المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 18393
ڈاؤنلوڈ: 441

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18393 / ڈاؤنلوڈ: 441
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔

یقینا حضرت عثمان کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اور شرعی اختیار حاصل نہ تھا ۔ حضرت ابو ذر کی مثال کو ہی لے لیں ۔ ان کا جرم صرف یہی تھا کہ انہوں نے ان کی مالیاتی پالیسی بالخصوص اقرباء پروری یعنی بنی امیہ نوازی کو ہدف تنقید بنایا تو انہیں اس کی پاداش میں مدینہ سے نکال دیاگیا ۔

حضرت عثمان نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے حکام و عمال کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جس کو چاہیں جلاوطن کریں اس کی اجازت کے ملنے کے بعد ان کے عمال کبھی اپنے مخالفین کو کوفہ سے شام جلاوطن کرنے لگے اور کبھی شام سے بصرہ اور کبھی بصرہ سے مصر جلاوطن کرتے تھے ۔ گویا جلاوطن کرکے معاویہ کے پاس بھیجتا تھا ۔ اور معاویہ لوگوں کو جلاوطن کرکے سعید کے پاس بھیجتا اور سعید عبدالرحمن بن خالد کی طرف جلاوطن کردیتا تھا ۔ مظلوم لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا اور ان کو کسی قسم کی صفائی کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جاتا تھا(۱) ۔

عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت

حضرت عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت خاصی عبرت انگیز ہے ۔ان کے مصائب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضرت عثمان کا مادری بھائی ولید بن عقبہ کوفہ کا گورنر بن کے آیا ۔ جناب عبداللہ بن مسعود اس وقت کوفہ کے بیت المال کے خازن تھے ۔

ولید نے ان سے ایک بڑی رقم بطور قرض مانگی انہوں نے دے دی ۔چند دنوں کے بعد ولید نے ایک اور بھاری رقم نکالنے کا حکم دیا ۔ تو انہوں نے انکار

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۹۸-۱۹۹

۱۸۱

کردیا ۔ولید نے حضرت عثمان کی طرف ایک خط لکھا جس میں بیت المال کے خازن کے اس طرز عمل کی شکایت کی ۔

حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو خط لکھا کہ تم ہمارے مال کے خازن ہو ۔لہذا تم ولید کو مال لینے سے منع نہ کرو

حضر ت عبداللہ بن مسعود نے یہ خط پڑھ کر چابیاں پھینک دیں اور کہا کہ :- میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خازن تصور کرتا تھا اور اگر مجھے تمہارا خازن بننا ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

بیت المال کو چھوڑنے کے بعد وہ کوفہ میں مقیم رہے ۔

ولید نے سارا واقعہ خط میں لکھ کر حضرت عثمان کو روانہ کیا ۔حضرت عثمان نے ولید کو لکھا کہ اسے کوفہ سے نکال کر مدینہ بھیج دو ۔حضرت ابن مسعود نے کوفہ چھوڑا اور اہل کوفہ نے ان کی مشایعت کی اور ابن مسعود نے انہیں اللہ کے تقوی اور تمسک بالقرآن کی وصیت کی ۔اہل کوفہ نے ان سے کہا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے ہمارے جاہلوں کو تعلیم دی اور دین کی سمجھ عطا کی ۔

ابن مسعود مدینہ آئے اس وقت حضرت عثمان منبر رسول پر خطبہ دے رہے تھے ۔جب ان کی نظر ابن مسعود پر پڑی تو کہا:- وہ دیکھو برائی کا کیڑا تمہارے پاس آیا ہے ۔

ابن مسعود نے کہا :- میں ایسا نہیں ہوں میں تو پیغمبر اکرم کا صحابی ہوں ۔حضرت عثمان نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ اسے مسجد سے ذلت کے ساتھ باہر نکال دیں اور عبداللہ بن زمعہ نے انہیں اٹھا کر پوری قوت کے ساتھ زمین پہ پٹکادیا ۔ جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود مدینہ میں رہے ۔عثمان انہیں مدینہ سے باہر

۱۸۲

جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔

قتل عثمان سے دو برس قبل ان کی وفات ہوئی وفات سے چند روز قبل حضرت عثمان ان کی عیادت کے لئے آئے تو پوچھا ۔

عثمان :- آپ کو کونسی بیماری کی شکایت ہے ؟

ابن مسعود :- اپنے گناہوں کی ۔

عثمان :- کیا میں طبیب کو بلاؤں ؟

ابن مسعود :- طبیب نے تو بیماری دی ہے

عثمان :- آپ کیا چاہتے ہیں ؟

ابن مسعود :- اپنے رب کی رحمت ۔

عثمان :- کیا میں تمہار وظیفہ جاری کردوں ؟

ابن مسعود:- جب مجھے ضرورت تھی تو تم نے روک لیا تھا ۔ اب جبکہ میں موت کے استقبال کے لئے آمادہ ہوں تو میں وظیفہ لے کر کیا کروں گا؟

عثمان:- وظیفہ سے آپ کی اولاد کی گزر بسر اچھی ہوگی ۔

ابن مسعود :- ان کا رازق اللہ ہے ۔

عثمان :- عبدالرحمان کے ابا! میری بخشش کے لئے اللہ سے دعا مانگیں ۔

ابن مسعود :- میری خدا سے درخواست ہے کہ تجھ سے میرا حق وصول کرے ۔

حضرت ابن مسعود وصیت کرکے گئے تھے کہ ان کی نماز جنازہ میں عثمان شامل نہ ہوں(۱) -

حضرت عثمان کے طرز عمل پر لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں ۔ کچھ اعتراضات تو ان واقعات کی وجہ سے ہوئے ہیں جو ہر لحاظ سے روح اسلام ،سنت نبوی اور سیرت شیخین کے خلاف تھے ۔

____________________

(۱):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد چہارم ۔ص ۲۷

۱۸۳

صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دوسرے تصرفات پر بھی اعتراض کیا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق قرآن وسنت کی مخالفت کی وجہ سے تھا ۔ ان تمام اعتراض کا جامع خلاصہ ڈاکٹر طہ حسین نے یوں بیان کیا ۔

مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات

حضرت عثمان کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے تھے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اللہ کی بیان کردہ حد شرعی کو معطل کیا ۔

۱:- انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ پر حد جاری نہیں کی تھی ۔جب کہ ان نے اپنے باپ کے قتل کے بدلے ہرمزان ،جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی کو قتل کردیا تھا ۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے قتل کا مقدمہ عدالت میں پیش کرتے اور عدالت اس کے باپ قاتل کو سزادیتی ۔ اس نے عدالت سے رجوع کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور ایک قاتل کے بدلے میں تین بے گناہ افراد کو قتل کردیا تھا۔جب کہ ہرمزان مسلمان تھا اور جفینہ اور ابولولو کی بیٹی اسلامی ریاست کے ذمی تھے ۔اور اسلام مسلمانوں اور ذمیوں کے خون کا تحفظ کرتا ہے ۔صحابہ کی ایک جماعت نے حضرت عثمان سے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ حضرت عمر کے بیٹے سے قصاص لینا فرض ہے اور اس اسلامی قانون کو کسی صورت بھی معطل نہیں ہونا چاہیۓ ۔حضرت عثمان نے کوئی قصاص نہ لیا اور کہا کہ "کل اس کا باپ قتل ہوا اور آج اس کے بیٹے کومیں قتل کروں ؟ "چنانچہ انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے کو معاف کردیا ۔اس دور کے مسلمانوں نے اس بات پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ قصاص نہ لینا قرآن وسنت کی عملی نفی ہے اور مزید یہ "سیرت شخین" کی بھی کھلم مخالفت ہے ۔

۲:-انہوں نے منی میں نماز پوری پڑھی ۔جب کہ رسول خدا(ص) اور شیخین نے

۱۸۴

وہاں نماز قصر تھی اور خود حضرت عثمان بھی کئی برس تک وہاں نماز قصرپڑھتے تھے ۔

صحابہ کرام کو اس مقام پر پوری نماز دیکھ کر دکھ ہوا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے سنت نبوی کی مخالفت سمجھتے تھے اور بالخصوص مہاجرین کی نظر میں یہ ایک انتہائی خطرناک چیزتھی ۔کیونکہ رسول خدا(ص) نے جب مکہ سے ہجرت کی تو انہوں نے مدینہ کو ہی اپنے لیئے "دار اقامت " قرار دیا تھا ۔ اور مکہ کو اپنے لئے اجنبی شہر قرار دیا تھا ۔

اسی لئے رسول خدا(ص) اور ان کے اصحاب جب بھی مکہ آتے تو نماز ہمیشہ قصر پڑھا کرتے تھے ۔تاکہ ہرشخص سمجھ لے کہ وہ مکہ کو اپنا وطن نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہاں دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں ۔ حضور اکرم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ ہجرت کے بعد کوئی صحابی مکہ میں فوت ہو ۔

۳:- صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دور کی زکاۃ پر بھی اعتراض کیا تھا۔ کیونکہ حضرت عثمان نے گھوڑوں پر بھی زکواۃ وصول کی ،جب کہ رسول خدا(ص) نے گھوڑوں کو زکواۃ سے مستثنی کیا تھا اور حضرات شیخین کے عہد حکومت میں بھی گھوڑوں کی زکواۃ وصول نہیں کی جاتی تھی ۔

۴:- صحابہ کرام نے چراگاہوں پر حضرت عثمان کے قبضہ کی مخالفت کی تھی ۔ کیونکہ اللہ اور رسول نے پانی ،ہوا اور چراگاہوں کو تمام لوگوں کی ملکیت قراردیا ہے ۔

۵:- حضرت عثمان کے دور میں زکواۃ کو جنگ میں بھی خرچ کیا جاتا تھا ۔ اسی لئے بہت سے صحابہ نے اس کی مخالفت کی تھی اور ان کی دلیل یہ تھی کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مصارف زکواۃ کی تفصیل بیان کردی ہے اور مذکورہ مصارف کے علاوہ زکواۃ کو کسی اور مصرف میں خرچ نہیں کیا جاسکتا ۔

۶:- قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت بھی صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ان پر سخت اعتراضات کئے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ تدوین قرآن کے لئے جو

۱۸۵

کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ چند منظور نظر افراد پر مشتمل ہے ۔جب کہ اس وقت قرآن کے قراء وحفاظ کی معتد بہ ایسی جماعت بھی موجود تھی جو ہر لحاظ سے کمیٹی ممبران سے قرآن مجید کا زیادہ علم رکھتی تھی ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی (ع) جیسی شخصیات کو قرآن کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ واضح ہو کہ حضرت عبداللہ بن مسعود قرآن مجید کے بہت بڑے قاری تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول خدا (ص) سے ستر سورتیں اس وقت سنی تھیں جب زید بن ثابت ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت علی (ع) وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے متعلق اللہ نے خود فرمایا "ومن عندہ علم الکتاب " اور جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔" اتنی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر زید بن ثابت اور ان کے دوستوں تدوین قرآن کیلئے مقرر کرنا درست نہیں تھا ۔

۷:- قرآن مجید کے باقی نسخوں کو نذر آتش کرنا بھی صحیح اقدام نہ تھا ۔

۸:- حضرت عثمان کے مخالفین ان پر اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے طرید رسول چچا حکم اور اس کے بیٹے مروان کو مدینہ واپس آنے کی اجازت دی ۔ جب کہ رسول خدا (ص) نے اسے مدینہ سے جلاوطن کیا تھا ۔

۹:- دور جاہلیت میں حکم بن ابی العاص کا گھر رسول خدا(ص) کے گھر کے قریب تھا اور وہ آپ کا بدترین ہمسایہ تھا ۔ ہمیشہ حضور اکرم (ص) کو اذیتیں دیا کرتا تھا ۔

فتح مکہ کے بعد اس نے اپنی جان بچانے کے لئے اسلام قبول کیا اور مدینہ آکر بھی وہ اپنی حرکات سے باز نہ آیا ۔ یہاں وہ جناب رسول خدا (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ ایک دفعہ رسول خدا نے اسے آپنی آنکھوں سے یہ حرکت کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا کہ حکم اور اس کی اولاد میرے ساتھ ایک شہر میں نہیں رہ سکتی ۔بعد ازاں اسے طائف جلاوطن کردیا گیا ۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی وہ بدستور جلاوطن رہا ۔ حضرت عثمان نے اقتدار پر آتے ہی اپنے چچا اور اس کی

۱۸۶

اولاد کو مدینہ بلالیا صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ جس منحوس صورت کو رسول خدا (ص) اپنی زندگی میں دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ۔عثمان کو بھی چاہئے تھا کہ وہ مدینے بلاکر حضور کی اذیت کا موجب نہ بنتا ۔

۱۰:- حضرت عثمان نے طرید رسول چچا کو صرف مدینہ لانے پر ہی بس نہ کی بلکہ مسلمانوں کے بیت المال سے اسے لاکھوں دینا بھی عطا کئے تو کیا یہ انعام رسول خدا کو اذیت دینے کے صلہ میں دیا گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی ؟

۱۱:- حکم کے بیٹے مروان بن الحکم کو اپنا مشیر مقرر کیا ۔تو کیا اس دور میں مروان کے علاوہ کوئی صالح مسلمان باقی نہیں رہا تھا؟

۱۲:- حارث بن حکم کو امور مدینہ کا انچارج مقرر کیا گیا ۔ اس نے وہ طرز عمل اختیار کیاجو کسی طور بھی امانت ودیانت کے تقاضوں کے مطابق نہ تھا ۔ اس سے خیانت کی باز پرس کی بجائے خصوصی نوازشات سے نوازا گیا(۱) ۔

اپنوں کی طوطا چشمی

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

حضرت عثمان کی سیاست اس وقت دم توڑنے لگی جب ان کے اپنوں نے بھی ان سے آنکھیں چرانی شروع کی ۔کثرت زر اور شکم سیری نے انہیں یہ روز بد دکھا یا کہ خود ان کے افراد خانہ اور ان کے مقربین اور جنہوں نے ان کو خلیفہ بنانے میں کردار ادا کیا تھا وہ بھی ان کی مخالفت کرنے لگے ۔

محمد بن ابی حذیفہ کی مثال آپ کے سامنے ہے اسے ان سے یہ شکوہ پیدا ہوا کہ حضرت عثمان ان پر اپنے دیگر افراد خاندان کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ عزوہ روم سے واپس آنے والوں سے گفتگو کرتا اور کہتا کہ : کیا تم جہاد سے واپس

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص – ۱۷۵ ۔ ۱۷۶

۱۸۷

آرہے ہو؟

وہ کہتے کہ جی ہاں! حجاز کی طرف وہ انگلی کا اشارہ کرکے کہتا تھا ۔ ہمیں اس وقت تو عثمان سے جہاد کرنے کی ضرورت ہے

یہ "حضرت" مزید نفرتیں پھیلانے کے لئے مصر گئے ۔وہاں مخالفین عثمان کو منظم کرنے لگا اور ان سے کہتا تھا :- مصرو الو! اگر جہاد کرنا ہے تو مدینہ چلو اور عثمان سےجہاد کرو ۔

حضرت عثمان نے اس کا منہ بند کرنے کے لئے اس کے پاس تیس ہزار درہم اور شاہی خلعت روانہ کی ۔ اس نے مذکورہ رقم اور خلعت کو مسجد میں لاکے رکھا اور کہا لوگو! رہنا عثمان ان سکوں کے عوض میرے دین اور ضمیر کو خرید نا چاہتا ہے ۔مگر میں بکنے والا شخص نہیں ہوں ۔

اس واقعہ سے مصر میں حضرت عثمان کی مخالفت زیادہ پروان چڑھی ۔

ایک "زود پشیمان " کی پشیمانی

حضرت عثمان کی اقرباء نوازی اور غیر منصفانہ طرز عمل کو دیکھ کر انہیں خلافت دینے والا شخص عبدالرحمن بن عوف بھی ان کا مخالف ہوگیا اور کہتا تھا ۔ اگرمیں بعد والے کو پہلے لاتا تو عثمان کو میری جوتی کا تسمہ بھی خلیفہ نہ بناتا ۔

عبدالرحمن عالم نزع میں کہہ رہے تھے ۔ اسے باز رکھو ، اسے روکنے کی جلدی کرو ۔ایسا رہو کہ اس کی حکومت مزید مستحکم ہوجائے ۔

بلاذری بیان کرتے ہیں :- حضرت ابو ذر کی المناک وفات کے بعد حضرت علی (ع) نے عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا :- یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے ۔تم نے ہی اس کو حکومت دی تھی اور اس حکومت کی وجہ سے بے گناہ صحابی پر اتنے

____________________

(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ص ۷۲

۱۸۸

مظالم ڈھائے گئے ہیں ۔ اس کے اصل مجرم تم ہو۔

عبدالرحمن نے کہا:- اگر آپ چاہیں تو میں اپنی تلوار اٹھا لیتا ہوں اور آپ اپنی تلوار اٹھالیں ۔دونوں مل کر اس سے جنگ کریں ۔اس نے میرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا لحاظ نہیں رکھا ۔

عبدالرحمن یہ وصیت کرکے مرے تھے کہ :- ان کے جنازے میں عثمان شریک نہ ہوں ۔

عمرو بن العاص اور حضرت عثمان

حضرت عثمان نے عمر بن العاص کو مصر کی گورنری سے معزول کردیا ۔

اس لئے عمرو بن العاص بھی ان کا مخالف بن گیا اور اس نے لوگوں کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور ایک مرتبہ حضرت عثمان کے سامنے اس نے جراءت کرکے کہا تھا کہ :- تم نے لوگوں پر ظلم کئے اور ہم بھی ان مظالم میں تمہارے شریک تھے لہذا تم بھی توبہ کرو اور ہم بھی تیرے ساتھ توبہ کریں گے ۔

جب عمرو بن العاص نے دیکھا کہ اب حالات حضرت عثمان کے کنٹرول میں نہیں رہے اور ان کا منطقی نتیجہ ظاہر ہونے ہی والا ہے تو وہ فلسطین میں اپنی جاگیر پر چلا گیا اور مدینہ کی خبروں کا انتظار کرنے بیٹھ گیا ۔

فلسطین کی جاگیر میں عمر بن العاص اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھا کہ اسے حضرت عثمان کے قتل کی خبر ملی تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو مخاطب کرکے کہا :- عبداللہ ! میں تیرا باپ ہوں ۔میں نے آج تک جس زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور نکالا ۔

اسے جملے سے وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں نے عثمان کے قتل کی راہ ہموار کی

۱۸۹

چنانچہ وہ اب قتل بھی ہوگیا ۔(۱)

عمرو بن عاص خود راوی ہیں کہ :-میں نے عثمان کے خلاف لوگوں کو برانگیختہ کیا یہاں تک کہ میں نے چرواہوں کو بھی عثمان کی مخالفت پرآمادہ کیا(۲) ۔

باغیوں ک جانب سے حضرت عثمان کا جو پہلا محاصرہ ہوا اس موقع پر عمرو بن العاص حضرت عثمان کے پاس گیا اور کہا :- تم نے لوگوں پر بہت ظلم کئے ہیں ۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔

حضرت عثمان نے کہا :- اے نابغہ کے فرزند ! لوگوں کو میرے خلاف جمع کرنے میں تیرا بڑا حصہ ہے کیوں کہ میں نے تجھے حکومت مصر سے معزول کیا ہے ۔

اس کے بعد عمرو بن العاص فلسطین آیا اور لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑکاتا رہا اور جب اس نے حضرت عثمان کے قتل کی خبر سنی توکہا :- میں عبداللہ کاباپ ہوں ۔میں نے آج تکاجس بھی زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور جاری وہا(۳) ۔

حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ

تمام امہات المومنین میں حضرت عائشہ نے حضرت عثمان کی بہت زیادہ مخالفت کی ۔

جب حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود کو برابھلا کہا تو اس وقت پردہ کی اوٹ سے ام المومنین نے حضرت عثمان کو خوب کھری باتیں سنائیں ۔

____________________

(۱):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنہتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۶۷۔۶۸

(۲):-عباس محمودا لعقاد ۔عبقریتہ الامام ۔ص ۸۳

(۳):-البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۷۴

۱۹۰

حضرت عثمان اور ان کے عمّال پر دل کھول کر تنقید کیا کرتی تھیں اور لوگ مخالفین عثمان میں ام المومنین کو سب سے بڑا مخالف تصور کرتے تھے ۔(۱)

ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول خدا(ص) کی قمیص اٹھا کر مسجد میں دکھائی اور حاضرین مسجد سے فرمایا کہ دیکھ لو رسول خدا (ص) کی تو قمیص پرانی نہیں ہوئی لیکن عثمان نے ان کی سیرت کو پرانا کردیا ہے ۔" نعثل " کو قتل کرڈالو ۔اللہ نعثل کو قتل کرے(۲) ۔

حضرت عائشہ نے لوگوں کو حضرت ک عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا اور لوگوں کو متعدد مرتبہ ان کے قتل کا حکم دیا اور جب ستم زدہ عوام نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا تو حضرت عائشہ حج وعمرہ کا بہانہ کرکے مکہ چلی گئیں اور اپنی لگائی ہوئی آگ کو انہوں نے بجھانے کی کوئی کو شش نہیں کی اور مکہ میں رہائش کے دوران ہروقت مدینہ کی خبر منتظر رہتی تھیں ۔

ایک دفعہ ایک جھوٹی خبر ان کے گوش گزار ہوئی کہ :- حضرت عثمان نے محاصرہ کرنے والے مخالفین کو قتل کرادیا ہے اور شورش دم توڑگئی ہے ۔ یہ سن کر بربی بی صاحبہ نے سخت غصہ میں فرمایا ۔یہ تو بہت برا ہوا ۔حق کے طلبگاروں کو قتل کردیا اور ظلم کے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔(۳)

ایک دفعہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ میں کافی تلخ کلامی ہوئی تو حضرت عثمان نے کہا امور سلطنت کے ساتھ تیرا کیا واسطہ ہے ؟ اللہ نے تجھے گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا ہے ۔

یہ الفاظ سن کر انہیں سخت غصّہ آیا اور رسول خدا کے چند بال اور ایک

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۲۹

(۲):- ابن ابی الحدید معتزلی ۔ شرح نہیں البلاغہ ۔جلدچہارم ۔ص ۴۰۸

(۳):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی ابن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص ۲۷۶-۲۷۷

۱۹۱

لباس اور نعلین مبارک نکال کر فرمایا :- رسول خدا (ص) کے بال لباس اور ان کی نعلین تک بوسیدہ نہیں ہوئی تم نے ان کی سنت کو چھوڑ دیا ہے(۱) ۔

ام المومنین اور کبار صحابہ تمام ملت اسلامیہ میں مخالفت کی لہر دوڑ گئی اور باقی ممالک محروسہ کی نسبت حجاز ،مصر اور عراق میں مخالفت ک شدت زیادہ تھی ۔ اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ حضرت عثمان کو مخالفت کی اس شدید لہر کا احساس نہیں تھا اور کبار صحابہ کے پر خلوص مشوروں کو درخور اعتنا نہ سمجھا ۔انہوں نے ہمیشہ مروان بن حکم اور اپنے دوسرے عمّال کے مشوروں کو اہمیت دی ۔ جب کہ تمام مشکلات ومسائل انہیں کے پیدا کردہ تھے۔

بنی امیہ کا اجلاس

جب چاروں طرف سے حضرت عثمان پر تنقید ہونے لگی تو انہوں نے اپنی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا ۔ جس میں معاویہ بن ابی سفیان ،عبداللہ بن ابی سرح ، عبداللہ بن عامر اور سعید بن عاص نمایاں تھے ۔

حضرت عثمان نے معتمدین کے اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا :- ہر سربراہ کے وزیر کرتے ہیں اور تم لوگ میرے وزیر ہو ۔ موجودہ خلفشار تمہارے سامنے ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔

معاویہ نے تو صرف یہی جواب دیا کہ تمام عمال کو ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے اور وہاں کے تمام شرپسند افراد سے نمٹنے کی ان کو کھلی چھٹی دی جائے اور عمال کو چائیے کہ وہ کسی حکومت مخالف فرد کو مدینہ آنے کی اجازت نہ دیں ۔

____________________

(۱):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔ص ۴۸-۴۹

۱۹۲

سعید بن العاص نے کہا :- شورش کے سربراہوں کو قتل کردیا جائے ۔ عبداللہ بن ابی سرح نے کہا :- قتل کرنے سے ہماری حکومت مزید بدنام ہوگی بیت المال سے ان لوگوں کو بھاری رقمیں دے کر خاموش کرادیا جائے ۔عبداللہ بن عامر نے کہا کہ :- لوگوں کو جہاد میں مشغول کیا جائے اور انہیں سرحدی علاقوں میں بھیج کر اس مشکل سے جان چھڑائی جائے ۔(۱)

مشیروں کے درج بالا مشوروں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اصل حقیقت کے ادراک سے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں ۔ اور وہ کسی ایک نتیجہ پر بھی نہیں پہنچے تھے اور انہوں نے اقرباء پروری اور مالی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کی بجائے لوگوں کو بیرونی جنگوں میں الجھانے کا مشورہ دیا اور مذکورہ اجلاس میں حضرت عثمان بھی اپنی کوئی رائے پیش کرنے سے قاصر رہے تھے اور مشکلات کے وقتی اور دائمی خاتمہ کے لئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا ۔

اس وقت ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی ہے کہ جب چند صحابہ نے انہیں پر خلوص مشورہ دیا تو انہوں نے ان سے کہا کہ :- ہر امت کے لئے کوئی نہ کوئی آفت ومصیبت ہوتی ہے اور اس امت کی آفت مجھ پر نکتہ چینی کرنے والے افراد ہیں ۔

اے گروہ مہاجرین وانصار ! تم کیسے لوگ ہو تم میرے ایسے کاموں پر بھی اعتراض کیا ہے جنہیں عمر بن خطاب بھی کیا کرتے تھے ۔ لیکن تم نے اس پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اب تم مجھ پر تم معترض ہوتے ہو ۔ تم عمر کے سامنے اس لئے اعتراض نہیں کرتے تھے کیونکہ اس نے تمہاری باگیں کھینچ رکھی

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۲۰۶-۲۰۷

۱۹۳

تھیں تمہیں جان لینا چاہئیے کہ ابن خطاب کا خاندان چھوٹا خاندان تھا جب کہ میرا خاندان بہت بڑا ہے ۔

حضرت عثمان کی اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا ان سے مطالبہ یہی تھا کہ وہ اپنی حکومت کو قرآن وسنت اور سیرت شیخین کے مطابق چلائیں ۔مگر صحابہ کے اس جائز اور فطری مطالبہ کے جواب میں حضرت عثمان نے انہیں لالچی اور عیب جو قراردیا ۔جبکہ ان القاب کی بجائے ان کا حق یہ تھا کہ وہ اپنی اور اپنے عمال کی صفائی پیش کرتے اور بیت المال کو جس طرح سے بنی امیہ پر لٹا یا گیا تھا ۔ اس کا حساب پیش کرتے اور عجیب ترین امر یہ ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے اعمال کی صفائی دینے پر تو چنداں توجہ نہیں دی بلکہ انہیں طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی کام تو عمر بھی کیا کرتے تھے لیکن تمہاری زبانیں اس وقت خاموش رہتی تھیں اور خلیفہ صاحب نے اپنے خطبہ کا اختتام ڈرانے دھمکانے پر کیا ۔انہی بے تدبیریوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ لشکر میں بھی ان کی مخالفت سرایت کرتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چنگاری شعلوں کی صورت اختیار کر گئی ۔یہی وجہ ہے جب عبداللہ بن عامر رومیوں کے بحری بیڑے کو شکست دے کر واپس آیا تو محمد ابن ابی حذیفہ اس کے لشکر کو اس کا مخالف بنا چکا تھا ۔کیوں کہ وہ لشکر گاہ میں لوگوں سے کہتا تھا کہ :- ہمیں مدینہ جاکر عثمان سے جہاد کرنا ہے ۔اصحاب رسول (ص) کو کلیدی عہدوں سے ہٹا کر فاسق اور خائن قرابت داروں کو ان عہدوں پر فائز کرچکا ہے ۔تم لوگ اپنے اسی حاکم اور قائد جہاد کو ہی دیکھ لو ۔

۱۹۴

قرآن نے اس کے کفر کی تائید کی ہے اور رسول خدا(ص) نے اسے واجب القتل ٹھہرایا ہے ۔لیکن اس کے باوجود عثمان نے اسے تمہار حاکم مقرر کیا ہے کیوں کہ یہ اس کا رضاعی بھائی ہے ۔(۱)

الغرض اس وقت حضرت عثمان کے خلاف ایک ایسا محاذ بن گیا جہاں ان کے خلاف سینہ بہ سینہ خبریں جنم لیتی تھیں اور زبان زد عام وخاص ہوجاتی تھیں ۔لیکن ان خبروں کے اصل ذرائع کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا۔

حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی توسیع کی تو اس وقت لوگوں کی زبانوں پر یہ عبارت جاری تھی کہ :- دیکھو رسول (ص) کی مسجد کی توسیع ہورہی ہے ۔لیکن ان کی سنت سے انحراف کیا جارہا ہے ۔

حضرت عثمان کے دور میں کبوتر زیادہ ہوگئے ۔مسجد نبوی مدینہ کے گھر اور اکثر چھتیں کبوتروں سے بھری ہوئی نظر آنے لگیں تو حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس وقت لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ :- پناہ حاصل کرنے والے بے چارے کبوتروں کو تو ذبح کرایا جارہا ہے اور طرید رسول (ص) حکم بن ابی العاص اور اس کے بیٹے مروان کو گھر میں بسایا جارہا ہے ۔(۲)

بلاذری نے یہی روایت سعید بن مسیب سے کی ہے کہ حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ بے چارے پرندوں کو ذبح کرارہا ہے اور جن کو رسول خدا(ص) نے مدینہ سے نکالا تھا انہیں پناہ دی جارہی ہے(۳) ۔

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ ص ۱۶۸

(۲):- ایضا

(۳):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۲۲

۱۹۵

ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے

اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کا جواب تلاش کرنا بھی بڑا ضروری ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ :-

حضرت عثمان کی سیاست کی مخالفت کہاں سے پیدا ہوئی ؟

کیا تحریک مخالفت خلافت کے مرکز مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئی تھی ؟

یا

دوسرے شہروں میں اس تحریک نے جنم لیا اور پھر اس نے مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ؟

واضح الفاظ میں یہ سوال ان الفاظ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے کہ :-

حضرت عثمان کی تحریک مخالفت مہاجرین وانصار میں پہلے پہل پیدا ہوئی اور پھر وہاں سے دوسرے شہروں کو منتقل ہوئی؟

یا

یہ تحریک پہلے فوج میں پیدا ہوئی اور وہاں سے سفر کرکے مدینہ پہنچی اور مہاجرین وانصار کو اپنی طرف مائل کرلیا ؟

ہم جانتے ہیں کہ اندھی عقیدت رکھنے والے افراد کے لئے اس سوال کا جواب دینا بڑا مشکل ہے ۔

کیونکہ اگر پہلی صورت کو تسلیم کیاجائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عثمان کی سیاست کا انکار سب سے پہلے مہاجرین وانصار صحابہ نے کیا بعد ازاں دوسرے لوگوں نے ان کا اتباع کیا ۔

اور اگر دوسری صورت کو کم ضرر رساں سمجھ کر اختیار کیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت عثمان کی سیاسی ناہمواریوں کو دیکھ کر ان کے جانثار

۱۹۶

لشکر نے ان کی مخالفت کا آغاز کیا اور صحابہ نے مخالفین کی پیروی کی ۔ لیکن ہمیں اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ کیا جلیل القدر صحابہ عام افراد کی باتوں میں آسکتے تھے اور ان کے ہاتھوں کھلونا بن سکتے تھے ؟

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کی ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی ۔ اس تحریک مخالفت کا سرچشمہ مدینہ میں ہی تھا اور مدینہ سے یہ تحریک باقی شہروں تک پہنچی(۱) ۔

ہمارے پاس اپنے اس جواب کی صداقت کے لئے بزرگ صحابہ کرام کا طرز عمل موجود ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ حضرت عثمان نے حضرت ابو ذر کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عثمان نے عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار یا سر پر کتنا تشدد روارکھا تھا ؟ اسلامی تاریخ میں حضرت عثمان کے اس "حسن سلوک " کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور اسی وجہ سے صحابہ کرام بھی ان کی مخالفت پراتر آئے تھے ۔

بلاذری کی زبانی جبلہ بن عمرو الساعدی کی گفتگو سماعت فرمائیں :" جس زمانے میں لوگوں میں حضرت عثمان کی مخالفت عام ہوچکی تھی ۔ انہی ایام میں حضرت عثمان جبلہ بن عمر الساعدی کے مکان کے پاس سے گزرے اس وقت جبلہ اپنے دروازے پر کھڑا ہوا تھا تو اس نے حضرت عثمان سے کہا :- اے نعثل ! اللہ کی قسم میں تجھے قتل کروں گا یا تجھے جلاوطن کرکے خارش زدہ کمزور اونٹنی پر سوار کروں گا ۔تو نے حارث بن الحکم کو بازار کا مالک بنایا ہے اور تو نے فلاں فلاں غلط کا م کئے ہیں ۔"(۲)

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفنتہہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۳۶

(۲):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص۴۷

۱۹۷

واضح ہو کہ حارث بن الحکم مروان کا بھائی تھا اور اس نے بازار مدینہ میں اندھیر مچایا ہوا تھا ۔ اسی لئے جبلہ بن عمرو الساعدی نے اعتراض کیا تھا ۔اور کسی نے حضرت جبلہ سے کہا کہ آپ اس مسئلہ میں حضرت عثمان کی مخالفت ترک کردیں تو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے کل اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں یہ نہیں کہنا چاہنا :- " انّا اطعنا سادتنا وکبرآءنا فاضلّونا السبیلا "(الاحزاب)۶۷

"پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا ۔"

قتل عثمان

حضرت عثمان کے رشتہ داروں نے اسلامی مملکت میں وہ ادھم مچایا کہ خدا کی پناہ ۔غریب ومظلوم عوام نے وفد تشکیل دئیے اور انہیں مدینہ بھیجا شاید کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت نکل آئے ۔ لیکن مروان بن الحکم نے حضرت عثمان کو ہمیشہ غلط مشورے دئیے اور وفد کے ارکان انصاف سے مایوس ہوکر اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ۔

حضرت عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں بہت بڑا حادثہ یہ ہوا کہ مصر کے لوگ اپنے والی کی شکایت کرنے آئے اور حضرت عثمان سے مطالبہ کیا کہ اسے معزول کرکے کوئی اچھا سا حاکم مقرر کریں ۔

آخر کا ایک لمبی بحث وتمحیص کے بعد حضرت عثمان نے ان کا مطالبہ مان لیا ۔ایک نئے حاکم کا تقرر عمل میں لایا گیا اور سابق والی کی معزول کا فرمان بھی جاری کیا ۔

اہل مصر خوش ہوکر اپنے وطن جارہے تھے ۔ لیکن ابھی وہ لوگ ارض کنانہ تک پہنچے تھے کہ انہوں نے ایک اونٹنی سوار دیکھا جو معروف راستے سے

۱۹۸

ہٹ کر جارہا ہے ۔ انہیں اونٹنی والے پر شک گزرا چنانچہ اس کا تعاقب کرکے اسے پکڑ لیا گیا ۔ اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے مشکیزے سے موم میں لپٹا ہوا ایک خط برآمد ہوا ۔ وہ خط حضرت عثمان کی جانب سے والی مصر کو لکھا گیا تھا ۔ جس میں اسے حکم دیا گیا تھا کہ جب یہ مفسد تیرے پاس آئیں تو ان کے سرغنوں کو قتل کردینا اور دوسروں کو سخت سزا دینا ۔

ان لوگوں نے اس حبشی غلام اور اونٹنی کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔حبشی غلام حضرت عثمان کا خادم تھا اور اونٹنی بھی بیت المال کی تھی ۔ خط کے نیچے حضرت عثمان کی مخصوص مہر بھی لگی ہوئی تھی۔

اہل مصر غلام اور اونٹنی سمیت واپس مدینہ آئے اور خلیفہ صاحب سے کہا کہ تم نے ہمارے ساتھ کیوں کیا ۔ تو خلیفہ صاحب نے حلفیہ طور پر کہا کہ یہ خط میں نے تحریر نہیں کیا ۔

ان لوگوں نے دریافت کی کہ کیا آپ س حبشی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ! جی ہاں یہ میرا خادم ہے ۔

انہوں نے پھر پوچھا اس اونٹنی کو بھی پہنچانتے ہیں ؟

خلیفہ صاحب نے فرمایا !جی ہاں یہ مہر بھی میری ہی ہے ۔

ان لوگوں نے کہا! جناب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اونٹنی بھی آپ کی ہو ۔غلام بھی آپ کا ہو اور مہر بھی آپ کی ہو لیکن خط آپ نے نہ لکھا ہو ۔

حضرت عثمان نے فرمایا ! خط میں نے نہیں لکھا ، یہ مروان کی کاروائی ہے ۔ ان لوگوں نے اس وقت نہایت معقول مطالبہ کیا کہ :-ہم آپ کی بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔آپ بالکل بے گناہ ہیں ۔ سارا قصور مروان کا ہے ۔ آپ مروان کو ہمارے حوالے کردیں ۔اس کے بعد ہمارا آپ سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔

حضرت عثمان نے ان لوگوں کے اس مطالبہ کو بھی پائے حقارت سے

۱۹۹

ٹھکرادیا انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ ایک ماہ سے بھی زیادہ دیر تک رہا ۔ اس دوران حضرت عثمان کے اقرباء میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور نہ ہی مدینہ میں کسی صحابی نے ان کی جان بچانے کی قابل ذکر حمایت کی ۔ آخر کار طویل محاصرہ کے بعد ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کردیا(۱) ۔

قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ذکر سے پہلے ہم معاویہ اور مروان کی سازشوں کاذکر کرنا چاہتے ہیں ۔

حضرت عثمان کے قتل کے ساتھ ہی بنی امیہ نے حضرت علی علیہ السلام کی حکومت ختم کرنے کی سازشیں شروع کردی تھیں ۔

حضرت علی (ع) کے خلاف مسلحانہ تحریک شروع کرنے کے لئے انہوں نے مختلف افراد کو خط تحریر کئے ۔جن میں سے چند خطوط ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔:

قتل عثمان کے بعد مروان بن الحکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو خط لکھا کہ :

"میں آپ کو یہ خط قتل عثمان کے بعد تحریر کر رہاہوں ۔باغیوں نے اس پر حملہ کیا اور ناحق قتل کردیا اور باغی ابر کی طرح کھل کر برسے ۔اور بعد ازاں ٹڈی دل کی طرح علی ابن ابی طالب کے پاس چلے گئے ۔

لہذا تم بنی امیہ کو اپنے ارد گرد جمع کرو اور ثریا ستاروں کے جھرمٹ میں تم ۔

____________________

(۱):-اس واقعہ کی تفصیلات کے لئے الاصابہ فی تمیز الصحابہ کے صفحات ۴۰۰سے ۴۰۶ کا مطالعہ کیا جائے ۔ہم انے یہ واقعہ تلخیص کرکے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام کتب تاریخ میں یہی واقعہ لکھا ہوا ہے ۔

۲۰۰