انحصار کیا اور اپنے سسرال اور دیگر رشتہ داروں کی بات کوانہوں نے ہمیشہ اہمیت دی تھی ۔

عثمانی دور میں مروان بن حکم کو خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔انہوں نے ہمیشہ مروان کے مشوروں کو درخور اعتنا سمجھا اور بنی امیہ کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کیا ۔

بنی امیہ جیسے ہی حاکم بنے انہوں نے امت مسلمہ میں ظلم وستم کو رواج دیا ۔ ان کی وجہ سے ملت اسلامیہ شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ۔مگر ظالم وجابر حکام پورے اطمینان سے مسلمانوں کا استحصال کرتے رہے انہیں امت اسلامیہ کے افراد کی کوئی پراہ تک نہ تھی ۔ کیونکہ خلیفۃ المسلمین ان سے خوش تھا اور دوسرے مسلمانوں کی ناراضگی کی انہیں کوئی فکر ہی نہیں تھی۔

حضرت عثمان ک شخصیت کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ وہ بنی امیہ پر جس قدر مہربان تھے ، دوسرے صحابہ اور عامۃ المسلمین کے لئے وہ اتنے ہی سخت تھے ۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعود اور ابو ذر غفاری اور عما بن یاسر جیسے جلیل القدر صحابہ تک سے ہتک آمیز سلوک کیا ۔ان جلیل القدر صحابہ کو ان کے حکم سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور حضرت ابوذر غفاری پر صرے تشددہی نہیں بلکہ انہیں جلا وطن کرکے ربذہ کے بے آب وگیاہ میدان میں مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیاگیا ۔

۱۶۸

ان اجلہ صحابہ کا جر صرف یہی تھا کہ وہ بنی امیہ کی لوٹ کھسوٹ اور بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار نہ تھے ۔

بلاذری بیان کرتے ہیں کہ :-

"حضرت عثمان نے بنی امیہ کے ان افراد کو عامل مقرر کیا جنہیں رسول خدا (ص) کی صحبت میسر نہ تھی اور نہ ہی اسلام میں انہیں کوئی مقام حاصل تھا ۔ اور جب لوگ ان کی شکایت کرنے آتے تو حضرت عثمان عوامی شکایات کو کئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور انہیں معزول نہیں کرتے تھے ۔اپنی حکومت کے آخری چھ برسوں میں انہوں نے اپنے چچا کی اولاد کو حاکم مقررکیا ۔

اسی دور میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مصر کا حاکم مقرر ہوا ۔ وہ کئی برس تک مصر میں رہا ۔مصر کے لوگ اس کے ظلم کی شکایت کرنے کے لئے حضرت عثمان کے پاس آئے اور حضرت عثمان نے ان کے کہنے پر اسے ایک خط بھی تحریر کیا جس میں اسے غلط کاریوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی تھی لیکن اس نے حضرت عثمان کے خط پر کوئی عمل نہ کیا اور شکایت کرنے والوں پر بے پناہ تشدد کیا ۔ جس کی وجہ سے ایک شخص موقع پر ہی دم توڑگیا ۔

اس کے بعد اہل مصر کا ایک اور وفد ابن ابی سرح کے مظالم کی شکایت کرنے کے لئے مدینہ آیا اور اوقات نماز میں انہوں نے صحابہ سے ملاقات کی اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی ان لوگوں کو داستان سنائی ۔چنانچہ طلحہ حضرت عثمان کے پاس گئے اور ان سے سخت لہجہ میں احتجاج کیا ۔ بی بی عائشہ نے بھی عثمان کے پاس پیغام روانہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے عامل سے انصاف دلاؤ۔

کبار صحابہ جن میں حضرت علی (ع) مقداد اور طلحہ وزبیر شامل تھے ۔ انہوں نے حضرت عثمان کے نام ایک خط تیار کیا جس میں اس کے عمال کے مظالم کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور خط کے ذریعے سے حضرت عثمان کو تنبیہ کی گئی تھی ۔

۱۶۹

کہ اگر انہوں نے اپنے رویے کو درست نہ کیا تو پھر انہیں خلافت کرنے کا حق حاصل ہوگا ۔ عمار نے وہ خط لیا اور حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا ۔جب حضرت عثمان نے اسکی ایک سطر پڑھی تو انہیں بہت غصہ آیا اور عمار سے کہا :- تیری یہ جراءت کہ تو ان کا خط میرے سامنے لائے ؟

عمار نے کہا :- میں خط اس لئے لایا ہوں کہ میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں ۔حضرت عثمان نے کہا :- سمیہ کا فرزند تو جھوٹا ہے ۔

حضرت عمار نے کہا :- خدا کی قسم میں اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہ اور یاسر کا بیٹا ہوں ۔

حضرت عثمان نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ کر لٹائیں ۔ نوکروں نے انہیں پکڑکر لٹادیا ۔حضرت عثمان نے جناب عمار کو اپنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں ۔ضربات اتنی شدید تھیں کہ انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ اور بے ہوش ہوگئے ۔"(۱)

جب حضرت عثمان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تویہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی مالیاتی اور حکومتی پالیسیوں کا مقصد امت اسلامیہ کے مقدر سے کھیلنا اور دین اسلام کے بہی خواہوں کو کمزور کرنا اور دشمنان اسلام بالخصوص بنی امیہ کے لئے مستقبل بنی امیہ کے لئے مستقبل کی حکومت کی راہ ہموار کرنا تھا ۔

حضرت عثمان کی پالیسی نہ یہ کہ قرآن وسنت سے علیحدہ تھی بلکہ بلکہ سیرت شیخین سے بھی جدا گانہ تھی ۔

واقدی بیان کرتے ہیں کہ :-

"جب حضرت عثمان نے سعید بن العاص کو ایک لاکھ درہم دئیے تو لوگوں نے اس پر تنقید کی اور اسے غلط قرار دیا ۔حضرت علی (ع) اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ نے مل کر حضرت عثمان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو حضرت عثمان نے کہا وہ

____________________

(۱):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۲۵ ۔ ۲۶

۱۷۰

میرا قریبی رشتہ دار ہے ۔صحابہ نے کہا تو کیا ابو بکر وعمر کے اس جہان میں کوئی رشتہ دارنہیں تھے ؟

حضرت عثمان نے کہا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو محروم کرکے خوش ہوتے تھے جب کہ میں اپنے رشتہ داروں کو دے کر خوش ہوتا ہوں ۔"(۱)

حضرت عثمان کی یہ روش کسی طرح سے بھی سیرت شیخین سے مطابقت نیں رکھتی تھی اور ان کی اس روش کاروح اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔

عثمانی عمّال کی سیرت

آئیے چند لمحات کے لئے عثمانی عمال پر بھی نظر ڈال لیں ۔ اس حقیقت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان نے امور سلطنت کے لئے اپنے اقرباء پر ہی انحصار کیا تھا ۔اور خدا گواہ ہے کہ ہم اتنے تنگ نظر نہیں ہیں کہ ہم صرف رشتہ داری کی وجہ سے کسی پر اعتراض کریں ۔ہم جانتے ہیں کہ سلاطین کا قدیم الایام س یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ اہم مناصب پر اپنے بااعتماد اور باصلاحیت رشتہ داروں کو فائز کرتے رہے ہیں ۔

اگر رشتہ دار با صلاحیت ہوں تو انحصار کیا تھا کیا وہ باصلاحیت اور صاحب سیرت افراد تھے ؟

حضرت عثمان نے اپنی قرابت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کو بھی اہم عہدوں پر فائز کیا جن کے فسق وفجور اور نفاق وکذب کی اللہ نے قرآن میں گواہی دی تھی ۔

ذیل میں ہم بطور نمونہ اپنے قارئین کے لئے چند افراد کی سیرت کا تذکرہ

____________________

(۱):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔بحوالہ واقدی جلد ص ۔ص ۲۷۔

۱۷۱

کرتے ہیں ۔لیکن ان واقعات کو "مشتے ازخردارے" کی حیثیت حاصل ہے ۔اگر ہم عمال عثمانی کی بد کرداریوں کی تفصیل بیان کرنے لگیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے ۔

ولید بن عقبہ

عثمان عمال کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے ہم ولید بن عقبہ بن ابی معیط سے ابتدا کرتے ہیں ۔ حضرت عثمان نے انہیں کوفہ کا والی مقرر کیا تھا ۔

اس "اموی ستارہ " کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم (ص) نے اسے بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے کے لئے روانہ کیا ۔ یہ صاحب ان سے ملے بغیر واپس آگئے اور کہا کہ ان لوگوں نے مجھے قتل کرنا چاہا اور صدقات دینے سے انکار کردیا ۔ رسول خدا(ص) نے مذکورہ قبیلہ کے خلاف فوج کشی کا ارادہ کرلیا ۔ اس اثناء میں ان کا ایک وفد رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے قاصد کی آمد کا سنا تھا اس کی تعظیم وتکریم کے لئے باہر آئے لیکن آپ کا قاصد ہمیں دیکھ کر دور سے ہی واپس چلاگیا ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی :-یا ایها الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمیین "(۱) ۔

"ایمان والو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو ۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو تکلیف پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر تمہیں ندامت اٹھانی پڑے ۔"

ولید وہ "شخص "ہیں کہ ایک دفعہ اس کی بیوی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ اسے ناحق مارتا پیٹتا ہے ۔

____________________

(۱):- الحجرات ۔۶۔

۱۷۲

رسول خدا (ص) نے اسے فرمایا کہ جا کر اپنے شوہر سےکہہ دو کہ مجھے رسول خدا(ص) نے امان دی ہے ۔ وہ بے چاری چلی گئی اور رسولخدا(ص) کا پیغام سنایا ۔

دوسرے دن عورت پھر حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! اس نے آپ کا پیغام سن کر مجھے مارا۔

رسول خدا(ص) نے اس کے کپڑے کا ایک حصہ پھاڑا اور کہا جاکر شوہر سے کہو کہ رسول خدا نے بطور نشانی اس کپڑے کو پھاڑا ہے ۔ لہذا مجھے مت مارو۔

وہ عورت چلی گئی ۔تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ روتی ہوئی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا فرمان اسے سنا یا اور نشانی بھی دکھائی لیکن اس نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ پیٹا(۱) ۔

کوفہ میں ولید شراب نوشی

حضرت عثمان نے اسی ولید کو کوفہ کا والی مقرر کیا اور یہ "بزرگوار" اپنے ہم پیالہ ساتھیوں کے ساتھ ساری ساری رات شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ صبح کی آذان ہوئی تو یہ صاحب نشہ میں دھت تھے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں چلے گئے اور فجر کی نماز دورکعت کی بجائے چاررکعت پڑھائی ۔اور پھر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے کہا :- اگر ارادہ ہوتو اور زیادہ پڑھادوں ؟

بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سجدہ میں تھے توکہہ رکہے تھے کہ :- خود بھی پیو اور مجھے بھی جام پلاؤ ۔

پہلی صف میں کھڑے ہوئے ایک نمازی نے کہا:- مجھے تجھ پر کوئی حیرت نہیں ہے ۔مجھے تو اس پر تعجب آتا ہے جس نے تجھ جیسے شخص کو ہمارا والی بنا کر بھیجا ۔ولید نے ایک دفعہ خطبہ دیا تو لوگوں نے اس پر پتھراو کیا ۔صاحب

____________________

(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۱۹۵

۱۷۳

موصوف پتھراو سے گھبرا کر اپنے محلے میں چلے گئے ۔

ولید زانی تھا ۔ شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ شراب پی کر مسجد میں نماز پڑھانے آیا تو اس نے محراب میں قے کردی اور قے میں شراب کا رنگ نمایاں تھا قے کرنے کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا ۔

علّق القلب الربابا بعد ما شابت و شابا

"میرا دل رباب سے اٹک گیا ۔ جب وہ جوان ہوگئی اور میں بھی جوان ہوگیا ۔"

اہل کوفہ نے حضرت عثمان کے پاس اس کی شکایت کی اورحد شرعی کا مطالبہ کیا ۔ناچار حضرت عثمان نے ایک شخص کو حد جاری کرنے کے لئے کہ ۔ جب وہ شخص درہ اٹھا کرولید کے قریب گیا تو ولید نے حضرت عثمان سے کہا :- آپ کو اللہ اور اپنی قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ کہ مجھے معاف کردیں ۔حضرت عثمان نے اسے چھوڑدیا اور پھر خیال کیا کہ دنیا یہ کہے گی کہ عثمان نے حد شرعی کو چھوڑ دیا ہے اس خیال کے تحت انہوں نے خود ہی اسے اپنے ہاتھ سے دوچار کوڑے مار کر چھوڑ دیا ۔

اہل کوفہ دوبارہ ولید کی شکایت لے کر حضرت عثمان کے پاس آئے تو حضرت عثمان اہل کوفہ پر سخت ناراض ہوئے اور کہا :- تم لوگ جب بھی کسی امیر پر ناراض ہوتے ہو تو اس پر تمہتیں تراشتے ہو ۔

ان لوگوں نے حضرت عائشہ کے پاس جاکر پناہ لی ۔جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ ان لوگوں کو ام المومنین نے پناہ دے رکھی ہے تو کہا :- عراق کے فاسق اور بدمعاشوں کو عائشہ کا گھر ہی پناہ دیتا ہے ۔یہ الفاظ بی بی عائشہ نے سنے تو رسول خدا کی نعلین بلند کرکے کہا :- تو نے اس تعلین کے مالک کی سنت کو چھوڑ دیا ہے(۱) ۔

____________________

(۱):- المسعودی ۔مروج الذہب ۔جلد دوم ۔ص ۲۲۴

۱۷۴

ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا

ولید کے والی کوفہ بننے کی داستان بھی عجیب ہے ۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان جس تخت پر بیٹھا کرتے تھے ۔اس پر ایک اور شخص بیٹھنے کی گنجائش بھی موجود تھی ۔

حضرت عثمان کے ساتھ صرف چار افرادہی بیٹھا کرتے تھے اور وہ عباس بن عبدالمطلب ،ابو سفیان بن حرب ،حکم بن ابی العاص اور ولید بن عقبہ تھے ۔

ایک دن ولید حضرت عثمان کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ حکم بن ابی العاص آگیا تو حضرت عثمان نے ولید کو کھڑا ہونے کا اشارہ کیا تاکہ حکم کو بٹھایا جاسکے ۔جب کچھ دیر بعد حکم چلا گیا تو ولید نے کہا:- آپ نے چچا کو اپنے چچا زاد پر ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ سے میں نے دو شعر تخلیق کئے ہیں ۔

واضح رہے کہ مروان کا باپ حکم حضرت عثمان کا چچا تھا اور بنی امیہ کا بزرگ تھا اور ولید حضرت عثمان کا مادری بھائی تھا ۔

حضرت عثمان نے کہا وہ شعر مجھے سناؤ ۔

رایت لعمّ المرء زلفی قرابة دوین اخیه حادثا لم یکن قدما

فاملت عمرا ان یشبّ وخالدا لکی یدعوانی یوم نائبة عمّا

"میں نے دیکھا لیا ہے کہ بھائی کی نسبت لوگ چچا کا زیادہ احترام کرتے ہیں ۔ پہلے یہ بات رائج نہ تھی ۔ آپ کے دونوں فرزندوں یعنی عمر اور خالد کی عمر دراز ہو تاکہ وہ بھی ایک دن مجھے چچا کہہ کر مخاطب کریں ۔"

یہ شعر سن کر حضرت عثمان نے کہاکہ تم بھی کیا یاد رکھو گے ۔میں نے تمہیں کوفہ کا گورنر بنایا ۔

جی ہاں ! یہ وہی ولید ہے جسے قرآن میں فاسق کہا گیا ۔یہی وہ ولید ہے

۱۷۵

جس نے رسول خدا(ص) کے فرمان کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔

گورنری کا پروانہ لے کر ولید کوفہ پہنچا اور والی کوفہ سعد سے ملاقات کی سعد نے پوچھا کہ تم یہاں سیروسیاحت کرنے آئے ہو یا یہاں کے حاکم بن کے آئے ہو؟

ولید نے کہا:- میں یہاں کا حاکم بن کر آیا ہوں ۔یہ سن کر سعد نے کہا خدا کی قسم مجھے علم نہیں ہورہا کہ میں پاگل ہوگیا ہوں یا تو دانا ہوگیا ہے ؟ ولید نے کہا :- نہ تو آپ پاگل ہوئے ہیں اور نہ ہی میں دانا ہوا ہوں ، جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہے یہ انہی کا فیصلہ ہے ۔(۱)

حضرت عثمان کے دیگر عمال کے متعلق بھی کتب تاریخ بھری ہوئی ہیں حضرت عثمان نے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا والی مقررکیا ۔اس وقت اس کی عمرپچیس برس تھی ۔ جب کہ اس وقت کبار صحابہ اور تجربہ کا ر افراد بھی موجود تھے ۔

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا حاکم مقرر کیا گیا ۔یہ وہی شخص ہے جسے اللہ اور رسول خدا نے واجب القتل قرار دیا تھا اور فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا تھا کہ ہر شخص کو امان ہے مگر عبداللہ بن ابی سرح کیلئے کوئی امان نہیں ہے ۔یہ شخص اگرغلاف کعبہ سے بھی چمٹا ہوا ہو تو بھی اسے قتل کردیا جائے ۔(۲)

____________________

(۱):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ص ۱۸۷

(۲):- عبدالفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ص ۳۳

۱۷۶

حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک

بنی امیہ کے ظالم حکام نے مسلمان سے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ۔لیکن حضرت عثمان نے بذات خود جو اجلہ صحابہ سے سلوک کیا وہ کسی طرح سے بھی مستحسن نہیں ہے ۔

تاریخ کے قارئین جانتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کے ساتھ بنی امیہ نے اتنی بد سلوکی نہیں کی جتنی کہ حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کے ساتھ کی ۔

جب صحابہ کرام کی ممتاز جماعت نے حضرت عثمان کے عمال کی ان کے پاس شکایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ ایسے کہ ایسے قماش کے حکمرانوں کو معزول کیا جائے تو حضرت عثمان نے حسن تدبیر کی جگہ اکابر صحابہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔

حضرت عثمان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افرادمیں حضرت عبداللہ بن مسعود شامل ہیں ۔قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت ان کاآپس میں تنازعہ ہوا تو حضرت عثمان نے انہیں مطمئن کرنے کی بجائے انہیں درے مارنے کا حکم دیا ۔حضرت عثمان کے غلاموں نے ان پر بے تحاشہ تشدد کیا انہیں اٹھا کر زمین پر پٹکا گیا جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اتنا تشدد کرکے بھی انہیں تسیکن نہ ہوئی تو انہوں نے ان کا وظیفہ بند کردیا ۔حضرت ابوذر غفاری کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا سلوک کیا گیا ۔

حضرت ابو ذر غفاری رسالت مآب کے عظیم المرتبت صحابی ہیں اور رسول خدا (ص) نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ :- جنت ابو ذر کی مشتاق ہے ۔ جناب رسول خدا(ص) نے ابو ذر غفاری کے زہد وتقوی کی تشبہیہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام ے دی تھی ۔ اور ان کے متعلق رسول خدا(ص) کی مشہور حدیث وارد ہے :- " مااظلّت الخضرآء ولا اقلّت الغبراء اصدق من ذی لھجۃ من ابی ذر " آسمان نے

۱۷۷

سایہ نہیں کیا اور زمین نے اپنی پشت پر کسی ایسے انسان کو نہیں بٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو ۔"

حضرت عثمان کے دور میں سرمایہ داری نظام کے عروج کو دیکھ کر حضرت ابو ذر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے اور سارا دن مدینہ کے بازاروں میں سرمایہ داری کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ اور سورۃ توبہ کی آیت کی تلاوت فرماتے تھے ۔" والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔" یعنی جو لوگ سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو ۔جس دن دوزخ کی آگ میں سونا چاندی کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوں اور پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ تمہارا ذخیرہ کردہ مال ہے ان کا مزہ چکھو ۔"

حضرت عثمان نے محسوس کیا کہ ابو ذر کی تعلیمات سے مدینہ کے غریب طبقہ کے لوگ متاثر ہورہے ہیں تو انہیں جلاوطن کرکے شام بھیج دیا گیا اور شام کے والی معاویہ بن ابی سفیان کو ان پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیاگیا ۔

حضرت ابو ذر کا شام میں بھی وہی رویہ وہا جو کہ مدینہ میں تھا ۔آخرالامر معاویہ نے انہیں درشت اونٹ پر سوار کرکے مدینہ روانہ کیا اور حضرت عثمان نے انہین مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دی ۔ان کو عرب کے صحرائے ربذہ میں جلاوطن کیاگیا ۔ جہاں ان کے فرزند ذر کی وفات ہوگئی اور وہ اور ان کی بیٹی صحرا میں اکیلے رہ گئے ۔ چند دنوں کے بعد عالم غربت میں ان کی وفات ہوئی ۔اہل عراق کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے اس جلیل القدر صحابی کی تجہیز وتکفین کی ۔

بلاذری بیان کرتے ہیں کہ جب خلیفہ عثمان کو حضرت ابو ذر کی وفات کی خبر ملی تو حضرت عثمان نے کہا : اس پر اللہ کی رحمت ہو ۔

۱۷۸

حضرت عمار نے فرمایا :- اس کے جلا وطن کرنے والے کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عثمان نے بڑے تیز وتند لہجے میں عمار سے کہا:- کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں ابو ذر کو جلاوطن کرکے نادم ہوں ۔

اس کے بعد حضرت عثمان نے جناب عمار بن یاسر کی جلاوطنی کے احکام جاری کئے اورکہا کہ تو بھی ربذہ چلا جا ۔

حضرت عمار نے جلاوطنی کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کرلی تو ان کے قبیلے بنو مخزوم کے افراد داد رسی کے لئے حضرت علی (ع) کے پاس آئے ۔ حضرت علی (ع) عثمان کے پاس گئے اور فرمایا :- خدا کا خوف کر تو نے پہلے ہی ایک صالح مسلمان کو جلاوطن کیا ہے ۔اور وہ بے چارہ جلاوطنی میں فوت ہوچکا ہے اور پھر تو اس واقعہ کو دہرانے کا خواہش مند ہے ۔ان دونوں کے درمیان کافی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ خلیفہ عثمان نے حضرت علی سے کہا :- عمار کے بجائے جلاوطنی کا زیادہ حقدار تو ہے ۔

حضرت علی (ع) ن ےفرمایا اگر تجھ میں جراءت ہے تو ایسا کرکے بھی دیکھ لے ۔بعد از اں مہاجرین جمع ہوکر خلیفہ کے پاس آئے اور کہا:- جب بھی کسی شخص نے تم سے گفتگو کی ہے تم نے اسے جلاوطن کردیا ہے ۔تمہاری یہ روش اچھی نہیں ہے ۔(۱)

حضرت عمار کی جلاوطنی کے احکام انہیں مجبورا واپس لینے پڑے ۔حضرت عمار جیسے جلیل القدر صحابی کو جس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی مزید تفصیل علامہ عبد الفتاح عبد المقصود کی زبانی سماعت فرمائیں ۔" بہت سے صحابہ نے بنی امیہ کے ظالم عمال کی شکایات کے لئے ایک مشترکہ خط تحریر کیا ۔ حضرت عمار وہ خط لے کر خلیفہ صاحب کے پاس گئے ۔جب عمار خلیفہ عثمان کے دربار میں پہنچے تومروان نے حضرت عثمان سے کہا ۔ یہ کالا حبشی غلام لوگوں کو آپ کے خلاف

____________________

(۱):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ص ۵۴-۵۵

۱۷۹

برانگیختہ کررہا ہے ۔اگر آج آپ اسے قتل کردیں تو آیندہ کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں گے ۔"

حضرت عثمان نے مروان کی رائے کو پسند کیا اور عصا اٹھا کر حضرت عمار کو بے تحاشا مارا ۔خلیفہ کے خاندان کے افراد نے بھی انہین مارنے میں کوئی کسرباقی نہ اٹھا رکھی ۔

ان ظالمانہ ضربات کی وجہ سے انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔

حضرت عمار بے ہوش ہوگئے ۔خلیفہ کے نوکروں نے انہیں پکڑ کر برستی ہوئی بارش اور ٹھنڈے موسم میں سڑک کے کنارے ڈال دیا(۱) " اسی دور میں عدل اجتماعی ختم ہوچکا تھا اور اسلامیہ پر ظلم وجور کے سائے منڈلارہے تھے ۔

محقق معاصر ڈاکٹر طہ حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ :- دور عثمانی کے لئے اہل سنت اور معتزلہ کو حضرت عثمان کے عمال کی ہی صفائی نہیں دینی پڑے گی بلکہ انہیں حضرت عثمان کے اعمال کی بھی وجہ دینی ہوگی انہوں نے عظیم المرتبت صحابہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یا سر کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ کسی طور پر صحیح نہیں ہے ۔

حضرت عمار کو اتنا مارا گیا کہ انہیں "فتق "لاحق ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو بے عزت کرکے مسجد سے نکالا گیا اور تشدد کے ذریعے ان کی پسلیاں توڑ ڈالی گئیں ۔

ان دو عظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ حضرت عثمان نے جو سلوک کیا تھا صرف اپنے عمال کی زبان پراعتماد کیاگیا تھا ۔ ان دونوں بزرگواروں پر باقاعدہ کوئی مقدمہ چلایا گیا تھا اور نہ ہی فریقین سے بیان لئے گئے تھے اور کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر ان کو وحشیانہ

____________________

(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلددوم ۔ص ۳۴

۱۸۰