المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 14650
ڈاؤنلوڈ: 319

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 14650 / ڈاؤنلوڈ: 319
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

صرف حکومت کے حصول کی تمنا تھی ۔خون عثمان کو حصول مقصد کے لئے اس نے صرف ایک ذریعہ بنایا ہواتھا ۔ حضرت علی (ع) کے موقف کو ابن حجر عسقلانی یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا :-

"سب سے پہلی بات یہ ہے کہ معاویہ اور اس کے ساتھی سرکشی کی راہ چھوڑ کر میری بیعت کریں بعد ازاں عثمان بن عفان کے خون کا وارث ان کے خون کا دعوی میری عدالت میں دائر کرے اس کے بعد میں احکام شرع کے تحت فیصلہ کرو ں گا ،"(۱)

جنگ صفین کے بعد حضرت علی نے مختلف شہروں میں ایک گشتی مراسلہ روانہ کیا جس کی تحریر یہ تھی ۔

"وکان بدء امرنا انّا التقینا والقوم من اهل الشام "

ابتدائی صورت حال یہ تھی کہ ہم اور شام والے آمنے آئے ۔ اس حالت میں کہ ہمارا اللہ ایک ، نبی ایک اور دعوت اسلام ایک تھی ۔ نہ ہم ایمان باللہ اور اس کے رسول کی تصدیق میں ان سے کچھ زیادتی چاہتے تھے اور نہ وہ ہم سے اضافہ کے طالب تھے ، بالکل اتحاد تھا ۔ سوا اس اختلاف کے جو ہم میں خون عثمان کے بارے میں ہوگیا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سے بالکل بری الذمہ تھے ۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آؤ فتنہ کی آگ بجھا کر اور لوگوں کا جوش ٹھنڈا کرکے اس مرض کا وقتی مداوا کریں ،جس کا پورا ستیصال ابھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ صورت حال استوار وہموار ہوجائے اور سکون واطمینان حاصل ہوجائے اس وقت ہمیں اس کی قوت ہوگی ہم حق کو اس جگہ پررکھ سکیں لیکن ان لوگوں نے کہا ہم اس کا علاج جنگ و جدل سے کریں گے ۔"(۲)

____________________

(۱):- الاصابہ فی تمییز الصحابہ ۔جلد دوم ۔ ص ۵۰۱-۵۰۲

(۲):- نہج البلاغہ ۔جلد دوم ۔مکتوب نمبر ۔۵۸۔ص ۶۵۱

۲۴۱

معاویہ کا خروج دراصل اس موروثی عداوت کا مظہر تھا جو اس کے خاندان کو بنی ہاشم سے تھی ۔بنی امیہ اور نبی ہاشم میں قبل اسلام بھی عداوت موجود تھی اور بنی امیہ نے ہمیشہ بنی ہاشم کو اپنے ظلم وجور کا نشانہ بنایا تھا ۔

حضرت عبدالمطلب کے زمانہ میں ان کا ایک یہودی غلام تھا جو کہ تجارت کرتا تھا ۔ یہ بات معاویہ کے دادا کو ناگوار گزری ۔چنانچہ حرب بن امیہ نے قریش کے چند نوجوانوں کو اس کے قتل اور اس کا مال لوٹنے پر آمادہ کیا ۔ اس کے بہکاوے میں آکر عامربن عبد مناف بن عبد الدار اور حضرت ابو بکر کے داد صخر بن حرب بن عمرو بن کعب التیمی نے اسے قتل کردیا اوراسکا مال لوٹ لیا تھا ۔(۱)

جنگ صفین

حضرت علی (ع) جنگ جمل سے فارغ ہوکر کوفہ تشریف لائے اور جریر بن عبداللہ بجلی کو اپنا قاصد بنا کر معاویہ کے پاس روانہ کی اور اسے اپنی خلافت وامارت کے تسلیم کرنے کی دعوت دی ۔

جریر حضرت علی (ع) کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے کافی دن تک اسے ملاقات کا وقت تک نہ دیا ۔ عمرو بن العاص سے مشورہ کیا کہ ہم کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے ؟

عمرو بن العاص نے اسے مشورہ دیا کہ اہل شام کا ایک اجتماع بلانا چاہئیے اور اس میں علی (ع) کو عثمان کا قاتل کہہ کر اس سے خون عثمان کا بدلہ لینے کی تحریک پیش کی جائے ۔اسی اثناء میں نعمان بن بشیر حضرت عثمان کی خون آلود قمیص مدینہ سے لے کے دمشق پہنچ گیا ۔

معاویہ نے خون آلود قمیص کو منبر پہ رکھا اور اہل شام کو قمیص دکھا کر

____________________

(۱):- ابن اثیر الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ص ۹

۲۴۲

ایک جذباتی تقریر کی ۔اہل شام نے معاویہ کے سامنے قسم کھائی کہ جب تک وہ خون عثمان کا بدلہ نہ لیں گے اس وقت تک اپنی بیویوں سے مقاربت نہ کریں گے اور نرم بستر پر نہ سوئیں گے ۔ جریر دمشق سے واپس آئے اور حضرت علی (ع) کو اہل شام کی بغاوت اور ان کے اعلان جنگ کی اطلاع دی ۔

حضرت علی بھی اپنا لشکر لے کر چل پڑے اور مقام نخیلہ میں قیام کیا اور مالک اشتر کو مقدمۃ الجیش کا سالار مقرر کرکے آگے روانہ کیا اور انہیں نصیحت کی کہ :-

"جنگ میں پہل نہ کرنا اور مخالف لشکر کے اتنا زیادہ قریب نہ ہونا کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز مخالف لشکر سے اتنا دوربھی نہ ہونا کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ ہم سے خوف زدہ ہوکر بھاگ گئے ہیں ۔ میرے آنے کا انتظار کرنا جب تک میں نہ آؤں جنگ نہ کرنا "۔

معاویہ کے لشکر نے فرات کے گھاٹ پر قبضہ کرلیا اور حضرت علی(علیہ السلام) کے لشکر کو پانی بھرنے سے روک دیا ۔ جب حضرت علی (علیہ السلام) آئے تو لشکر نے اپنی پیاس کی شکایت کی ۔حضرت علی (علیہ السلام ) نے صعصعہ بن صوحان کو معاویہ کے پاس بھیجا ۔،انہوں نے اس سے کہا کہ ہم تم سے بلاوجہ جنگ کرنا پسند نہیں کرتے مگر تم نے پانی بند کرکے ہمیں جنگ کی بالواسطہ دعوت دی ہے پانی پہر ہر جاندار کا حق ہے ۔تم اپنے فوجیوں کو حکم دو کہ وہ گھاٹ خالی کردیں تاکہ ہر شخص آزادی سے پانی پی سکے ۔معاویہ اپنی ضد پر اڑارہا ۔حضرت علی (ع) نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ :-معاویہ کی فوج کو گھاٹ سے دھکیل دیا جائے ۔

حضرت علی (ع) کی فوج نے معاویہ کی فوج پر حملہ کیا اور انہیں گھاٹ سے دور بھگا دیا اور پانی پر حضرت علی (ع) کی فوج کا قبضہ ہوگیا ۔ انہوں نے معاویہ کی فوج کو پانی دینے سے انکار کردیا ۔مگر حضرت علی (ع) کے سینہ میں ایک دردمند دل تھا انہوں نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۔

۲۴۳

اگر معاویہ بھی پانی بند کرے اور علی (ع) بھی پانی بند کرے تو علی (ع) اور معاویہ میں کیا فرق رہ جائے گا ؟

حضرت علی نے ابو عمر ،بشیر بن محصین الانصاری ،سعید بن قیس الھمدانی ،اور شبث بن ربعی التمیمی کو بلایا اور انہیں فرمایا کہ تم معاویہ کے پاس جاؤ اور اسے اطاعت امام اور جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دو ۔

یہ افراد معاویہ کے پاس گئے ،بشیر بن محصین الانصاری نے کہا:-

"معاویہ ! میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ بغاوت سے باز آجاؤ اور امت اسلامیہ کی تفریق سے بچو اور امت کی خون ریزی سے پر ہیز کرو " معاویہ نے کہا :- کیا ہم عثمان کا خون رائیگان جانے دیں ؟ خدا کی قسم میں ایسا کبھی نہیں کروں گا ۔

شبث بن ربعی التمیمی نے کہا :- معاویہ ! تیرے مطالبہ کا مقصد ہمیں خوب معلوم ہے ۔لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنی طرف مائل کرنے اور اپنی حکومت کے قیام کے لئے تو نے یہ نعرہ لگا یا ہے کہ تمہارا امام مظلم ہو کر مارا گیا ہے ۔ اور ہم اس کے خون کا بدلہ چاہتے ہیں ۔

ہمیں بخوبی علم ہے کہ تو نے عثمان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور تو نے جان بوجھ کر ان کی نصرت سے تاخیر کی تھی ۔ تم درحقیقت یہی چاہتے تھے کہ وہ قتل ہوجائیں اور ان کے قتل کو تو اپنی سیاست کے لئے استعمال کے سکے ۔

معاویہ ! خدا کا خوف کرو اور خلیفۃ المسلمین کی اطاعت کرو ۔

معاویہ نے اسے سخت سست کہا اور کہا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ اب ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔

اس کے بعد سنہ ۳۶ ھ میں حضرت علی اور معاویہ کے درمیان عارضی جنگ بندی

۲۴۴

ہوئی اور معاہدہ ہوا کہ ماہ محرم کے احترام کے پیش نظر جنگ بندی سے پرہیز کیا جائے ۔

معاویہ نے اس عارضی جنگ بندی سے سوء استفادہ کیا اور اپنے لشکر کی تعداد بڑھانی شروع کی ۔حضرت علی (ع) نے اس دوران معاویہ کے پاس قاصد روانہ کئے اور اسے جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی ۔لیکن معاویہ نے ہر سفارت کو ناکام لوٹا دیا ۔

معاویہ کی حرکات کی وجہ سے جنگ ناگزیر ہوگئی ۔جنگ کے آغاز سے پہلے حضرت علی (ع) نے اپنے لشکر کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا :-

"جنگ کی ابتدا تمہاری طرف سے نہیں ہونی چاہیئے ۔تم لوگ دلیل وحجت پر ہو اور تمہاری طرف سے جنگ کی ابتدا نہ کرنا تمہاری حجت ہے اورجب تم دشمن کو شکست دے دو تو کسی بھاگنے والا کا تعاقب نہ کرنا ۔کسی زخمی کو قتل نہ کرنا اور کسی مقتول کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔کسی کی پردہ دری نہ کرنا ۔کسی مخالف کے گھر میں داخل نہ ہونا اور کسی عورت پہ ہاتھ نہ اٹھانا خواہ وہ تمہیں اور تمہارے حکام کو سب وشتم بھی کرے ۔

درج بالا واقعات سے یہ نتائج مستنبط ہوتے ہیں ۔

۱:- اما م عالی مقام نے تمام ممکنہ ذرائع سے معاویہ کو دعوت اتحاد دی اور اسے مرکزی حکومت کی اطاعت میں شامل ہونے کی تلقین کی ۔

۲:-معاویہ کو تفریق بین المسلمین سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کی ۔

۳:- قتل عثمان کے قصہ کے متعلق حضرت عثمان کے وارث ان کےپاس آکر اپنے خون کا مقدمہ دائر کریں اور ضرور ی تحقیق کے بعد مجرمین کو سزادی جائے ۔

۴:- معاویہ نے عثمان کی خون آلود قمیص لہرا کر مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی ۔

۲۴۵

۵:-شامی لشکر کو ملا کر مرکز پر آورہوا ۔

۶:- دریائے فرات کے گھاٹ پر قبضہ کرکے حضرت علی (ع) کے ساتھیوں کو پانی سے محروم کردیا اس سے معاویہ کے غیر انسانی رویوں کا بخوبی اظہار ہوتا ہے ۔

۷:- حضرت علی (ع) کے لشکر نے بزور شمشیر گھاٹ خالی کرالیا ۔لیکن علی (ع) کی انسان دوستی ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے پانی سے کسی کو نہ روکا ۔

۸:- کربلا میں آل محمد (ع) کا جو پانی بند کیا گیا تھا وہ بھی کردار معاویہ کا ایک تسلسل تھا۔

۹:-حوصلہ شکن حالات کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نے فریضہ دعوت کو فراموش نہیں کیا ۔معاویہ کے پاس معززین کا ایک وفد روانہ کیا اور اسے جنگ سے باز رہنے کی دعوت دی ۔

۱۰:- معاویہ نے علی (ع) کے فرستادہ وفد کے دو ارکان سعید اور شبث کے درمیان دورجاہلیت کی عصبیت کو برانگیختہ کیا ۔

۱۱:- جنگ صفین میں باطل اور نور کے مقابلہ میں ظلمت کو شکست ہوئی اور معاویہ نے محسوس کیا کہ اب اس کی زندگی کا چراغ بجھنے ہی والا ہے ۔تو اس نے فطری روباہی سے کام لیتے ہوئے نیزوں پرقرآن بلند کئے اور کہا کہ اہل عراق جنگ بند کردو ۔ہم اور تم قرآن کے مطابق اپنے تنازعات کا فیصلہ کریں ۔

۱۲:- معاویہ کی یہ مکاری کامیاب رہی ۔ حضرت علی (ع) کے لشکر میں پھوٹ پڑگئی اور خوارج نے جنم لیا اور امام عالی مقام (ع) ان کے ہاتھ سے شہید ہوگئے ۔

درج بالا نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دوبارہ یہ کہیں گے کہ حضرت علی (ع) اور معاویہ کی جنگ دوایسے افراد کے درمیان جنگ تھی جو کہ ہر لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد تھے ۔

معاویہ کی سرشت یہ تھی کہ اپنے ہدف کے حصول کے لئۓ جائز اور ناجائز

۲۴۶

ذرائع کی اس کے پاس کوئی تخصیص نہ تھی ۔اپنے ہدف کے حصول کے لئے اس نے ہر قسم کے حربے آزمائے ،زہر دے کر اپنے مخالفین کو قتل کرایا ۔ ہر طرح کی عہد شکنی کی ۔مجہول النسب افراد کو ابو سفیان کا بیٹا بنایا ۔اعاظم صحابہ کو قتل کیا مثلا ۔حضرت عمار بن یاسر ۔حضرت اویس قرنی ،حضرت خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین جیسے افراد اور حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا ۔

معاویہ کی نگاہ میں اخلاق عالیہ اور انسانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ معاویہ کے پاس طمع ولالچ کا ہتھیار تھا ۔ جب کہ حضرت علی کے پاس اسلامی اقدار کا ہتھیار تھا ۔ معاویہ کے سامنے ایک وسیع میدان تھا کیونکہ اس کی نگاہ میں جائز اور ناجائز کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اس کے ہاں اگر اہمیت تھی تو صرف اور صرف اپنے مقصد کے حصول کی تھی ۔ جبکہ حضرت علی کے سامنے میدان بڑا تنگ تھا ۔علی علیہ السلام صرف وہی کرسکتے تھےجس کی اسلام اجازت دیتا تھا ۔

معاویہ کے مقربین اور حضرت علی کے مقربین میں بھی فرق تھا ۔

معاویہ کے مقرب بننے کا معیار استحصالی ہونا تھا اور حضرت عیل کا مقرب بننے کے لئۓ اسلامی تعلیمات کا عامل بننا ضروری تھا ۔

معاویہ کے احباب میں عمرو بن العاص اور بسر بن ارطاۃ جیسے افراد نمایاں تھے ۔ حضرت علی (ع) کے احباب میں حضرت عمّار یا سر اور اویس قرنی اور حضرت حجر بن عدی جیسے قائم اللیل اور صائم النہار افراد نمایاں تھے ۔

احباب کی طرح پیروکاروں کا بھی فرق تھا ۔

معاویہ کے پیروکاروں میں ایسے افراد شامل تھے جنہیں اونٹ اور اونٹنی کے فرق کا علم نہیں تھا ۔

اور اس کے برعکس حضرت علی علیہ السلام کے پیروکار اکثر فقیہ اور محدث تھے ۔ البتہ ایک صفت ایسی ضرور تھی جس میں معاویہ کو تفوق حاصل تھا اور وہ

۲۴۷

صفت یہ تھی ۔ کہ معاویہ کا لشکر اس کا مثالی اطاعت گزار تھا ۔ جب کہ حضرت کے لشکر میں ٹال مٹول کرنے والے کافی افراد موجودتھے ۔

اہل شام کی اطاعت کی انتہا یہ ہے کہ معاویہ نے بدھ کے دن نماز جمعہ پڑھائی تو کسی نے بھی اعتراض نہ کیا(۱) ۔

معاویہ نے اپنی رعایا میں جہالت کو رائج کیا اور ایک طویل عرصہ تک اہل شام کی جہالت ضرب المثل بنی رہی ۔

مسعودی نے ایک دلچسپ حکایت لکھی ہے :-

"ایک اہل علم نے مجھے بتایا کہ اہل علم کی ایک جماعت ابو بکر وعمر اور علی ومعاویہ کے متعلق بحث کررہی تھی ۔ ایک عقل مند اور دور اندیش شامی نے کہا کہ تم علی ومعاویہ کی بحث کس لئے کررہے ہو ؟

ایک اہل علم نے اس سے پوچھا کہ تم علی (ع) کو جانتے ہو ؟

شامی نے کہا کیوں نہیں ؟ جنگ حنین میں علی رسول (ص) کے ساتھ شہید ہوگیا تھا ۔"

اہل شام کی جہالت کی ایک اور مثال پیش خدمت ہے :

مروان الحمار کی تلاش میں عبداللہ بن علی اپنا لشکر لے کر دمشق گیا ۔ اس نے دمشق سے چند بزرگ اور معزز افراد کو ابو العباس سفاح کے پاس بھیجا ۔جنہوں نےسفاح عباسی کے سامنے قسم کھا کر کہا کہ " تمہاری حکومت آنے سے پہلے ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ بنی امیہ کے علاوہ بھی رسول خدا (ص) کے کوئی رشتہ دار ہیں ۔ہمیں تو آج تک بنی امیہ نے یہی باور کرایا تھا کہ وہی رسول خدا (ص) کا خاندان اور ان کے وارث ہیں ۔"(۲)

____________________

(۱):- المسعودی ۔مروج الذھب ومعادن الجوہر ۔جلددوم ۔ص ۳۳۴

(۲):- المسعودی ۔مروج الذھب معادن الجوہر۔جلد دوم ۔ ص ۵۱

۲۴۸

معاویہ نے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لئے عوام میں جہالت کو فروغ دیا اور امت اسلامیہ کی نظریاتی سرحدوں کو کمزور کرنے کےلئے "وضع حدیث " سے کام لیا اور اس کے حکم وترغیب کی وجہ سے فضائل ثلاثہ کی ہزاروں احادیث وضع کی گئیں اور ابو ہریرہ اور اس کے ہم نوا دن رات حدیث سازی میں مصروف ہوگئے اور حدیث سازی کو باقاعدہ "صنعت" کا درجہ حاصل ہوگیا اور اس بہتی گنگا میں ہزاروں افراد نے ہاتھ دھوئے ۔

اپنے مخالفین کو زہر دےکر ختم کرانا معاویہ کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس نے حضرت علی (ع)کے حاکم مصر مالک اشتر کو ایک زمیندار کے ہاتھ سے زہر دلوایا اور زمیندار سے خراج کی معافی کا وعدہ کیا گیا ۔ معاویہ کے بہکاوے میں آکر اس زمیندار نے حضرت مالک کو کھانے کی دعوت دی اور شہد میں انہیں زہر دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے حضرت مالک اشتر شہیدہوگئے ۔

اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمر وبن العاص بیٹھ کر کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا ایک لشکر ہے ۔

معاویہ نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کو ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ زہر دلوایا ۔

معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بعض اوقات خوشامد اور چاپلوسی سے کام لیتا تھا اور بعض اوقات اپنے مخالفین کے خلاف فوجی قوت کو بے دریغ استعمال کرتا تھا ۔

معاویہ نے اپنے ایک شقی القلب ساتھی بسر بن ارطاۃ کو ایک بڑا لشکر دے کر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ حضرت علی کے زیر نگیں علاقے میں جاکر فوجی کاروائی کرے ۔

بسر نے حضرت علی (ع) کی مملکت میں بہت زیادہ خون ریزی کی ۔مسلمانوں

۲۴۹

کے اموال کو لوٹا اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اور ان سے معاویہ کی جبری بیعت لی ۔

پھر وہ بدبخت یمن گیا حاکم یمن اس کی آمد کی خبر سن کر فرار ہوگیا ۔چنانچہ بسر نے یمن میں بے دریغ قتل عام کیا اور ہل یمن سے بھی معاویہ کی بیعت لی ۔

اس نے عبید اللہ بن عباس کے دو چھوٹے بچوں کو قتل کردیا ۔ حضرت علی (ع) کو ان واقعات کی اطلاع ملی تو انہوں نے جاریہ بن قدام کو بسر کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا ۔

حضرت علی (ع) کے فوجی دستہ کا سن کر وہ لعین شام بھاگ گیا ۔

جاریہ نے اہل یمن کو حضرت علی (ع) کی بیعت کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کرلی ۔پھر جاریہ مکہ مکہ آیا تو اسے معلوم ہوا کہ اسلام کا محافظ علی (ع) شہید ہوگیا ہے ۔(۱)

درج بالا حالات س معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ میں انسانیت کی بہ نسبت حیوانیت اور درندگی کا عنصر زیادہ پایا جاتا تھا اور اس کی حیوانیت کے تحت ہمیشہ بدلتی رہتی تھی ۔ کمزور افراد کو بھیڑئیے کی طرح چیر دیتا اور طاقت ور افراد کے سامنے روباہیت سے کام لیتا تھا ۔

اس کے برعکس حضرت علی کی زندگی خوف خدا ، انسان دوستی اور احکام شرع کی پابندی سے عبارت تھی ۔ حضرت علی (ع) عدالت کے داعی تھے ۔

مختصر الفاظ میں ان دونوں کی زندگی کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے :- جس قدر معاویہ میں خامیاں تھیں ۔اسی قدر علی علیہ السلام میں خوبیاں تھیں اور معاویہ کے پاس ظلم کا جتنا ذخیرہ تھا ،علی کے پاس اتنی ہی مقدار میں عدل تھا ۔ حضرت علی (ع) بخوبی جانتے تھے کہ بنی امیہ امت اسلامیہ کی تقدیر کے مالک بن جائیں گے اور اسی

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسیس مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔۱۵۰

۲۵۰

کی پیش گوئی کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا "اما والذی نفسی بیده ۔۔۔۔۔"

"اس ذات برحق کی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے ! یہ لوگ تم پر غالب آجائیں گے ۔وہ اس لئے غالب نہیں ہونگے کہ وہ بر حق پر ہیں ۔ ان کے غلبہ کی وجہ ہے کہ وہ اپنے باطل کی بھی پیروی پر کمر بستہ رہتے ہیں جب کہ تم حق کے لئے بھی سستی اور تساہل سے کام لیتے ہو۔

حالت یہ ہے کہ رعایا کو اپنے استحکام کا خوف ہوتا ہے ۔لیکن آج میں اپنی رعایا کے ظلم سے خوف زدہ ہوں "۔

ایک اورمقام پر آپ نے اصحاب کی تساہل پسندی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا "احمد الله علی ماقضی من امر وقدر من فعل وعلی ابتلائی بکم ۔۔۔۔"

"میں اللہ کی حمد وثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا اور اس کام پر جو اس کی تقدیر نے طے کیا ہو اس آزمائش پر جو تمہارے ہاتھوں اس نے میری کی ہے ۔

اے لوگو! کہ جنہیں کوئی حکم دیتا ہوں تو نافرمانی کرتے ہیں اور پکارتا ہوں کہ تو میری آواز پر لبیک نہیں کہتے ۔اگر تمہیں (جنگ سے ) کچھ مہلت ملتی ہے تو ڈینگیں مارنے لگتے ہو اور اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بزدلی دکھاتے ہو اور جب لوگ امام پر ایکا کرلیتے ہیں تو تم طعن وتشنیع کرنے لگتے ہو اور اگر تمہیں (جکڑ باندھ کر ) جنگ کی طرف لایا جاتا ہے تو الٹے پیروں لوٹ جاتے ہو۔تمہارے دشمنوں کا برا ہو ۔تم اب نصرت کے لئے آمادہ ہونے اور اپنے حق کے لئے جہاد کرنے میں کس چیز کے منتظر ہو ۔موت کے یا اپنی ذلت ورسوائی کے ؟ خدا کی قسم ! اگرمیری موت کا دن آئے گا اور البتہ آکر رہے گا تو وہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دےگا ۔درآنحالیکہ میں تمہاری ہم نشینی سے بیزار اور (تمہاری کثرت کے باوجود )اکیلا ہوں ۔ اب تمہیں اللہ ہی اجر دے ۔کیا کوئی دین تمہیں ایک مرکز پر

۲۵۱

جمع نہیں کرتا اور غیرت تمہیں (دشمن کی روک تھام پر) آمادہ نہیں کرتی ۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ معاویہ چند تند مزاج اوباشوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ بغیر کسی امداد واعانت اور بخشش وعطا کرے اس کی پیروی کرتے ہیں ۔اور میں تمہیں امداد کے علاوہ تمہارے معیّنہ عطیوں کے ساتھ دعوت دیتا ہوں مگر تم مجھ سے پراکندہ ،منتشر ہوجاتے ہو اور مخالفتیں کرتے ہو حالانکہ تم اسلام کے رہے سہے افراد اور مسلمانوں کا بقیہ ہو ۔تم تو میرے کسی فرمان پر راضی ہوتے اور نہ اس پر متحد ہوتے ہو چاہے وہ تمہارے جذبات کے موافق ہو یا مخالف ۔میں جن چیزوں کا سامنا کرنے والا ہوں ۔ ان میں سے سب سے زیادہ محبوب مجھے موت ہے میں نے تمہیں قرآن کی تعلیم دی اوردلیل وبرہان سے تمہارے درمیان فیصلے کئے اور ان چیزوں سے تمہیں روشناس کیا جنہیں تم نہیں جانتے تھے اور ان چیزوں کو تمہارے لئےخوشگوار بنایا جنہیں تم تھوک دیتے تھے ۔کاش کہ اندھے کو کچھ نظرآئے اور سونے والا (خواب غفلت سے بیدار ہو ۔وہ قوم اللہ کے احکام سے کتنی جاہل ہے کہ جس کا پیشرو معاویہ اور معلم نابغہ کا بیٹا ہے ۔"

ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا ۔

تم نے میری بیعت اچانک نہیں کی اور میرا اور تمہارا معاملہ یکساں نہیں ہے ، میں تمہیں اللہ کے لئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنی ذات کے لئے چاہتے ہو ۔

اے لوگو!تم اپنے نفس کے خلاف میری مدد کرو ۔خدا کی قسم ! میں مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاؤں گا اور میں ظالم کو بالوں سے پکڑ کر اسے گھسیٹا ہوا حق کے گھاٹ پر لاؤں گا۔ اگر چہ اس کو ناپسند کرتا ہو۔

۲۵۲

فصل ششم

تحکیم ۔مارقین ۔شہادت

حضرت علی نے جنگ سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن معاویہ جنگ کے شعلے کا خواہش مند تھا ۔ آخر کار فریقین میں جنگ چھڑ گئی ۔ جب معاویہ نے محسوس کیا کہ اس کا لشکر شکست کھانے والا ہے تو اس نے عمرو بن العاص سے کہا کہ : تمہارے ذہن میں کوئی ایسی ترکیب موجود ہے جس سے ہمارہ لشکر متحد ہوسکے اور ہمارے مخالفین منتشر ہوسکیں ؟

عمرو بن العاص نے کہا : جی ہاں ۔

معاویہ نے کہا :- تم وہ ترکیب یہ ہے تا کہ ہم حتمی شکست سے بچ جائیں ۔

عمرو بن العاص نے کہا کہ : ترکیب یہ ہے کہ قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کیا جائے اور اہل عراق سے کہا جائے کہ جنگ بند کردیں ۔قرآن کے مطابق فیصلہ کریں ۔اس سے اہل عراق میں انتشار پیدا ہوگا اور شامی لشکر مضبوط ہوجائے گا ۔

چنانچہ شامی لشکر نے قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کرکے کہا : اہل عراق ! لڑائی بند کرو اللہ کی کتاب کو فیصل قراردو۔

حضرت علی (ع) کی فوج نے جب قرآن مجید کو دیکھا توکہا ۔ہم اللہ کی کتاب کو لبیک کہتے ہیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : بندگان خدا: اپنے حق پر قائم رہو اور اپنے حق کے اثبات کیلئے جنگ کرتے رہو ۔معاویہ ،عمرو بن العاص اور ابن ابی معیط نہ تو دیندار ہیں اور نہ ہی اہل قرآن ہیں ۔ میں تمہاری بہ نسبت ان لوگوں کو زیادہ بہتر جانتا ہوں ۔ میں انہیں بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے اس عمر تک بخوبی جانتا ہوں ۔انہوں نے قرآن کو صرف دھوکہ دینے کی غرض سے بلند کیا ہے ۔

حضرت علی (ع) کی فوج کی اکثریت نے کہا : یہ بات نازیبا ہے کہ مخالف

۲۵۳

ہمیں قرآن کی دعوت دے او رہم اس دعوت کو قبول نہ کریں ۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا : میں بھی تو ان سے اسی لئے جنگ کررہا ہوں تاکہ یہ لوگ قرآنی فیصلوں کو تسلیم کریں یہ لوگ احکام خداوندی کی نافرمانی کرچکے ہیں ۔

مگر اہل عراق کی اکثریت نے ہتھیار ڈال دیئے اور جنگ کرنے سے انکار کردیا ۔

حضرت علی کو مجبورا جنگ روکنا پڑی ۔

طے یہ ہوا کہ فریقین اپنا ایک ایک نمائندہ منتخب کریں اور فریقین کے نمائندے جو فیصلہ کریں وہ دونوں کوقبول ہوگا ۔

معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص نمائندہ مقرر ہوا اور اہل عراق نے ابو موسی اشعری کے تقرر کی خواہش کی ۔ حضرت علی نے فرمایا تم جنگ بند کرکے میری نافرمانی کرچکے ہیں اب دوسری مرتبہ میری نافرمانی مت کرو مجھے ابو موسی اشعری پہ اعتماد نہیں ہے ۔میری طرف سے میرا فرزند حسن نمائندگی کرے گا ۔

اہل عراق نے اس پہ اعتراض کیا کہ وہ آپ کا فرزند ہونے کے ناطے خود ایک فریق ہے ۔حضرت علی نے فرمایا اگر تم بیٹے پر راضی نہیں ہو تو پھر میری نمائندگی عبداللہ بن عباس کرےگا ۔

مگر اہل عراق کے عقل پر پتھر برس چکے تھے انہوں نے کہا کہ وہ بھی آپ کے ابن عم ہیں ،ابو موسی ہر لحاظ سے غیر جانبدار ہے ۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ ابو موسی بھروسہ کے قابل نہیں ہے یہ ہمیشہ میری مخالفت میں پیش پیش رہا ہے اور لوگوں کو مجھ سے علیحدہ کرتارہا ہے مگر اہل عراق نے ابو موسی پر اصرار کیا ۔

مجبورا حضرت علی نے فرمایا پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے رہو ۔

اس کے بعد حکمین کے لئے شرائط نامہ لکھا گیا جس کے چیدہ نکات

۲۵۴

درج ذیل تھے :

یہ معاہدہ علی بن ابی طالب اورمعاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہے ۔

۱:- ہم اللہ کے فرمان کی پابندی کریں گے ۔

۲:- ہم کتاب اللہ کی پابندی کریں گے ۔

۳:- حکمین کتاب اللہ پر خوب غور وخوص کرکے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔

۴::- کتاب اللہ میں اگر انہیں اس نزاع کا حل نہ مل سکے تو پھر "سنت جامعہ غیر مفرقہ" کی روشنی میں اس نزاع کا حل تلاش کریں گے ۔

پھر حکمین نے فریقین سے پنی جان ومال کی حفاظت کا وعدہ لیا(۱) ۔

معاہدہ پر حضرت علی اور معاویہ کے گروہوں میں سے سربرآوردہ افراد نے دستخط کئے اور اس کے ساتھ یہ طے ہوا کہ حکمین مقام "دومۃ الجندل " میں ملاقات کریں گے اور وہیں اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔

حضرت علی اپنے لشکر کو لے کر کوفہ چلے آئے اور معاویہ دمشق روانہ ہوا ۔

جب مذکورہ تاریخ پر دومۃ الجندل کے مقام پر حکمین کی ملاقات ہوئی تو عمرو بن العاص نے ابو موسی اشعری سے کہا کہ تو معاویہ کو خلافت کیون نہیں سونپ دیتا ؟

ابو موسی اشعری :- نے کہا کہ معاویہ خلافت کے لائق نہیں ہے ۔

عمروبن العاص : کیا تجھے علم نہیں ہے کہ عثمان مظلوم ہو کر قتل ہوئے ہیں ؟

ابو موسی اشعری :جی ہاں !

عمرو بن العاص : معاویہ عثمان کے خون کا طالب ہے ۔

ابو موسی اشعری : عثمان کا بیٹا عمرو موجود ہے اس کی موجودگی میں معاویہ عثمان کا وارث نہیں بن سکتا ۔

____________________

(۱):- ابن اثیر /الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۱۶۰ ۔۱۶۸

۲۵۵

عمرو بن العاص :اگر آپ میرا کہنا مان لیں تو اس سے عمربن الخطاب کی سنت زندہ ہوجائےگی ۔ آپ میرے فرزند عبداللہ کو خلیفہ بنائیں ۔

ابو موسی اشعری : تیرے بیٹے کو خلیفہ بنانے کی بجائے عبداللہ بن عمر کو کیوں نہ خلیفہ نامزد کیا جائے ؟

عمر بن العاص : عبداللہ بن عمر خلافت کے لائق نہیں ۔خلافت کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کی دو داڑھیں ہوں ۔ایک داڑھ سے خود کھائے اور دوسری سے لوگوں کو کھلائے ۔

ابو موسی اشعری :" میں یہ چا ہتا ہوں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں اور مسلمانوں کو کھلی چھٹی دے دیں و ہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ منتخب کریں ۔"

عمر و بن العاص :- مجھے آپ کی یہ بات پسند ہے ۔اور اسی میں لوگوں کی بھلائی ہے ۔آپ چلیں اور مجمع عام میں اپنے اس فیصلہ کا اعلان کریں ۔

حکمین باہر آئے اور ابو موسی نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا ۔ ہم دونوں ایک نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں اور ہم خلوص دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں امت کی بھلائی ہے ۔

عمرو بن العاص نے کہا : بے شک آپ سچ کہتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس نے ابو موسی اشعری کو کہا کہ احتیاط کرو ، اگر تم نے کوئی متفقہ فیصلہ کرلیا ہے تو پہلے عمرو بن العاص سے کہو کہ وہ آکر حاضرین کے سامنے اپنا فیصلہ بیان کرے تم بعد میں گفتگو کرنا ۔ تمہیں شاید علم نہیں ہے کہ تمہارا واسطہ ایک مکار اور عیار شخص سے ہے ۔ لہذا اس پر ہرگز اعتماد نہ کرو اور بولنے میں سبقت نہ کرو ۔

ابو موسی نے عمرو بن العاص سے کہا کہ پہلے تم آؤ اور فیصلے کا اعلان کرو لیکن مکار عمرو بن العاص نے کہا کہ آپ رسول خدا (ص) کے برگزیدہ صحابی ہیں میری

۲۵۶

کیا مجال کہ میں آپ پر سبقت کروں آپ ہی اعلان میں پہل فرمائیں ۔

ابو موسی اشعری اس کے دھوکے میں آگیا اور اعلان کیا :- اے بندگان خدا! ہم نے اس مسئلہ پر تفصیلی غور کیا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں ۔ اسے کے بعد لوگ جسے چاہیں اپنا خلیفہ مقرر کریں ۔میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتا ہوں ۔

یہ اعلان کرکے ابو موسی اشعری پیچھے ہٹ گیا اور عمرو بن العاص نے آکر کہا : جو کچھ ابو موسی اشعری نے کہا ہے وہ تم نے سن لیا ہے اس نے اپنے ساتھی علی کو معزول کیا میں بھی اسے معزول کرتا ہوں اور میں اپنے ساتھی معاویہ کو خلافت پر بحال کرتاہوں کیوں کہ وہ عثمان بن عفان کا وارث اور اس کے خون کے بدلہ کا طالب ہے اور وہی اس کی نیابت کے قابل ہے ۔

ابو موسی اشعری : -عمرو بن العاص !خدا تجھے غارت کرے تو نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تیری مثال کتے کی جو ہر حالت میں بھونکتا رہتا ہے ۔

عمرو بن العاص ؛- تیری مثال گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا بو جھ لدا ہو ۔

اہل شام نے ابو موسی کی زبان درازی پر اسے سزا دینی چاہی اور اسے تلاش کیا ابو موسی چھپ گيا اور بعد ازاں مکہ چلا گیا ۔

حکمین کے اس فیصلہ کو کسی صورت بھی قرین عد ل نہیں کہا جا سکتا اس فیصلہ میں حق وصداقت کو قتل کیا گیا ہے ۔ابو موسی نے اس فیصلہ میں برادر حضرت علی (ع) سے اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے اور اپنی سادگی اور جہالت کی وجہ سے عمروبن العاص سے دھوکا بھی کھایا ہے اس لئے حضرت علی (ع) نے قرآن بلند کرنے کے وقت ہی فرمایا تھا کہ :- یہ دشمن کی چال ہے تم اس کے دام فریب میں مت پھنسو اور مزید یہ کہ معاویہ ،عمروبن العاص اور ابن ابی معیط کا قرآن سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا دین سے کوئی تعلق ہے ۔

۲۵۷

عمر بن العاص کی شخصیت

تحکیم کی بحث سے پہلے ہم عمرو بن العاص کی شخصیت کے متعلق کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو معاویہ کے "دست راست" کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہوسکیں ۔عمرو کا باپ عاص السہمی ان لوگوں میں شامل تھا جو حضور کریم کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور انہیں کے متعلق اللہ تعالی نے سورۃ کوثر میں ارشاد فرمایا : انّ شائنک ھو الابتر" بے شک تیرا دشمن ہی بے نام ونشان ہوگا ۔(۱)

"مستہزئین" یعنی حضور اکرم (ص) کا ٹھٹھہ مذاق اڑانے والی جماعت کے دوسرے افراد کا ذکر کرتے ہوئے ابن خلدون لکھتے ہیں :- جب قریش نے دیکھا کہ رسول خدا کا چچا اور ان کا خاندان محمد مصطفی (ص)کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہیں اوروہ کسی بھی قیمت پر رسول خدا (ص) پر آنچ نہیں آنے دیتے تو انہوں نے یہ وطیرہ بنایا کہ باہر سے جو بھی شخص مکہ آتا وہ اس کے پاس پہنچ جاتے اور اسے بتاتے کہ ہمارے ہاں ایک جادوگر ،شاعر اور مجنون موجود ہے ۔تم اس کی باتوں میں نہ آنا ۔(نعوذ باللہ)

اور رسول خدا کی اذیت وجماعت کے لئے ایک پوری جماعت تشکیل دی گئی جس میں ربیعہ کے دو بیٹے عتبہ اور شبہ اور عقبہ بن ابی المعیط اور ابو سفیان اور حکم بن امیہ اور عاص بن وائل اور اس کے دو چچا زاد نبیہ اور منبہ شامل تھے ۔

یہ لوگ ہر جگہ رسولخدا (ص)کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔اور اگر کبھی موقع پاتے تو حضور اکرم کو اپنے ہاتھوں سے بھی اذیت پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے ۔

عمرو بن العاص کی ماں اپنے زمانہ کی مشہور بدکردار عورت تھی جو اہل ثروت کے بستر کی زینت بنا کرتی تھی اور اس کے گھر پر اس دور کے دستور کے مطابق

____________________

(۱):- ابن اثیر ۔ الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص ۴۹-۵۰

۲۵۸

جھنڈا بندھا رہتا تھا

جب عمرو کی پیدائش ہوئی تو اس پر عاص اور ابو سفیان کا جھگڑا ہوا ، دونوں اسے اپنے نطفہ کا ثمر قرار دیتے تھے ۔چنانچہ جب ان کے درمیان اختلاف بڑھا تو فیصلہ کے لئے اس کی ماں کی رائے دریافت کی گئی اس نے کہا کہ یہ عاص کا بیٹا ہے ۔

جب اس عورت سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنے بیٹے کا الحاق ابو سفیان کی بجائے عاص سے کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ ابو سفیان کنجوس ہے جب کہ عاص مجھ پر بے تحاشہ دولت لٹا تا ہے ۔

ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے ۔اور ماں کی شخصیت بچہ پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ عمرو اسی ماں کا دودھ پی کر بڑھا اور دشمن رسول (ص) باپ کی تربیت میں رہا ۔جب ماں اس قماش کی ہو اور باپ کا طرز عمل یہ ہو تو اولاد کب نجیب ہو سکتی ہے ۔(۱)

عمر وبن العاص عنفوان شباب میں اسلام کا بد ترین دشمن تھا اور غزوہ احد میں کفار کے ساتھ شامل تھا اور غزوہ احد کیلئے اس کے شعر بھی بڑے مشہور ہیں ۔

جب عمرو نے دیکھا کہ رسول خدا(ص) ہر مقام پر فاتح بن رہے ہیں تو اسے اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ۔اس نے کھلم کھلا دشمنی کے بجائے دغا بازی اور مکاری سے کام کیا ۔

ابن ہشام عمرو کی زبانی نقل کرتے ہیں ۔

جب ہم غزوہ احزاب سے بے نیل ومرام واپس آئے تو میں نے قریش کے ان چند سرکردہ افراد کو جمع کیا جو میری بات سنتے اور مانتے تھے ۔

میں نے ان سے کہا کہ : میں دیکھ رہا ہوں کہ محمد کا امرروز بروز ترقی کررہا

____________________

(۱):- ابن خلدون ۔کتاب العبرودیوان المبتداوالخبر ۔جلد دوم ۔ص ۱۷۷

وعبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص ۲۷۰

۲۵۹

ہے ،میرا خیال یہ ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اگر محمد ہماری قوم پر غالب آگئے تو ہمارے لئے محمد کی غلامی کی بہ نسبت نجاشی کی غلامی ہزار گنا بہتر ہوگی اور اگر ہماری قوم محمد غالب آگئی تو ہم اپنی قوم کا ساتھ دیں گے ۔(۱)

عمرو بن العاص وہی شخص ہے جس نے عثمان بن عفان کو عبیداللہ بن عمر پر جاری کرنے سے منع کیا تھا ۔ اور انہیں کہا تھا کہ ہرمزان اور جفینہ کا بدلہ آپ پر واجب ہی نہیں ہے کیونکہ جس وقت عبیداللہ نے ان کو قتل کیا تھا اس وقت آپ حاکم نہیں تھے ۔(۲)

ہمیں عمرو بن العاص پر تعجب ہے کہ اس نے حضرت عثمان کو ہرمزان اورجفینہ کے قتل کے بدلہ سے اس لئے بری قراردیا تھا کہ جب مذکورہ افراد قتل ہوئے تو اس وقت حضرت عثمان کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی لیکن قتل عثمان کے بعد حضرت علی سے قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے میں یہ شخص پیش پیش تھا تو کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب عثمان قتل ہوئے اس وقت حضرت علی کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ۔

عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس

عمرو بن العاص کے متعلق ہم سابقہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ موصوف حضرت عثمان کے شدید ترین مخالفوں میں سے ایک تھے اور اپنے ہر ملنے والے کو حضرت عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا کرتے تھے اور اپنے قول کے مطابق "میں نے جس چرواہے سے بھی ملاقات کی ۔اسے عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا ۔"

موصوف نے معاویہ بن ابی سفیان کا ساتھ مفت میں نہیں دیا تھا اس کی

____________________

(۱):- سیرت ابن ہشام ۔جلد دوم ص ۱۷۷

(۲):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد چہارم ۔ص ۸۳

۲۶۰