المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 333

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
زمرہ جات:

صفحے: 333
مشاہدے: 18396
ڈاؤنلوڈ: 441

تبصرے:

المیہ جمعرات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 333 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18396 / ڈاؤنلوڈ: 441
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:
اردو

ہیں کہ :- " یہ مکتوب امیر المومنین کے بہتر ین مکتوبات میں سے ہے ۔"

" تمہارا خط پہنچا ۔تم نے اس میں ذکر کیا ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دین کے لئے منتخب فرمایا اور تائید ونصرت کرنے والے ساتھیوں کے ذریعے ان کو قوت وتوانائی بخشی ۔

زمانہ نے تمہارے عجائبات پر اب تک پردہ ہی ڈالے رکھا تھا جو یوں ظاہر ہورہے ہیں کہ تم ہمیں ہی خبر دے رہے ہو ۔ ان احسانات کی جو خود ہمیں پر ہوئے ہیں اور اس نعمت کی جو ہمارے رسول (ص) کے ذریعے ہم پر ہوئی ہے ۔اس طرح تم ویسے ٹھہرے جیسے "ہجر"(۱) کی طرف کھجوریں لاد کر جانے والا یا اپنے استاد کو تیر اندازی کی دعوت دینے والا ۔

تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام میں سب سے افضل فلاں اور فلاں (ابو بکر وعم) ہیں ۔یہ تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر صحیح ہو تو تمہارا اس سے واسطہ نہیں اور غلط ہو تو تمہارا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔

اور بھلا تم کہاں اور یہ بحث کہاں ؟ افضل کون ہے اور غیر افضل کون ہے ۔ حاکم کون ہے اور رعایا کون ہے ؟

بھلا ۔"طلقاء" (آزاد کردہ لوگوں ) اور ان کے بیٹوں کو یہ حق کہاں ہوسکتا ہے کہ وہ مہاجرین اولین کے درمیان امتیاز کرنے ان کے درجے ٹھہرانے اور ان کے طبقے پہنچوانے بیٹھیں ؟

کتنا نامناسب ہے کہ جو ئے کے تیروں میں نقلی تیر آواز دینے لگے اور کسی معاملہ میں وہ فیصلہ کرنے بیٹھ جس کے خود خلاف ۔بہر حال اس میں فیصلہ ہوتا ہے ۔

اسے شخص ! تو اپنے پیر کے لنگ کو دیکھتے ہوئے اپنی حد پر ٹھہرتا کیوں

____________________

(۱):- "ہجر" ایک جگہ کا نام ہے جہاں کجھوریں بکثرت ہوتی ہیں ۔

۳۲۱

نہیں اور اپنی کوتاہ دستی کو سمجھتا کیوں نہیں اور پیچھے ہٹ کر رکتا کیوں نہیں ؟

جبکہ قضا وقدر کا فیصلہ تجھے پیچھے ہٹا چکا ہے ۔آخر تجھے کسی مطلوب کی شکست سے اور فاتح کی کامرانی سے سروکار ہی کیا ہے ؟

تمہیں محسوس ہونا چاہئیے کہ تم حیرت وسرگشتگی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہو اور راہ راست سے منحرف ہو ۔آخر تم نہیں دیکھتے اور یہ میں جو کہتا ہوں ۔ تمہیں کوئی اطلاع دینا نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا ہے کہ مہاجرین و انصار اکا ایک گروہ خدا کی راہ میں شہید ہوا اور سب کے لئے فضیلت کا ایک درجہ ہے ۔مگر جب ہم میں سے شہید نے جام شہادت پیا تو اسے سید الشہدا کہا گیا(۱)

اور پیغمبر نے صرف اسے یہ خصوصیت بخشی کہ اس کی جنازہ میں ستر تکبیریں کہیں اور کیا تم نہیں دیکھتے کہ بہت لوگوں کے ہاتھ خدا کی راہ میں کاٹے گئے اور ہر ایک کے لئے ایک حد تک فضیلت ہے مگر جب ہمارے آدمی کے ساتھ یہی ہوا جو اوروں کے ساتھ ہوچکا تھا تو اسے "الطیار فی الجنة " (جنت میں پرواز کرنے والا) اور "ذوالجناحین " (دو پروں والا) کہا گیا(۲)

اور اگر خدا نے خود ثنائی سے روکا نہ ہوتا تو بیان کرنے والا اپنے وہ فضائل بیان کرتا کہو مومنوں کے دل جن کا اعتراف کرتے ہیں اور سننے والوں کے کان انہیں اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتے ۔ایسوں کا ذکر کیوں کرو جن کا تیر نشانوں سے خطا کرنے والا ہے ۔

ہم وہ ہیں براہ راست اللہ سے نعمتیں لے کر پروان چڑھے ہیں اور دوسرے ہمارے احسان پروردہ ہیں ۔ ہم نے اپنی نسل بعد نسلی چلی آنے والی

____________________

(۱):- رسول خدا نے حضرت حمزہ کو سید الشہدا کا لقب دیا تھا ۔

(۲):- حضرت علی کے بڑے بھائی حضرت جعفر کے دونوں بازو جنگ موتہ میں قلم ہوئے تھے تو رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا : میں نے جعفر کو دیکھا کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہا ہے ۔ اللہ نے اسے دو زمرد کے پر عطا کئے ہیں ۔

۳۲۲

عزت اور تمہارے خاندان پر قدیمی برتری کے باوجود کوئی خیال نہ کیا اور تم سے میل جول رکھا اور برابر والوں کی طرح رشتے دیئے لئے حالانکہ تم اس منزلت پر نہ تھے ۔

اور تم ہمارے برابر ہوکیسے سکتے ہو جب کہ ہم میں نبی ہیں اور تم میں جھٹلانے والا(۱) ۔ اور ہم میں اسد اللہ اور تم میں اسد الاحلاف(۲) ۔ اور ہم میں دو سردار جوانان اہل جنت اور تم میں جہنمی لڑکے(۳) ۔ہم میں سردار زنان عالمیان اور تم میں "حمّالۃ الحطب"(۴)

اور ایسی ہی بہت سی باتیں جو ہماری بلندی اور تمہاری پستی کی آئنہ دار ہیں ۔چنانچہ ہمارا ظہور ۔اسلام کے بعد کا دور بھی وہ ہے جس کی شہرت ہے اور جاہلیت کے دور کابھی ہمارا امتیار ناقابل انکار ہے اور اس کے باوجود جورہ جائے وہ اللہ کی کتاب ہمارے لئے جامع الفاظ میں بتا دیتی ہے ۔ ارشاد الہی ہے : "قرابت دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "

اور دوسری جگہ پرارشاد فرمایا :-

"ابراہیم کے زیادہ حقدار وہ لوگ تھے۔ جو ان کے پیروکار تھے اور یہ نبی

____________________

(۱):- جھٹلانے والوں میں سر فہرست معاویہ کاباپ ابو سفیان تھا ۔

(۲):- رسول خدا(ص) نے حضرت حمزہ کو "اسد اللہ" (اللہ کا شیر ) کا لقب دیا تھا اور معاویہ کا نانا عتبہ بن ربیعہ "اسد الاحلاف" ہونے پر نازاں تھا ۔یعنی حلف اٹھانے والی جماعت کا شیر ۔

(۳):- امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے "الحسن والحسین سید الشاب اهل الجنة " حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ اور جہنمی لڑکوں س مراد عتبہ بن ابی معیط کے لڑکوں کی طرف اشارہ ہے ۔ پیغمبر اکرم نے عتبہ سے کہا تھا ۔ :-لک ولهم النار " تیرے اور تیرے لڑکوں کے لئے جہنم ہے ۔

(۴):- حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے لئے رسول خدا (ص) کا فرمان ہے :-"الفاطمة سیدة نساء العالمین " فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہے " حمّالۃ الحطب "معاویہ کی پھوپھی ام جمیل بنت حرب ہے جو کہ ابو لہب کے گھر میں تھی اور یہ کانٹے جمع کرکے رسول خدا کی راہ میں بچھایا کرتی تھی ۔قرآن مجید میں ابو لہب کے ساتھ اس کا تذکرہ ان لفظوں میں ہے :-سیصلی نارا ذات لهب وامراته حمّالة الحطب " وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں داخل ہو گا اور اس کی بیوی لکڑیوں کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہے ۔

۳۲۳

اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اللہ بھی ایمان والوں کا سرپرست ہے ۔"

تو ہمیں قرابت کی وجہ سے بھی دوسروں پر فوقیت حاصل ہے اور اطاعت کے لحاظ سے بھی ہمارا حق فائق ہے ۔

اور سقیفہ کے دن جب مہاجرین نے رسول (ص) کی قرابت کو استدلال میں پیش کیا تو انصار کے مقابلے میں کامیاب ہوئے ۔تو ان کی کا میابی اگر قرابت کی وجہ سے تھی تو پھر خلافت ہمارا حق ہے نہ کا ۔

اور اگر استحقاق کا کوئی اور معیار ہے تو انصار کا دعوی اپنے مقام پر برقرار رہتا ہے ۔ اور تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میں نے سب خلفا پر حسد کیا ہے اور ان کے خلاف شورشین کھڑی کی ہیں اگر ایسا ہی ہے تو اس سے میں نے تمہارا کیا بگاڑ ا ہے کہ تم سے معذرت کروں ۔بقول شاعر

"یہ ایسی خطا ہے جس سے تم پر کوئی حرف نہیں آتا "

اور تم نے لکھا ہے کہ مجھے بیعت کے لئے یوں کھینچ کر لایا جاتا تھا جس طرح نکیل پڑے اور اونٹ کو کھینچا جاتا ہے ۔

تو خالق کی ہستی کی قسم ! تم اترے تو برائی کرنے پر تھے کہ تعریف کرنے لگے ۔چاہا تویہ تھا کہ مجھے رسوا کرو کہ خود ہی رسوا ہوگئے ۔بھلا مسلمان آدمی کے لئے اس میں کون سی عیب کی بات ہے کہ وہ مظلوم ہو جب کہ وہ نہ اپنے دین میں شک کرتا ہو اور نہ اس کا یقین ڈانوں ڈول ہو اور میری اس دلیل کا تعلق اگرچہ دوسروں سے ہے مگر جتنا بیان یہاں مناسب تھا تم سے کردیا ۔

پھر تم نے میرے اور عثمان کے معاملہ کا ذکر کیا ہے تو وہاں اس میں تجھے حق پہنچتا ہے کہ تجھے جواب دیا جائے کیونکہ تمہاری ان سے قرابت ہے ۔اچھا تو پھر سچ سچ بتاؤ کہ ہم دونوں میں اس کے ساتھ زیادہ دشمنی کرنے والا اور ان کے قتل کاسرو سامان کرنے والا کون تھا ؟

۳۲۴

وہ کہ جس نے اپنی امداد کی پیش کش کی اور انہوں نے اسے بٹھادیا اور روک دیا یا وہ کہ جس سے انہوں نے مدد چاہی اوروہ ٹال گیا اور ان کے لئے موت کے اسباب مہیا کئے ؟

یہاں تک کہ ان کے مقدر کی موت نے انہیں گھیرا ۔

خدا کی قسم ! اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو جنگ سے دوسروں کو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ اور خود بھی جنگ کے موقع پر برائے نام ٹھہرتے ہیں ۔

بے شک میں اس چیز کے لئے معذرت کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ میں ان کی بعض بدعتوں کو ناپسند کرتا تھا ۔ اگرمیری خطا یہی ہے کہ میں انہیں صحیح راہ دکھاتھا اور ہدایت کرتا تھا تو اکثر ناکردہ گناہ ملامتوں کانشانہ بن جایا کرتے ہیں ۔اور کبھی نصیحت کرنے والے کو بدگمانی کا مرکز بن جانا پڑتا ہے میں نے تو جہاں تک بھی بن پڑا یہی چاہا کہ اصلاح ہوجائے اور مجھے توفیق حاصل ہونا ہے تو اللہ سے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی سے لولگاتا ہوں ۔

تم نے لکھا کہ !" میرے ساتھیوں کے لئے تمہارے پاس بس تلوار ہے " یہ کہہ کر تو تم روتوں کو ہنسانے لگے بھلا بتاؤ کہ تم نے عبدالمطلب کی اولاد کو کب دشمن سے پیٹھ پھراتے ہوئے پایا اور کب تلواروں سے خوف زدہ ہوتے دیکھا ؟

عنقریب جسے تم طلب کررہے ہو وہ خود تمہاری تلاش میں نکل کھڑا ہوگا اور جسے دور سمجھ رہے ہو وہ قریب پہنچے گا ۔میں تمہاری طرف مہاجرین وانصار اور اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین کالشکر جرار لے کر عنقریب اڑتا ہوا آراہا ہوں ۔ایسا لشکر کہ جس میں بے پناہ ہجوم اور گرد وغبار ہوگا وہ موت کے کفن پہنے ہوئے ہوں گے اور ہر ملاقات سے زیادہ انہیں لقائے پروردگار

۳۲۵

محبوب ہوگی اور ان کے ساتھ شہدائے بدر کی اولاد اور ہاشمی تلواریں ہوں گی جن کی تیز دھار کی کاٹ تم اپنے ماموں ۔بھائی ۔ نانا اور کنبہ والوں میں دیکھ چکے ہو وہ ظالموں سے اب بھی دور نہیں ہے ۔

٭٭٭٭٭

۳۲۶

کتاب ہذا کے مصادر

۱:-قرآن مجید

۲:- صحیح بخاری ۔دار لطباعۃ العاصرہ ۔استنبول

۳:- صحیح مسلم ۔دار لکتب العربیہ الکبری ۔مصر

۴:- طبقات ابن سعد ۔قاہرہ

۵:- سیرت ابن ہشام ۔مطبعہ حجازی محمد ۔مصر

۶:- الاصابہ فی تمیز الصحابہ ۔مطبعہ مصطفی محمد ۔ مصر

۷:- فتوح البلدان ۔ بلاذری ۔مطبعہ مصریہ ۔قاہرہ طبع اول

۸:- انساب الاشراف ۔ بلاذری مطبعہ عربیہ ۔القدس ۔مقبوضہ فلسطین

۹:- تاریخ طبری ۔مطبعہ حسینیہ ۔مصر

۱۰:- شرح نہج البلاغہ ۔ابن ابی الحدید ۔ دارالکتب العربیہ الکبری ۔مصر

۱۱:-تاریخ کامل ۔ ابن اثیر ۔مطبعہ منیریہ ۔مصر

۱۲:- شرح نہج البلاغہ ۔ابن ابی الحدید۔ دار الکتب العربیہ الکبری ۔مصر

۱۳:- تاریخ ابن خلدون۔ مطبعہ نہضت ۔مصر

۱۴:- کتاب المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار ۔مقریزی ۔دار الطباعۃ المصریہ ۔قاہرہ

۱۵:- اخبار طوال ۔دینوری ۔مطبعہ السعادۃ ۔مصر

۱۶:- عبقریۃ الامام علی علیہ السلام ۔ استاد عقاد ۔ مطبعہ المعارف ۔ قاہرہ

۱۷:- الامام علی ابن ابی طالب ۔عبد الفتاح عبدالمقصود ۔لجنۃ النشر ۔قاہرہ

۱۸:- الفتنہ الکبری ۔ڈاکٹر طہ حسین

۱۹:- معاویہ بن ابی سفیان ۔استاد عقاد ۔کتاب الحلال ۔مصر

۳۲۷

فہرست

مقدّمہ مؤلف ۵

حدیث قرطاس:- ۹

پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:- ۱۶

واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات: ۱۸

فصل اول ۳۲

مسئلہ وصیت ۳۲

خلافت علی (ع) کے دلائل ۳۵

سواد اعظم کا نظریہ خلافت ۳۸

معتزلہ کا نظریہ خلافت ۳۹

حدیث قرطاس ۴۲

رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟ ۴۷

دور معاویہ میں وضع حدیث ۴۹

ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات ۵۱

شعب ابی طالب ۵۲

علی (ع) کی اسلامی خدمات ۵۵

۱:- شب ہجرت ۵۶

۲:-موخات ۵۷

۳:- جنگ احد اور علی (علیہ السلام) ۵۷

۴:- علی(ع) اور تبلیغ براءت ۵۸

۳۲۸

۵:- علی (ع) تبلیغ اسلام کے لیے یمن جاتے ہیں ۵۹

۶:- ہارون محمدی ۵۹

۷:- فاتح خیبر ۶۰

ج:- جیش اسامہ :- ۶۲

فصل دوم ۶۶

سقیفہ کی کاروائی ۶۶

۱:حضرت ابو بکر صدیق ۶۶

واقعات سقیفہ کا تجزیہ ۷۵

حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ ۷۹

واقعہ فدک ۸۲

فدک مختلف ہاتھوں میں ۸۴

مامون کی واپسی فدک ۸۶

محاکمہ فدک ۸۷

"لاوارثی "حدیث اور قرآن ۸۸

"لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے ۸۹

"لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے ۹۴

فدک بعنوان ہبہ ۹۷

فرع کی اصل کے لئے گواہی ۹۹

مباہلہ کی گواہی ۹۹

خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد ۱۰۲

۳۲۹

سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ ۱۰۷

ب :- حضرت عمر بن الخطاب ۱۰۷

خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت ۱۰۹

شوری ۱۱۱

شوری کی کاروائی ۱۱۶

چند سوال ۱۱۷

ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے ۱۱۸

بزم شوری میں حضرت علی (علیہ السلام)کا احتجاج ۱۲۰

مجلس شوری کا تجزیہ ۱۲۹

حضرت عمر کے بعض اجتہادات ۱۳۴

سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف ۱۳۸

سیرت شیخین کا باہمی تضاد ۱۳۸

مالک بن نویرہ کا واقعہ ۱۴۰

واقعہ مالک کا تجزیہ ۱۴۲

سقیفہ کا تیسرا چہرہ ۱۴۷

۳:- حضرت عثمان بن عفان:- ۱۴۷

بنی امیہ کی اسلام دشمنی ۱۴۹

جنگ بدر ۱۴۹

بنی امیہ کا اسلام ۱۵۴

بنی امیہ پر نوازشات ۱۵۸

۳۳۰

حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی ۱۶۲

چند مشاہیر کی دولت ۱۶۵

حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی ۱۶۸

عثمانی عمّال کی سیرت ۱۷۱

ولید بن عقبہ ۱۷۲

کوفہ میں ولید شراب نوشی ۱۷۳

ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا ۱۷۵

حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک ۱۷۷

عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت ۱۸۱

مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات ۱۸۴

اپنوں کی طوطا چشمی ۱۸۷

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۱۸۷

ایک "زود پشیمان " کی پشیمانی ۱۸۸

عمرو بن العاص اور حضرت عثمان ۱۸۹

حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ ۱۹۰

بنی امیہ کا اجلاس ۱۹۲

ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے ۱۹۶

قتل عثمان ۱۹۸

قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں ۲۰۰

فصل سوم ۲۰۶

۳۳۱

خلافت امیرالمومنین علیہ السلام ۲۰۶

فصل چہارم ۲۱۰

ناکثین (بیعت شکن) ۲۱۰

عائشہ کو علی سے پرانی عداوت تھی ۲۱۴

طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجہ ۲۲۰

جنگ جمل کے محرّک بصرہ میں ۲۲۴

محرّکین جمل کے جرائم ۲۳۳

فصل پنجم ۲۳۶

گروہ قاسطین (منکرین حق) ۲۳۶

جنگ صفین ۲۴۲

فصل ششم ۲۵۳

تحکیم ۔مارقین ۔شہادت ۲۵۳

عمر بن العاص کی شخصیت ۲۵۸

عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس ۲۶۰

تحکیم اور موقف علی (ع) ۲۶۲

حضرت علی (ع) کی مشکلات ۲۶۶

فصل ہفتم ۲۷۰

سیرت امام (ع) سے چند اقتباسات ۲۷۰

آئین حکومت ۲۷۱

بیت المال اور علی (ع) ۲۹۲

۳۳۲

۳ ۔آپ کی تواضع اور عدل ۲۹۴

۴۔آپ کی سیاست عامہ کا تجزیہ ۲۹۷

۵- آپ کے چند اقوال زریں ۲۹۹

حسن علیہ السلام کو وصیت ۳۰۱

۶- حضرت علی (ع) اور انطباق آیات ۳۰۵

فصل ہشتم ۳۰۷

کردار معاویہ کی چند جھلکیاں ۳۰۷

حضرت حجر بن عدی کا المیہ ۳۰۸

غدر معاویہ کے دیگر نمونے ۳۱۵

زیاد بن ابیہ کا الحاق ۳۱۶

اقوال معاویہ ۳۱۹

بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ ۳۲۰

کتاب ہذا کے مصادر ۳۲۷

۳۳۳