المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 14641
ڈاؤنلوڈ: 315

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 14641 / ڈاؤنلوڈ: 315
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

باقاعدہ معاویہ سے قیمت وصول کی تھی ۔عمرو بن العاص خلیفہ ثالث کے عہد میں مصر کا گورنر تھا ۔ لیکن حضرت عثمان نے انہیں گورنری سے معزول کرکے ابن ابی سرح کو وہاں کا حاکم بنایا ۔

عمرو بن العاص کو اس پر بہت غصہ آیا اور عثمان کے ساتھ اس کی اچھی خاصی جھڑپ ہوئی اور بعد ازاں اپنی جاگیر پر آیا اس کی جاگیر فلسطین میں واقع تھی ۔وہاں اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ رہنے لگا اور مقامی آبادی کو حضرت عثمان کے خلاف ابھارتا رہا ۔ آخر کار وہ وقت آیا جس کا اسے انتظار تھا اس کو اطلاع ملی کہ حضرت عثمان مارے گئے اور حضرت علی (ع) خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے ہیں اور معاویہ نے مرکزی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا ہے ۔

معاویہ نے اسے اپنے ساتھ شمولیت کی دعوت دی تو اس نے مصر کی حکومت کا تحریری وعدہ لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا ۔ معاویہ نے اسے تحریر لکھ دی کہ اگر وہ مصر پر قابض ہوا تو وہاں گورنری اس کے حوالے کرے گا ۔

اس نے اپنے دونوں بیٹوں سے اپنے مستقبل کی سیاسی زندگی کے لئے مشورہ لیا ۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر تجھے ہر صورت حصہ لینا ہی ہے تو پھرعلی (ع)جماعت میں شامل ہو جا ۔

عمرو نے بیٹے ے کہا : اگر میں علی (ع) کی جماعت میں شامل ہوجاؤں تو مجھے وہاں سے کوئی مفاد حاصل نہیں ہوگا ۔

علی (ع) میرے ساتھ عام مسلمان کا سابرتاؤ کریں گے اور اس کے برعکس اگرمیں معاویہ کے پاس چلا گیا تو وہ میری بڑی عزت کرے گا اور اپنا مشیر خاص بنائے گا اور حسب وعدہ مصر کی حکومت بھی میرے حوالے کرے گا ۔

اس کے دوسرے بیٹے محمد نے معاویہ کے پاس جانے کا مشورہ دیا ۔ عمرو بن العاص نے اپنے بیٹے عبداللہ کے متعلق کہا کہ : تو نے مجھے آخرت سنوارنے کا

۲۶۱

مشورہ دیا ہے اور میرے دوسرے بیٹے محمد نے مجھے دنیا سنوارنے ک مشورہ دیا ہے ۔ آخرت ادھار ہے اور دنیا نقد ہے ، عقلمند وہی ہے جو ادھار کو چھوڑ کر نقد کو اپنا ئے ۔

عمرو بن العاص ، معاویہ کے پاس آیا اور دوران ملاقات کہا کہ : معاویہ خدا لگتی بات یہی ہے کہ ہم علی (ع) سے افضل نہیں ہیں کہ اس کی مخالفت کریں ، ہم تو علی (ع) کی مخالفت حصول دنیا کی خاطر کررہے ہیں ۔(۱)

تحکیم میں معاویہ کا نمائندہ یہی عمرو بن العاص تھا ۔

حضرت علی کانمائندہ ابو موسی اشعری تھا اوروہ جب کوفہ کا والی تھا تو لوگوں کو حضرت علی (ع) کی حمایت سے منع کرتا تھا ،آخر کار حضرت علی نے مجبورا اسے معزول کردیا تھا ۔

تحکیم اور موقف علی (ع)

حضرت علی (ع) کے موقف تحکیم کو سمجھنے کے لئے تحکیم کی اصلیت وماہیت کا جاننا ضروری ہے ۔

دینی اعتبار سے پوری امت اسلامیہ کا مشترکہ عقیدہ ہے کہ باہمی مشاجرات وتنازعات کے حل کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئیے اور حضرت علی کا بھی روز اول سے یہی نظریہ تھا ۔

حضرت علی (ع) کی سیاست کی بنیاد ہی قرآن مجید پر تھی آپ نے ہمیشہ اپنوں اور غیروں سے وہی سلوک کیا جس کا قرآن حکم دیتا تھا ۔

اور اسی تمسّک بالقرآن اور عدل قرآنی پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ کو چھوڑ کر مخالفین کے پاس چلے گئے تھے لیکن آپ نے عدل قرآنی کو ہمیشہ مقدّم رکھا ۔

____________________

(۱):-عباس محمود العقاد ۔"معاویہ بن ابی سفیان ۔ص ۵۳-۵۵

۲۶۲

حضرت علی قرآن کے فیصلہ کے حامی تھے قیام صفین میں حضرت علی نے تحکیم کی مخالفت صرف اس لئے فرمائی تھی کہ دشمن قرآن کو بلند کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔

تحکیم کی دعوت ہی وہ افراد دے رہے تھے جنہوں نے ہمیشہ قرآن اور صاحب قرآن سے جنگیں کی تھیں اور تحکیم کی دعوت دینے والے وہ افراد تھے جنہوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن کی کبھی پیروی نہ کی تھی ۔

عمرو بن العاص نے قرآن بلند کرنے کا مشورہ اتباع قرآن کے اشتیاق میں نہیں دیا تھا بلکہ اپنی حتمی شکست سے بچنے کے لئے دیا تھا ۔

قرآن مجید بلند کرنے کےلئے پورا پروگرام رات کی تاریکی میں مکمل کیا گیا ۔ دمشق کے مصحف اعظم کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پانچ نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔ علاوہ ازیں لشکر معاویہ میں جتنے قرآن مجید کے نسخے موجود تھے ، ان سب کو یکجا کیا گیا اور نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔

صبح صادق کے وقت شامی قرآن اٹھا کر عراقی لشکر کے سامنے آیا ۔ روشنی پھیلنے سے قبل عراقی لشکر کو پتا ہی نہ چل سکا کہ شامی لشکر نے کیا بلند کیا ہوا ہے ۔

جیسے ہی صبح کی روشنی پھیلی تو لشکر شام کا ایک افسر ابو الاعور السلمی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھا ، اس نے اپنے سر پر قرآن رکھا تھا اور یہ اعلان کررہا تھا :

"اے اہل عراق ! اللہ کی کتاب تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی یہ سن کر حضرت علی نے فرمایا ۔

بندگان خدا! میں سب سے پہلے کتاب اللہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتاہوں لیکن یاد رکھو کہ یہ لوگ قرآن کی آڑ میں تمہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں اب یہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں اور چند حملوں کے بعد انہیں شکست فاش ہونے والی ہے

۲۶۳

یہ لوگ قرآن بلند کرکے قضائے مبرم کو ٹالنا چاہتے ہیں ۔

ان سب حقائق کے علم کے باوجود بھی میں کتاب اللہ کو بطور حکم تسلیم کرتاہوں میں نے اہل شام سے جنگ قرآن کی حاکمیت اعلی تسلیم کرانے کے لئے کی ہے ۔(۱)

حضرت علی (ع) نے نامناسب وقت اور حالات کے باوجود بھی قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا اور ابو سفیان کے بیٹے کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا :

"بغاوت اور جھوٹ انسان کے دین ودنیا کو تباہ کردیتے ہیں اور مخالفین کے سامنے اس کے نقائص کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں اور تجھے معلوم ہوا چاہیے کہ تیرے ہاتھ سے وقت اور موقع نکل چکا ہے ۔

جب کبھی لوگوں نے ناحق دعوے کئے اور کتاب خدا کو اپنے غلط دعوی کے اثبات کے لئے پیش کیا مگر اللہ نے انہیں جھٹلایا اور آج تو نے ہمیں قرآن کی دعوت دی میں جانتا ہوں کہ اہل قرآن نہیں ہے ۔ میں نے تیری بات کو تسلیم نہیں کیا ، میں نے قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا ہے ۔"

حضرت علی (ع) نے ایک اور موقع پر معاویہ کو مخاطب کرکے کہا :- اللہ نے تیرے ذریعہ سے میری آزمائش کی اور میرے ذریعہ سے تیری آزمائش کی ہے ۔ہم اور مجھ سے اس چیز کا مطالبہ کیا ہے ۔جس میں میری زبان اور ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔

تو نے اہل شام کو اپنے ساتھ ملا کر میری نافرمانی کی ۔تمہارے علما نے تمہارے جہال کو گمراہ کیا اور مخالفت کرنے والوں نے گھر بیٹھے ہوئے افراد کو میری مخالفت پر آمادہ کیا ۔(۲)

____________________

(۱):- الدینوری ۔الاخبار الطوال۔ص ۱۹۱-۱۹۲

(۲):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۱۱۳-۱۶۰

۲۶۴

درج بالا حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی (ع) قرآن کی حاکمیت اعلی کے خواہاں تھے لیکن جن حالات میں معاویہ نے دعوت تحکیم دی وہ حضرت علی (ع) کے لئے قابل قبول نہیں تھی اس کے علاوہ حضرت علی (ع) کو ابو موسی اشعری کے نمائندے بننے پر بھی اعتراض تھا ۔

عمرو بن العاص معاویہ کی نمائندگی کے لئے ہر طرح موزوں تھا ،جبکہ ابو موسی اشعری حضرت علی (ع) کی نمائیندگی کے لئے کسی طور بھی موزوں نہ تھا ۔مگر اہل عراق کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ نے اسے بھی بادل نخواستہ قبول کر لیا اور آپ نے یہ سوچا کہ جب حکمین فیصلہ کے لئے اکٹھے ہوں گے تو ممکن ہے کہ ابو موسی اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرلے ۔

اور آپ کا یہ خیال کہ حکمین درج ذیل نکات پر بحث کریں گے ۔

۱:- کیا حضرت عثمان ناحق قتل ہوئے ہیں ؟

۲:- کیا معاویہ کو خون عثمان کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ؟

۳:- اگر بالفرض عثمان مظلوم ہو کر مارے گئے ہیں تو اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے خلیفہ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟

مگر حکمین نے اصل موضوع پر بحث ہی نہیں کی اور عمرو بن العاص نے ابو موسی کے کان میں یہ فسوں پھونکا کہ امت کی سلامتی اس میں ہے کہ دونوں کو رخصت کردیا جائے ۔ ابو موسی اشعری اپنی علی (ع) دشمنی اور سادگی کی وجہ سے عمرو بن العاص کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنستا چلا گیا اور آخر وقت تک اسے عمرو بن العاص کی چالاکی اور مکاری کا ادراک نہ ہوسکا ۔

اور عمرو بن العاص نے ایک سیدھے سادے بدو کی جہالت سے خوب فائدہ اٹھایا اور میدان میں ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ۔

۲۶۵

حضرت علی (ع) کی مشکلات

تحکمیم کے نتیجہ میں خوارج کا ظہور ہوا ۔ خوارج کا گروہ فرومایہ اور جذباتی افراد پر مشتمل تھا ۔ جن کی نظر میں دلیل ومنطق کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔

حضرت علی (ع) کی مشکلات بیان کرتے ہوے ڈاکٹر طہ حسین رقم طراز ہیں :-

"حضرت علی (ع) کے لئے خوارج درد سر بن گئے نہروان میں تمام خوارج کا خاتمہ نہیں ہوا تھا البتہ ان کی ایک جماعت قتل ہوگئی تھی لیکن وہ ابھی کوفہ میں آپ کے ساتھ رہتے تھے اور بصرہ میں آپ کے گورنر کے ساتھ علاوہ ازیں کوفہ وبصرہ کے قرب وجوار میں پھیلے ہوئے تھے ۔

یہ خارجی نہروان میں قتل ہونے والے اپنے بھائیوں کا قصاص دل سے بھلانہ سکے تھے اور نہروان کی شکست ان کے فکر ونظر کے کسی گوشہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کرسکی بلکہ اس سے ان کی قوت میں اور اضافہ ہوا اور ان کو وہ مذموم اور ہولناک طاقت بھی ملی جس کا سرچشمہ بغض ،کینہ اور انتقام کے جذبات ہیں ۔

حالات و واقعات نے ان خارجیوں کے لئے ایک محاذ اور ایک پالیسی بنادی جس سے وہ اپنی طویل تاریخ میں کبھی منحرف نہیں ہوئے۔اور وہ محاذ اور پالیسی یہ تھی کہ خلفاء کے ساتھ مکاری اور فریب کیا جائے لوگوں کو ان کے خلاف ابھاراجائے ۔کسی بات میں ان کا ساتھ نہ دیا جائے اگڑ اقتدار اور قوت نہ ہو تو اپنے مسلک کی دعوت پیدا ہوجائے تو چھپ چھپا کر یا کھلے بندوں شہر سے دور باہر نکال کر ایک جگہ جمع ہوجائیں اور مقابلہ کی صورت میں اپنی نافرمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلواریں بے نیام کرلیں ۔

چنانچہ کوفہ میں حضرت علی کے گرد وپیش یہ لوگ مکروفریب کی کاروائیاں

۲۶۶

کرتے رہے اور گھات میں لگے لوگوں کے خیالات اور دلوں کو پھراتے رہے ۔ آپ کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتے ،آپ کے خطابات اور آپ کی باتیں سنتے ،بعض اوقات خطبے اور گفتگو میں قطع کلامی بھی کرتے لیکن اس کے باوجود آپ کے انصاف سے مطمئن اور آپ کی گرفت سے بے خوف تھے ۔خوب جانتے تھ ےکہ جب تک پہل خود ان کی طرف سے نہ ہوگی ،آپ نہ ان پر ہاتھ اٹھائیں گے نہ ان کی پردہ دری کریں گے اور یہ مال غنیمت میں حصہ پاتے رہیں گے اور وقتا فوقتا جو کچھ ملتا رہے گا اس سے مقابلہ کی تیاری کریں گے ۔

حضرت علی (ع) کے اس عفو وعدل نے خارجیوں کے حوصلے بڑھا دیئے تھے ۔

آپ ان کے ارادوں سے پوری طرح باخبر اور اکثر اپنی داڑھی اور پیشانی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کرتے تھے کہ یہ ان سے رنگین ہورکر رہے گی چنانچہ جب آپ ساتھیوں کی نافرمانیوں سے اکتا جاتے تو خطبوں میں اکثر فرمایا کرتے "بد بخت نے کیوں دیر لگا رکھی ہے "

خوارج کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی آپ کے سامنے آجاتے اور بلاتردد اپنے خیالات کا اظہار کرتے چنانچہ ایک دن حریث بن راشد سامی آیا اور کہنے لگا :

خدا گواہ کہ میں نے نہ آپ کی اطاعت کی اور نہ آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے فرمایا : خدا تجھے غارت کرے تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ، اپنا عہد توڑا اور اپنے آپ کو دھوکا دیتا رکہا آخر تو ایسا کیوں کرتا ہے ؟

اس برملا مخالت کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نہ تو اس پر خفا ہوئے اور نہ ہی اسے گرفتار کیا بلکہ اسے مناظرے کی دعوت دی شاید وہ حق کی طرف لوٹ سکے ۔

اس کے بعد وہ رات کی تاریکی میں کوفہ سے لڑائی کے ارادے سے نکل گیا ۔راستے میں اس کو اور اس کے ساتھیوں کو دو آدمی ملے جن سے ان کا مذہب پوچھا گیا ۔ ان میں سے ایک یہودی تھا ۔ اس نے اپنا مذہب بتا دیا ۔ اس کو ذمّی

۲۶۷

خیال کرکے چھوڑ دیا گیا اور دوسرا عجمی مسلمان تھا ۔جب اس نے اپنا مذہب بتایا تو اس سے حضرت علی (ع) کے بارے میں سوال پوچھا گیا ۔اس نے حضرت علی (ع) کی تعریف کی تو اس کے ساتھی اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو قتل کردیا ۔(۱)

ناکثین ، قاسطین ، اور مارقین غرضیکہ یہ تینوں گروہ حضرت علی کے مخالفین تو تھے ہی لیکن حضرت علی کو غیروں کے علاوہ اپنوں کی طوطا چشمی کی بھی شکایت تھی ۔ عبداللہ بن عباس جو حضرت علی کی طرف سے بصرہ میں گورنر تھے اور حضرت علی (ع) کے ابن عم تھے اور ان کے پاس دین ودنیا کا بھی وسیع علم تھا اور انہیں قریش میں عمومی اور بنی ہاشم میں خصوصی مقام تھا وہ بھی حضرت علی (ع) کے مخلص نہ رہے ۔

ابو الاسود ؤلی بصرہ کے بیت المال کے خازن تھے انہوں نے عبداللہ بن عباس کی طرف سے مالی بے ضابطہ گیاں ملاحظہ کیں تو انہوں نے حضرت علی (ع) کو خط لکھ کر مطلع کیا حضرت علی (ع) نے ابن عباس کو خط لکھا جس میں تحریر کیا :

"مجھے تمہارے متعلق کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں اگر تم نے واقعی ایسا کیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اپنی امانت میں خیانت کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور مسلمانوں کے مال میں خیانت کے مرتکب ہوئے لہذا تمہارا فرض ہے کہ اپنا حساب لے کرمیرے پاس آجاؤ اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کا حساب لوگوں کے حساب سے سخت ہے ۔"

حضرت علی (ع) مالی بے ضابطگی کو کسی بھی صورت معاف کرنے کے عادی نہیں تھے اور مسلمانوں کے مال کے متعلق کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے ۔

لیکن ابن عباس نے حساب دینے کے بجائے بصرہ کی گورنری کو چھوڑ دیا اور مکہ چلے گئے ،لیکن مقام افسوس تو یہ ہے کہ وہ بصرہ سے خالی ہاتھ نہیں گئے ۔

____________________

(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۱۳۳

۲۶۸

بصرہ کے بیت المال کو صاف کرکے روانہ ہوئے اور بنی تمیم نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی حالات کے تغیر کو دیکھ کر ابن عباس نے اپنے ماموؤں یعنی بن ازد کی پناہ لی ۔ اور مذکورہ مال کی وجہ سے بنی ازد اور بنی تمیم میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی ۔آخر کا ابن عباس مال لے جانے میں کامیاب ہوگئے جب کہ ابن عباس کو بخوبی علم تھا کہ یہ مال ان کا نہیں ہے ۔(۱)

دن گزر نے کے ساتھ ساتھ حضرت علی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ، گورنروں کی جانب سے خیانت سامنے آئی اور دشمنوں کی طرف سے جفائیں سامنے آئیں مگر ان حوصکہ شکن حالات میں بھی حضرت علی نے جادہ حق سے سرمو انحراف نہ کیا اور اپنی قرآنی سیاست سے ایک انچ ہونا گوارا نہ کیا ۔ یکے بعد دیگرے مشکلات بڑھتی گئیں مگر شیر خدا نے مشکلات میں گھبرانا نہیں سیکھا تھا ۔ حضرت علی (ع) نے زندگی کے آخری نفس تک حق وصداقت کے پر چم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اور انہوں نے ہمیشہ حق کی سربلندی کے لئے مصائب کے دریا عبور کیا یہاں تک کہ ابن ملجم لعین نے آپ کو شہید کردیا ، لیکن حضرت علی (ع) کے عدل کو ملاحظہ فرمائیں کہ اپنے قاتل کے لئے بھی حق سے ہٹنا قبول نہ کیا اور اپنی اولاد کو آخری وصیت میں ارشادفرمایا :" اپنے قیدی کو اچھا کھانا دینا ۔اگرمیں اس ضرب سے بچ گیا تو میں اپنے قصاص کا خود مالک ہوں مجھے اختیار ہوگا کہ اسے معاف کروں یا اس سے بدلہ لوں اور اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم قاتل کو ایک ضرب سے زیادہ ضربیں نہ مارنا کیوں کہ اس نے مجھ پر ایک ضرب چلائی تھی اور قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔اللہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔"

____________________

(۱):- الفتنتہ الکبری ۔ علی وبنوہ ۔۱۲۹

۲۶۹

فصل ہفتم

سیرت امام (ع) سے چند اقتباسات

ہم سابقہ فصول میں بہت سے واقعات کی جانب اشارہ کرچکے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امام عالی مقام کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کے کتنے شیدائی تھے اورآپ نے ہمیشہ کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کو اپنے لئے مشعل راہ بنایا تھا ۔

آپ کی صلح اور جنگ ہمیشہ احکام قرآنی کے تابع تھی اور آپ نے ہمیشہ اپنے دوستوں اور دشمنوں سے وہی سلوک کیاجس کا حکم قرآن مجید اور سنت رسول نے دیا تھا ۔

اس فصل میں ہم آپ کی سیرت کے چند ایسے گوشے اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں جنہیں عظیم مسلمان مورخین نے نقل کیا ہے ۔

۲۷۰

آئین حکومت

درج ذیل دستاویز کو مالک اشتر نخعی کے لئے تحریر فرمایا ۔قارئین کرام سے ہم التماس کرتے ہیں کہ وہ حضرت علی (ع) کی اس دستاویز کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں کیونکہ اس خط میں آپ نے اسلام کے آئین جہانبانی کی مکمل وضاحت کی ہے ۔

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المومینن نے مالک بن حارث اشتر کو جب مصر کا انہیں والی بنایا تاکہ وہ خراج جمع کریں اور دشمنوں سے لڑیں ،رعایا کی فلاح وبہبود اور شہروں کی آبادی کا انتظام کریں ۔انہیں حکم ہے کہ اللہ کا خوف کریں ، اس کی اطاعت کو مقدّم سمجھیں اورجن فرائض وسنن کا اس نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ،ان کا اتباع کریں کہ انہیں کی پیروی سے سعادت اور انہیں کے ٹھکرانے اور برباد کرنے سے بد بختی دامن گیر ہوتی ہے اور یہ کہ اپنے دل اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے اللہ کی نصرت میں لگے رہیں کیوں کہ خدائے بزرگ وبرتر نے ذمہ لیا ہے ،جو اس کی نصرت کرےگا اور جو اس کی حمایت کے لئے کھڑا ہوگا ، وہ عزت و سرفرازی بخشے گا ۔

اس کے علاوہ اہنین حکم ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے وقت اپنے نفس کو کچلیں اور اس کی منہ زوریوں کے وقت اسے روکیں ۔کیونکہ نفس برائیوں ہی کی طرف لے جانے والا ہے مگر یہ کہ خدا کا لطف وکرم شامل حال ہو۔

اے مالک! اس بات کو جانے رہو کہ تمہیں ان علاقوں کی طرف بھیج رہا ہوں ۔جہاں تم سے پہلے عادل اور ظالم کئی حکومتیں گذر چکی اور تمہارے طرز عمل کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم اپنے اگلے حکمرانوں کے طور

۲۷۱

طریقے کو دیکھتے رہے ہو اور تمہارے بارے میں بھی وہی کہیں گے جو تم ان حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہو۔

یہ یاد رکھو کہ خدا کے نیک بندوں کا پتہ اسی نیک نامی سے چلتا ہے جو انہیں بندگان الہی میں خدا نے دے رکھی ہے ۔ لہذا ہر ذخیرہے سے زیادہ پسند تمہیں نیک اعمال کا ذخیرہ ہونا چاہئیے تم اپنی خواہشوں پر قابو رکھو اور جو مشاغل تمہارے لئے حلال نہیں ہیں ۔ ان میں صرف کرنے سے اپنے نفس کےساتھ بخل کرو کیونکہ نفس کے ساتھ بخل کرنا ہی اس کے حق کو ادا کرنا ہے چاہے وہ خود اسے پسند کرے یا ناپسند ۔

رعایا کے لئے اپنے دل کے اندر رحم ودرافت اور لطف ومحبت کو جگہ دو اور ان کے لئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نگل جانا غنیمت سمجھتے ہو اس لئے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہاری جیسی مخلوق خدا ۔ان کی لغزشیں بھی ہوں گی ۔خطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور ان کے ہاتھوں سے جان بوجھ کر بھولے چوکے سے غلطیاں بھی ہوں گی ۔تم ان سے اسی طرح عفودرگذر س کام لینا ۔جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفودرگذر کر پسند کرتے ہو اس لئے کہ تم ان پر حاکم ہو ۔ اور تمہارے اوپر تمہارا امام حاکم ہے اور جس امام نے تمہیں والی بنایا ہے اس کے اوپر اللہ ہے اور اس نے تم سے ان لوگوں کے معاملات کی انجام دہی چاہی ہے اور ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی ہے اور دیکھو خبردار ! اللہ سے مقابلہ کے لئے نہ اترنا اس لئے کہ اس کے غضبکے سامنے تم بے بس ہو ،اور اس کے عفو رحمت سے بے نیاز نہیں ہوسکتے تمہیں کسی معاف کردینے پر پچھتانا اور سزا دینے پر اترنا نہ چاہیے ۔

غصّہ میں جلد بازی سے کام نہ لو جبکہ اس کے ٹال دینے کی گنجائش ہو کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں ۔لہذا میرے حکم کے آگے سر

۲۷۲

تسلیم خم ہونا چاہیے کیونکہ یہ تصور دل میں فساد پیدا کرنے ،دین کو کمزور بنانے اور برباد دیوں کو قریب لانے کاسبب ہے ۔

اور کبھی حکومت کی وجہ سے تم میں غرور و تمکنت پید ہو تو اپنے سے بالاتر اللہ کے ملک کی عظمت کو دیکھو اور خیال کرو کہ وہ تم پر قدرت رکھتا ہے کہ جو تم خود اپنے آپ پر نہیں رکھتے ،یہ چیز تمہاری رعونت وسرکشی کو دبا دے گی ۔اور تمہاری طغیانی کو روک دےگی ۔

خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں ہ ٹکرو اور اس کی شان و جبروت سے ملنے کی کوشش نہ کرو ،کیونکہ اللہ ہر جبار و سرکش کو نیچا دکھاتا ہے اور ہرمغرور کے سر کا جھکا دیتا ہے ۔

اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد سے معاملے میں حقوق اللہ کو اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہروگے اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتاہے تو بندوں کے بجائے اللہ اس کا حریف ودشمن بن جاتا ہے ،اور جس کا اللہ حریف ودشمن ہو ،اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا یہاں تک کہ بازآئے اور توبہ کر لے ،اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی ،اور اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے کیوں کہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کیلئے موقع کا منتظر رہتا ہے ۔

تمہیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہیئے جو حق کے لحاظ سے بہترین ،انصاف کے لحاظ سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ عوام کی ناراضگی خواص کی رضامندی کو بے اثر بنادیتی ہے اور خواص کی ناراضگی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے نظر انداز کی جاسکتی ہے ۔

اور یہ یاد رکھو ! کہ رعیت میں خواص سے زیادہ کوئی ایسا نہیں کہ جو

۲۷۳

خوش حالی کے وقت حاکم پر بوجھ بننے والا ، مصیبت کے وقت امداد سے کتراجانے والا ، انصاف پر ناک بھوں چڑھانے والا ،طلب وسوال کے موقعہ پر پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑجانے والا ، بخشش پر کم شکر گزار ہونے ہونے والا ،محروم کردئیے جانے پر بمشکل عذر سننے والا ، اور زمانہ کی ابتلاؤں پر بے صبری دکھانے والا ہو ۔ اور دین کا مظبوط سہارا ، مسلمانوں کی قوت اور دشمن کے مقابلہ میں سامان دفاع یہی امت کے عوام ہوتے ہیں ۔

لہذا تمہاری پوری توجہ اور تمہارا پورا رخ انہی کی جانب ہونا چاہئیے اور تمہاری رعایا میں تم سے سب سے زیادہ دور اور سب سے تمہیں زیادہ ناپسند وہ ہونا چاہیئے جو لوگوں کی عیب جوئی میں زیادہ لگا رہتا ہو ۔ کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں ۔ حاکم کے لئے انتہائی شایان یہ ہے کہ ان پر پردہ ڈالے لہذا جو عیب تمہاری نظروں سے اورجھل ہوں ، انہیں نہ اچھالنا ۔کیونکہ تمہارا کا م انہی عیبوں کو مٹانا ہے کہ جو تمہارے اوپر ظاہر ہوں ،اور جو چھپے ڈھکے ہوں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے ۔اس لئے جہاں تک بن پڑے ،عیبوں کو چھپاؤ تاکہ اللہ بھی تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کے جنہیں تم رعیت سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہو۔

لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کو کھو ل دو اور دشمنی کی ہر رسی کاٹ دو اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لئے مناسب نہیں بے خبر بن جاؤ اور چغل خور کی جھٹ سے ہاں میں ہاں نہ ملاؤ کیونکہ وہ فریب کاراہوتا ہے اگر چہ خیر خواہوں کی صورت میں سامنے آتاہے ۔

اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شریک نہ کرنا کہ وہ تمہیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے روکے گا ، اور فقرو افلاس کاخطرہ دلائے گا اور نہ کسی بزدل سے مہمات میں مشورہ لینا کہ وہ تمہاری ہمت پست کردے گا اور نہ کسی لالچی سے مشورہ کرنا کہ وہ ظلم کی راہ سے مال بٹورنے کی تمہاری نظروں میں سج دے گا ۔

۲۷۴

یاد رکھو ! کہ بخل ،بزدلی ، اور حرص اگر چہ الگ الگ خصلتیں ہیں مگر اللہ سے بد گمانی ان سب میں شریک ہے ۔ تمہارے لئے سب سے بد تر وزیر وہ ہوگا ۔جو تم سے پہلے بد کرداروں کا وزیر اور گناہوں مں ان کا شریک رہ چکا ہے ۔ اس قسم کے لوگوں کو تمہارے مخصوصین میں سے نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ گنہگاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کی جگہ تمہیں ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو تدبیرو رائے اور کارکردگی کے اعتبار س ان کے مثل ہوں گے مگر ان کی طرح گناہوں کی گر انباریوں میں دبے ہوئے نہ ہوں ۔جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گنہگار کا اس کے گناہ میں ہاتھ بٹایا ہو ۔ان کا بو جھ تم پر ہلکا ہوگا اور یہ تمہارے بہترین معاون ثابت ہوں گے اور تمہاری طرف محبت سے جھکنے والے ہوں گے اورتمہارے علاوہ دوسروں سے ربط ضبط رکھیں گے ۔ انہی تو تم خلوت وجلوت میں اپنا مصاحب خاص ٹھہرانا ۔ پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہئے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کر کہنے والے ہوں اور ان چیزوں میں کہ جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کے لئے ناپسند کرتاہے ۔ تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں چاہے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں ۔پرہیزگاروں اور راست مازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا ۔پھر انہیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامہ کے بغیر تمہاری تعریف کرکے تمہیں خوش نہ کریں ۔کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کردیتی ہے اور تمہارے نزدیک نیکوکار اور بد کردار دونوں برابر نہ ہوں ۔ اس لئے کہ ایسا کرنا نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کوبدی پر آمادہ کرنا ہے ۔

ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو ،جس کاوہ مستحق ہے اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہیئے جب کہ وہ ان سے

۲۷۵

حسن سلوک کرتا ہو اور ان پر بوجھ نہ لادے اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے ۔جو ان کے بس میں نہ ہوں ۔

تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئیے کہ اس حسن سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہوسکے ۔کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی الجھنوں کو ختم کردےگا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو اور سب سے زیادہ اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔

اور دیکھو ! اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کرنا کہ جس پر اس امت کے بزوگ چلتے رہے ہیں اور جس سے اتحاد و یک جہتی بیدر اور رعیت کی اصلاح ہوئی ہو۔

اور ایسے طریقے ایجاد نہ کرنا جو پہلے طریقوں کو کچھ ضرر پہنچائیں اگر اینا کیا گیا تو نیک روش کے قائم کرجانے والوں کو ثواب تو ملتا رہے گا ۔مگر انہیں ختم کردینے کا گناہ تمہاری گردن پر ہوگا ۔اور اپنے شہروں کے اصلاحی امور کو مستحکم کرنے اور ان چیزوں کے قائم کرنے مں کہ جن سے اگلے لوگوں کے حالات مضبوط رہے تھ ےعلماء وحکماء کے ساتھ باہمی مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا ۔

اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی سود و بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہے ۔اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ان میں ایک طبقہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے ۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جو عمومی وخصوصی تحریروں کا کام انجام دیتاہے ۔ تیسرا طبقہ انصاف کرنے والے قضاۃ کا ہے ۔ چوتھا حکومت کے وہ عمال جن سے امن وانصاف قائم ہوتاہے ۔پانچواں خراج دینے والے مسلمانوں اور جزیہ دینے والے ذمیوں کا ۔چھٹا تجارت واہل حرفہ کا ۔ساتواں فقرا ء ومساکین کا وہ طبقہ ہے جو

۲۷۶

سب سے پست ہے ۔اوراللہ نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور اپنی کتاب یا سنت نبوی میں اس کی حد بندی کردی اور وہ دستور ہمارے پاس محفوظ ہے ۔

(پہلا طبقہ) فوجی دستے یہ بحکم خدا رعیت کی حفاظت کا قلعہ وفرمان رواؤں کی زینت ،دین ومذہب کی قوت اور امن کی راہ ہیں ۔ رعیت کا نظم ونسق انہی سے قائم وہ سکتا ہے اور فوج کی زندگی کا سہارا وہ خراج ہے جو اللہ نے ان کے لئے معین کیا ہے ۔کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے اور اپنے حالات کو درست بناتے اور ضروریات کو بہم پہنچاتے ہیں ۔پھر ان دونوں طبقوں کے نظم وبقاء کے لئے تیسرے طبقے کی ضرورت ہے کہ جو قضاہ عمال اور منشیان دفاتر کا ہے جس کے ذریعہ باہمی معاہدوں کی مضبوطی اور خراج او ردیگر منافع کی جمع آوری ہوتی ہے اور معمولی اور غیر معمولی معاملوں میں ان کے ذریعے وثوق واطمینان حاصل کیا جاتا ہے اور سب کا دارو مدار سوداگروں اور صناعوں پر سے ان کی ضروریات کو فراہم کرتے ہیں ۔بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے ان کی ضروریات کو مہیا کرکے انہیں خود مہیا کرنے سے آسودہ کردیتے ہیں اس کے بعد پھر فقیروں اور ناداروں کا طبقہ ہے جن کی اعانت ودستگیری ضروری ہے اللہ تعالی نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کر رکھی ہیں اور ہر طبقے کا حاکم پر حق قائم ہے کہ وہ ان کے لئے اتنا مہیا کرے جو ان کی حالت درست کرسکے اور حاکم خدا کےان تمام ضروری حقوق سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکتا مگر اسی صورت میں کہ پوری طرح کوشش کرے اور اللہ سے مدد مانگے اور اپنے کو حق پر ثابت وبرقرار رکھے اور چاہے اس کی طبیعت پر آسان ہو یا دشوار بہر حال اس کو برداشت کرے ۔فوج کا سردار اس کو بنانا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول کااور تمھارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو سب سے زیادہ پاک دامن ہو ۔اور بردباری میں نمایاں ہو ۔جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو عذر معذرت پر مطمئن ہوجاتا ہو ۔کمزوروں پر رحم کھاتا

۲۷۷

ہو اور طاقتوں کے سامنے اکڑجاتا ہو۔ نہ بد خوئی اسے جوش میں لے آتی ہو اور نہ پست ہمتی اسے بٹھادیتی ہو،پھر ہونا چاہئے کہ تم بلند خاندان ،نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والے اور ہمت وشجاعت اور سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط وضبط بڑھاؤ کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سرچشمہ ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حالات کی اسطرح دیکھ بھال کرنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بال کرتے ہیں ۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرو کہ جوان کی تقویت کا سبب ہو تو اسے بڑا نہ سمجھنا ،اور اپنے کسی معمولی کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا (کہ اسے چھوڑ بیٹھو)کیونکہ اس حسن سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جذبہ ابھرے گا اور حسن اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کردیا ہے ۔کہیں ان کی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بندنہ کرلینا کیونکہ یہ چھوٹی قسم کی مہربانی کی بات بھی اپنی جگہ فائدہ بخش ہوتی ہے اور وہ بڑی ضرورتیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں ۔ اور فوجی سرداروں میں تمہارے یہاں وہ بلند منزلت سمجھا جائے ،جو فوجیوں کی اعانت میں برابر کا حصہ لیتا ہو اوراپنے روپے پیسے سے اتنا سلوک کرتا ہو کہ جس سے ان کا اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بال بچوں کا بخوبی گزار ہوسکتا ہو۔ تاکہ وہ ساری فکروں سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ دشمن سے جہاد کریں ۔ اس لئے فوجی سرداروں کے ساتھ تمہارا مہربانی سے پیش آنا ان کے دلوں کو تمھاری طرف موڑدے گا ۔

حکمرانوں کے لئے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل وانصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر رہے اور ان کی محبت اسی وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کیلئے گھیرا ڈالے رہیں ان کا اقتدار سر پر بو جھ نہ سمجھیں اور نہ ان کی حکومت

۲۷۸

کے خاتمے کے لئے گھڑیاں گئیں ۔ لہذا ان کی امیدوں میں وسعت وکشش رکھنا ،انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان میں کے اچھی کارکردگی دکھانے والوں کے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا ۔اس لئے ان کے اچھے کارنا موں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے ۔جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کردینا اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا اور کبھی ایسا نہ کرنا کسی شخص کی بلندی ورفعت کی وجہ سے اس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو یا کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کی وجہ سے معمولی قراردے لو۔

جب ایسی مشکلیں تمہیں پیش آئیں کہ جن کا حل نہ ہوسکے اور ایسےے معاملات کو جو مشتبہ ہوجائیں تو ان میں اللہ اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرو ۔کیونکہ خدانے جن لوگوں کو ہدایت کرنا چاہی ہے ان کے لئے فرمایا ہے " اے ایماندارو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ان کی جو تم میں صاحبان امر ہوں " تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کتاب کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ان متفق علیہ ارشادات پر عمل کیا جائے جن میں کوئی اختلاف نہیں ۔

پھر یہ کہ لوگ معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمھارے نزدیک تمھاری رعایا میں سب سے بہتر ہو جو واقعات کی پیچید گیوں سے ضیق میں نہ پڑجاتا ہو ۔اور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو ۔نہ اپنے کسی غلط نقطہ نظر پر اڑتا ہو ۔نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتاہو نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو ، اور ہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتاہو ۔شک وشبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو اور دلیل وحجت کو سب سے زیادہ

۲۷۹

اہمیت دیتاہو ۔ فریقین ک بخشا بخشی سے اکتا نہ جاتا ہو ۔معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر وضبط سے کام لیتاہو ۔ اور جب حقیقت آئینہ ہوجاتی ہو تو بے دھڑک کردے ۔اگر چہ ایسے لوگ کم ملتے ہیں ۔ پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کابار بار جائزہ لیتے رہنا ۔دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جو ان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج ن رہے ۔اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار میں لوگ انہیں ضرر پہنچانے کاکوئی خیال نہ کرسکیں ،تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں ک سازش سے محفوظ رہیں ۔

اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا ۔ کیونکہ (اس سے پہلے ) یہ دین بدکرداروں کے پنجے کا اسیر رہ چکا ہے جس میں نفسانی خواہشوں کی کارفائی تھی ۔اور اسے دنیا طلبی کا ذریعہ بنایا گیا تھا ۔

پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا ۔ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا ۔کبھی صرف رعایا اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطانہ کرنا اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں ۔اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ اور غیرت مند ہوں ۔ ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں ۔کیوں کہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں ،حرص وطمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب ونتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا ۔کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مددملےگی اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان کے ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا ۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم ک خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں تم تمہاری حجت ان پر قائم ہوگی ،پھر ان کے کاموں کو دیکھتے بھالتے رہنا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر

۲۸۰